Khilafat e Rashida 4 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Khilafat e Rashida 4 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 7 اگست، 2023

01 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 4


01 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 1

سلسلۂ نسب اور خاندان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی کفالت میں، حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو اسلام کی دعوت، قبول اسلام، سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ہمیشہ رہے، ابو طالب کو اسلام کی دعوت، ابو طالب کی حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو تاکید، 

سلسلۂ نسب اور خاندان

حضرت علی المرتضیٰ کا سلسلۂ نسب دادا (عبد المطلب )پر جا کر سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم سے مل گیا ہے اور پھر باقی سلسلۂ نسب وہی ہے جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہے ۔پھر بھی یہاں ہم پیش کر رہے ہیں ۔حضرت علی بن ابی طالب( نام عبد مناف ) بن عبد المطلب ( نام شیبہ) بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مُرہ ۔عبد المطلب سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے دادا ہیں ۔اِس طرح دونوں چچا زاد بھائی ہیں ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا خاندان بھی وہی ہے جو سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کا ہے ۔یعنی ” بنو ہاشم “ یا ” بنو عبد المطلب “ ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے والد کی کنیت ”ابو طالب “ ہے اور نام عبد مناف ہے ۔ابو طالب کے سگے بھائی حضرت عبد اﷲ ( رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے والد ِ محترم ) اور زبیر بن عبد المطلب ہیں یعنی ایک ہی والدہ سے ہیںاور بقیہ بھائی دوسری والداو¿ں سے ہیں ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ کا نام سیدہ فاطمہ بنت اسد ہے ۔یہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جن کی شادی ہاشمی خاندان میں ہوئی ۔اِس طرح حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ والد اور والدہ دونوں طرف سے ”ہاشمی “ہیں ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ نے اسلام قبول کیا اور مدینہ¿ منورہ ہجرت بھی کی اور یہیں انتقال ہوا ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کفن دفن کے انتظامات کئے اور اپنی قمیص مبارک کفن کے لئے عطا فرمائی اور قبر تیار ہونے کے بعد پہلے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم خود قبر میں اُترے ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ کے تین بھائی ہیں ۔سب سے بڑے طالب بن ابی طالب ،پھر حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ اور پھر حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ ،پھر حضرت علی بن بی طالب رضی اﷲ عنہ ہیں ۔طالب نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی د وبہینیں ہیں ۔فاختہ بنت ابو طالب اِ ن کی کنیت ”اُم ہانی “ ہے اور جمانیہ بنت ابو طالب ۔  

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی کفالت میں

اعلان ِ نبوت سے پہلے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے معاشی حالات بھی کافی اچھے ہوچکے تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام چچاﺅں کے بھی معاشی حالات کافی بہتر تھے۔صرف ابوطالب کے معاشی حالات بہت خراب تھے۔ اسی دوران مکہ مکرمہ میں قحط پڑا اور ابو طالب غرےبی کی وجہ سے پریشانی کاشکار ہوگئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی یہ حالت دیکھی تو اپنے دوسرے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ۔وہ عطر کی تجارت کرتے تھے اور کافی امیر تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرماےا:” چچا جان! آپ تو جانتے ہیں کہ چچا ابوطالب بہت غرےب ہیں اور ان کی اولاد زیادہ ہے اور اپنی خودداری کی وجہ سے وہ کوئی مد د نہیں لیں گے تو ہم ایسا کیوں نہ کریں کہ ان کی کچھ اولاد کے کفیل بن جائےں ، تاکہ ان کا خرچ کم ہو۔ “حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ راضی ہوگئے ، دونوں ملکرابو طالب کے پاس گئے اور یہی درخواست کی ۔ابو طالب نے کہا:” عقیل کو مےرے پاس چھوڑ دو اور باقی جسے چاہو لے لو۔“ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنی کفالت میں لے لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ا بی طالب رضی اللہ عنہ کو لیکر اپنے گھر آگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زےر کفالت بڑے ہونے لگے۔ 

حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو اسلام کی دعوت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا ابوطالب کے معاشی بوجھ کو کچھ ہلکا کرنے کیلئے ان کے ایک بےٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر لے آئے تھے اور وہ وہیں رہنے لگے تھے اور کئی سال تک رہے ۔اِس دوران اﷲ تعالیٰ نے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا نے اسلام قبول کر لیا ۔اُس وقت پانچ وقت کی نمازیں فرض نہیں ہوئی تھیں لیکن نماز پڑھنے کا حکم تھا اِسی لئے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم اور سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا گھر میں نماز پڑھتے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں نماز پڑھتے دیکھا تو حےرت سے درےافت کیا:” یہ کیا ہے ؟“حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماےا:”یہ اللہ کا دین ہے، یہی دین لیکر تمام انبیاءدنیا میں آئے ہیں۔ میں تم کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں اسی کی عبادت کرو اور بتوں کا انکار کردو ۔“

قبول اسلام

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت لگ بھگ دس برس کی تھی انھوں نے کہا:” یہ بالکل نئی چےز ہے، جب تک میں اپنے والد ابو طالب سے مشورہ نہ کرلوں تب تک میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔“ اس وقت علانیہ تبلیغ کا حکم نہیں ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ تبلیغ کررہے تھے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” اے علی (رضی اللہ عنہ )!اگر تم اسلام قبول نہیں کرتے تو اسکا ذکر بھی کسی سے مت کرو۔ “حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموشی سے اپنے کمرے میںآگئے۔ ایک رات بھی گذرنے نہ پائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کا دل اسلام کی طرف مائل کردیا۔ جب صبح ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کی دعوت دےتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” گواہی دو کہ اللہ ایک ہے اسکا کوئی شرےک نہیں ہے اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ “حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گواہی دی اور اسلام قبول کرلیااور کافی عرصے تک اپنے اسلام کو اپنے والد ابو طالب سے بھی چھپائے رکھا۔

سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ہمیشہ رہے

حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ بچپن سے لیکر آخر تک سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور لگ بھگ ہر غزوہ اورمکہ¿ مکرمہ اور مدینہ¿ منورہ میں بھی ساتھ ہی رہے ۔حضرت عفیف کندی کا نام شراحیل ہے اور عفیف لقب ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ یمن کے ہیں اورعطر کے تاجر تھے۔حضرت عباس بن عبد المطلب بھی عطر کے تاجر تھے اور تجارت کے سلسلے میں یمن جاتے رہتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :”میں منیٰ میں اپنے دوست حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ہر طرف خیمے لگے ہوئے تھے اچانک میں نے دیکھا کہ ایک بے انتہا خوبصورت اور روشن چہرے والا شخص ایک خیمے سے باہر آیااور نماز کے لئے کھڑ اہو گیا۔ ابھی میں اس خوبصورت اور معصوم شخص کو دیکھ رہا تھا کہ ایک عورت خیمے سے نکل کر آئی اور اس بے انتہا خوب صورت شخص کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگی پھر میں نے دیکھا کہ ایک گیارہ سالہ لڑکا باہر آیا اور اس بے انتہا خوب صورت روشن چہرے والے شخص کے دائیں طرف ذرا سا پیچھے کھڑا ہوگیا اور نماز شروع کر دی۔ میں حیرت سے اپنے دوست حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کودیکھنے لگا تو انھوں نے مجھے بتایا:” یہ جو بے انتہا خوبصورت شخص کو دیکھ رہے ہو یہ میرے بھائی حضرت عبداللہ کا بیٹا محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے انھیں دین اسلام دیکر بھیجا ہے اور یہ خاتون ان کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ یہ اپنے شوہر پر ایمان لے آئی ہیں اور وہ گیارہ سالہ لڑکا حضرت علی بن ابو طالب ہے میرے بھائی ابو طالب کا بیٹا! یہ بھی مسلمان ہو گیا ہے۔ “اس کے بعد حضرت عفیف کندی فرماتے ہیں :” اس منظر نے میرے دل پر بہت گہرا اثرکیا تھالیکن اس وقت میں پوری طرح اسلام کی سچائی کو سمجھ نہیں پایا تھا۔ بعد میں جب میں نے اسلام قبول کیا تو مجھ سے پہلے بہت سے لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اور اس بات کا مجھے ہمیشہ افسوس رہا ہے کہ کاش اگر میں اسی وقت اسلام قبول کر لیتا تو شاید میں چوتھا مسلمان ہوتا۔ “

ابو طالب کو اسلام کی دعوت

خفیہ تبلیغ کا سلسلہ جاری تھا اور ایک ایک کر کے مسلمان ہوتے جا رہے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر لگ بھگ گیارہ برس ہو چکی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ لگے رہتے تھے۔ جب نماز پڑھنا ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ پہاڑوں کے درمیان کسی گھاٹی یا درّہ میں جا کر پوشیدہ نماز پڑھتے ۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ اتفاق سے ابو طالب ادھر سے گزرے ۔ وہ حیرت سے کھڑے اپنے بھتیجے اور بیٹے کو قیام ، رکوع ، سجدہ ،قعدہ کرتے اور سلام پھیرتے دیکھتے رہے۔ جب دونوں حضرات نماز سے فارغ ہو گئے تو انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:” اے بھتیجے !یہ کون سا دین ہے جس میں ایسی عبادت کی جاتی ہے ؟“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”پیاے چچا ! یہ اللہ کا دین اسلام ہے، اُس کے فرشتوں اوررسولوں کا دین ہے اور ہمارے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دین کے ساتھ تمام بندوں کی طرف بھیجا ہے اور اے میرے پیارے چچا !آپ سب سے زیادہ اس بات کے حق دارہیں کہ میں آپ کو اس دین کی دعوت دوں اور ہدایت کی طرف بلاﺅں۔ آپ کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ آپ اس دعوت کو قبول کریں اور اس کی دعوت و تبلیغ میں میری مدد کریں۔“ 

ابو طالب کی حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو تاکید

سید الانبیاءصلی اﷲعلیہ وسلم کی دعوت کو سن کر ابو طالب نے جواب دیا:” اے میرے پیارے بھتیجے ! میں اپنے آباﺅ اجداد کا دین اور ان کا طریقہ نہیں چھوڑ سکتا۔ لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں تمہاری ہر ممکن مدد کرتا رہوں گا اور کوشش کروں گا کہ تمہیں کوئی دکھ یا تکلیف نہ پہنچے ۔“ اس کے بعد ابوطالب نے اپنے بیٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا :” اے پیارے بیٹے !یہ کون سادین ہے جو تم نے اختیار کیا ہے؟ “آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:” پیارے ابا جان !میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا ہوں اور اُن کی تعلیمات ( جو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں) کو دل و جان سے قبول کرتا ہوں اور اللہ کی رضا کے لئے ان کے ساتھ مل کر عبادت(نمازادا) کرتا ہوں۔“ یہ سن کر ابو طالب نے کہا:” اے میرے پیارے بیٹے !بے شک تمہارا بھائی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہیں بھلائی اور کامیابی کی طرف لے جائے گا ۔ اس لئے ہر حال میں اپنے بھائی کا ساتھ نبھانا اور اس کا ساتھ کبھی مت چھوڑنا۔ “

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

02 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 4


02 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 2

رشتہ داروں اور خاندان والوں کو اسلام کی دعوت، ابو لہب نے سننے سے منع کر دیا، اپنے گھرانے میں سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر، تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تمنا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اعزاز، مرحب کا قتل، مرحب کے قتل کی ایک اور روایت، قلعہ فتح ہو گیا، 

رشتہ داروں اور خاندان والوں کو اسلام کی دعوت

اللہ تعالیٰ کے حکم سے تین برس تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ دعوت و تبلیغ کرتے رہے۔ اور اس میں کامیابی بھی ملی لیکن کامیابی کی یہ رفتار دھیمی تھی۔ جب تین برس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی (ترجمہ )” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈرائیں ( اسلام کی دعوت دیں) اپنے قریبی رشتہ داروں کو“ ( سورہ الشعرا ءآیت نمبر214) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :” جب یہ آیت ” وانذرعشیرتک الاقربین “( اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں) نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا کہ ایک صاع غلّہ (اناج) اور بکری کا ایک دست ( گوشت) اور دودھ کا ایک پیالہ مہیا کرو۔ ( یعنی کھانے پینے کا انتظام کرو) اور بنو ہاشم کو کھانے کی دعوت دو اور جمع کرو( حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام چچاﺅں اور ان کی اولاد اور پھوپھیوں اور ان کی اولاد کو کھانے کی دعوت دی) میں نے خاندان ِ ہاشم ( یہ یاد رہے کہ عبد المطلب کے والد کا نام ہاشم ہے) کو کھانے کی دعوت دی اور کم و بیش چالیس40افراد جمع ہو گئے ۔“ (حضرت علی رضی اﷲ عنہ اُس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی کفالت میں تھے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ اُن کے گھر میں ہی رہتے تھے۔اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر بہ مشکل تیرہ 13سال کی تھی۔)

ابو لہب نے سننے سے منع کر دیا

حضرت علی رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :”جب تمام لوگ آگئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو کھانے کے لئے بٹھایا۔ ان میں ابو طالب ، حضرت حمزہ ، حضرت عباس اور ابولہب بھی تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے سب کو کھانا کھلایا۔ تمام لوگ پیٹ بھر کر کھا چکے تھے پھر بھی وہ کھانا اُتنا ہی رہا جتنا پہلے تھا۔ اس کے بعد حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ اٹھایا اور مجھ سے فرمایا :” اے علی ( رضی اللہ عنہ) ! ان سب کو دودھ پلاﺅ۔“ دودھ کا پیالہ دیتے رہے ،سب نے دودھ پیا پھر بھی پیالے میں دودھ اتنا ہی تھا۔ جب تمام لوگ فارغ ہو گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہو ئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ابو لہب کھڑا ہو گیا اور بولا :” لوگو !دیکھا تم نے! اس شخص نے تم پر کیسا جادو کیا ہے اور جادو کا تماشہ تمہیں دکھایا ہے“ اس کا اشارہ کھانے اور دودھ کے برتن کی طرف تھا۔ اتنا کہہ کر وہ جانے لگا تو تمام لوگ بھی اٹھ کر چلے گئے۔ دوسرے دن پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھانے اور پینے کا انتظام کرنے اور تمام رشتہ داروں کو دعوت دینے کا حکم دیا۔دوسرے دن بھی سب نے کھایا اور پیا ۔ لیکن جیسے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ کہنے کے لئے کھڑے ہو ئے تو پھر ابو لہب نے وہی حرکت کی اور سب چلے گئے۔ “

اپنے گھرانے میں سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر

حضرت علی رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :”سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسرے دن مجھ سے کھانے پینے کا انتظام کرنے اور تمام رشتہ داروں کو دعوت دینے کا حکم دیا۔ تیسرے دن بھی تمام لوگوں کے کھانے اور پینے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ کہنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ابو لہب پھر وہی بکواس کرنے لگا۔ لیکن اس مرتبہ تمام لوگ بیٹھے رہے اور ابو لہب کی بکواس پر توجہ نہیں کی اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے گھرانے میں تقریر کی۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام رشتہ داروں پر اسلام پیش کیا اور فرمایا :” تم سب میرے قریبی عزیز ہولیکن تم میں سے کون شخص میرا بھائی بن کر اشاعتِ اسلام میں میری مدد کرے گا۔؟“تو سب لوگ خاموش رہے۔ جب دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سوال دہرایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا :” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں“ ( آپ کی مد د کروں گا) ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیرت سے دیکھا اور فرمایا:”تم ؟“حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:” میری عمر اس وقت کم ہے لیکن میں جسمانی طور سے صحت مند ہوں۔ میری بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ “ 

وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے﴿

سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ¿ خیبر میں شیخین ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ) کو لشکر دے کر بھیجا تھا۔ لیکن فیصلہ کن جنگ نہیں ہو سکی تھی۔ دوسرے دن شام میں اسلامی لشکر اپنے پڑاﺅ میں واپس آیا تو سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا: ” کل صبح میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں سے قلعہ فتح کرادے گا اور وہ شخص جہاد سے بھاگنے والا نہیں ہے۔ “حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے روز فرمایا: ” کل یہ جھنڈا میں ایسے شخص کو دوں گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔ “ 

تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تمنا

سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کل میں جھنڈا یسے شخص کو دوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ( قلعہ قموص) فتح عطا فرمائے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑی بشارت ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ” لوگوں نے یعنی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رات بڑی بے چینی کے ساتھ گزاری کہ دیکھیں صبح جھنڈا کس کو عطا فرمایا جاتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو لوگ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے۔“ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:” اس رات میری شدید تمنا یہ تھی کہ صبح جھنڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاتھ میں عطا فرمائیں۔ “در اصل تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس رات یہی شدید تمنا تھی کہ سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم صبح جھنڈا ان کے ہاتھ میں عطا فرمائیں اور یہ اس وجہ سے نہیں تھی کہ فتح ان کے ہاتھ ہو بلکہ اس بشارت کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور بشارت دی تھی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ یوں تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سے آگے بڑھ کر عشق کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ لیکن صبح سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم یہ” خصوصی اعزاز“ عطا فرمانے والے تھے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شدید تمنا تھی کہ یہ ”اعزاز “انہیں عطا ہو۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اعزاز

سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ تمنا لے کر صبح حاضر ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھنڈا مجھے عطا فرمائیں۔ سب لوگ حاضر ہو گئے لیکن حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ صحیح بخاری کی حدیث آگے بڑھاتے ہیں۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ” پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ “صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔“ ( جس کی وجہ سے وہ حاضر نہیں ہو سکے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا۔ وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک لعاب دہن ان کی آنکھ میں لگا دیا اور ان کے لئے دعا فرمائی تو ان کی آنکھیں فوراً اچھی ہو گئیں اور ایسا لگا جیسے ان کو کبھی یہ تکلیف نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں عنایت فرما یا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں ان کے ساتھ اس وقت تک لڑوں جب تک مسلمان نہ ہو جائیں؟ “آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم چپ چاپ ان کے میدان میں جا کر اترو اور پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاﺅ کہ اللہ کا حق ہونے کے باعث ان پر کیا واجب ہے۔ پس اللہ کی قسم ! اگر ایک آدمی کو بھی اللہ تعالیٰ نے تمہاری وجہ سے ہدایت دے دی تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ “

مرحب کا قتل

سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کی قیادت حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دی اور آپ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر لےکر قلعہ کے صدر دروازے کے سامنے آئے اور جھنڈا گاڑ دیا اور یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی جو انہوں نے مسترد کر دی اور اپنے سردار مرحب کی قیادت میں جنگ لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔ مرحب بہت ہی طاقتور اور لڑاکو تھا اور اسے ایک ہزار مردوں کے برابر مانا جاتا تھا۔ سب سے پہلے وہ آگے بڑھا اور بولا : ” خیبر کو معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار پوش، بہادر اور تجربہ کار ۔ جب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہوں ۔ “حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم خیبر پہنچے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لے کر گھمنڈ سے اتراتا ہوا سامنے آیا تو اس کے مقابلے کے لئے میرے چچا ( یا بھائی) حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا: ” خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں۔ہتھیار پوش، شہ زور اور جنگجو ، “ پھر دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیا۔ مرحب کی تلوار حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال پر روکی تو وہ ڈھال میں گھس گئی اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے نیچے سے وار کیا تو ان کی تلوار چھوٹی ہونے کی وجہ سے مرحب کی پنڈلیوں پر پڑ کر اُچٹ کر واپس ان کے گھٹنے پر آلگی جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو اکٹھا کر کے فرمایاکہ ان کے لئے دوہر ا اجر ہے۔ وہ بڑے جانباز مجاہد تھے اور ان جیسا کم ہی عرب کی روئے زمین پر ہوا ہوگا۔ اس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا: ” میں وہ شخص ہوں کہ میری والدہ نے میرا نام حیدر ( شیر ) رکھا ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح خوفناک۔ میں انہیں صاع کے بدلے نیزے کی ناپ پوری کروں گا۔“ اور مرحب کے سر پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ تلوار سر کو کاٹتی ہوئی داڑھ تک پہنچ گئی اور وہ وہیں ختم ہو گیا۔ 

مرحب کے قتل کی ایک اور روایت

مرحب کے قتل کے بارے میں کئی روایتیں ہیں۔ ایک روایت میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” اس جنگ میںمرحب یہودی سامان جنگ سے آراستہ ہو کر ہتھیار لگائے اپنے قلعہ سے باہر نکل کر میدان میں آیا اور اپنی تعریف میں اشعار پڑھنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کے مقابلے پر کون جواں مرد جائے گا؟ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے۔ کل میرا بھائی شہید ہوا تھا۔ آج میں اس کا قصاص لوں گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہتر ہے۔ جاﺅ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ “ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مرحب کے مقابلے پر آئے۔ میدان میں ایک درخت تھا۔ پہلے تو دونوں نے اس کی آڑ میں ہو کر ایک دوسرے پر وار کیا اور سپاہ گری کے ہنر بتائے اور ان کی تلوار کے واروں سے درخت کی تمام شاخیں کٹ گئیں۔ پھر دونوں آمنے سامنے ہوئے تو یہودی مرحب نے وار کیا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ڈھال پر روکا تو تلوار ڈھال کو کاٹ کر اس میں پھنس گئی۔ یہودی نے زور لگایا مگر تلوار نہیں نکل سکی۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ایسا وار کیاکہ مرحب دوزخ میں پہنچ گیا۔ مرحب کے قتل کے بعد اس کا بھائی یا سر میدان میں آیا اور مقابلے کی دعوت دینے لگا۔ حضرت زیبر بن عوام رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ وہ مقابلے کے لئے آگے بڑھے تو ان کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیامیرا بیٹا مارا جائے گا؟ “ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انشا اللہ !تمہارا بیٹا اس ( یہودی) کو مار دے گا۔ “ اور ایسا ہی ہوا۔ حضرت زیبر بن عوام رضی اللہ عنہ نے یاسر یہودی کوایک ہی وار میں قتل کر دیا۔ 

قلعہ فتح ہو گیا

ا سکے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کےساتھ آگے بڑھے اور قلعہ کے صدر دروازے کے قریب پہنچ گئے۔ قلعہ کے اوپر ایک یہودی نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) ہوں۔“ یہودی نے کہا : ”قسم ہے اس کتاب کی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہو ئی ہے۔ بے شک تم غالب ہو گے۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت علی المرتضیٰ کے ہاتھ پر قلعہ فتح کر دیا۔ سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ” جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو خیبر کا قلعہ فتح کرنے بھیجا تو میںان کے ساتھ تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ قلعہ کے پاس پہنچے اور مقابلہ اور مقاتلہ شروع ہوا تو ایک یہودی کے وار سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے ڈھال چھوٹ کر دو رجاگری تو آپ رضی اللہ عنہ نے قلعہ کا (صدر) دروازہ اکھاڑ لیا اور ڈھال کا کام لینے لگے اور آگے بڑھنے لگے۔ یہاں تک کہ جب آپ رضی اللہ عنہ جنگ سے فارغ ہو گئے اور قلعہ فتح ہو گیا تو اس دروازے کو آپ رضی اللہ عنہ نے پھینک دیا۔“ ابو رافع کہتے ہیں: ” وہ دروازہ اتنا بھاری تھا کہ ہم آٹھآدمی نے اسے پلٹنا چاہا مگر پلٹا نہیں سکے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


03 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 4


03 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 3

تمہاری حیثیت حضرت ہارون علیہ السلام جیسی ہے، خلافت کا بوجھ اُٹھانے سے انکار، حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر خلافت کا بوجھ، خلافت کی بیعت، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کی مشروط بیعت

تمہاری حیثیت حضرت ہارون علیہ السلام جیسی ہے

سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کومدینہ منورہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا تا کہ اہل بیت کی دیکھ ریکھ ہو سکے اور غزوہ تبوک کے لئے اسلامی لشکر لے کرروانہ ہوگئے۔ ادھر مدینہ منورہ میں منافقین نے افواہ اڑائی کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بوجھ بن گئے ہیں۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ یہ افواہیں سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بدن پر ہتھیار سجائے اور سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تیزی سے روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقامِ” جرف “پر جا کر ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عورتوں اور بچوں کے درمیان چھوڑ کر آگئے اور منافقین اس طرح کی افواہیں مدینہ منورہ میں پھیلا رہے ہیں۔ “سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ لوگ جھوٹے ہیں اور تم میرے لئے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے حضرت ہارون علیہ السلام تھے۔ ( ہاں اتنا ضرور ہے کہ ) میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“

خلافت کا بوجھ اُٹھانے سے انکار

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے مختصر تعارف کے بعد ہم اُمور ِ خلافت کی طرف واپس آتے ہیں ۔خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد بڑے بڑے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خلافت کا بوجھ اُٹھانے کی درخواست کی لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے انکار کر دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” مورخین کا اِس بات میں اختلاف ہے کہ خلیفہ¿ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے لئے بیعت کس وقت کی گئی اور کن کن لوگوں نے کی ۔بعض مورخین کی رائے تو یہ ہے کہ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے جمع ہو کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے خلافت کی بیعت لینے کی درخواست کی لیکن آپ ضی اﷲ عنہ نے انکار کر دیا ۔جب صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے حد سے زیادہ اصرار کیا تو انہوں نے خلافت کا بوجھ اُٹھانا قبول کیا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت طلحہ بن عبید اﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ مہاجرین و انصار صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا ایک گروہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاس خلافت کے لئے بیعت کرنے آیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” امیر ( خلیفہ) ہونے سے میں وزیر ہونے کو بہتر سمجھتا ہوں ،جس کو تم منتخب کرو گے میں بھی اُسی کا انتخاب کروں گا ۔“ اُن لوگوں نے منت و سماجنت سے کہا : ” ہم آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ کسی کو خلافت کا مستحق نہیں پاتے ہیں اور نہ ہی آپ رضی اﷲ عنہ کے علاوہ کسی اور کو منتخب کر سکتے ہیں ۔علامہ عما دالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ” حضرت علیٰ المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے خلافت قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔انہوں نے باربار آپ رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا تو آپ رضی اﷲ عنہ انہیں چھوڑ کر بنو عمرو بن مبدول کے باغ میں چلے گئے اور دروازہ بند کر لیا ۔لوگوں نے وہاں آکر دروازہ کھٹکھٹایا اور آپ رضی اﷲ عنہ سے خلیفہ بننے پر اصرار کیا اور وہ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم کو بھی اپنے ساتھ لائے اور انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا : ” اِس امر ( خلافت کے کام ) کا خلیفہ کے بغیر باقی رہنا ممکن نہیں ہے ۔“ اور وہ مسلسل آپ رضی اﷲ عنہ سے یہی بات کرتے رہے حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی بات مان لی ۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر خلافت کا بوجھ

صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے مسلسل اصرار پر حضرت علی المرتضی ٰ رضی اﷲ عنہ خلافت کا بوجھ اُٹھانے کے لئے تیار ہو گئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : محمد بن حنفیہ کا قول ہے کہ جس روز حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ شہید کئے گئے اُس روز میں اپنے والد ِ محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تھا ۔جب اُنہیں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو وہ فوراً اپنے گھر سے نکلے اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر پہنچے ۔وہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اﷲ عنہم آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ شہید کر دیئے گئے ہیں اور لوگوں کے لئے ایک نہ ایک خلیفہ کی موجودگی ضروری ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ۔آج ہم رُوئے زمین پر آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ کسی کو اِس کا حقدار نہیں پاتے اور نہ ہی آج کوئی شخص ایسا موجود ہے جو اسلام میں آپ رضی اﷲ عنہ سے سبقت رکھتا ہو اور نہ کوئی ایسا فرد موجود ہے جسے آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کا قرب اور آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ رشتہ داری حاصل ہو ۔اِس لئے یہ بوجھ آپ رضی اﷲ عنہ اپنے کاندھوں پر اُٹھایئے اور لوگوں کو بے چینی او ر پریشانی سے نجات دیجیئے ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” بہتر یہ ہے کہ تم کسی اور کو اپنا خلیفہ بنا لو اور مجھے اُس کا وزیر رہنے دو اور بہتر یہی ہے کہ کوئی دوسرا خلیفہ ہو اور میں اُس کا وزیر ہوں ۔“ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا : ” اﷲ کی قسم ! ہم آپ رضی اﷲ عنہ کے علاوہ کسی کی بیعت کے لئے تیار نہیں ہیں ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جب تم مجھے مجبور کر رہے ہو تو بہتر یہ ہے کہ بیعت مسجد میں ہونی چاہیئے تاکہ لوگوں پر میری بیعت مخفی نہ رہے اور حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی رضامندی کے بغیر یہ خلافت مجھے حاصل بھی نہیں ہوسکتی ۔“ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ ( رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے چچا زادبھائی ) فرمایا کرتے تھے : ” مجھے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا مسجد میں جانا بہتر معلوم نہیں ہوا ۔کیونکہ مجھے یہ خوف تھا کہ لوگ اُن کے خلاف شور نہ مچائیں لیکن حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے میری بات قبول نہیں فرمائی اور مسجد تشریف لے گئے ۔وہاں تما م مہاجرین و انصاررضی اﷲ عنہم نے جمع ہو کر آپ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کی اور اُن کے بعد دیگر لوگوں نے بیعت کی ۔“ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اُن لوگوں کے اصرار پر مسجد میں تشریف لائے اور صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم جن میں حضرت طلحہ و زبیر رضی اﷲ عنہم بھی تھے فرمایا : ” میں تمہیں اختیار دیتا ہوں ۔ اگر تم پسند کرتے ہو تو میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا اور اگر تم راضی ہو تو میرے ہاتھ پر بیعت کر لو۔“ انہوں نے کہا : ” نہیں ! ہم آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ۔“ یہ فرما کر پہلے حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے پھر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ نے بیعت کی ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : ” سب سے پہلے حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے اپنے دائیں ہاتھ سے آپ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کی جو غزوہ¿ اُحد میں شل ہو گیا تھا کیونکہ اُس کے ذریعے آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا بچاو¿ کیا تھا اور بعض لوگوں نے کہا کہ یہ کام پورا نہیںہو گا ۔

خلافت کی بیعت

خلیفۂ چہارم حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے کندھوں پر زبردستی خلافت کا بوجھ رکھ دیا گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ شہید کئے گئے تو مہاجرین و انصار جمع ہو کر جن میں حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم بھی تھے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا : ” اے ابو الحسن رضی اﷲ عنہ ! اپنا ہاتھ آگے بڑھا یئے تاکہ ہم آپ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لیں ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” مجھے خلافت کی کوئی حاجت نہیں ہے تم جسے بھی خلیفہ بنانا چاہو بنا لو میں اُس سے خوش ہوں اور اِس معاملے میں تمہارے ساتھ ہوں ۔“ مہاجرین و انصار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے جواب دیا : ” ہم آپ رضی اﷲ عنہ کے علاوہ کسی کو خلیفہ بنانے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔“ الغرض حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد مہاجرین و انصار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم بار بار حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے اور انہیں خلافت قبول کرنے پر مجبور کرتے رہے حتیٰ کہ مہاجرین و انصار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے ایک بار یہاں تک کہا کہ خلافت کے بغیر معاملات طے نہیں پا سکتے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے ٹال مٹول سے معاملہ طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” چونکہ تم مجھے بار بار آ کر مجبور کر رہے ہو تو میں بھی تم سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں اگر تم میری بات قبول کرو گے تو میں خلافت قبول کروں گا ورنہ مجھے خلافت کی کوئی حاجت نہیں ہے ۔“ مہاجرین و انصار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے وعدہ کیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ جو حکم دیں گے ہم انشاءاﷲ اسے ضرور پورا کریں گے ۔یہ وعدہ لے کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ مسجد میں تشریف لائے اورمنبر پر بیٹھ گئے لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے گرد جمع ہو گئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں نے مجبور ہو کر خلافت کے اِس بوجھ کو قبول کیا ہے کیونکہ تم لوگوں نے مجھ کو اِس پر انتہائی مجبور کیا ہے اور میرے پاس اِس کے علاوہ کوئی چارہ¿ کار باقی نہیں رہ گیا کہ میں تمہاری درخواست قبول کر لوں ۔اب میری یہ شرط ہے کہ تمہارے خزانوں کی چابیاں اگرچہ میرے قبضے میں ہوں گی لیکن میں تمہاری رضامندی کے بغیر اِس میں سے ایک درہم بھی نہیں لوں گا ۔“ ( یعنی مجھے مال و دولت سے کوئی غرض نہیں ہے ) صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے یہ بات قبول فرمائی ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے اُن کا یہ جواب سن کر فرمایا : ” اے اﷲ تُو اِن پر گواہ رہنا ۔ “ اِس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے لوگوں سے بیعت لی ۔

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کی مشروط بیعت

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی مدینۂ منورہ میں بیعت کرلی گئی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بعض نے کہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد پانچ دنوں تک نافقی بن حرب مدینۂ منورہ کا امیر رہا ۔اِس کے بعد ملک مصر کے باغی جمع ہو کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے ۔کوفہ کے باغی حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور بصرہ کے باغی حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور خلیفہ بننے کی درخواست کی تو اُن تینوں نے صاف انکار کر دیا ۔اِس کے بعد باغیوں نے متفق ہو کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہا تو انہوں نے بھی انکار کر دیا اور حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بھی انکار کر دیا تو باغیوں کو بہت تردد ہوا کہ کوئی بھی خلافت کی ذمہ داری اُٹھانے کو تیار نہیں ہے ۔باغیوں نے اِس کے بعد اہل مدینۂ منورہ کو جمع کیا اور یہ کہا : ” آپ لوگ اہل شوریٰ ہیں اور آپ لوگوں کا حکم تمام اُمت ِ محمدیہ پر جائز و نافذ ہے ۔آپ لوگ خلیفہ مقرر کریںہم آپ کے مطیع ہیں اور آپ اِس کام کو انجام دیں ۔ہم دو دن کی مہلت دیتے ہیں اگر اِس مقررہ مدت میں آپ نے خلیفہ نہیں چُنا تو ہم آپ کے فلاں اور فلاں اشخاص کو مار ڈالیں گے ۔اہل مدینہ یہ بات سن کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے خلیفہ بننے سے انکار کر دیا ۔اُن لوگوں نے کہا : ” اگر آپ رضی اﷲ عنہ خلیفہ کا عہدہ قبول نہیں کریں گے تو فتنہ کا دروازہ کھل جائے گا ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے مجبور ہو کر اگلے دن کا وعدہ کیا ۔اگلے روز صبح ہوتے ہی وہ لوگ آ پہنچے۔حکیم بن جبلہ مصریوں کے ساتھ اور مالک اشتر کوفیوں کے ساتھ حاضر ہوا ۔حکیم بن جبلہ نے حضرت زبیر بن عوم رضی اﷲ عنہ کو جبراً لا کر پیش کیا اور مالک اشتر نے حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کو جبراً لا کر پیش کیا اور ان لوگوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاتھ پر بیعت کی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : لوگ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کو لے آئے اور اُن سے کہا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کرو ۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں مجبورا ً بیعت کررہا ہوں ۔“ انہوں نے بیعت کی اور سب سے پہلے انہوں نے ہی بیعت کی ۔اِس کے بعد حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کو لایا گیا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا : ” میں مجبورا ً بیعت کررہا ہوں ۔“ اور اِس کے بعد بیعت کرلی لیکن حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی بیعت کے بارے میں اختلاف ہے ۔پھر اُن صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو لایا گیا جو اِس اختلاف سے کنارہ کش تھے ۔انہوں نے آکر بیعت کی اور فرمایا : ” اے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ! ہم آپ رضی اﷲ عنہ کی اِس بات پر بیعت کرتے ہیں کہ آپ رضی اﷲ عنہ اﷲ کے احکام کا نفاذ فرمائیں گے چاہے آ پ رضی اﷲ عنہ کا کوئی قریبی رشتہ دار ہو یا دور کا رشتہ دار ہو ،طاقتورہو یا کمزور ہو۔“ اِس کے بعد عام لوگوں نے بیعت کی ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

04 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 4


04 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 4

خلیفہ بننے کے بعد پہلا خطبہ, حضرت طلحہ اور حضرت زبیراور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا مطالبہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیراور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا مطالبہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کی درخواست، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنر، حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنر، مملکت اسلامیہ میں مختلف رد ِ عمل کا اظہار، گورنروں کی واپسی پر رد عمل، 

خلیفہ بننے کے بعد پہلا خطبہ

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو مدینۂ منورہ کے لوگوں نے خلیفہ بنا دیا اور بیعت کر لی ۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے پہلا خطبہ دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے بیعت جمعہ کے دن پچیس ( 25 ) ذی الحجہ 35 ہجری کو کی گئی ۔اِس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے اور خلیفہ بننے کے بعد پہلا خطبہ دیا جس میں اﷲ تعالیٰ کی حمدو ثنا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے بعد فرمایا : ”اﷲ تعالیٰ نے ایسی کتاب نازل فرمائی جو لوگوں کو ہدایت کرنے والی ہے ۔اِس کتاب میں ہر قسم کے خیر و شر کو بیان فرمایا ۔اب تم کو چاہیئے کہ تم خیر کو قبول کرو اورشر کو چھوڑ دو ۔اﷲ تعالیٰ کے فرائض ادا کرو وہ تمہیں جنت میں داخل فرمائے گا ۔اﷲ تعالیٰ نے بہت سے اُمور حرام فرمائے ہیں جو ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور تمام حرام کاموں سے زیادہ مسلمانوں کا خون حرام فرمایا ہے ۔اُس نے مسلمانوں کے ساتھ اخلاص اور آپ میں متحد رہنے کا حکم فرمایا ہے ۔تم موت آنے سے قبل عام اور خاص سب پر عمل کر لو کیونکہ لوگ تو تمہارے سامنے موجود ہیں اور موت تمہیں گھیرتی چلی آرہی ہے ۔تم گناہوں سے ہلکے ہو کر موت سے ملو ،لوگ تو ایک دوسرے کا انتظار ہی کرتے رہتے ہیں ۔تم اﷲ کے بندوں اور اُس کے شہروں کے معاملے میں اﷲ سے ڈرو کیونکہ تم سے اس کا ضرور سوال کیا جائے گا ۔حتیٰ کہ چوپایوں اور گھاس پھوس کے بارے میں بھی تم سے سوال ہو گا ۔ اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کرو ،اُس کی نافرمانی نہ کرو اور جو بھی خیر تمہیں نظر آئے اُسے قبول کرو اور جو برائی دیکھو اُسے چھوڑ دو اور اُس وقت کو یاد کرو جب تم لوگ تھوڑی تعداد میں تھے اور زمین میں کمزور تھے ۔“ اتنا فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ بیٹھ گئے ۔

حضرت طلحہ اور حضرت زبیراور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا مطالبہ

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو خلافت کی ذمہ داری سنبھالے ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ابھی خلافت کی باگ ڈور پوری طرح سے سنبھالی بھی نہیں تھی کہ آپ رضی اﷲ عنہ سے مطالبے شروع ہو گئے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ خطبہ دے کر اپنے مکان پر واپس آئے ۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم آئے اور فرمایا : ” چونکہ ہم نے بیعت اِس شرط پر کی تھی کہ آپ رضی اﷲ عنہ حدود و قصاص جاری کریں گے اِسی لئے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا قصاص لیں ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جب تک لوگ راہ راست پر نہ آجائیں اور کُل اُمور منظم نہ ہو جائیں اُس وقت تک میں آپ رضی اﷲ عنہم کی رائے پر عمل نہیں کر سکتا ،حالانکہ مجھ کو خود حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حقوق اور قصاص کی فکر ہے ۔“ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم یہ سن کر چلے گئے اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کے قصاص کی بابت سرگوشیاں ہونے لگیں ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی بیعت ہو جانے کے بعد حضرت طلحہ بن عبید اﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم دوسرے صحابہ¿ کرام ضی اﷲ عنہم کے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! ہم نے آپ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کے وقت یہ شرط رکھی تھی آ پ رضی اﷲ عنہ اﷲ کی حدود کو قائم فرمائیں گے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہے کہ باغیوں کی یہ تمام جماعت حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے میں شریک ہے اور اِس طرح انہوں نے مسلمانوں کے خون کو حلال کیا ہے ۔اِس لئے آپ رضی اﷲ عنہ پر اِن سب لوگوں سے قصاص لینا فرض ہے ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے میرے بھائیو! میں بھی تمہاری طرح اِن امور سے ناواقف نہیں ہوں لیکن ابھی حالات ایسے نہیں ہیں کہ سختی کا موقف اپنایا جائے اور کیا ایسے حالات ہیں کہ تم قصاص لینے پر قدرت رکھتے ہو ؟ “ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے فرمایا : ” نہیں ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! تم جو دیکھ رہے ہو میں بھی اُن حالات کو دیکھ رہا ہوں اور لوگ خلافت کے معاملے میں کئی قسم ( کئی طبقوں )کے ہیں ۔ایک طبقہ کی وہی رائے ہے جو تمہاری رائے ہے جبکہ دوسرے طبقہ کی رائے تمہاری رائے کے خلاف ہے اور تیسرا طبقہ ایسا ہے جونہ تو تمہاری رائے کا حامی ہے اور نہ ہی دوسرے طبقہ کی رائے کا حامی ہے ۔ بلکہ وہ اِس معاملے یعنی خلافت سے بالکل الگ ہے اور خاموشی اختیا رکئے ہوئے ہے ۔اِس لئے جب تک لوگ ایک رائے پر جمع نہ ہو جائیں اور دل درست نہ ہو جائیں تب تک قصاص لینا ممکن نہیں ہے ۔ اِس وقت آپ لوگ جایئے اور یہ دیکھیئے کہ حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں اُس کے مطابق ہم فیصلہ لیں گے ۔ “ 

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کی درخواست

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں میں پھیلی بد امنی کو دور کرنے کی جد و جہد کر رہے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی المر تضیٰ رضی اﷲ عنہ بیعت کے تیسرے دن لوگوں کے خطبہ دینے کے لئے باہر تشریف لائے اور فرمایا : ” اے لوگو ! اعرابیوں ( دیہاتیوں ) کو اُن کے علاقے میں واپس بھیج دو اور اے اعراب ! تم اپنے اپنے علاقوں میں واپس چلے جاؤ ۔“ اعرابیوں نے تو آپ رضی اﷲ عنہ کا حکم مان لیا اور اپنے اپنے علاقوں میں واپس چلے گئے لیکن سبائیہ فرقہ ( عبد اﷲ بن سبا ءکا گروہ ) نے واپس جانے سے انکار کر دیا ۔اِس خطبہ کے بعد حضرت طلحہ بن عبید اﷲ او ر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا : ” اب آپ لوگ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے قاتل کو پکڑ کر قتل کر دیں ۔“ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے فرمایا : ” یہ قاتل تو اتنے زیادہ چھائے ہوئے ہیں کہ اعراب کے چلے جانے سے بھی اُن کی قوت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! آج کے بعد وہ اِس سے بھی زیادہ چھا جائیں گے ۔“ پھر آگے فرمایا : ” اگر میری قوم کے سردار ( مملکت ِ اسلامیہ میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنر ) میری اطاعت کرتے تو میں انہیں ایسی بات کا حکم دیتا جس سے دشمن بھی دوست بن جاتے ۔“ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” مجھے بصرہ جانے کی اجازت دے دیجیئے اور میری طرف سے کسی قِسم کا خطرہ دل میں نہ لایئے ۔میں وہاں لشکر میں شامل رہوں گا ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں اِس پر غور کروں گا ۔“ اِس کے بعد حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ نے کوفہ جانے کی درخواست کی اور فرمایا : ” آپ رضی اﷲ عنہ میری طرف سے کوئی بد گمانی نہ کریں میں وہاں لشکر کے ساتھ رہوں گا ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے انہیں بھی فرمایا : ” میں اِس پر غور کروں گا ۔“

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنر

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے وقت اور خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے خلیفہ بننے کے وقت مملکت ِ اسلامیہ کے گورنروں کے نام ہم یہاں پیش کر رہے ہیں تاکہ آگے حالات کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : کوفہ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ امام الصلاة اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ جنگ کے منتظم اور حضرت جابر بن فلان مزنی ٹیکس کے منتظم مقرر تھے ۔ملک شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ تھے اور حمص پر حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ گورنر تھے ۔قنسرین پر حضرت حبیب بن سلمہ ، اُردن پر حضرت ابو الاعور اور فلسطین پر حضرت عکی بن علقمہ گورنر تھے ۔ آذربائیجان پر حضرت اشعث بن قیس اور قرقیسیا پر حضرت جریر بن عبد اﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ گورنر تھے ۔ حلوان پر عتیبہ بن نہاس ،قیساریہ پر مالک بن حبیب اور ہمدان میں حبیش گورنر تھے ۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنر

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو 35 ہجری کے آخری مہینے میں شہید کیا گیا تھا اور خلیفہ¿ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا تھا ۔چند دنوں بعد 36 ہجری شروع ہوگئی تب حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے مملکتِ اسلامیہ میں اپنے گورنر مقرر کرنے شروع کئے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت کے پہلے سال ۶۳ ہجری میں بصرہ کا گورنر عثمان بن حنیف کو ، کوفہ کا گورنر عمارہ بن شہاب کو ، یمن کا گورنر حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کو ، ملک مصر کا گورنر قیس بن سعد کو اور ملک شام کا گورنر سہیل بن حنیف کو مقرر کر کے روانہ کیا ۔

مملکت اسلامیہ میں مختلف رد ِ عمل کا اظہار

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے مملکت اسلامیہ میں اپنے گورنر مقرر کر کے بھیجا تو اِس کے جواب میں مختلف رد ِ عمل کا اظہار کیا گیا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عثمان بن حنیف بصرہ پہنچے تو لوگوں کی اکثریت نے انہیں گورنر کے طور پر تسلیم کر لیا لیکن کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے کہا کہ ہم اِس معاملے میں سکوت اختیار کرتے ہیںاور اہل مدینہ آگے جو بھی فیصلہ کریں گے اُس کی ہم اتباع کریں گے ۔کوفہ کی طرف عمارہ بن شہاب رونہ کئے گئے تھے ۔جب وہ مقام ” زبالہ “ پر پہنچے تو طلیحہ بن خویلد سے ملاقات ہو گئی ۔سلام دعا کے بعد طلیحہ کو معلوم ہوا کہ کوفہ کے گورنر بنا کر بھیجے گئے ہیں اُس نے کہا : ” بہتر ہے کہ تم یہیں سے واپس چلے جاو¿ کیونکہ ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو ہی کوفہ کا گورنر بنائے رکھنا چاہتے ہیں اور اگر تم میرا کہنا نہیں مانو گے تو میں تمہاری گردن اُڑا دوں گا ۔“ یہ سن کر عمارہ بن شہاب وہیں سے واپس آگئے ۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے یمن میں داخل ہونے سے پہلے ہی وہاں کے گورنر اپنا سامان باندھ کر مکہ¿ مکرمہ روانہ ہوگئے تھے ۔اِسی لئے حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے اطمینان سے یمن کے انتظامات سنبھال لئے ۔قیس بن سعد ملک مصر پہنچے اور امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا فرمان مصریوں کو دکھایا تو وہ چند گروہ میں بٹ گئے ۔ایک گروہ نے قیس بن سعد کو گورنر تسلیم کر لیا ۔ایک گروہ نے قصاص کے انتظار میں سکوت اختیار کیا اور ایک گروہ نے کہا کہ جب تک ہمارے بھائی مدینہ¿ منورہ سے واپس نہیں آئیں گے اُس وقت تک ہم کچھ نہیں کریں گے نہ کسی کی حمایت کریں گے اور نہ ہی کسی کی مخالفت کریں گے ۔سہیل بن حنیف جو ملک شام کے گورنر بنا کر بھیجے گئے تھے وہ تبوک پہنچے تو چند سواروں سے ملاقات ہوئی ۔انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ تو انہوں نے بتایا کہ مجھے امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے ملک شام کا گورنر بنا کر بھیجا ہے ۔سواروں نے کہا کہ تم یہیں سے واپس چلے جاو¿ کیونکہ ہم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنر کے علاوہ کسی کو گورنر تسلیم نہیں کریں گے ۔یہ سن کر سہیل بن حنیف واپس آگئے ۔

گورنروں کی واپسی پر رد عمل

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے کوفہ اور ملک شام بھیجے گئے گورنر واپس آگئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب سہیل بن حنیف ملک شام سے واپس آگئے اور دوسرے گورنر بھی واپس آگئے تو امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے کبار صحابہ¿ کرام اور حضرت طلحہ بن عبیداﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم کو بلوایا اور فرمایا : ” اے میری قوم ! جس بات سے میں تم کو ڈراتا تھا آج وہ پیش آچکی ہے اور حالات ایسے پیش آگئے ہیں کہ ان کو ختم کئے بغیر کوئی چارہ¿ کار نہیں ہے ۔یہ آگ کی طرح فتنہ ہے کہ جب ایک بار آگ لگ جاتی ہے تو بڑھتی اور بھڑکتی چلی جاتی ہے ۔“ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا : ” آپ رضی اﷲ عنہ ہمیں مدینہ¿ منورہ سے باہر جانے کی اجازت دیں تاکہ ہم اِس کی کوئی تدبیر کریں ورنہ آپ رضی اﷲ عنہ ہمیں چھوڑ دیں ۔“ امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” مجھ سے جہاں تک ہو سکے گا میں اِن حالات کو سنبھالنے کی کوشش کروں گا اور جب کوئی تدبیر باقی نہیں رہے گی تو آخری دوا زخم پر جلا کر داغ لگانا ہی ہوتا ہے کہ انسان تکلیف سے نجات پانے کے لئے اپنے جسم کو جلوانا بھی گورا کر لیتا ہے ۔“ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

05 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 4


05 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 5

پورا دور ِ خلافت اندرونی مسائل حل کرتے رہے، تینوں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو شہید کرنے کا منصوبہ، ایک ہی دن اور ایک ہی وقت شہید کرنے کا منصوبہ، شہادت کی خبر پہلے سے تھی، اولین کا بد بخت ترین آدمی اور آخرین کا بد بخت ترین آدمی، آخرین کا بد بخت ترین آدمی کوفہ میں، حملے کی منصوبہ بندی

پورا دور ِ خلافت اندرونی مسائل حل کرتے رہے

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اپنے پورے دورِ خلافت میں اندرونی مسائل میں ہی اُلجھے رہے اوراُن مسائل کو حل کرتے رہے ۔بد بخت یہودی منافق خارجی عبد اﷲ بن سبا ء مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے مسلمان ہوا تھا اور وہ پوری مملکت اسلامیہ میں اپنا خفیہ نیٹ ورک چلا رہا تھا اور مسلمانوں کو خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف بھڑکا رہا تھا ۔جس کے نتیجے میں خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی درد ناک شہادت کا واقعہ پیش آیا ۔جب حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا تو بد بخت منافق خارجی عبد اﷲ بن سباءنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر خلیفۂ چہارم حضرت علی امرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی مسلمانوں کو جوڑنے اور امن پید ا کرنے کی ہر کوشش کو بھی ناکام بنانے میں کامیاب رہا ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا دورِ خلافت لگ بھگ ساڑھے چار سال رہا اور اِس دوران آپ رضی اﷲ عنہ مسلسل اِسی کوشش میں رہے کہ تمام مسلمان ایک ہو جائیں اور آپس میں امن ہو جائے ۔اِس کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ اپنے پورے دورِ خلافت میں اندرونی مسائل کو حل کرنے میں مصروف رہے ۔ بد بخت یہودی منافق عبد اﷲ بن سباءیہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا عاشق ہے لیکن اُس کا اصل مقصد مسلمانوں کو آپس میں لڑوانا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ مسلمان کبھی متحد نہ ہوں ۔اور اِس کے لئے اُس نے منافقین کا خفیہ نیٹ ورک بھی بنا رکھا تھا جس کی وجہ سے ” جنگ جمل “ ، ”جنگ صفین “ اور” جنگ نہروان “ (خوراج سے جنگ ) ہوئی ۔آخرکار اُس کے خفیہ نیٹ ورک کے تین کارندوں نے ایک ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ 

تینوں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو شہید کرنے کا منصوبہ

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کے حالات ایسے ہیں کہ ہمارا قلم اِن حالات کو لکھنے سے قاصر ہے ۔اِس کے لئے آ پ تاریخ کی مستند کتابوں کی طرف رجوع کریں ۔یہاں ہم صرف خلیفہ¿ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش کریں گے ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ مکہ¿ مکرمہ ، مدینہ¿ منورہ ،پورا حجاز اور تہامہ کا علاقہ ، ملک یمن ، ملک عراق اورایران کے خلیفہ تھے اور اِن علاقوں پر آپ رضی اﷲ عنہ کی خلافت قائم تھی ۔ملک شام ( جس میں فلسطین ، لبنان اور اردن بھی شامل تھے ) اور ملک مصر پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کی حکومت تھی اور انہوں نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ملک مصر کا گورنر بنایا ہوا تھا ۔ایسے وقت میں تین بد بخت منافق خارجی اکٹھا ہوئے اور تینوں صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کو ایک ساتھ شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جنگ نہروان میں باقی بچے خوارجوں میںسے تین خوارج عبد اﷲ بن ملجم مرادی ، برک بن عبد اﷲ تمیمی ( اِس کو حجاج بھی کہتے ہیں ) اور عمرو بن بکر تمیمی حجاز میں ایک مقام پر اکٹھا ہوئے اور عظماءاور امرائے اسلام کی برائیاں کرنے لگے ۔نہروان کے مقتولوں پر افسوس ظاہر کیا اور بہت دیر تک خاموش اور مغموم بیٹھے رہے ۔پھر اُن میں سے ایک نے کہا : ” کاش ہم لوگ اپنی جانوں پر کھیل کر( نعوذ باﷲ ) آئمتہ الضلال( گمراہ سرداروں ) کو مار ڈالتے تو بہت اچھا ہوتا اور مسلمان اُن کے ظلم سے نجات پا جاتے ۔“ ابن ملجم ( یہ ملک مصر کا رہنے والا تھا ) نے کہا : ” میں علی ( رضی اﷲ عنہ ) کے لئے کافی ہوں ۔“ برک نے کہا : ” میں معاویہ ( رضی اﷲ عنہ ) کا کام تمام کر دوں گا۔“ عمرو بن بکر نے کہا : ” میں عمرو بن عاص ( رضی اﷲ عنہ ) کو ختم کر دوں گا ۔“ اِس کے بعد تینوں نے یہ عہد و پیمان کیا کہ جب تک ہر شخص اپنے کام کو پورا نہیں کر لے تب تک واپس نہیں آئے گا یا تو کام پورا کرے گا یا پھر مر جائے گا اور یہ کام ماہ رمضان المبارک کی سترہ ( 17 ) تاریخ کو نماز فجرکے وقت انجام دیا جائے گا ۔

ایک ہی دن اور ایک ہی وقت شہید کرنے کا منصوبہ

تینوں خارجیوں یا سبائیوں نے تینوں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں شہید کرنے کی منصوبہ بندی کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد اﷲ بن ملجم ، برک بن عبد اﷲ اور عمرو بن بکر نے ایک جگہ جمع ہو کر معاملات پر غور و فکر کیا اور اُن تینوں نے حکام کے طرز عمل پر نکتہ چینی کی ۔اِس کے بعد نہروان کے مقتولوں ( خارجیوں ) کا ذکر کیا اور اُن کے لئے رحمت اور مغفرت کی دعا کی اور بولے کہ ہم اِن لوگوں کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے ۔یہ لوگ ایسے بھائی تھے جو لوگوں کو اﷲ کی طرف دعوت دیتے تھے اور اﷲ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کیا کرتے تھے ۔کیوں نہ ہم اپنی جانوں کو اﷲ کے ہاتھ فروخت کر دیں اور اُن ( نعوذ باﷲ ) گمراہ اماموں کے پاس جائیں اور اُن کے قتل کی کوشش کریں ۔اِس طرح تمام علاقہ کے لوگوں کو اِن سے چھٹکارہ مل جائے گا اور ہم اپنے بھائیوں کا انتقام بھی لے لیں گے ۔اِس پر ابن ملجم نے کہا :” علی بن ابی طالب ( رضی اﷲ عنہ ) سے میں تمہیں چھٹکارہ دلاو¿ں گا ۔“ یہ ملک مصر کا باشندہ تھا ۔برک بن عبد اﷲ نے کہا : ” معاویہ بن ابی سفیان ( رضی اﷲ عنہ ) کو میں قتل کروں گا ۔“ عمرو بن بکر نے کہا : ” عمرو بن عاص ( رضی اﷲ عنہ ) کو میں ختم کروں گا ۔“ اِن تینوں نے اﷲ کو حاضر ناضر کر کے آپس میں معاہدہ کیا کہ ہم میں ہر ایک نے جس شخص کے قتل کا ذمہ لیا ہے وہ اپنے عہد سے پیچھے نہیں ہٹے گا یا تو اُس شخص کو قتل کردے گا یا خود قتل ہو جائے گا ۔ اِ ن تینوں نے اپنی اپنی تلواروں کو زہر میں بجھایا اور تینوں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے قتل کے لئے سترہ ( 17 ) رمضان المبارک متعین کی اور اِس کے بعد یہ تینوں اُن تینوں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے قتل کے لئے روانہ ہو گئے ۔( اُس وقت حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کوفہ میں رہتے تھے ،حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ دمشق میں اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ملک مصر میں رہتے تھے ۔) 

شہادت کی خبر پہلے سے تھی 

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو اُن کے شہید ہونے کی خبر پہلے سے ہی تھی ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : امام ابو داو¿د نے اپنی ”مسند طیا لسی “ میں بیان کیا ہے کہ خوارج نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاس آکر کہا : ” اﷲ سے ڈریئے بے شک آپ ( رضی اﷲ عنہ ) مرنے والے ہیں ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” نہیں ! اُس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا کیا ہے ،( مجھے ایسے موت نہیں آئے گی ) لیکن میں کھوپڑی پر ( ایسی ) ضرب لگنے سے شہید ہوں گاجو داڑھی کو رنگ دے گی ۔“ اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ہاتھ سے داڑھی کی طرف اشارہ کیا ۔پھر آگے فرمایا : ” یہ ایک معروف و مشہور عہد اور فیصلہ شدہ امر ہے اور جس نے افتراءکیا وہ ناکام ہوا ۔“ 

اولین کا بد بخت ترین آدمی اور آخرین کا بد بخت ترین آدمی 

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ شہید ہوں گے ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : امام ابو یعلیٰ اپنی ”مسند “ میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اولین بد بخت ترین آدمی کون ہے ؟ میں کہا : ” ( حضرت صالح علیہ السلام کے زمانے میں ) اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا۔“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے بالکل درست کہا اور آخرین کا بد بخت ترین آدمی کون ہے؟ “ میں نے عرض کیا : ” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !مجھے اِس کا علم نہیں ہے ۔“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( آخرین کا بد بخت ترین آدمی وہ ہوگا ) جو تمہاری کھوپڑی پر تلوار مار کر تمہارے خون سے تمہاری داڑھی کو رنگ دے گا ۔“راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے : ” میں چاہتا ہوں کہ تمہارا بد بخت ترین آدمی ظاہر ہو جائے ۔“ خطیب بغدادی بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا : ” اولین کا بد بخت ترین آدمی کون ہے ؟ “ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا: ” ( حضرت صالح علیہ السلام کے زمانے میں ) اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا ۔“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آخرین کا بد بخت ترین آدمی کون ہے ؟ “ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں ۔“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں شہید کرنے والا ۔“

آخرین کا بد بخت ترین آدمی کوفہ میں

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کوفہ میں تھے اِس لئے آخرین کا بد بخت ترین آدمی ابن ملجم کوفہ آیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد اﷲ بن ملجم مرادی کا شمار بنو کندہ میں ہوتا تھا ۔یہ شخص کوفہ پہنچا اور وہاں اپنے ہم قوم اور دوست احباب سے ملا لیکن اِس راز کو اُس نے سینے میں چھپائے رکھا اور اپنی قوم اور دوستوں سے بھی اِس کا ذکر نہیں کیا کہ کہیں راز فاش نہ ہو جائے ۔ایک روز اُس نے بنو تیم الرباب کے کچھ آدمیوں کو دیکھا جو بیٹھے ہوئے اپنے مقتولوں کا ذکر کر رہے تھے جن کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے جنگ نہروان میں قتل کیا تھا ۔اُس روز ابن ملجم بنو تیم الرباب کی ایک عورت سے ملا جس کا نام قطامہ بنت شجنہ تھا ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے جنگ نہروان میں اُس کے بھائی اور باپ کو قتل کیا تھا ۔یہ عورت بہت حسین تھی ابن ملجم نے اُسے دیکھا تو اُس کا دیوانہ ہو گیا اور اُسے نکاح کا پیغام دیا ۔قطامہ نے کہا کہ میں تجھ سے اُس وقت تک شادی نہیں کر سکتی جب تک تُو میرے کلیجے کا ٹھنڈک نہ پہنچا دے ۔“ ابن ملجم نے کہا : ” وہ کس طرح ؟ قطامہ نے کہا : ” تین ہزار درہم ، ایک غلام اور ( حضرت ) علی بن ابی طالب ( رضی اﷲ عنہ ) کا قتل ۔“ ابن مہجم نے پوچھا : ” کیا یہ تیرا مہر ہو گا ؟ “ قطامہ نے جواب دیا : ” ہاں یہ میرا مہر ہو گا ۔میں ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) کا سر چاہتی ہوں اگر تُو نے ایسا کیا تو اپنا اور میرا دونوں کا کلیجہ ٹھنڈا کرے گا اور عیش کی زندگی گذارے گا اور اگر تُو قتل ہو گیا تو اﷲ پاس جو اجر ہے وہ دنیا اور دنیا کی زینت سے بہت بہتر ہے ۔“ ابن ملجم نے کہا : ” اﷲ کی قسم ! میں اِس شہر کوفہ میں اِسی لئے آیا ہوں اور میں تیری خواہش پوری کروں گا ۔قطامہ نے کہا : ” میں یہ چاہتی ہوں کہ تیرے ساتھ کوئی ایسا شخص ہو جو تیری پشت پناہی کر سکے اور مد دکر سکے ۔ “ اِس کے بعد قطامہ نے اپنی قوم کے ایک شخص جس کا نام وردان تھا طلب کیا اور اُس کے سامنے یہ منصوبہ رکھا اور اُس نے قبول کیا ۔

حملے کی منصوبہ بندی

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کی تیاری اُسی شہر میں کی جا رہی تھی جس میں آپ رضی اﷲ عنہ مقیم تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس کے بعد ابن ملجم مع اشجع کے ایک شخص شبیب بن بجرہ کے پاس گیا اور اُس سے کہا : ” تُو دنیا اور آخرت کی عزت و کرامت کا طلب گار ہے ؟ “ شبیب نے کہا : ” وہ کس طرح ؟ “ ابن ملجم نے کہا :” وہ عزت و شرافت ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) کو قتل کر کے حاصل ہو سکتی ہے ۔“ شبیب نے کہا : ” تیری ماں تجھ پر روئے !تُو نے بہت ہی بری بات زبان سے نکالی ہے تُو ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) پر کیسے قابو پا سکتا ہے ؟ “ ابن ملجم نے کہا :” میں مسجد میں چھپ کر بیٹھ جاو¿ں گا ۔ جس وقت ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) صبح کی نماز کے لئے مسجد میں داخل ہونے لگے گا تو ہم اُس پر حملہ کر دیں گے ۔ اِس کے بعد ہم بچ گئے تو ہمارے دل ٹھنڈے ہو جائیں گے اور ہم اپنے مقتولوں کا بد لہ بھی لے لیں گے اور اگر ہم قتل ہو گئے تو اﷲ کے پاس جو ہمارا اجر ہو گا دنیا و ما فیہا سے بہت بہتر ہو گا ۔“ شبیب نے کہا : ” تجھ پر افسوس ہے ! اگر ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) کے علاوہ کوئی اور شخص تیرا نشانہ ہوتا تو مجھے اتنا شاق نہیں گذرتا ۔ تُویہ بھی جانتا ہے کہ ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) نے اسلام کی خاطر کتنے مصائب برداشت کئے اور تُو یہ بھی جانتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ساتھ دینے میں انہوں نے سبقت کی ہے ۔ میرا دل اُن کے قتل سے مطمئن نہیں ہے ۔ “ ابن ملجم نے کہا : ” تُو یہ بات جانتا ہے کہ ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) نے اہل نہروان کو قتل کیا ہے اور یہ سب اﷲ کے نیک بندے تھے ۔“ شبیب نے کہا : ” کیوں نہیں ۔“ ابن ملجم نے کہا :” تو ہم اُن لوگوں کو ضرور قتل کریں گے جنہوں نے ہمارے بھائیوں کا قتل کیا ہے ۔یہ سن کر شبیب نے ابن ملجم کی حمایت کا وعدہ کیا اور یہ سب ملکر قطامہ کے پاس پہنچے وہ جامع مسجد میں اعتکاف میں بیٹھی تھی ۔اُن سب نے اُس سے جاکر کہا : ” ہم نے ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) کے قتل پر اتفاق کر لیا ہے ۔“ قطامہ نے کہا : ” جس روز تم قتل کرنا چاہو گے اُس روز میرے پاس آنا ۔“ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

06 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 4


06 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 6

حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر حملہ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پر حملہ، حضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ عنہ پر حملہ، قاتل کے بارے میں وصیت

حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر حملہ

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کی مکمل منصوبہ بندی خارجیوں ،سبائیوں نے کر لی تھی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” جب اُس جمعہ کی رات آئی جس کی صبح کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھاتو ابن ملجم اپنے ساتھیوں کے ساتھ قطامہ کے پاس پہنچا اور بولا : ” یہی وہ رات ہے جس کی صبح ہم لوگوں نے قتل کا عہد کیا تھا ۔“ اِس کے بعد قطامہ نے ریشم کی پٹی منگائی اور اُن لوگوں کے سروں پر باندھ دی ۔ اُن لوگوں نے اپنی اپنی تلواریں لیں اور اُس چوکھٹ کے قریب بیٹھ گئے جہاں سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ تشریف لایا کرتے تھے ۔جب آپ رضی اﷲ عنہ صبح کے وقت نماز کے لئے مسجد کے دروازے پر پہنچے تو شبیب نے بڑھ کر وار کیا جو دروازے کی چوکھٹ یا طاق پر پڑا ۔ ابن ملجم نے پیشانی پر وار کیا اور وردان بھاگ کر اپنے گھر میں گھس گیا ۔اُسی کے باپ کی اولاد میں سے ایک شخص اچانک اُس کے گھر پہنچ گیا ۔ وہ اپنے سر سے ریشم کی پٹی اُتار رہا تھا ۔اُس نے سوال کیا : ” یہ تلوار اور ریشم کی پٹی کیسی ہے ؟“ وردان نے تمام واقعہ سنایا ۔ اُس شخص نے تلوار کا وار کر کے وردان کا قتل کر دیا ۔شبیب اندھیرے میں بنو کندہ کے گھروں کی طرف بھاگا لوگ اُس کے پیچھے چلاتے ہوئے بھاگے ۔راستے میں ایک حضرمی شخص ملا ۔ جب اُس نے شبیب کے ہاتھ میں نگی تلوار دیکھی تو اُسے پکڑ لیا اور نیچے گرا دیا لیکن جب دیکھا کہ لوگ اِسی طرف آرہے ہیں تو اُسے اپنی جان کا خوف ہوا اور اُس نے شبیب کو چھوڑ دیا اور شبیب لوگوں کے ساتھ مل گیا اور اُس کی جان بچ گئی ۔ابن ملجم کو لوگوں نے گھیر کر پکڑ لیا اور ہمدان کے ایک شخص جس کی کنیت ابو ادناءتھی اپنی تلوار نکال کر ابن ملجم کے پاو¿ں پر ماری اور اُس کا پاو¿ں کاٹ ڈالا ۔ حضرت علی المرتضی رضی اﷲ عنہ زخمی ہو کر پیچھے ہٹے اور اپنی جگہ جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وہب کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ۔ انہوں نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جب وہ رات آئی جس کی صبح ابن ملجم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کا اقرا رکیا تھا اور یہ جمعہ کی رات تھی تو ابن ملجم شبیب اور وردان کے ساتھ مسجد میں آیا اور اُس دروازے کے قریب چھپ کر بیٹھ گیا جس دروازے سے امیر المومنین حضرت علی المرتضی رضی اﷲ عنہ مسجد میں آتے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ تشریف لائے اور بلند آواز سے فرمایا : ” اے لوگو ! نماز ، نماز ....“ ابھی آپ رضی اﷲ عنہ اندر داخل ہوتے ہوئے اتنا ہی فرما پائے تھے کہ شبیب نے لپک کر تلوار چلائی آپ رضی اﷲ عنہ آگے بڑھ گئے تھے تو دروازے پر پڑی ۔ابن ملجم نے بڑھ کر پیشانی پر تلوار کا وار کیا اور چلا کر کہا : ” حکم صرف اﷲ کا ہے اور اے علی ( رضی اﷲ عنہ ) تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا نہیں ہے ۔“ وردان بھاگ کر اپنے مکان میں آیا اور اپنے بعض احباب سے اِس واقعہ کو بیان کیا انہوں نے اُس کو مار ڈالا ۔شبیب تاریکی میں بھاگا چلا جارہا تھا لوگوں نے دوڑو، پکڑو چلانا شروع کیا ۔ ایک حضرمی شخص نے پہنچ کر شبیب کی تلوار چھین لی اور گرفتار کر لیا ۔پھر لوگوں کو آتے دیکھ کر اِس خوف سے کہ مجھ کو ہی قاتل نہ سمجھ لیں چھوڑ دیا اور شبیب بھاگ گیا اور لوگوں نے ابن ملجم کو گرفتار کر لیا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : پس یہ تینوں ابن ملجم ، وردان اور شبیب تلواریں لگا کر آئے اور اُس دروازے کے سامنے بیٹھ گئے جہاں سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ داخل ہوا کرتے تھے ۔جب آپ رضی اﷲ عنہ داضل ہوئے اور لوگوں کو نماز کے لئے نیند سے اُٹھانے لگے اور ”نماز ، نماز “ کہنے لگے ۔پس شبیب نے آپ رضی اﷲ عنہ پر تلوار ماری تو وہ طاقچے پر لگی اور ابن ملجم نے آپ رضی اﷲ عنہ کے سر پر تلوار ماری تو خون آپ رضی اﷲ عنہ کی داڑھی پر بہنے لگا اور اُس نے کہا : ” حکم صرف اﷲ ہی کا ہے اے علی ( رضی اﷲ عنہ ) تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کیا نہیں ۔“ یہ واقعہ سترہ ( 17 ) رمضان المبارک 40 ہجری کا ہے ۔

حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پر حملہ

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر کوفہ میں جس صبح حملہ ہوا اُسی صبح ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پر بھی حملہ ہوا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جس رات حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر وار کیا گیا اُسی رات برک بن عبد اﷲ بھی مسجد میں گھات لگا کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے انتظار میں بیٹھ گیا تھا۔جب آپ رضی اﷲ عنہ نماز پڑھانے کے لئے آئے تو اُس نے اُن پر تلوار سے حملہ کیا تو وار پیچھے سے ہونے کی وجہ سے کولہوں پراُچٹتا ہوا پڑا کیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ آگے بڑھ چکے تھے۔ برک بن عبد اﷲ کو پکڑ لیا گیا تو اُس نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ سے کہا : ” میرے پاس ایک ایسی خبر ہے جسے سن کر آپ ( رضی اﷲ عنہ ) خوش ہو جائیں گے اور اگر وہ خبر صحیح ہو گی تو آپ کو بہت فائدہ پہنچے گا۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اچھا وہ خبر بیان کرو ۔“ برک نے کہا : ” آج اِسی وقت میرے ایک بھائی نے خلیفہ¿ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو قتل کر دیا ہو گا۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” وہ ایسا نہیں کر سکے گا ۔“ برک نے کہا : ” وہ ضرور کامیاب ہوا ہو گا کیونکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ محافظ دستہ ( باڈی گارڈ ) نہیں رکھتے ہیں ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اُس کے قتل کا حکم دے دیا اور اُسے قتل کر دیا گیا ۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے طبیب کو بلایا ۔اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ کے زخم کو دیکھا تو کہا : ” آپ رضی اﷲ عنہ دو باتوں میں سے ایک بات کو پسند کرلیں ۔یا تو میں لوہا گرم کر کے اِس زخم کی جگہ لگا دیتا ہوں( پہلے زمانے میں زخم کو اچھا کرنے کے لئے زخم کو جلا کرداغ دیا جاتاتھا) یا آپ رضی اﷲ عنہ یہ پسند کریں کہ میں آپ رضی اﷲ عنہ کوپینے کے لئے ایک ایسا شربت دوں جس سے زخم تو اچھا ہو جائے گا لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کو آگے کوئی اولاد نہیں ہو گی کیونکہ جس تلوار سے زخم دیا گیا ہے وہ زہر میں بجھائی ہوئی تھی ۔“حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” آگ کی تکلیف تو میں برداشت نہیں کر سکتا ۔رہا اولاد نہیں ہونے کی بات تو یزید اور عبداﷲ انھی دونوں سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی ۔“ طبیب نے آپ رضی اﷲ عنہ کو شربت پلا دیا جس وہ شفا یاب ہو گئے ۔

حضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ عنہ پر حملہ 

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر جس فجر کوفہ میں حملہ ہوا اُسی فجر ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پر بھی حملہ ہوا اور اُسی فجر ملک مصر میں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ پر بھی حملہ ہوا لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کے دھوکے میں دوسرے شخص کو قتل کر دیا گیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اُسی رات عمرو بن بکر بھی حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی گھات میں بیٹھا رہا لیکن صبح کو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نماز پڑھانے نہیں آئے کیونکہ اُن کے پیٹ میں تکلیف تھی ۔انہوں نے حضرت خارجہ بن حذافہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا یہ اُن کے محافظ دستہ ( باڈی گارڈ ) میں تھے اور بنو عامر بن لوی کے خاندان میں سے تھے ۔یہ نماز پڑھانے کے لئے نکلے تو عمرو بن بکر نے انہیں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سمجھ کر حملہ کر دیا اور انہیں قتل کر دیا ۔لوگوں نے پکڑ لیا اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے سامنے پیش کیا ۔تمام لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کو حاکم کی طرح سلام کر رہے تھے ۔ عمرو بن بکر نے پوچھا : ” یہ کون شخص ہے ؟ “ لوگوں نے جواب دیا : ” یہ ملک مصر کے گورنر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ہیں ۔“ عمرو بن بکر نے کہا : ” پھر میں نے کسے قتل کیا ہے ؟ “ لوگوں نے جواب دیا : ” حضرت خارجہ بن حذافہ کو ۔“ عمرو بن بکر نے کہا : ” اے فاسق ! اﷲ کی قسم ! میں نے تیرے علاوہ کسی کا ارادہ نہیں کیا تھا ۔“ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” ہاں ! تُونے میرا ارادہ ضرور کیا تھا لیکن اﷲ نے تو حضرت خارجہ بن حذافہ کا ارادہ کیا تھا ۔“ اِس کے بعد حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے آگے بڑھ کر اُس کو قتل کر دیا ۔ جب اِس واقعہ کی خبر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو ملی تو انہوں نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو یہ خط لکھ بھیجا ۔ قتل تو ایک ہی ہوا ہے اگرچہ موت کے اسباب بہت سے ہیں ۔موت تو صرف لوی بن غالب کے شیخ کی آئی ہے ۔ اے عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ! ذرا ٹھہر جاو¿ تم بھی خارجہ کے چچا کا بیٹا ہے اور دیگر رشتہ داروں کو چھوڑ کر اُس کا دوست ہے ۔تم نے قتل سے نجات پالی اور مرادی ( ابن ملجم ) نے اپنی تلوار کو مکہ کے سردار ابو طالب کے بیٹے کے خون سے تر کر لیا ہے ۔اُس کے دوسرے بھائی نے بھی تلوار ماری لیکن مجھ پر یہ تلوار اُچٹتی ہوئی پڑی ۔لیکن تم و دن رات ملک مصر میں ہرنیوں کی طرح چوکڑیاں بھرتے پھرتے ہو ۔“ 

قاتل کے بارے میں وصیت

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ بہت بری طرح سے زخمی ہو چکے تھے اور خون بہتا ہی جا رہا تھا پھر بھی آپ رضی اﷲ عنہ نے قاتل کے بارے میں وصیت کی ۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: محمد بن حنفیہ کا بیان ہے کہ جس صبح کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر حملہ ہوا ۔اُس رات میں جامع مسجد میں تمام رات نماز میں مشغول رہا اور دیگر لوگ بھی جو ملک مصر کے باشندے تھے چوکھٹ کے قریب نمازوں میں مشغول رہے ۔اُن لوگوں نے تمام رات قیام و رکوع اور سجدوں میں گذاری اور شروع رات سے آخری رات تک قطعاً نہیں سوئے ۔ جب صبح کے وقت حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نماز کے لئے نکلے تو اُن لوگوں کو آواز دی ۔ ”نماز کے لئے کھڑے ہو جاو¿ ۔“ یہ مجھے معلوم نہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے یہ کلمات چوکھٹ کے اندر داخل ہو کر کہے یا باہر سے کہے ۔ ہاں میں اتنا جانتا ہوں کہ میںنے ایک چمک دیکھی اور میں نے یہ الفاظ سنے : ” اﷲ کے علاوہ کسی کا حکم نہیں ہے ۔اے علی ( رضی اﷲ عنہ ) ! نہ تجھے اختیار ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کو ۔“ میں نے ایک تلوار کی چمک دیکھی ، پھر دوسری تلوار کی چمک دیکھی ۔پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ ”تم سے یہ شخص بچ کر نہ نکل جائے “ اور لوگ اُس پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑے ۔ کچھ دیر نہیں گذری کہ ابن ملجم کو پکڑ لیا گیا اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے رو برو پیش کیا گیا ۔میں بھی لوگوں کے ساتھ اندر داخل ہوا ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ فرما رہے تھے : ” جان کے بدلے جان ہے ۔اگر میں مر جاو¿ں تو تم بھی اسے قتل کر دینا جیسے اِس نے مجھے قتل کیا ہے اور اگر میں زندہ باقی رہ گیا تو اِس کے بارے میں خود فیصلہ کروں گا ۔“ لوگ گھبرائے ہوئے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے اور انہیں اِس واقعہ سے مطلع کیا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


07 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 4


07 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 7

حضرت حسن اور حسین رضی اﷲ عنہما کو وصیت، مسلمانوں کو وصیت، حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی شہادت، خلیفۂ چہارم رضی اﷲ عنہ کا خواب، آخرین کے شقی القلب کا انجام، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا کنبہ 

حضرت حسن اور حسین رضی اﷲ عنہما کو وصیت

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جندب بن عبداﷲ کا بیان ہے کہ میں نے امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! اگر آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو جائیں تو کیا ہم حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لیں ؟“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” نہ میں تمہیں اِس کا حکم دیتا ہوں اور یہ ہی اس سے روکتا ہوں ،تم لوگ زیادہ مناسب سمجھ سکتے ہو ۔“ جندب بن عبد اﷲ نے دوبارہ سوال کیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہما کو بلوایا اور اُن سے فرمایا : ” میں تم دونوں کو اﷲ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور تم دونوں دنیا کو ہر گز تلاش نہیں کرناچاہے دنیا تم سے بغاوت ہی کیوں نہ کرے اور جو شئے تم سے ہٹا دی جائے اُس پر رونا یا افسوس نہیں کرنا ۔ ہمیشہ حق بات کہنا ، یتیموں پر رحم کرنا ، پریشان کی مدد کرنا ،آخرت کی تیاری میں مصروف رہنا ، ہمیشہ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے دوست رہنا اور کتاب اﷲ ( قرآن پاک ) کے احکامات پر عمل کرنا ۔ اﷲ کے دین میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں گھبرا نا ۔“ پھر محمد بن حنفیہ کی جانب دیکھ کر فرمایا : ” میں نے تیرے بھائیوں کو جو نصیحت کی ہے تُو نے اسے سن کر محفوظ کرلیا ؟ “ محمد بن حنفیہ نے عرض کیا : ” جی ہاں ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ نے محمد بن حنفیہ سے مخاطب ہو کر فرمایا : ” میں تجھے بھی وہی نصیحت کرتا ہوں جو تیرے بھائیوں کو کی ہے ۔اِس کے علاوہ میں تجھے یہ وصیت کرتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کی عزت و توقیر کرنا اور اِن دونوں کے اہم حق کو ملحوظ رکھنا جو اِن کا تیرے ذمہ ہے ۔اِن دونوں کے حکم کی پیروی کرنا اور اِن کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرنا ۔“ اِس کے بعد حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہما سے فرمایا : ” میں تم دونوں کو بھی محمد کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہارا بھائی ہے اور تمہارے باپ کا بیٹا ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ تمہارا باپ اس سے محبت کرتا ہے ۔“ پھر خاص طور پر حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا : ” اے میرے بیٹے ! تیرے لئے میری وصیت یہ ہے کہ تُو اﷲ سے ڈرنا ، نماز وقت پر ادا کرنا ۔ ذکوٰة کو اُس کے مصرف میں خرچ کرنا اور وضو اچھی طرح کرنا کیونکہ وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور ذکوٰة روکنے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ہر وقت گناہوں کی مغفرت طلب کرنا ۔غصہ پینا ، صلہ رحمی کرنا ، جاہلوں سے برد باری سے کام لینا ،دین میں تفقہ حاصل کرنا ، ہر کام میں ثابت قدمی دکھانا ۔قرآن پاک کو لازم پکڑے رہنا ۔پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا اور خود بھی برائیوں سے بچنا ۔“ 

مسلمانوں کو وصیت 

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے اپنے آخری وقت میں مسلمانوں کو بھی وصیت کی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب وفات کا وقت آیا تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو یہ وصیت کی : ” بسم اﷲ الرحمن الرحیم ! یہ وہ وصیت ہے جو علی بن ابی طالب ( رضی اﷲ عنہ ) نے کی ہے ۔وہ اِس بات کی وصیت کرتا ہے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ یکتا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے بندے اور رسول ہیں جنہیں اﷲ تعالیٰ نے ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تاکہ وہ اِس دین کو تمام ادیان پر غالب فرما دیں چاہے یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی بری کیوں نہ معلوم ہو ۔یقینا میری نماز ،میری قربانی ،میری زندگی اور موت سب کچھ اﷲ رب العالمین کے لئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔مجھے اِسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں تابع فرمان لوگوں میں سے ہوں ۔اے حسن ( رضی اﷲ عنہ ) ! میں تجھے اور اپنی تمام اولاد اور اپنے تمام گھر والوں کو اﷲ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا پروردگار ہے اور اِس بات کی کہ تم صرف اسلام کی حالت میں جان دینا ۔ تم سب مل کر اﷲ کے دین کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں متفرق نہیں ہوجانا کیونکہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” آپس میں ایک دوسرے سے تعلق رکھنا اور ان کی اصلاح کرنا ۔نفل نمازوں اور روزوں سے بہتر ہے کہ تم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اِس سے اﷲ تم پر حساب نرم فرما دے گا ۔یتیموں کے معاملے میں اﷲ سے ڈرنا ۔ نہ تو انہیں اتنا موقع دینا کہ وہ اپنی زبان سے تم سے مدد طلب کریں اور نہ ہی تمہاری موجودگی میں پریشانی میں مبتلا ہوں ۔اﷲ سے ڈرو اور اﷲ سے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں ڈرو کیونکہ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نصیحت ہے ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ہمیشہ پڑوسیوں کے حقوق کی وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ ہمیں خوف ہونے لگا کہ کہیں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم پڑوسیوں کو وارث نہ بنا دیں ۔قرآن پاک کے معاملہ میں اﷲ سے ڈرو ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ قرآن پاک پر عمل کرنے میں غیر قومیں تم پر سبقت نہ لے جائیں ۔نماز کے معاملہ میں اﷲ سے ڈرو کیونکہ یہ دین کا ستون ہے ۔تم اپنے پرودگار کے گھر ( مسجد ) کے معاملے میں اﷲ سے ڈرو اور جب تک تم زندہرہو کسی بھی وقت اسے خالی نہ چھوڑو کیونکہ اگر اُسے خالی چھوڑ دیا گیا تو کوئی وہاں نظر نہیں آئے گا ۔جہاد کے معاملے میں اﷲ سے ڈرو اور اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرو ۔زکوٰة کے معاملے میں اﷲ سے ڈرو کیونکہ یہ اﷲ کے غضب کو بجھاتی ہے ۔اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذمہ داری کے لئے بھی اﷲ سے ڈرو اور اِس بات سے اﷲ سے ڈرو کہ تمہارے موجود ہوتے ہوئے کسی پر ظلم نہ کیا جائے ۔اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اﷲ عنہم کے معاملے میں اﷲ سے ڈرو کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اِن کے بارے میں وصیت فرمائی ہے ۔فقراءاور مساکین کے بارے میں اﷲ سے ڈرو اور انہیں اپنی روزیوں اور کھانے میں شریک کرو۔اپنے غلاموں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو ۔نماز ادا کرو ،نماز ادا کرو ۔دین کے معاملے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کرنا ۔اگر کوئی تمہیں نقصان پہنچا نا چاہے گا اور تمہارے خلاف بغاوت کرے گا تو اﷲ تمہارے لئے کافی ہو گا ۔لوگوں کو نیک بات کا حکم دو جیسا کہ اﷲ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔ ” امربالمعروف اور نہی عن المنکر “ کو ترک نہیں کرنا ۔اگر تم بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چھوڑ دو گے تو اﷲ تعالیٰ تمہارے اوپر بُرے لوگوں کو حاکم بنا دے گا ۔پھر تم دعا کرو گے تو تمہاری دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی ۔صلہ رحمی کرو اور اﷲ کی راہ میں مال خرچ کرو ۔ پشت دکھانے ، قطع رحمی اور تفرقہ اندازی ( فرقہ بندی ) سے احتراز کرو۔نیکی اور تقویٰ کے معاملے میں ایک دوسرے کی اعانت کرو اور نافرمانی اور سرکشی میں کسی کی اعانت نہ کرو اور اﷲ سے ڈرو کیونکہ اﷲ سخت عذاب دینے والا ہے ۔اﷲ تعالیٰ تمہاری اور تمہارے اہل بیت کی حفاظت کرے جیسے اُس نے اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی حفاظت کی ۔میں تمہیں اﷲ کے سپرد کرتا ہوں اور تم پر سلام اور اﷲ کی رحمت بھیجتا ہوں ۔“ 

حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی شہادت

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر آخرین کے شقی القلب آدمی نے حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ لا الہ الا اﷲ پڑھنے میں مشغول رہے حتیٰ کہ روح عالم بالا کو پرواز کر گئی ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی شہادت ماہ ِ رمضان المبارک ۰۴ ہجری میں ہوئی ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین اور حضرت عبد اﷲ بن جعفر طیار رضی اﷲ عنہم نے غسل دیا ۔ تین کپڑوں کا کفن پہنایا گیا جس میں قمیص نہیں تھی اور حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھائی ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی مدت ِ خلافت پانچ سال میں تین مہینے کم رہی یعنی چار سال نو مہینے رہی ۔ پھر چھ مہینے تک حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ نے خلافت سنبھالی۔

خلیفۂ چہارم رضی اﷲ عنہ کا خواب

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے شہید ہونے سے پہلے ایک خواب دیکھا ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : ۷۱ رمضان المبارک ۰۴ ہجری کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے علی الصباح بیدار ہو کر اپنے صاحبزادے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا : ” رات کو میں نے خواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے شکایت کی ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت نے میرے ساتھ کجروی اختیار کی ہے اور سخت اختلاف میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اﷲ سے دعا کرو ۔“ میں نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی : ” اے اﷲ ! مجھے تُو ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں پہنچا دے ۔“ ابھی آپ رضی اﷲ عنہ اتنا کہہ ہی رہے تھے کہ موذن نے آواز دی ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نماز پڑھانے کے لئے گھر سے نکلے اور راستے میں لوگوں کو نماز کے لئے آواز دے دے کر جگاتے جا رہے تھے کہ اتنے میں ابن ملجم سے سامنا ہوا اور اُس نے اچانک آپ رضی اﷲ عنہ پر تلوار کا بھر پور وار کیا ۔ وار اتنا شدید تھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی پیشانی کنپٹی تک کٹ گئی اور تلوار دماغ پر جا کر ٹھہری ۔اتنی دیر میں لوگ چاروں طرف سے لوگ دوڑ پڑے اور قاتل کو پکڑ لیا ۔یہ ذخم بہت کاری تھا پھر بھی آپ رضی اﷲ عنہ جمعہ اور سنیچر تک زندہ رہے اور اتوار کی رات میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ ( تاریخ الخلفا ء) 

آخرین کے شقی القلب کا انجام

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے وصیت کی تھی کہ قاتل کے ساتھ زیادتی نہیں کرنا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ کو قاتل کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا اور پھر فرمایا : ” اے بنو عبد المطلب ! کہیں تم میری وجہ سے مسلمانوں کے خون کو نہ بہا دینا اور یہ کہتے پھرو کہ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ قتل کر دیئے گئے سوائے میرے قاتل کے کسی کو قتل نہیں کرنا ۔اے حسن رضی اﷲ عنہ ! اگر میں اِس کے وار سے مر جاو¿ں تو تم بھی قاتل کو ایک ہی وار سے ختم کرنا کیونکہ ایک وار کے بدلے میں ایک وار ہی ہونا چاہیئے اور قاتل کا مثلہ نہیں کرنا کیونکہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :” تم لوگ مثلہ کرنے سے احتراز کرو چاہے باؤلے کتے ہی کا کیوں نہ ہو ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ نے ابن ملجم کو طلب کیا ۔اُس شقی القلب شخص نے آپ رضی اﷲ عنہ سے کہا : ” کیا تم ایک اچھا کام کرو گے ؟ وہ یہ کہ میں نے اﷲ سے عہد کیا ہے کہ میں اسے ضرور پورا کروں گا اور وہ عہد میں نے حطیم کے قریب کیا تھا ۔وہ عہد یہ ہے کہ میں علی ( رضی اﷲ عنہ ) اور معاویہ ( رضی اﷲ عنہ ) کو ضرور قتل کروں گا یا اِس کوشش میں خود مارا جاو¿ں گا ۔اگر تم یہ پسند کرو تو مجھے معاویہ ( رضی اﷲ عنہ ) کو ختم کرنے کے لئے چھوڑ دو اور میں تم سے اﷲ کے نام پر عہد کرتا ہوں کہ اگر میں اُسے قتل کر دوں یا اُسے قتل کر کے بچ جاو¿ں تو میں خود تمہارے پاس آکر اپنے آپ کو تمہارے حوالے کر دوں گا ۔“ حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں اُس کام کے لئے تجھے ہر گز نہیں چھوڑ سکتا کہ تُو آگ کو اور بھڑکا دے ۔“ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے آگے بڑھکر ایک ہی وار میں اسے قتل کر دیا اور آخرین کا شقی القلب آدمی اپنے انجام کو پہنچا ۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا کنبہ 

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیشہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا اور حضرات حسن اور حسین رضی اﷲ عنہما کو اپنا کنبہ مانتے تھے ۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : صحیح مسلم میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت ( مباہلہ ) نازل ہوئی تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا اور حضرات حسن اور حسین رضی اﷲ عنہم کو بلا کر دعا کی : ” اے اﷲ ! یہ میرے کنبہ کے لوگ ہیں ۔“حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم تمام لوگ مختلف درختوں کی شاخیں ہو اور میں اور علی رضی اﷲ عنہ ایک ہی درخت سے ہیں ۔“ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

08 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 4


08 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 8

میں جس کا مولا ہو ں علی بھی اُس کا مولا ہے ، مومن اور منافق کی پہچان، حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت ، اﷲ اِس کے ذریعے مسلمانوں میں صلح کرائے گا، حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی سواری، صبر اور برد باری، دشمن بھی تعریف کرتے تھے

میں جس کا مولا ہو ں علی بھی اُس کا مولا ہے 

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اپنے بچپن سے لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال تک آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی زندگی کا ایک ایک دن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نگرانی میں گزرا ہے ۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں :امام ترمذی نے حضرت ابو سریحہ اور حضرت زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جس کا صاحب ( مولا ) ہوں علی بھی اُس کا صاحب ( مولا ) ہے ۔“ اِس حدیث کو امام احمد بن حنبل اور امام طبرانی نے بھی بیان کیا ہے ) بعض راویوں کا کہنا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ” اے اﷲ ! جو شخص علی رضی اﷲ عنہ سے محبت کرتا ہے تُو بھی اُس سے محبت رکھ اور جو علی رضی اﷲ عنہ سے بغض رکھے تُو بھی اُس سے بغض رکھ ۔“ امام احمد بن حنبل نے ابو الطفیل سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲعنہ نے ایک وسیع مقام پر لوگوں کو جمع کر کے فرمایا: ” میں تم سے قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بتاو¿ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” یوم غدیر خم “ کے موقع پر میرے بارے میں کیافرمایا تھا ؟ “ اس مجمع سے تیس آدمی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا : ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے سامنے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جس کا بھی مولا ہوں علی رضی اﷲ عنہ بھی اُس کا مولا ہے ۔اے اﷲ ! جو علی رضی اﷲ عنہ سے محبت رکھے اُس سے تُو بھی محبت فرما اور جو علی رضی اﷲ عنہ سے بغض رکھے اُس سے تُو بھی دشمنی فرما ۔ “ 

مومن اور منافق کی پہچان

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق بعد کے زمانے میں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم مومن اور منافق کو پہچانتے تھے ۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : امام مسلم بن حجاج اپنی صحیح مسلم میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی روایت پیش کرتے ہیں کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” مجھے اُس ذات کی قسم جس نے دانہ اُگایا اور جان پید اکی مجھ سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن تم سے محبت رکھے گا اور منافق بغض رکھے گا ۔“ امام ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے : ” ہم منافق کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے بغض رکھنے کی وجہ سے پہچان لیتے تھے ۔“ امام طبرانی نے اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس نے علی رضی اﷲ عنہ کو محبوب رکھا اُس نے مجھے محبوب رکھا اور جس نے مجھے محبوب رکھا اُس نے اﷲ کو محبوب رکھا ۔جس نے علی رضی اﷲ عنہ سے دشمنی کی گویا اُس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اُس نے اﷲ سے دشمنی کی ۔ “ امام احمد بن حنبل اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے علی رضی اﷲ عنہ کو بُرا کہا اُس نے مجھے بُرا کہا ۔“

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ ماہ ِ رمضان المبارک 3 ہجری میں مدینۂ منورہ میں پیدا ہوئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت زیادہ مشابہہ ( ملتے جُلتے ) تھے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کا نام ” حسن “ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہی رکھا ہے ۔امام بخاری نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ ” حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت زیادہ مشابہہ تھے اور سوائے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے کسی اور کی صورت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے نہیں ملتی تھی ۔“ امام مفضل بیان کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ”حسن “ اور ” حسین “ نام پوشیدہ رکھے تھے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ دونوں نام اپنے نواسوں کے لئے تجویز فرمائے ۔ 

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت 

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے دونوں نواسوں سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ۔حضرت براءبن عازب رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اِس حالت میں دیکھا کہ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے کاندھے پر اُٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں : ” اے اﷲ ! میں اِس سے محبت کرتا ہوں تُو بھی اِس سے محبت فرما ۔“ ( صحیح بخاری ، صحیح مسلم ) حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرات حسنین ( حضرات حسن اور حسین ) رضی اﷲ عنہم کو اپنے کاندھے پر بٹھایا ہوا تھا اور ارشاد فرمایا : ” یہ دونوں میرے بیٹے یعنی میری بیٹی کے فرزند ہیں ۔اے اﷲ ! میں اِن سے محبت کرتا ہوں تُو بھی اِن سے محبت فرما اور جو اِن سے محبت کرے اُسے بھی تُو اپنا محبوب بنا لے ۔“ ( جامع ترمذی ) حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ کسی شخص نے رسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا : ” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ! آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنے اہل بیت میں سے سب سے زیادہ کس سے محبت ہے ؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حسن اور حسین رضی اﷲ عنہم سے ۔“

اﷲ اِس کے ذریعے مسلمانوں میں صلح کرائے گا

اﷲ تعالیٰ نے پہلے سے ہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اُمت پر پیش آنے والے حالات بتا دیئے تھے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ضرورت کے مطابق اُمت کو بھی بتا دیا کرتے تھے ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو منبر پر اِس حال میں بیٹھے دیکھا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی گود میں حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ بیٹھے ہیں ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کبھی لوگوں کو دیکھتے اور کبھی حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو دیکھتے اور فرماتے : ” میرا یہ بیٹا ” سید “ ہے اور اﷲ تعالیٰ اِس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔“ ( صحیح بخاری ) حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین رضی اﷲ عنہم میری دنیا کے پھول ہیں ۔“ ( صحیح بخاری ) حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین رضی اﷲ عنہم جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔“ ( جامع ترمذی ، المستدرک حاکم ) 

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی سواری

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے دونوں نواسوں سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے ۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے مبارک کاندھوں پر حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو بٹھائے ہوئے تھے ۔ کسی شخص نے یہ دیکھ کر کہا : ” صاحبزادے ! تمھاری سواری بہت اچھی ہے ۔“ یہ سن کر رسول اﷲ صلی ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو دیکھو کہ سوار کتنا اچھا ہے ۔“ ( المستدرک ،امام حاکم ) امام محمد بن سعد لکھتے ہیں : حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے تمام لوگوں کے مقابلے میں حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ بہت مشابہہ تھے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اُن سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے ۔میں نے خود دیکھا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سجدے میں ہوتے تھے اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ آپ صلی اﷲعلیہ وسلم کی گردن یا پیٹھ پر آ کر بیٹھ جاتے تھے اور جب تک وہ خود نہیں اُترتے تھے تب تک حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اُن کو نہیں اُتارتے تھے ۔میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم رکوع کی حالت میں تھے اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ لائے اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاہائے مبارک کے اندر سے ہو کر نکل گئے ۔ امام نے حاکم زہیر بن ارقم کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ایک روز حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو قبیلہ اذد شنوہ کا ایک شخص کھڑا ہوا اور اُس نے کہا : ” میں اِس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو گود میں اُٹھائے ہوئے فرما رہے تھے : ” مجھ سے محبت کرنے والے کو چاہیئے کہ اِس ( حسن بن علی رضی اﷲ عنہ ) سے بھی محبت کرے اور جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ میری یہ بات اُن لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں ۔“ اُس شخص نے آگے کہا : ” اگر مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمان کی اطاعت منظور نہیں ہوتی تو میں یہ بات زبان پر نہیں لاتا۔“ 

صبر اور برد باری

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ بہت ہی صبردار اور برد بار تھے ۔امام محمد بن سعد عُمر بن اسحاق سے روایت کرتے ہیں کہ جب مروان بن حکم مدینہ¿ منورہ کا حاکم تھا تو وہ منبر پر علی الاعلان حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو سب و شتم کرتا تھا اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ ( کمال صبر و تحمل کے ساتھ ) اُس کی اِن گستاخیوں کو سنا کرتے تھے اور خاموش رہا کرتے تھے ۔ایک دن مروان بن حکم نے ایک شخص کو حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں ایسے ایسے گستاخی کے الفاظ کہلا بھیجا جن کو لکھنے سے قلم قاصر ہے ۔ مروان بن حکم کے فرستادہ کی باتیں سن کر حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا : ” جاو¿ ! مروان سے کہہ دینا کہ اﷲ کی قسم ! تمہاری باتیں مجھے یاد رہیں گی ۔حالانکہ تم کو یقین تھا کہ میں تمہاری گالیوں کے جواب تم کو بھی گالیاں دوں گا لیکن میں صبر کرتا ہوں ۔قیامت آنے والی ہے اگر تم سچے ہو تو اﷲ تمہیں جزائے خیر دے اور اگر تم جھوٹے ہوئے تو اﷲ تعالیٰ کا انتقام اور اُس کی گرفت بڑی سخت ہے ۔ “ ( طبقات ابن سعد ) 

دشمن بھی تعریف کرتے تھے

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی تعریف آپ رضی اﷲ عنہ کے دشمن بھی کرتے تھے ۔ امام محمد بن سعد لکھتے ہیں : زریق بن اسود سے روایت ہے کہ مروان بن حکم اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے درمیان گفتگو ہو رہی تھی کہ مروان نے آپ رضی اﷲ عنہ کو گالیاں دینی شروع کردی اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ خاموش رہے ۔ اِس دوران میں مروان بن حکم نے اپنے سیدھے ہاتھ سے ناک صاف کی ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” افسوس ! تجھے اتنا بھی نہیں معلوم کہ سیدھا ہاتھ دھونے کے لئے ہے اور بایاں ہاتھ بول و براز کے مقامات کے لئے ہے ۔“ ( تجھے بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا چاہیئے تھی ) یہ سن کر مروان بن حکم خاموش ہو گیا ۔( طبقات ابن سعد ) امام ابن عساکر نے جویریہ بن اسماءکے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے جنازے میں جب مروان بن حکم زور زور سے رونے لگا تو حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے اُس سے فرمایا : ” اب تُو کیوں رو رہا ہے ؟ جبکہ اُن کی زندگی میں تُونے اُن کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا اور کیا کچھ نہیں کہا ۔“ یہ سن کر مروان نے کہا : ” آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہے میں ایسا اُس شخص کے ساتھ کرتا تھا جو اِس پہاڑ سے بھی زیادہ حلیم اور بُرد بار تھا ۔“  

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


09 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 4


09 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 9

حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کی خلافت، حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بد سلوکی، مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح، صلح نامہ کی شرائط، 41 ہجری :حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کی بیعت، خلافت راشدہ مکمل

حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کی خلافت

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے جب مسلمانوں نے پوچھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد ہم کس کو اپنا خلیفہ بنائیں تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا تھا کہ میرے مسلمان بھائی جسے چاہیں خلیفہ بنا لیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔علامہ محمدبن جریر طبری لکھتے ہیں : ۰۴ ہجری میں حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے خلافت کی بیعت ہوئی ۔سب سے پہلے حضرت قیس بن سعدبن عبادہ انصاری رضی اﷲ عنہ نے یہ کہہ کر بیعت کی کہ” اپنا ہاتھ آگے بڑھایئے ،میں آپ رضی اﷲ عنہ سے اﷲ کی کتاب اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور مفسدوں سے جنگ کرنے پر بیعت کرتا ہوں ۔“ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اﷲ کی کتاب اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت پر کہ یہی سب شرطوں پر شامل ہے ۔“ حضرت قیس بن سعدبن عبادہ انصاری رضی اﷲ عنہ نے بیعت کر لی اور کچھ نہ کہا پھر دوسروں نے بھی بیعت کر لی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ کے خیر خواہوں نے متفق ہو کر حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔پھرحضرت قیس بن سعدبن عبادہ انصاری رضی اﷲ عنہ کی بیعت اور الفاظ اور حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے جوابی الفاظ جو اوپر آچکے ہیں تحریر کرنے کے بعد آگے لکھتے ہیں :اِس کے بعد لوگ آ کر بیعت کرنے لگے ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ فرماتے جا رہے تھے : ” تم میرے کہنے کو سنتے رہنا اور میری اطاعت کرنا، جس سے میں صلح کروں اُس سے تم بھی صلح کرنا اور جس سے میں جنگ کروں تم بھی اُس سے جنگ کرنا ۔“ اِن فقروں سے لوگوں کو شبہ پیدا ہوگیا ، سرگوشیاں ہونے لگیں اور کہنے لگے : ” یہ تمہارا امیر نہیں ہے اور یہ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔“

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بد سلوکی

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے بعد ملک عراق ،ایران اور حجاز ( مکہ¿ مکرمہ اور مدینہ¿ منورہ ) کے مسلمانوں نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو اپنا خلیفہ بنا لیا اور اُدھر ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت کا اعلان کر دیا ۔شہید ہونے سے پہلے خلیفہ¿ چہارم حضرت علی المرتضیٰ نے چالیس ہزار کا لشکر جنگ کے لئے تیار کیا تھااور اُس کا سپہ سالار حضرت قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اﷲ عنہ کو بنایا تھا ۔ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے بیعت کرنے کے بعد حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ نے ملک شام پر حملہ کرنے پر اصرار کیا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے خلافت سنبھالی اور حضرت قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اﷲ عنہ آذربائیجان کے گورنر تھے اور وہ چالیس ہزار کے لشکر کے سپہ سالار تھے ۔ اِس لشکر نے موت کی شرط پر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور جب حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اﷲ عنہ نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے اہل ملک شام کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے کوچ کرنے پر اصرار کیا اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ کو آذربائیجان کی گورنری سے معزول کر دیا اور حضرت عبید اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کو وہاں کا گورنر مقرر کیا ۔ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کا ارادہ کسی سے جنگ کرنے کا نہیں تھا لیکن اُن کے ساتھیوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے ارادے پر غلبہ پالیا اور ایک عظیم لشکر جمع کیا جس کی مثال نہیں سنی گئی ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ کو بارہ ہزار کے لشکر کا سپہ سالار بنایا اور ”مقدمة الجیش“ ( ہر اول دستے ) کے طور پر آگے بھیجا اور خود آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر اس کے پیچھے ملک شام کی طرف روانہ ہوئے ۔تاکہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ اور اہل ملک شام کے ساتھ جنگ کریں۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ مدائن سے گزرے تو آپ رضی اﷲعنہ وہاں قیام پذیر ہوئے اور مقدمة الجیش کو آگے بھیجا ۔ابھی مدائن کے باہر ہی قیام پذیر تھے کہ کسی نے آواز لگائی کہ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ہیں ۔یہ سننا تھا کہ لشکر میں بھگڈر مچ گئی اور ایکدوسرے کے سامان کی لوٹ مار کرنے لگے حتیٰ کہ انہوں نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کا خیمہ بھی لوٹ لیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کے بچھونے کو بھی چھین لیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو نیزہ مار کر زخمی بھی کردیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : شہید ہونے سے چند روز پہلے امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے ملک شام کے ارادے سے ایک لشکر مسلمانوں کا مرتب کیا تھا اور چالیس ہزار مسلمانوں سے جنگ اور موت کی بیعت لی تھی ۔لیکن اتفاق سے لشکر لیکر روانہ ہونے کی نوبت نہیں آئی تھی کہ آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ۔جب لوگوں نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ ملک شام سے لشکر لیکر کوفہ کی بڑھے ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ بھی مقابلے کے ارادے سے کوفہ سے نکلے ۔اِن کے مقدمة الجیش پر بارہ ہزار کے لشکر کے سپہ سالار حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ تھے ۔اور بعض مورخین کے مطابق حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ مقدمة الجیش پر تھے اور ساقہ پر حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ تھے ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ مدائن پہنچے اور قیام کرنے کے ساتھ ہی یہ مشہور ہو گیا کہ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ۔اِس خبر کا مشہور ہونا تھا کہ لشکر میں ہیجانی کیفیت پیدا ہو گئی ۔ایکدوسرے سے لوگ الجھ گئے ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے خیمے کی طرف بھی جھپٹے ۔جو کچھ پایا وہ لوٹ لیا ۔اندر گھسے تو اُس بستر کوبھی چھین لیا جس پر آپ رضی اﷲ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور اُس چادر کو بھی چھین لیا جو آپ رضی اﷲ عنہ اوڑھے ہوئے تھے ۔بعض ناعاقبت اندیش نے آپ رضی اﷲ عنہ کی ران پر نیزہ بھی مارا ۔ربیعہ اور ہمدان آپ رضی اﷲ عنہ کی حمایت پر اُٹھے اور اوباشوں کے مجمع کو منتشر کیا ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو ایک تخت ( اسٹریچر ) پر اٹھا کر مدائن میں قصر ابیض میں لائے ۔

مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے پیارے نواسے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے متعلق پیشنگوئی فرمائی تھی کہ ” میرا یہ بیٹا سید ہے اور یہ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ۔“ اُس پیشن گوئی کے سچ ہونے کا وقت آگیا تھا اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کروائی ۔جب حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ مدائن کے قصر ابیض میں تشریف فرما تھے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ اُن کا لشکر بکھر گیا ہے ۔یہ دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ سے صلح کرنے کا مکمل ارادہ بنا لیا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ زخمی حالت میں قصر ابیض میں داخل ہوئے ۔ مدائن میں آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن مسعود ثقفی کو گورنر بنایا تھا ۔ یہ جنگ جسر کے ہیرو اور شہید حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ کے بھائی تھے ۔حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ کا بیٹا مختار بن ابوعبید جو اُس وقت نوجوان تھا وہیں موجود تھا ۔اُس نے اپنے چچا حضرت سعد بن مسعود ثقفی سے کہا: ” کیا آپ کو شرف اور مال داری میں کچھ دلچسپی ہے ؟ “ چچا نے پوچھا : ” وہ کیا ہے ؟“ بھتیجے نے کہا : ” حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو پکڑ کر قید کرلو اور انہیں حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے حوالے کردو ۔“ چچا حضرت سعد بن مسعود ثقفی نے اپنے بھتیجے سے کہا : ” اﷲ تمہارا بھلا نہ کرے اور تُجو بات لیکر آیا ہے اُس کا بھی بھلا نہ کرے ۔کیا میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیٹی کے بیٹے سے خیانت کروں ؟ “ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” مختار بن ابو عبید نے اپنے چچا حضرت سعد بن مسعود سے کہا : ” اگر تم کو مال و عزت کی خواہش ہو تو حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو باندھ لو اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ سے اِس کے صلہ میں امان مانگ لو ۔“ حضرت سعد بن مسعود ثقفی نے جواب میں کہا : ” اﷲ تجھ پر لعنت کرے ۔میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے نواسے پر حملہ کروں اور اُن کو باندھ لوں؟ کتنا بد بخت شخص ہے تُو ۔“ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے جب یہ دیکھا کہ ملک عراق ، ایران اور حجاز کے مسلمان متفرق ہو گئے ہیں تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو صلح کا پیغام دیا ۔وہ اُس وقت اپنے لشکر کے ساتھ مسکن میں تشریف فرما تھے ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے عبد اﷲ بن عامر اور عبد الرحمن بن سمرہ کو بھیجا وہ دونوں حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے پاس مدائن آئے اور آپ رضی اﷲ عنہ کی شرائط مان کر صلح کر لی۔

صلح نامہ کی شرائط

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت کی قربانی دے کر مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروا دی ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ اپنے والد ِ محترم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد چھ مہینے تک خلافت کے منصب پر فائز رہے ۔( پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ سے صلح کر لی ۔) اِس کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور اﷲ تعالیٰ کو ”حکم “ اور فیصلہ دہندہ مان کر یہ شرائط آپس میں طے ہوئیں ۔اِس وقت حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ خلیفہ بنائے جاتے ہیں لیکن اُن کے انتقال کے بعد حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے خلیفہ ہوں گے ۔مدینہ¿ منورہ ، حجاز ،ملک عراق اور ملک ایران کے باشندوں سے کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا بلکہ وہی ٹیکس لیا جائے گا جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں لیا جاتا تھا ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے قرض کی ادائیگی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کر دیں گے ۔اِن شرائط پر دونوں نے آپس میں اتفاق کر لیا او ر صلح ہو گئی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ معجزہ ظاہر ہو گیا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ” میرا یہ بیٹا مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔“ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے اِن شرائط کے ساتھ خلافت حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے سپرد کر دی ۔( تاریخ الخلفا ء) علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں کہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو سب و شتم نہیں کیا جائے گا ۔

41 ہجری :حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کی بیعت

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو سونپ دی اور ۱۴ ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کوفہ آئے اور سب نے آپ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” کوفہ میں اجتماع ہوا تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ سے کہا کہ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے کہو کہ اُٹھ کر تقریر کریں ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے پوچھا کہ آخر تم کیا چاہتے ہو ۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے ۔آخر کار حضرت معاویہ بن ابی سفیان کو بات ماننی پڑی اور پہلے انہوں نے آکر تقریر کی پھر ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو تقریر کرنے کی دعوت دے ۔اُس شخص نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے تقریر کرنے کی درخواست کی ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے اﷲ کی حمد اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر دورد و سلام پڑھنے کے بعد تشہد پڑھی اور فرمایا : ” اے لوگو ! اﷲ تعالیٰ نے ہم میں سے پہلے شخص ( رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے ذریعہ تمہاری ہدایت کی اور ہم میں سے آخری شخص ( حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ ) کے ذریعہ سے تم کو کشت و خون سے بچا لیا ۔سنو اِس حکومت کی ایک مدت و میعاد ہے اور دنیادست بدست ( پھرتی رہتی ) ہے اور اﷲ تعالیٰ اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سے فرما چکا ہے وان ادری لعلہ فتنة لکم و متاع الی حین ۔کیا معلوم کہ وہ تمہاری آزمائش ہو اور ”چند دن کی آسائش “ ابھی اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” بیٹھ جایئے ۔“ اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو بٹھا دیا ۔

خلافت راشدہ مکمل

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے خلافت چھوڑنے کے ساتھ ہی ” خلافت راشدہ “ مکمل ہو گئی ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : پہلے ہم یہ حدیث بیان کر چکے ہیں کہ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد خلافت تیس ( ۰۳ ) سال ہو گی پھر بادشاہت ہو گی اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی خلافت سے تیس سال مکمل ہو گئے ۔پس حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کا زمانہ ” حکومت “ کا آغاز ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ اسلام پہلے بہترین بادشاہ ہیں ۔حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :” بے شک یہ امر ( کام ) رحمت اور نبوت سے شروع ہوا ،پھر یہ رحمت اور خلافت بن جائے گا ۔پھر کاٹنے والی حکومت بن جائے گا ۔پھر جبر و تکبر اور فساد فی الارض بن جائے گا ۔ وہ حریر ، فروج اور شراب کو حلال قرار دیں گے ۔اِس کے باوجود انہیں رزق سے مدد دی جائے گی حتیٰ کہ وہ اﷲ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے ۔“ ( المعجم طبرانی، البدایہ و النہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر ) 

اگلی کتاب

قارئین کرام ! یہاں آ کر ”خلافت راشدہ “ کا ذکر مکمل ہو ا۔اب انشاءاﷲ آپ کی خدمت میں ہم ” سلطنت اُمیہ “ کا ذکر پیش کریں گے ۔

   ٭....٭....٭   

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں