01 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 1
سلسلۂ نسب اور خاندان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں، حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو اسلام کی دعوت، قبول اسلام، سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ہمیشہ رہے، ابو طالب کو اسلام کی دعوت، ابو طالب کی حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو تاکید،
سلسلۂ نسب اور خاندان
حضرت علی المرتضیٰ کا سلسلۂ نسب دادا (عبد المطلب )پر جا کر سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم سے مل گیا ہے اور پھر باقی سلسلۂ نسب وہی ہے جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہے ۔پھر بھی یہاں ہم پیش کر رہے ہیں ۔حضرت علی بن ابی طالب( نام عبد مناف ) بن عبد المطلب ( نام شیبہ) بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مُرہ ۔عبد المطلب سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے دادا ہیں ۔اِس طرح دونوں چچا زاد بھائی ہیں ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا خاندان بھی وہی ہے جو سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کا ہے ۔یعنی ” بنو ہاشم “ یا ” بنو عبد المطلب “ ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے والد کی کنیت ”ابو طالب “ ہے اور نام عبد مناف ہے ۔ابو طالب کے سگے بھائی حضرت عبد اﷲ ( رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے والد ِ محترم ) اور زبیر بن عبد المطلب ہیں یعنی ایک ہی والدہ سے ہیںاور بقیہ بھائی دوسری والداو¿ں سے ہیں ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ کا نام سیدہ فاطمہ بنت اسد ہے ۔یہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جن کی شادی ہاشمی خاندان میں ہوئی ۔اِس طرح حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ والد اور والدہ دونوں طرف سے ”ہاشمی “ہیں ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ نے اسلام قبول کیا اور مدینہ¿ منورہ ہجرت بھی کی اور یہیں انتقال ہوا ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کفن دفن کے انتظامات کئے اور اپنی قمیص مبارک کفن کے لئے عطا فرمائی اور قبر تیار ہونے کے بعد پہلے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم خود قبر میں اُترے ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ کے تین بھائی ہیں ۔سب سے بڑے طالب بن ابی طالب ،پھر حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ اور پھر حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ ،پھر حضرت علی بن بی طالب رضی اﷲ عنہ ہیں ۔طالب نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی د وبہینیں ہیں ۔فاختہ بنت ابو طالب اِ ن کی کنیت ”اُم ہانی “ ہے اور جمانیہ بنت ابو طالب ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں
اعلان ِ نبوت سے پہلے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے معاشی حالات بھی کافی اچھے ہوچکے تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام چچاﺅں کے بھی معاشی حالات کافی بہتر تھے۔صرف ابوطالب کے معاشی حالات بہت خراب تھے۔ اسی دوران مکہ مکرمہ میں قحط پڑا اور ابو طالب غرےبی کی وجہ سے پریشانی کاشکار ہوگئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی یہ حالت دیکھی تو اپنے دوسرے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ۔وہ عطر کی تجارت کرتے تھے اور کافی امیر تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرماےا:” چچا جان! آپ تو جانتے ہیں کہ چچا ابوطالب بہت غرےب ہیں اور ان کی اولاد زیادہ ہے اور اپنی خودداری کی وجہ سے وہ کوئی مد د نہیں لیں گے تو ہم ایسا کیوں نہ کریں کہ ان کی کچھ اولاد کے کفیل بن جائےں ، تاکہ ان کا خرچ کم ہو۔ “حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ راضی ہوگئے ، دونوں ملکرابو طالب کے پاس گئے اور یہی درخواست کی ۔ابو طالب نے کہا:” عقیل کو مےرے پاس چھوڑ دو اور باقی جسے چاہو لے لو۔“ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنی کفالت میں لے لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ا بی طالب رضی اللہ عنہ کو لیکر اپنے گھر آگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زےر کفالت بڑے ہونے لگے۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو اسلام کی دعوت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا ابوطالب کے معاشی بوجھ کو کچھ ہلکا کرنے کیلئے ان کے ایک بےٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر لے آئے تھے اور وہ وہیں رہنے لگے تھے اور کئی سال تک رہے ۔اِس دوران اﷲ تعالیٰ نے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا نے اسلام قبول کر لیا ۔اُس وقت پانچ وقت کی نمازیں فرض نہیں ہوئی تھیں لیکن نماز پڑھنے کا حکم تھا اِسی لئے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم اور سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا گھر میں نماز پڑھتے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں نماز پڑھتے دیکھا تو حےرت سے درےافت کیا:” یہ کیا ہے ؟“حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماےا:”یہ اللہ کا دین ہے، یہی دین لیکر تمام انبیاءدنیا میں آئے ہیں۔ میں تم کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں اسی کی عبادت کرو اور بتوں کا انکار کردو ۔“
قبول اسلام
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت لگ بھگ دس برس کی تھی انھوں نے کہا:” یہ بالکل نئی چےز ہے، جب تک میں اپنے والد ابو طالب سے مشورہ نہ کرلوں تب تک میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔“ اس وقت علانیہ تبلیغ کا حکم نہیں ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ تبلیغ کررہے تھے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” اے علی (رضی اللہ عنہ )!اگر تم اسلام قبول نہیں کرتے تو اسکا ذکر بھی کسی سے مت کرو۔ “حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموشی سے اپنے کمرے میںآگئے۔ ایک رات بھی گذرنے نہ پائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کا دل اسلام کی طرف مائل کردیا۔ جب صبح ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کی دعوت دےتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” گواہی دو کہ اللہ ایک ہے اسکا کوئی شرےک نہیں ہے اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ “حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گواہی دی اور اسلام قبول کرلیااور کافی عرصے تک اپنے اسلام کو اپنے والد ابو طالب سے بھی چھپائے رکھا۔
سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ہمیشہ رہے
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ بچپن سے لیکر آخر تک سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور لگ بھگ ہر غزوہ اورمکہ¿ مکرمہ اور مدینہ¿ منورہ میں بھی ساتھ ہی رہے ۔حضرت عفیف کندی کا نام شراحیل ہے اور عفیف لقب ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ یمن کے ہیں اورعطر کے تاجر تھے۔حضرت عباس بن عبد المطلب بھی عطر کے تاجر تھے اور تجارت کے سلسلے میں یمن جاتے رہتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :”میں منیٰ میں اپنے دوست حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ہر طرف خیمے لگے ہوئے تھے اچانک میں نے دیکھا کہ ایک بے انتہا خوبصورت اور روشن چہرے والا شخص ایک خیمے سے باہر آیااور نماز کے لئے کھڑ اہو گیا۔ ابھی میں اس خوبصورت اور معصوم شخص کو دیکھ رہا تھا کہ ایک عورت خیمے سے نکل کر آئی اور اس بے انتہا خوب صورت شخص کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگی پھر میں نے دیکھا کہ ایک گیارہ سالہ لڑکا باہر آیا اور اس بے انتہا خوب صورت روشن چہرے والے شخص کے دائیں طرف ذرا سا پیچھے کھڑا ہوگیا اور نماز شروع کر دی۔ میں حیرت سے اپنے دوست حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کودیکھنے لگا تو انھوں نے مجھے بتایا:” یہ جو بے انتہا خوبصورت شخص کو دیکھ رہے ہو یہ میرے بھائی حضرت عبداللہ کا بیٹا محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے انھیں دین اسلام دیکر بھیجا ہے اور یہ خاتون ان کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ یہ اپنے شوہر پر ایمان لے آئی ہیں اور وہ گیارہ سالہ لڑکا حضرت علی بن ابو طالب ہے میرے بھائی ابو طالب کا بیٹا! یہ بھی مسلمان ہو گیا ہے۔ “اس کے بعد حضرت عفیف کندی فرماتے ہیں :” اس منظر نے میرے دل پر بہت گہرا اثرکیا تھالیکن اس وقت میں پوری طرح اسلام کی سچائی کو سمجھ نہیں پایا تھا۔ بعد میں جب میں نے اسلام قبول کیا تو مجھ سے پہلے بہت سے لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اور اس بات کا مجھے ہمیشہ افسوس رہا ہے کہ کاش اگر میں اسی وقت اسلام قبول کر لیتا تو شاید میں چوتھا مسلمان ہوتا۔ “
ابو طالب کو اسلام کی دعوت
خفیہ تبلیغ کا سلسلہ جاری تھا اور ایک ایک کر کے مسلمان ہوتے جا رہے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر لگ بھگ گیارہ برس ہو چکی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ لگے رہتے تھے۔ جب نماز پڑھنا ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ پہاڑوں کے درمیان کسی گھاٹی یا درّہ میں جا کر پوشیدہ نماز پڑھتے ۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ اتفاق سے ابو طالب ادھر سے گزرے ۔ وہ حیرت سے کھڑے اپنے بھتیجے اور بیٹے کو قیام ، رکوع ، سجدہ ،قعدہ کرتے اور سلام پھیرتے دیکھتے رہے۔ جب دونوں حضرات نماز سے فارغ ہو گئے تو انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:” اے بھتیجے !یہ کون سا دین ہے جس میں ایسی عبادت کی جاتی ہے ؟“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”پیاے چچا ! یہ اللہ کا دین اسلام ہے، اُس کے فرشتوں اوررسولوں کا دین ہے اور ہمارے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دین کے ساتھ تمام بندوں کی طرف بھیجا ہے اور اے میرے پیارے چچا !آپ سب سے زیادہ اس بات کے حق دارہیں کہ میں آپ کو اس دین کی دعوت دوں اور ہدایت کی طرف بلاﺅں۔ آپ کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ آپ اس دعوت کو قبول کریں اور اس کی دعوت و تبلیغ میں میری مدد کریں۔“
ابو طالب کی حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو تاکید
سید الانبیاءصلی اﷲعلیہ وسلم کی دعوت کو سن کر ابو طالب نے جواب دیا:” اے میرے پیارے بھتیجے ! میں اپنے آباﺅ اجداد کا دین اور ان کا طریقہ نہیں چھوڑ سکتا۔ لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں تمہاری ہر ممکن مدد کرتا رہوں گا اور کوشش کروں گا کہ تمہیں کوئی دکھ یا تکلیف نہ پہنچے ۔“ اس کے بعد ابوطالب نے اپنے بیٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا :” اے پیارے بیٹے !یہ کون سادین ہے جو تم نے اختیار کیا ہے؟ “آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:” پیارے ابا جان !میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا ہوں اور اُن کی تعلیمات ( جو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں) کو دل و جان سے قبول کرتا ہوں اور اللہ کی رضا کے لئے ان کے ساتھ مل کر عبادت(نمازادا) کرتا ہوں۔“ یہ سن کر ابو طالب نے کہا:” اے میرے پیارے بیٹے !بے شک تمہارا بھائی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہیں بھلائی اور کامیابی کی طرف لے جائے گا ۔ اس لئے ہر حال میں اپنے بھائی کا ساتھ نبھانا اور اس کا ساتھ کبھی مت چھوڑنا۔ “
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!








