Islamic Books لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Islamic Books لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 26 جولائی، 2023

غیر مسلموں سے روابط کیسے رکھیں Relationship with Non Muslim


غیر مسلموں سے روابط کیسے رکھیں

مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

غیرمسلموں سے تعلقات کی حدود، ترکِ موالات کا حکم، ان آیات میں احکامات، مشرک عورتوں سے نکاح حرام ہے، غیرمسلموں کے ساتھ تشبہ کی ممانعت، غیرمسلموں کے مذہبی شعائر استعمال نہ کریں، غیرمسلموں کے مخصوص رنگ والے لباس پہننا حرام ہے ، غیرمسلموں کے تیوہاروں میں شرکت جائز نہیں، غیرمسلموں کی تقریبات میں شرکت کا حکم ، غیرمسلموں کے ہوٹلوں کا استعمال، خالص غیرمسلموں کی آبادیوں میں رہنے سے اجتناب 

غیرمسلموں سے تعلقات کی حدود

اہل اسلام کا غیرمسلم سے تعلق کسی نوعیت کا اور کسی  حدتک ہو؟ اس میں ہمارے معاشرہ میں بڑی افراط وتفریط پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کا ذہن یہ ہے کہ غیرمسلم سراپا ناپاک ہیں؛ اس لئے ان سے کسی بھی قسم کا میل جول نہ رکھا جائے، جب کہ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو غیرمسلموں سے جگری دوستی رکھتے ہیں اور ان سے ” فیملی روابط“ رکھ کر فخر کرتے ہیں، ماڈرن  معاشرہ میں یہ وبا کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی ہے، حالانکہ اسلام کی تعلیم اس بارے میں افراط وتفریط کی دونوں حدوں کے درمیان میں ہے کہ نہ تو غیرمسلموں سے ایسی نفرت ہوکہ ان سے انسانی اور اخلاقی طور پر بھی رابط نہ رہے اور نہ ان سے اتنا گہرا اور مخلصا نہ میل جول ہو کہ وجہ سے دین یا اہل دین پر حرف آجائے۔

اسلام نے غیرمسلموں سے تعلق میں دراصل دوباتوں کو خاص طور پر ملحوظ رکھاہے: اول یہ کہ ان سے رابط وضبط کی وجہ سے ایمان وعمل میں بگاڑ نہ آئے پائے، اسی وجہ سے غیرمسلموں کے مذہبی شعائر ورسومات اور خالص مذہبی تقریبات میں شرکت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

دوسرے یہ کہ یہ تعلق قومی وملی حیثیت سے مسلمانوں کےلئے نقصان دہ نہ ہو، یعنی تعلق اس حدتک نہ بڑھے کہ وہ غیرمسلم آپ کا راز دار بن کر آپ کی خفیہ باتیں دشمن تک نہ پہنچادے، اور بالآخر یہی جاسوسی قومی وملی نقصان کا ذریعہ نہ بن جائے، وغیرہ۔

اگر یہ دو باتیں نہ ہوں تو پھر کسی شخص کے محض غیرمسلم ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ برا سلوک ہرگز نہیں کیا جائے گا، چنانچہ اہل ذمہ کے ساتھ قومی حیثیت سے انصاف اور رواداری کا برتاؤ عین اسلامی تعلیم ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 2

ترکِ موالات کا حکم

اسلام کی نظر میں انفرادی فوائد کے مقابلہ میں قومی وملی مفادات کی اہمیت زیادہ ہے، اس لئے غیرمسلموں سے بےمحابا تعلقات کے جو نقصانات یقینی طور پر پیش آسکتے ہیں ان سے آگاہ کرتے ہوئے قرآن کریم میں متعدد جگہ بڑی صراحت کے ساتھ مخالف کفار سے دلی دوستی (جس کی قرآنی تعبیر ” موالات “ ہے) کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور اس وضاحت کی ضرورت خاص کر اس لئے پیش آئی کہ ابتدائے اسلام میں بعض مسلمانوں کی پرانے غیرمسلم دوستوں سے گہری دوستیاں قائم تھیں، وہ کفار اگرچہ اپنے اس دوست سے ظاہری طور پر بہت اچھی طرملتے تھے، لیکن اسلام کی ترقی سے وہ اندرہی اندر کڑھتے رہتے تھے، اور موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ کب موقع ملے اور اہل اسلام کو ملی حیثیت سے نقصان پہنچائیں؛ لہٰذا اندیشہ تھا کہ بڑی محنت اور قربانیوں کے بعد جو دین حق کا رنگ جمنا شروع ہواہے، کہیں ان جھوٹی دوستیوں اور بے احتیاطیوں کی وجہ وہ محنتیں رائیگاں نہ چلی جائیں؛ اس لئے اللہ تعالٰی نے قیامت تک آنے والے اہل ایمان کو اس کے متعلق متنبہ فرما دیا، چند آیات ملاحظہ فرمائیں: 

ترجمہ: مومن لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا یارومددگار نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں، الا یہ کہ تم ان (کے ظلم) سے بچنے کے لیے بچاؤ کا کوئی طریقہ اختیار کرو، اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب) سے بچاتا ہے، اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔[ سورۂ آل عمران ۲۸]

ترجمہ:اے ایمان والو ! اپنے سے باہر کے کسی شخص کو رازدار نہ بناؤ، یہ لوگ تمہاری بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ تم تکلیف اٹھاؤ، بغض ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو کچھ (عداوت) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے پتے کی باتیں تمہیں کھول کھول کر بتادی ہیں، بشرطیکہ تم سمجھ سے کام لو۔[ سورۂ آل عمران ۱۱۸ ]

ترجمہ:اے ایمان والو ! یہودیوں اور نصرانیوں کو یارومددگار نہ بناؤ یہ خود ہی ایک دوسرے کے یارومددگار ہیں اور تم میں سے جو شخص ان کی دوستی کا دم بھرے گا تو پھر وہ انہی میں سے ہوگا۔ یقینا اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔[ سورۃ المائدۃ ۵۱] 

ترجمہ:اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان میں سے ایسے لوگوں کو جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا رکھا ہے اور کافروں کو یارومددگار نہ بناؤ، اور اگر تم واقعی صاحب ایمان ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو۔[ سورۃ المائدۃ ۵۷]

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 3

ان آیات میں احکامات

درج بالا آیات سے چند امور مستفاد ہوئے:

الف:—— کسی بھی کافر سے ایسی گہری دوستی جو دل وجان اور ایمان پر اثر انداز ہو، جائز نہیں ہے۔

ب:—— البتہ دفع مضرت یا کسی مصلحت سے کفار کے ساتھ ظاہری طور پر حسن معاملہ کر سکتے ہیں، نیز انسانی ناطے سے مدارات ومواسات سب درست ہے جیسا کہ سورۂ ممتحنہ کی آیت نمبر ۸ سے واضح ہے۔

ج:—— اسلامی حکومت میں بالخصوص راز دارانہ عہدوں پر کسی کافر کو مقرر نہ کیا جائے، اور امور مملکت میں ان کو خاص مشیر نہ بنایا جائے۔

د:—— یہود ونصاریٰ سے زیادہ دوستیاں نہ بڑھائی جائیں؛ اس لئے کہ ان کی سرشت میں دین اسلام سے دشمنی پیوست ہے، اور جوان سے دلی دوستی رکھے گا گویا اس کا شمار انہیں میں سے ہوگا۔

ہ:—— جو لوگ دین کا مذاق اڑانے والے ہیں ان کےلئے دل میں نرم گوشہ رکھنا کسی مسلمان کےلئے قطعاً جائز نہیں ہے۔

مذکورہ امور میں غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام میں دین کی قیمت پر کسی غیرمسلم سے تعلق قائم نہیں رکھا جاسکتا، اور غیروں سے تعلق قائم کرتے ہوئے دینی اور ملی مفاد کو کسی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

ساری دُنیا پر یہ بات دو اور دو چار کی طرح واضح ہونی چاہئے کہ مسلمان کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت اس کے دین کو حاصل ہے، اس کی پوری معاشرت، معاملات اور روابط سب دین کے اردگرد ہی گھومنے چاہئیں؛ حتی کہ وطن سے تعلق بھی اسی شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ دین میں حائل اور رکاوٹ نہ ہو؛ لہٰذا جہاں وطن اور دین میں ٹکراؤ ہوگا تو دین کو ترجیح ہوگی۔ اسی لئے ناگزیر حالات میں ” ہجرت “ (یعنی دین کے تحفظ کےلئے ترک وطن) کا حکم دیا گیا ہے جو اسلام کا اہم ترین عمل ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 4

مشرک عورتوں سے نکاح حرام ہے               

چونکہ اسلام میں عقیدہ کے تحفظ کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے، اس لئے مشرک (بت پرست اور آتش پرست وغیرہ) عورتوں سے نکاح کو قطعاً ممنوع قرار دے دیا گیا، ارشاد خداوندی ہے:

ترجمہ: اور نکاح مت کرو مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ یقینا ایک مومن باندی کسی بھی مشرک عورت سے بہتر ہے، خواہ وہ مشرک عورت تمہیں پسند آرہی ہو، اور اپنی عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کراؤ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اور یقینا ایک مومن غلام کسی بھی مشرک مرد سے بہتر ہے خواہ وہ مشرک مرد تمہیں پسند آرہا ہو۔ یہ سب دوزخ کی طرف بلاتے ہیں جبکہ اللہ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنے احکام لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔[ سورۃ البقرۃ ۲۲۱]

اپنے حکم لوگوں کو؛  تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔

اس آیت میں اس ممانعت کی وجہ بھی ساتھ ساتھ بیان کردی گئی کی مشرک عورتوں کے اثر سے ایمان سے محروم ہوجانے کا خطرہ ہے، البتہ اگر مشرکہ عورت بصدق دل اسلام قبول کرلے تو پھر اس کو نکاح میں لایا جاسکتاہے اس میں شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 5

پاک دامن یہودی اور عیسائی عورتوں سے نکاح کی گنجائش   

قرآن پاک میں اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے؛ لیکن اس میں ” محصن“ کی شرط لگی ہوئی ہے، اب اس  ” محصن“ کے مصداق کے بارے میں حضرات مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بہت سے حضرات نے اس سے آزاد عورتیں مراد لی ہیں خواہ وہ عفت ماٰب ہوں یا نہ ہوں، جب کہ دیگر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس سے وہ اہل کتاب عورتیں مراد ہیں جن کی پاک دامنی کا پہلے سے علم ہو، اور عفت کے خلاف کوئی بات ان کی طرف مشہور نہ ہو۔ اس رائے کی تائید اس واقعہ  سے ہوتی ہے کہ صحابی رسول حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے بعض رومی (عیسائی یا یہودی) عورتوں سے شادی کرلی تو امیرالمؤمنین سیدنا حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں نے لکھا کہ وہ اس بیوی کو چھوڑ دیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ کیا ان عورتوں سے نکاح ناجائزہے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: نکاح ناجائز تو نہیں ہے؛ لیکن مجھے یہ خطرہ ہے کہ اگر ان عورتوں سے نکاح کا سلسلہ (بلاروک  ٹوک) جاری ہوجائے تو اندیشہ ہے کہ فاحشہ اور بدکار عورتوں کے ساتھ معاشرت ہونے لگے گی (جومسلم معاشرہ کےلئے خطرناک ہے)[ احکام القران للجصاص، تفسیرطبری وغیرہ]

اس سے یہ معلوم ہوا کہ یہودی یا نصرانی عورت سے نکاح کرتے وقت اپنے اسلامی معاشرہ اور اس کے امیتازات سے صرف نظر کسی طرح رو انہیں ہے؛ الہٰذا اگر یہ اندیشہ ہوکہ اس سے گھر کا ایمانی یا عملی ماحول بگڑجائے گا جیسا کہ آج کل صورت حال ہے تو ایسی عورتوں سے نکاح نہ کرنا ہی بہتر ہے، باقی نفس جواز اپنی جگہ ہے جو بہت سی صورتوں میں دینی اور دعوتی اعتبار سے مفید بھی ہوسکتا ہے، بشرطیکہ شوہر دین میں پختہ اور بیوی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے مالا مال ہو۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 6

غیرمسلموں کے ساتھ تشبہ کی ممانعت

اسلام ایک کامل ومکمل اور جامع مذہب ہے، اس کے اپنے شعائر اور تشخصات ہیں، اسے یہ ہرگز گوارا نہیں کہ کوئی بھی مسلمان کسی بھی حالت میں تشخص کو فراموش کرے یا دوسرے مذاہب کے مخصوص شعائر کو استعمال کرے، بریں بنا اسلام میں انسانی بنیادوں پر غیرمسلموں سے رواداری، ہمدردی اور مساوات کی تعلیم کے باوجود ان سے اتنی حدتک دوری بنائے رکھنے کا حکم ہے کہ عقائد، اعمال، معاشرت اور رہن سہن وغیرہ میں ان سے متأثر نہ ہوں، اس لئے کہ تشخص کی حفاظت کے بغیر دینا میں کوئی قوم نہ کبھی محفوظ رہی ہے اور نہ رہ سکتی ہے۔

نبی اکرم حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سلسلہ میں ایک اصولی ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ [ ابوداؤد ۲/ ۵۵۹ رقم:۴۰۴۱، مسنداحمد رقم: ۵۱۱۴] 

ترجمہ: جو شخص کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے اس کا شمار اسی قوم میں سے ہوگا۔

یعنی اگر مسلمانوں کے ساتھ تشبہ ہے تو وہ مسلمانوں میں شمار ہے اور غیرمسلموں کے ساتھ مشابہت ہے تو انہی میں شامل ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 7

غیرمسلموں کے مذہبی شعائر استعمال نہ کریں

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ کسی ایسے عمل کو اختیار نہ کرے جو کسی دوسری قوم کا مذہبی شعار ہو، مثلاً:

الف:—— نمستے، یا رام رام:— یہ ہندوؤں کا مذہبی شعار ہے، جسے یہ لوگ ملاقات کے وقت استعمال کرتے ہیں؛ لہٰذا کسی مسلمان کےلئے سلام کی جگہ پر یہ الفاظ کہنا کسی حال میں ہرگز جائز نہیں ہے؛ بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں سے ملاقات کے وقت سلام کا لفظ استعمال کریں، اور غیر مسلموں سے ضرورت کے وقت ” آداب “ جیسے الفاظ استعمال کریں۔

افسوس ہے کہ آج بہت سے مسلمان (بالخصوص سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگ) اپنے ہندولیڈروں کے ایسے رعب میں رہتے ہیں کہ ان کے سامنے آتے وقت اپنا مسلمان ہونا بھی ان کے ذہن سے نکل جاتاہے، اور چاپلوسی میں ان کے سامنے ایسے جھکے چلے جاتے ہیں، گویا زندگی کا مقصود بس وہی ہوں، یہ نہایت کم ظرفی اور حماقت کی باتیں ہیں۔ آدمی کو کسی بھی حال میں مذہبی تقاضے کو نظر انداز نہیں چاہئے، ورنہ جس جھوٹی اور معمولی عزت کے حصول کےلئے یہ سب خلاف شرع باتیں کی جاتی ہیں وہ سب رائیگاں چلی جائیں گی اور دُنیا وآخرت کی ذلت ورسوائی الگ ہوگی۔ اللّٰهم احفظنامنه۔

ب:—— سلام کے وقت جھک کر ہاتھ جوڑنا:— اسلام میں سلام اصل میں زبان سے ہی ہوتاہے؛ لیکن ہندؤوں میں سلام کرتے وقت ہاتھوں کو مخصوص انداز میں جوڑ کر اور جھک کر سلام کیا جاتاہے؛ اس لئے کسی مسلمان کےلئے ہندؤوں کی طرح ہاتھ جوڑنا یا جھکنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ بہت سے مسلمان ذہنی مرعوبیت کی وجہ سے اپنے غیرمسلم آقاؤں کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے نظرآتے ہیں، وہ دراصل اپنے ہی ہاتھوں اپنے دین کی توہین کرنے والے ہیں، ان کو اپنے برے انجام سے یقیناً ڈرنا چاہئے۔

ج:—— کلائی میں ڈورے باندھنا یا مخصوص کڑے پہننا:— آج کل مشرکین کی ایک ظاہری علامت یہ ہے کہ وہ اپنی کلائی میں لال رنگ کے کچھ ڈورے باندھے رہتے ہیں، ان میں سے اکثر ان کے مذہبی تیوہار ” راکھی بندھن “ کے وقت باندھتے ہیں، اس کے علاوہ کچھ مندروں میں جاکر بھی یہ ڈورے بندھوائے جاتے ہیں، جب کہ سکھ لوگ ایک خاص قسم کا کڑا علامت کے طور پر پہنتے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ جاہل مسلم معاشرہ بالخصوص نوجوانوں میں بعینہٖ اسی طرح ڈورے باندھنے کا رواج پڑگیا ہے، اور مزارات پر بیٹھے ہوئے دین فروشوں نے اس ہندوانہ رسم کو خوب فروغ دیا ہے، اور برابر دے رہے ہیں، ان ڈوروں کو دیکھ کر کوئی اندازہ نہین لگا سکتاہے کہ یہ کسی مزار کا ڈوراہے یا راکھی بندھن کا ڈوراہے؟ اسی طرح طبقہ میں سکھوں جیسے کڑے پہننے کا بھی رواج ہوتا جارہاہے۔ ظاہر ہے کہ اسلام ایسی تشبہ والی باتوں کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتا، مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہوش کے ناخون لیں اور ٹونے ٹوٹکے والے عقیدوں سے باز آئیں اور مشرکین کے شعائر کو اختیار کر کے اپنے لئے جہنم نہ مول لیں۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 8

غیرمسلموں کے مخصوص رنگ والے لباس پہننا حرام ہے 

اسلام کی ایک امتیازی تعلیم یہ بھی ہے کہ کسی مسلمان کےلئے غیرمسلموں کے مخصوص رنگ والے لباس پہننا جائز نہیں ہے۔ روایت ہے کہ سیدنا حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ گیروے (زعفرانی) رنگ کا لباس پہن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر ارشاد فرمایا:إِنَّ هٰذِهٖ مِنْ ثِيَْابِ الْكُفَّارِ فَلاَ تَلْبِسْهَا [ مسنداحمد ۲/ ۲۰۷] 

ترجمہ:یہ کافروں کے (خاص) لباسوں میں ہے؛ اس لئے تم اسے مت پہنو۔

اس روایت میں رسول اللہ ﷺ  نے ایک اصول  بتلا دیا کہ ہر وہ لباس جو کسی غیر قوم کا مذہبی شعار ہو وہ کسی مسلمان کےلئے پہننا جائز نہیں ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ آج اپنے کو مسلمان کہلانے والے بعض لوگ اپنے مزعومہ پیروں اور مزاروں کی عقیدت میں بالکل سادھوؤں کی طرح لباس پہنے پھر تے ہیں، حالانکہ کہ اسلام میں ایسے تشبہ کی بالکل اجازت نہیں ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 9

غیرمسلموں کے تیوہاروں میں شرکت جائز نہیں

آج کل ایک فیشن سیاسی مرعوبیت کی وجہ سے یہ چل پڑاہے کہ غیرمسلموں کے تیوہاروں کے موقع پر مسلمانوں کی جانب سے مبارک باد کے بڑے بڑے اشتہارات اور باتصویر ہورڈنگ لگائے جاتے ہیں، جب کہ اسلامی شریعت میں کسی غیرمسلم کو ان کے مذہبی تیوہار پر خوشی کا اظہار کرنا اور ان کی مذہبی مجالس میں شرکت کرنا جائز نہیں، امیرالمؤمنین سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی ہدایت ہے:اِجْتَنِبُوْا اَعْدَاءَ اللّٰهِ فِی عِيْدِهِمْ [ تحفة الاخوان للشيخ التويجری، الشاملة]

ترجمہ: اللہ کے دشمنوں کے تیوہاروں کے موقع پر ان سے دور ہی رہو۔

بلکہ بعض فقہاء نے تو اس عمل پر کفر کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ فتاویٰ بزاز یہ میں امام ابوحفص کبیرؒ کے حوالہ سے منقول ہے: لَوْأَنَّ رَجُلاً عَبَدَرَبَّهٗ خَمْسِيْنَ سَنَةً ثُمَّ جَاءَ يَوْمَ النَّيْرُوْزِ فَأَهْدیٰ إِلیٰ بِعْضِ الْمُشْرِكِيْنَ هَدْيَةً يُرِيْدُ تَعْظِيْمَ ذٰلِكَ الْيَوْمِ فَقَدْكَفَرَ  [ البزازیۃ 6/ 334] 

ترجمہ: اگر کوئی شخص پچاس سال اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہے پھر مشرکین کے تیوہار نو روز کے دن اس کی تعظیم کے بطور بعض مشرکین کو ہدیہ (مٹھائی وغیرہ) بھیجے تو ایسے شخص پر کفر کا اندیشہ ہے۔

اور مجمع لانہر میں لکھا ہے کہ: ” جو شخص مجوسیوں (آتش پرستوں) کے تیوہار نو روز میں ان کے مذہبی اعمال میں شریک ہو، اس پر کفر کا حکم لگایا جائے گا“۔ [ مجمع الانہر 4/ 513]

اسی طرح کی صراحت شرح فقہ اکبر 86 پر بھی درج ہے، اور کنزالعمال میں ارشاد نبوی منقول ہے:مَنْ كَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ وَمَنْ رَضِيَ عَمَلَ قَوْمٍ كَانَ شَرِيْكاً فِيْ عَمَلِهٖ [ کنزالعمال 9/ 11 رقم: 24730] 

ترجمہ: جوشخص کسی قوم کی تعداد میں اضافہ کرے وہ انہی میں سے ہے، اور جوشخص کسی قوم کے عمل پر راضی ہو وہ گویا ان کے عمل میں شریک ہے۔

مذکورہ بالا ہدایات بالخصوص ان لوگوں کےلئے قابل عبرت ہیں جو ہمارے ملک میں غیر مسلموں کے خوشی کے مواقع (ہولی ـ دیوالی وغیرہ) پر عملاً آگے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، اور اسے فخر کی چیز سمجھتے ہیں، انہیں ہوش میں آنا چاہئے اور وقتی موہوم مصالح کی وجہ سے اپنے دین وایمان کو ہرگز داؤ پر نہیں لگانا چاہئے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 10

غیرمسلموں کی تقریبات میں شرکت کا حکم 

اگر طہارت اور حلت کا گمان غالب ہو تو فی نفسہٖ غیرمسلم کے یہاں کھانے میں حرج نہیں؛ لیکن آج کل کئی باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے:

الف:—— غیرمسلموں کی تقریبات میں دیگر منکرات ناچ گانے کے علاوہ عموماً شراب کا چلن عام ہوگیاہے، اور جس مجلس اور تقریب میں برملا منکرات ہو رہے ہوں اور شراب پی جارہی ہو، وہاں کسی مسلمان کا موجود رہنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے دسترخوان پر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے جہاں شراب کا دور چل رہاہو۔

[ ابوداؤد شریف ۲/ ۵۳۰ حدیث: ۳۷۷۴]

ب:—— عموماً غیرمسلموں کے یہاں جھٹکے کا گوشت استعمال ہوتاہے، اور پکانے والے اس کی احتیاط نہیں کرتے کہ ایک دیگچی کاکف گیر دوسری میں نہ ڈالیں، جس کی وجہ سے ایسی تقریبات میں پکی ہوئی سبزیاں وغیرہ بھی پاکی کے اعتبار سے مشتبہ ہوجاتی ہیں؛ اس لئے بہر حال احتیاط اسی میں ہے کہ جب تک طہارت کا گمان غالب یا مشاہدہ نہ ہو، ایسا مشتبہ کھانا نوش نہ کیا جائے۔

ج:—— بعض غیرمسلم برتن دھونے میں پاکی ناپاکی کا قطعاً خیال نہیں کرتے؛ اس لئے شبہ کی جگہوں پر ان کے دھونے پر اعتماد نہ کیا جائے؛ بلکہ موقع ہو تو برتن خود اپنے ہاتھ سے دھوکر صاف کر لیا جائے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 11

غیرمسلموں کے ہوٹلوں کا استعمال

تقریباً یہی معاملہ غیرمسلموں کے ہوٹلوں اور ڈھابوں کا بھی ہے، جن ہوٹلوں میں شرابیں پی جاتی ہوں اور جہاں حلال وحرام کھانے مخلوط پکائے جاتے ہوں، وہاں مسلمانوں کا کھانا تو دور رہا، ان میں داخل ہونا بھی شرم کی بات ہے۔ آج کل ماڈرن معاشرہ میں فائیواسٹار ہوٹلوں کا کلچر رواج پارہاہے، یعنی محض تفریح طبع اور موج مستی کےلئے اپنا گھر یا مسلمانوں کے ہوٹل دستیاب ہونے کے  بجائے فائیواسٹار ہوٹلوں کے ریسٹوران میں ” لنچ“ یا ”ڈنر“ لیا جاتاہے، حالانکہ وہاں وہی سب خرابیاں عملاً موجود ہوتی ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے؛ اس لئے بلاسخت ضرورت یا واقعی مجبوری کے ایسی جگہوں پر جانے یا وہاں اپنی تقریبات منعقد کرنے سے مسلمانوں کو احتراز کرنا لازم ہے۔ 

 خالص غیرمسلموں کی آبادیوں میں رہنے سے اجتناب 

انسان چوں کہ سب سے زیادہ اپنے پاس پڑوس رہنے والوں کے حالات سے متأثر ہوتا ہے؛ اس لئے اسلام کی ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ مسلمان خالص غیرمسلموں کی آبادیوں میں بود وباش اختیار نہ کریں۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے: لاَتُسَاكِنُوْا الْمُشْرِكِيْنَ وَلاَ تُجَامِعُوْهُمْ فَمَنْ سَاكنَهُمْ أَوْ جَامَعَهُمْ فَلَيْسَ مِنَّا [ الحاکم فی المستدرک 2627] 

ترجمہ: شرک کرنے والوں کے ساتھ بود وباش اور یکجائی مت کرو، پس جوشخص ان کے ساتھ رہنا سہنا اور اٹھنا بیٹھنا کرے گا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

ایک دوسری حدیث میں ہے 

مَنْ جَامَعَ الْمُشْرِكَ وَسَكَنَ مَعَهٗ فَإِنَّهٗ مِثْلُهٗ [ ابوداؤد 2/ 385 رقم: 2787]

ترجمہ: جس شخص نے مشرک کے ساتھ میل جول اور رہائش اختیار کی وہ گویا اسی جیسا ہے۔

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا 

أَنَابَرِيْءٌ مِّنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيْمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِيْنَ  [ ابوداؤد 2/ 355، حدیث: 2645] 

ترجمہ: میں ہر ایسے مسلمان سے بےزار ہوں جو مشرکین کے درمیان قیام پذیر ہو۔

اور ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو مشورہ دیا: لاَ تَسْتَضِيْئُوْا الْمُشْرِكِيْنَ [مسنداحمد 3/ 99] 

ترجمہ: مشرکین کی آگ سے اپنی آگ مت جلاؤ۔

یعنی مشرکین کے مکانات کے قریب اپنے گھر مت بناؤ کہ وقت وقت پر ان سے ضرورتیں وابستہ رہیں؛ بلکہ ان سے الگ ہٹ کر رہا کرو۔

یہ ہدایات ان لوگوں کی آنکھ کھولنے کےلئے کافی ہیں جو غیرمسلموں کی کالونیوں میں رہنا اپنے لئے فخر کی چیز سمجھتے ہیں، انہیں مسلم آبادیوں میں رہتے ہوئے کڑھن ہوتی ہے، کبھی صفائی ستھرائی نہ ہونے کا بہانہ بناکر اور کبھی بھیڑ بھاڑ کا عذر پیش کر کے وہ مسلمانوں کے علاقہ سے نکل کر غیروں کے ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں، ایسے حضرات  سے گذارش ہے کہ وہ پیغمبر علیہ السلام کی مذکورہ بالا ہدایات بار بار پڑھیں، اور پھر فیصلہ کریں کہ ان کے حق میں وہ بہتر ہے جو انہوں نے اپنی عقل سے سمجھا ہے یا وہ بہتر ہے جس کی تعلیم محسن انسانیت فخر دو عالم حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دی ہے؟ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں بہر حال پیغمبر علیہ السلام کی ہدایات کو مقدم رکھنا چاہئے۔

اس ممانعت کی اصل وجہ یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان گھرانہ چوبیس گھنٹہ غیروں کے ساتھ رہے گا اور ان کی عورتوں اور بچوں کی آمدورفت گھروں میں ہوگی تو رفتہ رفتہ ان کفر یہ جراثیم محسوس اور غیر محسوس طریقہ پر مسلم گھرانوں میں داخل ہوتے چلے جائیں گے، اور نہ صرف ظاہری لباس، تراش خراش، معاشرت؛ بلکہ عقائد پر بھی نہایت منفی اثرات پڑیں گے، اور یہ کوئی محض خیال نہیں؛ بلکہ عینی مشاہدہ ہے، آپ کسی بھی ایسی کالونی کے مسلمان مکینوں کے گھروں کا جائزہ لےکر دیکھ لیجئے، تو ایسے حقائق سامنے آئیں گے جو بیان کے قابل نہیں، حتی کہ آج اتنی دعوتی محنتیں ہونے کے باوجود مشرکین کے دبد بہ والے گاؤں دیہاتوں میں رہنے والے مسلمانوں کے بعض گھروں میں مورتیاں تک رکھی دکھائی دیتی ہیں اور گھر والے مسلمانوں جیسے نام رکھنے کے باوجود پڑوسی ہندؤوں سے متأثر ہوکر یا ان کے دباؤ میں آکر مورتیوں کا اکرام کرتے ہیں، العیاذ باللہ۔ ان حالات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عاقبت اندیشی پر مبنی درج بالا ہدایات نہایت قابل توجہ ہیں۔

علاوہ ازیں ملکی حالات کے اعتبار سے بھی عافیت اسی میں ہے کہ مسلمان اپنی آبادیوں میں مجتمع رہیں اور غیروں کی کالونیوں میں متفرق طور پر رہائش اختیار نہ کریں؛ کیونکہ جب فرقہ وارانہ حالات بگڑتے ہیں تو سب سے پہلے زیادتیوں کا نشانہ وہی لوگ بنتے ہیں جو متفرق طور پر غیروں کی کالونیوں میں مقیم ہوتے ہیں، جب کہ ٹھوس مسلم آبادیوں میں رہنے والوں کو پھر ایک گونہ تحفظ حاصل ہوتاہے۔

تاہم جن مسلمانوں کو کسی مجبوری کی وجہ سے ایسے ماحول میں رہنا پڑے (مثلاً سرکاری ملازموں کو حکومت کی بنائی ہوئی کالونیوں میں رہنا پڑتاہے) تو انہیں خصوصی طور پر اپنے گھرانہ کو دین پر ثابت قدم رہنے اور عقیدے اور اعمال میں پختگی قائم رکھنے پر توجہ دینی چاہئے، اور پاس پڑوس کے اثرات قبول کرنے کے بجائے اپنے اخلاق وکردار اور حکمت عملی کے ساتھ ان کے سامنے دین اسلام کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی فکر کرنی چاہئے؛ تاکہ وہاں کا قیام دعوتی اعتبار سے مفید بن جائے، اس سلسلہ میں خاص طور پر گھر کی خواتین کو تربیت دینے اور انہیں ہمیشہ بیدار رکھنے کی ضرورت ہے

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 12

خلاصۂ کلام

خلاصہ یہ ہے کہ غیرمسلموں سے مدارات ومواساۃ اور دعوتی وانسانی بنیادوں پر خیر خواہی تو مطلوب ہے؛ لیکن ان سے ایسے روابط قائم کرنا یا ان سے مرعوب ہو کر رہنا یا رسم ورواج اور معاشرت میں ان کی تہذیب اور طور طریقوں کو اپنانا ہرگز درست نہیں ہے۔ آج ہر فکر مند شخص کو سوچنا چاہئے کہ ہمارے معاشرہ میں غیرمسلموں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے جو غلط باتیں درآئی ہیں، اُن کا خاتمہ کیسے ہو؟ اس بارے میں سنجیدہ کوششیں کرنی ضروری ہیں۔ یوم پیدائش (سال گرہ) یوم عاشقاں (ویلن ٹائن ڈے) بسنت (پتنگ اڑانے کا تیوہار) اور کسی کے مرنے پر سوگ کرنا اور تیجہ، دسواں، چہلم منانا، خوشی اور غمی کے موقع پر ٹونے ٹوٹکے والی رسومات یہ سب غیروں کی باتیں ہیں، جو آج مسلم گھرانوں میں داخل ہوگئی ہیں، ان کے خلاف ذہن سازی کی ضرورت ہے۔ ہمارا دین اسلام ایسی سطح اور کچی باتوں کو ہرگز قبول نہیں کر سکتا، ہمارے لئے نمونہ اور قابل تقلید صرف اور صرف قرآنی تعلیمات اور نبوی ہدایات اور سلف صالحین کے آثار ہیں، ان کے علاوہ کی طرف ہمیں نظر اٹھانے کی نہ ضرورت ہے اور نہ ان میں ہمارے لئے نجات ہے۔

اللہ تعالٰی پوری امت کو صلاح وفلاح سے نوازیں، دین پر استقامت عطا فرمائیں اور غیروں کی مشابہت سے ہر سطح پر محفوظ رکھیں، آمِينْ يَا رَبَّ الْعَالَمِين۔


حقوق العباد Human Writes


حقوق العباد

مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

حقوق مسلم، سات حقوق دوران حیات، سات حقوق بعد ازوفات، والدین کے ایصال ثواب کی دعا، پڑوسیوں کے حقوق، رشتہ داروں کے حقوق، اہل وعیال پر خرچ بھی موجبِ ثواب ہے، رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا ثواب، ناراض رشتہ دار پرخرچ کی فضیلت، مال دار عورت کا غریب شوہر اور بچوں پر خرچ کرنا ، والدین پر شفقت کی نظر ڈالنے کا عظیم ثواب، والدین کے دوستوں سے تعلقات اچھے رکھنا


 حقوق مسلم 


جو چیز اپنے لئے پسند کرے وہی دوسروں کےلئے بھی پسند کرے[ مشکوٰۃ ۴۲۲]

تواضع سے پیش آئے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۳]

بڑوں کا ادب چھوٹوں پر شفقت کرے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۳]

علماء دین کی قدر کرے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۳]

ہر ایک سے خندہ پیشانی سے پیش آئے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۷]

دو جھگڑنے والوں میں صلح کرائے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۸]

نہ چغلی کرے نہ چغلخور کی بات کا اعتبار کرے

کسی دُنیاوی زنجش کی بنا پر تین دن سے زیادہ قطع تعلق نہ کرے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۷]

 کسی کا عیب تلاش نہ کرے۔ [ متفق علیہ]

تہمت کی جگہ سے بچے

سلام میں سبقت کرے۔ [ ابوداؤد ۷۰۶]

مسلمانوں کی حاجت روائی میں کوشش کرے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کے اہل وعیال کی مدد کرے۔ [ اصلاحی نصاب ۴۳۶]

جب کوئی مسلمان بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

مسلمانوں کے سلام کا جواب دے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

جب وہ پکارے تو جواب دے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

جب دعوت دے تو قبول کرے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

جب وہ چھینکے اور الحمدللہ کہے تو یرحمک اللہ کہے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

جب وہ مرجائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

جب وہ مشورہ طلب کرے تو اچھا مشورہ۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

خالہ کا حق بھی ماں کے حق کی طرح ہے۔ [ ترمذی ۲/ ۱۲]

چا کا حق مثل باپ کے ہے۔ [ اصلاحی نصاب ۴۳۲]

بڑے بھائی کا حق مثل باپ کے ہے۔ [ اصلاحی نصاب ۴۳۳]

اولاد کا حق یہ ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے علم دین ولیاقت سکھلائے جب جوان ہوجائے تو اس کا نکاح کردے۔ [ مجمع الزوائد ۸/ ۱۴۹ اصلاحی نصاب ۴۳۳]

اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچانا یہ اپنی ذات کا حق ہے۔

سات حقوق دوران حیات

عظمت:—— ان کا احترام۔ [ الدرالمنثور ۴/  ۱۷۲]

محبت:—— ان سے الفت واُنسیت رکھنا۔ [ الدرالمنثور ۴/  ۱۷۲]

اطاعت:—— ان کی فرماں برداری کرنا۔ [ الدرالمنثور ۴/  ۱۷۱]

خدمت:—— ان کا کام کرنا ان کے کام آنا۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۱]

فکرِراحت:—— ان کو آرام پہنچانا۔ [ مشکوٰۃ ۴۱۹]

رفع حاجت:—— ان کی ضروریات کو پورا کرنا۔ [ ترغیب ۳/ ۳۱۶]

 گاہے گاہے ملاقات وزیارت۔ [ الدرالمنثور ۴/  ۱۷۳]

سات حقوق بعد ازوفات

دعائے مغفرت:—— ان کےلئے اللہ سے معافی اور رحمت کی درخواست کرنا۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۰]

ایصال ثواب:—— ان کو ایصال ثواب کرنا۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۰]

اکرام اعزاء واحباب واہل قرابت:—— ان کے رشتہ دار دوست واحباب کی عزت کرنا۔ [ ادب المفرد ۳۱ رقم ۴۱  الدرالمنثور ۴/  ۱۷۴]

اعانت اعزاء احباب واہل قرابت:—— ان کے رشتہ دار دوست احباب کی جس قدر ہوسکے مدد کرنا۔ [ ترمذی ۲/ ۱۲]

ادائے دین وامانت:—— ان کی امانت وقرض ادا کرنا۔ [ الدرالمنثور ۴/  ۱۷۴]

تنفیذ جائز وصیت:—— ان کی جائز وصیت کو نافذ کرنا۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۰]

گاہ گاہ ان کے قبر کی زیارت کرنا۔ [ الدرالمنثور ۴/  ۱۷۴]

والدین کے ایصال ثواب کی دعا

علامہ عینیؒ نے شرحِ بخاری میں ایک حدیث نقل کی ہے جوشخص ایک مرتبہ یہ دعا پڑھے ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَا لَمِينَ  رَبِّ ٱلسَّمَٰوٰتِ وَرَبِّ ٱلْأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ وَلَهُ ٱلْكِبْرِيَآءُ فِى ٱلسَّمَٰوٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ لِلّٰهِ ٱلْحَمْدُ رَبِّ ٱلسَّمَٰوٰتِ وَرَبِّ ٱلْأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ وَلَهُ الْمَظْمَةُ فِیْ  ٱلسَّمَٰوٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ وَلَهُ النُّوْرُ فِیْ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 

اس کے بعد یہ دعا کرے یا اللہ اس کا ثواب میرے والدین کو پہنچادے اس نے والدین کا حق ادا کردیا۔ [ فضائل صدقات ۲۰۶]

پڑوسیوں کے حقوق

امام غزالیؒ نے اربعین میں یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم جانتے بھی ہوکہ پڑوسی کا حق کیا ہے۔

اگر وہ پڑوسی تم سے مدد چاہے تو تم اس کی مدد کرو

اگر وہ تم سے قرض مانگے تو اس کو قرض دو

اگر وہ محتاج ومفلس ہو تو اس کو کچھ دو

اگر وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو

اگر وہ مرجائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ

اگر اس کو کوئی خوشی حاصل ہو تو اس کو مبارک باد دو

اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچے تو اس کو تسلی دو مثلاً اس کے ہاں کوئی موت ہوجائے تو اس کے گھر جا کر تعزیت کرو

اس کے مکان کے پاس اونچا مکان نہ بناؤ کہ اس کی ہوا وغیرہ رک جائے مگر یہ اس کی اجازت سے ہو

اگر تم پھل وغیرہ خرید وتو تحفہ کے طور پر اس کے یہاں بھی بھجوا دو اور ممکن نہ ہو سکے تو پھر تم اس (پھل وغیرہ) کو گھر میں پوشیدہ طور پر لے آؤ اور اپنے بچوں کو بھی تاکید کرو اس کو لےکر گھر سے باہر نہ نکلیں تاکہ تمہارے پڑوسی کے بچے رنج وافسوس نہ کریں 

اور تم اپنی ہانڈی (چولھے) کے دھوئیں سے اس کو تکلیف نہ پہنچاؤ

اور یہ کہ اس ہانڈی میں سے کچھ اس کے یہاں بھی بھجواؤ اور کیا تم جانتے ہو پڑوسی کا حق کیا ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اپنے پڑوسی کا حق وہی شخص پہچانتا ہے جس پر اللہ تعالٰی کی رحمت ہوتی ہے۔ [ مظاہرحق ۵/ ۱۱۳]

جب تم گوشت خریدو یا سالن کی ہانڈی پکاؤ تو شور بہ بڑھا دیا کرو اور اس میں سے کچھ نکال کر اپنے پڑوسی کو دے دیا کرو۔ [ کنزل العمال ۱۵/ ۲۸۱]

وہ شخص کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔ [ الترغیب عن الطبرانی ۳/ ۳۵۸]

اگر وہ تمہاری دعوت کرے تو اسے قبول کرو۔ [ کنز۹/ ۲۵۴]

 کوئی پڑوسن اپنے پڑوسن کے ہدیہ کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ وہ بکری کے کھر کا ایک ٹکڑاہی کیوں نہ ہو۔ [ بخاری ۲/ ۸۸۹]

اگر وہ ننگا ہو تو اسے کپڑا پہنائے اس کے گھر کا راستہ تنگ نہ کرے اس کے صحن میں نالہ یا کچرا ڈال کر ایذاء نہ دے دیوار یا چھت سے اس کے مکان میں نہ جھانکے اس کی بیوی اور خادمہ سے نگاہیں نیچی رکھے اس کے بچوں کے ساتھ مہربانی شفقت کا معاملہ کرے اور اگر وہ کسی دنیوی یا دینی نقصان کی طرف قدم بڑھا رہا ہو تو اسے روک دے اور صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کرے۔ [ احیاءالعلوم ۲/ ۳۳۷]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اس کے ساتھ اچھا کیا تو یقیناً تم نے اچھا کیا اور جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے برا کیا تو یقیناً تم نے بُرا کیا۔ [ منتخب احادیث ۵۶۷] 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے حق کے بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے۔ [ بخاری ۲/ ۸۸۹]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندوں کے حقوق میں سب سے پہلا معاملہ پڑوسیوں کا پیش ہوگا۔ [ الترغیب ۳/ ۳۵۵]

وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوسکے گا جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ [ مسلم ۱/ ۵۰]

ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دے کر بھیجا کہ وہ مسجد کے دروازے پر یہ اعلان کردے کہ چالیس گھر پڑوسی ہیں۔ [ ترغیب ۳/ ۳۵۳]

امام زہریؒ نے چالیس کی تشریح کی ہے کہ صرف ایک ہی جانب کی چالیس گھر مراد نہیں بلکہ چاروں طرف کے چالیس چالیس گھر مراد ہیں۔[ احیاءالعلوم ۲/ ۳۳۶]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے دو پڑوسی ہیں ایک کا دروازہ میرے گھر کے قریب ہے اور دوسرے کا گھر ذرا فاصلہ پر واقع ہے بعض اوقات میرے پاس کوئی چیز ہوتی ہے لیکن اتنی نہیں ہوتی کہ دونوں کےلئے کافی ہو آپ کے نزدیک ان دونوں میں سے کون زیادہ حق دارہے فرمایا وہ شخص جس کا دروازہ تمہارے گھر کے قریب ہے۔ [ بخاری ۲/ ۸۹۰]

 کہتے ہیں کہ قیامت کے دن مفلس پڑوسی اپنے مالدار پڑوسی کا داممن پکڑ کر باری تعالٰی سے عرض کرےگا یاللہ اس سے پوچھئے کہ اس نے مجھے اپنے حسن سکوک  سے کیوں محروم رکھا۔ [ الترغیب ۳/ ۳۵۹]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پڑوسی تین طرح کے ہیں

ایک وہ جس کا صرف ایک حق ہے

دوسرا وہ جس کے دو حق ہیں

تیسرا وہ جس کے تین حقوق ہیں

مسلمان رشتہ دار پڑوسی کے تین حقوق ہیں پڑوسی کا حق اسلام کا رشتہ رشتہ داری کا حق

مسلمان پڑوسی کے صرف دو حق ہیں حق اسلام اور حق جوار

 کافر پڑوسی کا صرف ایک حق ہے حق جوار یعنی پڑوسی ہونے کا حق

[ احیاءالعلوم بحوالۂ بزارب۲/ ۳۳۵]

بُرے پڑوسی سے پناہ مانگنے کی دعا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے

اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنْ جَارِ السُّوٓءِ فِیْ دَارِ الْمُقَامَةِ فَاِنَّ جَارَالْبَادِيَةَ يَتَحَوَّلُ 

ترجمہ:—— اے اللہ میں گھر کے بُرے پڑوسی سے پناہ مانگتاہوں۔[ ترغیب ۳/ ۳۵۵]

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پاک مسلمان صالح پڑوسی کی وجہ سے سوگھروں کی مصیبتوں کو دور کرتا ہے۔[ ترغیب ۳/ ۳۶۳] 

رشتہ داروں کے حقوق   

تیسری ہدایت یہ کی گئی ہے کہ: ”انسان اپنے عزیز واقارت کی مالی مدد کرتا رہے“، یہ بات اگرچہ ” احسان“ کے عمومی مفہوم میں داخل تھی؛ لیکن اہمیت کے پیش نظر اسے الگ سے ذکر کرنا مناسب سمجھا گیا۔ اسلام کی اخلاقی اور معاشرتی تعلیمات میں رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی بڑی تاکید کی گئی ہے، خود قرآن کریم میں متعدد جگہ اہل قرابت کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ نصرت وحمایت کا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہے: وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ 

اور رشتہ داروں کو اس کا حق دو۔

 گوکہ آیت بالا میں ” حق“ عام ہے، جس میں ہر طرح کے حقوق شامل ہیں؛ لیکن مالی حقوق کی اس باب میں خاص اہمیت ہے؛ اسی لئے اللہ تعالٰی نے جہاں نیکی کے خصوصی اعمال شمار کرائے، تو ان میں رشتہ داروں پر مال خرچ کرنے کو خصوصیت سے ذکر فرمایا، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:

 لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی۔ [ سورۃ البقرۃ ۱۷۷]

صرف یہی نیکی نہیں کہ اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف کرو؛ لیکن بڑی نیکی تویہ ہے کہ جو کوئی ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر اور مال کی محبت کے باوجود اسے رشتہ داروں پر خرچ کرے۔

اسی طرح کئی جگہ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے والدین کے بعد متصلاً اہل قرابت کے ساتھا اچھا برتاؤ کرنے کی تاکیدکی گئی، اور ان پر خرچ کرنے کو مال کا ِبہترین مصرف قرار دیا گیا۔

ایک جگہ ارشاد ہوا  قُلۡ مَآ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ فَلِلۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ [ سورۃ البقرۃ ۲۱۵]

آپ فرما دیجئے جو کچھ تم مال خرچ کرو سو ماں باپ کےلئے اور قرابت والوں کےلئے اور مسکین، یتیم اورمسافر کےلئے، اور جو بھی تم نیکی کرتے ہو اللہ تعالٰی کو اس کا علم ہے۔

یہی نہیں؛ بلکہ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی سابقہ آسمانی مذاہب میں بھی تاکید کی جاتی رہی ہے، جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی کیا گیا، سورۂ بقرہ میں آیت نازل ہوئی 

اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ ۟ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ ذِی ‌الۡقُرۡبٰی [ سورۃ البقرۃ ۸۳] 

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے یہ قرار لیا کہ صرف اللہ ہی کی عبادت کرنا اور ماں باپ اور کنبہ والوں کے ساتھ احسان کرنا۔

مال خرچ کرنے کی نبوی ترتیب  

صحیح حدیث میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ قبیلہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر بنا دیا (یعنی کسی شرط پر اس کی آزادی کو معلق کردیا جائے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کی خبر ملی تو آپ نے ان صاحب کو بلاکر پوچھا کہ کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے پاس کچھ مال ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”نہیں“ تو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مدبر (مقید) غلام کی نیلامی کا اعلان فرمادیا۔ چنانچہ ایک دوسرے صحابی حضرت نعیم ابن عبداللہ العدوی نے اسے ۸۰۰/ درہم میں خرید لیا، اس کے بعد یہ رقم پیغمبر علیہ السلام نے مالک کو دیتے ہوئے ہدایت فرمائی: إِبْدَأَبِنَفْسِكَ فَإِنْ فَضُلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ فَإِنْ فَضُلَ عَنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِيْ قَرَابَتِكَ شَيْءٌ فَهٰكَذَا وَهٰكَذا، يَقُوْلُ: فَبَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِيْنِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ [ مسلم ۱/ ۱۲۲ رقم: ۹۹۷]

سب سے پہلے اپنی ذات پر خرچ کرو، پھر اگر بچ جائے تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرو، پھر جو مال بچے تو رشتہ داروں پر خرچ کرو، اور رشتہ داروں پر خرچ کے بعد جو بچ جائے تو آپ نے ہاتھ کے اشارے سے سامنے اور دائیں بائیں خرچ کرنے کا حکم دیا۔ (یعنی دیگر جائز ضرورتوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرو)

اس واضح روایت سے معلوم ہوگیا کہ مال کے خرچ میں کیا ترتیب رہنی چاہئے؟ لیکن یہ یاد رہے کہ اپنی ذات یا گھر والوں پر خرچ میں کفایت شعاری پسندیدہ ہے، اور اسراف وفضول خرچی اور تعیش شریعت میں پسند نہیں ہے۔ خود حدیث بالا کی پر داز یہ بتلا رہی ہے کہ آدمی کو قناعت پسند ہونا چاہئے؛ کیوں کہ اگر قناعت پسندی نہ ہوگی تو مال کتناہی زائد ہو وہ دوسروں کےلئے بچ ہی نہیں پائے گا، اور ہمیشہ آدمی چٹور پن اور تفریحات کی ادھیڑبن ہی لگا رہے گا۔

اہل وعیال پر خرچ بھی موجبِ ثواب ہے  

انسان کے مال کے اولین مستحق اس کے گھر والے ہیں، ان پر خرچ کا ثواب بھی صدقہ کے برابر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ المُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقُ عَلیٰ أَهْلِهٖ نَفْقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهٗ صَدَقَةٌ [ مسلم ۱/ ۳۲۴ رقم: ۱۰۰۲]

لہذا بچوں پر خرچ کرتے ہوئے یہ نیت رہنی چاہئے کہ اللہ تعالٰی نے ہم پر جو ذمہ داری عائد کی ہے اس کو ادا کررہے ہیں تو یقیناً اس خرچ پر صدقہ کا ثواب ملے گا۔

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اَفْضَلُ دِيْنَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِيْنَارٌ يُنْفِقُهٗ عَلیٰ عَيَالِهٖ وَ دِيْنَارٌ يُنْفِقُهٗ عَلیٰ دَابَّتِهٖ فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ دِيْنَارٌ يُنْفِقُهٗ عَلیٰ أَصْحَابِهٖ فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ  [ مسلم ۱/ ۳۲۲ رقم: ۹۹۴]

خرچ میں سب سے افضل دینار وہ ہے جو آدمی اپنے بچوں پر خرچ کرتاہے اور وہ دینار ہے جو جہاد میں اپنی سواری پر خرچ کرتاہے، اور وہ دینار ہے جو سفر جہاد میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتاہے۔

اس روایت کے راوی حضرت ابوقلابہ کہتے ہیں کہ پیغمبر علیہ السلام نے بچوں پر خرچ کو سب سے ذکر فرمایا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ ثواب کا مستحق کون ہوگا جو چھوٹے بچوں کی ضرورتوں پر خرچ کرے؛ تاکہ انہیں سوال کی ذلت سے بچائے یا اللہ تعالٰی اس کے ذریعہ ان بچوں کو نفع پہنچائے یا مستغنی فرما دے۔ [ مسلم شریف ۱/ ۳۲۲ حدیث: ۹۹۴، المتجر الرابح ۳۵]

مطلب یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کی ضرورتوں کو اگر باپ پورا نہیں کرے گا تو اور کون کرےگا؟ اگر باپ توجہ نہ دے تو ظاہر ہے کہ بچے بھیک مانگنے پر مجبور ہوں گے یا بھوکے ختم ہوجائیں گے، اس لئے شرعاً باپ پر یہ فرض ہے کہ وہ ان بچوں کی خبر گیری کرے، اور فرض کا ثواب یقیناً نفلی عطایا سے زیادہ ہی ہوتاہے، اسی بنا پر پیغمبر علیہ والسلام نے ایک روایت میں متعدد مصارف خیر ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: أَعْظَمُهَا أَجْراً الَّذِیْ أَنْفَقْتَهٗ عَلیٰ أَهْلِهٖ [ مسلم شریف ۱/ ۳۲۲ رقم: ۹۹۵]

سب سے زیادہ ثواب اس خرچ میں ہے جو تم نے اپنے گھر والوں پر خرچ کیا۔

اور ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد عالی منقول ہے: أَوَّلُ مَايُوْضَعُ فِيْ مِيْزَانِ الْعَيْدِ نَفْقَتُهٗ عَلیٰ أَهْلِهٖ [ الطبرانی فی الاوسط الترغیب والترھیب ۲/ ۶۸۹ رقم: ۳۰۴۳]

آخرت میں نیکیوں کے پلے میں سب سے پہلے انسان کے اپنے گھر والوں پر خرچ کے عمل کو رکھا جائے گا۔

رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا ثواب

عام طور پر یہ سمجھا جاتاہے کہ مسجد، مدرسہ یا دیگر لوگوں پر صدقہ کرنا ہی کارِ ثواب ہے، حالانکہ قرآن وحدیث سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اپنے قریبی اعزاء پر ضرورت کے وقت خرچ کرنا بھی صدقہ کا ثواب رکھتاہے، بلکہ اس کا ثواب عام صدقات سے دو گنا ملتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلیٰ ذِیْ قَرَابَةٍ يُضَعِّفُ أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ [ الطبرانی ۸/ ۲۰۶، المتجرالرابح ۳۴۸]

رشتہ دار پر صدقہ اس کے ثواب کو دو گنا کر دیتا ہے۔

اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أَلصَّدَقَةُ عَلَی الْمِسْكِيْنِ صَدَقَةٌ وَعَلیٰ ذِیْ الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ [ المتجرالربح ۳۴۸]

غیر رشتہ دار مسکین پر صدقہ ایک صدقہ ہے اور رشتہ دار مسکین پر صدقہ ڈبل صدقہ ہے، ایک عام صدقہ دوسرے صلہ رحمی۔

حضرت میمونہ بنت الحارث رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے دورِ نبوت میں ایک باندی کو آزاد کیا تھا، جب اس بات کا تذکرہ پیغمبرعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:  لَوْأَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ [ بخاری ۱/ ۳۵۳ رقم ۲۵۹۲، مسلم ۱/ ۳۲۳ رقم: ۹۹۹]

اگر تم اپنے ماموؤں کو یہ باندی دے دیتی تو اس میں تمہارے لئے ثواب زیادہ ہوتا۔

خادم رسول سیدنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ مدینہ کے بڑے مال دار شخص تھے، اور ان کا سب سے پسندیدہ مال ”بیرحاء“ (کھجور کا ایک بڑا باغ) تھا، یہ مسجد نبوی کے بالکل قریب تھا اور پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کبھی کبھی وہاں شریف لے جاتے اور اس کنویں کا بہترین پانی نوش جان فرماتے تھے، جب یہ آیت: لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ  [ سورۂ آل عمران ۹۲] (یعنی اس وقت تک تم نیکی میں کمال حاصل نہیں کرسکتے، جب تک کہ اپنے پسندیدہ مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو) نازل ہوئی، تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اور میرا سب سے پسندیدہ مال یہ باغ (بیرحاء) ہے، میں اسے ثواب کی امید پر اللہ کےلئے صدقہ کرنا چاہتاہوں، آپ اسے قبول فرمالیں اور جہاں مناسب ہو صرف فرمائیں، تو رسول اللہ ﷺ نے بہت مسرت کا اظہار فرمایا اور حضرت ابوطلحہ کو مبارک با دویتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ”واہ واہ! بہت نفع کا سودا ہے، بہت نفع کا سوداہے“۔ پھر فرمایا کہ میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فوراً حکم کی تعمیل فرمائی اور وہ پورا باغ اپنے چچا زاد بھائیوں اور دیگر قریبی عزیزوں میں تقسیم فرمادیا۔ [ بخاری ۱/ ۱۹۷ حدیث ۱۴۶۱]

اس سے معلوم ہوا کہ رشتہ داروں پر خرچ کرنا بسا اوقات عام صدقہ سے بھی افضل ہوتاہے، اسی لئے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس کا مشورہ دیا، جس کی آں موصوف نے فوراً تعمیل فرمائی، فَجَزَاهُمُ اللّٰهُ تَعَالیٰ خَيْرَالْجَزَاءِ۔

ناراض رشتہ دار پرخرچ کی فضیلت

خاص طور پر ایسا صدقہ جو کسی ایسے رشتہ دار پر کیا جائے جس سے دل نہ ملتا ہو؛ بلکہ وہ رشتہ دار برابر درپئے آزار رہتا ہو، پھر بھی محض رشتہ داری کی بنیاد پر اسے عطا کیا جائے اور اس پر نوازش جاری رکھی جائے، تو اس صدقہ کو صدقہ کو حدیث میں ”افضل ترین صدقہ“ کہا گیا ہے۔

ارشاد نبوی ہے:  أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ: اَلصَّدَقَةُ عَلیٰ ذِيْ الرَّحِمِ الْكَاشِحِ [ الطبرانی ۳۵/ ۸۰، وغیرہ، المتجرالرابح ۳۴۸]

سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو دل میں کدورت والے رشتہ پر کیا جائے۔

احادیث وسیر کی کتابوں میں مذکورہے کہ جب ”واقعۂ افک“ پیش آیا اور رام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر منافقین نے طوفان بدتمیزی مچایا، تو ایک سادہ لوح مہاجر بدری صحابی حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ بھی پیروپیگنڈہ سے متأثر ہوگئے، یہ ایک غریب صحابی تھے، اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی تھے، اس رشتہ کی بنا پرحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ان کی گاہے گاہے مالی مدد فرماتے رہتے تھے، جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ علم ہوا وہ بھی افک میں دلچسپی لینے والوں میں ہیں، تو آپ کو شدید ناگواری ہوئی اور ان کی مالی مدد کا سلسلہ بند فرما دیا، اور قسم کھائی کہ اب ان پر کچھ خرچ نہ کروں گا، تو اس پر قرآن کریم یہ آیت تنبیہ کے طور پر نازل ہوئی: وَ لَا یَاۡتَلِ اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡکُمۡ وَ السَّعَۃِ اَنۡ یُّؤۡتُوۡۤا اُولِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۪ۖ وَ لۡیَعۡفُوۡا وَ لۡیَصۡفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ [ سورۃ النور ۲۲] 

اور تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں، وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، اور انہیں چاہیے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائیں بخش دے ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

جب یہ آیت اتری تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بلاتامل فوراً بول اٹھے: ”اللہ کی قسم اے ہمارے رب! ہم یہی چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں بخش دیں“ اور پھر حضرت مسطح کا وظیفہ نہ صرف یہ کہ جاری کیا؛ بلکہ پہلے سے دو گنا کردیا۔ (روح المعانی ۱۸/ ۱۸۵) رضی اللہ عنہ وارضاہ۔ 

◆☜ اس سے معلوم ہواکہ معمولی کشیدگیوں کی بنا پر رشتہ داریوں میں ہدیہ کا لین دین بند نہیں ہونا چاہیے؛ بلکہ اس سلسلہ کو بہر حال جاری رکھنا چاہئے۔

 مال دار عورت کا غریب شوہر اور بچوں پر خرچ کرنا 

اسی طرح اگر کسی عورت کے پاس مال ہو اور اس کا شوہر اور بچے غریب ہوں تو ایسی عورت کے صدقہ کا بہترین مصرف اس کا شوہر اور بچے ہی ہوتے ہیں۔

صحیح روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں میں وعظ فرمایا اور انہیں صدقہ خیرات کی ترغیب دی، جس سے متأثر ہوکر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے پیغمبر علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا کہ میرے پاس زیورات ہیں اور میں انہیں اللہ کے تاستہ میں صدقہ کرنا چاہتی ہوں، اور میرے شوہر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (جو ایک غریب شخص ہیں) کہتے ہیں  کہ تمہارے صدقہ کے ہم زیادہ مستحق ہیں، تو میں کیا کروں؟ تو پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا: صَدَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ زَوْجُكَ وَوَلَدُكَ اَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهٖ عَلَيْهِمْ [ بخاری ۱/ ۱۹۷ رقم: ۱۴۶۲]

ابن مسعود نے سچ کہا تمہارے صدقہ کے سب سے زیادہ مستحق تمہارے شوہر اور بچے ہیں۔

تنبیہ:—— اس صدقہ سے فرض زکوٰۃ مراد نہیں؛ بلکہ نفلی صدقہ مراد ہے؛ کیوں کہ فرض زکوٰۃ شوہر یا بچوں کو دینے سے ادانہیں ہوتی۔ [ حاشیہ بخاری شریف ۱/ ۱۹۷]

اہل قرابت کے حقوق کی ادائیگی میں خاص حکمت یہ ہے کہ اسی میں ساری دنیا کا امن وامان منحصر ہے، اگر رشتہ داروں میں باہم میل ملاپ اور انسیت ومحبت کے جذبات بر قرار رہیں تو فتنہ وفساد جڑ نہیں پکڑ سکتا، عموماً فتنوں کے پھیلاؤ میں اہل قرابت کی باہمی رنجشیں بڑا بھیانک کردار ادا کرتی ہیں؛ اس لئے اسلام نے اس فتنہ کو جڑ سے مٹانے کی تلقین فرمائی ہے، جو اسلام کے دین فطرت اور انسانیت نواز مذہب ہونے کی کھلی دلیل ہے۔ 

 صلہ رحمی کا حکم 

رحم مادر... سارے رشتوں کی اصل بنیاد ہے، اس لئے اس بنیاد کو صحیح سالم رکھنا انسانیت کی عظیم خدمت ہے۔ اسی وجہ سے قرآن وحدیث میں ”صلہ رحمی“ کو ایک قابل تعریف اور باعت فضیلت صفت کی حیثیت سے متعارف کرایا گیا ہے۔ قرآن کریم میں قابل رشک جنتی لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا: وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ وَ يَخَافُوۡنَ سُوۡۤءَ الۡحِسَابِ [ سورۃ الرعد ۲۱]

اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، یہ لوگ انہیں جوڑے رکھتے ہیں، اور اپنے پر ورگار سے ڈرتے ہیں، اور حساب کے برے انجام سے خوف کھاتے ہیں۔

اور احادیث شریفہ میں بکثرت صلہ رحمی کے فضائل وترغیبات وارد ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُّبْسَطَ لَهٗ فِيْ رِزْقِهٖ وَأَنْ يُّنْسَأَلَهٗ فِیْ أَجَلِهٖ فَلِيَصِلْ رَحِمَه ٗ [ بخاری ۱/ ۲۷۷ رقم: ۲۰۶۷، ومسلم: ۲/ ۳۱۵ رقم: ۲۵۵۷]

جسے یہ بات اچھی لگے کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اسے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے۔

صلہ رحمی کرنے پر جن دو بشارتوں کا حدیث میں ذکر ہواہے یہ دونوں باتیں فطری طور پر انسان کو پسند ہوتی ہیں، آدمی یہ چاہتاہے کہ اسے روزی میں وسعت ملے، اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی عمر میں برکت ہو، تو ان مقاصد کے حصول کےلئے ”صلہ رحمی “ کی شرط کو پورا کرنے کا اہتمام ضروری ہے، ورنہ محض نری تمنا سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔

ایک دوسری روایت میں پیغمبرعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے مزیدوضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا: تَعَلَّمُوْا أَنْسَابَكُمْ مَاتَصِلُوْنَ بِهٖ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِيْ الأَهْلِ، مَثْرَاةٌ فِيْ الْمَالِ، مَنْسَأَةٌ فِيْ الْأَثَرِ [ سنن الترمذی ۲/ ۱۹] 

اپنے نسبی تعلقات کے بارے میں معلومات رکھو، تاکہ اس کے ذریعہ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرسکو؛ کیوں کہ صلہ رحمی خاندانوں میں محبت کا، مال میں اضافہ کا اور عمر میں برکت کا سبب ہے۔

اس روایت میں عمر اور رزق میں برکت کے ساتھ خاندانوں میں محبت کا بھی وعدہ کیا گیا ہے، جو بجائے خود ایک عظیم سعادت ہے، اور پر سکون زندگی کی ضمانت ہے، اور صلہ رحمی سے عمر میں برکت کی جو بات فرمائی گئی اس کی وضاحت رئیس المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے میں یہ ہے کہ ہر انسان  کےلئے دو مدتیں ہوتی ہیں، ایک پیدائش سے موت تک، دوسرے موت سے لے کر قیامت تک (پس اگر انسان صلہ رحمی کرنے والا ہوتاہے تو اس کی دنیوی زندگی بڑھادی جاتی ہے، اور برزخی زندگی میں اس کے بقدر کمی کردی جاتی ہے، اور) اگر قطع رحمی کرنے والا فاجر ہوتاہے تو اس کی دنیوی عمر تو گھٹ جاتی ہے، جب کہ برزخی عمر بڑھادی جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔ [ الترغیب والترہیب للیافعی ۱۱۳]

اور برکت کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس کی عمر فضول کاموں میں ضائع نہیں ہوتی؛ بلکہ کم عمری کے باوجود اس سے ایسے ایسے کام انجام پاتے ہیں جس کےلئے عموماً بڑی بڑی عمریں درکار ہوتی ہیں، تو یہ بھی برکت کی ہی ایک صورت ہے۔

علاوہ ازیں پیغمبرعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے صلہ رحمی کو بہترین اور افضل اعمال میں شمار فرمایا ہے، چنانچہ ایک صحابیہ دُرّۃ بنت ابی لہبؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ: مَنْ خَيْرُالنَّاسِ؟ (یعنی سب سے اچھا آدمی کون ہے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أَتْقَاهُمْ لِلّٰهِ وَأَوْصَلُهُمْ لِلرَّحِمِ وَاٰمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ [ الترغیب للیافعی ۱۱۴، مسنداحمد ۶/ ۴۳۲] 

سب سے اچھا انسان وہ ہے  جو ان میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا  اور ان میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا اور سب سے زیادہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والا ہو۔

نیز ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلہ رحمی کو جنت سے قریب کرنے والے اور جہنم سے دور کرنے والے مبارک اعمال میں شامل فرمایا ہے۔

اور ایک ضعیف روایت کے الفاظ یہ ہیں: اَلْبِرُّ وَالصِّلَةُ وَحُسْنُ الْجِوَارِ عِمَارَ ةٌ فِی الدُّنْيَا وَزِيَادَةٌ فِيْ الأَعْمَارِ [ مکارم الأخلاق:۱۵۹] 

حسن سلوک، صلہ رحمی اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ دنیا کی آبادی اور عمروں میں اضافہ کا سبب ہیں۔

اور بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ صلہ رحمی من جملہ ان اعمال میں سے ہے جن سے انسان بری موت سے محفوظ رہتا ہے، چنانچہ سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يُّمَدَّلَهٗ فِيْ عُمْرِهٖ وَيُوَسَّعَ لَهٗ فِيْ رِزْقِهٖ وَيُدْفَعَ عَنْهُ مِيْتَةَ السُّوْءِ فَلِيَتَّقِ اللّٰهَ وَلِيَصِلْ رَحِمَهٗ [ مسندالبزار والحاکم ۴/ ۱۶۰ بحوالہ الترغیب والترھیب مکمل ۵۴۰ رقم: ۳۸۲۱] 

جو اس بات سے خوش ہوکہ اس کی عمر میں اضافہ اور رزق میں وسعت ہو اور وہ بری موت سے محفوظ رہے، تو اسے چاہئے کہ اللہ سے ڈرتا رہے اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کرے۔

صحیح روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سفر میں اونٹنی پر تشریف لے جارہے تھے، اچانک ایک دیہاتی شخص سامنے آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑلی اور سوال کرنے لگاکہ ”اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے ایسی باتیں بتائیے جو مجھے جنت قریب اور جہنم سے دور کردیں“، اس کایہ اندازِ گفتگو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ: ”اس شخص کو خاص توفیق عطا ہوئی ہے“ (کہ اس نے اتنا معقول سوال کیا) پھر آپ نے اس دیہاتی سے کہا کہ اپنا سوال  دہراؤ، چنانچہ اس نے پھر وہی درخواست دہرائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:

اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھیراؤ

نماز قائم کرو

زکوٰۃ ادا کرو

صلہ رحمی کرو۔

یہی وہ اعمال ہیں جو جنت سے قریب اور جہنم سے دور کرنے والے ہیں پھر فرمایا: ” اچھا! اب اونٹنی کی لگام چھوڑ دو “ جب وہ دیہاتی وہاں سے چلا گیا تو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ سے فرمایا کہ:  إِنْ تَمَسَّكَ بِمَا أَمَرْتُهٗ بِهٖ دَخَلَ الْجَنَّةَ [ البخاری ۲/ ۸۸۵ رقم: ۵۹۸۳، مسلم ۲/ ۳۱۵ رقم: ۱۸، الترغیب: ۵۴۱، المتجرالرابح ۳۴۳] 

اگر یہ شخص میرے بتائے ہوئے حکم پر مضبوطی سے عامل رہا تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔

والدین پر شفقت کی نظر ڈالنے کا عظیم ثواب  

بعض ضعیف روایات میں سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَامِنْ رَخُلٍ بَارٍّيَنْظُرُ وَالِدَيْهِ أَوْ وَالِدَتَهٗ نَظْرَةَ رَحْمَةٍ إِلاَّ كَتَبَ اللّٰهُ تِلْكَ النَّظْرَةَ حَجَّةً مُتَقَبَّلَةً مَبْرُوْرَةً جو فرماں بردار شخص اپنے والدین یا اپنی والدہ پر شفقت کی ایک نظر ڈالتا ہے تو اللہ تعالٰی اس نظر کے عوض اس کےلئے ایک حج مقبول ومبرور کا ثواب لکھ دیتے ہیں۔

یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ: ”اے اللہ کے رسول! کیا اگر وہ لڑکا ایک دن میں سو مرتبہ والدین پر نظر ڈالے تب بھی یہ ثواب ملےگا“ ؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اَللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ أَكْبَرُ مِنْ ذٰلِكَ۔یعنی اللہ تعالٰی اس سے زیادہ ثواب دینے پر قادر ہے۔[ مکارم الأخلاق ۱۶۲]

اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ  نے ارشاد فرمایا کہ ”جو باپ بیٹے پر نظر ڈالے اور بیٹا اپنے عمل سے اس کے دل کو خوش کردے تو بیٹے کو باپ کی ہر نظر کے بدلے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملےگا، چاہے دن میں تین سو ساٹھ مرتبہ یہ بات پیش آئے“۔

[ مکارم الاخلاق ۱۶۳] 

والدین کی قبر کی زیارت کا ثواب 

ایک ضعیف روایت میں یہ بھی واردہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ زَارَ قَبْرَوَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً غُفِرَلَهٗ وَكُتِبَ بَرًّا [ مجمع الزوائد ۳/ ۵۹، مکارم الأخلاق ۱۷۹]

اس لئے انسان کو نہ صرف زندگی میں والدین کو خوش رکھنا چاہئے اور ان کی خدمت کرنی چاہئے؛ بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی ایصال ثواب اور ان کی قبروں کی زیارت کا اہتمام رکھنا چاہئے؛ کیوں کہ بعض روایات سے ثابت ہے کہ جب کوئی عزیز قریب میت کی قبر پر جاتاہے تو اس میت کو اس کی آمد سے ایسی ہی مسرت ہوتی ہے جیسے زندگی میں ملاقات سے خوشی ہوتی ہے۔ [ مستفاد: تفسیرابن کثیرمکمل ۱۰۳۳، درتفسیرآیت:اِنَّكَ لَاتُسْمِعُ الْمَوْتٰی، الروم ۵۳] 

والدین کے دوستوں سے تعلقات اچھے رکھنا

صلہ رحمی کا ایک جزویہ بھی ہے کہ والدین کی وفات کے بعد ان کے ملنے جلنے والوں سے تعلقات اچھے رکھے جائیں۔ حضرت مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک دن نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک شخص نے آکر عرض کیا کہ:”اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسی نیکی باقی ہے جسے میں والدین کی وفات کے بعد ان کے حق میں اختیار کروں“ تو نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: نَعَمْ الصَّلاَةُ عَلَيْهِمَا وَالاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْقَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيْقِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِيْ لأَتُوْصَلُ إِلاَّبِهِمَا [ ابوداؤد ۲/ ۶۹۹حدیث: ۵۱۴۲، الترغیب والترھیب للیافعی ۱۰۸ الاحادیث المنتخبۃ ۲۸۴، رقم: ۱۰۷۲] 

جی ہاں! ان کی وفات کے بعد درج ذیل نیکیاں کی جاسکتی ہیں

اُن کےلئے دعاء خیر کرنا

ان کےلئے مغفرت طلب کرنا

انہوں نے اگر کوئی عہد کر رکھا ہے تو ان کی وفات کے بعد اسے پورا کرنا

ان کے دوستوں کا اکرام کرنا

اور صلہ رحمی کرنا جوان کے تو سط کے بغیر نہیں ہوسکتی۔

اور ایک روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ أَنْ يَّصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّأَبِيْهِ [ مسلم ۲/ ۳۱۴ رقم: ۲۵۵۲، ترمذی ۲/ ۱۲] 

نیکی پر نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے ملنے جلنے والوں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔

ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ مکہ معظّمہ جارہے تھے راستہ میں ایک دیہاتی شخص سے ملاقات ہوئی، تو آپ نے اس کا بہت اکرام فرمایا اور اسے اپنا عمامہ اتار کر پہنا دیا، اور ساتھ میں حمار کی سواری اسے ہدیہ کردی، تو آپ کے بعض رفقاء سفر نے عرض کیا کہ یہ دیہاتی لوگ ہیں، تھوڑے بہت ہدیہ پر بھی راضی ہوجاتے ہیں، آپ نے اسے نہ صرف عمامہ عطا کیا؛ بلکہ اپنی وہ سواری بھی دے دی جس پر سوار ہوکر آپ دل بہلاتے تھے، تو حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس دیہاتی شخص کا باپ میرے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دوستوں میں سے تھا، اور میں نے نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہ سنا ہے کہ: ”بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرے“۔ [ مسلم شریف ۲/ ۳۱۴]

نیز ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا  إِحْفَظْ وُدَّأَبِيْكَ وَلاَ تَقْطَعْهُ فَيُطْفِئُ اللّٰهُ نُوْرَكَ [ رواہ الطبرانی باسناد حسن، مجمع الزوائد ۸/ ۱۴۷] 

اپنے والد کے دوستوں سے تعلقات بنائے رکھو اور ان سے مت بگاڑو، ورنہ اللہ تعالٰی تمہارے نور کو بجھادیں گے۔

درج بالا روایات سے معلوم ہواکہ کہ جن لوگوں سے خاندانی روابط آباء واجداد کے زمانہ سے چلے آتے ہیں، بچوں کو نہ صرف ان سے واقفیت رہنی چاہئے؛ بلکہ ان روابط کو مزید مضبوط بنانا چاہئے، یہ بھی آباء واجداد کے ساتھ صلہ رحمی میں داخل ہے۔

رشتہ داروں کی زیارت وملاقات 

شریعت کا ایک اہم حکم یہ بھی ہے کہ آدمی موقع بموقع رشتہ داروں سے ملاقات کا قصداً اہتمام رکھے۔ نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے: صِلُوْا أَرْحَامَكُمْ وَلَوْ بِالسَّلاَمِ [ الترغیب والترھیب للیافعی ۱۰۹]

اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو اگرچہ ان کو سلام کر کے ہی کیوں نہ ہو؟

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: مَامِنْ خُطْوَةٍ أَحَبَّ إِلَی اللّٰهِ مِنْ خُطْوَةٍ إِلٰی صَلاَةٍ أَوْ فَرِيْضَةٍ وَخُطْوَةٍ إِلٰی ذِيْ الْقَرَابَةِ [ الترغیب والترھیب للیافعی ۱۱۴]

 کوئی بھی قدم اللہ تعالٰی کو اس قدم سے زیادہ پسند نہیں جو نماز یا کسی فرض کی ادائیگی یا رشتہ دار کی ملاقات کےلئے اٹھا یا جائے۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اسلام میں رشتہ داری کے تعلق کو مضبوط رکھنے پر کس قدرت زور دیا گیا ہے؛ اور مضبوطی ملنے جلنے اور آنے جانے کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی؛ لہٰذا بالخصوص آج کل کے دور میں گاہے بگاہے غمی یا خوشی کے موقع پر محض اس نیت سے شرکت کرنی چاہئے کہ اعزہ سے یکجا ملاقات کا موقع مل جائے گا، یہ بھی ایک ثواب کا کام ہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کار خیر میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائیں، آمِينْ يَا رَبَّ الْعَالَمِين۔ 


شیطان سے بچاؤ کے حفاظتی ذرائع Shaitaan se bachana


شیطان سے بچاؤ کے حفاظتی ذرائع

مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر کرنا

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا : جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے: (اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ باسْمِ اللَّهِ وَلجْنا، وباسْمِ اللَّهِ خَرَجْنا، وَعَلى اللَّهِ رَبِّنا تَوََكَّلْنا، ثُمَّ ليُسَلِّمْ على أهْلِهِ) اے اللہ میں تجھ سے (گھر میں) داخل ہونے اور نکلنے کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں, اللہ کے نام کے ساتھ ہم (گھر میں ) داخل ہوئے اور اللہ کے نام کے ساتھ نکلے , اور اپنے پروردگار پرہم نے توکل کیا ‘‘پھر اپنے گھر والوں کو سلام کرے. (سنن ابو داؤد ج/4ص325,علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ,دیکھئے :الکلم الطیب حاشیہ نمبر4)

اہل خانہ سے سلا م کرنا

امام نووی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں مستحب یہ ہے کہ (آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت )بسم اللہ پڑھے اور بکثرت ذکر الہی کرے ,اور سلام کرے چاہے گھر میں آدمی ہوں یا نہ ہوں ,کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ﴾[النّور:61] جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرلیا کروجو اللہ کی جانب سے مبارک اور پاکیزہ سلام ہے ‘‘۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ كا بيان ہے کہ رسول ﷺنے (ان سے )کہا : (يَا بُنَيَّ إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُنْ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ) قَالَ أَبُو عِيسَي:(هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ) اے میرے بیٹے جب اپنے اہل کے پاس جاؤتو انہیں سلام کرو جو تم پر اور اہل خانہ پر برکت کا سبب ہوگا ‘‘۔(سنن ترمذی ,ج 4ص161,امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہا ہے ).

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺنے فرمایا :تین اشخاص ایسے ہیں جو اللہ تعالىٰ کی ضمانت میں ہیں۔

پہلا (1)وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلے تو وہ اللہ کی ضمانت میں ہے یہاں تک کہ فوت ہو جائے ,اللہ تعالى ٰاسے جنت میں داخل کرے,یا اجروغنیمت کے ساتھ لوٹادے ۔

دوسرا (2)وہ شخص جو گھر سے مسجد جانے کے لئے نکلے وہ بھی اللہ تعالىٰ کی ضمانت میں ہے یہاں تک کہ فوت ہوجائے اللہ تعالىٰ اسے جنت میں داخل کرے یا اجروثواب کے سا تھ لو ٹا دے ۔

تیسرا (3)وہ شخص جو اپنے گھر میں سلام کرکے داخل ہو تو وہ اللہ کی ضمانت میں ہے ۔ (امام ابوداؤد نے اس حدیث کو حسن سند کے ساتھ بیان کیا ہے جیسا کہ نوویؒ نے اذکار میں بیان کیا ہے).

امام نووی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ضامن علی اللہ کا مفہوم ہے ضمانت والا, گارنٹی پانےوالا , اورضمان کہتے ہیں کسی چیز کی حفاظت ونگرانی کرنے کو ,تو گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسا شخص اللہ کی حفاظت ونگرانی میں ہے . اور اس سے بہتر انعام اور کیا ہو سکتا ہے کہ آدمی ہمیشہ ہمیش کے لئے اللہ کی حفاظت اور نگرانی میں رہے .

کھاتے اور پیتے وقت اللہ کا ذکر کرنا

حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ’’جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تے وقت اور کھاتے وقت اللہ کا نا م لیتا ہے تو شیطان (اپنے ساتھی شیطانوں سے)کہتا ہے ,کہ تمہارے لئے یہاں شب بسر کرنے کی جگہ نہیں ہے اور نہ کھانا ہے, اور جب گھر میں داخل ہوتے وقت آدمی اللہ کا نام نہیں لیتا, تو شیطان (اپنے ساتھی شیطانوں سے )کہتا ہے کہ تم نے شب بسر کرنےکی جگہ پالی , اور جب کھانا کھاتے ہوئے بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے شب بسر کرنے اور کھانا کھانے کی جگہ پالی۔‘‘ (صحیح مسلم )

آپ نے دیکھا کہ اللہ کا ذکر شیطان کو کس طرح گھر سے بھگا دیتا ہے ,پھر وہ آپ کے ساتھ کھانے پینے اور سونے میں شریک نہیں ہوتا ,اورکس طرح ذکرالہی سے غفلت شیطان کو قیمتی فرصت مہیا کرتی ہے کہ وہ اپنا ٹھکانہ اورکھانے پینے کا انتظام آپ کے پاس کرلیتا ہے , اور اس میں وہ تنہا نہیں ہوتا ,بلکہ اسکے ساتھ شیطانوں کی ایک ٹولی ہوتی ہے ,پھر یہ ٹولی گھر میں رہ کرانڈے بچے دیتی ہے .

اس لئے!غفلت سے بچئے اورذکرالہی کو لازم جانئے, کیوں کہ ذکر الہی مضبوط رسی اور بہترین راستہ ہے .

 گھر میں کثرت سے قرآن کی تلاوت کرنا

اور یہ اس لئے کہ قرآن گھر کو خوشبو داراور پاک و صاف رکھتا ہے ,اور شیطان کو گھر سے نکال بھگاتا ہے, چنانچہ حضرت ابو موسىٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا : ’’قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال سنگترے (نارنجی) جیسی ہے کہ اسکا ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے اور خوشبو بھی عمدہ, اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی سی ہے, کہ اسکا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے مگر اس میں خوشبو نہیں ہوتی ,اورقرآن پڑھنے والے منافق کی مثال گل ریحان کی سی ہے کہ اس کی خوشبو عمدہ ہوتی ہے مگر ذائقہ کڑوا ہوتا ہے , اورقرآن نہ پڑھنے والےمنافق کی مثال اندرائن (کے پھل) جیسی ہے کہ اس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس میں خوشبو بھی نہیں ہوتی ‘‘۔ ( صحیح بخاری ومسلم)

اسی طرح گھر میں خشوع وخضوع کے ساتھ قرآن پڑھنے سےفرشتے گھر کے قریب آتے ہیں ,چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے کھلیان (کھجور جمع کرنے کی جگہ) میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ اچانک ان کی گھوڑی بدکنے لگی (وہ خاموش ہوگئے تو پھر وہ گھوڑی ٹہرگئی ) پھر وہ پڑھنے لگے تو پھروہ گھوڑی بدکنے لگی (اس کے بعد پھر وہ پڑھنے سے رک گئے ) پھر وہ پڑھنے لگے تو پھر وہ گھوڑی بدکنے لگی ,حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں ڈر گیا کہ کہیں گھوڑی (میرے بچے ) کو کچل نہ ڈالے , پھر میں اس گھوڑی کی طرف بڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائبان سا میرے سر پر ہے ,اور اس میں چراغ جیسی روشنی ہے ,پھر وہ روشنی فضا میں بلند ہونے لگی یہاں تک کہ میں نے پھر اس کو نہیں دیکھا ,میں رسول ﷺکی خدمت میں صبح کو حاضر ہوا, اور عرض کیا یارسول اللہ! گزشتہ رات میں اپنےکھلیان میں قرآن پڑہ رہا تھا کہ میری گھوڑی بدکنے لگی ,تورسول ﷺنے فرمایا: اے ابن حضیر! پڑھتے رہو, ابن حضیر کا بیان ہے کہ پھر میں پڑھنے لگا ,پھر وہ گھوڑی بدکنے لگی , پھر رسول ﷺنے فرمایا :اے ابن حضیر!پڑھتے رہو ,ابن حضیر کہنے لگے کہ میں ہی رک گیا ,کیونکہ یحیٰ گھوڑی کے پاس تھا ,میں ڈرا کہ کہیں یحیٰ کو کچل نہ ڈالے ,چنانچہ مین نے ایک سائبان سا دیکھا جس میں چراغ جیسی روشنی تھی ,پھر وہ فضا میں بلند ہونے لگی یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا ,تب رسول ﷺنے فرمایا : ’’يہ فرشتےتھے جوتمہاری قراءت سن رہے تھے اگر تم پڑھتے پڑھتے صبح کردیتے تو لوگ ان فرشتوں کو دیکھ لیتے اور وہ ان کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہتے ۔‘‘

گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کرنا

جب آپ یہ محسوس کریں کہ آپ کے گھر میں مشکلات بڑہ گئی ہیں ,آوازیں بلند ہونے لگی ہیں ,اور سرکشی وعناد پیدا ہوگئی ہے تویہ جان لیں کہ شیطان وہاں ضرور موجود ہے ,اسلئے آپ کو چاہیے کہ اسے بھگانے اور دور کرنے کی کوشش کریں ,لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کیسے بھاگے گا, اس سوال کا جواب آپ کو اللہ کے رسول ﷺدے رہے ہیں ,آپ نے فرمایا : (إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامًا وَسَنَامُ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ تُقْرَأُ خَرَجَ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ) ہرچیز کی کوئی چوٹی ہوتی ہے (جو سب سے اوپراور بالاتر ہوتی ہے )اورقرآن کی چوٹی سورۂ بقرہ ہے اور شیطان جب سورۂ بقرہ کی تلاوت ہوتے ہوئے سنتا ہے تو اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جہاں سورۂ بقرہ کی تلاوت ہوتی ہے ‘‘۔ (امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور حافظ ذہبی نے اس کی تائید کی ہے ,اور علامہ البانی نے اپنی کتاب السلسلۃ الصحیحۃ ح/558میں اس حدیث کو حسن کہا ہے ).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺنے فرمایا :(لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ) اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ(بلکہ اپنے گھروں کو تلاوت قرآن سے معمور رکھو)کیونکہ جس گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے اس گھر میں شیطان نہیں آسکتا ‘‘۔

شيطانی آواز سے گھر کوپاک رکھنا

فرمان باری تعالى ٰہے: ﴿وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ ﴾ اور ان ميں سے تو جسے بھی اپنی آواز سے بہکا سکتا ہے بہکالے ‘‘۔ (سورۂ اسراء:64)

مجاهد رحمة الله عليہ کہتے ہیں کہ: ’’شیطان کی آوازگانا ہے‘‘۔

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا : (لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا يُعْزَفُ عَلَى رُءُوسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ وَالْمُغَنِّيَاتِ يَخْسِفُ اللَّهُ بِهِمْ الْأَرْضَ وَيَجْعَلُ مِنْهُمْ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ) ’’ البتہ ضرور میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اس کا نام بدل دیں گے ’ان کے سروں پر گلوکارائیں گائیں گی اورآلات طرب بجائے جائیں گے ,اللہ تعالىٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا , اور ان میں سے بعض افراد کو بندر اور سور بنادیگا ‘‘۔(سنن ابن ماجہ 2/1333,اس حدیث کی سند حسن ہے, دیکھئے :علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب (اغاثہ اللہفان )۔

رسول ﷺنے فرمایا :(لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ ) ’’میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا , ریشم , شراب اور آلات موسیقی کو حلال سمجھ لیں گے ‘‘(صحیح بخاری 10/51مع الفتح)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’گانا دل میں اس طر ح نفاق پیدا کرتا ھے جیسے پانی سبزہ اگاتا ہے ۔ ‘‘

اور یزید بن ولید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :لوگو! گانے سننے سے بچو ,کیونکہ گانا سننا شرم وحیا کو کم کردیتا ہے ,شہوت کو بڑھاتا ہے ,مروّت کو ملیا میٹ کردیتا ہے, شراب کی نیابت کرتا ہے , انسان پر ویسا ہی اثر کرتا ہے جس طرح نشہ آور چیز۔‘‘

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : گانا سننا فسق ہے ,اورامام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے جب گانے کےبارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :گانا سننا فاسقوں فاجروں کا کا م ہے ۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :گانا سننا ایک ناجائز فعل ہے, اوراس کا عادی احمق ہے, اور اسکی گواہی قبول نہیں کی جائے گی .

امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :گانے سننےسے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے جو مجھے پسند نہیں ۔

مسلمان بھائیو اور بہنو!

گانے کی حرمت آپ پر واضح ہوگئی اوریہ بھی واضح ہوا کہ گانا شیطانی آواز ہے ,اور جب شیطان کسی گھر میں آواز دیتا ہے تو شیطان کا لشکرہر جگہ سے پہنچ کر اس گھر میں جمع ہوتا ہے ,پھر اس گھر میں فساد پھیلاتا ہے اور اس گھر میں رہنے والوں کے دلوں میں شقاق واختلاف ,بغض وکینہ پیدا کردیتا ہے , اور جب گھر میں گانا بجانا زیادہ بڑھ جاتا ہے تو پھر شیاطین اس گھر میں اپنا گھونسلہ بنا کر اس کو اپنا مسکن بنا لیتےہیں , اس لئے مسلمان بھائیو! آپ کے لئے ضروری ہے کہ اپنے گھروں کو گانے وغیرہ سے پاک وصاف رکھیں ,چاہے وہ گانا ریڈیو سے آرہا ہو, یا ٹیلی ویزن کے ذریعہ سے.

گھنٹیوں سے گھر کو پاک رکھنا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا : ( الْجَرَسُ مَزَامَيرُ الشَّيْطَانِ) ’’گھنٹی شیطان کے باجے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم ,سنن ابوداؤد)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی ایک دوسری روایت ہے جس میں ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: (لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلبٌ، أَوْجَرَسٌ) ’’فرشتے ان مسافروں کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ گھنٹا یا کتا ہو۔‘‘ (صحیح مسلم , ابوداؤد , ترمذی ,اوراما م ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے )

فرشتے اللہ کی فوج ہیں اور وہ ہمیشہ شیطانی فوج کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں،جب رحمانی فوجیں ان سے علیحدہ ہوتی ہیں تو پھران پر شیطانی فوجیں مسلط ہوجاتی ہیں .

لیکن گھنٹی سےمرا د وہ ممنوعہ گھنٹی ہے جو آوازکی شکل میں گرجا گھروں کے ناقوس کے مشابہ ہو ,اس سے موجودہ ٹیلی فون کی گھنٹی کا حکم مستثنىٰ ہے ,اسی طرح گھروں میں لگائی جانے والی گھنٹیاں بھی اس سے خارج ہیں , الاّ یہ کہ وہ گھنٹیاں آواز میں گرجاگھروں کے ناقوس کے مشابہ ہوں ,جس طرح وہ گھنٹی جو ایک دفعہ بجے پھر بند ہوجائے , اس طرح بجتی اوربند ہوتی رہے .

اسی طرح ممنوعہ گھنٹی میں دیوار گھڑی کی وہ گھنٹی بھی شامل ہے جو بنڈول کے نام سے جانی جاتی ہے ,اسلئے کہ یہ آواز میں گرجا گھر کے ناقوس کے متشابہ ہوتی ہے ,اور یہاں پر ایک بات اچھی طرح جان لیں کہ موسیقی کی گھنٹی جو حرام ہے اس کی حرمت اس وجہ سے نہیں ہےکہ وہ عیسائیوں کےناقوس کے متشابہ ہے, بلکہ اس کی حرمت اس وجہ سے ہے, کہ یہ شیطانی باجے ہیں ,جس کی نشاندہی سطور بالا میں کی جا چکی ہے .

صلیب[كراس نشان ] سے گھر کو پاک رکھنا

اسلئےکہ صلیب نصارىٰ کاشعار ہے ,اورہمیں یہودونصاریٰ کی مشابہت سے روکا گیا ہے , لیکن ہائے افسوس !آج صلیبیں مسلمانوں کے گھروں میں داخل ہوچکی ہیں ,مسلمانوں کے جس گھر میں داخل ہوں گے صلیب آپ کو ضرور ملے گا ,جا نماز میں ,یا پردے میں یا دیوار کے نقش ونگار میں ,بلکہ یہ صلیبیں اللہ کے گھروں (مسجدوں ) میں داخل ہو چکی ہیں ,کتنی مسجدیں ہیں کہ اگر اس کے جانمازوں کے نقش ونگار کو بنظرغائر دیکھا جائے تو آپ کو صلیبیں صاف صاف نظر آئیں گی ,اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ یہ جا نمازیں اور قالینیں عیسائی ملکوں سے درآمد کئے جاتے ہیں ,گویاکہ یہ نیا صلیبی حملہ ہے جو ہر گھر پر حملہ آور ہے , اسلئے اے مسلمان بھائیو !آپ محتاط رہیں ,اورکپڑا ,بستر ,قالین ,جانماز وغیرہ خریدتے وقت گہری نظرڈالیں ,اوریہ نہ کہیں کہ بلا تعمّد یہ صلیبیں آگئی ہیں ,کیونکہ نبی کریم ﷺجوصلیب بھی اپنے گھرمیں پاتے اس کو توڑ ڈالتے , کیا کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺکے گھر میں عمداً صلیب لائی گئی تھی .

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : (أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصَالِيبُ إِلَّا نَقَضَهُ) ’’آپ ﷺگھر میں جب کوئی ایسی چیز دیکھتے جس پر صلیب کی تصویر یں ہوتیں تو اس کو توڑ ڈالتے ‘‘۔(صحیح بخاری ,سنن ابو داؤد).

 گھر کو تصویروں ,مجسموں اور مورتیوں سے پا ک رکھنا

ایک مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے گھر کو مجسموں اور مورتیوں سے پاک رکھے ,سوائے ان کے جن کا استثناء حدیث میں آیا ہوا ہے , اوروہ لڑکیوں کا گڑیا ہے ,اسی طرح تصویروں سے بھی (گھرکوپاک رکھے) بجز ان تصویروں کے جو ضرورت کے لئے ہوں جیسے پاسپورٹ , شناختی کارڈ اور سرکاری کاغذات وغیرہ .

اس لئے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر اورمجسمے ہوں , اورجیسا کہ ہم نے ابھی ذکر کیا کہ فرشتے جس گھر سے نکل جاتے ہیں شیطان اس گھر میں اپنا مسکن بنالیتا ہے , چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے انہوں نے ایک توشک خریدی جس میں تصویریں تھیں ,جب رسول ﷺنے اس کو دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے رہے اوراندر نہ گئے ,میں نے آپ کے چہرۂ مبارک سےناراضگی کو پہچان لیا,میں نے کہا یارسول اللہ !میں توبہ کرتی ہوں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے میرا کیا گناہ ہے؟

آپ نے فرمایا :یہ توشک کیسی ہے ؟ میں نے کہا اس کو میں نے خریدا ہے تاکہ آپ بیٹھیں اور ٹیک لگائیں , آپ نے فرمایا: ان تصویروں کو بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائیگا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جنہیں پیدا کیا انہیں زندہ کرو ,آپ نے مزید فرمایا کہ جس گھر میں تصویرہو وہاں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے ‘‘۔(صحیح بخاری ومسلم )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا  :( لاَ تَدْخُلُ المَلاَئِكَةُ بَيْتاً فِيهِ تَمَاثِيلُ، أوْتَصَاوِيْر) ’’جس گھر میں مجسمے اور تصاویر ہوں وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے ‘‘۔ (صحیح مسلم )

یہاں یہ بات بھی اچھی طرح جان لیں کہ یہ حرمت عام اور ہر قسم کی تصویروں کو شامل ہے, چاہے وہ فوٹو ہو, یا مجسم تصویر ہو , اس کا سایہ ہو یانہ ہو, یا وہ تصویر ہاتھ سے بنائی گئی ہو یا کیمرہ وغیرہ سے .

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس میں کوئی فرق نہیں چاہے ان تصویروں کے سایے ہوں یانہ ہوں ,اس مسئلہ میں یہی ہمارے لئے منع کی گئی چیزوں کا خلاصہ ہے اور اسی مفہوم کو جمہور علماء صحابہ ,تابعین اور تبع تابعین اور بعد کے لوگوں نے بیان کیا ہے ,یہی سفیان ثوری ,امام مالک وامام ابو حنیفہ رحمہم اللہ وغیرہم کا مسلک ہے ,اس حرمت سے وہ تصویریں مستثنیٰ ہیں جس میں جان نہ ہو جیسے درخت ,نہریں ,کھیتیاں اور جمادات وغیرہ .

حضرت سعید بن ابی الحسن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اورکہا اے ابن عباس! میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میرا ذریعہ معاش میرے ہاتھ کی صنعت ہے اور میں یہ تصویریں بنایا کرتا ہوں تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول ﷺکو جوفرماتے ہوئے سنا ہے وہی میں تم سے بیان کرتا ہوں ,آپﷺنے فرمایا :’’جوشخص دنیا میں کوئی تصویر بنائے گا اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس کے اندر جان ڈالے مگروہ اس میں جان نہ ڈال سکے گا ‘‘وہ آدمی غصہ سے پھٹنے لگا تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’تم پر افسوس ہے اگر تم ایسا ہی کرنا چاہتے ہو, تو درخت اور بے جان چیزوں کی تصویریں بناؤ‘‘۔(متفق علیہ روایت ہے اور لفظ بخاری کے ہیں)

 گھر کا کُتّوں سے پاک رکھنا

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺنے فرمایا:( لاَ تَدْخُلُ المَلاَئِكَةُ بَيْتاً فِيهِ كَلْبٌ، وَلاَ صُورَةٌ) ’’[ رحمت كے ]فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو ۔ ‘‘(صحیح بخاری وصحیح مسلم )

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ جبرئیل علیہ السلام نے رسول ﷺ کے پاس ایک متعین وقت میں آنے کا وعدہ کیا , وقت گزرگیا لیکن جبرئیل علیہ السلام نہ آئے ,اس وقت رسول ﷺکے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی, آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے پھینک دیا اور فرمایا :’’کہ اللہ تعالىٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا نہ اس کے قاصد وعدہ خلافی کرتے ہیں, پھر آپ نے اِدھر اُدھر دیکھا تو ایک پِلاّ ( یعنی کتے کا بچّہ) آپ کی چارپائی کے نیچے دکھائی دیا , آپ نے فرمایا اے عائشہ! یہ پِلاّ اس جگہ کب آیا ؟ انہوں نے کہا اللہ کی قسم !مجھے علم نہیں ,آپ نے حکم دیا وہ باہر نکالا گیا , پھر جب جبرئیل آئے تو رسول ﷺنے فرمایا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور میں آپ کے انتظارمیں بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے ,تو جبرئیل نے کہا یہ کتّا جو آپ کے گھر میں تھا اسنے مجھے روک رکھا تھا, جس گھر میں کتّا اور تصویر ہو ہم وہاں داخل نہیں ہوتے ۔‘‘ (صحیح بخاری ومسلم )

اس حکم سے صرف شکاری, یا حفاظتی کتے مستثنىٰ ہیں بشرطیکہ کتّاکا لا نہ ہو, اس لئے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا : ( الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ) ’’ سیاہ کتا شیطان ہے ۔‘‘ اورسیاہ کتے کو قتل کرنے کا حکم دیتے ہوئے آپ ﷺنے فرمایا : (عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ) ’’ تم دو نقطوں والے کالے سیاہ کتے کو مارو کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘(صحیح مسلم)

ایک دوسری روایت جو حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے , ان کا بیان ہے کہ میں نے رسولﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:(مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ) ’’جو شخص مویشی یا شکاری کتے کے علاوہ کوئی اور کتا پالے تواس کے ثواب میں سے روزانہ دوقیراط گھٹتے جائیں گے ۔‘‘ (بخاری ومسلم )

 گھر میں نفلی نمازوں کا بکثرت اہتما م کرنا

حضرت عبد اللہ بن عمرورضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :(اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا) ’’اپنی نمازوں کا کچھ حصہ اپنے گھروں میں ادا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ‘‘۔(صحیح بخاری ومسلم ) اور یہ بات معلوم ہے کہ قبرستان ,بیابان اور ویران مقامات شیطانوں کے اڈے ہوتے ہیں ,گویا کہ آپ ﷺکا ہم سے یہ مطالبہ ہےکہ شیطانوں کو اپنے گھروں سے بگھانے کے لئے نفل نماز کا کچھ حصہ اپنے گھرمیں پڑھ لیا کریں .

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: گھر میں نماز پڑھنے کی ترغیب اس لئے دی جارہی ہے کہ یہ کام آسان اور اس میں ریاکاری سے دوری اور اعمال کی بربادی سے بچاؤ ہے ,نیز اس وجہ سے بھی کہ اس سے گھر میں برکت کا حصول ہوتا ہے ,رحمت نازل ہوتی ہے ,فرشتے آتے ہیں اورشیطان گھر سے بھاگتا ہے ,ا.ھ.( شرح مسلم للنووی )

ایک دوسری حدیث میں نفل نماز کی ترغیب دیتے ہوئے آپ ﷺنے فرمایا: (صَلُّواأَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ, ‌‌‏فَإِنَّ أفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ) ’’ اے لوگو! اپنےگھروں میں (نفل ) نماز پڑھو کیونکہ فرض کے علاوہ آدمی کی افضل نماز وہ ہے جو گھر میں پڑھی جائے ‘‘۔(امام نسائی نے اس حدیث کو جید سند سے بیان کیا ہے ,دیکھئے " الترغیب والترہیب" للمنذری ,علامہ البانی نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ,دیکھئے(صحیح الترغیب :ج 1/178)

حضرت ابوموسىٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺنے فرمایا : (مَثل الْبَيْتِ الَّذِي يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ ، وَالبَيْتِ الَّذِي لَا يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ ، مثل الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ ) ’’جس گھر میں اللہ کا ذکر ہوتا ہو اور جس گھرمیں اللہ کا ذکرنہ ہوتا ہوان کی مثال زندہ اورمردہ کی سی ہے ‘‘۔(صحیح مسلم )

اچھی بات اورخندہ پیشانی

آپ کویہ معلوم ہے کہ شیطان مسلم معاشرے کو تہس نہس کرنے کے لئے تدبیریں کرتا , چال چلتا اورمنصوبے بناتا ہے, اس کےمنصوبے میں مسلم خاندان کی بنیاد کو اکھاڑپھینکنا بھی شامل ہے, کیوں کہ معاشرے کی تعمیر میں یہ پہلی اینٹ ہے, جس کی وضاحت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث کررہی ہے , رسول ﷺنے فرمایا : (إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ قَالَ فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ نِعْمَ أَنْتَ!) ’’ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے ,پھر وہاں سے وہ اپنا لشکر (دنیا میں فساد برپا کرنے کے لئے )بھیجتا ہے , ابلیس کے سب سے قریب وہ شیطان ہوتا ہے جوسب سے بڑا فتنہ برپا کرے،چنانچہ ان میں سے ایک (شیطان)آکر کہتا ہے کہ میں نے ایسا ایسا کیا،توابلیس کہتا ہے کہ تونے کچھ نہیں کیا،پھران میں سے ایک (دوسرا شیطان)آکر کہتا ہےکہ میں فلاں بیوی کے پیچھے پڑا رہا یہاں تک کہ ان دونوں میں علیحد گی پید ا کردی ,راوی کہتے ہیں کہ:ابلیس اسے اپنے قریب کرلیتا ہے اورکہتا ہے: تو بہت خوب ہے!(یعنی تونے بہت اچھاکام کیا) ‘‘۔(صحیح مسلم )

ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان تفرقہ ڈالنا معاشرہ کی بنیاد کو جڑسے اکھاڑپھینکنا ہے , اوریہ ابلیس لعین کا خاص ہدف ہے ۔

اسلئے شوہر کے لئے ضروری ہے کہ اپنی بیوی سے حسن سلوکی سے پیش آئے ,اور اچھی بات اختیار کرے, تاکہ شیطان اس کے اوراسکی بیوی کے درمیان فساد برپا نہ کرسکے, فرمان باری تعالى ہے: ﴿وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُواْ الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ﴾ [الإسراء:53] ’’میرے بندوں سے کہدیجئے کہ وہ بہت ہی اچھی بات منہ سے نکالا کریں کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے ‘‘۔ (سورۂ اسراء:53)

اچھی بات دل کو خوش کردیتی ,میل جول کو برقرار رکھتی, اور میاں بیوی کے درمیان خوش بختی کو عام کرتی ہے, اوراس سکون و آرام کو ثابت کردیتی ہے جس مقصد کے لئے عورتیں مردوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں , محبت اورمودّت کےروابط اورمیاں بیوی کے درمیان ہمدردی کے رشتوں کو مضبوط بنا دیتی ہے , فرمان الہی ہے: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾ ’’اوراس كی نشانيوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ, اوراسنے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی ,یقیناً غوروفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ (سورۂ روم:20)

اہل خانہ کی حفاظت

حضرت عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سےروایت ہے کہ رسول ﷺنے فرمایا: (إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً أَوِ اشْتَرَى خَادِمًا ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ ، ,(وفي رواية )ثم لْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وليدعُ بالبركة في المرأةِ والخَادمِ ،وَإِذَا اشْتَرَى بَعِيرًا فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ فَلْيَقُلْ ذَلِكَ) ’’تم ميں سے کوئی جب کسی عورت سے شادی کرے, یا کوئی غلام خریدے, تو یہ دعا کرے (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ) ’’اے اللہ میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس چیز کی بھلائی چاہتا ہوں جس پر تونے اس کو پیدا کیا , اورتجھ سے اس کی برائی ,اوراس چیز کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں جس پر تونے اس کو پیدا کیا ‘‘ (سنن ابی داؤد ,علامہ البانی رحمۃ اللہ نے الکلم الطیب کی تخریج میں اس حدیث کی سند کو حسن کہا ہے)

ایک دوسری روایت میں ہے:’’ اس کی پیشانی پکڑے, اوربیوی اورخادم کے بارے میں برکت کی دعا کرے , اور جب اونٹ خریدے تو اس کی کوہان کی چوٹی کو پکڑ کراوپر کی دعا پڑھے .

اور دولہا کو چاہئے کہ شب زفاف میں اپنی بیوی کے ساتھ دورکعت نماز پڑھے ایسا کرنے سے دونوں کی ازدواجی زندگی ہر نا پسند یدہ چیز سے محفوظ رہے گی .

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ کا بیان ہے کہ’’جب تمہاری بیوی تمہارے پاس آئے تو تم اسے کہو, کہ وہ تمہارے پیچھے دو رکعت نماز پڑھے, اور یہ دعا کرو(اللَّهُمَّ ، بَارِكْ لِي فِي أَهْلِي ، وبَارِكْ لَهُمْ فِيَّ ، اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي مِنْهُمْ ، وارْزُقْهُمْ مِنِّي ، اللَّهُمَّ ، اجْمَعْ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ إِلَى خَيْرٍ ، وفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَى خَيْرٍ ) ’’اے اللہ 1میرے لئے میرے اہل میں برکت عطا فرما . اور ان کے لئے مجھ میں برکت عطا فرما , اے اللہ!جب تک ہمیں اکھٹا رکھے خیر پر اکھٹا رکھ, اورجب ہمارے اندر جدائی ہو تو خیر ہی پر جدائی کر ۔‘‘ (طبرانی ,علامع البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس اثرکوحسن کہا ہے )

اولاد کی شیطان سے حفاظت

مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ ہمبستری کی دعاؤں کا اہتمام کرے , ایسا کرنے سے بچہ شیطان کے اثر سے محفوظ رہے گا , حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: (لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ ،اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ ،وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَقضى بَيْنهُمَا وَلَدٌ، لَمْ يَضُرُّه الشَيْطَانُ أَبَدًا) ’’اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے جماع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے : (بِسْمِ اللَّهِ ،اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ ،وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا) ’’اے اللہ !تو ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ, اور تو ہمیں جو اولاد عطا کر اسے بھی شیطان سے بچانا ‘‘ تو ان کے یہاں جو بچہ پیدا ہوگا شیطان اسے کبھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا ‘‘۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم )

اذان سے شیطان بھاگتا ہے اس لئے مسلمان کو چا ہئے کہ بچے کی ولادت کے وقت نو مولود کے کان میں اذان دے , حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو رسول ﷺ نے ان کے کان میں اذان کہی‘‘(سنن ابوداؤد ,ترمذی ,اورامام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے )([2] )

اولاد کو زہریلے جانوروں[سانپ ,بچھو] اور حسد سےبچاؤ

صبح وشام کے وقت اپنی اولا د کو جمع کریں, اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرکر یہ دعا پڑھیں: (أُعِيذُكُمْ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ،‏ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ) ’’ میں تمہیں اللہ کی کلمات تامہ کے ساتھ ہر شیطان, زہریلے جانوراور نظر بد سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔‘‘

اور یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺحضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہما کو مذکورہ بالا دعا کے ساتھ دم کیا کرتے تھے, اورفرماتے کہ تمہارے جد امجد ابراہیم علیہ السلام اسی دعا کے ساتھ اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام کو دم کیا کرتے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری ,سنن ترمذی )

خاتِمَہ

پچھلے صفحات میں شیطان سے بچنے کے پندرہ حفاظتی وسائل بیان کئے گئےہیں ,جس نے ان وسائل کو اپنا لیا تو اس نے اپنے گھر سے شیطان کو مار بھگایا ,اور رحمن کی حفاظت ونگرانی میں آگیا۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری یہ باتیں خالص اپنی رضامندی کے لئے بنائے ,مجھے اورتمام مسلمان بھائیوں کو اس سے فائدہ پہنچائے, اور دینی امور میں ہمیں بصیرت عطا فرمائے ۔

اے اللہ !تو پاک ہے, ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لئے ہے ,میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرےسوا کوئی معبود برحق نہیں , میں تجھ ہی سے مغفرت چاہتا ہوں اورتیری جناب میں توبہ کرتا ہوں۔ وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلى آلہ وأصحابہ أجمعین



D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں