1حضرت صالح علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 06
قسط نمبر 1
قوم ثمود
اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت آدم علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ھود علیہ السلام کے بارے میں بتاچکے ہیں۔ اب انشااللہ حضرت صالح علیہ السلامکے متعلق کچھ تفصیلی حالات پیش کریں گے۔ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ”قوم ثمود“ کے نام سے مشہور ہوئی۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بےٹے سام کی اولاد عرب اور آس پاس کے علاقوں میں جا بسی تھی۔ سام کا ایک بےٹا ارم حجاز اور تبوک کے درمیانی علاقے میں جاکر بس گےا تھا۔ اس علاقے کا نام الحجر ہے ۔حجر کا علاقہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں آیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ تبوک کےلئے تشرےف لے جارہے تھے۔ علامہ عبدالرحمٰن بن خلدون لکھتے ہیں ۔ کہ سام بن نوح کے پانچ بےٹے تھے۔ ان کے نام ارفخشند، لاوز، ارم، اشوذ اور غلیم ہیں۔ ان پانچوں بھائےوں میں ارم بن سام کے چھ بیٹے تھے۔ ان کے نام عبیل ، عبدضحیم ، عوص ، کاثر یا جاثر، ماش (مثیخ) اور حول ہیں۔ ان چھ بھائےوں میں عوص کابیٹا عاد تھا۔ جس کی اولاد کا نام ’قوم عاد‘ تھا۔ اس کا ذکر آپ حضرت ھود علیہ السلام کے حالات میں پڑھ چکے ہیں۔ ان چھ بھائےوں میں سے کاثر(جاثر) کا بےٹا ثمود تھا۔ اسکی اولادکا نام قوم ثمود تھا۔ اس طرح ارم کے ایک بیٹے کی اولاد قوم عاد کہلائی اور دوسرے بےٹے کی اولاد قوم ثمود کہلائی۔ ارم کی اولاد اس علاقے ( حجر اور آس پاس کا علاقہ) میں پھیل گئی۔ ارم کے پوتے کا نام ثمود تھا۔ اور اسی کے نام پر اس قوم کا نام قوم ثمودپڑا۔ تفسیر مظہری میں لکھا ہے ۔ ثمود عرب کا ایک قبیلہ تھا جو ثمود بن عاثر ( کاثر یا جاثر) بن ارم بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد تھا۔ ابو عمرو بن علام نے لکھا ہے کہ ثمود کا یہ نام ان کے ( علاقے میں ) پانی کے کم ہونے کی وجہ سے تھا۔ کیوں کہ ثموا لماءکا معنی ہے ۔ پانی کم ہو گیا۔ ان کی بستیاں شام اور حجاز کے درمیان حجرسے وادی القریٰ تک تھیں۔ قوم ثمود کا معنی ہے تھوڑے پانی والی قوم ۔ ( تفسیر مظہری جلد نمبر3قاضی ثناءاللہ پانی پتی، تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یا ر خان نعیمی۔ تفسیر الجامع الاحکام القران المعروف تفسیر قرطبی جلد نمبر 4امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی)علامہ غلام رسول سعیدی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں قومِ ثمود بھی سامی اقوام کی ایک شاخ ہے۔ عادِ اولیٰ کی ہلاکت کے بعد جو ایمان والے حضرت ہود علیہ السلام کے ساتھ بچ گئے تھے۔ یہ قوم ان کی ہی نسل سے ہے۔ اس کو عادِ ثانیہ کہا جاتا ہے۔ قومِ ثمود ، ثمود نام کے ایک شخص کی طرف منسوب ہے۔ امام بغوی لکھتے ہیں۔ اس کا نسب یہ ہے۔ ثمود بن عاثر بن ارم بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام ۔ یہ قوم مقامِ حجر میں رہتی تھی جو شام اور حجازکے درمیان وادی القریٰ ہے۔
قومِ ثمود کا علاقہ
حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام بن نوح کا ایک پوتا عوص بن ارم الاحقاف اور اس کے آس پاس کے علاقے میں بس گیا۔ اور اس کی نسل ” قوم عاد “ کہلائی۔ اور دوسرا پوتا عاثر ( کاثر یا جاثر) بن ارم حجر اور اس کے آس پاس کے علاقے میں آباد ہو گیا۔ اور اس کی نسل قوم ثمود کہلائی۔ قوم ثمود کے بارے میں مولانا مودودی لکھئے ہیں۔ یہ عرب کی قدیم ترین اقوام میں سے دوسری قوم ہے۔ جو عاد کے بعد سب سے زیادہ مشہور ہوئی۔ نزول ِ قرآن سے پہلے ہی اس کے قصے اہل عرب میں زبان ذدِ عام تھے۔ زمانہ ¿ جاہلیت کے اشعار اور خطبوں میں کثرت سے اس کا ذکر ملتا ہے۔ اسیریا کی کتاب اور یونان ، اسکندریہ اور روم کے قدیم مورخین اور جغرافیہ نویس بھی ا س کا ذکر کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے تک اس قوم کے کچھ بقایا جات موجود تھے۔ چنانچہ رومی مورخین کا بیان ہے کہ یہ لوگ رومن فوج میں بھرتی ہوئے اور نبطیوں کے خلاف لڑنے جن سے ان کی دشمنی تھی۔ اس قوم ( قوم ثمود) کا مسکن شمالی عرب کا وہ علاقہ تھا جو آج بھی حجر کے نام سے موسم ہے۔ موجودہ زمانے میں مدینہ منورہ اور تبوک کے درمیان حجاز ریلوے پر ایک اسٹیشن پڑتا ہے جسے مدائن صالح کہتے ہیں یہی قوم ثمو د کا صدر مقام تھا۔ او رقدیم زمانہ میں حجر کہلاتا تھا۔ اور اس شہر خموشاں کو دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کسی وقت اس شہر کی آبادی ( کم سے کم ) چار پانچ لاکھ ہو گی۔ نزول قرآن کے وقت حجاز کے تجارتی قافلے ان آثار قدیمہ کے درمیان سے گزرا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے موقع پر جب ادھر سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو یہ آثار عبرت دکھائے اور وہ سبق دیا جو آثار قدیمہ سے ہر صحاب بصیرت انسان کو حاصل کرنا چاہیئے۔ ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنویں کی نشاندہی کر کے بتایا کہ یہی وہ کنواں ہے جس سے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی۔ اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ صرف اسی کنویں سے پانی لینا اور باقی کنوﺅں کا پانی نہیں پینا۔ ایک پہاڑی درّہ کو دکھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتاےا کہ اسی درے سے وہ اونٹنی پانی پینے کیلئے آتی تھی۔ وہ مقام آج بھی ”فجّ الناقہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ ان کھنڈروں میں صحابہ کرام گھوم رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو جمع کرکے خطبہ دیا جس میں ثمود کے انجام پر عبرت دلائی اور فرماےا۔ یہ اس قوم کا علاقہ ہے جس پر اللہ کا عذاب نازل ہواتھا۔ لہٰذا جلدی سے گزر جاﺅ۔ یہ گھومنے پھرنے کا مقام نہیں ہے بلکہ رونے کا مقام ہے۔ (تفہیم القرآن سورہ الاعراف حاشیہ نمبر 57مولانا سید ابوالاعلی مورودی)۔ علامہ غلام رسول سعیدی اپنی تفسےر میں لکھتے ہیں ۔ حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ کا جو میدان نظر آتا ہے ۔ یہ سب حجر ہے۔ آج کل یہ جگہ ”فجّ الناقہ “ کے نام سے مشہور ہے۔ ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات اور آثار آج تک موجود ہیں ۔ اور آج کے زمانے میں بھی مصری محققین نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ان کا بیان ہے کہ انہوں نے ایک مکان دیکھا جو پہاڑ کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ اس میں متعدد کمرے اور ایک بڑا حوض ہے۔ مشہور مورخ مسعودی لکھتے ہیں ۔ حجر کا مقام جو حجر ثمود کہلاتا ہے۔ شہر مدین سے جنوب مشرق میں اس طرح واقع ہے کہ خلیج عقبہ اس کے سامنے پڑتی ہے۔ اور جس طرح عاد کو عادِ ارم کہا گیا ہے ۔ اسی طرح ان کی ہلاکت کے بعد ان کو ثمود ارم یا عادِ ثانیہ کہا جاتا ہے۔ ( تفسیر تبیان القران جلد نمبر 4علامہ غلام رسول سعیدی) تفسیر انوار البیان میں لکھا ہے کہ عاد اور ثمود دونوں ایک ہی دادا کی اولاد ہیں۔ یہ دونوں دو شخصوں کے نام ہیں۔ بنو عاد قوم عاد اور بنو ثمود قوم ثمود کے نام سے معروف و موسم ہوئے۔ قوم ثمود عرب کے شمال مغرب میں رہتے تھے۔ اور ان کے مرکزی شہر کا نام حجر تھا۔
قوم ثمود کا بت پرستی میں مبتلا ہونا
حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں ابلیس شیطان انسانوں کو بت پرستی میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ لیکن کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام سے کچھ عرصہ پہلے وہ بد بخت کا میاب ہو گیا اور قوم نوح اتنی زیادہ بت پرستی میں مبتلا ہو گئی تھی کہ نو سو پچاس 950سال تک سمجھانے کے بعد بھی اس کی اکثریت بت پرستی میں ہی مبتلا رہی۔ اور آخر کار اللہ کے عذاب سے ہلاک کر دی گئی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو عروج عطا فرمایا۔ اور اسے سو پر پاور بنا دیا۔ ابلیس شیطان انہیں بھی بت پرستی میں مبتلا کر تا رہا لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔ لیکن لگاتار کئی سو برسوں تک اسکی مسلسل کوششوں سے قوم عاد بھی بتوں کی پوجا کرنے لگی۔ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ لیکن قوم عاد پر شیطان ابلیس کی پکڑ اتنی مضطوط تھی کہ اکثریت نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اور اللہ کے عذاب کی مانگ کی۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے ہوا کو عذاب بنا کر پوری قوم عاد کو ہلاک کر دیا۔ اس سے پہلے قوم نوح کو پانی کا عذاب بھیج کر ہلاک کیا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کو عروج عطا فرمایا۔ اور یہ قوم اس وقت کی سوپر پاور بن گئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ شروع میں تو قوم ثمود بھی مسلمان رہی۔ لیکن ابلیس شیطان مسلسل اپنی کوششوں میں لگا ہو اتھا۔ اور دھیرے دھیرے انہیں کفر و شرک اور بت پرستی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ آخر کار کئی سو برسوں کی مسلسل کوشش کے بعد وہ بد بخت اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا اور قوم ِثمود میں بت پوجا عام ہوگئی اور اکثریت اس میں مبتلا ہوگئی۔ صرف کچھ لوگ ایسے تھے جوبتوں کی پوجا نہیں کرتے تھے۔ اورصرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے۔ در اصل قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود اللہ تعالیٰ کو بڑا مانتے تھے لیکن اس کے ساتھ وہ بتوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ( نعوذ باللہ) شریک کر تے تھے۔ اور کسی بت کو بارش کا اور کسی بت کو ہوا کا اور کسی بت کو پانی کا دیوتا مانتے تھے۔ اور ان کا ایک خیال یہ بھی تھا کہ یہ بت ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ (نعوذ باللہ) اللہ کے مقرب ہیں۔ یعنی اللہ کے بہت قریب ہیں اس اسی سوچ کو پیدا کر کے ابلیس شیطان نے انھیں بت پرستی میں مبتلا کیا۔
٭ دنیاوی عیش و آرام سے بت پرستی کی طرف مائل ہوئے
قوم ِ ثمود کا ہر فرد شروع شروع میں مسلمان تھا۔ یہ سب لوگ بہت دنوں تک مسلمان رہے ۔ لیکن ابلیس شیطان ان کی گھات میں لگا ہو ا تھا۔ اور مسلسل وسوسے پیدا کر تا رہا۔ کئی نسلوں نے تو ابلیس کے وسوسوں پر توجہ نہیں کی۔ لیکن جب طوفان ِ نوح کو کئی سو سال گزر گئے۔ اور قوم ثمود کی نئی نسل پیدا ہو تی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کو بھی اپنی بے شمار نعمتیں عطا فرمائی تھی۔ نئی نسل بے حد عیش وآرام میں پیدا ہو ئی۔ اور عیش و آرام میں زندگی گزارتی رہی۔ دنیاوی عیش وآرام ہمیشہ انسان کو گمراہی میں مبتلا کر دیتاہے۔ قوم ثمود کابھی وہی حال ہوا۔ اور ابلیس شیطان اپنی چال میں کامیاب ہوگیا۔ اور پھر معاملہ یہاں تک ہو گیا کہ قوم ثمود بت پرستی میں مبتلا ہوگئی۔ تفیسر معارف القرآن میں لکھا ہے کہ دنیا کی دولت وثروت کا نتیجہ عموماً یہی ہوتاہے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ اور آخرت سے غافل ہو کر غلط راستوں میں پڑ جاتے ہیں قوم ثمود کا بھی یہی حال ہوا ۔ حالانکہ ان سے پہلے قوم ِنوح پر عذاب کے واقعات کا تذکرہ دنیا میں موجود تھا۔ اور پھر ان کے بھائی قوم ِ عاد کی ہلاکت کے واقعات تو تازہ ہی تھے۔ مگر دولت و قوت کے نشہ کا خاصہ ہی یہ ہے کہ ابھی ایک شخص کی بنیاد منہدم ہوتی ہے ۔ اور دوسرا اس کی خاک کے ڈھیر پر اپنی تعمیر کھڑی کر لیتاہے۔ اور پہلے کے واقعات بھول جاتاہے۔ قوم عاد کی تباہی اور ہلاکت کے بعد قوم ثمود ان کے مکانات اور زمینوں کی وارث بنی اور انھیں مقامات پر اپنے عشرت کدے تیار کئے جن میں ان کے بھائی ہلاک ہو چکے تھے۔ اور ٹھیک وہی اعمال وافعال شروع کر دئیے جو قوم ِ عاد نے کئے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ اور آخرت سے غافل ہو کر شرک و بت پرستی میں متلا ہوگئے۔ (تفسیر معارف القرآن جلد نمبر 3مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مدارک میں لکھا ہے کہ قوم ِ عاد ہلاک ہوگئی تو ان کے علاقہ کو قوم ِ ثمود نے آباد کیا اور اس سر زمین کے نائب ہوگئے۔ ان کی طویل عمریں تھیں۔ انھوں نے پہاڑ کو کھو د کھود کر گھر بنائے ۔ تا کہ موت سے قبل منہدم نہ ہوں۔ ان کو مالی وسعت میسر تھی۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی سرکشی پرا ترآئے اور زمین میں فساد مچایا اور بت پر ستی میں مبتلا ہوگئے۔
قوم ِ ثمود کی لمبی عمریں
اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کو بہت لمبی عمریں عطا فرمائی تھی۔ ان کی عمر اتنی لمبی ہوتی تھی۔ کہ اگر کوئی شخص اپنے لئے مکان تعمیر کرتا تھا۔ تو وہ مکان کھنڈر بن جاتا تھا۔ لیکن یہ لوگ زندہ رہتے تھے۔ یہ دیکھ کر ان لوگوں نے پہاڑوں کو تراش کر مکان بنانے شروع کر دیتے۔ اس طرح اونچے اونچے پہاڑوں میں وہ بس گئے۔ حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ روایت کر تے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ثمود کو لمبی عمریں عطا فرمائی تھیں۔ ان کی عمریں اس قدر لمبی ہوتی تھیں کہ جب ان میں سے کوئی شخص مٹی گارے سے گھر تعمیر کر تا تھا وہ گھر کھنڈر میں تبدیل ہو جاتا تھا ۔ مگر وہ شخص زندہ رہتا تھا۔ جب انھوں نے یہ ماجرا دیکھا تو پہاڑوں کو تراش کر ان کے اندر اپنے گھر تعمیر کر نے شروع کر دئیے۔ یوں اونچے اونچے پہاڑوں کو انھوں نے اپنا مسکن بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کو بہت وسیع رزق عطافرمایا تھا۔ اور رزق کی کوئی تنگی نہیں تھی۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری جلد 1علامہ محمد بن جریرطبری) علامہ عبدالرحمن خلد ون لکھتے ہیں کہ ثمود بن کا ٹر (جاثر، عاثر) بن ارم حجر اوروادی القریٰ میں حجاز اور شام کے درمیان رہتاتھا۔ یہ عرب ِ عادبہ کے ایک بہت بڑے قبیلے کا مورثِ اعلیٰ ہے۔ اس کا قبیلہ اسی کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت صالح ؑ اسی قوم ثمود کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بہت لمبے قد کے تھے۔ اور کثیر الاعماد یعنی بڑی عمر والے تھے۔ ان کی عمر بہت لمبی ہوتی تھی۔ یہ قوم پہاڑوں میں بڑے بڑے عالیشان مکانات بنا کر رہتے تھے۔ اٹھارہ مربع میل میں یہ قوم آباد تھی۔ دولت ،ثروت ، قوت اور حکمت سب کچھ تھی۔ لیکن پانی کی ایسی کمی تھی کہ وادی¿ القریٰ میں سوائے ایک چشمہ کے اور دوسرا کوئی چشمہ نہیں تھا۔ ( لیکن کنویں کئی تھے۔) سب سے پہلے اس قوم میں جس نے بادشاہ کے لقب کو اپنایا۔ وہ عابربن ارم بن ثمود تھا۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ ثمود کے بیٹے کا نام ارم تھا۔ اور ثمود کے دادا کا نام بھی ارم تھا۔ اور عاد کے دادا کا نام بھی ارم تھا۔ عابر بن ارم بن ثمود نے اپنی قوم پر دو صدیوں یعنی د و سوسال تک حکومت کی ۔ اس کے بعد جندع بن عمر و بن دبیل بن ارم بن ثمود بادشاہ بنا۔ اور اس نے تین صدیوں یعنی تین سو سالوں تک سلطنت کا حکمراں رہا۔ اسی کے عہد حکومت میں حضرت صالح علیہ السلام نے اعلان ِ نبوت فرمایا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ۔۔۔۔۔۔
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)

.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)