Khilafat e Rashida 1 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Khilafat e Rashida 1 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 14 جولائی، 2023

01 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


01 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 1


اتفاق ِ رائے سے خلیفہ اول، حضرت ابوبکر رضی عنہ کا خاندان، نام اور سلسلہ نسب، لقب عتیق، لقب صدیق، قبول اسلام سے پہلے، قبول اسلام، قوم فرعون کے مرد مومن سے بہتر، حضرت ابو بکر صدیق کی شجاعت، اُمت کے سب سے بڑے عالم، بیعت سقیفہ بنو ساعدہ


اتفاق ِ رائے سے خلیفہ اول

   تمام مسلمانوں نے اتفاق ِ رائے سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ اول منتخب کر لیا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت میں آپ رضی اﷲ عنہ سب سے افضل ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ کی موجودگی میں کسی اور کو خلیفہ بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا پورا دور خلافت اس بات کا گواہ ہے کہ آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھایا ہے۔اﷲ تعالیٰ ”خلیفہ ¿ اول“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو ہمیشہ اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔آمین۔آپ رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت کے حالات بیان کرنے سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں آپ رضی ا ﷲ عنہ کا نام ،لقب ،سلسلہ نسب اور حالات زندگی مختصراً پیش کررہے ہیں۔اس کے بعد انشاءاﷲ دور خلافت کے حالات پیش کریں گے۔اﷲ کی مدد سے۔

حضرت ابوبکر رضی عنہ کا خاندان

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ قبیلہ قریش کی شاخ یا خاندان”بنو تیم“میں سے ہیں۔سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتویں دادا ”حضرت مُرّہ بن کعب“کے تین بیٹے تھے۔ایک کانام”کلاب بن مُرّہ“ہے،ان کی نسل میں سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔دوسرے کا نام”تیم بن مُرّہ“ہے،ان کی نسل میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ پیدا ہوئے۔تیسرے بیٹے کا نام”یقنطہ بن مُرّہ“ہے،ان کی نسل میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ پیدا ہوئے۔قبیلہ بنو تیم ،یا خاندان بنو تیم،قریش کے معزز خاندانوں میں سے ایک ہے۔قریش نے مختلف قبیلوں یا خاندانوں میں مختلف عہدے بانٹ رکھے تھے۔مقدموں کے فیصلے کا محکمہ ”بنو تیم “کے پاس تھا۔اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ قریش کے ”جج“تھے۔

نام اور سلسلہ نسب

   حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کا نام اسلام قبول کرنے سے پہلے ”عبد الکعبہ“تھا۔جب آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا تو سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کا نام ”عبد اﷲ “ رکھ دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے ایک بیٹے کا نام ”بکر“ہے ،اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ”ابو بکر“ہے۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے۔حضرت ابوبکر(نام عبد اﷲ)صدیق رضی اﷲ عنہ بن ابو قحافہ(نام عثمان)بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مُرہ۔یہاں آکر آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ نسب سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم سلسلہ نسب سے مل گیا ہے۔

لقب عتیق

   حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کا ایک لقب”عتیق “ہے اور یہ لقب زیادہ مشہور نہیں ہے۔کچھ علمائے کرام اسے نام بھی کہتے ہیں۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں۔”میں ایک دن گھرکے دالان میں بیٹھی ہوئی تھی اور دالان میں پردہ پڑا ہوا تھا۔صحن میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے۔اتنے میں والد ِ محترم تشریف لائے اُنہیں آتا دیکھ کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:جو کوئی ”عتیق من النار“(دوزخ سے آزاد)شخص کو دیکھنا چاہتا ہو وہ ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کو دیکھ لے۔تب سے آپ رضی اﷲ عنہ کا نام یا لقب ”عتیق“مشہور ہوگیا۔“(مسند ابو یعلیٰ،المستدرک امام حاکم،)اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ روایت کرتی ہیں۔”ایک روز میرے والد محترم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ!اﷲ تعالیٰ نے تم کو”عتیق من النار“(آگ سے بری) فرما دیا ہے۔“اُسی دن سے آپ رضی اﷲ عنہ ”عتیق “کے لقب یا نام سے مشہور ہو گئے۔(جامع ترمذی،المستدرک)

ّلقب صدیق

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا ایک اور لقب”صدیق“ہے۔اس لقب کے بارے میں کئی روایات ہیںلیکن اس بات پر اکثرعلمائے کرام کا اتفاق ہے کہ ”سفرِ معراج “کی تصدیق کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ ”صدیق “کے لقب سے زیادہ مشہور ہوئے۔جب آپ رضی اﷲ عنہ کو ”سفر معراج“کے بارے میں معلوم ہوا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ مشرکین آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہنس رہے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ آکر بیٹھے تو قریش کے مشرکین نے کہا ۔اِن کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک رات میں ”بیت المقدس “جا کر واپس آئے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم!میں نے اور یہاں پر موجود کئی لوگوں نے ”بیت المقدس“دیکھا ہے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے بارے میں بتائیں۔“اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے ”بیت المقدس “کردیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اُسکی نشانیاں بتانے لگے اور ہر نشانی پر حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ عرض کرتے ”صَدَّقتَ “یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم“ ۔اِس طرح آپ رضی اﷲ عنہ کی تصدیق سے قریش لاجواب ہو گئے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”صدیق“کا لقب عطا فرمایا۔امام محمد بن اسحاق اور حضرت قتادہ رحمتہ اﷲ علیہم کا بیان ہے کہ ”شب معراج “کی صبح سے ہی آپ رضی اﷲ عنہ ”صدیق “کے لقب سے مشہور ہو گئے۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش کے مشرکین نے میرے والد ِ محترم کے پاس آکر کہاکہ آپ کو کچھ خبر ہے کہ آپ کے دوست یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ رات کو ”بیت المقدس“پہنچائے گئے تھے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”کیا واقعی وہ ایسا ہی فرماتے ہیں؟“انہوں نے کہا:”ہاں وہ یہی کہتے ہیں“۔یہ سن کر آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”تب تو بے شک وہ سچ فرما رہے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تو ہمیں صبح شام آسمانوں کی خبریں دیتے ہیں اور میںاُ ن کی تصدیق کرتا ہوں۔“اسی بنا پر آپ رضی اﷲ عنہ کو ”صدیق “کہا جاتا ہے۔(المستدرک،امام حاکم)اسی حدیث کو امام طبرانی نے اپنی ”المعجم “میں حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہم کی روایت سے بیان کیا ہے۔

قبول اسلام سے پہلے

   حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کی اسلام قبول کرنے سے پہلے کی زندگی انتہائی صاف ستھری ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے کبھی جھوٹ نہیں کہا،اور ہمیشہ سچ ہی فرمایا۔شراب کو کبھی ہات نہیں لگایااور نہ ہی کبھی زمانہ¿ جاہلیت میں عربوں کی طرح شعرو شاعری کی۔ہر ایک کی مدد فرماتے تھے۔ کمزوروں کی مدد کرنا اور ظالموں سے مقابلہ کرنا آپ رضی اﷲ عنہ کا شیوہ تھا۔نہ زبان سے کوئی بُری بات نکالی اور نہ کسی کو کبھی لعنت و ملامت کی۔ہمیشہ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کی،خاص طور سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے قریب بچپن میں بھی رہے،جوانی میں بھی رہے اور آخری وقت تک ساتھ رہے۔تجارتی قافلوں کے ساتھ ملک شام،ملک حبشہ اور دوسرے ممالک کا سفر بھی کیا۔قریش آپ رضی اﷲ عنہ کی بہت عزت کرتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ اُن کے جج تھے اور اُن کے مقدمات کے فیصلے کرتے تھے۔عام طور سے قریش کا پیشہ تجارت تھا اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے بھی یہی پیشہ اپنایا۔دیانت داری اور سلیم الطبع فطرت کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ بہت جلد مکہ مکرمہ کے ممتاز تاجر بن گئے اور بہت بڑے پیمانے پر کپڑوں کی تجارت کرنے لگے۔ اس سلسلہ میں کئی مرتبہ ملک شام اور ملک یمن کے سفر بھی کئے۔مکہ مکرمہ کے مشرکانہ ماحول میں پرورش پانے کے بعد بھی آپ رضی اﷲ عنہ شرک سے بہت دور رہے۔ کبھی بت پوجا نہیں کی اور مشرکانہ رسوم و رواج میں بھی کبھی حصہ نہیں لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ کا مکان بنو جمح کے محلہ میں تھاجہاں قریش کے ممتا ز تاجر سکونت پذیر تھے۔وہیں اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا کا بھی مکان تھا۔نکاح کے بعد آپ صلی اﷲ علیہ وسلم یہیں منتقل ہو گئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے سے ہی مراسم تھے۔یہاں منتقل ہونے کے بعد اور قریبی تعلقات ہوگئے۔

قبول اسلام

   حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔بعض علمائے کرام حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا نام ذکر کرتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے پہلے اسلام قبول کیالیکن اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ مرد نہیں بلکہ بچے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر دس یا گیارہ سال تھی جبکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی عُمر چالیس سال کے آس پاس تھی۔امام ابو حنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ کے مطابق خواتین میں سب سے پہلے اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا نے اسلام قبول کیا۔مَردوں میں سب سے پہلے حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا۔غلاموں میں سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا اور بچوں میں سب سے پہلے حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو جیسے ہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فوراًاسلام قبول کرلیااور ایک منٹ بھی نہیں سوچا۔حضرت عباس رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں نے جس کو بھی اسلام کی دعوت دی،اُس نے میرے کلام کو لوٹا دیا(یعنی انکار کیا یا پھر غورو فکر کے لئے وقت مانگا)سوائے ابن ابی قحافہ(حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ) کے۔میں نے جیسے ہی اُن کو اسلام کی دعوت دی ،انہوں نے فوراً قبول کر لیااور اُس پر ثابت قدم رہے۔(دلائل النبوة،امام ابو نعیم،تاریخ ابن عساکر)حضرت ابو الدردا¿ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے لو گو!کیا تم میرے دوست(حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ)کو چھوڑنا چاہتے ہو،جبکہ میں نے لوگوں سے کہا کہ میں اﷲ کا رسول ہوں ،تو لوگوں نے مجھے جھٹلایا،تو اُس وقت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے میری تصدیق کی۔(صحیح بخاری)

قوم فرعون کے مرد مومن سے بہتر

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو اُس وقت حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی عُمر دس یا بارہ سال تھی اور اُن کو رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہی پال پوس رہے تھے۔اسی لئے حضرت علی رضی اﷲ عنہا ہروقت آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔بچے ہونے کی وجہ سے کچھ کر نہیں سکتے تھے اورصرف دیکھتے رہتے تھے۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ ،خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی بہادری کا ایک واقعہ سناتے ہیںکہ ایک مرتبہ قریش کے مشرکین نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو نرغے میں لے لیا اور مارنے پیٹنے لگے۔ وہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو گھسیٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم ہی وہ ہو جو کہتے ہو کہ اﷲ ایک ہے۔اﷲ کی قسم ! کسی کو اِن مشرکین سے مقابلہ کرنے کی جرا¿ت نہیں ہوئی لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے اور مشرکین کو مار مار کر دھکے دے دے کر ہٹاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے۔تم پر افسوس ہے کہ تم ایسے شخص کو ایذا(تکلیف) پہنچا رہے ہوجو یہ کہتا ہے کہ ”میرا رب صرف ایک اﷲ ہے“۔اتنا فرما کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ اپنی چادر پر منہ رکھ کر اتنا روئے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی داڑھی انسوو¿ں سے تر ہو گئی۔پھر فرمایا:”اے لو گو!اﷲ تمہیں ہدایت دے! بتاو¿ کہ قوم فرعون کے مرد مومن اچھے تھے یا حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ اچھے تھے؟“(قوم فرعون کے مرد مومن کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے سورہ المومن میں تفصیل سے کیا ہے۔)یہ سن کر لوگ خاموش رہے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”لوگو!جواب کیوں نہیں دیتے؟اﷲ کی قسم!حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی ایک ساعت قوم فرعون کے مرد مومن کی ہزار ساعتوں سے بہتر اور برتر ہے۔اس لئے کہ وہ اپنا ایمان(ڈر کی وجہ سے)چھپاتے تھے،اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے ایمان کا اظہار علی الاعلان کیا۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی شجاعت

   حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے لوگوں سے دریافت فرمایا:”بتاو¿ سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟“لوگوں نے جواب دیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ بہادر ہیں۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں تو ہمیشہ اپنے برابر کے جوڑ سے لڑتا ہوں،پھر میں سب سے بہادر کیسے ہوا؟“تم یہ بتاو¿ کہ سب سے بہادر کون ہے؟“لوگوں نے کہا کہ حضرت ہمیں نہیں معلوم،آپ رضی اﷲ عنہ ہی بتائیں۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”سب سے زیادہ بہادر اور شجاع حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ ہیں۔سنو!غزوہ ¿ بدر میں ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے سائبان بنایاتھا۔ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ (اس سائبان کے نیچے)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ کون رہے گا؟کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی مشرک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر حملہ کردے۔اﷲ کی قسم !ہم میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھاتھا کہ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ شمشیر برہنہ ہاتھ میں لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو گئے اور پھر کسی مشرک کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آنے کی ہمت نہیں پڑی۔اگر کسی نے ایسی جر ا¿ت کی بھی توآپ رضی اﷲ عنہ فوراً اُس پر ٹوٹ پڑے۔اس لئے آپ رضی اﷲ عنہ ہی سب سے بہادر ہیں۔(مسند البزار)

اُمت کے سب سے بڑے عالم

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ صحابہ کرام رضی اﷲعنہم میں سب سے بڑے عالم تھے۔علامہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ تما م صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میں سب سے زیادہ قرآن پاک کا علم رکھتے تھے۔اسی لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی ا ﷲعنہ کو نماز میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا امام بنایا تھا۔رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ امام قرآن پاک کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہونا چاہیئے۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جس قوم میں ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ موجود ہوں اُن کے سوا کوئی دوسرا امامت نہیں کر سکتا ۔(جامع ترمذی)آپ رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ احکام رسالت سے آگاہ تھے اور بکثرت احادیث یاد تھیں،جنہیں بوقت ضرورت بیان فرما دیا کرتے تھے۔کیونکہ سب سے زیادہ آپ رضی ا ﷲ عنہ ہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے قریب رہے ہیں ۔اس کے علاوہ یاداشت بھی بہت اچھی تھی۔اس کے باوجود آپ رضی اﷲ عنہ سے کم احادیث مروی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ بمشکل تین(۳)سال زندہ رہے ،اور بہت کم تابعی آپ رضی اﷲ عنہ سے ملاقات کر سکے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ کی خلافت کی طرف اشارہ

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ملنے لگا تھا۔حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”میرے بعد تم ابو بکر اورعُمر رضی اﷲ عنہم کی پیروی کرنا۔(جامع ترمذی،المستدرک )حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خد مت اقدس میں ایک خاتون (کسی کام سے)آئیں (کام پورا ہونے کے بعد )رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا©:(اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو)پھر آنا۔اُن خاتون نے عرض کیا کہ اگر میںآئی ،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو نہیں پایا تو؟آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر تم مجھے نہ پاو¿ تو ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس آنا۔(صحیح بخاری،صحیح مسلم)یہ حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خلافت کی طرف واضح اشارہ ہے۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے اپنی علالت کے دوران فرمایا:”تم اپنے والد اور بھائی کو بلالو تاکہ میں کچھ انہیں لکھ کر دے دوں کیونکہ مجھے خوف ہے کہ میرے بعد کوئی خواستگار ِخلافت نہ کھڑا ہوجائے۔“پھر فرمایا:”رہنے دو(مت بلاو¿)کیونکہ ابو بکرصدیق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ بنانا حق ہے اور اﷲ تعالیٰ اور مومنین ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے سوا کسی اور کو خلیفہ نہیں مانیں گے۔(صحیح مسلم)امام احمد بن حنبل اور دوسرے محدثین اِس حدیث کو اِن الفاظ میں روایت کرتے ہیں کہ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں مجھ سے ارشاد فرمایا کہ عبد الرحمن بن ابو بکر کو بلالو،تاکہ میں ابو بکر رضی اﷲ عنہ کے لئے وصیت لکھ دوںتاکہ میرے بعد اُن سے کوئی اختلاف نہ کرے۔“پھر فرمایا:”اچھا رہنے دو! اﷲ نہ کرے کہ ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے معاملہ میں مومنین اختلاف کریں۔(مسند احمد)

بیعت سقیفہ بنو ساعدہ

   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر سے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے ہوش و حواس اُڑ گئے تھے اور ایسے سنگین وقت میں صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ہوش وحواس قائم تھے۔اس کے بارے میں ہم سلسلہ نمبر ۱ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مدنی زندگی میں تفصیل سے پیش کر چکے ہیںاور اُس میں ہم نے یہ بتایا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مسجد نبوی میں جو خطبہ دیا تو اُس سے تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو یقین آگیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے۔اب یہیں سے آگے بڑھاتے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اسی خطبے کے دوران میں ایک صحابی رضی اﷲ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور کہا کہ دیکھو انصار بنو ساعدہ میں جمع ہو کر کسی ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیںاور وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک امیر ہو اور مہاجرین میں سے ایک امیر ہو۔اس اطلاع پر حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جلدی سے وہاں پہنچے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے چاہا کہ وہ تقریر کریں مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُنہیں روک دیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”بہتر ہے! میں نہیں چاہتا کہ ایک دن میں دو مرتبہ آپ رضی ا ﷲ عنہ کی نافرمانی کروں۔“حضرت ابوبکر صدیق نے انصار کو خطاب کیا اور جو جو اُن کے فضائل قرآن پاک سے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زبانی معلوم تھے،وہ سب بیان کئے اور فرمایا :” تم کو معلوم ہے کہ رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے یہاں تک تمہارے متعلق فرمایا ہے کہ اگر دوسرے لوگ ایک راستہ اختیار کریں اور انصار دوسرا راستہ اختیار کریں تو میں انصار کے ساتھ چلنا پسند کروں گا۔اے حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ !تم خود جانتے ہو کہ تم موجود تھے اور تمھارے سامنے رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ خلافت کے وارث قریش ہیں۔نیک نیکوں کی اقتداءکریں گے اور بد کار بُروں کی اقتداءکریں گے۔“حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا©:”بے شک !آپ رضی ا ﷲ عنہ سچ فرما رہے ہیں۔لہٰذا اب یہ ہونا چاہیئے کہ ہم وزیر رہیں اور آپ لوگ امیر ہوں۔“حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”اپنا ہاتھ لایئے! میں بیعت کروں گا۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”نہیں بلکہ آپ ہاتھ لایئے ،کیونکہ اِس منصب کے اُٹھانے کی قوت آپ میں مجھ سے زیادہ ہے۔“کیونکہ ان دونوں میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ زیادہ قوی تھے مگر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتا تھا اور زبردستی ایکدوسرے کا ہاتھ کھول رہے تھے۔آخر کار حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ کھول لیا اور فرمایا:”میری بیعت قبول کرو اور میری قوت بھی آپ کی قوت کے ساتھ ہے۔“اس کے بعد وہاں موجود سب لوگوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی بیعت کی۔(تاریخ طبری جلد دوم،حصہ اول)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

02 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


02 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 2


بیعت ِ عامہ، منبر پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی جگہ نہیں بیٹھے، اسلام پر سنگین بحران، تمام آزمائشوں پر کھرے اُترے، فتنوں کے پیدا ہونے کی وجوہات، لشکر اُسامہ کی روانگی، رسول اللہ ﷺ کے حکم کو ہر حال میں پورا کروں گا، لشکر اُسامہ کو اپنی نگرانی میں روانہ کیا


بیعت ِ عامہ


   سقیفہ بنو ساعدہ کے چوپال میں مخصو ص لو گو ں نے بیعت کی تھی۔دوسرے دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ بیعت عامہ کے لئے مسجد نبوی میںبیٹھے ۔امام محمد بن اسحاق سیرت میں لکھتے ہیںکہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جب بیعت ثقیفہ ہو چکی تو دوسرے دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ مسجد نبوی میں منبر پر تشریف لے گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے تقریر کرنے سے پہلے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے اور حمد و صلوة کے بعد فرمایا:”لو گو !اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صاحب خاص اور یار غار پر متفق کر دیا ہے جو تم میں سب سے بہتر اور اچھے ہیں۔اس لئے کھڑے ہو جاو¿ اور بیعت عام کر لو۔تمام لوگوں نے اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ سے بیعت عام کی ۔یہ بیعت ”بیعت سقیفہ“کے بعد ہوئی۔اِس بیعت عام کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور حمدو ثنا کے بعد فرمایا:”مسلمانو!تم نے مجھے اپنا امیر بنایا ہے حا لانکہ میں اس قابل نہیں ہوں۔اب اگر میں بھلائی کروں تو تم میری مدد کرنااور اگر میںبُرائی کروں تو مجھے سیدھا کر دینا۔سچ امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔تم میں سے جو ضعیف ہےںوہ میرے نزدیک اُس وقت تک قوی ہیں جب تک میں اُن کا حق نہ دلوا دوں۔(انشاءاﷲ)یاد رکھو!جو قوم جہاد فی سبیل اﷲ (اﷲ کے لئے لڑنا)چھوڑ دیتی ہے اﷲ اُس کو ذلیل وخوار کر دیتا ہے اور جس قوم میں بد کاری پھیل جاتی ہے اﷲ تعالیٰ اُن کو بلاو¿ں میں گرفتار کر دیتا ہے۔مسلمانو!جب تک میں اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیروی اور اطاعت کروں،تب تک تم بھی میری اطاعت اور اتباع کرنا اور جب میں اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سے رو گردانی کروں تو پھر میری اطاعت تم پر واجب نہیں رہے گی۔پس !اب چلونماز پڑھو !اﷲ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے۔“امام موسیٰ بن عقبہ نے اپنی کتاب ”مغازی“میں لکھا ہے اور امام حاکم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُس دن خطبہ میں ارشاد فرمایا:”اﷲ کی قسم!مجھے دن رات میں کبھی امارت کا شوق نہیں ہوااور نہ میں نے کبھی اس کی حرص کی نہ میں نے اﷲ تعالیٰ سے اس کے لئے ظاہر و باطن میں دعامانگی۔(یعنی خلافت کی کبھی تمنا یا دعا نہیں کی)اصل (بات)یہ ہے کہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں فتنہ برپا نہ ہو جائے۔میرے لئے خلافت میں کو ئی راحت و سکون نہیں ہے ۔میرے کندھوں پر بھاری بوجھ رکھ دیا گیا ہے۔انشاءاﷲ! اﷲ تعالیٰ کی مدد سے اس دشوار کام کو انجام دینے کی کوشش کروں گا۔مجھے اﷲ کی طاقت اور قوت پر پورا پورا بھروسہ ہے۔“یہ تقریر سن کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ہمیں ندامت ہے کہ ہم مشورہ ¿ خلافت میں آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ نہیں تھے۔حالانکہ ہم خوب جانتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہی تمام لوگوں میں خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ہیںکیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ، رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے یار غار ہیں۔ہمیں آپ رضی اﷲ عنہ کے شرف اور بزرگی کا علم ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں آپ رضی ا ﷲ عنہ کو امامت کا حکم فرمایا تھا۔“


منبر پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی جگہ نہیں بیٹھے


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بیعت عامہ کے بعد خطبہ کے بارے میں امام محمد بن سعد لکھتے ہیںکہ حضرت مالک بن عُروہ رضی اﷲعنہ نے فرمایاکہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حمد و صلوة کے بعد لوگوں سے خطاب فرمایا:”لوگو!میں اگرچہ تمہارا امیر ہو گیا ہوںلیکن میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔قرآن پاک نازل ہو چکا ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی سنتوں پر چلنا سکھا دیا ہے۔ہم اچھی طرح (احکام ِ شریعت) جان گئے ہیں۔پس اے لوگو!سمجھ لو کہ دانشمند وہی ہے جو متقی ہے اور سب سے زیادہ فاسق و فاجر وہ ہے جو(گناہوں سے بچنے میں)سب سے زیادہ عاجز ہے۔میرے نزدیک تم میں جو سب سے زیادہ کمزور ہے ،وہ اُس وقت تک قوی ہے جب تک کہ اُس کا حق قوی سے نہ دلوا دوں اور میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ قوی اُس وقت تک ضعیف ہے ،جب تک کہ اس سے لوگوں کا حق نہ لے لوں۔لو گو !میں سنت کی پیروی کرنے والا ہوں،دین میں نئی نئی باتیں پیدا کرنے والا نہیں ہوں۔پس میں نیکی کروں تو مجھ سے تعاون کرنااور اگر میں غلطی کروں تو مجھے سیدھے راستے پر لے آنا۔بس مجھے اتنا ہی کہنا ہے۔ اب میں اپنے اور تمہارے سب کے لئے مغفرت چاہتا ہوں۔“(طبقات ابن سعد)حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ پوری زندگی منبر پر اُس جگہ نہیں بیٹھے جہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے تھے۔اسی طر ح حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ،پوری زندگی اُس جگہ پر نہیں بیٹھے جہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پوری زندگی اُس جگہ پر نہیں بیٹھے جہاں حضرت عُمر رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے۔(المعجم الاوسط،امام طبرانی)


اسلام پر سنگین بحران


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال سے اسلام کے لئے بہت ہی سنگین بحران پیدا ہو گیا۔ ملک عرب کے بہت سے قبیلے اسلام چھوڑ کر مُرتد ہوگئے۔بہت قبیلوں نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا۔کئی لوگوں نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا تھا۔پورے ملک عرب میں بے یقینی اور بے چینی کا ماحول تھا۔ہر قبیلے کے صحیح مسلمان حیران و پریشان تھے اور اپنے اپنے قبیلے والوں کو سمجھا رہے تھے۔لوگوں کو مُرتد ہونے سے روک رہے تھے۔جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کی اتباع کرنے سے روک رہے تھے اور ذکوٰة روکنے والوں کو بھی سمجھا رہے تھے۔ہر قبیلے کے سچے مسلمان اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو سمجھا رہے تھے۔ایسے سنگین حالات میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ میں مسلمانوں کا خلیفہ بنایا گیااور آپ رضی اﷲ عنہ پر اسلام کو بحران سے نکالنے اور دنیا والوں تک پہنچانے کی عظیم ذمہ داری ڈال دی گئی ۔


تمام آزمائشوں پر کھرے اُترے


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انتہائی سنگین حالات میں خلافت کی ذمہ داری سنبھالی اور آپ رضی اﷲ عنہ کا دور ِ خلافت بہت ہی ہنگامہ خیز تھا ۔رسول ا ﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جو طوفان اُٹھا وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے پہلی آزمائش سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار کی وہ مجلس تھی جس میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی جا نشینی کا مسئلہ طے ہونا تھا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اِس آزمائش میں پورے اُترے ۔اس کے بعد فتنہ¿ ارتداد کی وبا نے تقریباًسارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس کے ساتھ ساتھ منکرین ذکوٰة کا فتنہ الگ انتشار پیدا کرر ہا تھا۔رہی سہی کسر جھوٹے مدعیان ِنبوت نے پوری کر دی۔اِ ن نا مساعد حالات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بہت سے قبائلی سرداروں نے بھی بغاوت کر دی۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد عالم اسلام کی ذمہ داریوں اور اُمت کی قیادت کا بوجھ بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے کاندھوں پر آگیا۔انہوں نے کمال بصیرت و دانائی سے پہلے صحابہ ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کے زخمی دلوں پر پھایا رکھاجو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال سے بد حال ہو رہے تھے۔ اُسی وقت سقیفہ بنو ساعدہ میں پہنچے اور اپنی خدا داد فراست و تدبر سے انتہائی بگڑے ہوئے حالات پر قابو پایامگر یہاں مشکلات کا خاتمہ نہیں ہوابلکہ یہ تو آغاز تھا۔اُن مصائب کا جن سے آپ رضی اﷲ عنہ کو دوچار ہو نا تھا۔حالات انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکے تھے لیکن اس طوفانی دور میں بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے استقلال کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اُن کے پائے ثبات میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی اور آپ رضی اﷲ عنہ اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے مسلک سے ایک انچ بھی ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔حالانکہ بعض مواقع پر بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی ا ﷲ عنہم کی رائے آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے سے مختلف تھی۔خاص طور سے منکرین ذکوٰة اور لشکر ِ اُسامہ کے بارے میں ۔لیکن بعد میں حالات نے ثابت کیا اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے بھی تسلیم کیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے اور فیصلہ دُرست تھااور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی فراست اور تدبر سے جھوٹے نبیوں کا بھی خاتمہ کیا ،منکرین زکوٰة کو بھی اسلام پر عمل کرایا،مرتدین کو بھی دوبارہ حلق بگوش اسلا م کیااور باغیوںکی بھی سرکوبی کی اور ان سب معا ملات کو کنٹرول کرنے کے لئے اُنہوں نے ”اﷲ کی تلوار“یعنی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا بہت خوبی سے استعمال کیا۔یہ اجمالی حالات ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کئے ہیں۔اب انشاءاﷲ تمام حالات تفصیل سے پیش کریں گے۔اﷲ ہمارا حامی و ناصر ہو۔


فتنوں کے پیدا ہونے کی وجوہات


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جب خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو اُس وقت مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور طائف کے تمام لوگ اسلام پر قائم رہے۔ان کے علاوہ قبیلہ مزنیہ،قبیلہ بنو غفار ،قبیلہ بنو جہینہ،قبیلہ بنو اشجع،قبیلہ بنو اسلم،اور قبیلہ بنو خزاعہ کی اکثریت اسلام پر قائم رہی صرف چند افراد مُرتد ہوئے تھے۔اِن کے علاوہ پورے ملک عرب میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی تھی۔وہ لوگ جن کے دل قبائلی عصبیت سے پاک نہیں ہوئے تھے اور وہ لوگ جن کے دل میں اسلام راسخ نہیں ہوا تھاوہ مُرتد ہو گئے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ۹ ھجری اور ۰۱ ھجری میں پورے ملک عرب سے وفود نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھااور چند ہفتے یا چند مہینے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے قبیلے میں جا کر اسلام کی تعلیم دی۔اس طرح دور دور کے قبائل میں اسلام راسخ نہیں ہو سکا تھااور وہ ہوا کے رخ پر بہہ گئے۔دوسرا گروہ ”مانعین زکوٰة“ کا تھا۔یہ مدینہ منورہ کے قریب آباد قبیلہ بنو عبس،قبیلہ بنو ذیبان،قبیلہ بنو کنانہ ،قبیلہ بنو غطفان اور قبیلہ بنو فزارہ تھے۔انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بھیجے ہوئے تحصیلداروں کو زکوٰة دینے سے انکار کر دیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان قبائل کے اندر جاہلی تصور پیدا ہو گیا تھااور اُنہوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ چونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا جا نشین مقرر نہیں کیا ۔اس لئے ہم پر مہاجرین و انصار کے منتخب خلیفہ کی اطاعت لازم نہیں ہے اور ہمیں بھی یہ اختیار ہے کہ اپنا امیر مقرر کر لیں اور اسلام پر کاربند رہتے ہوئے اپنے امیر کی پیروی کریں۔زکوٰة کو یہ لوگ جزیہ سمجھتے تھے۔تیسرا گروہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کا تھا۔اِن جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں میں (۱) اسود عنسی (یمن) (۲) مسیلمہ کذاب (یمامہ) (۳) طلیحہ (بنو اسد) (۴) سجاع(بنو تمیم) (۵)ذوالتاج لقیط بن مالک(عمان)سرِفہرست تھے۔اِن تینوں گروہوں کے علاوہ چوتھا گروہ مسلح باغیوں کا تھا۔


لشکر اُسامہ کی روانگی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد سب سے پہلا حکم یہ دیا کہ لشکر اُسامہ کو روانہ کیا جائے۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تمام عرب کے قبائل یا تو سب کے سب مُرتد ہو گئے تھے یا اُن میں سے کچھ لوگ مرتد ہو چکے تھے۔صرف طائف کا قبیلہ بنو ثقیف ایسا تھاجو اسلام پر قائم رہے ،نہ تو انہوں نے فرار اختیار کیا اور نہ ہی مرتد ہوئے۔دوسرے کئی قبائل نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا تھا۔جس لشکر کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ملک شام میں بلقاءکی ملحقہ سرحد پر( جہاں جنگ موتہ ہوئی تھی )جانے کا حکم دیا تھا۔وہ مقام ”جرف“پر جا خیمہ زن ہو گیا تھا۔اُن لوگوں میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نماز پڑھانے کے لئے مستثنیٰ کر لیا تھا۔چونکہ ہر طرف نفاق پھوٹ پڑا تھا اور اب یہود و نصاریٰ بھی للچائی ہوئی نظروں سے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے اور خود مسلمانوں کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اپنی قلت اور دشمنوں کی کثرت کی وجہ سے اُن بھیڑ بکریوں کی طرح ہو گئی تھی جو موسم سرما کی برساتی رات میں حیران ہو گئی ہوں۔ایسے وقت میں جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر اُسامہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے کہا کہ اب لے دے کے صرف یہی مسلمان ہیں جو آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے ہیںاور عربوں کے ارتداد کی جو حالت ہے وہ تو آپ رضی ا ﷲ عنہ جانتے ہی ہیں۔اس لئے اب مناسب نہیں ہے کہ لشکر اُسامہ کو بھیجا جائے۔اس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”جس لشکر کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا،میں اُسے ضرور بھیجوں گا۔اﷲ کی قسم! اگر میرے پاس ایک شخص بھی نہ رہے اور مجھے اندیشہ ہو کہ درندے اُٹھا لے جائیں تب بھی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کروں گا اور لشکر اُسامہ کو اُس کی مہم پر روانہ کروں گا۔ اگر تمام بستیوں میں میرے سوا کوئی نہ رہے تو میں تنہا ہی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کروں گا۔“اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ مقام جرف پر جاکر پڑاو¿ ڈالے ہوئے لشکر کو کوچ کے لئے تیار کریں۔


رسول اللہ ﷺ کے حکم کو ہر حال میں پورا کروں گا


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر اُسامہ کو بھیجنے کا پختہ فیصلہ کرلیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔امام حسن بن حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے پہلے ایک لشکر روانہ کیا اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو اُس کا سپہ سالار مقرر کیا۔اس لشکر میں حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ بھی تھے،ابھی لشکر نے خندق کو پوری طرح پار بھی نہیں کیا تھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ سب کے ساتھ ٹھہر گئے اور انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے عرض کیاکہ آپ رضی اﷲ عنہ جایئے اور خلیفہ ¿ رسول رضی اﷲ عنہ سے میری واپسی کی اجازت لے آیئے۔کیونکہ تمام اکابر اور جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میرے ساتھ ہیںاور مجھے خلیفہ ¿ رسول رضی اﷲ عنہ اور مدینہ منورہ کے مسلمانوں کی جانوں کا اندیشہ ہے کہ کہیں دشمن اچانک سب کو قتل نہ کردیں۔اِس لشکر کے کچھ مجاہدین نے کہا۔اگر خلیفہ رسول رضی اﷲ عنہ واپسی کی اجازت نہ دیں اور لشکر کے جانے کا اصرار کریں تو اُن سے ہماری طرف سے کہہ دینا کہ وہ ہمارا سپہ سالارکسی ایسے شخص کو مقرر کر دیں جوحضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ سے زیادہ عُمر والا ہو۔(یہ نو جوان تھے)حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ آئے اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کی درخواست سنائی۔حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اگر کتے اور بھیڑیئے تنہائی کی وجہ سے مجھے کھا لیں ،تب بھی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کو پورا کروں گا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ لشکر کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سپہ سالار کسی زیادہ عُمر والے کو بنا دیں۔یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ جو بیٹھے ہوئے تھے،غصے سے کھڑے ہو گئے اور آگے بڑھکر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی داڑھی پکڑ لی اور فرمایا:”اے خطاب کے بیٹے !یہ کہنے سے پہلے تم مر کیوں نہیں گئے کہ جس شخص کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس منصب پر فائز کیا ہے ،میں اُسے ہٹا دوں۔“یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ ،حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر لشکر اُسامہ کے پاس آئے۔


لشکر اُسامہ کو اپنی نگرانی میں روانہ کیا


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اس کے بعد مقام جرف میں پہنچے۔تب تک پورا لشکر کوچ کی تیاری کر چکا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ پیدل ہی لشکر کے ساتھ چلنے لگے(حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ اُن کا گھوڑا لیکر ساتھ میں چل رہے تھے۔حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اے خلیفہ رسول رضی اﷲ عنہ !یا تو آپ رضی اﷲ عنہ گھوڑے پر سوار ہو جائیںیا پھر مجھے بھی پیدل چلنے دیں۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا:”دونوں باتیں نہیں ہو سکتیں!میں اِس وقت اس لئے پیدل چل رہا ہوں کہ اﷲ کی راہ میں کچھ دیر چل کر اپنے قدم خاک آلود کر لوںکیونکہ مجاہد کے ہر قدم کے عوض میں سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیںاور سات سو درجے بڑھائے جاتے ہیںاور سات سو خطائیں معاف کی جاتی ہیں۔چلتے چلتے جب وہ ٹھہرے تو فرمایا:”بہتر ہوتا کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو میرے پاس چھوڑ جاتے۔“حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا :”ٹھیک ہے!آپ رضی اﷲ عنہ اُنہیں اپنے ساتھ رکھیں۔“اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر سے بلند آواز میں خطاب کیا۔”میں تمہیں دس باتوں کی نصیحت کرتا ہوں!اچھی طرح یاد رکھنا(1)خیانت نہ کرنا۔(2)نفاق نہ برتنا۔(3)مثلہ نہ کرنا،یعنی اعضائے جسم کو کاٹ کر الگ نہ کرنا۔(4)کبھی چھوٹے بچے کو ،بوڑھے مرد کو،اور کسی عورت کو قتل نہ کرنا۔(5)کسی کھجور کے درخت کو نہ کاٹنا،اور نہ جلانا۔(6)کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا،سوائے کھانے کی ضرورت کے۔(7)تم کو ایسے لوگ بھی ملیں گے ،جو ترک ِدنیا کر کے خانقاہوں میں بیٹھ گئے ہیں،اُن سے کوئی تعارض نہ کرنا۔(8)بعض لوگ تمہارے لئے کھانوں کے خوان لائیں گے،اگر تم اُن میں سے کچھ کھانا چاہوتو اﷲ کا نام لیکر کھانا۔(9)ایسے لوگوں سے تمہارا مواجہہ ہوگا جن کی سر کی چندیا صاف ہو گی ،اور اُس کے گرد بالوں کی پٹیاں جمی ہوں گی ،ایسے لوگوں کی خبر تلوار سے لینا۔(10)اچھا اب اﷲ کا نام لیکر جاو¿ ،اﷲ تمہاری نیزے کی ضرب سے اور طاعون سے حفاظت کرے۔(تاریخ طبری)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

03 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


03 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 3


ملک یمن میں عاملوں(گورنروں)کا تقرر، اسود عنسی کی بغاوت، اسود عنسی کا انجام، خلیفۂ اول کو پہلی خوش خبری ملی، نبوت کے جھوٹے دعویدار، مُرتدین کے نام تفصیلی خط، باغیوں کو صاف جواب، باغیوں سے جنگ، مسلمانوں کی فتح


ملک یمن میں عاملوں(گورنروں)کا تقرر


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”حجتہ الوداع“ہونے کے بعد مدینہ منورہ پہنچتے ہی ملک یمن کی امارت کا انتظام فرمایا۔اسے کئی اشخاص میں تقسیم کردیا اور ہر شخص کو ملک یمن کے خاص خاص رقبوں کا عامل(گورنر)مقرر فرما دیا۔ اسی طرح آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”حضر موت “میں بھی گورنروں کا تقرر کیا۔حضرت عمرو بن حزم رضی اﷲ عنہ کو نجران کا گورنر مقرر کیا۔حضرت خالد بن سعیدبن عاص رضی اﷲ عنہ کو بحران،رمع اور زبید کے درمیانی علاقے کا والی مقرر فرمایا۔حضرت عامر بن شہر رضی اﷲ عنہ کو ہمدان کا والی مقرر کیا۔حضرت شہر بن باذام رضی اﷲ عنہ کو صنعاءکا والی مقرر کیا۔حضرت طاہر بن ابی ہالہ کو عک اور اشعرین کاوالی،حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو مارب کا والی،اور حضرت یعلیٰ بن اُمیہ رضی اﷲ عنہ کو جند کا والی مقرر فرمایا تھا۔اسی طرح حضر موت میں بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے والی(گورنر)مقرر فرمائے تھے۔حضرت عکاشہ بن ثور رضی اﷲ عنہ کو عکاسک اور سکون کا والی مقرر فرمایااور حضرت عبد اﷲ بن مہاجر کو بنو معاویہ بن کندہ کا والی مقرر فرمایا تھا،جو بیماری کی وجہ سے نہیں جاسکے تھے۔اُن کی جگہ عارضی طور سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت زیاد بن لبید رضی اﷲ عنہ کو والی مقرر کیا تھا۔پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد اُنہیں بھیجا۔ان سب کے علاوہ حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ملک یمن اور حضر موت کا معلم(اسلام کی تعلیمات دینے والا) بنایا تھا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ مسلسل ملک یمن اور حضر موت کا دورہ کرتے رہتے تھے ،اور اسلام کی اور قرآن پاک کی تعلیم دیتے رہتے تھے۔(تاریخ طبری ،تاریخ ابن کثیر)


اسود عنسی کی بغاوت


   اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سب سے پہلے اسود عنسی نے مسلح بغاوت کی۔اس کا نام عبہلةبن کعب بن غوث ہے اور اُس کے شہر کو کہف حنان کہا جاتا تھا۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں۔عبید بن مخر سے مروی ہے کہ ہم جند میں تھے اور ہم نے وہاں کے باشندوں کا معقول انتظام کرلیا تھااور اُن سے معاہدے لکھوا لئے تھے کہ اتنے میں اسود عنسی کا خط ہمارے پاس آیا۔جس میں لکھا تھا کہ ”اے لوگو!جو ہمارے ملک میں گھس آئے ہو اُس علاقے کو جس پر تم نے قبضہ کرلیا ہے ہمارے حوالے کر دو۔ جو کچھ تم نے جمع کیا ہے وہ ہمیں دے جاو¿ کیونکہ ہم اس کے حقدار ہیںاور تم کو کوئی حق نہیں ہے۔“ہم نے اُس کے پیامبر سے پوچھا کہ تم کہاں سے آرہے ہو؟اُس نے کہا ۔کہف حنان سے۔اس کے بعد اسود نے نجران کی طرف رُخ کیا اور اپنے خروج کے دس دن بعد اُس نے نجران پر قبضہ کر لیا۔مذحج کے عوام اُس کے ساتھ ہو گئے۔ہم ابھی اپنی حالت پر غور کر رہے تھے اور اپنی جماعت کو جمع کر رہے تھے کہ ہمیں اطلاع ملی کہ اسود ”شغوب “میں آچکا ہے اور حضرت شہر بن باذام رضی اﷲ عنہ اُس کے مقابلے پر نکل چکے ہیں۔یہ اسود کے خروج کے بیس دنوں بعد کا واقعہ ہے۔ہم اُن دونوں کے مقابلے کے نتیجے کے منتظر تھے کہ دیکھیں کسے شکست ہوتی ہے؟کہ ہمیں خبر ملی کہ اسود عنسی نے حضرت شہر بن باذام کو شہید کر دیا ہے اور ابناءکو شکست ہوئی ہے۔اسود عنسی نے اپنے خروج کے پچیس دنوں بعد صنعاءپر بھی قبضہ کر لیا ہے اور حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ وہاں سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے جو ”مارب “میں تھے۔ وہ دونوں یمن کو چھوڑ کر حضر موت میں داخل ہو گئے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ قبیلہ سکون میں ٹھہر گئے اور حضرت ابو بوسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ عکاسک کے پاس اُس علاقے میں جو مفور اور مغازہ جو اُن کے اور مارب کے درمیان متصل تھاوہاں فروکش ہو گئے۔حضرت عمرو اور حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہم مدینہ منورہ لوٹ آئے اور بقیہ یمن کے عاملین حضرت طاہررضی اﷲعنہ کے پاس چلے آئے۔وہ اُس وقت صنعا کے گرد ”عک“کے علاقے کے وسط میں مقیم تھے۔اُس وقت تک حضر موت کے صحراءصہیہ سے لیکر طائف کے علاقے سے عدن کی جانب بحرین تک کا علاقہ اسود عنسی کے قبضے میں آ چکا تھا۔پورا یمن اُس کے ساتھ ہو گیا تھا۔البتہ تہامہ کے قبائل ”عک“اُس کے مخالف تھے۔اُس کی کیفیت ایک جہاں سوز آگ کے جیسی تھی،کہ جدھر بھی اُس نے رُخ کیا سب کو جلا دیا۔اُس کی حکومت قائم ہو گئی تھی اور اُس کی شان و شوکت بہت بڑھ گئی تھی۔سواحل میں سے حاز،شارجہ،حردہ،غلافقہ،عدن اور جند پر اُس کا قبضہ ہو گیا تھا۔ممالک میں صنعاءسے لیکر طائف کی جانب اخسیہاور علیب تک کا علاقہ اُس کے قبضے میں تھا۔مسلمانوں نے اُس سے رحم کی درخواست کر کے امان حاصل کی اور مرتدین نے اُس سے کفر اور اسلام کو چھوڑ دینے کے وعدے پر معاملہ کرلیا۔مذحج میں اُس کا نائب عمرو بن معدی کرب تھا،اسی طرح اُس نے اپنے اُمور سلطنت کو کئی آدمیوں کو تفویض کیا تھا۔(تاریخ طبری جلد ،تاریخ ابن کثیر)


اسود عنسی کا انجام


   یمن میں اسود عنسی اپنی حکومت قائم کرچکا تھا۔قیش بن عبد یغوث اُس کی فوج کا سپہ سالار تھا،ابناءکی سرداری فیروز اور دازویہ کے سپرد تھی۔یہاں اسود عنسی نے ایک بہت بڑی غلطی کی۔اس نے حضرت شہر بن باذام رضی اﷲ عنہ کی بیوہ سے شادی کرلی۔جس کی وجہ سے فیروز اُس سے بد ظن ہو گیاکیونکہ وہ فیروز کی چچا زاد بہن تھی۔دوسری بڑی غلطی اُس نے یہ کی کہ قیس اور دازویہ پر باغی ہونے کا شک کرنے لگا۔ہم اسی پریشانی میں حضر موت میں مقیم تھے اور ہم اس اندیشے میں مبتلا تھے کہ پتہ نہیں اسود خود ہم پر حملہ کرے گا یاہمارے مقابلے پر فوج بھیجے گایا پھر حضر موت میں بھی کوئی شخص اسود کی طرح جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے کے لئے خروج کرے گا۔ہم حیران وپریشان تھے کہ ہمیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خط ملا۔جشیش بن الدیلمی سے مروی ہے کہ حضرت دبر بن یحسنس رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خط لیکر ہمارے پاس آئے۔اس خط میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم اسلام پر قائم رہیںاور لڑائی یا حیلے سے اسود کے خلاف جنگی کاروائی کریں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پیغام کو اُن لوگوں تک بھی پہنچائیں جو اِس وقت اسلام پر جمے ہوئے ہیں۔حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ عنہ اُسی وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرنے نکل پڑے اور گھوم گھوم کر راسخ مسلمانوں کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام پہنچانے لگے۔ہم نے فیروزاور قیس سے ملکر اُنہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔فیروز تو پہلے ہی اسود سے بد ظن تھا۔ادھر حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کی کوششوں سے اچھے خاصے مسلمان ایک جگہ اکٹھا ہو گئے۔اسود عنسی پر اس کا بہت اثر ہوا ،اور اُسے اپنی موت نظر آنے لگی۔


خلیفۂ اول کو پہلی خوش خبری ملی


   ادھر یمن میں مسلمانوں کی کاروائی جاری تھی۔جشیش بن الدیلمی آگے فرماتے ۔ہم لوگ قیس سے ملے اور اُسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔وہ بہت خوش ہوا کیونکہ وہ اسود عنسی کے برتاو¿ کی وجہ سے اُس سے بد ظن ہو گیا تھا۔فیروز اور قیس کو بلا کر اسود عنسی نے کہا کہ تم مسلمانوں سے مل گئے ہواور قتل کی دھمکی دی۔(یہاں ہم مختصر ذکر کر رہے ہیں،مفصّل ذکر آپ تاریخ طبری اور تاریخ ابن کثیر میں پڑھ سکتے ہیں۔)اس کے بعد فیروز نے طے کرلیا کہ کسی بھی صورت میں اسود عنسی کو قتل کردے گا۔اس کے لئے وہ اپنی چچا زاد بہن سے ملا اور اُسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام سنایااور یہ بتایا کہ اگر میں اسود کو قتل نہیں کروں گا تو وہ مجھے قتل کردے گا۔وہ اسود کی بیوی تھی لیکن سچی مسلمان تھی،اُس نے بتایا کہ محل میں بہت زبردست پہرہ رہتا ہے لیکن یہاں میرے محل کی پچھلی دیوار پر پہرہ نہیں رہتا ہے۔ فلاں رات کو اسودعنسی میرے پاس آئے گا،اُس رات کو تم پچھلی دیوار میں نقب لگا کر آجانا اور اُسے قتل کر دینا۔اس کے بعد فیروز ہمارے پاس آیا اور اس نے ساری منصوبہ بندی بتائی۔قیس اور دازویہ اُس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔یہ تینوں رات میں نقب لگا کر اندر پہنچے۔فیروز کی چچا زاد بہن نے اُن کی مدد کی۔اسود عنسی بہت طاقتور اور سخت جان تھا اور اُس نے بہت مزاحمت کی لیکن ان چاروں نے ملکر کسی نہ کسی طر ح اُسے قتل کردیا ۔صبح دازویہ نے اذان دی تو سب لوگ حیران ہو کر محل کے اطراف جمع ہو گئے (کیونکہ اسود نے اذان بند کرا دی تھی)فیروز محل کی فصیل پر اسود کا سر لیکر کھڑا ہوا اور بلند آواز سے پکارا:”میں اعلان کرتا ہو ں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں اور یہ بد بخت اسود عنسی عبہلہ کذاب(جھو ٹا)تھا۔“پھر اُس نے اسود کا سر اُن کے سامنے ڈال دیا۔حضرت عبد اﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔جس رات اسود عنسی مارا گیا اُسی وقت اُسکے قتل کی اطلاع اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دے دی تھی۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے صبح ہم کو بشارت دی کہ کل رات اسود عنسی کو قتل کردیا گیا ہے۔اُسے ایک مبارک آدمی جو ایک مبارک خاندان کا فرد ہے نے قتل کیا ہے۔ہم نے عرض کیا :”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !وہ کون ہے؟“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:فیروز!فیروز کامیاب ہوا۔“لیکن باقاعدہ قاصد کے ذریعے اسود کے قتل کی اطلاع خلیفہ ءاول کو اُس وقت ملی جب آپ رضی اﷲ عنہ لشکر اُسامہ کو بھیج چکے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ماہ ربیع الاول کے آخری دنوں میں لشکر اُسامہ کو روانہ کیا تھا ۔اور اس کے بعد ہی اسود عنسی کے خاتمے کی خبر لیکر یمن سے قاصد آیا۔لشکر اُسامہ کے جانے کے بعد یہ پہلی فتح کی بشارت تھی جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ میں ملی۔(تاریخ طبری)


نبوت کے جھوٹے دعویدار


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر اُسامہ بھیجنے کے بعدحالات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔اس دوران کئی نبوت کے جھوٹے دعویدار پیدا ہوگئے ۔اسود عنسی کا انجام ذکر ہو چکا ہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اپنے والد محترم حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیںکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال اورلشکرِاُسامہ کی روانگی کے بعدتمام خاص و عام عرب مرتدہوگئے۔مسیلمہ اور طلیحہ نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا،اُن کی جماعت اور طاقت بہت بڑھ گئی،قبیلہ بنو طے اور بنو اسد، طلیحہ اسدی کے ساتھ ہو گئے۔ اسی طر ح بنو اشجع اور بنو غطفان کے بعض خاندانوں کے خاص لوگوں کے علاوہ تمام غطفان مرتد ہوگئے۔قبیلہ بنو ہوازن متردد تھے،انہوں نے بھی ذکوٰة کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔البتہ بنو ثقیف اسلام پر قائم رہے اور اُن کی اقتداءمیں بنو جدلہ اور بنو اعجاز بھی عام طور پر اسلام پر قائم رہے ۔لیکن بنو سلیم کے خواص مرتد ہو گئے اور یہی حال تمام قبائل عرب کا تھا۔یمن ،یمامہ اور بنو اسد کے علاقوں سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے عاملین(گورنروں)اور اُن اشخاص کے نمائندے جن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسود ،مسیلمہ اور طلیحہ کی مدافعت اور مقاو مت کا حکم بھیجا تھا،آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس واقعات اور خطوط کے ساتھ آئے ۔یہ سب خط اُنہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو دیئے اور زبانی تمام حالات بیان کئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُنہیں ذرائع سے اُن سب کا مقابلہ شروع کیا جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم استعمال کر چکے تھے۔کہ مراسلت شروع کی ۔جو قاصد اب آئے تھے اُن کو تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے حکم سے واپس بھیج دیا،مگر اُن کے عقب میں اپنے دوسرے قاصد اس غرض کے لئے روانہ کئے۔(تاریخ طبری)


مُرتدین کے نام خط


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مرتد قبائل کو ایک ہی مضمون کا خط لکھا اور اپنے قاصدوں کو دیکر الگ الگ علاقوں میں بھیجا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ”قطع حجت “کے لئے مرتدین کی طرف بھی ایک ایک خط روانہ کیا تھا۔یہ تمام خطوط ایک ہی مضمون کے تھے،جس میں بسم اﷲ کے بعد یہ لکھا تھا۔”یہ ابوبکر خلیفة الرسول(رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ)کی طرف سے! اُس شخص کے لئے ہدایت ہے جس کے پاس یہ فرمان پہنچے۔چاہے وہ عام ہو یا خاص اور اسلام پر قائم ہو یا نہ ہو۔اُس پر سلام ہو !جس نے ہدایت کی اتباع کی اور گمراہی اور خواہش نفس کی طرف نہیں لوٹا۔اُس اﷲ کی تعریف ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور جو اکیلا ہے ،اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں گواہ ہو ں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے بندے اور اُس کے رسول ہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم جو دین لیکر آئے ہیںاُس پر ایمان لاتا ہوں اور انکار کرنے والے کو مردود سمجھتا ہوں اور اُس سے جہاد کے لئے تیار ہوں۔(اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے نبوت اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کو عمدہ طریقے سے بیان کیا اور خوب خوب نصیحتیں کیں۔)پھر لکھا ۔میں فلاں کو مہاجرین اور انصار اور تابعین کے لشکر کا سپہ سالار بنا کر بھیجنے والا ہوں۔ میرا حکم ہے کہ وہ کسی سے نہ لڑے اور کسی کو نہ مارے،جب تک کہ اسلام کی دعوت نہ دیدے۔پھر جس نے کلمہ پڑھ لیا ،اسلام قبول کر لیااور برائیوں سے رُک گیا اور نیک اعمال میں لگ گیا،اُس کا اسلام قابل قبول ہے اُس کی مدد کی جائے گی اور جو اسلام سے انکار کرے گا،اُس سے لڑنے کی اجازت اُس وقت تک ہے،جب تک کہ اُس میں کفر کا اثر باقی ہے۔پھر جو اسلام لے آئے گا اُس کے لئے بہتری ہے اور جو اسلام نہیں لائے گا تو وہ اﷲ کو عاجز کرنے سے رہا۔میں نے قاصد کو حکم دے دیا ہے کہ وہ یہ خط مجمع ¿ عام میں پڑھ کر سنائے اور تمہاری اذان کے ذریعے دعوت دے ۔پھر اگر مسلمان کی اذان سُن کر لوگ بھی اذان دینے لگیں تو اُن سے رُک جاو¿ اور اگر اذان نہ دیں تو اُن سے اذان نہ دینے کی وجہ پوچھو۔اگر وہ انکار کر دیں تو اُن کے بارے میں جلدی کرو اور اگر یہ اقرار و توبہ کرلیںتو اُن کی توبہ قبول کر لی جائے اور اُن کے لئے مناسب احکام جاری کر دیئے جائیں۔ (تاریخ ابن خلدون،جلد ۱)


مُرتدین کے نام تفصیلی خط


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مُرتدین کے نام ایک ہی طرح کا خط لکھا تھا۔اوپر ہم نے جو علامہ عبد الرحمن ابن خلدون کی روایت کا خط پیش کیا ،وہ مختصر تھا۔اس خط کو علامہ محمد بن جریر طبری نے بڑی تفصیل سے پیش کیا ہے۔وہ بھی ہم آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔امام طبری لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مُرتدین کو ایک ہی مضمون کا خط لکھا،وہ حسب ذیل ہے۔”بسمہ ا ﷲ الرحمن الرحیم۔یہ خط ابو بکر خلیفہ ¿ رسول اﷲ(رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ)کی جانب سے! اُن تمام عام اور خاص لوگوں کے نام ہے۔جن کو یہ موصول ہو،چاہے وہ اسلام پر قائم ہوں یا مُرتد ہو گئے ہوں۔سلامتی ہو اُن پر جنہوں نے راہِ راست کی اتباع کی اور ہدا یت کے بعد گمراہی اختیار نہیں کی۔میں تمہارے سامنے اُس معبود ِ حقیقی کی جس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے تعریف کرتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ اﷲ وحدہُ لا شریک ہے اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے بندے اور رسول ہیں۔اﷲ کا جو پیام وہ ہمارے لئے لائے ہیںہم اُس کا اقرار کرتے ہیں اور جو انکار کرے ہم اُسے کافر سمجھتے ہیں اور اُس سے جہاد کریں گے۔ا ﷲ تعالیٰ نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو واقعی اپنی جانب سے اپنی مخلوق کے لئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والااور اﷲ کی جانب سے اُس کے حکم کی دعوت دینے والا اور ایک روشن شمع بنا کر مبعوث فرمایا ہے تاکہ وہ جو زندہ ہوںاُن کو اﷲ کا خوف دلائیں اور اس طرح منکرین کے خلاف بات پکی ہو جائے۔جس نے اُن (صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی بات مانی اﷲ نے اُسے راہ راست بتا دی اور جس نے انکار کیا،رسول اﷲ صلی ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ کے حکم سے اُسے اچھی طرح سزا دی۔یہاں تک کی اُس نے خوشی سے یا بادل نخواستہ اسلام قبول کر لیا۔پھر اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا مگر وہ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) اﷲ تعالیٰ کے حکم کو پوری طرح نافذ کر چکے تھے اور اِس اُمت کے ساتھ مخلصانہ خیر خواہی کر چکے ہیں۔(اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وسال کے بارے میں قرآن پاک کی آیات لکھیں،اس کے بعد آگے فرمایا)میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم اﷲ سے ڈرتے رہو اور اس طرح اپنا حصہ اور نصیبہ اُس سے حاصل کرتے رہو۔تاکہ تمہارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم جو اﷲ کا پیغام تمہارے پاس لائے ہیں اُس سے بہرہ ور ہو سکو،اور اﷲ کی ہدایت پر گامزن رہو۔ جسے اﷲ نے گمراہ کر دیاوہ بالکل گمراہ ہے اور جب تک کوئی اسلام قبول نہ کرلے نہ دنیا میں اُس کا کوئی عمل قبول ہو گااور نہ آخرت میں کوئی بدلہ یا معاوضہ قبول کیا جائے گا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے لوگ اسلام لانے اور اُس پر عمل پیرا ہونے کے بعد اُس سے مُرتد ہو گئے ہیں۔اُن کو یہ جسارت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کے متعلق غلط اندازہ قائم کیا ہے اور اُس کے طریقہ کار سے واقف نہیں ہیںاور انہوں نے شیطان کے اغوا کو قبول کرلیا۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو۔اُس کی جماعت تم کو اس لئے اغوا کرتی ہے کہ تم دوزح میں جاو¿۔“میں نے فلاں شخص کو مہاجرین، انصار اور تابعین کی جمیعت کے ساتھ تمہارے پاس بھیجا ہے اور اُن کو حکم دیا ہے کہ جب تک وہ اﷲ کا پیغام تم تک نہ پہنچا دیںتب تک نہ تو کسی سے جنگ کریں اور نہ ہی کسی کو قتل کریں۔لہٰذا جو اِس دعوت کو قبول کرکے اس کا اقرار کرلے اور اپنے موجودہ طرز عمل سے باز آ جائے ،اور عمل صالح کرنے لگے تو اس کے اقرار اور عمل کو قبول کر کے اُس پر بقاءاور قیام کے لئے اُس شخص کی اعانت کی جائے۔ جو اِس پیغام کو رد کردے ،اُس کے متعلق میں نے حکم دیا ہے کہ اِس انکار کی وجہ سے اُس سے جنگ کی جائے اور پھر جس پر قابو چلے ،اُس کے ساتھ ذرا بھی رحم نہ کیا جائے اور بُری طرح قتل کیا جائے۔اُس کے اہل و عیال کو غلام اور لونڈی بنا لیا جائے اور اسلام کے سوا کسی بات کو قبول نہیں کیا جائے۔جو اسلام کی اتباع کرے گاوہ اُس کے لئے بہتر ہے اور جو انکار کرے تو اسے سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ اﷲ سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔میں نے اپنے پیامبر کو ہدایت کی ہے کہ وہ اِس خط کو ہر مجمع میں پڑھ کر سنا دیںاور ہمارا شعار اذان ہے،لہٰذا جب مسلمان اذان دیں اور مرتدین بھی اذان دیں تو خاموشی اختیار کی جائے۔ اگر وہ اذان نہ دیں تو فوراً اُن کی خبر لی جائے اور اذان دینے کے بعد بھی اُن سے دریافت کیا جائے کہ وہ کس مسلک پر ہیں؟اگر وہ اسلام سے انکار کریں تو فوراً اُن سے جنگ شروع کر دی جائے اور اگر وہ اسلام کا اقرار کر لیں تواُن کے بیان کو قبول کر کے اُن پر اسلام کی خدمت عائد کی جائے۔“


باغیوں کو صاف جواب


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ شدید بے چینی سے لشکر اُسامہ کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے۔اسی دوران قبیلہ بنو عبس،قبیلہ بنو ذیبان ،بنو اسد،اور بنو کنانہ اچھا خاصہ لشکر لیکر آئے اور مدینہ منورہ کے قریب پڑاو¿ ڈال دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں،قبیلہ بنو عبس اور بنوذیبان جوش مردانگی سے اُبل پڑے بنو عبس نے” ابرق “میں اور بنو ذیبان نے ”ذی القصہ “میں پڑاو¿ ڈال دیا۔اُن کے ساتھ بنو اسد اور بنو کنانہ کے بھی کچھ لوگ تھے۔اُن لوگوںنے متفق ہو کر چند آدمیوں کو بطور وفد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔اس وفد نے نماز کی کمی اور ذکوٰة کی معافی کی درخواست کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ کی قسم!اگر ایک عقال(جس رسی سے اونٹ کے پاو¿ں باندھتے ہیں۔)بھی کم دیں گے تو میں تم سے جنگ کروں گا اور پانچ وقت کی نماز میں سے ایک رکعت کی بھی کمی نہیں کی جائے گی ۔(تاریخ ابن خلدون،جلد نمبر ۲)امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرما تے ہیںکہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو ملک عرب کے بعض لوگ مرتد ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم نماز تو پڑھیں گے لیکن ذکوٰة نہیں دیں گے۔پس میں خلیفہ¿ اول کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا:”یا خلیفہ¿ رسول !لوگوں کی تالیف قلوب کیجیئے اور اُن کے ساتھ مرو¿ت اور نرمی کا برتاو¿ کیجیئے“۔یہ سُن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مجھے توتم سے بھر پور تعاون کی اُمید تھی اور تُم مجھے ہی پست کئے دے رہے ہو۔تم زمانہءجاہلیت(اسلام سے پہلے)میں تو بڑے جری اور بہادر تھے ، اسلام قبول کرنے کے بعد اس قدر کمزور پڑ گئے۔بتاو¿ میں کس طرح اُن کی تالیف قلب کروں؟اُن کے ساتھ باتیں بناو¿ں یا اُن پر افسوں اور جادو کر دوں؟افسوس صد افسوس،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے رب سے جاملے ہیں اور وحی کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔اﷲ کی قسم!جب تک میرے ہاتھ میں تلوار ہے ،میں ذکوٰة نہ دینے والوں سے اُس وقت تک جنگ کرتا رہوں گا،جب تک کہ وہ ذکوٰة دینے میں راضی نہ ہو جائیں۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اِس معاملہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو میں اپنے سے ذیادہ مستعد اور اجرائے احکام پر سخت پایا ہے۔امام ذہبی بیان کرتے ہیںکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر جب چاروں طرف عام ہوئی توملک عرب کے بہت سے قبیلے مُرتد ہو گئے اور ادائیگی زکوٰة سے گریز کرنے لگے۔یہ صورت حال دیکھکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُن سے جنگ کا ارادہ کیا۔اُس وقت حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ اِس وقت اِن سے جنگ کرنا مناسب نہیں ہے۔یہ سُن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ کی قسم!اگر یہ لوگ ایک رسی یا ایک بکری کا بچہ بھی جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں زکوٰة میں دیا کرتے تھے ،اب اُسے دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ کروں گا۔“اِس پر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ کس طرح اُن لوگوں سے کس طرح جنگ کریں گے جب کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یہ فرما چکے ہیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اُس وقت تک لڑوں ،جب تک وہ لا الٰہ الا ا ﷲ نہ کہیں(یعنی ایمان نہ لے آئیں)اور جس نے یہ کلمہ پڑھ لیا(یعنی ایمان لے آئے)اُس کا مال ،اُس کی جان اور اُس کا خون بہانامجھ پر منع کر دیا گیا ہے۔سوائے ادائے حق کے اور اُس کا حساب اﷲ کے ذمہ ہے۔جب یہ حکم موجود ہے تو آپ رضی اﷲ عنہ ان سے کس طرح جنگ کر سکتے ہیں؟“اس کے جواب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ا ﷲ کی قسم !میں اُن سے نماز اور زکوٰة میں فرق کرنے کی وجہ سے جنگ کروں گاکیونکہ زکوٰة بھی بیت المال کا حق ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حق پر جنگ کی جائے۔“یہ سُن کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”اﷲ کی قسم !مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ حق پر ہیںاور اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کے دل کواِس جنگ کے لئے آگاہ کر دیا ہے۔(تاریخ الخلفائ،امام جلا ل الدین سیوطی،تاریخ ابن کثیر)


باغیوں سے جنگ


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا دو ٹوک جواب سُن کر باغیوںاور منکرین زکوٰة کا وفد واپس چلا گیا اور ساتھ ہی یہ جائزہ بھی لیتا گیا کہ مدینہ منورہ میں بہت کم مسلمان ہیں۔(کیونکہ زیادہ تر لشکر اُسامہ کے ساتھ گئے تھے۔)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے صحابہ ءکرام رضی اﷲ عنہم کو جمع کر کے فرمایا:”تمہارے چاروں طرف دشمن ڈیرے ڈالے ہوئے ہے اور اُسے تمہاری کمزوریوں کا علم ہو گیا ہے۔نہ معلوم دن اور رات کے کس حصے میں وہ تم پر چڑھ آئیں،وہ تم اے ایک منزل کے فاصلے پر خیمہ زن ہیں۔ابھی تک وہ اِس اُمید میں تھے کہ شاید تم اُن کی شرائط قبول کر لو گے لیکن اب ہم نے اُن کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے۔اس لئے وہ ضرور ہم پر حملہ کرنے کی تیاریاں کریں گے،تم بھی اپنے آپ کو لڑائی کے لئے تیار رکھو۔“(صدیق اکبر،خلفائے راشدین)اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب،حضرت طلحہ بن عبید اﷲ ،حضرت سعد بن ابی وقاص ،حضرت زبیر بن عوام،اور حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہم کو ایک دستہ دے کر مدینہ منورہ کے بیرونی راستوں پرمتعین کر دیااور باقی تمام لوگوں کوجنگ کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا۔ اس طرح مدینہ منورہ کا ہر فرد ہنگامی حالات کے لئے تیار تھا اور باغی بھی تاک میں تھے۔آخرکا ر تین دنوں بعد باغیوں نے اچانک مدینہ منورہ پر حملہ کردیا۔بیرونی راستوں پر متعین دستوں نے فورا ً آپ رضی اﷲ عنہ کو خبر کردی اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ہنگامی طور سے جنگ کا اعلان کروا دیا اورفوراً مسلمانوں کا لشکر تیار ہو گیا۔ باغیوں اور منکرین زکوٰة کا خیال تھا کہ مسلمان غفلت میں ہوں گے اور ہم انہیں آسانی سے قتل کر دیں گے لیکن اُن کا استقبال مسلمانوں کے تیار اور تر وتازہ لشکر نے کیا۔جس کی وجہ سے وہ کامیاب نہیں ہو سکے اور انہیں میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا ۔مسلمانوں نے ذی حشب تک اُن کا پیچھا کیا۔وہاں باغیوں کی تازہ کمک موجود تھی۔


مسلمانوں کی فتح


   علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جمادی الآخر میں ذی القصہ پہنچے تو بنو عبس،بنو ذیبان،بنو مرہ،اور بنو کنانہ سے سامنا ہوا ۔اور طلیحہ نے اپنے بیٹے حبال کے ذریعے اُنہیں مدد دی۔جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو انہوں نے دھوکہ بازی کی اور لڑنے کے بجائے آس پاس کے پہاڑوں میں چھپ گئے اور اوپر سے آگ جلا جلا کر نیچے پھینکنے لگے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کے اونٹ اور گھوڑے اتنی بُری طرح سے بھڑکے کہ سیدھے مدینہ منورہ پہنچ کر ہی دم لیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُنہی کا وار اُنہی پر پلٹانے کا منصوبہ بنایااور لشکر تیار کر کے خاموشی سے ذی القصہ تک پہنچے اور صبح تڑکے اچانک اُن پر حملہ کردیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے میمنہ پر حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا،میسرہ پر اُن کے بھائی حضرت عبد اﷲ بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا اور ساقہ پراُن دونوں کے بھائی حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا۔دشمنوں کو کوئی آہٹ بھی محسوس نہیں ہوئی اور مسلمان اُن پر ٹوٹ پڑے اور قتل کرنے لگے۔ابھی سورج طلوع بھی نہیں ہوا تھا کہ دشمن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی زیادہ تر سواریوں پر قبضہ کر لیااور حبال قتل ہو گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی خلافت میں یہ پہلی فتح تھی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

04 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


04 خلافت ِ راشدہ_ خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 4


لشکر اُسامہ کی فتح اور واپسی، حضرت علی کی گزارش مان لی، گیارہ لشکروں کی روانگی، سپہ سالاروں کے نام خط، طلیحہ کا لشکر جمع کرنا، حضرت عدی بن حاتم کی کامیابی، قبیلہ بنو طے کی اسلام میں واپسی، بنو غوث اور بنو جدیلہ کی اسلام میں واپسی، طلیحہ اسدی کا دعویٰ ، طلیحہ کی شکست


لشکر اُسامہ کی فتح اور واپسی


   حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر بیس دن کا سفر طے کرنے کے بعد حدودِ شام میں مقام بلقاءپہنچے۔بلقاءکے قریب ہی جنگ موتہ ہوئی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کو وہیں پڑاو¿ ڈالنے کا حکم دیااور بنو آبل اور بنو قضاعہ کی طرف صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے دستے بھیجے ،اِس میں اُنہیں بہت زبردست کامیابی ملی۔بہت سے رومی قتل ہوئے اور بے شمار مال غنیمت حاصل ہوا۔ حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تمام ہدایتوں پر عمل کیا۔انہوں نے اپنے حملے رومی سرحدوں تک ہی محدود رکھے اور اندر داخل ہونے کی کوشش نہیں کی۔ فتح حاصل کرنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کو فوراًواپس کوچ کرنے کا حکم دیا۔اس فتح نے اسلام کی شان و شوکت میں اضافہ کیا۔جب حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ فاتح لشکر کو لیکر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مہاجرین و انصار صحابہ رضی اﷲ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر آ کرپُر جوش استقبال کیا اور مدینہ منورہ میں ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔لشکر اُسامہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے لگ بھگ ستر (۰۷) دنوں بعد واپس آیا۔


حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی گزارش مان لی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی اس فتح سے دوسرے قبائل پر بھی اثر پڑا ،اور وہ لوگ اپنی اپنی زکوٰة لے کر مدینہ منورہ آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔یہ جنگ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے ساٹھ دن بعد ہوئی اور اس کے کچھ ہی دن بعد لشکر اُسامہ بھی واپس آگیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مجاہدین کو آرام کرنے کا مشورہ دیااور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ پر اپنا قائم مقام بنا کر لشکر لیکر ذی القصہ آئے ۔وہاں مقرن کے تینوں بیٹے حضرت نعمان،حضرت عبداﷲ اور حضرت سوید رضی اﷲ عنہم اپنی پہلی پوزیشنوں پر موجود تھے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ کا ارادہ باغیوں کی سرکوبی کا تھا،جب آپ رضی اﷲ عنہ اونٹ سوار ہوئے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ اُس کی مہار پکڑے چل رہے تھے۔انہوں نے عرض کیا:”اے خلیفة الرسول!کہاں جانے کا ارادہ ہے؟میں آپ رضی اﷲ عنہ سے وہی بات کہتا ہوں جو (آپ نے)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے فرمائی تھی۔ہمیں مصیبت میں نہ ڈالیئے اور مدینہ منورہ واپس چلے جایئے۔اﷲ کی قسم!اگر آپ رضی اﷲ عنہ کو کچھ ہو گیا تو ہمیشہ کے لئے اسلام کا نظام قائم نہیں ہو سکے گا۔“ایک اور روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ ”آپ رضی اﷲ عنہ اپنی جگہ کسی اور بہادر کو بھیج دیں ۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی بات مان لی اور ذی القصہ سے گیارہ لشکروں کو روانہ کیااور مدینہ منورہ واپس آ گئے۔(تاریخ ابن کثیر)


گیارہ لشکروں کی روانگی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ایک ساتھ گیارہ لشکروں کو ہر طرف روانہ کیا۔ جب حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر نے آرام کرلیااور اُن کی سواریاں بھی تازہ دم ہو گئیں۔اُسی زمانے میں اتنے زیادہ صدقات و زکوٰةمدینہ منورہ میں وصول ہو کر آئے کہ مسلمانوں کی ضرورت پوری ہو کر بچ گئے۔حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے گیارہ لشکر تیار کئے اور اُن کے سپہ سالار مقرر کر کے گیارہ مقامات کی طرف روانہ فرمایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔(۱)اُمراءاور بہادر سرداروں کے سرخیل حضرت ابو سلیمان خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تھے۔امام احمد بن حنبل نے حضرت وحشی بن حرب کی روایت پیش کی کہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مُرتدین سے جنگ کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لئے جھنڈا باندھا تو فرمایا:”میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ،اﷲ کا کیا ہی اچھا بندہ ہے اور ہمارا بھائی ہے جو اﷲ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔جسے اﷲ تعالیٰ نے کافروں اور منافقین کے خلاف سونتا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ذوالقصہ سے چلتے وقت آپ رضی اﷲ عنہ سے یہ وعدہ کیا کہ وہ عنقریب اپنے ساتھی سپہ سالا روں سے خیبر کی جانب ملیں گے اور اعرابیوں کو ڈرانے والا مظاہرہ کریں گے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ سب سے پہلے طلیحہ اسدی کی طرف جائیں،پھر اس کے بعد بنو تمیم کی طرف جائیں۔(تاریخ ابن کثیر)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ پہلے طلیحہ بن خویلد اسدی کے مقابلے پر جائیں اور اُس سے فارغ ہو کربطاح میں مالک بن نویرہ سے لڑیں۔(۲)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت عکرمہ بن ابی جہل کو بنایااور جھنڈادیکر انہیں حکم دیا کہ مسیلمہ کذاب کے مقابلے پر جائیں۔(۳)حضرت مہاجر بن ابی اُمیہ رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنایا اور جھنڈا دیکر آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ وہ اسود عنسی کی بچی کچی فوجوں کا مقابلہ کریںاور قیس بن مکثوح اور اُن دوسرے اہل یمن کے مقابلے میں جو ابناءسے لڑ رہے ہیں،اُن کے خلاف ابناءکی مدد کریںاور اُن سے فارغ ہو کر بنو کندہ سے مقابلہ کرنے کے لئے حضر موت چلے جائیں۔(۴)ایک لشکرکا سپہ سالار حضرت سعید بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ کو بنایا(جو اُسی زمانے میں یمن میںپھیلی بد نظمی کی وجہ سے مدینہ منورہ واپس آ گئے تھے۔)اُن کو ایک جھنڈا دیکر حمقتین بھیجا،جوملک شام کی سرحد پر ہے۔(۵)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو بنایااور اُن کو جھنڈا دیکر بنو قضاعہ ،بنو ودیعہ اور بنو حارث کے مقابلے پر جانے کا حکم دیا۔(۶)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت حذیفہ بن محصن غطفانی کو بنایااور اُنہیںجھنڈا دیکر حکم دیا کہ وہ بنو دیا کے مقابلے پر جائیں۔(۷)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت عرفجحہ بن ہر شمہ کو بنایا۔اُنہیں جھنڈا دیکر مہرہ جانے کا حکم دیااور ہدایت کی کہ دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم مہر ہ میں اکٹھا ہو جائیں مگر جو جو علاقے اُنہیں دیئے گئے ہیں،اُن میں وہ ایک دوسرے پر امیر رہیں گے۔(۸)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو بنایااور جھنڈا دیکر حکم دیا کہ تم حضرت عکرمہ بن ابی جہل کے پیچھے جاو¿ اور یمامہ سے فارغ ہو کر تم بنو قضاعہ چلے جانااور مُرتدین سے جنگ کے موقع پر تم اپنے لشکر کے آزاد سپہ سالار رہو گے۔(۹)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ایک لشکرکاسپہ سالار حضرت طریفہ بن حاجز رضی اﷲ عنہ کو بنایااور اُن کو حکم دیا کہ وہ بنو سلیم اور ان کے ساتھی بنو ہوازن کے مقابلے پر جائیں۔(۰۱)ایک لشکر کا سپہ سالارحضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو بنایااور اُن کو حکم دیا کہ وہ یمن کے علاقہ تہامہ کی طرف جائیں۔ (۱۱) ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت علاءالحضرمی رضی اﷲ عنہ کو بنایااور بحرین کی طرف جانے کا حکم دیا ۔یہ تمام سپہ سالاراپنے اپنے لشکر کے ساتھ ذی القصہ سے اپنی اپنی سمت روانہ ہوئے۔(تاریخ طبری)


سپہ سالاروں کے نام خط


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام سپہ سالاروں کو ایک ایک خط دیا،سب کا مضمون حسب ذیل تھا۔”یہ فرمان ابو بکر صدیق خلیفہ رسول (رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ)کی طرف سے فلاں شخص(سپہ سالار) کے لئے لکھا گیا ہے۔جب انہوں نے اُسے مسلمانوں کی فوج کے ساتھ مُرتدین سے لڑنے کے لئے روانہ کیا۔میں نے اِ ن سپہ سالاروں کو اِس شرط پر یہ منصب دیا کہ وہ دل میں اور علانیہ جہاں تک ہو سکے ،ا ﷲ کے معاملے میں ڈرتے رہیںگے اور مرتدین کے مقابلے میں خلوص نیت کے ساتھ پوری سعی کریں گے اور اُن سے اﷲ کے لئے لڑیں گے۔ہاں مگر اِس سے پہلے وہ اُن کو اپنی اصلاح کا موقع دیں گے اور اسلام کی دعوت دیں گے تاکہ اگر وہ اسے قبول کریں تو اُن سے کوئی تعارض نہیں کیا جائے اور اگر انکار کر دیں تو فوراً اُن سے جنگ کی جائے۔یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلیں،تب اُن کو اُن کے حقوق و فرائض بتائے جائیںاور جو اُن پر واجب الادا ہو ،وہ وصول کیا جائے اور جس کے وہ مستحق ہوںوہ اُن کو دیا جائے۔اِس معاملے میں اُن کو ہر گز مہلت نہ دی جائے اور جب تک یہ اغراض حاصل نہ ہو جائیں تب تک مسلمانوں کو جہاد سے واپس نہ لایا جائے۔جو شخص اﷲکی بات تسلیم کر کے اُس کا اقرار کر لے،اُس کے ایمان کو قبول کر کے تپاک کے ساتھ دین پر قیام کے لئے اُس کی مدد کی جائے۔اور اُن لوگوں سے بھی جہاد کیا جائے جو ایک طرف اﷲ کے پیغام کا اقرار کرتے ہیں اور پھر اﷲ کے حکم سے انکار کرتے ہیں۔البتہ اگر وہ ہماری دعوت قبول کرلیں تو اُن سے کوئی تعارض نہیں کیا جائے ۔اگر انہوں نے نفاق سے کام لیا ہو گاتوایسی صورت میں اﷲ تعالیٰ آخرت میں اُن سے حساب لے گا۔اگراﷲ تعالیٰ فتح عطا فرمائے توجو مال غنیمت دستیاب ہو تواُس میں سے پانچواں حصہ الگ کر کے باقی مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے اور پانچواں حصہ ہمیں بھیج دیا جائے۔سپہ سالار کو چاہیئے کہ وہ اپنے سپاہیوں کو جلد بازی اور فساد سے روکے اور اِن میں غیر آدمی کو اُس وقت تک شامل نہ ہونے دے،جب تک کہ اُس کے بارے میں تحقیق کر کے اطمینان نہ کر لے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دشمن کا جاسوس ہو اور اس طرح بے خبری میں مسلمانوں پر کوئی حملہ ہو جائے۔سفر اور قیام میں مسلمانوں کے ساتھ نرمی اور میانہ روی اختیار کرے اور اُن کی خبر گیری کرتا رہے اور مسلمانوں کے ساتھ برتاو¿ اور گفتار میں ہمیشہ خوش خلقی اور ملائم لہجہ اختیار کرے۔“ (تاریخ طبری)


طلیحہ کا لشکر جمع کرنا


   ادھر مدینہ منورہ میں ہنگامی حالات چل رہے تھے،اور اُدھر جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والا طلیحہ لشکر جمع کر رہا تھا اور اس کے لئے اُس نے اپنے آس پاس کے قبائل کو بھی اپنے لشکر میں شامل ہونے کی دعوت دی۔جسے قبول کر کے قبیلہ بنو عبس،قبیلہ بنو ذیبان،اور اُن کے ما تحت قبائل آکر اُس کے لشکر میں شامل ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ جب بنو عبس،بنو ذیبان اور ان کے توابع بزاخہ میں جمع ہو گئے ۔ تب طلیحہ نے بنو جدیلہ اور بنو غوث کو کہلا بھیجا کہ تم میرے پاس آجاو¿۔ان قبائل کے کچھ لوگ تو فوراً ہی اُس کے پاس پہنچ گئے اور اپنی قوم والوں کو ہدایت دی کہ تم بھی ہم سے آ ملو اور وہ سب کے سب طلیحہ کے ساتھ ہو گئے۔(تاریخ طبری)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔طلیحہ بن خویلد اسدی اپنی قوم بنو اسد اور بنو غطفان میں تھا۔اور بنو عبس اور بنو ذیبان اُس کے ساتھ شامل ہو چکے تھے۔ حاتم طائی کے قبیلہ بنو طے،بنو غوث،اور بنو جدیلہ کو بھی طلیحہ نے اپنے لشکر میں شامل ہو نے کے لئے بلایا،تو انہوں نے اپنے جوانوں کو اُس کے لشکر میں شامل ہونے کے لئے بھیج دیا۔


حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ کی کامیابی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو روانہ کر نے سے پہلے حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ (حا تم طائی کے بیٹے)کو اُن کے قبیلے بنو طے میں انہیں سمجھانے کے لئے بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔قبل اس کے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ،حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو روانہ کریں۔انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ سے فرمایا کہ تم فوراً اپنی قوم کے پاس جاو¿۔ایسا نہ ہو کہ اِس ہنگامے میں وہ برباد ہو جائیں۔حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ڈروہ اور غارب میں انہوں نے اُن کو روک لیا۔اُن کے بعد ہی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ روانہ ہوئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انہیں حکم دیا تھا کہ پہلے وہ اکناف پر بنو طے سے شروع کریں،اور پھر بزاخہ کا رُخ کریںاور وہاں سے آخر میں بطاخ کی طرف جائیںاور جب وہ دشمن سے فارغ ہو جائیں،تو جب تک کہ نئے احکام موصول نہ ہوں وہ ان کا قصد نہ کریں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر روانہ ہوئے اور بزاخہ سے انہوں نے کنائی کاٹ کر آجا کا رُخ کیااور یہ ظاہر کیا کہ اب تو وہ خیبر جا رہے ہیں ،پھر وہاں سے اُن کے مقابلے پر پلٹیں گے۔اس خیال سے بنو طے اپنی جگہ بیٹھے رہے اور طلیحہ کے پاس نہیں گئے۔حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔انہوں نے کہا ؛”ہم ابو الفصیل کی کبھی بیعت نہیں کریں گے۔“حضرت عدی بن حاتم نے فرمایا:”تمہارے مقابلے پر ایسی فوج آرہی ہے کہ تمہارا گھر بار لوٹ کر برباد کر دے گی اور اُس وقت تم حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو” ابوالفحل الاکبر “کی کنیت سے یاد کرو گے۔میری بات نہیں مانتے تو تم جانو ،تم ہی اُس شخص سے نپٹ لینا۔“بنو طے کے لوگوں نے کہا ؛”اچھا تم اُس حملہ آور فوج سے جا کر ملواور اُسے ہم پر یورش کرنے سے روکو تاکہ اِس دوران میں ہم اپنے ان ہم قوم لوگوں کو جو بزاخہ میں ہیں واپس بلا لیں۔ یہ بات اِس لئے ضروری ہے کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اب جبکہ ہمارے لوگ طلیحہ کے ہاتھ میں ہیں ، اگر ہم نے ابھی طلیحہ کی مخالفت کا اعلان کر دیا تو وہ یا تو اُن سب کو قتل کردے گایا اُن کو یر غمال کی حیثیت سے قید میں رکھے گا۔


قبیلہ بنو طے کی اسلام میں واپسی


   حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ وہاں سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے۔جو اُس وقت تک لشکر لیکر ”مقام سخ“تک آچکے تھے۔انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”مہر بانی فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ مجھے تین دن کی مہلت دیںاور میری قوم کے خلاف کاروائی شروع نہ کریں۔مجھے اُمید ہے کہ قبیلہ بنو طے کے پانچ سو جنگجو تمھارے ساتھ ہو جائیں گے،جن کے ساتھ تم دشمن کا مقابلہ کرنا اور یہ بات اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں جہنم واصل کر دو اور اِس کے لئے اُن سے جنگ کرو۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُن کی تجویز مان لی۔حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔وہ لوگ پہلے ہی اپنی قوم کے لوگوں کو واپس بلانے کے لئے اپنے آدمی بھیج چکے تھے۔اُن لوگوں نے طلیحہ سے کہا کہ مسلمانوں کا لشکر ہو سکتا ہے ہم پر حملہ کردے ،اُن سے مقابلے کے لئے ہمارا اپنے قبیلے میں رہنا ضروری ہے۔اس طرح سب لوگ واپس آ گئے۔اگر یہ ترکیب نہ لگاتے تو مُرتدین انہیں واپس نہیں آنے دیتے۔اُن سب کو مسلمان بنا کر حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آ کر اُن کے اسلام میں واپس آنے کی اطلاع دی۔


بنو غوث اور بنو جدیلہ کی اسلام میں واپسی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جب قبیلہ بنو طے کے اسلام کی خبر سنی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے بنو جدیلہ سے مقابلے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔یہ دیکھ کر حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ نے جلدی سے کہا:”بنو طے کی مثال ایک پرندے کے جیسی ہے ،جس کے ایک بازو میں بنو جدیلہ رہتے ہیںاور دوسرے بازو میں بنو غوث رہتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ مجھے چند روز کی مہلت دیں،شاید اﷲ تعالیٰ انہیں بھی گمراہی سے نکال لے ،جیسے بنو غوث کو نکالا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مسکرانے لگے اور تین دن کی مہلت دے دی۔حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ بنو جدیلہ کے پاس آئے اور انہیں سمجھاتے رہے۔انہوں نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کی بات نہیں مانی لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا اور مسلسل سمجھاتے رہے۔آخر کار بات اُن کی سمجھ میں آگئی اور انہوں نے اسلام میں واپسی کی اور ایک ہزار شترسوار(اونٹ سوار)جنگجو دیئے۔حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ انہیں لیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور اُن کے اسلام لانے کی بشارت دی اور ایک ہزار شتر سوار جنگجو اسلامی لشکر کے لئے پیش کئے، جبکہ پانچ سو جنگجو بنو طے سے بھی لائے تھے۔ اس طرح حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ سے زیادہ با برکت اور موجب سعادت شخص بنو طے میں دوسرا پیدا نہیں ہوا۔


طلیحہ اسدی کا دعویٰ 


   رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ ¿ مبارک میں ہی طلیحہ بن خویلد اسدی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں طلیحہ اسدی مُرتد ہو کر سمیرا میں آکر مقیم ہو گیا تھا۔یہ کاہن تھا،اس نے دعوائے نبوت کیا تھااور بنی اسرائیل کے چند فرقے اس کے مطیع ہو گئے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کی سرکوبی کرنے کے لئے حضرت ضرار بن الازور رضی اﷲ عنہ کی سر کر دگی میں چند مسلمانوں کو روانہ فرمایا تھا۔ابھی طلیحہ کی سرکوبی نہیں ہونے پائی تھی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر مشہور ہو گئی۔جس سے طلیحہ کے کاموں میں ایک گونہ استحکام پیدا ہوااور بنو غطفان و بنو ہوازن اس کے حامی ہو گئے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی طلیحہ اسدی مُرتد ہو گیا تھا اور جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو عیینہ بن حصن ،بدر سے اُس کی مدد کو کھڑا ہو گیا اور اسلام سے مُرتد ہو گیا۔اُس نے اپنی قوم سے کہا:”ا ﷲ کی قسم ! بنو ہاشم کے نبی کی نسبت مجھے بنو اسد کا نبی زیادہ محبوب ہے۔محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کا وصال ہو گیا ہے اور یہ طلیحہ ہے ،اس کی اتباع کرو اور اُسکی قوم بنو فزارہ نے اُس کی بات سے اتفاق کیا۔


طلیحہ کی شکست


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ کے انتظار میں تھے تو اسی دوران گشتی دستے لشکر کے آس پاس گشت کرتے رہتے تھے۔ایسے ہی ایک گشت کے دوران حضرت ثابت بن اقرم رضی اﷲ عنہ اور حضرت عکاشہ بن محصن رضی اﷲ عنہ کا سامناطلیحہ اسدی اور اُسکے بھائی مسلمہ اسدی سے ہو گیاجو اتفاق سے وہ بھی گشت پر نکلے تھے۔فریقین میں زبردست مقابلہ ہوا اور حضرت عکاشہ بن محصن اور حضرت ثابت بن اقرم رضی اﷲ عنہم شہید ہو گئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو دونوں کی شہادت کی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر طلیحہ اسدی کے مقابلے پرآئے اور بزاخہ میں اُس کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔آس پاس کے اعرابی قبائل بھی جمع ہوگئے لیکن وہ جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور دور کھڑے دیکھ رہے تھے کہ کس کی فتح ہوتی ہے اور کس کی شکست؟طلیحہ اسدی اپنے قبیلہ اور دوسرے کئی قبائل کا لشکر لیکر میدان میں آیا۔اُس میں عیینہ بن حصن بھی بنو فزارہ کے سات سو جنگجوو¿ں کے ساتھ تھا۔ طلیحہ نے عیینہ کو سپہ سالار بنایااور جب جنگ شروع ہوئی تو اُس نے عیینہ سے کہا کہ تم جنگ لڑو ،میں اپنے خیمے میں وحی کا انتظار کرتا ہوںاور اپنے خیمے میں آکر چادر اوڑھ کر بیٹھ گیا۔عیینہ جنگ لڑتا رہااور اس کے لشکر کے سپاہی مرتے جارہے تھے۔وہ جلدی سے آیا اور طلیحہ سے پوچھا کہ کیا جبرئیل تمہارے پاس آیا ؟طلیحہ نے جواب دیا ؛”نہیں! تم ابھی جنگ پر توجہ دو۔“عیینہ چلا گیا لیکن ہر محاذپر اس کا لشکر مات کھا رہا تھا۔کچھ دیر بعد آکر اُس نے پر پوچھا تو جواب نہیں میں تھا۔تیسری مرتبہ آکر اُس نے پوچھا تو طلیحہ نے کہا ؛”یہ وحی آئی ہے کہ تیرے پاس بھی ویسی ہی چکی ہے جیسی مسلمانوں کے پاس ہے۔تیرا ذکر بھی ایسا ہے جسے تُو کبھی نہیں بھولے گا۔“عیینہ نے یہ بے تکے الفاظ سنے تو غصہ سے بے قابو ہو گیا اور بولا؛”بے شک اﷲ کو معلوم ہے کہ عنقریب ایسے واقعات پیش آئیں گے کہ تُو کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔“تاریخ ابن خلدون میں یہ الفاظ ہیں۔طلیحہ نے کہا:”جبرئیل مجھ سے کہہ گیا ہے کہ تیرے لئے جو قسمت میں لکھا ہے ،وہی ہو گا۔“یہ سُن کر عیینہ نے کہا :”اے بنو فزارہ !یہ شخص کذاب(جھوٹا) ہے۔“ اور اس کے بعدبنو فزارہ سے کہا کہ واپس چلو۔یہ سنتے ہی بنو فزارہ نے راہِ فرار اختیار کی ۔مسلمانوں نے اُن کا پیچھا کر کے گرفتارکرنا شروع کر دیا،عیینہ اور اُس کے بہت سے ساتھی گرفتار ہو ئے۔ادھر بنو فزارہ کے فرار کے بعد بقیہ لشکر طلیحہ کے گِرد جمع ہو گیااور پوچھا کہ اگلا حکم کیا ہے؟تو طلیحہ اسدی نے کہا کہ اپنی اپنی جان بچا کر بھاگواور اپنی بیوی کو لیکر گھوڑے پر سوار ہو کر ملک شام کی طرف بھاگ گیا۔مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور طلیحہ کی جھوٹی نبوت کا طلسم ٹوٹ گیا۔یہ دیکھکر اُس کے ساتھیوں نے ہتھیار رکھ دیئے اور اسلام قبول کر لیا۔گرفتار شدہ لوگوں کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مدینہ منورہ بھیج دیا۔جہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انہیں سمجھایا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں رہا کردیا۔ادھر ملک شام میں جب طلیحہ کو معلوم ہوا کہ اُس کے ساتھیوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ،تو وہ بھی مسلمان ہو گیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

05 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


05 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 5


چھ قبیلوں کی اسلام میں واپسی، خلیفۂ اوّل کا خط، خلیفۂ اوّل  کا وظیفہ، اُم رمل یا زمل سلمیٰ بنت حاکم کا لشکر جمع کرنا، شمالی مشرقی عرب سے ارتداد کا خاتمہ، دھوکے باز ی اور غداری کی سزا، خلیفہ بننے کے بعد معمولات، مسیلمہ کذاب کی گستاخی، مسیلمہ کذاب کا جھوٹی نبوت کاجھوٹا دعویٰ


چھ قبیلوں کی اسلام میں واپسی


   حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ اور طلیحہ کی جنگ کے نتیجے کے منتظر تھے اور جنگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔اِن میں بنو عامر،بنو سلیم اور دوسرے چار قبائل تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے طلیحہ اور بنو فزارہ کو بُری طرح شکست دی، تو اِن دونوں قبیلوں اور چھ اور قبیلوں نے خود سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضری دی اور کہنے لگے کہ ہم نے جس دین کو چھوڑا ہے ،اُس میں پھر سے داخل ہوتے ہیں اور ہم ا ﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی جان اور مال کے متعلق اﷲ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔حضرت خالد بن ولیدرضی اﷲ عنہ نے اُن کی بات کو قبول کیا اور معاف کردیا۔اِن میں سے بہت سے جنگجو آپ رضی ا ﷲ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔قبیلہ بنو طے ،بنو غوث اور بنو جدیلہ کے لگ بھگ دوہزار جنگجوحضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ کی کوششوں سے پہلے ہی بغیر جنگ کے لشکر میں شامل ہو چکے تھے۔اس طرح آپ رضی اﷲ عنہ جو لشکر لیکر مدینہ منورہ سے چلے تھے،اُس میں کئی ہزار جنگجوو¿ں کا اضافہ ہو گیااور لشکر کافی بڑا ہو گیا۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے لگ بھگ ایک مہینہ بزاخہ میں قیام کیا اور آس پاس کے مُرتدین کا چن چن کر قتل کرتے رہے۔یہ آپ رضی اﷲ عنہ نے اس لئے کیا تاکہ دوسرے مُرتدین پر مسلمانوں کی ہیبت طاری ہو جائے۔


خلیفۂ اوّل  کا خط


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اس کے بعد تمام قیدیوں کو مدینہ منورہ خلیفہ اول کی خدمت میں روانہ کیا اور ساتھ ہی ایک خط بھی روانہ کیا۔ اس میں لکھا کہ” اﷲ تعالیٰ نے طلیحہ کے مقابلے میں مسلمانوں فتح عطا فرمائی ہے اور بنو عامر اور کئی قبائل نے اسلام سے رو گردانی اور انتظار کے بعد خود حاضر ہو کر اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔جن قبائل سے میری جنگ ہوئی یا جن قبائل نے بغیر جنگ کے اسلام قبول کر لیا ہے۔اُن سب پر میں نے یہ شرط لازم کر دی ہے کہ وہ اُن تمام لوگوں کو جنہوں نے ارتداد کے زمانے میں مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے تھے،جب تک انہیں میرے حوالے نہیں کریں گے تب تک میں اُن سے مصالحت نہیں کرو ں گا۔انہوں نے میری شرط مان لی ہے اور ایسے تمام مجرموں کو میرے حوالے کر دیا ہے۔میںنے اُن کو طر ح طرح کے عذاب دے کر قتل کیا ہے تاکہ پھر کوئی شخص مسلمانوں پر ظلم کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔البتہ قیدیوں کو آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔“حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے جواب میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا کہ”جو کچھ تم نے کیا اور جو کامیابی تم کو حاصل ہوئی ،اﷲ تعالیٰ تم کو اس کی جزائے خیر عطا فرمائے ۔ تم ہر کام میں اﷲ سے ڈرتے رہوکیونکہ اﷲ اُن کے ساتھ ہے جو اُس سے ڈرتے اور نیکی کرتے رہتے ہیں۔تم اﷲ کے اِس کام میں پوری جد و جہد کرواور تساہلی نہیں کرنااور جس کسی ایسے شخص پر جس نے مسلمانوں کو قتل کیا ہوتمہارا قابو چل جائے تو اُسے بے دریغ قتل کر کے دوسروں کے لئے باعث عبرت بنانااور جس شخص نے اﷲ کی مخالفت کی ہواور تم اسے قتل کردینے میں اسلام کی بھلائی سمجھتے ہو تو بے دریغ قتل کر دینا۔“(تاریخ طبری)


خلیفۂ اوّل  کا وظیفہ


   حضرت ابو بکرصدیق رضی اﷲ عنہ کو جب خلیفہ بنایا گیا تو لو گوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”یا خلفیة اﷲ“کہہ کر پکارا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:میں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوں،یعنی ”خلیفة الرسول“اور یہی مجھے پسند ہے۔“(مسند احمد،تاریخ الخلفائ)خلیفہ بننے کے دوسرے روز حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کچھ چادریں لیکر تجارت کی غرض سے بازار جا رہے تھے ،کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مل گئے، اور عرض کیا:آپ رضی اﷲ عنہ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟“انہوں نے فرمایا:”میں اپنے اہل و عیال کے لئے حلال رزق کمانے جارہا ہوں۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اب آپ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے خلیفہ ہو گئے ہیںاس لئے یہ کام چھوڑ دیں۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”اگر میں یہ کام چھوڑ دوں تو میرے اہل و عیال کہاں سے کھائیں اور پہنیں گے؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”آپ رضی ا ﷲ عنہ واپس چلیئے اور پھر انہیں لیکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا کہ ایک اوسط درجے کے مہاجر کی خوراک کا اندازہ کر کے ، روزآنہ کی خوراک اور موسم سرما اور موسم گرما کا لباس اِن کے لئے (بیت المال) سے مہیا کریںلیکن اِس طرح کہ جب وہ پھٹ جائے تو اُسے واپس لیکر ہی نیا اُس کے عوض میں دیں۔اِن حضرات رضی اﷲ عنہم نے اُن کے لئے آدھی بکری کا گوشت ،تن ڈھانکنے کے لائق کپڑا اور پیٹ بھر روٹی مقرر کر دی۔امام محمد بن سعد لکھتے ہیں۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ کا سالانہ یومیہ وظیفہ سال کا دوہزار درہم مقرر ہوا۔(روزآنہ لگ بھگ ساڑھے پانچ درہم)اس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میرے گھر کے لوگ زیادہ ہیں،اتنے وظیفہ میں گزر اوقات نہیں ہو سکتی اور تم نے مجھ پر خلافت کا بوجھ ڈال کر تجارت کرنے سے بھی روک دیا ہے۔لہٰذا اِس میں کچھ اضافہ کرنا چاہیئے ۔“آپ رضی اﷲ عنہ کی اِس درخواست پر پانچ سودرہم (روزآنہ لگ بھگ سات درہم)سالانہ کا اضافہ کر دیا گیا۔(طبقات ابن سعد،تاریخ الخلفائ)


اُم رمل یا زمل سلمیٰ بنت حاکم کا لشکر جمع کرنا


   حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے بزاخہ میں مُرتدین کو شکست دی۔اُن میں سے بہت سے لوگ فرار ہو کر حواب میں جا کر جمع ہو گئے۔یہاں پر ایک عورت اُم رمل یا اُم زمل(تاریخ طبری میں اُم رمل ہے،اور تاریخ ابن کثیر میں اُم زمل ہے)سلمیٰ بنت مالک رہتی تھی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اس کے بعد قبائل بنو غطفان اور بنو سلیم وغیرہ کے بقیہ لوگ سلمیٰ بنت مالک کے پاس حواب میں جا کر جمع ہو گئے،اور اُسے اپنا پیشوا بنا لیا ۔یہ سلمیٰ وہی ہے جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں قید ہو کر آئی تھی۔اتفاق سے اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا سے ملاقات ہوئی تو آپ رضی اﷲ عنہا نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کر کے آزاد کرادیا تھا۔اس کے بعد یہ اپنی قوم میں لوٹ آئی تو مُرتد ہو گئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔غرض یہ کہ یہ تمام مفرور لوگ سلمیٰ بنت مالک کے پاس جو عزت میں اُن کی ماں کے جیسی تھی جمع ہوگئے،اُس کے پاس اس کی ماں اُم فرقہ کا اونٹ تھا۔جب تمام بھگوڑے اُس کے پاس جمع ہوئے تو اُس نے ان لوگوں کو انکی شکست پر غیرت دلائی اور جنگ کرنے کی تیاری کرنے کا حکم دیا۔اس کے بعد اُس نے خود بھی قبیلوں کا دورہ کیا اور قبائل میں گھو م گھوم کر اُن کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اُکسایا۔اس طرح اُس کے پاس ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا۔اُس نے لوگوں کو جمع کرنے کے لئے حواب سے بنو ظفر تک کے کئی چکر لگائے اور قبیلہ بنو غطفان،قبیلہ، بنو ہوازن،قبیلہ بنو سلیم ،قبہلہ بنو اسد اور قبیلہ بنو طے کے وہ تمام لوگ جو جنگ سے فرار ہو کر بے یار و مدد گار مصیبت کے دن بسر کر رہے تھے،اُس کے پاس ایک اور کوشش کے لئے جمع ہو گئے۔یہ تمام کاروائی اُس نے حضرت خالد بن ولید کے بزاخہ میں ایک مہینے کے قیام کے دوران مکمل کی۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔سلمیٰ بنت مالک اپنی ماں اُم فرقہ کی طرح سیدات العرب میں سے تھی اور کثرت ِاولاد اور قبیلے اور گھرانے کی عزت کی وجہ سے اُس کی ما ںکی مثال بیان کی جاتی تھی۔جب وہ اکٹھے ہو کر اُس کے پاس گئے تو اُس نے انہیں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خلاف جنگ کے لئے اُکسایا۔


شمالی مشرقی عرب سے ارتداد کا خاتمہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بزاخہ میں قیام پذیر تھے اور آس پاس کے حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے جاسوس سلمیٰ اور اُس کے لشکر کے بارے میں ایک ایک رپورٹ دے رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اس کی اطلاع ملی،اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ مجرموں کی گرفتاری،زکوٰة کی وصولی،دعوت اسلام اور لوگوں کی تسکین میں منہمک تھے۔اس کے بعد اس عورت کے مقابلے کے لئے آگے بڑھے تب تک اُس کی شان و شوکت اور طاقت بہت بڑھ چکی تھی اور اُس کا مقابلہ آسان نہیں تھا۔دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا ،سلمیٰ خود اپنے اونٹ پر سوار میدان جنگ میں موجود تھی جسکی وجہ سے اُس کے سپاہیوں کا حوصلہ بہت بلند تھا اور بہت خوںریز جنگ ہو رہی تھی۔مسلمان بھر پور کوشش کر رہے تھے کہ اُس کے اونٹ تک پہنچ جائیں لیکن اُس کے اونٹ تک پہنچنا بہت مشکل ہورہا تھا۔آخر کار حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ ملکر اتنا شدید حملہ کیا کہ اُس کے گرد کا حفاظتی گھیرا ٹوٹ گیا اور بہت سے مُرتدوں کو قتل کرنے کے بعد مسلمان اُس کے اونٹ تک پہنچ گئے اور اُسے ذبح کر ڈالااور سلمیٰ کا قتل کردیا۔اُسکے قتل ہوتے ہی اُس کے حامیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گئی اور دشمنوں کو کامل شکست ہو گئی۔اس طر ح شمال مشرقی عرب سے ارتداد کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔حضرت خالد بن ولیدرضی اﷲ عنہ نے اِس فتح کی خوش خبری مدینہ منورہ بھیجی۔


دھوکے باز ی اور غداری کی سزا


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بزاخہ اور حواب میں مصروف تھے۔اِسی دوران مدینہ منورہ میں حضرت ابو بکرصدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس بنو سُلیم کا ایک شخص فجاہ¿ ایاس بن عبداﷲ بن عبد یالیل آیا اور بولا:”میں مسلمان ہوں اور مُرتدوں سے جہاد کرنا چاہتا ہوں۔آپ رضی اﷲ عنہ سواری اور اسلحہ سے میری مدد کریںاور فوج دیں۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اسے سواری ،اسلحہ اور فوج دی۔وہ مدینہ منورہ سے نکل کر جون یا جواءکے مقام پر پہنچا اور بنو شرید کے نجبة بن ابی المثنیٰ مُرتد سے مل گیااور یہ دونوں مسلمانوں پر شب خون مارنے لگے۔یہ وہاں سے چلکر مفصلات میں آیااور وہاں ہر آنے جانے مسلمان اور مُرتد سے زبردستی مال وصول کرنے لگا اور جو اُسے مال نہیں دیتا تھا تو وہ چاہے مسلمان ہو یا مُرتد اُسے یہ قتل کر دیتا تھا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اسکی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت طریقہ بن حاجز کو خط لکھا کہ اﷲ کے دشمن فجاہ نے دھوکہ بازی کی اور جھوٹ بول کر مسلمانوں کا اسلحہ اور سواریاں لیںاور مسلمانوںکو ہی قتل کررہا ہے۔اس کے ساتھ بنوشرید کا نجبة بن ابی المثنیٰ ہے۔تم اپنے ساتھ مسلمانوں کو لیکر جاو¿ اور اس اﷲ کے دشمن کو قتل کردو یا پھر زندہ گرفتار کر کے میرے پاس بھیج دو۔حضرت طریقہ بن حاجز مسلمانوں کو لیکر اُس کے مقابلے پر گئے ۔دونوں لشکروں میں پہلے تیراندازی کا مقابلہ ہوا،مسلمانوں نے بہت زبردست تیر اندازی کی اور تیروں کی اتنی زبر دست بارش کی کہ پہلے ہی ہلے میں نجبة کو تیر لگا اور وہ ہلاک ہو گیا۔فجاہ نے مسلمانوں کی شجاعت ،سعی اور ثابت قدمی دیکھی تو وہ سہم گیا ۔پھر بھی اُس نے کہا۔اِس کام کے تم مجھ سے زیادہ حقدار نہیں ہو کیونکہ مجھے بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے امیر مقرر کیا ہے اور تمہیں بھی۔حضرت طریقہ بن حاجز نے فرمایاکہ اگر تو سچا ہے تو ہتھیار رکھ دے اور میرے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چل۔اس طر ح حضرت طریقہ بن حاجز اُسے لیکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت طریقہ بن حاجز سے فرمایا کی اسے البقیع میں لے جاو¿ ،اور آگ میں جلا دو۔حضرت طریقہ اُسے عید گاہ لائے ،آگ جلوائی اور اِس میں اُسے زندہ جلا دیا۔تاریخ طبری میں ہے کہ حضرت طریقہ نے اُسے جلایااور تاریخ ابن خلدون اور تاریخ ابن کثیر میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُسے جلایااور اﷲ تعالیٰ ،اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے دھوکہ اور غداری کی سزا دی تاکہ یہ واقعہ بقیہ لوگوں کے لئے عبرت ثابت ہو۔


خلیفہ بننے کے بعد معمولات


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے جو معمولات پہلے تھے ،خلیفہ بننے کے بعد بھی وہی معمولات رہے اور خلافت کی بھاری ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ ساتھ آپ رضی اﷲ عنہ نے گھریلو اور معاشرتی ذمہ داریوں کو اُسی طرح نبھایا ،جیسے پہلے نبھاتے تھے۔امام محمد بن سعد لکھتے ہیں۔بیعت کے بعد بھی چھ مہینے تک حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ وہیں ”مقام سخ“(یہاں حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کی بیوی رہتی تھی اور یہ مقام مدینہ منورہ سے ایک کوس کے فاصلے پر ہے)میں مقیم رہے۔صبح کو کبھی کبھی پیدل مدینہ منورہ آتے اور اکثر گھوڑے پر سوار ہو کر آتے تھے۔ جسم پر تہبند اور چادرہوتی تھی،جو گیرو میں رنگی ہوتی تھی۔وہ مدینہ منورہ میں رہتے اور (خلافت کے اُمور نبٹانے کے ساتھ ساتھ)سب نمازیں لوگوں کو پڑھاتے جب (پانچوں وقت کی)نماز پڑھا کر فارغ ہو جاتے تو اپنے گھر والوں کے پاس ”سخ“واپس آجاتے۔ اگر کسی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ نماز کے وقت نہیں پہنچ پاتے تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔جمعہ کے روز دِن نکلنے تک ”سخ“میں ہی رہتے اور اپنے سر اور داڑھی کے بالوں کو مہندی (کے خضاب)میں رنگتے تھے۔اپنی بکریوں کی دیکھ بھال کرتے ،انہیں چارا دیتے اور اُن کے دودھ دُوہتے تھے۔خلیفہ بننے کے بعد محلے (یا قبیلے)کی ایک لڑکی نے کہا کہ اب ہمارے گھر کی اُونٹنیاںنہیں دوہی جائیں گی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جب یہ سُنا تو مسکراتے ہوئے فرمایا:”کیوں نہیں!میں تمہارے لئے ضرور دُوہوں گااور مجھے اُمید ہے کہ جس چیز کو(خلافت کو) میںنے اختیار کیا ہے ،وہ مجھے اِس عادت سے نہیں روکے گی جس پر میں تھا۔“اکثر وہ اپنے محلے یا قبیلے کی لڑکیوں سے فرماتے کہ اے لڑکی !تُو کیا چاہتی ہے کہ میں تیرے دودھ میں پھین اُٹھا دوں یا اُسے بغیر پھین کے رہنے دوں۔جو وہ کہتی تھی آپ رضی اﷲ عنہ ویسا ہی کر دیتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ لگ بھگ چھ مہینے تک”سخ“میں رہے،اس کے بعد مدینہ منورہ میں آکر مقیم ہو گئے۔


مسیلمہ کذاب کی گستاخی


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیاتھا۔اسود عنسی کے قتل کی خبر خود آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے دی تھی لیکن مسیلمہ کذاب بدستور اپنی طاقت بڑھاتا رہا۔اسی دوران آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور اس کے بعد طلیحہ ،سلمیٰ اورسجاح نے بھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیاتھا۔طلیحہ اور سلمیٰ کا انجام تو اوپر ذکر ہو چکا ہے اور سجاح کا ذکر ہم آگے کریں گے لیکن اُس سے پہلے مسیلمہ کذاب کے بارے میں بتا دیں ،تا کہ تسلسل قائم رہے۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کا وفد ۹ ھجری میں حاضر ہوا ۔اِس وفد میں مشہور چالاک ،فتنہ باز مُسیلمہ کِذّاب(جھوٹا )بھی تھا۔وفد کے تمام ارکان آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے لیکن وہ بد بخت کذاب گھمنڈ اور تکبر کی وجہ سے نہیں آیااور اونٹوں کے پاس ہی بیٹھا رہا۔آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کو جب اس بد بخت کے بارے میں معلوم ہوا تو اُس کی دلجوئی کے خیال سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے پاس تشریف لے گئے۔ساتھ میں حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔اُس بد بخت جھوٹے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ اگر آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم ) مجھ کو اپنی خلافت عطا فرمائیںاور اپنے بعد مجھ کو اپنا قائم مقام مقرر کریں تو میں بیعت کرنے کو تیار ہوں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک میں اُس وقت کھجور کی چھڑی تھی۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”اگر تُو یہ چھڑی بھی مانگے گا تو میں نہیں دوں گااور اﷲ تعالیٰ نے تیرے لئے جتنا مقدر فرما دیا ہے،اُتنا ہی ملے گا اور غالباًتُو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھااور یہ ثابت بن قیس رضی اﷲ عنہ تیری بات کا جواب دیں گے۔اتنا فرما کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔(فتح الباری،المواہب الدنیا)


دو کذابوں(جھوٹوں) کے بارے میں خواب 


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اُس جھوٹے بد بخت کے پاس سے تشریف لے آئے۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:”میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا:” رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کو کون سا خواب دکھلایا گیا تھا؟“اُنہوں نے فرمایا:”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں نے خواب دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن لا کر رکھے گئے جس سے میں گھبرا گیا۔خواب میں ہی مجھے کہا گیا کہ اِن پر پھونک مارو،میں نے پھونک ماری تو وہ فوراً اُڑ گئے۔جس کی تعبیر یہ ہے کہ دو کذاب(جھوٹے )ظاہر ہوں گے۔“حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں:”اِن دو کذابوں میں سے ایک کذاب مسیلمہ ہوا اور دوسرا کذاب اسود عنسی ہوا۔اسود عنسی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی قتل ہوا(آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس کے قتل کی خبر دے دی تھی،لیکن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے خلیفہ بننے کے چند دنوں بعد یمن سے قاصد نے آکر اُس کے قتل کی خبر دی اورقتل کی وہی تاریخ بتائی،جس تاریخ کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس کے قتل کا اعلان فرمایا تھا۔)اوربد بخت مسیلمہ کذاب خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے جنگ کرتے ہوئے قتل ہوا۔(فتح الباری ،المواہب الدنیا)


مسیلمہ کذاب کا جھوٹی نبوت کاجھوٹا دعویٰ


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ سے جب بنو حنیفہ کا وفد یمامہ واپس گیا تو بد بخت مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کردیا۔امام عبد الملک بن ہشام لکھتے ہیں۔یہاں سے واپس جانے کے بعد (یمامہ میں ) مسیلمہ نے جھوٹی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیااور اپنے قبیلے کے لوگوں سے یہ جھوٹ بولا کہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ کو (نبوت میں ) اپنا شریک بنا لیا ہے(سیرت النبی)اس کے بعد بد بخت مسیلمہ کذاب نے ۰۱ ھجری کے آخری مہینے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کے پاس ایک خط بھیجا۔ جس میں لکھا تھا۔مسیلمہ(نعوذباﷲ )اﷲ کے رسول کی طرف سے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف! پس میں تمہارے کام (نبوت) میں شریک کر دیا گیا ہوں۔اس لئے آدھی زمین ہمارے لئے ہے اور آدھی زمین قریش کے لئے ہے مگر قریش انصاف نہیں کرتے ہیں۔والسلام۔اُس بد بخت جھوٹے کے خط کے جواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ خط لکھوا کر بھیجا۔”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم،محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ کذاب (جھوٹے) کی طرف! سلام ہو اُس پر جو ہدایت (اسلام) کی اتباع کرے،بے شک زمین اﷲ تعالیٰ کی ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے عطا فرما تا ہے اور اچھا انجام اﷲ سے ڈرنے والوں کا ہے۔“یہ واقعہ ”حجة الوداع“سے واپسی کے بعد کا ہے۔(تاریخ ابن اثیر)علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ رجال بن عنقوہ(اِس کا نام نہار تھا،اوریہ بنو حنیفہ کے بڑے لوگوں میں سے تھا)نے مسیلمہ کذاب کی نبوت کی شہادت دی اور یمامہ کے لوگوں سے کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے(نعوذ باﷲ )مسیلمہ کو حکومت میں شریک کر لیا ہے۔رجال کے اِس کہنے کا اثر لوگوں پر زیادہ اس لئے ہوا کہ وہ ہجرت کر کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آگیا تھااور مدینہ منورہ میں رہ کر قرآن پاک اور دین کی باتیں سیکھی تھیں۔جب مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُسے اہل یمامہ کی تعلیم اور مسیلمہ کذاب کو سمجھانے کے لئے بھیجالیکن اِس بد بخت نے یمامہ پہنچ کر مسیلمہ کذاب کے دین کو اختیار کر لیا اور اُس کی اذان دینے لگااور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مسیلمہ کذاب کی رسالت کا اقرار کر لیا۔مسیلمہ کذاب بہت سے فقرہ بنا بنا کر لوگوں کو سناتا اور کہتا تھاکہ یہ (نعوذ باﷲ)قرآن ہے اور چند خلاف عادات ِ انسانی باتیں لوگوں کو دکھلا کر اس کو معجزہ بتلاتا تھا۔(تاریخ ابن خلدون)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

06 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


06 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 6


بنو تمیم میں ارتداد، سجاع بنت حار ث کا جھوٹا دعوائے نبوت، سجاح اور مسیلمہ، سجاح کا فرار، حضرت خالد بن ولید کی بطاح کی طرف روانگی، مالک بن نویرہ کی گرفتاری، غلط فہمی میں قیدیوں کا قتل، میں اﷲ کی تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا، معذرت قبول کی، حضرت عکرمہ اور حضرت شرجیل کے لشکر


بنو تمیم میں ارتداد


   جزیرہ نمائے ملک عرب کے مشرقی حصے میں بنو تمیم کے قبائل آباد تھے۔یہ مدینہ منورہ کے مشرق میں خلیج ِ فارس سے لیکر جزیرہ نمائے ملک عرب کے شمال مشرق میں دریائے عرفات کے دہانے تک آباد تھے۔بنو تمیم بہت بڑا قبیلہ تھا اور اُس کی بہت سی شاخیں تھیں۔جن میں بنو حنظلہ ،بنو دارم، بنو مالک،اور بنو یربوع کافی مشہور قبیلے تھے۔بنو تمیم کے زیادہ تر لوگ نصرانی(عیسائی)اور چاند کی پوجا کرنے والے تھے۔اپنی کثیر تعداد اور بہادری کی وجہ سے یہ کسی کی اطاعت قبول نہیں کرتے تھے۔لیکن جب تمام ملک عرب کے قبائل نے اسلام قبول کرنا شروع کیا تو اِنہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنو تمیم کے قبیلوںبنو عوف اوربنو ابناءکی طرف زبرقان بن بدر کو عامل بنا کر بھیجا۔بنو مقاعس کی طرف قیس بن عاصم کو،وکیع بن مالک کو بنو مالک کی طرف،اور مالک بن نویرہ کو بنو یربوع کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا۔(اِن کے علاوہ اور بھی کئی لوگوں کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنو تمیم کے دوسرے قبائل کے عاملین بنا کر بھیجے تھےلیکن ہم ان کا خصوصی طور سے اِس لئے ذکر کر رہے ہیں کہ آگے چلکر ان کا ذکر آئے گا۔)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بنو تمیم بھی ارتداد کا شکار ہوئے۔اس کے ساتھ ساتھ اِن میں آپس میں جنگ شروع ہو گئی ایک گروہ کہتا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو ذکوٰة بھیجی جائے اور دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں بھیجی جائے۔تیسرا گروہ مرتدین کا تھا۔یہ سب آپس میں لڑ رہے تھے کہ سجاع بن حارث لشکر لیکر پہنچ گئی۔


سجاع بنت حار ث کا جھوٹا دعوائے نبوت


   ملک عرب میں جیسے جھوٹے نبیوں کی وباءپھوٹ پڑی تھی اور مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔اِن میں بنو تغلب کی سجاع بنت حارث بھی تھی۔بنو تمیم کی ایک شاخ بنو یربوع کے بہت سے لوگ الجزیرہ میں آباد تھے،اِن میں بنو تغلب بھی تھے۔سجاع بنت حارث عیسائی تھی،بہت ہی حسین اور خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین بھی تھی۔یہ بہت ماہر کاہنہ تھی،بنو تغلب اور بنو یربوع اس کی بہت عزت کرتے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر سُن کر اس بد بخت نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا۔الجزیرہ میں آباد بنو تغلب اور بنو یربوع نے تو اس کی فوراًاطاعت کرلی۔پھر اس نے بنو نمرد،بنو شیبان اور بنو ربیعہ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا،اس طرح ایک بڑا لشکر لیکر بنو تمیم کے دوسرے قبائل کی طرف روانہ ہوئی۔اُس کا ارادہ تھا کہ بنو تمیم کے تمام قبائل کے ساتھ مل کر مدینہ منورہ پر حملہ کرے اور مسلمانوں کا خاتمہ کردے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔تمام بنو تمیم کے علاقے کا یہی حال تھاکہ ہر ایک کو اپنی پڑی تھی،اور وہ آپس میں دست و گریباں تھے۔اُن میں جو لوگ مسلمان تھے ،اُن کا واسطہ اُن لوگوں سے تھا جو متذبذب تھے۔اسی حالت میں سجاح بنت حارث الجزیرہ سے اُن کے پاس پہنچی ،یہ اور اُس کا خاندان بنو تغلب میں تھا۔ایک طرف تو پہلے سے خود ہی اِن قبائل میں خلفشار اور بد نظمی پھیلی ہوئی تھی تو دوسری طرف سجاح اور اُس کا کثیر لشکر اُن پر چڑھ آئے۔یہ واقعی بڑی پریشانی کی بات تھی جس میں سب مبتلا ہو گئے۔


سجاح اور مسیلمہ


   بنو تمیم کے لوگ پریشانی میں تھے۔مالک بن نویرہ نے سجاح کی اطاعت کرلی،علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب وہ بلاد تمیم سے گزری تو اُس نے اُنہیںاپنے امر کی دعوت دی اور اُن کے عوام نے اُس کی بات کو قبول کر لیا۔ سجاح کے قبول کرنے والوں میں مالک بن نویرہ ،عطارد بن حاجب اور بنو تمیم کے سادات امراءکی ایک جماعت بھی شامل تھی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔بنو تمیم میں اختلاف تو پہلے ہی سے تھا،سجاح کے خروج سے مخالفت اور زیادہ ہو گئی۔مالک بن نویرہ نے اُس سے مصالحت کرلی اور مدینہ منورہ پر فوج کشی کرنے سے روک کر بطون بنو تمیم پر حملہ کرنے کی تحریک دی۔بنو تمیم اُس کے مقابلے سے بھاگے لیکن وکیع بن مالک اُس سے مل گیا۔رباب و منبہ نے ملکر اُس سے جنگ کی تو سجاح کے لشکر کو شکست ہوئی اُس کے متعدد سپاہی قید کر لئے گئے۔اس کے بعد بحیثیت ِ کُل صلح کر لی گئی اور سجاح اپنے لشکر کو لیکر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو کر نباج پہنچی۔وہاں اوس بن خزیمہ نے بنو عمرو کو لیکر اُس پر حملہ کردیا ،فریقین میں سخت جنگ ہوئی ،سجاح کے لشکر میں سے ہذیل و عقبہ گرفتار کر لئے گئے۔پھر فریقین میں اِس شرط پر صلح ہوئی کہ اوس بن خزیمہ قیدیوں کو چھوڑ دے ،اور سجاح اوس کے شہروں میں کسی قسم کا تصرف نہیں کرے گی۔اس واقعہ کے بعد مالک بن نویرہ اور وکیع بن مالک اُس سے الگ ہو کر اپنی قوم سے جاملے اور سجاح اپنے لشکر کی کمزوری کی وجہ سے انہیں نہیں روک سکی۔اس کے بعد سجاح اپنا لشکر لیکر بنو حنیفہ کی طرف بڑھی ،تو مسیلمہ گھبرا گیا۔(کیونکہ وہ پہلے ہی مسلمانوں سے لڑ رہا تھا)مسیلمہ کذاب نے یہ خیال کر کے کہ اگر وہ سجاح سے جنگ کرے گا تو حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کو موقع مل جائے گا،اور حضرت شرجیل بن حسنہ اور اسلامی لشکر جو ابھی تک خاموش ہیں ،وہ بھی حملہ کر دیں گے۔اُس نے فوراً سجاح کی خدمت میں قیمتی تحائف بھیجے اور یہ کہلا بھیجا کہ پہلے ملک عرب کے کُل بلاد میں سے نصف ہمارا تھا اور نصف قریش کا تھالیکن چونکہ قریش نے بد عہدی کی ہے لہٰذا وہ نصف تمہیں دے دیا گیا۔


سجاح کا فرار


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ حواب سے روانہ ہو چکے تھے اور یہ سب واقعات اُن کے سفر کے دوران پیش آرہے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔پھر سجاح نے اپنی فوجوں کے ساتھ یمامہ کا رُخ کیاتاکہ اُسے مسیلمہ کذاب سے چھین لے اور انہوں نے مسیلمہ سے جنگ کرنے کی ٹھان لی۔جب اُس نے سنا کہ وہ اس طرف آ رہی ہے تو وہ اُس سے اپنے علاقے کے بارے میں خوفزدہ ہو گیاکیونکہ وہ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جنگ میں مصروف تھا۔(حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ یمامہ کے ایک قبیلے کے سردار تھے،ارتداد کے زمانے میں اسلام پر قائم رہے اور یمامہ کے لوگوں کو سمجھاتے رہے،یمامہ کے تمام مسلمان اُن کے پاس جمع ہوگئے تھے اور وہ سب مسلسل مسیلمہ کذاب سے حالت ِ جنگ میں تھے۔)اور حضرت عکرمہ بن ابو جہل رضی اﷲ عنہ انہیں فوجی امداد دے رہے تھے اور اُسکے علاقے میں پڑاو¿ ڈالے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتظار کر رہے تھے جیساکہ آگے بیان ہو گا۔پس اُس نے سجاح کوصلح کا پیغام بھیجا اور کہا کہ اگر تم واپس چلی جاو¿ تو میں قریش کے حصے کی آدھی زمین تمہیں دے دوں گااور اس سلسلے میں تم سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔مسیلمہ کذاب اُس سے ملنے کو قلعہ سے نکل کر اُس خیمہ میں آیا جو ملاقات کے لئے سجایا گیا تھا۔محافظین خیمے سے نکال دیئے گئے،دونوں میں تھوڑی دیر تک گفتگو ہوتی رہی،جب مسیلمہ نے اپنے گھڑے ہوئے مر صع فقرے پڑھے تو سجاح نے اقرار نبوت کر لیا اور خود کو اُسکی زوجیت میں دے دیا۔تین دن تک اُس کے خیمہ میں مقیم رہی،چوتھے روز لوٹ کر اپنی قوم میں آئی تو اُس کی قوم اُسے بلا ادائے مہر نکاح کرنے پر لعنت ملامت کرنے لگی۔مجبور ہو کر سجاح مسیلمہ کے پاس پھر لوٹ آئی اور اُس سے مہر کا تقاضا کیا۔مسیلمہ کذاب نے کہا ،جا اپنی قوم سے کہہ دے کہ مسیلمہ (نعوذباﷲ) رسول اﷲ نے دو نمازیں یعنی فجر اور عشاءکی معاف کردیں،جن کو محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرض کیا تھا اور تیری قوم کو یمامہ کی نصف پیدا وار بھی دی۔اس کے بعد سجاح لشکر لیکر الجزیرہ واپس جانے لگی اور ہذیل اور عقبہ کو یمامہ کی آئندہ سال کی پیداوار لینے کے لئے چھوڑ گئی۔ راستے میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر سے سامنا ہوا ،جس سے اُس کا لشکر منتشر ہو گیا اور سجاح بھاگ کر الجزیرہ چلی گئی۔


حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کی بطاح کی طرف روانگی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بد ستور بزاخہ میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے اور خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے اگلے حکم کے انتظار میں تھے۔ادھر سجاح کے الجزیر ہ کی طرف روانہ ہونے کے بعد بنو تمیم کے سرداران کو بہت پشیمانی ہوئی ۔وکیع اور سماعہ کو احساس ہو کہ انہوں نے بہت ہی غلط حرکت کی ہے اسی لئے انہوں نے اپنے علاقے کے تمام افرادکے ساتھ خلوص سے اسلام قبول کیا اور زکوٰة کی رقم اپنے علاقے سے وصول کر کے اُسے لیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام ذکوٰة کی رقم پیش کی۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے جاسوس بھیج کر تمام حالات کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ تمام بنو تمیم اسلام پر لوٹ آئے ہیں۔البتہ مالک بن نویرہ اور اُس کے ساتھیوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے جب بنو ظفر ،بنو اسد، بنو غطفان،بنو طے ،اور بنو ہوازن کو درست کر چکے توانہوں نے کوچ کا ارادہ کیااور لشکر کو بطاح کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیاجو حزن سے ادھر واقع ہے اور جہاں مالک بن نویرہ مقیم تھا۔اُسکی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے معاملے میں سخت متردّد تھا۔(اور فیصلہ نہیں کرپارہا تھا کہ اسلام کی طرف لوٹ آئے یا نہیں)اس موقع پر انصار نے آگے بڑھنے سے انکار کردیااور کہا کہ خلیفہ نے ہدایت کی تھی کہ جب ہم بزاخہ سے فارغ ہو جائیں تو اُن کا دوسرا حکم آنے تک وہیں قیام کریں۔اس لئے ہم آپ رضی ا ﷲ عنہ کے ساتھ نہیں جائیں گے اور اُن کا دوسرا حکم آنے تک یہیں رُکیں گے۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں کو ایسا حکم دیا گیا ہومگر خلیفہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آگے بڑھوں۔تمام خبریں مجھے موصول ہوتی رہتی ہیںاور مجھے اس کے خلاف ابھی تک کوئی حکم موصول نہیں ہوا ہے اوراُن کا صاف حکم ملنے تک اگر مجھے دشمن کو زیر کرنے کا کوئی موقع ملے اور میں اُن کے حکم کے انتظار میں رہوں تو اس طرح یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔میں تو ہر گز ایسا نہیں کروں گابلکہ فوراً موقع سے فائدہ اُٹھاو¿ں گااور اسی طر ح ہم اگر کسی مصیبت میں پھنس جائیں تو کیا ہم خلیفہ کے حکم کا انتظار کریں گے یا اُس مصیبت سے نکلنے کی اپنے طور پر کوئی کوشش کریں گے؟اب مالک بن نویرہ چونکہ ہمارے قریب موجود ہے تو میں اپنے لشکر کو لیکر آگے بڑھتا ہوںاور آپ لوگوں کو اپنے ساتھ آنے پر مجبور نہیں کرتا۔اُن کے جانے کے بعد انصار نے مشورہ کیا کہ اگر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو کامیابی ملی تو ہم ایک بھلائی سے محروم رہ جائیں گے اور اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوئے تو یہ انصار کے لئے رسوائی ہو گی ۔اسی لئے تمام انصار فوراً آپ رضی اﷲ عنہ سے آملے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت خوش ہو کر اُن کا استقبال کیا۔جب مسلمانوں کا لشکر بطاح پہنچا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔سجاح کا لشکر اُن کے آنے خبر سُن کر منتشر ہو گیا تھااور وہ خود الجزیرہ بھاگ گئی تھی جبکہ مالک بن نویرہ کا لشکر بھی منتشر ہو گیا تھا۔


مالک بن نویرہ کی گرفتاری


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے سفر کے دوران مالک بن نویرہ تردد میں تھا کہ کیا کرے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اس موقع پر مالک بن نویرہ نے اپنے ساتھیوں سے کہااے بنو یربوع!جب ہمارے امراءنے ہمیں اسلام کی دعوت دی تو ہم نے اُن کی بات نہیں مانی اور دوسرے لوگوں کو بھی اسلام قبول کرنے سے باز رکھا مگر ہمیں اِس معاملے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا،میں نے اِس معاملے پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اِس کام کو بغیر سوچے سمجھے اور بغیر مصلحت بینی کے اختیار کیا گیا ہے اور نہ اس کی رہبری کے لئے لوگ ہیں۔ایسی حالت میں تم اِس شورش سے الگ ہو جاو¿ اور اپنے اپنے علاقوں میں چلے جاو¿ اور جس کا دل چاہے وہ اسلام میں داخل ہو جائے۔مالک بن نویرہ کے اس مشورے کے بعد تمام لو گ اپنے اپنے علاقے میں چلے گئے۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بطاح آئے اور وہاں کسی کو موجود نہیں پایا تو انہوں نے باغیوں کی تلاش کے لئے مختلف فوجی دستے اطراف میں روانہ کئے اور حکم دیا کہ جہاں بھی پہنچیں تو اذان دیں،جو اس کا جواب نہیں دے تو اُسے گرفتار کر لیںاور جو مقابلہ کرے تو اُسے قتل کر دیں۔جب تمام فوجی دستے واپس آئے تو اِن میں سے ایک فوجی دستے نے مالک بن نویرہ اور اُس کے چند ساتھیوں کو گرفتار کر کے لیکر آیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کیا۔اس فوجی دستے میں اختلاف ہو گیا اور دو گروہ بن گئے۔ایک گروہ کہتا تھا کہ قیدیوں نے اذان کے جواب میں اذان دی ،اقامت کہی اور نماز پڑھی،اس گروہ میں حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ انہوں نے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یہ سُن کر حکم دیا کہ انہیں قید میں رکھو،ہم انہیں خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیں گے،پھر وہ جو چاہیں فیصلہ کریں گے۔


غلط فہمی میں قیدیوں کا قتل


   حضرت خالد بن ولید نے گرفتار شدہ لوگوں کو قید میں رکھنے کا حکم دے دیالیکن اُسی رات قیدیوں کو غلط فہمی کی وجہ سے قتل کر دیا گیا۔ہوا یہ کہ رات میں بہت شدید سردی پڑی ،یہ دیکھ کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے خیمے کے اندر سے ہی لشکر کے کسی آدمی کو حکم دیا کہ قیدیوں کو گرم کرو،یعنی گرم کپڑے دو۔اُس نے آواز لگائی کہ قیدیوں کو گرم کرو۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اُس رات اِس قدر شدید سردی پڑی کہ کوئی چیز اُس کی تاب نہیں لاسکتی تھی۔جب سردی اور بڑھنے لگی تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے منادی کو حکم دیا کہ قیدیوں کو گر م کرو۔اُس نے بلند آواز سے چلا کرکہا کہ او فﺅاسرارکم(اپنے قیدیوں کو گرم کرو)بنو کنانہ کے محاورے میں اِس لفظ کے معنی قتل کرنے کے تھے۔دوسروں کے محاورے میں جب ادفہ کہیںتو قتل کے معنی سمجھے جاتے تھے۔ سپاہیوں نے اِس لفظ کا مفہوم مقامی محاورے کے اعتبار سے یہ سمجھ لیا کہ قیدیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس لئے انہوں نے سب قیدیوں کو قتل کر ڈالا،حضرت ضراربن ازور رضی اﷲ عنہ نے مالک بن نویرہ کو قتل کیا۔(ایک اور روایت میں ہے کہ عبد بن ازور اسدی نے قتل کیا)حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو جب شور وغل کی آواز سنائی دی تو وہ خیمے کے باہر آئے مگر تب تک تمام قیدی قتل کئے جاچکے تھے۔یہ دیکھکر آپ رضی اﷲ عنہ رنجیدہ ہو گئے اور فرمایا:”اﷲ جس کام کو کرنا چاہتا ہے ،وہ بہر حال ہو کر رہتا ہے۔اس سے پہلے بھی لوگوں کا ان کے بارے میں اختلاف تھا۔“حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی ضد پر اڑے رہے اور دونوں میں کچھ تلخ کلامی ہو گئی اور حضرت ابوقتادہ رضی اﷲ عنہ ناراض ہو گئے۔


میں اﷲ کی تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا


   حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ ناراض ہو کر بغیر اجازت لئے لشکر سے الگ ہو گئے،اور مدینہ منورہ آئے اور حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ سے ساری بات بیان کی۔ دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام حالات سے آگاہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا :”آپ رضی اﷲ عنہ اپنے امیر(سپہ سالار) کی اجازت کے بغیر کیوں آئے؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کی سفارش کی مگر خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جب تک یہ اپنے امیر کے پاس واپس نہیں جائیں گے میں انہیں معاف نہیں کروں گا۔“حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ لشکر میں واپس آگئے اور پھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ واپس آئے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول سے عرض کیا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک مسلمان کے خون کے ذمہ دار ہیںاور اگر یہ بات ثابت نہ ہو سکے تب بھی اتنا تو ثابت ہے کہ جس کی وجہ سے ان کو قید کر دیا جائے۔“ امام طبری آگے ایک اور روایت میں بیان کرتے ہیں۔مالک بن نویرہ کا بھائی متمم بن نویرہ حضرت ابوبکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے پاس اپنے بھائی کا قصاص لینے آیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس کا قصاص ادا کر دیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اصرار کیا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیا جائے کیونکہ اُن کی تلوار پر ایک بے گناہ مسلمان کا خون لگا ہے مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ ! یہ نہیں ہو سکتا ،میں اُس تلوار کو جسے اﷲ نے کافروں کے لئے نیام سے برآمد کیا ہے پھرنیام میں واپس نہیں ڈال سکتا۔“


معذرت قبول کی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ لشکر کو اُسی حالت میں چھوڑ کر مدینہ منورہ آو¿۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیجیئے،اُس کی تلوار میں ظلم پایا جاتا ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں اُس تلوار کو نیام میں نہیں کروں گا ،جس اﷲ نے کافروں پر سونتا ہے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسلسل اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو پیغام بھیجا اور آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنی فولادی زرہ پہنے ہوئے تھے،جس پر خون کی کثرت کی وجہ سے زنگ لگ گیا تھااور عمامے میں خون سے لتھڑے ہوئے تیر لگائے ہوئے تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو وہ خاموشی سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور اپنا عذر پیش کر کے معذرت کی۔ خلیفہ اول نے معذرت قبول کی اور در گذر فرمایااور آئندہ احتیاط برتنے کا حکم دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔پھر جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ خلیفہ اول کے طلب کرنے پر مدینہ منورہ آئے تو حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے مالک بن نویرہ کے مقدمہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے قصاص لیںاور معزول کر دیں لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے صاف الفاظ میں فرما دیا کہ ”میں اُس تلوار کو نیام میں نہیں کرنا چاہتا جسے اﷲ نے کافروں پر تان رکھا ہو۔اس کے بعد مالک بن نویرہ اور باقی قیدیوں کا خوں بہا بیت المال سے دے دیا اورحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کولشکر کی جانب لوٹا دیا۔(یہاں ایک بات یہ ذہن میں رکھیں کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کے درمیان کوئی رنجش نہیں تھی بلکہ دونوں خالص اﷲ کے لئے کام کرتے تھے اور جو عجیب عجیب روایتیں اِن دونوں مقدس حضرات رضی اﷲ عنہم کے بارے میں پھیلائی گئی ہیںیہ دونوں اِس سے پاک ہیں۔)


حضرت عکرمہ اور حضرت شرجیل رضی ا ﷲ عنہم کے لشکر


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے گیارہ لشکر روانہ فرمائے تھے۔ابھی تک ہم حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے احوال ہی پیش کرسکے ہیں۔اب بقیہ لشکروں کے حالات انشاءاﷲ اس طر ح پیش کریں گے کہ تسلسل بر قرار رہے۔جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بزاخہ میں مصروف تھے،اُس وقت حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ یمامہ میں مسیلمہ کذاب سے جنگ میں مصروف تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔جس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے گیارہ لشکر مُرتدین ِ عرب کی سرکوبی کے لئے روانہ کئے تھے،اُس وقت حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ کو مسیلمہ کذاب سے لڑنے کے لئے یمامہ کی طرف بھیجا تھا۔پھر اُن کے بعد حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو اُن کی مدد کے لئے روانہ کیا تھا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے عجلت کر کے حضرت شرجیل رضی اﷲ عنہ کے آنے سے پہلے ہی جنگ شروع کردی،جس میں انہیں شکست ہوئی ۔اس شکست سے جب حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کو مطلع کیا گیا تو انہوں نے حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ کو لکھ بھیجا کہ خود تم تو استادی جانتے ہی نہیں ہو اور شاگردوں میں عیب نکالتے ہو۔بغیر شرجیل رضی اﷲ عنہ کے آئے ہوئے تم نے حملہ کیوں کردیا؟خیر جو کچھ ہوا ،مدینہ منورہ کا رُخ نہ کرنا۔حضرت حذیفہ و حضرت عرفجہ رضی اﷲ عنہم کے پاس جاو¿ اور اُن کی ماتحتی میں مہرہ اور اہل عمان سے لڑو۔جب اُن کی جنگ سے فراغت حاصل ہو تو مع اپنے لشکر کے حضرت مہاجر بن اُمیہ رضی اﷲ عنہ کے پاس یمن اور حضر موت میں چلے جانااور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ تم حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کے لشکر کا انتظار کرواور جب وہ آجائیں تو اُن کے ساتھ ملکر جنگ کرو۔پس جب وہاں سے فارغ ہو جانا تو بنو قضاعہ کی طرف چلے جانااور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملکر مرتدین سے لڑنا۔اس کے بعد جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بطاح سے فارغ ہو کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی طلبی پر اُن کے پاس حاضر ہوئے ۔خلیفہ اول نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے جب اصل واقعات سنے تو اُن سے راضی ہو گئے۔تب انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو مسیلمہ کذاب سے جنگ کرنے کے لئے یمامہ کی طرف روانہ کیااور کافی تعداد میں لشکر بھی دیا۔مہاجرین میں سے حضرت ابو حذیفہ اور حضرت زید رضی اﷲ عنہم اور انصار میں سے حضرت ثابت بن قیس اور حضرت براءبن عازب رضی اﷲ عنہم بھی ساتھ تھے۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں