30 خلاصۃ القرآن، پاره نمبر (30)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
MS Urdu, Islamic Stories, Urdu Islamic Books, Quran Stories, Hadees Books, Urdu Islamic history Books, Seerat un Nabi Books, Urdu Islamic books, Urdu Ambiya Books
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ سارا ملک ( کائنات) اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اللہ تعالی بڑی برکت والا ، قدرت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانچ کرنے کے لئے زندگی اور موت کو پیدا فرمایا کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ نے ایک کے اوپر ایک سات آسمان بنائے ۔ تم غور سے دیکھو! اس میں تمہیں کوئی دراڑ نظر نہیں آئے گی۔ تو جس نے کفر کیا۔ اس کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور اس کی آگ زبردست جوش ماررہی ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے بڑا اجر وثواب ہے اور تم بات آہستہ کہو یا زور سے اللہ تعالیٰ تو دلوں میں چھپی بات جانتا ہے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین بچھائی تا کہ تم اس کے راستوں پر چلو اور اللہ تعالیٰ کا رزق تلاش کرو اور کھاؤ اور سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ اللہ تعالی کی سلطنت زمین اور آسمان پر ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا آسمان سے پتھراؤ کرے تو تمہیں کون بچائے گا ؟ اور اگر اللہ تعالیٰ اپنا رزق روک لے تو کون تمہیں رزق دے گا ؟ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے کان، آنکھ اور دل بنائے ۔ اس کے بعد بھی تم حق کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی؟ جب وہ آئے گی تو کافر بہت بڑے نقصان میں پڑ جائیں گے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ مجنون نہیں ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو بہت اعلیٰ اور اونچے اخلاق عطا فرمائے ہیں۔ اسکے بعد بد بخت ولید بن مغیرہ ( جس نے آپ ﷺ کو مجنوں کہا تھا ) کے دس عیب بتائے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھانے والا ہے، ذلیل ہے، طعنے دینے والا ہے، چغل خور ہے، بھلائی سے روکنے والا ہے، حد سے بڑھنے والا ہے، گنہگار ہے، بد زبان ہے، زنا کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور اپنے مال اور اولاد پر گھمنڈ کرتا ہے۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ اس کے سور جیسے منہ کو آگ سے داغے گا۔ اس کے بعد باغ والوں کا واقعہ بیان فرمایا جواللہ تعالی کو بھول گئے تھے اور تباہ ہو گئے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ متقی ( گناہوں سے بچنے والے) مسلمانوںکو اللہ تعالی جنت میں داخل فرمائے گا اور مسلمان اور مجرمین برابر نہیں ہو سکتے ۔ اس کے بعد بتایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اپنی پنڈلی کو ظاہر فرمائے گا۔ (پنڈلی کا ظاہر کرنا یہ اللہ تعالی کی کوئی خاص صفت ہو گی جس پر اسی طرح ایمان لانا ضروری ہے، جس طرح اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے اور اس کی کیفیت اور باریکی کے ساتھ کھوج تلاش میں پڑنا ممنوع ہے ) اس دن کا فر اور منافق اللہ تعالٰی کو سجدہ نہیں کر سکیں گے اور شرمندگی سے اُن کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور وہ ذلیل ہوں گے کیوں کہ وہ دنیا میں اللہ تعالی کو سجدہ کرنے کے لئے بلائے جاتے تھے تو سجدہ نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالی آہستہ آہستہ انہیں دوزخ میں داخل کر دے گا ۔ جب کا فر قرآن پاک سنتے ہیں تو آپ ﷺ کو مجنون کہتے ہیں جب کہ یہ قرآن پاک تمام جہان والوں کے لئے نصیحت ہے ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے متعلق پُر زور الفاظ میں بیان فرمایا کہ وہ ایک ثابت اور ضرور واقع ہونے والی حقیقت ہے۔ اس کے بعد قوم ثمود، قوم عاد، قوم فرعون اور قوم نوح کی سرکشی اور اُن پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ قیامت جب واقع ہوگی تو صور پھونکا جائے گا اور زمین اور پہاڑ اچانک چکنا چور کر دیئے جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے ۔ آٹھ فرشتے اللہ تعالی کا عرش اٹھائے ہوں گے۔ اُس دن سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اور کوئی چھپ نہیں سکے گا۔ جس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ کامیاب ہوگا اور خوشی خوشی لوگوں کو بتائے گا اور جس کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نا کام ہوگا اور کہے گا: کاش! کسی طرح مجھے موت آجاتی۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ قرآن پاک کی آیتیں تم پر تلاوت فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ شاعری نہیں کرتے اور نہ ہی آپ صلی اللہ کا ہن ہیں۔ اگر آپ ﷺ (نعوذ باللہ ) اپنی طرف سے کوئی بات بناتے تو اللہ تعالیٰ سے آپ ﷺ کو کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔ بے شک آپ ﷺ لوگوں کو نصیحت والا قرآن سناتے ہیں اور یہ کافروں کے لئے حسرت ہے۔ یقینا قرآن پاک حق ہے تو تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کا فر عذاب ما نگتے ہیں تو وہ قیامت کے دن ہوگا اور وہ پچاس ہزار سال کے برابر ہو گا۔ اُس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا اور پہاڑ اون کی طرح ہلکے ہو جائیں گے۔ دوست اپنے دوست کی طرف کوئی توجہ نہیں کرے گا اور مجرم عذاب سے بچنے کے لئے اپنے بیٹے ، اپنی بیوی اپنے بھائی اور سارا خاندان اور زمین میں جو بھی ہے ، سب کچھ دے کر عذاب سے چھوٹنا چاہے گا لیکن وہ عذاب سے نہیں بیچ سکے گا۔ ایمان والے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں اور بے شک اللہ تعالیٰ کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور امانتوں اور اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور حق کی گواہی دیتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں یہی لوگ جنت کے عیش و آرام کے حقدار ہیں۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر اسلام قبول کرنے سے انکار کرنے کے بعد اس بات کی امید کیسے کر سکتے ہیں کہ انھیں جنت میں داخلہ مل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سب مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے۔ اگر اللہ تعالی چاہے تو ان سے اچھے لوگ لے آئے ۔ آپ ﷺ ان کافروں کو اُن کی بے ہودگیوں میں پڑے رہنے دو اور دنیا میں مگن رہنے دو۔ قیامت کے دن یہ قبروں سے نظریں نیچی کئے ہوئے ذلیل ہوتے ہوئے نکلیں گے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالٰی نے ان دونوں رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالٰی سے دعا کی کہ اے اللہ! میں نے اپنی قوم کو رات دن اسلام کی دعوت دی۔ خفیہ طور سے اور علانیہ بھی تو انھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کانوں پر کپڑے لپیٹ لئے اور میں نے ہر طرح سے ان لوگوں کو سمجھایا لیکن یہ لوگ بتوں کی پوجا میں لگے رہے اور اسے اللہ! زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑنا ۔ اگر وہ رہیں گے تو بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیں گے اور ان کی اولاد بھی بدکار اور کافر ہوگی ۔ اللہ تعالی نے کافروں کو غرق کر دیا اور اُن کا کوئی مددگار نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے اور میرے والدین اور سب مسلمان مرد اور عورتوں کو بخش دے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کا فروں سے کہہ دو کہ میں تو صرف اللہ تعالٰی کی عبادت کرتا ہوں اور اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا اور میں تمہارے بھلے اور بُرے کا مالک نہیں ہوں اور میرا کام تو صرف اللہ تعالٰی کا پیغام اس کے بندوں تک پہونچانا ہے اور قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور سب غیب کا جانے والا اللہ تعالٰی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ رسولوں کے سوائے کسی کو غیب سے آگاہ نہیں کرتا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو نماز تہجد کے بارے میں ہدایات دیں اور فرمایا کہ قرآن پاک خوب ٹھہر ٹھہر کر (سمجھ سمجھ کر) پڑھو اور اللہ تعالی کو خوب یاد کرو ۔ مشرق اور مغرب اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔ اللہ تعالی کو اپنا مددگار بناؤ۔ کافروں کی باتوں پر صبر کرو ۔ انہیں مہلت دو ۔ بہت جلد قیامت کے دن اللہ تعالی انہیں پکڑے گا اور انھیں وزنی بیڑیاں پہنائے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کرے گا اور گلے میں پھنسنے والا کھانا کھلائے گا اور دردناک عذاب دے گا اور قیامت کے دن زمین اور پہاڑ ریت کی مانند ہو جائیں گے اور وہ دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور آسمان پھٹ جائے گا۔ بے شک یہ نصیحت ہے۔ جو چا ہے اس نصیحت کو قبول کرے اور اللہ تعالیٰ کے راستہ پر چلے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی آپ ﷺ اور مسلمانوں کا راتوں میں عبادت کرنا دیکھ رہا ہے کہ تم لوگ بہت مشقت اٹھاتے ہو اور مستقبل میں بھی ایسا کرتے رہو گے تو تکلیف میں آجاؤ ک گے سو اللہ تعالی نے تم پر رحم فرمایا ۔ اب آسانی سے نماز میں جتنا قرآن پاک پڑھ سکتے ہو اتنا ہی پڑھو اور مستقبل میں تم میں کچھ بیمار ہوں گے۔ کچھ زمین میں سفر کریں گے۔ اللہ تعالی کا رزق تلاش کرنے کے لئے اور کچھ اللہ تعالٰی کے لئے لڑتے ہوں گے۔ تو آسانی سے جتنا قرآن ( نماز میں ) پڑھ سکتے ہو پڑھو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور اللہ تعالی کے لئے خرچ کرو اور اپنے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس سے زیادہ پاؤ گے ۔ بے شک اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو اسلام کی دعوت کا حکم دیا اور کافروں کی تکلیف پر صبر کرنے کی تلقین کی۔ اس کے بعد فرمایا کہ قیامت کا دن کا فروں پر بہت سخت عذاب ہوگا ۔ اس کے بعد ولید بن مغیرہ اور ابو جہل کو اللہ تعالی جو عذاب دے گا، اس کو بتایا اور اُن دونوں کے گھمنڈ اور تکبر اور انکار کے بارے میں بتایا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ دوزخ اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بے شک ڈرنے کی چیز ہے اور ایمان والے نیک اعمال کرنے والے جنت میں ہوں گے اور مجرمین دوزخ میں ہوں گے ۔ دوزخ کے داروغہ پوچھیں گے: کون سی بات تمہیں دوزخ میں لائی ؟ وہ کہیں گے : ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور محتاجوںکو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور بے ہودگیوں میں پڑے رہتے تھے اور فیصلہ کے دن (یعنی قیامت) کو جھٹلاتے تھے اور نصیحت سے منہ پھیرتے تھے ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا۔ بے شک یہ قرآن پاک نصیحت ہے، تو جو چاہے نصیحت قبول کرلے اور اللہ تعالی کی شان مغفرت ( بخشش) کرنا ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے دن کے بارے میں بتایا کہ اس دن آنکھیں چندھیا جائیں گے اور چاند، سورج میں جا کر مل جائے گا اور انسان کو کہیں بھاگنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ سب لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع کئے جائیں گے اور انسان کے سب اگلے پچھلے اعمال بتا دیے جائیں گے۔ وہ بہت بہانے بنائے گا۔ مگر سب ردّ کر دیے جائیں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو فرمایا کہ آپ ﷺ وحی کے وقت سکون سے قرآن سنیں ۔ اللہ تعالیٰ یہ قرآن پاک آپ ﷺ کو سمجھا دے گا اور یاد کرا دے گا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ بد بخت ابو جبل نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا مذاق اڑایا۔ آپ ﷺ کو جھٹلایا اور منہ پھیر کر اکڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف چلا تو خرابی ہے اس کی اور بہت بڑی خرابی ہے اس کی اور وہ اس گھمنڈ میں ہے کہ اُسے آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔ اس نے غور نہیں کیا کہ وہ ایک پانی کی حقیر بوند تھا پھر خون کی پھٹکی بنا پھر اللہ تعالی نے اسے پیدا کیا اور اس کا جوڑا بنایا تو جو اللہ تعالی یہ سب کر سکتا ہے وہ دوبارہ بھی زندہ کر سکتا ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ انسان پر ایک وقت گذرا کہ وہ کچھ بھی نہیں تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کی ملی ہوئی منی سے اُسے پیدا کیا تا کہ اس کی آزمائش کرے پھر اسے دیکھنے والا سننے والا اور سمجھنے والا بنایا اور اسے سیدھا راستہ بتایا تا کہ دیکھے کہ وہ حق کو مانتا ہے یا کفر کرتا ہے۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں بتایا کہ ان کے لئے اللہ تعالی نے زنجیریں تیار کر رکھی ہیں اور طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ اس کے بعد جنت والوں کے بارے میں بتایا کہ انھیں کافور ملا ہوا بہترین مشروب پلایا جائے گا۔ انہیں ریشمی کپڑے پہنائے جائیں گے۔ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ۔ نہ گرمی لگے گی اور نہ ٹھنڈی لگے گی اور چاندی کے گلاسوں میں ادرک ملی ہوئی سلسبیل کی نہر کا مشروب پلایا جائے گا اور اُن کی خدمت کے لئے موتی کی طرح لڑکے ہوں گے اور اُن کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور صاف ستھری شراب پلائی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر دھیرے دھیرے اتارا تو آپ ﷺ صبر کریں اور کسی گنہ گار اور کافر کی بات پر توجہ نہ دیں اور صبح اور شام اللہ تعالی کی تسبیح بیان کریں اور رات میں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کریں اور تسبیح بیان کریں۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن پاک نصیحت ہے تو جو چاہے اللہ تعالٰی کا راستہ اختیار کرے۔ اور اللہ تعالی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں لے لیتا ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ قیامت میں تارے محو کر دیئے جائیں گے ( یعنی ان کی چمک دمک ختم ہو جائے گی ) اور آسمان میں دراڑیں پڑ جائیں گی اور پہاڑ دھول بنا کر اڑا دیے جائیں گے۔ وہ فیصلہ کا دن ہو گا اور تم کیا جانو کہ فیصلہ کا دن کیا ہے ؟ اس دن جھٹلانے والوں (کافروں) کی خرابی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے کے کافروں کو ہلاک کر دیا۔ اسی طرح بعد والے کافروں کے ساتھ بھی ہوگا اور اللہ تعالیٰ مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے اور اللہ تعالٰی نے انسان کو ایک حقیر پانی کی بوند سے بنایا۔ پھر اسے محفوظ جگہ رکھا اور ایک مقررہ وقت تک رکھ کر بنایا اور ایک مقررہ وقت پر دنیا میں لایا اور اللہ تعالی بہترین قدرت والا ہے تو اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہیں سنبھالنے والی بنایا اور اس پر پہاڑوں کا لنگر بنایا اور میٹھا پانی پلایا تو چلو اُس دن کی طرف جسے تم جھٹلاتے تھے۔ بے شک جہنم میں بہت بڑی چنگاریاں اڑتی ہیں۔ اونٹوں اور محلوں کے برابر ، اُس دن جھٹلانے والوں ( انکار کرنے والوں ) کی خرابی ہے۔ یہ وہ دن ہے کہ وہ بول نہیں سکیں گے اور نہ ہی انھیں عذر ( بہانے ) کرنے کی اجازت ملے گی۔ یہ ہے فیصلہ کا دن اور اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو جمع کیا۔ اب کافروں کا کوئی داؤ چل نہیں سکتا، اگر کوئی داؤ چلانا چا ہو تو چلا کر دیکھ لو۔
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ متقی ایمان والے جنت میں سایوں میں ہوں گے اور چشموں سے پیتے اور میوے اور پھل کھاتے ہوں گے ۔ یہ اُن کے نیک اعمال کا صلہ ہوگا۔ بے شک اللہ تعالی نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتا ہے۔ اور اے مجرمو! دنیا میں کچھ دن کھا پی لو اور فائدہ اٹھا لو اور جب نماز پڑھنے کو کہا جاتا ہے تو وہ نماز نہیں پڑھتے ۔ اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ اب اس کے بعد یہ لوگ کون سی بات پر ایمان لائیں گے ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں کو احکامات دیئے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ کیوں کہ وہ اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا فروں کو بھی اسی طرح ذلیل کیا جائے گا جیسے ان سے پہلے کے کافروں کو ذلیل کیا گیا ہے۔ جس دن اللہ تعالیٰ سب کو جمع فرمائے گا تو اُن کے بُرے اعمال بتا دے گا۔ اللہ تعالی نے سب محفوظ کو رکھا ہے اور یہ کافر بھول گئے ہیں اور اللہ تعالی ہر ایک پر نظر رکھنے والا ہے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے۔ جب دو آدمی باتیں کرتے ہیں تو تیسرا اللہ تعالی سنتا ہے اور تین آدمیوں میں چوتھا اللہ تعالی سنتا اور دیکھتا ہے اور پانچ لوگوں میں چھٹا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور اللہ تعالی ہر وقت ہر ایک کے ساتھ ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے بُرے مشورے سے منع فرمایا اور بتایا کہ منافقین اپنے دوستوں (اہل کتاب سے ) رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں اور جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتے ہیں تو (دکھاوے کے لئے ) آپ ﷺ کی بے انتہا تعریف کرتے ہیں اور دلوں میں سوچتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ تو یہ منافق قیامت کے دن سخت عذاب میں ہوں گے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو ہدایات دیں کہ تم نیکی کرنے اور گناہوں سے بچنے کے مشورے دیا کرو اور اپنے بھائیوں کو مجلسوں میں جگہ دو اور رسول اللہ ﷺ کے ادب کے بارے میں ہدایات دیں اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں منافقوں کے بارے میں بتایا کہ یہ ایسے لوگوں کے دوست ہیں جن پر اللہ تعالی کا غضب ہے ( یعنی یہودیوں کے دوست ہیں) اور وہ نہ تو تم میں ہیں اور نہ ہی اُن میں ۔ یہ منافق جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا تو اس کی بارگاہ میں بھی ایسے ہی قسمیں کھا ئیں گے ۔ یہ جھوٹے ہیں اور ان پر شیطان غالب آگیا ہے۔ یہ شیطان کے گروہ ہیں اور شیطان کا گروہ نقصان اٹھانے والا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالی پر اور آخرت پر ایمان لائیں اور رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں سے دشمنی کرتے ہیں چاہے وہ اُن کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان والے ہی کیوں نہ ہوں تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کا نقش گہرا کر دیا ہے۔ وہ انھیں جنت میں داخل فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اُن سے راضی اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے۔ یہ اللہ تعالی کی جماعت ہے اور اللہ تعالی کی جماعت ہی کامیاب ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔ اس کے بعد غزوہ بنی نضیر کا ذکر فرمایا۔ بنو نضیر کے یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ کر کے تو ڑ دیا تھا اور آپ ﷺ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن سے جنگ کرنے کا حکم دیا اور آپ ﷺ نے بنو نضیر کا محاصرہ کر لیا۔ اکیس روز کے محاصرے کے بعد یہودیوں (بنو نضیر ) نے رسول اللہ ﷺ سے جان کی امان چاہی اور دوسرے علاقوں میں جانے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔ یہ یہودی جاتے جاتے اپنے گھر اور کھجور کے باغوں کے درختوں کو جلاتے ہوئے گئے تاکہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان ان سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اس کے بعد مہاجرین اور انصار صحابہ کرام صحابہ رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کے اوصاف بیان فرمائے۔
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے بارے میں بتایا کہ یہ منافق اُن کے در پردہ دوستوں اہل کتاب (یہودیوں) سے کہتے تھے کہ اگر تم لوگ نکالے گئے تو تمہارے ساتھ ہم بھی نکل جائیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے ۔ یہ بہت بڑے جھوٹے ہیں۔ یہ نہ تو مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور نہ ہی یہودیوں کے ساتھ ۔ دعویٰ دونوں کے ساتھ رہنے کا کرتے ہیں ۔ اس کے بعد بتایا کہ شیطان انسان کے دل و دماغ میں وسوسے پیدا کر کے کفر کرنے کو کہتا ہے اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو شیطان اُس سے الگ ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تجھ سے الگ ہوں اور میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب ہے۔ اُن دونوں (یعنی شیطان اور اس کے بہکاوے میں آکر کفر کرنے والے ) کا یہ انجام ہوگا کہ دونوں ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور گناہوں سے بچو اور نیک اعمال کرو۔ ہر کوئی (قیامت کے دن ) دیکھ لے گا کہ اُس نے آخرت کے لئے کیا اعمال کئے ہیں۔ تم فاسقوں کے جیسے نہ ہو جاتا جو اللہ تعالی کو بھول بیٹھے ہیں ۔ جنت والے اور دوزخ والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے اور جنت والے ہی کامیاب ہیں ۔ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چھپی اور کھلی چیز کو جانتا ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ وہ ہے کہ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ ساری کائنات کا بادشاہ ہے۔ بہت پاک ہے۔ سلامتی دینے والا ہے۔ امان بخشنے والا ہے۔ حفاظت فرمانے والا ہے۔ عزت والا ہے۔ عظمت والا ہے اور کافروں کے شرک سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ بنانے والا ہے پیدا کرنے والا ہے۔ ہر ایک کی صورت بنانے والا ہے۔ سب اچھے نام اللہ تعالیٰ کے ہی ہیں ۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالی ہی عزت والا اور حکمت والا ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ کیوں کہ وہ اُس حق (رسول اللہ ﷺ اور قرآن پاک) کا انکار کرتے ہیں جو تمہارے پاس آیا ہے۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے کو نکلو اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے، تو نہ کافروں سے دوستی کرو نہ ہی خفیہ پیغام بھیجو۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اور تمہارے دشمن ہیں ۔ اگر یہ تم پر حاوی ہوں گے تو اپنے ہاتھوں اور اپنی زبانوں سے تمہیں تکلیف پہنچائیں گے اور چاہیں گے کہ کسی طرح تم بھی کافر ہو جاؤ اور تمہارے رشتہ دار اور اولاد قیامت کے دن تم سے دور بھاگیں گے ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھا اور مسلمانوں سے فرمایا کہ قریب ہے کہ اللہ تعالی تم میں اور مکہ مکرمہ کے کافروں میں دوستی کرادے اور اللہ تعالیٰ ہر کام پر قادر ہے۔ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اللہ تعالی اُن سے دوستی کرنے کو منع نہیں فرماتا جوتم سے لڑنا نہ چاہیں اور نہ ہی تمہیں گھروں سے نکالیں بلکہ اللہ تعالٰی ان لوگوں سے دوستی کو منع فرماتا ہے جو تم سے لڑ نا چا ہیں۔ اور تمہیں گھروں سے نکالنے کے درپے ہوں ۔ اس کے بعد خواتین کے بارے میں مسلمانوں کو احکامات دیئے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر میں فرمایا: اے مسلمانو ا تم اُن لوگوں (یہودیوں) سے دوستی نہ کرو ۔ جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ہے ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزت والا حکمت والا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالی اُن کو دوست رکھتا ہے جوصف در صف لگا کر مضبوط دیوار کی طرح ہو کر اللہ تعالیٰ کے لئے لڑتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ علیہ السلام کو نبوت ورسالت اور کتاب (توریت ) عطا فرمائی۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں اور توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور اُن رسول ﷺ کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے اور اُن کا نام احمد ﷺ ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب یہ احمد ﷺ صاف صاف نشانیاں لے کر آگئے تو کافروں اور اہل کتاب ( یہودیوں اور عیسائیوں ) نے کہا کہ یہ تو ( نعوذ باللہ ) کھلا جادو ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ تعالی پر جھوٹ باند ھے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں اور اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کر لے گا چاہے کافروں کو کتنا ہی بُرا لگے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ پر پکا ایمان رکھو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے جان و مال سے لڑو ۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم غور کرو ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرما دے گا اور جنت کے عیش و آرام میں لے جائے گا۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور بہت جلد تمہاری مدد کر کے فتح دلائے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور نعمت ہو گی ۔ اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو جیسی مدد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُن کے حواریوں نے کی تھی تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لایا اور ایک گروہ نے انکار کر کے کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی مدد کی کافروں کے مقابلہ پر۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالی کی تسبیح کرتے ہیں اور اللہ تعالی ساری کائنات کا بادشاہ ہے۔ مقدس ہے ، عزت والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پڑھوں میں رسول اللہ ﷺ کو بھیجا جو اُن پر اللہ تعالیٰ کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں۔ انھیں پاک کرتے ہیں ۔ کتاب (قرآن پاک ) اور حکمت (سنت) کا علم سکھاتے ہیں جب کہ اس سے پہلے وہ گمراہ تھے۔ اس کے بعد یہودیوں کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں توریت عطا فرمائی تو انھوں نے اسے اس طرح لیا جیسے گدھے کی پیٹھ پر کتابیں لدی ہوئی ہیں ۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا: ان یہودیوں سے کہو ؛ اگر تم اللہ تعالیٰ کے دوست ہو تو مرنے کی آرزو کرو۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ یہ لوگ اپنے برے اعمال کی وجہ سے مرنے کی آرزو کبھی بھی نہیں کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ جب جمعہ کی اذان کی آواز سنو تو تمام کاروبار اور خرید و فروخت بند کر کے نماز کی تیاری کرو اور نماز کے لئے دوڑو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اگر تم اس پر غور کرو تو پھر جب نماز مکمل ہو جائے تو اللہ تعالی کا فضل اور رزق تلاش کرنے کے لئے زمین پر پھیل جاؤ اور اللہ تعالی کو کثرت سے یاد کرو ۔ اس امید پر کہ تم کامیابی (فلاح) پاؤ اور اللہ تعالی کا رزق سب سے اچھا ہے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو منافقوں کے بارے میں بتایا کہ جب یہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ جھوٹے ہیں اور اپنی قسموں کو اپنی منافقت پر ڈھال بناتے ہیں ۔ یہ لوگ زبان سے ایمان لائے اور دل سے کافر ہوئے تو اللہ تعالی نے ان کے ولوں پر مہر لگا دی ہے۔ یہ دشمن ہیں ، ان سے بچو ۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ ﷺ تمہاری مغفرت مانگیں تو گھمنڈ سے منہ پھیر لیتے ہیں اور آپ ﷺ ان منافقوں کے لئے معافی مانگیں یا نہ مانگیں ، کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اللہ تعالی ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا: اے مسلمانو ا تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ تعالی کے ذکر سے تمہیں غافل نہ کر دے اور جو مال اور اولاد کے لئے دنیا میں مگن ہو جائے گا وہ بہت بڑے نقصان میں ہوگا اوراللہ تعالی کے دیئے ہوئے رزق میں سے اللہ تعالی کے لئے خرچ کرو ۔ اس سے پہلے کہ تمہیں موت آ جائے ۔ اللہ تعالی تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ جو کچھ زمین اور آسمانوں میں ہے ۔ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کی بادشاہت ساری کائنات پر ہے اور اللہ تعالی ہی کے لئے تمام تعریف ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہی تمام انسانوں کو پیدا کیا اور اُن میں کوئی مسلمان ہے اور کوئی کافر ہے ۔ اللہ تعالی تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہت بہترین صورت بنائی ہے۔ اس کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے، جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کی بات تک جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے اور سب کو اللہ تعالی کی ضرورت ہے تو اللہ تعالی پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور اُس نور ( قرآن پاک ) پر ایمان لاؤ جو آپ ﷺ پر نازل ہوا۔ قیامت کے دن اللہ تعالی ایمان والوں کو جو نیک عمل بھی کریں اُن کو جنت میں داخل فرمائے گا اور کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانو اور اللہ تعالی پر بھروسہ رکھو اور تمہاری کچھ بیویاں اور بچے دنیا کی طرف رغبت رکھتے ہیں تو انھیں احتیاط سے سمجھاتے رہو اور اگر معاف کرو، در گزر کرو اور بخش دو تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ تمہارے مال اور تمہاری اولاد میں تمہاری آزمائش ہے۔ یقینا اللہ تعالی کے پاس بہت بڑا ثواب ہے۔ تم اپنی آخرت کے فائدے کے لئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور جو اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرے گا تو اللہ تعالی اُسے دوہرا ثواب عطا فرمائے گا۔
اللہ تعالی نے اس رکوع نمبر 17 میں طلاق کے بارے میں احکامات دیئے ۔ اس کے بعد رکوع نمبر 18 میں بتایا کہ بہت سے شہر والوں نے اللہ تعالی کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور رسولوں کو جھٹلایا تو اُن پر اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مار پڑی اور وہ نقصان والے ہو گئے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس رسول ﷺ کے ذریعہ عزت اتاری، تو جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اُن کے لئے جنت ہے اور وہ ہمیشہ عیش و آرام میں رہیں گے ۔ اللہ تعالی نے سات آسمان بنائے اور اتنی ہی زمینیں بنا ئیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم سب پر اترتا ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ اور امہات المؤمنین کا ذکر فرمایا اور رکوع کے آخر میں فرمایا : اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور اُس آگ پر سخت فرشتے مقرر ہیں جواللہ تعالی کا حکم نہیں ٹالتے اور سختی سے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور کافروں سے کہا جائے گا کہ آج بہانے نہ بناؤ تمہیں وہی بدلہ مل رہا ہے جو تم کرتے تھے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اے مسلمانو! اللہ تعالی کی بارگاہ میں ایسی توبہ کرو جو آگے نصیحت بن جائے (یعنی ہمیشہ کے لئے وہ گناہ چھوٹ جائے ) تو اللہ تعالی تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں جنت میں داخل فرمائے گا اور اللہ تعالی قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کو رسوا نہیں کرے گا اور ( پل صراط پر ) اُن کا نور اُن کے دائیں ہا ئیں ، آگے اور پیچھے دوڑتا ہوگا۔ وہ عرض کریں گے : اے اللہ ہمارے نور کو پورا کر دے اور ہماری مغفرت فرما دے۔ بے شک اللہ تعالٰی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اس کے بعد حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کے بارے میں بتایا کہ وہ دونوں رسولوں کی بیویاں ہونے کے باوجود کا فرتھیں اور فرعون کی بیوی کے بارے میں بتایا کہ ایک بہت بڑے کا فر کی بیوی ہونے کے باوجود ایمان والی تھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے فرعون اور اس کے برے عمل سے نجات دے اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بہت ہی نیک ایمان والی تھیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں اوراللہ تعالیٰ کی فرماں بردار ہیں ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ کتاب (قرآن پاک) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو عزت والا ، حکمت والا ہے اور اللہ تعالی نے زمین اور آسمان حق کے ساتھ بنائے کہ ایک مقررہ وقت تک انھیں قائم رکھے گا پھر ( قیامت کے دن ) تباہ کر دے گا اور کافر اللہ تعالی کا اور قیامت کے دن کا انکار کرتے ہیں۔ آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ تم جن کو اللہ تعالی کے سوا پوجتے ہو انھوں نے زمین کا کون سا ذرّہ بنایا؟ یا آسمان کا کون سا حصہ بنایا؟ جس نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کی وہ بہت بڑا گمراہ ہے اور میدان حشر میں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کا فروں کے دشمن جائیں گے اور اللہ تعالی ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو جان بوجھ کر ا نکار کرتے ہیں۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ جنھوں نے اسلام قبول کیا پھر اس پر آخر تک قائم رہے ، انھیں جنت کی بشارت ہے۔ اس کے بعد ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا کہ انسان کو اس کی ماں نے تکلیف اٹھا کر پیٹ میں رکھا پھر وہ پیدا ہوا تو اس کی ماں نے تیس مہینے تک اسے اپنے سینے سے لگائے رکھا اور دودھ پلایا پھر وہ جوان ہوا اور چالیس برس کا ہوا اپنے والدین کی خدمت کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہا کہ اے اللہ! مجھے اس لائق بنا کہ میں تیری دی ہوئی نعمت (اسلام) کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی اور مجھ سے اپنی پسند کے مطابق کام لے اور میری نسل میں بھلائی ( اسلام اور نیکیاں ) رکھ دے۔ تو یہ جنت والوں میں سے ہے اور جس نے اپنے والدین کو بُرا بھلا کہا اور بُرا سلوک کیا اور کہا کہ تم اسلام کی دعوت دیتے ہو اور آخرت کی زندگی کے بارے میں بتاتے ہو یہ تو صرف کہانیاں ہیں اور کچھ نہیں ۔ تو وہ بہت بڑے نقصان میں رہا اور جہنم والوں میں سے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ہود علیہ السلام اور قوم عاد کے بارے میں بتایا کہ حضرت ہود علیہ السلام نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے انھیں سمجھایا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا اور آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے اور کہا: اگر تم سچے ہو تو لے آؤ اللہ تعالیٰ کا عذاب ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کا عذاب بادل کی شکل میں آیا تو خوش ہو گئے کہ ہم پر برسے گا لیکن وہ ایک زبر دست آندھی تھی، جس نے اُن کو ہلاک کر ڈالا اور اُن کو اُس عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی کافر بستیوں کو ہلاک کر دیا۔ وہ لوگ جن کی عبادت کرتے تھے وہ اُن کی کچھ مدد نہ کر سکے بلکہ وہ تو غائب ہو گئے ۔ اس کے بعد اُن مسلمان جنات کے بارے میں بتایا جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر اسلام قبول کیا اور قرآن پاک کی تلاوت سنی تو اپنی قوم میں جا کر اسلام کی دعوت دی اور کہا: ہم نے ایک کتاب ( قرآن پاک کی تلاوت سنی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتاری گئی کتاب (توریت) کے بعد اتاری گئی ہے اور اس کی تصدیق کرتی ہے۔ اے ہماری قوم اللہ تعالی پر ایمان لاؤ اور اللہ کے رسول ﷺ کی بات مانو اور جو رسول اللہ ﷺ کی بات ماننے سے انکار کرے گا وہ کھلا گمراہ ہے۔ اس کے بعد کافروں پر عذاب کے بارے میں بتایا ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کافروں کے عمل برباد ہو گئے اور ایمان لانے والے جنھوں نے نیک اعمال کئے اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی وہ کامیاب ہو گئے ۔ کافر باطل کی پیروی کرتے ہیں اور ایمان والے حق کی پیروی کرتے ہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ اس کے بعد جنگ کے بارے میں احکامات دیئے اور فرمایا: اے ایمان والو! تم اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور کافروں کے مقابلہ میں تمہارے قدم جما دے گا۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: مسلمانوں کا مولیٰ اللہ تعالٰی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں ہے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مؤمنوں کو جنت کی بشارت دی اور بتایا کہ جنت میں پانی کی ، دودھ کی، شہد کی اور شراب کی نہریں ہیں۔ ہر قسم کے پھل اور میوے ہیں۔ یہ سب ایمان والوں کے لئے ہیں۔ کافر تو اس طرح دنیا میں رہتے اور کھاتے ہیں جس طرح جانور رہتے اور کھاتے پیتے ہیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو کافروں کے لئے جہنم ہے۔ جس میں آگ ہے اور انہیں پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جو اُن کی انتڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا تو یہ کافر قیامت کے انتظار میں ہیں جو اچانک آئے گی۔ رکوع کے آخر میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہوں کی معافی کی دعا مانگتے رہو۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا جب جہاد کے بارے میں کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو مؤمنین خوش ہوتے ہیں اور ان کا جوش ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور منافقین کے منہ لٹک جاتے ہیں اور انکے چہروں پر مردنی چھا جاتی ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کے بارے میں فرمایا کہ شیطان نے انھیں فریب دیا اور مدتوں دنیا میں رہنے کی امید دلائی اور ان اہل کتاب کو یہ ناگواری ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں آئے اور اس لئے یہ جانتے ہوئے کہ آپ ﷺ حق پر ہیں پھر بھی آپ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں منافقین کے بارے میں بتایا کہ یہ لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ ان کے دلوں کا نفاق چھپا رہے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو دکھا دے اور آپ ﷺ ان سب کو صورتوں سے پہچان لیں ۔ ویسے بھی ان کی بات چیت اور عمل سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ منافق ہیں تو اللہ تعالیٰ جنگ کے ذریعہ ضرور مؤمن اور منافق کو جانچے گا۔ اس کے بعد اہل کتاب کے بارے میں بتایا کہ وہ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ ہدایت پر ہیں ۔ اور اس کے بعد ﷺ کا انکار کر کے کفر کرتے ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتے بلکہ ان کا سب کیا دھرا ضائع ہو جائے گا ۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، اور اس کے رسول ﷺ کاحکم مانو پھر فرمایا: جو کافر ( کفر کی حالت میں ) مر گئے تو اللہ تعالیٰ انھیں ہرگز نہیں بخشے گا اور اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور تم سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کو کھلی، روشن اور صاف فتح کی بشارت دی اور فرمایا کہ اللہ تعالی آپ ﷺ کی اگلی اور پچھلی سب کوتاہیوں کو بخشتا ہے اور اللہ تعالی نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا اور ان کا اللہ تعالٰی پر یقین بڑھ گیا تو ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتوں کو اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائے گا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور منافق مردوں ، منافق عورتوں اور مشرک مردوں و مشرک عورتوں کو عذاب دے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ تم رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ اور آپ ﷺ کی تعظیم و تو قیر کرو اور صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان (تسبیح) کرو۔ رکوع کے آخر میں ان صحابہ کرام کو کامیابی کی بشارت دی۔ جنھوں نے بیعت رضوان کی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں بتایا کہ آپ ﷺ مدینہ منورہ واپس جائیں گے تو یہ لوگ معذرت کریں گے اور معافی اور بخشش کی دعا کرنے کی درخواست کریں گے تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیں گے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ ایک سخت جنگ کے ذریعہ تمھیں آزمائے گا۔ اگر تم اس جنگ میں ثابت قدمی سے لڑے تو تم کامیاب ہو جاؤ گے اور اگر پیٹھ دکھائی تو نا کام ہو جاؤ گے۔ ہاں ! اندھا اور لنگڑا اور بیمار جنگ پر نہ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ راضی ہو گیا ان ایمان والوں سے جنھوں نے درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کی۔ اللہ تعالی ان کے دلوں کے اخلاص کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اطمینان اتارا اور انھیں بہت ہی جلد آنے والی فتح ( فتح خیبر ) کا انعام دیا۔ اس کے بعد فرمایا: اگر کا فرتم سے لڑیں تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے اور ان کا کوئی حمایتی و مددگار نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا شروع سے یہی دستور ہے اور تم اللہ تعالیٰ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک صلح حدیبیہ کے بارے میں بتایا۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے خواب کو سچ کر دیا اور بے شک اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم سب مسجد حرام میں امن و امان کے ساتھ داخل ہو گئے، اپنے سروں کے بال منڈاؤ گے ۔ یہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے اور اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے فتح (فتح خیبر ) رکھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اس لئے بھیجا تا کہ اسلام کو سب دینوں پر غالب کر دے۔ اس کے بعد صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اوصاف بیان فرمائے کہ رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور آپ ﷺ کے ساتھی ( صحابۂ کرام ) کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں اور آپس میں نرم دل ہیں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے رکوع اور سجدہ کرتے ہیں اور یہ اوصاف اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں برس پہلے تو ریت اور انجیل میں بیان فرمائے تھے اور ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کے لئے ثواب اور بخشش کا وعدہ ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کا ادب کرنا سکھلایا کہ نہ تو رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں تیز آواز ( اونچی آواز ) اور تیز لہجے میں بات کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو اس طرح رسول اللہ ﷺ کو نہ پکارو بلکہ ادب سے متوجہ کرو ۔ اس کے بعد فرمایا کہ کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو پہلے تحقیق کر لو۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اس نے ایمان کو تمھارے دلوں میں آراستہ کیا اور پیارا کر دیا اور کفر اور نا فرمانی سے نفرت پیدا کر دی۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو اور مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی مسلمانوں کو احکامات دینے کا سلسلہ جاری رکھا اور فرمایا: مسلمانو کسی مرد کا مرد لوگ مذاق نہ اڑائیں اور نہ ہی مسلمان عورتیں مسلمان عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے جن کا تم مذاق اڑا رہے ہو وہ تم سے کہیں بہتر ہوں ۔ آپس میں ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیا کرو اور ایک دوسرے کو بُرے نام سے نہ پکارو اور سب سے بُرا نام تو ( مسلمان ہو کر ) فاسق کہلانا ہے اور بد گمانی سے بچو اور ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ۔اللہ تعالی نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہارے خاندان اور قبیلے بنائے تا کہ تم آپس میں پہچانے جاؤ ۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس کی عزت ہے جو ایمان لائے ، نیک کام کرے اور گناہوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک اُن لوگوں کے بارے میں ہدایات دیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے کا دعوی کیا اور اسلام اُن کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قرآن پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ کافر اس لئے حیران ہیں کہ آپ ﷺ ان ہی میں سے تشریف لائے اور کہتے ہیں کہ یہ عجیب بات ہے کہ ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو زندہ کیسے ہوں گے ؟ اللہ تعالی کی طرف پلٹنا تو دور کی بات، انھوں نے آسمان پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کیسا بنایا اور سنوارا اور اُس میں ذرا سی بھی دراڑ نہیں ہے اور اس پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے جس سے زمین کو زندہ کرتا ہے اور اُس میں سے ہر پیٹر پودوں اور ہر چیز کا جوڑا اُگاتا ہے اور اناج اور کھجور اور بہت سے پھل پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی تمہیں تمہاری قبروں سے نکالے گا تو اللہ تعالیٰ کے لئے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کرنے سے آسان دوسری مرتبہ پیدا کرنا ہے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالی انسان کے اندر وسوسوں کو بھی جانتا ہے اور وہ انسان کے گلے کی رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہے اور ہر انسان کے دائیں بائیں کاندھوں پر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیئے ہیں اور وہ دونوں انسان کی ہر نیکی اور ہر برائی کو لکھتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد میدان حشر میں کافر کی کیفیت بیان فرمائی کہ کا فرجس شیطان کے بہکاوے میں آیا تھا اور کفر کیا تھا وہ بھی اُس کے ساتھ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ دونوں کو جہنم میں ڈالنے کا حکم فرمائیں گے۔ وہ کافر کا ساتھی شیطان کہے گا۔ اے میرے رب ! میں نے اسے کفر پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود گمراہی میں مبتلا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم دونوں کو عذاب کا حکم ہو چکا ہے اور اللہ تعالی اپنی بات نہیں بدلتا اور نہ ہی اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں میدان حشر کے ذکر کو جاری رکھا اور بتایا کہ اللہ تعالٰی جہنم سے پوچھے گا : کیا تو بھر گئی ہے؟ جہنم کہے گی : نہیں! کیا اور بھی کچھ ہے؟ اور جنت مومنوں کے سامنے لائی جائے گی اور اللہ تعالی کا حکم ہوگا کہ اس میں داخل ہو جاؤ اور اس میں ہمیشہ ہمیش کے لئے عیش و آرام سے رہو۔ نصیحت پر عمل وہی کرتا ہے جو دل رکھتا ہے اور توجہ سے کان لگا کر سنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان چھ دنوں میں بنایا اور اسے ذرا بھی تھکان نہیں ہوئی آپ ﷺ اور مسلمان سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے اور کچھ رات گئے اللہ تعالی کی تسبیح بیان کریں اور جس دن زمین پھٹے گی تو سب لوگ اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں گے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالی نے اس رکوع میں ہر طرح کی ہواؤں کی قسم کھا کر فرمایا کہ قیامت ضرور آئے گی اور اُس دن ہر ایک کا فیصلہ ہوگا اور کافر آگ پر تپائے جائیں گے اور کہا جائے گا: اب عذاب کا مزہ چکھ لو ۔ یہ ہے فیصلہ کا وہ دن جس کی تم کو جلدی رہا کرتی تھی اور متقی مومنین جنت میں باغوں اور چشموں میں آرام سے رہیں گے۔ یہ وہ بندے ہیں جو رات کو کم سوتے تھے اور رات کے آخری پہر میں توبہ اور استغفار کرتے رہتے تھے اور اپنے مال میں سے ضرورت مندوں کو دیا کرتے تھے اور فرمایا: یہ قرآن پاک حق ہے اور ویسی ہی زبان میں نازل ہوا ہے جو تم بولتے ہو۔
اللہ تعالٰی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ علیہ السلام کو کتاب ( توریت ) عطا فرمائی لیکن بعد میں بنی اسرائیل نے اس میں اختلاف کیا ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا ایک مقررہ مدت تک دنیا میں رہنا متعین نہیں ہوا ہوتا تو اسی وقت اُن کا فیصلہ کر دیا جاتا اور بنی اسرائیل ایک دھو کہ میں ڈالنے والے شک میں ہیں ۔ جو نیک اعمال کرے گا تو وہ اپنے لئے نیکی کمائے گا اور جو برے اعمال کرے گا تو خود اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بالکل ظلم نہیں کرتا ۔ جب انسان کو تکلیف اور مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے بہت لمبی اور چوڑی دعا مانگتا ہے پھر جب اللہ تعالی اس تکلیف اور مصیبت کو دور کر دیتا ہے اور اپنی رحمت کا مزہ دے کر احسان کرتا ہے تو وہ اللہ تعالی کو بھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے منہ پھیر لیتا ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے، سب اللہ تعالیٰ کا ہے اور اللہ تعالیٰ بلندی والا عظمت والا ہے اور فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تعریف کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ قرآن پاک کو اللہ تعالٰی نے عربی زبان میں آپ ﷺ پر نازل فرمایا تا کہ آپ ﷺ تمام شہروں کی اصل مکہ مکرمہ والوں کو اور دور والوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں اور فرمایا : جن لوگوں نے اللہ تعالٰی کے سوا دوسروں کو والی بنالیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں اور ظالموں کا (قیامت میں ) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ ہی مددگار اور فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی والی ہے اور مُردہ کو زندہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ انسانوں کے جوڑے ان ہی میں سے اور چوپایوں کے جوڑے ان ہی میں سے بنائے اور سب کی نسلوں کو زمین پر پھیلایا۔ زمین و آسمان کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ وہ جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے اور جس پر چاہے تنگ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اسی کی دعوت دی جس کی دعوت ( یعنی اسلام ) آپ ﷺ دے رہے ہیں۔ رکوع کے آخر میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ مسلمان اُس سے ڈرتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں اور کا فرقیامت کے جلدی آنے کا شور مچاتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ قیامت قریب ہی ہو
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: جو آخرت کے لئے اعمال کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ثواب کو بڑھائے گا اور جو دنیا کے لئے اعمال کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں کچھ دے دے گا اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کے بعد فرمایا: کافر لوگ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کے شریک ٹھہراتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کا دنیا میں ایک مخصوص وقت تک رہنا متعین نہ کیا ہوتا تو اسی وقت اُن کا فیصلہ کر دیا جاتا۔ اس کے بعد کافروں کو جو عذاب ہوگا اس کے بارے میں بتایا اور مؤمنین کو جنت کی بشارت دی اور اُن کے عیش و آرام کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ اگر اللہ تعالی سب بندوں کو وسیع رزق عطا فرماتا تو زمین میں فساد (برائیاں) پھیل جاتا۔ اس لئے جس کو جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنا رزق عطا فرماتا ہے۔
اللہ تعالی نے رکوع کے شروع بتایا انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اس کے بُرے اعمال کی وجہ سے آتی ہے اور بہت سے (برے اعمال) تو اللہ تعالی معاف فرما دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی انسان کو جو مال و جائیداد عطا فرماتا ہے وہ دنیا تک ہی محدود رہ جائے گا۔ دنیا انسان کو کچھ ہی وقت کے لئے ملی ہے اور اللہ تعالی کے پاس آخرت کی زندگی ہے۔ جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اس کے بعد مؤمنوں کی خصوصیات بتائیں کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے تو معاف کر دیتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالٰی کے دیئے رزق نیک کاموں میں خرچ کرتے اس کے بعد بتایا کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ غلط سلوک کرے تو تم بھی آتنا ہی کر سکتے ہو اور اگر معاف کردو تو یہ بہت بہتر ہے۔ یہ صبر ہے اور صبر کرنا بہت بڑی نیکی ہے
اللہ تعالی نے اس رکوع میں قیامت کے دن کافروں کی کیا حالت ہوگی اس کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کا کام صاف صاف اللہ تعالی کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچا دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی ہی تمام کا ئنات کا بادشاہ ہے، وہ جو چاہے پیدا فرماتا ہے ، وہ چاہے تو صرف بیٹیاں عطا فرمائے اور چاہے تو صرف بیٹے عطا فرمائے اور چاہے تو دونوں ملا کر دے ( یعنی بیٹیاں اور بیٹے دونوں عطا فرمائے ) اور چاہے تو بانجھ رکھے، رکوع کے آخر میں آپ ﷺ سے فرمایا کہ بے شک آپ ﷺ سیدھا راستہ بتاتے ہیں اور وہ اللہ تعالی کا بتایا ہوار استہ ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ قرآن پاک کو اللہ تعالیٰ نے عربی زبان میں اس لئے اتارا ہے تا کہ تم سمجھو اور یہ اصل کتاب ( لوح محفوظ) میں لکھا ہوا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا تو ہر نبی اور رسول کا ان کی قوم کے کافروں نے مذاق اڑایا تو اللہ تعالیٰ نے اُن سب مذاق اڑانے والوں کو ہلاک کر دیا ، اس کے بعد سے رکوع کے آخر تک اللہ تعالٰی نے اپنی ربوبیت اور خالقیت کے بارے میں بتایا اور رکوع کے آخر میں فرمایا۔ اس کے بعد بھی انسان شرک کرتا ہے۔ بے شک انسان بڑا نا شکرا ہے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں کافروں کے دو الزامات کو جھوٹا ثابت کیا۔ پہلا یہ کہ کافر کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بیٹے عطا فرماتا ہے اور اپنے لئے (نعوذ باللہ ) بیٹیاں رکھتا ہے۔ دوسرا الزام یہ کہ فرشتے (نعوذ باللہ ) عورتیں ہیں ۔ اس کے بعد بتایا کہ کافر کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو جس دین پر دیکھا تو ہم بھی اسی دین پر چلیں گے۔ اس سے پہلے جب بھی کسی شہر میں اللہ تعالی نے ڈرانے والا ( یعنی نبی یا رسول ) بھیجا تو ان کی قوم کے کافروں نے بھی یہی جواب دیا تو اللہ تعالٰی نے اُن سے انتقام لیا۔ دیکھو انکار کرنے والوں ( کافروں ) کا کیسا برا انجام ہوا۔
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنے باپ آذر کو اور اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو ان لوگوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں ان بتوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو ۔ میں تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں ۔ اب چونکہ مکہ مکرمہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد بسی ہوئی تھی ۔ اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرماکر مکہ مکرمہ کے کافروں کو سکھایا کہ یہ رسول ﷺ سب کو اسی اسلام کی دعوت دے رہے ہیں۔ جس کی حضرت ابراہیم علیہ السلام دعوت دیتے تھے۔ اب اگر تم لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حق پر مانتے ہو تو آپ ﷺ کو بھی حق پر تسلیم کرلو۔
اللہ تعالی نے پچھلے رکوع میں مکہ مکرمہ کے کافروں کو سمجھانے کے بعد اس رکوع میں فرمایا کہ اب جو رحمٰن ( یعنی اللہ تعالی ) کے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایک شیطان کو لگا دے گا جو اسے اس کے برے اعمال کو اچھا کر کے بتائے گا۔ پھر جب دونوں قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو ایک دوسرے کو برا کہیں گے ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: آپ بہروں کو سنائیں گے یا اندھوں کو راستہ بتا ئیں گے جب کہ وہ کھلی گمراہی میں ہیں۔ بے شک آپ ﷺ سیدھے راستے پر ہیں۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو فرعون اور اس کی قوم نے مذاق اڑایا اور فرعون نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم ! میرے پاس سلطنت ہے اور محلات ہیں سونا چاندی ہے، اس کے پاس نہ تو سونا چاندی ہے اور نہ اس پر فرشتے آتے ہیں ۔ میں اس حقیر و بے قیمت سے کہیں بہتر ہوں ۔ فرعون کی قوم اس کے بہکاوے میں آگئی اور کا کہنا مان لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس ظلم کی وجہ سے انھیں غرق کر دیا اور آنے والی نسلوں کے لئے انہیں داستان عبرت بنا دیا۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا تو آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا: بے شک اللہ تعالی میرا اور تمہارا رب ہے اور میں تو صرف اللہ تعالٰی کی عبادت کرتا ہوں اور تم سب کو دعوت دیتا ہوں کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور اللہ تعالی کے حکم کی نا فرمانی مت کرو، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں اختلاف ہو گیا، ظالموں کی قیامت کے دن بڑی خرابی ہوگی۔
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی اور جنت میں وہ کس طرح عیش و آرام سے رہیں گے ۔ اس کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کے بعد کافروں کو دوزخ میں جو سخت عذاب دیا جائے گا، اس کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ یہ کافر اپنے مشورے کتنے بھی آہستہ آہستہ (سرگوشی میں ) کریں اللہ تعالی سب سن رہا ہے اور اس کے فرشتے لکھ رہے ہیں تو آپ ﷺ کا فروں اور اہل کتاب ( عیسائیوں اور یہودیوں ) سے کہہ دیں کہ اللہ تعالٰی کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اللہ تعالی پاک ہے اور زمین ، آسمان اور عرش کا مالک ہے۔ اللہ تعالی علم والا ، حکمت والا ہے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک کو برکت والی رات ( یعنی شب قدر ) میں اتارا اور اس رات میں اللہ تعالٰی کے حکم سے ہر حکمت والا کام بانٹ دیا جاتا ہے ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم صفات کو بیان کر کے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ یہ بیان کی گئیں کہ وہ زمین اور آسمانوں کا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، اللہ تعالی ہی تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے انکار کر دیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دو تو وہ اُن پر ظلم کرنے لگا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو بچالیا اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کر دیا۔
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب ( فرعون کی غلامی ) سے نجات دی۔ فرعون بہت تکبر اور حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا اور اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو فضیلت بخشی اور نشانیاں (صحرا میں بادل کا سایہ من اور سلویٰ کا نزول وغیرہ) عطا فرمائیں۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی نے اس دنیا کو مذاق کے لئے نہیں بنایا بلکہ اسکی تخلیق کا ایک مقصد ہے لیکن اکثر لوگ اس پر غور نہیں کرتے اور فیصلہ کا دن (یعنی قیامت) ضرور آئے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مدت تک رہنا ہے اور فیصلے کے دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا اور نہ کافروں کی مدد کی جائے گی۔ ان کا کھانا تھوہڑ کا پیڑ ہوگا اور تانبے کی طرح کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی اور جنت کے عیش و آرام کے بارے میں بتایا کہ حوریں اُن کا استقبال کریں گی اور میوے اور بہترین ٹھنڈا پانی ملے گا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ کتاب (قرآن پاک ) اللہ تعالی کی طرف سے ہے جو عزت والا حکمت والا ہے، بے شک ایمان والوں کے لئے آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں اور انسان کی پیدائش میں اور تمام جانوروں میں یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور رات اور دن کی تبدیلیوں میں اور بارش میں ، جس کی وجہ سے مردہ زمین زندہ ہو کر پھل اور اناج دیتی ہے اور ہواؤں کی گردش میں عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں اور حق ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو چھوڑ کر کسی اور پر ایمان لائے گا اور غرور کرے گا اور اللہ تعالی کی آیتوں اور اللہ کے رسول ﷺ کا مذاق اڑائے گا تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔
اللہ تعالی نے پچھلے رکوع کے سلسلہ کلام کو اس رکوع میں جاری رکھتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سمندروں اور دریاؤں کو انسانوں کے بس میں کر دیا ہے، وہ اُن میں کشتیاں چلاتے ہیں تا کہ اللہ تعالی کا فضل تلاش کریں اور حق کو مانیں ۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کام پر لگا دیا ہے ، اس میں غور کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ مسلمانوں سے کہیں کہ وہ کافروں اور اہل کتاب سے درگزر کریں تا کہ اللہ تعالی ہر قوم کو اس کے اعمال کا بدلہ دے، جو بھلا کام کرے گا اپنے لئے کرے گا اور جو برا کام کرے گا وہ بھی اپنے لئے کرے گا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت ، حکومت اور کتاب ( توریت اور انجیل ) عطا فرمائی لیکن آپس میں حسد کی وجہ سے وہ اختلاف کر بیٹھے ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے اختلاف کا فیصلہ فرما دے گا۔ ظلم ( انکار ) کرنے والے ( یعنی کا فر، یہودی اور عیسائی ) ایک دوسرے کے ولی ہیں اور مسلمانوں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے تو ایمان لانے والے اور انکار کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو حق کے ساتھ بنایا تا کہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جا سکے اورکسی پر کچھ ظلم نہیں ہوگا، جو شخص حق اور سچائی کو سمجھ لینے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کر دے تو اللہ تعالی اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دیتا ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور کافر کہتے ہیں کہ جو بھی ہے دنیا کی زندگی ہے اسی میں جینا ہے اور اس میں مرتا ہے اور آخرت کی زندگی کا (نعوذ باللہ) کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ لوگ سراسر گمراہی میں مبتلا ہیں اور جب ان کا فروں پراللہ تعالی کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ سچے ہیں تو ہمارے باپ دادا کو لے آئیں۔ آپ ﷺ ان کافروں سے کہہ دیں کہ اللہ تعالی ہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا لیکن یہ لوگ اسے سمجھ نہیں پائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے سراسر نقصان میں ہوں گے اور ہر گروہ کو اعمال نامے دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا۔ یہ ہے وہ سب جو تم دنیا میں کرتے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے سب لکھ رکھا تھا۔ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دامن میں سمیٹ لے گا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ کافروں سے کہا جائے گا تم لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور قیامت کے دن کو بھلائے بیٹھے تھے اور دنیا کی زندگی میں مگن تھے، آج اللہ تعالی تم پر کوئی توجہ نہیں کرے گا اور وہ تمہیں بھلا دے گا ۔ وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے آگ میں رہیں گے۔
D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں