Khulasa e Quran لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Khulasa e Quran لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 2 اپریل، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 30 Khulasa e Quran


30 خلاصۃ القرآن، پاره نمبر (30) 

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سوره النباء 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 1
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ کافر آپس میں ایک دوسرے سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، جب وہ آئے گی تو وہ ضرور جان جائیں گے ۔ کافر دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسان کے رہنے کے لئے پھیلایا اور اس میں مضبوطی کے لئے پہاڑ گاڑ دیئے اور تم کو جوڑے جوڑے بنائے اور رات بنائی کہ تم آرام کی نیند پاؤ اور دن بنایا کہ رزق تلاش کرو اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے اور ان میں ایک چمکتا چراغ ( سورج ) رکھا اور بادلوں سے بارش برسائی اور اس سے اناج اور سبزی اور پھل اور میوے پیدا کئے ۔ بیشک فیصلہ کا دن (یعنی قیامت کا آنا ) مقرر ہے۔ اس دن صور پھونکا جائے گا تو تم سب کے سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع (حاضر) ہو جاؤ گے اور آسمان کھولا جائے گا تو اس میں دروازے ہوں گے اور پہاڑ چلا دئیے جائیں گے تو وہ (سراب) چمکتی ریت بن کر رہ جائیں گے اور جہنم سرکشوں کی تاک میں ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس میں انھیں کوئی ٹھنڈک نہیں ملے گی اور پینے کے لئے کھولتا پانی اور جہنمیوں کی پیپ ملے گی۔ بے شک ان لوگوں کو حساب کا خوف نہیں تھا اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے (ان سے کہا جائے گا ) کہ اب چکھو عذاب کا مزہ۔ ہم تو تمہاری سزا بس بڑھاتے ہی رہیں گے۔ 
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ جو ایمان لائے ، نیک اعمال کئے اور گناہوں سے بچے ، اُس دن وہ لوگ جنت کے باغوں میں ہوں اور بہترین پھل اور میوے کھائیں گے اور بہترین مشروب پئیں گے اور جنت میں نہ تو بے ہودہ بات اور نہ ہی جھوٹ سنیں گے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہمانی ہوگی ۔ جو زمین اور آسمان کا رب ہے۔ قیامت کے دن میدان حشر میں کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات کرے۔ جبرئیل علیہ السلام اور تمام فرشتے خاموش کھڑے ہوں گے ۔ ہاں صرف وہی بات کر سکے گا جس کو (مثلاً رسول اللہ ﷺ کو) اللہ تعالی رحمٰن اجازت دے گا اور وہ حق ہی بولے گا۔ قیامت برحق ہے ۔ اب جو چاہے اللہ تعالیٰ کا راستہ اختیار کرے ۔ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ نے تمہیں اس عذاب (قیامت کا دن ) سے ڈرایا ہے جو نزدیک آ گیا ہے۔ اُس دن آدمی دیکھے گا کہ اس نے آگے کیا کچھ بھیج رکھا ہے اور کافر کہے گا: ہائے! میں کسی طرح مٹی ہو جاتا۔ (سورۃ النبا مکمل)
سورة النازعات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں جان نکالنے والے اور ہر قسم کا کام کرنے والے فرشتوں کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد قیامت کے بارے میں بتایا کہ جب وہ آئے گی تو کافروں کو عذاب ہوگا اور کافر کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گل جائیں گی تو دوبارہ ہمیں کیسے زندہ کیا جائے گا۔ ایک زور دار آواز ہوگی اور سب کے سب میدان حشر میں جمع ہو جائیں گے ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے قبول کرنے سے انکار کیا اور بولا: میں تمہارا رب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا اور آخرت دونوں جگہ کے عذاب میں پکڑ لیا۔ ایمان والوں کے لئے اس قصہ میں سبق ہے۔ 
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے اتنے بڑے آسمان کا بنانا کچھ مشکل نہیں ہوا تو تمہیں دوبارہ بنانا تو اس سے بھی آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین پھیلائی اور اس میں پہاڑوں کو جمایا اور اس میں سے پانی اور اناج اور پھل اور میوے اور چارہ نکالا جس سے تم اور تمہارے جانور فائدہ اٹھاتے ہیں تو جب قیامت آئے گی ہر آدمی اپنے اعمال کو یاد کرے گا ۔ جہنم ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دی جائے گی۔ جو لوگ دنیا میں مگن رہے اُن کے لئے جہنم ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب سے ڈرا اور اپنے نفس اور خواہشوں کو گناہوں سے روکا تو بے شک جنت ایسی ہی لوگوں کا ٹھکانہ ہے۔ (سورۃ النازعات مکمل)
سورة عبس 
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کو سمجھایا کہ آپ ﷺ مکہ مکرمہ کے اُن کا فر سرداروں کے پیچھے پریشان نہ ہوں جو ایمان نہیں لائیں گے بلکہ اُن لوگوں پر توجہ دیں جو اسلام کو سمجھنا چاہتے ہوں ۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے فرشتے ہر انسان کے اعمال کو لکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد بتایا کہ انسان کو کس طرح سے پیدا فرمایا؟ کس طرح تمام مخلوقات کے لئے رزق پیدا فرمایا؟ پھر قیامت کے بارے میں بتایا کہ جب وہ آئے گی تو آدمی اپنے ماں باپ ، اپنے بھائی ، اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے دور بھاگے گا ۔ اُس دن مؤمن خوش ہوں گے اور مجرم اور کا فرغمگین ہوں گے۔(سورہ النازعات مکمل)
سورة التكوير
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ قیامت کے دن سورج کی روشنی ختم کر دی جائے گی اور تارے بھی غائب کر دیئے جائیں گے اور پہاڑ چلائے جائیں گے۔ حاملہ اونٹنیوں کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا اور دہشت سے وحشی جانور ایک جگہ جمع ہو جائیں گے اور سمندروں میں آگ لگا دی جائے گی اور جسموں کو جانوں سے جوڑ دیا جائے گا اور زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس جرم میں تجھے زندہ دفن کیا گیا؟ اور نامۂ اعمال کھولے جائیں گے اور آسمان بھیج دیا جائے گا اور جہنم کو دہکایا جائے گا اور جنت سامنے لائی جائے گی تو ہر کوئی یہ معلوم کر لے گا کہ اس نے کیا اعمال کئے ۔ اس کے بعد ستاروں اور رات اور صبح کی بعض کیفیات کی قسم کھا کر بتایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالی کی طرف ہے جبرئیل علیہ السلام لے کر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں ۔ یہ کسی شیطان کا پڑھا ہوا نہیں ہے بلکہ قرآن پاک تو تمام عالم والوں کے لئے صاف نصیحت ہے، تو جو سیدھا راستہ اختیار کرنا چاہے تو کرلے۔ (سورہ التکویر مکمل)
سورة الانفطار
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 7
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے ہولناک منظر کو بیان کیا کہ آسمان کو پھاڑ دیا جائے گا۔ تاروں کو بے نور کر دیا جائے گا۔ سمندر بہا دیئے جائیں گے اور قبریں کھول دی جائیں گی۔ ہر کوئی جان لے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا اور پیچھے کیا چھوڑ آیا ہے؟ اے انسان! کس فریب نے تجھے اللہ تعالی کی عبادت سے روکا۔ جب کہ اللہ تعالی نے تجھے پیدا کیا اور ہاتھ پاؤں اور بہترین شکل عطا فرمائی۔ ہر انسان پر اللہ تعالی نے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کا ہر عمل لکھ لیتے ہیں تو ایمان والے نیک لوگ جنت میں ہوں گے اور بد کار کافر لوگ جہنم میں۔ یہ ہے انصاف کا دن اور تم کیا جانو انصاف کا دن کیسا ہے ؟ اُس دن کسی کو کچھ اختیار نہیں رہے گا اور صرف اللہ تعالی کا حکم چلے گا۔ (سورة الانفطار)
سورة المطففين
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 8
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ کم تولنے والے بہت بڑے نقصان میں ہیں۔ کیا وہ لوگ قیامت کے دن کو بھول گئے جب ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا ہوتا ہے اور کافروں کے لئے " سجین" ہے۔ یہ لوگ قیامت کے دن کو جھٹلاتے تھے اور جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جائیں تو کہتے تھے کہ یہ تو صرف کہانی قصے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا اور وہ اللہ تعالی کے دیدار سے محروم رہیں گے ۔ جہنم اُن کا ٹھکانہ ہے۔ ایمان والے نیک لوگوں کے لئے "علیین" ہے۔ وہ جنت میں تختوں پر ہوں گے اور بہترین مشک کی مہر گلی ہوئی نتھری شراب انہیں پلائی جائے گی ۔ دنیا کی زندگی میں مجرم لوگ مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے ۔ آج ( قیامت کے دن ) مسلمان ان کا مذاق اڑائیں گے۔(سورة المطففين)
سورة الانشقاق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 8
اللہ تعالی نے اس سورہ میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ آسمان اللہ تعالی کے حکم سے پھٹ جائے گا اور زمین اللہ تعالی کے حکم سے اپنے اندر کی چیزیں باہر نکال دے گی ۔ تو اے انسان اتجھے یقینا اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کامیاب ہوگا اور خوشی خوشی گھر والوں میں آئے گا اور جس کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ موت کی تمنا کرے گا۔ دنیا میں تو وہ اپنے گھر میں بہت خوش تھا اور اس گمان میں تھا کہ اللہ تعالٰی اُس کا حساب نہیں لے گا تو پھر یہ کافر ایمان کیوں نہیں لاتے۔ جب انھیں قرآن پاک سنایا جاتا ہے تو سجدہ کیوں نہیں کرتے ؟ (سورة الانشقاق)
سورة البروج
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 10
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں " اصحاب الاخدود" کا واقعہ بیان فرمایا جس میں کافروں نے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا ۔ اس کے بعد فرمایا کہ جو لوگ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو تکلیف دیں گے اور توبہ نہیں کریں گے تو انھیں جہنم میں ڈالا جائے گا اور ایمان والے نیک لوگ جنت میں ہوں گے اور اللہ تعالی عرش کا مالک ہے۔ جو چاہے کر سکتا ہے اور اللہ تعالی کی گرفت بہت سخت ہے۔ کیا تم لوگوں کو ان لشکروں کے بارے میں نہیں بتایا گیا جن پر اللہ تعالٰی نے گرفت کی؟ فرعون اور محمود کے لشکروں کی خبر ۔ یہ بزرگی والا قرآن ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔( سورة البروج)
سورة الطارق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 11
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ ہر انسان پر بلکہ ہر جاندار پر اللہ تعالی نے اپنے نگہبان (فرشتے) مقرر کر رکھے ہیں۔ اس کے بعد انسان اس کی تخلیق اور بناوٹ غور کرنے کا حکم دیا کہ تعالی نے ایسے کیسے بنایا؟ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ بھی بنائے گا۔ اُس دن ہر چھپی اور کھلی بات کی جانچ ہوگی اور انسان کچھ نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اس کا کوئی مددگار ہوگا اور یہ قرآن پاک سچ اور حق ہے۔ یہ کوئی ہنسی کی بات نہیں ہے۔ کافر اپنا داؤ چلتے ہیں اور اللہ تعالی اپنی تدبیر کرتا ہے۔ آپ ﷺ کچھ وقت کے لئے انھیں مہلت دے دیں۔( سورة الطارق)
سورة الأعلى  
رکوع نمبر 12
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرو جو سب سے بلند ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی تمہیں ( قرآن پاک) یاد کرادے گا اور پھر آپ ﷺ نہیں بھولیں گے۔ اللہ تعالی ہر ظاہر اور چھپی ہوئی چیز کو جانتاہے اور اللہ تعالی آسانی فرما دے گا۔ آپ ﷺ لوگوں کو نصیحت کریں۔ تو جو نصیحت قبول کرے گا وہ کامیاب ہوا اور جو بد بخت نصیحت قبول کرنے سے انکار کر دے گا تو وہ آگ ( جہنم ) میں ڈالا جائے گا۔ پھر اس میں نہ چین سے زندہ رہ سکے گا اور نہ ہی وہ مر سکے گا۔ جس نے طہارت اختیار کی اور اللہ تعالیٰ کے نام سے نماز قائم کی وہ کامیاب ہوا اور تم لوگ دنیا کی زندگی کو زیادہ اہمیت دیتے ہو اور آخرت کو بھول جاتے ہو جب کہ آخرت تمہارے لئے بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔(سورة الأعلى مکمل)
سورہ الغاشيہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کیا تم کو اس چھا جانے والی مصیبت (قیامت) کی خبر ملی ؟ اُس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے ۔ مشقت اور تکلیف میں (میدان حشر میں ) رہیں گے ۔ بھڑکتی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ جلتے کھولتے چشمے کا پانی اور جلتے ہوئے کانٹے اُن کو کھانے پینے کو دئے جائیں گے۔ جن سے نہ بھوک مٹے گی اور نہ ہی موٹے ہوں (یہ حال جہنم والوں کا ہوگا ) اس کے بعد جنت والوں کا ذکر فرمایا کہ اس دن بہت سے چہرے تر و تازہ اور چین وسکون میں رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوشش (اعمال) سے راضی ہوگا۔ جنت میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے ۔ جس سے یہ سیراب ہوں گے۔ اس کے بعد فرمایا کہ کیا یہ لوگ اونٹ کی بناوٹ پر غور نہیں کرتے اور آسمان کی بلندی پر نگاہ نہیں کرتے ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ پہاڑوں کو کس طرح نصب کر دیا گیا اور زمین کوکس طرح سے بچھا دیا ہے؟ سو( آپ ﷺ ) انھیں نصیحت کریں ، آپ ﷺ تو بس نصیحت ہی کرنے والے ہیں ان پر کچھ وکیل اور ذمہ دار نہیں ہیں ، اب اتنی صاف حقیقت جاننے کے بعد بھی جو ایمان نہیں لائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑا عذاب دے گا اور ہر ایک کو اللہ تعالی ہی کی بارگاہ میں جمع ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالٰی سب سے حساب لے گا۔( سورہ الغاشيہ مکمل)
سورة الفجر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر :14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قوم ثمود اور آل فرعون کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے سرکشی کی اور زمین میں فساد پھیلایا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب کا کوڑا مارا ۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان لیتے ہیں کبھی تو اس طرح سے کہ اس کو خوب نوازتے ہیں اور اس پر خوب احسانات فرماتے ہیں ، انسان کہتا ہے کہ میں اسی لائق تھا کہ مجھے نوازا جائے ( یعنی وہ بجائے شکر ادا کرنے کے اترانے لگتا ہے) اور کبھی اس کی آزمائش اس طرح سے ہوتی ہے کہ اللہ تعالی اس کی روزی تنگ کر دیتے ہیں تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے مالک نے میری قدر نہیں کی (یعنی صبر کرنے کی جگہ وہ شکوہ شکایت کرتا ہے) پھر اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں عزت تو اس کی ہوگی جو یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھتا ہو میراث کے مال کو انصاف کے ساتھ وارثین میں تقسیم کرتا ہو اور مال سے اس کو حد سے زیادہ محبت اور رغبت نہ ہو، اللہ تعالی کے یہاں عزت اور قدر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر انسان یتیم کی عزت نہیں کرتے اور آپس میں ایک دوسرے کو مستحق اور مسکین کو کھلانے کی رغبت نہیں رکھتے اور میراث کا مال اصل وارثوں کو دینے کی بجائے خود ہڑپ کر جاتے ہیں اور مال و دولت سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اس کے بعد قیامت کے دن کے بارے میں بتایا کہ اس دن زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی اور فرشتے قطار در قطار اتریں گے اور جہنم سامنے لائی جائے گی۔ اس دن انسان سوچے گا اور اب سوچنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، وہ کہے گا کاش ! میں نے دنیا کی زندگی سے آخرت کے لئے نیکی بھیجی ہوتی ۔ تو اس دن اللہ تعالی اسے ایسا سخت عذاب دیں گے کہ کوئی کسی کو اس کے جیسا عذاب نہ دیا ہوگا اور اس کی ایسی پکڑ کرے گا کہ اس کی مانند کوئی کسی کی پکڑ نہ کیا ہوگا اور ایمان لانے والوں ۔ پھر فرمایا کہ نیک اعمال کرنے والوں سے کہا جائے گا : اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف چل، اس حال میں کہ تو اپنے رب سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے اور اللہ تعالی کے خاص بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جنت میں داخل ہو جا۔(سورة الفجر مکمل)
سورة البلد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر قدرت نہیں رکھتا ۔ اللہ تعالی نے انسان کی دو آنکھیں بنائیں اور زبان بنائی اور دو ہونٹ دیئے پھر اسے دونوں راستے سُجھا دیے پھر وہ اگر ایمان لائے اور غلام کو آزاد کروائے اور بھوکے کو کھانا کھلائے اور رشتہ دار یتیم اور مسکین کی مدد کرے اور ایمان والوں کو آپس میں صبر کی تلقین کرے اور مہربانی کرے تو ایسے ہی لوگ دائیں طرف والے ہیں اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیا ( یعنی کفر کیا ) تو وہ بائیں طرف والے ہیں۔ اُن کے لئے آگ ہے کہ اُس میں ڈال کر بند کر دیئے جائیں گے۔(سورة البلد)
سورة الشمس
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع میں سورج ، چاند، دن، رات ، آسمان، زمین اور انسان کی جان کی قسم کھا کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر اچھائی اور برائی کو الہام کر دیا ہے۔ جس نے طہارت اختیار کی اور اپنے نفس کو پاک کیا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لا کر اُن کا حکم مانا۔ وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے برائی اختیار کی اور کفر کیا وہ نا کام ہو گیا۔ اس کے بعد قوم ثمود کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی نے انھیں بلاک کر دیا اور اللہ تعالی کسی کا خوف نہیں ہے۔ (سورة الشمس)
سورة الليل 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 17 
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رات کی اور دن کی اور خود اپنی قسم کھا کر فرمایا کہ تم انسانوں کی الگ الگ کوششیں ہیں تو جو ایمان لائے گا اور قرآن پاک پر عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دنیا اور آخرت میں آسانی کر دے گا اور جو کنجوسی کرے گا اور کفر کرے گا اور قرآن پاک کو جھٹلائے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہیں آئے گا اور وہ آخرت میں دشواری میں مبتلا ہوگا اور دنیا اور آخرت کا مالک بس اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں آگ سے ڈراتا ہے جس میں جھٹلانے والے جائیں گے اور گناہوں سے پر ہیز کرنے والے نیک لوگوں کو اللہ تعالیٰ آگ سے بچالے گا۔ (سورة الليل مکمل)
سورة الضحى
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 18
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں چاشت کے وقت اور رات کی قسم کھا کر رسول الله ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں کبھی نہیں چھوڑا اور آپ ﷺ کیلئے ہر آنے والا وقت بہتر ہوگا، بہت جلد اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ ﷺ راضی ہو جائیں گے تو آپ ﷺ یتیم کا خیال رکھیں اور مانگنے والوں کو عطا فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر فرمائیں۔ ( سورة الضحى مکمل)
سورة الم نشرح
رکوع نمبر 19
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کا سینۂ اقدس اسلام کے لئے کھول دیا اور کافروں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ ﷺ کے دل ودماغ پر جو بوجھ تھا اسے اتار دیا اور اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی خاطر آپ ﷺ کا ذکر بلند کر دیا۔ بے شک ہر تکلیف کے ساتھ آسانی ہے اور بے شک ہر آسانی کے ساتھ دشواری ہے۔ سو فارغ وقت میں اللہ تعالی کی طرف راغب ہو جائیں اور عبادت میں محنت کریں۔ (سورة الم نشرح)
سوره التين
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 20
اللہ تعالی نے اس رکوع میں انجیر، زیتون، طور سینا اور امن والے شہر (مکہ مکرمہ) کی قسم کھا کرفرمایا کہ للہ تعالی نے انسان کو بہت بہترین انداز میں بنایا پھر اسے بڑھاپے کی طرف پھیر دیا۔ تو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ اس کے لئے بے حد اجر و ثواب ہے ۔ تو (اے کا فرو!) اب کون سی چیز تجھے حق (اسلام) کو جھٹلانے کی وجہ بن رہی ہے؟ اور کیا اللہ تعالی تمام حاکموں کا حاکم نہیں ہے؟(سوره التين)
سورة العلق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 21 
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا ۔ پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے پیدا فرمایا ۔ پڑھئے، اللہ تعالی بڑا کرم کرنے والا ہے۔ اسی نے انسان کو قلم سے لکھنا سکھایا۔ وہ سب کچھ بتایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ اس کے بعد ابو جہل کو پھٹکارا کہ اس نے سرکشی کی (یعنی اسلام قبول نہیں کیا اور رسول اللہ ﷺ کو تکلیفیں دیں ) اور اپنے آپ کو اللہ تعالی کی گرفت سے محفوظ سمجھ لیا۔ بے شک سب کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں جمع ہوتا ہے۔ پھر دیکھو وہ رسول اللہ ﷺ کونماز سے روکتا ہے۔ پھر اس نے آپ ﷺ اور قرآن پاک کو جھٹلایا اور آپ ﷺ سے منہ پھیر کر چل دیا تو اللہ تعالی دیکھ رہا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالی اس کے ساتھ کیا کرے گا ۔ اگر وہ باز نہیں آیا تو اللہ تعالی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچے گا ۔ جھوٹے خطا کار کی پیشانی پھر وہ اپنے کافرساتھیوں کو بلا لے اور اللہ تعالیٰ اپنے سپاہیوں کو بلائے گا اور اس کی طرف آپ ﷺ اور مسلمان توجہ نہ دیں اور سجدہ کریں اور اللہ تعالی کے قریب ہو جائیں۔ (سورة العلق)
سورة القدر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 22 : اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالی نے یہ قرآن پاک شب قدر میں اتارا اور تم کیا جانو شب قدر کیا ہے؟ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر رات ہے۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام اور فرشتے اترتے ہیں ہر کام کے لئے، اور صبح ہونے تک سلامتی رہتی ہے۔ (سورة القدر)
سوره البينہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 23
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اہل کتاب (یہودی اور عیسائی ) ایک روشن دلیل ( رسول اللہ ﷺ ) کے انتظار میں تھے اور جب آپ ﷺ تشریف لائے اور اہل کتاب پر قرآن پاک کی آیتیں تلاوت کیں تو ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائے اور اکثر انکار کر کے کافر ہو گئے اور اہل کتاب کو تو اللہ تعالٰی نے یہی حکم دیا تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ ان کے درمیان آئیں تو وہ اُن پر ایمان لائیں اور اُن کے ساتھ مل کر نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی سیدھا دین ہے۔ جن اہل کتاب نے انکار کیا اور وہ جو مشرک ہیں وہ سب ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور وہی تمام مخلوق میں بدتر لوگ ہیں اور جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے وہی تمام مخلوق میں سب سے بہتر لوگ ہیں ۔ یہ لوگ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ اللہ تعالی اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے۔ (سوره البينہ مکمل)
سورة الزلزال
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 24
اللہ تعالی نے اس رکوع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ زمین پوری شدت سے ہلا دی جائے گی اور یہ اس کا مقدر ہے اور وہ اپنے اندر کی چیزیں باہر نکال پھینکے گی ۔ انسان حیرت سے کہے گا کہ اسے کیا ہو گیا ہے اور وہ تمام خبریں بتائے گی ۔ کیوں کہ اسے یہی حکم اللہ تعالی نے دیا ہے۔ پھر سب لوگ اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ پھر جس نے ذرہ برابر بھی بھلائی کی ہوگی اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی برائی کی ہوگی تو وہ اس کو دیکھے گا۔ (سورة الزلزال مکمل)
سورة العاديات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 25 
اللہ تعالی نے اس رکوع میں گھوڑوں کی قسم کھانے کے بعد بتایا کہ انسان اپنے رب کا بڑا نا شکرا ہے اور اپنی ناشکری پر وہ خود گواہ ہے۔ اس کے اندر مال و دولت کی چاہت اور محبت بہت شدید ہے۔ وہ بھول گیا کہ اللہ تعالی سب کو قبروں سے اٹھا کر جمع کرے گا اور سینوں میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ ان سب سے باخبر ہے۔ (سورة العاديات مکمل)
سورة القارعة 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 26
اللہ تعالی نے اس رکوع میں قیامت کے بارے میں فرمایا: گڑ گڑاہٹ سے دل دہلا دینے والی ۔ کیا ہے وہ گڑگڑاہٹ سے دل دہلا دینے والی۔ اور تم کیا جانو وہ کیا ہے؟ اُس دن انسان پتنگوں کی طرح پھیلے ہوئے ہوں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی اون کی طرح اڑیں گے ۔ جس کے اعمال کا وزن زیادہ ہو گا وہ جنت میں عیش و آرام میں ہوگا اور جن کے اعمال کا وزن ہلکا ہو گا وہ جہنم کی جوش مارتی آگ میں ہوں گے۔ (سورة القارعة مکمل)
سورة التكاثر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 27 
اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا کہ مال و دولت کی محبت اور طلب نے تمہیں دنیا میں آخرت سے غافل رکھا یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے تو تم جلد ہی جان جاؤ گے اور تم جلد ہی جان جاؤ گے اور اگر تم آخرت کا یقین رکھتے تو دنیا میں مال کی محبت میں نہ پڑتے اور بے شک تم ضرور پل صراط پر سے جہنم کو دیکھو گے اور یقینی طور سے دیکھو گے پھر ضرور تم سے اللہ تعالی کی نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (سورة التكاثر مکمل)
سورة العصر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 28
اللہ تعالی نے اس رکوع میں زمانے کی قسم کھا کر فرمایا کہ انسان خسارے میں ہے۔ مگر ( اس خسارے یعنی نقصان سے وہ بچ سکتا ہے ) جو ایمان لائے ۔ نیک اعمال کرے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کرے اور صبر کی وصیت کرے۔ (سورة العصر)
سورة الهمزه
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 29
اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا کہ خرابی ہے اُن لوگوں کی جو منہ پر عیب کرے ( طعنے دے) اور پیٹھ پیچھے برائی کرے اور جس نے مال کو جمع کر کے اور گن گن کر رکھا۔ کیا یہ سمجھتا ہے کہ اُس کا یہ مال اسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا ۔ ہرگز نہیں ! وہ تو روندنے والی آگ میں پھینکا جائے گا اور وہ روندنے والی آگ ایسی ہے کہ دلوں تک پہنچ کر چڑھ جائے گی اور انھیں آگ میں ڈھانپ دیا جائے گا۔ (سورة الهمزه مکمل)
سورة الفيل 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 30
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور کیا اُن کے داؤ نے انھیں تباہی اور ذلت میں نہ ڈالا ؟ تو اللہ تعالٰی نے اُن پر پرندوں کی ٹکڑیاں (غول کے غول ) بھیجے ۔ وہ انھیں کنکریاں مارتے تھے جس سے وہ کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ہو گئے ۔ (سورة الفيل مکمل)
سورہ قریش 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 31 
اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا کہ قریش کو اللہ تعالیٰ نے مانوس کیا اور انھیں جاڑے اور گرمی کے سفر میں آسانی دی تو اس نعمت کے شکرانے کے طور پر انھیں چاہئے کہ وہ اس گھر (خانہ کعبہ ) کے رب (اللہ تعالی ) کی عبادت کریں جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور ایک بڑے خوف سے امان دی۔ (سورہ قریش مکمل)
سورة الماعون
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 32: اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا کہ بھلا دیکھا اس شخص کو جو دین کو جھٹلاتا ہے اور یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ اس کے بعد فرمایا: ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز کو بھولے بیٹھے ہیں اور دکھاوا کرتے ہیں اور استعمال کی چیز مانگنے پر نہیں دیتے۔ (سورة الماعون مکمل)
سورة الكوثر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر :33
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو کوثر عطا فرمایا۔ تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بے شک آپ ﷺ کا جو دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے۔ (سورة الكوثر مکمل)
سورة الكافرون
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 34
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کہہ دیں : اے کا فردا میں اُن کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو اور نہ تم اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں میں اُن ( معبودان باطل) کی عبادت نہیں کروں گا جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گے جس کی میں عبادت کرنا ہوں ۔ تو تمہارے لئے تمہارا دین (تمہیں مبارک ہو ) اور میرے لئے میرا دین ہے۔ (سورة الكافرون مکمل)
سورة النصر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 35
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کی مدد آ جائے اور فتح حاصل ہو جائے اور آپ ﷺ دیکھیں کہ لوگ فوج در فوج ، گروہ در گروہ یا جماعت در جماعت دین (اسلام ) میں داخل ہونے لگیں تو (آپ ﷺ اور مسلمان ) اپنے رب کی حمد وثناء اور تسبیح وتعریف بیان کریں اور مغفرت مانگیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ بہت جلد
توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (سورة النصر مکمل)
سورة لهب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 36 
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ ٹوٹ جائیں بد بخت ابو لہب کے ہاتھ اور وہ برباد ہو جائے ۔ اس کا مال د دولت اُس کے کام نہیں آیا اور وہ لپٹ مارتی آگ میں دھنسایا جائے گا اور ساتھ میں اس کی بیوی بھی جو لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی ہے۔ اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسہ ہوگا۔(سورة لهب مکمل)
سورة الاخلاص
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 37
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کہہ دیں : اللہ تعالیٰ وہ ہے جو اکیلا ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بے نیاز ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے اور سب کو اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے ) نہ اُس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پید ہوا ہے اور کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے برابر کا نہیں ہے۔ (سورة الاخلاص مکمل)
سورة الفلق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 38
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کہ دیں : میں اُس اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں جو فلق کا رب ہے۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔اور اندھیری رات کی تاریکی سے جب وہ پھیل جائے ۔ اور گرہ لگا کر ان میں پھونکنے والیوں کے شر سے۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے، جب وہ حسد کرے۔ (سورة الفلق مکمل)
سورة الناس
رکوع نمبر 39
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا: تم کہہ دو کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی، لوگوں کے معبود کی، وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینے میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ جناتوں میں سے یا انسانوں میں سے۔ (سورة الناس مکمل) (پارہ نمبر 30 مکمل)

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 29 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 29 

سوره الملک

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 1

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ سارا ملک ( کائنات) اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اللہ تعالی بڑی برکت والا ، قدرت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانچ کرنے کے لئے زندگی اور موت کو پیدا فرمایا کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ نے ایک کے اوپر ایک سات آسمان بنائے ۔ تم غور سے دیکھو! اس میں تمہیں کوئی دراڑ نظر نہیں آئے گی۔ تو جس نے کفر کیا۔ اس کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور اس کی آگ زبردست جوش ماررہی ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے بڑا اجر وثواب ہے اور تم بات آہستہ کہو یا زور سے اللہ تعالیٰ تو دلوں میں چھپی بات جانتا ہے۔ 

رکوع نمبر 2

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین بچھائی تا کہ تم اس کے راستوں پر چلو اور اللہ تعالیٰ کا رزق تلاش کرو اور کھاؤ اور سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ اللہ تعالی کی سلطنت زمین اور آسمان پر ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا آسمان سے پتھراؤ کرے تو تمہیں کون بچائے گا ؟ اور اگر اللہ تعالیٰ اپنا رزق روک لے تو کون تمہیں رزق دے گا ؟ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے کان، آنکھ اور دل بنائے ۔ اس کے بعد بھی تم حق کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی؟ جب وہ آئے گی تو کافر بہت بڑے نقصان میں پڑ جائیں گے۔ 

(سورۃ الملک مکمل )

سورة القلم 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 3

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ مجنون نہیں ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو بہت اعلیٰ اور اونچے اخلاق عطا فرمائے ہیں۔ اسکے بعد بد بخت ولید بن مغیرہ ( جس نے آپ ﷺ کو مجنوں کہا تھا ) کے دس عیب بتائے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھانے والا ہے، ذلیل ہے، طعنے دینے والا ہے، چغل خور ہے، بھلائی سے روکنے والا ہے، حد سے بڑھنے والا ہے، گنہگار ہے، بد زبان ہے، زنا کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور اپنے مال اور اولاد پر گھمنڈ کرتا ہے۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ اس کے سور جیسے منہ کو آگ سے داغے گا۔ اس کے بعد باغ والوں کا واقعہ بیان فرمایا جواللہ تعالی کو بھول گئے تھے اور تباہ ہو گئے۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ متقی ( گناہوں سے بچنے والے) مسلمانوںکو اللہ تعالی جنت میں داخل فرمائے گا اور مسلمان اور مجرمین برابر نہیں ہو سکتے ۔ اس کے بعد بتایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اپنی پنڈلی کو ظاہر فرمائے گا۔ (پنڈلی کا ظاہر کرنا یہ اللہ تعالی کی کوئی خاص صفت ہو گی جس پر اسی طرح ایمان لانا ضروری ہے، جس طرح اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے اور اس کی کیفیت اور باریکی کے ساتھ کھوج تلاش میں پڑنا ممنوع ہے ) اس دن کا فر اور منافق اللہ تعالٰی کو سجدہ نہیں کر سکیں گے اور شرمندگی سے اُن کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور وہ ذلیل ہوں گے کیوں کہ وہ دنیا میں اللہ تعالی کو سجدہ کرنے کے لئے بلائے جاتے تھے تو سجدہ نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالی آہستہ آہستہ انہیں دوزخ میں داخل کر دے گا ۔ جب کا فر قرآن پاک سنتے ہیں تو آپ ﷺ کو مجنون کہتے ہیں جب کہ یہ قرآن پاک تمام جہان والوں کے لئے نصیحت ہے ۔

 (سورہ القلم مکمل)

سورہ الحاقه 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے متعلق پُر زور الفاظ میں بیان فرمایا کہ وہ ایک ثابت اور ضرور واقع ہونے والی حقیقت ہے۔ اس کے بعد قوم ثمود، قوم عاد، قوم فرعون اور قوم نوح کی سرکشی اور اُن پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ قیامت جب واقع ہوگی تو صور پھونکا جائے گا اور زمین اور پہاڑ اچانک چکنا چور کر دیئے جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے ۔ آٹھ فرشتے اللہ تعالی کا عرش اٹھائے ہوں گے۔ اُس دن سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اور کوئی چھپ نہیں سکے گا۔ جس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ کامیاب ہوگا اور خوشی خوشی لوگوں کو بتائے گا اور جس کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نا کام ہوگا اور کہے گا: کاش! کسی طرح مجھے موت آجاتی۔ 

رکوع نمبر 6

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ قرآن پاک کی آیتیں تم پر تلاوت فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ شاعری نہیں کرتے اور نہ ہی آپ صلی اللہ کا ہن ہیں۔ اگر آپ ﷺ (نعوذ باللہ ) اپنی طرف سے کوئی بات بناتے تو اللہ تعالیٰ سے آپ ﷺ کو کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔ بے شک آپ ﷺ لوگوں کو نصیحت والا قرآن سناتے ہیں اور یہ کافروں کے لئے حسرت ہے۔ یقینا قرآن پاک حق ہے تو تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو۔

 (سورۃ الحاقہ مکمل)

سورة المعارج 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کا فر عذاب ما نگتے ہیں تو وہ قیامت کے دن ہوگا اور وہ پچاس ہزار سال کے برابر ہو گا۔ اُس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا اور پہاڑ اون کی طرح ہلکے ہو جائیں گے۔ دوست اپنے دوست کی طرف کوئی توجہ نہیں کرے گا اور مجرم عذاب سے بچنے کے لئے اپنے بیٹے ، اپنی بیوی اپنے بھائی اور سارا خاندان اور زمین میں جو بھی ہے ، سب کچھ دے کر عذاب سے چھوٹنا چاہے گا لیکن وہ عذاب سے نہیں بیچ سکے گا۔ ایمان والے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں اور بے شک اللہ تعالیٰ کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور امانتوں اور اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور حق کی گواہی دیتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں یہی لوگ جنت کے عیش و آرام کے حقدار ہیں۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر اسلام قبول کرنے سے انکار کرنے کے بعد اس بات کی امید کیسے کر سکتے ہیں کہ انھیں جنت میں داخلہ مل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سب مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے۔ اگر اللہ تعالی چاہے تو ان سے اچھے لوگ لے آئے ۔ آپ ﷺ ان کافروں کو اُن کی بے ہودگیوں میں پڑے رہنے دو اور دنیا میں مگن رہنے دو۔ قیامت کے دن یہ قبروں سے نظریں نیچی کئے ہوئے ذلیل ہوتے ہوئے نکلیں گے۔

(سورۃ المعارج مکمل )

سوره نوح

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 9 اور رکوع نمبر 10 

اللہ تعالٰی نے ان دونوں رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالٰی سے دعا کی کہ اے اللہ! میں نے اپنی قوم کو رات دن اسلام کی دعوت دی۔ خفیہ طور سے اور علانیہ بھی تو انھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کانوں پر کپڑے لپیٹ لئے اور میں نے ہر طرح سے ان لوگوں کو سمجھایا لیکن یہ لوگ بتوں کی پوجا میں لگے رہے اور اسے اللہ! زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑنا ۔ اگر وہ رہیں گے تو بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیں گے اور ان کی اولاد بھی بدکار اور کافر ہوگی ۔ اللہ تعالی نے کافروں کو غرق کر دیا اور اُن کا کوئی مددگار نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے اور میرے والدین اور سب مسلمان مرد اور عورتوں کو بخش دے۔

 (سورہ نوح مکمل)

سورة الجن

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر :11

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کا فروں سے کہہ دو کہ میں تو صرف اللہ تعالٰی کی عبادت کرتا ہوں اور اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا اور میں تمہارے بھلے اور بُرے کا مالک نہیں ہوں اور میرا کام تو صرف اللہ تعالٰی کا پیغام اس کے بندوں تک پہونچانا ہے اور قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور سب غیب کا جانے والا اللہ تعالٰی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ رسولوں کے سوائے کسی کو غیب سے آگاہ نہیں کرتا۔

 (سورۃ الجن مکمل)

سورة المزمل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 13

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو نماز تہجد کے بارے میں ہدایات دیں اور فرمایا کہ قرآن پاک خوب ٹھہر ٹھہر کر (سمجھ سمجھ کر) پڑھو اور اللہ تعالی کو خوب یاد کرو ۔ مشرق اور مغرب اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔ اللہ تعالی کو اپنا مددگار بناؤ۔ کافروں کی باتوں پر صبر کرو ۔ انہیں مہلت دو ۔ بہت جلد قیامت کے دن اللہ تعالی انہیں پکڑے گا اور انھیں وزنی بیڑیاں پہنائے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کرے گا اور گلے میں پھنسنے والا کھانا کھلائے گا اور دردناک عذاب دے گا اور قیامت کے دن زمین اور پہاڑ ریت کی مانند ہو جائیں گے اور وہ دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور آسمان پھٹ جائے گا۔ بے شک یہ نصیحت ہے۔ جو چا ہے اس نصیحت کو قبول کرے اور اللہ تعالیٰ کے راستہ پر چلے۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی آپ ﷺ اور مسلمانوں کا راتوں میں عبادت کرنا دیکھ رہا ہے کہ تم لوگ بہت مشقت اٹھاتے ہو اور مستقبل میں بھی ایسا کرتے رہو گے تو تکلیف میں آجاؤ ک گے سو اللہ تعالی نے تم پر رحم فرمایا ۔ اب آسانی سے نماز میں جتنا قرآن پاک پڑھ سکتے ہو اتنا ہی پڑھو اور مستقبل میں تم میں کچھ بیمار ہوں گے۔ کچھ زمین میں سفر کریں گے۔ اللہ تعالی کا رزق تلاش کرنے کے لئے اور کچھ اللہ تعالٰی کے لئے لڑتے ہوں گے۔ تو آسانی سے جتنا قرآن ( نماز میں ) پڑھ سکتے ہو پڑھو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور اللہ تعالی کے لئے خرچ کرو اور اپنے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس سے زیادہ پاؤ گے ۔ بے شک اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے۔

(سورۃ المزمل (مکمل)

سورة المدثر 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 15

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو اسلام کی دعوت کا حکم دیا اور کافروں کی تکلیف پر صبر کرنے کی تلقین کی۔ اس کے بعد فرمایا کہ قیامت کا دن کا فروں پر بہت سخت عذاب ہوگا ۔ اس کے بعد ولید بن مغیرہ اور ابو جہل کو اللہ تعالی جو عذاب دے گا، اس کو بتایا اور اُن دونوں کے گھمنڈ اور تکبر اور انکار کے بارے میں بتایا۔ 

رکوع نمبر 16 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ دوزخ اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بے شک ڈرنے کی چیز ہے اور ایمان والے نیک اعمال کرنے والے جنت میں ہوں گے اور مجرمین دوزخ میں ہوں گے ۔ دوزخ کے داروغہ پوچھیں گے: کون سی بات تمہیں دوزخ میں لائی ؟ وہ کہیں گے : ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور محتاجوںکو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور بے ہودگیوں میں پڑے رہتے تھے اور فیصلہ کے دن (یعنی قیامت) کو جھٹلاتے تھے اور نصیحت سے منہ پھیرتے تھے ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا۔ بے شک یہ قرآن پاک نصیحت ہے، تو جو چاہے نصیحت قبول کرلے اور اللہ تعالی کی شان مغفرت ( بخشش) کرنا ہے۔

( سورۃ المدثر مکمل)

سورة القيامہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 17

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے دن کے بارے میں بتایا کہ اس دن آنکھیں چندھیا جائیں گے اور چاند، سورج میں جا کر مل جائے گا اور انسان کو کہیں بھاگنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ سب لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع کئے جائیں گے اور انسان کے سب اگلے پچھلے اعمال بتا دیے جائیں گے۔ وہ بہت بہانے بنائے گا۔ مگر سب ردّ کر دیے جائیں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو فرمایا کہ آپ ﷺ وحی کے وقت سکون سے قرآن سنیں ۔ اللہ تعالیٰ یہ قرآن پاک آپ ﷺ کو سمجھا دے گا اور یاد کرا دے گا۔ 

رکوع نمبر 18

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ بد بخت ابو جبل نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا مذاق اڑایا۔ آپ ﷺ کو جھٹلایا اور منہ پھیر کر اکڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف چلا تو خرابی ہے اس کی اور بہت بڑی خرابی ہے اس کی اور وہ اس گھمنڈ میں ہے کہ اُسے آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔ اس نے غور نہیں کیا کہ وہ ایک پانی کی حقیر بوند تھا پھر خون کی پھٹکی بنا پھر اللہ تعالی نے اسے پیدا کیا اور اس کا جوڑا بنایا تو جو اللہ تعالی یہ سب کر سکتا ہے وہ دوبارہ بھی زندہ کر سکتا ہے۔

(سورۃ القیامہ مکمل) 

سورة الدهر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 19

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ انسان پر ایک وقت گذرا کہ وہ کچھ بھی نہیں تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کی ملی ہوئی منی سے اُسے پیدا کیا تا کہ اس کی آزمائش کرے پھر اسے دیکھنے والا سننے والا اور سمجھنے والا بنایا اور اسے سیدھا راستہ بتایا تا کہ دیکھے کہ وہ حق کو مانتا ہے یا کفر کرتا ہے۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں بتایا کہ ان کے لئے اللہ تعالی نے زنجیریں تیار کر رکھی ہیں اور طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ اس کے بعد جنت والوں کے بارے میں بتایا کہ انھیں کافور ملا ہوا بہترین مشروب پلایا جائے گا۔ انہیں ریشمی کپڑے پہنائے جائیں گے۔ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ۔ نہ گرمی لگے گی اور نہ ٹھنڈی لگے گی اور چاندی کے گلاسوں میں ادرک ملی ہوئی سلسبیل کی نہر کا مشروب پلایا جائے گا اور اُن کی خدمت کے لئے موتی کی طرح لڑکے ہوں گے اور اُن کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور صاف ستھری شراب پلائی جائے گی۔ 

رکوع نمبر 20

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر دھیرے دھیرے اتارا تو آپ ﷺ صبر کریں اور کسی گنہ گار اور کافر کی بات پر توجہ نہ دیں اور صبح اور شام اللہ تعالی کی تسبیح بیان کریں اور رات میں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کریں اور تسبیح بیان کریں۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن پاک نصیحت ہے تو جو چاہے اللہ تعالٰی کا راستہ اختیار کرے۔ اور اللہ تعالی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں لے لیتا ہے۔ 

(سورۃ الدہر مکمل )

سورة المرسلات 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 21 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ قیامت میں تارے محو کر دیئے جائیں گے ( یعنی ان کی چمک دمک ختم ہو جائے گی ) اور آسمان میں دراڑیں پڑ جائیں گی اور پہاڑ دھول بنا کر اڑا دیے جائیں گے۔ وہ فیصلہ کا دن ہو گا اور تم کیا جانو کہ فیصلہ کا دن کیا ہے ؟ اس دن جھٹلانے والوں (کافروں) کی خرابی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے کے کافروں کو ہلاک کر دیا۔ اسی طرح بعد والے کافروں کے ساتھ بھی ہوگا اور اللہ تعالیٰ مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے اور اللہ تعالٰی نے انسان کو ایک حقیر پانی کی بوند سے بنایا۔ پھر اسے محفوظ جگہ رکھا اور ایک مقررہ وقت تک رکھ کر بنایا اور ایک مقررہ وقت پر دنیا میں لایا اور اللہ تعالی بہترین قدرت والا ہے تو اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہیں سنبھالنے والی بنایا اور اس پر پہاڑوں کا لنگر بنایا اور میٹھا پانی پلایا تو چلو اُس دن کی طرف جسے تم جھٹلاتے تھے۔ بے شک جہنم میں بہت بڑی چنگاریاں اڑتی ہیں۔ اونٹوں اور محلوں کے برابر ، اُس دن جھٹلانے والوں ( انکار کرنے والوں ) کی خرابی ہے۔ یہ وہ دن ہے کہ وہ بول نہیں سکیں گے اور نہ ہی انھیں عذر ( بہانے ) کرنے کی اجازت ملے گی۔ یہ ہے فیصلہ کا دن اور اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو جمع کیا۔ اب کافروں کا کوئی داؤ چل نہیں سکتا، اگر کوئی داؤ چلانا چا ہو تو چلا کر دیکھ لو۔ 

رکوع نمبر 22

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ متقی ایمان والے جنت میں سایوں میں ہوں گے اور چشموں سے پیتے اور میوے اور پھل کھاتے ہوں گے ۔ یہ اُن کے نیک اعمال کا صلہ ہوگا۔ بے شک اللہ تعالی نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتا ہے۔ اور اے مجرمو! دنیا میں کچھ دن کھا پی لو اور فائدہ اٹھا لو اور جب نماز پڑھنے کو کہا جاتا ہے تو وہ نماز نہیں پڑھتے ۔ اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ اب اس کے بعد یہ لوگ کون سی بات پر ایمان لائیں گے ۔

(سورۃ المرسلات مکمل )

 (پارہ نمبر29 مکمل)

 

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 28 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پاره نمبر 28

سورہ المجادلۃ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یرکوع نمبر 1

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں کو احکامات دیئے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ کیوں کہ وہ اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا فروں کو بھی اسی طرح ذلیل کیا جائے گا جیسے ان سے پہلے کے کافروں کو ذلیل کیا گیا ہے۔ جس دن اللہ تعالیٰ سب کو جمع فرمائے گا تو اُن کے بُرے اعمال بتا دے گا۔ اللہ تعالی نے سب محفوظ کو رکھا ہے اور یہ کافر بھول گئے ہیں اور اللہ تعالی ہر ایک پر نظر رکھنے والا ہے۔ 

رکوع نمبر 2

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے۔ جب دو آدمی باتیں کرتے ہیں تو تیسرا اللہ تعالی سنتا ہے اور تین آدمیوں میں چوتھا اللہ تعالی سنتا اور دیکھتا ہے اور پانچ لوگوں میں چھٹا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور اللہ تعالی ہر وقت ہر ایک کے ساتھ ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے بُرے مشورے سے منع فرمایا اور بتایا کہ منافقین اپنے دوستوں (اہل کتاب سے ) رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں اور جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتے ہیں تو (دکھاوے کے لئے ) آپ ﷺ کی بے انتہا تعریف کرتے ہیں اور دلوں میں سوچتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ تو یہ منافق قیامت کے دن سخت عذاب میں ہوں گے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو ہدایات دیں کہ تم نیکی کرنے اور گناہوں سے بچنے کے مشورے دیا کرو اور اپنے بھائیوں کو مجلسوں میں جگہ دو اور رسول اللہ ﷺ کے ادب کے بارے میں ہدایات دیں اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں منافقوں کے بارے میں بتایا کہ یہ ایسے لوگوں کے دوست ہیں جن پر اللہ تعالی کا غضب ہے ( یعنی یہودیوں کے دوست ہیں) اور وہ نہ تو تم میں ہیں اور نہ ہی اُن میں ۔ یہ منافق جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا تو اس کی بارگاہ میں بھی ایسے ہی قسمیں کھا ئیں گے ۔ یہ جھوٹے ہیں اور ان پر شیطان غالب آگیا ہے۔ یہ شیطان کے گروہ ہیں اور شیطان کا گروہ نقصان اٹھانے والا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالی پر اور آخرت پر ایمان لائیں اور رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں سے دشمنی کرتے ہیں چاہے وہ اُن کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان والے ہی کیوں نہ ہوں تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کا نقش گہرا کر دیا ہے۔ وہ انھیں جنت میں داخل فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اُن سے راضی اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے۔ یہ اللہ تعالی کی جماعت ہے اور اللہ تعالی کی جماعت ہی کامیاب ہے۔

(سورہ المجادلہ مکمل )

سورة الحشر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔ اس کے بعد غزوہ بنی نضیر کا ذکر فرمایا۔ بنو نضیر کے یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ کر کے تو ڑ دیا تھا اور آپ ﷺ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن سے جنگ کرنے کا حکم دیا اور آپ ﷺ نے بنو نضیر کا محاصرہ کر لیا۔ اکیس روز کے محاصرے کے بعد یہودیوں (بنو نضیر ) نے رسول اللہ ﷺ سے جان کی امان چاہی اور دوسرے علاقوں میں جانے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔ یہ یہودی جاتے جاتے اپنے گھر اور کھجور کے باغوں کے درختوں کو جلاتے ہوئے گئے تاکہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان ان سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اس کے بعد مہاجرین اور انصار صحابہ کرام صحابہ رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کے اوصاف بیان فرمائے۔ 

رکوع نمبر 5

اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے بارے میں بتایا کہ یہ منافق اُن کے در پردہ دوستوں اہل کتاب (یہودیوں) سے کہتے تھے کہ اگر تم لوگ نکالے گئے تو تمہارے ساتھ ہم بھی نکل جائیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے ۔ یہ بہت بڑے جھوٹے ہیں۔ یہ نہ تو مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور نہ ہی یہودیوں کے ساتھ ۔ دعویٰ دونوں کے ساتھ رہنے کا کرتے ہیں ۔ اس کے بعد بتایا کہ شیطان انسان کے دل و دماغ میں وسوسے پیدا کر کے کفر کرنے کو کہتا ہے اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو شیطان اُس سے الگ ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تجھ سے الگ ہوں اور میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب ہے۔ اُن دونوں (یعنی شیطان اور اس کے بہکاوے میں آکر کفر کرنے والے ) کا یہ انجام ہوگا کہ دونوں ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔

رکوع نمبر 6

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور گناہوں سے بچو اور نیک اعمال کرو۔ ہر کوئی (قیامت کے دن ) دیکھ لے گا کہ اُس نے آخرت کے لئے کیا اعمال کئے ہیں۔ تم فاسقوں کے جیسے نہ ہو جاتا جو اللہ تعالی کو بھول بیٹھے ہیں ۔ جنت والے اور دوزخ والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے اور جنت والے ہی کامیاب ہیں ۔ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چھپی اور کھلی چیز کو جانتا ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ وہ ہے کہ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ ساری کائنات کا بادشاہ ہے۔ بہت پاک ہے۔ سلامتی دینے والا ہے۔ امان بخشنے والا ہے۔ حفاظت فرمانے والا ہے۔ عزت والا ہے۔ عظمت والا ہے اور کافروں کے شرک سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ بنانے والا ہے پیدا کرنے والا ہے۔ ہر ایک کی صورت بنانے والا ہے۔ سب اچھے نام اللہ تعالیٰ کے ہی ہیں ۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالی ہی عزت والا اور حکمت والا ہے۔

 (سورۃ الحشر مکمل ) 

سورة الممتحنه 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ کیوں کہ وہ اُس حق (رسول اللہ ﷺ اور قرآن پاک) کا انکار کرتے ہیں جو تمہارے پاس آیا ہے۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے کو نکلو اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے، تو نہ کافروں سے دوستی کرو نہ ہی خفیہ پیغام بھیجو۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اور تمہارے دشمن ہیں ۔ اگر یہ تم پر حاوی ہوں گے تو اپنے ہاتھوں اور اپنی زبانوں سے تمہیں تکلیف پہنچائیں گے اور چاہیں گے کہ کسی طرح تم بھی کافر ہو جاؤ اور تمہارے رشتہ دار اور اولاد قیامت کے دن تم سے دور بھاگیں گے ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھا اور مسلمانوں سے فرمایا کہ قریب ہے کہ اللہ تعالی تم میں اور مکہ مکرمہ کے کافروں میں دوستی کرادے اور اللہ تعالیٰ ہر کام پر قادر ہے۔ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اللہ تعالی اُن سے دوستی کرنے کو منع نہیں فرماتا جوتم سے لڑنا نہ چاہیں اور نہ ہی تمہیں گھروں سے نکالیں بلکہ اللہ تعالٰی ان لوگوں سے دوستی کو منع فرماتا ہے جو تم سے لڑ نا چا ہیں۔ اور تمہیں گھروں سے نکالنے کے درپے ہوں ۔ اس کے بعد خواتین کے بارے میں مسلمانوں کو احکامات دیئے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر میں فرمایا: اے مسلمانو ا تم اُن لوگوں (یہودیوں) سے دوستی نہ کرو ۔ جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ہے ۔

 (سورۃ الممتحنہ مکمل )

سورہ الصف 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 9

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزت والا حکمت والا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالی اُن کو دوست رکھتا ہے جوصف در صف لگا کر مضبوط دیوار کی طرح ہو کر اللہ تعالیٰ کے لئے لڑتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ علیہ السلام کو نبوت ورسالت اور کتاب (توریت ) عطا فرمائی۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں اور توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور اُن رسول ﷺ کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے اور اُن کا نام احمد ﷺ ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب یہ احمد ﷺ صاف صاف نشانیاں لے کر آگئے تو کافروں اور اہل کتاب ( یہودیوں اور عیسائیوں ) نے کہا کہ یہ تو ( نعوذ باللہ ) کھلا جادو ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ تعالی پر جھوٹ باند ھے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں اور اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کر لے گا چاہے کافروں کو کتنا ہی بُرا لگے۔ 

رکوع نمبر :10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ پر پکا ایمان رکھو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے جان و مال سے لڑو ۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم غور کرو ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرما دے گا اور جنت کے عیش و آرام میں لے جائے گا۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور بہت جلد تمہاری مدد کر کے فتح دلائے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور نعمت ہو گی ۔ اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو جیسی مدد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُن کے حواریوں نے کی تھی تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لایا اور ایک گروہ نے انکار کر کے کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی مدد کی کافروں کے مقابلہ پر۔

(سورۃ الصف مکمل)

سورہ الجمعہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالی کی تسبیح کرتے ہیں اور اللہ تعالی ساری کائنات کا بادشاہ ہے۔ مقدس ہے ، عزت والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پڑھوں میں رسول اللہ ﷺ کو بھیجا جو اُن پر اللہ تعالیٰ کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں۔ انھیں پاک کرتے ہیں ۔ کتاب (قرآن پاک ) اور حکمت (سنت) کا علم سکھاتے ہیں جب کہ اس سے پہلے وہ گمراہ تھے۔ اس کے بعد یہودیوں کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں توریت عطا فرمائی تو انھوں نے اسے اس طرح لیا جیسے گدھے کی پیٹھ پر کتابیں لدی ہوئی ہیں ۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا: ان یہودیوں سے کہو ؛ اگر تم اللہ تعالیٰ کے دوست ہو تو مرنے کی آرزو کرو۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ یہ لوگ اپنے برے اعمال کی وجہ سے مرنے کی آرزو کبھی بھی نہیں کریں گے۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ جب جمعہ کی اذان کی آواز سنو تو تمام کاروبار اور خرید و فروخت بند کر کے نماز کی تیاری کرو اور نماز کے لئے دوڑو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اگر تم اس پر غور کرو تو پھر جب نماز مکمل ہو جائے تو اللہ تعالی کا فضل اور رزق تلاش کرنے کے لئے زمین پر پھیل جاؤ اور اللہ تعالی کو کثرت سے یاد کرو ۔ اس امید پر کہ تم کامیابی (فلاح) پاؤ اور اللہ تعالی کا رزق سب سے اچھا ہے۔

 (سورہ الجمعہ مکمل) 

سورة المنافقون 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو منافقوں کے بارے میں بتایا کہ جب یہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ جھوٹے ہیں اور اپنی قسموں کو اپنی منافقت پر ڈھال بناتے ہیں ۔ یہ لوگ زبان سے ایمان لائے اور دل سے کافر ہوئے تو اللہ تعالی نے ان کے ولوں پر مہر لگا دی ہے۔ یہ دشمن ہیں ، ان سے بچو ۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ ﷺ تمہاری مغفرت مانگیں تو گھمنڈ سے منہ پھیر لیتے ہیں اور آپ ﷺ ان منافقوں کے لئے معافی مانگیں یا نہ مانگیں ، کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اللہ تعالی ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا: اے مسلمانو ا تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ تعالی کے ذکر سے تمہیں غافل نہ کر دے اور جو مال اور اولاد کے لئے دنیا میں مگن ہو جائے گا وہ بہت بڑے نقصان میں ہوگا اوراللہ تعالی کے دیئے ہوئے رزق میں سے اللہ تعالی کے لئے خرچ کرو ۔ اس سے پہلے کہ تمہیں موت آ جائے ۔ اللہ تعالی تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

(سورۃ المنافقون مکمل)

سورة التغابن

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 15 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ جو کچھ زمین اور آسمانوں میں ہے ۔ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کی بادشاہت ساری کائنات پر ہے اور اللہ تعالی ہی کے لئے تمام تعریف ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہی تمام انسانوں کو پیدا کیا اور اُن میں کوئی مسلمان ہے اور کوئی کافر ہے ۔ اللہ تعالی تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہت بہترین صورت بنائی ہے۔ اس کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے، جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کی بات تک جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے اور سب کو اللہ تعالی کی ضرورت ہے تو اللہ تعالی پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور اُس نور ( قرآن پاک ) پر ایمان لاؤ جو آپ ﷺ پر نازل ہوا۔ قیامت کے دن اللہ تعالی ایمان والوں کو جو نیک عمل بھی کریں اُن کو جنت میں داخل فرمائے گا اور کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ 

رکوع نمبر 16

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانو اور اللہ تعالی پر بھروسہ رکھو اور تمہاری کچھ بیویاں اور بچے دنیا کی طرف رغبت رکھتے ہیں تو انھیں احتیاط سے سمجھاتے رہو اور اگر معاف کرو، در گزر کرو اور بخش دو تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ تمہارے مال اور تمہاری اولاد میں تمہاری آزمائش ہے۔ یقینا اللہ تعالی کے پاس بہت بڑا ثواب ہے۔ تم اپنی آخرت کے فائدے کے لئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور جو اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرے گا تو اللہ تعالی اُسے دوہرا ثواب عطا فرمائے گا۔

(سورہ التغابن مکمل ) 

سورة الطلاق

رکوع نمبر 17 اور رکوع نمبر 18

اللہ تعالی نے اس رکوع نمبر 17 میں طلاق کے بارے میں احکامات دیئے ۔ اس کے بعد رکوع نمبر 18 میں بتایا کہ بہت سے شہر والوں نے اللہ تعالی کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور رسولوں کو جھٹلایا تو اُن پر اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مار پڑی اور وہ نقصان والے ہو گئے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس رسول ﷺ کے ذریعہ عزت اتاری، تو جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اُن کے لئے جنت ہے اور وہ ہمیشہ عیش و آرام میں رہیں گے ۔ اللہ تعالی نے سات آسمان بنائے اور اتنی ہی زمینیں بنا ئیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم سب پر اترتا ہے۔

 (سورہ الطلاق مکمل) 

سورہ التحریم 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 19

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ اور امہات المؤمنین کا ذکر فرمایا اور رکوع کے آخر میں فرمایا : اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور اُس آگ پر سخت فرشتے مقرر ہیں جواللہ تعالی کا حکم نہیں ٹالتے اور سختی سے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور کافروں سے کہا جائے گا کہ آج بہانے نہ بناؤ تمہیں وہی بدلہ مل رہا ہے جو تم کرتے تھے۔ 

رکوع نمبر 20

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اے مسلمانو! اللہ تعالی کی بارگاہ میں ایسی توبہ کرو جو آگے نصیحت بن جائے (یعنی ہمیشہ کے لئے وہ گناہ چھوٹ جائے ) تو اللہ تعالی تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں جنت میں داخل فرمائے گا اور اللہ تعالی قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کو رسوا نہیں کرے گا اور ( پل صراط پر ) اُن کا نور اُن کے دائیں ہا ئیں ، آگے اور پیچھے دوڑتا ہوگا۔ وہ عرض کریں گے : اے اللہ ہمارے نور کو پورا کر دے اور ہماری مغفرت فرما دے۔ بے شک اللہ تعالٰی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اس کے بعد حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کے بارے میں بتایا کہ وہ دونوں رسولوں کی بیویاں ہونے کے باوجود کا فرتھیں اور فرعون کی بیوی کے بارے میں بتایا کہ ایک بہت بڑے کا فر کی بیوی ہونے کے باوجود ایمان والی تھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے فرعون اور اس کے برے عمل سے نجات دے اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بہت ہی نیک ایمان والی تھیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں اوراللہ تعالیٰ کی فرماں بردار ہیں ۔

 (سورۃ التحریم مکمل)

 (پارہ نمبر 28 مکمل)

جمعہ، 31 مارچ، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 27 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 27

مغرب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ فرشتے انسان کی شکل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے۔ آپ علیہ السلام نے مہمانوں کو دیکھا تو کھانے کا انتظام کیا لیکن مہمانوں نے نہیں کھایا تو آپ علیہ السلام کو حیرت ہوئی ۔ فرشتوں نے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو عذاب دینے جارہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو تباہ کر دیا اور دنیا کے لئے نشانی بنا دیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کے لوگوں کے پاس بھیجا تو اُس نے آپ علیہ السلام کو جادوگر اور دیوانہ کہا۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے دریا میں غرق کر دیا اور آخری وقت میں وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہا تھا۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک قوم عاد، قوم ثمود اور قوم نوح کی تباہی کے حالات بیان فرمائے۔ 

رکوع نمبر 2 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان بنائے اور زمین بچھایا اور ہر چیز کے جوڑے بنائے تا کہ تم غور کرو اور آپ ﷺ تو صاف صاف اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دینے والے ہیں اور آپ ﷺ سے پہلے جتنے بھی رسول اور نبی تشریف لائے تو کافروں نے انھیں جادوگر اور دیوانہ ہی کہا۔ آپ ﷺ کافروں کی طرف توجہ نہ کریں تو آپ ﷺ پر کوئی الزام نہیں ہے۔ آپ ﷺ انھیں سمجھا ئیں اسلام سمجھنا چاہتے ہیں اور آپ ﷺ کا سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کے لئے بنایا۔

 (سورۃ الذاریات مکمل)

سورة الطور 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 3

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں کوہ طور، لکھی ہوئی کتاب، بیت المعمور، آسمان اور سلگتے ہوئے سمندر کی قسم کھا کر بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب (قیامت کا دن) ضرور آنے والا ہے اور اُسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اُس دن آسمان بہت بُری طرح ہلایا دیا جائے گا اور پہاڑ بھی بہت تیزی سے چلائے جائیں گے۔ اُس دن کا فروں کا بہت برا حال ہوگا ۔ یہ لوگ دنیا کی زندگی میں مگن ہیں ۔ اُس دن یہ لوگ جہنم کی طرف ڈھکیلے جائیں گے اور پھر گناہوں سے پر ہیز کرنے والے مسلمان چین سے جنت میں رہیں گے ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک جنت میں جو عیش و آرام دیا جائے گا اس کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کا فروں کو نصیحت کرو ۔ آپ ﷺ نہ تو کا ہن ہیں نہ ہی مجنون اور نہ ہی شاعر ہیں ۔ یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ قرآن پاک ( نعوذ باللہ ) خود بنایا ہے۔ اگر یہ اپنی بات میں سچے ہیں تو اس قرآن پاک جیسی ایک بات لے آئیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ ان کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔ اُس دن ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

 (سورۃ الطور مکمل)

سورة النجم 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 5

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے بلکہ وہی فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ہے اور آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے سکھایا ہے۔ اس کے بعد معراج کا واقعہ بیان فرمایا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ کافر لوگ اپنے لئے بیٹے اور اللہ تعالی کے لئے بیٹیاں کہتے ہیں ۔ یہ تو سخت بھونڈی تقسیم ہے اور بہت بڑا جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے۔ جن کی یہ کافرعبادت کرتے ہیں وہ صرف کچھ نام ہیں جو ان کے باپ دادا نے رکھ لئے تھے اور دنیا اور آخرت سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔

رکوع نمبر 6

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں اور جس کو اللہ تعالی شفاعت کی اجازت دے وہی شفاعت کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت نہیں کر سکتا ۔ اس کے بعد فرمایا : جولوگ فرشتوں کا نام عورتوں جیسا رکھتے ہیں وہ ایمان والے نہیں ہیں ، وہ جھوٹا گمان کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ اس کی طرف توجہ نہ دیں ۔ دیں ۔ جس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یہ لوگ دنیا کی زندگی چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالی جانتا ہے کہ کون سید ھے راستے پر ہے اور کون بھٹکا ہوا ہے اللہ تعالی ہی زمین اور آسمانوں کا مالک ہے اور اللہ تعالی برائی کرنے والوں کو عذاب دے گا اور نیکی کرنے والوں کو اچھا صلہ عطا فرمائے گا۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور جو جیسی کوشش کرے گا اس کو ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ہی زندہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی مارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے جوڑے بنائے اور اللہ تعالی ہی میدان حشر میں سب کو جمع کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود کو ان کے کفر اور سرکشی کی وجہ سے ہلاک کیا۔ تو اے کافرو! اللہ تعالی کی کون کون سی نعمتوں پر شک کرو گے؟ قیامت قریب آگئی ہے اور اللہ تعالی کے سوا کوئی قیامت برپا نہیں کر سکتا اور تم لوگ اس پر تعجب کرتے ہو اور روتے نہیں۔ اور تم لوگ دنیا کی زندگی میں مگن ہوتو تمہارے لئے بہتر یہ ہے کہ تم اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اللہ تعالی کوسجدہ کرو۔

 (سورہ النجم مکمل) 

سورة القمر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ قیامت قریب آگئی ہے اور اس کے قریب آنے کی نشانی چاند کے دو ٹکڑے ہونا ہے ۔ اتنی صاف نشانی دیکھنے کے بعد بھی کافروں نے انکار کر دیا اور بولے کہ یہ جادو ہے ۔ یہ لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ جب قیامت آئے گی تو کافر لوگ اپنی نظروں کو نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکلیں گے اور کہیں گے کہ آج کا دن بہت سخت ہے۔ اس کے بعد قوم نوح اور قوم عاد کی سرکشی اور ان پر عذاب کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن پاک یاد کرنے کے لئے آسان ہے۔ تو ہے کوئی اس کو یاد کرنے والا؟ 
رکوع نمبر 9: اللہ تعالی نے اس رکوع میں قوم ثمود اور قوم لوط کے بارے میں بتایا کہ ان قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا اور سر کشی کی اور عذاب کی مانگ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیج کر انہیں ہلاک کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن پاک یاد کرنے والوں کے لئے آسان کر دیا ہے، تو ہے کوئی اس کو یاد کرنے والا؟ 

رکوع نمبر 10

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالٰی نے تمام کا فر اور سرکش قوموں پر گرفت کی (تو اے مکہ کے کافرو!) تم سے پہلے گزر چکے کافر کیا بہتر تھے؟ اور کیا ( آسمانی ) کتابوں میں تمہاری ( جہنم سے) آزادی لکھی ہوئی ہے؟ یا پھر یہ کہتے ہو کہ ہم سب پہلے کے اور بعد کے کافرمل کر ( اللہ تعالی سے ) بدلہ لے لیں گے ۔ اللہ تعالی نے سب کافروں کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دی ہے اور قیامت کے دن ان سب کافروں کو پکڑے گا۔ اُس دن یہ سب اپنے مونہوں کے بل آگ میں ڈھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا۔ جہنم کی آنچ کا مزہ چکھو ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے بہت سے کافروں کو ہلاک کر دیا اور انھوں نے جو کچھ کیا وہ سب فرشتوں نے لکھ لیا ہے۔

(سورۂ القمرمکمل)

سورہ الرحمن

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 11

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو قرآن پاک سکھلایا ۔ اللہ تعالٰی نے انسان کی تخلیق فرمائی اور علم عطا فرمایا۔ سورج اور چاند کو ان کے مدار پر مقرر فرمایا اور ستارے اور پیڑ پودے سجدہ کرتے ہیں اور آسمان کو بلند کیا اور زمین کو پھیلایا۔ اور ترازو رکھا تا کہ انسان عدل و انصاف سے کام لے اور نا انصافی و ظلم نہ کرے اور زمین میں تمام مخلوق کے لئے رزق رکھا۔ اس میں سے تمہارے لئے میوے اور کھجور ہیں اور اناج اور خوشبو والے پھول پیدا فرمائے تو اے جنات اور انسان ! تم اللہ تعالی کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ( انکار کرو گے ) اور انسان کو مٹی سے بنایا اور جنات کو آگ کی لو سے پیدا کیا اور اللہ تعالی مشرق اور مغرب کا مالک ہے اور اس نے دو سمندر بنائے جو آپس میں ملے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اُن کے درمیان ایک آڑ ہے تو وہ ایک دوسرے سے آگے نہیں بڑھ سکتے اور ان میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے، تو اے جنات اور انسان! تم اپنے رب ( اللہ تعالی ) کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی اپنے رب ہونے کی نشانیوں کا ذکر جاری رکھا اور بتایا کہ زمین پر جتنی مخلوق ہے اُن سب کو ایک مقررہ مدت کے بعد اللہ تعالی فنا کر دے گا اور باقی رہنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ زمین اور آسمانوں کی تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد انسانوں اور جنات سے حساب لے گا۔ اگر تم تمام انسان اور جنات زمین اور آسمان سے نکلنا چا ہو تو نکل جاؤ لیکن جہاں بھی جاؤ گے۔ وہاں پر اللہ تعالی ہی کی حکومت اور بادشاہت ہے تو کافروں پر بغیر دھویں کی کالی آگ چھوڑی جائے گی۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور گلابی ہو جائے گا جیسے سرخ چمڑا تو اس دن گنہگار اور مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھٹلاتے تھے ۔ پھر انہیں اس کے بے حد جلتے اور کھولتے پانی میں ڈالا جائے گا۔ تو اے انسانو اور جنات! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالی نے پچھلے رکوع میں کافروں اور اُن پر عذاب کے بارے میں بتایا۔ اب اس رکوع میں مومنوں اور جنت میں اُن کے عیش و آرام کے بارے میں بتایا کہ مومنین کے لئے دو جنتیں ہیں ۔ اُن میں دو چشمے بہتے ہیں۔ ان میں ہر میوہ دوقسم کا ہے۔ وہ اپنے ریشمی بچھونوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے ہوں گے اور دونوں قسم کے میوے اتنے نیچے جھکے ہوں گے کہ ہاتھ بڑھا کر توڑ لو اور اُن کے ساتھ ایسی عورتیں ہوں گی جو اپنے شوہر کے علاوہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں۔ تو اے انسان اور جنات ! تم اپنے رب کی کون کون نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان دو جنتوں کے علاوہ بھی دو جنتیں ہیں اور وہاں بھی اسی طرح کا عیش و آرام ہے۔ تو اے انسان اور جنات ! تم اپنے رب کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ تو بڑی برکت والا عظمت والا اور بزرگی والا ہے۔ 

(سورہ الرحمن مکمل )

سورہ الواقعه

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ وہ ضرور آئے گی اور جب آئے گی تو ہر کوئی اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور کوئی بھی اس کا انکار نہیں کر سکے گا۔ وہ (قیامت) کسی کو جہنم میں جانے کی وجہ سے پست کرے گی اور کسی کو ( جنت میں جانے کی وجہ سے) بلند کرے گی ۔ جب زمین تھرتھرا کر کانپے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر دھول بن جائیں گے اور غبار بن کر اڑیں گے تو تمام انسان اور جنات تین قسم کے ہو جائیں گے ۔ ایک قسم دائیں طرف والوں کی ہوگی ، دوسری قسم بائیں طرف والوں کی ہوگی اور تیسری قسم سبقت لے جانے والوں کی ہوگی۔ یہ سب سے بہتر ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کے مقرب ( سب سے قریبی ) ہوں گے ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک اللہ تعالیٰ سبقت لے جانے والے اور دائیں طرف والے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے جو عیش و آرام پائیں گے اس کا تفصیلی ذکر فرمایا۔ 

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھا اور رکوع کے شروع میں بائیں طرف والوں کو جو عذاب دیا جائے گا ، اس کا تفصیلی ذکر فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں پیدا فرمایا تو تم سچ کو تسلیم کیوں نہیں کرتے تو کیا تم لوگ اپنی اولاد کو بناتے ہو؟ یا اللہ تعالیٰ بناتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تمہاری موت مقرر کر دی ہے اور اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہیں ختم کر کے تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور تمہاری صورتیں ایسی کر دے جس کا تم کو اندازہ ہی نہ ہو تو پھر سوچتے کیوں نہیں ؟ تم ہی بتاؤ تو جو کچھ تم بوتے ہو، اُسے تم کھیتی بناتے ہو یا اللہ تعالی بناتا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ چاہے تو اناج کے بدلہ گھاس پھونس اُگے، پھر تو تم افسوس کرتے رہ جاؤ گے ۔ بھلا بتاؤ ؟ بادلوں سے بارش تم برساتے ہو یا اللہ تعالی برساتا ہے؟ اور اللہ تعالٰی چاہے تو بارش کے پانی کو کھارا کردے تو پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے اور سمجھتے کیوں نہیں؟ 

رکوع نمبر 16 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ قرآن ہے اور ایسا ہے کہ اس کی عزت کی جائے تو اسے صرف پاک لوگ چھو سکتے ہیں اور تمام عالمین کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تو کچھ لوگ اس قرآن پاک پر عمل کرنے میں سستی کرتے ہیں کچھ لوگ اس قرآن پاک کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں اور قیامت کے دن قرآن پاک میں سے ہر ایک کے حصہ کے مطابق بدلہ دیا گا۔ دائیں طرف والے تو چین اور راحت کے باغ میں رہیں گے اور اُن پر سلام ہوگا اور بائیں طرف والوں کا استقبال ان کی گمراہی کی وجہ سے کھولتے پانی اور بھڑکتی ہوئی آگ سے جائے گا اور یہ یقینی بات ہے تو تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو۔

 (سورہ الواقعہ مکمل)

سورة الحديد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 17

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔ زمین اور آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کی ہی سلطنت ہے ۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے۔ وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہی زمین اور آسمان چھ دن میں بنائے ، پھر عرش پر اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہوا۔ اللہ تعالی تمہارے سب کام دیکھ رہاہے اوراللہ تعالی ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا کہ اللہ تعالی نے تمہیں جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرو اور اس پر تمہیں بہت بڑا ثواب ملے گا ۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا اور فتح مکہ کے بعد جن لوگوں نے اسلام قبول کیا وہ مرتبہ میں برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ ان سب سے جنت کا وعدہ فرما چکا ہے۔ 

رکوع نمبر 18:

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے دوہرا ثواب عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد پل صراط پر مومنوں اور منافقوں کی کیفیت بیان فرمائی کہ پل صراط پر مومن مردوں اور مومن عورتوں کا نور ان کے آگے ، پیچھے، دائیں بائیں اور اُن کے ساتھ دوڑتا ہو گا اور منافق مرد اور منافق عورتیں اُن کے نور میں سے کچھ حصہ مانگیں گے تو مومنین کہیں گے : واپس جاؤ اور اپنا نور وہاں ڈھونڈو۔ وہ واپس جائیں گے تو دونوں کے درمیان ایک دیوارکھڑی کر دی جائے گی ، جس میں دروازہ ہو گا ، اس کے ایک طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوگی اور دوسری طرف عذاب ہوگا۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتوں کے لئے دوہرا ثواب ہے۔ جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے تمام نبیوں اور رسولوں پر ایمان لائیں وہی کامل بچے ہیں اور دوسروں پر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں۔ اُن کے لئے اُن کا ثواب اُن کا نور ہے۔ 

رکوع نمبر 19

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ دنیا کی زندگی تو وقتی ہے اور دکھاوا ہے اور تم جو ایک دوسرے پر مال اور اولاد کی وجہ سے بڑائی مارتے ہو تو اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہو، دنیا کی مثال تو اُس گھاس کے جیسی ہے جو بارش کی وجہ سے اگتی ہے۔ ہری بھری ہوتی ہے پھر سوکھ کر کچرا بن جاتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ برائیوں سے بچ کر نیک اعمال کر کے اللہ تعالٰی کی بخشش اور جنت کی طرف بڑھو ۔ جس کی چوڑائی زمین سے آسمان تک ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو بڑائی مارنے والے، اترانے والے گھمنڈی لوگ پسند نہیں آتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو کتاب دے کر بھیجا اور تمہارے لئے لوہا اتارا ، جس سے تم تلوار اور زرہ وغیرہ بناتے ہو اور جو اللہ تعالی پر بغیر دیکھے ایمان لائے گا اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کرے گا حقیقت میں وہی کامیاب ہے۔ 

رکوع نمبر 20

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھیجا اور ان کی اولاد ( بنی اسرائیل ) میں نبوت اور کتاب رکھی تو اُن میں سے کچھ ہی لوگ ہدایت پر تھے اور اکثر فاسق تھے ۔ پھر اللہ تعالی نے اُن میں بہت سے رسول بھیجے اور آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا اور انجیل عطا فرمائی ۔ اُن کے ماننے والوں ( عیسائیوں) کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی اور رہبانیت کا حکم اللہ تعالی نے نہیں دیا تھا بلکہ انہوں نے خود نکالا۔ اس پر بھی اللہ تعالی نے انہیں ثواب دیا لیکن وہ اس پر قائم نہ رہ سکے تو اے ایمان والو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ۔ اللہ تعالی تمہیں دوہرا ثواب عطا فرمائے گا۔

(سورہ الحدید مکمل) 

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 26 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر (26) 

سورة الاحقاف 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 1

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ کتاب (قرآن پاک) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو عزت والا ، حکمت والا ہے اور اللہ تعالی نے زمین اور آسمان حق کے ساتھ بنائے کہ ایک مقررہ وقت تک انھیں قائم رکھے گا پھر ( قیامت کے دن ) تباہ کر دے گا اور کافر اللہ تعالی کا اور قیامت کے دن کا انکار کرتے ہیں۔ آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ تم جن کو اللہ تعالی کے سوا پوجتے ہو انھوں نے زمین کا کون سا ذرّہ بنایا؟ یا آسمان کا کون سا حصہ بنایا؟ جس نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کی وہ بہت بڑا گمراہ ہے اور میدان حشر میں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کا فروں کے دشمن جائیں گے اور اللہ تعالی ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو جان بوجھ کر ا نکار کرتے ہیں۔ 

رکوع نمبر 2

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ جنھوں نے اسلام قبول کیا پھر اس پر آخر تک قائم رہے ، انھیں جنت کی بشارت ہے۔ اس کے بعد ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا کہ انسان کو اس کی ماں نے تکلیف اٹھا کر پیٹ میں رکھا پھر وہ پیدا ہوا تو اس کی ماں نے تیس مہینے تک اسے اپنے سینے سے لگائے رکھا اور دودھ پلایا پھر وہ جوان ہوا اور چالیس برس کا ہوا اپنے والدین کی خدمت کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہا کہ اے اللہ! مجھے اس لائق بنا کہ میں تیری دی ہوئی نعمت (اسلام) کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی اور مجھ سے اپنی پسند کے مطابق کام لے اور میری نسل میں بھلائی ( اسلام اور نیکیاں ) رکھ دے۔ تو یہ جنت والوں میں سے ہے اور جس نے اپنے والدین کو بُرا بھلا کہا اور بُرا سلوک کیا اور کہا کہ تم اسلام کی دعوت دیتے ہو اور آخرت کی زندگی کے بارے میں بتاتے ہو یہ تو صرف کہانیاں ہیں اور کچھ نہیں ۔ تو وہ بہت بڑے نقصان میں رہا اور جہنم والوں میں سے ہے۔

رکوع نمبر 3 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ہود علیہ السلام اور قوم عاد کے بارے میں بتایا کہ حضرت ہود علیہ السلام نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے انھیں سمجھایا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا اور آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے اور کہا: اگر تم سچے ہو تو لے آؤ اللہ تعالیٰ کا عذاب ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کا عذاب بادل کی شکل میں آیا تو خوش ہو گئے کہ ہم پر برسے گا لیکن وہ ایک زبر دست آندھی تھی، جس نے اُن کو ہلاک کر ڈالا اور اُن کو اُس عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی کافر بستیوں کو ہلاک کر دیا۔ وہ لوگ جن کی عبادت کرتے تھے وہ اُن کی کچھ مدد نہ کر سکے بلکہ وہ تو غائب ہو گئے ۔ اس کے بعد اُن مسلمان جنات کے بارے میں بتایا جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر اسلام قبول کیا اور قرآن پاک کی تلاوت سنی تو اپنی قوم میں جا کر اسلام کی دعوت دی اور کہا: ہم نے ایک کتاب ( قرآن پاک کی تلاوت سنی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتاری گئی کتاب (توریت) کے بعد اتاری گئی ہے اور اس کی تصدیق کرتی ہے۔ اے ہماری قوم اللہ تعالی پر ایمان لاؤ اور اللہ کے رسول ﷺ کی بات مانو اور جو رسول اللہ ﷺ کی بات ماننے سے انکار کرے گا وہ کھلا گمراہ ہے۔ اس کے بعد کافروں پر عذاب کے بارے میں بتایا ۔

( سورة الاحقاف مکمل)

سورہ محمد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 5

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کافروں کے عمل برباد ہو گئے اور ایمان لانے والے جنھوں نے نیک اعمال کئے اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی وہ کامیاب ہو گئے ۔ کافر باطل کی پیروی کرتے ہیں اور ایمان والے حق کی پیروی کرتے ہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ اس کے بعد جنگ کے بارے میں احکامات دیئے اور فرمایا: اے ایمان والو! تم اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور کافروں کے مقابلہ میں تمہارے قدم جما دے گا۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: مسلمانوں کا مولیٰ اللہ تعالٰی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں ہے۔ 

رکوع نمبر 6

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مؤمنوں کو جنت کی بشارت دی اور بتایا کہ جنت میں پانی کی ، دودھ کی، شہد کی اور شراب کی نہریں ہیں۔ ہر قسم کے پھل اور میوے ہیں۔ یہ سب ایمان والوں کے لئے ہیں۔ کافر تو اس طرح دنیا میں رہتے اور کھاتے ہیں جس طرح جانور رہتے اور کھاتے پیتے ہیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو کافروں کے لئے جہنم ہے۔ جس میں آگ ہے اور انہیں پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جو اُن کی انتڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا تو یہ کافر قیامت کے انتظار میں ہیں جو اچانک آئے گی۔ رکوع کے آخر میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہوں کی معافی کی دعا مانگتے رہو۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا جب جہاد کے بارے میں کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو مؤمنین خوش ہوتے ہیں اور ان کا جوش ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور منافقین کے منہ لٹک جاتے ہیں اور انکے چہروں پر مردنی چھا جاتی ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کے بارے میں فرمایا کہ شیطان نے انھیں فریب دیا اور مدتوں دنیا میں رہنے کی امید دلائی اور ان اہل کتاب کو یہ ناگواری ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں آئے اور اس لئے یہ جانتے ہوئے کہ آپ ﷺ حق پر ہیں پھر بھی آپ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں منافقین کے بارے میں بتایا کہ یہ لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ ان کے دلوں کا نفاق چھپا رہے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو دکھا دے اور آپ ﷺ ان سب کو صورتوں سے پہچان لیں ۔ ویسے بھی ان کی بات چیت اور عمل سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ منافق ہیں تو اللہ تعالیٰ جنگ کے ذریعہ ضرور مؤمن اور منافق کو جانچے گا۔ اس کے بعد اہل کتاب کے بارے میں بتایا کہ وہ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ ہدایت پر ہیں ۔ اور اس کے بعد ﷺ کا انکار کر کے کفر کرتے ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتے بلکہ ان کا سب کیا دھرا ضائع ہو جائے گا ۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، اور اس کے رسول ﷺ کاحکم مانو پھر فرمایا: جو کافر ( کفر کی حالت میں ) مر گئے تو اللہ تعالیٰ انھیں ہرگز نہیں بخشے گا اور اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور تم سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو ۔

 (سورہ محمد مکمل )

سورة الفتح

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 9 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کو کھلی، روشن اور صاف فتح کی بشارت دی اور فرمایا کہ اللہ تعالی آپ ﷺ کی اگلی اور پچھلی سب کوتاہیوں کو بخشتا ہے اور اللہ تعالی نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا اور ان کا اللہ تعالٰی پر یقین بڑھ گیا تو ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتوں کو اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائے گا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور منافق مردوں ، منافق عورتوں اور مشرک مردوں و مشرک عورتوں کو عذاب دے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ تم رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ اور آپ ﷺ کی تعظیم و تو قیر کرو اور صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان (تسبیح) کرو۔ رکوع کے آخر میں ان صحابہ کرام کو کامیابی کی بشارت دی۔ جنھوں نے بیعت رضوان کی تھی۔ 

رکوع نمبر 10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں بتایا کہ آپ ﷺ مدینہ منورہ واپس جائیں گے تو یہ لوگ معذرت کریں گے اور معافی اور بخشش کی دعا کرنے کی درخواست کریں گے تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیں گے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ ایک سخت جنگ کے ذریعہ تمھیں آزمائے گا۔ اگر تم اس جنگ میں ثابت قدمی سے لڑے تو تم کامیاب ہو جاؤ گے اور اگر پیٹھ دکھائی تو نا کام ہو جاؤ گے۔ ہاں ! اندھا اور لنگڑا اور بیمار جنگ پر نہ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ 

رکوع نمبر :11

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ راضی ہو گیا ان ایمان والوں سے جنھوں نے درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کی۔ اللہ تعالی ان کے دلوں کے اخلاص کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اطمینان اتارا اور انھیں بہت ہی جلد آنے والی فتح ( فتح خیبر ) کا انعام دیا۔ اس کے بعد فرمایا: اگر کا فرتم سے لڑیں تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے اور ان کا کوئی حمایتی و مددگار نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا شروع سے یہی دستور ہے اور تم اللہ تعالیٰ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک صلح حدیبیہ کے بارے میں بتایا۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالی نے اس رکوع میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے خواب کو سچ کر دیا اور بے شک اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم سب مسجد حرام میں امن و امان کے ساتھ داخل ہو گئے، اپنے سروں کے بال منڈاؤ گے ۔ یہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے اور اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے فتح (فتح خیبر ) رکھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اس لئے بھیجا تا کہ اسلام کو سب دینوں پر غالب کر دے۔ اس کے بعد صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اوصاف بیان فرمائے کہ رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور آپ ﷺ کے ساتھی ( صحابۂ کرام ) کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں اور آپس میں نرم دل ہیں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے رکوع اور سجدہ کرتے ہیں اور یہ اوصاف اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں برس پہلے تو ریت اور انجیل میں بیان فرمائے تھے اور ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کے لئے ثواب اور بخشش کا وعدہ ہے۔ 

(سورۃ الفتح مکمل) 

سوره الحجرات 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کا ادب کرنا سکھلایا کہ نہ تو رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں تیز آواز ( اونچی آواز ) اور تیز لہجے میں بات کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو اس طرح رسول اللہ ﷺ کو نہ پکارو بلکہ ادب سے متوجہ کرو ۔ اس کے بعد فرمایا کہ کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو پہلے تحقیق کر لو۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اس نے ایمان کو تمھارے دلوں میں آراستہ کیا اور پیارا کر دیا اور کفر اور نا فرمانی سے نفرت پیدا کر دی۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو اور مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی مسلمانوں کو احکامات دینے کا سلسلہ جاری رکھا اور فرمایا: مسلمانو کسی مرد کا مرد لوگ مذاق نہ اڑائیں اور نہ ہی مسلمان عورتیں مسلمان عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے جن کا تم مذاق اڑا رہے ہو وہ تم سے کہیں بہتر ہوں ۔ آپس میں ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیا کرو اور ایک دوسرے کو بُرے نام سے نہ پکارو اور سب سے بُرا نام تو ( مسلمان ہو کر ) فاسق کہلانا ہے اور بد گمانی سے بچو اور ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ۔اللہ تعالی نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہارے خاندان اور قبیلے بنائے تا کہ تم آپس میں پہچانے جاؤ ۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس کی عزت ہے جو ایمان لائے ، نیک کام کرے اور گناہوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک اُن لوگوں کے بارے میں ہدایات دیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے کا دعوی کیا اور اسلام اُن کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ 

(سورۃ الحجرات مکمل)

سورة ق

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قرآن پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ کافر اس لئے حیران ہیں کہ آپ ﷺ ان ہی میں سے تشریف لائے اور کہتے ہیں کہ یہ عجیب بات ہے کہ ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو زندہ کیسے ہوں گے ؟ اللہ تعالی کی طرف پلٹنا تو دور کی بات، انھوں نے آسمان پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کیسا بنایا اور سنوارا اور اُس میں ذرا سی بھی دراڑ نہیں ہے اور اس پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے جس سے زمین کو زندہ کرتا ہے اور اُس میں سے ہر پیٹر پودوں اور ہر چیز کا جوڑا اُگاتا ہے اور اناج اور کھجور اور بہت سے پھل پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی تمہیں تمہاری قبروں سے نکالے گا تو اللہ تعالیٰ کے لئے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کرنے سے آسان دوسری مرتبہ پیدا کرنا ہے۔ 

رکوع نمبر 16

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالی انسان کے اندر وسوسوں کو بھی جانتا ہے اور وہ انسان کے گلے کی رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہے اور ہر انسان کے دائیں بائیں کاندھوں پر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیئے ہیں اور وہ دونوں انسان کی ہر نیکی اور ہر برائی کو لکھتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد میدان حشر میں کافر کی کیفیت بیان فرمائی کہ کا فرجس شیطان کے بہکاوے میں آیا تھا اور کفر کیا تھا وہ بھی اُس کے ساتھ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ دونوں کو جہنم میں ڈالنے کا حکم فرمائیں گے۔ وہ کافر کا ساتھی شیطان کہے گا۔ اے میرے رب ! میں نے اسے کفر پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود گمراہی میں مبتلا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم دونوں کو عذاب کا حکم ہو چکا ہے اور اللہ تعالی اپنی بات نہیں بدلتا اور نہ ہی اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے۔ 

رکوع نمبر 17

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں میدان حشر کے ذکر کو جاری رکھا اور بتایا کہ اللہ تعالٰی جہنم سے پوچھے گا : کیا تو بھر گئی ہے؟ جہنم کہے گی : نہیں! کیا اور بھی کچھ ہے؟ اور جنت مومنوں کے سامنے لائی جائے گی اور اللہ تعالی کا حکم ہوگا کہ اس میں داخل ہو جاؤ اور اس میں ہمیشہ ہمیش کے لئے عیش و آرام سے رہو۔ نصیحت پر عمل وہی کرتا ہے جو دل رکھتا ہے اور توجہ سے کان لگا کر سنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان چھ دنوں میں بنایا اور اسے ذرا بھی تھکان نہیں ہوئی آپ ﷺ اور مسلمان سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے اور کچھ رات گئے اللہ تعالی کی تسبیح بیان کریں اور جس دن زمین پھٹے گی تو سب لوگ اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں گے۔

(سورہ ق مکمل) 

سورة الذاريات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 18

اللہ تعالی نے اس رکوع میں ہر طرح کی ہواؤں کی قسم کھا کر فرمایا کہ قیامت ضرور آئے گی اور اُس دن ہر ایک کا فیصلہ ہوگا اور کافر آگ پر تپائے جائیں گے اور کہا جائے گا: اب عذاب کا مزہ چکھ لو ۔ یہ ہے فیصلہ کا وہ دن جس کی تم کو جلدی رہا کرتی تھی اور متقی مومنین جنت میں باغوں اور چشموں میں آرام سے رہیں گے۔ یہ وہ بندے ہیں جو رات کو کم سوتے تھے اور رات کے آخری پہر میں توبہ اور استغفار کرتے رہتے تھے اور اپنے مال میں سے ضرورت مندوں کو دیا کرتے تھے اور فرمایا: یہ قرآن پاک حق ہے اور ویسی ہی زبان میں نازل ہوا ہے جو تم بولتے ہو۔

(پارہ 26 مکمل)  

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 25 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پاره نمبر (25)

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1

اللہ تعالٰی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ علیہ السلام کو کتاب ( توریت ) عطا فرمائی لیکن بعد میں بنی اسرائیل نے اس میں اختلاف کیا ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا ایک مقررہ مدت تک دنیا میں رہنا متعین نہیں ہوا ہوتا تو اسی وقت اُن کا فیصلہ کر دیا جاتا اور بنی اسرائیل ایک دھو کہ میں ڈالنے والے شک میں ہیں ۔ جو نیک اعمال کرے گا تو وہ اپنے لئے نیکی کمائے گا اور جو برے اعمال کرے گا تو خود اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بالکل ظلم نہیں کرتا ۔ جب انسان کو تکلیف اور مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے بہت لمبی اور چوڑی دعا مانگتا ہے پھر جب اللہ تعالی اس تکلیف اور مصیبت کو دور کر دیتا ہے اور اپنی رحمت کا مزہ دے کر احسان کرتا ہے تو وہ اللہ تعالی کو بھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے منہ پھیر لیتا ہے۔

سورہ حم السجدہ مکمل

سورة الشورى

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 2

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے، سب اللہ تعالیٰ کا ہے اور اللہ تعالیٰ بلندی والا عظمت والا ہے اور فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تعریف کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ قرآن پاک کو اللہ تعالٰی نے عربی زبان میں آپ ﷺ پر نازل فرمایا تا کہ آپ ﷺ تمام شہروں کی اصل مکہ مکرمہ والوں کو اور دور والوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں اور فرمایا : جن لوگوں نے اللہ تعالٰی کے سوا دوسروں کو والی بنالیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں اور ظالموں کا (قیامت میں ) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ ہی مددگار اور فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی والی ہے اور مُردہ کو زندہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے

رکوع نمبر 3 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ انسانوں کے جوڑے ان ہی میں سے اور چوپایوں کے جوڑے ان ہی میں سے بنائے اور سب کی نسلوں کو زمین پر پھیلایا۔ زمین و آسمان کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ وہ جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے اور جس پر چاہے تنگ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اسی کی دعوت دی جس کی دعوت ( یعنی اسلام ) آپ ﷺ دے رہے ہیں۔ رکوع کے آخر میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ مسلمان اُس سے ڈرتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں اور کا فرقیامت کے جلدی آنے کا شور مچاتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ قیامت قریب ہی ہو

رکوع نمبر 4

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: جو آخرت کے لئے اعمال کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ثواب کو بڑھائے گا اور جو دنیا کے لئے اعمال کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں کچھ دے دے گا اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کے بعد فرمایا: کافر لوگ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کے شریک ٹھہراتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کا دنیا میں ایک مخصوص وقت تک رہنا متعین نہ کیا ہوتا تو اسی وقت اُن کا فیصلہ کر دیا جاتا۔ اس کے بعد کافروں کو جو عذاب ہوگا اس کے بارے میں بتایا اور مؤمنین کو جنت کی بشارت دی اور اُن کے عیش و آرام کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ اگر اللہ تعالی سب بندوں کو وسیع رزق عطا فرماتا تو زمین میں فساد (برائیاں) پھیل جاتا۔ اس لئے جس کو جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنا رزق عطا فرماتا ہے۔

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالی نے رکوع کے شروع بتایا انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اس کے بُرے اعمال کی وجہ سے آتی ہے اور بہت سے (برے اعمال) تو اللہ تعالی معاف فرما دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی انسان کو جو مال و جائیداد عطا فرماتا ہے وہ دنیا تک ہی محدود رہ جائے گا۔ دنیا انسان کو کچھ ہی وقت کے لئے ملی ہے اور اللہ تعالی کے پاس آخرت کی زندگی ہے۔ جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اس کے بعد مؤمنوں کی خصوصیات بتائیں کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے تو معاف کر دیتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالٰی کے دیئے رزق نیک کاموں میں خرچ کرتے اس کے بعد بتایا کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ غلط سلوک کرے تو تم بھی آتنا ہی کر سکتے ہو اور اگر معاف کردو تو یہ بہت بہتر ہے۔ یہ صبر ہے اور صبر کرنا بہت بڑی نیکی ہے 

رکوع نمبر 6

اللہ تعالی نے اس رکوع میں قیامت کے دن کافروں کی کیا حالت ہوگی اس کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کا کام صاف صاف اللہ تعالی کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچا دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی ہی تمام کا ئنات کا بادشاہ ہے، وہ جو چاہے پیدا فرماتا ہے ، وہ چاہے تو صرف بیٹیاں عطا فرمائے اور چاہے تو صرف بیٹے عطا فرمائے اور چاہے تو دونوں ملا کر دے ( یعنی بیٹیاں اور بیٹے دونوں عطا فرمائے ) اور چاہے تو بانجھ رکھے، رکوع کے آخر میں آپ ﷺ سے فرمایا کہ بے شک آپ ﷺ سیدھا راستہ بتاتے ہیں اور وہ اللہ تعالی کا بتایا ہوار استہ ہے۔

 (سورہ الشوری مکمل)

سورہ الزخرف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7:

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ قرآن پاک کو اللہ تعالیٰ نے عربی زبان میں اس لئے اتارا ہے تا کہ تم سمجھو اور یہ اصل کتاب ( لوح محفوظ) میں لکھا ہوا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا تو ہر نبی اور رسول کا ان کی قوم کے کافروں نے مذاق اڑایا تو اللہ تعالیٰ نے اُن سب مذاق اڑانے والوں کو ہلاک کر دیا ، اس کے بعد سے رکوع کے آخر تک اللہ تعالٰی نے اپنی ربوبیت اور خالقیت کے بارے میں بتایا اور رکوع کے آخر میں فرمایا۔ اس کے بعد بھی انسان شرک کرتا ہے۔ بے شک انسان بڑا نا شکرا ہے۔ 

رکوع نمبر 8 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں کافروں کے دو الزامات کو جھوٹا ثابت کیا۔ پہلا یہ کہ کافر کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بیٹے عطا فرماتا ہے اور اپنے لئے (نعوذ باللہ ) بیٹیاں رکھتا ہے۔ دوسرا الزام یہ کہ فرشتے (نعوذ باللہ ) عورتیں ہیں ۔ اس کے بعد بتایا کہ کافر کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو جس دین پر دیکھا تو ہم بھی اسی دین پر چلیں گے۔ اس سے پہلے جب بھی کسی شہر میں اللہ تعالی نے ڈرانے والا ( یعنی نبی یا رسول ) بھیجا تو ان کی قوم کے کافروں نے بھی یہی جواب دیا تو اللہ تعالٰی نے اُن سے انتقام لیا۔ دیکھو انکار کرنے والوں ( کافروں ) کا کیسا برا انجام ہوا۔

رکوع نمبر9

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنے باپ آذر کو اور اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو ان لوگوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں ان بتوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو ۔ میں تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں ۔ اب چونکہ مکہ مکرمہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد بسی ہوئی تھی ۔ اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرماکر مکہ مکرمہ کے کافروں کو سکھایا کہ یہ رسول ﷺ سب کو اسی اسلام کی دعوت دے رہے ہیں۔ جس کی حضرت ابراہیم علیہ السلام دعوت دیتے تھے۔ اب اگر تم لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حق پر مانتے ہو تو آپ ﷺ کو بھی حق پر تسلیم کرلو۔

رکوع نمبر 10

اللہ تعالی نے پچھلے رکوع میں مکہ مکرمہ کے کافروں کو سمجھانے کے بعد اس رکوع میں فرمایا کہ اب جو رحمٰن ( یعنی اللہ تعالی ) کے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایک شیطان کو لگا دے گا جو اسے اس کے برے اعمال کو اچھا کر کے بتائے گا۔ پھر جب دونوں قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو ایک دوسرے کو برا کہیں گے ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: آپ بہروں کو سنائیں گے یا اندھوں کو راستہ بتا ئیں گے جب کہ وہ کھلی گمراہی میں ہیں۔ بے شک آپ ﷺ سیدھے راستے پر ہیں۔ 

رکوع نمبر 11

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو فرعون اور اس کی قوم نے مذاق اڑایا اور فرعون نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم ! میرے پاس سلطنت ہے اور محلات ہیں سونا چاندی ہے، اس کے پاس نہ تو سونا چاندی ہے اور نہ اس پر فرشتے آتے ہیں ۔ میں اس حقیر و بے قیمت سے کہیں بہتر ہوں ۔ فرعون کی قوم اس کے بہکاوے میں آگئی اور کا کہنا مان لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس ظلم کی وجہ سے انھیں غرق کر دیا اور آنے والی نسلوں کے لئے انہیں داستان عبرت بنا دیا۔ 

رکوع نمبر :12

اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا تو آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا: بے شک اللہ تعالی میرا اور تمہارا رب ہے اور میں تو صرف اللہ تعالٰی کی عبادت کرتا ہوں اور تم سب کو دعوت دیتا ہوں کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور اللہ تعالی کے حکم کی نا فرمانی مت کرو، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں اختلاف ہو گیا، ظالموں کی قیامت کے دن بڑی خرابی ہوگی۔ 

رکوع نمبر 13

 اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی اور جنت میں وہ کس طرح عیش و آرام سے رہیں گے ۔ اس کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کے بعد کافروں کو دوزخ میں جو سخت عذاب دیا جائے گا، اس کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ یہ کافر اپنے مشورے کتنے بھی آہستہ آہستہ (سرگوشی میں ) کریں اللہ تعالی سب سن رہا ہے اور اس کے فرشتے لکھ رہے ہیں تو آپ ﷺ کا فروں اور اہل کتاب ( عیسائیوں اور یہودیوں ) سے کہہ دیں کہ اللہ تعالٰی کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اللہ تعالی پاک ہے اور زمین ، آسمان اور عرش کا مالک ہے۔ اللہ تعالی علم والا ، حکمت والا ہے۔

( سورہ الزخرف مکمل )

سورة الدخان

رکوع نمبر :14

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک کو برکت والی رات ( یعنی شب قدر ) میں اتارا اور اس رات میں اللہ تعالٰی کے حکم سے ہر حکمت والا کام بانٹ دیا جاتا ہے ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم صفات کو بیان کر کے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ یہ بیان کی گئیں کہ وہ زمین اور آسمانوں کا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، اللہ تعالی ہی تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے انکار کر دیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دو تو وہ اُن پر ظلم کرنے لگا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو بچالیا اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کر دیا۔ 

رکوع نمبر 15 اور رکوع نمبر 16

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب ( فرعون کی غلامی ) سے نجات دی۔ فرعون بہت تکبر اور حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا اور اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو فضیلت بخشی اور نشانیاں (صحرا میں بادل کا سایہ من اور سلویٰ کا نزول وغیرہ) عطا فرمائیں۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی نے اس دنیا کو مذاق کے لئے نہیں بنایا بلکہ اسکی تخلیق کا ایک مقصد ہے لیکن اکثر لوگ اس پر غور نہیں کرتے اور فیصلہ کا دن (یعنی قیامت) ضرور آئے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مدت تک رہنا ہے اور فیصلے کے دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا اور نہ کافروں کی مدد کی جائے گی۔ ان کا کھانا تھوہڑ کا پیڑ ہوگا اور تانبے کی طرح کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی اور جنت کے عیش و آرام کے بارے میں بتایا کہ حوریں اُن کا استقبال کریں گی اور میوے اور بہترین ٹھنڈا پانی ملے گا۔

(سورۃ الدخان مکمل) 

سورة الجاثيہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 17

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ کتاب (قرآن پاک ) اللہ تعالی کی طرف سے ہے جو عزت والا حکمت والا ہے، بے شک ایمان والوں کے لئے آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں اور انسان کی پیدائش میں اور تمام جانوروں میں یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور رات اور دن کی تبدیلیوں میں اور بارش میں ، جس کی وجہ سے مردہ زمین زندہ ہو کر پھل اور اناج دیتی ہے اور ہواؤں کی گردش میں عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں اور حق ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو چھوڑ کر کسی اور پر ایمان لائے گا اور غرور کرے گا اور اللہ تعالی کی آیتوں اور اللہ کے رسول ﷺ کا مذاق اڑائے گا تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔ 

رکوع نمبر 18

اللہ تعالی نے پچھلے رکوع کے سلسلہ کلام کو اس رکوع میں جاری رکھتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سمندروں اور دریاؤں کو انسانوں کے بس میں کر دیا ہے، وہ اُن میں کشتیاں چلاتے ہیں تا کہ اللہ تعالی کا فضل تلاش کریں اور حق کو مانیں ۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کام پر لگا دیا ہے ، اس میں غور کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ مسلمانوں سے کہیں کہ وہ کافروں اور اہل کتاب سے درگزر کریں تا کہ اللہ تعالی ہر قوم کو اس کے اعمال کا بدلہ دے، جو بھلا کام کرے گا اپنے لئے کرے گا اور جو برا کام کرے گا وہ بھی اپنے لئے کرے گا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت ، حکومت اور کتاب ( توریت اور انجیل ) عطا فرمائی لیکن آپس میں حسد کی وجہ سے وہ اختلاف کر بیٹھے ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے اختلاف کا فیصلہ فرما دے گا۔ ظلم ( انکار ) کرنے والے ( یعنی کا فر، یہودی اور عیسائی ) ایک دوسرے کے ولی ہیں اور مسلمانوں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے تو ایمان لانے والے اور انکار کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔

رکوع نمبر 19

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو حق کے ساتھ بنایا تا کہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جا سکے اورکسی پر کچھ ظلم نہیں ہوگا، جو شخص حق اور سچائی کو سمجھ لینے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کر دے تو اللہ تعالی اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دیتا ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور کافر کہتے ہیں کہ جو بھی ہے دنیا کی زندگی ہے اسی میں جینا ہے اور اس میں مرتا ہے اور آخرت کی زندگی کا (نعوذ باللہ) کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ لوگ سراسر گمراہی میں مبتلا ہیں اور جب ان کا فروں پراللہ تعالی کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ سچے ہیں تو ہمارے باپ دادا کو لے آئیں۔ آپ ﷺ ان کافروں سے کہہ دیں کہ اللہ تعالی ہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا لیکن یہ لوگ اسے سمجھ نہیں پائیں گے۔

رکوع نمبر 20

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے سراسر نقصان میں ہوں گے اور ہر گروہ کو اعمال نامے دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا۔ یہ ہے وہ سب جو تم دنیا میں کرتے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے سب لکھ رکھا تھا۔ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دامن میں سمیٹ لے گا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ کافروں سے کہا جائے گا تم لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور قیامت کے دن کو بھلائے بیٹھے تھے اور دنیا کی زندگی میں مگن تھے، آج اللہ تعالی تم پر کوئی توجہ نہیں کرے گا اور وہ تمہیں بھلا دے گا ۔ وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے آگ میں رہیں گے۔

( سورہ الجاثیہ مکمل)

 (پارہ نمبر 25 مکمل) 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں