Khilafat e Rashida 3 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Khilafat e Rashida 3 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 5 اگست، 2023

01 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


01 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 1

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ، سلسلۂ نسب، خاندان، کنیت، القاب،پہلا لقب ”ذوالنورین“، دوسرا لقب ”غنی“، اے اللہ !تُو عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے راضی ہو جا، پیدائشی اوصاف، بُت پرستی سے ہمیشہ دور رہے، سابقون الاولون “میں سے ہیں، رسول اﷲ صلی وسلم کے بارے میں خبر 

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ

اِس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حالات سلسلہ¿ خلافت راشدہ میں پیش کر چکے ہیں ۔ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے بعد خلیفہ کے لئے ایک مجلس شوریٰ بنا دی تھی اور اس کے سربراہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ تھے۔انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ بنانے کی تجویز رکھی،جسے تمام مسلمانوں نے اتفاق رائے منظور کر لیا۔اب ہم تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حالات انشاءاﷲ پیش کریں گے۔

سلسلۂ نسب

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے۔حضرت عثمان بن عفان بن ابو العاص بن اُمیّہ بن عبد مناف بن قُصی۔عبد مناف پر آکر آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ¿ نسب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔عبد مناف آپ رضی اﷲ عنہ کے چوتھے دادا ہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے تیسرے دادا ہیں۔حضرت عثمان عفان رضی اﷲ عنہ کی والدہ کا نام ”اردی“ہے اور سلسلہ¿ نسب یہ ہے۔ اردی بنت کریز بن حبیب بن عبد شمس بن عبد مناف بن قُصی۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی نانی بیضاءاُم حکیم بنت عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف ہیں۔یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں۔اِس طرح حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کی والدہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن ہیں۔

خاندان

حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کا خاندان ”بنو اُمیّہ“ہے۔عبد شمس کے بیٹے اُمیّہ کی اولاد ”بنو اُمیّہ “کہلائی اور عبد شمس کے بھائی ہاشم کی اولاد ”بنو ہاشم کہلائی ۔بنو اُمیّہ میں قابل ذکر حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ ،حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اﷲ عنہ،حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ اور یزید بن معاویہ ہیں۔بنو ہاشم میں قابل ذکر حضرت عبد المطلب،حضرت عبد اﷲ ، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ،حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ ،حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ ،حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ ،حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ اور حضرت امام حسین بن علی رضی اﷲ عنہ ہیں۔خاندان بنو ہاشم ہمیشہ مکہ مکرمہ کا سب سے زیادہ عزت و عظمت والا خاندان رہا ہے اور خاندان بنو اُمیّہ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ عزت و عظمت میں خاندان بنو ہاشم پر سبقت لے جائے۔اِس کی انہوں نے بھرپور کوشش بھی کی ہے

کنیت

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کی کنیت ”ابو عمرو“،”ابو یعلیٰ “اور ”ابو عبد اﷲ “ہے۔اِس میں ”ابو عمرو“زیادہ مشہور ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رُقیہ رضی اﷲ عنہا سے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کا نکاح ہوا تھا تو اُن کے بیٹے حضرت عبد اﷲ پید ہوئے تھے۔اُن کے نام پر آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ”ابو عبد اﷲ“تھی ۔لیکن حضرت عبد اﷲ کا بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا،اُن کے بعد” عمرو “پیدا ہوئے تو اُن کے نام پر حضرت عثمان بن عفان کی کنیت ”ابو عمرو “ہوگئی اور یہی آخری وقت تک کنیت رہی ،اِسی لئے یہ زیادہ مشہور ہے۔

القاب،پہلا لقب ”ذوالنورین“

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کو دو لقب ”ذوالنورین“اور ”غنی “کے القاب سے نوازا گیا ۔حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کے نکاح میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں آئیں ،اِسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”ذوالنورین“کا لقب دیا گیا۔پہلے سیدہ رُقیہ رضی اﷲ عنہا سے نکاح ہوا۔غزوۂ بدر کے وقت سیدہ رقیہ رضی اﷲ عنہا کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی ،اِسی لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ سے فرمایا کہ تُم رقیہ کی تیمار داری کرو اور غزوہ¿ بدر میں نہیں لے گئے۔اِسی غزوہ کے دوران سیدہ رقیہ رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہو گیا اور جب غزوہ¿ بدر میں فتح کی خوش خبری قاصد لیکر آیا تو حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ سیدہ رقیہ رضی اﷲ عنہا کودفن کر کے آرہے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو” بدری صحابہ“ میں شامل فرمایا اور مال غنیمت میں سے حصہ دیا۔سیدہ رقیہ رضی اﷲ عنہا کے انتقال کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی دوسری بیٹی سیدہ اُم کلثوم رضی اﷲ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے کر دیا ۔حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ اِس دنیا میں واحد شخص ہیں جن کے نکاح میں ایک کے بعد ایک کسی نبی کی دو بیٹیاں آئی ہیں۔اِسی مناسبت سے آپ رضی اﷲ عنہ کا لقب ”ذوالنورین“ تھا۔سیدہ اُم کلثوم رضی اﷲ عنہا کا انتقال بھی مدینہ¿ منورہ میں ۹۰ ہجری میں ہوا۔اُن کے انتقال کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری اور بیٹی ہوتی تو اُسے بھی حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کے نکاح میں دے دیتا۔

دوسرا لقب ”غنی“

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کا ”ذوالنورین“کے علاوہ ایک اور لقب ”غنی“بھی ہے۔انہوں نے اﷲ کی راہ میں اتنی زیادہ اپنی دولت خرچ کی کہ انہیں ”غنی“کہا جانے لگا ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:” رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ کے حکم کے مطابق حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ نے دو مرتبہ جنت کو خریدا۔ایک مرتبہ ”بیئر رومہ“(رومہ کا کنواں)خرید کر اور دوسری مرتبہ غزوہ¿ تبوک میں ایک ہزار اونٹ دیکر۔“پہلا موقع اُس وقت آیا جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور مکہ¿ مکرمہ کے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ¿ منورہ آئے۔اُس وقت مدینہ¿ منورہ میں پانی کی کمی ہو گئی اور ایک یہودی کے پاس پانی کا ایک کنواں تھا ،جس کا نام بیئر رومہ تھا ،اُس میں پانی بہت تھا ،لیکن وہ یہودی انصاراور مہاجرین کو پانی نہیں لینے دیتا تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس سے کہا کہ تم یہ کنواں بیچو گے ؟تو اُس نے اتنی قیمت بتائی کہ وہ انصار اور مہاجرین کے بس کے باہر تھی۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین سے فرمایا کہ کون ہے جو مسلمانوں کے لئے اِس کنویں کو خریدے اور بدلے میں جنت لے؟ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے کنواں خرید کر مسلمانوں کو وقف کر دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مدینہ¿ منورہ میں مسجد قبلتین کے شمال کی جانب میں میٹھے پانی کا صرف ایک کنواں تھا ،جس کو ”بیئر رومہ“کہتے تھے اور ایک یہودی اِس کا مالک تھا۔مسلمانوں کو پانی کی بہت تکلیف تھی،جو صاحب حیثیت تھے وہ پانی خرید لیتے تھے ،لیکن غریب و نادار مسلمانوں کا کھارے پانی پر گزر ہوتا تھا ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا اور حضر ت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا۔ایک اور روایت میں ہے کہ مہاجرین جب مدینہ¿ منورہ آئے تو اُن کے لئے پانی کی دشواری پیش آئی یہاں ”بیئر رومہ“ایک بڑا کنواں تھا ۔جس کا مالک ایک یہودی تھا او راُس نے کنویں کو ذریعہ¿ معاش بنا رکھا تھا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے یہ کنواں خرید کر وقف کرنا چاہا ۔کنویں کا مالک بدقت تمام ”نصف حق ِ ملکیت“فروخت کرنے پر تیار ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بارہ ہزار درہم میں آدھا کنواں خرید لیا ۔شرط یہ تھی کہ ایک دن حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی باری ہوگی اور دوسرے دن یہودی کی باری ہوگی۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی باری پر مسلمان دو دنوں کا پانی بھر لیا کرتے تھے ،اِس لئے یہودی کی باری کے دن کوئی اُس سے پانی نہیں خریدتا تھا۔یہ دیکھ کر یہودی نے باقی آدھا کنواں بھی آپ رضی اﷲ عنہ کو بیچ دیا اور آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا۔ 

اے اللہ !تُو عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے راضی ہو جا

غزوۂ تبوک کے وقت سلطنت روم سے جنگ کرنے کے لئے تیس ہزار صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا لشکر تیار ہوا،اُن میں سے بہت سے لوگوں کے پاس ہتھیار اور سواریاں نہیں تھیں ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو لشکر کے لئے مال جمع کرنے کی ترغیب دی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لشکر کے لئے سو اونٹ ہتھیار اور کھانے کے سامان سمیت دینے کا اعلان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعا ئے خیر دی اور پھر ترغیب دی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اور سو اونٹ دینے کا اعلان کیا۔ اس طرح کرتے کرتے آپ رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار اونٹ سواری کے لئے اور ستر 70گھوڑے سواری کے لئے دیئے۔ ایک روایت میں ہے کہ ہر اونٹ ہتھیار اور کھانے کے سامان اور لباس کے ساتھ تھا،یہاں تک کہ اونٹ باندھنے کی رسی بھی آپ رضی اللہ عنہ نے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لئے دعافرمائی:” اے اللہ تعالیٰ ! تُوعثمان غنی رضی اللہ عنہ سے راضی ہو جا کیوں کہ میں اس سے خوش ہو گیا ہوں۔“ اس کے علاوہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار دینا ر( سونے کی اشرفیاں) بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیناروں کو الٹ پلٹ کر رہے تھے اور فرما رہے تھے:” آج کے بعد کوئی عمل عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ “حضرت سعید رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اُٹھائے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے لئے دعا فرما رہے تھے :”اے اﷲ !میں عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے راضی ہوں تُو بھی راضی ہوجا۔“

پیدائشی اوصاف

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ”عام الفیل“یعنی ابرہہ کے لشکر پر ابا بیلوں کے حملے کے چھ سال بعد پیدا ہوئے ہیں۔اِس طرح حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ لگ بھگ پانچ یا ساڑھے پانچ سال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے چھوٹے ہیں ۔بعض روایات کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کی پیدائش طائف میں ہوئی ۔آپ رضی ا ﷲ عنہ درمیانہ قد تھے ،نہ بہت لمبے او رنہ ہی بہت ناٹے۔داڑھی گھنی تھی ،جوڑوں کی ہڈیاں بڑی تھیں ،دونوں کاندھوں کے درمیان فاصلہ تھا،سر میں گھنے بال تھے جو عُمر ڈھلنے کے ساتھ کم ہوگئے تھے، داڑھی میں مہندی کا زرد خضاب لگاتے تھے۔ ناک اُونچی تھی،پنڈلیاں ضخیم،بازو لمبے ،دانت انتہائی خوب صورت تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ ،خوبصورت وجاہت ،متوازن قد و قامت ، چہرے پر چیچک کے چند نشانات ،داڑھی گنجان اور زُلفیں(بال)دراز کے حامل تھے۔جب آپ رضی اﷲ عنہ لباس زیب تن کر کے عمامے سے مزین ہوتے تو بہت خوب صورت معلوم ہوتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ خوش شکل اور خوش قامت ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سیرت و کردار کی خلعت سے آراستہ تھے۔بڑے پیمانے پر تجارت کرنے کے باعث شروع سے ہی دولت مند تھے ،اِس لئے لباس بھی عمدہ پہنتے تھے ۔ملک عرب میں بہت بڑے مالدار ہونے کے باوجود آپ رضی اﷲ عنہ کا طرز زندگی سادگی بھرا تھا ،رہن سہن ،اخلاق و کردار میں آپ رضی اﷲ عنہ ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے طریقوں کو مشعلِ راہ بناتے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کا ہر کام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت سے آراستہ ہوتا تھا۔ایک مرتبہ آپ رضی اﷲ عنہ وضو سے فارغ ہو کر مسکرائے ،لوگوں نے اِس موقع پر مسکراہٹ کی وجہ پوچھی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو وضو کے بعداِسی طرح مسکراتے ہوئے دیکھا ہے ۔“

بُت پرستی سے ہمیشہ دور رہے

زمانۂ جاہلیت میں بھی حضرت عثمان غنی رضی ا ﷲعنہ کا شمار اپنی قوم کے افضل ترین لوگوں میں سے ہوتا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ جاہ و حشمت کے مالک ،شیریں کلام ،شرم و حیا کے پیکر اور مال دار تھے ۔ قوم کے لوگ آپ رضی اﷲ عنہ سے بڑی محبت کرتے اور توقیر و تعظیم کا برتاو¿ کرتے تھے۔زمانہ¿ جاہلیت میں بھی کبھی کسی بُت کو سجدہ نہیں کیا اور نہ ہی برائی کا ارتکاب کیا۔کبھی شراب نہیں پی ،آپ رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے:”شراب عقل کو زائل کرتی ہے اورعقل انسان کے لئے اﷲتعالیٰ کی طرف سے بلند ترین عطیہ ہے اور انسان پر لازم ہے کہ وہ اِس کے ذریعے سے بلندی کو حاصل کرے اور اس کو برباد کرنے کی کوشش نہ کرے۔دورِ جاہلیت کے لہو و لعب کی محفلیں اور گیت و رنگ بھی آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنی طرف مائل نہیں کر سکے۔آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:”میں نے کبھی گیت نہیں گایا ،نہ ہی اس کی تمنا کی اور جب سے میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے تب سے میں نے اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا ہے۔ کبھی شراب نہیں پی ہے اور کبھی زنا کے قریب بھی نہیں گیا ہوں۔“ زمانہ جاہلیت میں عرب کے علوم و معارف کا آپ رضی اﷲ عنہ کو بخوبی علم تھا ۔ امثال ، انساب اور تاریخ سے آپ رضی اﷲ عنہ بخوبی واقف تھے جو جاہلیت کے اہم ترین علوم میں سے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے روئے زمین پر سیاحت بھی کی ،ملک شام اور ملک حبشہ کا سفر کیا ،غیر عرب اقوام سے ملے اور اُن کے حالات و اطوار سے واقفیت حاصل کی جس کی معرفت اور لوگ حاصل نہ کر سکے ۔ اپنی تجارت کو اچھی طرح سنبھالا جو وراثت میں ملی تھی ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے سرمایہ میں اﷲ تعالیٰ نے برکت عطا فرمائی اور ”بنو اُمیّہ“کے بڑے لوگوں میں آپ رضی اﷲ عنہ کا شمار ہونے لگا ۔مکہ مکرمہ کے جاہلی معاشرے کے لوگ جو مال و دولت کی بنیاد پر لوگوں کی عزت کرتے تھے ،وہ لوگ آپ رضی اﷲ عنہ سے مرعوب ہو گئے۔اِس طرح حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کو اپنی قوم میںاپنے کردار کی وجہ سے انتہائی اونچا مقام ملا اور لوگوں کی بے حد محبت حاصل ہوئی۔

سابقون الاولون “میں سے ہیں

خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بہت ہی شریف النفس اور نیک تھے۔زمانۂ جاہلیت میں بھی بُتوں سے بیزار تھے اور شراب سے نفرت کرتے تھے۔خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بہت اچھے دوست تھے ۔ اُن کے تحریک دینے پر اسلام کی طرف مائل ہوئے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملاقات کر کے اسلام قبول کر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ ”سابقون الاولون“میں سے ہیں۔یعنی اسلام قبول کرنے والے اولین صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ اسلام قبول کرنے والے آزاد مر د و عورت میں سے چوتھے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ سے پہلے صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ، حضرت علی بن ابو طالب رضی اﷲ عنہ اور اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا نے اسلام قبول کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے ایک دن بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا۔

رسول اﷲ صلی وسلم کے بارے میں خبر 

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا ذریعۂ معاش تجارت تھا اور آپ رضی اﷲ عنہ اکثر اپنا تجارتی سامان لیکر ملک شام ،ملک فارس،ملک یمن اور ملک حبشہ جاتے رہتے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مکہ¿ مکرمہ میں جب اعلان نبوت فرمایا تو اُس وقت حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اپنا تجارتی سامان لیکر ملک شام کے سفر پر گئے ہوئے تھے۔واپسی پر آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے تجارتی قافلے کے ساتھ ”معان اور الزرقا“کے درمیانی علاقے میں پڑاو¿ ڈالا۔رات میں سو رہے تھے کہ صبح طلوع کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک آواز سنی کہ منادی پکار رہا ہے:”اے سونے والو!جلدی سے ہوا کی طرح چلو ،کیونکہ مکۂ مکرمہ میں ”احمد“(صلی ا ﷲعلیہ وسلم ) نے اعلان نبوت کر دیا ہے ۔“جب آپ رضی اﷲ عنہ اپنا قافلہ لیکر مکہ¿ مکرمہ آئے اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا ہے۔(طبقات ابن سعد)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

02 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


02 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 2

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خالہ کی بشارت،حضرت ابو بکر صدیق کی تحریک پر قبول ِ اسلام ،اسلام قبول کرنے پر خاندان والوں کا ظلم،خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ بہت ہی حیا والے تھے، شہادت کی خبر پہلے ہی دے دی

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خالہ کی بشارت

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو سفر میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہو گیا تھا ۔جب آپ رضی اﷲ عنہ سفر سے واپس آئے تو گھر پر بھی اُن کی خالہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں بتایا۔آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :”میں گھر آیا تو میر ی خالہ ”سعدی“ کو بیٹھادیکھاوہ میری والدہ اور گھر والوں سے باتیں کر رہی تھیں ۔ میری خالہ کہا نت کرتی تھی، مجھ کو دیکھتے ہی کہا :” اے عثمان تجھ کو بشارت ہو سلامتی کی بار بار دس بار، تُوبھلائی سے ملے گا اور برائی سے محفوظ ہو جائے گا۔ اللہ کی قسم !تُو ایک نہایت پاک دامن حسین عورت سے نکاح کرے گا۔“ یہ سن کر مجھے بہت تعجب ہوااور میں نے کہا :” اے خالہ یہ کیا کہہ رہی ہو؟ “انھوں نے کہا :”اے عثمان ! تیرے لئے جمال بھی ہے اور شان بھی ہے، یہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے ساتھ نبوت و رسالت کے دلائل اور نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حق دے کر بھیجا ہے، اُن پر اللہ کا کلام ( قرآن پاک) اترتا ہے جو حق اور باطل میں فرق کرتا ہے۔ پس تو اُن کی اتباع کر کہیں بُت تجھ کو گمراہ نہ کردیں۔“ میں نے کہا :”اے خالہ آپ ایسی بات کا ذکر کر رہی ہیں جس کا شہر میں کہیں تذکرہ نہیں سنا ۔خالہ نے جواب دیا:” عبداللہ کے بیٹے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اللہ کی طرف سے وہ اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کا قول نجات اور کامیابی ہے، وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں چیخ و پکار فائدہ نہیں دے گی۔ چاہے کتنی ہی تلواریں اور نیزے اُن کے مقابلے میں چلائی جائیں۔“ 

حضرت ابو بکر صدیق کی تحریک پر قبول ِ اسلام

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :”یہ کہہ کر میری خالہ چلی گئیں، مگر میں غور و فکر میں پڑ گیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے میرے تعلقات تھے۔ میں اُن کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ انھوں نے مجھے متفکر دیکھا تو وجہ پوچھی۔ میں نے اپنی خالہ سے جو سنا تھا وہ ان سے کہہ دیا۔ انھوں نے فرمایا:” اے عثمان ( رضی اللہ عنہ)! ماشاءاللہ تم ہوشیار اور سمجھ دار ہو، حق اور باطل کے فرق کو سمجھ سکتے ہو۔ یہ بُت جن کی پوجا میں ہماری قوم مبتلا ہے، یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ نہ ہمیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ “میں نے کہا :”بے شک یہ ایسے ہی ہیں جیساآپ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں۔“ یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا :” اللہ کی قسم !تمہاری خالہ نے بالکل سچ کہا ہے۔ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا پیغام دے کر تمام مخلوق کی طرف بھیجا ہے۔ تم اگر مناسب سمجھو تو اُن کا کلام ضرور سنو۔“ اتفاق سے اسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم آتے دکھائی دیئے ،اُن کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ ( ابھی لڑکے تھے) بھی تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ عرض کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا:” اے عثمان ( رضی اللہ عنہ)! اللہ تعالیٰ جنت کی دعوت دیتا ہے، تم اللہ کی دعوت قبول کر لو اور میں اللہ کارسول ہوں جو تمہاری طرف اور تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں۔“ اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنتے ہی میں ایسا بے خود ہواکہ فوراً اسلام قبول کرلیا اور یہ کلمات ادا کئے۔ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“ کچھ روز گزرنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سے میرا نکاح ہوا تو میر ی خالہ نے مجھے مبارکباد دی اور کہا:” اللہ نے اپنے بندے عثمان کو ہدایت دی اور اللہ ہی حق کی ہدایت دیتا ہے۔ پس عثمان نے اپنی صحیح رائے سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کیا۔ آخر ارویٰ کا بیٹا ہے۔ ( ارویٰ بنت کریز حضرت عثمان غنی کی والدہ کا نام ہے) سمجھ سے کام لیااور حق کو قبول کیا اور اس پیغمبر برحق نے اپنی ایک بیٹی اس کے نکاح میں دے دی۔ پس یہ ایسا ہوا جیسے چاند اور سورج جمع ہو ئے ہوں۔ اے ہاشم کے بیٹے محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری جان آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم امین ہیں اور مخلوق کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ “

اسلام قبول کرنے پر خاندان والوں کا ظلم

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بنو اُمیّہ خاندان کے ہیں۔عبد مناف کے دو بیٹوں ہاشم اور عبد شمس کے دو خاندان بنے ۔ہاشم کی اولاد ”بنو ہاشم“کہلائی اور عبد شمس کے ایک بیٹے کا نام اُمیّہ تھا اُس کے نام پر عبد شمس کی اولاد ”بنو اُمیّہ “کہلائی۔جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا تو اُس وقت مکہ¿ مکرمہ کے کافر اسلام قبول کرنے والے مسلمانوں پر بہت شدید ظلم کر رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں جب اُن کے خاندان بنو اُمیہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ پر بہت ظلم کیا تاکہ آپ رضی اﷲ عنہ اسلام کو چھوڑ دیں۔اُن کا خاندان ”اسلام دشمن تحریک “ کا قائد تھا اِس لئے بنو اُمیہ کے بزرگوںکو یہ گوارا نہیں تھا کہ اُن کے خانوادے کا ایک صاحب ِ ثروت نوجوان حق کا پرستار بن کر اُن کے دشمن ”ہاشمی رسول“صلی اﷲ علیہ وسلم کا شیدائی بن جائے۔اِس لئے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو اُن کے خاندان کے افراد نے ظلم و ستم کا ہدف بنایا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو بُرا بھلا کہا گیا ،بہت سی تکلیفیں اور ایذائیں دی گئیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے سگے چچا حکم بن ابو العاص نے آپ رضی اﷲ عنہ کو باندھ دیا اور مارتا پیٹتا رہا اور کہتا رہا کہ اسلام کو چھوڑ دے ۔ لیکن کلمہ¿ حق سے آشنا ہونے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ ہر ظلم کو سہتے رہے اور زبان سے اﷲ کی وحدانیت کا اعلان کرتے رہے۔

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ بہت ہی حیا والے تھے

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بہت ہی حیا والے تھے ،آپ رضی اﷲ عنہ میں اتنی حیا تھی کہ فرشتے بھی اور سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم بھی آپ رضی اﷲ عنہ سے حیا کرتے تھے۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جس ہاتھ سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ،اُس ہاتھ کو ہمیشہ پاک و صاف رکھا اور نجاست سے دور رکھا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے غسل کرتے وقت بھی غسل خانے میں کبھی پورے کپڑے نہیں اُتارے ۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے اور پنڈلی مبارک تھوڑی سی کھل گئی تھی۔میرے والد ِ محترم (حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ) آئے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُسی حالت میں اُن سے بات کی ۔وہ چلے گئے تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ تشریف لائے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن سے بھی اُسی حالت میں بات کی۔وہ چلے گئے تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اندر داخل ہونے کی اجازت مانگی۔اُن کی آواز سنتے ہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اُٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنی پنڈلی مبارک کو بھی ڈھک لیا اور اندر آنے کی اجازت دی ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ آئے اور بات کر کے چلے گئے تو میں نے عرض کیا :”یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ! میرے والد اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہم آئے تو آپ نے وہ اہتمام نہیں کیا جو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے کیا؟“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”عثمان غنی رضی اﷲ عنہ میں اِتنی حیا ہے کہ اگر میں ویسی ہی حالت میں رہتا تو وہ حیا کی وجہ سے جو کہنے آئے تھے کہہ نہیں پاتے۔اُن سے فرشتے حیا کرتے ہیں تو میںبھی کیوں نہ حیا کروں۔“

شہادت کی خبر پہلے ہی دے دی

سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تُم شہید ہو گے اور تمہیں منافقوں کا ایک گروہ شہید کرے گا۔حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”میرے پاس سے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ گزرے تو میرے پاس بیٹھے ہوئے فرشتے نے کہا :”یہ شہید ہیں ،اِن کو قوم شہید کرے گی ،مجھے اِن سے حیا آتی ہے۔“سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”اے عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ! اﷲ تعالیٰ تمہیں ”خلافت“ کی قمیص پہنائے گا ،جب منافقین اسے اُتارنے کی کوشش کریں گے تو اسے مت اُتارنا ،یہاں تک کہ تُم مجھ سے آملو۔“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


04 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


04 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 4

حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو ثالث بنایا ، مجلس شوریٰ کا انعقاد، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کی تجویز، مجلس شوریٰ کا عہد، حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی رائے، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی رائے، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کی تحقیق، 

حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو ثالث بنایا 

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا کہ حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ ( حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بہنوئی)بھی ”عشرہ مبشرہ “میں سے ہیں ،لیکن چونکہ میرے رشتہ دار ہیں اِس لئے میں نے انہیں مجلس شوریٰ میں نہیں چُنا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مجلس شوریٰ کے ارکان سے فرمایا :”مجھے دفن کرنے کے بعد تین دن تک صلاح و مشورہ کرنا، اِس دوران حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ نماز پڑھائیں گے۔مگر چوتھے دن تم میں سے کوئی نہ کوئی خلیفہ (امیر) مقرر ہونا چاہیئے۔اِس مجلس میں میرا بیٹا عبد اﷲ بن عُمر ثالث کی حیثیت سے موجود رہے گا ،مگر اُس کا انتخاب کے معاملے میں کوئی دخل نہیں ہوگا ۔“اِسکے بعد حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ عنہ سے فرمایا :”اے ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ عنہ ! اﷲ تعالیٰ نے تمہارے (انصار کے) ذریعے طویل مدت تک اسلام کو غالب رکھا ۔تُم انصار میں سے پچاس افراد کا انتخاب کرو اور مجلس شوریٰ کو آمادہ کرو کہ وہ اپنی جماعت میں سے کسی ایک شخص کا خلیفہ کے لئے انتخاب کر لیں۔“اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اگر پانچ لوگ ایک پر راضی ہوجائیں اور ایک نہ ہو تو اُس کی گردن اُڑا دینا ،اگر چار لوگ ایک پر متفق ہوں اور دو مخالف ہوں تو اُن کی گردن اُڑا دینا۔اگر تین افراد ایک پر متفق ہوں اور تین مخالف ہوں تو میرے بیٹے عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو ثالث بنانا اور وہ فریقین میں سے جس کے بارے میں فیصلہ کر دے گا اُسے خلیفہ بنانا۔اگر باقی لوگ عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے تو اُن تین لوگوں کی حمایت کرنا جن میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ ہوںاور باقی تین لوگوں کو قتل کرا دینا۔“

مجلس شوریٰ کا انعقاد

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کو دفن کر نے کے بعد ”مجلس شوریٰ “کا انعقاد کیا گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دفن کرنے کے بعد حضرت مقداد بن اسود رضی اﷲ عنہ نے اہل شوریٰ کو حضرت مسور بن مخرمہ رضی اﷲ عنہ کے گھر میں جمع کیا ۔ایک اور روایت کے مطابق انہیں ”بیت المال “میں یا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی اجازت سے اُن کے حُجرہ میں جمع کیا گیا ۔یہ لوگ تعداد میں پانچ تھے حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ثالث کی حیثیت سے اُن کے ساتھ تھے۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ موجود نہیں تھے ۔حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ عنہ دربانی کرنے کے لئے بیٹھ گئے ۔اتنے میں حضرت عمرو بن عاص رضی ا ﷲعنہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ بھی دروازے کے قریب آکر بیٹھ گئے ۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے انہیں اُٹھوا دیا اور فرمایا:”تُم یہ چاہتے ہو کہ تم یہ کہہ سکو کہ ہم مجلس شوریٰ میں شریک تھے“۔اِس کے بعد مجلس شوریٰ کے لوگ اپنے اپنے دلائل دینے لگے ، وقت گزرتا جا رہا تھا اور کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ کی قسم ! میں اِن تین دنوں میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے “۔ پھر اپنے گھر میں بیٹھ کر دیکھوں گا کہ تم کیا کرتے ہو؟“(یعنی تین دن کے اندر خلیفہ چُن لو)۔

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کی تجویز

خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”عشرۂ مبشرہ“ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے چھ صحابہ کرام حضرت عبد الرحمن بن عوف ،حضرت عثمان بن عفان ، حضرت علی بن ابی طالب ، حضرت سعد بن ابی وقاص ،حضرت زبیر بن عوام اور حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہم کی مجلس شوریٰ بنائی اور اِن چھ افراد سے فرمایا کہ تم تین دن میں اپنے آپ میں سے خلیفہ چُن لینا۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کہیں باہر سفر پر گئے ہوئے تھے ،اِس لئے باقی پانچ افراد جمع ہوئے ۔کافی دیر تک کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے ایک تجویز پیش کی اور فرمایا :”تُم میں سے کون ہے جو خلافت کے منصب سے خود بخود دستبردار ہو کر اِس بات کی کوشش کرے کہ وہ تم میں سے بہترین شخصیت کو خلیفہ بنوائے“۔کسی نے کوئی جواب نہیں دیا انہوں نے فرمایا :”میں خود دستبردار ہوتا ہوں“۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں سب سے پہلے آپ کی تائید کرتا ہوں کیونکہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :”جو اِس سر زمین کا امین ہے وہ آسمان کا بھی امین ہے“۔باقی سب لوگوں نے کہا :”ہم سب آپ رضی اﷲ عنہ کو مختار بنانے پر رضامند ہیں“۔لیکن حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ خاموش رہے ۔اِس پر عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے ابو الحسن رضی اﷲ عنہ ! (حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی کنیت ہے )آپ کی کیا رائے ہے؟“حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ مجھ سے پختہ عہد کریں کہ آپ رضی اﷲ عنہ حق و صداقت کو ترجیح دیں گے اور نفسانی خواہشات کی پیروی نہیں کریں گے اور کسی رشتہ دار کے ساتھ رعایت نہیں کریں گے اور قوم کے ساتھ خیر خواہی کرنے میں کوتاہی نہیں کریں گے“۔

مجلس شوریٰ کا عہد

مجلس شوریٰ کے تمام ارکان حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو ”حَکم“(فیصلہ کرنے والا) بنانے پر راضی ہوگئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم سب بھی مجھ سے پختہ عہد کرو کہ تم سب مخالف اور تبدیل ہونے والے کے مقابلے میں میرا ساتھ دو گے اور جس شخص کا خلیفہ کے طور پر میں انتخاب کروں تو تم اسے تسلیم کرو گے“ ۔ تما م ارکان مجلس نے عہد لیا اور خود اُن سے بھی عہد کیا۔اِس کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے تمام ارکان مجلس سے تنہائی میں بات چیت کی اور اُن کا انتخاب پوچھا۔

حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی رائے

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے خلیفہ کے انتخاب کے بارے میں دریافت فرمایا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ رضی اﷲ عنہ ارکان ِ مجلس میں سب سے زیادہ اِس معاملے(خلافت ) کے حقدار ہیں کیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ کی (رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ) قریبی رشتہ داری ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔دین داری میں آپ رضی اﷲ عنہ کی اچھی شہرت ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ خود بھی اپنے آپ کو حق سے الگ خیال نہیں کرتے ہیں ۔اگر آپ رضی اﷲ عنہ کو موقع دیا جائے اور آپ رضی اﷲ عنہ اِس مجلس میں نہ ہوںتو اِس صورت میں آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے کے مطابق خلافت کا کون زیادہ حقدار ہو گا؟ “حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ“ (حقدار ہیں)۔

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی رائے

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے بھی رائے لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔پھر حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ تنہائی میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے ملے اور یہ فرمایا ؛”آپ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ آپ رضی اﷲ عنہ بنو عبد مناف کے شیخ ہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے داماد اور اُن کے چچا زاد بھائی ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ ”السابقون الاولون“میں سے ہیں ۔اگر آپ رضی ا ﷲ عنہ اِس مجلس میں شریک نہ ہوں اور آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس مجلس میں سے کس کواِس ( خلافت) کا زیادہ مستحق سمجھتے ہیں؟“حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کو“ ۔

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کی تحقیق 

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد بقیہ ”ارکان ِ مجلس “سے الگ الگ ملاقات کی اور اُن کی رائے معلوم کی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھرحضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ تنہائی میں حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ سے ملے اور اُن کی رائے معلوم کی تو انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا نام لیااور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا نام لیا۔ اِس کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے بھی اُن کی رائے معلوم کی اور راتوں کو گشت کر کے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم اور اُن کے سپہ سالاروں اور معزز افراد سے ملاقاتیں کرتے رہے جو اُس وقت مدینہ¿ منورہ میں موجود تھے اور اُن سے (خلیفہ کے انتخاب کے بارے میں) رائے معلوم کرتے رہے ۔اکثریت کی رائے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے بارے میں تھی۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔اہل شوریٰ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو اختیار دے دیا کہ وہ مسلمانوں کے افضل آدمی کے لئے کوشش کریں اور خلافت اُس کے سپرد کر دیں۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے پہلے اکیلے میں اہل شوریٰ کی رائے لی ،پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں اور اُن کے سرداروں سے رائے لی اور سب کی رائے لینے لگے۔حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے پردہ نشین عورتوں ،مدرسہ کے لڑکوں مدینہ¿ منورہ کی طرف آنے والے لوگوں اور بدوو¿ں(دیہاتیوں) سے بھی تین دن اور تین رات مسلسل رائے لیتے رہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے تین دن اور تین رات لوگوں کی رائے لینے کے لئے خوب کوشش کی اور زیادہ نیند نہیں لی اور استخارہ کرتے اور لوگوں کی رائے معلوم کرتے ہوئے وقت گذارا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


05 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


05 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 5

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر خلافت کا بوجھ، حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی بیعت، حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کی بیعت، پہلا خطبہ ، پہلا فیصلہ ، پہلی روایت ،دیت ادا کر کے چھوڑ دیا، دوسری روایت ،مقتول کے ورثا کے حوالے کردیا

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر خلافت کا بوجھ

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ مسلسل تین دن اور تین رات تک سب لوگوں کی رائے معلوم کرتے رہے اور آخر کار ایک نتیجے پر پہنچ گئے۔چوتھے دن صبح آپ رضی اﷲ عنہ مسجد میں پہنچے اور اعلان کروایا۔علامہ عمد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہم سے ملاقات کی اور دونوں سے عہد لیا کہ اگر انہیں خلیفہ بنایا جائے گا تو عدل سے کام لیں گے۔پھر تینوں حضرات رضی اﷲ عنہم مسجد کی طرف گئے اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے وہ عمامہ باندھا ہوا تھا جو رسول ا صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں پہنایا تھا اور تلوار لٹکائی ہوئی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ”الصلاة الجامعہ“کا اعلان کر دیا اور مسجد لوگوں سے بھر گئی ۔ آپ رضی اﷲ عنہ منبر پر چڑھے اور دعا کی پھر فرمایا :”اے لوگو ! میں نے پوشیدہ اور اعلانیہ تمہاری رائے پوچھی اور میں نے تم کو حضرت عثمان غنی اور حضرت علی رضی اﷲ عنہم کے برابر کسی کو قرار دیتے نہیں دیکھا ہے۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم کو بلا کر خلافت کے متعلق وعدہ لیا ۔اِس کے بعد فیصلہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حق میں دیا کہ اکثریت ان کے ساتھ ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور مسجد کی چھت (یعنی آسمان) کی طرف سر اُٹھا کر فرمایا:”اے اﷲ ! سُن اور گواہ رہ ، اے اﷲ ! سُن اور گواہ رہ ، اے ا ﷲ ! سُن اور گواہ رہ ، اے اﷲ ! میں نے وہ ذمہ داری حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی گردن میں ڈال دی ہے جو میری گردن میں پڑی ہوئی تھی۔پھر لوگ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی بیعت کرنے لگے اور بھیڑ بہت زیادہ تھی ۔

حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی بیعت

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر

 منبر پر بٹھا دیااور لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم منبر پر جس سیڑھی پر بیٹھتے تھے ،اُس پر خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کبھی نہیں بیٹھے ۔جس سیڑھی پرخلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے ،اُس سیڑھی پر خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کبھی نہیں بیٹھے اور جس سیڑھی پر خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے ،اُس پر خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کبھی نہیں بیٹھے۔لوگ جلدی جلدی آگے بڑھ کر بیعت کر رہے تھے اور بھیڑ کی وجہ سے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ پیچھے رہ گئے ۔یہ دیکھ کر حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”جو عہد شکنی کرے گا ،اُس کی عہد شکنی اُس کی ذات کے لئے نقصان دہ ہو گی اور جس نے اﷲ سے کیا ہوا معاہدہ پورا کیا تو وہ عنقریب اُسے بہت بڑا ثواب عطا فرمائے گا۔“یہ سنتے ہی حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ تیزی سے بھیڑ کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لی اور خلافت کا بوجھ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے کاندھوں پر آگیا

حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کی بیعت

خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی سب نے بیعت کرلی تو حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ بھی آگئے۔علامہ محمد بن جریر طبری رضی اﷲ عنہ لکھتے ہیں۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ اُس دن آئے جس دن حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تھی ۔لوگوں نے کہا :”تم بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لو۔“انہوں نے فرمایا :”کیا تمام اہل قریش اُن کی حمایت کرتے ہیں ؟“لوگوں نے کہا :”ہاں ۔“پھر وہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”تمہیں اِس معاملے کا اختیار ہے ،اگر تم انکار کرو گے تو میں اِس معاملے کو لوٹا دوں گا (یعنی خلافت کی ذمہ داری سے ہٹ جاو¿ں)۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”کیاآپ رضی اﷲ عنہ سے لوٹا دیں گے؟“خلیفہ¿ سوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”ہاں “حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”کیا تمام لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے؟“خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جی ہاں ۔“یہ سن کر حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”میں بھی بیعت کرنے پر رضامند ہوں ،میں لوگوں کے متفقہ فیصلہ سے الگ رہنا نہیں چاہتا ہوں ۔“یہ فرما کر انہوں نے بھی بیعت کر لی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔ بیعت عامہ کے دن حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ آئے۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”تُم کو اختیار ہے اگر تم میری بیعت سے انکار کر دو تو میں خلع خلافت کردیتا ہوں۔“حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”کیا سب نے بیعت کر لی ہے؟“حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”جی ہاں۔“حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”میں اس سے اختلاف نہیں کرنا چاہتا جس پر سب نے اتفاق کر لیا ہے ،میں آپ رضی اﷲ عنہ کی خلافت سے راضی ہوں۔“

پہلا خطبہ 

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی سب لوگوں نے بیعت کر لی تو آپ رضی اﷲعنہ منبر پر کھڑے ہوئے پہلا خطبہ¿ خلافت دیا۔سب سے پہلے آپ رضی اﷲ عنہ اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا پھر فرمایا :”اے لوگو ! تم قلعہ بند گھر میں (اپنے آپ کو سمجھتے )ہو اور اپنی عُمر کے بقیہ حصے میں ہو ۔اِس لئے اپنی (باقی ماندہ) زندگی میں جلد سے جلد نیک کام سر انجام دو اور جو نیک عمل کر سکتے ہو اُس سے دریغ نہ کر و،کیونکہ تمہیں صبح یا شام اِس دنیا سے چلا جانا ہے ۔ آگاہ ہو جاؤ ! یہ دنیا مکرو فریب میں لپٹی ہوئی ہے ،اِس لئے تمہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا نہ کر دے ۔تم گذری ہوئی باتوں سے عبرت حاصل کرو اور سرگرمی کے ساتھ نیک کام کرو اور غافل نہ رہو۔کیونکہ وہ (اﷲ تعالیٰ ) غافل نہیں ہے۔وہ دنیا دار اور اُن کی اولاد کہاں ہیں؟جنہوں نے دنیا میں بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کیں اور لمبے عرصے تک دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔کیا دنیا نے انہیں چھوڑ نہیں دیا ہے ؟ تُم بھی دنیا کو وہیں پھینک دو جہاں اﷲ تعالیٰ نے اُسے پھینکا ہوا ہے ۔(اس کے بجائے تم )آخرت کے طلب گار بنو ۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے دنیا کی کیا ہی اچھی مثال دی ہے اور فرمایا ہے :”(اے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ! ) تُم انہیں دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو کہ وہ اُس پانی کی طرح ہے جسے ہم نے آسمان سے نازل کیا اور اُس میں زمین کی روئیدگی مل گئی ((اور ہر چیز اُگنے کے بعد) وہ چورا ہو گئی (یعنی گھاس پھوس) جسے ہوائیں اُڑاتی پھرتی ہیں اور اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک بہتر ثواب اور بہتر اُمید کا باعث ہے“۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ منبر سے اُتر آئے ۔

پہلا فیصلہ 

خلیفہ بننے کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے سامنے پہلا مقدمہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت عبید اﷲ بن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا پیش کیا گیا۔اِن کا واقعہ یہ تھا کہ حضرت عبید اﷲ بن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہوا کہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا قاتل ابو لولوة حملے سے ایک یا دو دن پہلے ایک نصرانی جس کا نام جفینہ تھا (یہ ملک عراق کا باشندہ تھا) اور ہرمزان سے ملا تھا اور اُس کے ہاتھ میں وہی خنجر تھا جس سے اُس نے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پر حملہ کیا تھا۔(ہرمزان آپ کو یاد ہوگا ،ہم نے اِس کے بارے میں خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں تفصیل سے بتایا تھا کہ یہ ملک عراق میں سلطنت فارس کے بڑے سپہ سالاروں میں سے ایک تھا اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اُسے گرفتار کر کے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں مدینہ¿ منورہ بھیج دیا تھا ۔یہاں اُس نے خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ کی سادگی اور عدل کو دیکھا تو بہت متاثر ہوا اور اسلام قبول کرلیا ۔ہرمزان مدینہ¿ منورہ میں ہی بس گیا اور اپنے بیوی بچوں کو بھی بلا لیا اور انہوں نے بھی اسلام قبول کرلیا تھا۔)حضرت عبید اﷲ بن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جفینہ اور ہرمزان کو قتل کردیا ۔انہیں مسلمانوں نے گرفتار کر کے قید کرلیا تھا ۔خلیفہ بننے کے بعد حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا اور تمام واقعہ سنانے کے بعد اُن کے بارے میں فیصلہ کرنے کو کہا گیا۔خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اِس مقدمے کا کیا فیصلہ کیا اِس کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ہم دونوں آپ کی خدمت میں پیش کر دیتے ہیں۔ 

پہلی روایت ،دیت ادا کر کے چھوڑ دیا

خلیفۂ سوم رضی اﷲ عنہ نے منصب خلافت سنبھالتے ہی پہلے مقدمے کا کیا فیصلہ کیا اِس بارے میں علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت فارو ق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے دوسرے دن حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے کہا :”میں نے حملے سے پہلے ہرمزان ،ابو لولوة اور جفینہ کو ایک جگہ مشورہ کرتے دیکھا تھا اور وہی خنجر ہرمزان کے ہاتھ میں تھا جس سے ابولولوة نے حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ پر حملہ کیا تھا ۔مجھے دیکھ کر یہ لوگ خاموش ہو گئے تھے اور خنجر ہرمزان کے ہاتھ سے گر پڑا تھا ۔حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ہرمزان کو قتل کر دیا ۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے دوڑ کر حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو گرفتار کر لیا۔اگلے دن خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دربار ِ خلافت میں یہ مقدمہ پیش ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مہاجرین اور انصار صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ طلب کیا۔کچھ صحابہ رضی اﷲ عنہم نے قتل کرنے کا مشورہ دیا اور کچھ صحابہ رضی اﷲ عنہم نے دیت دینے کا مشورہ دیا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے دیت دے کر حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو آزاد کر دیا۔

دوسری روایت ،مقتول کے ورثا کے حوالے کردیا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے دوسری روایت کے مطابق حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو مقتول کے ورثا کے حوالے کر دیا اور انہوں نے اﷲ کی رضا کی خاطر انہیں چھوڑ دیا ۔ یہ روایت علامہ محمد بن جریر طبری ،ہرمزان کے بیٹے فحاذ بان بن ہرمزان کی زبانی بیان کرتے ہیں۔”اہل عجم “(ملک عرب کے باہر سے آکر بسے لوگ) مدینۂ منورہ میں ایک دوسرے سے ملتے رہتے تھے ۔ایک دفعہ ابولولوة میرے والد کے پاس سے گزرا ، اُس کے ہاتھ میں درمیانی دستے کا دوہری دھار والا خنجر تھا (میرے والد) نے اُسے پکڑا اور پوچھا :”تُم اِس ملک میں اِس کاکیاکرو گے؟ “ اُس نے کہا:”میں اِسے استعمال کروں گا ۔“ایک آدمی نے انہیں اِس حالت میں دیکھ لیا تھا ۔ جب خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پر حملہ ہوا تو اُس شخص نے کہا :”میں نے اِس (قاتل) کو ہرمزان کے ساتھ دیکھا تھا اُس نے یہ خنجر ابولولو ة کو دیا تھا ۔یہ سن کر حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ہر مزان کو قتل کر دیا ۔جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا اور حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو میرے حوالے کردیا اور فرمایا :”اے میرے فرزند ! یہ تمہارے والد کا قاتل ہے اور تم ہم سے زیادہ اِس پر حق رکھتے ہو ،جاو¿ اور جو سلوک کرنا چاہو کرو ۔“انہیں میں اپنے ساتھ لے گیا ،اُس وقت اس مقام کا ہر شخص میرے ساتھ تھا اور مجھے مشورہ دے رہا تھا ۔میں پوچھا :”کیا میں انہیں قتل کر سکتا ہوں ؟“ لوگوں نے کہا :”ہاں“ میں نے پوچھا :”کیا آپ لوگ مجھے اِن کے قتل سے منع کرتے ہیں ؟“لوگوں نے کہا :”نہیں“ پھر میں نے اﷲ کی رضا کی خاطر حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی ا ﷲعنہ کو آزاد کر دیا ۔میرے اِس فیصلے سے لوگ اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے مجھے اپنے کاندھوں پر اُٹھا لیا ۔اﷲ کی قسم ! میں لوگوں کے کاندھوں اور ہاتھوں پر سوار ہو کر اپنے گھر پہنچا ۔“دونوں روایات ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کردی ۔حقیقت کا علم صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔واﷲ و اعلم ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


06 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


06 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 6

گورنروں(حکام) کی تقرری اور معزولی، گورنروں (حکام ) کو احکامات، محصولین کو احکامات، عوام کو احکامات، سپہ سالاروں کو احکامات، خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی اصلاحات، 24 ہجری میں اسلامی فوجی مراکز، فتح آذربائیجان و آرمینیہ، آذربائیجان اور آرمینیہ والوں کی بغاوت، باغیوں کی سرکوبی

گورنروں(حکام) کی تقرری اور معزولی 

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے خلافت کا بوجھ سنبھالنے کے بعد اسلامی صوبوں میں گورنروں(حکام )کی تقرری اور معزولی فرمائی۔یہاں ہم صرف چند کا ذکر کریں گے اور پھر آگے موقع محل کے مطابق ذکر کرتے جائیں گے۔خلیفہ¾ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے کوفہ کی گورنری سے استفاءدے دیا تھا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں دوبارہ کوفہ کا گورنر مقرر فرمایا۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو بد ستور بصرہ کی گورنری پر قائم رکھا۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی وصیت کے مطابق معزول کر دیا۔ معزولی کی وجہ خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے بیان کی :”میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو کسی جرم یا خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے بلکہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی وصیت کے مطابق معزول کیا ہے۔“حضرت عبد اﷲ بن عامر رضی اﷲ عنہ کو ”کابل “(حالیہ افغانستان )کا گورنر (حاکم ) مقرر فرمایا جو اُس وقت ”سجستان “کی عملداری میں تھا ۔سجستان کا علاقہ اُس وقت ” خراسان “ سے بھی بڑا تھا۔ملک شام میں اپنی خلافت کے آخری دنوں میں خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو کچھ علاقے کاگورنر مقرر کیا تھا ،حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں مکمل ملک شام کا گورنر بنا دیا اور آخر تک بر قرار رکھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک سال بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کی گورنری سے سبکدوش کر کے ولید بن عقبہ کو کوفہ کا گورنر بنایا ۔اِس کا ذکر انشاءاﷲ ہم آگے کریں گے۔

گورنروں (حکام ) کو احکامات

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے خلافت کا بوجھ سنبھالنے کے بعد مملکت ِ اسلامیہ کے تمام صوبوں کے گورنروں (حکام ) کو احکامات لکھ کر بھیجے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنا پہلا حکم نامہ جو گورنروں کا لکھ کر بھیجا وہ یہ ہے :”اﷲ تعالیٰ نے گورنروں (حکام) کو حکم دیا ہے کہ وہ رعایا (عوام) کے محافظ بنیں۔اوائل اسلام کے لوگ صرف خراج جمع کرنے والے نہیں تھے بلکہ عوام کے نگہبان تھے۔لیکن مجھے ڈر ہے کہ تم لوگ اُمت کی نگہبانی کے فرائض چھوڑ کر کہیں خراج جمع کرنے میں نہ لگ جاو¿۔اگر تم ایسا کرو گے تو حیا ،امانت اور وفا کا جذبہ تم میں سے اُٹھ جائے گا ۔بہترین عدل یہ ہے کہ مسلمانوں کے امور پر غور کرو ،جو اُن کا حق ہے وہ انہیں دو اور جو تمہارا اُن پر حق ہے وہ اُن سے لو۔اِس کے بعد ملکر دشمن کی طرف متوجہ ہو اور اُس پر فتح پاؤ اور جو اُس سے وعدہ کرو وہ ضرور پورا کرو ۔“ 

محصولین کو احکامات

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے صدقات ، ذکوٰة اور خراج کی وصولی کرنے والوں کو یہ احکامات لکھ کر بھیجے:”اﷲ تعالیٰ نے حق و صداقت پر مخلوق کو پیدا فرمایا ہے،کیونکہ حق و صداقت کے سو ا کوئی چیز اُسے پسند نہیں ہے۔اِس لئے حق کے مطابق کوئی چیز وصول کرو اور صداقت پر قائم رہو۔تم ہمیشہ امانت داری اور دیانت داری کو اختیار کرو ،ایسا نہ ہو کہ تم ہی سب سے پہلے بد دیانتی کرنے لگو ۔اِس طرح تم مستقبل کے لوگوں کے لئے بد دیانتی کی راہ کھول دو گے اور اُن کے گناہوں میں تمہاری بھی شرکت مانی جائے گی۔“

عوام کو احکامات

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے عوام کو یہ احکامات لکھ کر بھیجے :” مسلمانو! تُم اِس بلند مرتبہ پر اﷲ کے احکام کی پیروی اور اطاعت کی بدولت پہنچے ہو ،دنیا کی مشغولیت تمہیں تمہارے فرائض سے غافل نہ کر دے۔یاد رکھو !اِس اُمت میں اُس وقت ذلت پھیل جائے گی جب تمہارے اندر تین باتیں جمع ہو جائیں گی۔(۱) نعمتوں کی تکمیل ( ۲) قیدی عورتوں اور باندیوں سے تمہاری اولاد پیدا ہونا (۳) اعرابی (دیہاتی ،بدو) اور اہل عجم قرآن پاک پڑھنے لگیں ،کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:”اہل عجم میں کفر کی بعض باتیں ہیں ،جب شریعت کا کوئی حکم اُن کی سمجھ میں نہیں آئے گا تو وہ بہ تکلف نئی نئی باتیں نکالیں گے۔“

سپہ سالاروں کو احکامات

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جس وقت خلافت کی ذمہ داری سنبھالی ،اُس وقت مختلف مقامات پر مسلمانوں کو لیکر اُن کے سپہ سالار دشمنوں سے حالت ِ جنگ میں تھے۔انہیں آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ احکامات لکھ کر بھیجے :”تُم مسلمانوں کے حامی اور محافظ ہو ۔خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے تمہیں جو ہدایات بھیجی تھیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں ،بلکہ ہمارے مشورے سے جاری کی گئیں تھیں۔لہٰذا تمہاری طرف سے اِس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہونا چاہیئے ،ورنہ اﷲ تعالیٰ تمہیں بھی تبدیل کر دے گا اور تمہارے بجائے دوسرے کو مقرر کر دے گا۔تم دھیان رکھو کہ تم کیسا کام کرتے ہو ؟اﷲ تعالیٰ نے میرے ذمہ جو کام مقرر کر دیئے ہیں ،میں اُن کی دیکھ بھال کر رہا ہوں۔“

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی اصلاحات

خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲعنہ نے مہاجرین و انصار صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم ،اُمہات المومنین رضی اﷲ عنہما ،مسلمان مردوں اور عورتوں یہاں تک کہ پید ہونے بچوں اور جنگ پر جانے والے مجاہدین اور سپہ سالاروں وغیرہ کے اُن کے مراتب کے لحاظ سے وظائف مقرر فرمائے تھے۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اِن میں سے ہر ایک کے وظائف میں سو ،سو درہم کا اضافہ کردیا۔اور متعبدین ، متکفین ، مسافروں ، فقراءاور مساکین کے لئے مساجد میں دستر خوان بنائے ۔ ماہِ رمضان المبارک میں ہر رات کے لئے بیت المال سے ایک درہم افطاری کے لئے مقرر کیا تھا اور اُمہات المومنین رضی اﷲ عنہما کے لئے دودو درہم مقرر فرمائے تھے۔ 

24 ہجری میں اسلامی فوجی مراکز

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جس وقت خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو اُس وقت تک مملکت اسلامیہ شمال میں ترکی کی سرحدوں تک ،مغرب میں ملک مصر کے آگے ،جنوب میں یمن تک اور مشرق میں کابل (حالیہ افغانستان) تک پھیلی ہوئی تھیں اور تین طرف یعنی مشرق ، مغرب اور شمال میں اسلامی لشکر غیر مسلموں سے حالت ِجنگ میں تھے۔اُس وقت ملک عراق اور ملک شام میں الگ الگ جگہوں پر فوجی مراکز تھے۔مشرقی سرحد کا انتظام سنبھالنے کے لئے ملک عراق میں” کوفہ“ اور” بصرہ“ اسلامی فوجی مراکز تھے ۔اہل کوفہ کے فوجی مراکز ”رے“اور” آذربائیجان“ تھے۔اُن کے دس ہزار مجاہدین میں سے چھ ہزار آذربائیجان میں تھے ،کیونکہ وہیں سے آرمینیا کی جنگ کی جا رہی تھی اور بقیہ چار ہزار ”رے“میں متعین تھے۔کوفہ میں ہر وقت چالیس ہزار مجاہدین تیار رہتے تھے،اِن میں سے ہر سال دونوں سرحدوں پر دس دس ہزار مجاہدین جنگ کرتے تھے۔اِسی طرح شمالی سرحد کا انتظام سنبھالنے کے لئے ملک شام میں ” دمشق “ اور ” حمص “ اسلامی فوجی مراکز تھے ۔یہاں سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پورے ملک شام اور ترکی کے سرحدی علاقوں کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔ اور اِسی طرح مغربی سرحد کا انتظام سنبھالنے کے لئے ملک مصر میں قلعہ ”بابلیون“اسلامی فوجی مرکز تھا اور پورے ملک مصر کا انتظام حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سنبھالے ہوئے تھے۔

24 ہجری اور 25 ہجری

خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ 23 ہجری کے آخر میں شہید ہوئے اور خلیفۂ سُو م حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ 24 ہجری کی شروعات میں خلیفہ بنے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اِن دو برسوں میں بہت سی اصلاحات کیں ۔اِسی دوران حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کی گورنری سے سبکدوش کر کے اپنے رشتہ دارولید بن عقبہ کو کوفہ کا گورنر بنایا۔بقیہ گورنروں اور سپہ سالاروں کو اپنی جگہ قائم رکھا ۔اِن میں سے چند کا ذکر ہم کر دیتے ہیں ۔ملک عراق میں بصرہ کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ تھے اور کوفہ کے گورنر ولید بن عقبہ۔ملک شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ تھے اور ملک مصر کے گورنر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ تھے ۔اِسی سال حضرت عبد اﷲ بن سرح نے افریقہ پر حملہ کرنے کی اجازت طلب کی تو انہیں اجازت مل گئی۔اِس سال خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا۔اِسی سال 25 ہجری میں یزید بن معاویہ پیدا ہوا۔(طبری)

فتح آذربائیجان و آرمینیہ

خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں ہی مسلمانوں نے آذربائیجان کو فتح کر لیا تھا ۔اِس کا تفصیلی ذکر ہم خلیفۂ دُوم رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں کر چکے ہیں۔آذربائیجان پہاڑی علاقہ ہے اور خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق کے دورِ خلافت میں ہی حضرت بکیر بن عبد اﷲ اور حضرت عتبہ بن فرقد نے آذربائیجان اور آرمینیہ کو فتح کر لیا تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سراقہ بن عمرو کو ”باب“اور ”دربند“پر حملہ کرنے کا حکم دیا اور حضرت حبیب بن سلمہ فہری کو حضرت سراقہ بن عمرو کی مدد کرنے کا حکم دیا تھا ۔جب حضرت سراقہ بن عمرو ”باب“کی فتح سے فارغ ہوئے تو اپنے کمانڈروں کو لشکر دیکر آرمینیہ کے علاقوں کی فتوحات کے لئے روانہ کیا۔حضرت بکیر بن عبد اﷲ نے ”موقان“فتح کیا ،حضرت حبیب بن مسلمہ نے ”تغلیس “فتح کیا اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے ”قوقاذ“کو فتح کر لیا تو حضرت سراقہ بن عمرو پورے اسلامی لشکر کو لیکر مغربی آرمینیہ اور آئیبیریا کی طرف بڑھے۔راستے میں حضرت سراقہ بن عمرو کا انتقال ہو گیا تو حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ باہلی کو اُن کی جگہ سپہ سالار بنایا گیا۔انہوں نے ”بحر خزر“کے اکثر ساحلی شہروں پر قبضہ کر لیا، لیکن ابھی اِس فتح کو مستحکم نہیں کر پائے تھے کہ خلیفہ¿ دُوم رضی اﷲ عنہ کی شہادت کاواقعہ پیش آ گیا اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے خلافت کا بوجھ سنبھالا۔

آذربائیجان اور آرمینیہ والوں کی بغاوت

مسلمان سپہ سالاروں کا یہ قاعدہ تھا کہ جس علاقے کو فتح کرتے تھے اُس علاقے پر وہیں کے لوگوں میں سے کسی کو حاکم بنا دیتے تھے اور اُس کی نگرانی کے لئے چند مسلمانوں کو چھوڑ دیتے تھے اور آگے بڑھ جاتے تھے۔یا پھر اُس علاقے کا حکمراں مسلمانوں سے سالانہ خراج پر صلح کرلیتا تھا تو وہاں کا حکمراں اُسے ہی رہنے دیتے تھے اور اُس سے سالانہ خراج کی وصولی کے لئے مسلمانوں کو مقرر کر کے آگے بڑھ جاتے تھے۔اِس طرح مفتوحہ علاقوں میں مسلمانوں کی فوجی چھاونیاں نہیں تھیں ۔ ہاں ضرورت کے مطابق عارضی فوجی چھاونیاں قائم کی جاتی تھیں اور اسی کے مطابق مجاہدین کو مقرر کیا جاتا تھا۔دراصل ہر مفتوحہ علاقے میں لشکر (فوج) رکھنا ممکن نہیں تھاکیونکہ اگر ہر مفتوحہ علاقے میں ایک ایک لشکر چھوڑ دیا جاتا تو آگے کی فتوحات رُک جاتیں اور مسلمان مجاہدین تھوڑے تھوڑے ہر مفتوحہ علاقے میں بٹ جاتے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی ہوا اُکھڑ جاتی اور اسلامی لشکروں کا دبدبہ اور رعب ختم ہو جاتا۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں آذربائیجان اور آرمینیہ کے حاکموں نے بغاوت کردی ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو اِس کی خبر ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو اِس بغاوت کی سرکوبی کرنے کا حکم دیا۔

باغیوں کی سرکوبی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت حبیب بن مسلمہ فہری کو چھ ہزار کا لشکر دیکر آذربائیجان روانہ کیا ۔انہوں نے وہاں پہنچ کر ”تالیقلا“کا مستحکم قلعہ جزیہ کی شرط پر فتح کر لیا اوروہاں کے مسلمانوں کو منظم کرکے اسلامی لشکر میں شامل کرنے لگے۔انہیں خبر ملی کہ آرمینیہ کے حکمراں نے مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے ایک بہت بڑا لشکر جمع کر رکھا ہے۔حضرت حبیب بن مسلمہ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے مزید کمک بھیجنے کی درخواست کی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے کوفہ کے گورنر ولید بن عقبہ کو کمک بھیجنے کا حکم دیا ۔ اُس نے حضرت سلمان بن ربیعہ کو بارہ ہزار مجاہدین کا ایک لشکر دیکر آرمینیہ روانہ کیا ۔اِس لشکر کے پہنچنے سے پہلے ہی حضرت حبیب بن مسلمہ کے لشکر کا آرمینیہ کے حکمراں کے لشکر سے مقابلہ ہو گیا ۔انہوں نے اسلامی لشکر کے ساتھ صبح صادق کے وقت اچانک حملہ کیا ۔اُس وقت آرمینائی لشکر غفلت کی نیند میں تھا ،مسلمانوں نے اُن کا قتل عام کرنا شروع کر دیا اور فتح حاصل کی۔حضرت سلمان بن ربیعہ اپنا لشکر لیکر پہنچے تو فتح حاصل ہو چکی تھی ۔اِس کے بعد دونوں سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر آگے بڑھے ااور حضرت سلمان بن ربیعہ نے مشرقی آرمینیہ کو فتح کیا اور حضرت حبیب بن مسلمہ نے مغربی آرمینیہ کو فتح کیا۔ اِس طرح پورے آرمینیہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


07 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3



07 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ


تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


قسط نمبر 7


سال 26 ہجری حرم کعبہ میں توسیع ، اسکندریہ ہاتھ سے نکل گیا، مسلمانوں کی فتح، اسکندریہ کی واپسی، 27 ہجری :شمالی افریقہ میں پیش قدمی، گریگوری (جرجیر) کو اسلام کی دعوت، دشمن کی چال اُسی کو واپس


سال 26 ہجری حرم کعبہ میں توسیع 


خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اِس سال یعنی 26 ہجری میں ”حرم ِ کعبہ “ میں توسیع کا حکم دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔انہوں نے آس پاس کے لوگوں سے توسیع حرم کے لئے زمینیںخرید لی ،اُن میں سے کچھ لوگوں نے انکار کیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کے مکانات گرا دئے اور اور اُن کی قیمتیں بیت المال میں جمع کروادیں ۔اُن لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس جا کر چیخ و پکار کی تو اُن سے فرمایا :”میرے حِلم اور بُرد باری کی وجہ سے تمہیں یہ جرا¿ت ہوئی ہے ،جب تمہارے ساتھ خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس قسم کی کاروئی کی تھی تو تم اُن پر نہیں چیخے چلائے تھے۔“اور انہیں قید کرنے کا حکم دے دیا۔آخر کار حضرت عبد اﷲ بن خالد بن اُسید کی سفارش پر انہیں رہا کر دیا اور اُن کی منہ مانگی قیمتیں انہیں ادا کیں۔ 
﴾ملک مصر میں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی اصلاحات﴿
خلیفہ¿ دُوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ملک مصر فتح کر لیا تھا اور خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے انہیں ملک مصر کا گورنر (حاکم ) بنا دیا تھا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ملک مصر کا انتظام بہت ہی حکمت سے سنبھالا ۔عوام پر کم سے کم ٹیکس لاگو کیا اور انہیں اُن کے مذہب پر آزاد چھوڑ کر مانوس کرنے کی حکمت عملی اپنائی اور انہیں اپنا معیار ِزندگی بلند کرنے میں اُن کی ہر ممکن مدد کی۔ اِس طرح ملک مصر کے باشندوںنے اسلام اور مسلمانوں کے کردار کو دیکھا اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے نظام ِ حکومت اتنے بہترین طریقے سے چلایا کہ ملک مصر کے باشندے اسلام سے متاثر ہو گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں کے گرویدہ ہو گئے۔اُس وقت ”اسکندریہ“ملک مصر سے الگ ایک ملک تھا اِس لئے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے وہاں کے حکمراں سے سالانہ جزیہ پر صلح کرلی اور سالانہ خراج کی نگرانی اور وصولی کے لئے ایک ہزار کا لشکر وہیں تعینات کر دیا۔ جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ خلیفہ بنے تو لگ بھگ دو ڈھائی سال تک حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ملک مصر کا گورنر(حاکم) بنائے رکھا پھر ۶۲ ہجری میںآپ رضی اﷲ عنہ کو سبکدوش کر کے اپنے رشتہ دار عبد اﷲ بن سعد کو ملک مصراور اسکندریہ کا گورنر اور وزیر خزانہ بنا دیااور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے اختیارات میں کمی کر دی 

اسکندریہ ہاتھ سے نکل گیا


حضرت عمر وبن عاص رضی اﷲ عنہ کی جگہ عبد اﷲ بن سعد نے ملک مصر کا انتظام سنبھالا ۔ اُس میں وہ صلاحیت نہیں تھی جو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ میں تھی ۔اِس لئے ملک مصر کی عوام دھیرے دھیرے اُس سے بد ظن ہونے لگی اوراسکندریہ کے سرداروں نے تو باقاعدہ بغاوت کی کاروائی شروع کر دی۔ اُس وقت سلطنت روم یورپ تک سِمٹ کر رہ گئی تھی اور اُس کا ”صدر مقام “ (راجدھانی) ”قسطنطنیہ“تھا۔ہرقل قیصر کا انتقال ہو چکا تھا اور اُس کا بیٹا ”قیصر“یعنی سلطنت روم کا بادشاہ تھا۔اُس سے اسکندریہ کے رومی سرداروں نے خفیہ مراسلت کی اور بحری بیڑوں کے ذریعے اچانک اسکندریہ پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔قیصر (رومی بادشاہ) نے تین سو جنگی بحری جہازوں کا ایک بیڑہ تیار کیا اور اُس کا سپہ سالار ”مانویل“کو بنایا۔عبد اﷲ بن سعد پوری طرح سے اسکندریہ سے غافل تھا ،مانویل نے رومی بحری بیڑے کو رات کی تاریکی میں بڑی خاموشی کے ساتھ ساحل سے لگا دیا ، اسکندریہ کے عیسائیوں نے اُس کی مدد کی اور وہاں موجود مسلمانوں کے لشکر کو گھیر لیا۔انہوں نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا لیکن رومی لشکر نے سب کو شہید کردیا اور اسکندریہ پر رومیوں کا قبضہ ہو گیا۔

مسلمانوں کی فتح


اسکندریہ پر قبضہ کرنے کے بعد مانویل آگے بڑھا اور ملک مصر پر حملہ کر کے بلا دریغ عوام کو قتل کرنے لگا اور شہروں کو جلانے لگا۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں نے اُس کے خلاف ہتھیار اُٹھا لیا اور مصری(قبطی) عوام جنہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا انہوں نے بھی مسلمانوں کے ساتھ ملکر رومیوں کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو رومی حملے اور اسکندریہ پر قبضے کی خبر ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو اسلامی لشکر کا سپہ سالار بنا دیا اور رومیوں سے مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ پندرہ ہزار مسلمان مجاہدین کو لیکر رومیوں کے مقابلے پر آئے ،اِس لشکر میں غیر مسلم مصری بھی شامل ہو گئے ۔ادھر مانویل شہروں کو فتح کرتا اور جلاتا ہوا ”بابلیون“تک پہنچ چکا تھا جو مسلمانوں کی فوجی چھاونی تھی۔حضرت عمر بن عاص رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر آگے بڑھے اور قلعہ نقیوس کے قریب ساحل سمندر پر دونوں لشکر ایکدوسرے کے سامنے صف آراءہو گئے اور جنگ شروع ہو گئی ۔یہ جنگ اِس بات کا فیصلہ کرنے والی تھی کہ کون ملک مصر پر قابض رہے گا؟اِسی لئے مسلمان اور رومی دونوں نے ایکدوسرے پر شدید حملے کئے ۔گھمسان کی جنگ چل رہی تھی اور مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے لگے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے گھوڑے کو ایک تیر لگ گیا اور وہ سواری کے قابل نہیں رہا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے پید ل ہی دشمنوں پر حملہ کر دیا اور دشمنوں کی صفوں کو چیر کر رکھ دیا۔مسلمانوں نے اپنے سپہ سالار کی یہ شجاعت دیکھی تو اتنے جوش سے ایک ساتھ حملہ کیا کہ رومیوں کے پیر اُکھڑ گئے اور وہ شکست کھا کر بھاگنے لگے۔

اسکندریہ کی واپسی


حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں مسلمانوں نے رومیوں پر فتح حاصل کی اور رومی جان بچا کر اسکندریہ کی طرف بھاگے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ایک تازہ دم گھوڑے پر سوار ہوئے اور لشکر کو حکم دیا کہ رومیوں کا تعاقب کرو۔بھاگے ہوئے رومیوں نے اسکندریہ کے قلعوں میں پناہ لی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ قلعوں کا محاصرہ کر لیا۔جب محاصرہ طول کھنچنے لگا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے قلعوں کی فصیلوں کو توڑنے کا حکم دے دیا۔تمام قلعوں کی فصیلوں کو توڑ دیا گیا اور تمام رومیوں کو قتل کر دیا گیا ۔اُن کا سپہ سالار مانویل بھی قتل کر دیا گیا ،کچھ رومیوں نے جو پہلے ہی بھاگ کر اپنے بحری بیڑے میں چلے گئے تھے ،صرف وہی جان بچا سکے اور انتہائی شرمناک شکست کھا کر کچھ جہاز لیکر قسطنطیہ بھاگ گئے اور باقی جہازوں پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔اِس طرح اسکندریہ رومیوں سے پاک ہو گیا اور جن مقامی رومیوں نے مصریوں کے مال و جائداد پر قبضہ کر لیا تھا اُس کے بارے میں مصریوں نے شکایت کی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے تفتیش کے بعد مصریوں کے مال و جائدا دانہیں واپس دلائے۔اِس کے بعد عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ میں کچھ تنازعہ ہوا تو خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ عنہ کو مدینۂ منورہ واپس بلا لیا۔

27 ہجری :شمالی افریقہ میں پیش قدمی


خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں جب حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ملک مصر فتح کیا تھا تو آگے بڑھ کر شمالی افریقہ کے شہر برقہ کا رخ کیا اور وہاں کے رہنے والوں نے تیرہ ہزار دینار جزیہ دیکر صلح کر لی تھی۔خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو آگے بڑھنے سے منع کر دیا تھا اور ملک مصر کے انتظام پر توجہ دینے کا حکم دیاتھا ۔خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جب عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو ملک مصر کا گور نر بنایا تو اُس نے شمالی افریقہ میں پیش قدمی کی اجازت مانگی جو خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ نے دے دی۔(ہمارے وقت میں پورے بر اعظم افریقہ کو ”افریقہ“کہا جاتا ہے اور طرابلس ، طنجہ ، تیونس اور مراقش ”شمالی افریقہ“میں آتے ہیں۔لیکن اُس وقت اِسی شمالی افریقہ کو ہی ”افریقہ“کہا جاتا تھااور اِسی لئے اُس وقت کے مورخین نے افریقہ ہی لکھا ہے۔)اُس وقت شمالی افریقہ پر ”گریگوری“(جرجیر) حکمراں تھا جو سلطنت روم کو خراج ادا کیا کرتا تھا۔اِس علاقے میں رومی اور بربری کثرت سے آباد تھے ۔ 26 ہجری میں خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو شمالی افریقہ میں پیش قدمی کی اجازت دی اور حوصلہ افزائی کے لئے لکھا کہ اگر اﷲ تعالیٰ تمہیں فتح و کامرانی عطا فرمائے گا تو مال غنیمت کے خمس کا خمس ”حسن خدمت“کے صلہ میں تم کو دیا جائے گا۔

گریگوری (جرجیر) کو اسلام کی دعوت


خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو شمالی افریقہ میں آگے بڑھنے کی اجازت دے دی۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت عثمان ذوالنورین رضی اﷲ عنہ نے عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو افریقہ میں آگے بڑھنے کی اجازت دے دی اور فرمایا :”اگر اﷲ تعالیٰ کامیابی و فتح یابی عنایت فرمائے گا تو مال غنیمت کے خمس کا خمس (یعنی پانچویں حصے کا پانچواں حصہ) ” حسن خدمت “ کے صلہ میں تمہیں دیا جائے گا۔“لشکر کے ایک حصہ کا کمانڈر حضرت عتبہ بن نافع بن عبد القیس رضی اﷲ عنہ کو اور دوسرے حصہ کا کمانڈر حضرت عبد اﷲ بن نافع بن حارث کو بنایا۔دس ہزار مجاہدین کو لیکر عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح اُسوقت کے افریقہ کی سرحد پر پہنچ گیا اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے افریقہ کے اندرونی حصہ میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی تو خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ نے بڑے بڑے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ کیا اور مدینۂ منورہ سے ایک لشکر روانہ کیا جس میں حضرت عبد اﷲ بن عباس ،حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق ،حضرت عمرو بن عاص ، حضرت ابن جعفر طیار ،حضرت امام حسن ،حضرت امام حسین اور حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہم جیسے جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم شامل تھے۔ یہ لشکر عبد اﷲ بن ابی سرح کے پاس پہنچا تو برقہ میں حضرت عقبہ بن نافع رضی اﷲ عنہ بھی اپنے لشکر کے ساتھ آکر مل گئے۔افریقہ کا بادشاہ گریگوری (جرجیر) طرابلس اور طنجہ کے درمیانی شہروں پر حکمرانی کر رہا تھا ۔یہ ہرقل یعنی سلطنت روم کا ماتحت اور خراج گذار تھا۔جب اسے اسلامی لشکر کی خبر ملی تو اُس نے بھی اپنا لشکر تیار کیا جو ایک لاکھ بیس ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا۔وہ اپنا لشکر لیکر شہر ”سبیطلہ“ سے ایک رات کی مسافت پر پہنچ کر صف بندی کرلی۔عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح بھی لشکر لیکر وہاں پہنچ گیا اور صف بندی کرلی۔اِس کے بعد اُس نے جرجیر کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ،اُس نے انکار کر دیا اور جزیہ دینا بھی منظور نہیں کیا۔

دشمن کی چال اُسی کو واپس


مسلمانوں اور افریقیوں کے لشکر ایکدوسرے کے آمنے سامنے صف بندی کر کے تیار تھے ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔جرجیر نے جنگ کرنامنظور کیا اور جنگ شروع ہو گئی جس نے طول کھینچ لیا۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو طویل مسافت کی وجہ سے جنگ کی کوئی خبر نہیں ملی توآپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دیکر مسلمانوں کی کمک کے طور پر روانہ کیا۔یہ لشکر اُس وقت پہنچا جب شدید گھمسان کی جنگ ہو رہی تھی ،مسلمانوں نے امدادی لشکر پہنچنے پر نعرۂ تکبیر اﷲ اکبر بلند کیا تو جرجیر نے نعرے کی آواز سن کر دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی امداد کے لئے تازہ دم لشکر آیا ہے ،جرجیر یہ سن کر فکرمند ہو گیا۔اگلے دن عبد الرحمن بن زبیر رضی اﷲ عنہ میدان جنگ میں آئے تو عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو نہیں پایا ۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ جر جیر نے اعلان کرایاہے کہ ”جو شخص ابن ابی سرح کا سر کاٹ کر لائے گا اُس کو صلہ میں ایک لاکھ دینار میں دوں گا اور اپنی بیٹی سے اُس کی شادی کر دوں گا۔“اِس وجہ سے ابن ابی سرح میدان میں نہیں آیا ہے ۔حضرت عبد الرحمن بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے یہ سن کر عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو مشورہ دیا کہ تم بھی اپنے لشکر میں اعلان کرادو ”جو شخص جرجیر کا سر لیکر آئے گا میں اُسے مال غنیمت سے ایک لاکھ دینار دوں گا اور جرجیر کی بیٹی سے اُس کی شادی کر دوں گااور اُس کے ملک کا گورنر (حاکم) بنا دوں گا۔“جرجیر یہ اعلان سن کر بہت گھبرا یا لیکن اب میدان جنگ میں آنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

08 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


08 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 8

سبیطلہ کی فتح، حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بحری جنگ کی اجازت نہیں دی تھی، خلیفۂ دُوم رضی اﷲ عنہ نے سختی سے منع کیا تھا، 28 ہجری : خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے بحری جنگ کی اجازت دے دی، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیش گوئی، اہل قبرص کی مشروط صلح

سبیطلہ کی فتح

اِس طرح حکمت عملی سے مسلمانوں نے افریقیوں کی چا ل اُسی پر لوٹا دی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو یہ رائے دی کہ” تجربہ کار مسلمانوں کے ایک گروہ کو خیمے میں رہنے دو اور باقی لشکر کو لیکر مقابلے پر چلو اور رومیوں سے جی کھول کر لڑو یہاں تک کہ رومی تھک کر اپنے پڑاؤ میں واپس ہوں اور اسلا می لشکر بھی واپس آئیں تو اُس وقت وہ تجربہ کار مسلمانوں کا گروہ تلوار لیکر اُن تھکے ہوئے رومیوں پر ٹوٹ پڑیں ۔ اُمید ہے کہ اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح عطا فرمائے گاورنہ اِس طرح سے جیسے تم لڑ رہے ہو ایسے تو یہ جنگ ختم ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔“اکابر صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے اِسے پسند فرمایااور اگلے دن ایسا ہی انتظام کیا ۔صبح سے زوال تک مسلمانوں کا ایک لشکر لڑتا رہا اور فریقین تھک کر ایکدوسرے سے الگ ہوئے تو حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اِسی موقع کی منتظر تھے۔انہوں نے خیموں میں آرام کر رہے لشکر کو لیکر حملہ کر دیا ۔جرجیر اور اُس کا لشکر اِس اچانک حملے سے گھبرا گئے اور چونکہ وہ تھکے ہوئے تھے تو لڑنے کے بجائے بھاگ کر اپنے خیموں میں چھپنے کی کوشش کرنے لگے۔مسلمانوں نے اُنہیں اُن کے خیموں میں قتل کرنا شروع کر دیا حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے جرجیر کے خیمے میں گھس کر ایک ہی وار میں اُس کا سر کاٹ دیا۔مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی ۔فتح حاصل کرنے کے عبد اﷲ بن ابی سرح نے آگے بڑھ کر ”سبیطلہ“کا محاصرہ کر لیا اور کچھ دنوں میں وہ بھی فتح ہو گیا اور مسلمانوں کے ہاتھ بے شمار مال غنیمت لگا۔سواروں کو تین تین ہزار اور پید ل کو ایک ایک ہزار ملے۔حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ مال غنیمت کا خمس لیکر مدینہ¾ منورہ خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بحری جنگ کی اجازت نہیں دی تھی

خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جب حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے طاعون عمواس میں انتقال کے بعد حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کا گورنر بنایا تھا اور اُن کے انتقال کے بعد اُن کے بھائی حضرت معاویہ بن ابو سفیان کو ملک شام کا گورنر بنا دیا تھا۔ حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ نے خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بحری جنگ کی اجازت مانگی ۔انہوں نے کئی مرتبہ خلیفۂ دُوم رضی اﷲ عنہ سے اجازت مانگی کہ دریائی راستے سے ”قبرص “پر حملہ کرنے کی اجازت دی جائے ،لیکن ہر مرتبہ خلیفۂ دُوم رضی اﷲ عنہ انکار کر دیا کرتے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت معاویہ بن ابو سفیان کا اصرار حد سے بڑھا تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا کہ دریا اور بادبانی جہازوں کی تفصیل مجھے لکھ کر بھیجو ۔ انہوں نے مکمل تحقیق کے بعد لکھا کہ میں نے اُس سواری کو دیکھا جسے ”بحری جہاز“کہا جاتا ہے۔یہ بحری جہاز ایک ایسی بڑی مخلوق ہے جس پر چھوٹی چھوٹی مخلوق سوار ہوتی ہے۔اِس سواری کے ٹھہر جانے سے اُس میں سوار لوگوں کے دل خوف کی وجہ سے پھٹنے لگتے ہیں۔اور اِس کی رفتار دیکھ کر عقل و فہم حیران ہو جاتے ہیں ۔اِس میں خوبیاں کم اور خرابیاں زیادہ ہیں ۔اِس میں سوار ہو نے والوں کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہوتی ہے۔اگر یہ سواری ٹیڑھی ہو جائے یعنی جھک جائے تو سوار ڈوب جاتے ہیں اور دوسری صورت میں لرزتے و ترستے ساحل تک پہنچتے ہیں۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کا خط پڑھ کر خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”اﷲ کی قسم ! میں مسلمانوں کو ایسی سواری میں سوار کرا کے انہیں مصائب میں مبتلا نہیں کروں گا۔“اِس کے بعد خلیفہ¿ دُوم رضی اﷲ عنہ نے خط لکھ کر حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کا سختی سے منع کر دیا۔

خلیفۂ دُوم رضی اﷲ عنہ نے سختی سے منع کیا تھا

ایک اور روایت میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے دور ِ خلافت کے آخری چند مہینوں میں حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کا گورنر بنایا تھا اور پورے ملک شام پر اسلامی حکومت قائم ہو چکی تھی۔لیکن ”بحیرہ¿ روم “میں بعض ساحلی مقامات پر سلطنت روم کی حکومت تھی جن میں ”قبرص“ اور ”صقلیہ“ کو خاص اہمیت حاصل تھی جن کو قیصر روم نے فوجی مرکز بنا دیا تھا اور موقع پا کر یہیں سے اسکندریہ پر حملے کئے گئے تھے۔قبرص شہر ملک شام کے ”حمص“ شہر سے بہت قریب تھا جہاں سے کسی بھی وقت ملک شام کے مسلم علاقوں پر رومی لشکر حملہ کر سکتے تھے۔اِس لئے فوجی نقطۂ نظر سے ملک شام اور ملک مصر کی حفاظت کے لئے ضروری تھا کہ قبرص اور صقلیہ پر قبضہ کر لیا جائے۔اِسی لئے ملک شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بحری بیڑوں کی تیاری کرنے اور ساحلی علاقوں پر قبضہ کرنے کی اجازت طلب کی اور لکھا : ”رومیوں کا ساحلی مقام قبرص ہمارے شہر حمص سے اتنا قریب ہے کہ اہل حمص اُن کے کتوں کا بھونکنا اور مرغ کی بانگ تک سنتے ہیں۔“ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پر اِس کا یہ اثر ہوا کہ انہوں نے سمندری سفر کے کوائف و حالات (اُس وقت کے ملک مصر کے گورنر)حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے دریافت فرمائے جس کے جواب میں انہوں نے لکھا :”میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ ایک گروہ ِ کثیر کو سوار کر کے لے جاتے ہیں اور سوائے پانی اور آسمان کے کوئی چیز نہیں دکھائی دیتی ہے۔اگر دریا روانی سے ٹھہر گیا تو پریشانی بڑھ جاتی ہے اور طغیانی آگئی تو اوسان جاتے رہتے ہیں۔اِس میں کامیابی کم اور خطرے کا اندیشہ زیادہ ہے ۔اِس میں سفر کرنے والا ایسا ہے جیسے کیڑا لکڑی پر بیٹھا ہو ،لکڑی ذرا جھکی کہ کیڑا ڈوب گیا اور اگر صحیح سالم پہنچ گیا تو خوشی سے چمک اُٹھا ۔ “حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جب یہ خط پڑھا تو حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کوخط لکھا اور سختی سے منع کر دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے لکھا :”اُس ذات کی قسم ! جس نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے ۔میں کسی مسلمان کو دریا کے سفر کی اجازت نہیں دوں گا ،میں نے سنا ہے کہ دریائے شام زمین کے حصہ کو دبائے ہوئے ہے اور ہر روز اﷲ تعالیٰ سے زمین کو ڈبونے کی اجازت طلب کرتا ہے ۔ایسی حالت میں اسلامی لشکر کو کافروں کے سفر کی اجازت کیسے دے دوں؟اﷲ کی قسم ! ایک مسلمان کی جان میرے نزدیک سارے ملک روم (سلطنت روم )سے زیادہ عزیز ہے۔ خبردار ! آئندہ ایسی جرا¿ت نہیں کرنا ۔تُم کو معلوم ہے کہ میں علاءکے ساتھ کیا کیا تھا؟“ 

۔28 ہجری : خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے بحری جنگ کی اجازت دے دی

اِس کے چند مہینوں بعد خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی کے دورِ خلافت کے شرو ع کے لگ بھگ دو سال تک تو حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ خاموش رہے پھر انہوں خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے ”بحری جنگ “ کی اجازت طلب کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ خلیفہ بنے تو حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ انہیں ”بحری جنگ“کی طرف متوجہ کراتے رہے ۔شروع میں تو خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے پس و پیش کیا اور کوئی جواب نہیں دیا اور لگ بھگ دو سال گزر گئے ۔ اِس دوران حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ شمالی افریقہ کے لمبے سواحل اور بحیرۂ روم کے ساحلی علاقے جو ہزاروں میل لمبے ہیں اِن علاقوں پر امن رہنا اِسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم اپنا” بحری بیڑا“(سمندری فوج ) بنا کر رکھیں اور ہر وقت سمندر کی طرف سے دفاع کرنے کے لئے ہوشیار رہیں۔یہاں تک کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے ”بحری جنگ “کا ارادہ فرما لیا ،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو لکھا :”تم خود بحری جنگ کے لئے مجاہدین کا انتخاب نہیں کرنا اور نہ ہی قرعہ اندازی کرنا ،بلکہ مجاہدین کو اختیار دینا کہ وہ خود ”بحری جنگ “پر جانا چاہیں یا نہیں۔ پھر جو اپنی خوشی سے راضی ہو جائے اُسے لے جانا اور جو نہیں جانا چاہے تو اُس مجبور نہیں کرنا ۔“انہوں نے ایسا ہی کیا اور جو مجاہدین اپنی خوشی سے ”بحری لشکر“میں شامل ہوئے صرف انہیں ہی شامل کیا ۔اِس بحری لشکر سے ”بحری بیڑے “کی تشکیل دی اور حضرت عبد اﷲ بن قیس حارثی رضی اﷲ عنہ کو کمانڈر بنا یا۔انہوں نے لگ بھگ پچاس حملے کئے ۔اِن میں سے کچھ موسم گرما میں کئے اور کچھ موسم سرما میں کئے۔اِن تمام حملوں میں آسانی سے سمندری سفر ہوئے اور کسی کو نقصان نہیں پہنچا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ہمیشہ دعا مانگتے تھے کہ ”اے اﷲ تعالیٰ ! لشکر کو خیرو عافیت عطا کر اور کسی صدمے میں مبتلا نہ کر۔ “

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیش گوئی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے بحری جنگ کی اجازت دے دی اور مسلمان رومیوں سے بحری جنگ بھی کرنے لگے ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں ۔قبرص بلاد شام کے مغرب میں سمندر میں ایک الگ تھلگ جزیرہ ہے اور اُس کی لمبی دم ”دمشق “ کے قریبی ساحل تک آتی ہے اور اس کا غربی حصہ اس سے چوڑا ہے جس میں بہت سے پھل اور کانیں ہیں اور وہ بہت اچھا ملک ہے ۔اسے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے بحری لشکر نے فتح کیا ۔اِس لشکر میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ کی بیوی سیدہ اُم حرام بنت ملحان رضی اﷲ عنہ بھی تھیں ۔ایک دن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اُن کے گھر میں سوئے پھر مسکراتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے ۔سیدہ اُم حرام رضی اﷲ عنہا نے پوچھا : ” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ! آپ کس وجہ سے مسکرا رہے ہیں؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے سامنے میری اُمت کے لوگ پیش کئے گئے ہیں جو اس سمندر کے بڑے حصے پر خاندانی بادشاہوں کی طرح سوار ہوں گے ۔“ وہ کہنے لگیں : ” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ! اﷲ سے دعا کر دیں کہ وہ مجھے اُن لوگوں میں سے بنا دے۔“ آ پ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اُن میں ہو ۔“ پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سو گئے اور مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے اور اِسی قسم کی بات بیان کی ۔وہ کہنے لگیں : ” اﷲ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اُن لوگوں میں سے بنا دے ۔“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم پہلے لوگوںمیں سے ہو ۔“ آپ رضی اﷲ عنہا اس جنگ میں شامل تھیں اور وہیں آپ رضی اﷲ عنہ کی وفات ہوئی ۔

اہل قبرص کی مشروط صلح

علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔خلیفۂ دُوم حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان ذوالنورین رضی اﷲ عنہ سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت دے دی لیکن شرط یہ رکھی کہ جس کا جی چاہے وہ اِس جہاد میں شریک ہو کسی شخص کو مجبور نہیں کیا جائے ۔صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے ایک گروہ بحری جنگ پر جانے کے لئے تیا ر ہوگیا ۔اِن میں حضرت ابو ذر ، حضرت ابو الدرداء، حضرت شداد بن اوس ،حضرت عبادہ بن صامت اور اُن کی بیوی سیدہ اُم حرام بنت لمحان رضی اﷲ عنہم بھی تھے۔حضرت عبد اﷲ بن قیس رضی اﷲ عنہ کو بحری بیڑے کا سپہ سالا ر مقرر کیا ۔سمندری لشکر ملک شام سے اﷲ کا نام لیکر قبرص کی طرف روانہ ہوا ملک مصر سے عبد اﷲ بن سرح بھی ان لوگوں سے آملے ۔اہل قبرص نے سات ہزار دینار سالانہ خراج پر مصالحت کر لی لیکن اس کی اجازت بھی لے لی کہ اہل قبرص اِسی قدر رومی بادشاہ کو بھی دیا کریں گے ۔مسلمان اِس سے معترض نہ ہوں اور مسلمان اِس کے سوا جس کا قصد کریں گے ،اہل قبرص مانع نہیں ہوں گے ۔اس کے علاوہ اہل قبرص دشمنان اسلام( رومیوں ) کی جاسوسی کریں گے اور مسلمانوں کو اپنے ملک سے دشمنان اسلام کی طرف جانے کا راستہ دے دیں گے۔ یہ حملہ 28 ہجری میں ہوا اور ایک روایت کے مطابق 29 ہجری میں اور بعض کے مطابق 33 ہجری میں ہوا تھا ۔اِسی حملے میں سیدہ اُم حرام رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوا ۔جس وقت دریا سے خشکی پر سیدہ اُم حرام رضی اﷲ عنہا اُتریں تو گھوڑا بدک کر بھاگا اور گر پڑیں جس سے گردن ٹوٹ گئی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیش گوئی پوری ہوئی ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

09 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


09 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 9

بحری کمانڈر حضرت عبد اﷲ بن قیس کی شہادت، 28 ہجری کے متفرق واقعات، 29 ہجری مسجد نبوی کی توسیع، گورنروں ( حکام ) کی تبدیلی، خراسان کے گورنر، ولید بن عقبہ کی معزولی، باغی فارسیوں کی سرکوبی، خراسان اور کرمان کے باغیوں کی سرکوبی، 

بحری کمانڈر حضرت عبد اﷲ بن قیس کی شہادت

حضرت عبد اﷲ بن قیس رضی اﷲ عنہ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے بحری لشکر کا کمانڈر بنایا تھااور انہوں نے بہت ہی کامیابی سے تمام مسلمانوں کی حفاظت کرتے ہوئے اسلامی مملکت کے تما م ساحلی علاقوں کی نگہبانی بھی کی ۔لیکن ایک رومی عورت کی مخبری کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔حضرت عبد اﷲ بن قیس رضی اﷲ عنہ اکثر کشتی میں سوار ہو کر سلطنت روم کے ساحلی علاقے کا تاجر کابھیس بدل کر دورہ کرتے رہتے تھے۔ایسے ہی ایک دورہ میں آپ رضی اﷲ عنہ رومیوں کے ایک ساحل پر پہنچے تو وہاں فقیروں اور محتاجوں کی بھیڑ موجود تھی آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں بھیک دی تو ایک رومی عورت نے آپ رضی اﷲ عنہ کو پہچان لیا۔جب وہ اپنے گاو¿ں لو ٹی تو اُس نے رومیوں سے کہا : ”کیا تم حضرت عبد اﷲ بن قیس رضی اﷲ عنہ کو پکڑنا چاہتے ہو؟“وہ بولے : ” وہ کہاں ہے ؟ “ وہ بولی : ” وہ اونچے ٹیلے پر ہے ۔“ وہ کہنے لگے : ” کم بخت ! تجھے کیسے معلوم ہوا کہ وہ عبد اﷲ بن قیس ہے ؟ “ اُس عورت نے کہا : ” اُن کے بھیک دینے کے انداز سے پہچان لیا ۔“ یہ سن کر وہ لوگ ٹیلے پر پہنچے اور آپ رضی اﷲ عنہ پر حملہ کر دیا ۔آپ رضی ا ﷲ عنہ مقابلہ کرنے لگے اور آخر کار شہید ہو گئے ۔ملاح نے جب یہ دیکھا تو کشتی لیکر واپس بھاگا اور حضرت عبد اﷲ بن قیس رضی اﷲ عنہ کے نائب حضرت سفیان بن عوف ازدی کو خبر دی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون کے مطابق یہ مرقا کے رومی تھے ۔حضرت سفیان بن عوف ازدی نے اہل مرقا پر حملہ کیا اور جنگ میں ہزاروں رومی قتل ہوئے اور مسلمان بھی اچھے خاصے شہید ہوئے اور حضرت سفیان بن ازدی بھی شہید ہوگئے ۔

28 ہجری کے متفرق واقعات

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ خلافت کی ذمہ داری بخوبی نبھا رہے تھے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مسلمان سمندروں میں بھی اسلام کا جھنڈا لہرانے لگے تھے اور سمندر کو بھی مسخر کر لیا تھا ۔اِس سال یعنی 28 ہجری میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے سیدہ نائلہ بنت فراقصہ سے نکاح کیا ۔آپ عیسائی تھیں اور علامہ عماد الدین اسمعیل بن کثیر لکھتے ہیں کہ سیدہ نائلہ نے اسلام قبول کر لیا تھا تب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اُن سے نکا ح کیا ۔(اِن کا ذکر ہم نے یہاں خاص طور سے اِس لئے کیا کہ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے ذکر میں سیدہ نائلہ کا بھی ذکر آئے گا ۔) اِسی سال حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مدینۂ منورہ میں اپنے گھر کی تعمیر کو مکمل کیا ۔ اِس سال خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں سلطنت فارس کی پہلی فتح ہوئی اور یہ اصطخر کی آخری فتح تھی ،اِسی کے ساتھ مکمل طور سے پوری سلطنت فارس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا ۔اِس جنگ میں مسلمانوں کے سپہ سالا ر حضرت ہشام بن عامر تھے۔اِس سال حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔

29 ہجری مسجد نبوی کی توسیع

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے 29 ہجری میں مسجد نبوی کی توسیع کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال یعنی 29 ہجری میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مسجد نبوی کی حدود میں اضافہ کیا اور اُس کی توسیع کی ۔انہوں نے ماہ ِ ربیع الاول میں مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع کا آغاز کیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے کچی مٹی کی دیواروں کو گرا کر منقش پتھروں سے مسجد کی تعمیر کرائی اور ستون اُن پتھروں کے بنوائے جن میں سیسہ بھرا ہوا تھا اور چھت ساگوان کی بنوائی ۔اِس کی لمبائی ایک سو ساٹھ گز اور چوڑائی ایک سو پچاس گز تھی ۔ اِ س کے دروازے اتنے ہی بنوائے جتنے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں تھے ۔یعنی چھ دروازے بنوائے ۔

گورنروں ( حکام ) کی تبدیلی 

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مملکت اسلامیہ میں بہت بڑے پیمانے پر گورنروں ( حکام ) کی تبدیلی اور تقرری کی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے 29 ہجری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کی گورنری سے معزول کر دیا اور اُن کی جگہ حضرت عبد اﷲ بن عامر کو گورنر بنایا یہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ماموں کے بیٹے ہیں ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے عمیر بن عثمان بن سعد کو خراسان کا حاکم مقرر کیا ۔انہوں نے وہاں دشمنوں کا صفایا کیا اور فرغانہ تک پہنچ گئے اور وہاں کے ہر ضلع کی اصلاح کی اور سجستان کا حاکم انہوں نے عبد اﷲ بن عُمر لیثی ثعلبی کو مقرر کیا اور وہ دشمنوں کو شکست دیتے ہوئے کابل تک پہنچ گئے ۔حضرت عثمان بن عبید ا ﷲ بن معمر تمیمی کو مکران بھیجا انہوں نے بھی وہاں دشمنوں کا صفایا کیا یہاں تک کہ وہ دریا تک پہنچ گئے ۔حضرت عبد الرحمن بن طبیس کو کرمان بھیجا اور فارس و اہواز کی طرف بھی کچھ افراد کو بھیجا بصرہ کے علاقہ کو حضرت حصین بن ابی الحر کی عملداری میں شامل کر دیا ۔پھر حضرت عبد اﷲ بن عُمیر کو معزول کر دیا اور جب حضرت عبد اﷲ بن عامر گورنر مقرر ہوئے تو انہیں ایک سال بر قرار رکھا پھر انہیں معزول کر دیا ۔حضرت عاصم بن عمرو کو گورنر مقرر کیا اور حضرت عبد الرحمن بن طبیس کو معزول کردیا اور حضرت عدی بن سہیل بن عدی کو گورنر بنا دیا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت کے چوتھے سال حضرت امین بن یشکری کو خراسان پر گورنر مقرر کیا اور اِسی سال حضرت عمران بن فصیل برجمی کو سجستان کا گورنر مقرر کیا اور حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو کرمان کا گورنر بنایا اور وہیں اُن کا انتقال ہوا ۔

خراسان کے گورنر 

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ جب خلیفہ بنے تو اُس وقت تک سلطنت ِ فارس پر مکمل فتح حاصل ہو چکی تھی لیکن خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ کو اتنا موقع نہیں مل سکا تھا کہ سلطنت ِ فارس کا مکمل انتظام کر سکیں ۔خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اپنے دور ِ خلافت میں سلطنت فارس کا انتظام مکمل کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے خراسان کے علاقہ کو چھ حصوں میں تقسیم کر کے اِن پر چھ حکام مقرر کئے ۔(1) حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کو ”مرو “ کے دونوں علاقوں پر مقرر کیا ۔ (2) حضرت حبیب بن قرہ کو” بوعی بلخ “کا گورنر بنایایہ علاقہ اہل کوفہ نے فتح کیا تھا ۔ (3) حضرت خالد بن عبد اﷲ بن زہیر کو ” مہلب ‘ ‘ کا گورنر بنایا ۔ (4) حضرت امین بن احمر یشکری کو ” طوس “ کا گورنر بنایا ۔ (5) حضرت قیس بن ہبیرہ سلمی کو ” نیشا پور “ کا گورنر بنایا ۔ (6) حضرت عبد اﷲ بن حازم کو باقی خراسان کا گورنر بنایا یہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں ۔

ولید بن عقبہ کی معزولی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے کوفہ کے گورنر ولید بن عقبہ کو معزول کر کے سعید بن عاص کو کوفہ کا گورنر بنا دیا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے ولید بن عقبہ کو معزول کر کے سعید بن عاص کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور اُن کی معزولی کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اہل کوفہ کو صبح کی نماز چار رکعت پڑھا دی پھر مُڑ کر کہا تم کو زیادہ پڑھا دوں ؟ ایک شخص نے کہا کہ ہم آپ کی وجہ سے آج تک زیارت میں ہیں پھر ایک جماعت اُن کے درپے ہوگئی کہتے ہیں کہ اُن کے اور آپ کے درمیان عداوت تھی ،انہوں نے خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس شکایت کر دی اور بعض آدمیوں نے آپ کے خلاف شراب نوشی کی شہادت دی اور دوسرے شخص نے گواہی دی کہ اُس نے اُن کو شراب کی قے کرتے دیکھا ہے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے آپ کو کوڑے مارنے کا حکم دیا ،کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے آپ کا حلہ اُتارا اور حضرت سعید بن عاص نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے سامنے آپ کو کوڑے مارے اور معزول کر دیا اور آپ کی جگہ کوفہ کا گورنر سعید بن عاص کو مقرر کر دیا ۔

باغی فارسیوں کی سرکوبی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مملکت اِسلامیہ میں بڑے پیمانے پر گورنرو ں کی تبدیلیاں کیں جسے دیکھ کر مفتوحہ علاقوں کے فارسیوں نے بغاوت شروع کردی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اہل فارس اِس تبدیلیوں کو اپنی بہتری کا ذریعہ سمجھ کر باہم سازش کر کے بغاوت پر آمادہ ہو گئے اور لشکر کو مرتب و آراستہ کر کے مقابلہ پر آ گئے ۔عبید اﷲ بن معمر نے اصطخر کے دروازے پر صف آرائی کی لیکن اُن کے شہید ہونے کے بعد مسلمان پیچھے ہٹ گئے ۔ بصرہ کے گورنر عبد اﷲ بن عامر کو یہ خبر ملی تو وہ لشکر لیکر اہل فارس کی سرکوبی کے لئے آگے بڑھے ۔اُن کے ” مقدمة الجیش “ ( ہر اول دستہ “ پر حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ کمانڈر تھے ”میمنہ “پر ابو برزہ اسلمی اور ” میسرہ “ پر معقل بن یسار ، سواروں پر حضرت عمران بن حصین کمانڈر تھے ۔اصطخر میں دونوں لشکر صف آراءہوئے اور ایک بہت بڑی اور خونریز و خوف ناک جنگ کے بعد اہل فارس شکست کھا کر بھاگ گئے ۔ہزاروں فارسی ( ایرانی ) مارے گئے ۔مسلمانوں نے اصطخر کو فتح کر کے دار الجبرد کا رخ کیا اور وہاں سے کامیاب ہو کر شہرجور (ارد شیر ) کی طرف بڑھے جس کا حرم بن حیان محاصرہ کئے ہوئے تھے ۔عبد اﷲ بن عامر کے آتے ہی شہر جور فتح ہوگیا لیکن اہل اصطخر میں پھر بغاوت پھوٹ پڑی ۔ عبد اﷲ بن عامر مجبور ہو کر اصطخر کی طرف لوٹے اور ایک طویل محاصرے کے بعد جنگ کے بعد اصطخر کو فتح کیا ۔ایران ( فارس) کے نامی گرامی سواران فارس کو قتل کر ڈالا کیونکہ اُن لوگوں نے اِس کو اپنا ملجا ءبنا رکھا تھا اور ایرانیوں ( فارسیوں ) کو اِس درجے پامال کیا کہ اُس کے بعد اُن کو ذلت کے سوا عزت حاصل نہ ہوئی

خراسان اور کرمان کے باغیوں کی سرکوبی

اصطخر میں بار بار باغی سر اُٹھا رہے تھے جسے مکمل طور سے عبد اﷲ بن عامر نے ختم کر دیا اور فتح کی خبر خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ لکھ کر بھیجی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس مہم سے فارغ ہونے کے بعد لوگوں نے عبد اﷲ بن عامر کو خراسان کی طرف بڑھنے کی رائے دی کیونکہ اِس اطراف میں بھی بغاوت پھوٹ پڑی تھی ۔اِسی لئے عبد اﷲ بن عامر خراسان کی طرف گئے اور بعض کہتے ہیں بصرہ لوٹ آئے تھے ۔روانگی کے وقت فارس پر شریک بن اعور حارثی کو اپنا نائب مقرر کیا تھا انہوں نے بنوائی ۔جب بصرہ پہنچے تو حضرت احنف قیس رضی اﷲ عنہ نے خراسان پر حملہ کرنے کی رائے دی ۔عبد اﷲ بن عامر نے زیاد بن عامر کو اپنا نائب بنایا اور ایک لشکر جرار لیکر ”کرمان “ کی طرف روانہ ہوئے ۔کرمان والوں نے بھی بغاوت کی تھی اُن کی سرکوبی کے لئے مجاشع بن مسعود سلمی کو اور سجستان والوں کی سرکوبی کے لئے ربیع بن زیاد حارثی کو روانہ کیا اور خود نیشا پور کا رخ کیا ۔اُ ن کے ”مقدمة الجیش “ پر احنف بن قیس تھے انہوں نے طیبین کے دونوں قلعوں کو جو خراسان کے دروازے تھے بہ صلح و امان فتح کر لیا ۔کوہستان پہنچ کر محاصرہ کر کے سنگ باری شروع کر دی ۔اِسی اثنا ءمیں عبد اﷲ بن عامر آ گئے اور چھ لا کھ درہم سالانہ خراج پر صلح ہو گئی اور بعض کہتے ہیں کہ کوہستان کی مہم کے سردار امیر بن احمر یشکری تھے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

10 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


10 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 10

نیشا پور کی فتح، حضرت احنف بن قیس کی فتوحات، بلخ کی فتح، کرمان کی فتح ، سجستان کی فتح ، زرنج والوں کی بغاوت اور تسخیر، کابل اور زابلستان کی فتح

نیشا پور کی فتح

کرمان اور خراسان میں امن و امان ہونے کے بعد عبد اﷲ بن عامر نیشا پور کی طرف متوجہ ہوئے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کامیابی کے بعد عبد اﷲ بن عامر نے صوبہ نیشا پور پر متعدد لشکروں کو بھیجا اور ”رستاق ، رام ہرمز ، جیرفت وغیرہ کو بزور ِ تیغ فتح کیا گیا ۔اسود بن کلثوم ( قبیلہ بنو عدی رباب کے ہیں ) نے ”بیہق “ ( نیشا پور کا ایک علاقہ) پر حملہ کیا ۔اتفاق سے شہر پناہ کی دیوار میں سوراخ ہو گیا اور اسود بن کلثوم اِسی کے ذریعے مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ شہر میں داخل ہو گئے ۔دشمنان ِ اسلام نے سوراخ پر مقابلہ شروع کر دیا اور گھمسان کی لڑائی ہوئی ۔حضرت اسود بن کلثوم شہید ہو گئے اور لشکر ِ اسلام کا علم اُن کے بھائی اوہم بن کلثوم نے سنبھالا اور نہایت بہادری سے لڑکر ”بیہق “ فتح کیا اور پھر نیشا پور پہنچ کر محاصرہ کر لیا اور ایک مہنے تک محاصرہ کئے رہے ۔نیشا پور میں سلطنت فارس کے چار مر زبان رہتے تھے اِن میں سے ایک نے رات کو شہر کا دروازہ اِس شرط پر کھول دینے کا وعدہ کیا کہ اُس کو امان دے دی جائے ۔عبد اﷲ بن عامر نے اُس کی یہ شرط منظور کر لی اور مسلمانوں کا لشکر رات کے وقت شہر میں داخل ہو گیا ۔مرزبان ِ اکبر ( چاروں کا سردار ) مسلمانوں کا لشکر سیکھ کر گھبرا گیا اور اپنے حفاظتی دستے کے ساتھ قلعہ بند ہو گیا مسلمانوں نے اُس کے قلعے پر دھاوا بول دیا اور مر زبان اکبر نے مجبور ہو کر دس لاکھ درہم سالانہ پر صلح کرلی ۔

حضرت احنف بن قیس کی فتوحات

حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ فارسیوں کے ساتھ مسلسل حالت ِ جہاد میں تھے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں :اِس کامیابی کے بعد عبد اﷲ بن عامر نے نیشا پور پر قیس بن ہیشم سلمی کو مقرر کیا ۔ایک لشکر نسا اور ایبور دکی طرف اور دوسرا لشکر سرخس کی طرف بھیجا ۔اہل نسا اور اہل ایبورد نے مسلمانوں کے لشکر کے پہنچتے ہی جزیہ دیکر صلح کر لی باقی رہا سر خس تو اُس کے مر زبان(حاکم) نے دو چار لڑائیوں کے بعد سو آدمیوں کو امان دینے کی شرط پر شہر مسلمانوں کے حوالے کرنے کا اقرار کرلیا لیکن گنتی کرنے کے وقت اپنے آپ کو بھول گیا اور مسلمانوں نے اُسے قتل کر کے شہر پر قبضہ کر لیا ۔اِس کے بعد طوس کا مر زبان آیا اُس نے چھ لاکھ درہم سالانہ جزیہ پر صلح کر لی ۔ہرات کی طرف عبد اﷲ بن حازم گئے ہوئے تھے وہاں کے مر زبان(حاکم ) نے دس لاکھ سالنہ جزیہ پر اور ”مرو“ کے مر زبان نے دو کروڑ دس لاکھ سالانہ درہم پر صلح کر لی ۔پھر عبد اﷲ بن عامر نے حاتم بن نعمان باہلی کے بعد حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کو ”طخارستان “ کی طرف روانہ کیا ۔ راستے میں دارلجبرد کے حاکم نے تین کروڑدرہم پر صلح کی درخواست پیش کی ۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے یہ شرط لگائی کہ ہمارے زمانہ¿ قیام تک دارلجبرد میں کوئی مسلمان جا کر اذان دیتا رہے گا اور نماز ادا کرتا رہے گا جسے دارلجبردکے حاکم نے منظور کر لیا ۔اِس کے بعد حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ ”مر والروذ “ پہنچے ۔اہل مرو الروذ مقابلے پر آئے اور شدید جنگ ہوئی جس میں مسلمانوں کو فتح ہوئی لیکن اہل مروالروذ شہر میں گھس گئے اور شہر پناہ کے دروازے بند کر لئے اور حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے شہر کا محاصرہ کر لیا ۔مرزبان( حاکم) مروالروذ یمن کے باذان کا عزیز تھا اُس نے اپنے عزیز باذان کے توسط سے حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ سے صلح کی درخواست کی جسے آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول کر لیا اور چھ لاکھ درہم سالانہ جزیہ پر صلح کر لی ۔اِس کے بعد جرجان ،طالغان اور فاریاب کے لوگ جمع ہو کر لشکر لیکر حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر آگئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمان مجاہدین کے ساتھ اُن پر زبردست حملہ کیا اور ایک سخت خونریز جنگ کے بعد وہ لوگ پسپا ہوکر بھاگے تو حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ عنہ کو اُن لوگوں کے تعاقب میں روانہ کیا ۔وہ لوگ بھاگ کر اپنے اپنے شہروں میں جا چھپے ۔حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ عنہ نے جرجان کا محاصرہ کیا اور ایک شدید جنگ کے بعد فتح کر لیا ۔یہ دیکھ کر طالغان اور فاریاب والوں نے حضرت اخنف بن قیس رضی اﷲ عنہ سے صلح کی درخواست کی جو آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول کر لی ۔بعض کے مطابق فاریاب کو امیر بن احمر یشکری نے فتح کیا ہے ۔

بلخ کی فتح

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلیفہ بننے کے بعد بلخ کے لوگوں نے جزیہ دینے سے انکار کر دیا تھا اور بغاوت پر آمادہ ہو گئے تھے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے بلخ پر چڑھائی کی یہ طخارستان کا ایک مشہور شہر ہے ۔بلخ والوں نے جب مروالروذ، جرجان ، طالغان اور فاریاب والوں کا انجام دیکھا تو چار لاکھ درہم اور ایک دوسری روایت کے مطابق سات لاکھ درہم سالانہ جزیہ پر صلح کر لی ۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے اُسید بن منشمر کو بلخ کا گورنر مقرر کیا اور خود لشکر لیکر خوارزم کی طرف بڑھے۔ لیکن خوارزم والوں نے دریائے جیجون کا پل توڑ دیا اور اپنی کشتیاں ہٹا لیں۔ اِس وجہ سے حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ بلخ واپس آگئے اور مال غنیمت کا خمس اور فتح کی خوشخبری عبد اﷲ بن عامر کو بھیجی جسے اُس نے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں روانہ کر دیا ۔

کرمان کی فتح 

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں کرمان والوں نے بھی بغاوت کر دی تھی اور خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے اُن کی سرکوبی کے لئے حضرت مجاشع بن مسعود کو لشکر دیکر بھیجا تھا : علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت مجاشع بن مسعود اہل کرمان کی بغاوت کو فرو کرنے پر مامور ہوئے تھے ۔انہوں نے اثنائے راہ میں ”ہمید “ کو جنگ کر کے فتح کیا اور ایک قصر ( قلعہ ) بنوایا جو اُن کی طرف منسوب کیا جاتا ہے پھر سیر جان پر پہنچے اور اس کو بھی نہایت شدید جنگ کے بعد فتح کیا اور وہاں کے اکثر رہنے والوں کو جلا وطن کر دیا اور جنہوں نے جزیہ دینا منظور کیا اُن کو امان دیکر وہیں رہنے دیا ۔اِِس کے بعد سخت جنگ کے بعد ”جیرفت “ پر قبضہ کیا اور کرمان کے اطراف و جوانب پر قبضہ کرتے ہوئے”قفض “ پہنچے ۔یہاں فارسیوں ( ایرانیوں) کا بہت بڑا لشکر جمع تھا اِن میں اکثر وہ لوگ تھے جو اطراف و جوانب سے جلا وطن کر دیئے گئے تھے ۔دونوں لشکروں نے صف آرائی کی اور بہت گھمسان کی جنگ ہوئی مسلمان مسلسل آگے بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے لیکن فارسی ( ایرانی) بھی زبردست مقابلہ کر رہے تھے لیکن شام ہوتے ہوتے فارسیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے اور ہمت جواب دے گئی اور وہ پسپا ہو کر بھاگنے لگے ۔اکثر ایرانی ( فارسی) کشتیوں پر سوار ہو کر سجستان چلے گئے اور مسلمانوں نے اُن کے مکانات اور زمینوں پر قبضہ کر لیا ۔

سجستان کی فتح 

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حکم پر عبد اﷲ بن عامر نے ربیع بن زیاد حارثی کو لشکر دیکر سجستان کی طرف روانہ کیا تھا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ربع بن زیاد حارثی کو عبد اﷲ بن عامر نے سجستان کی جنگ پر مامور کیا تھا جیسا کہ آپ اوپر پڑھ آئے ہیں ۔پس انہوں نے تیزی سے قطع منازل کر کے ”قلعہ زالق “پر پہنچ کر حملہ کیا اور اُس کے دہقان کو گرفتار کر لیا ۔اُس نے جزیہ دیکر اپنے آپ کو چھڑایا اور اہل فارس کی طرح صلح کر لی ۔پھر ربیع بن زیاد ”دکرکوبہ “ کو فتح کرتے ہوئے ”زرنج “ کی طرف بڑھے وہاں ایرانیوں (فارسیوں) نے مقابلہ کیا ربیع بن زیاد نے پہلے ہی حملے میں اُن کو شکست دیکر ”نازردذہشرواذ “ کو فتح کر لیا اور ”زرنج “ کا محاصرہ کر لیا ۔اہل زرنج نے بہت زبردست مقابلہ کیا اور مسلسل جنگ ہوتی رہی آخر کار مسلمانوں نے اُن کو بھی شکست دیکر پیچھے ہٹایا اورزرنج کے مرزبان ( حاکم) نے صلح کی درخواست کی اور صلح کی گفتگو کرنے کے لئے اپنی امان حاصل کر کے مسلمانوں کے پاس حاضر ہوا ۔ربیع بن زیاد نے مقتولین میں سے ایک کی لاش پر بیٹھ کردوسری لاش کا تکیہ لگایا اور اِسی طرح باقی مجاہدین نے بھی کیا ۔زرنج کا مر زبان ( حاکم ) یہ رنگ دیکھ کر رعب میں آگیا اور بغیر کسی شرط کے صلح کر لی ۔اِس کے بعد ربیع بن زیاد مسلمانوں کا لشکر لیکر ”وادئی سنار “کی طرف روانہ ہوئے اور راستے میں وہ قریہ ملا جہاں رستم اپنا گھوڑا باندھتا تھا ۔اہل قریہ نے مسلمانوں سے جنگ کی لیکن زیادہ دیر ٹک نہیں سکے اور اﷲ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ۔اِس کے بعد ربیع ”زرنج “لوٹ آئے اور ایک سال تک وہیں قیام کیا پھر ایک شخص کو نائب مقرر کر کے عبد اﷲ بن عامر کے پاس واپس آگئے ۔

زرنج والوں کی بغاوت اور تسخیر

ربیع بن زیاد حارثی ”زرنج “ میں اپنا ایک نائب مقرر کر کے عبد اﷲ بن عامر کے پاس واپس آگئے تھے ۔لیکن کچھ ہی مہینوں بعد اہل زرنج نے بغاوت کر دی اور جزیہ دینے سے انکار کر دیا اور مسلح جنگ کی تیاری کرنے لگے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد عبد اﷲ بن عامر نے سجستان پر عبد الرحمن بن سمرہ کو لشکر دیکر روانہ کیا اور انہوں نے اہل زرنج کا محاصرہ کر لیا ۔طویل محاصرے سے مجبور ہو کر اہل زرنج نے دولاکھ درہم اور دولاکھ لونڈیاں دیکر صلح کر لی ۔اِس کے بعد عبد الرحمن بن سمرہ زرنج اور ”کش “ ( اِسے ہندوستان کا دروازہ یا سرحد کہا جاتا تھا ) کے درمیانی شہروں اردکش سے دادین اطراف رخج تک کہیں جنگ کے ذریعے اور کہیں صلح کے ذریعے تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔”جبل زور “ والوں نے بہت زبردست مقابلہ کیا لیکن پھر طویل محاصرے سے تنگ آکر صلح کی درخواست کی جسے عبد الرحمن بن سمرہ نے قبول کر لی ۔عبد الرحمن ”جبل زور “ کے بت خانے ( مندر ) میں داخل ہوئے اور اُن کا جو بت تھا اُس کا جسم سونے کا تھا اور آنکھیں یاقوت کی تھیں ۔عبد الرحمن بن سمرہ نے اُس بت کی آنکھیں نکال لیں اور اُس کے ہاتھ کاٹ دیئے اور جبل زور کے حاکم سے فرمایا : ” مجھ کو اِس سونے اور چاندی اور یاقوت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ،یہ تُو رکھ لے ۔میں نے اِس بت کے ساتھ ایسا اِس لئے کیا کہ تجھ پر یہ بات ظاہر ہو جائے کہ یہ بت نہ تو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے 

کابل اور زابلستان کی فتح

حضرت عبد الرحمن بن سمرہ اِس کے بعد آگے بڑھے اور کابل کا محاصرہ کر لیا ۔آپ نے لشکر کے ”مقدمة الجیش “ ( لشکر کا اگلا حصہ ) کا کمانڈر حضرت عباد بن حصین کو بنایا تھا ۔ مدتوں محاصرہ کئے ہوئے منجنیقوں سے سنگ باری ( بڑے بڑے پتھر شہر پناہ کی دیوار پر مارنا) کرتے رہے لیکن کابل کسی طرح فتح نہیں ہو رہا تھا ۔یہاں تک کہ کثرت ِ سنگ باری کی وجہ سے ایک بہت بڑا راستہ پیدا ہو گیا اور اُسی جگہ حضرت عباد بن حصین رات بھر لڑتے رہے اور اہل کابل اُس راستے کو بند نہیں کر سکے ۔ صبح کے وقت شہر والے ہاتھیوں کا جھنڈ لیکر مقابلہ کرنے کے لئے نکلے ۔حضرت عبد اﷲ بن حازم سلمی نے مردانہ وار آگے بڑھ کر ہاتھی پر حملہ کیا ،ہاتھی نے اُن کو اپنی سونڈ میں لپیٹ کر اُٹھا لیا۔حضرت عبد اﷲ بن حازم نے سونڈ پر ایسی تلوار چلائی کہ سونڈ بدن سے کٹ کر دور جاگری۔ ہاتھی سواروں نے نیزہ چلا دیا لیکن حضرت عبد اﷲ بن حازم نے وار خالی کر دیا اور جھٹکے سے سوار نیچے آرہے ۔حضرت عبد اﷲ بن حازم نے نعرہ¿ تکبیر بلند کر کے حملہ کیا جسے مسلمانوں نے اتنی بلند آواز سے دہرایا کہ کابل کے شہریوں کے دلوں میں رعب چھا گیا اور وہ بد حواس ہو کر اِس طرح بھاگے کہ شہر پناہ کا راستہ بند کر نہیں سکے اور مسلمان مجاہدین کابل میں داخل ہو گئے اور شہر پر قبضہ کر لیا ۔امام ابو محنف کہتے ہیں کہ ہاتھی کو مہلب نے قتل کیا ۔امام حسن بصری ( اُس جنگ میں شامل تھے) فرماتے ہیں : میرے خیال سے ایک آدمی ،ایک ہزار آدمیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے لیکن میں نے دیکھا کہ حضرت عباد بن حصین ایسے ہی ہیں ۔“ کابل کی فتح کے بعد حضرت عبد الرحمن بن سمرہ ” خشک “ کی طرف بڑھے اور اہل خشک نے ڈر کر صلح کر لی ،پھر حضرت عبد الرحمن بن سمرہ لشکر لیکر ”رخج “ کی طرف بڑھے اور وہاں ایک بہت زبردست جنگ کے بعد فتح حاصل کی اور پھر ”زابلستان“ کی طرف بڑھے اور وہاں بھی گھمسان کی جنگ کے بعد فتح حاصل کی ۔اِس دوران اہل کابل نے بد عہدی کی تو حضرت عبد الرحمن بن سمرہ نے کابل واپس آکر انہیں پھر زیر کیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : زرنج اور جبل زور کی مہم سے فارغ ہونے کے بعد حضرت عبد الرحمن بن سمرہ نے بلاد غزنی پر چڑھائی کی اور کابل کو فتح کرنے کے بعد زابلستان کو صلح کے ذریعے فتح کیا ۔پھر زرنج واپس آئے اور وہیں ٹھہرے یہاں تک کہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خلافت میں تزلزل پیدا ہوا تو انہیں دنوں حضرت عبد الرحمن بن سمرہ اپنی جگہ زرنج میں حضرت عُمیر بن احمر کو نائب بنا کر مدینۂ منورہ چلے گئے اور اُن کے واپس جاتے ہی اہل زرنج نے عہد شکنی کی اور عمیر بن احمر کو شہر سے نکال دیا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!   

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں