Khilafat e Rashida 2 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Khilafat e Rashida 2 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 4 اگست، 2023

07 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


07 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 7

جنگ کسکر، جالینوس کی شکست اور فرار، جنگ حسبر یاجنگ جسر، حضرت ابو عبید ثقفی کی شہادت اور مسلمانوں کی ہزیمت، حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی دور اندیشی، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو اطلاع، حضرت مثنی بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے لئے مزید کمک، دونوں لشکروں کی صف بندی، جنگ بویب، شکست خوردہ لوگوں کا تعاقب، تمام فارسی چوکیوں اور ساباط کی فتح، یزد جرد(گرد)سلطنت ِفارس کا کسریٰ(حکمراں)، خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے امداد اور مشورہ، 

جنگ کسکر

مسلمانوں کے ہاتھوں نمارق میں شکست کھانے کے بعد فارسی سپاہی کسکر کی طرف بھاگے ،تاکہ نرسی کے پاس پناہ لیں۔نرسی کسریٰ کا خالہ زاد بھائی تھا،اور کسکر اُ سکی جاگیر تھی،اور نرسیان اُس کا خاص باغ تھا۔اُس کے پھل وغیرہ نرسی کے خاندان والوں کے علاوہ کسی کو میسر نہیں تھے،اور نہ ہی وہاں کسی کو بولنے کی اجازت تھی۔رستم اور بوران نے نرسی سے کہا کہ جاو¿ اپنی جاگیر کو اپنے اور ہمارے دشمن سے بچاو¿،اور مرد بنو۔جب نمارق میں فارسیوں کو شکست ہوئی اور بھاگے ہوئے فارسی کسکر پہنچے تو نرسی اُس وقت اپنے لشکر کے ساتھ وہاں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھا۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲعنہ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دشمنوں کا تعاقب کرو،اور ان کو نمارق سے بارق ورتا تک ہلاک کرتے چلے جاو¿،یا پھر نرسی کے لشکر میں گھسا دو۔اور لشکر لیکر کسکر پہنچ گئے۔مسلمانوں کے لشکر کی ترتیب وہی تھی جو جابان سے مقابلے کے وقت تھی۔نرسی کے میمنہ اور میسرہ پر اُس کے دو ماموں زاد بھائی بندویہ اور تیرویہ بسطام کے بیٹے تھے۔یہ دونوں کسریٰ کے بھی ماموں زاد بھائی تھے۔بوران اور رستم کو جابان کی شکست کی اطلاع ملی تو انہوں نے جالینوس کو نرسی کی امداد کے لئے روانہ کیا۔نرسی کو جب اُس کے آنے کی اطلاع ملی تو اُسے اُمید ہوئی ،لیکن حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ بھی با خبر تھے۔اِس لئے جالینوس کے آنے سے پہلے ہی سقاطیہ کے مقام پر نرسی کے لشکر پر حملہ کردیا۔یہ ایک چٹیل میدان تھا،یہاں بڑی شدت کا معرکہ ہوا۔اور اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ،نرسی بھاگ گیا ،اور کسکر پر مسلمانوںکا قبضہ ہو گیا۔بے شمار مال غنیمت اور کھانے کے ذخیرے حاصل ہوئے۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے قریب کے آباد عربوں کو بلا لیا،اور انہیں اجازت دی کہ جتنا چاہیں لے جائیں۔اور نرسی کے خزانوں پر قبضہ کر لیا۔مگر مسلمانوں کو سب سے زیادہ خوشی نرسی کے باغ کو حاصل کر کے ہوئی۔مسلمانوں نے اِس باغ کو آپس میں تقسیم کر لیا،اور اِس کے پھل کاشتکاروں کو کھلائے،اور مال غنیمت کے خمس کے ساتھ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھی بھیجے۔

جالینوس کی شکست اور فرار

کسکر کی فتح کے بعد حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ وہیں رک گئے ،اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو بارو سما کی طرف،حضرت والق کو زوابی کی طرف،اور حضرت عاصم کو نہر جوبر کی طرف بھیجا۔اِن کمانڈروں نے اِن مقامات پر موجود فوجوں کو شکست دی۔اِس علاقے کے سردار فروخ اور فروند اذ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،اور جزیہ ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی۔انہوں نے اِن دونوں کوحضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔اِن دونوں میں سے ایک باروسما کی طرف سے اور دوسرا نہر جوبر کی طرف سے آیا تھا۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے اِن سے فی کس سالانہ چار دینار جزیہ پر معاہدہ کر لیا۔زوبی اور کسکر والوں پر بھی یہی جزیہ لاگو کیا گیا۔جابان اور نرسی کی مدد کے لئے رستم اور بوران نے جالینوس کو روانہ کیا تھا،لیکن اُس کے پہنچنے سے پہلے ہی حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے اُن دونوں کو شکست دے دی۔یہ دیکھ کر جالینوس بارو سما کے قریب باقسیا ثا کے علاقے میں ہی ٹھہر گیا۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر اُس کے مقابلے کے لئے آگے بڑھے،اور باقسیا ثا میں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا۔مسلمانوں نے اتنا شدید حملہ کیا کہ فارسیوں کے ہوش اُڑ گئے،اور انہیں شکست فاش ہوئی ۔جالینوس بھاگ گیا،اور وہاں کا تما م علاقہ حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کے قبضے میں آگیا۔

جنگ حسبر یاجنگ جسر

اِس کے بعد جنگ حسبر یا جنگ جسر پیش آئی۔کچھ علمائے کرام اسے جنگ حسبر کہتے ہیں،اور کچھ علمائے کرام اسے جنگ جسر کہتے ہیں۔ باقسیاثا میں شکست کھانے کے بعد جالینوس اور اُس کے ساتھ کی فوجیں رستم کے پاس پہنچیں،تو رستم نے فارسیوں(ایرانیوں)سے دریافت کیا کہ عربوں کے لئے زیادہ سخت آدمی کون ہے؟انہوں نے کہا کہ بہمن جاذویہ ہے۔رستم نے بہمن جاذویہ کو لشکر لیکر مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے بھیجا۔اُس کے لشکر میں بہت سے دیو پیکر ہاتھی بھی تھے۔اور جالینوس کو بہمن کے ساتھ روانہ کیا،اور کہا کہ جالینوس کو آگے رکھنا،اور اُس سے پھر پہلے جیسی حرکت سرذد ہو تو اُس کی گردن مار دینا۔بہمن جاذویہ لشکر لیکر روانہ ہوا ”درفش کاویانی“جو فارسیوں(ایرانیوں) کے نزدیک فتح کا نشان تھا،اور کسریٰ کا علم(جھنڈا) تھا،وہ اُس کے ہمراہ تھا۔یہ جھنڈا چیتے کی کھال کا بنا ہوا تھا،اور آٹھ ہاتھ چوڑا اور بارہ ہاتھ لمبا تھا۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ آگے بڑھ کر مقام ”مروحہ“میں جو برج اور عاقول کی جگہ پر واقع ہے،پڑاو¿ ڈال دیا۔دونوں لشکروں کے درمیان دریائے فرات بہہ رہا تھا۔بہمن جازویہ نے حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کو پیغام دیا کہ یا تو تم دریائے فرات پار کر کے اِس پار آجاو¿،یا ہم کو اپنی طرف آنے کی اجازت دو۔لشکر کے کئی کمانڈروں نے رائے دی کی فارسیوں کو دریا پار کرنے دیا جائے،اِن میں حضرت سُلیط سب سے آگے تھے۔لیکن حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ جوش میں آگئے،اور کسی کا مشورہ قبول نہیں کیا ،اور فرمایا:”وہ لوگ ہم سے زیادہ موت کے لئے جری نہیں ہوسکتے ہیں،ہم خود دریا پار کر کے اُس طرف جائیں گے۔“اب مسلمان دریا پار کر کے فارسیوں کے لشکر کے سامنے آگئے۔جنگ شروع ہوئی اور دونوں طرف سے بہت شدت سے حملے ہو رہے تھے۔پورا دن جنگ ہوتی رہی ،جب شام ہونے لگی تو بنو ثقیف کے ایک شخص نے چند لوگوں کو جمع کیا،انہوں نے تلواروں سے مصافحے کئے اور دشمنوں پر ٹوٹ پڑے۔لگ بھگ چھ ہزار فارسیوں(ایرانیوں) کو مسلمان قتل کر چکے تھے۔لیکن فارسیوں کا لشکربہت زیادہ تھا۔

حضرت ابو عبید ثقفی کی شہادت اور مسلمانوں کی ہزیمت

جنگ بڑی شدت سے جاری تھی،اور دونوں فریقین بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے،فارسیوں کے پاس ہاتھیوں کے ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو ہاتھیوں سے بہت پریشانی ہو رہی تھی ۔کیونکہ ہاتھیوں کو دیکھکر اُن کے گھوڑے آگے بڑھنے سے انکار کر دیتے تھے۔اِن ہاتھیوں پر زنگولے پڑے ہوئے تھے،اور وہ مسلمانوں کے گھوڑوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے تھے۔جب کبھی مسلمان اُن پر حملے کے لئے آگے بڑھتے تو زنگولوں کی آواز سے اور دیو پیکر ہاتھیوں کو دیکھ کر گھوڑے پیچھے ہٹ جاتے تھے۔اِس کے بعد بھی مسلمانوں نے چھ ہزار فارسیوں(ایرانیوں )کو قتل کر دیا۔لیکن ہاتھیوں کی وجہ سے مسلمانوں کو مسلسل پریشانی ہو رہی تھی۔آخر کار حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ گھوڑے سے اُتر گئے،اور ہاتھیوں کی سونڈوںاور پیروں پر تلوار سے حملے کرنے لگے۔کئی ہاتھیوں کی سونڈ اور پیر کاٹنے کے بعد اچانک ایک ہاتھی کے پیر کے نیچے آگئے،اور شہید ہوگئے۔یہ بہمن جاذویہ کا خاص سفید ہاتھی تھا،اور جب اُس نے دیکھا کہ حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ پیدل ہیں،اور مسلسل ہاتھیوں کو بے کار کر رہے ہیں،تو اس نے اپنے سفید ہاتھی کو پیچھے سے اُن کے اوپر چڑھا دیا۔ان کی شہادت سے مسلمانوں کے حوصلے ٹوٹ گئے،اور وہ پسپا ہونے لگے۔حالانکہ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ،اور آگے بڑھ بڑھ کر حملے کرتے رہے،اور اِس میں کافی زخم بھی کھائے ۔لیکن مسلمان پیچھے ہٹنے لگے،انہیں روکنے اور جنگ پر آمادہ کرنے کے لئے بنو ثقیف کے ایک شخص نے رسی کا پل کاٹ دیا۔لیکن یہ ایک اور بڑا نقصان ثابت ہوا،اور مسلمانوں کے لئے دریا پار کرنا مشکل ہو گیا۔

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی دور اندیشی

حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے وصیت کی تھی کہ اگر میں شہید ہو جاو¿ں تو بنو ثقیف کا فلاں شخص سپہ سالار ہو گا،اِس طرح بنو ثقیف کے سات لوگوں کے بارے میں فرمانے کے بعد حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے بارے میں فرمایا تھا اِن کے شہید ہونے کے وہ سپہ سالار ہوں گے۔بنو ثقیف کے ساتوں سپہ سالار ایک کے بعد ایک شہید ہوئے،لیکن انہوں نے لشکر کو پیچھے ہٹنے کا حکم نہیں دیاتھا۔بلکہ جانبازی اور بہادری سے لڑنے کی تلقین کرتے رہے۔لیکن حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ اِس طرح تو پورا اسلامی لشکر کام آجائے گا۔اس لئے حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کی وصیت کے مطابق جب وہ سپہ سالار بنے ،تو انہوں نے دفاعی پوزیشن اختیار کر لی۔اورایسے وقت میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جلدی سے پُل بنائیں ،تب تک ہم فارسیوں کو روکتے ہیں۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ ،حضرت عاصم ضمی،اور حضرت مذعور کے ساتھ اپنے اپنے دستے لیکر فارسیوں کے مقابلے پر دیوار کی طرح کھڑے ہوگئے۔اور زبردست مقابلہ کرتے رہے،یہاں تک کہ پُل دوبارہ تیار ہو گیا،اور مسلمان دریا پار کر نے لگے۔جب آخری مسلمان بھی دریا پار کر گیا تو سب سے آخر میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے فارسیوں سے مسلسل جنگ کرتے ہوئے دریا پار کیا۔فارسی سپاہی پل پر بھی لڑتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے،جیسے ہی تمام مسلمانوں نے دریا پار کیا،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے پل کاٹنے کا حکم دے دیا۔فوراًپل کاٹ دیا گیا ،اور اُس پر موجود سینکروں فارسی سپاہی دریائے فرات میں گر گئے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ بہت شدید زخمی ہو چکے تھے،انہوں نے مسلمانوں کو مروحہ میںہی رکے رہنے کا حکم دیا۔ اِس جنگ میں لگ بھگ چار ہزار مسلمان شہید ہوئے،اور کچھ مسلمان اِدھر اُدھر بھاگ گئے۔اِن میں سے بعض لوگ مدینہ منورہ میں آکر روپوش ہو گئے،خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اِس کا علم ہوا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے اﷲ کے بندو!میری طرف سے ہر مسلمان آزاد ہے،میں ہر مسلمان کا رفیق ہوں۔اﷲ حضرت ابو عبید رضی اﷲ عنہ پر رحم فرمائے،کاش وہ خیف میں پناہ گزیں ہو جاتے ،یا جنگ نہ کرتے ،اور ہمارے پاس آجاتے تو ہم لوگ اُن کے رفیق ہوتے۔“

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو اطلاع

اِس جنگ حسبر میں لگ بھگ چار ہزار مسلمان شہید ہوئے،دوہزار اِدھر اُدھر بھاگ گئے،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مروحہ میں صرف تین ہزار مسلمان رہ گئے تھے۔خود آپ رضی اﷲ عنہ بہت بری طرح سے زخمی تھے،اور سفر کرنے کی حالت میں نہیں تھے۔اِس لئے وہیں مروحہ میں قیام کرنے حکم دیا،اور تمام حالات لکھوا کر حضرت عبداﷲ بن زید انصاری کے ہاتھوں مدینہ منورہ بھیج دیئے۔یہ واقعہ رومیوں سے جنگ یرموک کی فتح کے چالیس دنوں بعد پیش آیا۔اُدھر ملک شام سے فتوحات کی خبریں آرہی تھیں،اور ساتھ ہی ملک عراق سے بھی فتوحات کی خبریں آرہی تھیں کہ اچانک جنگ حسبر کی ہزیمت کی خبر مدینہ منورہ پہنچی۔خلیفہ ¿دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو زخم مندمل ہونے تک وہیں قیام کرنے کا حکم بھیجا،اور مزید کمک بھیجنے کے لئے ملک شام میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ جو دس ہزار مجاہدین حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملک شام گئے تھے،انہیں فوراً حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجو۔اُدھر سلطنت فارس کے صدر مقام(ایران )میں خانہ جنگی شروع ہوگئی تھی،اِس کی اطلاع بہمن جازویہ کو ملی تو وہ اپنے لشکر کو لیکر واپس صدر مقام چلا گیا،اور مسلمانوں کو سنبھلنے کا موقع مل گیا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ تندرست ہونے کے بعد لشکر لیکر اُلیس میں آگئے۔

حضرت مثنی بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے لئے مزید کمک

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ تین ہزار مجاہدین کے لشکر کو لیکر اُلیس میں آگئے۔اور یہاں لشکر کے لئے بھرتی کرنے لگے۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جانے والے مجاہدین کو ملک عراق واپس بھیجنے کا حکم دیا تھا،اِس کے علاوہ مدینہ منورہ سے بھی لشکر تیار کر کے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس مزید کمک بھیج رہے تھے۔اِس کے لئے حضرت جریر بن عبداﷲ کو ایک لشکر دیکر روانہ کیا،اس کے علاوہ حضرت عصمہ بن عبد اﷲ کو بھی ایک لشکر دیکر روانہ کیا۔اور جوبھی لوگ جہاد کے لئے حاضر ہوتے ،انہیں آپ رضی اﷲ عنہ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجتے رہے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر کے بارے میں رستم اور فیزران کو برابر خبر مل رہی تھی۔اُن دونوں نے بوران سے مشورہ کر کے مہران کو لشکر دیکر حیرہ کی طرف جانے کا حکم دیا۔اُس وقت حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر اور مدد گار قبائل کے ساتھ قادسیہ اور خفان کے درمیان ”مرج السباخ“ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔حضرت بشیر اُن دنوں حیرہ کا نتظام سنبھالے ہوئے تھے،جب حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو مہران ہمدانی کے حضرت بشیر کی طرف جانے کی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر فرات باد قلی میں آگئے۔اور حضرت جریر بن عبد اﷲ اور کمک کے لئے آنے والوں کو جلدی پہنچنے کا پیغام بھیجا۔حضرت جریر بن عبد اﷲ نے حضرت عصمہ اور دوسرے قائدین کو جلدی پہنچنے کو کہا،اور خود بھی تیزی سے آگے بڑھے۔

دونوں لشکروں کی صف بندی

حضرت مثنی ٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس جب حضرت جریر اور حضرت عصمہ اپنے اپنے لشکر کے ساتھ پہنچ گئے تو آگے بڑھ کر بویب میں مہران ہمدانی کے راستے پر پڑاو¿ ڈال دیا۔بویب اُس وقت دریائے فرات کی ترائی میں تھا،اُس کا پانی جوف میں گرتا تھا۔مسلمان موضع الزارق میں اور فارسی موضع السکون میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔قبیلہ بنو نمر کا انس بن ہلال نمری ،اور قبیلہ بنو تغلب کا عبد اﷲ بن کلیب۔یہ دونوں عیسائی اپنے عیسائی ساتھیوں کے ساتھ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس مدد دینے کے لئے آئے۔اور کہا کہ ہم عیسائی ہیں،اور آپ مسلمان ہیں،لیکن ہم دونوں عرب ہیں،اور ہمارا دشمن عجمی ہے،اور آگ کی پوجا کرتا ہے۔اِس لئے ہم آپ کا ساتھ دینا چاہتے ہیں،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اجازت دے دی۔مہران ہمدانی نے پیغام بھیجا کہ تم دریائے فرات پار کر کے آو¿ ،یا ہمیں پار کر کے آنے دو۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے فارسیوں کو دریائے فرات پار کرنے کی اجازت دے دی۔دریا پار کرنے کے بعد مہران ہمدانی نے لشکر کی صف بندی کی،اور تین صف بنا کر مسلمانوں کے مقابلے پر آئے۔ہر صف میں دیو پیکر ہاتھی تھے،اور ہاتھیوں کے آگے پیدل فوج تھی۔میمنہ پر ابن آزاذبہ ،اور میسرہ پر مروان شاہ کمانڈر تھا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے میمنہ پر حضرت مذعور اور میسرہ پر حضرت النسیر کو کمانڈر بنایا۔سواروں کے کمانڈرحضرت عاصم کو کمانڈربنایا،اور پیشرو دستوں کا کمانڈر حضرت عصمہ کو بنایا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے گھوڑے شموس پر سوار تھے،یہ بہت ہی عمدہ نسل کا اور شریف تھا۔یہ ماہ رمضان کا زمانہ تھا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے سامنے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی:”تم لوگ روزے سے ہو،چونکہ روزہ آدمی کو کمزور اور نڈھال کرتا ہے،اِس لئے میری رائے یہ ہے کہ تم لوگ روزہ افطار کر لو۔اور کھانا کھا کر دشمن سے لڑنے کے لئے مضبوط ہو جاؤ۔“سب نے کہا کہ یہ مناسب ہے ،اور روزے افطار کر لئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ ایک شخص صف سے آگے نکل کر جنگ کے لئے کودنا چاہتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دریافت کیا کہ اسے کیا ہو گیا ہے؟لوگوں نے بتایا کہ یہ جنگ حسبر میں بھاگ گیا تھا،اور اب اپنی جان دینا چاہتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے پیچھے صف میں دھکیلا،اور فرمایا:”تم اپنی جگہ جمے رہو،جب تمہارے پاس کوئی دشمن آئے ،اُس وقت اپنے ساتھی کو اُس کے حملے سے بچانا،اور بےکار میں اپنی جان ضائع مت کرنا۔“اُس شخص نے کہا:”ہاں !میں اِسی قابل ہوں۔“اور صف میں اپنی جگہ جم گیا۔

جنگ بویب

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد فرمایا:”میں تین تکبیریں کہوں گا،تم اِن پر تیار ہو جانا۔اور چوتھی تکبیر سنتے ہی دشمن پر حملہ کر دینا۔“جب آپ رضی اﷲ عنہ نے پہلی تکبیر کہی تو فارسیوں نے جلدی سے حملہ کردیا،اور مسلمانوں نے بھی گڑبڑا کر مقابلہ کرنا شروع کر دیا۔جس کی وجہ سے صفوں میں کچھ خلل واقع ہوا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”آج مسلمانوں کو رسوا مت کرو۔“یہ سنتے ہی انہوں نے صفیں درست کیں ۔اور دشمنوں پر ٹوٹ پڑے۔جنگ دھیرے دھیرے شدت اختیار کرنے لگی،اور جب طول پکڑ گئی ،اورسخت ہو گئی ۔تب حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے انس بن ہلال کے پاس جاکر فرمایا:”اے انس!حالانکہ تم ہمارے دین پر نہیں ہو ،مگر بہادر عرب ضرور ہو۔جب تم مجھ کو مہران پر حملہ کرتے دیکھو ،تو تم بھی میرے ساتھ حملہ کرنے لگنا۔“اور یہی بات انہوں نے ابن مرویٰ الفہر سے بھی کہی۔دونوں نے خوشی سے منظور کر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مہران ہمدانی پر حملہ کر کے اُسے سامنے سے ہٹا دیا،اور اُس کے میمنے میں گھس گئے۔اور فارسیوں کی گردنیں اُڑانے لگے۔دونوں طرف کی قلب کی فوجیں ایک جگہ جمع ہو گئیں،اور اتنی دھول اُڑی کہ آسمان تک غبار کا بادل چھا گیا۔بازوو¿ں کی فوجیں خوں ریزی میں مصروف تھیں،نہ فارسی اپنے سپہ سالار کی مدد کر سکتے تھے،اور نہ مسلمان ۔بنو تغلب کے ایک عیسائی نوجوان نے مہران ہمدانی کو قتل کردیا،اور اُس کے گھوڑے پر سوار ہو کر اُس کی موت کا اعلان کیا،تو فارسیوں(ایرانیوں) میں مایوسی پھیل گئی۔اور اب وہ لڑنے کے بجائے فرار ہونے کی کوشش کرنے لگے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ یہ دیکھ کر فوراً پل پر گئے ،اور اُسے کاٹ دیا۔جس کی وجہ سے فارسی دریا پار نہیں سکے ،اور مسلمانوں نے انہیں چن چن کر قتل کرنا شروع کر دیا۔مسلمانوں نے انہیں کاٹ کاٹ کر کشتوں کے پشتے لگا دیئے ،عرب و عجم کی کسی لڑائی کی بوسیدہ ہڈیاں اتنے عرصے تک باقی نہیں رہی تھیں ،جیسی کہ اِس جنگ میں باقی رہیں۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے بعد میں پل کا راستہ روکنے پر ندامت کا اظہار کیا،اور فرمایا:”میں نے پل کی طرف بڑھ کر اور اُس کو توڑ کر بے بس دشمنوںکو تنگ کردیا تھا۔اﷲ نے ہم کو اس کے شر سے محفوظ رکھا۔آئندہ میں ایسی حرکت نہیں کروں گا۔اے لوگو!تم بھی ایسا کبھی نہیں کرنا ،اور میری تقلید نہیں کرنا۔جس جماعت میں مدافعت کی قوت موجود ہو ،اُس کو کبھی تنگ نہیں کرنا چاہیئے۔

شکست خوردہ لوگوں کا تعاقب

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے فتح اور مال غنیمت کی تقسیم کے بعد فرمایا:”کون سیب تک دشمنوں کا تعاقب کرے گا؟“یہ سن کر حضرت جریر بن عبد اﷲ نے اپنے قبیلے بجیلہ کے لوگوں کو اُکسایا،اور وہ تیار ہو گئے۔اِس کے بعد حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے جنگ حسبر کے بچے مجاہدین سے فرمایا:”کہاں ہے وہ شخص اور اُس کے ساتھی جو کل صفوں سے نکلے جارہے تھے۔آگے بڑھو،اور دشمنوں کا سیب تک تعاقب کرو،اور اُن سے پچھلی ہزیمت کی بھڑاس نکال لو۔تمہارے لئے یہی بہتر اور باعث ِ اجر ہے،اﷲ سے مغفرت کی درخواست کرو،اﷲ مغفرت کرنے والا اور مہربان ہے۔“اِس اعلان پر سب سے پہلے وہ شخص آگے بڑھا،جو کل صف سے آگے نکلا تھا۔اور پھر اُس کے ساتھی بھی آگے آئے،جو دشمنوں میں جاکر جان دینا چاہتے تھے۔وہ مستعدی سے آگے بڑھے ،اور دریا کی طرف جھپٹے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اُن کے لئے پل بندھوا دیا،اور شکست خوردہ لوگوں کا پیچھا کرنے کے لئے روانہ کر دیا۔اُن کے پیچھے بنو بجیلہ کے شہ سوار اور دوسرے شہ سوار بھی جھپٹے ۔یہ لوگ دشمنوں کا تعاقب کرتے کرتے سیب تک پہنچ گئے۔لشکر میں جتنے جنگ حسبر میں شامل تھے،وہ سب گھوڑوں پر سوار ہو کر اِس خدمت کے لئے نکل پڑے۔اِس مہم میں بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا ۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں مدینہ منورہ بھیج دیا۔اور باقی مال غنیمت لشکر میں تقسیم کر دیا۔

تمام فارسی چوکیوں اور ساباط کی فتح

جنگ بویب میں فتح کے بعد سلطنت فارس کی تمام سرحدی چوکیوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔کیونکہ تمام فارسی چوکیاں ٹوٹ گئیں تھیں،اور اُن کی فوجیں بھاگ کر ساباط میں جاکر پناہ گزین ہو گئیں تھیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب مہران ہمدانی ہلاک ہو گیا ،تو مسلمانوں کو سواد کے تمام علاقے پر اُن کی فرو گاہ سے لیکر دجلہ تک دست برد کرنے کا پورا موقع مل گیا۔اور انہوں نے پورے علاقے پر قبضہ کر لیا۔کیونکہ عجمیوں کی فوجی چوکیاں ٹوٹ گئی تھیں،اور اُن کی فوجیں بھاگ کر ساباط میں پناہ گزین ہو گئیں تھیں۔انہوں نے یہی بہتر سمجھا کہ دجلہ کے اُس پارتک کا علاقہ چھوڑ دیں۔فارسیوں کے دلوں میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کا رعب ڈال دیا تھا۔اُسی لئے تعاقب میں جانے والی فوج کے قائدین اور حضرت عاصم،حضرت عصمہ،اور حضرت جریر بن عبد اﷲ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ اﷲ نے ہم کو سلامتی عطا فرمائی ،اور ہمارے کام کو ہلکا کردیا۔اور جس مقصد کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے ہمیں بھیجا تھا،وہ پورا ہو گیا ہے۔اگر آپ رضی اﷲ عنہ ہمیں پیش قدمی کی اجازت دیں تو ہمارے لئے دشمنوں کوزیر کرنا کچھ مشکل نہیں ہوگا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اُن کو پیش قدمی کی اجازت دے دی۔اِس لئے وہ فارسیوں کو مارتے دھکیلتے ساباط تک پہنچ گئے۔تمام فارسی ساباط کے شہر میں قلعہ بند ہو گئے۔ اور مسلمانوں پر تیر اندازی شروع کر دی۔مسلمانوں کے قائدین حضر ت جریر بن عبد اﷲ ،حضرت عصمہ،اور حضرت عاصم نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ فصیل کے بڑے دروازے کو توڑ دیا،اور اندر داخل ہو گئے۔اُن کے ساتھ مسلمان بھی داخل ہو گئے ،اور ساباط کو فتح کر کے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس واپس آگئے۔ اِس کے بعد آپ رضی ا ﷲعنہ نے تکریت بھی فتح کرلیا۔

یزد جرد(گرد)سلطنت ِفارس کا کسریٰ(حکمراں)

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی ا ﷲ عنہ سواد اور تکریت میں جس وقت مصروف تھے۔اُس وقت سلطنت ِفارس کے دارلحکومت ایران میں رستم اور فیرزان آپس میں لڑ رہے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔دونوں میں صلح کرانے کے لئے سرداران فارس جمع ہو کر اُن دونوں کے پاس گئے،اور کہا کہ تم دونوں کے اختلاف سے ہم لوگ ہلاکت میں پڑے ہوئے ہیں۔تمہاری بدولت ہم لوگ ذلت و خواری میں مبتلا ہو گئے ہیں۔اِس لئے تم دونوں آپس میں متفق ہوجاو¿،ورنہ ہم پہلے تم سے لڑیں گے ،پھر اپنے دشمنوں سے لڑ کر اپنی جانیں دے دیں گے۔ملک عرب کی وحشی قومیں ،کہاں تک آگئی ہیں،اور تکریت تک پہنچ گئی ہیں۔اِس کے بعد صرف مدائن باقی رہ گیا ہے،اور وہ بھی ایک نہ ایک دن اُن کے قبضے میں چلا جائے گا،اگر تم دونوں اسی طرح لڑتے رہے۔رستم اور فیرزان اِس تقریر کو سن کر قائل ہو گئے۔یہ دونوں سرداراہل فارس کے ساتھ ملکربوارن اور خاندان کسریٰ کی عورتوں کے پاس گئے،اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی تو ایک عورت نے بتایا کہ خاندان کسریٰ کا صرف ایک نوجوان باقی ہے،جس کا نام یزد جرد(گرد)ہے۔یہ لڑکا شہر یار بن کسریٰ کی اولاد ہے،اِس کی ماں نے اسے اُس وقت اپنے بھائی کے پاس رو پوش کر دیا تھاجب شیرویہ نے اپنے بھائیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا تھا۔تب سے وہ اپنے ماموں کی حفاظت میں ہے۔رستم اور فیرزان نے یہ سن کر یزد جرد کی ماں سے اُس کا پتہ پوچھ کر اُسے اُس کے ماموں کے پاس لائے،اُس وقت یزدجرد کی عمر اکیس(۱۲)سال تھی۔اور اُس کو سلطنت ِفارس کا کسریٰ یعنی حکمراں بنا دیا۔یزد جرد نے کسریٰ بنتے ہی تمام گورنروں اور سپہ سالاروں کو طلب کر کے سلطنت فارس کے تمام علاقوں کی حفاظت کی سخت تاکید کی۔اور نامی گرامی آزمودہ سپہ سالاروںکو حیرہ ،انبار اور ایلہ کی طرف کثیر التعداد لشکر دیکر روانہ کیا۔

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے امداد اور مشورہ

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو یزد جرد کی تخت نشینی ،اور لشکروں کے بھیجنے کی اطلاع ملی۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں تمام حالات لکھ کر بھیجے۔اور مزید کمک اور ہدایات مانگیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں کو فارسیوں کے حالات اور اُن کا متفق رائے سے یزد جرد کو بادشاہ بنانے کی کیفیت معلوم ہوئی ،تو آپ رضی ا ﷲعنہ نے اِن واقعات کی اور اندیشہ ¿ بغاوت کی اطلاع خلیفہ¿ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو لکھ بھیجی۔ابھی اُن کے پاس قاصد خط لیکر پہنچا بھی نہیں تھا کہ سواد کے اکثر لوگ جنہوں نے مسلمانوں سے صلح کر لی تھی،انہوں نے صلح کے معاہدے کو توڑ دیا۔اور دشمنی پر آمادہ ہو گئے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے دستے کو لیکر ذی قار میں آگئے،اور پورا لشکر الطف میں قیام پذیر رہا۔خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے حکم بھیجا کہ عجمیوں کے حلقوں سے نکل جاؤ،اور اپنی حدود ِسلطنت میں جہاں جہاں تمہاری اور دشمن کی سرحدیں ملتی ہیں،وہاں کے پانی کے چشموں پر پھیل جاؤ۔اور قبائل بنو مضر اور بنو ربیعہ اور اُن کے حلیفوں میں سے جتنے بہادر اور شجاع لوگ ملیں ،اُن کو لشکر میں بھرتی کر لو۔اور عجمیوں کی طرح تم بھی عربوں کو جہاد کے لئے اُبھارو،میں بہت جلد کمک بھیجنے کی کوشش کرتا ہوں۔یہ واقعہ ذوالقعدہ 13 ھجری کا ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

20 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


20 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 20

توریت و انجیل میں” اُمت ِ مسلمہ “کے اوصاف، دجال کے قتل کی جگہ، بیت المقدس مسجد کی تحقیق، بیت المقدس کی جگہ کو ڑا کر کٹ کیوں، مسجد اقصیٰ کی بنیاد، فاروق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی بشارت، بیت المقدس کا صلح نامہ، فلسطین کے دو صوبے، 

توریت و انجیل میں” اُمت ِ مسلمہ “کے اوصاف

اﷲ تعالیٰ نے توریت اور انجیل میں جگہ جگہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت”اُمت مسلمہ“(آخری اُمت)کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔اِس کا ایک عملی مظاہرہ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے بیت المقدس میں کیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اِس کے بعد اپنے لشکر میں واپس آگئے،اور دوسرے دن صبح پیر کے دن بیت المقدس میں داخل ہوئے۔جمعہ تک آپ رضی اﷲ عنہ بیت المقدس میں قیام پذیر رہے،اور مشرق کی طرف ایک خط کھینچ کر محراب کا نشان بنا دیا۔اُسی جگہ وہ مسجد (مسجد ِ عُمر)ہے،جو آپ رضی اﷲ عنہ کے نام سے منسوب ہے۔پھر یہاں مسلمانوں کو نماز پڑھائی،رومیوں نے غداری کا ارادہ کیا۔ابو جعید جوجنگ یرموک میں رومیوں کے ساتھ مصیبت میں مبتلا ہو گیاتھا ،وہ اپنے بیوی بچوں سمیت بیت المقدس میں مقیم تھا۔اُس سے رومی کہنے لگے کہ ہمارا ارادہ ہے کہ مسلمان جس وقت نماز میں مصروف ہوں ،اور سجدے میں چلے جائیں،تو ہم اُن کے ساتھ غدر کر دیں۔اُس وقت اُن کے پاس نہ تو کوئی اسلحہ ہوگا،اور نہ ہی اور کوئی چیز جو انہیں ہمارے حملوں سے محفوظ رکھ سکے۔تیری اِس معاملہ میں کیا رائے ہے؟اُس نے کہاکہ غدر کے بعد تم یہاں محفوظ نہیں رہ سکو گے،اور مسلمانوں کے دوسرے ساتھی جو شہر سے باہر ہیں،وہ تمہیں ختم کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟اُس نے کہا کہ تم زینت اور متاع ِ دنیا کو اُن کے سامنے ظاہر کرو،متاع ِ دنیا اور مال و اسباب ایسی چیزیں ہیں کہ انہیں دیکھ کر دنیاوالوں سے اُن پر کبھی صبر نہیں ہو سکتا۔لہٰذا اگر وہ مال و اسباب اور متاع ِ دنیا کی طرف متوجہ ہوئے ،اور اُن کے حصول کی کوشش کی ،تو پھر میں تمہیں وہ مشورہ دوں گا ،جس سے تم کامیاب ہو جاو¿ گے۔رومیوں نے یہ سن کر مقدور بھر کوشش کر کے جتنا مال وہ جمع کر سکتے تھے،کیا اور مسلمانوں کے راستہ میں ڈال دیا۔مسلمان آتے جاتے اُسے دیکھتے تھے،اور تعجب کرتے تھے۔کسی نے اُسے طمع کی نظر سے نہیں دیکھا،اور نہ ہی ہاتھ لگایا۔بلکہ یہ کہتے ہوئے گزر جاتے تھے؛”تمام تعریفیں اﷲ تعالیٰ کے لئے ہیں،جس نے ہمیں ایسی قوم کے ملکوں کا مالک بنا دیا،جن کے پاس دنیا کی اتنی چیزیں ہیں۔اور اﷲ تعالیٰ کے نزدیک دنیا مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی،تو کوئی کافر دنیا سے ایک گھونٹ پانی بھی نہیں پی سکتا تھا۔“کسی مسلمان نے اِس مال و اسباب اور متاع ِ دنیا کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا،اور نہ ہی اُسے چھوا۔ابو جعیدنے یہ دیکھ کر رومیوں سے کہا؛”یہی وہ قوم ہے،جس کی تعریف اﷲ تعالیٰ نے توریت اور انجیل میں بیان کیا ہے۔یہ ہمیشہ حق پر رہیں گے،اور جب تک حق پر رہیں گے،اُن سے کوئی قوم آنکھ نہیں ملا سکے گی۔اور کوئی قوم اِن کے مقابلے پر نہیں ٹھہر سکے گی۔“

دجال کے قتل کی جگہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا،اور شہر والوں سے مصالحت کی۔علامہ محمد بن جریر طبری کے مطابق صلح جابیہ میں ہوئی ،اور دوسرے علمائے کرام کے مطابق بیت المقدس میں ہوئی۔واﷲ و اعلم۔بہر حال پہلے ہم علامہ طبری کی روایت پیش کرتے ہیں۔حضرت سالم بن عبد اﷲ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جابیہ آئے تو ایک یہودی نے آپ رضی اﷲ عنہ سے کہا؛”اے امیر المومنین(رضی اﷲ عنہ)!جب تک اﷲ تعالیٰ آپ (رضی اﷲ عنہ ) کو ایلیاہ(بیت المقدس)فتح نہ کرادے،تب تک آپ(رضی اﷲ عنہ)اپنے گھر واپس نہ جائیں۔“ابھی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جابیہ کے مقام پر ہی تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے گھوڑ سواروں کے ایک دستے کو دیکھا،جو آپ رضی اﷲ عنہ کی طرف ہی آرہا تھا۔جب وہ قریب آئے تو مسلمانوں نے تلواریں نکال لیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ لوگ پناہ کے لئے آرہے ہیں،تم انہیں پناہ دو۔“تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ ایلیاہ(بیت المقدس) کے شہری ہیں۔انہوں نے جزیہ ادا کرنے کے معاہدے پر مصالحت کر لی،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے شہر کے دروازے کھول دیئے۔جب شہر فتح ہو گیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس یہودی کو بلوایا،اور اُس سے دجال کے بارے میں دریافت فرمایا۔یہودی بولا؛”اے امیر المومنین(رضی اﷲ عنہ)!آپ اُس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں؟اﷲ کی قسم !آپ (رضی اﷲ عنہ) کی عرب قوم دس گز کے فاصلے پر لاکے دروازے کے قریب دجال کو قتل کرے گی۔علامہ طبری آگے لکھتے ہیں۔صلح کے وقت وہ یہودی موجود تھا،حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُس سے دجال کے بارے میں دریافت کیا،تو وہ بولا؛”دجال بن یامن کی اولاد میں سے ہوگا،اور اﷲ کی قسم!اے اقوام ِ عرب،”لُد“کے دروازے سے دس گز سے کچھ زیادہ فاصلے پر اُسے قتل کرو گے۔“(اُس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کے سربراہ ہوں گے۔”مقام لُد“تل ابیب میں ہے،اور اسرائیل کا سب سے بہترین ایئر پورٹ وہیں ہے۔)

بیت المقدس مسجد کی تحقیق

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بیت المقدس اور ”شب ِاسریٰ“ کے حالات بہت تفصیل سے سنے ہوئے تھے۔اور بیت المقدس کے بارے میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اتنی تفصیل سے بتا یا تھا کہ گویا صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔اور ”چٹانِ داو¿دی“(وہ پہاڑی چٹان جہاں سے حضرت داؤد علیہ اسلام نے فرشتوں کواوپر چڑھتے دیکھا تھا،اور یہیں پر بیت المقدس کی تعمیرکی بنیاد رکھی تھی۔)کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا تھا۔اِسی لئے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جب بیت المقدس میں داخل ہوئے،تو آپ رضی اﷲ عنہ کو دیکھا بھالا لگا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ پوپ اور پادری ،راہب اور بشپ وغیرہ چل رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے پوپ سے بیت المقدس مسجد کے بارے میں پوچھا،تو اپنے ایک بہت ہی خوب صورت کنیسہ (چرچ)میں لے گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے پورے کنیسہ کا جائزہ لیا،اور فرمایا کہ یہ وہ جگہ نہیں ہے،جس کی نشانی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی،مجھے اصل جگہ بتاو¿۔اِس کے بعد پوپ اصل جگہ پر لے گیا،وہاں ہر طرف کوڑا کرکٹ پھیلا ہوا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس جگہ کا جائزہ لیا،اور چٹان ِ داو¿دی کو پہچان لیا ،اور فرمایاکہ یہی وہ جگہ ہے۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے اور کوڑا کرکٹ اُٹھا کر پھینکنے لگے۔سب لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی تقلید کی،اور جب پوری جگہ صاف ہو گئی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ اِس جگہ کو جب بارش کا پانی تین مرتبہ دھو دے،تو نماز شروع کر دینا۔

بیت المقدس کی جگہ کو ڑا کر کٹ کیوں

حضرت داؤد علیہ السلام جب بنی اسرائیل پر نبوت اور حکومت کر رہے تھے،تو انہوں نے ایک رات دیکھا کہ ایک چٹان پر سے فرشتے ایک سیڑھی کے ذریعے آسمان پر چڑھ رہے ہیں۔یہ دیکھ کر آپ رضی علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ میں یہاں پر ایک مسجد بنانا چاہتا ہوں۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اِس مسجد کی بنیاد ڈال کر شروعات کرو گے،لیکن مکمل نہیں کر سکو گے۔اِس تمہارا بیٹا سلیمان (علیہ السلام) پورا کرے گا۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے اُس مسجد کو مکمل طریقے سے بنایا،یہ بنی اسرائیل کی مرکزی مسجد بن گئی۔بعد میں بنی اسرائیل نے اِسے ”ہیکل سلیمانی “کہنا شروع کر دیا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل نے اپنی دانست میں صلیب پر چڑھوا دیا ،تو اُن پر اﷲ کا عذاب نازل ہوا۔اور ایک ظالم بادشاہ نے حملہ کرکے اُن کا اتنی بُری طرح سے قتل عام کیا کہ وہ فلسطین چھوڑ کر پوری دنیا میں بھاگ گئے،اور بکھر گئے۔اُس ظالم بادشاہ نے ”ہیکل سلیمانی“کو پوری طرح سے منہدم کر دیا،اور چٹیل میدان کر دیا۔بعد میں اﷲ تعالیٰ نے عیسائیوں کو طاقتور بنا دیا،اور حکومت اُن کے ہاتھوں میں آئی تو وہ یہودیوں سے بہت نفرت کرتے تھے۔اِسی وجہ سے یہودیوں کی مقدس جگہ (جہاں ہیکل سلیمانی تھا)پر عیسائی بادشاہ نے کوڑا کرکٹ پھینکنے کا حکم دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںکہ یہودیوں نے جہاں ”قمامہ“کیا تھا،قمامہ وہ جگہ ہے جہاں یہودیوں نے مصلوب کو صلیب پر چڑھوایا تھا۔اور پھراُس کی قبر پر کوڑا کرکٹ پھینکنے لگے تھے،اِسی لئے اِس جگہ کا نام قمامہ پڑ گیا تھا۔بعد میں حکومت ہاتھ میں آنے کے بعد عیسائیوں نے وہ جگہ صاف کر کے وہاں وہاں ایک کنیسہ(گرجا گھر،چرچ)بنایا۔اور جہاں منہدم شدہ ہیکل سلیمانی تھا،وہاں ایک چار دیواری گھیر کر وہاں کوڑا کرکٹ پھینکنے کا حکم دیا۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا اسلام کی دعوت کا خط ہرقل کے پاس پہنچا ،تو تب تک کو ڑا کرکٹ حضرت داو¿د علیہ السلام کی محراب تک پہنچ گیا تھا۔پھر ہرقل نے وہاں سے کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا حکم دیا،جس کا سلسلہ جاری تھا،اور ابھی انہوں نے ایک تہائی کوڑا ہی اُٹھا یا تھا کہ بیت المقدس کو مسلمانوں نے فتح کر لیا،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسے اٹھوا دیا۔

مسجد اقصیٰ کی بنیاد

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس جگہ کی صفائی کے بعد یہاں ”مسجد اقصیٰ“کی بنیاد رکھی۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیںحضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ بیت المقدس میں داخل ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت کعب احبار سے صخرہ کی جگہ کے متعلق دریافت کیا۔(حضرت کعب احبار یہودی عالم تھے،اور خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں اسلام قبول کیا تھا۔)انہوں نے کہا؛”یاامیر المومنین!وہ وادیٔ جہم سے اتنے ہاتھ پر فلاں جگہ ہے۔“انہوں نے ہاتھ ناپے ،تو انہوں نے معلوم کر لیا۔اور نصاریٰ(عیسائیوں) نے ”صخرہ “کو روڑی(کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ)جیساکہ یہودیوں نے ”قمامہ“کی جگہ کے ساتھ کیا تھا۔اور یہ وہ جگہ ہے،جہاں مصلوب کو صلیب دی گئی تھی،جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ ہو گیا تھا۔اور یہود و نصاریٰ نے اُسے سچ یقین کر لیا تھا،اور انہوں نے اپنے اعتقاد میں اِس کی تکذیب کی۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے اِس بارے میں اُن کی غلطی کی صراحت کی ہے۔حاصل کلام یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے تقریباً تین سو سال قبل نصاریٰ نے بیت المقدس پر حکومت کی ،تو انہوں نے روڑی کی جگہ کو پاک صاف کیا۔اور وہاں پر ایک بہت ہی عالیشان گرجا گھر (چرچ)بنا دیا،جسے فلسطین کے بادشاہ کی والدہ نے تعمیر کروایا،اور وہ شہر اُسی کے نام سے منسوب ہے۔اور اُس کے حکم سے اُس کے بادشاہ بیٹے نے نصاریٰ کے لئے ”مر زبوم“میں”بیت لحم“کو تعمیر کیا۔اور اُن کے خیال کے مطابق اُس نے قبر کی جگہ اسے تعمیر کیا۔الغرض انہوں نے یہود کے قبلہ کی جگہ کو اس فعل کے مقابلہ میں جو انہوں نے قدیم اور جدید زمانے میں کیا ،روڑی بنا دیا۔اور جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”بیت المقدس “فتح کیا ،اور ”صخرہ “کی جگہ دریافت کیا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے روڑی کو صاف کرنے کا حکم دے دیا۔اور یہاں تک بیان کیا گیا ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی چادر کے دامن سے وہاں جھاڑ دیا۔پھر حضرت کعب سے مشورہ کیا کہ وہ مسجد کہاں بنائیں؟تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”صخرہ “کے پیچھے مسجد بنانے کا مشورہ دیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کے سینے پر ضرب لگا کر فرمایا؛”اے ابن ام کعب !تو نے یہودیوں کی مشابہت اختیار کی ہے۔“اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ”بیت المقدس“کے آگے مسجد بنانے کا حکم دیا۔علامہ ابن کثیرنے ایک اور روایت میں لکھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت کعب سے فرمایا؛”تمہاری رائے میں ،میں کہاں نماز پڑھوں؟“انہوں نے عرض کیا؛”یا امیر المومنین!اگر آپ مجھ سے معلوم کرنا چاہتے ہیں ،تو ”صخرہ“ کے پیچھے نماز پڑھ لیں،اور سارا ”القدس“آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے ہو گا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم نے یہودیت کی مشابہت اختیار کی ہے،میں ایسا نہیں کروں گا۔بلکہ میں وہاں نماز پڑھوں گا،جہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ قبلہ کی طرف بڑھے ،اور نماز پڑھی،اور اپنی چادر پھیلا کر اُس میں کوڑا کر کٹ ڈال لیا۔اور لوگوں نے بھی کوڑا کرکٹ اُٹھا کر پھینکا۔

فاروق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی بشارت

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بارے میں بنی اسرائیل (یہودیوں)اور بیت المقدس شہر کو کئی سو سال پہلے بشارت دے دی گئی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نماز پڑنے کے بعد اُس مقام پر آگئے،جہاں رومیوں نے بنی اسرائیل کے زمانے میں بیت المقدس کو ہندسہ بنا دیا تھا(منہدم کر دیا تھا)۔جب آپ رضی اﷲ عنہ وہاں پہنچے تو انہوں نے کچھ حصے کو ظاہر کیا،اور باقی کو چھوڑ دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”جیسا میں کروں ،تم بھی کرنا۔“اتنے میں آپ رضی اﷲ عنہ کے پیچھے سے سب نے زور کا نعرہ¿ تکبیر اﷲ اکبر بلند کیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی طرف گھوم کر فرمایا؛”یہ کیا ہے؟“مسلمانوں نے عرض کیا؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !حضرت کعب نے تکبیر کہی ،تو اُسے سن کر ہم نے بھی تکبیر کہہ دی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کعب کو میرے پاس لاو¿۔“وہ حاضر ہوئے ،تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے دریافت فرمایا؛”تم نے تکبیر کیوں کہی؟“حضرت کعب نے عرض کیا؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ!آج میں نے جو کچھ کیا ہے،اُس کے بارے میں پانچ سو سال(یا چھ سو سال) پہلے ایک نبی علیہ السلام نے اِس کی پیشن گوئی کر دی تھی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”وہ پیشن گوئی کیا تھی؟“حضرت کعب نے عرض کیا؛”رومیوں نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا،اور وہ اُن کے مطیع ہو گئے تھے۔ اُس وقت انہوں نے اِس کو(ہیکل سلیمانی،یا بیت المقدس)کو تباہ کر دیا تھا۔اس کے بعد اہل فارس نے اہل روم پر حملہ کیا،تو انہوں نے بنی اسرائیل پر زیادتیاں کیں۔پھر اہل روم اُن پر غالب آگئے،یہاں تک کہ آپ رضی اﷲ عنہ فاتح ہوئے۔اﷲ تعالیٰ نے اُس حالت میں ایک نبی علیہ السلام کو بھیجا تھا،انہوں نے فرمایا؛”اے یروشلم(بیت المقدس)!تمہیں بشارت ہو،تمہارے پاس” فاروق اعظم “آئے گا،جو تمہیں پاک و صاف کرے گا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس کو پاک و صاف کیا،اور وہ آج تک پاک و صاف ہے۔لیکن ناپاک یہودیوں نے اسرائیل حکومت بنا لی ہے،اور بیت المقدس کو ناپاک کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

بیت المقدس کا صلح نامہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا،اور شہر والوں کو صلح نامہ لکھ کر دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔امام طبری نے لکھا ہے کہ معاہدہ¿ صلح یہیں(جابیہ میں) لکھا گیا ہے۔اور امام بلاذری اور امام ازدی کا بیان ہے کہ صلح نامہ ”بیت المقدس“میں تحریر کیا گیا۔بہر کیف جو معاہدہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی موجودگی میں ”بیت المقدس“ میں لکھا گیا،اُس کا مضمون یہ ہے:”یہ وہ رعایتیں ہیں،جو اﷲ کے بندے عُمر بن خطاب ( رضی اﷲ عنہ ) نے ایلیاہ(بیت المقدس یا یروشلم)والوں کو دی ہیں۔اُن کی جان، مال، گرجے،صلیب،بیمار،تندرست اور اُن کے کل مذہب والوں کو امان دی جاتی ہے۔کسی کو اُن کے گرجاو¿ں میں سکونت اختیار کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔نہ ہی وہ گرائے جائیں گے،اور نہ ہی اُن کو اور اُن کے احاطے کو نقصان پہنچایا جائے گا۔نہ ہی اُن کی صلیبوں،اور نہ ہی اُن کے موقوفات میں کمی کی جائے گی۔مذہب کی بابت اُب پر کچھ جبر نہیں کیا جائے گا،اور نہ ہی اُن میں سے کسی کو ضرر پہنچایا جائے گا۔اور ایلیاہ میں اُن کے ساتھ یہودی نہیں رہنے پائیں گے،اور اہل ایلیاہ پر یہ فرض ہے کہ وہ دوسرے شہر والوں کی طرح جزیہ دیں۔اور یونانیوں اور مفسدوں کو شہر سے نکال دیں،پس یونانیوں اور مفسدوں میں سے جو شہر سے نکلے گا،اُس کے جان و مال کو اُس وقت تک امن دیا جائے جائے گا،جب تک وہ محفوظ مقام پر پہنچ نہیں جائے گا۔اور جو شخص ان میں سے ایلیاہ میں رہنا چاہے گا،اُس کو اہل ایلیاہ کی طرح جزیہ دینا ہو گا۔اور اہل ایلیاہ میں سے جو شخص اپنی جان و مال لیکر اُن کے ساتھ جانا چاہے ،تو اُن کو اور اُن کے گرجاو¿ں اور صلیبوں کو امن ہے، یہاں تک کہ وہ محفوظ مقام پر پہنچ جائیں۔اور جو کچھ اِس عہد نامہ میں لکھا ہے،اس پر اﷲ تعالیٰ،اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ،اُن کے خلفائ،اور مسلمانوں کا ذمہ اُس وقت تک ہے ،جب تک اہل ایلیاہ مقررہ جزیہ ادا کرتے رہیں گے۔اِس عہد نامے پرحضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت خالد بن ولید ،حضرت عمرو بن عاص،اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہم نے گواہ کے طور پر دستخط کئے۔یہ صلح ۵۱ ہجری میں ہوئی ۔کچھ علمائے کرام کے مطابق بیت المقدس 15 ہجری میں فتح ہوا،اور کچھ علمائے کرام کے مطابق 16 ہجری میں فتح ہوا۔

فلسطین کے دو صوبے

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”بیت المقدس “فتح کیا۔اُس وقت تک فلسطین ملک شام کا ایک حصہ تھا۔ملک شام کافی بڑا تھا،اور اُس میں اردن،لبنان،اور فلسطین وغیرہ ایک ایک صوبے کے طور آتے تھے۔بعد میں اِن تینوں کو ملک شام سے الگ کر کے الگ الگ ملک بنا دیا گیا۔جب خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا،تو اُس کے دو حصے کر دیئے،اور اُسے دو صوبوں میں تقسیم کر دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فلسطین کے دو صوبے بنا دیئے۔ایک صوبے پر حضرت علقمہ بن حکیم کو گورنر(عامل) مقرر کیا،اور دوسرے صوبے پر حضرت علقمہ بن مجزز کو گورنر مقرر کیا۔دونوں کا مرکذ ایلیاہ(بیت المقدس)قرار دیا  گیا۔اور آپ رضی ا ﷲ عنہ کے حکم کے مطابق دونوں گورنروں نے اپنے اپنے علاقے کا انتظام سنبھال لیا۔اُن کے ساتھ وہ لشکر تھا ،جو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص ،اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو جابیہ میں بلا لیا۔ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جابیہ میں تشریف فرما تھے تو ارطبون بھاگ کر ملک مصر چلا گیا تھا۔اور فتح مصر کے بعد مسلمانوں سے مقابلہ میں اُس کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


جمعرات، 3 اگست، 2023

01 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


01 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 1

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ، سلسلہ نسب اور پیدائش، کنیت اور لقب، خاندان، بچپن اور جوانی، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا، قبول ِ اسلام کے لئے دِل نرم، دِل میں کشمکش، حق کی طرف رہنمائی، بہن اور بہنوئی کی خبر لو، کچھ بھی کر لو ،ہم اسلا م نہیں چھوڑیں گے، یہ اﷲ کا کلام ہے، اے عُمر !تمھیں مبارک ہو، اسلام قبول کرنے آیا ہوں، قبول ِاسلام، الفاروق کا لقب، اعلانیہ ہجرت

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا ذکر ہم آپ کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں۔اب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا ذکر پیش کر رہے ہیں۔اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے وصال سے پہلے مسلمانوں کی رائے سے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ نامزد کر دیا تھا۔اس کے بارے میں ہم نے مختصراًخلیفہ اول کے ذکر میں بتایا تھا۔اب ہم اسے تفصیل سے پیش کریں گے۔لیکن اس سے پہلے ہم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا مختصر تعارف پیش کردیں۔

سلسلہ نسب اور پیدائش

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔حضرت عُمر بن خطاب بن نُفیل بن عبد العزیٰ بن رباح بن قُرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی ہے۔کعب بن لوی پر آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب سے آٹھویں پُشت پر مل گیا ہے۔والدہ محترمہ حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبد اﷲ بن عمر بن مخزوم تھیں۔حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی پیدائش واقعہ”عام الفیل“کے تیرہ (۳۱)سال بعد مکہ مکرمہ میں ہوئی۔یعنی آپ رضی اﷲ عنہ ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے لگ بھگ تیرہ(۳۱) سال چھوٹے ہیں۔(تہذیب التہذیب جلد ۷)

کنیت اور لقب

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی کنیت ”ابو حفص“ہے۔اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہاکے والدہیں،اور اسی نسبت سے ”ابو حفص“کنیت ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ کا لقب ”الفاروق “ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے مسلمان چھپ کرنماز ادا کرتے تھے۔جب آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا:”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !کیاہم حق پر نہیں ہیں ؟“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہم بالکل حق پر ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”بس پھر ہم کھلے عام نماز ادا کریں گے۔“اس کے بعد سے مسلمان کھلے عام نماز ادا کرنے لگے،اس موقع پررسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”الفاروق“کا لقب عطا فرمایا۔

ّخاندان

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خاندان ”بنو عدی“کے ہیں۔قریش میں دس بڑے خاندان یا شاخیں تھیں۔بنو ہاشم،بنو اُمیہ،بنو نوفل،بنو عبد الدار،بنو اسد،بنو تیم،بنو مخزوم،بنو عدی،بنو جمح،اور بنوسمح۔قریش کے اِن دس بڑے خاندانوں نے اپنی اپنی ذمہ دار ی سنبھال رکھی تھی۔بنو عدی قریش کے سفیر تھے،اور وہ دوسرے ممالک اور علاقوں سے تعلقات سفارت کی ذمہ داری اِن کے ذمہ تھی۔اور مناضرہ کے ”حکم“یعنی قاضی بنو عدی کے ہی مقرر ہوتے تھے۔عرب میں یہ دستور تھا کے برابر کے دو رئیسوںمیں سے کسی کو افضلیت کا دعویٰ ہوتا تو بنو عدی سے ایک شخص کو ثالث مقرر کیا جاتا تھا۔وہ دونوں کے دلائل سن کر جس کے حق میں بھی فیصلہ دیتا تھا،اُسے تمام قریش قبول کرتے تھے۔حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے چچا ذاد بھائی حضرت زید بن عمرو بن نُفیل ہیں۔

بچپن اور جوانی

حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ بچپن میں بکریاں چراتے تھے،اور گھوڑسواری ،تلوار بازی ،اور کشتی وغیرہ میں مہارت حاصل کی۔جوان ہوئے تو تجارت کرنے لگے،کیونکہ قریش کا اصل ذریعہ معاش تجارت تھا۔جوانی میں آپ رضی اﷲ عنہ بہت ہی گرم مزاج تھے،اور بہت بہادر تھے۔اسی وجہ سے تمام قریش پر آپ رضی اﷲ عنہ کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔عام نوجوانان قریش میں پڑھنا لکھنا سیکھ کر علم الانساب اور شاعری سے متصف ہوئے۔جسمانی ورزش ،پہلوانی اور شہ سواری میں اتنے ماہر ہو گئے تھے۔اور عُکاظ کے میلوں میں اپنی شہ زوری اور شہ سواری کے کرشمے دِکھا کر شہرت حاصل کی۔آپ رضی اﷲ عنہ کا رنگ سفید تھا،جس پر سُرخی غالب تھی۔جس کی وجہ سے نگاہیں آپ رضی اﷲ عنہ پر مرکوز ہو جاتی تھیں۔اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کو کمال معنوی اور جمال ظاہری دونوں عطا فرمائی تھیں۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا

حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے اُس زمانے میں اسلام قبول کیا جب مکہ مکرمہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر قریش ظلم کے پہاڑ توڑ رہے تھے۔اور اسلام انتہائی مظلومیت کی حالت میں تھا،یہاں تک کہ مسلمان چھپ کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے اسلام کو بہت زبردست قوت حاصل ہوئی۔اُس وقت مکہ مکرمہ میں دو عُمر بہت طاقتور تھے،ایک عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ،اور دوسرا عُمر بن ہشام(ابو جہل ) تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کے اسلام قبول کرنے کی دعا کی تھی۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا میں فرمایا:”اے اﷲ تعالیٰ!عُمر بن خطاب (رضی اﷲ عنہ)یا عُمر بن ہشام (ابوجہل) میں سے جو تجھے زیادہ پسند ہے،اُسے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرما،اور اسلام کو قوت عطا فرما۔“(جامع ترمذی)اور ایک روایت میں تو یہ ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے لئے خصوصی دعا فرمائی تھی۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں اتنی قوت نہیں تھی کہ ہم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ سکیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا،تو انہوں نے بڑھ کر خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھی ،اور ہم نے بھی اُن کے ساتھ نماز ادا کی۔(سیرت النبی ابن ہشام)

قبول ِ اسلام کے لئے دِل نرم

رسول اﷲکی دعا کو اﷲ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حق میں قبول فرمایا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے ایسے کئی واقعات پیش آئے ،جن کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کا دِل اسلام کے لئے نرم ہوگیا۔خود حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ اِس بارے میں فرماتے ہیں۔ایک مرتبہ میں خانہ کعبہ کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں۔میرے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ دیکھوںتو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کیا پڑھ رہے ہیں؟میں اُن کے قریب خانہ کعبہ کے پردے کی آڑ میں چھپ کر سننے لگا۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے تھے،یہ اِتنا فصیح و بلیغ کلام تھا کہ میں حیرت ذدہ رہ گیا۔میں نے سوچا کہ اﷲ کی قسم!یہ تو شاعر ہیں،جیسا کہ قریش اِن کے بارے میں کہتے ہیں۔اُسی وقت آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:ترجمہ۔”یہ ایک بزرگ رسول کا قول (کہا ہوا)ہے،یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔“(سورہ الحاقہ آیت نمبر 14)یہ سننے کے بعد میں نے سوچا کہ شاید یہ کاہن ہیں۔لیکن اتنے میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:ترجمہ۔”یہ کسی کاہن کا قول نہیں ہے،تم لوگ کم ہی نصیت قبول کرتے ہو۔یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔“(سورہ الحاقہ آیت نمر 34)

دِل میں کشمکش

اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا قبول کر کے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بھلائی کا ارادہ فرما لیا تھا،آپ رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیںکہ اتنا سننا تھا کہ میرے دل میں احساس پیدا ہوا کہ اسلام ہی حق ہے،اور یہ احساس لگاتار بڑھتا جا رہا تھا۔میں وہاں سے چلا آیا،لیکن دل و دماغ میں وہ دل نشین اور خوب صورت کلام گونج رہا تھا۔(سیرت النبی ابن ہشام)اب اسلام دھیرے دھیرے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دل میں جڑ پکڑنے لگا۔لیکن چونکہ آپ رضی اﷲ عنہ بہت ہی غصہ ور اور ضدی طبیعت کے مالک تھے اِس لئے اِس احساس کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دے رہے تھے۔لیکن لاشعور میں اسلام کی حقانیت کا احساس بیٹھ چکا تھا،اور اِسی کی وجہ سے اکثر غور و فکر میں مبتلا رہنے لگے۔اسی دورا ن دوسرا واقعہ پیش آیا۔

حق کی طرف رہنمائی

حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ پہلے واقعہ کے بعد اکثر غور و فکر کرنے لگے تھے،کہ دوسرا واقعہ پیش آیا۔آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ایک دِن میں (قربان گاہ کے پاس)اِسی غورو فکر میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص بچھڑا لیکر آیا،اور اُسے ذبح کیا۔اُس بچھڑے نے زور کی چیخ ماری،اور اُس کے اندر سے آواز آئی ۔”اے ذریح!(عرب میں بہادر اور دلیر شخص کو ذریح کہا جاتا تھا)معاملہ کامیابی کا ہے،ایک آدمی صاف صاف زبان سے کہہ رہا ہے۔لا الہ الا اﷲ۔“میں حیرت سے کھڑا ہو گیا ،اور اُس کٹے ہوئے بچھڑے کو دیکھنے لگا۔اُس میں سے پھر آواز آئی۔”وہی شخص آخری نبی ہے۔“(صحیح بخاری)یہ کوئی فرشتہ یا نیک جن تھا،جو بچھڑے کے اندر سے آپ رضی اﷲ عنہ سے مخاطب تھا۔اِس واقعہ نے آپ رضی اﷲ عنہ پر بہت گہرا اثر ڈالا۔لیکن چونکہ ضدی طبیعت کے مالک تھے،اِس لئے اپنی ضد پر اڑے رہے۔اِس کے بعد وہ واقعہ پیش آیا ،جس نے آپ رضی اﷲ عنہ کی ضد کو توڑ دیا،اور آپ رضی اﷲ عنہ کی زندگی کا رُخ ہی بدل گیا۔

بہن اور بہنوئی کی خبر لو

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کشمکش میں مبتلا خانہ کعبہ کے صحن میں بیٹھے تھے۔اور اُن سے کچھ دور قریش کے سردار بیٹھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں مشورہ کر رہے تھے۔ابوجہل نے کہا کہ اگر کوئی محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کو (نعوذ باﷲ)قتل کر دے گا ،تو میں اُس کی اوراُس کے خاندان کی کفالت کروں گا،اور انہیں کسی بھی نقصان سے بچاؤں گا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ میں یہ کام کروں گا۔آپ رضی اﷲ عنہ چونکہ قریش میں سب سے بہادر اور دلیر تھے،اِس لئے قریش کے تمام سرداروں نے کہا کہ اے عُمر بن خطاب !بے شک تم یہ کام کر سکتے ہو۔اور سب نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اتنا اُکسایا کہ آپ رضی اﷲنے تلوار نکال لی،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تلاش میں نکل پڑے۔تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ صفا پہاڑی کے دامن میں حضرت ارقم رضی اﷲ عنہ کے مکان”دارِ ارقم“میں ہیں۔آپ رضی ا ﷲعنہ تلوار لیکردارِارقم کی طرف جانے لگے،راستے میں حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ ملے۔(یہ اسلام قبول کر چکے تھے،لیکن اپنے اسلام کو ظاہر نہیں فرمایا تھا)اُنہوں نے پوچھا:”اے عُمر بن خطاب!بہت غصہ میں دکھائی دے رہے ہو؟اور یہ تلوار سونت کر کہاں جا رہے ہو؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں اُس شخص (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے پاس جا رہا ہوں،جس نے قریش کے گھر گھر میں جھگڑا لگا دیا ہے۔اور ہمارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک اﷲ کی طرف بلا رہا ہے،میں اُسے قتل کر دوں گا،تو سارا جھگڑا ہی ختم ہو جائے گا۔“حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے عُمر بن خطاب !تُم غلط راستے پر چل رہے ہو،اور اﷲ کی قسم!تم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہو۔کیا تُم بنو عدی(حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کے خاندان یا قبیلے کا نام)کو برباد کرنا چاہتے ہو؟تمہارا کیا خیال ہے؟اگر تم محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم )کو قتل کر دو گے تو کیا بنو عبد مناف (بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب)تم کو زندہ چھوڑ دیں گے؟“ یہ سن کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میرا اندازہ ہے کہ تُو صابی(بے دین ) ہو گیا ہے۔(جو شخص اسلام قبول کرتا تھا،تو قریش اُسے صابی کہتے تھے)اگر ایسا ہے تو میں پہلے تیرا ہی قتل کرتا ہوں۔“جب حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ اُن کی جان پر بن آئی ہے تو آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”میں تم سے کہتا ہوں کہ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) سے پہلے اپنے گھر والوں کی خبر لو، کیونکہ کئی لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے پوچھا:”وہ کون کون ہیں؟“انہوں نے جواب دیا‘”تمھاری بہن اور بہنوئی اور چچا ذاد بھائی بھی اسلام قبول کر چکے ہیں۔“

کچھ بھی کر لو ،ہم اسلا م نہیں چھوڑیں گے

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جب اپنی بہن اور بہنوئی کے بارے میں سنا توغصہ کے عالم میں اپنے بہنوئی کے گھر کی طرف چل پڑے۔ادھر حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ نے دارِارقم جاکر تمام واقعہ بتا دیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ غصہ کی حالت میں اپنے بہنوئی کے گھر پہنچے تو انہیں قرآن پاک کی تلاوت کی آواز سنائی دی۔سورہ طٰہٰ کی آیات آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھیں،اور وہ لیکر حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ آئے تھے ،اور اندر دونوں کو پڑھا رہے تھے۔تلاوت کی آواز سن کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا غصہ قابو کے باہر ہو گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔اند ر سے پوچھا گیا ،کون ہے؟آپ رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا:”عُمر بن خطاب۔“یہ سن کر حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ فوراً چھپ گئے،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ نے دروازہ کھولا۔آپ رضی اﷲ عنہ اندر آتے ہی اپنے بہنوئی کو مارنے لگے،اور فرمانے لگے:”تُو صابی ہو گیا ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ بہت طاقتور تھے،اور غصے کے عالم میں مارتے ہی جارہے تھے۔ بہن نے جب دیکھا کہ وہ اُن کے شوہر کو مارتے ہی جارہے ہیں ،تو وہ شوہر کو بچانے کے لئے درمیان میں آگئی۔آپ رضی اﷲ عنہ سخت غصے میں تھے،اِس لئے توجہ نہیں کی،اور بہن کے درمیان میں آتے ہی ایک ہاتھ اُسے بھی لگ گیا۔وہ گِر پڑی ،اور اُس کے منہ سے خون نکلنے لگا۔وہ بھی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی بہن تھیں،اور جوش اور غصہ انہیں بھی وراثت میں ملا تھا۔بہن کو بھی غصہ آ گیا،وہ کھڑی ہوئیں اور کہا:”اے اﷲ کے دشمن ! کیا تُو ہمیں اِس لئے مار رہا ہے کہ ہم اﷲ کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں؟تو سُن !میں گواہی دیتی ہو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔اب تُجھے جو بھی کرنا ہے کر لے،ہم اسلام نہیں چھوڑنے والے ہیں۔“

یہ اﷲ کا کلام ہے

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اپنے بہنوئی کو مار رہے تھے،اور بہن کی طرف توجہ نہیں کی تھی۔لیکن جب بہن کی غصہ بھری آواز سنی تو اُس کی طرف دیکھاکہ اُن کی بہن کے منہ سے خون نکل رہا ہے ۔یہ دیکھ کر آپ رضی ا ﷲ عنہ کو جھٹکا لگا،اور اس پر بہن کا پُر عزم لہجہ اور الفاظ نے اُن کے دل پر اثر کر دیا۔اور تمام غصہ اور ضد ختم ہو گئی ،انہیں احساس ہوا کہ اسلام قبول کرنے بعد اسلام کی حقانیت سے دِل اتنا منور ہو جاتا ہے کہ انسان بڑی سے بڑی مصیبت کا مردانہ وار مقابلہ کر لیتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نرم پڑ گئے،اور بہن سے فرمایا:”اچھا یہ تو بتاو¿!تم لو گ کیا پڑھ رہے تھے؟“بہن نے کہا:”میں نہیں بتاو¿ں گی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میری بہن تمہارے رویہ اور الفاظ سے میرا دل بہت متاثر ہو گیا ہے،میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کون سی نعمت ہے؟جسے ملنے پر میری پیاری بہن مجھ پر ناراض ہو گئی ہے؟“بہن نے کہا:”تم ناپاک ہو ،اِس لئے اِسے نہیں چھو سکتے ہو، جاؤ غسل کر کے آؤ،اور وضو کر لو۔“

آپ رضی اﷲ عنہ نے غسل اور وضو کیا،تو بہن نے صحیفہ دیا۔اِس میں سورہ طٰہٰ اور کچھ دوسری سورہ تھیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس میں ”بسم اﷲ الرحمن الرحیم “دیکھا،اور جب ”الرحمن الرحیم“پر پہنچے تو کانپ اُٹھے۔پھر خود کو سنبھالا،اور آگے پڑھنے لگے۔ترجمہ۔”طٰہٰ۔ہم نے یہ قرآن پاک آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم )پر اِس لئے نہیں اُتارا کہ آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم) مشقت میں پڑ جائیں۔بلکہ اُس کے لئے نصیحت ہے جو اﷲ سے ڈرتا ہو۔اِس کا اُتارا جانا اُس کی طرف سے ہے،جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا۔جو رحمن ہے،عرش پر قائم ہے،جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور اِن دونوں کے درمیان اور ہر ایک چیز پر ہے۔اگر تُو اونچی بات کہے ،تو وہ ہر ایک پوشیدہ بلکہ پوشیدہ سے پوشیدہ چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے۔وہی اﷲ ہے،جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،بہترین نام اُسی کے ہیں۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر ۱ سے ۸ تک)اِن آیات نے آپ رضی اﷲ عنہ کے دل پر بہت اثر کیا،اِتنا پڑھنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کیا قریش اِسی سے بھاگتے ہیں؟“کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ آگے پڑھنے لگے،اور جب اِن آیات پر پہنچے۔ترجمہ”بے شک میں ہی اﷲ ہوں،میرے سِوا عبادت کے لائق کوئی نہیں ہے۔پس تُو میری ہی عبادت کر ،اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ۔قیامت یقینا آنے والی ہے،جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہت ہوں۔تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے،جس کے لئے اُس نے کوشش کی ہے۔پس اِس یقین سے تجھے کوئی شخص روک نہ دے ،جو اس پر ایمان نہیں رکھتا ہو،اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو،پس وہ ہلاک ہو جائے۔“(سورہ طٰہٰ آیت ۴۱ سے ۶۱ تک)آپ رضی اﷲ عنہ نے جیسے ہی اِن آیات کی تلاوت کی،تو بے ساختہ پکار اُٹھے کہ یہ اﷲ کا کلام ہے۔

اے عُمر !تمھیں مبارک ہو

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پر سورہ طٰہٰ کی ابتدائی آیات کا ایسا اثر پڑا کہ آپ رضی اﷲ عنہ بے ساختہ پکار اُٹھے کہ یہ اﷲ کا کلام ہے،اور بے شک محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) سچے ہیں۔اِتنا سنناتھا کہ حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ جو چھپے ہوئے تھے،نکل کر باہر آئے ،اور فرمایا:”اے عُمر بن خطاب !تمہیں مبارک ہو،اور خوش ہو جاو¿،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دُعا کی تھی کہ ”اے اﷲ !دو عُمر(حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ،اور عُمر بن ہشام یعنی ابوجہل)میں سے ایک عُمر جو تیرے نزدیک بہتر ہو،اُس کے ذریعے اِسلام کو قوت عطا فرما۔“اور مجھے اُمید ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہ دعا تمہارے حق میں اﷲ تعالیٰ نے قبول فرما لی ہے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”مجھے محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے پاس لے چلو۔“حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ خوشی خوشی انہیں لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے۔

اسلام قبول کرنے آیا ہوں

حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ خوشی خوشی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں آرہے تھے۔اِدھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ”دارِ ارقم “میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ کے ساتھ موجود تھے،اور انہیں یہ خبر مل چکی تھی کہ حضرت عُمر فاروق رضی عنہ (نعوذ باﷲ)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے قتل کے ارادے نکل چکے ہیں۔حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ ”دارِارقم“پر پہنچے ،اور دروازہ کھٹکھٹایا۔اندر سے پوچھا گیا :”کون ہے؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں عُمر بن خطاب ہوں۔“حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ اُس وقت تک اسلام قبول کر چکے تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ قریش کے بہت بہادر اور دلیر شخص تھے۔انہوں نے فرمایا:”اگر عُمر بن خطاب کسی غلط ارادے سے آیا ہے،تو آج یہ ضرور میرے ہاتھوں سے قتل ہو گا۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”دروازہ کھول دو،اگر اﷲ تعالیٰ نے اِس کے لئے بھلائی چاہی ہے،تو یہ اسلام قبول کر لے گا۔اور اِس کے علاوہ اِس کا کوئی اور اِرادہ ہے تو اِس کو قتل کرنا تمہارے لئے آسان ہو جائے گا۔“حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے ،اور درواز کھول کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دونوں بازوو¿ں میں جکڑ لیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آگے بڑھے،اور حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”اِسے چھوڑ دو۔“جب اُنہیں چھوڑا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی چادر پکڑ کر ہلکا جھٹکا دیا اور فرمایا:”اے خطاب کے بیٹے!تم باز نہیں آؤ گے؟ایسا نہ ہو کہ اﷲ تمہیں کسی مصیبت میں مبتلا کر دے۔اب بتاؤ ،کیا ارادہ ہے؟“

قبول ِاسلام

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ سے فرمایا کہ اب بتاو¿کیا ارادہ ہے؟حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دل میں اسلام گھر کر چکا تھا،اور رہی سہی کسر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت آمیز جھڑکی نے پوری کر دی۔انہوں نے عرض کیا:”اے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم !اسلام قبول کرنے کے ارادے سے آیا ہوں۔“اتنا سننا تھا کہ تما م صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے اتنی زور سے ”اﷲ اکبر“کا نعرہ لگایا کہ ”صفا پہاڑی“اُس نعرے سے گونج اُٹھی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے کلمہ پڑھ کررسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبار ک پر اسلام قبول کیا۔(مسند احمد،جامع ترمذی) حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کر لیا،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو بے حد خوشی ہوئی۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا اسلام قبول کرنا گویا کہ اسلام کی فتح تھی،آپ رضی اﷲ عنہ کی ہجرت ”نصرت“تھی،اورآپ رضی اﷲ عنہ کی امامت ”رحمت“تھی۔ہم میں یہ ہمت و طاقت نہیں تھی کہ ہم خانہ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ سکیں۔لیکن جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مشرکین سے اِس قدر جدال و قتال کیا کہ عاجز آکر انہوں نے ہمارا پیچھا چھوڑ دیا،اور ہم خانہ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھنے لگے۔(طبرانی،طبقات ابن سعد)

الفاروق کا لقب

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !کیا ہم زندہ یا مُردہ دونوں حالتوں میں حق پر نہیں ہیں؟“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”قسم ہے اُس ذات ِپاک کی جس کے قبضہ¿ قدرت میں میری جان ہے !بے شک تم حق پر ہو،چاہے وفات پاو¿ یا زندہ رہو۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم!پھر چُھپنا کیوں؟قسم ہے اُس ذات ِپاک کی جس نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے،ہم ضرور کھلے عام نکلیں گے۔اور اﷲ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔اب تما م صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم ”دارِارقم “سے باہر دو صف بنا کر نکلے۔ایک صف میں حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ تھے،اور دوسری صف میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ تھے۔اور دونوں صفوں کے درمیان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم چل رہے تھے۔اِسی طرح یہ لوگ ”خانہ کعبہ“کے صحن میں داخل ہوئے۔جب کافروں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کے ساتھ دیکھا تو بہت ہی حیرت ذدہ اور صدمے میں پڑ گئے۔کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ خانہ کعبہ کے صحن میں مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روکے۔اُس دِن مسلمانوں نے کھلے عام نماز ادا کی،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو ”الفاروق“کا لقب دیا۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جس نے اپنا اسلام (مسلمان ہونا)علی اعلان ظاہر کیا،وہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہیں۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا،تو اسلام ظاہر ہوا۔ورنہ لوگ اپنا اسلام ظاہر نہیں کرتے تھے،بلکہ چھپاتے تھے۔اب کُھلم کُھلا لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جانے لگی،اور ہم خانہ کعبہ کے صحن میں بیٹھنے ،طواف کرنے ،مشرکین سے بدلہ لینے اور اُن کا جواب دینے کے قابل ہوگئے۔

اعلانیہ ہجرت

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔مدینہ منورہ کے انصارکے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کو اﷲ تعالیٰ نے ایک مرکز عطا فرما دیا۔اور رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کو حکم دیا کہ مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دیں۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی سہولت سے مدینہ منورہ ہجرت کریں۔قریش مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے،اِسی لئے تمام مسلمان چھپ چھپ کر ہجرت کر رہے تھے۔لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اتنے بہادر تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے کھلے عام قریش کو چیلنج کر کے ہجرت کی۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے سوا ہم کسی ایسے ایک شخص کو بھی نہیں بتلا سکتے،جس نے اعلانیہ ہجرت کی ہو ،سوائے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے۔جس وقت حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہجرت کے ارادے سے نکلے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی تلوار حمائل کی،اور اپنے شانے پر کمان لٹکائی ،اور ہاتھ میں ترکش کے تیر کر لے لیا۔پھر خانہ کعبہ میں تشریف لائے،وہاں قریش کے سرداران بیٹھے ہوئے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کے سامنے سات مرتبہ خانہ کعبہ کا طواف کیا،مقام ابراہیم پر دو رکعت پڑھیں۔اور پھر قریش کے سرداروں کی مجلس کے پاس آکر ایک ایک شخص سے فرمایا کہ تمہاری صورتیں بگڑیں،اور تم تباہ ہو جاو¿۔اگر کوئی تم میںسے اپنی ماں کو بے اولاد ،بیٹے کویتیم اور بیوی کو بیوہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتووہ مکہ مکرمہ کے باہر آکر مجھ سے مقابلہ کرے۔مگر وہاں کسی میں تاب نہیں کہ وہ آپ رضی اﷲ عنہ کا پیچھا کرتا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی بہادری دیکھ کر کئی صحابہ رضی اﷲ عنہم بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہوگئے،اور ایک اچھا خاصا قافلہ تیار ہو گیا۔ایک روایت کے مطابق لگ بھگ تیس افراد نے آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہجرت کی تھی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

02 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


02 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 2

اﷲ نے زبان اور دِل پر حق جاری کردیا، میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عُمر ہوتے، فرشتے عزت کرتے ہیں،شیطان ڈر کر بھاگتا ہے، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے مشورہ، حضرت عثمان غنی بن عفان رضی اﷲعنہ سے مشورہ، حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی رائے، خلیفہ دوم کے بارے میں وصیت، میں نے سب سے بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے، آخری وقت میں اسلام کی فکر، خلیفہ دوم کی نامزدگی کا اعلان، خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا پہلا خطبہ، خلیفہ بننے کے بعد پہلا حکم

اﷲ نے زبان اور دِل پر حق جاری کردیا

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اﷲ تعالیٰ نے بہت اچھی عقل اور سمجھ عطا فرمائی تھی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ ،حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خصوصی مُشیر تھے۔اﷲ تعالیٰ نے قرآن ِپاک میں کئی جگہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی حمایت میں آیات نازل فرمائی۔اِدھر زمین پر آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے درخواست کی اور اُدھر آسمان سے اﷲ تعالیٰ کا حکم آپ رضی اﷲ عنہ کی حمایت میں نازل ہوا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ” مقام ابراہیم“ پر دو رکعت نماز پڑھوں۔اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حکم نازل فرمایا کہ”مقام ابراہیم“کو مصلیٰ بنا لو۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے خواتین کے پردے کے بارے میں فرمایا تو اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں پردے کا حکم نازل فرمادیا۔اور بھی کئی مقامات پر اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی حمایت میں آیات نازل فرمائیں۔ایک روایت کے مطابق قرآن پاک میں سترہ (۷۱)مقامات ایسے ہیں ،جہاں اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی حمایت میں آیات نازل فرمائیں۔حضرت عُمر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی زبان اور دِل پر حق جاری کر دیا ہے۔“(جامع ترمذی)

میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عُمر ہوتے

حضرت عمرفاروق رضی اﷲ کو اﷲ تعالیٰ نے دین کی بہت اچھی سمجھ عطا فرمائی تھی۔حضرت ابو ذر رضی ا ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے حق کو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی زبان پر جاری کر دیا ہے کہ وہ ہمیشہ حق ہی بولتے ہیں۔“(سنن ابن ماجہ)حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”اﷲ تعالیٰ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی زبان اور دِل پر حق جاری کر دیا ہے۔“(المستدرک،مسند البزار)حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”تُم سے پہلی اُمتوں میںمحدث یعنی صاحب الہام گذرتے رہے ہیں،اگر میری اُمت میں کوئی ہوتا تو وہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہوتے۔“(صحیح بخاری)حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تووہ حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ ہوتے۔“(طبرانی)حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ ہوتے۔“(جامع ترمذی،المستدرک )

فرشتے عزت کرتے ہیں،شیطان ڈر کر بھاگتا ہے

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کافروں کے لئے بہت سخت اور مسلمانوں کے لئے بہت نرم تھے۔کافروں کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ کی سختی کو اﷲ تعالیٰ پسند فرماتے تھے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے،اور عرض کیا:”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے فرما دیجیئے کہ اُن کا غضب اﷲ کو عزیز ہے،اور اُن کی رضا کے مطابق ہی حکم ہوتا ہے۔(طبرانی)امام ابن عساکر نے حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمام آسمانی مخلوق(فرشتوں)میں سے کوئی ایسا نہیں ہے ،جو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی عزت و توقیر نہ کرتا ہو۔اور زمین پر شیطان اُن سے ڈر کر بھاگتا ہے۔(ابن عساکر)اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”میں جن و انس و شیاطین کو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے ڈر کر بھاگتے ہوئے دیکھتا ہوں۔“(جامع ترمذی)اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے شیطان خوف کے باعث بھاگتا ہے۔“(ابن عساکر)امام طبرانی ،حضرت سدیسہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس وقت سے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا،تب سے جب کبھی اُن کو شیطان ملا،اور آمنا سامناہوا تو وہ اُلٹے پاؤں بھاگا ہے۔“(طبرانی)

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے مشورہ 

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔اور اِس بارے میں پہلے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے مرض الموت کے زمانے میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دیا تھا۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ نے ارادہ فرمایا تو اُس وقت حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو بلایا۔(حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں،اور” عشرہ مبشرہ“ میں سے ہیں۔)اور اُن سے فرمایا:”بتاو¿ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“انہوں نے فرمایا:”اے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ رضی ا ﷲ عنہ !وہ اوروں کی بہ نسبت آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے سے بھی افضل ہیں،مگر اُن کے مزاج میں ذرا شدت ہے۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”یہ شدت اِس وجہ سے ہے کہ وہ مجھ کو نرم دیکھتے تھے۔جب وہ خود خلیفہ بنیں گے تو اِس قسم کی اکثر باتوں کو چھوڑ دیں گے۔اے ابو محمدرضی اﷲ عنہ(حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کی کنیت ہے)!میں نے اُن کو بغور دیکھا ہے کہ جس وقت میں کسی شخص پر غضب ناک ہوتا ہوں ،تو حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ مجھے نرمی کا مشورہ دیتے تھے۔اور جب کبھی میں نرم ہوتا تھا ،تو مجھے اُس پر سختی کا مشورہ دیتے تھے۔اے ابو محمدرضی اﷲ عنہ!یہ باتیں جو میں نے تم سے کہی ہیں،تم اِن کا کسی اور سے ذکر نہ کرنا۔“حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”بہت اچھا۔“

حضرت عثمان غنی بن عفان رضی اﷲعنہ سے مشورہ

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے مشورہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِس کے بعدحضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کو بلایا،اور اور اُن سے فرمایا :”اے ابو عبد اﷲرضی اﷲ عنہ!(حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی کنیت ہے)مجھے بتاو¿ کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کیسے ہیں؟“حضرت عثمان غنی رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ اُن کو سب سے ذیادہ جانتے ہیں۔“خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ہاں اے ابو عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ!اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔“پھر آگے فرمایا:”اے اﷲ تعالیٰ!میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے باطن کو اُن کے ظاہر سے بہتر سمجھتا ہوں،ہم میں اُن جیسا دوسرا کوئی شخص نہیں ہے۔“پھر انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”اے ابو عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ !اﷲ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے،اِن باتوں کا کسی سے ذکر نہیں کرنا۔“حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جی بہت اچھا۔“اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اگر میں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو چھوڑ دیا ،تو تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔مجھے معلوم نہیں،ممکن ہے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اِس کو قبول نہ کریں،اُن کے لئے تو یہی بہتر ہے کہ وہ تمہاری خلافت کا بار اپنے سر نہ لیں۔میں تو چاہتا تھا کہ میںتم لوگوں کے اِس معاملے میں بے تعلق رہتا ،اور اپنے پیش روکے طریقے کو اختیار کرتا۔اے ابو عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ!میں نے جس کام کے لئے تمہیں بلایاہے،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے متعلق جو کچھ تم سے کہا ہے،تم کسی سے اِس کا ذکر نہیں کرنا۔“

حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی رائے

حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کی خلافت کے بارے میں کھل کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے رائے دی۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں۔امام ابن عساکر نے بروایت حضرت یسار بن حمزہ بیان کیا ہے،کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مرض الموت کی بیماری کے دوران دریچہ سے لوگوں کو خطاب فرمایا:”اے لوگو!میں نے ایک شخص کو تم پر (خلیفہ) مقرر کیا ہے،تم اِس انتخاب سے راضی ہو؟لوگوں نے بالاتفاق کہا:”اے رسول اﷲ صلی اﷲ صلی علیہ وسلم کے خلیفہ رضی اﷲ عنہ!ہم بالکل راضی ہیں۔“حضرت علی رضی اﷲ عنہ یہ سن کر کھڑے ہو ئے،اور فرمایا:”وہ شخص اگر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نہیں ہیں،تو ہم راضی نہیں ہیں۔“خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”بے شک ،وہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہی ہیں۔“(تاریخ الخلفاء)

خلیفہ دوم کے بارے میں وصیت

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے بعد خلیفہ دوم کے بارے میں وصیت لکھوائی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت محمد بن ابراہیم کا بیان ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی ا ﷲ عنہ کو بلایا،اور اُن سے فرمایا کہ لکھو۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم!یہ عہد نامہ ابو بکر بن قحافہ(رضی اﷲ عنہ ) نے مسلمانوں کے نام لکھا ہے۔اما بعد۔“اِس کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ پر غشی طاری ہوگئی،اور بے خبر ہو گئے۔اِس لئے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے لکھ دیا۔”اما بعد۔میں تم پر حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ مقرر کرتا ہوں۔میں نے حتی المقدور تمہاری خیر خواہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔“پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ ہوش میں آگئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”سناو¿ !تم نے کیا لکھا ہے؟“انہوں نے پڑھ کر سنایا،تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ”اﷲ اکبر“فرمایا،اور آگے فرمایا :”میں سمجھتا ہو کہ شاید تمہیں اندیشہ ہوا کہ اگر غشی میں میری روح پرواز کر گئی تو لوگوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔“حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جی ہاں!میں نے یہی خیال کیا تھا۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ تم کو اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر دے۔اِس کے بعد اِس مضمون کو وہیں بر قرار رکھا۔

خلیفہ دوم کی نامزدگی کا اعلان

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے مرض الموت میں خلیفہ دوم کی نامزدگی کا اعلان فرما دیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو السفر کی روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ دریچے پر بیٹھے،اور لوگوں سے خطاب فرمایا۔اُس وقت سیدہ اسماءبنت عمیس رضی اﷲ عنہااُنہیں پکڑے ہوئے اور سنبھالے ہوئے تھیں۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے لوگو!میں نے جس شخص کو تم پر خلیفہ بنایا ہے،کیا تم اُس کو پسند کرتے ہو؟“کیونکہ میں نے اُس کے متعلق ہر طرح سے غورو فکر کیا ہے۔اور میں نے اپنے کسی رشتہ دار یا قرابت دار کا انتخاب نہیں کیا ہے۔میں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو تمہارا خلیفہ بنایا ہے۔تم اُن کا حکم سنو،اور اُن کی اطاعت کرو۔“سب نے کہا کہ ہم سب بسرو چشم منظور کرتے ہیں،اور ہم اُن کی اطاعت کریں گے۔

میں نے سب سے بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے

ﷲ تعالیٰ نے عربوں میں اور خاص طور سے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میں یہ ایک بہت بڑی خوبی رکھی ہے کہ وہ جیسا محسوس کرتے تھے،اُس کا برملا اظہار کر دیتے تھے۔اور اُن کامقصد اِس کے لئے ہر کسی کی بھلائی ہوتا تھا۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ دوم کا اعلان فرمایا تو حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی ا ﷲ عنہ نے جو محسوس کیا،اُس کا اظہار حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے کر دیا۔( حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ اولین صحابہ کرام رضی ا ﷲ عنہم میں سے ہیں،اور ”عشرہ مبشرہ“میں سے ہیں۔اِ ن کے بارے میں رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی زمین پر کسی جنتی کو چلتا ہوا دیکھنا چاہے تو طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کو دیکھ لے۔)علامہ محمدبن جریر طبری لکھتے ہیں۔سیدہ اسماءبنت عمیس رضی ا ﷲ عنہا فرماتی ہیںکہ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو لوگوں ہم پر خلیفہ مقرر فرمایا ہے۔حالانکہ آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی موجودگی میں لوگوں کو اُن سے کیا کیا تکلیفیں پہنچتی رہی ہیں۔جب سب کچھ اُن کے ہاتھ میں ہوگا تو نہ جانے کیا کیفیت ہو گی؟آپ رضی ا ﷲ عنہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں جارہے ہیں۔وہ آپ رضی اﷲ عنہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کی رعایا کے حقوق کے بارے میں باز پُرس کرے گا۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ لیٹے ہوئے تھے۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مجھے بٹھا دو۔“لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو بٹھا دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”تم مجھے اﷲ سے ڈراتے ہو،تم مجھے اﷲ کا خوف دلاتے ہو،یادرکھو!جب میں اﷲ کے سامنے جاو¿ں گا،اور وہ مجھ سے باز پُرس کرے گا،تو میں کہوں گاکہ میں نے تیری مخلوق پر اُن میں سے سب سے بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے۔“یہ سن کر حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ رو پڑے۔

آخری وقت میں اسلام کی فکر

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو عراق میںآدھا لشکر دے کر مسلمانوں کا سپہ سالار بنا کر خود آدھا لشکر لے کر ملک شام کی طرف روانہ ہوگئے۔اِس کا تفصیلی ذکر ہم خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں کر چکے ہیں،اور ابھی آگے بھی آئے گا۔اِس کے بعد حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی ا ﷲ ملک عراق میں مصروف رہے ۔جب ذرا فرصت ملی تو مدینہ منورہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تاکہ مزید کمک لیکر ملک عراق پہنچیں۔تب تک خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی بیماری کی شروعات ہو چکی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مدینہ منور پہنچے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کو بیمار پایا،اُن کی علالت اُسی وقت سے شروع ہو چکی تھی۔جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک شام کی طرف روانہ ہوئے تھے ،اور اسی علالت میں خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کا وصال ہوا۔جس وقت حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ پہنچے،تو اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی طبیعت ذرا سنبھل گئی تھی۔اور انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اپنے بعد جانشین مقرر کر دیا تھا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کو تمام واقعات سے مطلع کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو بلاو¿۔“جب وہ آئے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا:”اے عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ !میں جو کہہ رہا ہوں اُسے غور سے سنو،اور پھر اُس پر عمل کرنا۔آج دو شنبہ(پیر) کا دن ہے،اور میں توقع کرتا ہوں کہ میں آج ہی انتقال کر جاو¿ں گا۔اگر میرا انتقال ہو جائے تو شام ہونے سے پہلے لوگوں کو جہاد کی ترغیب دے کرحضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ روانہ کر دینا۔اور اگر میرا انتقال رات میں ہو تو صبح سے پہلے مسلمانوں کو جمع کر کے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بھیج دینا۔میری موت کی مصیبت چاہے کتنی بھی بڑی ہو،وہ تم کو دین کے احکام اور اﷲ کے حکم سے باز نہ رہنے دے۔تم نے دیکھا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے موقع پرمیں نے کیا کیا تھا،حالانکہ ہمارے لئے وہ عظیم ترین حادثہ تھا۔اﷲ کی قسم!اگر میں اُس وقت اﷲ اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے احکام کی تعمیل میں ذرا بھی تاخیر کرنا جائز رکھتا تو اﷲ ہم کو ذلیل کر دیتا،اورہم کو سزا دیتا۔اور مدینہ منورہ میں آگ کے شعلے بھڑک اُٹھتے۔جب اﷲ تعالیٰ ملک شام میںوہاں کے سپہ سالاروںکو فتح عطا فرمادے۔تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر کو ملک عراق واپس بھیج دینا۔کیونکہ وہ لوگ ملک عراق کے لئے اہل اور کامیاب عہدے دار ہیں۔اور وہاں کے طریق سیاست سے بخوبی آشنا اور بڑے جری ہیں۔

خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا پہلا خطبہ

حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے وصال ،اُن کی نماز جنازہ،اُن کی تدفین کے بارے میں ہم خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے ذکر میں تفصیل سے کر چکے ہیں۔یہاں ہم خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ کی خلافت کا ذکر کر رہے ہیں،اِس لئے ہم وہیں سے شروع کرتے ہیں۔جس رات خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو دفن کیا گیا،اُس رات کی صبح حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسجد نبوی کے منبر پر بیٹھے۔(رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم منبر پر جس جگہ بیٹھتے تھے،اُس جگہ حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کبھی نہیں بیٹھے،بلکہ اُس سے نیچے بیٹھتے تھے۔اورجس جگہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے،اُس جگہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کبھی نہیں بیٹھے،بلکہ اُس سے نیچے کی جگہ پر بیٹھتے تھے۔)تمام مسلمانوں نے آکر آپ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کی،اور آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد پہلا خطبہ ارشاد فرمایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جس رات حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی تدفین ہوئی ،اُس کی صبح حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے،اور فرمایا:”میں چند کلمات کہنا چاہتا ہوں ،تم لوگ آمین کہنا۔“اسی طرح مری کا بیان ہے کہ خلیفہ ہونے کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جو سب سے پہلا خطبہ دیا وہ یہ تھا :”عربوں کی مثال ایسی ہے ،جیسے نکیل میں بندھا ہوا اونٹ۔جو اپنے قائد کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے۔لہٰذا قائد کا فرض ہے کہ سوچ سمجھ کر اُس کی قیادت کرے۔اور میں ....قسم ہے رب کعبہ کی اُن کو سیدھے راستے پر لے کر چلوں گا۔“علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔۳۲ جمادی الثانی ۳۱ ھجری بروز پیر خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ تخت خلافت پر متمکن ہوئے۔

خلیفہ بننے کے بعد پہلا حکم

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خلافت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا حکم جو جاری کیا،وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری سے معزولی کا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔رات آتے ہی حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رات ہی کو اُن کو دفن کر دیا۔اور مسجد میں آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی نماز جنازہ پڑھائی۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوتے ہی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی عنہ کے لئے لشکر کی بھرتی کی۔خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :” حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ جانتے تھے کہ میں عراق کی جنگ کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری کو ناپسند کروں گا،اِس لئے انہوں نے اُن کے لشکر کی واپسی کا حکم دیا۔مگر خود اُن کا ذکر چھوڑ دیا۔“انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر کے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو اُن کی جگہ سپہ سالار بنایا،اور انہیں ایک خط لکھ کر قاصد کو دیکر ملک شام میں میدان جنگ میں بھیجا،جہاں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری میں مسلمانوں کا لشکر رومیوں سے لڑ رہا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خط میں لکھا:”میں تم کو اُس اﷲ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں،جو باقی رہنے والا ہے۔اور جس کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے،جس نے ہم کو گمراہی سے نکال کر راہ راست(سیدھے راستے )پر لگایا۔اور ظلمت(کفر)سے نکال کر نور(اسلام)میں داخل فرمایا۔میں تم کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی جگہ لشکر کا سپہ سالار مقرر کرتا ہوں۔تم مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو جاو¿،تم غنیمت کی حرص میں آکر مسلمانوں کو ہلاکت میں مبتلا نہ کرنا۔اور نہ کسی اجنبی مقام میں وہاں کے حالات اور نتائج سے بے خبر ہوکر اُن کو ٹھہرانا۔جب تم کسی لشکر کو جنگ کے لئے بھیجو،تو معقول تعداد کے بغیر نہیں بھیجنا۔مسلمانوں کو ہلاکت میں ہرگز مبتلا نہ کرنا،اﷲ نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ میں ،اور میرا معاملہ تمہارے ہاتھ میں دیا ہے۔دنیا کی محبت سے آنکھیں بند کر لو،اور اپنے دل کو بے نیاز کر لو۔خبردار اگلے لوگوں کی طرح اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔اُن کے بچھڑنے کے میدان تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں۔“خلیفہ دوم کے قاصد جب یہ خط لیکر ملک شام میں میدان جنگ میں پہنچے تو رومیوں سے جنگ ایک فیصلہ کُن مر حلے میں داخل ہو چکی تھی۔قاصدوں نے یہ خط حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو دیا ،تو انہوں نے جنگ ختم ہونے تک حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو نہیں بتایا۔جب جنگ ختم ہوگئی ،اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گئی ،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مال غنیمت تقسیم کرنے بیٹھے ،تب حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے یہ خط انہیں دیا۔اب ہم ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر کے حالات پیش کریں گے،اور درمیان میںخلیفہ اول کے وصال اور خلیفہ دوم کی خلافت کا ذکر ضمناً کریں گے،تاکہ تسلسل بر قرار رہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


03 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2



03 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 3

ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر کے حالات، ملک شام کی طرف اسلامی لشکروں کی روانگی، ہرقل کی جنگی تیاری، تمام لشکروں کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم، رومی لشکروں کا واقوصہ میں جمع ہونا، رومیوں سے طویل جنگ، اللہ کی تلوار کا جذبۂ جہاد، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان میں جنگ، مسلمانو ں کے اتحادکا مشورہ، لشکر کے مشترکہ سپہ سالار، اسلامی لشکر کی نئی ترتیب، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی دعا، لشکر سے خطاب

ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر کے حالات

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں ہم نے آپ کو ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے اپنے لشکر کو لیکر وہاں پہنچنے اور رومیوں سے جنگ کے مختصر حالات پیش کئے تھے۔ابھی یہ جنگ چل ہی رہی تھی کہ مدینہ منورہ میں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا وصال ہو گیا ،اور حضرت عُمر فاروق رضی عنہ کو خلیفہ بنا دیا گیا۔اب ہم ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر کے حالات وہیں سے شروع کرتے ہیں ،جہاں ہم اُسے روکا تھا۔اِس سے پہلے ہم بہت مختصر میں مسلمانوں اور رومیوں کے لشکر وں کے بارے میں بتا دیں ۔تاکہ وہاںکے حالات سمجھنے میں آسانی ہو۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ۱۱ ھجری میں ذو القصہ سے جو گیار ہ لشکر روانہ فرمائے تھے۔اُن میں سے ایک لشکر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کو ملک شام اور ملک عرب کے سرحدی علاقوں کی طرف روانہ کیا تھا۔اور انہیں حکم دیا تھا کہ اُس علاقے کے لوگوں کو ارتداد سے روکیں،اور مسلمانوں کو اپنے لشکر میں شامل کریں۔لگ بھگ ایک سال تک حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو اپنے لشکر میں بھرتی کرتے رہے۔اِس دوران حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک عرب سے ارتداد کا خاتمہ کرنے کے بعد ملک عراق میں فارسیوں کو شکست پر شکست دے رہے تھے۔اور حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل عمان ،بحرین،یمن اور تہامہ میں ارتداد کا خاتمہ کرنے کے بعد واپس آئے تو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم پر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کی مدد کرنے اپنا لشکر لیکر آگئے۔

ملک شام کی طرف اسلامی لشکروں کی روانگی

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ جیسے ہی حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابوجہل لشکر لیکر پہنچیں،تم اپنے لشکر کے(ایک سال پہلے مدینہ منورہ سے آئے) مجاہدین کو مدینہ منورہ روانہ کردینا۔اِس کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ کو ایک بڑا لشکر دیکر ملک شام کی طرف روانہ کیا۔ایک لشکر دیکر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو فلسطین کی طرف روانہ کیا۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت ملک شام بہت بڑا تھا،اور ملک فلسطین،اُردن،لبنان وغیرہ تک کا علاقہ ملک شام میں ہی آتا تھا۔)ایک لشکرحضرت ولید بن عقبہ کو دے کرروانہ کیا،اور ایک لشکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو دیکر روانہ کیا۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ نے جلد بازی کی اور اِن لشکروں کے آنے سے پہلے ہی رومیوںسے بھڑ گئے۔جس کانتیجہ یہ ہوا کہ انہیں کافی پیچھے ہٹنا پڑا ،اور اچھے خاصے علاقے چھوڑنا پڑے۔لیکن حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل عنہ ڈٹے رہے ،اور رومیوں سے مقابلہ کرتے رہے۔جب تما م لشکر ملک شام پہنچ گئے تو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کو واپس بلا لیا۔

ہرقل کی جنگی تیاری

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق تمام سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر مقررہ مقامات تک پہنچ گئے۔سلطنت روم کے حکمراںقیصر ہرقل کو جب مسلمانوں کے لشکر کے آمد کیاطلاع ملی تو اُس نے بھی غیر معمولی جنگی تیاری شرو ع کر دی۔اور وہ خود چل کر ”حمص“میں آیا،اور رومیوں کا ایک بہت بڑا لشکر تیار کیا۔اُس کے پاس کافی فوج تھی،بلکہ بے اندازہ فوج تھی۔اس لئے اُس نے مسلمانوں کے ہر لشکر سے لڑنے کے لئے الگ الگ لشکر تیار کر کے روانہ کئے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے مقابلے کے لئے اپنے حقیقی بھائی تذارق کا نوے ہزار (90,000) کا لشکر دیکربھیجا۔اور اُس کے پیچھے ایک افسر کو ساقہ پر متعین کیا۔اُس کو بالائی فلسطین میں”ثنیتہ جلق“پر متعین کیا۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت فلسطین،لبنان ،اور اردن ،ملک شام کا حصہ تھے۔)اور حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر جرجہ بن توزرا کو لشکر دیکر بھیجا۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر دراقص کو لشکر دیکر بھیجا۔اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر فیطار بن نسطورا کو ساٹھ ہزار کا لشکر دیکر بھیجا۔یہ دیکھکر تمام سپہ سالاروں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو تمام حالات لکھ بھیجے،اور اگلی ہدایت کا انتظار کرنے لگے۔

تمام لشکروں کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی اگلی ہدایت کے آنے کے درمیان میں تمام سپہ سالار ایکدوسرے سے خط و کتابت کے ذریعے صلاح مشورہ کر رہے تھے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے سب کو یہ مشورہ دیا کہ ایک جگہ جمع ہو جائیں،تو ہمارے لئے زیادہ بہتر رہے گا۔کیونکہ دشمنوں نے ہر سپہ سالار پر بڑے بڑے لشکر مسلط کر دیئے ہیں۔تمام سپہ سالار اِس بات پر متفق ہو گئے کہ ایک جگہ جمع ہوا جائے،لیکن یہ طے نہیں کر پا رہے تھے کہ کہاں جمع ہوا جائے۔اسی دوران خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کاجواب بھی آ گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ تمام لشکر جمع ہو کر ایک لشکر ہو جائیں،اور ملکر دشمنوں سے جنگ کریں۔تم اﷲ کے سپاہی ہو،اﷲ تمہارا مدد گار ہے۔اﷲ اُس کو ذلیل کرتا ہے،جو اُس کا انکار کرتا ہے۔تم جیسے(اﷲ کو ماننے والے)لوگ تعداد کی قلت کی وجہ سے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتے۔دس ہزار بلکہ اُس سے بھی کہیں زیادہ، اگرگناہوں کے طرفدار بن کر اُٹھیں گے تو وہ دس ہزار سے ضرور مغلوب ہوں جائیں گے۔لہٰذا تم گناہوں سے احتراز کرو ،اور یرموک میں مل کرجنگ کرنے کے لئے جمع ہو جاو¿ ۔تم میں سے ہر سپہ سالار اپنے اپنے لشکر کی امامت کرے ،اور نماز پڑھائے۔

رومی لشکروں کا واقوصہ میں جمع ہونا

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مسلمانوں کے تمام سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر یرموک میں آکر جمع ہونے لگے۔ہر قل کو جب مسلمان لشکروں کے اجتماع کی خبر ملی تو اُس نے اپنے پادریوں کو حکم دیا کہ تم بھی رومیوں کے ہر لشکر کوایک ایسی جگہ مسلمانوں کے سامنے جمع کرو۔جہاں کافی گنجائش اور وسعت ہو،اور بھاگنے والوں کے لئے راستہ تنگ ہو۔تمہاری فوج کا سپہ سالار تذارق کو مقرر کیا جاتا ہے۔مقدمة الجیش پر جرجہ کو،اور میمنہ اور میسرہ پر دراقص کو متعین کیا جائے،اور سپہ سالار اعظم فیقار کو بنایا جائے۔ میں تمہیں خوش خبری دیتا ہوں کہ باہان تمہارے عقب میں تمہاری مدد کے لئے موجود ہے۔پادریوں نے ہرقل کے حکم کی تعمیل کی،اور یرموک کے قریب ایک بہت بڑی اور وسیع وادی ”واقوصہ “میں تمام روم کے تمام لشکروں کو جمع کردیا۔رومیوں کے لشکر کے سامنے کی وادی نے اُن کے لئے خندق کا کام دیا۔جس کی وجہ سے وہ ایک ناقابل تسخیر وادی بن گئی۔باہان اور اُس کے ساتھیوں کی خواہش تھی کہ رومیوں کے دلوں سے مسلمانوں کی دہشت نکل جائے۔اور وہ اُن کو ہوا سمجھنا چھوڑ دیں۔

رومیوں سے طویل جنگ

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق تمام مسلمان سپہ سالار اپنے لشکروں کے ساتھ یرموک میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔جب تمام رومی لشکروں کے سپہ سالارجب اپنے اپنے لشکر لیکر واقوصہ میں پہنچ گئے،تو مسلمان آگے بڑھ کر رومیوں کے لشکر کے مد مقابل پہنچ گئے۔رومیوں کے لئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔یہ دیکھ کر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ بول اُٹھے۔مسلمانو!مبارک ہو،اﷲ کی قسم!رومی محصور ہو گئے ہیں،اب ان سے کچھ بن آنا مشکل ہے۔رومیوں کے پیچھے واقوصہ کی گھاٹی تھی،اور سامنے خندق نما گھاٹی تھی،جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت پریشانی ہو تی تھی۔ ماہ صفر المظفر ۳۱ ھجری میں دونوں لشکر ایکدوسرے کے سامنے آئے۔دونوں کے درمیان خندق نما گھاٹی تھی،روز جنگ ہوتی ،لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔یہاں تک کہ ماہ ربیع الاول آگیا۔اور یہ پورا مہینہ بھی گذر گیا ،اور جنگ کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔مسلمان سپہ سالاروں نے تمام حالات لکھ کر خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجے،اورمزید کمک طلب کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فوراًحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ حیرہ میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو آدھا لشکر دے کرچھوڑ دو،اور آدھا لشکر لیکر تم جلد سے جلد ملک شام پہنچو۔وہاں تمہاری شدید ضرورت ہے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا جذبۂ جہاد

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کا حکم ملتے ہی آدھا لشکر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو دیا۔اور آدھا لشکر لیکر ملک شام جانے کی تیاری کرنے لگے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ کون ہے جو ہمیں مختصر راستے سے ملک شام پہنچا دے۔حضرت رافع بن عمیرہ طائی آگے بڑھے،اور کہا کہ میں ایسا مختصر راستہ جانتا ہوں،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ اتنے بڑے لشکر و اسباب کو لیکر اس راستے کو طے نہیں کر سکیں گے۔اﷲ کی قسم!تنہا سوار بھی اس مشکل اور تکلیف دہ راستے کو طے کرنے کی ہمت نہیں کرتا ہے،کیونکہ اس راستے پر پانچ دن و رات تک کسی مقام پر آپ رضی اﷲ عنہ کو پانی نہیں ملے گا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مجھ کو یہ راستہ طے کرنا بہت ضروری ہے،کیونکہ خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مجھے جلد سے جلد مسلمانوں کی مدد کے لئے ملک شام پہنچنا ہے۔اور تیرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اُن کی مدد کو نہیں جاو¿ں؟میں نے جان اﷲ کی راہ میں وقف کر دی ہے۔اور اب تُم مجھے اِس راستے سے لیکر جاو¿ گے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے کمانڈروں کو حکم دیا کہ تمام مجاہدین سے کہہ دو کہ پانچ دنوں کا پانی اپنے ساتھ لیکر چلیں۔اِس کے علاوہ اپنے اونٹوں کو بار بار پانی پلائیں(اونٹ کا ایک معدہ ایسا ہو تا ہے کہ بالکل صاف ستھرا پانی اُس میں محفوظ رہتا ہے،جسے پانی نہ ملنے کی صورت میں وہ استعمال میں لاتا ہے)تمام مسلمانوں نے چھاگلوں،مشکیزوںاور دوسرے برتنوں میں پانی بھر لیا۔اور اونٹوں کو وقفہ وقفہ سے بار بار پانی پلایا،اور اُن کے پاو¿ں پر کپڑے لپیٹ دیئے،تاکہ روزآنہ کے مسلسل سفر سے اُن کے پیر پھٹنے سے محفوظ رہیں۔اور کئی سو زائد اونٹ ساتھ لے لئے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ لشکر کو لیکر اِس دشوار گذار سفر پر نکل پڑے۔اور مسلسل چار دنوں کے سفر کے بعدپانچویں روز علمین کے قریب پہنچے تو حضرت رافع نے لوگوں سے کہا:”ذرا دیکھو تو کہیں عوسج کا درخت نظر آرہاہے یا نہیں؟“لوگوں نے دیکھا تو ہر طرف صحراءاور ریت کے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔جب عوسج کا درخت کہیں دکھائی نہیں دیا تو حضرت رافع نے انا ﷲوانا الیہ راجعون پڑھ کر کہا۔”افسوس تم بھی ہلاک ہوئے ،اور مجھے بھی ہلاک کیا۔،میں پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ راستہ بہت دشوار گذار ہے۔“سب لو گ پیاس سے بے حال ہو رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے جو زائد اونٹ ساتھ لئے ہیں ،انہیں زبح کرو ،اور ان کے گوشت کھانے کے لئے،اور اُن کے معدوں کے اندر کا پانی پینے کے استعمال میں لاو¿۔سب نے ایسا ہی کیا ،اور گھوڑوں کو بھی پانی پلایا۔اس کے بعد جب اور آگے چلے تو لشکر کے آگے والے مسلمانوں کو عوسج کا درخت نظر آیا،اور انہوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔حضرت رافع کے کہنے پر اس کی جڑ کے پاس کھودا گیا تو نیچے ایک پانی کا چشمہ تھا۔تمام لشکریوں نے سیر ہو کر پانی پیا ،اور اونٹوں کو بھی پلایا،اور چھاگلوںاورمشکیزوں کو بھی بھر لیا۔اس کے بعد وہ ”سویٰ“ پہنچ گئے۔یہی بنو بہراءکے رہنے کا مقام تھا۔یہ لوگ غفلت میں بیٹھے شراب پی رہے تھے،اور اُن کا ایک مغنی(گانے والا)گا رہا تھا۔مسلمانوں نے ان پر چھاپہ مارا اور ان کے سردار حرقوص بن نعمان بہرائی کو قتل کر کے ان کے مال و اسباب پر قبضہ کر لیا۔اور اس کے بعد سفر کرتے ہوئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر ماہ ربیع الثانی کے آخری دنوں میں مسلمانوں کے لشکر میں یرموک پہنچے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان میں جنگ

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب یرموک پہنچے،تو اُسی وقت باہان بھی اپنا لشکر لیکر رومیوں کی مدد کے لئے آیا۔اُس نے اپنی فوج کے آگے آگے آفتاب پرستوں،راہبوں،اور پادریوں کو متعین کیا تھا،کہ وہ لوگ فوج کو جنگ کے لئے اکسائیں،اور ان کے دلوں میں جوش پیدا کریں۔اتفاق سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان کی آمد بیک وقت ہوئی،اور باہان اِس انداز میں آگے بڑھا جیسے میدان اُسی کا ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ باہان سے لڑنے لگے،اور دوسرے سپہ سالار اپنے اپنے مقابلے کے رومیوں سے لڑنے لگے۔باہان نے شکست کھائی ،اور رومیوں نے یکے بعد دیگرے ہزیمت اُٹھائی اور اپنی خندق میں گھس گئے۔رومیوں نے باہان کی آمد کو نیک فال تصور کیا تھا،اور مسلمانوں کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے سے خوشی ہوئی تھی،اور مسلمان خوب جوش سے لڑے،اوررومی بھی خوب جوش سے لڑے۔ لیکن شام تک کوئی فیصلہ کن جنگ نہیں ہوئی ،اور دونوں فریقین اپنے اپنے پڑاو¿ میں واپس چلے گئے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا مشورہ

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یرموک پہنچنے کے بعد دیکھا کہ تمام مسلمان سپہ سالارالگ الگ اپنے لشکروں کو لیکر جنگ کررہے تھے۔انہوں نے سب کو یہ مشورہ دیا کہ مسلمانوں کے لشکر کو اکٹھا کر دیا جائے ،اور ایک دن ایک سپہ سالار تمام مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کرے۔اور دوسرے دن دوسرا سپہ سالار قیادت کرے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی عنہ نے ملک شام میں الگ الگ شہروں کے لئے لشکر اور سپہ سالار بھیجے تھے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حمص کی طرف،حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ کودمشق کی طرف،حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کواُردن کی طرف،اورحضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ عنہ کو فلسطین کی طرف بھیجا تھا۔جب مسلمان ملک شام کے قریب پہنچے تو رومیوں کا بہت بڑا لشکر دیکھ کر اُن کے ہوش اُڑ گئے۔انہوں نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ سے مشورہ طلب کیا تو انہوں نے تمام سپہ سالاروں کو اپنے لشکر لیکر ایک جگہ جمع ہونے اور پورے لشکرکوایک ساتھ رومیوں کے لشکر سے جنگ کا حکم دیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ تمام مسلمان سپہ سالار الگ الگ اپنے لشکروں کو لیکر جنگ کر رہے ہیں،تو انہوں نے فرمایا :”اے سپہ سالارو!کیا آپ لوگ ایسا مشورہ ماننے کے لئے تیار ہیں؟جس سے اُمید ہے کہ اﷲ کا دین سر بلند ہوجائے گا،اور آپ کے مراتب میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔“

مسلمانو ں کے اتحادکا مشورہ

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب یرموک پہنچے تو دیکھا کہ مسلمانوں کے لشکر میں ہر سپہ سالار الگ الگ قیادت کر رہا ہے ،تو انہوں نے سب کومتحد کرنے کی کوشش شروع کردی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ملک شام میں چاروں سپہ سالار لگ بھگ ستائیس ہزار (27,000) کا لشکر لیکر پہنچے تھے۔اِن کے علاوہ حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ تین ہزار(3,000)مجاہدین کے سپہ سالار تھے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک عراق سے دس ہزار(10,000)مجاہدین لیکر آئے تھے۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل چھ ہزار (6,000) مجاہدین کے ساتھ ڈٹے ہوئے تھے۔ یہ سب کُل ملاکر مسلمانوں کو لشکر چھیالیس ہزار (46,000)مجاہدین پر مشتمل تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے تک تمام سپہ سالار اپنے اپنے لشکروں کو لڑانے کے لئے کسی کے تابع نہیں تھے۔رومیوں سے جنگ شروع کرنے سے پہلے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے تمام مسلمان سپہ سالاروں کو جمع کیا،اور اﷲ کی حمد و ثنا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود و سلام کے بعد فرمایا:”آج کا دن اﷲ کے اہم ترین دنوں میں سے ایک ہے۔آج کسی کو فخر اور خود رائی نہیں کرنی چاہیئے،بلکہ خلوص نیت سے جہاد کرو،اور عمل صرف اﷲ کے لئے کرو۔آج کی کامیابی ہمیشہ کی کامیابی ہے۔رومیوں کے منظم اور مرتب لشکر سے تمہارا آزادی اور انتشار کے ساتھ لڑنا کسی طرح جائز نہیں اور مو زوں نہیں ہے۔اگر اُن کو(خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کو )جو تم سے دور ہیں،یہاں کی کیفیت کا ایسا ہی علم ہوجائے،جیسا تم کو ہے۔تو وہ بھی تم کو اِس طرح لڑنے کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے۔جس کام میں تم کو خلیفہ رضی اﷲ عنہ کا خاص حکم نہیں ملا ہے،اُس کو اپنی ایک ایسی رائے کے ساتھ انجام دو،گویا وہ تمہارے خلیفہ رضی اﷲ عنہ اور اُن کے خیر خواہوں کا حکم ہے۔“

لشکر کے مشترکہ سپہ سالار

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی تقریر سُن کر تمام سپہ سالاروں نے کہا:”آپ رضی اﷲ عنہ رائے دیں کہ ہم کیا کریں؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ہم لوگوں کو یہ خیال کر کے بھیجا ہے کہ ہم اِس مہم کو بآسانی سر کر لیں گے۔اگر اُن کو یہاں کے واقعات اور حالات کا علم ہوتا تو وہ تم کو متفرق رکھنے کے بجائے متحد رکھتے۔مسلمانوں کے لئے یہ موقع اِس سے پہلے کے مواقع کی بہ نسبت بہت سخت ہے،اور رومیوں کو چونکہ کافی مدد مل گئی ہے۔اِس لئے حالات اُن کے حق میں سازگار ہیں،اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تم الگ الگ اپنے اپنے لشکر کی قیادت کر رہے ہو۔اگر ہم سب ملکرتمام مسلمانوں کے لشکر کو متحد کردیں،اور ہم میں سے کسی ایک کو پورے لشکر کا سپہ سالار بنا دیں ۔اور ہم سب اُس ایک سپہ سالار کے مطیع ہو جائیں،تو ہم میں سے کسی کے مراتب میں فرق نہیں آئے گا۔جس کو ہم اپنا مشترکہ سپہ سالار بنائیں گے،اُسے کوئی بڑائی نہیں ملے گی،اوراُس کو اپنا سپہ سالار بناکر اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے نزدیک ہمارا درجہ کم نہیں ہوگا۔دیکھو دشمن کی تیاری کتنی عظیم الشان ہے،اگر آج ٍہم نے اِن کو خندق میں دھکیل دیا تو پھر ہمیشہ دھکیلتے رہیں گے۔اور اس کے برعکس آج انہوں نے ہمیں شکست دے دی تو آئند ہ ہمارے پنپنے کا کوئی امکان نہیں ہو گا۔ہونا یہ چاہیئے کہ سپہ سالاری کے عہدے کو باری باری کر دیا جائے۔آج ہم میں سے ایک شخص سپہ سالار ہوگا،تو کل دوسرا،پرسوں تیسرا،یہاں تک کہ آپ سب کو امیر بننے کا موقع مل جائے،اور آج مجھے امیر بنا دو۔“سب لوگوں نے اتفاق رائے سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کوسپہ سالار بنا لیا۔

اسلامی لشکر کی نئی ترتیب

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے سپہ سالار بنتے ہی اسلامی لشکر کی تر تیب کو بدل دیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے سے پہلے لگ بھگ ایک مہینے سے روزآنہ دن بھر مسلمانوں اور رومیوں میں جنگ ہوتی تھی ،اور شام کو دونوں فریق بغیر کسی فیصلے کے واپس اپنے پڑاو¿ میں چلے جاتے تھے۔اِسی لئے دوسرے مسلمان سپہ سالاروں نے سمجھا کہ آج بھی ویسی ہی جنگ ہوگی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔یہ لوگ سمجھتے تھے کہ رومیوں کی آج کی یورش بھی اور دنوں کی طرح ہو گی،اور ابھی یہ چپقلش اور طول کھینچے گی۔مگر اِس بار رومیوں کی صف آرائی ایسی با ضابطہ تھی کہ اس کی مثال اِس سے قبل دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔اُن کے مقابلے میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے لشکر کو جس طریقے پر مرتب کیا،وہ عربوں کے لئے بالکل نیا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر کو بہت سے دستوں میں تقسیم کر دیا،جن کی تعداد چھتیس(36)سے چالیس(40) تک تھی۔حضرت خالد بن ولید رجی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تمہارے دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے،اور وہ اپنی کثرت پر اترایا ہوا ہے۔ایسی ترتیب کہ ہمارا لشکر دشمن کو زیادہ نظر آئے،صرف یہ ہے کہ اس کے بہت سے دستے بنا دیئے جائیں۔“اسی کے مظابق آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر کے قلب کے کئی دستے بنائے،اور اُن پر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو کمانڈر مقرر فرمایا۔میمنہ کے کئی دستے بنا کر اُن کر حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو کمانڈر بنایا۔میسرہ کے کئی دستے بنائے ،اور اُن پر حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ کوکمانڈر بنایا۔عراق سے آئے لشکر کے ایک دستے پر حضرت قعقاع بن عمروکو،ایک دستے پر حضرت مذعور بن عدی کو،ایک دستے پر حضرت عیاض بن غنم کو،ایک دستے پر حضرت ہاشم بن عتبہ کواور ایک دستے پر حضرت زیاد بن حنظلہ کو کمانڈر بنایا۔اسی طرح ایک ایک دستے کا کمانڈر حضرت وحید بن خلیفہ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح،حضرت عکرمہ بن ابوجہل، حضرت صفوان بن اُمیہ،حضرت سعید بن خالد،حضرت عبداﷲ بن قیس،حضرت ضرار بن ازور وغیرہ کو بنایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔پس رومی ایسی ترتیب و تنظیم کے ساتھ نکلے کہ اِس قسم کی ترتیب پہلے کبھی نہیں دئکھی گئی تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بھی ایسی ترتیب و تنظیم کے ساتھ نکلے کہ عربوں نے اِس سے پہلے ایسی ترتیب و تنظیم کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ چھتیس(۶۳) سے چالیس دستوں کے ساتھ نکلے،ہر دستہ ایک ہزار(1,000)مجاہدین پر مشتمل تھا،اور اُن پر ایک کمانڈر مقرر کر دیا گیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”قلب(درمیان) “کی کمانڈ سونپی۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”میمنہ (دائیں بازو)“کی کمانڈ سونپی۔حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”میسرہ(بائیں بازو )“کی کمانڈسونپی۔اور حضرت حباب بن اثیم رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”ہر اول (سب سے اگلا حصہ)“کی کمانڈ سونپی۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کو مال غنیمت پر مقرر فرمایا۔حضرت ابو الدردا رضی اﷲ عنہ کو لشکر کا قاضی بنایا۔حضرت ابو سفیان بن حرب کو جنگ کے لئے آمادہ کرنے ،اور وعظ و نصیحت والا بنایا۔اور حضرت مقداد بن اسود رضی اﷲ عنہ کو قاری بنایا،اور وہ پرے اسلامی لشکر میں گھوم گھوم کر سورہ الانفال اور دسری سورہ میں آنے والی آیات جہاد کی تلاوت کرتے تھے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی دعا

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے رومیوں کے لشکر کی کثیر تعداد دیکھ کر اپنے لشکر کو بالکل نئے طریقے سے منظم کیا تھا۔اور ہر کمانڈر کا موقع کی مناسبت سے کھڑا کر کے لشکر کے قاریوں کو سورہ انفال کی تلاوت کرنے کا حکم دیا۔اور خود لشکر کے قلب کے آگے کھڑے ہو کر تمام مہاجرین و انصار رضی اﷲ عنہم کو الگ کر کے اپنے آگے کھڑا کیا۔اور پھر آسمان کی ہاتھ اُٹھا کر بلند آواز سے یہ دعا مانگنے لگے:”اے پروردگارِعالم!یہ وہ تیرے خاص بندے رضی اﷲ عنہم ہیں،جنہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہر حال میں ساتھ دیا،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے معاون و مدد گار رہے ہیں۔تیری مرضی کے لئے انہوں نے اپنے گھر بار ،اہل و عیال (گھر والوں اور بچوں)کو چھوڑا ہے۔اے اﷲ !آپ ہماری عزت نہ رکھیں،بلکہ اپنے سچے دین ،اور سچے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی عزت رکھ لیں۔ہماری مدد نہ کریں،بلکہ اپنے دین کی مدد کریں۔اے بے کسوں کے چارہ ساز!آپ اِن کے ذریعے سے ہماری مدد کریں،اور کافروں کے ہاتھوں ہمیں ذلیل و خوار نہ ہونے دیں۔“

لشکر سے خطاب

حضرت خالد بن ولید اﷲ تعالیٰ سے دعا کرنے کے بعد اسلامی لشکر کی طرف متوجہ ہوئے۔اور بلند آواز سے ا ﷲ تعالیٰ کی حمد اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود و سلام کے بعد فرمایا:”اے مسلمانو!یہ دن تمہاری آزمائش و امتحان کا ہے،آج کے دن تم کو فخر نہیں کرنا چاہیئے۔تم لوگ آج جو کام کر و خالص اﷲ کے لئے کرو،اور اپنے نیک اعمال سے اﷲ کو راضی کرو۔یہ وہ دن ہے کہ اگر تم مارے گئے،تو بے شک جنت میں جاو¿ گے۔اور اگر اﷲ کے دشمنوں پر فتح یاب ہوئے ،تو ”غازی“ کہلاؤ گے۔کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”جنت تلوار کے سائے میں ہے“پس اگر تم لوگوں کو جنت حاصل کرنا ہے،اور اﷲ کو راضی کرنا ہے ،تو لڑو،لڑو،لڑو!شاید اِس کے بعد ایسا موقع نہیں ملے اور تمہاری موت آجائے۔بستر پر ذلت کی حالت میں مرنے سے بہتر ہے کہ میدانِ جنگ میں اﷲ کے لئے لڑتے ہوئے مارے جاو¿۔اور اِسی خون آلود کپڑے میں دفن کر دیئے جاو¿،تا کہ قیامت میں تمہارے فی سبیل اﷲ لڑنے اور لڑتے لڑتے جان دے دینے کی وہ گواہی دیں۔اے بھائیو!یہ وہ دن ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے آج تمہارے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے ہیں۔کیا تم لوگ جنت میں جانا پسند نہیں کرو گے؟دیکھو اﷲ کی رحمت تم پر نازل ہونا ہی چاہتی ہے،تم کو اﷲ تعالیٰ فتح یاب کرے گا۔نیک نیتی سے اُس کی راہ میں کوشش کرو،اور یہ اچھی طرح سے سمجھ لو کہ دنیا تم سے چھوٹنے والی ہے۔اﷲ اﷲ ،ہر شخص اپنے لئے زاد ِ سفر تیار کر لے،اور اگر تم لڑ کر شہید ہوئے یا فتحیاب ہوگئے،تو تم سے بڑھ کر محبوب اﷲ کے نزدیک کوئی نہیں ہو گا۔اور اگر تم نے لڑنے میں کچھ بھی پس و پیش کیا،تو دنیا تو تم سے چھوٹ ہی گئی ہے،نہایت بے عزتی سے کافروں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر مارے جاو¿ گے۔اور قیامت تک تم سے اﷲ کی رحمت دور رہے گی۔پھر اﷲ کو اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو،اور اُس کے خلیفہ کو کیا منہ دِکھاو¿ گے؟چلو چلو!اپنی مُرادیں حاصل کر لو۔دیکھو اﷲ کے دشمن تمہاری طرف بڑھنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔پس اِس سے پہلے کہ وہ تم پر حملہ کریں،تم اُن پر ٹوٹ پڑو۔اگر تم نے انہیں خندق نما گھاٹی کی طرف لوٹا دیا تو پھر کیا ہے ،اُن کو شکست ہو گی۔اور اگر اﷲ نہ چاہے،انہوں نے تم کو شکست دی تو اﷲ کی قسم !ایک قدم بھی پیچھے ہٹنا اپنے آپ کو جہنم میں ڈالنا ہے۔چلوآگے بڑھو،اور تمہارے ایک ایک قدم پر ہزار ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔آو¿جو کچھ لینا ہے،آج ہی لے لو،کل پر باقی نہ رکھو۔“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں