Khilafat e Umayya لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Khilafat e Umayya لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 6 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 01

 01 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 1

حضرت امیر معاویہ کا دور حکومت

حضرت معاویہ بن ابی سفیان، سلسلہ نسب اور خاندان، قبول اسلام، رسول اللہ ﷺ کی بشارت، خلافت مدینہ منورہ میں، بادشاہت ملک شام میں، حضرت حسن بن علی کی مدینہ منورہ روانگی، گورنروں کا تقرر، مسلمانوں کا مرکز دمشق، 41 ہجری اور 42 ہجری کے واقعات، 43 ہجری: کابل کی فتح، زابلستان ( غزنی) کی فتح )، میعان (قیقان) پر حملہ، قیس بن ہیثم اور عبداللہ بن خازم، حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی طلبی، خوارج کی شکست


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے خلافت سے دستبردار ہونے کے ساتھ ہی خلافت راشدہ مکمل ہوگئی اور پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی باگ ڈور سنبھالی۔ آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے یا بادشاہ تھے؟ اس میں علمائے کرام کی مختلف رائے ہیں۔ کچھ علمائے کرام کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے اور کچھ علمائے کرام کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ بادشاہ تھے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے ۔ واللہ اعلم۔


سلسلہ نسب اور خاندان


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان ( نام صخر ) بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف ۔ یہاں آکر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب سے مل گیا ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا خاندان بنو امیہ" ہے۔ عبد مناف کے جڑواں بیٹے پیدا ہوئے۔ ایک کا نام عمرو رکھا۔ ان کا لقب ہاشم ہے۔ اور دوسرے کا عبد شمس ۔ یہاں سے عبد مناف کی اولاد میں دو خاندان ہو گئے ۔ ایک خاندان ہاشمی خاندان کہلایا۔ عبد شمس کے ایک بیٹے کا نام امیہ ہے۔ اسی اُمیہ کے نام پر عبد شمس کے خاندان کا نام ”اُمیہ خاندان پڑ گیا۔ اب بنو ہاشم اور بنو امیہ قریش کے دوالگ الگ خاندان یا شاخ تھے۔ بنو ہاشم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں اور بنو امیہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ہیں۔


قبول اسلام


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بارے میں عام طور سے یہی مشہور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے عمرۃ القضاء " ( صلح حدیبیہ کے بعد معاہدے کے مطابق دوسرے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کرنے آئے تھے اور تین دنوں تک مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے۔ اس عمرہ کو عمرۃ القضاء “ کہا جاتا ہے ) میں اسلام قبول کیا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے عمرۃ القضاء کے روز اسلام قبول کیا تھا لیکن فتح مکہ کے دن تک اپنے اسلام کو چھپائے رکھا۔“


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو بادشاہ بنے کی بشارت دی تھی۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اس سے پہلے ہم یہ حدیث بیان کر چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت میں (30) سال ہوگی پھر بادشاہت ہوگی اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے دستبرداری کے ساتھ ہی خلافت کے تمہیں (30) سال مکمل ہو گئے ۔ پس حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا زمانہ حکومت کا آغاز ہے اور آپ رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے اور بہترین بادشاہ ہیں۔ ( یہاں ہم تمیں سال والی ایک اور حدیث پیش کر رہے ہیں ) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ” بے شک یہ امر ( کام ) رحمت اور نبوت سے شروع ہوا ہے پھر یہ خلافت اور رحمت بن جائے گا۔ پھر کاٹ کھانے والی حکومت بن جائے گا، پھر جبر وتکبر اور فساد فی الارض بن جائے گا۔ وہ حریرہ فروج اور شراب کو حلال کریں گے۔ اس کے باوجود انہیں رزق اور مدددی جائے گی حتی کہ وہ اللہ تعالی سے ملاقات کریں گے (احجم طبرانی ) آگے علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے خلافت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول نے آمادہ کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے معاویہ بن ابی سفیان ! اگر تو بادشاہ بنے تو نیکی کرنا‘ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ چھا گل لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”اے معاویہ بن ابی سفیان ! اگر تو بادشاہ بنے تو اللہ سے ڈرنا اور عدل کرنا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” میں ہمیشہ ہی پر یقین رہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی وجہ سے آزمائش میں پڑوں گا“ ( سنن بیہقی ) حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا: ”اگر تو نے لوگوں کی کمزوریوں کی جستجو کی تو تو اُن کو خراب کر دے گا۔“


خلافت مدینہ منورہ میں، بادشاہت ملک شام میں


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک شام کے بارے میں کئی باتیں بتائی ہیں۔ اُن میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ خلافت مدینہ منورہ میں ہوگی اور بادشاہت ملک شام میں ہوگی۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خلافت مدینہ منورہ میں ہوگی اور بادشاہت ملک شام میں ہوگی ۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک خط دیکھا جو میرے سر کے نیچے سے اُٹھایا گیا تو میں نے خیال کیا کہ اسے لے جایا جائے گا۔ پس میری نگاہ نے اُس کا پیچھا کیا تو اسے ملک شام لے جایا گیا۔ بے شک جب فتنہ پڑے گا تو ایمان ملک شام میں ہوگا۔“ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے نور کے ایک بلند ستون کو اپنے سر کے نیچے سے نکلتے دیکھا حتی کہ وہ ملک شام میں جا کر ٹک گیا۔


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ روانگی


اس سے پہلے ہم ” خلافت راشدہ میں بتا چکے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ خلافت سے دستبردار ہو گئے تھے اور اُسے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس شرط پر سونپ دیا تھا کہ اُن کے بعد حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوں گے۔ ابھی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کوفہ میں ہی مقیم تھے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اہل بیت کو لیکر مدینہ منورہ روانہ ہو گئے اُن میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں صلح ہو جانے کے بعد مسکن کے مقام سے حضرت حسن بن علی، حضرت حسین بن علی اور حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہم اپنے اہل بیت ( اہل و عیال) کے ساتھ کو فہ روانہ ہوئے ۔ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اہل بیت کے ساتھ کوفہ پہنچے تو اُن کا زخم اچھا ہو گیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کی مسجد میں آئے اور فرمایا: ”اے اہل کوفہ! اپنے ہمسایہ، اپنے مہمان اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے بارے میں جس سے اللہ نے نجاست کو دور کر دیا ہے اور طیب و طاہر کیا ہے تمہیں اللہ کا خوف کرنا چاہیئے ۔“ یہ سن کر اہل کوفہ رونے لگے۔ اس کے بعد حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اہل بیت کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔


گورنروں کا تقرر


تمام مملکت اسلامیہ کے بلا شرکت غیرے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حاکم بن گئے اور بلا دشام میں تو پہلے ہی سے آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنر مقرر کر رکھے تھے ۔ اب بلاد عراق، ایران اور حجاز میں اپنے گورنر مقرر کئے ۔ ملک مصر پہلے ہی ملک شام کے ماتحت تھا اور اُس پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو گورنر مقرر کر رکھا تھا۔ کوفہ میں اُن کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو گورنر بنایا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس طرح آپ شیر کے دو دانتوں کے درمیان آگئے ۔ یہ سن کر انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے رائے دی کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے پر متعین کیا جائے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں صرف نماز کا امام بنا دیا۔ کثیر بن شہاب کو رے کا گورنر بنایا۔ بصرہ کا گورنر بشر بن ارطاۃ کو بنایا۔ کچھ عرصے بعد اسے بصرہ کی گورنری سے معزول کر کے عبداللہ بن عامر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا۔ ساتھ ہی خراسان اور بجستان کا گورنر بھی بنا دیا۔ مروان بن حکم کو مدینہ منورہ کا گورنر بنایا۔ خالد بن عاص بن ہشام کو مکہ مکرمہ کا گورنر بنایا۔


مسلمانوں کا مرکز دمشق


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور مدینہ منورہ کو مسلمانوں کا مرکز بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارتداد کے خاتمے کے بعد ملک شام سب سے پہلے جو چار لشکر بھیجے اُن میں سے ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ اُن کے ساتھ اُن کے بھائی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پورا ملک شام فتح ہو گیا اور انہوں نے حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ایک علاقے کا گورنر بنا دیا۔ جب حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ نے اُن کے بھائی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس علاقے کا گورنر بنا دیا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو پورے ملک شام کا گورنر بنا دیا اور وہ بارہ سال سے زیادہ عرصے تک پورے ملک شام کے گورنر رہے۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی تو پوری مملکت اسلامیہ کے اکیلے حکمراں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بن گئے ۔ پچھلے لگ بھگ پچھیں (۲۵) سال سے آپ رضی اللہ عنہ ملک شام میں دمشق میں رہ رہے تھے۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ نے دارلخلافہ دمشق کو بنایا اور مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ سے دمشق آ گیا۔


ا41 ہجری اور 42 ہجری کے واقعات


ا41 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ پوری مملکت اسلامیہ کے حکمراں بنے ۔ اس سال اور اگلے سال یعنی 42 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ سے خانہ جنگی کے خاتمہ کی بھر پور کوشش کرتے رہے۔ ان دو برسوں میں خوارج نے مسلسل آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ جاری رکھی اور آپ رضی اللہ عنہ اپنی حکمت عملی سے ان پر قابو پاتے رہے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : اس سال یعنی 42 ہجری میں مسلمانوں نے لان اور روم سے جہاد کیا اور اُن کو شکست فاش دی اور بطریقوں کی ایک جماعت کو قتل کیا گیا۔ اس سال حجاج بن یوسف پیدا ہوا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس سال مروان بن حکم کو مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا اور مروان بن حکم نے عبداللہ بن حارث بن نوفل کو قاضی مقرر کیا ۔ مکہ مکرمہ پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے خالد بن عاص بن ہشام کو گورنر بنایا۔ بصرہ، خراسان اور بجستان کا گورنر عبد اللہ بن عامر کو بنایا اور عبد اللہ بن عامر نے خراسان کا گورنر قیس کو بنایا۔


ا43 ہجری: کابل کی فتح


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ سے خانہ جنگی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ مملکت اسلامیہ کی سرحد پر بھی اسلامی لشکروں کو روانہ کر رہے تھے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عبداللہ بن عامر نے 43 ہجری میں اپنی طرف سے عبد الرحمن بن سمرہ کو بجستان کا گورنر بنا کر روانہ کیا اور پولیس افسر عباد بن حصین کو بنایا اور عمر بن عبد اللہ بن معمر جیسے اشراف کو اُن کے ساتھ روانہ کیا ۔ اس اطراف میں چونکہ بغاوت پھوٹ پڑی تھی اس لئے عبد الرحمن بن سمرہ اور عباد بن حصین باغیوں سے جنگ کرتے ہوئے داخل ہوئے اور اکثر شہروں کو فتح کر لیا۔ رفتہ رفتہ شہر کابل تک پہنچ گئے مہینوں محاصرہ کئے رہے منجیقیں نصب کیں ،سنگباری کرتے رہے ۔ متعددلڑائیاں ہوئیں اور شہر پناه (فصیل ) کا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔ مشرکین اس کو نہیں بنا سکے، تمام رات عباد بن حصین مع اپنی رکاب کی فوج کے ساتھ پہرہ دیتے رہے۔ صبح ہوتے ہی مشرکین نے شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا اور مسلمانوں نے پہلے ہی حملہ میں انہیں پسپا کر دیا اور بزور شمشیر کا بل کو فتح کر لیا۔


زابلستان ( غزنی) کی فتح )


کابل فتح کرنے کے بعد مسلمان آگے بڑھے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اس کے بعد نسف کی طرف بڑھے اور اس پر بھی جنگ کر کے قبضہ کرتے ہوئے خشک تک جاپہنچے ۔ اہل خشک نے مصالحت کر لی۔ پھر مسلمانوں نے آگے بڑھ کر ” رج“ کا محاصرہ کر لیا، شدید جنگ ہوئی اور آخر کار مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ اس سے فارغ ہو کر مسلمانوں کا لشکر زابلستان (جس کو غزنی کہا جاتا ہے ) کا رخ کیا اور محاصرہ کر لیا۔ غزنی والوں نے بھی زبردست مقابلہ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ اس کے بعد مسلمانوں نے غزنی کے آس پاس کے مضافات پر قبضہ کیا اور جب اس کے بعد کا بل واپس لوٹے تو کابل میں بغاوت ہو چکی تھی ۔ عبد الرحمن بن سمرہ نے زبردست مقابلہ کر کے اُن کی زبر دست بغاوت کو ختم کیا اور کا بل پھر سے فتح کیا۔


میعان (قیقان) پر حملہ


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مملکت اسلامیہ کی سرحدوں پر ہر طرف اسلامی لشکروں کو روانہ کیا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: ہند ( ہندوستان کو ہند کہا جاتا تھا اور اُس وقت ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال ۔ یہ سب ایک ہی ملک تھے اور ان سب کے مجموعہ کو "ہند“ کہا جاتا تھا۔ ) کی سرحد پر عبداللہ بن عامر نے عبدالرحمن بن سوار عبدی کو مقرر کیا تھا۔ ایک روایت کے مطابق خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبد الرحمن بن سوار عبدی کو مقرر کیا تھا۔ بہر حال انہوں نے تیعان (قیقان) پر حملہ کیا اور فتح حاصل کی ۔ بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا۔ عبد الرحمن بن سوار عبدی خود مال غنیمت لیکر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قیقانی گھوڑے پیش کئے ۔ اس کے بعد قیقان واپس آئے تو اہل قیقان نے ترکوں سے مدد حاصل کر کے جنگ کی تیاری کر لی تھی ۔ دونوں لشکروں میں شدید جنگ ہوئی اور قیقان فتح ہوا لیکن اس جنگ میں عبدالرحمن بن سوار عبدی شہید ہو گئے۔


قیس بن ہیثم اور عبداللہ بن خازم


قیس بن ہیثم کو عبد اللہ بن عامر نے خراسان کا گورنر بنایا لیکن کچھ دنوں بعد معزول کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد اللہ بن عامر نے قیس بن ہیثم کو خراسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ اس پر عبد اللہ بن خازم نے کہا کہ آپ نے ایک بزدل انسان کو خراسان کا گورنر بنایا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر جنگ پیش آئے گی تو یہ لوگوں کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوگا۔ اس میں مال بھی ضائع ہو گا اور آپ کی ننھیال والے بدنام ہو جائیں گے۔ عبد اللہ بن عامر نے پوچھا کہ پھر کیا مناسب ہے؟ اُس نے کہا مجھے خراسان کا گورنر بنا کر ایک فرمان لکھ دیں۔ اگر وہ دشمن کے مقابلے سے منہ پھیرے گا تو میں اُس کی جگہ آکھڑا ہو جاؤں گا۔ عبداللہ بن عامر نے اُس کے نام فرمان لکھ دیا۔ اُدھر مخلارستان کے لوگوں نے سرکشی کی تو قیس بن ہیثم نے عبد اللہ بن خازم سے اس معاملے میں مشورہ کیا۔ اُس نے رائے دی کہ تم یہاں سے سرک جاؤ اور ابھی تمام اطراف و جوانب کے لوگوں کو جمع کرو۔ یہ سن کر قیس بن ہیثم اطراف و جوانب میں روانہ ہو گیا۔ وہ کوئی منزل دو منزل کے فاصلے پر پہنچا ہوگا کہ عبداللہ بن خازم نے اپنا گورنری کا فرمان لوگوں کو بتایا اور سب کا سپہ سالار بن کر دشمن کا مقابلہ کیا اور شکست دی۔ یہ خبر کوفہ اور بصرہ پہنچی اور ملک شام بھی پہنچی۔ قیس کے ساتھی بہت خفا ہوئے اور عبد اللہ بن خازم سے کہا کہ تم نے قیس بن ہیثم کو دھوکا دیا اور عبداللہ بن عامر کو بھی۔ اس بات نے طول پکڑا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان سے جا کر شکایت کی۔


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی طلبی


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس معاملے کی خبر لی تو انہوں نے عبداللہ بن خازم کو ملک شام طلب کیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن خازم کو ملک شام بلا بھیجا۔ وہ آیا اور معذرت کی ، انہوں نے فرمایا: کل صبح تم لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا عذر پیش کرنا ۔ عبداللہ بن خازم نے اپنے اصحاب کے سامنے ذکر کیا کہ خطاب کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھے بات کرنا نہیں آتی۔ کل تم سب منبر کو گھیر کو بیٹھنا اور جو کچھ میں کہوں اُس کی تصدیق کرتے جاتا۔ دوسری صبح کو عبد اللہ بن خازم خطاب کرنے کھڑا ہوا پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی پھر کہا: ” خطبہ پڑھنا تو امام کا منصب ہے جسے اس کے سوا چارہ ہی نہیں ہے یا احمق کا کام ہے جس کا دماغ چل گیا ہو جو منہ میں آئے بکتا چلا جائے۔ میں نہ تو امام ہوں اور نہ احمق ہوں۔ جو لوگ مجھے جانتے ہیں وہ اس بات سے خوب واقف ہیں کہ میں بڑا آزمودہ کار ہوں محل وقوع کو تاڑ لیتا ہوں اورفورا ! دوڑ پڑتا ہوں ، جان جوکھم کے مقام سے قدم نہیں ہٹاتا لشکر میں چالاک تقسیم غنیمت میں انصاف پسند ہوں یتم کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ جو اس بات کو جانتا ہو وہ میری تصدیق کرے ۔ منبر کے گرد جو اُس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے سب نے کہا: " بے شک ایسا ہی ہے ۔ پھر اُس نے کہا: ”امیر المومنین! آپ کو بھی میں نے قسم دی ہے آپ بھی جو کچھ جانتے ہوں کہہ دیجیئے ۔ “ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ایسا ہی ہے ۔ اور عبداللہ بن خازم کی جان بچ گئی۔


خوارج کی شکست


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے حکمراں بنتے ہی ملک عراق میں خوارج یعنی خارجیوں نے سر اُٹھایا تھا جسے آپ رضی اللہ عنہ اپنی حکمت عملی سے مسلسل دبائے ہوئے تھے۔ لگ بھگ دو سال بعد آپ رضی اللہ عنہ کی ملک عراق پر پکڑ کافی مضبوط ہوگئی تو خوارج پر حملہ کر کے اُن کو شکست دی۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اس سال 43 ہجری میں خوارج اور کوفی لشکر کے درمیان عظیم معرکہ ہوا اور یہ اس وجہ سے ہوا کھرا نہ وریا نے اس وقت لوگوں کے خلاف بغاوت کرنے کا پختہ ارادہ کیا ہوا تھا جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں ۔ پس مستورد بن علقمہ کی قیادت سے ہوا۔ اس کے بعد دونوں لشکر اپنے امین شعبہ اللہ عہ اُن سے مقابلہکے لئے تین ہزار کا شکر تیارکیا۔ ہو کر ان کے مقابلے رہ روع کو تین سو کا ہر اول ( مقدمتہ الجیش ) دے کر آگے بھیجا۔ ابوالروع نے ”المزار کے مقام پر ان غروب ہونے کے بعد ایل او یا سب رات اور خوارج کو شکست ہوئی۔ انہوں نے دوبارہ حملہ کیا تو خوارج نے انہیں شکست دی لیکن کوئی آدمی قتل نہیں ہوا۔ اس کے بعد دونوں لشکر اپنے اپنے پڑاؤ میں واپس آگئے اور ابوالروع اپنے سپہ سالار معقل بن قیس کی آمد کا انتظار کرنے لگے ۔ مگر وہ سورج غروب ہونے کے بعد آیا اور اُس نے اتر کر اپنے اور ابوالروع کے لشکر کو مغرب کی نماز پڑھائی ۔ پھر ابوالروع سے تمام حالات معلوم کئے ۔ ابوالروع نے کہا: اے سپہ سالار ! خوار جوں کے حملے بڑے سخت ہیں۔ آپ لوگوں کے مددگار بنیں اور سواروں کا حکم دیں کہ وہ آپ کے آگے جنگ کریں ۔ معقل بن قیس نے کہا: ” آپ کی رائے بہت اچھی ہے۔ اور ابھی اُس نے اتنی ہی بات کہی تھی کہ خوارج نے اُن کے لشکر پر حملہ کر دیا اور معقل بن قیس کے اکثر ساتھی اسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس موقع پر معقل بن قیس نے پیدل ہو کر کہا: اے مسلمانو! زمین پر چلو از مین پر چلو“ دوسو سواروں نے اُس کا ساتھ دیا اور پیدل ہو گئے اُن میں ابوالروع بھی تھا۔ مستور بن علقمہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اُن پر حملہ کیا اور انہوں نے نیزوں اور تلواروں سے اُس کا سامنا کیا اور بقیہ لشکر نے بعض سواروں کو آکر تباہ کیا اور انہیں راہ فرار اختیار کرنے پر ملامت کی۔ یہ سن کر لوگ معقل بن قیس کے پاس واپس آگئے جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ خوارج سے شدید جنگ کر رہا تھا۔ لوگ رات میں بھی واپس آرہے تھے۔ معقل نے میمنہ اور میسرہ میں اُن کی صف بندی کر دی اور اُن کو منتظم کر کے کہا: ” اپنے میدان کارزار پر ڈٹے رہو چتی کہ ہم صبح اُن پر حملہ کریں گے اور ابھی صبح ہوئی ہی تھی کہ خوارج کو شکست ہو گئی اور وہ جہاں سے واپس آئے تھے وہیں چلے گئے۔ معقل بن قیس اُن کی تلاش میں گیا اور اس نے اپنے آگے ابو الروع کو چھ سو جوانوں کے ساتھ بھیجا اور وہ طلوع آفتاب کے وقت اُن سے جا پکڑا اور خوارج نے اُن پر حملہ کر دیا اور ایک ساعت تک ایکدوسرے سے مبارزت کی ۔ پھر انہوں نے یکبارگی حملہ کر دیا اور ابوالروع اپنے ساتھیوں سمیت اُن کے سامنے ڈٹا رہا اور وہ انہیں تباہ کرنے لگا اور انہیں بھاگنے پر ملامت کرنے لگا اور صبر کی ترغیب دینے لگا، پس وہ مردانہ وارڈٹ گئے حتی کہ انہوں نے خوارج کو پیچھے دھکیل دیا اور جب خوارج نے یہ کیفیت دیکھی تو وہ معقل سے ڈر گئے اور اُن کا قتل عام شروع ہو گیا اور وہ دجلہ پار کر کے نہر شیر یا بہر سیر کے علاقے میں داخل ہو گئے ۔ ابوالردع اور معقل بن قیس دونوں خوارج کے قدیم شہر پہنچ گئے اور مدائن کا گورنر شریک بن عبید بھی لشکر لیکر آ گیا اور خوارج کا خاتمہ ہو گیا۔ اس سال مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن حکم نے لوگوں کو حج کرایا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

Saltanat e Umayya 02

 02 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 2

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ44 ہجری: بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عامر کی شکایت، عبد اللہ بن عامر کی دمشق میں طلبی اور معزولی، زیاد بن سمیہ کو اپنے نسب میں شریک کیا، ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ45 هجری : زیاد بن ابی سفیان بصرہ کا گورنر، اہل بصرہ پرسختی، خراسان کا گورنر، حضرت سلمہ بن سلامہ اور حضرت عاصم بن عدی کا انتقال، أم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ46 ہجری: حضرت عبدالرحمن بن خالد بن ولید کا انتقال، أم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، خوارج کے سرداروں کا قتل، 


حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال یعنی 43 ہجری میں حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عمرۃ القضاء“ کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے بعد سے مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے ۔ اس کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مرتدین کے خلاف جنگ کی ۔ پھر خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر ملک شام بھیج دیا۔ جب خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیت المقدس فتح ہوا تو اس لشکر میں آپ رضی اللہ عنہ تھے ۔ اس کے بعد خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو شکر دے کر ملک مصر بھیجا اور مسلسل مہینوں کی شدید جنگ کے بعد پورا ملک مصر آپ رضی اللہ عنہ نے فتح کیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ملک مصر کا گورنر بنا دیا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی آپ رضی اللہ عنہ ملک مصر کے گورنر رہے۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں آپ رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔ جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ کے حکمراں بنے تو آپ رضی اللہ عنہ کو پھر ملک مصر کا گورنر بنا دیا اور وہیں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُن کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ملک مصر کا گورنر بنا دیا۔


حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 43 ہجری میں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے حضرت اُسید بن حضیر اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہم سے بھی پہلے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر اور غزوہ تبوک کے سواہر معرکے میں شامل رہے۔ ایک قول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں نائب مقرر کیا تھا اور بعض کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرقرۃ الکدر میں آپ رضی اللہ عنہ کو نائب مقرر کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کعب بن اشرف کو قتل کیا تھا اور بعض کے قول کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ خیبر میں مرحب کا قتل کیا تھا۔ آخری وقت میں آپ رضی اللہ عنہ ربذہ میں قیام پذیر ہے۔


حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا انتقال 


اسی سال 43 ہجری میں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے بہت بڑے عالم کے بیٹے ہیں اور خود آپ رضی اللہ عنہ بھی توریت کے بہت بڑے عالم تھے اور جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو یہودیوں میں سے سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن سلام کی کنیت ابو یوسف اسرائیلی“ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو لوگ دوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور میں بھی اُن میں شامل تھا۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کسی جھوٹے شخص کی طرح نہیں ہے اور سب سے پہلی بات جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سی وہ یہ تھی : " لوگو ! سلام کو رواج دو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سوالات کئے اور سب کے جوابات صحیح پا کر اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی گواہی دی ہے۔


ھ44 ہجری: بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عامر کی شکایت


یہ سال مملکت اسلامیہ کے لئے عام طور سے امن کا سال رہا لیکن سرحدوں پر مسلمان مسلسل حالت جنگ میں رہے۔ حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید اپنے لشکر کے ساتھ سرحد پر رومیوں سے جنگ میں مصروف رہے اور بسر بن ارطاۃ مسلسل بحری جنگ کرتا رہا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : اسی سال 44 ہجری میں حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید مسلمانوں کے ساتھ بلاد روم میں داخل ہوئے اور پوری سردی و ہیں گزاری اور بسر بن ارطاۃ نے دیا میں جنگ کی۔ اس سال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے گورنر عبد اللہ بن عامر کو معزول کر دیا۔ اس کا سب یہ ہوا کہ عبداللہ بن عامرنرم دل تھا اور جاہلوں کو دست درازی سے روکتا نہیں تھا جس کی وجہ سے بصرہ میں خرابیاں پھیلنے لگیں۔ عبداللہ بن عامر نے زیاد بن سمیہ سے اہل بصرہ کی شکایت کی تو اس نے کہا: ” تلوار میان سے نکال کر اُن کی خبر لو ۔ اس نے کہا: ” ان کی اصلاح کے لئے میں اپنے نفس کی خرابی کروں یہ مجھے گورا نہیں ہے۔ عبداللہ بن عامر کی حکومت اتنی کمزور تھی کہ وہ کسی کو سزا نہیں دیتا تھا، چور کے ہاتھ نہیں کا تھا تھا۔ لوگوں نے کہا بھی تو اُس نے جواب دیا کہ مجھے لوگوں سے اُلفت ہے۔ جس کے باپ یا بھائی کا ہاتھ میں کاٹوں گا تو پھر اس سے آنکھیں کیسے ملا پاؤں گا ؟ اُسی زمانے میں ابن الکو ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے پاس گیا۔ انہوں نے بصرہ کا حال پوچھا تو اس نے کہا کہ بصرہ میں جاہلوں کا غلبہ ہے اور وہاں کا گورنر بہت کمزور ہے۔ 


عبد اللہ بن عامر کی دمشق میں طلبی اور معزولی


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن عامر کو دمشق بلایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب عبد اللہ بن عامر کا بصرہ میں ناقابل ہونا مشہور ہوا تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ملاقات کے لئے آنے کا اُسے لکھ بھیجا۔ عبداللہ بن عامر نے اپنی جگہ قیس بن ہیثم کو بصرہ پر نائب بنایا اور خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ انہوں نے اُسے بصرہ کے گورنر کے عہدے پر بحال رکھا اور جب وہ رخصت ہونے لگا تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُس سے کہا: ” میں تین چیزوں کا تم سے سوال کرتا ہوں کہہ دو کہ مجھے منظور ہے ۔ عبداللہ بن عامر نے کہا: ” مجھے منظور ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے تمہیں جو عہد دیا ہے وہ واپس کر دو اور خفا نہیں ہوتا۔“ اُس نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: ”تمہاری جائداد جو عرفہ میں ہے وہ مجھے دے دو ۔‘ اُس نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہارے جتنے مکان مکہ مکرمہ میں ہیں وہ سب مجھے دے دو۔“ اس نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " تم نے رشتہ داری کا پاس کیا ۔ اب عبد اللہ بن عامر نے کہا: "اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ میں بھی آپ رضی اللہ عنہ سے تین چیزوں کا سوال کروں گا کہہ دیجیئے کہ مجھے منظور ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔ عبداللہ بن عامر نے کہا: ”میری جو جائداد عرفہ میں ہے وہ مجھے واپس کر دیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔ اُس نے کہا: ” میرے مقرر کردہ کسی گورنر سے حساب نہ لیا جائے اور میرے کسی کام پر اعتراض نہ کیا جائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے منظور ہے ۔ اس نے کہا: ” اپنی بیٹی ہند کا مجھ سے نکاح کر دیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” مجھے منظور ہے۔ یہ بھی روایت ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن عامر سے کہا: یا تو تم یہ بات قبول کرو کہ ہم تم سے سوال جواب اور تمہارے مال و دولت کا حساب لیں اور اس کے بعد تمہیں تمہارے عہدہ پر بحال کریں یا پھر تم خود گورنری سے دستبردار ہو جاؤ اور جو مال و دولت تم نے حاصل کیا ہے وہ ہم رتمہارے پاس ہی چھوڑ دیں ۔ “ اس پر عبداللہ بن عمر نے بصرہ، خراسان اور بجستان کی گورنری چھوڑ دی اور اپنا مال و دولت بچالیا۔


زیاد بن سمیہ کو اپنے نسب میں شریک کیا


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد بن سمیہ کو اپنے نسب میں شریک کیا اور لوگ اُسے زیاد بن ابی سفیان کہنے لگے۔ یہ زیاد وہی شخص ہے جس کے بیٹے نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی سال 44 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد بن شمیہ کو اپنے باپ ابوسفیان کے نسب میں شریک کیا۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں: روایت ہے کہ جب زیادہ کوفہ میں آیا تو کہنے لگا کہ میں جس کے واسطے تمہارے پاس آیا ہوں اور جس بات کا تم سے طالب ہوں اُس میں تمہاری بہتری ہے۔ سب نے کہا: ”ہم سے تم کیا چاہتے ہو کہو؟ اس نے کہا: ” معاویہ بن ابی سفیان کے نسب میں مجھ شریک کر دو ۔ لوگوں نے کہا ہم جھوٹی گواہی نہیں دے سکتے ۔ اب زیاد بصرہ آیا اور یہی بات کی تو ایک شخص نے اُس کے حق میں گواہی دی۔ 


ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا انتقال


ا44 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اس سال یعنی 44 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حج کرایا اور اس سال آپ رضی اللہ عنہ نے ملک شام میں حجرہ بنوایا اور مدینہ منورہ میں مروان بن حکم نے اسی کی مانند حجرہ بنوایا۔ اس سال اُم المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نام رملہ" ہے اور آپ رضی اللہ عنہا حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کی شروعات میں ہی اپنے شوہر کے ساتھ اسلام قبول کر لیا تھا۔ پھر اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی جہاں آپ رضی اللہ عنہا کا شوہر عیسائی ہو گیا اور کچھ عرصے بعد حبشہ ہی میں اُس کا انتقال ہو گیا۔ بیوہ ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے ذریعے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ نجاشی نے آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا اور حضرت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے نکاح کا انتظام کیا اور نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چار سو دینار مہر دیا اور یے ہجری میں آپ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ مکہ مکرمہ والوں نے توڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کا ارادہ بنا لیا تھا تب صلح کی تجدید کرانے ابوسفیان مدینہ منورہ آیا تو پہلے اپنی بیٹی کے پاس آیا تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر اُسے بیٹھنے نہیں دیا تھا اورفرمایا: ” یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک بستر ہے اور تم کفر کی ناپاکی میں مبتلا ہو اس لئے اس بستر پر نہیں بیٹھ سکتے ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ” سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے مجھے انتقال کے وقت بلایا اور بولیں : ”ہمارے درمیان وہ باتیں ہوتی رہیں جو سوکنوں کے درمیان ہوتی ہیں ۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ رضی اللہ عنہا کو بخشے اور جو کچھ بھی ہوا میں نے وہ سب معاف کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کے لئے جائز قرار دیا تو انہوں نے فرمایا: ” آپ رضی اللہ عنہا نے مجھے خوش کر دیا اللہ آپ رضی اللہ عنہا کو خوش رکھے ۔ پھر سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اُم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھی پیغام بھیجا تو انہوں نے بھی اس قسم کی بات کہی۔


ھ45 هجری : زیاد بن ابی سفیان بصرہ کا گورنر


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے 45 ہجری میں زیاد بن ابی سفیان کو بصرہ کا گورنر بنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عامر کو معزول کر کے حارث بن عبد اللہ از دی شامی کو بصرہ کا گورنر بنایا اور چار مہینے بعد اُسے معزول کر کے زیاد بن ابی سفیان کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا۔ زیاد پہلے کوفہ آیا اور سلمان بن ربیعہ باہلی کے گھر قیام کیا۔ وہاں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا ایک قاصد یہ پیغام لیکر زیاد کے پاس پہنچا کہ تمہیں بصرہ کا گورنر بنا دیا گیا ہے اس لئے تم بصرہ روانہ ہو جاؤ ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کو بصرہ کے ساتھ ساتھ خراسان اور بجستان کا بھی گورنر بنا دیا۔ پھر ہند اور بحرین اور عمان بھی اُس کے ماتحت کر دیے ۲۵ ہجری میں زیاد بصرہ میں داخل ہوا۔ اُس وقت فسق و فجور بصرہ میں علاقہ طور پر پھیلا ہوا تھا۔ زیاد نے خطبہ تبراء (جس میں اللہ کی حمد نہ کی جائے) پڑھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ اللہ کی حمد کی تھی۔ اُس نے بہت طویل خطبہ پڑھا او سختی سے اللہ کے احکام پر عمل کرنے کا عہد کیا۔


اہل بصرہ پرسختی


اس کے بعد زیاد نے بصرہ کا انتظام سنبھالا اور بہت سختی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زیاد نے کوتوال کا بڑا ( پولیس کا بڑا افسر ) عبد اللہ بن حصن کو بنایا اور لوگوں کو اتنی مہلت دی کہ کوفہ تک خبر پہنچا کر واپس آسکیں۔ روازانہ عشاء کی نماز سب کے ساتھ پڑھتا تھا اور اس کے بعد ایک شخص سے کہتا کہ سورہ بقرہ یا اتنا ہی قرآن پاک کی تلاوت کرے۔ اس سے فارغ ہونے کے بعد اتنا توقف کرتا تھا کہ چلنے والا مقام خربیہ تک پہنچ جائے۔ اس کے بعد کو تو ال (پولیس) کو حکم دیتا کہ باہر نکلے اور جسے بھی پائے اُسے قتل کر دے۔ ایک رات ایک اعرابی (دیہاتی) پکڑا گیا اُس نے فریاد کی کہ اُسے زیاد کا قاعدہ نہیں معلوم تھا۔ اُسے زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے کہا : " کیا تجھے میرا حکم نہیں معلوم ہے؟“ اس اعرابی نے کہا: میں بصرہ کا نہیں بلکہ ایک اعرابی ہوں اور مجھے آپ کا قاعدہ نہیں معلوم ہے۔ میں تو اپنی اونٹنی لیکر سفر میں تھا راستے میں بصرہ پڑا تو رات گذار نے کے لئے کسی سرائے کی تلاش میں بصرہ میں داخل ہوا تو مجھے پکڑ کر آپ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ زیاد نے کہا: ” مجھے یقین ہے کہ تو سچ کہہ رہا ہے لیکن تجھے قتل کرنے میں ہی اُمت کی بہتری ہے ۔ اور اسے قتل کروا دیا۔ زیاد پہلا شخص ہے جس نے بادشاہ کے حکم کو سختی سے نافذ کیا اور اُس نے ملک عراق اور ایران اور آس پاس کے علاقوں میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی سلطنت کو مستحکم کر دیا۔ اُس نے لوگوں کو آپ رضی اللہ عنہ کی اطاعت گزاری پر مجبور کر دیا اُس نے سزا دینے میں سبقت کی اور تلوار کو برہنہ کیا، اس نے تہمت پر بھی گرفتار کیا اور شبہ پر بھی سزا دی ۔ اُس کے گورنری کے زمانے میں لوگ اُس سے بہت ڈرتے تھے ۔ یہاں تک کہ ایک کو دوسرے سے کچھ کھٹکا نہیں رہا تھا۔ یہاں تک کہ اگر کسی کی کوئی چیز گر پڑتی تھی تو اُسے کوئی نہیں چھوتا تھا اور جس کی چیز گرتی تھی وہی جب آتا تھا تو اُسے اُٹھاتا تھا۔ عورتیں اپنے گھر کا دروازہ بند کئے بغیر بے فکری سے سو جاتی تھیں ۔ اُس نے بصرہ کے ساتھ ساتھ اپنے ماتحت تمام علاقوں پر پولیس کا انتظام اتناسخت رکھا تھا کہ اکثر کہا کرتا تھا: ” بصرہ سے لیکر خراسان تک ایک ڈوری بھی کسی کی چوری ہو جائے تو مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ کس نے چرائی ہے۔ زیاد پہلا شخص ہے جس کے آگے آگے ہاتھوں میں ڈنڈہ لئے ہوئے پولیس والے دوڑا کرتے تھے۔ اُس نے پانچ سو پولیس والے پہرے پر مقرر (باڈی گارڈ) رکھے ہوئے تھے۔


خراسان کا گورنر


اس سال 45 ہجری میں زیاد نے حکم بن عمرو کو خراسان کا گورنر بنایا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اس سال یعنی ۴۵ ہجری میں زیاد کے خراسان پر مقرر کردہ گورنر حکم بن عمرو نے اُس کے حکم سے جبل الاسل سے جنگ کی اور اُن میں سے بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور بہت زیادہ مال غنیمت حاصل کیا۔ زیاد نے اُسے لکھا: ”امیر المومنین کا خط آیا ہے کہ اُن کے لئے اس غنیمت سے سارا سونا اور چاندی اکٹھا کر کے بیت المال کے لئے جمع کر دیا جائے ۔ حکم بن عمرو نے جواب میں لکھا: ”بے شک اللہ کی کتاب قرآن پاک امیر المومنین کے خط پر مقدم ہے اور اللہ کی قسم! اگر زمین و آسمان دشمن کے خلاف ہوں اور وہ اللہ سے ڈرے تو وہ اُس کے نکلنے کا راستہ بنا دے گا۔ پھر اُس نے لوگوں میں اعلان کیا: ”صبح کے وقت مال غنیمت کی تقسیم پر آجاؤ اور اس نے مال غنیمت کا شمس نکال کر اُسے اُن لوگوں میں تقسیم کر دیا اورزیاد کے حکم کی مخالفت کی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو پورا کیا۔ اس کے بعد دعا کی : اے اللہ تعالیٰ ! اگر تیرے یہاں میرے لئے بھلائی ہے تو مجھے موت دیدے۔ اور خراسان کے شہر مرو میں اُس کا انتقال ہو گیا۔


حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال


ا45 ہجری میں حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کا تب یعنی " کا تب وجی ہیں ۔ اس کے علاوہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم پر آپ رضی اللہ عنہ نے اُمت مسلمہ کے لئے مکمل قرآن پاک ایک مصحف میں لکھا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ابن جریر طبری نے بیان کیا ہے کہ اس سال مروان بن حکم نے لوگوں کو حج کروایا جو مدینہ منورہ کا گورنر تھا۔ اس سال کاتب وحی حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہی خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم پرمکمل قرآن پاک لکھا اور پھر خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حکم سے اُس کی نقول تیار کیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑے تیز فہم تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کی زبان اور کتاب صرف پندرہ دن میں سیکھی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کسری کے ایچی سے اٹھارہ دن میں فارسی زبان سیکھی تھی اور حبشی قبطی اور رومی زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام سے سیکھی۔ آپ رضی اللہ عنہ پندرہ (15) سال کی عمر میں اپنی زندگی کے پہلے معر کے غزوہ خندق میں شامل ہوئے۔ بعض علمائے کرام کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال اس سال ہوا اور بعض علمائے کرام کے مطابق 55 ہجری میں ہوا۔


حضرت سلمہ بن سلامہ اور حضرت عاصم بن عدی کا انتقال


اس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی رضی اللہ عنہم کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اس سال حضرت سلمہ بن سلامه بن دقش کا ستر (70) سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر اور اُس کے بعد کے معرکوں میں شمولیت فرمائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔ اس سال حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر پر تشریف لے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ کو قباء اور العالیہ کے باشندوں پر نائب مقرر کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ اُحد اور اُس کے بعد کے سب معرکوں میں شامل ہوئے اور ایک سو پچیس (125) سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ اور حضرت مالک بن دخشم رضی اللہ عنہ کومسجد ضرار (منافقوں کی سازشوں کا مرکز) کی طرف بھیجا اور دونوں نے اُسے جلا دیا۔ 


أم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا انتقال


اس سال یعنی 45 ہجری میں اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہا خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: اس سال اُم المومنین سیدہ حفصہ بنت عُمر فاروق رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح پہلے حیس بن حذافہ سہمی سے ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کی ۔ غزوہ بدر کے بعد شوہر کا انتقال ہوگیا اور جب عدت ختم ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہا کے والد محترم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے نکاح کی درخواست کی کیونکہ غزوہ بدر کے دوران اُن کی زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی پریشانی کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حفصہ رضی اللہ عنہا سے اچھی بیوی ملے گی اور حفصہ رضی اللہ عنہا کو ثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بہتر شوہر ملے گا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے کر دیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہا بڑی عبادت گزار اور روزے دار تھیں اور اللہ تعالی کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم کو بتایا کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔


ھ46 ہجری: حضرت عبدالرحمن بن خالد بن ولید کا انتقال


حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے والد کے ساتھ ملک شام میں رومیوں سے جنگ میں شمال تھے۔ پھر بعد میں خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو الجزیرہ کا گورنر بنایا گیا۔ (الجزیرہ سلطنت روم اور سلطنت فارس کی درمیانی سرحد پر تھا) اس کے بعد سے آپ رضی اللہ عنہ مسلسل وہاں کے گورنر رہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں آپ رضی اللہ عنہ مسلسل رومیوں سے حالت جنگ میں رہے اور انہیں یورپ تک سمیٹ دیا اور قسطنطنیہ سے آگے بڑھنے نہیں دیا۔ یہ ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کو ایک عیسائی نے زہر دیا جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : اس سال یہ ہجری میں مالک بن عبید اللہ نے رومیوں کی سرزمین پر لشکر کے ساتھ سردی کا موسم گزارا۔ اس معاملے میں عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور مالک بن ہبیرہ سکونی کا بھی نام لیا گیا ہے۔ اس سال حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سرزمین روم سے ملک شام میں حمص میں واپس آئے۔ انہیں ابن اثال نامی ایک نصرانی (عیسائی) نے شربت میں زہر ملا کر دے اور آپ رضی اللہ عنہ نے وہ شربت پی لیا۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کا حمص میں انتقال ہو گیا۔ عبدالرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا بیٹا خالد جو اُن دنوں مدینہ منورہ آیا ہوا تھا اُس کی ملاقات ایک دن حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہوں نے اُسے ابن اثال کے بارے میں بتایا۔ یہ سن کر خالد بن عبد الرحمن بن خالد بن ولید سیدھا ملک شام میں حمص میں آیا اور ابن اثال کی تلاش میں رہنے لگا۔ ایک دن اُسے ابن اثال اپنی سواری پر سوار کہیں جاتا دکھائی دیا۔ خالد بن عبدالرحمن نے آگے بڑھکر تلوار کے ایک ہی دار سے اُس کا سر اڑا دیا۔ یہ خبر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے خالد بن عبدالرحمن کو قید کر لیا لیکن قتل نہیں کیا بلکہ خوں بہا لینے کا حکم دیا اور چھوڑ دیا۔


خوارج کے سرداروں کا قتل


بصرہ ، خراسان اور بجستان پر زیاد بہت سختی سے حکومت کر رہا تھا۔ اس نے خوارج کے بچے کچے گروہ اور اُس کے سرداروں کو بھی قتل کر دیا علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: اس سال ۴۴ ہجری میں خطیم اور سہم بن غالب نے خروج کیا اور تحکیم کرتے رہے۔ ( خوارج کا ایک فرقہ محکمہ تھا اور لا حکم الا اللہ اُن کا شعار تھا)۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ جب زیاد نے سختی کی تو ان پر بھی خوف طاری ہوا۔ سہم بن غالب اہواز چلا گیا اور وہاں بغاوت اور تحکیم کرتا رہا۔ پھر واپس آیا اور چھپ کر زیاد سے امان کا طالب ہوا۔ زیاد نے اُسے امان نہیں دی اور اُسے ڈھونڈ کر نکالا اور گرفتار کرنے کے بعد اپنے دروازے پر اسے پھانسی پر لٹکا دیا عظیم جس کا نام یزید بن مالک باہلی تھا اُسے زیاد نے بحرین کی طرف علاقہ بدر کر دیا۔ پھر اُسے واپس آنے کی اجازت دی۔ وہ آیا تو زیاد نے اُس سے کہا کہ شہر کے باہر نہیں جانا اور مسلم بن عمر و سے کہا کہ تم اس کی ضمانت لو۔ مسلم بن عمرو نے ضمانت لینے سے انکار کر دیا اور یہ کہا کہ اگر یہ اپنے گھر سے باہر کہیں رات کو رہے گا تو میں تمہیں خبر کر دوں گا۔ اس کے بعد ایک رات مسلم نے زیادہ کو آکر خبر دی کہ رات کو خظیم اپنے گھر پر نہیں تھا۔ زیاد نے اُسے قتل کرنے کا حکم دے دیا اور اُس کی لاش کو بابلہ میں پھینک دیا۔ اس سال عقبہ بن ابی سفیان نے لوگوں کو حج کرایا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

Saltanat e Umayya part 03

 03 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 3

ھ47 ہجری، ھ48 ہجری، ھ49 ہجری، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت، زہر نے آنتوں کو کاٹ دیا، زہر کس نے کس کے کہنے پر دیا، بقیع میں دفن کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے مشابہت، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت، اے اللہ ! اس سے محبت رکھ، جو اس سے محبت رکھے، اُس سے میں بھی محبت رکھتا ہوں، حضرات حسنین رضی اللہ عنہم سے محبت، جنت کے نو جوانوں کے سردار، تم جس سے صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا، خلفائے راشدین کی محبت، ھ50 ہجری: کوفہ میں زیاد کا استقبال، 



ھ47 ہجری


اس سال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے پوری مملکت اسلامیہ میں تمام گورنر وہی رکھے اور صرف ملک مصر میں گورنر کو تبدیل کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال سے 47 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ملک مصر کی گورنری سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے معزول کر دیا اور اُن کی جگہ ملک مصر کا گورنر معاویہ بن خدیج کو بنا دیا۔ اس سال بلاد روم میں مسلمانوں کے لشکر کا سپہ سالار مالک بن ہیر ہ تھا اور انطاکیہ میں لشکر کا سپہ سالا را بوعبدالرحمن قینی تھا۔ اس سال زیاد نے حضرت حکم بن عمر و غفاری کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔ انہوں نے کوہستان غور و فراوندہ میں جنگ کی اور فتح حاصل کی ۔ بے شمار مال غنیمت اور قیدی ہاتھ آئے وہاں سے واپسی میں حضرت حکم بن عمرو کا مرد میں انتقال ہو گیا۔ اس سال عقبہ بن ابی سفیان یا غیبہ بن ابی سفیان نے لوگوں کو حج کرایا۔


ھ48 ہجری


اس سال بھی تمام مملکت اسلامیہ کے گورنر وہی رہے۔ صرف خراسان کے گورنر کو زیاد نے تبدیل کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 48 ہجری میں ابو عبد الرحمن قینی انطاکیہ کا سپہ سالار رہا اور عبداللہ بن قیس گزاری نے گرمیوں میں جہاد کیا۔ مالک بن ہبیر و سکونی نے بحری جنگ کی ۔ عقبہ بن عامر جہنی نے بھی اہل مصر کو لیکر بحری جنگ کی اور اس لشکر میں اہل مدینہ منورہ بھی تھے اور اُن کا کمانڈر منذر بن زہیر تھا اور سب سے بڑے سپہ سالار خالد بن عبدالرحمن بن خالد بن ولید تھے۔ بعض مورخین کا قول ہے کہ اس سال زیاد نے حضرت غالب بن فضالہ لیٹی کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ اس سال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مروان بن حکم پر عتاب کیا اور پہلے جو اُسے فدک کے باغات دیئے تھے وہ واپس لے لئے ۔ اس سال مروان بن حکم نے لوگوں کو حج کرایا۔


ھ49 ہجری


اس سال بھی پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر رہے صرف مدینہ منورہ کا گورنر تبدیل کیا گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 49 ہجری میں مالک بن ہبیرہ نے نے سرزمین روم میں جاڑ ابسر کیا۔ فضالہ بن عبید نے جزیہ میں جنگ کی اور جاڑا وہیں کاٹا فتح حاصل ہوئی اور بہت سے قیدی ہاتھ آئے ۔ عبداللہ بن کوزی بجلی نے گرمیوں میں چڑھائی کی۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے بحری جنگ کی اور ملک مصر میں جاڑا بسر کیا۔ اس سال مروان بن حکم کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ربیع الاول میں معزول کر دیا اور سعید بن عاص کو ربیع الاخر میں مدینہ منورہ کا گورنر بنا دیا۔ مروان بن حکم آٹھ سال اور دو مہینے مدینہ منورہ کا گورنر رہا۔ مروان بن حکم نے حضرت عبد اللہ بن حارث بن نوفل کو مدینہ کا قاضی بنایا تھا۔ سعید بن عاص نے انہیں معزول کر کے حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف کو قاضی بنا دیا۔ اس سال کوفہ میں طاعون پھیلا اور اس کی وجہ سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ۵۰ ہجری میں ہوا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کوکوفہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ اس طرح زیاد پہلا شخص ہے جو کو فہ اور بصرہ دونوں کا گورنر بنا۔ زیاد چھ مہینہ کوفہ میں رہتا اور چھ مہینہ بصرہ میں رہتا تھا۔ اس سال سعید بن عاص نے لوگوں کو حج کرایا۔ 


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت


اسی سال 49 ہجری میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت زہر سے ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہ کوکئی بارز ہر دیا گیا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں، عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں اور قریش کا ایک اور شخص حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ رضی اللہ عنہ بیت الخلاء " گئے اور جب باہر آئے تو فرمایا: ” میرے جگر کا ایک ٹکڑا کٹ کر گر پڑا تھا اور میں نے اُسے  لکڑی سے اُلٹ پلٹ کر دیکھا۔ مجھے کئی بار زہر پلایا گیا ہے مگر اس با رسب سے زیادہ سخت زہر پلایا گیا ہے ۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھ سے اگر کوئی بات پوچھنی ہو تو پوچھ لو اس سے پہلے کہ میں کچھ بتانے کے قابل نہ رہوں ۔ میں نے عرض کیا: ” مجھے آپ رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں پوچھتا ہے بس اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو صحت عطا فرمائے ۔ راوی بیان کرتا ہے۔ اس کے بعد ہم وہاں سے چلے آئے پھر دوسرے دن ہمیں معلوم ہوا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ بازار میں بے ہوش پڑے ہیں فورا وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہیں اور فرمایا: ”اے بھائی جان! آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیا تم اُسے قتل کرنا چاہتے ہو؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ہاں ۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”اگر میرے ساتھ یہ کام کرنے والا وہی ہے جسے میں خیال کر رہا ہوں تو اللہ تعالیٰ اسے سخت سزا دے گا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ سخت عذاب اور سزادینے والا ہے اور جسے میں خیال کرتا ہوں اگر وہ نہیں ہے تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے بدلے میں تم کسی بے گناہ کو قتل کر دو“ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام بکر بنت مسور نے کہا: حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کوکئی بارز ہر پلایا گیا اور ہر بار آپ رضی اللہ عنہ بیچے جاتے تھے ۔ آخری بار کے زہر نے آپ رضی اللہ عنہ کے جگر کے ٹکڑے کر دیئے اور آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔


زہر نے آنتوں کو کاٹ دیا


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ایسا ہر دیا گیا تھا کہ جس کی وجہ سے انتڑیاں اور پیٹ میں موجود لگ بھگ ہر شئے کٹ گئی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ عورتوں سے بہت نکاح کرنے والے تھے اور وہ بہت کم آپ رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے پاتی تھیں۔ پھر بھی ہر عورت آپ رضی اللہ عنہ سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو زہر پلایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ بچ گئے ، پھر پلایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ پھر بچ گئے اور پھر پلایا گیا تو ایک طبیب کو بلایا گیا جو ہمیشہ آیا کرتا تھا۔ اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کا معائنہ کرنے کے بعد کہا: ” ان کی آنتوں کو زہر نے کاٹ دیا ہے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے بھائی جان! مجھے بتائیے! آپ رضی اللہ عنہ کو کس نے زہر پلایا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے بھائی! تم ایسا کیوں پوچھ رہے ہو؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں آپ رضی اللہ عنہ کو فن کرنے سے پہلے اسے قتل کر دوں گا اور میں اُس پر قابو نہیں پاسکوں گا تو میں مشقت برداشت کر کے اُس کے پاس جاؤں گا ۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے پیارے بھائی ! یہ دنیا فانی ہے۔ اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ میں اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ملاقات کریں ۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے نام بتانے سے انکار کر دیا۔


زہر کس نے کس کے کہنے پر دیا


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے یہ کسی کو نہیں بتایا کہ انہیں کس نے زہر دیا؟ کس کے کہنے پر دیا؟ اس بارے میں کئی روایات ہیں۔اب پتہ نہیں ان میں سے کوئی روایت صحیح ہے بھی یا نہیں؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: امام محمد بن سعد نے بیان کیا ہے کہ یحی بن جمال نے ہمیں بتایا کہ ابو عوانہ نے مغیرہ سے بحوالہ أم موسیٰ ہمیں خبر دی کہ جعدہ بنت اشعث بن ولیس نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو زہر پلایا جس سے آپ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے نیچے طشت رکھا جاتا تھا جب وہ خون سے بھر جاتا تھا تو دوسرا رکھ کر پہلا اُٹھایا جاتا تھا۔ اس طرح چالیس دن تک طشت رکھا اور اُٹھایا گیا۔ بعض نے روایت کی ہے کہ یزید بن معاویہ نے جعدہ بنت اشعث کو پیغام بھیجا کہ وہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ہر دیدے اور میں تجھ سے شادی کرلوں گا۔ اُس نے زہر دے دیا اور جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو جعدہ بنت اشعث نے یزید بن معاویہ کو پیغام بھیجا۔ اُس نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم نے تو تجھے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے لئے بھی پسند نہیں کیا تو کیا ہم تجھے اپنے لئے پسند کر سکتے ہیں؟“


بقیع میں دفن کیا


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کے بقیع قبرستان میں دفن کیا گیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " جس دن حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اُس دن ہم نے دیکھا اور قریب تھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم کے درمیان جنگ چھڑ جاتی کیونکہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی کو وصیت کی تھی کہ مجھے میرے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں دفن کرنا اور اگر اس بارے میں جنگ یا شر کا خدشہ ہو تو بقیع میں دفن کر دینا۔ مروان بن حکم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں دفن کرنے سے صاف انکار کر دیا اور لڑائی پر آمادہ ہو گیا۔ مروان بن حکم اُن دنوں معزول تھا اور وہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کوخوش کرنا چاہتا تھا اور مروان بن حکم ہمیشہ بنو ہاشم کا دشمن رہا ہے یہاں تک کہ مر گیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں میں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی اور کہا: "اے ابو عبد اللہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) اللہ سے ڈرو اور فتنہ نہ بڑھاؤ۔ بے شک تمہارا بھائی اس بات کو پسند نہیں کرتا تھا جو تم دیکھ رہے ہو۔ انہیں اپنی والدہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بقیع میں دفن کر دو“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بقیع میں دفن کر دیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کرنے کے لئے آدمی بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی اور جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ہتھیار پہن لئے اور بنو امیہ نے بھی ہتھیار لگا لئے اور بولے : ”ہم حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن نہیں ہونے دیں گے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تو بقیع میں دفن ہوں اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ حجرہ میں دفن ہوں ؟ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ اور جب لوگوں کو اندیشہ ہو گیا کہ جنگ ہو جائے گی تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ملکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ آپ رضی اللہ عنہ جنگ نہ کریں تو انہوں نے بات مان لی اور اپنے بھائی کو اپنی والدہ محترمہ کے بازو میں بقیع میں دفن کر دیا ۔ ابو حازم کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھانے کے لئے سعید بن عاص کو آگے کیا اور فرمایا: اگر یہ سنت نہ ہوتی تو میں انہیں آگے نہیں کرتا ۔ سعید بن عاص نے جنازے کی نماز پڑھائی۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے مشابہت


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے بہت مشابہت رکھتا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کنیت ابومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے بیٹے اور مخلوق میں سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے مشابہت رکھنے والے ہیں۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ ماہ رمضان المبارک ۳ ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو گھٹی دی اور آپ رضی اللہ عنہ کا نام حسن رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے والدین کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہ سے شدید محبت کرتے تھے حتی کہ چھوٹی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے ہونٹوں کو بوسہ دیتے اور بسا اوقات اپنی زبان انہیں چوساتے اور گلے لگا لیتے اور خوش طبعی کرتے ۔ بسا اوقات نماز کے دوران حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سجدے میں ہوتے تو آپ رضی اللہ عنہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر چڑھ جاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہتے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی وجہ سے سجدے کو طویل کر دیتے اور بسا اوقات آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھ جاتے ۔ حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو آتے ہوئے دیکھا کہ وہ دونوں لڑکھڑاتے ہوئے آرہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ روک دیا اور اُن دونوں کے پاس جا کر دونوں کو گود میں اٹھا لیا اور اپنے ساتھ منبر پر لے آئے اور فرمایا: اللہ نے بیچ فرمایا کہ میں نے ان دونوں کو چلتے اور لڑکھڑاتے دیکھا تو اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکا اور ان کے پاس چلا گیا۔ پھر فرمایا: ” بے شک تم اللہ کی رحمت ہو اور تمہاری تعظیم کی جاتی ہے اور تم سے محبت کی جاتی ہے۔


حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ علامہ عمادالدین ابن کثر لکھتے ہیں صحیح بخاری میں حضرت عقبہ بن حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز پڑھائی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ باہر نکلے تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر اپنے کاندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا: اللہ کی تم اتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہو اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے مشابہ نہیں ہو ۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔


اے اللہ ! اس سے محبت رکھ


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھتے تو بے حد محبت اور شفقت سے پیش آتے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے اللہ سے دعائیں کرتے تھے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھا لیتے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دوسری ران پر بٹھا لیتے پھر ہمیں گلے سے لگاتے اور فرماتے : ”اے اللہ ان دونوں پر رحم فرما، بے شک میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے اللہ ! میں اِن دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاندھے پر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ ۔ اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ” اور جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی محبت رکھے ۔“


جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی محبت رکھتا ہوں 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے اتنی محبت رکھتے ہیں کہ جو اُن سے محبت رکھتا ہے اُس سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کولیکر فرمایا: ”اے اللہ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی رکھ ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ منورہ کے ایک بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ پھر ہم واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے صحن میں آکر آواز لگائی : اے بیٹے ، اے بیٹے ، اسے بیٹے ۔ مگر کوئی جواب نہیں آیا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے صحن میں آگئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے۔ اتنے میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آگئے اور میں نے سمجھا کہ سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہ نے انہیں تیار کر کے بھیجا۔ جب وہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگالیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں اور جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی محبت رکھتا ہوں ۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی۔ مسنداحمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاتھ کا سہارا لئے بنو قینقاع کے بازار کی طرف گئے اور اُس کا چکر لگایا پھر واپس آکر مسجد میں گوٹھ مار کر بیٹھ گئے اور آواز لگائی: ”اے بیٹے ! میرے بیٹے کو میرے پاس لاؤ۔ یہ سن کر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گوٹھ میں چھلانگ مار دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے چہرے کا بوسہ لیا اور فرمایا: ” اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو اس سے محبت رکھتا ہے اُس سے بھی محبت رکھ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میں نے جب بھی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کودیکھا تو میری آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور میں رو پڑا ۔ حضرت عمیر بن اسحاق فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جارہا تھا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ملے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے اپنی قیص کی وہ جگہ چومنے دو جہاں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چومتے دیکھا تھا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے وہ جگہ دکھائی تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اُس جگہ کو چوما۔ ( مسند احمد بن حنبل)


حضرات حسنین رضی اللہ عنہم سے محبت


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسنین ( حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ایک کندھے پر اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دوسرے کندھے پر بٹھایا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک کا بوسہ لیتے اور دوسری دفعہ دوسرے کا بوسہ لیتے۔ اس طرح باری باری دونوں کا بوسہ لیتے ۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے بہت محبت کرتے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ان دونوں سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے نفرت کی اُس نے مجھے سے نفرت کی ۔“ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آگئے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہو جاتے ۔ لوگوں نے ان دونوں کو روکنا چاہا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں سے فرمایا: ” یہ دونوں میرے بیٹے ہیں۔ جس نے ان دونوں سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی ۔ (سنن نسائی ) ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو اُن کے والدین سمیت اپنی چادر میں چھپا لیا اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے ناپاکی کو دور کر دے اور انہیں اچھی طرح پاک کر


جنت کے نو جوانوں کے سردار


حضرات حسنین یعنی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جنت میں نوجوانوں کے سردار ر ہیں گے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ج جنتی نو جوانوں کے سردار کو دیکھ کر خوش ہونا چاہتا ہے وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔ حضرت ابو سعید خدری اور حضرت بریدہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن بن علی اور حسین بن علی رضی اللہ عنہم جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور اُن کے والد محترم اُن سے بہتر ہیں ۔ “ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو اپنی پیٹھ پر بٹھائے ہوئے تھے اور چار پاؤں پر چل رہے تھے۔ میں نے کہا: تم دونوں کو اٹھانے والی سواری کتنی اچھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اور یہ دونوں سوار بھی تو کتنے اچھے ہیں (جامع ترمذی) 


تم جس سے صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے اتحاد کرنے کے لئے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے صلح کی اور پوری امت مسلمہ متحد ہوگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہوئی۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھا اور فرمایا: تم جس سے جنگ کرو گے میں بھی اُس سے جنگ کروں گا اور تم جس سے صلح کرو گے میں بھی اُس سے صلح کروں گا۔ ( مسند احمد بن حنبل) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے اور ضرور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ (مسند احمد بن حنبل)


خلفائے راشدین کی محبت


حضرات حسنین رضی اللہ عنہم یعنی حسن بن علی رضی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے خلفائے راشدین بھی بہت محبت کرتے تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کا بہت اعزاز و اکرام کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہم پر فدا ہوتے تھے اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بھی یہی حال تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب وظیفہ خواروں کا رجسٹر بنایا تو حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے لئے اہل بدر کے برابر پانچ ہزار درہم مقرر کئے ۔ اسی طرح خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کا بہت اکرام کرتے تھے اور اُن سے محبت کرتے تھے۔ اور یوم الدار کو جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ محصور تھے تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تلوار لئے موجود تھے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بچاؤ کر رہے تھے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے تو انہوں قسم دے کر انہیں گھر واپس بھیجا۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی اپنے بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا بہت اعزاز و اکرام کرتے تھے۔ ایک دن آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے بیٹے ! کیا آپ رضی اللہ عنہ تقریر نہیں کریں گے کہ میں اُسے سنوں؟ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”ابا جان! آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہوئے تقریر کرنے میں جھجھک محسوس کرتا ہوں ۔ یہ سُن کر حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ایسی جگہ جا کر بیٹھ گئے جہاں سے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ انہیں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ پھر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر تقریر کی اور اُن کے والد محترم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سُن رہے تھے ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے انتہائی فصیح و بلیغ تقریر کی اور جب تقریر ختم کر کے واپس آئے تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بعض بعض کی اولاد ہیں اور اللہ سنے اور جاننے والا ہے۔“ 


ھ50 ہجری: کوفہ میں زیاد کا استقبال


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد زیاد کو بصرہ ، خراسان اور بجستان کے ساتھ ساتھ کوفہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ زیاد جب کوفہ آیا تو کوفیوں نے اُس کا استقبال کنکروں سے کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت مغیرہ بن شعبہ کے انتقال کے بعد زیادہ نے بصرہ میں سمرہ بن جندب کو اپنا نائب بنایا اور کوفہ آیا۔ وہ چھ مہینے کوفہ میں رہتا تھا اور چھ مہینے بصرہ میں رہتا تھا ۔ جب وہ کوفہ آیا تو منبر پر جا کرحمد وثنا کی اور بولا: میں بصرہ میں تھا جب مجھے کوفہ کی گورنری ملی۔ میں نے ارادہ کیا کہ بصرہ سے دو ہزار سپاہیوں کے ساتھ آؤں پھر مجھے خیال آیا کہ تم لوگ اہل حق ہو تمہارے حق نے بہت دفعہ باطل کو دفع کیا ہے۔ اس لئے فقط اپنے گھر والوں کے ساتھ تمہارے پاس چلا آیا۔الحمدللہ لوگوں نے جتنا مجھے پست کیا تھا اُس اللہ تعالیٰ نے اتنا ہی مجھے بلند کر دیا اور لوگوں نے جس بات کو ضائع کر دیا تھا اللہ نے اُس کی حفاظت کی ۔ خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد منبر سے اترنے ہی والا تھا کہ اسے لوگوں نے سنگریزے( کنکریاں ) مارے۔ جب تک سنگریزے آتے رہے وہ منبر پر بیٹھا رہا اور جب وہ آنا بند ہو گئے تو اُس نے اپنے خاص لوگوں کو بلا کر حکم دیا کہ مسجد کے سب دروازوں کو بند کر دیں پھر کہا: میں ہر شخص کو حکم دیتا ہوں کہ وہ اپنے پاس والے آدمی کو پکڑلے اور ہرگز ہر گز کوئی یہ نہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ میرے پاس کون بیٹھا تھا۔ “ اس کے بعد اپنے لئے ایک کرسی مسجد کے صدر دروازے پر رکھوائی۔ پھر چار چار شخصوں کو بلا کر قسم لی کہ ہم میں سے کسی نے ڈھیلا نہیں مارا۔ جس نے قسم کھالی اُسے چھوڑ دیا جس نے قسم نہیں کھائی اُسے علیحدہ روک لیا۔ یہ سب تھیں (30) آدمی تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسی (80) آدمی تھے۔ زیاد کے حکم سے اُسی جگہ اُن سب کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں 50 ہجری میں زیاد کوفہ، بصرہ، خراسان، بجستان، فارس ،سندھ ، ہند اور مشرقی سرحد کا گورنر تھا۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 04

 04 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 4

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو ہٹانے کی کوشش، قیروان شہر آباد کیا گیا ہے، حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کی معزولی، أم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عمرو بن حمق کا ہن خزاعی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ، ام المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ51 ہجری، ریخ کی فتح، حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال



رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو ہٹانے کی کوشش


اس سال 50 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو اس کی جگہ سے ہٹانے کی کوشش کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 50 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو اٹھا کر ملک شام لے جائیں۔ منبر کو ذرا سی حرکت دی گئی تو سورج کو گہن لگ گیا اور مدینہ منورہ میں اتنا اندھیرا چھا گیا کہ دن میں تارے دکھائی دینے لگے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے امر کو سب لوگوں نے امر عظیم سمجھا۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: " میرا ارادہ یہ نہیں تھا کہ منبر اٹھایا جائے۔ مجھے اندیشہ یہ ہوا کہ دیمک لگ گئی ہوگی اس لئے میں نے خود دیکھ لیا۔ پھر اسی دن منبر پر پوشش ڈال دی ۔ خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری رائے یہ تھی کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے منبر اور عصا کو مدینہ منورہ میں نہیں چھوڑ نا چاہیئے وہاں کے لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قاتل اور دشمن ہیں ۔ جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عصائے مبارک حضرت سعد قرض کے پاس تھا۔ اُن سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عصائے مبارک منگوایا۔ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر اُن کے پاس آئے اور فرمایا: ”اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ اللہ کے واسطے ایسا نہ کریں۔ یہ بات مناسب نہیں ہے کہ جس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود منبر رکھا ہے وہاں سے آپ رضی اللہ عنہ منبر کو اٹھا کر ملک شام لے جائیں۔ پھر ایسا ہو گا کہ مسجد کو بھی یہاں سے لے جایا جائے گا۔ آخر کار حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ارادہ ترک کر دیا اور اور منبر میں چھ زینے بڑھا دیئے۔ اس زمانے میں ( علامہ محمد بن جریر طبری کے زمانے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر آٹھ زمینوں کا ہے اور اس باب میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے بہت معذرت کی ۔ علامہ عمادالدین ابن اکثیر لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو مدینہ منورہ سے دمشق منتقل کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور یہ کہ وہ عصا پکڑلیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے وقت پکڑا کرتے تھے اور وہ بھی اُس عصا کو پکڑ کر منبر پر کھڑے ہوں یہاں تک کہ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ! ہم آپ کو ایسا کرنے سے اللہ کی یاد دلاتے ہیں ۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ منبر کو اُس جگہ سے ہٹایا جائے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہے اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عصائے مبارک مدینہ منورہ سے باہر لے جایا جائے ۔ پس حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس ارادے کو ترک کر دیا لیکن منبر میں چھ سیڑھیوں کا اضافہ کر دیا اور لوگوں کے پاس معذرت کی۔


قیروان شہر آباد کیا گیا ہے


جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حکمراں بنے تھے تو اہم 42 ہجری میں حضرت عقبہ بن نافع فہری رضی اللہ عنہ کو افریقہ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آج کا جو شمالی افریقہ ہے اُس زمانے میں اُس علاقے کو افریقہ کہا جاتا تھا ) کا سپہ سالار بنا کر بھیجا تھا اور انہوں نے افریقہ کے بہت سے علاقے فتح کر کے وہاں ایک نیا شہر قیروان بسایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن نافع فہری رضی اللہ عنہ کو لشکر دے کر افریقہ کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے افریقہ فتح کیا اور شہر قیروان کی بنیاد ڈالی ۔ اُس مقام پر درندے اور سانپوں سے بھرا ہوا ایسا جنگل تھا کہ وہاں جانے کی کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے جانوروں کے لئے بھاگ جانے کی دعا کی تو سب کے سب وہاں سے بھاگ گئے۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا: ”اب ہم لوگ یہاں آگئے ہیں اس لئے تم سب غول کے غول متفرق ہو جاؤ ۔“ یہ سنتے ہی سوراخوں سے نکل نکل کر سب بھاگے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عقبہ بن نافع فہری رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے حکم سے بلاد افریقہ کو فتح کیا اور قیروان کی حد بندی کی اور وہ ایک جنگل تھا جس میں درندے، جنگلی جانور اور بڑے بڑے سانپ پناہ لیتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ سے دعا کی تو اُن میں کوئی بھی وہاں باقی نہیں رہا۔ حتی کہ درندے وہاں سے اپنے بچوں کو اُٹھا کر لے گئے اور سانپ بلوں سے نکل بھاگے۔ بربریوں میں سے بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے اور حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے اُس جگہ قیروان کی تعمیر کی۔ 


حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کی معزولی


اس سال یعنی 50 درخت۔  ہجری میں حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا گیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : ایک شخص جو حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کے لشکر میں اُن کے ساتھ افریقہ گیا تھا کہتا ہے کہ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے قیروان کی بنیاد ڈالی ۔ لوگوں کو رہنے اور گھر بنانے کے لئے زمینیں دیں اور وہاں کی مسجد انہوں نے خود بنوائی ۔ اُن کے معزول ہونے تک ہم سب اُن کے ساتھ رہے۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ بہترین گورنروں میں سے ہیں۔ اس سال ۵۰ ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ملک مصر کے گورنر معاویہ بن خدیج کو معزول کر دیا اور ملک مصر کا گورنر مسلمہ بن مخلد کو بنا دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمہ بن مخلد کے ماتحت افریقہ کا علاقہ بھی کر دیا۔ اُس نے حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا اور اپنے غلام ابو المہاجر کو افریقہ کا گورنر بنا دیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اہل افریقہ نے یہ وطیرہ اختیار کر لیا تھا کہ جب اسلامی لشکر اُن کی سرکوبی کو آجاتا تو فورا مطیع ہو جاتے اور جب وہ کوچ کر جاتا تو باغی و خود مختار ہو جاتے تھے ۔ اس لئے افریقہ میں مسلمانوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اسلامی لشکر کے لئے کوئی کیمپ بنایا جائے تا کہ اہل افریقہ کی آئے دن کی بغاوت اور سرکشی سے نجات ملے اور مسلمان اہل افریقہ کے شرو فساد سے محفوظ و مامون رہیں ۔ اسی لئے مقام قیروان کو منتخب کر کے خس و خاشاک صاف کیا، اونچی نیچی زمین کو ہموار کیا۔ جامع مسجد بنوائی ہشکریوں کے رہنے کے لئے مکانات تیار کرائے۔ ہر قبیلہ کی الگ الگ مسجد بنائی ۔ جامع مسجد کا طول تین ہزار ذراع اور عرض چھ سو ذراع کا تھا۔ پانچ سال میں قیروان شہر کی تعمیر ہوئی اور اس دوران مسلسل جہاد کرتے رہے۔ انہیں ایام میں اکثر بربر نے بھی اسلام قبول کر لیا اور مسلمانوں کی قوت اور طاقت بڑھ گئی اور اُس اسلامی لشکر کے بازو مضبوط ہو گئے جو قیروان میں مقیم تھا ۔ اس کے بعد حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا گیا۔


أم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال


اس سال 50 هجری میں اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ یہودیوں کے جو قبائل مدینہ منورہ کے آس پاس آباد تھے اُن میں سے ایک قبیلے کے سردار کی بیٹی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ سیدہ صفیہ بنت حی بن اخطب بن ثعلبہ بن عبد بن کعب بن خزرج بن ابی ایہب بن نصیر بن نحام بن تحوم ہے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب حضرت ہارون علیہ السلام سے جا کر ملتا ہے۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہا حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور اپنے باپ اور چا کے ساتھ مدینہ منورہ کے مضافات میں رہتی تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے باپ اور شوہر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دھو کہ بازی کی اور قتل کر دیے گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہا غزوہ خیبر کے قیدیوں میں تھیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ سیدہ صفیہ ایک سردار کی بیٹی ہیں ۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔ واپسی میں جب مقام صبا پر پڑاؤ ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق زوجت ادا کیا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے چازاد بھائی کنانہ بن حقیق سے بیاہی ہوئی تھیں جو جنگ میں مارا گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے رُخسار پر تھپڑ کا نشان دیکھا تو اس کے بارے میں دریافت فرمایا : یہ کیسا نشان ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ” میں نے خواب دیکھا تھا کہ گویا چاند یثرب (مدینہ منورہ) سے آکر میری گود میں آگرا ہے۔ میں نے یہ خواب اپنے شوہر کو بیان کیا تو اُس نے مجھے تھپڑ مارا اور بولا: "ٹو یثرب کے بادشاہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے نکاح کرنا چاہتی ہے؟ یہ نشان اس تھپڑ کا ہے ۔ ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا عبادت ، تقویٰ، زہد نیکی اور صدقہ کے لحاظ سے ”سیدات النساء تھیں۔


حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں جو غزوہ اُحد کے بعد مسلمان ہوئے اور سب سے پہلے بیئر معونہ کی جنگ میں شرکت کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈاکیہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے سلسلے میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو ملک حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس بھیجا تھا او حکم دیا تھا کہ ملک حبشہ سے مسلمانوں کو لیکر آئیں نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا اور دعوت ولیمہ بھی کی۔ اس کے بعد حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو اور ملک حبشہ میں بسے مسلمانوں کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے افعال و آثار قابل تعریف ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ہوا۔


حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ بہت خوب صورت تھے اسی وجہ سے جبرائیل علیہ السلام اکثر آپ رضی اللہ عنہ کی صورت میں آتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو سلطنت روم کے قیصر کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا لیکن غزوہ بدر میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔ پھر اس کے بعد کے ہر معرکے میں شامل رہے۔ پھر ملک شام جہاد کے لئے گئے اور جنگ یرموک میں شامل ہوئے۔ وہاں فتح حاصل ہونے کے بعد دمشق کے مغرب میں مقام مرۃ میں رہائش اختیار کر لی۔ یہاں تک کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں انتقال ہو گیا۔


حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن سمرہ بن حبیب بن عبد شمس بیشمی رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے روز اسلام قبول کیا۔ بعض کا قول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ معرکہ موتہ میں بھی شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ خراسان میں جنگ کی اور بجستان اور کابل وغیرہ کو فتح کیا۔ زمانہ جاہلیت میں آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبد الکلال تھا اور بعض کے مطابق عبد کلوب تھا اور بعض عبد الکعبہ بھی بیان کرتے ہیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام بدل کر عبد الرحمن رکھ دیا۔ دمشق میں آپ رضی اللہ عنہ کا ایک گھر تھا اور بصرہ میں بھی ایک گھر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اُن دوسفیروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح کرائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ہوا۔


حضرت عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت عثمان بن عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عثمان بن عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ طائف کے وفد بنو ثقیف کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کوطائف کا گورنر مقررفرما دیا۔ چاروں خلفائے راشدین نے آپ رضی اللہ عنہ کو اس عہدے پر برقرار رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ طویل عرصے تک طائف کے گورنر رہے یہاں تک کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔


حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ دوسرے نمبر کے بیٹے ہیں ۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سب سے چھوٹے بھائی ہیں۔ اُن سے دس سال بڑے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے دس سال بڑے حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اُن سے دس سال کا بڑا طالب ہے۔ طالب کے علاوہ تینوں بھائیوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ سے پہلے اسلام قبول کیا اور جنگ موتہ میں شامل ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ قریش کے بڑے نساب دانوں میں سے ہیں ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں انتقال ہوا۔


حضرت عمرو بن حمق کا ہن خزاعی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عمرو بن حمق کا ہن خزاعی نے فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کیا اور ہجرت کی ۔ بعض کا قول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حجتہ الوداع کے سال اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی تھی کہ اللہ تعالی آپ رضی اللہ عنہ کو شباب سے شاد کام کرے۔ اس دعا کا اثر یہ ہوا کہ آپ رضی اللہ عنه ای سال تک زندہ رہے اور آپ رضی اللہ عنہ کا ایک بال بھی سفید نہیں ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شرکت کی اور حجر بن عدی کے مددگاروں میں تھے زیاد نے تلاش کیا تو آپ رضی اللہ عنہ ” موصل" چلے گئے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے موصل کے گورنر کو حکم دیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا جائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک غار میں چھپ گئے جہاں ایک سانپ نے ڈس لیا اور انتقال ہو گیا۔


حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں اور بیعت عقبہ میں بھی شامل رہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت کعب بن مالک انصاری سلمی رضی اللہ عنہ شاعر اسلام ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا اور بیعت عقبہ میں شامل ہوئے اور غزوہ بدر میں شامل نہیں ہوئے ۔ صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم ) میں آپ رضی اللہ عنہ کی توبہ کی قبولیت کے بارے میں بہت تفصیل سے ذکر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ ان تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں جو غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہو سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عذر دریافت کیا تو ان تینوں نے تسلیم کیا کہ ہمارے نہیں شامل ہونے کا کوئی عذر نہیں ہے اور اللہ ہی ہمیں معاف کر سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کے بائیکاٹ کا حکم دے دیا ۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کو معاف کر دیا قرآن پاک میں ان تینوں کی توبہ کی قبولیت کی آیات نازل فرمائی۔


حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 


اس سال 50 ہجری میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مغیرہ بن شعبہ بن عامر بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ طائف کے ہیں اور حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے باپ کے چا ہیں۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ملک عرب کے دانش مندوں اور صاحب الرائے لوگوں میں سے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بنو ثقیف کے تیرہ آدمیوں کو مقوقس کے پاس سے واپس آنے پر قتل کر کے اُن کے اموال کو لے لیا اور مدینہ منورہ آکر اسلام قبول کر لیا تھا۔ اُن کی دیات کا تاوان حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ادا کیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ میں شرکت کی اور صلح کے روز آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر تلوار سونتے کھڑے رہے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان دونوں نے طائف کے بُت ”لات“ کوتوڑ دیا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو شکر دے کر بحرین کی طرف بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یمامہ اور یرموک کی جنگوں میں بھی شرکت کی اور اُس روز آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھ ضائع ہو گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ جنگ قادسیہ میں بھی شامل تھے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو بہت سی فتوحات پر مقرر کیا جن میں ہمدان اور میسان شامل ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جنگ قادسیہ سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کوہی اپنا ایچی بنا کر فارسیوں (ایرانیوں) کے سپہ سالار رستم کے پاس بھیجا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اُس سے انتہائی فصیح و بلیغ گفتگوکی تھی۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا گورنرمقر فرمایا تھا۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح ہوگئی اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ کے حکمراں بن گئے تو انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کوکوفہ کا گورنر بنا دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ انتقال کے وقت بھی کوفہ کے گورنر تھے۔


ام المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں اُم المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ رضی اللہ عنہا غزوہ مریسیع میں قیدی بن کر آئیں اور یہی غزوہ مصطلق ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کے والد اُس قبیلے کے سردار تھے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کرلیا تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو آزاد کردیا اور نکاح کر لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا کہ اس قبیلے کے لوگ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار ہو گئے ۔ پس اُن کے قبضے میں بنو مصطلق کے جتنے بھی قیدی تھے سب کو آزاد کر دیا۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس غزوہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر ایسی کسی عورت کو نہیں دیکھا جو اپنے قبیلے والوں کے لئے اتنی با برکت ثابت ہوئی ہو۔“ أم المؤمنین سیدہ جو رہ رضی اللہ عنہا کا نام اسلام قبول کرنے سے پہلے برہ تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کا نام جو یہ یہ رکھ دیا۔ آپ رضی اللہ عنہا بہت ہی شیریں کلام عورت تھیں۔


ھ51 ہجری


ھ51 ہجری میں حضرت حجر بن عدی کی دردناک شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ انہیں اُن کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا تھا۔ حضرت حجر بن عدی کھلے عام خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی حمایت کرتے تھے ۔ انہیں زیاد کے حکم سے اُن کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا علامہ محمد بن جریر طبری اور علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر نے حضرت حجر بن عدی کی شہادت کے واقعہ کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس  معاملے میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا۔ ہم نے یہاں انتہائی مختصر بیان کیا ہے تفصیل کے لئے تاریخ کی معتبر کتابوں سے رجوع کریں۔


ریخ کی فتح


او پر ہم بیان کر چکے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد ( ابن سمیہ ) کو کوفہ اور بصرہ کے ساتھ ساتھ خراسان اور آس پاس کے تمام علاقوں کا گورنر بنا دیا تھا۔ یوں سمجھ لیں کہ آج کے ملک عراق اور ملک ایران اور آس پاس کے تمام علاقوں کا اُس وقت زیاد گورنر تھا علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال ۵۱ ہجری میں زیاد نے ربیع بن زیاد حارثی کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا۔ حکم بن عمرو نے اپنے انتقال کے وقت انس بن ابی انس کو خضر اسان کا گورنر بنایا تھا اور زیاد کو اس کی اطلاع دے دی تھی۔ زیاد نے انس کو معزول کر کے اُس کی جگہ خلید بن عبد اللہ کو گورنر بنا دیا۔ ایک مہینے کے بعد زیاد نے خلید کو بھی معزول کر دیا اور خراسان کا گورنر ربیع کو بنادیا۔ وہ اپنے اہل وعیال سمیت خراسان میں جا کر بس گیا۔ ربیع بن زیاد حارثی نے بلخ کا محاصرہ کر لیا۔ اس سے پہلے احنف بن قیس سے اہل بلخ نے صلح کی تھی لیکن شہر کے دروازے نہیں کھولے تھے ۔ ربیع نے حملہ شروع کیا تو اہل بلخ نے صلح کی درخواست کی جسے ربیع نے قبول کر لیا اور صلح کے بعد انہوں نے شہر کے دروازے کھول دیئے ۔ قہستان کو بھی ربیع نے جنگ کر کے فتح کیا اُس کے اضلاع میں ترکوں کو قتل کر کے انہیں شکست دی۔ ایک ترک طرخان باقی رہ گیا تھا اُسے قتیبہ بن مسلمہ نے اپنی سپہ سالاری کے دور میں قتل کیا ۔ جس کا ذکر انشاء اللہ آگے آئے گا۔ ربیع اپنے غلام فرخ اور کنیز شریفہ کو ساتھ لئے ہوئے لڑتا ہوا نہ ترکستان ( ماوراء النہر) کو صحیح و سالم عبور کر گیا۔ فرخ اس سے پہلے نہر پار کر چکا تھا۔ ربیع نے اُسے غلامی سے آزاد کر دیا۔ اس سال یزید بن معاویہ نے مسلمانوں کو حج کرایا۔


حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں حضرت جریر بن عبداللہ بلی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سورہ المائدہ کے نزول کے بعد مسلمان ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے ماہ رمضان المبارک 10 ہجری میں اسلام قبول کیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے کے دوران فرمایا: ” اس راستے سے تمہارے پاس یمن والوں کا ایک بہترین شخص آ رہا ہے اور اس کے چہرے پر شاہی نشان ہے ۔“ جب حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ آئے تو لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق پایا۔ لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کی خبر دی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ روایت ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب اُن کے ساتھ بیٹھے تو اُن کے لئے اپنی چادر بچھادی اور فرمایا : " جب تمہارے پاس کسی قوم کا سردار آئے تو اُس کی عزت کیا کرو ، صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم ) میں ہے کہ حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی نے فرمایا: ” جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حجاب اختیار نہیں کیا اور مجھے دیکھ کر تبسم فرماتے تھے اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ” حضرت جریر رضی اللہ عنہ اس اُمت کے یوسف ہیں اور عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کودیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا معلوم ہوتا تھا خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ہدان کا گورنر بنایا تھا۔ وہاں پر جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ رضی اللہ عنہ غیر جانب دار رہے اور ہمیشہ الجزیرہ میں ہی مقیم رہے یہاں تک کے 51 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔


حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چازاد بھائی حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ یادر ہے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے والد ابو سفیان بن حرب ہیں اور حضرت جعفر بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے والد ابوسفیان بن عبدالمطلب ہیں۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ فتح مکہ کے لئے تشریف لا رہے تھے تب آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد محترم حضرت ابوسفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان راستے میں مل کر اسلام قبول کیا۔ جب دونوں باپ بیٹے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے بات نہیں کی اور چہرہ مبارک پھیر لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوسفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے معاف نہیں کیا تو میں اپنے اس بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر زمین میں ایسی جگہ چلا جاؤں گا کہ کچھ معلوم نہیں ہو گا کہ میں کہاں گیا ہوں ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کو معاف فرمادیا اور دونوں باپ بیٹے نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد دونوں باپ بیٹے بہت اچھے مسلمان ثابت ہوئے اور غزوہ حنین میں شامل ہوئے اور اُس میں ثابت قدم رہنے والوں میں شامل تھے۔ حضرت ابو سفیان بن عبد المطلب اُس غزوے میں سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑے ہوئے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


جمعرات، 5 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 05

 05 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 5

حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبد اللہ بن اُنیس رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ابوبکر فیع بن حارث رضی اللہ عنہ کا انتقال، ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ52 ہجری، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ53 ہجری: جزیره رودس کی فتح، حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دعا، ابن سمیہ ( زیاد بن ابی سفیان ) کا انتقال، ا53 ہجری کے خاتمے پر مملکت اسلامیہ کے گورنر، حضرت معصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ53 ہجری: سعید بن عاص کی معزولی، عبید اللہ بن زیاد خراسان کا گورنر، ترکوں سے جنگ، 



حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ انصار میں سے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر، احد ، خندق اور دوسرے معرکوں میں شامل ہوئے ۔ آپ رضی اللہ جلیل القدر فضلاء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جبرئیل علیہ السلام کو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر کے بعد مقاعد“ میں گفتگو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ نیز آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بنو قریظہ کے روز جبرئیل علیہ السلام کو انسانی شکل میں حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں دیکھا ہے۔ اور صحیح میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو جنت میں قرآت کرتے ہوئے سنا ہے۔


حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں اور وہی بہنوئی ہیں جن کے گھر جا کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں مارا تھا اور پھر اسلام قبول کیا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن عاتکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں اور اُن کی بہن سیدہ فاطمہ حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا اور دونوں نے ساتھ ہجرت بھی کی تھی۔ حضرت سید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سادات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں شرکت نہیں کی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو اپنے سے آگے قریش کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ جب یہ دونوں واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہو چکے تھے ۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے مال غنیمت میں ان دونوں کا بھی حصہ لگایا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کومجلس شوری میں اس لئے شامل نہیں کیا کہ کہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے رشتہ داری کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف داری نہ کی جائے اور انہیں خلیفہ مقرر کر دیا جائے۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ کا نام مجلس شوریٰ میں نہیں رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ انتقال ہو گیا۔ 


حضرت عبد اللہ بن اُنیس رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن اُنہیں جہنی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بیعت عقبہ میں شرکت کی اور غزوہ بدر میں شامل نہیں ہوئے اور اس کے بعد کے معرکوں میں شامل رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ انصار کے بت توڑا کرتے تھے صحیح میں آپ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث ہے کہ لیلتہ القدر تئیس کی رات کو ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کوہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہ نے عرفہ میں اُسے قتل کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی چھڑی عطا فرمائی اور فرمایا: ” میرے اور تمہارے درمیان جو تعلق ہے یہ چھڑی قیامت کے دن اس کی نشانی ہوگی ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق وہ چھڑی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی دفن کی گئی۔ 


حضرت ابوبکر فیع بن حارث رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں حضرت ابوبکر فیع بن حارث کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو بکر نفیح بن حارث بن کلدہ بن عمرو بن علاج بن ابی سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔ کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کا نام "مسروح تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو ابوبکر ہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ طائف میں چرخی سے شہر پناہ (فصیل) سے نیچے اترے تھے ( کیونکہ شہر پناہ کے دروازے بند تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو اور اس دن جتنے بھی غلام طائف کی شہر پناہ پار کر کے اُترے تھے سب کو آزاد کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ماں کا نام مسمیہ ہے اور یہ زیاد کی بھی ماں ہے ( جسے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کوفہ، بصرہ اور خراسان وغیرہ کا گورنر بنایا تھا ) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ رضی اللہ عنہ غیر جانب دار رہے۔ ا۵ ہجری میں انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان مواخات کرائی تھی۔ 


ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال


اس سال اُم المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اس سال 51 ہجری میں اُم المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کے ہجری میں عمرۃ القضاء میں آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے ( آپ رضی اللہ عنہ ام المومنین سیدہ میمونہ بن حارث رضی اللہ عنہا کی بہن ام الفضل لبابہ بنت حارث کے بیٹے ہیں ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کھول دینے کے بعد (نمر مکمل ہو جانے کے بعد ) نکاح کیا ہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات ثابت ہے کہ دونوں حلال تھے (یعنی عمر مکمل کر چکے تھے )۔ پہلے آپ رضی اللہ عنہا کا نام ”برہ تھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر میمونہ رکھ دیا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان اُس جگہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق زوجیت ادا فر مایا تھا وہاں انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ عنہا کے بھانجے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھائی۔


ھ52 ہجری


اس سال یعنی 52 ہجری میں ایسا کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا جسے ذکر کیا جا سکے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بدستور مملکت اسلامیہ پر حکمرانی کرتے رہے اور تمام مملکت اسلامیہ میں تمام گورنر بھی وہی رکھے جو پچھلے سال تھے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں ۔ بعض مورخین کہتے ہیں کہ سفیان بن عوف از دی نے سرزمین روم پر اس سال جہاد کیا اور وہیں جاڑوں میں قیام کیا اور وہیں وفات پائی۔ ونہوں نے عبداللہ بن مسعدہ فرازی کو اپنی جگہ مقررکیا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سال سرزمین روم پرنسر بن ارطاۃ نے لوگوں کے ساتھ جاڑا ابسر کیا انہیں لوگوں میں سفیان بن عوف از دی بھی تھے ۔ اسی سال محمد بن عبد اللہ ثقفی نے جنگ صائفہ کی۔ (سرزمین روم میں اکثر فصیل صیف ہی میں جنگ ہوا کرتی تھی اس وجہ سے عرب اس جنگ کو جنگ صائفہ کہتے تھے ۔) اس سال سعید بن عاص نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ اور تمام علاقوں کے گورنر وہی رہے جو پچھلے سال تھے۔


حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال


حضرت ابو ایوب انصاری نام حضرت خالد بن زید بن کلیب انصاری خزرجی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے میزبان ہیں اور مسجد نبی کی تعمیر مکمل ہونے تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے گھر میں تشریف فرما ر ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابوایوب انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ نے بیعت عقبہ، غزوہ بدر اور تمام معرکوں میں شمولیت کی اور حروریہ کے ساتھ جنگ میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شامل تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو آپ رضی اللہ عنہ ہی کے گھر میں فروکش ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک مہینے تک قیام کیا حتی کہ مسجد اور اُس کے ارد گرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش گا ہیں تعمیر ہو گئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رہائش گاہوں میں منتقل ہو گئے۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر کے نچلے حصے میں اُتارا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے گناہ سے بچنے کے لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم او پر چلے جائیں اور میں اور اُم ایوب نیچے رہیں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کی بات قبول کر لی ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بصرہ میں میرے پاس آئے اور میں بصرہ کا گورنر تھا تو میں اُن کی خاطر اپنے گھر سے نکل کر شہر سے باہر آیا اور استقبال کیا اور جب حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے واپسی کا ارادہ کیا تو بہت سے تحائف اور چالیس خادم دیئے ۔ جب اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گئی تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا: ” کیا آپ ان باتوں کو نہیں سنتے ہیں جو لوگ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی بیوی ام ایوب رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا میں یہ کر رہا ہوں یا اُم ایوب کر رہی ہے؟ وہ بولیں : اللہ کی قسم ! ہم نہیں کر رہے ہیں ۔ " حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اللہ کی قسم! ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تجھ سے بہت بہتر ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی وفات اس سال یعنی 52 ہجری میں بلا دروم میں قسطنطنیہ کی فصیل کے نزدیک ہوئی۔


حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 52 ہجری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ نام عبد اللہ بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب بن عامر بن غزبن بکر بن عامر بن عذر بن وائل بن ناجیہ بن جماہر بن اشعر اشعری رضی اللہ عنہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ملک یمن میں اسلام قبول کیا اور خیبر کے سال حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اصحاب کے ساتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کو بھی ملک یمن کا گورنر مقرر فرمایا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا گورنر بنایا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ” تستر“ کو فتح کیا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بھی آپ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنایا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو حکم ( فیصلہ کرنے والا ) بنایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ قراء اور فقہاء صحابہ رضی اللہ عنہم سے تھے اور اپنے زمانے میں سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ خوش آواز تھے ۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اکثر فرماتے تھے: ”اے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ! ہمیں ہمارا رب یاد دلا دو ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دیتے تو وہ سنتے تھے۔ شہادت کے وقت خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میں لکھا: ” حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے سوا میرے کسی بھی گورنر کو ایک سال سے زیادہ برقرار نہیں رکھا جائے۔“ 


حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 52 ہجری میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عمران بن حصین بن عبید خزاعی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیبر کے سال اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے ہر غزوہ میں شمولیت کی۔ آپ رضی اللہ عنہ سادات صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جب عبد اللہ بن عامر بصرہ کا گورنر تھا تو اس نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو قاضی کے عہدے پر مقرر کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کافی دن وہاں پر فیصلے کئے پھر قاضی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور وہیں بصرہ میں رہائش پذیر ہو گئے اور یہیں انتقال ہوا۔


ھ53 ہجری: جزیره رودس کی فتح


اس سال 53 ہجری میں مسلمانوں نے بلادِ روم میں ایک ایسا جزیرہ فتح کیا جہاں سے وہ رومیوں کو بڑے اطمینان سے سمندر میں آگے بڑھنے سے روک سکتے تھے اور اسلامی سرحدوں کی حفاظت کر سکتے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال ۵۳ ہجری میں عبد الرحمن بن اُم حکم ثقفی نے سرزمین روم میں جاڑا بسر کیا ۔ اسی سال جنادہ بن ابی اُمیہ از دی نے جزیره رودس کو فتح کیا ۔ مسلمان وہاں رہائش پذیر ہو گئے ، زراعت کی ، زمینیں اور مویشی خریدے اور اپنی زمینوں کے گرد مویشی چرایا کرتے تھے ۔ جب شام ہو جاتی تو سب جانوروں کو قلعہ کے اندر لے جاتے تھے۔ اُن لوگوں کے باس ایک مالی تھا جو دریائی دشمنوں کے مکر و فریب سے ہوشیار کر دیتا تھا۔ یہ مسلمان رومیوں پر بہت غضب کے دلیر تھے سمندروں میں ہی رومیوں کو روک لیتے تھے اور مال غنیمت حاصل کرتے تھے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُن کے لئے عطیات اور تنخواہیں مقرر کر دی تھیں اور دشمن پر اُن کا خوف چھایا ہوا تھا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے بعد جب یزید حکمراں بنا تو انہیں واپس بلالیا۔


حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دعا


حجاز کا علاقہ (جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی ہیں ) زیاد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے اپنی ماتحتی میں مانگا تو آ پ رضی اللہ عنہ نے حجاز کا علاقہ بھی اُسے دے دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زیاد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ملک عراق کا نظم نق تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور میرا داہنا ہاتھ تو خالی ہی رہتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس بات پر یمامہ اور اُس کے اضلاع بھی زیاد کے ماتحت کر دیئے اور ایک روایت میں ہے کہ ملک حجاز اُس کے داہنے ہاتھ میں دے دیا اور یہ فرمان لکھ کر ہیثم بن اسودیشی کے ہاتھ سے روانہ کیا۔ اہل حجاز کو جب یہ خبر معلوم ہوئی تو کچھ لوگ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اُن سے مصیبت بیان کی ۔ انہوں نے فرمایا : ” میں اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ تمہیں اس مصیبت سے نجات دلائے ۔“ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ قبلہ رو ہوئے اور اللہ عالی سے دعا کی۔ اس کے بعد زیاد طاعون میں مبتلا ہو گیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کی بیماری کی خبرسنی تو فرمایا: ”جادور ہو ابن سمیہ اند دنیا تیرے پاس رہی اور نہ ہی آخرت تجھے ملی ۔ 


ابن سمیہ ( زیاد بن ابی سفیان ) کا انتقال


ھ53 ہجری میں زیاد کا انتقال ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: طاعون اُس کی انگلی میں نکلا اپنے قاضی حضرت شریح کو بلوایا اور کہا: دیکھو! میں اس بیماری میں مبتلا ہو گیا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ اس ہاتھ کو کٹوالو تم کیا مشورہ دیتے ہو؟ حضرت شریح نے کہا: ” مجھے اندیشہ ہے کہ زخم تیرے ہاتھ پر لگے گا اور صدمہ تیرے دل کو پہنچے گا اور اگر تیری موت قریب آچکی ہو تو تو اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے ہاتھ کے ساتھ ملاقات کرے گا اور اگر تو نے ہاتھ اس لئے کاٹا ہو کہ اللہ سے ملاقات کی ہمت تجھ میں نہیں ہے اور اگر تیری موت ٹل جائے تو کیا تو اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ جئے گا اور اپنی اولاد کے لئے عیب کا باعث بنے گا ؟ زیاد نے یہ سنا تو ہاتھ کٹانے میں تامل کیا۔ حضرت شریح جب باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا تب حضرت شریح نے اپنا مشورہ بیان کر دیا۔ لوگوں نے کہا: ” تم نے ہاتھ کاٹنے کا مشورہ کیوں نہیں دیا ؟ حضرت شریح نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشورہ دینے والا مل اعتماد ہے ۔ آخر کار زیاد نے کہا: یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ میں اور طاعون ایک ہی لحاف میں سوئیں ۔ اور اُس نے ہاتھ کٹوانے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ جب اُس کے سامنے ہاتھ کاٹنے کے بعد زخم کو داغنے کے لئے آگ جلائی گئی اور داغنے کے سامان سامنے لائے گئے تو وہ مضطرب ہو گیا اور ہاتھ کٹانے سے انکار کر دیا۔ جب مرنے کا وقت قریب آیا تو اُس کے بیٹے نے کہا: ”بابا ! میں نے آپ کے کفن کے لئے ساٹھ کپڑے تیار کر رکھے ہیں ۔ یہ سُن کر اُس نے کہا: ”بیٹا ! تیرے باپ کے لئے اب ایسا وقت آیا ہے کہ یا تو اُسے اس سے بہتر لباس ملے یا پھر یہ کپڑے بھی اُتر جائیں۔ جب وہ مر گیا تو اُسے کوفہ کے ایک مقام تو یہ میں دفن کیا گیا اور حجاز کی حکومت کے لئے یزید روانہ ہوا۔ اس سال سعید بن عاص نے مسلمانوں کو حج کرایا۔


ھ53 ہجری کے خاتمے پر مملکت اسلامیہ کے گورنر


ھ53 ہجری میں زیاد نے انتقال کے وقت عبداللہ بن خالد کو کوفہ کا گورنر بنا دیا تھا اور بصرہ کا گورنرسمرہ بن جندب تھا اور خراسان کا گورنر خلید بن عبداللہ حنفی تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی سال ۵۳ ہجری میں ربیع بن زیاد ھارٹی جسے زیاد نے خراسان کا گورنر بنایا تھا دو سال اور چند مہینے حکومت کرنے کے بعد انتقال ہوا۔ اُس نے مرتے وقت اپنی جگہ اپنے بیٹے عبداللہ بن ربیع کو خراسان کا گورنر بنادیا۔ دو مہینے بعد عبد اللہ بن ربیع کا بھی انتقال ہو گیا۔ اُس کی موت خبر کی زیاد کے پاس اُس وقت پہنچی جب وہ دفن کیا جارہا تھا۔ عبد اللہ بن ربیع نے اپنی جگہ خراسان کا گورنر خلید بن عبداللہ حنفی کو بنا دیا تھا۔ زیاد کے انتقال کے چھ مہینے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سمرہ بن جندب کو معزول کر دیا اور اُس کے کچھ دنوں بعد کسی نے سمرہ بن جندب کو قتل کر دیا۔


حضرت معصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


ا43 ہجری میں جلیل القدر صحابی حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت صعصعہ بن ناجیہ بن عفان بن سفیان بن مجاشع بن دارم رضی اللہ عنہ کا انتقال ۵۳ ہجری میں ہوا۔ زمانہ جاہلیت میں آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے اور علاقے کے سردار تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تین سو ساٹھ (360) لڑکیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ہے۔ بعض علماء نے چار سولڑ کیاں اور بعض علماء نے چھیانوے لڑکیاں بیان کیں ہیں۔ (ملک عرب میں پہلے زمانے میں ایسا تھا کہ اگر لڑ کی پیدا ہوتی تھی تو اُسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ نے ہر لڑکی کے بدلے میں دو اونٹ اُس کے باپ کو دے کر لڑکی کو بچالیا کرتے تھے ) جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا مجھے اس کا اجر ملے گا ؟ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس کا اجر یہ ملاکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میری دو اونٹیاں بدک کر بھاگ گئی تھیں۔ اُن کو تلاش کرتے کرتے رات ہوگئی اور میں تلاش میں لگا ہی رہا۔ میں نے ایک آگ کو دیکھا جو کافی دور تھی اور کبھی روشن ہوتی اور کبھی اتنی دھیمی ہو جاتی کہ دکھائی نہیں دیتی تھی اور میں راستہ بھول جاتا تھا۔ میں نے دعا کی: اے اللہ! تیرا یہ مجھ پر احسان ہوگا کہ تو مجھے اُس آگ تک پہنچا دے اور اگر میں نے وہاں کسی پر ظلم ہوتا دیکھا تو اسے ظلم سے بچاؤں گا ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ” میں آگ کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ ایک شخص آگ جلا رہا ہے اور وہاں کچھ عورتیں موجود ہیں ۔ میں اُن سے قیام کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت کو بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ اُس شخص نے کہا: تم کہاں جارہے ہو؟ میں نے کہا: میں اپنی دو بد کی ہوئی اونٹوں کی تلاش میں ہوں ۔ اس شخص نے کہا: ” تمہاری بد کی ہوئی اونٹنیاں میرے پاس ہیں ۔ میں اپنے اونٹ سے اتر پڑا اور اُس شخص کے پاس بیٹھ گیا۔ اتنے میں اندر سے ایک عورت نے آکر خبر دی کہ لڑکی پیدا ہوئی ہے۔ اس شخص نے کہا: ” اُسے اُسی گڑھے میں زندہ دفن کر دو جو میں نے پہلے سے کھود کر رکھا ہوا ہے ۔ ( زمانہ جاہلیت میں ملک عرب میں بچہ پیدا ہونے سے پہلے باپ گڑھا کھود کر رکھتے تھے اور اگر بیٹی پیدا ہوتی تھی تو اُسے زندہ دفن کر دیتے تھے ) میں نے جلدی سے کہا: تم اپنی بچی کو کیوں قتل کرتے ہو اور اس کا رزق تو اللہ کے ذمہ ہے ۔ اس شخص نے کہا: ” مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں نے کہا: ” میں اسے تجھ سے چھٹکارہ دلاتا ہوں اور اُسے تمہارے پاس ہی چھوڑتا ہوں حتی کہ وہ تجھ سے جدا ہو جائے یا مر جائے ۔ اُس نے کہا: ” کتنے میں؟“ میں نے کہا: ” ایک اوٹنی کے عوض ۔ “ اس نے کہا: نہیں ۔ میں نے کہا: ”دونوں اُونٹنیوں کے عوض ۔“ اس نے کہا: ”اگر و دواونٹنیوں کے ساتھ اپنا یہ اونٹ بھی مجھے دیدے تو میں اُس بچی کو زندہ چھوڑ دوں گا اور بے شک میں اُسے (اونٹ کو) خوش رنگ نو جوان پاتا ہوں ۔ میں نے کہا: ”اچھا ٹھیک ہے !مگر شرط یہ ہے کہ تو مجھے میرے قبیلے تک پہنچادے۔ اُس نے کہا: ” بہت اچھا۔ اس کے بعد میں نے اللہ سے عہد کر لیا کہ جو بھی لڑکی مجھے ایسی ملے گی جسے زندہ دفن کیا جا رہا ہو گا اُسے میں فدیہ دے کر ضرور چھڑاؤں گا جس طرح میں نے اس لڑکی کو چھڑایا ہے ۔ ابھی اسلام نہیں آیا تھا کہ میں چھیانوے (96) لڑکیوں کو چھڑا چکا تھا۔ پھر اس کے بعد قرآن پاک میں مسلمانوں پر اس عمل کی تحریم نازل ہوئی ۔“ 


ھ53 ہجری: سعید بن عاص کی معزولی


اس سال 53 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کا گورنر دوبارہ مروان بن حکم کو بنا دیا اور سعید بن عاص کو معزول کر دیا۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے 53 ہجری میں سعید بن عاص کو معزول کر دیا اور مروان بن حکم کو دوبارہ مدینہ منورہ کا گورنر بنا دیا اور اُسے لکھا کہ وہ سعید بن عاص کا گھر منہدم کروادے اور سرزمین حجاز میں جو اموال و جائدا ہیں انہیں ضبط کر لے۔ مروان بن حکم اُس کا گھر گرانے کے لئے آیا تو سعید بن عاص نے کہا: " تجھے یہ کام نہیں کرنا چاہیئے ۔ "مروان بن حکم نے کہا: " امیر المومنین نے مجھے اس کے بارے میں حکم دیا ہے اور اگر وہ آپ کو میرے گھر کے بارے میں لکھتے تو آپ بھی ایسا ہی کرتے ۔ سعید بن عاص نے مروان بن حکم کو وہ خط دکھایا جو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُسے گورنر بناتے اور مروان بن حکم کو معزول کرتے وقت لکھا تھا ۔ اُس خط میں لکھا تھا کہ مروان بن حکم کے گھر کوگرادو اور اس کے مال و جائداد پر قبضہ کر لو۔ یہ خط دینے کے بعد سعید بن عاص نے کہا: ” اس حکم کے باوجود میں نے ہمیشہ تمہارا بچاؤ کیا ہے۔ خط پڑھنے کے بعد مروان بن حکم نے سعید بن عاص کا گھر نہیں گرایا اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔


عبید اللہ بن زیاد خراسان کا گورنر


اس سال 53 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد بن ابی سفیان یا ابن سمیہ کے بیٹے عبید اللہ بن زیاد کوخراسان کا گورنر بنایا۔ یہ عبید اللہ بن زیاد وہی ” ابن زیاد ہے جسے یزید نے کوفہ کا گورنر بنایا تھا اورحکم دیا تھا کہ کسی بھی طرح حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کورو کے اور ابن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا اور ایک لشکر حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو روکنے کے لئے بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ انہیں ہر قیمت پر کوفہ پہنچے نہیں دینا چاہے اس کے لئے انہیں شہید ہی کیوں نہ کرنا پڑے ) علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: زیاد کے مرنے کے بعد اُس کا بیٹا عبید اللہ بن زیاد ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُس وقت اُس کی عُمر چھپیس (25) سال کی تھی ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ” تیرے باپ نے کوفہ اور بصرہ کا گورنر کسے بنایا ہے؟‘ عبید اللہ بن زیاد کو جو معلوم تھا اُس نے بتا دیا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: "اگر تیرا باپ تجھے گورنر بنا جاتا تو میں تجھے بحال رکھتا۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے بعد کوئی مجھے یہ کہے کہ اگر تیرا باپ یا تیرا چا ( یعنی حضرت معاویہ تجھے گورنری دے جاتے تو میں بھی بحال رکھتا۔ یہ سن کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور اُسے خراسان کا گورنر بنا دیا اور روانگی کے وقت یہ صیحتیں کیں ۔ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اُس کے خوف پر کسی چیز کو غالب ہونے نہیں دینا کیونکہ اس سے ڈرنے میں کثیر منافع ہے اور اپنی عزت بچائے رکھنا۔ اگر کسی سے عہد و پیمان کرنا تو اُسے پورا کرنا تھوڑی چیز ( دنیا) کے عوض بڑی چیز (آخرت) کو فروخت نہیں کرنا ، جب تک کسی کام کا مصمم ارادہ نہیں کر لیتا تب تک زبان سے اظہار نہیں کرنا کیونکہ جب تم کسی بات کو زبان سے نکال چکے ہو گے تو اُس کو واپس نہیں لے سکو گے۔“


ترکوں سے جنگ


ملک شام سے رخصت ہو کر عبید اللہ بن زیاد خراسان کی طرف روانہ ہو گیا: علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن زیاد کو خراسان روانہ کرتے وقت یہ بھی نصیحت کی کہ جب دشمنوں سے صف آرائی ہو تو جو لوگ تم سے بڑے ہوں اُن کو ذمہ دار بنانا اور کتاب اللہ پر بیعت لیتا۔ عبید اللہ بن زیاد ۵۳ ہجری کے اول میں ملک شام سے رخصت ہو کر خراسان روانہ ہوا اور وہاں جا کر انتظام سنبھالا۔ وہ شکرلیکر ترکوں کی طرف بڑھا اور نہر عبور کر کے جبال بخارا کی طرف چڑھائی کی ۔ راستے میں لسف اور بیکند کو جنگ کر کے فتح کیا ۔ پھر ترکوں سے جنگ کی اور متعدد لڑائیوں کے بعد ترک میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔ ترکوں کے بادشاہ کے ساتھ اُس کی ملکہ بھی تھی ۔ وہ ایک ہی پاؤں میں جوتی پہنے پائی تھی کہ مسلمانوں نے پہنچ کر اسے گرفتار کر لیا اور دولاکھ درہم میں فروخت کر ڈالا۔ عبداللہ بن زیاد خود اس جنگ میں شریک تھا اور اُس کے ایک ہاتھ میں لشکر کا جھنڈا تھا اور دوسرے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ وہ لڑتے لڑتے لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جاتا تھا پھر یکا یک اپنے جھنڈے کو بلند کرتا تھا جس سے خون ٹپکتا تھا۔ یہ لڑائی خراسان کی مشہور لڑائیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں؛ ۵۳ ہجری میں مروان بن حکم نے مسلمانوں کو حج کروایا اور مدینہ منورہ کا گورنروہی تھا، کوفہ کا گورز عبداللہ بن خالد تھا۔ بعض مورخین ضحاک بن قیس کا نام لیتے ہیں اور بصرہ کا گورنر عمرو بن غیلان تھا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں