01 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 1
خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ، سلسلۂ نسب، خاندان، کنیت، القاب،پہلا لقب ”ذوالنورین“، دوسرا لقب ”غنی“، اے اللہ !تُو عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے راضی ہو جا، پیدائشی اوصاف، بُت پرستی سے ہمیشہ دور رہے، سابقون الاولون “میں سے ہیں، رسول اﷲ صلی وسلم کے بارے میں خبر
خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ
اِس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حالات سلسلہ¿ خلافت راشدہ میں پیش کر چکے ہیں ۔ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے بعد خلیفہ کے لئے ایک مجلس شوریٰ بنا دی تھی اور اس کے سربراہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ تھے۔انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ بنانے کی تجویز رکھی،جسے تمام مسلمانوں نے اتفاق رائے منظور کر لیا۔اب ہم تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حالات انشاءاﷲ پیش کریں گے۔
سلسلۂ نسب
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے۔حضرت عثمان بن عفان بن ابو العاص بن اُمیّہ بن عبد مناف بن قُصی۔عبد مناف پر آکر آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ¿ نسب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔عبد مناف آپ رضی اﷲ عنہ کے چوتھے دادا ہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے تیسرے دادا ہیں۔حضرت عثمان عفان رضی اﷲ عنہ کی والدہ کا نام ”اردی“ہے اور سلسلہ¿ نسب یہ ہے۔ اردی بنت کریز بن حبیب بن عبد شمس بن عبد مناف بن قُصی۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی نانی بیضاءاُم حکیم بنت عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف ہیں۔یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں۔اِس طرح حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کی والدہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن ہیں۔
خاندان
حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کا خاندان ”بنو اُمیّہ“ہے۔عبد شمس کے بیٹے اُمیّہ کی اولاد ”بنو اُمیّہ “کہلائی اور عبد شمس کے بھائی ہاشم کی اولاد ”بنو ہاشم کہلائی ۔بنو اُمیّہ میں قابل ذکر حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ ،حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اﷲ عنہ،حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ اور یزید بن معاویہ ہیں۔بنو ہاشم میں قابل ذکر حضرت عبد المطلب،حضرت عبد اﷲ ، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ،حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ ،حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ ،حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ ،حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ اور حضرت امام حسین بن علی رضی اﷲ عنہ ہیں۔خاندان بنو ہاشم ہمیشہ مکہ مکرمہ کا سب سے زیادہ عزت و عظمت والا خاندان رہا ہے اور خاندان بنو اُمیّہ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ عزت و عظمت میں خاندان بنو ہاشم پر سبقت لے جائے۔اِس کی انہوں نے بھرپور کوشش بھی کی ہے
کنیت
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کی کنیت ”ابو عمرو“،”ابو یعلیٰ “اور ”ابو عبد اﷲ “ہے۔اِس میں ”ابو عمرو“زیادہ مشہور ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رُقیہ رضی اﷲ عنہا سے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کا نکاح ہوا تھا تو اُن کے بیٹے حضرت عبد اﷲ پید ہوئے تھے۔اُن کے نام پر آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ”ابو عبد اﷲ“تھی ۔لیکن حضرت عبد اﷲ کا بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا،اُن کے بعد” عمرو “پیدا ہوئے تو اُن کے نام پر حضرت عثمان بن عفان کی کنیت ”ابو عمرو “ہوگئی اور یہی آخری وقت تک کنیت رہی ،اِسی لئے یہ زیادہ مشہور ہے۔
القاب،پہلا لقب ”ذوالنورین“
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کو دو لقب ”ذوالنورین“اور ”غنی “کے القاب سے نوازا گیا ۔حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کے نکاح میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں آئیں ،اِسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”ذوالنورین“کا لقب دیا گیا۔پہلے سیدہ رُقیہ رضی اﷲ عنہا سے نکاح ہوا۔غزوۂ بدر کے وقت سیدہ رقیہ رضی اﷲ عنہا کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی ،اِسی لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ سے فرمایا کہ تُم رقیہ کی تیمار داری کرو اور غزوہ¿ بدر میں نہیں لے گئے۔اِسی غزوہ کے دوران سیدہ رقیہ رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہو گیا اور جب غزوہ¿ بدر میں فتح کی خوش خبری قاصد لیکر آیا تو حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ سیدہ رقیہ رضی اﷲ عنہا کودفن کر کے آرہے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو” بدری صحابہ“ میں شامل فرمایا اور مال غنیمت میں سے حصہ دیا۔سیدہ رقیہ رضی اﷲ عنہا کے انتقال کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی دوسری بیٹی سیدہ اُم کلثوم رضی اﷲ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے کر دیا ۔حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ اِس دنیا میں واحد شخص ہیں جن کے نکاح میں ایک کے بعد ایک کسی نبی کی دو بیٹیاں آئی ہیں۔اِسی مناسبت سے آپ رضی اﷲ عنہ کا لقب ”ذوالنورین“ تھا۔سیدہ اُم کلثوم رضی اﷲ عنہا کا انتقال بھی مدینہ¿ منورہ میں ۹۰ ہجری میں ہوا۔اُن کے انتقال کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری اور بیٹی ہوتی تو اُسے بھی حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کے نکاح میں دے دیتا۔
دوسرا لقب ”غنی“
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کا ”ذوالنورین“کے علاوہ ایک اور لقب ”غنی“بھی ہے۔انہوں نے اﷲ کی راہ میں اتنی زیادہ اپنی دولت خرچ کی کہ انہیں ”غنی“کہا جانے لگا ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:” رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ کے حکم کے مطابق حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ نے دو مرتبہ جنت کو خریدا۔ایک مرتبہ ”بیئر رومہ“(رومہ کا کنواں)خرید کر اور دوسری مرتبہ غزوہ¿ تبوک میں ایک ہزار اونٹ دیکر۔“پہلا موقع اُس وقت آیا جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور مکہ¿ مکرمہ کے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ¿ منورہ آئے۔اُس وقت مدینہ¿ منورہ میں پانی کی کمی ہو گئی اور ایک یہودی کے پاس پانی کا ایک کنواں تھا ،جس کا نام بیئر رومہ تھا ،اُس میں پانی بہت تھا ،لیکن وہ یہودی انصاراور مہاجرین کو پانی نہیں لینے دیتا تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس سے کہا کہ تم یہ کنواں بیچو گے ؟تو اُس نے اتنی قیمت بتائی کہ وہ انصار اور مہاجرین کے بس کے باہر تھی۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین سے فرمایا کہ کون ہے جو مسلمانوں کے لئے اِس کنویں کو خریدے اور بدلے میں جنت لے؟ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے کنواں خرید کر مسلمانوں کو وقف کر دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مدینہ¿ منورہ میں مسجد قبلتین کے شمال کی جانب میں میٹھے پانی کا صرف ایک کنواں تھا ،جس کو ”بیئر رومہ“کہتے تھے اور ایک یہودی اِس کا مالک تھا۔مسلمانوں کو پانی کی بہت تکلیف تھی،جو صاحب حیثیت تھے وہ پانی خرید لیتے تھے ،لیکن غریب و نادار مسلمانوں کا کھارے پانی پر گزر ہوتا تھا ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا اور حضر ت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا۔ایک اور روایت میں ہے کہ مہاجرین جب مدینہ¿ منورہ آئے تو اُن کے لئے پانی کی دشواری پیش آئی یہاں ”بیئر رومہ“ایک بڑا کنواں تھا ۔جس کا مالک ایک یہودی تھا او راُس نے کنویں کو ذریعہ¿ معاش بنا رکھا تھا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے یہ کنواں خرید کر وقف کرنا چاہا ۔کنویں کا مالک بدقت تمام ”نصف حق ِ ملکیت“فروخت کرنے پر تیار ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بارہ ہزار درہم میں آدھا کنواں خرید لیا ۔شرط یہ تھی کہ ایک دن حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی باری ہوگی اور دوسرے دن یہودی کی باری ہوگی۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی باری پر مسلمان دو دنوں کا پانی بھر لیا کرتے تھے ،اِس لئے یہودی کی باری کے دن کوئی اُس سے پانی نہیں خریدتا تھا۔یہ دیکھ کر یہودی نے باقی آدھا کنواں بھی آپ رضی اﷲ عنہ کو بیچ دیا اور آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا۔
اے اللہ !تُو عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے راضی ہو جا
غزوۂ تبوک کے وقت سلطنت روم سے جنگ کرنے کے لئے تیس ہزار صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا لشکر تیار ہوا،اُن میں سے بہت سے لوگوں کے پاس ہتھیار اور سواریاں نہیں تھیں ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو لشکر کے لئے مال جمع کرنے کی ترغیب دی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لشکر کے لئے سو اونٹ ہتھیار اور کھانے کے سامان سمیت دینے کا اعلان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعا ئے خیر دی اور پھر ترغیب دی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اور سو اونٹ دینے کا اعلان کیا۔ اس طرح کرتے کرتے آپ رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار اونٹ سواری کے لئے اور ستر 70گھوڑے سواری کے لئے دیئے۔ ایک روایت میں ہے کہ ہر اونٹ ہتھیار اور کھانے کے سامان اور لباس کے ساتھ تھا،یہاں تک کہ اونٹ باندھنے کی رسی بھی آپ رضی اللہ عنہ نے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لئے دعافرمائی:” اے اللہ تعالیٰ ! تُوعثمان غنی رضی اللہ عنہ سے راضی ہو جا کیوں کہ میں اس سے خوش ہو گیا ہوں۔“ اس کے علاوہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار دینا ر( سونے کی اشرفیاں) بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیناروں کو الٹ پلٹ کر رہے تھے اور فرما رہے تھے:” آج کے بعد کوئی عمل عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ “حضرت سعید رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اُٹھائے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے لئے دعا فرما رہے تھے :”اے اﷲ !میں عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے راضی ہوں تُو بھی راضی ہوجا۔“
پیدائشی اوصاف
حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ”عام الفیل“یعنی ابرہہ کے لشکر پر ابا بیلوں کے حملے کے چھ سال بعد پیدا ہوئے ہیں۔اِس طرح حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ لگ بھگ پانچ یا ساڑھے پانچ سال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے چھوٹے ہیں ۔بعض روایات کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کی پیدائش طائف میں ہوئی ۔آپ رضی ا ﷲ عنہ درمیانہ قد تھے ،نہ بہت لمبے او رنہ ہی بہت ناٹے۔داڑھی گھنی تھی ،جوڑوں کی ہڈیاں بڑی تھیں ،دونوں کاندھوں کے درمیان فاصلہ تھا،سر میں گھنے بال تھے جو عُمر ڈھلنے کے ساتھ کم ہوگئے تھے، داڑھی میں مہندی کا زرد خضاب لگاتے تھے۔ ناک اُونچی تھی،پنڈلیاں ضخیم،بازو لمبے ،دانت انتہائی خوب صورت تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ ،خوبصورت وجاہت ،متوازن قد و قامت ، چہرے پر چیچک کے چند نشانات ،داڑھی گنجان اور زُلفیں(بال)دراز کے حامل تھے۔جب آپ رضی اﷲ عنہ لباس زیب تن کر کے عمامے سے مزین ہوتے تو بہت خوب صورت معلوم ہوتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ خوش شکل اور خوش قامت ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سیرت و کردار کی خلعت سے آراستہ تھے۔بڑے پیمانے پر تجارت کرنے کے باعث شروع سے ہی دولت مند تھے ،اِس لئے لباس بھی عمدہ پہنتے تھے ۔ملک عرب میں بہت بڑے مالدار ہونے کے باوجود آپ رضی اﷲ عنہ کا طرز زندگی سادگی بھرا تھا ،رہن سہن ،اخلاق و کردار میں آپ رضی اﷲ عنہ ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے طریقوں کو مشعلِ راہ بناتے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کا ہر کام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت سے آراستہ ہوتا تھا۔ایک مرتبہ آپ رضی اﷲ عنہ وضو سے فارغ ہو کر مسکرائے ،لوگوں نے اِس موقع پر مسکراہٹ کی وجہ پوچھی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو وضو کے بعداِسی طرح مسکراتے ہوئے دیکھا ہے ۔“
بُت پرستی سے ہمیشہ دور رہے
زمانۂ جاہلیت میں بھی حضرت عثمان غنی رضی ا ﷲعنہ کا شمار اپنی قوم کے افضل ترین لوگوں میں سے ہوتا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ جاہ و حشمت کے مالک ،شیریں کلام ،شرم و حیا کے پیکر اور مال دار تھے ۔ قوم کے لوگ آپ رضی اﷲ عنہ سے بڑی محبت کرتے اور توقیر و تعظیم کا برتاو¿ کرتے تھے۔زمانہ¿ جاہلیت میں بھی کبھی کسی بُت کو سجدہ نہیں کیا اور نہ ہی برائی کا ارتکاب کیا۔کبھی شراب نہیں پی ،آپ رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے:”شراب عقل کو زائل کرتی ہے اورعقل انسان کے لئے اﷲتعالیٰ کی طرف سے بلند ترین عطیہ ہے اور انسان پر لازم ہے کہ وہ اِس کے ذریعے سے بلندی کو حاصل کرے اور اس کو برباد کرنے کی کوشش نہ کرے۔دورِ جاہلیت کے لہو و لعب کی محفلیں اور گیت و رنگ بھی آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنی طرف مائل نہیں کر سکے۔آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:”میں نے کبھی گیت نہیں گایا ،نہ ہی اس کی تمنا کی اور جب سے میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے تب سے میں نے اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا ہے۔ کبھی شراب نہیں پی ہے اور کبھی زنا کے قریب بھی نہیں گیا ہوں۔“ زمانہ جاہلیت میں عرب کے علوم و معارف کا آپ رضی اﷲ عنہ کو بخوبی علم تھا ۔ امثال ، انساب اور تاریخ سے آپ رضی اﷲ عنہ بخوبی واقف تھے جو جاہلیت کے اہم ترین علوم میں سے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے روئے زمین پر سیاحت بھی کی ،ملک شام اور ملک حبشہ کا سفر کیا ،غیر عرب اقوام سے ملے اور اُن کے حالات و اطوار سے واقفیت حاصل کی جس کی معرفت اور لوگ حاصل نہ کر سکے ۔ اپنی تجارت کو اچھی طرح سنبھالا جو وراثت میں ملی تھی ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے سرمایہ میں اﷲ تعالیٰ نے برکت عطا فرمائی اور ”بنو اُمیّہ“کے بڑے لوگوں میں آپ رضی اﷲ عنہ کا شمار ہونے لگا ۔مکہ مکرمہ کے جاہلی معاشرے کے لوگ جو مال و دولت کی بنیاد پر لوگوں کی عزت کرتے تھے ،وہ لوگ آپ رضی اﷲ عنہ سے مرعوب ہو گئے۔اِس طرح حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کو اپنی قوم میںاپنے کردار کی وجہ سے انتہائی اونچا مقام ملا اور لوگوں کی بے حد محبت حاصل ہوئی۔
سابقون الاولون “میں سے ہیں
خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بہت ہی شریف النفس اور نیک تھے۔زمانۂ جاہلیت میں بھی بُتوں سے بیزار تھے اور شراب سے نفرت کرتے تھے۔خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بہت اچھے دوست تھے ۔ اُن کے تحریک دینے پر اسلام کی طرف مائل ہوئے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملاقات کر کے اسلام قبول کر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ ”سابقون الاولون“میں سے ہیں۔یعنی اسلام قبول کرنے والے اولین صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ اسلام قبول کرنے والے آزاد مر د و عورت میں سے چوتھے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ سے پہلے صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ، حضرت علی بن ابو طالب رضی اﷲ عنہ اور اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا نے اسلام قبول کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے ایک دن بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا۔
رسول اﷲ صلی وسلم کے بارے میں خبر
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا ذریعۂ معاش تجارت تھا اور آپ رضی اﷲ عنہ اکثر اپنا تجارتی سامان لیکر ملک شام ،ملک فارس،ملک یمن اور ملک حبشہ جاتے رہتے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مکہ¿ مکرمہ میں جب اعلان نبوت فرمایا تو اُس وقت حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اپنا تجارتی سامان لیکر ملک شام کے سفر پر گئے ہوئے تھے۔واپسی پر آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے تجارتی قافلے کے ساتھ ”معان اور الزرقا“کے درمیانی علاقے میں پڑاو¿ ڈالا۔رات میں سو رہے تھے کہ صبح طلوع کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک آواز سنی کہ منادی پکار رہا ہے:”اے سونے والو!جلدی سے ہوا کی طرح چلو ،کیونکہ مکۂ مکرمہ میں ”احمد“(صلی ا ﷲعلیہ وسلم ) نے اعلان نبوت کر دیا ہے ۔“جب آپ رضی اﷲ عنہ اپنا قافلہ لیکر مکہ¿ مکرمہ آئے اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا ہے۔(طبقات ابن سعد)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!








