حضرت نوح علیہ السلام مکمل واقعہ
تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر4
حضرت آدم علیہ السلام کے بعد کا زمانہ
قارئین کرام ، اس سے پہلے آپ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔اب ہم آپ کو حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں کچھ تفصیل سے بتاتے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد حضرت شیث علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنا نبی بنایا ۔ حضرت شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے نازل ہوئے۔ ان میں زندگی گزارنے کے اور اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے احکامات تھے۔ حضرت شیث علیہ السلام کے زمانے میں تمام لوگ مسلمان تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کو اپنا نبی بنایا۔ حضر ت ادریس علیہ السلام نے قلم سے لکھنے کا فن شروع کیا۔ ان دونوں انبیاءعلیہم السلام کے بارے میں زیادہ تفصیل سے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمایا ہے۔ اسی لئے ہم اتنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ ہاں بائیبل ( توریت اور انجیل ) میں تفصیل ملتی ہے۔ لیکن ہم اس پر بھروسہ نہیں کر سکتے کیونکہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اس میں بہت سی خرد برد کر دی ہے۔
دنیا میں بُت پرستی کی شروعات
آج بھی دنیا میں اور خاص طور سے ہندوستان میں بت پرستی کی جاتی ہے۔ ہم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں بت پرستی کی شروعات کیسے ہوئی ۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے زمانے میں بھی تمام لوگ مسلمان تھے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے بعد بھی کچھ عرصے تک تمام لوگ مسلمان تھے۔ اس زمانے میں کچھ لوگ بہت زیادہ نیک اور متقی تھے۔ ان تمام ہی نیک لوگ جن کا نام ” ود ، سواع ، یغوث، یعوق اور نسر “ تھا۔ یہ بہت ہی نیک تھے۔ اور لوگ ان سے بہت ہی عقیدت رکھتے تھے۔ جب ود کا انتقال ہوا تو ان سے عقیدت رکھنے والوں کے دلوں میں شیطان ابلیس نے وسوسہ ڈالا کہ وہ لوگ اس کی قبر کی زیارت کریں اور اس کا طواف کریں۔ وہ لوگ ود کی قبر کی زیارت کرنے لگے اور طواف کرنے لگے۔ اس کی شہرت دور دور تک پہنچی تو دور دور سے لوگ آنے لگے۔ یہ دیکھ کر ابلیس انسانی صورت میں آیا اور ان سے کہا۔ کیوں نہ میں ان کی شبیہہ بنادوں اور تم لوگ اسے اپنے اپنے گھروں میں رکھ لو۔ اور اتنی دور زیارت کرنے کی تکلیف سے بچ جاﺅ۔ لوگوں نے کہا ۔ یہ تو اچھی بات ہے۔
پہلا بُت ابلیس شیطان نے بنایا
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور انہوں نے ( حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے) کہا کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑنا۔ اور ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑنا۔“ ( سورہ نوح آیت نمبر23) ود مسلمان تھا ۔ اور اپنی قوم میں بہت محبوب تھا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو سر زمین بابُل میں لوگ اس کی قبر کے گرد جمع ہو گئے اور اس کی موت پر اپنے اضطراب اور پریشانی کا اظہار کرنے لگے۔ جب ابلیس شیطان نے ان کی پریشانی اور غم و اندوہ کو دیکھا تو انسانی صورت میں ان کے پاس آیا اور کہا۔ میں اس نیک آدمی سے تمہاری محبت اور عقیدت دیکھ رہا ہوں۔ میں تمہارے لئے یہ کر سکتا ہوں کہ اس کی شکل کا ایک مجسمہ بنا وں ۔ جسے تم اپنی مجلسوں میں رکھو اور اس مجسمے کی وجہ سے اس نیک آدمی کو یاد رکھو۔ انھوں نے جواب دیا ۔ ہاں یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ ابلیس نے ود کی شکل کا مجسمہ بنا دیا۔ انہوں نے اپنی مجلسوں میں اسے رکھا اور اس کا ذکر کرنے لگے۔ مجلس میں جب بہت زیادہ لوگ جمع ہونے لگے تو بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے ہر کوئی مجسمے کی زیارت نہیں کر پاتا تھا۔ اور وہ اپنی محرومی کی شکایت کرتا تھا۔ یہ دیکھ کر ابلیس شیطان نے ان سے کہا۔ تم کہو تو میں تم میں سے ہر آدمی کے لئے ایک مجسمہ ( بُت ) بنا دوں۔ جسے تم سب اپنے اپنے گھر میں رکھ لو اور جب چاہو اس کی زیارت کر لو اور اسے یاد کرلو۔ لوگوں نے کہا ۔ ہاں یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ تو ابلیس شیطان نے ہر گھر والے کے لئے ود کی شکل کا مجسمہ بنا دیا۔ جسے سب نے اپنے اپنے گھروں میں رکھ لیا۔ اور روزانہ اس کی زیارت کرنے لگے۔ اور اس سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرنے لگے۔ ان کے بیٹے بچپن سے اس مجسمے سے اپنے والدین کی محبت اور عقیدت دیکھتے رہے۔ اس لئے بڑے ہو کر انہوں نے اور زیادہ عقیدت ان بُتوں ( مجسموں) سے وابستہ کر لی۔ اور ان کی اولاد اپنے والدین سے بھی آگے بڑھ کر ان کی پوجا کرنے لگی۔ پس زمین پر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علاوہ جس کی عبادت کی گئی وہ بُت اور مجسمہ تھا ۔جس کا نام انہوں نے ایک نیک شخص کے نام پر ’ ود‘ رکھا تھا۔
ابلیس شیطان نے سب سے پہلی تصویر بھی بنائی
حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں میں سے پانچ بیٹے بہت ہی عبادت گزار تھے۔ پھر ان میں سے ایک کا انتقال ہو گیا لوگ اس پر شدید غم زدہ ہوئے۔ ابلیس شیطان انسانی شکل بنا کر ان کے پاس آیا اورکہا۔ کیا تم اپنے اس ساتھی پر غمزدہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں اس کے بچھڑنے کا شدید غم ہے۔ اس نے کہا۔ اگر تم چاہو تو تمہاری مسجد کے قبلہ رخ پر اس شخص کی تصویر بنا دوں اور جب تم اس تصویر کو دیکھو گے تو اس نیک آدمی کو یاد کر لیا کرو گے۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہمیں یہ پسند نہیں ہے کہ تم ہمارے قبلہ رخ پر اس کی تصویر بناﺅ۔ تو ابلیس شیطان نے کہا۔ میں اسے مسجد کے پچھلے حصے کی دیوار پر بنا دوں گا۔ انہوں نے کہا ۔یہ ٹھیک ہے۔ اور اس نے ان کے لئے اس نیک آدمی کی تصویر بنادی۔ یہاں تک کہ ایک ایک کر کے ان پانچوں کا انتقال ہو گیا اور ابلیس شیطان نے مسجد کے پچھلے حصے پر ان پانچوں کی تصویریں بنا دیں۔ پھر اس نے کچھ ایسی چیزیں ظاہر کیں کہ لوگوں نے اللہ کی عبادت چھوڑ دی۔ اور ان کی عبادت کرنے لگے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو مبعو ث فرمایا۔ ( تفسیر دُر منشور جلد نمبر6جلال الدین سیوطی، تفسیر ابن کثیر علامہ عماد الدین ابن کثیر) حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیانی زمانہ میں نیک لوگوں کی ایک جماعت تھی۔ پھر ان کے بعد جو نسل آئی وہ اسی طرح کرنے لگی جیسے وہ ( نیک لوگ) عبادت کرتے تھے۔ تو ابلیس شیطان نے کہا۔ اگر تم ان کی تصویریں بنا لو تو تم ان کو دیکھ کر ان کے جیسے نیک اعمال کرتے رہو گے۔ انہوں نے تصویریں بنا لیں ۔ پھر وہ مر گئے۔ اور کئی نسلیں گزرنے کے بعد جب نئی نسل آئی تو ابلیس نے ان سے کہا۔ بے شک، تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ ان کی عبادت کرتے تھے۔ اس طرح وہ لوگ اُن کی عبادت کرنے لگے۔
بُت بنانا اور بیچنا ایک منافع بخش کاروبار
اللہ تعالیٰ سے ابلیس شیطان نے قیامت تک کی مہلت مانگی تھی اور قیامت تک انسان کو بہکانے اور دوزخ کی طرف لے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اور وہ تب سے ابھی تک مسلسل اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ابلیس شیطان نے ود کی شکل کا ہو بہو بت بنادیا تھا۔ اب لوگ بھی اس بت کو دیکھ کر بت بنانے لگے۔ اسی طرح سواع، یغوث ، یعوق اور نسر کے انتقال کے بعد بھی ان کی تصویریں اور بت بنابنا کر اپنے اپنے گھروں میں رکھ لیا۔ اور زیارت کرنے لگے۔ یہ لوگ ان بتوں اور تصویروں کی پوجا نہیں کرتے تھے۔ بلکہ صرف عقیدت اور محبت کرتے تھے۔ ان کی اولاد نے اپنے الدین کی اتنی عقیدت اور محبت دیکھی تو اور زیادہ عقیدت اور محبت سے ان بتوں اور تصویروں کو ماننے لگے۔ جب ان کی اولاد یعنی نئی نسل جوان ہوئی اور ان کی عقیدت میں اور زیادہ اضافہ ہوا تو ابلیس شیطان ان کے پاس انسانی شکل میں آیا اور انہیں بتایا کہ یہ نیک لوگوں کے بُت آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ اس طرح لوگ ان بتوں سے مانگنے لگے۔ اور ان کی پوجا کرنے لگے۔ انسانوں میں سے کثیر تعداد دولت کی لالچی ہوتی ہے۔ اس وقت کے دولت کے لالچی لوگوں کے اندر ابلیس شیطان نے وسوسہ پیدا کیا کہ بت بنانا اور بیچنا ایک منافع بخش کاروبار ہو سکتا ہے۔ ان لوگوں نے علماء( پنڈتوں ) سے مل کر عوام کو اس طرف راغب کیا۔ اور پوری قوم میں ہر علاقے میں مندروں کو بنایا گیا اور اس میں ان پانچوں کے بڑے بڑے بت بنا کر رکھے گئے۔ مندروں اور بتوں کے لئے عوام سے ہی چندے لئے گئے۔ اس طرح بت بنانے والوں اور پنڈتوں اور مندر کی پجاریوں کے ہاتھ میں عوام کی باگ ڈور اور دولت آگئی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کی سب سے شدید ضرب انہیں لوگوں پر پڑ رہی تھی۔ اسی لئے یہ لوگ آخر تک سب سے شدید مخالف رہے۔
حضرت آدم اور حضرت نوح علیہم السلام کے درمیان کا وقت
حضرت نوح علیہ السلام دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کے کتنے سال بعد پیدا ہوئے ؟ ا س بارے میں مختلف روایات ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس قرنوں کا فاصلہ ہے۔ ( صحیح ابن حبان حافظ امام ابو حاتم بن حبان ) حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کیا حضرت نوح علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں۔ آپ علیہ السلام نبی تھے۔ اور اللہ تعالیٰ سے کلام کرتے تھے۔ اس شخص نے دوبارہ عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دس قرن کا ( قصص الانبیاءعلامہ ابو الفداءعماد الدین ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس قرنوں کا فاصلہ ہے۔ اور اس درمیان جتنے لوگ پیدا ہوئے وہ تمام اسلام پر تھے۔ (صحیح بخاری امام محمد بن اسماعیل بخاری) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔ بعض مقتدین کی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیانی وقفہ میں دس نسلیں گزری ہیں۔ اور وہ سب کی سب حق پر تھیں۔ دنیا میں کفر اور شرک حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت سے کچھ عرصہ پہلے شروع ہوا تھا۔ اور سب سے پہلے جو نبی اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور توحید کی طرف بلانے کے لئے مبعوث کئے گئے وہ حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری) حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے ایک سو چھبیس 126سال بعد حضرت نوح علیہ السلام پیدا ہوئے۔ ( تاریخ طبری) اہل کتاب کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام ایک سو چھیالیس146سال بعد پیدا ہوئے۔ ( البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر علامہ عماد الدین ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک قرن سے مراد سو100سال ہیں۔ (صحیح بخاری) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ اگر قرن سے مراد انسان کا ایک زمانہ یا نسل یا قوم لی جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ترجمہ ” پھر ہم نے پیدا فرمایا اُن کے بعد ایک قوم یا جماعت“(سورہ المومنون) ترجمہ ۔ اور ان کثیرا لتعداد قوموں کو جو ان کے درمیان گزریں۔“ ( سورہ فرقان) ترجمہ ” کتنی قومیں ان سے پہلے تھیں جن کو ہم نے برباد کر دیا۔ ( سورہ مریم) ان تمام آیات طیبات میں قرن سے مراد قوم ، گروہ یا جماعت ہے وقت نہیں ہے۔ اسی طرح اس حدیث مبارک میں بھی قرن سے مراد جماعت لیا گیا ہے۔ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ خیر القرون قرنی۔ ترجمہ ۔ بہترین جماعت میری جماعت ( صحابہ کرام) ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان ہزار وں سال ہیں۔
حضرت نوح علیہ السلام کا شجرہ نسب
حضرت نوح علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب اس طرح ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام بن لمک( لامک) بن متو شلخ بن خنوخ ( انہیں حضرت ادریس علیہ السلام کہا جاتا ہے) بن یرد بن مہابیل بن قنسین بن انوش بن حضرت شیث علیہ السلام بن حضرت آدم علیہ السلام۔ اہل توریت کے مطابق متو شلخ کی پیدائش اخنوخ ( حضرت ادریس علیہ السلام ) کے گھر میں اس وقت ہوئی جب حضرت آدم علیہ السلام کی عمر چھ سو ستاسی687 سال تھی۔ بڑے ہونے پر اخنوخ نے متوشلخ کو اوامراللہ ( اللہ کے احکامات) پر اپنا نائب بنایا۔ او را سے اور اس کے گھر والوں کو بہت سی نصیحتیں کیں۔ اخنوخ یعنی حضرت ادریس علیہ السلام کی وفات تین سو پینسٹھ365سال کی عمر میں ہوئی۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ متوشلخ بن اخنوخ نے ایک سو پینتیس135سال کی عمر میں عربا بنت انوشیل سے نکاح کیا۔ عربا سے ایک لڑکا لمک یا لامک بن متو شلخ پیدا ہوا۔ پھر لمک نے ایک سو ستاسی 187برس کی عمر میں تنوس بنت براکیل سے نکاح کیا۔ اور تنو س ہی حضرت نوح علیہ السلام کی والدہ محترمہ ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی پیدائش کے بعد ان کے والد محترم لمک پانچ سو پچانوے595سال زندہ رہے۔ آخر کار سات سو اسی 780سال کی عمر میں لمک کا انتقال ہوگیا۔ پھر پانچ سو 500برس کی عمر میں حضرت نوح علیہ السلام نے عمذرہ بنت براکیل بن محویل سے نکاح کیا۔ عمذرہ ہی سام ، حام اور یافث کی والدہ ہیں۔
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی خرابیاں
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بعض محققین نے لکھا ہے کہ وہ اس علاقے میں رہتی تھی جو آج عراق کے نام سے مشہور ہے۔اور اس کی جائے وقوعہ موصل کے نواح میں ہے۔ اور جو روایات کردستان اور آرمینیہ میں زمانہ ¿ قدیم سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ طوفان کے بعد حضرت نو ح علیہ السلام کی کشتی اسی علاقے میں کسی مقام پر ٹھہری تھی۔ (تفسیر تبیان القران جلد نمبر4علامہ غلام رسول سعیدی) حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیانی وقت میںایک بادشاہ گزرا تھا۔ جس کا نام جمشید یا جم ایشیذ تھا۔ اس نے چھ سو سال تک حکومت کے اور انسانوںکے چار طبقے بنائے۔ پہلا طبقہ فوج کا ( کھتری) بنایا۔ دوسرا طبقہ علماءو فقہا ( جیسے ہمارے ہندوستان میں پنڈت اور برہمن) کا بنایا۔ تیسرا طبقہ منشیوں اور کلرکوں ( ویش) کا بنایا۔ اور چوتھا طبقہ کسان اور دوسرے فنون ( شودر) کا بنایا۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری) اس طرح انسان چار طبقوں میں تقسیم ہو گئے۔ اور دھیرے دھیرے علماءو فقہاءیعنی مندروں کے پجاری پنڈت برہمن باقی طبقوں پر حاوی ہو گئے ۔ کیوں کہ ان کے پاس علم تھا۔ اور وہ بتوں یعنی ان کے بنائے ہوئے خداﺅں سے خصوصی تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے یہ طبقہ دوسرے تینوں طبقوں پر حاوی ہو گیا۔ یہاں تک کہ حکومت ِ وقت یعنی بادشاہوں کو بھی ان کی مرضی کے مطابق حکومت چلانی پڑتی تھی۔ اور جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو اس کی سب سے زبردست ضرب اسی طبقے پر لگی اور سب سے زیادہ نقصان اسی طبقے کا ہونے والا تھا۔ اسی لئے یہ طبقہ آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن بن گیا اور اسلام کا سب سے کٹّر مخالف بن گیا۔ اور چونکہ باقی تینوں طبقے اس کے کنٹرول میں تھے اسی لئے اس طبقے نے انہیں بھی اسلام قبول کرنے نہیں دیا۔ اور جن لوگوں نے آپ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کیا تھا۔ ان پر طرح طرح کی اتنی زیادتیاں کیں کہ باقی قوم کے لوگوں نے کانوں کو ہاتھ لگا لئے اور اسلام قبول کرنے سے انکا ر کر دیا۔
حضرت نوح علیہ السلام کا نام اور عمر
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے اُن لوگوں کی اولاد، جنہیں ہم نے نوح ( علیہ السلام) کے ساتھ سوار کر دیا تھا۔ وہ ہمارا بڑا شکر گزار بندہ تھا۔ ( سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر3) حضرت نوح علیہ السلام کا اصلی نام شاکر تھا۔ بعض روایات میں سکن آیا ہے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ اصلی نام عبدالغفار تھا۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر3مولانا مفتی محمد شفیع) حضرت نوح علیہ السلام کا نام شریف یا شاکر یا عبدالغفار ہے۔ اور نوح لقب ہے۔ یہ عجمی نام ہے اور بعض علماءنے فرمایا یہ عربی نام ہے۔ نوحہ بمعنی گریہ وزاری (رونا) سے بنا ہے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یا ر خان نعیمی ) حضرت نوح علیہ السلام کا نام یا لقب نوح اس لئے پڑا کہ آپ علیہ السلام نے طویل وقت تک اپنی ذات پر نوحہ کیا۔ آپ علیہ السلام کو السکن ( سکن) اس لئے کہا جاتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد لوگوں کو آپ علیہ السلام کے پاس آکر سکون ملتا تھا۔ آپ علیہ السلام کو نوح اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم پر ساڑھے نو سو برس تک نوحہ کیا۔ وہ اس طرح کہ آپ علیہ السلام انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے تھے اور جب وہ انکار کر تے تھے تو آپ علیہ السلام روتے اور ان پر نوحہ کرتے تھے۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) عون بن ابی شذاز کی روایت میں ہے کہ اعلان نبوت کے وقت حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ساڑھے تین سو 350سال تھی۔ اور ساڑھے نو سو سال تک لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے اور عذاب الہٰی ( طوفان) کے بعد ساڑھے تین سو350سال زندہ رہے۔
حضرت نوح علیہ السلام کا اعلان ِ نبوت
اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو اس وقت مبعوث فرمایا جب اُن کی قوم میں بت پرستی اور شرک عام ہو گیا تھا۔ اور انسان ضلالت اور گمراہی کی وادیوں میں بھٹکنے لگا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو بھول چکا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کے متعلق عجیب و غریب نظریات رائج ہو چکے تھے۔ ہر طرف کفر و شرک ، ظلم اور زبردستی کا دور دورہ تھا۔ انسان اور انسانیت سسک سسک کر دم توڑ رہے تھے۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرمایا۔ اور نوح علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر بھیجا آپ علیہ السلام اہل زمین کے پاس تشریف لانے والے پہلے رسول ہیں ۔ اسی لئے قیامت کے دن آپ علیہ السلام کو لوگ ” اول الرسل “کہہ کر شفاعت کی درخواست کریں گے۔ نوح علیہ السلام جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے انہیں بنو راست کہا جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام کی بعثت کے وقت کی عمر کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی عمر مبارک پچاس سال تھی۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ علیہ السلام کی عمر مبارک تین سو پچاس 350سال تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی عمر مبارک چار سو اسی 480سال تھی۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری ، علامہ محمد بن جریر طبری ، البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر ، علامہ ابو الفداءعماد الدین ابن کثیر)ایسے وقت میں جب انسانوں کی اکثریت کافر ہو گئی تھی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ ان کی قوم بہت بری طرح شرک میں مبتلا ہو گئی تھی۔ لگ بھگ پچاس 50سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت عطا فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھانے لگے۔ اور اسلام کی دعوت دینے لگے۔ یہاں ہم آپ کو ایک بات بتاتے چلیں کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اسلام کی دعوت دی ۔ ہر نبی اور ہر رسول نے یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کروا للہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام مخصوص قوم کے لئے اور مخصوص وقت کے لئے اور مخصوص علاقے کے لئے دنیا میں تشریف لائے تھے۔ صرف ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے انسانوں اور جناتوں کے لئے اور قیامت تک کے لئے آئے ہیں۔
قوم کو اسلام کی دعوت
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر ان کی قوم کی طرف بھیجا ۔ بعثت کے معنی ہیں بھیجنا ۔ اور ارسال کے معنی بھی ہیں بھیجنا ۔ ان میں فرق یوں ہے کہ مطلقاً بھیجنا بعثت ہے۔ اور کچھ دے کر بھیجنا ارسال ہے۔ ( تفیسر نعیمی مفتی احمد یار خان نعیمی پارہ نمبر8) اس لئے اللہ تعالیٰ جسے کتاب اور شریعت دے کر بھیجتے ہیں وہ رسول اور نبی دونوں ہوتے ہیں۔ اور جنہیں رسو ل کی شریعت اور کتاب کی تعلیم دینے کے لئے بھیجتے ہیں ۔ وہ نبی ہوتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اے میری قوم ، میں تمہارے لئے ظاہر طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ( یعنی اللہ کا رسول ) ہوں ۔ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ میری بات مانو وہ تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اگر تم لوگ نہیں مانتے تو اللہ کا عذاب جب آتا ہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا ہے۔ کاش تم لوگ یہ جانتے ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اور میں تم سے اس کا کوئی بدلہ نہیں چاہتا۔ میرا بدلہ تو وہی دے گا جو سارے جہان کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ہم نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انھوں نے فرمایا۔ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی تمہار ا معبود ہونے کے لائق نہیں ہے۔ اور مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ “ ( سورہ اعراف آیت نمبر59) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” یقینا ہم نے نوح (علیہ السلام )کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ ( اور انھوں نے فرمایا) میں تمہیں صاف صاف ہوشیار کردینے والا ہوں۔ کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو۔ مجھے تو تم پر درد ناک دن کے عذاب کا خو ف ہے۔ “ ( سورہ ھود آیت نمبر25اور 26) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” یقینا ہم نے نوح ( علیہ السلام ) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ اس نے کہا ۔ اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی عبادت کرو۔ اور اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے۔ کیا تم لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے۔ “ ( سورہ المومنون آیت نمبر23) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آگے ایک اور جگہ فرمایا۔ ترجمہ ” بے شک ہم نے نوح ( علیہ السلام ) کو ان کی قوم کی بھیجا کہ اپنی قوم کو ( اللہ کے عذاب سے ) ڈرا دو۔ ( اور خبردار کر دو) ۔ اس سے پہلے کہ ان کے پاس درد ناک عذاب آجائے۔ (حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم، میں تمیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ تم اللہ کی عبادت کرو۔ اور اسی سے ڈرو۔ اور میرا کہنا مانو۔ تو وہ تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ کا وعدہ ( عذاب) جب آجاتا ہے تو ٹلتا نہیں ہے۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی۔“(سورہ نوح آیت نمبر1سے 4تک)
اللہ تعالیٰ کی گواہی
ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے خود گواہی دی کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی ہے۔ اور ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ جب قیامت کے دن میدانِ حشر میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم یہ کہے گی کہ انہوں نے ہمیں اسلام کی دعوت نہیں دی تھی۔ تب ہمیں اُن کی طرف سے گواہی دینا ہوگی کہ انھوں نے اپنی قوم کو پورا پورا اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ خیر آپ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو قوم نے صاف انکار کر دیا۔ اور ان میں سب سے آگے وہی طبقہ تھا جس نے قوم کو گمراہی میں مبتلا کیا تھا۔ وہ طبقہ قوم کے علماءو فقہا ( جیسے ہمارے ہندوستان میں مندروںکے پجاری ، پنڈت اور سادھو ہیں جو اپنے آپ کو برہمن کہلواتے ہیں) کا تھا۔ ان کے ہاتھ میں قوم کی باگ ڈور تھی۔ اسی بارے میں مولانا مودودی لکھتے ہیں۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ یہ قوم نہ تو اللہ تعالیٰ کے وجود کی منکر تھی اور نہ ہی اس سے ( اللہ سے ) ناواقف تھی۔ نہ اسے اللہ کی عبادت سے انکار تھا۔ بلکہ اصل گمراہی جس میں وہ قوم مبتلا ہو گئی تھی (وہ) شرک کی گمراہی تھی۔ یعنی اس نے اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو خدائی میں شریک اور عبادت کے استحقاق میں حصہ دار قرار دے دیا تھا۔ پھر اس بنیادی گمراہی سے بے شمار خرابیاں اس قوم میں پیدا ہو گئی تھیں۔ جو خود ساختہ معبود ( بت اور تصویریں ) خدائی میں شریک ٹھہرالئے گئے تھے۔ ان کی نمائندگی کے لئے قوم میں ایک خاص طبقہ ( پنڈتوں، پجاریوں ، سادھوﺅں اور سنتوں کا ) پیدا ہو گیا تھا۔ جو تمام مذہبی سیاسی اور معاشی اقتدار کا مالک بن بیٹھا تھا۔ اور اس نے انسانوں میں اونچ نیچ کی تقسیم پیدا کر دی تھی۔ اور اجتماعی زندگی کو ظلم و فساد سے بھر دیا تھا۔ اور اخلاقی فسق و فجور سے انسانیت کی جڑیں کھوکھلی کر دی تھی۔
قوم کا جواب
حضرت نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو اس کی سب سے شدید ضرب اسی طبقے پر پڑی ۔ جس کے قبضے میں پوری قوم کی باگ ڈور تھی۔ حالت یہ تھی کہ من گھڑت خداﺅں کے نمائندے ( جیسے ہمارے ہندوستان میں پنڈت ، پجاری اور سادھو وغیرہ ہیں) جو کہتے تھے۔ اسی پر عوام آنکھ بند کر کے عمل کرتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے ذمہ داروان بھی ان کو اپنا بڑا مانتے تھے۔ اس طرح مذہب ، سیاست ، معاشرت اور حکومت ہر جگہ یہی طبقہ بڑا بنا ہوا تھا۔ اور یہی لوگ سردار کہلاتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت اگر عوام قبول کر لیتی تو اس طبقے کی بڑائی اور سرداری ختم ہو جاتی اور ان کے مندروں کو توڑ دیا جاتا۔ عوام انہیں اپنا بڑا ماننے سے انکار کر دیتی اور حکومت پر سے ان کا کنٹرول ختم ہو جاتا۔ اور اسلامی حکومت قائم ہو جاتی تو اس طبقے کو بھی عام لوگوںکی طرح رہنا پڑتا ۔ یہ سب باتیں اس طبقے کے لوگ سمجھ گئے تھے۔ اس لئے اپنی سرداری اور معزز حیثیت کو برقرا ر رکھنے کے یہی طبقہ آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا مخالف تھا۔ اس نے خود بھی اسلام قبول نہیں کیا اور عوام کو بھی اسلام قبول کرنے نہیں دیا۔ اور آپ علیہ السلام کی دعوت کو روکنے کی بھر پور کوشش کی۔ چونکہ عوام اس طبقے پر اندھا اعتماد کرتی تھی۔ اسی لئے یہ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے خلاف طرح طرح سے عوام کو بھڑکاتے رہتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی باتوں اور تعلیم کو سمجھنے نہیں دیتے تھے۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اُن کی ( حضرت نوح علیہ السلام کی ) قوم کے بڑے لوگوں ( سرداروں) نے کہا۔ کہ ہم تو تمہیں صاف غلطی اور گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا۔ اے میری قوم، مجھ میں ذرا بھی گمراہی نہیں ہے۔ بلکہ میں تو پرور دگار عالم ( اللہ تعالیٰ ) کا رسول ہوں۔ تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں۔ اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں۔ ( یعنی تمہاری بھلائی چاہتا ہوں) اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کاموں کی خبر رکھتا ہوں۔ جن کو تم کو خبر نہیں ہے۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر60سے 62تک)
کافر سرداروں نے عوام کو بھڑکایا
اللہ تعالیٰ نے آگے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کی ( حضرت نوح علیہ السلام کی) قوم کے کافروں کے سرداروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے۔ یہ تم پر فضیلت اور بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اگر اللہ ہی کو ( رسول بھیجنا) منظور ہوتا تو کسی فرشتے کو اتار دیتے۔ ہم نے تو اسے ( اسلام کی دعوت کو) اپنے باپ دادوں کے زمانے میں سنا ہی نہیں ہے۔ “ ( سورہ المومنون آیت نمبر24) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمایا۔ ترجمہ ” اور ان لوگوں ( حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کافر سرداروں نے ) نے بڑا سخت فریب کیا۔ اور انہوں نے کہا کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ہی ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو چھوڑنا۔ “ ( سورہ نوح آیت نمبر23) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کس طرح حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں ( پنڈتوں ، پجاریوں اور سادھو سنتوں) نے عوام کو بھڑکایا۔ کبھی کہتے تھے کہ ( نعوذ باللہ ) آپ علیہ السلام گمراہ ہیں۔ بھٹک گئے ہیں اور ہم جو بتوں کی پوجا کرنے کو کہتے ہیں وہی حق ہے۔ کیوں کہ ہم سب اپنے باپ دادا کو انہی بتوں کی پوجا کرتے دیکھتے آرہے ہیں۔ اور حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کا ذکر تو ہم نے سنا ہی نہیں ہے۔ اور تم ان کی دعوت قبول کر کے ان کے بہکاوے میں مت آنا اور بتوں کی پوجا کو نہیں چھوڑنا۔ علامہ ابن کثیر سورہ الاعراف آیت نمبر61اور 62کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بڑے بڑے رئیس ( یعنی پنڈتوں ، پجاریوں، ساھوﺅں اور راجے مہاراجے ) کہنے لگے کہ آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) گمراہی پر ہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کم عقلو، عقل کے ناخن لو، میں گمراہ نہیں ہوں بلکہ تمہارے رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوارسول ہوں۔ میں تمہیں اس اللہ کی عبادت کی دعوت دے رہا ہوں جو بے بس نہیں ہے۔ بلکہ قادر مطلق ہے۔ جب کسی چیز کو کہتا ہے ہو جاتو ہو جاتی ہے۔ تم مجھے بے راہ رو کہتے ہو۔ اور میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔ اور تمہیں نصیحت کر رہا ہوں۔ تم مجھے اس لئے گمراہ کہہ رہے ہو کہ تم وہ نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں۔
حضرت نوح علیہ السلام مسلسل سمجھاتے رہے
جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو بُت پرستی سے منع فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی۔ اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا تو ان کی قوم نے سمجھا کہ آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) دنیاوی حکومت اور سرداری چاہتے ہیں۔ تو حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ میں تو صرف تمہاری بھلائی چاہتا ہوں۔ اور چاہتا ہوں کہ تمام لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اور اس کا میں تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا۔ کہ اس کے بدلے میں آپ لوگ مجھے کچھ دیں۔ بلکہ میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ ثواب کے طور پر عطا فرمائے گا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم بت پرستی میں اتنی زیادہ مبتلا ہو چکی تھی اور گمراہ ہو گئی تھی کہ اس قوم کے سرداروں نے آپ علیہ السلام سے کہا۔ ہم تو تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔ اس پر حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم مجھ میں گمراہی نہیں ہے۔ میں تو اللہ تعالیٰ کا کا رسول ہوں اور تمہیں اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچاتا ہوں۔ اور تمہارا بھلا چاہتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا فرمایاجو تم نہیں جانتے۔ آپ جانتے ہیں اس پر آپ علیہ السلام کی قوم نے کیا جواب دیا؟ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے آپ میں کہا کہ ( نعوذ باللہ ) یہ ( حضرت نوح علیہ السلام ) دیوانہ پاگل ہو گیا۔ تو کچھ زمانہ انتظار کرتے ہیں کہ اس کا پاگل پن ختم ہو جائے۔ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے اتنے شدید جواب کے بعد بھی اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ آپ علیہ السلام ہر وقت ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے رہے۔ اور طرح طرح کی حکمت سے اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواﺅ۔ ( اور معافی مانگو) وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان کو خوب برستاہوا چھوڑے گا۔ اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا۔ اور تمہیں باغات دے گا۔ اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے ہو۔ حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے ( الگ الگ رنگ اور قد و قامت) پیدا کیاہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پید ا کر دیئے ہیں۔ اور ان میں چاند کو خوب جگمگا تا بنا یا ہے۔ اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے۔ اور تم کو زمین سے ایک ( خاص اہتمام) سے اگایا ( پیدا کیا ) ہے۔ پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا۔ اور ( ایک خاص طریقے سے ) پھر نکالے گا۔ اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرش بنایاہے۔ تاکہ تم اس کی کشادہ راہوں ( راستوں ) پر چلو پھرو۔ “ سورہ نوح آیت نمبر10سے 20تک )
عوام کافر سرداروں کے دباﺅ میں تھی
اس طرح لگا تار حکمت سے آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ ان کی قوم کے عام لوگ جب بھی اان کی بات پر توجہ دینے لگتے اور متاثر ہونے لگتے تھے۔ تو ان کے سردار یعنی پنڈت پجاری وغیرہ حکمرانوں یعنی بادشاہوں راجوں مہاراجوں کے ذریعے ان کا معاشی ، مذہبی اور معاشرتی استحصال کرتے اور ان کے ساتھ ایسا ذلیل سلوک کرتے تھے کہ وہ آپ علیہ السلام کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیتے تھے۔ اور سرداروں کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے تھے۔ ان کے بڑے اُن سے کہتے۔ کہ یہ شخص ( حضرت نوح علیہ السلام ) کوئی رسول وغیرہ ( نعوذ باللہ ) نہیں ہے۔ بلکہ تمہاری طرح کا ( نعوذ باللہ ) ایک معمولی آدمی ہے۔ اور اس کے دعوے کا اصل مقصد یہ ہے کہ تم سے برتر ہو کر رہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کو رسو ل بھیجنا ہی تھا تو اس کا م کے لئے فرشتوں کو بھیجتا۔ اسی لئے اس شخص کا یہ دعویٰ کرنا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو بالکل غلط ہے۔ کیوں کہ ہم نے اپنے سے پہلے کے بڑوں سے بالکل بھی یہ بات نہیں سنی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو معبود مت بناﺅ۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ یہ آدمی ( نعوذ باللہ ) پاگل ہو گیا ہے۔ اور اسی لئے ساری دنیا کے خلاف باتیں کر رہا ہے۔ کہ میں رسول ہوں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر6مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر انوار البیان میں ہے کہ ہر قوم کے سردار اور چودھری حق قبول کرنے سے بچتے ہیں۔ نہ خود حق قبول کرتے ہیں اور نہ ہی عوام کو حق قبول کرنے دیتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے چودھریوں اور سرداروں نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا۔ اور کہنے لگے کہ یہ شخص جو اپنے بارے میں کہہ رہا ہے کہ میں اللہ کا رسول اور نبی ہوں ۔ اس میں ہمیں تو کوئی خاص بات نظر نہیں آتی ہے۔ جیسے تم آدمی ہو ایسا ہی یہ آدمی ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ تمہارا بڑا بن کر رہے۔ اور تم اس کے ماتحت بن کر رہو۔ اگر اللہ تعالیٰ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو اس کے لئے فرشوں کو نازل فرما دیتا جو تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیتا۔ یہ جو بات کہہ رہا ہے کہ تم اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور صرف ایک معبود کی عبادت کرو اور اسی کو تنہا وحدہ لا شریک بتا رہا ہے ایسی کوئی بات تو ہم نے اپنے باپ داداوں سے کبھی نہیں سنی ہے۔ جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ ان چوھریوں اور سرداروں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے خیال میں تو یہ بات آتی ہے کہ اس شخص پر دیوانگی سوار ہے۔ تم ذرا انتظار کر لو۔ ممکن ہے اس کی دیوانگی ختم ہو جائے۔ یا پھر اسے موت آجائے تو اس کے سارے کے سارے دعوے رکھے کے رکھے رہ جائیںگے۔ ( تفسیر انوار البیان جلد نمبر4مولانا عاشق الہٰی ماجر مدنی ) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بشیر اور نذیر بنا کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ علیہ السلام نے انہیں اللہ کا پیغام پہنچایا کہ اللہ کی عبادت کرو ۔ اس کے سوا کوئی تمہاری عبادت کا حقدار نہیں ہے۔ تمہیں اللہ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی پوجتے ہوئے ڈر نہیں لگتا۔ قوم کے بڑوں نے اور سرداروں نے کہا۔ یہ تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ اور نبوت کا دعویٰ کرکے تم سے بڑا بننا چاہتا ہے۔ اور سرداری حاصل کرنےکی فکر میں ہے بھلا انسان کی طرف کیسے وحی آسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اگر نبی بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو کسی آسمانی فرشتے کوبھیج دیتے۔ یہ تو ہم نے کیا ہمارے باپ داد انے بھی نہیں سنا ہے کہ انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ یہ تو کوئی دیوانہ شخص ہے کہ ایسے دعوے کر رہا ہے اور ڈینگیں مار رہا ہے۔ اچھا ذرا انتطار کر لو دیکھ لینا ( نعوذ باللہ ) ہلاک ہو جائے گا۔
چند غریب لوگوں نے اسلام قبول کیا۔
حضرت نوح علیہ السلام لگاتار مسلسل اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اور اپنی جدو جہد جاری رکھی۔ دھیرے دھیرے دس برس گزر ے۔ بیس برس گزرے، پچاس برس گزرے یہاں تک کہ سو 100برس گزر گئے۔ اور آ پ علیہ السلام مسلسل اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ قوم کی اکثریت تو انکار کرتی رہی۔ اور کفر پر ڈٹی رہی۔ لیکن کچھ اللہ کے نیک بندے بھی اس قوم میں تھے۔ یہ چند غریب لوگ تھے۔ اور ان غریبوں نے آپ علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہا اور اسلام قبول کر لیا۔ قوم کے عام لوگ اور خاص طور سے سرداروں ( مذہبی علماءیعنی پنڈت، سادھو ، پجاریوں اور حکمرانوں ) نے آپ علیہ السلام کا اور اُن غریب مسلمانوں کا مذاق اڑانے لگے۔ اور انہیں طرح طرح سے تکلیفیں اور اذیتیں دینے لگے۔ لیکن آپ علیہ السلام اور مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری اور آپ علیہ السلام لگا تار اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا ۔ جب کہ ان کے بھائی نوح علیہ السلام نے کہا۔ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں ہے۔ سنو، میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا امانت دار رسول ہوں۔ بس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے میں تم سے کوئی اجر ( بدلہ ) نہیں چاہتا ہوں۔ میرا اجر تو صرف اللہ رب العالمین دے گا۔ پس تم اللہ ( کے عذاب ) سے ڈرو۔ اور میری فرماں برداری کرو۔ قوم نے جواب دیا۔ ہم تم پر ایمان لائیں؟ تمہاری تابعداری تو رذیل (نیچ) لوگوں نے کی ہے۔“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر107سے 111تک) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اُن کی ( حضرت نوح علیہ السلام کی) قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا۔ ہم تو تمہیں اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں اور تمہارے تابعداروں ( یعنی مسلمانوں) کو بھی ہم کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ کیوں کہ اُن میں نیچ اور موٹی عقل والے( بے وقوف) ہی ہیں۔ اور ہم تو دیکھ رہے ہیں کہ تم ( دنیاوی لحاظ سے) ہم سے برتر نہیں ہو۔ بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ ( سورہ ہود آیت نمبر27)
کافر سرداروں کا بھید بھاﺅ
جب حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کافر سرداروں یعنی پنڈتوں، پجاریوں، سادھوﺅں اور حکمرانوں نے یہ دیکھا کہ آپ علیہ السلام کی اسلام کی دعوت سے کچھ غریبوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اور قوم کا عام طبقہ آپ علیہ السلام کی دعوت پر توجہ دینے لگا ہے۔ اور متاثر بھی ہو رہا ہے۔ اور ان کا جھوٹا پروپیگنڈہ ناکام ہو رہا ہے۔ تو انہوں نے قوم میں یہ افواہ پھیلانا شروع کر دی کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کو ( نعوذ باللہ ) نیچ لوگوں نے قبول کیا ہے۔ اس لئے اونچی ذات کے لوگوں کو ان سے بچ کر رہنا چاہیے۔ آپ کو یاد ہوگا ۔ اس سے پہلے ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں چار طبقے تھے۔ پہلا سب سے اونچا طبقہ پنڈتوں ، پجاریوں ، سادھوﺅں اور راجوں مہاراجوں کا تھا۔ جیسا کہ ہمارے ہندوستان میں ہے۔ اس سے نیچا فوجیوں کا تھا۔ اس طبقے کو ہمارے ہندوستان میں کھتری کہا جاتا ہے۔ تیسرا طبقہ جو سرکاری کاموں میں لکھا پڑھی کرتے تھے۔ یعنی منشیوں اور کلرکوں کا ۔ یہ طبقہ یہاںویش کہلاتا ہے۔ اور سب سے نچلے طقے میں کسان اور کچھ گھریلو کاموں والے لوگ تھے۔ جنہیں ہندوستان میں شودر کہا جاتا ہے۔ اور اسی طبقے کی اکثریت نے اسلام قبول کیا تھا۔
حضرت نوح علیہ السلام کا جواب
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم چار طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اور سب سے نچلے طبقے کے لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ قوم کا سب سے اونچا طبقہ جو مذہبی علماءیعنی پنڈتوں ، پجاریوں اور سادھوﺅں کا تھا۔ وہ آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن اور اسلام کا سب سے بڑا مخالف تھا۔ کیوں کہ اسلام قبول کرنےکے بعد ان کی سرداری اور حکومت ختم ہو جاتی اور اپنے تمام عیش و آرام کو چھوڑ کر انہیں بھی عام مسلمانوں کی طرح زندگی گزارنی پڑتی۔ کیوں کہ یہ طبقہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ اسلام میں تمام انسان برابر ہیں۔ اور کوئی اونچی اور نیچی ذات نہیں ہے۔ اسی لئے یہ طبقہ آپ علیہ السلام کا سب سے سخت مخالف تھا اور جب ان کی قوم کے سب سے نچلے طبقے نے اسلام قبول کیا تو اس طبقے نے باقی دونوں طبقوں سے کہنا شروع کر دیا کہ تم لوگ اسلام قبول نہیں کرنا ۔ ورنہ تم بھی نچلی ذات کے ہو جاﺅ گے۔ اور مسلمانوں کو اذیت اور تکلیفیں دینے لگے۔ اور سب سے نچلی ذات والوں سے کہا کہ اگر تم اسلام قبول کر لو گے تو تمہیں بھی اسی طرح تکلیفیں دی جائیں گی۔ اور حضرت نوح علیہ السلام سے کہا کہ تمہاری دعوت کو نیچ لوگوں نے قبول کیا ہے۔ اس لئے ہم تمہاری دعوت کو قبول نہیں کریں گے۔ اور اگر تم چاہتے ہو کہ ہم اسلام قبول کریں توتمہیں ان نچلی ذات کے لوگوں کو اپنے سے دور کرنا ہوگا۔ اور اسلام سے خارج کرنا ہوگا۔ اس کے جواب میں حضرت نوح علیہ السلام نے جو فرمایا۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا ہے۔ ترجمہ ” نوح ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ میری قوم والو، مجھے بتاﺅ اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی ( صحیح اور روشن ) دلیل پر ہوں اور مجھے اس نے اپنے پاس کی کوئی رحمت ( یعنی اسلام) عطا فرمائی ہوا اور وہ تمہاری نگاہوں میں نہیں آسکی ہو۔ (یعنی اسلام کی حقیقت اور اہمیت تمہاری سمجھ میں نہیں آسکی ہو) تو کیا زبردستی میں اسے تمہارے گلے منڈھ دوں گا۔ جب کہ تم اس سے ( اسلام سے) بیزار ہو۔ میری قوم والو، میں تم سے ( اسلام قبول کرنے کے عوض میں ) اس پر کوئی مال نہیں مانگتا۔ میرا اجرو ثواب تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اور نہ ہی میں ایمان والوں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ہوں۔ انہیں ( بھی) اپنے رب سے ملنا ہے۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ ( انسانوں کو اونچے نیچے طبقوں میں تقسیم کر کے) جہالت کر رہے ہو۔ میری قوم کے لوگو، اگر میں مسلمانوں کو اپنے پاس سے نکال دوں( جیسا کہ تم لوگ شرط پیش کر رہے ہو) تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں میری کون مدد کر سکتا ہے؟( یعنی اللہ تعالیٰ سے کوئی تمہارا بت مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہو سکتا ہے) کیا تم کچھ بھی غور و فکر نہیں کرتے؟“ ( سورہ ہود آیت نمبر28سے 30تک) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت نوح علیہ السلام کی) قوم نے کہا۔ کیا ہم تم پر ایمان لائیں ؟ جب کہ تمہاری تابعداری یعنی اطاعت تو رذیل ( نیچ) لوگوں نے کی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھے کیا خبر کہ پہلے وہ کیا کرتے رہے؟ ان کا حساب تو میرے رب کی ذمہ ہے۔ اگرتمہیں شعور ( سمجھ) ہوتو اور میں ایمان والوں یعنی مسلمانوں کو دھکے دینے والا نہیں ہوں۔ ( یعنی میں مسلمانوں کو ہر حال میں اپنے ساتھ میں رکھوں گا۔) میں تو صاف طور سے ( اللہ کے غضب اور عذاب سے ) ڈرانےوالا ہوں“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر111سے 115تک) اس طرح حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے کافر سرداروں کو صاف صاف جواب دے دیا کہ تم ایمان لاﺅ یا نہ لاﺅ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں تو مسلمانوں کو ہر حال میں ساتھ رکھوں گا۔
قوم کے کافر سرداروں کا کڑا جواب
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے کافر سرداروں کو صاف صاف فرما دیا کہ تم ایمان لاﺅ یا نہ لاﺅ میں تو کسی بھی حال میں مسلمانوں کو اپنے آپ سے دور نہیں کروں گا۔ آپ علیہ السلام کا اتنا صاف جواب سن کر قوم کے سرداروں نے کھل کر آپ علیہ السلام سے دشمنی کرنی شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( قوم کے کافر سرداروں نے) کہا۔ اے نوح ( علیہ السلام ) اگر تم باز نہیں آئے تو یقینا تمہیں سنگسار کر دیا جائے گا۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر116) یعنی اگر آپ علیہ السلام اپنی دعوت دینا بند نہیں کریں گے تو ہم پوری قوم کو حکم دیں گے کہ وہ جہاں آپ علیہ السلام کو پائے تو مارے۔ چاہے وہ کسی بھی چیز سے ہو۔ اور بچوں کو حکم دیں گے کہ وہ پتھر مارے۔ چاہے ان پتھروں سے آپ علیہ السلام کی موت ہی کیوں نہ ہو جائے۔ قوم کے سرداروں نے حضرت نوح علیہ السلام کو صرف دھمکی نہیں دی بلکہ اس پر عمل بھی کیا۔ اور پوری قوم میں اعلان کر وا دیا کہ حضرت نوح علیہ السلام اور مسلمانوں کو اسلام کی دعوت سے روکو۔ اور جس کو جیسے بھی بنے وہ اسی طرح روکے۔ پوری قوم کافر سرداروں ( پنڈتوں ، پجاریوں اور سادھوﺅں ) کے ساتھ تھی۔ صرف حضرت نوح علیہ السلام اور چند غریب مسلمان حق پر ڈٹے ہوئے تھے۔ قوم کے کافر ان پر طرح طرح کے ظلم کرتے تھے۔ اور یہی کوشش کرتے تھے کہ مسلمان اسلام کو چھوڑ دیں یا پھر حضرت نوح علیہ السلام اپنی دعوت سے باز آجائیں۔ لیکن ان کے ظلم و ستم سہنے کے بعد بھی مسلمان حق پر ڈٹے ہوئے تھے۔ اور اسلام پر مضبوطی سے جمے ہوئے تھے۔
حضرت نوح علیہ السلام اور مسلمانوں پر ظلم و ستم
حضرت نوح علیہ السلام اور مسلمانوں کی دشمن پوری قوم ہو گئی تھی۔ کافروں کے سرداروں نے قوم سے کہا۔ جو حضرت نوح علیہ السلام کو جتنا ستائے گا وہ اتنے زیادہ انعام کا مستحق ہوگا۔ اس طرح مذہبی علماءیعنی پنڈتوں، پجاریوں ، سادھوﺅں اور حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی ہر طرح کا ظلم و ستم کرنے لگے۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام استقامت سے ڈٹے ہوئے تھے۔ اور کافروں کو اسلام کی دعوت دیتے رہتے تھے۔ کافر آپ علیہ السلام کو مارتے جاتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام انہیں سمجھاتے جاتے تھے۔ وہ بد بخت نہیں جانتے تھے کہ ان کا کتنا بڑا نقصان ( آخرت) کا ہو رہا تھا۔ جہاں چند لوگ بیٹھے ہوتے اور آپ علیہ السلام وہاں پہنچ کر انہیں سمجھانے لگتے تو وہ لوگ اٹھ کر آپ علیہ السلام کو مارنے لگتے تھے اور ادھ مرا چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔ اس کے بعد بھی آپ علیہ السلام انہیں سمجھاتے تھے تو وہ لوگ کانوں پر کپڑا باندھ لیتے تھے۔ تا کہ آپ علیہ السلام کی آواز کانوں میں نہ پڑے۔ راستے میں بچے آپ علیہ السلام کو پتھر مارتے تھے۔ ایک مرتبہ تو قوم کے ایک بہت بڑے مجمع نے آپ علیہ السلام کو اتنا مارا کہ بے ہوش ہو گئے اور سانس اتنی دھیمی ہو گئی کہ وہ لوگ سمجھے کہ آپ علیہ السلام کا ( نعوذ باللہ ) انتقال ہو گیا ۔ اور آپ علیہ السلام کو اونی کپڑے میں لپیٹ کر پھینک دیا۔
اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں سے محبت
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا ظلم و ستم جب حد سے گزر گیا تو آپ علیہ السلام نے اس کی ہلاکت کی دعا کی۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی ہلاکت کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم مٹی کے چند خوب صورت کھلونے بناﺅ۔ وہ اتنے اچھے ہوں کہ مجھے پسند آجائیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کو یہ بات بہت سی عجیب لگی ۔ پھر بھی آپ علیہ السلام نے بڑی محنت سے دل لگا کر چند بہت ہی خوب صورت کھلونے بنائے۔ جب کھلونے مکمل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انہیں توڑ دو۔ حضرت نوح علیہ السلام کو یہ حکم سن کر حیرت ہوئی لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس لئے تمام کھلونوں کو توڑ دیا۔ لیکن انہیں توڑنے میں آپ علیہ السلام کو بہت دکھ اور تکلیف ہوئی۔ اور کھلونے توڑنے کے بعد آپ علیہ السلام بہت اداس ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اداسی کی وجہ دریافت فرمائی۔ ( حالانکہ اللہ تعالیٰ سب جانتے ہیں) حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، آپ نے چند خوب صورت کھلونے بنانے کا حکم دیا۔ میں نے بہت دل و جان سے بنائے پھر آپ نے انہیں توڑنے کا حکم دیا ۔ تو میں نے توڑ دیا لیکن انہیں توڑنے میں مجھے بہت دکھ اور تکلیف ہوئی۔ اسی وجہ سے اداس ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے نوح ( علیہ السلام) تمہیں مٹی کے چند کھلونوں سے اتنی محبت ہو گئی تھی تو مجھے اپنے جیتے جاگتے بندوں سے کتنی محبت ہو گی۔ تب حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رو رو کر گڑ گڑا نے لگے اور عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں تیرے بندوں کے ظلم و ستم کو سہتا رہوں گا اور انہیں آپ کی طرف بلاتا رہوں گا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام مسلسل اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔
قوم کے ظلم و ستم پر اُن کے لئے دعا
حضرت نوح علیہ السلام اس کے بعد مسلسل اپنی قوم کو سمجھاتے رہے اور اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم سے کہتے اے میری قوم، تم مجھے کتنا بھی ظلم و ستم کا نشانہ بناﺅ۔ میرے ساتھ کتنا بھی برا سلوک کرلو۔ لیکن میں تمہاری بھلائی ہی چاہتا رہوں گا۔ اور تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ تم اسلام قبول کر لو۔ تم اپنے دل کی بھڑاس نکال لو۔ اور تمہیں میرے ساتھ جو بھی کرنا ہے کر لو۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کو نوح ( علیہ السلام ) کا قصہ پڑھ کر سنائیں۔ جب انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اے میری قوم، اگر تم کو میر ا رہنا اور اللہ کے احکامات کی (یعنی اسلام کی ) نصیحت کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے تو میرا بھروسہ تو اللہ تعالیٰ پر ہے۔ تم اپنی تمام تدبیر اپنے ساتھیوں اور اپنے بنائے ہوئے جھوٹے خداﺅں کے ساتھ مل کر پختہ کر لو۔ اور تمہاری تدبیر تمہاری گھٹن کا باعث نہیں ہونی چاہیئے۔ پھرمیرے ساتھ ( جو کرنا چاہتے ہو) کر گزرو۔ اور مجھ کر مہلت نہ دو۔ ( سورہ یونس آیت نمبر71) اور آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے اور جب قوم تکلیف اور اذیت دیتی تو فرماتے۔ اے اللہ تعالیٰ، میری قوم کو معاف فرما دے یہ نہیں جانتی۔ حضرت نوح علیہ السلام اس کے بعد بھی اپنی قوم کو مسلسل سمجھاتے رہے۔ اور اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اس میں برسوں گزر گئے۔ کچھ تھوڑے لوگ ایمان لائے تھے۔ لیکن اکثریت کافر ہی رہے۔ کافر آپ علیہ السلام سے تنگ آئے۔ اور آپ علیہ السلام سے کہا۔ اے نوح، اگر تم باز نہیں آﺅ گے تو ضرور ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ یعنی اے نوح، اگر تم اسلام کی دعوت دینا بند نہیں کرو گے۔ تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ( نعوذ باللہ) ختم کر دیں گے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے ایسا ہی کیا۔ اور آپ علیہ السلام کو مار مار کر بری طرح زخمی کر دیا۔ اور آپ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ وہ لوگ سمجھے کہ آپ علیہ السلام کا نعوذ باللہ انتقال ہو گیا۔ اور آپ علیہ السلام کو اونی کپڑے میں لپیٹ کر آپ علیہ السلام کے گھر میں پھینک دیا۔ آپ علیہ السلام ہوش میں آگئے اور اسی حالت میں نکل کر پھر اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کو اتنا مارتی کہ آپ علیہ السلام بے ہوش ہو جاتے تھے۔ پھر جب ہوش میں آتے اور کچھ افاقہ ہو تا تو اس طرح دعا کرتے تھے۔ اے اللہ تعالیٰ، میری قوم کو ہدایت فرما۔ کیوں کہ وہ نہیں جانتے۔ ( تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان نہیں لانے کی اولاد کو وصیت
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بڑے تو بڑے بچے بھی اتنے گمراہ ہو گئے تھے کہ انھوں نے بھی آپ علیہ السلام کو تکلیف پہنچائی۔ ایسا ہی ایک واقعہ پیش ہے۔ جب حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کو تکلیف پہنچانے لگی اسی دوران ایک دن حضرت نوح علیہ السلام کو ایک بوڑھے نے دیکھا۔ جو لاٹھی کے سہارے چل رہا تھا۔ اس کی گود میں اس کے بیٹے کا بیٹا ( پوتا ) تھا۔ اس بوڑھے نے لڑکے سے کہا۔ بیٹے اس شخص کو دیکھ رہے ہو۔ اس کے جال میں نہیں پھنسنا ۔ اور کہیں یہ تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یہ سن کر اس لڑکے نے کہا۔ آپ مجھے نیچے اتاریئے اور اپنا ڈنڈا مجھے دیں۔ بوڑھے نے اسے نیچے اتار دیا۔ اور ڈنڈا دیا۔ ڈنڈا لے کر وہ لڑکا حضرت نوح علیہ السلام کے سامنے آیا۔ آپ علیہ السلام محبت سے اس کی طرف جھکے۔ اس لڑکے نے پوری طاقت سے ڈنڈا آپ علیہ السلام کے سر پر دے مارا۔ آپ علیہ السلام کا سر پھٹ گیا۔ خون بہنے لگا اور آپ علیہ السلا م چکرا کر گر پڑے۔ اور وہ دونوں اسی حال میں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ ایک عرصہ گزر گیا حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کو مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اور ان سے بحث و تکرار کر کے حقیقت کو ان کے سامنے لانے کی کوشش کرتے رہے۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال 950قیام پذیر رہے۔ لیکن اتنی طویل مدت کی جدو جہد بھی فائدے مند ثابت نہیں ہو سکی۔ اور چند خوش نصیبوں کو چھوڑ کر باقی پوری قوم حق و صداقت ( اسلام ) سے دور ہی رہی ۔ ان کی دشمنی کی انتہا دیکھئے کہ جب کوئی کافر مرنے لگتا تھا تو وہ جاتے جاتے اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کر جاتا تھا کہ تم پر حضرت نوح علیہ السلام کی مخالفت لازم ہے۔ کچھ بھی ہو تم ایمان نہیں لاﺅ گے۔ اور اسلام قبول نہیں کرو گے۔ اور ہر حالت میں اس دین ( اسلام) کو جھٹلاﺅ گے۔ جب کسی کے یہاں بچہ پیدا ہوتا تھا۔ اور بات سمجھنے کے قابل ہو تا تھا ۔ تو اسے سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کی مخالفت کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اور اسے نصیحت کی جاتی تھی کہ حق( اسلام) کی مخالفت اور حضرت نوح علیہ السلام سے عداوت اس نسل کے لئے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی پہلی نسل کے لئے ضروری تھی۔ باپ اپنے بچوں کو وصیت کرتے تھے کہ جب تک زندہ رہنا۔ تب تک حضرت نوح علیہ السلام کی مخالفت کا جذبہ دل میں سرد نہیں ہونے دینا۔ اور کبھی بھی ان کی دعوت کی طرف توجہ نہیں کرنا۔ ان کی طبیعت کا اقتضا ہی یہ تھا کہ ایمان اور حق کی اتباع کا انکار کرتے چلیں جائیں ۔ گویا سر کشی اورعناد اُن میں رچ بس چکا تھا۔
حضرت نوح علیہ السلام کی اپنی قوم پر شفقت اور مہربانی
حضرت نوح علیہ السلام انتہائی صبر اور بردباری کے ساتھ دن رات سرا” اور اعلانیہ “ انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اور اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام میں سے کسی کو بھی اتنے سخت اور شدید حالات نہیں پیش آئے۔ جن کا سامنا حضرت نوح علیہ السلام کو کرنا پڑا۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگ آتے اور پکڑ کر گلا دبا دیتے اور مجلسوں میں آپ علیہ السلام کو مارتے اور بھاگ جاتے تھے۔ آپ علیہ السلام ان کے اس سلوک کے باوجود ان کے لئے بد دعا نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ان کے لئے دعا کرتے تھے اور فرماتے تھے۔ اے میرے رب، میری قوم کو بخش دے کیوں کہ یہ ( اصل حقیقت ) نہیں جانتے ہیں۔ مگر آپ علیہ السلام کے اس حسن سلوک کا بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔ اور ان کی دشمنی اور کفر میں اضافہ ہی ہوا۔ یہاں تک کہ جب آپ علیہ السلام ان میں سے کسی آدمی سے بات کرتے تھے تو وہ اپنے سر کو کپڑے کے ساتھ خوب لپیٹ لیتا اور اپنے کانوں میں انگلی ڈال لیتا تھا۔ تا کہ آپ علیہ السلام کے الفاظ اسے نہ سنائی دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا) میں نے جب بھی انہیں تیری بخشش کے لئے بلایا۔ انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں۔ اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا۔ اور ( کفر و شرک پر ) اڑ گئے اور تکبر کیا۔ “ ( سورہ نوح آیت نمبر 7) پھر وہ مجلس سے اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور تیزی سے چلے جاتے تھے۔ اور کہتے تھے ۔ اسے رہنے دو۔ کیوں کہ یہ ( نعوذ باللہ) جھوٹا ہے۔ آپ علیہ السلام پر انتہائی سخت اورشدید آزمائش آتی رہی۔ اور آپ علیہ السلام ایک زمانہ کے بعد دوسرے زمانہ کے لوگوں اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل کا انتظارکرتے رہے مگر جو بھی نسل آئی۔ وہ پہلی نسل سے زیادہ بد بخت اور خبیث اور متکبر اور سر کش نکلی۔ اور وہ لوگ کہتے یہ ہمارے باپ دادا کے ساتھ بھی تھا۔ اور یہ مسلسل جنون ( دیوانگی) میں مبتلا ہے۔ اور ان میں سے ہر آدمی مرتے وقت اپنی اولاد کو وصیت کر جاتا تھا کہ اس مجنوں سے بچ کر رہنا۔ کیوں کہ اس کے بارے میں میرے باپ دادا نے بتایا ہے کہ لوگوں کی ہلاکت اور بربادی اس کے ہاتھوں پر ہے۔ اس طرح کی وصیت وہ آپس میں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی آدمی اپنے بچے کو کندھے پر اٹھاتا تھا اور جب وہ بچہ اتنا بڑا ہو جاتا تھا کہ اس کی بات کو سمجھ سکے تو وہ کہتا ۔ اے میرے بیٹے، میں زندہ رہوں یا مر جاﺅں تو اس مجنون شخص سے بچنا۔ آپ علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کو اتنا مارتی تھی کہ آپ علیہ السلام بے ہوش ہو جاتے تھے۔ پھر جب ہوش آتا اور کچھ افاقہ ہوتا تو اس طرح دعا کرتے تھے۔ اے اللہ تعالیٰ، میری قوم کو ہدایت عطا فرما کیوں کہ وہ نہیں جانتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگ آپ علیہ السلام کا گلا دباتے تھے یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کی آنکھیں اوپر چڑھ آتی تھیں۔ اور جب وہ آپ علیہ السلام کو چھوڑتے تو آپ علیہ السلام یہ دعا کرتے ۔ اے اللہ میری قوم کو بخش دے کیوں کہ وہ جاہل ہے۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے عذاب کی مانگ کی
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کو مسلسل تکلیفیں اور اذیتیں دیتی رہی۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام اپنی قوم کو مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اللہ کی رحمت اور مغفرت کی بشارت دیتے رہے۔ اور اللہ کے غضب اور عذاب سے ڈراتے رہے۔ لیکن قوم میں بد بختی اور سر کشی اتنی زیادہ ہو چکی تھی کہ انھوں نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمائش کی کہ جس اللہ کے عذاب سے تم ہمیں ڈرا رہے ہو وہ لے آﺅ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” (قوم کے لوگوں نے) کہا۔ اے نوح( علیہ السلام) تم نے ہم سے بحث کر لی اور خوب بحث کر لی۔ اب تم جس چیز سے ہمیں دھمکا رہے ہو اگر تم سچے ہو تو وہ ہمارے پاس لے آﺅ۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر32) حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانگ کی۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ لیکن قوم نے اب یہی طریقہ اپنا لیا تھا کہ جب بھی کسی کو آپ علیہ السلام سمجھانے لگتے تو وہ کہتا اے نوح ( علیہ السلام) تمہیں جتنا سمجھانا تھا تم نے ہمیں سمجھا لیا اور خوب اچھی طرح سمجھا لیا ہے۔ یعنی تمہیں جتنی اسلام کی دعوت دینی تھی تم نے دے دی اور خوب اچھی طرح اسلام کی دعوت دی۔ اب تم ایسا کرو اگر تم واقعی سچے ہو تو جس عذاب کی تم ہمیں اکثر دھمکی دیتے رہتے ہو وہ اللہ کا عذاب لے آﺅ۔ جب قوم کے ہر فرد نے عذاب کی مانگ کرنی شروع کر دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ دیکھو عذاب لانا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے اور وہ بھی جب وہ خود چاہے گا تب عذاب آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت نوح علیہ السلام نے ) جواب دیا۔ اسے ( عذاب کو) بھی اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو صرف وہی لائے گا۔ اورہاں ( جب عذاب آئے گا) تب تم لوگ اسے ( اللہ کو ) ہرا نہیں سکو گے۔ اور اس وقت میں تمہاری کتنی بھی خیر خواہی چاہوں گا تب بھی میری خیر خواہی فائدہ نہیں پہنچا سکے گی۔ ( سورہ ہود آیت نمبر33اور 34) حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ جس عذاب کی تم بار بار مانگ کر رہے ہو وہ لانا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ اسے صرف اللہ تعالیٰ ہی لا سکتا ہے اور وہ بھی جب اس کا ارادہ ہوگا۔ اور جب وہ عذاب آجائے گا تب میں بھی تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکوں گا۔ اس وقت میں تمہاری کتنی بھی بھلائی چاہوں گا تو وہ بھی تمہارے کام نہیں آسکے گی۔ اس لئے بار بار عذاب مانگنے کی نادانی مت کرو۔ اور میری بات کو سمجھو اسلام قبول کر لو اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو وہ تمہیں بخش دے گا اور مغفرت کر دے گا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ لیکن قوم کی بد بختی تھی کہ وہ مسلسل عذاب کی مانگ کرتی رہی۔
حضرت نوح علیہ السلام کی التجا
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم مسلسل عذاب کی مانگ کرتی رہی۔ اور آپ علیہ السلام پر ظلم و ستم کرتی رہی۔ جب حضرت نوح علیہ السلام پر قوم کا ظلم حد سے بڑھ گیا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ ، تیرے بندے میرے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں اسے تو دیکھ رہا ہے۔ اے اللہ تعالیٰ اگر تو اپنے بندوں کو زندہ رکھنا ہی چاہتا ہے تو انہیں ہدایت دے یا پھر اپنا کوئی فیصلہ آنے تک مجھے صبر عطا فرمااور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا۔ تمہاری قوم میں جتنے لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں اب ان کے علاوہ کوئی بھی اسلام قبول نہیں کرے گا۔ اور اس پر تم غم مت کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت نوح علیہ السلام )نے کہا۔ اے میرے پرور دگار میں نے اپنی قوم کو رات و دن تیری طرف بلایا۔ مگر میرے بلانے سے ( یہ لوگ) اور زیادہ ( دور) بھاگنے لگے۔ میں نے جب کبھی انہیں تیری مغفرت کی طرف بلایا تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں۔ اور اپنے چہروں پر کپڑوں کو اوڑھ لیا۔ اور کفر و شرک پر اڑ گئے اور تکبر کیا۔ پھر میں انہیں با آواز بلند بلایا۔ اور بے شک میں نے ان سے اعلانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی۔ اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشوا ﺅ( معافی مانگو) وہ یقینابڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمانوں کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا اور تمہیں پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا۔ اور تمہیں باغات دے گا۔ اور تمہارے لئے نہریں نکالے گا۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے۔حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح ( مختلف رنگ اور قدو قامت )سے پیدا کیا ( سورہ نوح آیت نمبر 5سے 14تک) اسی سورہ میں اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا۔ ترجمہ ” نوح ( علیہ السلام ) نے کہا اے میرے پرور دگار ، ان لوگوں نے میری نافرمانی کی۔ اور ایسوں کی فرماں برداری کی جنہوں نے ان کے مال و اولاد کے نقصان کو بڑھایا ہے۔ اور ان لوگوں نے ( یعنی کافر سرداروں ، پنڈتوں ، پجاریوں ، سادھوﺅں اور حکمرانوں ) بڑا سخت فریب کیا ہے۔ اور انہوںنے عوام سے کہا۔ کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور ”ود“ اور ”سواع“ اور ” یغوث “ اور یعوق“ اور ”نسر“ کو نہیں چھوڑنا۔ اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ ( سورہ نوح آیت نمبر21سے 24تک)
جن کو ایمان لانا تھا وہ لا چکے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہمیں نوح ( علیہ السلام ) نے پکارا۔ تو دیکھ لو ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں۔( سورہ الصافّات آیت نمبر74) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت نوح علیہ السلام نے کہا) اے میرے پروردگار ،میری قوم نے مجھے جھٹلایا۔ پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کر دے۔ اور مجھے اور میرے ساتھ مسلمانوں کو نجات دے۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر118) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” پس اُس نے ( حضرت نوح علیہ السلام نے)اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر“ ( سورہ القمر آیت نمبر ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” نوح ( علیہ السلام ) نے دعا کی اے میرے رب، ان کے جھٹلانے پر میری مدد کر۔“ ( سورہ المومنون آیت نمبر26) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” نوح علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو ایمان لا چکے ان کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ پس تم ان کے کاموں پر غمگین نہ ہو۔ ( سورہ ہود آیت نمبر36)
کشتی بنانے کا حکم
اللہ تعالیٰ سے حضرت نوح علیہ السلام نے گذارش کی کہ پچھلے کئی سو سال سے میں اپنی قوم کو سمجھا رہا ہوں ۔ لیکن سوائے چند لوگوں کے پوری قوم کفر اور شرک پر ڈٹی ہوئی ہے۔ اس لئے اے اللہ تعالیٰ اب تو انہیں ہدایت دے دے یا پھر اپنا فیصلہ سنا دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ تمہاری قوم میں جن کو ایمان لانا تھا وہ لا چکے اب کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام کو بہت دکھ ہوا کہ کئی سو برس کی مسلسل شدید محنت کے بعد بھی یہ کافر ہی مریں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ تم ان کے کاموں یا ان کے اوپر غمگین نہیں ہونا اسی لئے آپ علیہ السلام نے صبر کر لیا۔ اور جب آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ پوری قوم کے لئے عذاب مقرر کر دیا گیا ہے تو آپ علیہ السلام نے دعا کی ۔ اس کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور نوح علیہ السلام نے کہا۔ اے میرے پروردگار تو رو‘ئے زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑنا۔ اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو ( یقینا) یہ تیرے ( دوسرے ) بندوں کو ( بھی) گمراہ کر دیں گے۔ اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں کو ہی پیدا کریں گے۔ “ ( سورہ نوح آیت نمبر26سے 27) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا۔ کہ اب یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے تو پھر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے میرے رب ، (اللہ تعالیٰ) میری قوم نے مجھے جھٹلایا۔ اب تو میرے اور ان کے درمیان میں پورا فیصلہ کر دے۔ اور مجھے اور میرے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات دے۔ اور یہ بھی دعا کی ۔ اے میرے رب ( اللہ تعالیٰ) زمین پر کافروں میں سے کسی کو نہ چھوڑ ۔ بے شک اگر تو انہیں رہنے دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے۔ اور ان کی اولاد بھی ناشکری ہوگی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کے بعدا للہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کشتی بناﺅ۔ ہماری مدد سے اور ہمارے حکم سے۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق تیار کرو۔ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات نہیں کرنا۔ وہ پانی میں ڈبو دیئے جائیں گے۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر37) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” نوح علیہ السلام نے دعا کی، اے میرے رب ، ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر۔ تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری وحی کےمطابق ایک کشتی بناﺅ۔ ( سورہ المومنون آیت نمبر27) اسی آیت میں آگے فرمایا۔ ” خبر دار جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے بارے میں مجھ سے کچھ بات نہیں کرنا۔ وہ تو سب ڈبو دیئے جائیں گے۔“ (سورہ المومنون آیت نمبر27) اللہ تعالیٰ کا اشارہ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اور بیٹے کی طرف تھا۔ کیوں کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ پر اور حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان نہیں لائے تھے۔ اور اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ ( تفسیر جلالین،تفسیر روح البیان)
حضرت نوح علیہ السلام کی کافرہ بیوی اورکافر بیٹا
حضرت نوح علیہ السلام نے کئی نکاح کئے تھے۔ اور ان کی کئی بیویاں تھیں۔ پہلی بیوی تو عمذرہ بنت براکیل تھی۔ اوریہی سام ، حام، یافث کی والدہ ہیں۔ دوسری بیوی کا نام واعلہ یا والعہ تھا۔ اور کنعان اس کے بیٹے کا نام تھا۔ یہ اور اس کا بیٹا دونوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اور حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان نہیں لائے تھے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی) یہ دونوں ماں بیٹے اپنی قوم کے سرداروں یعنی پنڈتوں ، پجاریوں ،سادھوﺅں اور حکمرانوں سے ملے ہوئے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی مخالفت میں ان کے ساتھ رہتے تھے۔ اسی وجہ سے قوم کے کافرسرداروں نے ان دونوں ماں بیٹے پر اپنی خصوصی مہربانیاں کی ہوئی تھیں ۔ جس کی وجہ سے ان دونوں کی زندگی بہت عیش و آرام میں گزر رہی تھی۔ ان ماں بیٹوں کے پاس شاندار گھر اور بے شمار مال و دولت اور نوکر چاکر تھے۔ جب کہ حضرت نوح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی وہ بیویاں اور بیٹے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا وہ سب ٹوٹے پھوٹے جھونپڑوںمیں فاقوں کے عالم میں زندگی گزار رہے تھے۔ آپ علیہ السلام کی کافرہ بیوی اور بیٹے کو جب بھی آپ علیہ السلام سمجھاتے تھے تو الٹا و ہ دونوں آپ علیہ السلام کو سمجھاتے کہ یہ پاگل پن چھوڑیں اور قوم کے کافر سرداروں کی بات مان کر اسلام کی دعوت بند کر دیں۔
اور عیش و آرام کی زندگی گزاریں جیسی ہم گزار رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اللہ کافروں کے معاملہ میں نوح ( علیہ السلام ) اور لوط( علیہ السلام) کی بیویوں کو بطور مثال پیش کرتا ہے۔ وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجہ تھیں مگر انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی۔ اور وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکی۔ اور دونوں کو کہہ دیا گیا کہ آگ میں جانے والوں کے ساتھ چلی جاﺅ۔ ( سورہ التحریم آیت نمبر 10) مولانا مودودی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ یہ خیانت اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ بدکاری کی مرتکب ہوئی تھیں۔ بلکہ اس معنی میں ہے کہ انہوں نے ایمان کی راہ میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کا ساتھ نہیں دیا ۔ بلکہ ان کے مقابلے میں دین کے دشمنوں کا ساتھ دیتی رہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کسی نبی علیہ السلام کی بیوی کبھی بدکار نہیں رہی ہے۔ ان دونوں عورتوں کی خیانت در اصل دین کے معاملے میں تھی۔ انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کا دین قبول نہیں کیا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اپنی قوم کے سرداروں کو ایمان لانے والوں کی خبریں پہنچایا کرتی تھی اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اپنے شوہر کے ہاں آنے والے لوگوں کی اطلاع اپنی قوم کے بد اعمال لوگوں کو دے دیا کرتی تھی۔ ( تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری، تفہیم القران سورہ التحریم مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی) امام عبدا لرزاق ، امام زیابی، امام سعید بن منصور، امام ابن ابی الدنیا، امام محمد بن جریر طبری، امام ابن منذر، امام ابن ابی حاتم، اور امام حاکم نے کئی طرق سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ کہ ان دونوں نے زنا نہیں کیاتھا۔ البتہ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ لوگوں کو کہا کرتی تھی کہ یہ مجنوں ( دیوانہ پاگل) ہے۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ مہمان پر جرا¿ت کر جاتی تھی۔ اور مخالفت کرتی تھی۔ پس یہی ان دونوں کی خیانت تھی۔ (تفسری در منشور جلد نمبر6امام جلال الدین سیوطی تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری)
اللہ تعالیٰ کی مدد سے کشتی کی تیاری
حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا حکم سن کر کشتی بنانے کی تیاری شروع کر دی۔ اور اس کام میں جبرئیل علیہ السلام اور دوسرے فرشتے آپ علیہ السلام کی مدد کرنے لگے۔ کافروں نے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بناتے دیکھا تو ہنسنے لگے۔ اور ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے۔ اور کہنے لگے، پہلے تو ہمیں اس کے پاگل ( نعوذ باللہ) پر تھوڑا شک تھا اب یقین ہو گیا ہے۔ کیوں کہ نہ کہیں پانی کا نام و نشان ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا لگتا ہے کہ اتنا پانی آئے گا کہ زمین پر کشتی کی ضرورت محسوس ہو۔ حضرت نوح علیہ السلام بڑے صبر سے ان کافروں کی باتیں سنتے اور چپ چاپ کشتی بنانے میں مصروف رہتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بتایا کہ اب تمہاری قوم میں سے کوئی اسلام قبول نہیں کرے گا تو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دینا بند کر دی۔ اور کشتی بنانے کی تیاری میں لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” کشتی بناﺅ ہماری مدد سے اور ہمارے حکم سے “ ( سورہ ہود آیت نمبر37) اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا۔ ترجمہ ” تو ہم نے ان کی ( نوح علیہ السلام کی ) طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بناﺅ۔ “ ( سورہ المومنون آیت نمبر27) تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ جب اتنے دراز زمانے تک کافروں کو دعوت اور تبلیغ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور عذاب کا وقت قریب آگیا تو اللہ تعالیٰ نے پہلے تو حضرت نوح علیہ السلام کو تبلیغ سے روک دیا۔ اور کافروں کی دی ہوئی تکلیفوں پر تسلی دی۔ اس کے بعد فرمایا۔ کہ ایک خاص قسم کی کشتی بناﺅ۔ اور اول سے آخر تک کشتی اچھی، صحیح ، خوب صورت اور مکمل فائدے مند ہو۔ جب کوئی لائق ترین کاریگر اور استاد فن کوئی چیز بنانا چاہتا ہو تو چار چیزوں پر غور کرتا ہے۔ (۱) سامان بہترین ہو۔ (۲) نقشہ بہترین اور لا جواب نمونہ ہو۔ ( ۳) فن کاری بہت زیادہ ہو۔ ( ۴) ہر ضرورت پوری ہو۔ یعنی اے نوح علیہ السلام ، لکڑی بہت شاندار اور پختہ و، کشتی کا نمونہ اور نقشہ بہت اچھا ہو۔ اپنی پوری فن کاری صرف کر دینا۔ تا کہ کشتی صرف کشتی نہ رہے۔ بلکہ نبی کا معجزہ بن جائے۔ کیوں کہ اس پر ہر قسم کی مخلوق کو سوار کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں آپ علیہ السلام نے کشتی تیارکی۔ مطلب یہ کہ ہمارے معائنے میں اے نوح( علیہ السلام ) تم بناتے جاﺅ۔ ہم اس کو پاس کرتے جائیں گے۔ کام نبی علیہ السلام کا ہوگا اور تصدیق رب ( اللہ تعالیٰ) کی ہوگی۔ لہٰذا رب نے پہلی وحی میں نقشہ سمجھایا کہ مرغ کے سینے کی شکل کی کشتی بنانا۔ جس طرح آج کل جہاز اورکشتیاں ہیں۔ انکا نقشہ وہیں سے لیا گیا ہے اور بیس 20سال حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی کی لکڑی جمع فرمائی۔ ( تفسیر روح البیان ، تفسیر نعیمی پارہ نمبر12، مفتی احمد یا ر خان نعیمی)
کشتی کے لئے لکڑی کا انتظام
حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا حکم دیا۔ تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو جب کشتی بنانے کا حکم ملا تو اس وقت آپ علیہ السلام نہ تو کشتی کو جانتے تھے اور نہ ہی اس کے بنانے کو۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق کشتی بناﺅ۔ روایات حدیث میں ہے کہ جبرئیل امین علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق کشتی بنانے اور اس کی تمام ضروریات کا طریقہ بتایا۔ اور آپ علیہ السلام نے ساگ کی لکڑی سے یہ کشتی تیار کی۔ ( یہ کشتی ہمارے آج کل کے پانی کے جہاز وں سے بہت بڑی تھی) اس طرح جہاز سازی کی صنعت اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کے ہاتھوں شروع ہوئی۔ پھر اس میں ترقیات ہوتی رہیں۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر قرطبی میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام سو سال درخت لگاتے ررہے۔،ان کو کاٹتے رہے اور خشک کرتے رہے۔ اور سو سال ان میں کام کرتے رہے۔ (کشتی بنا تے رہے)۔ آپ علیہ السلام نے دمشق کے علاقے میں کشتی بنائی۔ اور اسکی لکڑی لبنان کے پہاڑوں سے کاٹی ۔ جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ مےری نگرانی میں وحی کے مطابق کشتی بناﺅ، تو آپ علیہ السلام نے عرض کیا اے اللہ تعالی ، میں بڑھئی مستری نہیں ہوں۔تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔بے شک یہ میری نگرانی میں ہو گا۔ آپ علیہ السلام نے کلہاڑ اپنے ہاتھ میں لیا۔ اور آپ علیہ السلام کا ہاتھ صحیح کام کرنے لگا۔ (تفسیر قرطبی جلد نمبر ۵ المعروف جامع الحکام ا لقرآن ، امام محمدبن احمد بن ابو بکر قرطبی)۔ تفسیر در منشور میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔کہ کشتی بنا ﺅ تو حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کیااے میرے رب (اللہ تعالیٰ)،کشتی کیا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ لکڑی کا بنا ہوا مکان ہے جو پانی پر چلتا ہے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم میں سکو نت پزیر رہے۔اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کا آخری زمانہ آیا توایک درخت لگایا وہ خوب بڑھا اور اسے جہاں تک جانا تھا وہ گیا۔ پھر آپ علیہ السلام نے اسے کاٹ لیا اور کشتی بنا نے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کو جب کشتی بنانے کا حکم دیا گیا توآپ علیہ السلام نے عرض کیا ۔ اے میرے رب، لکڑی کہاں ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ درخت لگاﺅ۔ آپ علیہ السلام نے بیس20سال تک ساگوان کا درخت لگائے رکھا۔ جب آپ علیہ السلام نے درخت کو مکمل حالت میں پالیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے کاٹا اور اسے خشک کر لیا۔ پھر عرض کیا۔ اے میرے رب ، میں یہ گھر کیسے بناﺅں۔ تب اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا کہ وہ آپ علیہ السلام کو کشتی بنانے کے بارے میں بتادیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے چالیس40سال ساگوان کا درخت لگایا اور چار سو سال میں کشتی تیار کی۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام درخت اگاتے رہے اور اسے کاٹ کر خشک کرتے رہے۔ پھر سو برس100اس پر کام کرتے رہے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا۔ مجھے بتائے کون سا وہ پہلا درخت ہے جو سب سے پہلے زمین پر اگا؟ تو انھوں نے جواب دیا۔ وہ ساگوان کا درخت ہے۔ اور یہ وہ درخت ہے جس سے حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی بنائی۔ تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ بعض سلف کہتے ہیں ۔ حکم ہو ا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنالو۔ اس میں ایک سو 100سال گزر گئے۔ پھر مکمل (کشتی کی ) تیاری میں سو100سال گزر گئے۔ ایک قول ہے کہ چالیس سال لگے۔ واللہ اعلم ۔ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ تورات سے نقل کرتے ہیں کہ ساگ کی لکڑی سے کشتی تیاری ہوئی۔ ( تفسیر ابن کثیر علامہ عماد الدین ابن کثیر) تفسیر تبیان القران میں ہے کہ امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی لکھتے ہیں ۔ ضحاک نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے میرے رب ، کشتی کیا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وہ لکڑی کا ایک گھر ہے جو پانی کی سطح پر چلتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے میرے رب لکڑی کہاں ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم درخت اگاﺅ۔ آپ علیہ السلام نے بیس20سال تک ساگوان کے درخت اگائے۔ اس عرصہ میں آپ علیہ السلام نے قوم کو اسلام کی دعوت دینا بند کر دی تھی۔ اور انہوں نے بھی آپ علیہ السلام کو تنگ کرنا اور تکلیف دینا چھوڑ دیا تھا۔ جب درخت تیار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان درختوں کوکاٹو اور سکھاﺅ۔( تفسیر تبیان القران جلد نمبر5علامہ غلام رسول سعیدی)
کافروں اور ان کے سرداروں کا مذاق اڑانا
حضرت نوح علیہ السلام نے ساگوان کے درختوں کو کاٹ کر ان کے تختے اور ستون اورمیخیں ( کیلیں ہماری زبان میں کھلّے) بنائے۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے کافروںنے جب حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بناتے دیکھا تو پہلے تو حیرت میں پڑ گئے کہ آخر آپ علیہ السلام کر کیا رہے ہیں۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ یہ آپ علیہ السلام کیا کر رہے ہیں؟جب آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک ایسا گھر بنا رہا ہوں جو پانی پر چلے گا۔ یہ سن کر وہ بد بخت لوگ آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے اور لوٹ پوٹ کر ہنسنے لگے۔ امام فخر الدین رازی نے ان کے مذاق اڑانے کی یہ وجوہات بیان کی ہے۔ (1) وہ کہتے تھے کہ اے نوح ( علیہ السلام ) تم رسالت کا دعویٰ کرتے تھے اور بن گئے بڑھئی (مستری)۔ (2) اگر تم رسالت کے دعوے میں سچے ہوتے تو اللہ تعالیٰ تم کو کشتی بنانے کی مشقت میں نہیں ڈالتا۔ (3) اس سے پہلے انہوں نے کشتی نہیں دیکھی تھی۔ نہ ان کو یہ معلوم تھا کہ کشتی کس کام آتی ہے۔ اس لئے وہ اس پر تعجب کرتے اور ہنستے تھے۔ ( 4) وہ کشتی بہت بڑی تھی اور جس جگہ آپ علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے وہ جگہ پانی سے بہت دور تھی۔ اس لئے وہ کہتے تھے یہاں پر پانی نہیں ہے۔ اور اس کشتی کو دریاﺅں اور سمندر کی طرف لے جانا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ اس لئے ان کے خیال میں اس جگہ کشتی بنانا محض بے عقل ہے۔ ( تفسیر کبیر جلد نمبر6امام فخرالدین رازی)تفیسر در منشور میں ہے کہ جب قوم کے لوگ آپ علیہ السلام کے پاس سے گزرتے تھے تو مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے( نعوذ باللہ)مجنون ( پاگل) کو دیکھو کہ گھر بنا رہا ہے۔ تاکہ اس کے ذریعے پانی پر چلے۔ اور پانی کہاں ہے؟ وہ بہت ہنستے اور قہقہے لگاتے۔ ( تفسیر درّ منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) تفسیر انوارا لبیان میں ہے کہ ادھر تو کشتی تیار ہو رہی تھی اور ادھر ان کی قوم کے سردار اور چودھری( یعنی پنڈت ، پجاری، اور راجے مہاراجے) گزرتے تھے چونکہ انہیں عذاب آنے کا یقین نہٰں تھا اسی لئے حضرت نوح علیہ السلام پر ہنستے تھے۔ اور ٹھٹھا کرتے تھے۔ کہ جی ہاںتم اس کشتی میں بیٹھ کر محفوظ ہو جاﺅ گے۔ کبھی کہتے تھے کہ یہ کشتی خشکی پر کیسے چلے گی۔ کبھی کہتے تھے کہ اے نو ح ( علیہ السلام ) ابھی تک تم اپنے آپ کو نبی اور رسول کہتے تھے۔ اب تو تم بڑھئی ( مستری) ہو گئے ہو۔ ( تفسیر انوارا لبیان جلد نمبر3مولانا محمد عاشق الہٰی مہاجر مدنی) تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے کشتی بنانے میں مشغول تھے۔ ان کی قوم کے سردار ( پنڈت ، پجاری وغیرہ) جب ان کو دیکھتے اور پوچھتے کہ کیا کر رہے ہو؟ تو آپ علیہ السلام فرماتے کہ طوفان آنے والا ہے۔ اسی لئے کشتی تیار کر رہا ہوں۔ ان کی قوم ان کا مذاق اڑاتی اور استہزاءکرتی تھی کہ یہاں تو پینے کے لئے پانی کا قحط ہے۔ اور یہ بزرگ اس خشکی میں کشتی چلانے کی فکر میں ہیں۔( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مدارک نسفی میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے اور جب بھی ان کے پاس سے قوم کے سردار گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام پانی سے بہت دور جنگل میں کشتی بنا رہے تھے۔ پس وہ ان پر ہنستے اور کہتے۔ اے نوح( علیہ السلام ) تم تو رسول بننے کے بعد بڑھئی بن گئے ہو۔ ( تفسیر مدارک تفسیر نسفی جلد نمبر 2امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی)
بچوںکی پیدائش بند ہو گئی
تفسیر مظہری میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی بنانی شروع کر دی۔ امام بغوی لکھتے ہیں حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم سے بالکل بے پرواہ ہو کر اپنے رب کے حکم سے کشتی بنانے میں لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگوں کی عورتوں کو بانجھ کر دیا اور ایک بھی بچہ پیدا نہیں ہوا ۔ حضرت نوح علیہ السلام لکڑی کاٹتے کیل لگاتے اور تختے جوڑتے۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگ گزرتے اور مذاق اڑاتے۔ ( تفسیر بغوی جلد نمبر3) وہ آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے کہ یہ ایک ایسی جگہ کشتی تیار کررہے ہیں جہاں قریب قریب پانی کا نشان بھی نہیں ہے۔ وہ آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ہنستے اور کہتے اے نوح( علیہ السلام ) تم نبو ت کا تاج اتار کر بڑھئی بن گئے ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ حضرت نوح علیہ السلام سے پوچھتے کہ کیا بنا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام فرماتے ایسا گھر بنا رہا ہوں جو پانی پر چلے گا۔ تو وہ آپ علیہ السلام کی باتیں سن کر خوب ہنستے۔ ( تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثنا اللہ پانی پتی) تفسیر قرطبی میں ہے کہ ان کافروں کے مذاق کے بارے میں دو قول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ آپ علیہ السلام کو کشتی بناتے دیکھ کر کہتے اے نوح ( علیہ السلام) تم نبوت کے بعد بڑھئی بن گئے ہو۔ اور دوسرا قول ہے کہ انہوں نے پہلے کشتی نہیں دیکھی تھی اسی لئے پوچھا کہ کیا بنا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔کہ ایسا گھر بنا رہا ہوں جو پانی پر چلے گا تو وہ پہلے تو حیران ہوئے اور پھر آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ طوفانِ نوح سے پہلے زمین پر کوئی ندی، نہر اور دریا نہیں تھے۔ اسی وجہ سے وہ لوگ آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے تھے ۔ طوفان کے پانی نے سمندروں میں جانے کے لئے جو راستہ بنایا وہی اب ندیاں اور دریا ہیں۔ (تفسیر قرطبی الالجامع الاحکام القران امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی) تفسیر تیسرّ الرحمن فی لبیان القران میں ہے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بناتے دیکھ کر کافر کہنے لگے کہ نبی ہونے کے بعد اب بڑھئی ہو گئے ہو۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کام آپ علیہ السلام پانی سے بہت دور ایک میدان میں سخت گرمی میں کر رہے تھے۔ اسی لئے کافروں نے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو؟ اس سے پہلے انہوں نے کشتی دیکھی نہیں تھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ ہمیں پانی پر لے کر چلے گی تو وہ ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے۔ ( تفسیر تسیر الرحمن لبیان القران محمد لقمان سلفی)
کشتی کہاں بنائی
تفسیر نعیمی میں ہے کہ کشتی بنانے کے دوران جب کبھی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے مغرور رئیس لوگ وہاں سے گزرتے تو ان سے کشتی کے بارے میں سوال کرتے یا اس طرح کہ انھوں نے کشتی کبھی دیکھی نہیں تھی۔ اور ساحل سمندر بہت دور تھے۔ اور دریا تو اس طرف تھے ہی ہیں ۔ کیوں کہ قوم نوح کا علاقہ موصل ، بابل اور مضافات تھے۔ اس کی مشرقی جانب پانچ سو 500میل کے فاصلے پر دریائے دجلہ اور مغربی جانب سات سو 700یا ایک ہزار 1000میل کے فاصلے پر دریائے فرات ہے۔ کوہ ِ جودی ، موصل سے دو سو200میل کے فاصلے پر ہے اور اس کی بلندی سطح سمندر سے تیرہ ہزار 13000فٹ ہے۔ جب کافر یہ لکڑی کا ڈھانچہ دیکھتے تو ہنس کرپوچھتے۔ اے نوح( علیہ السلام ) یہ کیا بنا رہے ہو؟آپ علیہ السلام فرماتے ۔ یہ گھر ہے جو پانی پر چلے گا ۔ تو کہتے ۔ پانی کہاں ہے؟ یا پھر یہ کہ انہوں نے کشتیاں تو دیکھی تھیں مگر اس شکل کی بھی کشتی تھی۔ لہٰذا حیرانی سے اس کے بارے میں پوچھتے اور جب آپ علیہ السلام بتاتے کہ یہ کشتی ہے تو وہ مذاق اڑاتے اور کہتے کہ بھلا اس شکل کی بھی کشتی ہوتی ہے۔ اور یا پھر یہ کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ کشتی ہے۔ مگر جب خشک ریگستان کو دیکھتے کہ یہاں کشتی کا کیا مقصد تو مذاق کرتے کہ اے نوح ( علیہ السلام ) کل تک تو تم نبوت کا دعویٰ کر تے تھے۔ اب نجار یعنی بڑھئی بن گئے ہو اور جس پانی کے عذاب کی بات تم کرتے تھے وہ تو آیا ہی نہیں ہے۔ اب تم کشتی بنا کر ہمیں ڈرا رہے ہو۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی)
حضرت نوح علیہ السلام کا جواب
اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں حضرت نوح علیہ السلام ، جبرئیل علیہ السلام اور دوسرے فرشتوں اورمسلمانوں کےساتھ مل کر پوری توجہ اور انہماک سے کشتی بنانے میں مصروف تھے۔ ان کی قوم کے کافر اور ان کے سردار آتے جاتے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے رہتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام بڑے صبر سے ان کافروں کی باتوں کو سنتے اور چپ چاپ کشتی بنانے میں مصروف رہتے۔ جب آپ علیہ السلا م نے دیکھا کہ ان بد بختوں کا مذاق کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے تو جواب میں فرمایا۔ ترجمہ ” آپ علیہ السلام کہتے ابھی تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو تو ( ایک دن) ہم بھی تمہارا مذاق اڑائیں گے۔ جس طرح تم مذاق اڑا رہے ہو۔ اور تم جان لو گے کہ کس پر رسوا کر دینے والا عذاب آئے گا۔ اور کون ہے جو ہمیشہ عذاب میں رہے گا۔ “ (سورہ ہود آیت نمبر) تفسیر انورا لبیان میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر آج تم ہم پر ہنس رہے ہو تو سمجھ لو کہ وہ دن بھی آنے والا ہے کہ ہم تم پر ہنسیں گے جیسا کہ آج تم ہنس رہے ہو۔ اور عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر رسوا کرنے والا اور ہمیشہ کا عذاب آتا ہے۔ ( تفسیر روح البیان مولانا عاشق الہٰی مہاجر مدنی)
کافر خود مذاق بن جائیں گے
تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ان کے جواب میں فرمایا۔ اگر تم ہم سے مذاق کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ہم تم سے مذاق کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حالات ایسے پیش آئےں گے جو خود تمہارے مذاق کا سبب بنیں گے۔ کیوں کہ حقیقتاً مذاق اور استہزاءانبیائے کرام کی شان کے خلاف ہے۔ اس لئے اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تم عذاب میں گرفتار ہو جاﺅ گے تو ہم تمہیں بتائیں گے کہ یہ تمہارے مذاق کا انجام ۔ اور تم پر یہ دردناک عذاب صرف دنیا میں نہیں ہوگا بلکہ آخرت میں بھی ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب میں گرفتا رہو گے۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مظہری میں ہے کہ جب تم دنیامیں غرق ہو نے اور آخرت میں جلنے کے عذاب میں مبتلا ہو گے تب ہم اسی طرح تمہارا مذاق اڑائیں گے۔ جس طرح تم ابھی ہمارا مذاق اڑا رہے ہو۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تم مجھ سے ناواقف بنے ہوئے ہو تو جس دن اللہ تعالیٰ کا عذاب تم پر نازل ہو گا تو میں بھی انجان بن جاﺅں گا۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ہم سے جو مذاق کر رہے ہو بہت جلد اس کا انجام دیکھ لو گے۔ ( تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثناءاللہ پانی پتی) تفسیر قرطبی میں ہے کہ جس طرح آج کشتی بناتے وقت تم ہم سے مذاق کر رہے ہو کل غرق کے وقت ہم تم سے مذاق کریں گے۔ یہاں مذاق سے مراد حقیر سمجھنا ہے۔ اور اس کا معنی یہ ہو گا کہ اگر تم ہمیں حقیر سمجھو گے تو ہم بھی تمہیں حقیر سمجھیں گے۔ ( تفسیر الجامع الاحکام القران المعروف تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی) تفسیر لبیان القران میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ آج تم میرا مذاق اڑا رہے ہو تو اڑا لو،کل طوفان میں تمہارے ڈوبنے کا نظارہ ہم سب مسلمان کریں گے۔ اور اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں رسوا کن اور آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب کا مستحق کون ہے۔ ( تفسیر تیسرالرحمن لبیان القران ،محمد لقمان سلفی) تفسیر نعیمی میں ہے کہ یعنی ہم تم سے اس نوعیت کا مذاق نہیں کریں گے جس طرح آج تم کر رہے ہو کیوں کہ مذاق کرنا انبیائے علیہم السلام اورمومن کی شان کے خلاف ہے۔ بلکہ اس کے بدلے میں جب تم پر دنیا اور آخرت کا عذاب آئے گا تو ہم تم کو دیکھ رہے ہوں گے اور تم ہم کو دیکھ رہے ہو گے۔ اس وقت تمہاری ذلت اور ہمارا دیکھنا تمہارے اس مذاق کا بدلہ ہوگا۔( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)
کشتی کی بناوٹ اور سائز
اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بتایا کہ کشتی کا اگلا حصہ مرغ کے سر کی طرح بنانا ، اور درمیانی حصہ پرندوں کے پیٹ کی طرح بنائیں۔ اور پچھلا حصہ مرغ کی دم کی طرح بنائیں۔ اس کے اطراف میں دروازے لگائیں۔ میخوں سے مضبوط کریں اور سوائے نچلے حصے کے ہر طرف سے تارکول کی لپائی کر دو۔ کشتی کی لمبائی تین سو300 ذرع ( ساڑھے چار سو 450فٹ چوڑائی پچاس ذراع75فٹ اور اونچائی تیس ذراع45فٹ)تھی۔ اس کشتی کو تیار کرنے میں دو سال لگے ۔ کشتی تین منزلہ تھی۔ سب سے نچلی منزل وحشی جانور درندے اور حشرات الارض ( کیڑے مکوڑے) کے لئے تھی۔ درمیانی ( بیچ والی ) منزل پالتو جانور اور چوپائے وغیرہ کے لئے تھی۔ اور سب سے اوپر والی منزل حضرت نوح علیہ السلام اور ایمان والوں کے لئے تھی۔ تفسیر نعیمی میں ہے کہ کشتی کی شکل جوان مرغ کی طرح تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اس کے لئے لکڑی کی تلاش کروائی تو مناسب لکڑی تیار وافر مقدار میں نہیں ملی ۔ لہٰذا آپ علیہ السلام نے خود ساگوان کے بے شمار درخت لگائے جو تفسیر روح البیان کے مطابق بیس 20سال میں اور تفسیر خازن ، تفسیر روح المعانی اور تفسیر صاوی کے مطابق 100سال میں پختہ لکڑی بنے۔ اور یہی صحیح ہے کیونکہ ساگوان یعنی شیشم ( ٹالی) بیس سال میں پختہ نہیں ہوتی۔ آپ علیہ السلام بقدر ضرورت لکڑی کٹوا کر منگواتے رہے۔ اس طرح آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے اُمتی مسلمانوںنے سو100سال میں مکمل کشتی تیار کر لی۔ اس کی لمبائی بارہ سو 1200گز تھی۔ اور چوڑائی چھ سو600گز یعنی اس سے آدھی اور اونچائی تیس30گز تھی۔ کشتی تین منزلہ تھی نیچے کی منزل میں درندے چرندے، بیچ کی منزل میں پرندے اور اوپر کی منزل میں آپ علیہ السلام اور تمام مسلمان مرد ،عورت تھے۔ باقاعدہ اترنے چڑھنے کےلئے سیڑھیاں اور گزرگاہیں تھیں۔ ہر منزل کے درمیان میں دروازہ تھا۔ صحیح یہ ہے کہ بابل شہر میں کشتی بنائی گئی۔ تفسیر روح المعانی میں جزیرہ ابن عمر کو کشتی بنانے کا مقام بتایاہے۔ کشتی بنانے میں حضرت نوح علیہ السلام کی مدد مسلمانوںاور آپ علیہ السلام کے تین بیٹوں سام، حام اور یافث نے کی۔ آپ علیہ السلام کا چوتھا بیٹا کنعان جو سب سے بڑا کافر تھا۔ اس لئے اس نے حصہ نہیں لیا۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)
کشتی پر والی تھی
تفسیر در منشور میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام نہیں جانتے تھے کہ کشتی کیسے بنائی جائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ وہ اسے پرندے کے سینے کی طرح بنائیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے پر تھے۔ پروں کے نیچے کمرے تھے۔ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سام ابو العرب ( عربوں کا باپ) ہے۔ حام ابو الحبش( حبثیوں، افریقیوں ، اور ایشائیوں کا باپ )ہے۔ اور یافت ابوالروم ( رومیوں یعنی یورپ والوں کا باپ) ہے۔ اور فرمایا۔ کشتی کی لمبائی تین سو300گز تھی۔ چوڑائی پچاس50گز تھی اور اونچائی تیس30گز تھی۔ اور اس کا دروازہ اس کی چوڑائی میں تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اسے تین صورتوں پر بناﺅ۔ اس کا سر ( سامنے والا حصہ) ہو۔ پھر اس کے طبقات بنا دو۔ اس کے اطراف میں دروازے بنا لو۔ اور لوہے کی میخوں کے ساتھ اسے مضبوط اور پختہ جوڑ دو۔
تارکول کا چشمہ
اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا اور انہوں نے مل کر کشتی بنوائی۔ پس آپ علیہ السلام نے کشتی بنا لی۔ اس کی لمبائی چھ سو600گز تھی۔ ساٹھ 60گززمین میں تھی۔ اور اس کی چوڑائی تین سو 300گز تھی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تارکول کے ساتھ طلا ءکریں۔ زمین پر تارکول نہیں تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے تارکول کا چشمہ پیدا کردیا۔ آپ علیہ السلام نے طلاءکر لیا۔ پس جب آپ علیہ السلام اس سے فارغ ہوئے تو اس میں تین دروازے بنائے اور انہیں ڈھانپ دیا۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی لمبائی بارہ سو1200گز تھی۔ اور چوڑائی چھ سو600گز تھی۔ ( تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری ، تفسیر دُر منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی ) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کشتی کی لمبائی بارہ سو1200ہاتھ تھی۔ اور چوڑائی چھ سو600ہاتھ تھی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ لمبائی دو ہزار 2000ہاتھ تھی اور چوڑائی ایک سو100ہاتھ تھی۔ واللہ اعلم ۔ اس کی اندرونی اونچائی تیس 30ہاتھ تھی۔ اس میں تین درجے تھے اور ہر درجہ دس 10ہاتھ اونچا تھا۔ سب سے نیچے کے حصے میں چوپائے اور جنگلی جانور تھے۔ درمیان کے حصے میں انسان تھے۔ اوپر کے حصے میں پرندے تھے۔ ان میں چوڑا دروازہ تھا۔ اوپر سے کشتی بالکل بند تھی۔
کشتی تین منزلہ تھی
تفسیر معارف القران میں ہے کہ بعض تاریخی روایات میں کشتی کی لمبائی تین سو300گز ، چوڑائی پچاس50گز اور اونچائی تیس30گز تھی۔ یہ سہ ( تین )منزلہ جہاز تھا۔ اور اس میں روشن دان تھے جو دائیں بائیں کھلتے تھے۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر 4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مدارک میں ہے کہ روایت میں ةے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ساج( ساگوان) کی لکڑی سے دو سال میں کشتی تیار کی۔ اس کی لمبائی 300تین سو ہاتھ تھی۔ یا بارہ سو1200ہاتھ تھی۔ اس کی چوڑائی پچاس50ہاتھ یا چھو سو600ہاتھ تھی۔ اور بلندی تیس30ہاتھ تھی۔ اس کے تین طبقات بنائے ۔ سب سے نچلے حصے میں وحشی جانور، درندے اور حثرات الارض ( کیڑے مکوڑے) رکھے۔ درمیانے طبقے میں چوپائے، پالتو جانور کھے۔ اور تیسری بالائی منزل یا طبقے میں حضرت نوح علیہ السلام ایمان والوں کے ساتھ کھانے پینے کا سامان لے کر سوار ہوئے۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کا جسم مبارک بھی ساتھ لیا۔ اور اس کو مردوں اور عورتوں کے درمیان روک بنا دیا۔ ( تفسیر مدارک تفسیر نسفی امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی) تفسیر مظہری میں ہے کہ امام بغوی فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی دو سال میں تیار کی۔ اس کی لمبائی تین سو300ہاتھ اور چوڑائی پچاس50ہاتھ اور اونچائی تیس30ہاتھ تھی۔ اور وہ شیشم کی بنی ہوئی تھی۔ اس میں تین درجے تھے۔ نچلی منزل ، درندوں اور خونخوار جانوروں کے لئے تھی ۔ درمیانی منزل چوپایوں کے لئے اور سب سے اوپری منزل انسانوں اور کھانے پینے کے سامان کے لئے تھی۔ ( تفسیر بغوی، تفسیر مظہری ، جلد نمبر 5قاضی ثنا اللہ پانی پتی)
حضرت آدم علیہ السلام کو کشتی میں رکھا
تفسیر قرطبی میں ہے کہ کشتی کے تین دروازے تھے۔ ایک دروازے میں درندے اور پرندے، دوسرے دروازے میں جانور اور چوپائے اور تیسرے دروازے میں انسان سوار ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے ساتھ حضرت آدم علیہ السلام کے جسم مبارک کو بھی لیا۔ اور مردوں اور عورتوں کے درمیان رکھ دیا۔ پھر بعد میں بیت القدس میں دفن کر دیا۔ ( تفسیر الجامع الاحکام القران المروف تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی) تفسیر تبیان القران میں ہے کہ پھر حضرت نوح علیہ السلام نے اُجرت پر کچھ لوگوں کو کام پر لگایا۔ اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹوں میں سے سام ، حام اور یافث بھی کشتی بنا رہے تھے۔ انہوں نے وہ کشتی چھو سو600ہاتھ لمبئی بنائی اور اس کی چوڑائی اور اونچائی تینتیس 33۔ تینتیس ہاتھ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین سے تارکول نکالا۔ جس کو انہوں نے کشتی پر لگایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ کشتی میں تین منزلیں تھیں۔ سب سے نچلی میں وحشی جانور ، درندے اور حشرات الارض تھے۔ درمیانی منزل میں چوپائے اور حیوان تھے۔ اور سب سے اوپری منزل میں آپ علیہ السلام ایمان والوں کے ساتھ تھے۔ امام فخر الدین رافی لکھتے ہیں ۔ کشتی کی سائز کے بارے میں جو مختلف اقوال ہیں ان کی معرفت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اور نہ ہی اس کی معرفت میں کوئی فائدہ ہے۔ اور اس میں غورو فکر کرنا فضول ہے۔ جب کہ ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جس سے صحیح مقدار یا صحیح مدت معلوم ہو سکے۔ اور جس چیز کا ہمیں علم ہے وہ یہ ہے کہ کشتی میں اتنی گنجائش تھی کہ اس میں حضرت نوح علیہ السلام ایمان والوں کے ساتھ آسکیں۔ اور جن جانداروں کو وہ اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے وہ بھی آسکیں۔ کیوں کہ یہ چیز ہمیں قرآن پاک سے معلوم ہے۔ رہا سائز کیا تھی اور اسے بنانے میں کتنی مدت لگی؟ اس کا قرآن پاک میں ذکر نہیں ہے۔ ( تفسیر کبیر جلد نمبر6امام فخر الدین رازی، تفسیر تبیان القران علامہ غلام رسول سعیدی)
تنور سے پانی نکلناطوفان آنے کی پہچان
حضرت نوح علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والے کشتی تعمیر کرتے رہے اور کافر ان کا مذاق اڑاتے رہے۔ اور ان پر ہنستے رہے۔ آپ علیہ السلام فرماتے آج تم ہم پر ہنس رہے ہو ایک وقت آئے گا جب ہم تم پر ہنسیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جب تنّور سے پانی نکلنا شروع ہو جائے تو تم اپنے ساتھ ایمان والوں اور تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا اور پرندوں کا ایک ایک جوڑا لے کر کشتی میں سوار ہو جانا گویا کہ تنور سے پانی نکلنا طوفان آنے کی پہچان تھی۔ آپ کو تنور تو معلوم ہی ہوگا۔ اور آپ نے دیکھا بھی ہوگا۔ جسے ہم لوگ تندور کہتے ہیں۔ وہی تنور ہے۔ آپ نے ہوٹلوں میں دیکھا ہوگا ان ہوٹلوں میں جہاں تندوری روٹیاں بنتی ہیں۔ وہ لوگ کیا کرتے ہیں کہ ایک مٹکا بے پیندے کو زمین میں فٹ کر دیتے ہیں۔ اس کے اندر آگ لگاتے رہتے ہیں۔ اور اس کے کناروں پر روٹیاں چپکا کر پکاتے ہیں۔ ایسے ہی تنور حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں بلکہ ہمارے وقت کے تنور سے بہت بڑے بڑے تنور تھے۔ ایسا ایک تنور حضرت نوح علیہ السلام کے پاس بھی تھا۔ بلکہ لگ بھگ ہر گھر میں تھا۔ کیوں کہ اس زمانے میں چپاتیاں پکانے کا رواج شروع نہیں ہوا تھا۔ تنور کون سا تھا اور کہاں تھا اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔
تنور کہا ں تھا
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ تنور سے مراد ہندوستان میں ایک کنواں ہے۔ شعبی کہتے ہیں کہ یہ کوفہ میں ایک چشمے کا نام ہے۔ قتادہ سے روایت ہے کہ یہ ایک کنواں ہے جو الجزیرہ میں واقع ہے۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر12) تفسیر در منشور میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلا م اپنے گھر والوں کے تنور میں دیکھیںکہ اس میں سے پانی نکل رہا ہے تو یہ آپ علیہ السلام کی قوم کی ہلاکت اور بربادی کی علامت ہے۔ (تفسیر طبری) علامہ محمد بن جریر طبری نے حضرت حسن رضی اللہ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ وہ تنور پتھر سے بنا ہوا تھا۔ اور وہ حضرة حوا رضی اللہ عنہا کے لئے تھا۔ حتیٰ کہ وہ حضرت نوح علیہ السلام تک جا پہنچا۔ (تفسیر طبری) حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ تنور سے مرادسطح زمین ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تنور سے مراد ، زمین کا اعلیٰ اور بلند حصہ ہے اور اسکا علم حضرت نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے درمیان راز ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا تنور زمین کا اعلیٰ اور اشرف حصہ ہے۔ اور ساتھ ہی کہا اللہ بہتر جانتا ہے۔ تفسیر جلالین میں ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ تنور حضرت آدم علیہ السلام کا تھا اور پتھر کا تھا۔ تنور کی جگہ میں بھی اختلاف ہے۔ بعض نے بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے گھر میں تھا۔ اور بعض نے بتایا کہ زمین کے اوپری حصہ کو تنور کہا ہے۔ عرب زمین کی سطح کو تنور کہتے ہیں۔ ( تفسیر جلالین جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی اور امام جلال الدین محلی)
تنور کئی معنوںمیں استعمال ہوا
تفسیر مدارک میں ہے کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ روٹی کے تنور سے پانی نے جوش مارا۔ یہ پتھروں کا تنور تھا۔ جس کو حضرة حوارضی اللہ عنہا نے بنایا تھا۔ اور یہ اس زمانہ سے ( ہاتھوں ہاتھ چلتے چلتے) حضرت نوح علیہ السلام تک پہنچا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ تنور سطح زمین کو کہتے ہیں۔ ( تفسیر مدارک تفسیر نسفی جلد نمبر2امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی)تفسیر معارف القران میں ہے کہ لفظ تنور کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ سطح زمین کو بھی تنور کہتے ہیں۔ روٹی پکانے کے تنور کو بھی تنور کہتے ہیں۔ زمین کے بلند حصے کو بھی تنور کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ جب آپ علیہ السلام دیکھیں کہ آپ علیہ السلام کے گھر کے تنور سے پانی ابلنے لگا تو سمجھ لیں کہ طوفان آگیا ہے۔ ( تفسیر قرطبی، تفسیر مظہری) مفسر امام قرطبی نے فرمایا کہ اگر چہ تنور کے معنی میں مفسرین کے اقوال مختلف نظر آتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ جب طوفان کا پانی نکلنا شروع ہوا تو روٹی پکانے کے تنور سے بھی نکلا۔ سطح زمین سے بھی نکلا، ملک شام میں ” عین الورد“ کے تنور سے بھی نکلا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔ ترجمہ ” ہم نے آسمان کے دروازے موسلا دھار بارش کے لئے کھول دیئے اور زمین سے چشمے ہی چشمے پھوٹ پڑے۔“
تنور سے پانی نکلنے لگا
تفسیر قرطبی میں ہے کہ امام قرطبی نے روایات کو درج کیا ہے اس میں سے ایک روایت یہ ہے کہ یہ وہ تنور تھا جس میں روٹی پکائی جاتی ہے۔ یہ تنور پتھر سے بنا ہوا تھا۔ اور یہ حضرة حوا رضی اللہ عنہا کے استعمال میں تھا۔ یہاں تک کہ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس ( نسل در نسل) پہنچا۔ آپ علیہ السلام کو کہا گیا کہ جب تنور سے آگ کے بجائے پانی نکلتا دیکھیں تو مسلمانوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہو جائیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے تنور سے پانی جاری فرمایا تو سب سے پہلے آپ علیہ السلام کی بیوی کو پتہ چلا تو انھوں نے اپنے شوہر سے عرض کیا کہ تنور سے پانی نکل رہا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے رب کا وعدہ آگیاہے جو سچا ہے۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ (تفسیر الجامع الاحکام القران تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی) تفسیر نعیمی میں تنور کے بارے میں ہے کہ جمہور صحابہ کا قو ل یہی ہے کہ روٹیوں کا تنور تھا۔ صبح کی روٹیاں پک رہی تھیں کہ آگ بجھنے کی آواز آئی۔ لوگ حیران ہو گئے ۔ تیزی سے چشمہ پھوٹا اور تنور بھرنا شروع ہو گیا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ہانڈی کی طرح پانی تنور سے اُبل رہا ہے۔ سارے علاقوں میں آناً فاناً یہ خبر پھیل گئی لیکن کافروں کو پھر بھی ہوش نہیں آیا۔ اور تماشہ دیکھنے کے لئے تنور کے پاس آتے تھے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی)
طوفان کی شروعات اور کشتی میں سوار ہونا
جب اللہ تعالیٰ نے طوفان کی شکل میں اپنا عذاب بھیجا تو سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کے تنور سے آگ بجھ گئی۔ اور پانی نکلنا شروع ہو گیا۔ آپ علیہ السلام سمجھ گئے کہ طوفان کی شروعات ہو گئی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فوراً اپنے گھر والوں کو لیا۔ ان میں آپ علیہ السلام کے تین بیٹے اور تین بہوﺅیں خود آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی وہ بیوی جس نے اسلام قبول کیا تھا۔ آپ علیہ السلام کی دوسری بیوی اور ایک بیٹا کشتی پر سوار نہیں ہوئے اور بدستور کفر پر اڑے رہے۔ اور مذاق اڑاتے رہے۔ آپ علیہ السلام اپنے تینوں بیٹوں اور تینوں بہوﺅں اور اپنی بیوی کو لے کر کشتی میں سوار ہو گئے۔ اور تمام جانوروں کے ایک ایک جوڑے اور تمام پرندوں کے ایک ایک جوڑے اور تمام اسلام قبول کرنے والوں کو کشتی میں سوار کر لیا۔ ان کی تعداد لگ بھگ ستر70یا بہتر72تھی۔ اور حضرت نوح علیہ السلام کے گھر کے افراد ملا کر لگ بھگ اسّی80افراد تھے۔ طوفان کی شروعات دھیرے دھیرے ہوئی۔ سب سے پہلے آپ علیہ السلام کے تنور سے پانی نکلا تو اس وقت اور کہیں پانی کا اور آسمان پر بادل کا نام و نشان نہیں تھا۔ اور کافروں کو اندازہ نہیں تھا کہ طوفان کی شروعات ہو چکی ہے۔ وہ تو حضرت نوح علیہ السلام اور ایمان والوںاور جانوروں اور پرندوں کے کشتی میں سوار ہونے کا تماشہ دیکھ رہے تھے اور مذاق اڑا رہے تھے۔ اس کے بعد کوفہ کے تنور سے پانی نکلا تو لوگوں کو ایک عجوبہ لگا اور لوگ اسے دیکھنے جانے لگے۔ ادھر آپ علیہ السلام سب کو کشتی میں سوار کرنے اور ان کی جگہ مقرر کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ تفسیر نعیمی میں ہے کہ جب تمام انسان سوار ہو گئے تو دوسرے تمام جانداروں کی سواری کا وقت آیا تو حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ جو تیری منشا میں حیوان ہیں اُن کو بھیج دے۔ تو درندے ، چرندے اور پرندے ہر قسم کا ایک ایک جوڑا دوڑتا ہوا آگیا۔ ان میں کیڑے مکوڑے شامل نہیں تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام جلد ی جلدی جانوروں کو پکڑتے دایاں ہاتھ بڑھاتے تو نر جانور آتا اور بایا ں ہاتھ بڑھاتے تو مادہ جانور آتی۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، ان کو خوراک عطا فرما۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ کشتی کے سوار اتنے عرصہ بغیر خوراک کے ہماری قدرت سے زندہ رہی رہیں گے۔ لہٰذا کسی انسان ، حیوان کو اتنا عرصہ نہ بھوک لگی اور نہ بول و براز ( پیشاب پاخانہ) ہوا۔ کشتی بالکل پاک صاف رہی۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ جب گدھے کو سوار کرنے لگے تو گدھے کی دم شیطان نے پکڑ لی۔جس کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ پا رہا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اسے ڈنڈے مارے پھر بھی وہ آگے نہیں بڑھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ملعون آگے بڑھ جا چاہے تیرے ساتھ شیطان ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح ابلیس شیطان بھی کشتی میں آگیا۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر تیسرالرحمن لبیان القران میں ہے کہ جب قوم کی ہلاکت کا حکم آگیا اور پانی پوری شدت کے ساتھ ابلنے لگا توا للہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین پر پائے جانے والے تمام جانوروں اور چڑیوں وغیرہ کے جوڑے رکھ لو۔ اور مسلمانوں کے ساتھ اپنے ان رشتہ داروں کو سوار کر لو جو ایمان لائے ہیں۔
کافر بیوی اور بیٹا سوار نہیں ہوئے
حضرت قتادہ اور علامہ محمد بن جریر طبری کے قول کے مطابق ان کی تعداد آٹھ تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام ، اُن کی بیوی، اُن کے تین بیٹے اور اُن کی بیویاں ۔ یہ کل آٹھ لوگ ہوئے۔ ( اور ساتھ میں لگ بھگ بہتر72مسلمان تھے) حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا کنعان اور اس کی ماں ( حضرت نوح علیہ السلام کی دوسری بیوی) اُم کنعان ( نام واعلہ یا والعہ) مومن نہیں تھے۔ اسی لئے ان کے ساتھ کشتی پر سوار نہیں ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق( کشتی پر مسلمانوں ) کی تعداد اسّی80تھی۔ ان میں حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی ، تین بیٹے، سام ، حام اور یافث اور ان تینوں کی بیویاں تھیں۔ انہیں مسلمانوں میں جُرہم نام کا ایک شخص بھی تھا۔ جس کے نام پر قبیلہ جُرہم مشہور ہوا جو سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مکہ مکرمہ میں آباد ہو گیا تھا۔ ( تفسیر تیسرّ الرحمن لبیان القران محمد لقمان سلفی) تفسیر در منشور میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی کنیز کو فرمایا تھا کہ جب تیری تنور سے پانی نکلنے لگے تو مجھے خبر کر دینا۔ پس جب وہ آخری روٹی سے فارغ ہو ئی تو تنور میں سے پانی نکلنے لگا۔ وہ بھاگتے ہوئے آئی اور آپ علیہ السلام کو خبر دی۔ پس آپ علیہ السلام مسلمانوں کو لے کر کشتی پر سوار ہو گئے۔ ( تفسیر درِّ منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
دنیا میں بخار کی شروعات
حضرت نوح علیہ السلام کشتی میں جانوروں کے جوڑے چڑھا رہے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی قوم کشتی کے چاروںطرف جمع ہو کر تماشہ دیکھ رہی تھی اور مذاق اڑارہی تھی۔ کیوں کہ آسمان پر بادل نہیں تھے اور سورج چمک رہا تھا۔ اور زمین پر بھی پانی کا نام و نشان نہیں تھا۔ کافروں کے ساتھ آپ علیہ السلام کی کافرہ بیوی واعلہ یا والعہ اور کافر بیٹا یام( توریت میں اس کا نام کنعان لکھا ہے) بھی تھے اور مذاق اڑا رہے تھے۔ تفسیر در المنشور میںہے کہ جب حضرت نوح علیہ السلام نے شیر کو کشتی میں سوار کیا تو عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، بے شک وہ تو مجھ سے کھانے کا سوال کرے گا۔ میں اسے کہاں سے کھلاﺅں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بے شک میں اسے کھانے سے روکوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے شیر پر بخار مسلط کر دیا۔ حضرت نوح علیہ السلام مینڈھا اس کے پاس لاتے اور فرماتے تو گھوم وہ کھا لے گا تو شیر جواباً کہتا۔ آہ ،ہائے افسوس ، حضرت نوح علیہ السلام کے لئے بکری کو کشتی میں داخل کرنا مشکل ہو گیا۔ آپ علیہ السلام نے اسے دُم سے پکڑ کر دھکیلا تو اس کی دم ٹوٹ کر چھوٹی ہو گئی۔ اور اس کی شرم گاہ ظاہر ہوگئی۔ جب بھیڑ کی باری آئی تو وہ اندر داخل ہو گئی اور آپ علیہ السلام نے اس کی دم آہستہ سے ہاتھ رکھ کر دھکیلا تو اس نے اس کی شرم گاہ کوڈھانپ لیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے تمام جانداروں کے جوڑوں کو رکھنے کا حکم دیا تو آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، شیر گائے کو کھا جائے گا بھیڑ یا بکری اور بھیڑ کو کھا جائے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ میں ان کے درمیان اتنی اُلفت اور محبت پیدا کر دوں گا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ حضرت نوح علیہ السلام جانوروں کو کشتی پر چڑھا رہے تھے کہ بچھو ایک پاﺅں پر چلتا ہوا آیا اور عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ، مجھے بھی اپنے ساتھ کشتی میں سوار کر لیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ نہیں ، میں تجھے سوار نہیں کروں گا کیوں کہ تو لوگوں کو ڈستا ہے۔ اس نے کہا آپ علیہ السلام مجھے سوار کر لیجئے اور آپ علیہ السلام سے میر اوعدہ رہا جو رات میں درود پڑھے گا میں اسے نہیں کاٹوں گا۔ ( تاریخ ابن عسا کر امام ابن عسا کر) حضرت نوح علیہ السلام کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ شیر کو کس طرح سوار کرائیں تو اللہ تعالیٰ نے اس پر بخار مسلط کر دیا۔ تو آپ علیہ السلام نے اسے اٹھایا اور کشتی میں داخل کر دیا۔ اور یہ پہلا بخار ہے جو زمین والوں کو آیا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں شیر اور ہاتھی کو کیسے سوار کروں تو اللہ تعالیٰ نے شیر اور ہاتھی پر بخار مسلط کر دیا۔ تو آپ علیہ السلام نے انہیں آرام سے کشتی پر چڑھا لیا۔ ( تفسیر دُر منشور جلد نمبر 3امام جلال الدین سیوطی تفسیر ابن کثیر)
بچوں پر طوفان نہیں آیا
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر طوفان کا عذاب آیا تو اس وقت آپ علیہ السلام کی قوم میں کوئی بچہ نہیں تھا۔ بلکہ سب کی عمر چالیس 40سال سے زیادہ تھی۔ تفسیر در منشور میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طوفان سے چالیس سال پہلے آپ علیہ السلام کی قوم کے مردوں اور عورتوں کو بانجھ کر دیا تھا۔ اس طرح طوفان کے آنے سے چالیس سال پہلے ہی آپ علیہ السلام کی قوم میں بچوں کی پیدائش بندہو گئی تھی۔ اور اس وقت جو بچے تھے وہ طوفان آنے کے وقت چالیس سال سے زیادہ کے ہو چکے تھے۔ اور سب کو اچھی خاصی سمجھ تھی۔ اور پوری قوم میں کوئی بھی چالیس سال سے کم عمر کا نہیں تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی اُن پر حُجت قائم ہو گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے طوفان بھیج دیا۔ ( تاریخ ابن عسا کر امام ابن عسا کر ، تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی ) حضرت ضحاک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بچوں کو ان کے والدین کے ساتھ غرق کر دیا۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ ( تفسیر طبری) کیوں کہ طوفان آنے کے وقت آپ علیہ السلام کی قوم میں ایک بھی بچہ نہیں تھا۔ بلکہ سب کی عمر چالیس 40سال سے زیادہ تھی۔
ابلیس شیطان دھوکے سے کشتی میں آگیا
حضرت نوح علیہ السلام تمام حیوانات اور چوپائیوں کو کشتی میں سوار کر رہے تھے۔ جب گدھا داخل ہونے لگا تو ابلیس شیطان نے اس کی دم پکڑ لی اور گدھا رُک گیا۔ آپ علیہ السلام نے اس کے دونوں کان پکڑ کر اندر کھینچنا چاہا تو وہ وہیں رکا رہا۔ کیوں کہ ابلیس اسے پیچھے کھینچ رہا تھا۔ کافی کوشش کرنے کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ شیطان اندر داخل ہو جا۔ یہ سنتے ہی ابلیس شیطان نے دُم کھینچنا بند کر دیا اور گدھا اندر داخل ہو ا تو اس کے ساتھ ابلیس شیطان بھی اندر داخل ہو گیا۔ جب کشتی کے سب دروازے آپ علیہ السلام نے بند کر دیئے اور کشتی چلنے لگی تو ابلیس شیطان کشتی کے پچھلے حصے پر بیٹھ کر گنگنانے لگا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے گنگناہٹ کی آواز سنی تو وہاں پہنچے اور ابلیس شیطان کو دیکھ کر فرمایا۔ تو ہلاک ہو جائے تجھے اجازت کس نے دی ؟ اس نے کہا۔ آپ علیہ السلام نے اجازت دی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں نے کب اجازت دی؟ تو ابلیس شیطان نے کہا۔ جب آپ علیہ السلام نے گدھے سے کہا تھا کہ اے شیطان داخل ہو جا تو میں داخل ہو گیا۔ ( تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ سب سے آخر میں گدھا سوار ہونے لگا تو ابلیس شیطان اس کی دم سے لٹک گیا۔ گدھے کے دو پاﺅں اندر آگئے۔ اور جب اس نے پچھلے پاﺅں کو اٹھانا چاہا تو انہیں اٹھا سکا۔ حضرت نوح علیہ السلام کو جلدی تھی کیوں کہ دھیرے دھیرے طوفان بڑھ رہا تھا۔ آخر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ آج تیرے ساتھ شیطان ہو تب بھی اندر آجا تو گدھا اندر آگیا۔ اور اس کے ساتھ شیطان بھی تھا۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر12علامہ عماد الدین ابن کثیر)
حیوانات کے ساتھ نباتات کو بھی کشتی میں رکھا
اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو ایک دن میں بنایا۔ اور سائنس کے مطابق زمین کی تخلیق ہزاروں سال میں ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہاں ایک دن تمہار ے یہاں کے ہزار سال سے زیادہ کا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک دن میں نباتات زمین پر اگائے۔ یعنی ہزاروں سال میں۔ طوفانِ نوح پوری دنیا میں آیا اور تمام نباتا ت بھی تباہ ہو گئے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انسانوں اورجانوروں اور پرندوں کے ساتھ ساتھ نباتات کے بھی جوڑے حضرت نوح علیہ السلام کشتی میں رکھ لیں۔ تفسیر ابن کثیر میں کہ حضرت نوح علیہ السلام کو حکم ہوا کہ کشتی میں جاندار مخلوق میں سے ایک ایک جوڑ رکھ لو۔ اور کہا گیا ہے کہ غیر جاندار مخلوق کے لئے بھی یہی حکم تھا۔ جیسے نباتات ۔ اسی لئے حضرت نوح علیہ السلام نے تمام درختوں، پیڑوں ، پودوں یعنی ہر قسم کے نباتات کے جوڑے کشتی میں رکھ لئے۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر12علامہ عماد الدین ابن کثیر) تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں ساری دنیا کے جاندار نہیں رکھے گئے تھے بلکہ صرف خشکی کے جانداروں کے صرف ایک ایک جوڑے رکھے گئے۔ اور پانی کے تمام جانداروں کو نہیں رکھا گیا تھا کیوں کہ وہ پانی کے طوفان میں آسانی سے رہ سکتے تھے۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مظہری میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ان جانداروں کے جوڑوں کو کشتی میں سوار کیا جو بچے یا انڈے دیتے تھے۔ اورجو مٹی سے پیدا ہوتے تھے انہیں سوار نہیں کیا جیسے پسو اورمچھر وغیرہ ( تفسیر بغوی، تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثنا اللہ پانی پتی)
کشتی میں سواری کی دعا
حضرت نوح علیہ السلام جلدی جلدی کشتی میں انسانوں ، جانوروں اوردوسرے جانداروں اور نباتا ت کو سوار کر رہے تھے کیوں کہ دھیرے دھیرے زمین و آسمان کے کناروں سے ہر طرف سے سیاہ بادل امڈتے دکھائی دے رہے تھے۔ اور آپ علیہ السلام فرماتے جا رہے تھے کہ تم اس پر سوار ہو جاﺅ۔ اللہ تعالیٰ کے نام سے اس کا چلنا اور رکنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور نوح ( علیہ السلام ) نے کہا ۔ اس میں سوار ہو جاﺅ۔ اللہ کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے۔ بے شک میرا رب بخشنے ولا مہربان ہے۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر41) تفسیر مدارک میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے انہیں کشتی میں سوار ہونے کو فرمایا۔ اور پھر انہیں بتلایا کہ اس کشتی کا چلنا اور رکنا اللہ تعالیٰ کے نام سے ہے۔ اسی لئے جب کشتی چلانا ہوتی تھی تو فرماتے تھے۔ ” بسم اللہ “ تو کشتی چل پڑتی تھی۔ اور جب اسے روکنا چاہتے تھے تو فرماتے تھے۔ ” بسم اللہ “ تو کشتی کھڑی ہو جاتی تھی۔ ( تفسیر مدارک جلد نمبر2امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی) تفسیر نعیمی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے ۔ حضرت نوح علیہ السلام نے زور سے آواز لگائی۔ اس کشتی پر تم سوار ہو جاﺅ۔ آ ج سے اس کا چلنا شروع ہوتا ہے۔ اسے تم کو چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ اللہ کے نام سے ہی اس کا چلنا اور رکنا ہے۔ بس اے مسلمانوں ، تم اللہ تعالیٰ کا نام لئے جاﺅ اور نمازوں اور سجدوںمیں مشغول رہو بے شک میرا رب گناہوں کو بخشنے والا ہے۔ اور کفر اور شرک نہیں بخشنے والا ہے ۔ اور رحم فرمانے والا ہے۔ دیکھو تم کو کسیے بچا رہا ہے۔ پس اس کے شکر میں اس کا نام ہی ورد کرتے رہو۔ اس کشتی کے چلنے کا وقت اور رکنے کا وقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اور یہ نجات صرف اس کے رحم سے ہے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر قرطبی میں ہے کہ آپ علیہ السلام بسم اللہ مجرھا فرماتے تو کشتی چلتی اور بسم اللہ مرسٰھا فرماتے تو کشتی رک جاتی۔
طوفان میں تیزی
حضرت نوح علیہ السلام جلدی جلدی سب کو کشتی پر سوار کررہے تھے۔ اور ادھر کشتی کے باہر کافروں کا مجمع لگ گیا۔ اوروہ بھی سب حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا مذاق اڑا رہے تھے۔ ان میں آپ علیہ السلام کی دوسری بیوی اور ایک بیٹا بھی شامل تھا۔ اچانک آسمان پر گھنے بادل چھا گئے۔ اور بارش شروع ہو گئی۔ دھیرے دھیرے بارش تیز ہوتی چلی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی پر بس نہیں کیا۔ بلکہ زمین سے بھی پانی نکلنا شروع ہو گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ جب حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے ارد گر ( زمین میں سے) پانی نکلنا شروع ہوا تو آپ علیہ السلام کی امت کا ایک آدمی اپنے کافر سرداروں میں سے ایک کے پاس گیا اور بولا۔ یہ ہے وہ جسے تم گمان کرتے تھے کہ یہ مجنوں ( دیوانہ پاگل) ہے۔ بے شک جس عذاب سے وہ تمہیں ڈراتا تھا وہ تم پر آچکا ہے۔ وہ ( کافر سردار) اپنے اصحاب ( دوسرے کافر سرداروں) کی جماعت لے کر (کشتی کے پاس)آیا تو حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ بےشک تم پر وہ آگیا ہے جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا۔ ( یعنی اللہ کا عذاب) ۔ اس کافر سردار نے پوچھا ۔ اس کی ( عذاب کی) علامت کیا ہے؟ آپ علیہ السلا م نے فرمایا۔ اپنی سواری کے سر کو پھیر ۔یعنی اپنی سواری کو گھما کر پیچھے دیکھ ۔پس اس نے اپنی سواری کو پھیرا تو اس کے پاﺅں کے نیچے سے زمین میں سے پانی نکلنے لگا۔ پس وہ پانی سے بچنے کے لئے بھاگتے ہوئے پہاڑ کی طرف نکل گیا۔ ( تاریخ ابن عسا کر، تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
زمین و آسمان سے پانی نکلنا
حضرت نوح علیہ السلام سب لوگوں کو کشتی میں سوار کر چکے تو تمام دروازوں کو بند کر دیا۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے کافر ابھی ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ بارش جاری تھی اور اس میں تیزی آتی جا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ زمین سے بھی پانی نکلنے لگا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے طوفان کی شدت کو قرآن پاک میں اس طرح بیان فرمایا ۔ ترجمہ ” ہم نے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے زور کے بہتے پانی سے اور زمین سے چشمے نکال کر بہا دیئے۔ تو دونوں پانی مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھی۔ “(سورہ القمر آیت نمبر11اور 12) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق آسمان سے موسلا دھار بارش برسنے لگی۔ اور زمین سے بھی پانی نکلنے لگا اور ساری زمین پانی سے بھر گئی۔ اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا پانی بھر گیا۔ اس کے آگے ہے کہ پانی روئے زمین ( یعنی پوری زمین) بھر گیا۔ کسی اونچے سے اونچے پہاڑ کی بلند سے بلند چوٹی بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ بلکہ پہاڑوں سے بھی اوپر پندرہ ہاتھ تک پانی چلا گیا ۔ اور ایک قول کے مطابق تو اسّی80میل اوپر تک پانی ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف سورہ الحاقہ میں اشارہ کیا ہے۔ ترجمہ ” جب پانی میں طغیانی آگئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا۔ ( سورہ الحاقہ آیت نمبر11) (تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر12علامہ عماد الدین ابن کثیر اللہ تعالیٰ نے پانی اور طوفان کی شدت کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا۔ ترجمہ ” اور وہ کشتی اُن کو لے کر پہاڑوں جیسی موجوں میں چلنے لگی۔ ( سورہ ہود آیت نمبر42)تفسیر مدارک میں ہے کہ پہاڑوں جیسی موجوں سے مراد طوفان کی موجیں ہیں۔ موج جمع ہے۔ اور موجہ واحد ہے۔ جب تیز ہوائیں پانی کے اندر داخل ہو کر اسے اوپر اٹھاتی ہیں تو اس اٹھے ہوئے پانی کی بلندی کو موج کہتے ہیں۔ ( تفسیر مدارک نسفی امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی)
طوفان کی شدت اور قوم کی تباہی
حضرت نوح علیہ السلام نے سب لوگوں کو کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ اور کشتی کی اوپری منزل کی کھڑکیوں سے کشتی کے باہر دیکھ رہے تھے۔ کشتی کے باہر عذاب کے طوفان میں شدت آنی شروع ہو گئی تھی۔ موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ اور زمین میں سے بھی جگہ جگہ سے پانی نکل رہا تھا۔ اور زمین میں سے پانی کے فوارے نکل رہے تھے۔ تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔ اور پانی بڑھتا جا رہا تھا۔ دھیرے دھیرے پانی آپ علیہ السلام کی قوم کے گھروں میں بھرنے لگا۔ تو وہ لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر اونچی جگہوں کی تلاش میں پہاڑوں کی طرف بھاگنے لگے۔ ادھردھیرے دھیرے کشتی پانی میں تیرنے لگی۔ ذرا ٓپ اس طوفان کا تصور کریں ۔ آسمان سے تیز موسلا دھار بارش ہو رہی ہے۔ پورا آسمان کالے گھنے بادلوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ بجلیاں چمک رہی ہیں۔ تیز آندھیاں چل رہی ہیں۔ زمین سے جگہ جگہ پانی نکل رہا ہے۔ لوگ جان بچانے کے لئے اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر پہاڑوں کی طرف بھاگ رہے تھے۔ کیوں کہ ان کے گھروںمیں پانی بھرنا شروع ہو گیا ہے۔ سیلاب کی حالت ہوتی جا رہی ہے۔ چاروں طرف پانی ہی پانی دکھائی دینے لگا۔ اور اس پانی میں ایک کشتی تیر رہی ہے۔ دھیرے دھیرے پانی اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ تمام گھر بہہ گئے۔ اب کشتی باقاعدہ پانی پر تیرنے لگی تھی۔ اور پانی بڑھتا جا رہا تھا۔ اور اب پہاڑبھی دھیرے دھیرے ڈوبنے لگے تھے۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے تمام کافر حسرت سے پانی کو کشتی کو اور اپنے آپ کو دیکھ رہے تھے۔ چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں غرق ہو چکی تھیں اور ان پر کھڑے ہوئے لوگ پانی میں بہہ رہے تھے۔ ڈوب رہے تھے چلّا رہے تھے۔ اور بڑے بڑے پہاڑوں پر کھڑے لوگ دہشت اور مایوسی سے انہیں ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔تفسیر معارف القران میں ہے کہ طوفان کا پانی سب سے بڑے پہاڑکی چوٹی سے پندرہ گز اوپر یا چالیس گز اوپر تک تھا۔
حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا غرق ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور وہ کشتی ان کو لے کر پہاڑوں جیسی موجوں میں چلنے لگی۔ اور نوح( علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو جو کنارے پر تھا پکار کر کہا۔ اے میرے پیارے بچے ،ہمارے ساتھ سوار ہو جاﺅ اور کافروں میں شامل نہ رہو۔ اس نے جواب دیا ۔ میں تو کسی بڑے پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح ( علیہ السلا م) نے کہا۔ آج اللہ کے امر (عذاب کے طوفان) سے بچانے والا کوئی نہیں ۔ صرف وہی لوگ بچیں گے چن پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے گا۔ اسی وقت ان دونوں کے درمیان پانی کی موج آگئی اور وہ ڈوبنے والوں میں سے ہو گیا۔ “(سورہ ہود آیت نمبر42اور 43) تفسیر مدارک میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ اس بیٹے کا نام کنعان تھا۔ اور بعض علمائے کرام نے کہا اس کا نام یام تھا۔ اکثر علمائے کرام کا قول ہے کہ یہ آپ علیہ السلام کا اصلی (سگا) بیٹا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کی بیوی کے سابقہ شوہر سے بیٹا تھا۔ ( تفسیر مدارک تفسیر نسفی امام عطداللہ بن احمد بن محمود نسفی) اس آیت کی تفسیر میں تفسیر در منشور میں ہے کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا جو بیٹا ڈوب گیا تھا اس کا نام کنعان تھا۔ حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ وہ آپ علیہ السلام کا بیٹا تھا۔ مگر نیت اور عمل میں آپ علیہ السلام کا مخالف تھا۔ (تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
بیٹے کو آخری بار سمجھایا
تفسیر انورالبیان میں ہے کہ کشتی چل رہی ہے۔ پہاڑوں کی طرح موجیں ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا موجوں کے تھپیڑوں سے دوچار ہو رہا ہے۔ قریب ہے کہ ڈوب جائے وہ ان سے علحیدہ تھا ، کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ اور ایمانی اعتبار سے بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام نے آواز دی۔ اے بیٹے ہمارے ساتھ ہو جا۔ کافروں کے ساتھ نہ ہو۔ اُن کے دین کو چھوڑ دے۔ لیکن وہ نہیں مانا اور کہنے لگا ۔ میں کسی پہاڑ پر ٹھکانہ پکڑ لوں گا۔ وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔ اس کا خیال تھا کہ جیسے عام طور سے سیلاب آتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی سیلاب ہے۔ پہاڑ پر چڑھ جاﺅں گا تو بچ جاﺅں گا۔ کیوں کہ عام طور سے سیلاب کا پانی پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں جاتا ہے۔ اور چونکہ ایمان نہیں لایا تھا۔ اس لئے یہ بھی نہیں مانتا تھا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ اسی لئے حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا کہ آج وہی بچ سکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائیں گے۔ یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ ایک موج آئی اور اسے ڈوبا لے گئی۔ ( تفسیر انوار البیان جلد نمبر 3مولانا عاشق الہٰی مہاجر مدنی) علامہ ابن کثیر قصص الانبیاءمیں لکھتے ہیں ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے کافر بیٹے کا نام ”یام “( کنعان ) بتاتا جاتا ہے۔ دوسرے بچوں کے نام یوں ہیں۔ سام ، حام ، یافث اور بعض لوگ اسکا نام کنعان بتاتے ہیں۔ بہر حال جو بھی نام ہو وہ کافر تھا اور اس اس کا کردار صحیح نہیں تھا۔ اس نے اپنے والد محترم کے دین کی مخالفت کی تھی۔ اس لئے وہ بھی دوسرے کافروں کی طرح ہلاک ہوا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)
بیٹے نے انکار کر دیا
تفسیر جلالین میں ہے کہ آخر کار اپنے ٹھیک وقت پر طوفان کا ظہور ہوا اور حضرت نوح علیہ السلام ان سب کو لے کر سوار ہو گئے جن کو ساتھ لینے کا حکم ہوا تھا۔ سیلاب اور طوفانی ہواﺅں کا یہ عالم تھا کہ پہاڑ جیسی اونچی اونچی موجیں اٹھنے لگیں ۔ اسی میں آپ علیہ السلام کا سوتیلا بیٹا کنعان یاد آیا۔ جوش ِ پدری سے اسے آواز دی۔ مگر وہ آوارہ صحبت میں نالائق ہو چکا تھا۔ اس کی مت ماری گئی تھی۔ اس لئے باپ کی نصیحت و شفقت کو نہیں سمجھا۔ بے بنیاد سہاروں پر کھڑا ہونا چاہا کہ تقدیر الہٰی اور اپنی شامتِ اعمال سے ایک پانی کا ریلہ باپ بیٹے کے درمیان حائل ہو گیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے باپ کی نظروں سے اوجھل کر کے موجوں کی آغوش کے حوالے کر دیا۔ ( تفسیر جلالین جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی اور امام جلال الدین محلی) تفسیر معارف القران میں ہے کہ جب حضرت نوح علیہ السلام کے سب اہل و عیال کشتی میں سوار ہو گئے مگر ایک لڑکا جس کا نام کنعان بتایا جاتا ہے وہ سوار ہونے سے رہ گیا تو پدرانہ شفقت سے آپ علیہ السلام نے انہیں پکار ا کہ کشتی میں آجاﺅ۔ کافروں کے ساتھ نہ رہو۔ غرق ہو جاﺅ گے۔ یہ لڑکا دشمنوں کے ساتھ ساز باز رکھتا تھا۔ اور حقیقت میں کافر تھا۔ مگر غالباً آپ علیہ السلام کو اس کے کفر کا یقینی علم نہیں تھا۔ اور اگر علم تھا تو بیٹے کو کفر سے توبہ کر کے ایمان لانے کی دعوت کے طور اس کو کشتی پر سوار ہونے اور کافروں کا ساتھ چھوڑنے کی نصیحت فرمائی مگر اس بد بخت نے اس وقت بھی طوفان کو سرسری سمجھا اور کہنے لگا۔ آپ ( علیہ السلام)فکر نہ کریں۔ میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان سے بچ جاﺅں گا۔ آپ علیہ السلام نے پھر نصیحت فرمائی کہ آج کوئی اونچی عمارت یا پہاڑ کسی کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکے گا۔ باپ بیٹے کی یہ گفتگو چل ہی رہی تھی کہ ایک بڑی موج آئی اور بیٹے کو بہا لے گئی ۔ (تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع)
بیٹا طوفان میں غرق ہو گیا
تفسیر طبری میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا نام کنعان تھا ۔ اور آپ علیہ السلام کے فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ اے بیٹے، اسلام قبول کر لے اور کشتی میں سوار ہو جا۔ کشتی پر سواری کی دعوت دینا اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا تھی۔ کیوں کہ مسلمانوں کے علاوہ کوئی کافر کشتی میں سوار نہیں ہو سکتا تھا۔ کنعان نے کہا۔ میں نہ اسلام قبول کروں گا اور نہ ہی آپ ( علیہ السلام ) کے ساتھ کشتی پر سوار ہوں گا۔ بلکہ میں پہاڑ کی پناہ لوں گا۔ جو مجھے غرق ہونے سے بچا لے گا۔ ( تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثنا اللہ پانی پتی) تفسیر نعیمی میں ہے کہ اس کا نام ”کنعان “یا ”یام “تھا دوسرے کافر تو جان بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگ دوڑ کر رہے تھے اور پانی سے بچاﺅ کرنے کی تدبیروںمیں مشغول تھے۔ مگر وہ دور کھڑا اپنے والد کی کشتی کو دیکھ رہا تھا۔ تو والد کو اس پر ترس آگیا اور بلایا کہ اب بھی مسلمان ہو کر آجا۔ یا اس طرح تھا کہ وہ حضرت علیہ السلام سے الگ ہو کر کھڑ ا تھا جب سب مسلمان اور گھر والے چڑھ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ آ تو بھی آجا۔ بعض نے تفسیر کی ہے کہ کنعان کھلا کافر نہیں تھا بلکہ منافق تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اسے کشتی پر سوار ہونے کی دعوت دی۔ یا پھر آپ علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ کافر ہے لیکن بیٹے کی کشمکش کی کیفیت دیکھ کر آپ علیہ السلام نے تبلیغ کی آخری کوشش کی ۔ کہ چونکہ اس وقت تم کافروں سے الگ کھڑے ہو تو دیکھو کافروں کے ساتھ مت ہو جانا۔ بلکہ اسلام قبول کر کے کشتی پر آجاﺅ۔ اتنا زمانہ تو نے کفر میں گزار ا تو اب جسمانی طور سے آخری وقت میں الگ ہوا ہے تو د ل سے بھی الگ ہو جا اور ہمارے ساتھ آجا۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی)
طوفان عروج پر
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر اللہ کا عذاب آچکا تھا۔ آسمان سے لگاتار موسلا دھار بارش ہو رہی تھی اور زمین سے بھی مسلسل پانی نکل رہا تھا۔ اور کافر اونچے نیچے پہاڑوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ لیکن پانی ہے کہ مسلسل بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ اور دھیرے دھیرے کر کے پہاڑ بھی ڈوبتے جا رہے تھے۔ پھر پانی اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ تمام پہاڑ ڈوب گئے تھے۔ یہ سیلابی طوفان پوری دنیا میں آیا تھا۔ یہاں تک کہ حضرت نوح علیہ السلام کے ہاتھوں بنا ہوا خانہ کعبہ بھی بہہ گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ خانہ کعبہ اٹھالیا گیا تھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ خانہ کعبہ کے چاروں طرف پانی تھا لیکن وہ نہیں ڈوبا تھا۔ کئی کئی سو فٹ موجیں اٹھ رہی تھیں۔ اور ان موجوں پر کشتی تنکے کی طرح ڈول رہی تھی۔ کشتی میں حضرت نوح علیہ السلام دعا فرما رہے تھے۔ اللہ کے نام سے اس ( کشتی) کا چلنا اور ٹھہرنا ہے۔ بے شک میرا رب ( اللہ تعالیٰ) ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔ علامہ ابن کثیر طوفان کے بارے میں لکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور وہ چلنے لگی انہیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑ کی مانند ہیں۔“ ( سورہ ہود آیت نمبر) وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ایسی موسلا دھار بارش برسائی کہ نہ اس سے پہلے برسی ہو گی اور نہ اسکے بعد برسے گی۔ یوں لگتا تھا کہ کسی آسمانی کنویں کا سار ا پانی زمین پر امڈ ا چلا آرہا ہو۔ پھر زمین کو بھی حکم دیا کہ وہ تمام چشموں کا پانی سطح زمین پر انڈیل دے۔ اور سارا پانی خشکی کو سمندر میں تبدیل کر دے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس طوفان کی ہولناکی کا نقشہ کھینچا ہے۔ ترجمہ ” پھر ہم نے کھول دیئے آسمان کے دروازے موسلا دھار بارش کے ساتھ۔ اور جاری کر دیا ہم نے زمین سے چشموں کو۔ پھر دونوں پانی مل گئے ایک مقصد کے لئے جو پہلے سے مقرر کیا جا چکا تھا۔ اور ہم نے نوح ( علیہ السلام ) کو تختوں اور میخوں والی کشتی پر سوار کر دیا۔ “ ( سورہ القمر آیت نمبر42) اور یہ کشتی ہماری حفاظت اور نگرانی میں چل رہی تھی۔ علامہ محمد بن جریر طبری اور دوسرے کئی علماءنے کہا کہ یہ طوفان قبطی تقویم کے مطابق 13اگست کو آیا تھا۔ مفسرین عظام نے فرمایا۔ طوفان کا پانی سب سے بڑے پہاڑ سے بھی پندرہ گز اوپر چلا گیا تھا۔ دنیا کا کوئی پہاڑ نظر نہیں آرہا تھا۔ سب سے بلند و بالا پہاڑ پانی میں ڈوب گئے تھے۔ بعض علمائے مفسرین کہتے ہیں کہ یہ پانی پہاڑوں سے بھی اسّی80گز بلند تھا اور پوری زمین پر پانی ہی پانی دکھائی دے رہا تھا۔ پہاڑ ، میدان ، صحرا ، خشکی و تری چٹیل میدا ن اور شاداب وادیاں سب پر طوفان برپا تھا۔ اور اس طوفان کی ہلاکت خیز یاں عام تھیں۔ روئے زمین پر کوئی جاندار نہیں بچ سکا ۔ اگر بچے تو صرف حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار مسلمان بچ سکے۔ باقی سب انسان ، حیوان ، چرند ، پرند ہلاکت اور بربادی کی نذر ہو گئے۔ حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ زید بن اسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ کہ طوفان سے پہلے پوری دنیا میں انسانوں کی کثرت تھی۔ ہر جگہ انسان ہی انسان آباد تھے۔ اور زمین کا کوئی خطہ یہ علاقہ ایسا نہیں تھا کہ جس پر جابر حاکم اور سلطان نہ ہو۔ ہر طرف آبادی تھی اور انسان انسان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا تھا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)
کشتی کا سفر
جب تک زمین پر ایک بھی فرد زندہ رہا ۔ طوفان میں شدت رہی۔ جب تمام کافر ختم ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے طوفان دھیرے دھیرے ختم ہو نے لگا۔ اور پانی دھیرے دھیرے کم ہونے لگا۔ زمین پر پانی اتنا زیادہ تھا کہ چھ مہینے تک کشتی پانی پر تیر تی رہی۔لگ بھگ چھ مہینے بعد کشتی کوہِ جودی پر جا کر رُکی۔ اس دن یوم عاشورہ ( محرم الحرام کی دس تاریخ) تھی۔ اس دن حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھ تمام ایمان قبول کرنے والوں نے اورتمام جانوروں نے بھی روزہ رکھا۔ اور طوفان سے بچ جانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ طوفان کا قہر جاری تھا اور کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان سفر کر رہی تھی ۔کشتی کی چھت (ہمارے آج کل کے جہازوں کا عرشہ) آپ علیہ السلام نے بہت موٹے تختے کی بنائی تھی۔ اور کشتی میں تین منزل بنائی تھی۔ اور اوپری منزل میں ہر طرف کھڑکیاں بنائی تھیں۔ جن سے وہ لوگ کشتی کے باہر طوفان کی ہیبت ناکی دیکھ رہے۔ موسلا دھار بارش مسلسل ہو رہی تھی۔ اور وہ اتنی تیز اور سخت تھی کہ اگر ہمارا آج کل کا جہاز ہوتا تو مسلسل بارش کی تیزی کو برداشت نہیں کر پاتا۔ اور اس کے عرشے ( یعنی چھت) میں سوراخ ہو جاتے اور وہ ٹوٹ جاتا۔ لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں اتنی مضبوط چھت بنائی تھی کہ اس خطرناک بارش کا اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی میں ابلیس کو دیکھا تو اسے دھکیل دیا۔ ابلیس شیطان نے کہا۔ آپ علیہ السلام مجھ پر قابو نہیں پا سکتے۔ آپ علیہ السلام جانتے تھے کہ یہ سچ کہہ رہا ہے۔ اسی لئے آپ علیہ السلا م نے فرمایا کہ وہ کشتی میں سب سے پیچھے کشتی کے بانس پر بیٹھ جائے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی میں پتھر کے دو نگینے عطا کئے تھے۔ ان میں سے ایک سفید تھا اور دوسرا سیاہ( کالا ) تھا۔ پس جب وہ شام کرتے تو ایک کی سیاہی دوسرے کی سفیدی پر غالب آجاتی تھی۔ اور جب وہ صبح کرتے تھے تو ایک کی سفیدی دوسرے کی سیاہی پر غالب آجاتی تھی۔ دونوں کا وقت بارہ گھنٹوں کا مقرر تھا۔ آپ علیہ السلام نے کشتی میں اوقات کو بارہ بارہ گھنٹوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ تا کہ اس سے نماز کے اوقات کو پہچانا جا سکے۔ پس کشتی آپ علیہ السلام کے مکان سے چلی۔ یہاں تک کہ وہ دائیں سمت چلتی رہی۔ اور حبشہ تک پہنچ گئی۔ پھر وہاں سے پلٹی اور جدہ کی طرف لوٹ آئی۔ پھر روم کی سمت سفر کرنے لگی۔ اور روم سے بھی آگے نکل گئی۔ پھر ارض مقدس کی وادیوں پر لوٹ کر آئی۔
کوہِ جودی کی انکساری
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو وحی فرمائی تھی کہ کشتی کسی پہاڑ کی چوٹی پر رکے گی۔ اسیلئے سب پہاڑ بلند ہوئے اور ظاہر ہوئے اور اپنی جڑیںزمین نکال لیں۔ اور کوہ جودی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عجز و انکساری پیش کرتا رہا۔ پس کشتی تمام بڑے پہاڑوں کے پاس سے گزرتی رہی۔ اور جب جودی پہاڑ پر پہنچی تو وہاں رک گئی۔ تمام پہاڑوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کی۔ اے ہمارے رب ، بے شک ہم حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے لئے ظاہر ہوئے اور اپنی جڑیں زمین سے نکالی اور جودی سکڑ گیا تھا۔ پھر بھی ان کی کشتی اسی پر رکی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بے شک جو میرے سامنے عاجزی اختیار کرتاہے تو میں اسے بلند کر دیتا ہوں اور جو میرے سامنے بلند ہونے کی کوشش کرتا ہے ( یعنی گھمنڈ اور تکبر کرتا ہے) تو میں اسے ذلیل اور پست کر دیتا ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ کوہِ جودی جنت کے پہاڑوں میں سے ہے۔ پس یوم عاشورہ ( محرم کی دس تاریخ) کو کشتی کوہِ جودی پر رکی۔ (تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
کشتی کی صفائی
حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کا سفر پانی پر جاری تھی۔ جب کشتی کا سفر شروع ہوا تو حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ آج کے دن روز ہ رکھو۔ تم میں سے جو آج کے دن روز رکھے گا اس سے ( دوزخ کی ) آگ ایک سال کی مسافت کے فاصلے پر ہو گی۔ اور جو سات روزے رکھے گا تو اس پر دوزخ( جہنم) کے ساتوں دروازے بند کر دیئے جائیں گے۔ اور جو آٹھ روزہ رکھتے گا تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ اور جو دس روزے رکھے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا ۔ مانگ تجھے عطا کیا جائے گا۔ اور جو پندرہ دن کے روزے رکھے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ۔میں ماضی کے تیرے سب گناہ بخش دیئے اب نئے سرے سے عمل کر۔ اور جس نے اور زیادہ کیا تو اللہ تعالیٰ بھی اضافہ فرمائے گا۔ پس حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی میں ماہِ رجب، ماہِ شعبان ، ماہِ رمضان ،ماہ شوال ، ماہ ذی القعدہ، ماہ ذی الحجہ ، اورماہِ محرم کے دس روزے رکھے۔ اور دسویں محرم ( یوم عاشورہ ) کو کشتی کوہِ جودی پر رکی تو آپ علیہ السلام کے ساتھ تمام مسلمانوں اور تمام کشتی پر سوار جانوروں نے بھی روزہ رکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ( تاریخ ابن عساکر ، تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کشتی میں جانوروں اور انسانوں کے پاخانوں سے گندگی ہونے لگی اور بدبو اٹھنے لگی تو حضرت نوح علیہ السلام نے ہاتھی کی دم کو دبایا تو خنزیر اور خنزیرنی ( سوّر اور سوّرنی) گر پڑے۔ انہوں نے تمام پاخانوں کو کھا کر کشتی کی صفائی کر دی۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی دعا کے بعد ہاتھی نے چھینک ماری تو اسکی ناک سے خنزیر اور خنزیرنی نکلے۔ کشتی میں چوہوں کا جوڑا بھی سوا ر ہوا تھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ابلیس شیطان نے خنزیر کی ناک پر ہاتھ پھیرا تو اسے چھینک آئی تو چوہا اور چوہیا نکلے۔ اب صحیح علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ چوہے اور چوہیا نے کشتی کی رسیوں کو اور لکڑیوں کو کترنا شروع کر دیا۔ جس سے کشتی میں کمزوری آنے لگی تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ شیر کی ناک پر ہاتھ پھیرو۔ آپ علیہ السلام نے ہاتھ پھیرا تو شیر کو چھینک آئی اور اس کی ناک سے بلّی اور بلّا نکلے۔ جنہوں نے چوہوں کو کھا لیا۔ یا ان کے ڈر سے چوہے دُبک گئے۔ (تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری ، تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی جلد نمبر5) مفتی احمد یا ر خان نعیمی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ کشتی میں کسی نے پاخانہ نہیں کیا اور کشتی بالکل صاف ستھری رہی۔ اور بہت سی روایات کہ کتا کیسے پیدا ہوا۔ گدھے کے ساتھ شیطان کیسے کشتی میں گیا۔ خنزیر کیسے پیدا ہوئے۔ شیر کی ناک سے بلی اور بلا پیدا ہوئے اور چوہوں نے شرارت کی وغیرہ ۔ یہ سب بے سند روایات ہیں۔ اور غالباً ان کی بنیاد اسرائیلیوں نے ڈالی ہے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی)
طوفان رُکا اور کشتی کوہِ جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی
طوفان کس طرح رکا؟ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں۔ ترجمہ ” اور حکم فرمایا گیا۔ اے زمین اپنا پانی نگل لے ۔ اور اے آسمان تھم جا ۔ اور پانی خشک کر دیا گیا اور کافروں کا کام تمام ہوا۔ اور کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر44) اس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ایمان والے اور تمام جانوروں اور پرندوں کے جوڑے بچ گئے۔ اس آیت کی تفسیر میں انورالبیان میں لکھا ہے کہ پانی کا طوفان آیا جو خوب زیادہ تھا۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی اوپر پہنچ گیا ۔ اور اس کی موجیں بھی پہاڑوں کی طرح تھیں۔ اتنے کثیر پانی سے کون بچ سکتا تھا۔ سوائے ان مومن مخلص بندوں کے جو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا۔ یہ طوفان کتنے دن رہا۔ اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ کشتی ایک سو پچاس دن تک پانی پر رہی۔ اور ایک قول یہ ہے کہ وہ چھ مہینے تیرتی رہی۔ صحیح علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کو طوفان ختم کرنا منظور ہوا تو زمین کو حکم دے دیا کہ اپنے پانی کو نگل لے۔ اور آسمان کو حکم دیا کہ پانی برسانا بند کر دے۔ لہٰذا پانی کم ہوگیااور کافروں کے غرق ہونے کا جو حکم اللہ تعالیٰ کیطرف سے ہوا تھا اس کے مطابق وہ ہلاک ہو گئے۔ کشتی چلتے چلتے جودی پہاڑ پر جا کر رک گئی۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا دے دی گئی کہ ظالموں کے لئے اللہ کی رحمت سے دوری ہے۔ کشتی پہاڑ پر ٹھہر تو گئی لیکن اس سے اترنا کب ہوا؟ اس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک مہینہ تک جودی پہاڑ پر رہے۔ جب حضرت نوح علیہ السلام کو یہ معلوم ہو گیا کہ پانی ختم ہو گیا ہے اور زمین اس لائق ہو گئی ہے کہ اس پر قیام کیا جائے تو وہاں سے نیچے تشریف لے آئے۔ اور پھر ان سے دنیا بسنی شروع ہو ئی۔ اور ان کے تینوں بیٹوں سے آگے دنیا میں نسل چلی۔ جن کے یہ نام مشہور ہیں۔ سام ، حام ، یافث
صرف مومنین زندہ بچے
تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ روئے زمین کے سب لوگ اس طوفان میں جو در حقیقت غضب الٰہی اور مظلوم پیغمبر کی دعا کا عذاب تھا ، غرق ہو گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس پانی کو نگل لینے کا حکم دیا جو اس کا اُگلا ہوا تھا اور آسمان کا برسایا ہوا تھا۔ ساتھ ہی آسمان کو بھی پانی برسانے سے رک جانے کا حکم ہو گیا۔ پانی گھٹنے لگا اور کام پورا ہو گیا۔ یعنی تمام کافر ہلاک ہو گئے۔ صرف کشتی پر سوار مومن بچے۔ کشتی اللہ تعالیٰ کے حکم سے کوہ جودی پر رکی۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں۔ مہینے بھر تک یہیں لگی رہی۔ اس کے بعد سب اتر گئے اور کشتی کو لوگوں کی عبرت کے لئے یہیں ثابت و سالم رکھا گیا۔ یہاں تک کہ اس اُمت ( امت محمدیہ) کے اول لوگوں نے بھی اسے دیکھ لیا۔ حالانکہ اس کے بعد کی بہترین اور مضبوط سینکڑوں کشتیاں بنیں اور بگڑیں بلکہ راکھ اور خاک ہو گئیں ۔ ضحاک کہتے ہیں۔ جو دی نام کا پہاڑ موصل میں ہے۔ بعض کہتے ہیں ۔ طور پہاڑ کو ہی جودی کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں اسّی 80آدمی تھے۔ ایک سو پچاس دن تک وہ سب کشتی میں ہی رہے۔ اللہ تعالیٰ کشتی کا رخ مکہ مکرمہ کی طرف کر دیا۔ یہاں وہ چالیس دن تک خانہ کعبہ کا طواف کرتی رہی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے جودی کی طرف روانہ کر دیا۔ اور وہاں ٹھہر گئی۔ ( تفسیر ابن کثیر علامہ عماد الدین ابن کثیر) تفسیر معارف القران میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت میں طوفان کے ختم ہونے اور حالات کے ہموار ہونے کا بیان اس طرح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو خطاب کر کے فرمایا۔ اے زمین تو اپنا پانی نگل لے۔ مطلب یہ کہ زمین سے جتنا پانی نکلا تھا اس کے لئے حکم دیا کہ اس زمین پھر اپنے اندر اتار لے۔ اور آسمان کو حکم دیا گیا کہ اب پانی برسانا بند کر دے۔ اس طرح زمین سے نکلا ہوا پانی پھر زمین میں واپس چلا گیا۔ اور آسمان سے برسا ہوا پانی جتنا پانی زمین پر موجود تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے دریاﺅں اور ندیوں اور نہروں کی شکل دے دی۔ جس سے انسان فائدہ اٹھائے۔
کشتی نے بیت اللہ یا حرم شریف ( مکہ مکرمہ) کا طواف کیا
حضرت نوح علیہ السلام 10ماہ رجب کو کشتی میں سوار ہوئے تھے۔ چھ مہینے تک یہ کشتی طوفان کے اوپر چلتی رہی ۔ جب بیت اللہ یا حرم شریف ( مکہ مکرمہ ) کے مقام پر پہنچی تو سات مرتبہ طواف کیا۔ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ ( خانہ کعبہ) کو غرق ہونے سے بچا لیا تھا۔ پھر 10محرم الحرام یوم عاشورہ میں کو ہ جودی پر ٹھہری حضرت نوح علیہ السلام اور تمام مسلمانوں اور جانوروں نے اس دن شکرانے کا روزہ رکھا۔ (تفسیر معارف القران جلد نمبر 4مولانا مفتی محمد شفیع، تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثناءاللہ پانی پتی تفسیر الجامع الحکام القران تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ایک وسیع و عریض وادی کے کنارے حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی تیار کی۔ اور یہیں سے طوفان ظاہر ہوا۔ پس حضرت نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے ۔ آپ علیہ السلام کے ساتھ سام، حام اور یافث تھے۔ اور کنعان نہیں تھا۔ وہ طوفان میں غرق ہوا۔ اور تینوں بیٹوں کی بیویاں اور بنو شیث میں سے تہتر73لوگ جو ایمان لائے تھے۔ پس کشتی میں اسّی80لوگ تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے اپنے ساتھ ہر ہر جنس سے نر اور مادہ کو بھی سوار کر لیا۔ کشتی کی لمبائی تین سو گز تھی۔ اور یہ گز آپ علیہ السلام کے باپ دادا کا مقرر کیا ہوا تھا۔ ( اس وقت انسان کی لمبائی کم سے کم نوّے فٹ90تھی) اور ان کے ایک ہاتھ کی لمبائی کو ایک گز کہا گیا ہے) اور کشتی کی چوڑائی پچاس 50گز تھی۔ اور آسمان کی جانب اس کی بلندی تیس30گزتھی۔ اور وہ چھ گز پانی کے باہر تھی اور وہ کشتی ڈھکی ہوئی تھی۔ آپ علیہ السلام نے اس کے تین دروازے بنائے۔ اور وہ ایک دوسرے سے نیچے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چالیس دن تک بارش برسائی اور جب بارش وحشی جانوروںچوپائیوں اور پرندوں کو پہنچی تو وہ سب کے سب آپ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے۔ اور آپ علیہ السلام نے ہر جنس کا جوڑا سوار کر لیا۔
حضرت آدم علیہ السلام کا جسم کشتی میں
آپ علیہ السلام نے اپنے ساتھ حضرت آدم علیہ السلام کے جسم مبارک کو بھی کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ اور اسے مردوں اور عورتوں کے درمیان رکاوٹ بنا دیا تھا۔ پس وہ سب کے سب 10دس رجب المرجب کو کشتی میں سوار ہوئے اور پانی دو حصوں میں ظاہر ہوا۔ ایک حصہ آسمان سے اور ایک حصہ زمین سے۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور آسمان کے دروازوں سے پانی انڈیل دیا گیا۔ “ ( سورہ القمر)اور ہم نے زمین کو پھاڑ دیا پس پانی مل گیا جتنا مقد ر کیا گیا تھا۔ (سورہ القمر) اور زمین کے بلند ترین پہاڑ ( ہمالیہ) سے بھی پندرہ گز اوپر تک پانی بلند ہوا۔ پس کشتی انہیں لے کر چلی۔ اور چھ ماہ تک پوری زمین پر گھومتی رہی۔ اور کہیں بھی نہیں رکی۔ یہاں تک کہ حرم پاک ( مکہ مکرمہ) میں آئی۔ لیکن اس کے اندر داخل نہیں ہوئی۔ اور ایک ہفتہ حرم کے گر د طواف کرتی رہی۔ اس وقت وہ کعبہ جو حضرت آدم علیہ السلام نے بنایا تھا اسے اٹھالیا گیا تھااور غرق ہونے سے بچا لیا گیا تھا۔ اور وہی ” بیت المعمور“ ہے۔ اور حجر اسود کو جبل ابو قبیس پر اٹھا لیا گیا تھا۔ پس جب کشتی نے حرم کا طواف کر لیا تو وہاں سے نکلی اور زمین پر چلتی رہی۔ یہاں تک کہ جودی پر جا کر رکی۔ جودی سرز مین موصل میں حفین کے ساتھ ایک پہاڑ ہے۔ سال کی تکمیل کے چھ مہینے بعد وہاں کشتی جا کر ٹھہری۔ ( تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
پانی خشک ہونے کی تحقیق
حضرت نوح علیہ السلام کے جو دی پہاڑ پر ٹھہرنے کے بعد بھی ایک مہینے تک کشتی میں ہی رہے۔ اور مسلسل تحقیق کرتے رہے کہ زمین رہنے کے لائق ہوئی یا نہیں۔ اس کے لئے وہ لگاتار پرندوں کو بھیجتے رہے۔ طوفان کا پانی ہمالیہ پہاڑ سے بھی پندرہ گز اوپر تھا۔ اسے زمین نے سوکھنا شروع کیا تو اسے سوکھتے سوکھتے ایک مہینہ لگ گیا۔ ادھر کشتی پر سے روزانہ حضرت نوح علیہ السلام نے کوے کو بھیجا تو زمین پانی سوکھ چکی تھی۔ اور ہر طرف کیچڑ تھا۔ اور اس میں کچھ مردے پڑے ہوئے تھے۔ کوّے نے مردے دیکھے تو انہیں کھانے لگا۔ اور کشتی پر واپس نہیں آیا ۔ بس آپ علیہ السلام نے اس پر لعنت فرمائی۔ اسی وجہ سے اسے حرم میں بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔ پھر فاختہ کو بھیجا ۔ سو،وہ گئی لیکن اسے زمین پرکہیں جگہ نہیں ملی تو سر زمین سبا میں وہ ایک درخت پر بیٹھی اور زیتون کا پتہ اٹھایا اور حضرت نوح علیہ السلام کی طرف لوٹ آئی۔ تو آپ علیہ السلام کو معلوم ہو گیا کہ اب زمین پر بہت کم پانی رہ گیا ہے۔ اور درخت پیڑ پودے پنپنے لگے ہیں ۔ پھر اسے چند دنوں بعد بھیجا پس وہ نکلی اور وادی حرم ( مکہ مکرمہ ) میں پہنچ گئی۔ پانی جب جذب ہوا تو سب سے پہلے مکہ مکرمہ کی زمین اوپر آئی اور پھر دھیرے دھیرے تمام زمین اوپر آنے لگی۔ مکہ مکرمہ کی مٹی سرخ تھی۔ پس اس نے اپنے پاﺅں کو اس رنگ سے رنگا اور پھر آپ علیہ السلام کے پاس واپس آگئی اور کہا مبارک ہو زمین نے قرار حاصل کر لیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے اپنا دست مبارک اس کی گردن پر پھیرا اور اسے ہار پہنایا۔ اور اس کی ٹانگوں کو سرخی عطا کی۔ ( تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) ایک اور روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلا م نے کوے کو بھیجا کہ وہ زمین خشک ہونے کی تحقیق کرکے آئے تو اس نے مردار دیکھا تو اسے کھانے میں مگن ہو گیا۔ آپ علیہ السلام نے اس کے لئے خوف اور ڈر کی دعا کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گھروں کو پسند نہیں کرتا ہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے کبوتری کو بھیجا ۔ تو وہ اپنی چونچ میں زیتون کا پتہ اور اپنے پاﺅں کے ساتھ مٹی لگا کر لائی۔ اس سے معلوم ہو ا کہ شہر غرق ہو چکے ہیں۔ پس جو سبز رنگ کا ہار اس کی گردن میں ہے وہ آپ علیہ السلام نے پہنایا ہے۔ اور اس کے لئے دعا فرمائی کہ وہ اُنس اور امان میں رہے۔ سو وہ اسی وجہ سے گھروں سے محبت کرتی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر12علامہ عماد الدین ابن کثیر ، تفسیر الجامع الحکام القران تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی جلد نمبر5، تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا علاقہ
حضرت نوح علیہ السلام کا ظہور اس سرزمین میں ہوا تھا جو دجلہ اور فرات کی وادیوں میں واقع ہے۔ دجلہ اور فرات آرمینیا کے پہاڑوں سے نکلی ہیں۔ اور بہت دور الگ الگ چلتے ہوئے عراق کے زیر یں علاقے میںجا کر آپس میں مل گئی ہیں۔ اور پھر خلیج فارس میں جا کر سمندر میں گر گئی ہیں۔ آرمینیا کے یہ پہاڑ ارارات یا اراراط میں واقع ہیں۔ اسی لئے تو ریت میں اسے ارارات یا اراراط کا پہاڑ کہا گیا ہے۔ لیکن قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کا ذکر فرمایا جس پر کشتی جا کر ٹھہری تھی اور وہ جودی کا پہاڑ ہے۔ زمانہ حال کے بعض شارحین توریت کا خیال بھی اسی بات کی تصدیق کر رہا ہے۔ اور کم از کم یہ تاریخی واقعہ ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی تک وہاں ایک معبد ( عبادت گاہ) موجود تھا۔ جس کا نام لوگوں نے کشتی کا معبد رکھا تھا۔ (تفسیر جلالین جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی اور امام جلا ل الدین محلی) جودی پہاڑ آج بھی اسی نام سے قائم ہے۔ اس کا محل وقوع حضرت نوح علیہ السلام کے اصلی وطن موصل عراق کے شمال میں جزیرہ ابن عمر کے قریب آرمینیا کی سرحد پر ہے۔ یہ ایک بہت بڑا پہاڑ ی سلسلہ ہے۔ جس کے ایک حصے کا نام جودی ہے۔ اس کے ایک حصہ کو ارارات یا اراراط کہا جاتا ہے۔ موجودہ توریت میں کشتی کے ٹھہرنے کے مقام کو کوہِ ارارات یا اراراط بتایا گیا ہے۔ (تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع ) دریائے دجلہ کی مشرقی سمت میں جو پہاڑی سلسلہ ہے اس کو کوہِ ارارات یا اراراط کہتے ہیں۔ اس کی ایک چوٹی کا نام جودی ہے۔ اس کی سب سے اونچی چوٹی کا نام بھی ارارات یا اراراط ہے۔ اس کی بلندی سولہ ہزار نو سو چھیالیس16946فٹ ہے۔ جب کہ کوہ جودی کی بلندی تیرہ ہزار 13000فٹ ہے۔ (تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)
آدم ثانی اور سوق الشمانین
حضرت نوح علیہ السلام کو آدمِ ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ ان سے پھر نئے سرے سے دنیا آباد ہوئی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کوہ جودی کے قریب جزیرہ قروی میں اسّی 80گھر تعمیر کئے اور ہر شخص کے حوالے ایک مکان کر دیا۔ یہ علاقہ آج بھی ”سوق ثمانین“ ( یعنی اسّی 80لوگوں کا بازار) کے نام سے مشہور ہے۔ بازار کو عربی میں سوق کہا جاتا ہے۔ یہ سب مسلمان تھے۔ اور ان کی اولاد بھی مسلمان رہی۔ طوفان کے بعد حضرت نوح علیہ السلام لگ بھگ ڈھائی سو250برس زندہ رہے۔ اور اس دوران ان کی اولاد اور مسلمانوں کی آبادی بڑھتی رہی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کوہِ جودی کی نچلی جانب اترے اور ایک گاﺅں آباد کیا اور اس کا نام ” ثمانین “ رکھا۔ پس ایک دن صبح ہوئی تو وہ اسّی 80لوگ الگ الگ زبانیں بول رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اتنی زبانیں الگ الگ سیکھا دی تھی۔ اور وہ ایک دوسرے کی زبان سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ اُن اسّی 80زبانوں میں ایک عربی زبان بھی تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سب زبانیں سکھائی تھی۔ اور آپ علیہ السلام ان کی ترجمانی کر تے تھے۔
دنیا کانئے سرے سے آباد ہونا
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کوہِ جودی سے اترے اور ایک گاﺅ ں آباد کیا۔ اور ان میں سے ہر آدمی کے لئے ایک گھر بنایا۔ اور اس گاﺅں کا نام ”سوق ثمانین“ رکھا۔ بنو قابیل سارے کے سارے غرق ہو چکے تھے۔ پھر ان کی آبادی بڑھنے لگی۔ اور سوق ثمانین کا گاﺅں ان کے لئے تنگ ہو گیا۔ تو وہ بابل کی طرف چلے گئے۔ اور بابل نام کا شہر آباد کیا۔ اور اس کی تعمیر کی ۔ یہ فرات اور صراة کے درمیان واقع ہے۔ وہ وہاں ٹھہرے رہے۔ حتیٰ کہ ایک لاکھ تک پہنچ گئے۔ اور وہ سب مسلمان تھے۔جب حضرت نوح علیہ السلام کشتی سے اترے تھے تو حضرت آدم علیہ السلام کے جسم مبارک کو بیت المقدس لے جا کر دفن کیا۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی، تفسیر ابن کثیر علامہ ابن کثیر)حضرت نوح علیہ السلام کے چار بیٹے تھے۔ ایک کنعان تو طوفان میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا تھا ۔ باقی تینوں بیٹوں کے نام سام، حام اور یافث تھے۔ ان کی بھی اولاد بڑھتی جا رہی تھی۔ اور دھیرے دھیرے دنیا میں پھیلنے لگی تھی۔ یہ تینوں بیٹے مسلمان تھے۔ اور ان کی اولاد بھی مسلمان ہی رہی۔ سام کی اولاد عرب اور آس پاس کے علاقوں میں آباد ہو گئی۔ حام کی اولاد آگے بڑھ کر یورپ تک پہنچ گئی۔ اور یافث کی اولاد افریقہ میں بس گئی۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ہندوستا ن تک پہنچ گئی۔
حضرت نوح علیہ السلام کی عمر
حضرت نوح علیہ السلام کی عمر مبارک کے بارے میں بہت سی روایات ہیں۔ کسی روایت میں آپ علیہ السلام کی عمر ساڑھے بارہ سو1250سال بتائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے۔ اس سے علمائے کرام نے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ علیہ السلام نے 950سال تک تبلیغ کی۔ پچاس سال کی عمر میں نبوت ملی۔ یہ کل ایک ہزار سال ہو گئے۔ اس کے بعد طوفان آیا۔ اور طوفان کے بعد بعض روایات میں ڈھائی سو250سال اور بعض روایات میں تین سو پچاس سال 350کا آیا ہے۔ کہ طوفان کے بعد اتنے سال زندہ رہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس دن حضرت نوح علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اس وقت کے بادشاہ کو حکومت کرتے ہوئے بیاسی 82سال ہو چکے تھے۔ اس زمانے میں گناہ روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر ان کی طرف بھیجا ۔ اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر چار سو اسّی480سال تھی۔ پھر آپ علیہ السلام نے ایک سو بیس120 سال تک اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا حکم دیا۔ آپ علیہ السلام نے کشتی بنائی اور اس میں سوار ہوئے۔ اس وقت آ پ علیہ السلام کی عمر چھ سو600سال تھی۔ اور جس کو غرق ہونا تھا ہو گیا۔ پھر کشتی سے اترنے کے بعد تین سو پچاس350برس تک آپ علیہ السلام زندہ رہے۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) حضرت نوح علیہ السلام کی عمر چاہے جو بھی ہو ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن پاک میں یہ بتایا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں نو سو پچاس 950سال رہے۔ اس لئے ہم یہ بات دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ آ پ علیہ السلام کی عمر مبارک کم سے کم نو سو پچاس950سال رہی۔ اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کم نہیں ہو سکتی۔ اور زیادہ بھی کتنی؟ یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔
ابلیس شیطان کی کوششوں سے دنیا بُت پرستی میں مبتلا
طوفان کے بعد برسوں گزر گئے۔ اور دنیا کی آبادی پھر سے بڑھ گئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو اپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد کافی عرصے تک سب لوگ مسلمان رہے۔ لیکن ابلیس شیطان انسان کی گھات میں لگا ہوا تھا۔ اور دھیرے دھیرے اس نے اپنے کام میں کامیابی حاصل کرنی شروع کر دی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد ، ان کے پوتوں ان کے پڑ پوتوں اور ان کی اولاد کو بھی بہکاتا رہا۔ لیکن اتنا کامیاب نہیں ہوا تھا۔ لیکن کئی نسلیں گزر گئیں تو ابلیس کو دھیرے دھیرے کامیابی ملتی گئی۔ اور لوگ بت پرستی میں مبتلا ہو تے گئے۔ ابلیس شیطان نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ بادشاہوں کے دماغ میں بھی یہ وسوسہ ڈالا اور یقین پید ا کیا کہ ( نعوذ باللہ ) وہ خدا ہے۔ ایسا ہی ایک بادشاہ نمرود تھا۔ جس کے علاقے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا تھا۔
حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا ۔ اب انشااللہ آپ کی خدمت میں حضرت ہود علیہ السلام کے بارے میں تفصیل سے پیش کریں گے۔ اور اس کے بعد حضرت صالح علیہ السلام کے بارے میں تفصیل سے پیش کریں گے۔ اس کے بعد انشا اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں تفصیل سے پیش کریں گے۔
٭........٭........٭

.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)