MS Urdu, Islamic Stories, Urdu Islamic Books, Quran Stories, Hadees Books, Urdu Islamic history Books, Seerat un Nabi Books, Urdu Islamic books, Urdu Ambiya Books
ہفتہ، 6 مئی، 2023
روح کی بیماری کا علاج
منگل، 18 اپریل، 2023
حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 13 Story of Prophet Ibrahim
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 13
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کا وصال
حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین میں رہ رہے تھے،اُس وقت وہ ملک کنعان میں تھا۔اور آپ علیہ السلام ”الخلیل“میں رہتے تھے،جسے آج کل ”حبرون“بھی کہا جاتا ہے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ میں رہ رہے تھے۔حضرت اسحاق علیہ السلام جوان ہو چکے تھے،اور فلسطین میں اپنے والدین کے ساتھ رہ رہے تھے۔جب سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کی عُمر ایک سو ستائیس (127) سال ہوئی تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لیا۔آپ رضی اﷲ عنہا کے وصال سے حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے۔بنو حیث کے عفرون بن صخر سے آپ علیہ السلام نے ایک قطعہ زمین چار سو مثقال چاندی پر خریدی۔حالانکہ وہ آپ علیہ السلام کو بلاقیمت دینا چاہتا تھا،لیکن آپ علیہ السلام نے زمین خریدنا منظور کیا۔اور وہاں سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کو دفن کر دیا۔
حضرت اسحاق علیہ السلام کانکاح
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ کنعانیوں کی لڑکی سے نکاح نہ کریں۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کا نکاح کا پیغام اپنی بیوی سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کے والد حاران کے قبیلے میں بھیجا۔یہ قبیلہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا ننیھال بھی تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لیکر آئے ،اور نقفا بنت بتویل بن ناحور بن آزر سے حضرت اسحاق علیہ السلام کا نکاح کر دیا۔اُس وقت حضرت اسحاق علیہ السلام کی عُمر چالیس سال تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی عیصو اور حضرت یعقوب علیہ السلام جڑواں پیدا ہوئے۔اور آپ علیہ السلام نے اپنے دونوں پوتوں کو اپنی گود میں کھلایا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پہلی بیوی سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا سے حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے۔اور دوسری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اِن دونوں بیویوں کے انتقال کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سیدہ قطورہ یا قنطورہ سے نکاح کیا۔اور اِس تیسری بیوی سے چھ بیٹے زمران،یقشان،مدائن،مدین،اشبق اور شوخ پیدا ہوئے۔پھر قطورہ یا قنطورہ کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حجون بنت اہیب سے نکاح کیا۔اِس چوتھی بیوی سے پانچ بیٹے کیسان،فروخ،اسیم،لوطان،اور نافس پیدا ہوئے۔ا،س طرح آپ علیہ السلام کے کُل بیٹوں کی تعداد تیرہ (13) ہوئی۔
ملک الموت سے ملاقات
حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت مہمان نواز تھے،اور مسکینوں اور مسافروں پر رحم فرماتے تھے۔اُن کے پاس مہمان نہیں آتے تو آپ علیہ السلام انتظار کرتے رہتے تھے،اور گردن لمبی کر کے راستے کو تکتے رہتے تھے۔اِس کے بعد مہمان کی تلاش میں نکل پڑتے تھے۔ایک دن آپ علیہ السلام مہمان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آ پ علیہ السلام کو ایک مسافر آتا دکھائی دیا۔آپ علیہ السلام اُس کے استقبال کے لئے دوڑ پڑے،وہ انسانی شکل میں ”ملک الموت“تھے۔انہوں نے سلام کیا،اور آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔پھر پوچھا؛”آپ کون ہیں؟“انہوں نے جواب دیا؛”میں مسافر ہوں ،آپ علیہ السلام کو مہمان کے آنے کی اتنی خوشی ہوئی کہ انہوں نے یہ توجہ نہیں کی کہ کون ہے؟آپ علیہ السلام نے خوش ہو کر فرمایا؛”میں یہاں آپ جیسے شخص کے لئے بیٹھا ہوں۔“اور اُن کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر میں لے آئے۔جب حضرت اسحاق علیہ السلام نے انہیں دیکھا تو ملک الموت کو پہچان گئے،اور رونے لگے۔بیٹے کوروتا دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی رونے لگے،اور انہیں روتے دیکھ کر ملک الموت بھی رونے لگے۔کچھ دیر بعد اچانک ملک الموت اُٹھ کر گھر کے باہر آگئے،اور آسمان کی طرف چلے گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام رونے کی وجہ سے توجہ نہیں کر سکے،کچھ دیر بعد دیکھا تو مہمان غائب تھا۔آپ علیہ السلام تیزی سے اُٹھ کر باہر آئے،اور دیکھا تو مہمان کہیں دکھائی نہیں دیا۔اندر آکر بیٹے سے ناراضگی سے فرمایا؛”تم میرے مہمان کو دیکھ کر رونے لگے ،جس کی وجہ سے وہ چلے گئے۔“حضرت اسحاق علیہ السلام نے عرض کیا؛”اباجان!آپ علیہ السلام مجھ سے ناراض نہ ہوں ،میں نے آپ علیہ السلام کے ساتھ ملک الموت کو دیکھا تھا۔اِس لئے یہ سوچ کر رونے لگا تھاکہ آپ علیہ السلام کی موت کا وقت قریب آگیا ہو۔“اِس کے بعد پھر ایک مرتبہ ملک الموت آپ علیہ السلام کے پاس آئے تو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں۔نماز ختم ہونے کے بعد آپ علیہ السلام نے دعا مانگی،تب ملک الموت اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے،اور عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !میں آپ کے ایک ایسے بندے کے پاس سے ہو کر آرہا ہوںکہ اِس وقت روئے زمین پر اُس سے بہتر شخص کوئی نہیں ہے۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”تُونے اُس بندے میں کیا دیکھا؟“ملک الموت نے کہا؛”اُس نے تیری مخلوق میں سے ہر ایک کے لئے اُس کے دین اور اُس کی معصیت کے لئے خیر کی دعا مانگی،کسی کو نہیں چھوڑا۔“
روح قبض کرنے کے وقت ملک الموت کی شکل
حضرت ابراہیم علیہ السلام ،اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھے کہ ملک الموت حاضر ہوئے،اور سلام کیا۔آپ علیہ السلام نے جواب دیا،اور فرمایا؛”بھائی تم کون ہو؟جو میری اجازت کے بغیر میرے کمرے میں چلے آئے۔“انہوں نے عرض کیا؛”یا رسول اﷲ علیہ السلام !میں ملک الموت ہوں ۔“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”جب تم مومنوں کی روح قبض کرتے تو کس شکل میں آکر اُن کی روح قبض کرتے ہو؟“تو ملک الموت نے عرض کیا؛” یا رسول اﷲ علیہ السلام !آپ ذرا اپنا چہرۂ مبارک اُس طرف پھیر لیں۔“آپ علیہ السلام نے چہرۂ مبارک پھر لیا،کچھ دیر بعد ملک الموت نے انتہائی سُریلی آواز میں عرض کیا؛”اب میری طرف دیکھیں۔“جب آپ علیہ السلام نے انہیں دیکھا تو انتہائی خوبصورت حسین چہرے والا شخص دکھائی دیا،جس کے چہرے پر بہت زیادہ شفقت اور محبت ظاہر ہو رہی تھی۔اور اتنی پیاری مسکراہٹ تھی کہ انسان کا دل بے اختیار اُس کی طرف کھنچا جاتا تھا،اتنا نور تھا کہ بہت بھلا معلوم ہوتا تھا۔آپ علیہ السلام نے جب ملک الموت کو اِیسی حالت دیکھا توفرمایا؛”تم کو ایسی میں دیکھنے کے بعد کوئی بھی تمہارے ساتھ جانا پسند کرے گا۔“اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”جب تم کافروں اور ظالموں کی روح قبض کرنے آتے ہو تو کس شکل میں آتے ہو؟“ملک الموت نے عرض کیا؛”ذرا اپنا چہرۂ مبارک اُس طرف پھیر لیں۔“آپ علیہ السلام نے چہرہ¿ مبارک پھر لیا۔کچھ دیر بعد انتہائی پھٹی ہوئی اور خوفناک آواز سنائی دی؛”اب میری طرف دیکھیں۔“جب آپ علیہ السلام نے ملک الموت کی طرف دیکھا تو ایک انتہائی سیاہ اور بھیانک شکل دکھائی دی،اُس کے چہرے پربے انتہا سختی ،غصہ ،ناراضگی اور حقارت دکھائی دی۔اور وہ شکل اتنی خوفناک اور ہولناک تھی کہ اُسے سیکھ کر آپ علیہ السلام چکرا کر گئے،اور زمین پر گر گئے۔قریب تھا کہ آپ علیہ السلام کی روح پر واز ہو جاتی کہ ملک الموت عام شکل میں سامنے آئے اور آپ علیہ السلام کو سنبھالنے لگے۔آپ علیہ السلام کا پورا بدن پسینے میں شرابور ہو چکا تھا،کچھ دیر بعد حالت اعتدال پر آئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اگر کافر اور ظالموں کو دوزخ،میدان حشر اور قبر کے عذاب سے بچالیا جائے،تب بھی تمہاری یہ شکل و صورت ہی اُس کے عذاب کے لئے کافی ہے۔“
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وصال
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وصال کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کا وصال ایک سو پچہتر(175) سال کی عُمر میں ہوا۔ایک اور روایت ہے کہ ایک سو نوے(190)اور دوسو(200) سال کے درمیانی عُمر میں ہوا۔اور ایک روایت ہے کہ دو سو(200) سال کی عُمر میں انتقال ہوا۔اور زیادہ تر علمائے کرام کا اِسی پر اتفاق ہے۔جب آپ علیہ السلام کے وصال کا وقت آیا تو اﷲ تعالیٰ نے ملک الموت سے فرمایا؛”میرے خلیل کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا۔“ملک الموت ایک بوڑھے کی انسانی شکل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس تشریف لائے۔اُس وقت آپ علیہ السلام اپنے انگوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے۔آپ علیہ السلام نے ایک بوڑھے مہمان کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے،اور فوراًاُن کا استقبال کیا۔اور عزت سے بٹھایا ،اور انگور لا کر خدمت میں پیش کئے۔ملک الموت نے انگور اُٹھا کر کھانے شروع کئے،لیکن وہ ٹھیک سے کھا نہیں پا رہے تھے۔کیونکہ ہاتھوں میں اتنازیادہ رعشہ تھا کہ کبھی انگور کان میں چلا جاتا تھا،اور کبھی ناک میں چلا جاتا تھا۔اور جو دانے منہ میں جاتے تھے تو انہیں چبا نہیں با رہے تھے،اور وہ اُن کے کپڑوں پر گر رہے تھے۔آپ علیہ السلام حیرت سے یہ منظر دیکھتے رہے،پھر فرمایا؛”حضرت آپ کی عُمر کتنی ہے؟“تو ملک الموت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر کااندازہ لگا کر اُن سے دو سال زیادہ عُمر بتائی۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اِس کا مطلب یہ ہے کہ دو سال کے بعد میری بھی ایسی حالت ہونے والی ہے۔اے اﷲ تعالیٰ !ایسا مجبور بڑھاپا آنے سے پہلے مجھے اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لے۔“جب ملک الموت نے آپ علیہ السلام کو راضی دیکھا تو اصل شکل میں آئے ،اور آپ علیہ السلام کی روح قبض کرلی۔بے شک ہم اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں،اور اُسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اچانک وصال ہوا ۔حضرت اسماعیل بھی مکۂ مکرمہ سے ملک کنعان آگئے تھے،اور دونوں بھائیوں نے ملکر اپنے والد محترم کو سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ دفن کیا۔یہاں اب ایک بہت بڑا شہر بن گیا ہے۔جس کا نام حبرون یا الخلیل ہے۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام نبوت سے سرفراز
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وصا ل کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام مکۂ مکرمہ واپس آگئے،اور اﷲ تعالیٰ نے انہیں ملک عرب میں مبعوث فرمایا۔اور آپ علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ کے آس پاس کے علاقوں ،اور حجاز اور نجد بلکہ پورے ملک عرب میں اسلام کی دعوت دینے لگے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے بارے میں سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام ) کا کتاب میں ذکر کریں،بے شک وہ وعدے کے سچے تھے،اور نبی اور رسول ہیں۔اور اپنے گھر والوں نماز پڑھنے اور ذکوٰةدینے کا حکم دیتے تھے۔اور اپنے رب کے نزدیک بڑے پسندیدہ ہیں۔“(سورہ مریم آیت نمبر 55)اِس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی چار صفات بیان فرمائیں ہیں۔پہلی یہ کہ وہ وعدہ پورا کرنے والے تھے،دوسری یہ کہ انہیں اﷲ تعالیٰ نے نبوت اور رسالت دونوں سے سرفراز فرمایا تھا۔تیسری یہ کہ نماز اور ذکوٰة کا حکم دیتے تھے،اور چوتھی یہ کہ اﷲ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو بہت پسند فرماتا ہے۔اِسی دوران حضرت اسحاق علیہ السلام فلسطین میں رہ رہے تھے،اور وہیں اﷲ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز فرما دیا۔اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کام کو اُن دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے علاقوں میں جاری رکھا۔حضرت اسحاق علیہ السلام کا تفصیل سے ذکر ہم ہماری کتاب”حضرت اسحاق،حضرت یعقوب،اور حضرت یوسف علیہم السلام “میں انشاءاﷲ کریں گے۔
وعدے کے سچے
اﷲتعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ آپ علیہ السلام وعدے کے سچے تھے۔اِس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر ہو رہا ہے۔آپ علیہ السلام پورے حجاز کے باپ ہیں۔جو اﷲ کے دین اسلام کی دعوت دیتے تھے،اور جو عبادت کا ارادہ کرتے تھے،پوری کرتے تھے۔ہر ایک کا حق ادا کرتے تھے،ہر وعدہ وفا کرتے تھے۔ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ فلاں جگہ ملوں گا،وہاں آجانا۔حسب وعدہ حضرت اسماعیل علیہ السلام پہنچ گئے،لیکن وہ شخص نہیں آیا۔آپ علیہ السلام اُس کے انتظار میں ٹھہرے رہے،یہاں تک کہ ایک دن اور ایک رات گزرگئے۔اباُس شخص کو یاد آیا تو دوسرے دن اُس نے آکر دیکھا تو آپ علیہ السلام وہیں انتظار کر رہے تھے۔پوچھا کہ کیا کل سے آپ علیہ السلام یہیں ہیں؟آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”جب وعدہ ہوچکا تھا تو میں تمہارے آنے سے پہلے کیسے ہٹ سکتا تھا۔“اُس نے معذرت کی کہ میں بھول گیا تھا۔حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کو انتظار کرتے کرتے کامل ایک سال گزر گیا تھا۔اماما بن شزپ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے وہیں مکان بنا لیا تھا۔حضرت عبد اﷲ بن ابو الحمار رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اعلان نبوت سے پہلے میں نے رسول اﷲ ﷺ سے کچھ تجارتی لین دین کیا۔میں چلا گیا اور یہی کہہ کر گیا کہ آپ ﷺ یہیں ٹھہریئے،میں ابھی واپس آتا ہوں۔پھر مجھے خیال ہی نہیں رہا،وہ دن گزرا اور رات گزری ،دوسرا دن بھی گزر گیا۔تیسرے دن مجھے خیال آیا تو وہاں جاکر دیکھاتو آپ ﷺ وہیں انتظار کر رہے تھے۔میں معذرت کرنے لگا تو آپ ﷺ نے مجھ سے صرف اتنا فرمایا کہ تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا ،اور میں تین دنوں سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا حلیۂ مبارک
حضرت سمرہ بن کعب رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام اﷲ کے نبی اور رسول ہیں۔جن کا اﷲ تعالیٰ ”صادق الوعد“کی صفت سے ذکر فرمایا ہے۔وہ ایسے شخص تھے،جن کی طبیعت میں تیزی تھی۔اﷲ کے دشمنوں سے ہر وقت جہاد میں مصروف رہتے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دشمنوں پر فتح عطا فرمائی تھی(یعنی ہمیشہ فتح ہوتی تھی)۔آپ علیہ السلام کافروں سے بہت سخت جنگ کرتے تھے۔اور اﷲ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے۔آپ علیہ السلام کا سر مبارک چھوٹا تھا،گردن موٹی تھی،ہاتھ پاو¿ں لمبے تھے،کندھے چوڑے تھے،اور انگلیاں لمبی تھیں۔مخلوق کے سامنے رہتے تھے،کافروں ہر نہایت سخت اور شدید تھے۔نماز اور ذکوٰة کا حکم دیتے تھے،اور آپ علیہ السلام کی ذکوٰة مال کے ذریعے اﷲ کا قرب حاصل کرنا تھا۔
اﷲ تعالیٰ نے عربی الہام کردی تھی
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سب سے پہلے فصیح و بلیغ عربی میں بات کی۔حضرت عقبہ بن بشیر رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔میں نے محمد بن علی رحمتہ اﷲ علیہ سے پوچھا؛’[سب سے پہلے عربی زبان کس نے بولی؟“انہوں نے فرمایا؛”حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بولی،جب آ پ علیہ السلام کی عُمر مبارک تیراہ(13) سا ل تھی۔میں پوچھا؛”اِس سے پہلے وہ کون سی زبان بولتے تھے؟“انہوں نے فرمایا؛”عبرانی زبان بولتے تھے۔“(ابن سعد)حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے عربی زبان الہام فرمائی تھی،جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی باقی تمام اولاد اُن کی لُغت پر تھی۔خانۂ کعبہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام سریانی بولتے تھے،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام عربی بولتے تھے۔لیکن ایک دوسرے کی زبان سمجھ لیتے تھے،باپ سریانی زبان میں ”ھل لی کشینبا“یعنی مجھے پتھر اُٹھا کر دو۔بیٹے پتھر دیتے ہوئے عربی میں کہتے”ھاک الحجر فخذہ“یعنی یہ ہے پتھر لے لیجیئے۔حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔سب سے پہلے جس نے عربی زبان بولی،اور کتاب کو اپنی زمان ،اپنے الفاظ،اور اپنے کلام پر لکھا،پھر اُسے کتاب بنایا۔مثلاً”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم“وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔حتیٰ کہ آپ علیہ السلام کی اولاد نے بعد میں اس کے درمیان جدائی کی۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد
حضرت اسماعیل علیہ السلام مکۂ مکرمہ میں رہے،اور ہر سال حاجیوں کی خدمت انجام دیتے رہے۔اور اہل یمن اور آس پاس کے علاقوں میں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔قبیلہ بنو جرہم پہلے ہی اسلام قبول کر چکا تھا۔اِس دوران حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد پید ہوتی رہی ،اور بڑھتی رہی۔آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹے زیادہ مشہور ہوئے۔اُن کے نام قیداریا قیذار،ادبیل،نابت،بطور،بسام،مشمع،ذوما،مسا،حراة،قیما،نافس،اور قدما ہیں۔یہ تما اولاد آپ علیہ السلام کی زندگی میں پھلتی پھولتی گئی۔اور دھیرے دھیرے تمام بیٹے ایک ایک کرکےاطراف میں جا جا کر آباد ہوتے رہے۔صرف نابت اپنی اولاد کے ساتھ اپنے والد محترم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مکہ¿ مکرمہ میں رہے۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا وصال
حضرت اسماعیل علیہ السلام مسلسل مکۂ مکرمہ میں رہے،اور خانۂ کعبہ کے متولی بنے رہے۔محمد بن اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ لکھتے ہیں۔ایک سو تیس (130) سال کی عُمر میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا وصال ہوا۔اُس وقت تمام بیٹے اور بھائی موجود تھے جن میں حضرت اسحاق علیہ السلام بھی شامل تھے۔وصال سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بھائی حضرت اسحاق علیہ السلام کو بلا کراُن کے بڑے بیٹے عیص یا عیصو سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا تھا۔انشاءاﷲ اِس کا ذکر حضرت اسحاق علیہ السلام کی کتاب میں تفصیل سے کریں گے۔تمام بھائیوں اور بیٹوں نے آپ علیہ السلام کی وصیت کے مطابق آپ علیہ السلام کو اُن کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے بازو میں میزاب اور حجر اسود کے درمیان ”حطیم“میں دفن کر دیا۔توریت میں آپ علیہ السلام کی عُمر ایک سو سینتیس(137) سال لکھی ہے۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔
ختم شد
حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 11 Story of Prophet Ibrahim
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 11
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا بڑا مانتے ہیں
سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۴۲۱ کی تفسیر میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے پہلے تفصیل سے بنی اسرائیل(یہودیوں) پر کئے گئے انعامات کو بیان فرمایا۔پھر یہ بیان فرمایا کہ انہوں نے (بنی اسرائیل نے)اپنے دین اور اعمال میں کیا کیا بدعات اور خرابیاں پید کی ہیں۔اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔اور اِس کی حکمت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایسے شخص ہیں کہ تما م ادیان اور مذاہب کے ماننے والے اُن کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہیں۔اور مشریکن مکہ بھی اِس پر فخر کرتے تھے کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں،اور وہ حرم کے خادم ہیں۔اور یہود و نصاری (بنی اسرائیل اور عیسائی) بھی اُن کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہیں،اور اُن کی اولاد ہونے کا شرف ظاہر کرتے ہیں۔اِسی لئے اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر بیان فرمایا۔تاکہ سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت اور اسلام کا حجت ہوناسب پرثابت ہوجائے۔اِس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے دین کی خصوصیت خانہ¿ کعبہ کا حج ہے،اور یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو اپنا بڑا اور رسول مانتا ہے،اُس کے لئے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم اور اُن کے دین اسلام پر ایمان لانا واجب ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ جب خانہ¿ کعبہ کو قبلہ بنا دیا گیا تو یہودیوں نے بُرا مانا تھا۔اﷲ تعالیٰ نے اُن پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ماننے والے ہو تو یہ خانۂ کعبہ اُن کے ہی ہاتھوں کا بنایا ہوا ہے۔تمہیں تو اِس کے قبلہ بنائے جانے پر ناراض ہونے کے بجائے خوش ہونا چاہیئے۔
مناسک حج
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جب خانۂ کعبہ کی تعمیر سے فار ہوئے تو اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا؛”یارب ! ہم نے خانہ¿ کعبہ تعمیر کر دیا ہے،اب اے ہمارے پرور دگار!ہمیں مناسک حج سکھا ۔ہمارے لئے وہ ظاہر فرما،اور ہمیں اِن کی تعلیم دے۔تو اﷲ تعالی ٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو مناسک حج بتا کر بھیجا۔اور انہوں نے آکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد جب یہ دعا مانگی کہ اے اﷲ تعالیٰ !ہمیں مناسک حج سکھا دے،تو اﷲ تعالیٰ نے جرئیل علیہ السلام کو بھیجا۔وہ آئے اور طواف کے بعد صفا اور مروہ پر سعیٔ کرایا،اور عرض کیا؛”اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ،یہ ”شعائر اﷲ“ہیں۔“جب انہوں نے طواف اور سعیٔ کر لیا توجبرئیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر” جمرۂ عقبہ“ پر لے آئے،وہاں شیطان کھڑا تھا،جبرئیل علیہ السلام نے سات کنکریاں اُٹھائیں اور آپ علیہ السلام کو دیں اور عرض کیا؛”یا رسول ا ﷲ علیہ السلام!اﷲ تعالیٰ کی تکبیر بیان کرتے ہوئے یہ کنکریاں شیطان کو ماریں۔“آپ علیہ السلام نے تکبیر پڑھتے ہوئے کنکریاں ماریں تو شیطان بھا گ گیا۔پھر دوسرے دن ”جمرہ¿ وسطیٰ“پر ہاتھ پکڑ کر لے گئے،تو وہاں بھی شیطان کھڑا ہوا تھا۔جبرئیل علیہ السلام نے سات کنکریں اُٹھا کر آپ علیہ السلام کو دیں،اور شیطان کو مارنے کو کہا۔آپ علیہ السلام نے کنکریاں ماریں تو شیطان وہاں سے بھاگ گیا۔پھر تیسرے دن ”جمرۂ قصوٰی “پر لے گئے،اور اسی طرح آپ علیہ السلام نے کنکریاں ماریں اور شیطان بھاگا۔اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام ہاتھ پکڑ کر ”مِنیٰ“میں لیکر آئے ،اور بتایا کہ یہاں لوگ سر منڈائیں گے۔پھر انہیں ”مزدلفہ “لیکر آئے اور عرض کیا۔”یہاں لوگ دو نمازیں اکٹھی پڑھیں گے۔“پھر ”میدان عرفات“ میں لیکر آئے اور آپ علیہ السلام سے عرض کیا؛”یا خلیل اﷲ علیہ السلام!اﷲ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ مناسک حج پہچان گئے؟تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛ ”تمام مناسک حج پہچان گیا ہوں۔“اسی وجہ سے اِس میدان کا نام”میدن عرفات“پڑ گیا۔ یا کہا جائے گا۔
حج کے لئے پکارا(منادی)
حضرت ابراہیم علیہ السلام جب خانہ کعبہ کی تعمیر اور مناسک حج سے فارغ ہوگئے ،تو اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام سے فرمایا؛”اب تمام لوگوں میں حج کی منادی کر دو۔“یعنی تمام لوگوں کو حج کے لئے پکارو۔آپ علیہ السلام نے تمام انسانوں کو حج کے لئے پکارا۔تمام لوگوں نے اِس پکار کو سنا۔یعنی قیامت تک جتنے لوگ پید ہونے والے تھے ،انہوں نے ”عالمِ ارواح“میں سنا،اور جواب دیا۔”لبیک اللھم لبیک“۔جس نے لبیک کہا وہ حج کرنے جائے گا۔حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ۔میں نے حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ سے ”مقام ابراہیم“پر بنے نشان کے بارے میں دریافت کیاتو انہوں نے فرمایا؛”یہ پتھر پہلے بھی اسی کیفیت میں تھا،جیسا آج ہے،لیکن اﷲ تعالیٰ نے جب ”مقام ابراہیم“کو اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی بنانے کا ارادہ فرمایا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لوگوں میں حج کرنے اعلان کرنے کا حکم فرمایا۔پس آپ علیہ السلام ”مقام ابراہیم“پر کھڑے ہوئے،اور یہ پتھر بلند ہونے لگا،حتیٰ کہ تمام پہاڑوں سے بھی بلند ہو گیا۔پس آپ علیہ السلام نے نیچے دیکھا اور فرمایا؛”اے لوگو!اپنے رب کا حکم قبول کرو ۔“پس لوگوں اُس کو قبول کیا اور کہا؛”لبیک اللھم لبیک“۔آپ علیہ السلام دائیں بائیں،اوپر نیچے دیکھتے رہے اور پکارتے رہے۔لوگو اپنے رب کا حکم قبول کرو۔پس جب تک مقام ابراہیم اوپر رہا،تب تک آپ علیہ السلام لوگوں کو پکارتے رہے۔اور لوگ لبیک کہتے رہے۔پھر مقام ابراہیم نیچے آیا اور آپ علیہ السلام اُس پر سے اُتر آئے۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اثر اِس پتھر پر تھا،ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ”جبل ابو قبیس “پر چڑھ کر لوگوں کو حج کے لئے پکارا۔
مکۂ مکرمہ آتے جاتے رہتے تھے
حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس وقت کے ملک کنعان بعد میں ملک شام اور آج کے فلسطین میں رہتے تھے۔اور وقتاً فوقتاً مکۂ مکرمہ آتے جاتے رہتے تھے۔کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام صرف تین مرتبہ مکہ¿ مکرمہ تشریف لائے۔لیکن قرآن پاک اور احادیث کے مطابق کم سے کم پانچ مرتبہ آپ علیہ السلام کا مکۂ مکرمہ آنا ثابت ہے۔پہلی مرتبہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہااور حضرت اسماعیل علیہ السلام کوچھوڑنے کے لئے آئے۔دوسری مرتبہ بیٹے کی قربانی کے لئے آئے۔تیسری مرتبہ آئے تو پہلی بہو سے ملاقات ہوئی،چوتھی مرتبہ آئے تو دوسری بہو سے ملاقات ہوئی ۔اور پانچویں مرتبہ آپ علیہ السلام خانۂ کعبہ کی تعمیر کے لئے آئے۔علامہ ابن کثیر اِس کے بارے میں لکھتے ہیں۔
حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت
اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”جب ابراہیم (علیہ السلام)ان سب کو اور اﷲ کے سوا ان کے معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) عطافرمائے۔اور دونوں کونبی بنایا۔“(سورہ مریم آیت نمبر 49)اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا؛ترجمہ”اور ہم نے اُسے (حضرت ابراہیم علیہ السلام کو)اسحاق (علیہ السلام) عطا فرمایا،اور اِس پر مزید یعقوب (علیہ السلام)کو بھی عطا فرمایا،اور ہر ایک کو ہم نے صالح بنایا۔“(سورہ الانبیاءآیت نمبر ۲۷)اﷲ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فرمایا؛ترجمہ”اور ہم نے اس کو (حضرت ابراہیم علیہ السلام کو)اسحاق نبی(علیہ السلام) کی بشارت دی۔جو صالح لوگوں میں سے ہو گا۔اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق (علیہم السلام)پر برکتیں نازل فرمائیں ،اور اُن دونوں کی اولا دمیں سے بعض تو نیک بخت ہیں،اور بعض اپنے نفس پر صریح (صاف) ظلم کرنے والے ہیں۔“(سورہ الصا فات آیت نمبر ۲۱۱ اور ۳۱۱)اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کوحضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت فرشتوں کے ذریعے دی۔وہ فرشتے انسانی شکل میں آپ علیہ السلام کے پاس آئے،وہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب دینے کے لئے جارہے تھے۔اِس کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی جگہ کیا ہے۔سورہ الحجر میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛ترجمہ”انہیں ابراہیم(علیہ السلام) کے مہمانوں کا حال سنادو۔جب انہوں نے اُن کے پاس آکر سلا م کیا تو انہوں نے کہا ہم کو تم سے ڈر لگتا ہے۔انہوں نے عرض کیا کہ ڈرو نہیں !ہم تمہیں ایک علیم(فہم والے،علم والے) بیٹے کی خوش خبری (بشارت) دیتے ہیں۔(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے )فرمایا ؛کیا اِس بڑھاپے کے آجانے کے بعد تم مجھے بشارت دے رہے ہو؟یہ خوش خبری تم کیسے دے رہے ہو؟انہوں نے عرض کیا کہ ہم آپ کو بالکل سچی خوش خبری سنا رہے ہیں۔آپ مایوس لوگوں میں بالکل نہ ہوں۔ُحضرت ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا؛اپنے رب کی رحمت سے نااُمید تو صرف گمراہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔“(سورہ الحجر آیت نمبر 51 سے 56 تک)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمان
اﷲ تعالیٰ نے سورہ الذاریات میں فرمایا؛ترجمہ”کیاتُجھے ابراہیم(علیہ السلام ) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟وہ جب اُن کے یہاں آئے تو سلام کیا۔ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا۔(اور کہا یہ تو)اجنبی لوگ ہیں۔(چپ چاپ جلدی جلدی)اپنے گھر والوں کی طرف گئے،اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت پکا کر یا بھون کر)لائے۔اور اسے اُن کے پاس رکھا،اور کہا آپ کھاتے نہیں ہیں؟پھر تو دل میں خوف محسوس کیا۔انہوں نے کہا !آپ (علیہ السلام)خوف نہ کریں ،اور انہوں نے اُن کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی۔پس اُن کی بیوی آگے بڑھی،اور حیرت سے آکر اپنے منہ پر ہاتھ مار کر بولی؛میں تو بوڑھی ہو گئی ہوں،اور ساتھ میں بانجھ بھی ہوں۔انہوں نے کہا۔ہاں!تیرے پروردگار (رب) نے اسی طرح فرمایا ہے،بے شک وہ حکیم و علیم ہے۔(سورہ الذاریات آیت نمبر 24 سے 30 تک)اﷲ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا؛ترجمہ”اور ہمارے بھیجے ہوئے پیامبر ابراہیم(علیہ السلام) کے پاس خوش خبری لیکر پہنچے ،اور سلام کیا۔انہوں نے سلام کا جواب دیا،اور بغیر کسی تاخیر کے گائے کابُھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔اب جو دیکھا کہ وہ کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے ہیں،تو انہیں انجان(مخلوق) پاکر دل ہی دل میںخوف محسوس کرنے لگے۔انہوں نے کہا۔ڈرونہیں!ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے ہوئے ہیں۔اُس کی (حضرت ابراہیم علیہ السلام کی)بیوی جوکھڑی ہوئی تھی،وہ ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحاق (علیہ السلام )کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب (علیہ السلام ) کی خوش خبری دی۔وہ کہنے لگیں؛ہائے میری کم بختی!میرے یہاں اولاد کیسے ہو سکتی ہے؟میں خود بوڑھی ہو چکی ہوں،اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہو چکے ہیں۔یہ تویقینا بڑی عجیب بات ہے۔فرشتوں نے کہا۔کیا تم اﷲ تعالیٰ کی قدرت پر تعجب کررہی ہو؟تم پر اے اِس گھر لوگ!اﷲ کی رحمتیں اور اُس کی برکتیں نازل ہوں۔بے شک اﷲ تعالیٰ حمدو ثنا کے لائق ہے،اور بڑی شان والا ہے۔(سورہ ہود آیت 69 سے 73)
فرشتوں کی حاضری نوجوانوں کی شکل میں
حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس وقت کے ملک کنعان کے ایک علاقے ”الخلیل“جو آج شہر کی شکل اختیار کر چکا ہے،اُس میں رہتے تھے۔اُس وقت آپ علیہ السلام کے گھر کے پاس کا پورا علاقہ خالی تھا۔آپ علیہ السلام اپنے مکان کے آنگن میں (جو لکڑیوں کی باڑ سے بنا ہوا تھا)مویشیوں اور بکریوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے تو دور سے چند نوجوانوں کو گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار آتے دیکھا تو سمجھ گئے کہ کچھ مہمان آرہے ہیں۔تو آپ علیہ السلام نے اُن کے کھانے کے لئے ایک بچھڑا ذبح کر کے تیار کر کے لے آئے۔یہ چند نوجوان فرشتے تھے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ اور حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ تین فرشتے تھے،اور اِ ن کا نام جبرئیل ،میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام ہے۔امام مقاتل فرماتے ہیں،یہ جبرئیل ،میکائیل ،اور عزرائیل علیہم السلام تھے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی ایک اور روایت میں ہے کہ بارہ فرشتے تھے۔محمد بن کعب فرماتے ہیں۔یہ آٹھ فرشتے تھے۔امام ضحاک فرماتے ہیں،یہ نو فرشتے تھے۔امام ماوردی فرماتے ہیں ،یہ چار فرشتے تھے۔امام ابن جوزی فرماتے ہیں ،وہ گیارہ فرشتے تھے،جو نہایت خوب صورت اور روشن چہروں والے نوجوانوں کی شکلوں میں تھے۔
اﷲ کے خلیل بننے کے حقدار
حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے مہمان نواز تھے۔جب انہوں نے چند نوجوانوں کو آتے دیکھا تو جلدی سے اُن کے لئے کھانا تیار کیا۔اور انہیں عزت سے بٹھا یا،انہوں نے سلام کیاتو انہیں سلام کا جواب دیا۔اور اُن کی خدمت میں کھانا پیش کیا،لیکن وہ مہمان خاموش بیٹھے رہے تو آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ کھانا کھائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اِس کا”ثمن“(قیمت)ادا کریں گے۔اور بغیر قیمت ادا کرے ہم نہیں کھائیں گے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”ٹھیک ہے!”ثمن“(قیمت) ادا کرو،اور کھاو¿۔“انہوں نے پوچھا ؛”اِس کھانے کی قیمت کیا ہے؟“تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”کھانے سے پہلے بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم پڑھو،اور کھانا کھانے کے بعد ”الحمد اﷲ“پڑھو۔یہی اِس کا ”ثمن“یعنی قیمت ہے۔یہ سن کر تمام فرشتے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے ۔جبرئیل اور میکائیل علیہم السلام نے کچھ دیر ایک دوسرے کا منہ دیکھا،پھر بولے؛”اِسی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اپنا ”خلیل“بنایا ہے۔اور آپ علیہ السلام اﷲ کے خلیل بننے کے حقدار ہیں۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام نے اصرار کیا ؛”ٹھیک ہے !اب آپ لوگ کھانا شروع کریں۔“لیکن اِس کے باوجود انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا،بلکہ خاموش بیٹھے آپ علیہ السلام کی شکل دیکھتے رہے تو آپ علیہ السلام کو کچھ خوف محسوس ہواکہ کہیں یہ دشمن تو نہیں ہیں؟
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
پیر، 17 اپریل، 2023
حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 10 Story of Prophet Ibrahim
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 10
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
مقام ابراہیم
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کی بتائی ہوئی حدود پر بنیادیں کھودنی شروع کر دیں،اور دیواریں بنانی شروع کر دیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام گارہ بناتے تھے، حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتے تھے۔اور دونوں حضرات علیہم السلام ملکر دیواریں اُٹھاتے جاتے تھے۔جب دیواریں قد کے برابر ہوگئیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا؛”بیٹے ایسا پتھر لاو¿،جس پر کھڑے ہو کر میں اوپر کی دیواریں بنا سکوں۔“حضرت اسماعیل علیہ السلام کافی دور تک ڈھونڈتے ہوئے گئے،اور ایک پتھر اُٹھا کر لے آئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اِس پتھر کوضرورت کے مطابق کھسکا کھسکا کرخانہ¿ کعبہ کی دیواریں بنا رہے تھے۔اور ضرورت کے مطابق یہ پتھر اونچا اور نیچا ہو جاتا تھا۔یہ”مقام ابراہیم“تھا۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ ”مقام ابراہیم“جنت سے اُتارا گیا ہے۔حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”مقام ابراہیم“جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یاقوت ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اِس کا نور ختم کردیا ہے،اگر یہ نور ختم نہیں کیا جاتا تو زمین و آسمان کے درمیان ہر شئے کو روشن کر دیتا۔حضرت سعید بن جبیر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”مقام ابراہیم“کو اﷲ تعالیٰ نے نرم کر دیا تھا،اور رحمت بنایا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اِس پر کھڑے ہو کر خانۂ کعبہ کی دیوار بناتے تھے،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتے تھے۔”مقام ابراہیم “پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں پیروں کے نشان بن گئے تھے۔حضرت قتادہ رحمتہ اﷲ علیہ (جلیل القدر تابعی )فرماتے ہیں کہ لوگوں کو”مقام ابراہیم“کے پاس نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے،اُسے چھونے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ہمیں بعض لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے ”مقام ابراہیم“پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایڑی اور انگلیوں کے نشان دیکھے ہیں۔لیکن اِس اُمت کے لوگوں نے اُسے چھو چھو کر اِن نشانات کو مٹا دیا ہے۔(اِس لئے اب بڑی مشکل سے ایک پیر کا نشان دکھائی دیتا ہے)
حجراسود
حضرت آدم علیہ السلام جب جنت سے زمین پر تشریف لائے تو آپ علیہ السلام کے ایک ہاتھ میں پتھر (حجر ِاسود)تھا۔اور دوسرے ہاتھ میں جنت کے پتے(شاخیں) تھیں۔آپ علیہ السلام نے پتے ہندوستان میں بکھیر دیئے ۔جو خوشبو اور پھل پھول اور ہریالی ہندوستان میں دکھائی دیتی ہے،وہ اِسی کا فیضان ہے۔اور پتھر سفید یاقوت تھا،اور حضرت آدم علیہ السلام رات کے اندھیرے میں اِس پتھر کی روشنی سے فائدہ اُٹھاتے تھے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ¿ کعبہ کی تعمیر کرتے کرتے اُس جگہ پہنچے ،جہاں آج حجر اسود نصب(لگا ہوا) ہے۔تو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا؛”بیٹے ذرا کوئی اچھا سا پتھر لاو¿ جسے یہاں رکھا جائے۔“حضرت اسماعیل علیہ السلام پہاڑ پر سے ایک پتھر اُٹھا کر لائے تو والد محترم کو پسند نہیں آیا۔بیٹے بار بار پتھر لاتے رہے،لیکن والد محترم کو کوپسند نہیں آرہے تھے۔پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کافی دور تک ایسے پتھر کی تلاش میں نکل گئے،جو والد محترم کو پسند آجائے۔کافی دیر بعد واپس آئے تو اِس دوران جبرئیل علیہ السلام ہندوستان سے وہ پتھر لے آئے تھے،جو جنت سے حضرت آدم علیہ السلام لیکر آئے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُسے نصب کر دیا تھا،حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا؛”اباجان!یہ پتھر کون لایا ہے؟“حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسکرانے لگے، اور مسکراتے ہوئے فرمایا؛”وہ یہ پتھر لایا ہے،جو تم سے زیادہ چست اور مستعد ہے۔“
حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کے خانۂ کعبہ کی بناوٹ
حضرت ابراہیم اور حضر ت اسماعیل علیہم السلام نے جو خانۂ کعبہ بنایا۔اُس کی اونچائی نو ہاتھ رکھی،حجر اسود سے رُکن شامی تک کی لمبائی بتیس(32)ہاتھ رکھی۔رکن شامی سے مغربی رکن تک کی چوڑائی تیئس(23)ہاتھ رکھی،اور مغربی رکن سے رکن یمانی تک کی لمبائی اکتیس(31)ہاتھ رکھی۔اور رکن یمانی سے حجر اسود تک کی چوڑائی بیس (20)ہاتھ رکھی۔اِس طرح خانہ¿ کعبہ ایک سمت بتیس(32)ہاتھ،دوسری سمت تیئس(23)ہاتھ،تیسری سمت اکتیس(31)ہاتھ،اور چوتھی سمت بیس ہاتھ(20)تھا۔خانۂ کعبہ کو”کعبہ“اِس لئے کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے اسے” مکعب نما“ بنایا تھا۔جسے لگ بھگ دو ہزار سال بعد قریش نے توڑ کر ”مربع نما“بنا دیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کے دو دروازے بنائے،جوزمین کے برابر رکھے۔اور چھت نہیں ڈالی تھی،یعنی وہ اوپر سے کھلا ہوا تھا۔اندر آپ علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود دیا تھا،اِس میں خانہ¿ کعبہ کے لئے جو ہدیے اور تحفے آتے تھے وہ ڈالے جاتے تھے۔آپ علیہ السلام نے خانہ¿ کعبہ کی لمبائی سے لگ کر ایک باڑ بنائی ،جس کے اوپر کیکر کی شاخوںکا چھپر بنایاتھا۔یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا باڑہ تھااور اِس میں بکریاں رکھی جاتیں تھیں۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانہ¿ کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر بنایا تھا،اور فرمایا؛”یہ مکعب نما یعنی مکعب کی شکل کا ہے۔اِس لئے اِس کو ”کعبہ“کہتے ہیں۔“ اور فرمایا؛’[حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چھت نہیں بنائی تھی،اور اِس کی تعمیر میں مٹی استعمال نہیں کی تھی،بکہ پتھر استعمال کئے تھے۔
تعمیر کے وقت دعا
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام خانہ¿ کعبہ کی تعمیر کرتے جارہے تھے۔اور اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگتے جارہے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ؛”ابراہیم(علیہ السلام )اور اسماعیل(علیہ السلام)خانہ ¿ کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اُٹھاتے جارہے تھے،اور کہتے جارہے تھے۔کہ اے ہمارے رب!تُو ہم سے(اِس عمل کو) قبول فرما۔بے شک تُو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔اے ہمارے رب !ہمیں اپنا فرمانبردار ّمسلمان) بنالے،اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو فرمانبردار (مسلمان)رکھ۔اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا،اور ہماری توبہ قبول فرما،بے شک تُو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔اے ہمارے رب اِن میں انہیں میں سے ایک رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) بھیج،جو اِن کے سامنے تیری آیتیں پڑھے۔اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے،اور انہیں پاک کرے۔بے شک تُو ہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 127 سے 129 تک)اِن آیات کی تفسیر میں تفسیر انوارالبیان میں لکھا ہے کہ یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ اﷲ کے دو پیارے،اﷲ کے دونوں رسول خلیلاﷲ علیہ السلام،اور ذبیح اﷲ علیہ السلام ،اﷲ کے حکم سے اﷲ کا گھر بنا رہے ہیں۔اُن کے خلوص اور اخلاص پر ذرہ برابر بھی شبہ نہیں ہے۔پھر بھی یہ دونوں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں عرض کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمارے اِس عمل کو قبول فرمایئے۔اِس سے معلوم ہوا کہ ہم اﷲ تعالیٰ کے لئے کسی بھی کام میں کتنے ہی مخلص ہوں،اور کتناہی نیک اور صالح عمل کریں۔پھر بھی ہمیں اِس بات کا ڈر ہونا چاہیئے کہ پتہ نہیںہمارا یہ خلوص بھرا عمل اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول بھی ہو گا یا نہیں ہوگا۔اِس لئے ہمیں نیک اعمال کرتے رہنا چاہیئے،اور اِس کی قبولیت کی دعا اﷲ تعالیٰ سے کرتے رہنا چاہیئے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے دعا
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے اِن آیات میں جو دعائیں مانگیںہیں۔اُن کے بارے میں اِن آیات کی تشریح میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابرہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام اپنی دعا میں کہہ رہے ہی کہ ہمیں مسلمان بنالے یعنی ”مخلص“بنا لے،”مطیع“بنالے۔موجود ہر شر سے بچا،ریا کاری سے محفوظ رکھ،اور خشوع و خضوع عطا فرما۔حضرت سلام بن ابی مطیع فرماتے ہیں۔مسلمان تو وہ تھے ہی،لیکن اسلام پر ثابت قدمی مانگ رہے ہیں۔جس کے جواب میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ؛”میں نے تمہاری دعا قبول کی“پھر اپنی اولاد کے لئے بھی یہی دعا کرتے ہیں،تو اﷲ تعالیٰ نے وہ بھی قبول فرما لی۔بنی اسرائیل بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ہیں،اور عرب بھی۔(یعنی بن اسماعیل بھی)۔اِس کے بعد کی دعا میں دونوں رسول علیہم السلام عرض کرتے ہیں کہ اِن میں (بنی اسماعیل میں) ایک رسول بھیج۔اور اِس رسول اے مُراد ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں۔ تو اﷲ تعالیٰ یہ دعا بھی قبول فرمائی،لیکن اِس سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت ِخاص(یعنی صرف عربوں یا بن اسماعیل کے لئے)نہیں ہوتی ۔بلکہ عرب و عجم(یعنی بنی اسرائیل اور ساتھ ساتھ پوری دنیا کے انسانوں کے لئے)سب کے لئے عام ہے۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کہدو کہ اے لوگو!میں تم سب کی طرف اﷲ کا رسول ہوں۔اِس کے بعد آیت نمبر129 کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اہل حرم (مکۂ مکرمہ والوں)کے لئے یہ دعا بھی ہے کہ آپ علیہ السلام (حضرت اسماعیل علیہ السلام)کی اولاد میں سے ہی رسول اِن میں آئے،اور یہ دعا بھی پوری ہوئی۔مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ”خاتم النبین“اُس وقت سے ہوں ،جبکہ حضرت آدم علیہ السلام بھی مٹی کی صورت میں تھے۔(یعنی اُن کی پیدائش سے بھی پہلے)میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی” دعا “ہوں۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ”بشارت “ہوں۔اور اپنی والدہ کا خواب ہوں ۔انبیائے کرام علیہم السلام کی والدہ کو ایسے ہی خواب آتے ہیں۔“حضرت ابوامامہ رضی اﷲ عنہ نے ایک مرتبہ سوال کیا”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !اپنی نبوت کا شروع تو ہمیں بتایئے۔“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میرے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے میرے لئے دعا کی۔اور میرے بارے میں خوش خبری حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی۔اور میری والدہ نے دیکھا کہ اُن کے اندر سے ایک نور نکلا،جس نے ملک شام (اُس وقت فلسطین،اُردن اور لبنان سب ملک شام کہلاتا تھا)کے محلات چمکا دیئے۔مطلب یہ کہ دنیا میں شہرت کا ذریعہ یہ چیزیں ہوئیں۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی والدہ کا خواب بھی عرب میں پہلے ہی سے مشہور ہو گیا تھا۔اور لوگ کہتے تھے کہ سیدہ آمنہ سے کوئی بہت بڑاشخص پیدا ہوگا۔بنی اسرائیل سے انبیائے کرام علیہم السلام کا سلسلہ ختم کرنے والے اُن کے آخری رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھتے(یعنی تقریر کرتے)ہوئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا صاف نام لیا اور فرمایا؛”اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اﷲ تعالیٰ کا رسول ہوں،مجھ سے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوں،اور میرے بعد آنے والے رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم)کی تمہیں بشارت دیتا ہوں ،جن کا نام ”احمد“(صلی اﷲ علیہ وسلم) ہے۔
توریت میں رسول اﷲ صلی ا ﷲعلیہ وسلم کا ذکراور نام
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینۂ منورہ پہنچے تو یہودیوں میں سے سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا ،وہ حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ ہیں۔یہ بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے،اور توریت کو پڑھتے رہتے تھے۔سورہ البقرہ کی آیت نمبر 129 کی تفسیر میں قاضی ثناءاﷲ پانی پتی لکھتے ہیں۔حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ نے اپنے دو بھتیجوں سلمہ اور مہاجر کو اسلام کی دعوت دی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں فرمایا؛”یقینا تم جانتے ہو کہ اﷲ تعالیٰ نے توریت میں فرمایا ہے کہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک رسول(صلی اﷲ علیہ وسل) مبعوث فرمانے والا ہوں۔جس کا نام”احمد“ہوگا۔پس جو اُس (صلی اﷲ علیہ وسلم ) پر ایمان لائے گا،وہ ہدایت یافتہ ہوگا۔اور جو ایمان نہیں لائے گا، وہ ملعون ہوگا۔‘ یہ سن کر سلمہ نے تو اسلام قبول کر لیا، لیکن مہاجر نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔تو اﷲ تعالیٰ نے آیت نمبر 127 سے 130 تک نازل فرمائی۔آیت نمبر 126 سے 129 کا ترجمہ ہم پہلے پیش کرچکے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے آیت نمبر 130 میں فرمایا؛”اب ابراہیم(علیہ السلام) کے دین(اسلام) سے وہی منہ پھیرے گا،جو بے وقوف ہوگا۔ہم نے تو اُسے(حضرت ابراہیم علیہ السلام کو)دنیا میں بھی بزرگی عطا فرمائی ہے،اور آخرت میں بھی وہ نیکو کاروں میں ہوگا۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 130)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امامت کا بنی اسماعیل میں آنا
سورہ البقرہ کی آیت نمبر 124 میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اور جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اُن کے رب نے کئی باتوں(کلمات) میں آزمایا۔اور انہوں نے سب کو پورا کردکھایاتو اﷲ نے فرمایا؛میں تمہیں لوگوں کا امام بناے والا ہوں۔(آپ علیہ السلام نے عرض کیا)کیایہ وعدہ میری اولاد کے لئے بھی ہے؟تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛میرا وعدہ ظالموں کے متعلق نہیں ہے۔“اِس آیت کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔اے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم!آپ صلی سﷲ علیہ وسلم اِن یہود ونصاریٰ کو بلکہ تمام دنیا کے کافروں کو بتا دیں کہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا آقا اور پیشوا سمجھتے ہیں کہ تم لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقہ پر نہیں ہو۔وہ تو ہمارے فرمانبردار بندے تھے۔ہم نے اُن کو کئی باتوں میں آزمایا،اور وہ سچے نکلے۔بیٹے کی قربانی کا حکم دیا تو انہوں نے قربانی کر دی،ستارہ پرستوں کی محبت توڑنے بلکہ وطن چھوڑنے کا حکم دیا تو انہوں نے ویسا ہی کر دکھایا۔اور سب کو چھوڑ کر ملک شام(اُس وقت فلسطین ملک شام میں آتا تھا)میں جابسے۔ریگستان ِ عرب کو بسانے اور خانہ¿ کعبہ بنانے کا حکم دیا تو فوراً اپنی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کو اور بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بسا دیا۔ایمان پر رہ کر نمرود کی آگ میں جانا منظور کیا،اِس کے عالوہ بہت سے احکام نماز، ذکوٰة،ظاہری باطنی طہارت،ختنہ وغیرہ سب پوری طرح سے بجا لائے۔اِس کے صلہ میں ہم نے اُن سے کہا کہ ہم تم کو تمام لوگوں کا امام بنانے والے ہیں۔کہ تمام دینوں میں تمہارا چرچا رہے گا،انبیائے کرام علیہم السلام تمہاری اولاد میں ہوں گے۔قیامت تک تمہارے بنائے کعبہ کا حج ہوتا رہے گا،دور اور قریب سے اُس کی طرف گردنیں جھکتی رہیں گی۔لوگ تمہاری اور تمہارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اور تمہاری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کی نقل کر کے حاجی بنیں گے۔نبیٔ آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت اپنی نمازوں میں اور خطبوں میں اُس محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ تم پر بھی درود بھیجا کرے گی۔قیامت میں تمہاری پیشوائی(امامت) ظاہر ہوگی۔“تو انہوں نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !میری اولاد میں بھی بابرکت لوگ پیدا کرنا،تاکہ تیری فرماں برداری ہمیشہ میری نسل میں رہے۔“ہم نے اُن کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا؛”اچھا تم سے وعدہ کرتے ہیں،لیکن اِس اقرار اور وعدہ میں تمہاری وہ اولاد شامل نہیں ہوگی،جو بد کار ہوگی۔اُن کو یہ برکت نصیب نہیں ہو گی۔لہٰذا اے اسرائیلیو!(بنی اسرائیل یا یہودیو)تم پر لازم ہے کہ اپنے جد امجد(حضرت ابراہیم علیہ السلام) کی پیروی کرو۔اور اِن نبی ¿ آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لاو¿،جن کے لئے انہوں نے(حضرت ابراہیم علیہ السلا م نے)دعائیں مانگیں تھیں۔اور یہ مت سمجھو کہ نبوت بنی اسحاق (بنی اسرائیل) کے لئے خاص ہے۔بنی اسماعیل بھی اُنہی کی یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔اور وہ بھی اِس وعدہ میں شامل ہیں۔یعنی نبی ¿ آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وسلم کے آجانے کے بعد جو لوگ اُن پر ایمان لائیں گے،وہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امامت کے حقدار ہوں گے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!
حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 9 Story of Prophet Ibrahim
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 9
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
تمام آزمائشوں پر کھرے اُترے
حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے چوتھی روایت میں یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تین احکامات حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیئے۔اِن میں سے دس سورہ توبہ میں مذکور ہیں۔دس سورہ المومنون میں مذکور ہیں۔اور دس سورہ الاحزاب میں مذکور ہیں۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے پانچویں روایت میں ہے کہ جن کلمات میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم علیہ السلام کو مبتلا فرمایا،اور آزمایا۔وہ یہ ہیں۔1)اﷲ تعالیٰ کے لئے اپنی قوم سے جدا ہوجانا۔2)اﷲ تعالیٰ کی توحید کے بارے میں نمرود سے مباحثہ کرنا۔اور جان کا خطرہ ہوتے ہوئے بھی جابر کے سامنے کلمۂ حق(اسلام)کی دعوت دینا۔3)آگ میں ڈالے جانے کے وقت بھی اﷲ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھنا۔4) اﷲ کے لئے اپنے وطن کو چھوڑ کر ملک مصر اور ملک شام اور ملک کنعان کی طرف ہجرت کرنا۔5) اﷲ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں (مہمانوں یا حاجیوں)کی ضیافت کے لئے مامور ہونا۔اور اپنی جان و مال سے اِس پر ثابت قدم رہنا۔6) اپنے بیٹے کو ذبح کرنا۔جب و¿پ علیہ السلام اِن سب آزمائشوں پر کھرے اُتر گئے ،اور کامیاب ہو گئے تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اَسلِم“یعنی فرمانبردار ہو جاؤ۔تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اَسلَمتُ رَبِّ العَالَمِینَ“میں رب العالمین کا فرمانبردار ہو گیا۔
مکۂ مکرمہ امن کا شہر
اﷲ تعالیٰ نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا کہ میں تمہیں دنیا کاامام بنانے والا ہوں،تو آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛کیا یہ وعدہ میری اولاد کے لئے بھی ہے۔تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛میرا وعدہ ظالموں کے متعلق نہیں ہے۔اِس سے آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ اُن کی اولاد میں نیک لوگ بھی ہوں گے،اور اُن کے لئے اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔لیکن آپ علیہ السلام کی اولاد میں ظالم (گنہ گار،ظلم کرنے والے)لوگ بھی ہوں گے ۔جن کے متعلق اﷲ تعالیٰ وعدہ نہیں ہے۔جیسے کہ یہودی اور عیسائی یعنی اہل کتاب وغیرہ۔اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب مکہ¿ مکرمہ کے لئے امن کا شہر بنانے کی دعا مانگی تو یہ عرض کیا؛”اے میرے رب !تُو اِس جگہ کو امن والا شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اﷲ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں(یعنی مسلمان ہوں اور نیک ہوں)انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما۔“تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ چاہے مومن ہو یا کافر،نیک ہوں یا برا ہو،دنیا میں تو میں سب کو رزق دوں گا ۔لیکن کافروں اور ظالموں کوقیامت کے دن پکڑوں گا،اور آگ کا مزہ چکھاؤں گا۔
مکۂ مکرمہ میں دنیا بھر کے پھل
اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاکو قبول کیا،اور مکۂ مکرمہ کو امن والا شہر بھی بنایا۔اور دنیا بھر سے پھل بھی وہاں پہنچاتا ہے۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا؛ترجمہ؛”کیا ہم نے اُن کو امن و امان والے حرم (شہر مکۂ مکرمہ) میں جگہ نہیں دی۔یہاں ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں۔جو ہمارے پاس سے انہیں کھانے کو ملتا ہے۔لیکن اُن میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔“(سورہ القصص آیت نمبر 57) مکۂ مکرمہ کے قریب ہی طائف شہر آباد ہے،اور وہ سر سبزو شاداب علاقہ ہے۔ہمیشہ سے وہاں سے طرح طرح کا پھل مکۂ مکرمہ پہنچتا رہا ہے،اور آج بھی پہنچ رہے ہیں۔اس کے علاوہ مکۂ مکرمہ تجارتی مرکذ بن گیا تھا۔جس کی وجہ سے پوری دنیا سے اور تمام اطراف و اکناف سے طرح طرح کے پھل آتے رہے ،اور آج بھی آرہے ہیں۔شاید ہی دنیا کوئی پھل ایسا ہو جو مکۂ مکرمہ نہیں پہنچتا ہو۔جبکہ وہاں نہ تو زراعت ہوتی ہے،اور نہ ہی شجر کاری ہوتی ہے،اور نہ ہی وہاں کسی قسم کی صنعت ہے۔لیکن اس کے باجود دنیا بھر کے پھل فروٹ اور مصنوعات مکۂ مکرمہ میں ملتی ہیں۔
انبیائے کرام علہیم السلام کے باپ
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے دنیا کا امام بنانے کے ساتھ ساتھ انبیائے کرام علیہم السلام کا باپ بھی بنایا ہے۔آپ علیہ السلام کے ایک بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ”بن اسماعیل “کہلائی۔اور دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام (اِن کا ذکر آگے انشاءاﷲ آئے گا)کی اولاد”بن اسرائیل “کہلائی ۔اِس کے علاوہ تیسری بیوی سے بھی اولاد ہوئی ،اور سب کی اولاد میں انبیائے کرام علیہم السلام آئے۔مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔اب ”واذ بتلیٰ“سے اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر خیر فرمایا ہے۔تاکہ بنی اسرائیل کو اُن کے منصب ِامامت سے معزول کر کے بنی اسماعیل یعنی اُمت محمدیہ کو قیامت تک کے لئے دنیا کی امامت سونپ دی جائے۔اور اِیسی ہدایات دی جائیں ،جو اُن کے لئے ہمیشہ مشعل ِ راہ ہو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملک مصر ،عراق،فلسطن اور ملک شام سے لیکر ریگستان جزیرہ نمائے عرب کے کونے کونے میں گھوم گھوم کر وہ راہ انسانوں کو اﷲ تعالیٰ کے ابدی پیغام(اسلام) کی طرف دعوت دی۔انہوں نے اس مقصد اور مشن کی تکمیل کے لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اندرون ِعرب یعنی حجاز میں،حضرت اسحاق علیہ السلام کو فلسطین میں اور اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کو شرقِ اُردن کے علاقے میں مقرر فرمایا۔تاکہ دنای کے اِس مرکذ میں رہنے والے انسانوں کو پھر سے اﷲ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی دعوت دی جا سکے۔جن علاقوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولادوں کو مقرر فرمایا۔اﷲ تعالیٰ نے اُن کو اور اُن کی اولادوں کو اپنی نعمتوں سے نوازا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام جو اپنے چھوٹے بھائی حضرت اسحاق علیہ السلام سے اٹھارہ سال بڑے تھے۔انہیں جزیرہ نمائے عرب میں پروان چڑھایا۔قریش اور بعض دوسرے قبائل اُنہیں کی اولاد ہیں۔دوسری طرف حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد فلسطین اور ملک شام میں خوب پھولی پھلی۔حضرت یعقوب علیہ السلام ،حضرت یوسف علیہ السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت داو¿د علیہ السلام،حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ اُن کی اولاد میں سے ہیں۔چونکہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ”اسرائیل “تھا،اِس لئے اُن کے بارہ بیٹوں کی اولاد ”بنی اسرائیل “کہلائی۔اور جب یہی بنی اسرائیل تنزل میں مبتلا ہوئی تو پہلے یہودیت پیدا ہوئی ،اور پھر عیسائیت پید ا ہوئی۔اِن دونوں بیٹوں کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹوں کی اولاد میں بھی انبیائے کرام علیہم السلام آئے۔اِن میں حضرت شعیب علیہ السلام ،حضرت ایوب علیہ السلام ،حضرت یونس علیہ السلام الگ الگ بیٹوں کی اولاد میں الگ الگ علاقوں میں آئے۔اِسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام دنیا کے امام ہونے کے ساتھ ساتھ انبیائے کرام علیہم السلام کے باپ بھی ہیں۔اِس لئے یہودیوں،عیسائیوں اور مسلمانوں سب نے انہیں اپنا بڑا اور اپنا رسول مانا ہے۔
سب سے پہلے ختنہ
اِس دنیا میں سب سے پہلے ختنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی۔آپ علیہ السلام کو جب ختنہ کا حکم ملا تو آپ علیہ السلام کی عُمر اسی(80) سال تھی۔آپ علیہ السلام نے جلدی سے کلہاڑی سے ختنہ کر لی۔جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو بہت تکلیف ہوئی ۔آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کا پکارا تو اﷲ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ تم نے ہمارے آلہ بتانے سے پہلے جلدی کرلی۔آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛”یارب میں نے تیرا حکم سنتے ہی تاخیر کو پسند نہیں کیا۔امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔؛”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کلہاڑی سے ختنہ کی،اُس وقت آپ علیہ السلام کی عُمر تیس (30) تھی۔(صحیح مسلم)امام بیہقی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ختنہ کیا۔اُس وقت آپ علیہ السلام کی عُمر ایک سو بیس (120) سال تھی۔آپ علیہ السلام نے کلہاڑی سے ختنہ کیا۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام اسی(80) سال زندہ رہے۔امام محمد بن سعد نے حی بن عبداﷲ سے روایت کی ہے ،فرماتے ہیں۔مجھے ملی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ختنہ تیرہ (13) سال کی عُمر میں ہوا۔امام بیہقی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا ختنہ ساتویں دن کیا ،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اُن کی بلوغت کے وقت کیا۔امام بیہقی حضرت جابر بن عبداﷲ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ روسل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اﷲ عنہ اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کا ختنہ ساتویں دن کرایا۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا نکاح
حضرت ابراہیم علیہ السلام قربانی کے بعد ملک کنعان واپس چلے گئے۔آپ علیہ السلام براق پر سوار ہو کر آتے جاتے تھے۔اِدھر مکۂ مکرمہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام بالغ ہوئے تو اُن کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اپنے پیارے بیٹے کا نکاح قبیلہ بنو جرہم کی ایک لڑکی سے کر دیا۔اِس کے کچھ دنوں بعد آپ رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہو گیا۔اور انہیں ”حطیم“میں دفن کر دیا گیا۔اُس وقت خانۂ کعبہ نہیں تھا،اور اُس کی جگہ ایک بلند ٹیلہ تھا۔کچھ دنوں بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام بیٹے سے ملنے آئے تو وہ اُس وقت کسی لمبے سفر پر گئے ہوئے تھے۔اُن کی بیوی سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے انتقال کی خبر ملی۔بہو سے حال چال پوچھا تو اُس نے کہا؛”بڑا برا حال ہے،اور بڑی تنگی چل رہی ہے۔“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اچھا تمہارے شوہر آئیں تو انہیں میرا سلام کہنا،اور یہ کہہ دینا کہ اپنے گھر کی چوکھٹ بد ل دیں۔“جب حضرت اسمعیل علیہ السلام واپس آئے تو بیوی سے پوچھا ؛”کیا کوئی مجھ سے ملنے کے لئے آیا تھا؟“تو اُس نے کہا؛”ایسے ایسے حلیہ میں ایک بوڑھا آیا تھا،آپ کے بارے میں پوچھا پھر گھر کے حالات کے بارے میں پوچھا۔تو میں نے کہا کہ بہت تنگی میں گھر چل رہا ہے۔آپ علیہ السلام نے پوچھا؛”کیا انہوں نے اور کچھ کہا تھا؟“تو اُس نے بتایا کہ وہ آپ کو سلام کہہ گئے ہیں،اور کہا ہے کہ آپ کے کہوں کہ آپ گھر کی چوکھٹ بدل دیں۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”وہ میرے والد صاحب تھے،اور مجھ سے تمہارے ذریعے یہ فرماگئے ہیں کہ تم سے الگ ہو جاؤں۔پھر آپ علیہ السلام نے اُسے طلاق دیکر قبیلہ بنو جرہم کی ہی دوسری لڑکی سے نکاح کر لیا۔ایک روایت میں ہے کہ پہلی بیوی قبیلہ عمالقہ کی تھی۔بہر حال کچھ عرصے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام پھر بیٹے سے ملنے آئے،لیکن اِس مرتبہ بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔بہو سے ملاقات ہوئی ،بیٹے کے بارے میں پوچھا تو بہونے کہا کہ باہر گئے ہوئے ہیں۔آپ آئیں جو کچھ بھی ہے،اﷲ کا نام لیکر تناول فرمائیں۔آپ علیہ السلام نے گھر کے حالات پوچھے تو اﷲ تالیٰ کا شکر ادا کیا،اور اﷲ تعالیٰ کی تعریف بیان کی ۔آپ علیہ السلام نے پوچھا؛"تمہاری خوراک کیا ہئ؟“تو عرض کی کہ گوشت ہے۔پھر پوچھا؛”پینا کیا ہے؟“تو عرض کیا پانی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی؛”اے اﷲ تعالیٰ !اِن کے گوشت اور پانی میں برکت دے۔‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اگر اناج بھی اُن کے پاس ہوتا اور وہ کہتیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اُن کے لئے اناج کی برکت کی بھی دعا کر دیتے۔اب اِس دعا کی برکت سے مکہ¿ مکرمہ والے صرف گوشت اور پانی پر بھی گذارہ کر سکتے ہیں۔اور دوسرے علاقے کے لوگ نہیں کر سکتے ۔اِس کے بعد حضرت ابراہیم علیہالسلام نے فرمایا؛”اچھا تو میں چلتا ہوں،تم اپنے شوہر کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ تمہاری چوکھٹ بہت اچھی ہے ،اسے ہمیشہ قائم رکھنا۔“بعد میں حضرت اسماعیل علیہ السلام آئے تو اُن کی بیوی نے بتایا کہ ایک بہت ہی پیارے بزرگ ایسے ایسے حلیئے کے آئے تھے،اور نہوں نے ایسا ایسا کہا ہے۔تو آپ علیہ السلام نے بتایا کہ وہ میرے والدِ محترم ہیں،اور مجھے حکم دے کر گئے ہیں کہ میں تمہیں ہمیشہ ساتھ رکھوں ۔یہ واقعہ لگ بھگ ہر تفسیر میں درج کیا گیا ہے ،صرف الفاظ میں کچھ فرق ہے۔
تعمیر خانۂ کعبہ
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر مبارک لگ بھگ ننانوے سال یا اُس سے کچھ زیادہ ہوئی تو اﷲ تعالیٰ نے خانہ¿ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا۔اِس سے پہلے ہم آپ کو حضرت آدم علیہ السلام کے حالات میں خانۂ کعبہ کے بارے میں بتا چکے ہیں۔لیکن یہاں مختصر میں بتا دیں تاکہ تشنگی محسوس نہ ہو۔ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلے خانۂ کعبہ کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ خوا رضی اﷲ عنہ نے کی تھی۔ایک اور روایت کے مطابق فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی نگرانی میں خانۂ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جنت ایک بہت بڑا یاقوت اُتارا تھا،جسے اُس جگہ رکھ دیا گیا تھا جہاں آج خانۂ کعبہ ہے۔اب اصل حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعا لیٰ کو ہی ہے۔جب طوفان نوح آیا تو ایک روایت کے مطابق خانۂ کعبہ بہہ گیا تھا۔اور ایک روایت کے مطابق خانۂ کعبہ اُٹھا لیا گیا تھا،اور ساتویں آسمان کے اوپر رکھ دیا گیا تھا۔اور وہی ”بیت المعمور “فرشتوں کا کعبہ ہے۔اﷲتعالی کے حکم کو پورا کرنے کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ آئے تو اِس بار بیٹے سے ملاقات ہو گئی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام زمزم کے کنویں کے پاس بیٹھے تیر بنا رہے تھےاور سیدھا کر کے رکھ رہے تھے۔والد محترم کو دیکھا تو دوڑتے ہوئے آگے بڑھے اور ادب سے والد صاحب کو سواری سے اُتارا۔کافی لمبے عرصے بعد دونوں باپ بیٹے ملے تو آنکھوں میں آنسو آگئے، اور سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا دونوں کو یاد آگئیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے والد محترم کو حترام سے لا کر گھر میں بٹھایا۔تھوڑا سکون ملنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛”بیٹا!اﷲ تعالیٰ نے مجھے ایک کام کرنے کا حکم دیا ہے۔“بیٹا بھی اتنا فرمانبردار کہ یہ نہیں پوچھا کہ کون سا کام ہے؟بلکہ فوراً کہا؛”اباجان جس کام کا حکم اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دیا ہے وہ کر ڈالیئے۔“تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے سے فرمایا؛”بیٹے !اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کے لئے یہاں مکۂ مکرمہ میں ”اﷲ کا گھر “بناؤں۔“
خانۂ کعبہ کی بنیادیں اور حدود
دونوں باپ بیٹے نے تیاری مکمل کر لی،لیکن یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ خانۂ کعبہ کی بنیادیں کہاں کھودیں،اور اُس کی حدود کتنی رکھیں۔اِس بارے میں ایک روایت ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک ہوا بھیجی جس کا نام سکینہ ہے جس کے سانپ کی طرح دو سر تھے۔اور وہ اُس جگہ پر ٹھہر گئی جہاں آج خانہ¿ کعبہ ہے تو دونوں حضرات علیہم السلام نے اِس کی حد میں بنیادیں کھودیں۔ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک بادل کا ٹکڑا بھیجا اور فرمایا اِسکا سایہ خانۂ کعبہ کی حدود ہیں،اِس کے مطابق بنیادیں کھودو،نہ کم ہو نہ زیادہ ہو۔ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو خانۂ کعبہ کی حدود بتا کر بھیجا۔اور انہوں نے آکر اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق نشانات اور اشارات بتائے،اور دونوں حضرات علیہم السلام نے ان کے مطابق خانہ¿ کعبہ کی بنیاد کھودی۔آج جو خانۂ کعبہ ہم دیکھ رہے ہیں،وہ مربع نما یعنی چوکور ہے۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جو خانۂ کعبہ بنایا تھا،وہ اِس سے بڑا اور مکعب نماتھا۔حطیم کا پورا حصہ جو ابھی خانۂ کعبہ کے باہر ہے،وہ اندر تھا۔اور اِس میں دو دروازے تھے جو زمین سے لگ کر تھے۔بعد میں جب قریش نے بوسیدہ خانۂ کعبہ کو توڑ کر بنایا تو پیسے کی کمی کی وجہ سے اُس کی لمبائی کو کم کر دیا اور اُسے مربع نما بنا دیا۔اور صرف ایک دروازہ کر دیا،اور وہ بھی زمین سے کافی اُونچائی پر کر دیا۔فتح مکہ کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے فرمایا؛”اے عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا!تمہاری قوم نے ابھی ابھی اسلام قبول کیا ہے۔(یعنی نئے نئے اسلام میں دخل ہوئے ہیں)اگر ایسا نہیں ہوتا(اور اُن کا ایمان مضبوط ہو چکا ہوتا)تو میں خانۂ کعبہ کو توڑ دیتا،اور اُسے اُن بنیادوں اور حدود پر بناتا ،جن حدود پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بنایاتھا۔اِس کا دروازہ زمیں کے برابر کر دیتا اور ”حطیم“کو خانۂ کعبہ کے اندر کر دیتا۔“اور دوسری ایک روایت میں فرمایا کہ”میں اِس میں دو دروازے بنا دیتا۔“(صحیح مسلم)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خانۂ کعبہ کو ویسا ہی رہنے دیا،جیسا قریش نے بنایا تھا۔بعد میں حضرت امام حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنی حکومت کے دوران”مکۂ مکرمہ “کو دارالخلافہ بنایا،اور خانۂ کعبہ کو توسیع دیکر اُسی طرح بنا دیا،جس طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے بنایا تھا۔لیکن بعد میں عبد الملک بن مروان کے حکم پر اُس کے سپہ سالار حجاج بن یوسف نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو شہید کر کے خانہ¿ کعبہ اُسی طرح بنا دیا،جیسا قریش نے بنایا تھا۔ بعد میں عباسیہ خاندان کے حکمراں ہارون رشید نے امام مالک رحمتہ اﷲ علیہ سے مشورہ کیا کہ خانۂ کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حدود اور بنیاد پر پھر سے بنادوں؟تو انہوں نے فرمایا؛”اے امیر المومنین ! خانۂ کعبہ کو بادشاہوں کا کھلونا نہ بنائیں کہ جو بھی آئے وہ توڑا کرے اور بنایا کرے۔اِس طرح اﷲ کے اِس گھر کی ہیبت جاتی رہے گی۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!
حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 8 Story of Prophet Ibrahim
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 8
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
اﷲ کے لئے قربانی کریں
حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنی والدہ محترمہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ مکہ¿ مکرمہ میں رہ رہے تھے۔اور اُن کے والد محترم اُس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں رہ رہے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ پہلی بیوی سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہارہ رہی تھیں،اُن کی عُمر نوے (90) سال ہوچکی تھی۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر لگ بھگ ننانوے(99) سال ہو چکی تھی۔ایک رات آپ علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے اﷲ تعالیٰ کے لئے قربانی کرو۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے خواب سچے ہوتے ہیں۔اور رات میں جو خواب دیکھتے ہیں ،وہ دن میں حقیقت بن کر سامنے آجاتا ہے۔اِس لئے صبح اُٹھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دس اونٹ اﷲ تعالیٰ کے لئے قربان کر دیئے۔دوسری رات پھر خواب میں حکم ہوا کہ اﷲ کے لئے قربانی کریں۔صبح اُٹھ کر آپ علیہ السلام غورو فکر میں مبتلا رہے،کافی غورو فکر کرنے کے بعد آپ علیہ السلام نے سوچا کہ شاید میں کم اونٹوں کی قربانی کی ہے۔اِس لئے اُس دن سو(100) اونٹوں کی قربانی کی۔
اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرو
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سو(100) اونٹوں کی قربانی کی،لیکن تیسری رات پھر قربانی کا حکم ہوا۔اور اِس بار یہ حکم ہوا کہ اﷲ کے لئے اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرو۔صبح آپ علیہ السلام اُٹھے تو غورکرنے لگے کہ میری سب سے پیاری چیز کون سی ہے؟کافی غور و فکر کرنے کے بعد آپ علیہ السلام کی سمجھ میں آیا کہ میں اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔اِس لئے مجھے اپنے بیٹے کو اﷲ کے لئے قربان کرنا ہوگا۔یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہت بڑی آزمائش تھی،کیونکہ بڑھاپے میں اﷲ تعالی نے اولاد عطا فرمائی تھی،اور وہ بھی اکلوتی اولاد تھی۔لیکن آپ علیہ السلام جانتے تھے کہ اولاد اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی ہے،اِس لئے وہ جب چاہے واپس لے سکتا ہے۔آپ علیہ السلام نے فوراً سفر کی تیاری کی،اور مکۂ مکرمہ کی طرف چل پڑے۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے جب شوہر کو اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد محترم کو دیکھا تو خوشی کے مارے آنکھوں میں آنسو آگئے۔اُس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عُمر لگ بھگ تیرہ (13)یا چودہ(14) سال کے درمیان تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی اور بیٹے کو اپنے خواب کے بارے میں بتایا تو دونوں نے سمجھ لیا کہ یہ اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے۔
فرمانبردار بیٹا
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں بتایا ۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اﷲ تعالیٰ کی کئی نشانیاں دیکھی تھیں،اِس لئے وہ جانتی تھیں کہ اِس میں بھی اﷲ تعالیٰ کی کوئی مصلحت ہو گی۔پھر بھی ممتا کی ماری نے کانپتے ہوئے دل کو مضبوط کر کے اجازت دے دی۔لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام تو ابھی نوجوانی میں قدم رکھ رہے تھے۔اِس کے بوجود اپنے والد ِ محترم کے اتنے فرمانبردار تھے کہ اِس بات کی پرواہ نہیں کی کہ اِس بات کے نتیجے میں میرا کیا انجام ہو گا؟بلکہ والدِ محترم سے عرض کیا ؛”اباجان !آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے جس کام کا حکم دیا ہے ،وہ کر ڈالیئے،اور انشاءاﷲ آپ علیہ السلام مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔اﷲ تعالیٰ نے اُن باپ بیٹے کی گفتگوکو سورہ الصافات میں بیان فرمایا؛ترجمہ؛”(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی)اے میرے رب !مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما،تو ہم نے اُسے ایک بُرد بار لڑکے کی بشارت دی۔پھر جب وہ (بیٹا) نوعُمر کو پہنچاکہ اُس کے ساتھ چلے پھرے تو ابراہیم (علیہ السلام ) نے کہا؛اے میرے بیٹے !میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔اب بتا تیری کیا رائے ہے؟بیٹے نے جواب دیا؛اباجان !جو حکم آپ (علیہ السلام ) کو ہوا ہے،اُسے بجا لایئے۔اِن شاءاﷲ آپ( علیہ السلام) مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔“(سورہ الصافات آیت نمبر 100 سے 102 تک)
ابلیس شیطان کو کنکریاں مارنا
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی بیوی اور بیٹے کی فرمانبرداری دیکھی تو بہت زیادہ خوش ہوئے ،اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام نے ہاتھ میں چھری لی،اور بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر قربان گاہ کی طرف لے جانے لگے۔ذرا اُسوقت کا تصور کریں۔اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر لگ بھگ ننانوے سال تھی،اور بڑھاپے میں اکلوتی اولاد کو ذبح کرنا تھا۔ایسے وقت میں بھی آپ علیہ السلام نے بیٹے سے اپنی محبت کو اﷲ کے حکم پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ابلیس شیطان نہیں چاہتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اِس آزمائش میں کامیاب ہوں۔وہ آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابراہیم(علیہ السلام) ! یہ کیسا پاگل پن ہے؟ایسے کوئی اپنی اولاد کو ذبح کرتا ہے کیا؟اور یہ تو تمہارا اکلوتا بیٹا ہے،تمہارے بڑھاپے کا سہارا ہے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”یہ اﷲ کا حکم ہے، اور میں اِسے ضرور پورا کروں گا۔اور تُو مجھے بہکا رہا ہے،تو ضرور ابلیس شیطان ہے۔“اور آپ علیہ السلام نے سات کنکریاں اُٹھائیں ،اور اُسے مارا تو وہ وہاں سے بھاگا۔پھر ابلیس شیطان بھاگ کر سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آیااور بولا کہ بی بی جی!یہ ابراہیم(علیہ السلام) کیا کرنے جارہا ہے؟اُسے روکو،تمہارا شوہر پاگل ہو گیا ہے،کیا بڑھاپے میں کوئی اپنی اولاد کو اِس طرح ذبح کرتا ہے؟سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا؛”وہ اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے جارہے ہیں،اور میں انہیں اﷲ کا حکم پورا کرنے سے نہیں روکوں گی۔اور تُو مجھے بہکا رہا ہے،تُو ضرور ابلیس شیطان ہے۔“یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہا نے سات کنکریاں اُٹھائیں اور اُسے ماری تو ابلیس شیطان وہاں سے بھاگا۔اب وہ بھاگتا ہوا حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا کہ بیٹے یہ تمہارے کھیلنے اور کھانے کے دن ہیں،ابھی تم نے دنیا دیکھی ہی کہاں ہے؟تمہارا باپ بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہے،کیا اِس طرح کوئی اپنی اولاد کو ذبح کرتاہے؟حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا؛”میرے والد اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے جارہے ہیں،اور میں اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے میں اُن کی ضرور مدد کروں گا،اور تُو مجھے بہکا رہا ہے،تُو ضرور ابلیس شیطان ہے۔“اور آپ علیہ السلام نے بھی سات کنکریاں اُٹھا کر اُسے ماری ،اور ابلیس شیطان بھاگ گیا۔حاجی شیطان کو جو کنکریاں مارتے ہیں،یہ اُنہی مقدس ہستیوں کی سنت ہے۔
گلے پر چھری رکھ دی
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کولیکر قربانی کی جگہ پہنچ گئے۔یہاں پہنچ کر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والدِ محترم سے عرض کیا؛”اے میرے اباجان!ذبح کرنے سے پہلے میرے ہاتھ اور پیر مضبوطی سے باندھ دیں،تاکہ میں زیادہ تڑپ نہ سکوں،اور آپ علیہ السلام کو ذبح کرنے میں آسانی ہو۔اور اپنے کپڑوں کو مجھ سے بچا کر رکھنا،تاکہ میرا خون آپ علیہ السلام کے کپڑوں پر نہ لگ جائے۔اور میری والدہ محترمہ کو یہ خون دیکھ کر تکلیف نہ ہو۔میرے حلق پر چھری جلدی جلدی چلانا،تاکہ مجھ پر موت آسانی سے آئے،اور جب میری والدہ کے پاس جانا تو اُس سے میرا سلا م کہنا۔“کچھ روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ بھی کہا؛”اباجان!آپ علیہ السلام اپنی آنکھوں پر پٹی باند ھ لیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ میری تکلیف دیکھ کر آپ علیہ السلام کو رحم آجائے،اور آپ علیہ السلام سے اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے میں نعوذ باﷲ کوتاہی نہ ہو جائے۔“یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے کے ہاتھ اور پیر باندھ دیئے،اور اپنی آنکھوں پر بھی پٹی باندھ لی۔اور اپنے پیارے فرمانبردار بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا،اورگلے پر چھری رکھ دی۔بس چھری چلانے کی دیر تھی۔
ابراہیم کی چھری بعد میں چلے،پہلے اسماعیل کو ہٹاؤ
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری رکھ دی تھی۔ اﷲ تعالیٰ کا فضل اور اُس کی رحمت اِن مخلص بندوں کے عمل کو دیکھ کر بہت زیادہ جوش میں آگئی۔اور اﷲ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا؛”جرئیل! ابراہیم کی چھری بعد میں چلے ،اُس سے پہلے اسماعیل کو ہٹا کر اُس کی جگہ دنبہ رکھ دو۔“جبرئیل علیہ السلام دنبہ لیکر بہت تیزی سے قربانی کی جگہ پہنچے ،اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چھری چلنے سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ہٹا کر اُن کی جگہ دنبہ رکھ دیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوری طاقت سے چھری چلا دی،اور گلہ کٹ گیا۔گرم گرم خون آپ علیہ السلام کے ہاتھوں پر لگ رہا تھا۔اور دنبہ تڑپ رہا تھا،جب آپ علیہ السلام کو اطمینان ہو گیا کہ ذبح مکمل ہو گیا ہے،تو آنکھوں سے پٹی اُتاری۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی آنکھوں سے پٹی اُتاری تو دیکھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام سامنے کھڑے مسکرا رہے تھے۔
اے ابراہیم!تم کامیاب ہوئے(خواب سچ کر دکھایا)
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو سامنے مسکراتے ہوئے کھڑا پایا تو آپ علیہ السلام کو بڑی حیرانی ہوئی ۔اور جب قربانی کی جگہ دیکھا تو وہاں ایک دنبہ ذبح کیا ہوا پڑا دیکھ کراور زیادہ حیران ہوئے۔اور آپ علیہ السلام کو صدمہ ہوگیا کہ کہیں مجھ سے اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے میں کتاہی تو نہیں ہوگئی ۔اُسی وقت جبرئیل علیہ السلام نے آواز لگائی ”اﷲ اکبر،اﷲ اکبر“یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛”لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر“جب حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والدِ محترم سے یہ سنا تو فرمایا؛”اﷲاکبر واﷲ الحمد “اﷲ تعالیٰ کو یہ کلمات اتنے پسند آئے کہ اِن کلمات کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت پر عیدین کے دن پڑھنا واجب کردیا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فرمای؛ترجمہ؛”جب دونوں مطیع ہوگئے(یعنی قربانی کے لئے تیار ہوگئے)اور اُس نے(باپ نے) اُس کو (بیٹے کو)پیشانی کے بل لٹا دیا تو ہم نے آواز دی ،اے ابراہیم ! بے شک تم نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا۔(یعنی کامیاب ہوگئے)بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اِسی طرح جزا دیتے ہیں۔بے شک یہ کھلی آزمائش تھی،اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اُس کے فدیہ میں دے کر اُسے (حضرت اسماعیل علیہ السلام کو) بچا لیا۔“(الصافات آیت نمبر 103سے 107تک)اِس طرح اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے ایک دنبہ ذبح کروایا۔اس کے بعد آپ علیہ السلام ہر سال قربانی رہے۔اور ہم ہر سال دس ذی الحجہ کو جو قربانی کرتے ہیں،یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔
دنیا کے امام
اﷲ تعالیٰ نے کئی مرتبہ حضرت ابراہیم کو آزمایا۔کبھی آگ میں ڈال کر آزمائش کی،کبھی بیوی اور بچے کو سنسان اور ویران وادی میں چھوڑدینے کا حکم دیکر آزمائش کی،اور کبھی بیٹے کی قربانی کے ذریعے آزمائش کی۔اس کے علاوہ بھی کئی اور باتوں میں آزمایا،اِس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ؛”جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اُن کے رب نے کئی کلمات (باتوں) سے آزمایا۔اور انہوں نے سب کو پورا کردیا تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔(آپ علیہ السلام نے) عرض کیا؛اور میری اولاد کو؟(اﷲ نے فرمایا)میرا وعدہ ظالموں کے متعلق نہیں ہے۔ہم نے بیت اﷲ (خانہ¿ کعبہ کو)لوگوں کے لئے ثواب اور امن و امان کی جگہ بنائی ۔تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو۔ہم نے ابراہیم(علیہ السلام)اور اسماعیل(علیہ السلام)سے وعدہ لیاکہ تم میرے کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع ،سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو۔جب ابراہیم(علیہ السلام) نے کہا؛اے میرے رب !تُو اِس جگہ کو امن والا شہر بنا،اور یہاں کے باشندوں کو جو اﷲ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں،انہیں پھلوں کا رزق دے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛میں کافروں کو بھی تھوڑا(یعنی دنیا کی زندگی میں جو بہت تھوڑی ہے)فائدہ دوں گا۔پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بے بس کر دوں گا۔اور یہ پہنچنے کی بُری جگہ ہے۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 124 سے 126تک)اﷲ تعالیٰ نے کن کلمات میں آپ علیہ السلام کو آزمایا؟اِس بارے میں تفاسیر میں کئی روایات ہیں۔یہاں تک کہ سید المفسرین حضرت عباﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے کئی روایات مروی ہیں۔جو کئی تفاسیر میں درج ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ سے ایک روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مناسک ِ حج کا حکم دیا،جو انہوں نے پورا کیا ۔اور دوسری روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دس احکام دیئے،جن میں سے پانچ سر کے متعلق ہیں،اور پانچ بقیہ جسم سے متعلق ہیں۔1)مونچھیں کاٹنا،2)کُلی کرنا،3)ناک میں پانی ڈالنا،(جیسے کہ ہم وضو میںکرتے ہیں،حدیث میں اِس کو ”استفشاق“کہا گیا ہے)،4)مسواک کرنا،5)سر کے بالوں مانگ نکالنا،یہ پانچ سر کے احکام ہیں۔اور 6)ناخن کاٹنا،7)ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا،8)ختنہ کرنا،9)بغلوں کے بال صاف کرنایا اُکھاڑنا،10)پیشاب اور پاخانہ کے بعد پانی استنجا کرنا۔
دنیا میں سب سے پہلے سفید بال
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ کے رسول حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی(80) سال کی عُمر میں ”قدوم“کے مقام پر اپنی ختنہ کی۔حضرت سعید بن مسیّب سے منقول ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام وہ شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مہمان نوازی کی ،اور سب سے پہلے ختنہ کی،اور سب سے پہلے مونچھیں تراشی اور آپ علیہ السلام سب سے پہلے وہ شخص ہیںجن کے بال سفید ہوئے،اُن سے پہلے کسی کے بال سفید نہیں ہوئے تھے۔جب آپ علیہ السلام نے سفید بالوں کو سیکھا تو اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا؛”اے میرے رب !یہ کیا ہے؟“تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”یہ وقار ہے(یعنی بزرگی ہے)“اِس پر آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛”اے میرے رب ! میرا وقار اور بڑھا دیجیئے۔“(موطا)حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے مروی تیسری روایت میں یہ ہے کہ جن احکام کے ذریعے اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش کی۔اِن میں سے کچھ چیزیں انسانی جسم کے متعلق ہیں۔1)ناف کے نہچے کے بال صاف کرنا،اور بغل کے بال اُکھاڑنا،2)ختنہ کرانا،3)ناخن کاٹنا،4)مونچھیں تراشنا، 5)مسواک کرنا ،۶) جمعہ کے دن غسل کرنا،اور باقی چار احکام حج کے متعلق ہیں ۔1)طواف کرنا،2)صفا اور مروہ کے درمیان سعیٔ کرنا،3)جمرات(شیطان کو کنکریاں مارنا،4)طوف زیارت کرنا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......
حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 7 Story of Prophet Ibrahim
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 7
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش
اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور اپنے دودھ پیتے بچے کو پہاڑوں کے درمیان ایک سنسان وادی میں چھوڑ آؤ۔در اصل اﷲ تعالیٰ آزمائش لے رہا تھا،کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد کا سکھ نصیب ہوا تھا۔اور وہ بھی اکلوتا بیٹا تھا،لیکن آپ علیہ السلام بھی اﷲ کے خلیل تھے،اور اﷲ کے فضل و کرم سے آپ علیہ السلام اِس آزمائش پر پورے اُترے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھانا اور پانی ساتھ لیا،اور اپنی بیوی اور بچے کو لیکر ایک اونٹ پر سوار ہوئے۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا بھی بہت ہی فرماں بردار،صبر داراور اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والی خاتون تھیں۔اِس لئے خاموشی سے شوہر کے ساتھ چل پڑیں ،کافی لمبا سفر طے (فلسطین سے مکۂ مکرمہ کا فاصلہ ایک ہزار کلو میٹر سے زیادہ ہی ہو گا) کرنے کے بعد آخر کار اُس جگہ پہنچے جہاں آج خانہ¿ کعبہ ہے۔اُسوقت وہ جگہ بالکل ہی سنسان تھی،چاروں طرف پہاڑیاں تھیں ،اور اُن کے درمیان یہ سنسان علاقہ تھا۔جہاں نہ تو کوئی انسان دکھائی دیتا تھا،اور نہ ہی کوئی جانور دکھائی دیتا تھا۔نہ تو کوئی درخت،پیڑ ،پودا تھا ،اور نہ ہی گھاس تھی۔بلکہ چاروں طرف جدھر بھی نظر دوڑاو¿ ،پہاڑیاں اور ریت(جسے ہم بالو کہتے ہیں)تھی۔نہ تو کہیں سایہ تھا،اور نہ ہی کہیں سایہ دار جگہ تھی۔
اﷲ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں کرے گا
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اِس سنسان وادی میں لا کر سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو صفا اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان اُس جگہ اُتار دیا جہاں آج خانہ¿ کعبہ ہے۔تب تک سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اپنے شوہر سے کچھ نہیں پوچھا تھا۔آپ علیہ السلام نے اپنی بیوی اور بچے کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلہ اور پانی کا ایک مشکیزہ رکھ دیا۔اور واپس اپنے اونٹ پر سوار ہو کر خاموشی سے جانے لگے،جب آپ علیہ السلام چلنے لگے تو سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے آکراونٹ کی مہار پکڑ لی،اور چلتی ہوئی کہنے لگیں؛”آپ علیہ السلام ہمیں کس کے بھروسے پر چھوڑ کر جارہے ہیں؟“لیکن آپ علیہ السلام نے کوئی جواب نہیں دیا،اور خاموشی سے آگے بڑھتے رہے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے دوسری مرتبہ پوچھا،اور جواب نہ ملنے پر تیسری مرتبہ پوچھا؛”کیا آپ علیہ السلام ہمیں اﷲ تعالیٰ کے بھروسے پر چھوڑ کر جارہے ہیں؟“تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا؛”ہاں “اس کے بعد سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اونٹ کی مہار چھوڑ دی،اور فرمایا؛”جب یہ اﷲ کا حکم ہے تو آپ جائیں ،اور اﷲ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں ہونے دے گا۔“
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی اور بچے کو اس سنسان وادی میں چھوڑ کر جانے لگے،جب آپ علیہ السلام وادی کے اوپر پہاڑی پرچڑھے تو چوٹی پر پہنچ کر رُک گئے۔اور نیچے وادی میں دیکھا تو کھلے میدان میں دھوپ میں سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہااپنے بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوئی تھیں۔آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اُٹھادیئے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ ابراہیم میں فرمایا؛ترجمہ؛”(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی،اور عرض کیا)اے ہمارے رب (پروردگار)!میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے حُرمت والے گھر کے پڑوس میں ایسی سنسان وادی میں بسا دیا ہے،جس میں کوئی کھیتی باڑی نہیں ہے۔(یعنی بالکل بنجر اور ویران جگہ پر)اے ہمارے رب!یہ اِس لئے تاکہ وہ نماز قائم کریں،بس لوگوں کے دلوں کو شوق و محبت سے اُن کی طرف مائل کر دے۔اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما ،تاکہ وہ تیر شکر ادا کریں (سورہ ابراہیم آیت نمبر ۷۳)حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دل بیوی اور بچے کی طرف کھنچ رہا تھا، لیکن اﷲ کے حکم کو پورا کرنا تھا۔دعا مانگنے کے بعد آپ علیہ السلام کے دل کو کچھ اطمینان ہوا،پھر آپ علیہ السلام نے آنسو بھری آنکھوں سے نیچے وادی میں اپنی اور بیوی اور بچے کو دیکھا،اور اونٹ کو فلسطین کی طرف موڑ کر واپس چلے گئے۔
کھانا پانی ختم ہو گیا
سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور دودھ پیتے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اِس سنسان اور ویران وادی میں چھوڑ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین (اُس وقت کا ملک کنعان)واپس چلے گئے۔آپ رضی اﷲ عنہا ایک چھوٹا سا خیمہ لگائے ہوئے تھیں۔ایک کمبل تھا، ایک تھیلہ کھجور اور ایک مشکیزہ پانی تھا۔عرب کے صحراءمیں دن بہت زیادہ گرمی پڑتی ہے،کیونکہ سورج کی روشنی سے ریت یعنی بالو بہت زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔اِس طرح اوپر سے سورج کی روشنی کی گرمی اور نیچے سے ریت کی گرمی دونوں ملکر بہت زیادہ گرمی پید کرتی ہیں۔اور عرب کے صحراءرات میں بے حد سرد ہوجاتے تھے ،کیونکہ رات میں خلاءکی سردی صحراءپر جب اُترتی ہے تو ریت بھی بہت زیادہ سرد ہو جاتی ہے،اور اس کی وجہ سے بہت زیادہ سردی پڑتی ہے۔ایسے بے انتہا گرم اور سرد موسم کی شدت برداشت کرتے ہوئے سیدہ ہاجرہ رضی ا ﷲعنہا دن گزار رہیں تھیں۔اور بہت احتیاط سے کھانا اور پانی استعمال کر رہی تھیں۔تاکہ زیادہ سے زیادہ دن چل جائے،اور ہو سکتا ہے کہ اِس دوران شاید کوئی قافلہ اِدھر سے گزرے اور اُس سے کچھ کھانے پینے کا سامان مل جائے۔لیکن وہ جگہ عام رستے سے ہٹ کر تھی ،اِسی لئے کوئی قافلہ اِدھر سے نہیں گزرا۔بہت احتیاط سے استعمال کرنے کے باوجود کھجوریں اور پانی ختم ہو گیا۔اب سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا بھوکی پیاسی رہنے لگیں۔
پانی کی تلاش میں ”سعیٔ
سیدہ ہاجرہ رضی عنہا کھانا اور پانی ختم ہونے کے بعد بھوکی اور پیاسی رہنے لگیں،اِسی طرح کئی دن گزر گئے،اور آپ رضی اﷲ عنہا دن بہ دن کمزور ہوتی جارہی تھیں۔جس کی وجہ سے دودھ بھی کم ہونے لگا تھا،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بھوک اور پیس کی وجہ سے رونے لگے۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا بار بار دودھ پلانے کی کوشش کرتیں ،لیکن آپ علیہ السلام روتے ہی جارہے تھے،چپ نہیں ہورہے تھے۔آخرکارسیدہ ہاجرہ بے چینی سے چاروں طرف دیکھنے لگیں،لیکن چاروں طرف اوپر کھلا آسمان تھا،جس میں سورج آگر برسا رہا تھا۔اور نیچے پہاڑوں اور ریت (بالو) تھی،جو سورج کی تپش سے بہت زیادہ گرم ہوچکی تھی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام روتے ہی جارہے تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔یہ بے چینی اتنی بڑھی کہ آپ رضی اﷲ عنہا نے اپنے بچے کو زمین پر چھوڑا ،اور جلتی ہوئی ریت ننگے پاو¿ں بھاگتی ہوئی قریب کی پہاڑی پر چڑھنے لگیں۔یہ ”صفا “پہاڑی تھی،پہاڑی پر چڑھ کر انہوں نے چاروں طرف اِس اُمیدمیں دیکھا کہ شاید کوئی قافلہ جاتا ہوا دکھائی دے۔لیکن کوئی قافلہ دکھائی نہیں دیا،چاروں طرف سنسان پہاڑیاں تھیں۔اور اِس سناٹے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے رونے کی آواز اُن کے کانوں میںہتھوڑے کی ضرب کی طرح لگ رہی تھی۔بے چینی سے انہوں نے گھوم کر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا،اور ممتا کی ماری تیزی بھاگتی ہوئی بیٹے کے پاس آئی اور اُٹھا لیا۔
زمزم کا چشمہ یا کنواں
سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے آکر بیٹے کو اُٹھا لیا،لیکن وہ بیٹے کو چپ نہیں کرا سکتیں تھیں۔اور وہ مسلسل روئے جارہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے روتے ہوئے بیٹے کو پھر زمین پر رکھا،اور اِس مرتبہ سامنے والی پہاڑی پر چڑھنے کے لئے بھاگیں۔یہ ”مروہ“پہاڑی تھی،ہانپتے کانپتے آپ رضی اﷲ عنہا مروہ پہاڑی پر چڑھیں،اور اِس اُمید میں چاروں طرف نظر دوڑانے لگیں کہ شاید کوئی قافلہ نظر آجائے۔لیکن کوئی قافلہ نظر نہیں آیا،بیٹے کے رونے کی آواز سن کر واپس بیٹے کے پاس آئیں۔اور پھر قافلے کی تلاش میں بھاگ کر صفا پہاڑی پر چڑھنے لگیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام مسلسل رو رہے تھے،اور اُن کی والدہ محترمہ بے چینی سے کبھی صفا پہاڑی پر چڑھ کر قافلے کو تلاش کرتیں،کبھی بھگ کر اُن کے پاس آجاتیں۔پھر مروہ پہاڑی پر قافلے کی تلاش میں چڑھتیں ،اور پھر بیٹے کی محبت میں بھاگ کر اُس کے پاس آجاتیں۔اِسی طرح سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے صفا اور مروہ پر سات چکر پورے کئے۔اﷲ تعالیٰ کو آپ رضی اﷲ عنہا کی یہ ”سعی ¿‘]اتنی پسند آئی کہ اﷲ تعالیٰ نے سعی ¿ کوحج کا ایک ارکان بنا دیا۔اب قیامت تک ہر حاجی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کی سنت کو دہراتے رہیں گے۔آخر کار اﷲ تعالیٰ کواِس ماں پر رحم آگیا،اور جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیکر بھیجا۔جبرئیل علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پیروں کے پاس عصا مارا تو زمین سے پانی نکلنے لگا۔تب تک سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا صفا اور مروہ پر سات چکر لگا چکی تھیں۔ساتویں چکر کے بعد جب آپ رضی اﷲ عنہا واپس بیٹے کے پاس آئیں تو دیکھا کہ اُن کے پیروں کے پاس زمین میں گڑھا بنا ہوا ہے،اور اُس میں سے پانی نکل رہا ہے۔انہیں ایسا لگا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایڑیاں رگڑنے سے زمین میں گڑھا ہو گیا ہے۔اور اِس گڑھے سے پانی نکل رہا ہے۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا،اور روتی ہوئی اُس جگہ آئیں جہاں پانی نکل رہا تھا،اور چاروں طرف پھیلتا جارہا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہا جلدی جلدی اُس جگہ کے چاروں طرف منڈیر بنانے لگیں،اور فرمانے لگیں”زمزم“یعنی ٹھہر جا،ٹھہر جا۔تب سے اس کا نام ”زمزم“ہو گیا۔آپ رضی اﷲ عنہا نے اِس پانی کو پیا اور بیٹے کو بھی پلایا۔
زمزم کی خصوصیات
سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے زمزم کو کنویں کی شکل دے دی۔حضرت عبد اﷲ بن عباد رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کو اپنی رحمتو ں کے سائے میں رکھے،اگر وہ زمزم کے چشمے کو نہیں روکتیں،یا اُس کے حال پر چھوڑ دیتیں تو وہ ایک بہت بڑا چشمہ بن جاتا۔اب سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کا گذارہ اِسی پانی پر ہونے لگا۔صرف یہ پانی پیتیں،اور آپ رضی اﷲ عنہا کی بھوک اور پیاس دونوں مٹ جاتیں۔یہاں ذہن میں یہ سوال پید ہوتا ہے کہ بغیر کھانے کے انسان صرف پانی پی کر کتنے دن گزارہ کر سکتا ہے،اور کیا وہ کمزور نہیں ہوگا؟اِس کا جواب آج کی سائنس دیتی ہے۔آج زمزم کے پانی کو سائنس دانوں نے بہت باریکی سے چیک کیا ہے،اور مکمل ریسرچ کرنے کے بعد بتایا کہ اِس پانی میں ہر طرح کا وٹامن موجود ہے۔اور یہ پانی قدرتی طور پر نہ صرف صاف ہے بلکہ طاقتور بھی ہے۔یہ برسوں کسی بھی چیز میں بند کر کے رکھا جائے،تب بھی خراب نہیں ہو گا۔اور اگر کوئی شخص کھانا نہیں کھائے،اور صرف زمزم پی کر رہے،تو نہ ہی اُسے بھوک لگے گی،اور نہ ہی اُسے پیاس لگے گی۔بلکہ وہ عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ تندرست اور طاقتور ہوتا جائے گا۔اسی لئے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم جب تک مکۂ مکرمہ میں رہےتو زیادہ تر زمزم پر گذارہ کرتے تھے۔اور بچپن میں تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم صرف آب زمزم کا استعمال کرتے تھے۔
قبیلہ بنو جرہم کی آمد
سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا گزارہ زمزم پر ہونے لگا۔جب پانی ملا تو سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے مٹی کی کچی اینٹوں کا ایک چھوٹا سا گھر بنا لیا۔زمزم کا چشمہ بڑھتا ہی جا رہا تھا،اور وہاں ایک نخلستان بن گیا۔انہی دنوں قبیلہ بنو جرہم پانی کی کمی کا شکار ہوئے،اور وہ پانی کی تلاش میں نکلے۔انہوں نے ایک جگہ پہاڑیوں کے درمیان وادی میں قیام کیا ،لیکن وہاں پانی نہیں تھا۔انہوں نے عام راستے سے کافی دور آسمان پر پرندوں کو اڑتے دیکھاتو آپس میں کہنے لگے کہ یہ پرندے ضرور پانی پر منڈلا رہے ہوں گے۔حالانکہ ہم بھی تو اِس وادی میں ٹھہرے ہوئے ہیں،لیکن یہاں پانی کا نام و نشان نہیں ہے۔انہوں نے چند آدمی تحقیقات کے لئے بھیجے تو انہوں نے آکر بتایا کہ وہاں پر پانی ہے۔پورا قبیلہ بنو جرہن وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے دودھ پیتے بچے کو لیکر بیٹھی ہے۔انہوں نے اُس سے پانی مانگا تو اُس عورت نے اُنہیں پانی دیا۔انہوں نے دیکھا کہ وہ عورت پانی نکال نکال کر دیتی جارہی ہے،اور پانی کم ہونے کے بجائے اُتنا کہ اُتنا ہی ہے۔یہ دیکھ کر انہوں نے اُس عورت یعنی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا سے وہاں رہنے کی اجازت مانگی۔آپ رضی اﷲ عنہا نے اِس شرط پر انہیں رہنے کی اجازت دی کہ پانی پر میرا قبضہ رہے گا،اور میں خود ضرورت کے مطابق پانی تقسیم کروں گی۔زمزم کے کنویں کے قریب ہی خانۂ کعبہ کی جگہ ایک ٹیلے کی شکل میں موجود تھی۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے زمزم کے کنویں کے پاس اپنا مکان بنا لیا،اور کنواں آنگن میں کر لیا۔اور قبیلہ بنو جرہم کے لوگوں نے خانہ¿ کعبہ کے ٹیلے کے اطراف میں دور دور تک وادی میں اپنے مکانات بنا لئے۔اِس طرح مکۂ مکرمہ آباد ہو گیا۔
سب سے فصیح وبلیغ عربی
زمزم کے چشمہ کی وجہ سے قبیلہ بنو جرہم نے وہیں رہائش اختیار کر لی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام جب چلنے پھرنے لگے تو قبیلہ بنو جرہم کے بچوں کے ساتھ تیر اندازی اور گھڑ سواری کرنے لگے۔اور آپ علیہ السلام اتنی صاف اور فصیح و بلیغ عربی بولتے کہ بنو جرہم کے لوگ حیران ہو جاتے تھے۔دراصل سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا عبرانی زبان بولتی تھیں،اور قبیلہ بنو جرہم عربی زبان بولتے تھے۔شروع میں کچھ دنوں تک آپ رضی ا عنہا کو پریشانی ہوئی ،پھر بعد میں آپ رضی اﷲ عنہا نے عربی زبان سیکھ لی، لیکن اُتنی صاف عربی نہیں بول پاتی تھیں۔جبکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام انہیں کے درمیان بڑے ہوئے،اور بچپن سے عربی زبان سیکھ لی۔اکثر روایات میں آیا ہے کہ سب سے پہلے جس شخص نے فصیح و بلیغ عربی میں بات کی،وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔اِس طرح دھیرے دھیرے وقت گزرتا رہا،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عُمر لگ بھگ تیرہ(13) سال ہو گئی۔اِس درمیان میں وقتاً فوقتاًحضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ آتے رہتے تھے۔اور جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دیکھتے تو خوشی سے سینہ پھول جاتا تھا۔اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے ایسے قد کاٹھی سے نوازا تھا کہ آپ علیہ السلام نو عمری میں ہی نوجوانوں کی طرح دکھائی دیتے تھے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......
D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں
D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں
-
حضرت شیث علیہ السلام تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی حضرت شیث علیہ السلام کی پیدائش حضرت شیث علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کے بعد د...
-
حضرت لوط علیہ السلام مکمل سلسلہ نمبر 8 تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی قارئین کرام ،اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت ابراہیم علیہ السل...
-
حضرت نوح علیہ السلام مکمل واقعہ تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی سلسلہ نمبر4 حضرت آدم علیہ السلام کے بعد کا زمانہ قارئین کرام ، اس سے پہ...


.jpeg)




.jpeg)
.jpeg)




