Ambiya Series 17 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Ambiya Series 17 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 8 جون، 2023

01 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام Story of Prophet Yunis and Hazqeel


01 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

قسط نمبر 1

حضرت یونس علیہ السلام کا سلسلۂ نسب

اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت الیاس علیہ السلام کے حالات پیش کئے تھے۔ اور اس میں وعدہ کیا تھا کہ انشاءاللہ حضرت یونس علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔ وعدہ کے مطابق پیش خدمت ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل سے ہیں۔ لیکن جس قوم کی طرف اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تھا وہ بنی اسرائیل نہیں تھی بلکہ دوسری قوم تھی۔ بنی اسرائیل اس وقت ملک کنعان میں آباد تھے۔ اور آج کا فلسطین ، اردن ، لبنان اور ملک شام کا کچھ حصہ بھی اس وقت ملک کنعان میں آتاتھا۔ اس لئے بنی اسرائیل کی تاریخ کا ذکر جب بھی آتا ہے تو اس میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ملک شام میں آباد تھے۔ در اصل وہ ملک کنعان تھا۔ بعد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد جب عیسائیوں ( نصاریٰ) کو عروج حاصل ہوا تو انہوں نے ملک شام کی توسیع کی اور ملک کنعان کو توڑ کر ملک شام کا حصہ بنا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی فلسطین ملک شام کے اندر ہی آتا تھا۔ اسی لئے اسلامی مورخین بنی اسرائیل کے جو ملک شام میں آباد ہونے کا ذکر کرتے ہیں وہ آج کل کا ملک شام نہیں ہے۔ بعد میں عیسائیوں اور یہودیوں نے فلسطین، اردن ، لبنان الگ ملک بنا دیئے اور ملک شام سمٹ کر اتنا ہی رہ گیا جتنا آج ہے۔ یہاں ہم نے یہ بات تفصیل سے اس لئے ذکر کی ہے کہ آگے جب بھی ملک شام کا ذکر آئے تو الجھن نہ ہو۔ حضرت یونس علیہ السلام کا سلسلہ نسب حضرت یعقوب علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ اور آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلے بنی لاوی سے ہیں۔ اسی قبیلے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ہیں۔اور انہیں کی طرح حضرت یونس علیہ السلام بھی جلال والے تھے۔ عبرانی زبان میںیونس کو یونہ یا یوناہ کہا جاتا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا بچپن

حضرت یونس علیہ السلام بنی اسرائیل میں بہت ہی نیک بندوں میں سے تھے۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ امام علی بن حسن المعروف امام ابن عسا کر لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام ، لاوی بن یعقوب علیہ السلام بن اسحاق علیہ السلام بن ابراہیم علیہ السلام کے نواسے ہیں۔ اور ملک شام کے رہنے والے تھے۔ اور بعلبک کے عمال میں سے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ بچپن میں فوت ہو گئے تھے۔ ان کی والدہ نے اللہ کے نبی حضرت الیاس علیہ السلام سے دعا کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کر دیا۔ ان کے سوا ان کی والدہ کی اور کوئی اولاد نہیں تھی۔ چالیس سال کی عمر میں حضرت یونس علیہ السلام نے اعلان نبوت فرمایا۔ وہ بنی اسرائیل کے بہت عبادت گزار وں میں سے تھے۔ وہ اپنے دین کو بچانے کے لئے شام چلے گئے اور دجلہ کے کنارے پہنچ گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اہل نینوا کی طرف بھیجا۔ ( نینوا دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے جہاں موصل نامی شہر ہے۔ وہاں ایک قدیم شہر تھا۔ )

قوم یونس 

حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جس قوم کی طرف مبعوث فرمایا تھا اس قوم میں آپ علیہ السلام پید انہیں ہوئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آ پ علیہ السلام کو اس کا نبی بنایا اور اسی نسبت سے یہ قوم ِ یونس کہلائی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ اس طرح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آٹھ سو سال پہلے ملک عراق میں ایک قوم سیریا آباد تھی اور ان کی سلطنت و حکومت تھی اور اس سلطنت کا مرکزی مقام ( دارالخلافہ ، راجدھانی) تقریباً 50مربع میل میں پھیلی ہوئی تھی اور وہ شہر ”نینوا“ تھا۔ یہ شہر دریائے دجلہ کے کنارے شہر موصل کے قریب واقع تھا۔ یہ قوم بہت ظالم اور بت پرست تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام متیٰ کے بیٹے ہیں اور بنی اسرائیل سے ہیں۔ حضرت الیاس علیہ السلام کی دعا سے دوبارہ زندہ ہوئے۔ اٹھائیس سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کا تاج عطا فرمایا اور قوم سیریا کی طرف بھیجا۔ یہ قوم بنی اسرائیل نہیں تھی۔ اس کو قوم یونس فرمانا اُمت ہونے کی بنا پر ہے۔ کیوں کہ ہر شخص اس نبی کی قوم میں شمار ہوتا ہے۔ جو ان کی اُمت سے ہو چاہے برادری اور قبیلہ سے نسبت ہو یا نہ ہو۔ اس قاعدے سے قیامت تک کے سب مسلمان آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم ہیں۔

قوم یونس کا علاقہ

حضرت یونس علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ اور بنی اسرائیل اس وقت ملک کنعان ( آج کل کا فلسطین ، اردن ، لبنان اور شام کا کچھ علاقہ) میں آباد تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو ملک عراق کی طرف اپنا بنی بنا کر بھیجا۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام ( جن کا نام بائیبل میں یوناہ ہے اور جن کا زمانہ 860سے 784قبل مسیح کے درمیان بتایا جاتا ہے ) حالانکہ اسرائیلی نبی تھے مگر ان کو اشور ( اسیریا ) والوں کی طرف ہدایت کے لئے عراق بھیجا گیا تھا۔ اور اسی بنا پر اشوریوں کو یہاں قوم یونس کہا گیا ہے۔ ا س قوم کا مرکز اس زمانہ میں نینویٰ کا مشہور شہر تھا۔ جس کے وسیع کھنڈرات آج تک دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر موجودہ شہر موصل کے عین مقابل پائے جاتے ہیں۔ اور اسی علاقے میں ”یونس نبی“ کے نام سے ایک مقام بھی موجود ہے۔ اس قوم کے عروج کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس کا دارا لسلطنت نینویٰ تقریبا 60 میل کے دور میں پھیلا ہوا تھا۔ 

حضرت یونس علیہ السلام کے القاب

اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو ”ذو النون“ اور ”صاحب الحوت“ کے القاب سے نوازا ہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں ۔ ذوالنون حضرت یونس بن متی علیہ السلام کا لقب ہے کیوں کہ مچھلی نے آپ علیہ السلام کو نگل لیا تھا۔ النون سے مراد مچھلی ہے۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ ” ذو النون “ حضرت یونس علیہ السلام کا لقب ہے ۔ آپ علیہ السلام کا قصہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس ، سورہ الانبیاءپھر سورہ صافات اور سورہ نون میں ذکر فرمایا ہے ۔ کہیں ان کا اصل نام ذکر فرمایا ہے کہیں ذوالنون اور کہیں صاحب الحوت کے القاب سے ذکر کیا گیا ہے۔ نون اور حوت دونوں کے معنی مچھلی کے ہیں۔ ذوالنون اور صحاب الحوت کا ترجمہ ہے مچھلی والا۔ حضرت یونس علیہ السلام کو بہ تقدیر الٰہی چند روز بطن ماہی میں رہنے کا واقعہ غریبہ میں پیش آیا تھا۔ اسی کی مناسبت سے ان کو ذوالنون اور صاحب الحوت کے القاب سے نوازا گیا۔ مولانا سید ابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں کہ ( ذو النون ) سے مراد حضرت یونس علیہ السلام ہیں۔ کہیں ان کا نام لیا گیا ہے اور کہیں ”ذو النون “ اور ”صاحب الحوت “ یعنی مچھلی والے کے القاب سے یاد کیا گیا ہے۔ مچھلی والا انہیں اس لئے نہیں کہا گیا کہ وہ مچھلیا ں پکڑتے تھے یا بیچتے تھے بلکہ اس بناءپر کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک مچھلی نے ان کو نگل لیا تھا۔ جیسا کہ سورہ صافات آیت نمبر142میں بیان ہوا ہے۔ 

حضرت یونس علیہ السلام کا اعلان نبوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور بے شک یونس (علیہ السلام )بھی رسولوں میں سے ہیں“(سورہ الصافات آیت نمبر139) اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور حکم دیا کہ نینویٰ کے لوگوں میں جا کر اسلام کی دعوت دیں وہ لوگ بہت سر کش ہو گئے ہیں۔ آپ علیہ السلام نینویٰ میں آئے اور اسلام کی دعوت دینے لگے۔ آپ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت ( توریت) کے مطابق انہیں احکامات اور تعلیمات دیتے تھے۔ محمد لقمان سلفی لکھتے ہیں ۔ آئمہ تفسیر نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ سے حضرت یونس علیہ السلام اور انکی قوم کے بارے میں جو روایتیں نقل کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ موصل شہر کے رہنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نینویٰ شہر والوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا تھا۔ جسے اشود بن نمرود نے بسایا تھا جو حضرت علیہ السلام کے بیٹوں کی اولاد میں سے تھا۔ یہ شہر دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی آبادی چھ لاکھ تھی۔ اس زمانے میں آشوریوں کی قوت اتنی بڑھ گئی تھی کہ ایشیاءکے اکثر علاقے ان کے زیر تصرف آگئے تھے۔ اسی وجہ سے وہ تکبر اور غرور میں مبتلا ہو گئے تھے اور اللہ تعالیٰ سے سر کشی کرنے لگے تھے۔ ان کی ہی ہدایات کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ حضرت یونس علیہ السلام مسلسل انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے ۔ لیکن نینویٰ کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کی دعوت پر توجہ نہیں دی اور مذاق اڑاتے رہے۔ حالانکہ حضرت یونس علیہ السلام بہت جلال والے تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ علیہ السلام انتہائی صبر سے اور نرمی سے شفقت سے سمجھاتے رہے۔ 

قوم کا آپ علیہ السلام کو ستانا

حضرت یونس علیہ السلام محبت اور نرمی سے قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم نے آپ علیہ السلام کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ۔ امام ابن عسا کر لکھتے ہیں کہ حسن بیان کرتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام بنی اسرائیل کے انبیاءمیں سے ایک نبی کے ساتھ تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ حضرت یونس علیہ السلام کو اہل نینوا کی طرف بھیجیں اور ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ ان لوگوں میں توریت کے احکام پر عمل کرانے کے لئے انبیائے علیہم السلام کو مبعوث کیا جاتا تھا۔ اور ا س وقت تک اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت اور حضرت داﺅد علیہ السلام پر زبور نازل فرمائی تھی۔ اس لئے انہی کی تعلیم کی دی جاتی تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام بہت تیز مزاج والے اور جلال والے تھے۔ وہ اہل نینوا کے پاس گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کی تکذیب کی اور نصیحت کو مسترد کر دیا اور ان پر پتھراﺅ کیا اور آپ علیہ السلام کو بستی سے نکال دیا ۔ حضرت یونس علیہ السلام لوٹ کر آئے تو ان سے بنی اسرائیل کے نبی نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام پھر وہاں جائیں اور اسلام کی دعوت دیں ۔ آپ علیہ السلام پھر واپس نینوا آئے اور اسلام کی دعوت دینے لگے۔ قوم نے پھر وہی سلوک کیا اور پتھر مار مار کر بستی سے باہر نکال دیا۔ ایسا تین مرتبہ ہوا اور آپ علیہ السلام باہر نکالے جانے کے بعد پھر سے قوم کے پاس واپس جا کر اسلام کی دعوت دینے لگتے تھے۔ قوم نے ان کی بات تو نہیں مانی لیکن اس مرتبہ پتھراﺅ نہیں کیا اور نہ ہی آپ علیہ السلام کو بستی سے باہر نکالا۔ بلکہ انہوں نے آپ علیہ السلام کو نعوذ باللہ پاگل اور مجنوں کہہ کر مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ ا سکے باوجود آپ علیہ السلام صبر اور محنت سے انہیں سمجھاتے رہے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

02 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام Story of Prophet Yunis and Hazqeel


02 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

قسط نمبر 2

قوم کو برسوں سمجھایا

حضرت یونس علیہ السلام کی دعوت کو ان کی قوم نے ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد بھی آپ علیہ السلام انہیں مسلسل سمجھاتے رہے اور بتاتے رہے کہ جن معبودوں کی تم پوجا کرتے ہو ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کے لائق ہے اور تم لوگ جو اللہ تعالیٰ کے شریک بنا کر ان کی پوجا کرتے ہو اس کا انجام ہمیشہ کی تباہی اور دوزخ کے اندر ٹھکانا ہو گا۔ اسی لئے شرک اور بت پرستی چھوڑ کر صرف ایک اللہ کو اپنا معبود مانو اور صرف اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے اور اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی عطا فرمائے گا۔ اور جنت کے عیش و آرام میں ہمیشہ رکھے گا آپ علیہ السلام برسوں اپنی قوم کو سمجھاتے رہے ۔ پوری قوم آپ علیہ السلام کے اخلاق و کردار سے بہت متاثر تھی اور آپ علیہ السلام کی بہت عزت کرنے لگی تھی۔ لیکن ابلیس شیطان اور اس کے چیلے ان پر حاوی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ حضرت یونس علیہ السلام حق پر ہیں اور سچ فرما رہے ہیں۔ لیکن ابلیس شیطان نے ان کے دلوں میں دنیا کی اور اس کے عیش و آرام کی محبت پید اکر دی تھی اور انہیں دنیاکی محبت کے ذریعے بہکانے میں کامیاب ہو رہا تھا اور ان پر حاوی تھا۔ اسی وجہ سے وہ حق کو پہچان لینے کے باوجود اسے ماننے سے انکار کر رہے تھے۔

دعوت و تبلیغ کا عرصہ

حضرت یونس علیہ السلام نے کتنے عرصہ اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ اکثر علمائے کرام یہی فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے کافی لمبا عرصہ تک دعوت و تبلیغ کاکام کرتے رہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم موصل کی سرزمین نینویٰ کے مقام پر آباد تھی اور وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو ان کی طرف بھیجا اور آپ علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی ۔ اور جن نظریات پر وہ تھے انہیں ترک کرنے کی دعوت دی۔ لیکن انہوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس کہا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام انہیں نو سال تک اسلام کی دعوت دیتے رہے اس کے بعد بھی جب قوم اپنی ضد پر اڑی رہی تو آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ انہیں اطلاع کر دیں کہ تین دن میں ان پر عذاب آنے والا ہے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ، حضرت یونس علیہ السلام جو بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے انبیاءمیں سے ایک نبی ہیں۔ ان کو بابل و نینوا کے نا فرمانوں کی اصلاح و تربیت کے لئے بھیجا گیا تھا۔ بعض روایات کے مطابق حضرت یونس علیہ السلام نے نینوا کے لوگوں کو مسلسل سات سال تک تبلیغ دین فرمائی۔ مگر وہ اپنی کافرانہ اور مشرکانہ حرکتوں سے باز نہیں آئے۔

قوم کو عذاب کی خبر دی

حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کو برسوں سمجھاتے رہے اور ایک عرصہ دراز تک انہیں انتہائی نرمی اور شفقت سے سمجھاتے رہے لیکن جب قوم اپنی ضد پر اڑی رہی اور بدستور کفرو شرک میں مبتلا رہی تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ مفسرین ِ عظام بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو اہل نینویٰ کی راہ نمائی کے لئے بھیجا جو ارض موصل میں ایک شہر ہے۔ آپ علیہ السلام نے انہیں اللہ کی طرف بلایا ۔ لیکن انہوں نے تکذیب کی اور اپنے کفر و عناد میں بڑھتے چلے گئے۔ جب عرصہ دراز گزر جانے کے باوجود بھی ان کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو آپ علیہ السلام انہیں چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے اور تین دن کے بعد عذاب نازل ہونے کی دھمکی بھی دے گئے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام نے نینوا کے لوگوں کو ہر طرح سے سمجھایا کہ وہ کفر و شرک سے توبہ کر لیں مگر ان پر غفلتوں کے پردے پڑے ہوئے تھے اور انہوں نے آپ علیہ السلام کی کوئی بات نہیں سنی۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے پروردگار کی بارگاہ میں عرض کر دیا کہ الٰہی یہ لوگ کسی طرح سے کفر و شرک سے باز نہیں آرہے ہیں۔ اب آپ ان کا فیصلہ فرما دیجئے۔ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں سے زبردستی نہیں کرتا بلکہ ان کو مہلت دیتا رہتا ہے اور ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے۔ جب اللہ کے نبی قوم کے فیصلے کے بارے میں دعا کرتے ہیں تو وہ دعا اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے۔ اور اس قوم کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ دعا کر کے حضرت یونس علیہ السلام نے قوم سے فرما دیا کہ تین دن اور تین رات کی مہلت دی گئی ہے ۔ اگر تم نے توبہ نہیں کی تو اللہ کا عذاب تمہارے اوپر مسلط کر دیا جائے گا۔

قوم آپ علیہ السلام کو سچا مانتی تھی

حضرت یونس علیہ السلام نے قوم نینویٰ یعنی قوم یونس سے صاف صاف فرما دیا تھا کہ تین دن کے بعد تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو جائے گا۔ آپ علیہ السلام کی قوم نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ لیکن وہ لوگ آپ علیہ السلام کو سچا تسلیم کر تے تھے اور یہ مانتے تھے کہ حضرت یونس علیہ السلام کے منہ سے نکلی ہوئی بات یقینا ہو کر رہتی ہے۔ اس لئے قوم کے بڑوں نے مل کر یہ مشورہ کیا کہ ان پر نظر رکھو، اور یہ دیکھو کہ تیسری رات میں آپ علیہ السلام کیا کرتے ہیں؟ اگر تیسری رات بھی آپ علیہ السلام ہمارے درمیان رکے رہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ صرف دھمکی ہے۔ اور اگر آپ علیہ السلام تیسرے دن کی رات میں ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، تو سمجھ لینا کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب سچ مچ تین دن بعد آجائے گا۔ امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے ہیں کہ وہ (قوم یونس) آپس میں کہنے لگے ۔ یہ آدمی( حضرت یونس علیہ السلام ) جھوٹ نہیں بولتا ہے۔ اسی لئے تم اس کی تاک میں رہو، اگر یہ تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان مقیم رہے گا تو پھر تم پر کچھ نہیں آئے گا۔ اور اگر یہ تم سے کوچ کر جائے ( نکل جائے) تو بے شک تم پر عذاب ضرور آئے گا۔

حضرت یونس علیہ السلام چلے گئے

حضرت یونس علیہ السلام کے چلے جانے اور نہیں جانے کو قوم یونس نے عذاب کے آنے اور نہیں آنے کا پیمانہ بنا لیا تھا۔ اس لئے آخری رات کو پوری قوم جاگتی رہی۔ اور یہ دیکھتی رہی کہ آپ علیہ السلام اپنے گھر میں رکے رہتے ہیں یا پھر چلے جاتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے پہلے ہی گھر والوں کو سفر کے لئے تیاری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ آخری رات کومعمول کے مطابق آپ علیہ السلام تہجد کے لئے اٹھے۔ پوری قوم کے لوگ اس رات جاگ رہے تھے ۔ تہجد کے بعد صبح صادق کے وقت اپنی سواری کے جانوروں کو تیار کیا اور گھر والوں کو سوار کر کے اور سامان لاد کر اپنی سواری کے جانور پر سوار ہو کر گھر سے نکلے۔ آپ علیہ السلام کے محلے والوں نے اس مختصر سے قافلے کو روانہ ہوتے دیکھا اور دوسرے محلے والوں کو خبر دی۔ انہوں نے اگلے محلے والوں کو خبر دی۔ اس طرح پورے شہر والوں کو خبر ہو گئی کہ حضرت یونس علیہ السلام اپنے گھر والوں کو لے کر شہر سے باہر چلے گئے ہیں۔ اس طرح تمام شہر والوں کو یقین آ گیا کہ صبح اللہ تعالیٰ کا عذاب ضرور ان کے اوپر آئے گا۔ ادھر شہر سے باہر نکل کر حضرت یونس علیہ السلام ایک محفوظ مقام پر پہنچ کر ایک پہاڑی پر پڑاﺅ ڈال دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے انتظار کرنے لگے۔

اللہ کا عذاب دیکھ کر قوم ڈر گئی

حضرت یونس علیہ السلام شہر سے نکل گئے۔ شہر اتنا بڑا تھا کہ پچاس50ساٹھ کلو میڑ کے رقبے میں پھیلا ہوا تھا۔ اور لاکھوں کی آبادی تھی۔ لیکن صبح ہونے سے پہلے پہلے پورے شہر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ حضرت یونس علیہ السلام شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ پوری قوم بری طرح ڈر گئی اور انہیں یہ یقین ہو گیا کہ صبح اللہ تعالیٰ کا عذاب ضرور آئے گا۔ جب صبح ہوئی تو قوم نے دیکھا کہ آسمان کے کنارے سے کوئی سیاہ چیز ابھر رہی ہے۔ جو دھیرے دھیرے بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ دیکھ کر پوری قوم سمجھ گئی کہ یہی اللہ کا عذاب ہے۔ جو دھیرے دھیرے ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔ قوم کے کمزور دل عوام اور عورتیں اور بچے رونے لگے۔ اور قوم کے بڑے بڑے سرداروں نے فوراً آپس میں میٹنگ کرنے لگے۔ سب سے پہلے انہوں نے طے کیا کہ حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کر کے واپس لایا جائے۔ تا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے عذاب کو ٹالنے کی دعا کریں اور آپ علیہ السلام کی تلاش میں فوراً آدمیوں کو دوڑایا۔ اس کے بعد انہوں نے مشورہ کیا کہ حضرت یونس علیہ السلام کے آنے تک ہم یہ کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کریں اور جو گناہ کئے ہیں ان کی بھر پائی کی کوشش کریں۔ پوری قوم میں اعلان کر دیا گیا ۔ ایک بہت ہی ہنگامی اور نفسا نفسی کی حالت پیدا ہو گئی ۔ لوگوں نے ظلم سے جو مال حاصل کئے تھے وہ واپس کرنے لگے۔ چوروں نے چوری کا مال ان کے مالکوں کو واپس کر دیا اور معافی مانگی۔ پوری قوم کے لوگ ایک دوسرے سے معافی مانگ رہے تھے۔ اور ان کی چیزیں واپس کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں سے دھوکے سے پتھر لے کر اپنے اپنے گھرکی بنیادوں ( پہیّے) میں لگا کر گھر بنائے تھے انہوں نے اپنے گھروں کی بنیادوں کو کھود کر وہ پتھر نکالے اور انکے مالکوں کو واپس کر دیئے۔ اسی دوران حضرت یونس علیہ السلام کی تلاش میں جانے والے واپس آگئے۔ اور بتایا کہ آپ علیہ السلام کہیں نہیں ملے۔ اللہ کا عذاب دھیرے دھیرے قریب آتا جا رہا تھا۔ اور وہ سیاہ چیز مسلسل بڑی ہوتی جا رہی تھی۔ عذاب کو قریب آتا دیکھ کر قوم کا برا حال تھا۔

قوم کی توبہ

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے تمام لوگ عذاب کو آتا دیکھ رہے تھے۔ وہ سیاہ چیز جو کالے گھنے بادل کی طرح تھی وہ انہیں آسمان کے افق سے ایک چھوٹے سے کالے نقطے کی شکل میں نمودار ہوئی تھی۔اور آسمان کو ڈھانکتی جا رہی تھی۔ پھر اس نے سورج کو بھی ڈھانک لیا۔ اور جب سورج اس کی آڑ میں چھپا تو ہر جگہ سایہ ہو گیا۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے سرداروں نے جب دیکھا کہ آپ علیہ السلام کا کہیں پتہ نہیں ہے اور اللہ کا عذاب بھی قریب آتا جا رہا ہے تو انہوں نے پورے شہر میں اعلان کر دیا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر معافی مانگنی ہے اور توبہ کرنا ہے۔ تمام بچوں کو انکی ماﺅں سے الگ کر دو۔ اور تمام لوگ ایک بڑی وادی میں جمع ہو کر معافی مانگو۔ اعلان سنتے ہی پورے شہر میں کاروائی شروع ہو گئی ۔ لگ بھگ پانچ لاکھ سے زیادہ کی آبادی تھی ۔ پورے شہر میں ہا ہا کار مچ گیا۔ بچوں کو ان کی ماﺅں سے الگ کیا گیا تو مائیں اور بچے رونے لگے۔ یہاں تک کہ جانوروں کے بچے بھی الگ کر دیئے گئے۔ یہ دیکھ کر جانور اور ان کے بچے بھی چلانے لگے۔ تمام سرداروں اور مردوں نے عورتوں اور بچوں اور جانوروں کو ساتھ لے لیا۔ اور ایک اونچے پہاڑ کے دامن میں وادی میں جمع ہو گئے اور رو رو کر گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنے لگے اور معافی مانگنے لگے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

03 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام Story of Prophet Yunis and Hazqeel



03 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

قسط نمبر 3

قوم کا اللہ پر ایمان لانا

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم توبہ وا ستغفار میں مشغول تھی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آٹھ سو 800سال پہلے ملک عراق میں ایک قوم سیریا آباد تھی۔ ان کی سلطنت تھی اور اس سلطنت کا مرکزی مقام یعنی دارالخلافہ یا راجدھانی تقریباً پچاس50مربع میل پر پھیلا ہوا ایک شہر” نینوا “ دجلہ کے کنارے شہر موصل کے قریب واقع تھا۔ یہ قوم بہت ظالم اور بت پرست تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام متیٰ کے بیٹے بنی اسرائیل سے ہیں۔ حضرت الیاس علیہ السلام کی دعا سے دوبارہ زندہ ہوئے۔ اٹھائیس سال کی عمر میں نبوت کا تاج عطا فرمایا گیا۔ پھر قوم سیریا کی طرف بھیجا گیا۔ یہ قوم بنی اسرائیل نہیں تھی۔ اس قوم کو ”قوم یونس“ فرمانا امت ہونے کی بنا پر ہے۔ کیوں کہ ہر شخص نبی کی قوم میں شمار ہو تا ہے۔ جو ان کی امت ہوتی ہے۔ چاہے وہ اس کی نسبت برادری اور قبیلہ سے ہو یا نہ ہو۔ اس قاعدے سے قیامت تک کے سب مسلمان آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام نے ان کو ظلم اور بت پرستی چھوڑنے کی تبلیغ فرمائی۔ مگر انہوں نے آپ علیہ السلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا ۔ کافی عرصہ تبلیغ فرماتے رہے مگر ایک بھی مسلمان نہیں ہوا۔ تب آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، یہ تو میرا کہنا نہیں مان رہے ہیں۔ وحی آئی کہ تین دن بعد ان پر عذاب نازل ہو گا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے قوم کو عذاب کے بارے میں بتا دیا۔ تب قوم نے آپ میں مشورہ کیا ۔ بعض نے کہا۔ یہ جھوٹ ہے۔ مگر اکثریت نے کہا کہ اس سے پہلے تو انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ہے۔ ان کی یہ خبرآزمائش کے قابل ہے۔ اگر عذاب کی رات حضرت یونس علیہ السلام ہمارے ساتھ رہے تو سمجھ لینا کہ عذاب کی خبر جھوٹ ہے۔ اور اگر ہمیں چھو ڑکر چلے گئے تو سمجھ لینا کہ تم پر ضرور اللہ کا عذاب آئے گا۔ عذاب کے وعدے والے دن سے پہلی رات کا جب کچھ حصہ گزر گیا تو آپ علیہ السلام بستی سے نکل گئے۔ جب صبح طلوع ہوئی تو بستی والوں نے دیکھا کہ آسمان پر کالی گھٹائیں بڑے خوف ناک طریقے سے چھائی ہیں اور تمام بستی پر عجیب اداسی چھائی ہوئی ہے۔ اور گھٹاﺅں کا اندھیرا لمحہ بہ لمحہ زیادہ گہرا ہو تا جا رہا ہے۔ تب انہوں نے سمجھ لیا کہ اسی بادل میں عذاب ہے۔ اور یہ ہُو کا عالم عذاب ہی کا پیش خیمہ ہے۔ پھر پریشان ہوئے اور دوڑے۔ اور حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کرنے لگے۔ مگر آپ علیہ السلام نہیںملے تو اور بھی انہیں عذاب کا یقین ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا۔ سب بڑے بوڑھے ،عورت مرد، بچے جوان گھروں سے باہر نکل آئے اور ہر شخص ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گیا۔ اولاد ماں باپ سے جدا ، کوئی کسی کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ سب عذاب سے معافی اور سابقہ کفر ، بت پرستی ظلم وغیرہ گناہوں سے سچی توبہ میں مشغول ہو گئے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر رو رو کر گڑ گڑا تے ہوئے عرض کر رہے تھے۔ اے ہمارے معبود ، ہم تیری وحدانیت پر اور تیرے انبیاءکی نبوت و تبلیغ پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں۔ ہم بت پرستی و ظلم سے توبہ کرتے ہیں۔ تو وہ عذاب ان سے ہٹا دیا گیا۔

قوم کی آہ وزاری

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے اللہ کے عذاب کو اپنی طرف آتا دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آہ وزاری کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ جب حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کے خلاف بد دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ صبح کے وقت ان پر عذاب نازل ہو گا۔ تو انہوں نے کہا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے جھوٹ نہیں بولا ہے۔ ہم صبح کے وقت عذاب سے ضرور دوچار ہو ں گے۔ پس آﺅ، تا کہ ہم ہر شئے کے بچوں کو نکالیں۔ ہم انہیں اپنے بچوں کے ساتھ رکھیں گے شاید اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ پس انہوں نے عورتوں کو نکالا ، ان کے ساتھ بچے بھی تھے۔ انہوں نے اونٹ نکالے اور ان کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے۔ انہوں نے گائیں نکالیں اور ان کے ساتھ ان کے بچھڑے بھی تھے۔ انہوں نے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ نکالے اور بچوں کو بھی نکالا۔ پس انہوں نے ان کو اپنے آگے سامنے رکھا اور عذاب آگیا۔ پس انہوں نے عذاب دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لی اور دعا کی۔ عورتیں اور بچے رونے لگے۔ اونٹ اور ان کے بچے بلبلانے لگے۔ گائیں اور ان کے بچھڑے دُکرانے لگے۔ بکرویں اور بھیڑوں اور ان کے بچے ممیانے لگے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا۔ اور عذاب کو ان سے پھیر دیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی اپنی تفسیر تبیان القرآن میں لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ جب حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو سر کشی پر ہی ڈٹا ہوا دیکھا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اور اپنی قوم کو خبر دی کہ تین دن بعد تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے گا۔ اور اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر وہاں سے چلے گئے۔ وہ ایک پہاڑ پر چڑھ کر اہل نینوا کو دیکھنے لگے۔ اور ان پر عذاب کے نازل ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام کی قوم نے جب اللہ کے عذاب کو آتے دیکھا تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ اور ان کو یقین ہو گیا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے سچ فرمایا تھا۔ پھر اس وقت بنی اسرائیل میں ( اہل نینواکے پڑوسی) جو انبیائے کرام تھے ان کی طرف رجوع کیا اور ان سے اس مصیبت کا حل دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت یونس علیہ السلام کو بلاﺅ، وہ تمہارے لئے دعا کریں گے اور ان کی دعا سے اللہ کا عذاب ٹل جائے گا۔ انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا۔ لیکن وہ نہیں ملے۔ تب قوم کے سرداروں نے کہا۔ آﺅ ہم سب مل کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کریں ۔ پھر وہ اپنے تمام مردوں ، عورتوں ، بچوں اور مویشیوں کو لے کر نکلے۔ انہوں نے ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے اپنے سروں پر راکھ ڈال لی۔ اپنے پیروں میں کانٹے بچھائے اور رو رو کر اور گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگے اور توبہ کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے صدق کو دیکھ کر ان کی توبہ قبول فرما لی۔

عذاب بہت قریب آگیا

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم بری طرح رو رو کر توبہ کر رہی تھی۔ اور اللہ کے عذاب کو آتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ عذاب دھیرے دھیرے قریب آتا جا رہا تھا۔ اور قوم کا یہ حال تھا کہ کھانا پینا اور ہر دنیاوی ضروریات کو بھلا کر صرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ میں مصروف تھے۔ علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے اتنے صدق دل سے توبہ کی کہ اگر کسی نے اپنے گھر کی بنیاد میں ایک پتھر بھی نا جائز لگا یا ہوا تھا تو اس نے اپنے گھر کی پوری بنیاد اکھاڑ ڈالی، اور ایک پتھر کے بجائے کئی پتھروں کو نکال کر پھینک دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا عذاب ان سے ایک میل کے دو تہائی فاصلے پر تھا اور یہ بھی روایت ہے کہ وہ ایک میل کے فاصلے پر تھا۔ اور انہیں اللہ کے عذاب نے ڈھانپ لیا تھا اور اس میں سرخی تھی۔ پس وہ مسلسل قریب آتا رہا ۔ یہاں تک کہ قوم کے لوگ اس کی گرمی اپنے کندھوں کے درمیان محسوس کرنے لگے تھے اور حضرت ابن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عذاب نے انہیں اس طرح ڈھانپ لیا تھا کہ جیسے کوئی کپڑا قبر کو ڈھانپ لیتا ہے۔ پس انہوں نے صدق دل سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے عذاب اٹھا لیا۔

اللہ تعالیٰ نے قوم یونس کی توبہ قبول کر کے عذاب روک دیا

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کو اللہ کے عذاب نے ڈھانپ لیا تھا ۔ اور قوم سچے دل سے اور اخلاص سے تڑپ تڑپ کر معافی مانگ رہی تھی۔ کیوں کہ وہ لوگ عذاب کی شدت کو محسوس کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے خلوص کو دیکھ رہا تھا۔ اور آخر کار اس کی رحمت ان کی طرف متوجہ ہوئی۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی اپنی تفسیر انوارا لبیان میں لکھتے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام نینویٰ بستی کے رہنے والوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے جو موصل کی سر زمین (عراق) میں تھے۔ آپ علیہ السلام ان پر محنت کرتے رہے ، ایمان کی دعوت دیتے رہے۔ انہوںنے ایمان قبول نہیں کیا۔ بالا ٓخر آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا۔ تین دن بعد تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا۔ وہ آپس میں کہنے لگے کہ اس شخص نے کبھی جھوٹ نہیں کہا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ تیسری رات کو یہ یہیں رہتے ہیں یا نہیں۔ اگر یہ اس رات کو رہ گئے تو ہم سمجھیں گے کہ عذاب کی صرف دھمکی ہے اور اگر انہوںنے ہمارے ساتھ رات نہیں گزاری تو ہم سمجھ لیں گے کہ صبح عذاب آنے والا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام تیسری رات کو ان کے درمیان سے نکل گئے۔ جب صبح ہوئی تو ان کی قوم نےعذاب کے آثار دیکھ لئے آسمان پر سخت سیاہ بادل چھا گئے اور دھواں نازل ہونے لگا جو ان کے شہر کے اوپر اور گھروں کی چھتوں پر چھا گیا۔ جب انہیں اپنی ہلاکت کا یقین ہو گیا تو ان لوگوں نے آپ علیہ السلام کو تلاش کیا ، لیکن کہیں نہیں پایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو توبہ کی طرف متوجہ پایا۔ وہ اپنی جانوں ، عورتوں ، بچوں اور جانوروں کو لے کر میدان میں نکل گئے۔ ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے اور اخلاص کے ساتھ توبہ کی اور ایمان قبول کیا۔ اور خوب چیخے چلّائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف عاجزی کے ساتھ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے ۔ حضرت یونس علیہ السلام جو کچھ لے کر آئے ہیں ہم اس پر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کی توبہ قبول فرمائی اور عذاب روک لیا۔ اور اس کے بعد ایک زمانہ تک وہ لوگ زندہ رہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیاوی چیزوں کے ذریعے فائدہ پہنچایا۔ ان میں سے ہر شخص دنیا میں اپنی عمر پوری کر کے مرتا رہا۔ اور عذاب کے ذریعے اجتماعی طور پر ہلاکت کا معاملہ طے کیا گیا تھا۔ وہ ختم کر دیا گیا۔ اس طرح حضرت یونس علیہ السلام کی قوم دنیا کی واحد قوم ہے جس نے عذاب کو دیکھ کر توبہ کی اور ان پر سے عذاب ٹل گیا۔

اللہ تعالیٰ نے عذاب کیوں روک دیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں فرمایا۔ ترجمہ ” کوئی بستی ایمان نہیں لائی کہ اس کا ایمان لانا اس کے لئے فائدے مند ثابت ہوتا۔ سوائے یونس (علیہ السلام ) کی قوم کے۔ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے رسوائی کے عذاب کو دنیاوی زندگی میں ان پر سے روک دیا۔ اور ان کو ایک خاص وقت تک کے لئے زندگی سے فائدہ اٹھانے ( کا موقعہ ) دیا۔ (سورہ یونس آیت نمبر98) حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے اللہ کے عذاب کو اپنے اوپر آتا دیکھ کر سچے دل سے توبہ کر لی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان پر سے اپنا عذاب روک دیا۔ یہ واقعہ بتانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کا واقعہ بتایا ہے۔ اور اس میں بتایا کہ فرعون جب عذاب میں مبتلا ہو گیا توتب ایمان لانے کا اقرار کرنے لگا۔ لیکن ایسے وقت کا ایمان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قابل قبول نہیں ہے بلکہ ویسا ایمان اور توبہ قابل قبول ہے جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے کیا۔ اس کے بارے میں مولانا مفتی محمد شفیع نے اپنی تفسیر معارف القرآن میں بہت خوب صورت انداز میں لکھا ہے۔ آپ لکھتے ہیں۔ اس آیت میں ارشاد ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہو کہ منکر قومیں ایسے وقت ایمان لے آتیں کہ ان کا ایمان لانا ان کو نفع دیتا۔ یعنی موت کے وقت یا وقوع عذاب اور مبتلائے عذاب ہو چکنے کے بعد یا قیام قیامت کے وقت جب کہ توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ اور کسی کی توبہ اور ایمان قبول نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے پہلے اپنی سر کشی سے باز آجاتیں اور ایمان لے آتیں ۔ سوائے قوم یونس کے انہوںنے ایسا وقت آنے سے پہلے ہی جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا دیکھا تو فوراً توبہ کر لی اور ایمان لے آئے۔ جس کی وجہ سے ہم نے ان سے رسواءکرنے والا عذاب ہٹا لیا۔ اس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کا عذاب سامنے آجانے پر بھی توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ البتہ آخرت کا عذاب سامنے آجانے کےوقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اور عذاب آخرت کا سامنے آنا یا قیامت کے دن ہو گا یا موت کے وقت۔ چاہے وہ طبعی موت ہو یا کسی دنیاوی عذاب میں مبتلا ہو کر ہو۔ کیوں کہ انہوں نے آگر چہ عذاب آتا ہو ا دیکھ کر توبہ کی ، مگر عذاب میں مبتلا ہو نے اور موت سے پہلے کر لی۔ بخلاف فرعون اور دوسرے لوگوں کے ۔ جنہوں نے عذاب میں مبتلا ہو نے کے بعد اور غرغرہ¿ موت کے وقت تگوبہ کی اور ایمان کا اقرار کیا۔ اس لئے ان کا ایمان معتبر نہیں ہوا۔ اور توبہ قبول نہیں ہوئی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

04 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام Story of Prophet Yunis and Hazqeel



04 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

قسط نمبر 4

حضرت یونس علیہ السلام قوم میں واپس نہیں آئے

حضرت یونس علیہ السلام ایک اونچی پہاڑی پر قیام پذیر تھے۔ اور وہاں سے عذاب آتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اور ادھر قوم کا یہ حال تھا کہ انہوں نے سچے دل سے توبہ کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے عذاب واپس لے لیا۔ ادھر حضرت یونس علیہ السلام اس تحقیق و جستجو میں تھے کہ قوم کے ساتھ کیا حالات پیش آئے؟ علامہ محمد بن جریر طبری اپنی تفسیر طبری میں لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو بستی کی طرف مبعوث فرمایا تو آپ علیہ السلام ان کی طرف اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آئے تو انہوںنے رد کر دیا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی ، میں ان پر فلاں فلاں وقت اپنا عذاب نازل فرما نے والا ہوں۔ ان کے درمیان سے نکل جانا۔ اور اپنی قوم کو بتا دینا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کا وعدہ کیا ہے۔ لوگوں نے کہا۔ تاڑ میں رہنا۔ اگر وہ تمہارے درمیان سے نکل جائے تو انہوں نے جو وعدہ کیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ پورا کرنے والا ہے۔ جب وہ رات آئی جس کی صبح عذاب آنے کا وعدہ کیا گیا تھا تو آپ علیہ السلام رات کو نکل گئے۔ قوم نے انہیں جاتے دیکھ لیا اور وہ ڈر گئے۔ وہ بستی سے کھلی جگہ پر نکلے۔ جانوروں اور ان کے بچوں کو الگ کر دیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ بارگاہ میں آہ وزاری کی ، توبہ کی اور معافی کے طلب گار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر لی۔ حضرت یونس علیہ السلام بستی اور ان کے رہنے والوں کی خبر کے بارے میں منتظر تھے۔ یہاں تک کہ ایک آدمی آپ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کے حالات دریافت فرمائے۔ اس نے جواب دیا۔ جب ان کو پتہ چلا کہ ان کا نبی( علیہ السلام )ان کے درمیان سے نکل گیا ہے۔ تو انہیں یقین ہو گیا کہ ان کے نبی نے جس عذاب کے آنے کا وعدہ کیا تھا وہ ضرور آئے گا۔ اور وہ سچے ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آہ وزاری کی اور توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ اور عذاب کو ان پر سے ہٹا دیا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے فرمایا۔ قوم پر عذاب ہونے کی صورت میں اگر میں ان کے پا س واپس گیا تو جھوٹا کہلاﺅں گا اور میں ایک جھوٹے کی حیثیت سے ان کی طرف نہیں جاﺅں گا۔ اور وہاں سے چلے گئے۔

کشتی رُک گئی

حضرت یونس علیہ السلام کو اپنی قوم کے پاس واپس جانے سے حیا آگئی۔ اور آپ علیہ السلام نے ان سے دور جانے کا فیصلہ کر لیا۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی اپنی تفسیر انوارا لبیان میں لکھتے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام یہ دیکھ کر کہ عذاب نہیں آیا اپنی قوم کو چھوڑ کر روانہ ہو گئے تو چلتے چلتے دریا کے کنارے پہنچے۔ وہاں جو کشتی والے تھے وہ لوگوں کو کرایہ لے کر دوسرے کنارے پر پہنچاتے تھے۔ انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو پہچان لیا۔ وہ آپ علیہ السلام کی اتنی عزت کرتے تھے کہ انہوں نے کرایہ بھی نہیں لیا۔ حالانکہ آپ علیہ السلام نے کرایہ دینے کی بہت کوشش کی لیکن انہوں نے کرایہ نہیں لیا۔ اور آپ علیہ السلام کو سوار کر لیا۔ جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو رک گئی۔ کشتی والوں نے بہت کوشش کی کہ آگے بڑھ جائے، لیکن وہ وہیں رکی رہی۔ کشتی والوں نے کہا کہ جو لوگ کشتی میں سوار ہیں ، ان میں کوئی ایسا شخص ہے کہ جس کی وجہ سے یہ بیچ دریا میں رک گئی ہے۔ اور بعض روایات میں آیا ہے کہ جب حضرت یونس علیہ السلام نے دیکھا کہ کشتی دریا کے درمیان رکی ہوئی ہے ۔ جب کہ دوسری کشتیاں ان کے دائیں اور بائیں سے گزر رہی ہیں اور ان کی کشتی نہ چلانے سے چل ہی ہے اور نہ ہلانے سے ہل رہی ہے۔ آپ علیہ السلام نے خود دریافت فرمایا کہ اس کشتی کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ہمیں تو پتہ نہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ لیکن مجھے اس کا سبب معلوم ہے۔ اس میں کوئی ایسا غلام ہے جو اپنے آقا کی فرمانبرداری چھوڑ کر بھاگ آیا ہے۔ اور جب تک اس شخص کو تم سمندر میں نہیں ڈال دو گے تب تک یہ کشتی رکی رہے گی۔ اور وہ بھاگا ہوا غلام میں ہوں۔ (آپ علیہ السلام نے یہ اس لئے فرمایا کہ وہ جانتے تھے کہ اب ایمان لاچکی قوم کے پاس جا کر ان کی کردار سازی اور تعلیم و تربیت کرنا چاہیئے تھا لیکن حیا کی وجہ سے آپ علیہ السلام نہیں گئے) تم لوگ ایسا کرو، مجھے دریا میں ڈال دو۔ لوگوں نے کہا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، ہم آپ علیہ السلام کو دریا میں نہیں ڈال سکتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اچھا تو پھر قرعہ ڈال لو۔ جس کے نام کا قرعہ کھلے گا۔ اسے دریا میں ڈال دینا۔ قرعہ ڈالا گیا تو حضرت یونس علیہ السلام کا نام کھلا۔

دریا میں چھلانگ لگا دی

حضرت یونس علیہ السلام کے نام کا قرعہ کھلا، تو آپ علیہ السلام دریا میں کودنے کی تیاری کرنے لگے تو لوگوں نے پکڑ لیا۔ اور کہا۔ حضرت پھر سے قرعہ ڈالتے ہیں۔ دوسری مرتبہ بھی آپ علیہ السلام کا ہی نام کھلا۔ لوگوں نے کہا کہ ایک مرتبہ اور قرعہ ڈالتے ہیں۔ تیسری مرتبہ بھی آپ علیہ السلام کا ہی نام کھلا۔ یہاں ہم آپ کو بتا دیں کہ ہم لوگ نام ڈال کر قرعہ اندازی کرتے ہیں لیکن پہلے زمانے میں ایسا نہیں تھا۔ کشتی والوں نے تیر کے ذریعے قرعہ اندازی کی۔ اور یہ طے ہوا کہ جس تیر ڈوب جائے گا اسے پانی میں پھینک دیا جائے گا۔ تمام لوگوں نے اپنے اپنے تیر پانی میں ڈالے تو سب کے تیر تیرتے رہے اور حضرت یونس علیہ السلام کا تیری پانی میں ڈوب گیا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام دریا میں کودنے لگے تو لوگوں نے پکڑ لیا۔ کیوں کہ سب لوگ جانتے تھے کہ آپ علیہ السلام انتہائی نیک، سچ بولنے والے اور ہمیشہ لوگوں کی مدد کرنے والے ہیں۔ لوگوں نے کہا۔ حضرت رک جائیے۔ یہ اتفاق سے ہو گیا ہوگا۔ ہم پھر قرعہ ڈالتے ہیں۔ اس مرتبہ جس کا تیر پانی پر تیر تا رہ جائے گا اسے پانی میں پھینک دیا جائے گا۔ تمام لوگوں نے اپنے اپنے تیر پھر سے پانی میں ڈالے۔ اس مرتبہ سب لوگوں کے تیر پانی میں ڈوب گئے اور آپ علیہ السلام کا تیر پانی پر تیرتا رہا۔ تمام لوگ آپ علیہ السلام کی اتنی عزت کرتے تھے کہ ان کا دل اس بات کو قبو ل نہیں کر پا رہا تھا۔ انہوں نے پھر کہا۔ ایک مرتبہ اور قرعہ نکالتے ہیں۔ تیسری مرتبہ بھی آپ علیہ السلام کے نام ہی قرعہ کھلا۔ آپ علیہ السلام ان کی محبت دیکھ چکے تھے۔ اس لئے اس سے پہلے کہ وہ لوگ سمجھ پاتے ۔ آپ علیہ السلام نے بغیر کسی سے کچھ کہے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ اور پانی میں کود گئے۔

مچھلی نے نگل لیا

حضرت یونس علیہ السلام نے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ کئی روایات میں آیا ہے کہ وہ دریا دجلہ تھا۔ اب کون سا دریا تھا، یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ بہر حال آپ علیہ السلام پانی میں کودنے کے بعد کنارے کی طرف تیرنے لگے۔ دریا بہت بڑا تھا اور کنارہ بہت دور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو نگل لے۔ لیکن ان کو کوئی زخم نہیں آنا چاہیے۔ اور وہ ایک امانت کے طور پر تمہارے پیٹ کے اندر رہیں گے۔ اور جب میں تمہیں جہاں اگلنے کا حکم دوں گا ، وہاں اسے اُگل دینا۔ حضرت یونس علیہ السلام پانی میں تیر رہے تھے۔ آپ علیہ السلام کے پانی میں کودتے ہی وہ کشتی چلنے لگی تھی۔ اس کے باوجود کشتی پر سوار سب لوگ آپ علیہ السلام کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ کہ اچانک پانی میں سے بہت تیزی سے ایک بہت بڑی مچھلی ابھری اور اس نے آپ علیہ السلام کو زندہ نگل لیا۔ یہ ہولناک منظر دیکھ کر سب لوگ شدید خوف سے چلّا اٹھے۔ اور کشتی کو تیزی سے چلانے لگے۔ تا کہ اس خوفناک مچھلی سے دور ہو جائیں۔ ادھر مچھلی نے آپ علیہ السلام کو نگلنے کے بعد اپنا رخ بدل لیا۔ اور پانی کے اندر جا کر تیزی سے تیرنے لگی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ جب مچھلی کے پیٹ میں آپ علیہ السلام پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی سے فرمایا۔ اے مچھلی، ہم نے یونس (علیہ السلام ) کو تیرا رزق نہیں بنایا ہے۔ بلکہ ہم نے تجھے اس کے لئے پناہ گاہ اور مسجد بنایا ہے۔ مچھلی انہیں اپنے پیٹ میں لئے تیرتی رہی ۔ یہاں تک کہ ابلہ سے گزری۔ پھر وہ انہیں لے کر چلی، یہاں تک کہ دجلہ کے پاس سے گزری ، پھر وہ چلی، یہاں تک کہ نینویٰ پہنچی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے کنارے پر اُگل دیا۔

مچھلی کے پیٹ میں اللہ کا ذکر اور تسبیح

حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی نے نگل لیا۔ اور ادھر ادھر تیرتی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں آپ علیہ السلام کے لئے ہوا اور رزق کا انتظام کر دیا تھا۔ دن میں مچھلی چلتی رہتی تھی۔ اور رات میں پانی کی تہہ میں جا کر بیٹھ جاتی تھی۔ رات میں آپ علیہ السلام تین اندھیروں میں ہوتے تھے۔ پہلا اندھیرا رات کا ، دوسرا اندھیرا پانی کا، اور تیسرا اندھرا مچھلی کے پیٹ کے اندر کا ہوتا تھا۔ ان اندھیروں میں بھی آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کرتے رہتے تھے۔ امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی اپنی تفسیر میں علامہ محمد بن جریر طبری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام کو عبوس کرنے کا ارادہ فرمایا تو مچھلی کو حکم دیا کہ اسے پکڑ لے۔ اس کے گوشت کو خراش نہیں لگانا اور اس کی ہڈی کو نہیں توڑنا۔ مچھلی نے آپ علیہ السلام کو پکڑ لیا۔ اور پھر رات میں سمندر کی تہہ میں اپنے مسکن میں جا بیٹھی۔ جب وہ سمندر کے انتہائی گہرے حصہ میں پہنچی تو حضرت یونس علیہ السلام نے کچھ آواز سنی۔ اور دل میں اللہ تعالیٰ سے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، یہ کیسی آواز ہے؟ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کیطرف وحی فرمائی۔ جب کہ وہ مچھلی کے پیٹ کے اندر تھے کہ یہ سمندری مخلوق کی تسبیح ہے ۔ یہ سنتے ہی آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں ہی اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کرنے لگے۔

حضرت یونس علیہ السلام کے لئے فرشتوں کی دعا

حضرت یونس علیہ السلام نہایت خشوع خضوع سے مچھلی کے پیٹ کے اندر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کر رہے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی تسبیح کی آوازمچھلی کے پیٹ سے نکل کر سمندر کے پانی کو پار کرکےآسمانوں میں فرشتوںکو سنائی دے رہی تھی۔امام محمد بن احمد قرطبی ،علامہ محمد بن جریر طبری کے حوالے سے لکھتے ہیں۔کہ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تسبیح کر رہے تھے،اور آپ علیہ السلام کی تسبیح کی آواز جب فرشتوں نے سنی تو اﷲ تعالیٰ بارگاہ میں عرض کیا؛”اے ہمار ے رب!ہم ایک اجنبی علاقہ سے کسی انسان کی مدھم اور کمزور سی تسبیح سن رہے ہیں۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”وہ میرا نیک اور مخلص بندہ یونس (علیہ السلام) ہے،اور اِس وقت ایک مچھلی کے پیٹ کے اندر سے میری تسبیح کر رہا ہے۔“فرشتوں نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !تیرا وہ نیک بندہ جس کے نیک اعمال ہر روز تیری بارگاہ میں بلند ہوتے تھے؟“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ہاں!یہ وہی نیک اور مخلص بندہ ہے۔“یہ سن کر فرشتوں نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت یونس علیہ السلام کے لئے دعا کرنی شروع کر دی۔اُن کی دعا کو سن کر دوسرے فرشتے بھی آپ علیہ السلام کے لئے دعا کرنے لگے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

05 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہم السلام Story of Prophet Yunis and Hazqeel



05 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہم السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

قسط نمبر 5

حضرت یونس علیہ السلام کی تسبیح

حضرت یونس علیہ السلام مسلسل مچھلی کے پیٹ میں اﷲ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کر رہے تھے۔اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہا،جب تک آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ کے اندر رہے۔آخر وہ کون سی تسبیح تھی،جس نے آپ علیہ السلام کو اتنی فضیلت اور بلند مرتبہ عطا فرمایا۔وہ تسبیح”لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین“تھی۔جس کا اردو ترجمہ ”اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،وہ پاک ہے،اور میں ظالموں(یا اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں)میں سے ہوں۔“حضرت یونس علیہ السلام ہر حال میں چاہے وہ خوشی کا وقت ہو یا غمی کا وقت ہو،ہر وقت میں اﷲ تعالیٰ کی پاکی کرتے رہتے تھے۔اِسی لئے مچھلی کے پیٹ میں بھی اﷲ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے لگے۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آرام اور راحت کے وقت اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرو توسختی اور بے چینی کے وقت میں وہ تمہاری مدد کرے گا۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کے پابند نہ ہوتے،اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے ،اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ”لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین“ کی تسبیح نہ کرتے تو مچھلی کے پیٹ سے رہائی نہ ملتی۔اِسی لئے قرآن پاک کی آیتوں میں ہے کہ اُس نے(حضرت یونس علیہ السلام نے)اندھیروں میںیعنی(رات کا اندھیرا،پھر پانی کے اندر کا اندھیرا،پھر مچھلی کے اندر کا اندھیرا)یہی کلمات کہے ۔اور ہم نے اُن کی دعا قبول فرما کر غم سے نجات دی،اور اِسی طرح مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔امام ابن حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں اِن کلمات کو کہا تو یہ دعا اﷲ تعالیٰ کے عرش کے اِرد گِرد منڈلانے لگی،اور فرشتوں نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !یہ آواز تو کہیں بہت دور سے آرہی ہے۔اِس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرورلیکن ہم اِس آواز کا پہچان نہیں پارہے ہیں۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”توجہ کرو ،اور بتاو¿!یہ کس کی آواز ہے؟“فرشتے پوری طرح ہوئے اور پھر عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !ہم نہیں پہچان سکے۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”یہ میرے نیک اور مخلص بندے یونس (علیہ السلام) کی آواز ہے۔‘]فرشتوں نے عرض کیا؛”وہی یونس علیہ السلام ،جن کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟اے اﷲ تعالیٰ اُن کی دعا ضرور قبول فرمائیں ،اور اُن کی ضرور مدد کریں ۔کیونکہ خوشحالی اور آسانی میں یہ ہمیشہ آپ کی تسبیح بیان کرتے رہتے تھے۔اﷲ تعالیٰ !انہیں نجات عطا فرما۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ہاں !میں انہیں ضرور نجات عطا فرماو¿ں گا۔“

مچھلی نے اُگل دیا

حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تسبیح بیان کر رہے تھے،اور مچھلی انہیں لیکر سمندر میں تیرتی پھر رہی تھی۔حضرت یونس علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے ایک ایسا اعزاز عطا فرمایا ہے کہ پوری کائنات میں کسی کو یہ اعزاز عطا نہیں ہوا۔وہ یہ کہ آپ علیہ السلام نے ایسی جگہ اﷲ تعالیٰ کی تسبیح بیان فرمائی ہے کہ کسی نے اُس جگہ تسبیح نہیں کی ہے،اور وہ جگہ مچھلی کا پیٹ ہے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر رحم فرمایا،اور مچھلی کو حکم دیا کہ اب حضرت یونس علیہ السلام کو زمین پر اُگل دو۔مچھلی نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی،اور آپ علیہ السلام کو اُن کی قوم کے قریبی ساحل پر اُگل دیا۔آپ علیہ السلام کتنے دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے؟اَس بارے میں مختلف روایات امام محمد بن احمد قرطبی لکھتے ہیں۔اِس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ آپ علیہ السلام کتنا عرصہ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔امام قلبی،امام سدی اور امام مقاتل بن سلیمان کے مطابق مچھلی کے پیٹ میں چالیس(40)دن رہے۔امام ضحاک کے مطابق بیس (20)دن ،اور امام عطا کے مطابق سات (7) دن،اور امام مقاتل بن حبان کے مطابق تین (۳)دن ،اور ایک اور قول کے مطابق ایک ساعت مچھلی کے پیٹ میں رہے۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔جب تک اﷲ تعالیٰ کا حکم رہا،تب تک وہ مچھلی آپ علیہ السلام کو لیکر تیرتی رہی۔پھر جب اﷲ تعالیٰ کا حکم ہوا تو مچھلی نے آپ علیہ السلام کو زمین پر اُگل دیا۔ایک روایت کے مطابق مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو موصل کے ایک دیہات کے ساحل پر اُگل دیا۔

اﷲ تعالیٰ نے سایہ اور رزق عطا فرمایا

اﷲ تعالیٰ کے حکم سے مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو ساحل پر اُگل دیا۔آپ علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ سے نکلے تو ایک دن کے بچے سے بھی زیادہ نرم اور لجلجے ہوچکے تھے۔ایک دن کے بچے کے ہاتھوں اور پیروں کی ہڈیاں ،پسلیاں اور سر کی ہڈیاں ذرا سخت ہوتی ہیں۔لیکن آپ علیہ السلام کی وہ سب ہڈیاں بھی انتہائی نرم ہو چکی تھیں،اور حالت یہ تھی کہ آپ علیہ السلام حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ایسے وقت میں اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے سایہ کا انتظام پہلے ہی کر دیا تھا۔اور جس جگہ مچھلی نے آپ علیہ السلام کو اُگلا تھا،اُس جگہ اﷲ تعالیٰ نے پہلے سے ہی چوڑے پتوں والی ”بیل“یا ”درخت“لگا دیا تھا۔اور اُس جگہ مسلسل سایہ رہتا تھا،اس کے علاوہ اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے رزق کا بھی انتظام کر دیا تھا۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں حضرت یونس علیہ السلام کو اُگل دے،اور اُس نے اگل دیا۔اور وہیں پر اﷲ تعالیٰ نے اُن پر اُن کی نحیفی،کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاو¿ں کے لئے کدو کی بیل اُگا دی،اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا۔جو صبح شام آپ علیہ السلام کے پاس آجاتی تھی،اور آپ علیہ السلام اُس کا دودھ پی لیتے تھے۔امام محمد بن احمد قرطبی لکھتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو خالی جگہ پر اُگل دیا۔اور اﷲ تعالیٰ نے اُن پر کدو کی بیل اُگا دی۔اور اﷲتعالیٰ نے ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا،جو امین پر گھاس پھونس چرتی تھی،اور اُن پر آکر اپنی ٹانگیں پھیلا دیتی تھی۔اور صبح شام آپ علیہ السلام کو دودھ پلایا کرتی تھی،یہاں تک کہ آپ علیہ السلام طاقتور ہو گئے۔

تمام بال اور ناخن جھڑ گئے تھے

اﷲتعالیٰ نے جب مچھلی کو حکم دیا کہ حضرت یونس علیہ السلام کو زمین پر اُگل دے تو وہ ساحل پر آئی ۔جس جگہ مچھلی ساحل پر آئی تھی،اُس جگہ اﷲتعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیج دیا۔مچھلی منہ کھولے ہوئی تھی،اور آپ علیہ السلام اُس کے منہ میں اﷲ تعالیٰ کی تسبیح بیان فرما رہے تھے۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔مچھلی دریا کے کنارے آئی اور جبرئیل علیہ السلام مچھلی کے منہ کے قریب پہنچے ،اور فرمایا؛”السلام علیک یانبی علیہ السلام!اﷲ رب العزت آپ علیہ السلام کو سلام کہتا ہے۔“حضرت یونس علیہ السلام نے فرمایا؛”اُس آواز کے لئے مرحبا ہو،جس آواز کے متعلق میرا گمان تھا کہ اب وہ مجھے نہیں سنائی دے گی۔“جبرئیل علیہ السلام نے مچھلی سے فرمایا؛”تم اﷲ تعالیٰ کا نام لیکر حضرت یونس علیہ السلام کو اُگل دو۔“مچھلی نے آپ علیہ السلام کو اُگلا تو جبرئیل علیہ السلام نے اُن کو اپنی گود میں لے لیا۔اُس وقت آپ علیہ السلام کا جسم مبارک اِس طرح ملائم تھا،جیسے نوازئیدہ بچہ کا ہوتا ہے۔مچھلی کے پیٹ کی گرمی کی وجہ سے آپ علیہ السلام کے تمام بال اور ناخن جھڑ گئے تھے،اور جلد بہت زیادہ ملائم ہو گئی تھی۔آپ علیہ السلام چالیسیا پچاس دن میں اتنے طاقتور ہو گئے کہ قوم کے پاس واپس جاسکیں۔

قوم نے استقبال کیا

حضرت یونس علیہ السلام جب طاقتور ہو گئے تو اپنی قوم کی طرف واپس چلے۔جب نینویٰ کے قریب پہنچے تو ایک چرواہے نے آپ علیہ السلام کو دیکھ لیا اور پہچان لیا۔اُس نے آپ علیہ السلام سے یہ درخواست کی کہ مجھے یہ اعزاز دیں کہ میں اپنی قوم کو آپ علیہ السلام کی آمد کی خش خبری سناو¿ں۔آپ علیہ السلام نے اجازت دے دی،اور وہیں رک گئے۔چرواہا خوشی خوشی اپنی بکریوں کو لیکر اپنی قوم کے پاس آیا۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ایک چرواہے نے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے پاس جاکر خبر دی کہ اُس نے ا ﷲکے نبی حضرت یونس علیہ السلام کو دیکھا ہے۔لوگوں نے اُس کو جھٹلایا،تب اُس نے کہا کہ میرے پاس دلیل ہے۔اﷲ تعالیٰ نے اُس کی بکری کو گویائی (بولنے کی طاقت)دےدی،اور اُس نے کہا؛”ہاں!انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اُن کے حق میں گواہی دوں۔“پھر اُن کی قوم چرواہے کے ساتھ اُس وادی میں گئی تو دیکھا کہ حضرت یونس علیہ السلام نماز پڑھ رہے ہیں۔پوری قوم آپ علیہ السلام کو دیکھ کر رونے لگی،اور آپ علیہ السلام سے درخواست کرنے لگی کہ ہم آپ علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں،اِس لئے آپ علیہ السلام ہمارے ساتھ چلیں،اور ہمیں اسلام کی تعلیم دیں،اور ہماری تربیت کریں۔پھر وہ سب آپ علیہ السلام کو اپنے ساتھ لیکر اپنے شہر میں آئے۔اﷲ تعالیٰ نے اُن پر آسمان سے برکت برلتیں نازل فرمائیں،اور زمین کے خزانے کھول دیئے۔حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کو اﷲ تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ کرتے رہے،اور اُن کے لئے سنتیں اور شریعتیں قائم کیں۔

حضرت یونس علیہ السلام کا وصال

حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم میں کافی عرصہ رہے۔جب تک اﷲ تعالیٰ نے چاہا،تب تک آپ علیہ السلام اپنی قوم کو تعلیم وتربیت دیتے رہے،اور اﷲ کے حکامات نافذ کرتے رہے۔اِس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لیا۔حضرت یونس علیہ السلام کےوصال کے بارے میں احادیث اور مستند روایات میں کوئی تفصیل مذکور نہیں ہے۔ہاں کچھ روایات سے معلوم ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام نے حج کیا ہے۔لیکن وصال کب اور کہاں ہوا ؟اِس کے بارے میں یقینی بات نہیں کہی جاسکتی ہے۔


حضرت یونس علیہ السلام کو ذکر مکمل ہوا ۔اب حضرت حزقیل علیہ السلام کا ذکر ہیش خدمت ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

06 حضرت یونس اور حضرت حزقیل Story of Prophet Yunis and Hazqeel علیہم السلام



06 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہم السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

قسط نمبر 6

حضرت حزقیل علیہ السلام 

حضرت حزقیل علیہ السلام کا زمانہ

حضرت حزقیل علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی ہیں،اِس پر تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے۔لیکن اُن کے زمانے کے متعلق اختلاف ہے،کچھ علمائے کرام کے مطابق حضرت یوشع علیہ السلام کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام مبعوث ہوئے۔اور پھر اُن کے بعد لگ بھگ چارسو ساٹھ(460)سال تک بنی اسرائیل میں کوئی نبی نہیں آئے۔پھر اﷲ تعالیٰ نے حضرت شموئیل علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔کچھ علمائے کرام کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔اور حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں آیا ہے۔چونکہ ہم بھی حضرت حزقیل علیہ السلام کا ذکر حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد کر رہے ہیں۔اِس لئے یہاں ہم آپ کی خدمت میں پہلے بنی اسرائیل کے حالات بیان کریں گے ،پھر انشاءاﷲ حضرت حزقیل علیہ السلام کا ذکر شروع کریں گے۔

بنی اسرائیل میں تفرقہ

اِس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت الیاس علیہ السلام اور حضرت یسع علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے ہیں کہ بنی اسرائیل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد تفرقہ پڑ گیا تھا۔اور حکومت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ایک حکومت کا نام ”سلطنت یہودیہ “تھا،اور دوسری حکومت کا نام ”سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ “تھا،جس کانام بعد میں بدل کر ”سلطنت سامریہ “رکھ دیا گیا تھا۔حضرت الیس علیہ السلام کے ذکر میں ہم نے ”سلطنت اسرائیل یا سامریہ“ کا تفصیل سے ذکر کیا تھا ۔کیونکہ حضرت الیاس علیہ السلام کا زیادہ وقت ”سلطنت اسرائیل یا سامریہ “میں گزرا تھا۔،اور بہت کم وقت ”سلطنت یہودیہ “میں گزرا تھا۔اِسی لئے ہم نے سلطنت یہودیہ کا ذکر کم کیا تھا۔یہاں ہم انشاءاﷲ ’[سلطنت یہودیہ “کا ذکر تفصیل سے کریں گے ۔اور اگر آپ کو ’[سلطنت اسرائیل یا سامریہ “کے تفصیلی حالات دیکھنے ہوں تو آپ ہماری کتاب ”حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام “کا مطالعہ کریں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالات

حضرت سلیمان علیہ السلام نے کسی کو اپنا جانشین نہیں بنایا تھا۔اِسی لئے آپ علیہ السلام کے وصال کے بعد بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کے بیٹے رجعام بن حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنا بادشاہ بنا لیا،یہ بہت ہی نااہل اور مطلب پرست تھا۔بادشاہ بننے کے بعد رجعام نے بیت المقدس،بیت اللحم ،غزہ (غازہ)صور اور ایلہ کی عمارتو ں کی توسیع کی۔لیکن وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنے لگاتھا،اور اُن پر بہت زیادہ ٹیکس لاد دیئے تھے۔بنی اسرائیل نے ٹیکسوں میںکمی اور رعایت کی مانگ کی تو اُس نے رعایت کرنے کے بجائےٹیکس اور زیادہ بڑھا دیئے۔جس کی وجہ سے عوام یعنی بنی اسرائیل اُس سے بد ظن ہو گئے،اور اکثریت اُس کے خلاف ہو گئی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت دو حصوں میں تقسیم

حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور ِنبوت اور حکومت میں ”بیت المقدس“(یروشلم)سلطنت کا مرکذ تھا،رجعام کے وقت بھی یہی مرکذتھا۔لیکن اُس کے دور ِ حکومت کے درمیان ہی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ہوا یہ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دورِ حکومت میں اُن کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے آپ علیہ السلام کے خلاف بغاوت کرنے کی کوشش کی تھی۔جسے آپ علیہ السلام نے سختی سے کچل دیا تھا،اُس باغی کا نام یُربعام بن نباط تھا۔وہ جان بچا کر ملک مصر بھاگ گیاتھا،اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال تک وہیں رہا۔لیکن جب اُسے یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رجعام سے بد ظن ہو گئے ہیں تو وہ” ملک کنعان “واپس آیا۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ فلسطین،لبنان،اُردن اُس وقت ملک کنعان میں آتے تھے۔بعد میں ملک کنعان ختم کر دیا گیا،اور یہ علاقے ”ملک شام“میں ضم ہو گئے۔پھر یہودیوں اور عیسائیوں نے انہیں الگ الگ ملکوں کی شکل دے دی۔)اور بنی اسرائیل کے دس قبیلوں نے اُسے اپنا بادشاہ بنا لیا،اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔رجعام ”بیت المقدس“اور آس پاس کے علاقوں کا حکمراں تھا،اور بنی اسرائیل کے صرف دو قبیلوں بنو یہودا اور بنو بن یامن پر اُس کی حکومت تھی۔اُس نے اپنی سلطنت کا نام ”سلطنت یہوداہ یا یہودیہ “رکھا۔اور بقیہ فلسطین،لبنان ،اُردن اور ملک شام کے کچھ علاقوںپر یُربعام بن نباط کی حکومت تھی۔اور اُس نے اپنی سلطنت کا نام ”سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ“رکھا،جو آگے چلکر ”سلطنت سامریہ“کے نام سے مشہور ہوئی۔اب یہ حالت ہو گئی تھی کہ بنی اسرائیل دو حصوں میں بٹ گئے تھے،اور دو حکومتیں چل رہی تھیں۔

بنی اسرائیل میں بت پرستی

اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا کہ وہ ہر حال میں صرف اﷲ تعالیٰ کی ہی عبادت کریں گے۔لیکن بنی اسرائیل (یہودی) اتنے بدبخت ہیں کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے کوئی بُت بنادیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ڈانٹا تو وہ خاموش بیٹھ گئے تھے۔لیکن جب آپ علیہ السلام چالیس دنوں کے لئے “کوہ طور“پر توریت لانے کے لئے تشریف لے گئے تو یہ بد بخت بنی اسرائیل چالیس دن بھی صبر نہیں کر سکے تھے۔اور سامری نے بچھڑے کا بُت بنایا تو یہ اُس کی پوجا کرنے لگے تھے۔ایسا ہی معاملہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال کے بعد پیش آیا۔اور یربعام بن نباط نے سونے کے دو بچھڑوں کے بُت بنوائے،ایک کا ”بیت ایل“میں مندر بنوایا،اور دوسرے کا بنو دان کے علاقے میں مندر بنوایا۔اور سلطنت اسرائیل یا اسرئیلیہ “کے بنی اسرائیل اِن بتوں کی پوجا کرنے لگے۔اُن کے اثرات سلطنت یہودیہ میں بھی پڑے ،اور وہاں بھی بُت پرستی ہونے لگی۔

ایبا سلطنت یہوداہ یا یہودیہ کا بادشاہ

حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ”اسرائیل“ہے ،اور آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی اور ”بنی اسرائیل“کہلائی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور پھر حضرت یوشع علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل متحد رہے۔پھر اُن میں پھوٹ پڑ گئی،اس کے سینکڑوں برس بعد حضرت داو¿د علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں ایک مرتبہ پھر بنی اسرائیل متحد ہو گئے تھے۔لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بکھر گئے۔سلطنت یہودیہ کے حکمراں رجعام کی حکومت کے پانچویں سال میں ملک مصر کے بادشاہ سیسق نے یروشلم(بیت المقدس) پر حملہ کر کے ہیکل سلیمانی اور شاہی محل کے سارے خزانے لوٹ کر لے گیا۔جن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی بنوائی ہوئی دو سو سونے کی ڈھالیں بھی بھی تھیں۔رجعام نے اُن کی جگہ پیتل کی ڈھالیں بنوایں ،اور اُن کی جگہ رکھوا دی۔اُدھر یُربعام نے سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ پر آرام سے حکومت کر رہا تھا۔ملک مصر کا بادشاہ سیسق اُس کا دوست تھا،اور اُسی کے اُکسانے پر اُس نے سلطنت یہوداہ یا یہودیہ پر حملہ کیا تھا۔رجعام اور یُربعام میں اکثر جنگ ہوتی تھی ،اور دونوں طرف سے بنی اسرائیل مرتے تھے۔رجعام نے سترہ (۷۱) سال حکومت کی ،اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا ایبا بن رجعام سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا۔اپنے باپ رجعام کی طرح ایبا بھی ظالم اور نااہل تھا۔اُس کی بیوی بُت پرست تھی،اور اُس کی وجہ سے ایبا بھی بُت پرستی میں مبتلا ہو گیا۔اور سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ کے بادشاہ یُربعام کی طرح اُس نے بھی سلطنت یہودیہ میں بتوں کی پوجا شروع کرواد ی۔اِس طرح بنی اسرائیل کی دونوں سلطنتوں میں بُت پرستی ہونے لگی۔

آسا سلطنت یہودیہ کا بادشاہ 

بنی اسرائیل میں دو متوازی سلطنتیں چل رہیں تھیں،پہلی سلطنت یہودیہ جو بنی اسرائیل کے دو قبیلوں بنو یہودا اور بنو بن یامن پر مشتمل تھی۔اور دوسری سلطنت اسرائیل یا اسرائیلہ جو بنی اسرائیل کے دس قبیلوں پر مشتمل تھی۔سلطنت اسرائیل یا اسرائیلہ کے تفصیلی حالات ہم نے ”حضرت الیا س علیہ السلام “کے ذکر میں بیان کئے ہیں۔اگر آپ وہ حالات جاننا چاہتے ہیں تو ہماری کتاب”حضرت الیس علیہ السلام اور حضرت یسع علیہ السلام “کا مطالعہ کریں۔یہاں ہم صرف سلطنت یہوداہ یا یہودیہ کے تفصیلی حالات بیان کریں گے۔ایبا بن رجعام نے صرف تین سال حکومت کی،اور اُس کا سب سے بُرا کام یہ تھا کہ اُس نے سلطنت یہودیہ میں بُت پرستی رائج کر دی تھی۔اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا آسا بن ایبا سلطنت یہادیہ کا بادشاہ بنا۔جس وقت یہ بادشاہ بنا تو اُس وقت یربعام کو سلطنت اسرائیل پر حکومت کرتے ہوئے بیس سال ہو چکے تھے۔آسا نے بُت پرستی کا خاتمہ کردیا۔آسا بن ایبا ایک نیک اور اچھا انسان تھا۔اُس نے سلطنت یہودیہ میں بُت پرستی کا خاتمہ کیا،اور اﷲ تعالیٰ کے احکامات نافذ کئے ۔اُس کے دادا رجعام اور باپ ایبا کے دورِ حکومت میں جنس پرستوںکا بہت زور ہو گیا تھا۔آسا نے انہیں ملک بدر کر دیا ،اور جو نہیں گئے انہیں قتل کردیا۔سلطنت یہودیہ کے تمام مندروں اور بتوں کو توڑ دیا،اور اﷲ کی حکومت کا اعلان کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ایبا بُت پرست انسان تھا ،وہ اﷲ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتا تھا۔اور لوگوں کو بھی اُن کی پوجا کی طرف بلاتا تھا،جس کی وجہ سے بنی اسرائیل کے اکثر لوگ گمراہ ہوئے تھے۔وہ موت تک بتوں کی پوجا کرتا رہا،اُس کے بعد اُس کا بیٹا آسا بن ایبا بادشاہ بنا تو اُس نے اعلان کرایا کہ کفر اپنے ماننے والوں کے ساتھ ختم ہوگیا۔بتوں کو توڑ دیا گیا،اور ایمان اپنے پیرو کارںوں کے ساتھ زندہ ہوگیا۔اور اﷲ کی اطاعت نظر آنے لگی ۔ اُس نے اعلان کیا کہ آج سے کوئی کافر میری حکومت میں سر اُٹھائے گاتو میں اسے قتل کردوں گا۔آسمان سے آگ اور پتھروں کی بارش اُس وقت ہوتی ہے ،جب اﷲ تعالیٰ کی اطاعت ترک کر دی جائے ،اور اُس کی نافرمانی عام ہوجائے ۔اِس لئے اب ہمیں اﷲ کی نافرمانی پر قائم نہیں رہنا چاہیئے،اور اُس کی اطاعت مقدور بھر کرنی چاہیئے۔تاکہ زمین نجاست سے پاک اور گند گیوں سے صاف ہو جائے۔اﷲ کی قسم !جو ہماری مخالفت کرے گا،ہم اُس کے ساتھ جہاد کریں گے،اور اپنے شہر سے نکال دیں گے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......,


 

07 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہم السلام Story of Prophet Yunis and Hazqeel



07 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

قسط نمبر 7

آسا کی ماں کا بُت پرستی پر اصرار

آسا کے اعلان کو عام بنی اسرائیل اور سچے علمائے کرام نے جب سنا تو بہت خوش ہوئےاور بادشاہ کا سچے دل سے ساتھ دینے لگے ۔لیکن بہت سے دنیا پرست علماءبھی تھے اور مطلب پرست عہدے دار بھی تھے۔اُن لوگوں پر شیطان حاوی تھا،اِس لئے وہ بادشاہ کی مخالفت کرنے لگے۔اور اُس کے لئے بادشاہ کی ماں کے پاس گئے ،جو بُت پرست تھی،اور اُسے بادشاہ سے بات کرنے پر راضی کیا۔دراصل آسا جب بادشاہ بنا تو وہ نوجوان تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ آسا بن ایبا بہت ہی نیک آدمی تھا۔ایک ٹانگ سے معذور تھا۔اس کے بعد آگے لکھتے ہیںکہ جب قوم کے (مطلب پرست سرداروں اور دنیا پرستعلمائ) نے یہ اعلان سنا تو انہوں نے شور و غل مچایا،اور اعلان کو ناپسند کیا۔وہ بادشاہ کی ماں کے پاس آئے اور اُس سے شکایت کی کہ تمہارے بیٹے کا رویہ ہمارے معبودوں کے بارے میں بہت سخت ہے۔اُس نے ہمیں بتوں کو توڑنے کا اور اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔اُس کی ماں نے یہ سن کر بتوں کے بارے میں بادشاہ سے بات کرنے کی حامی بھر لی۔اور ایک دن دربار میں داخل ہوئی تو بادشاہ اور قوم کے سردار ،معززین اور رعایا بیٹھے ہوئے تھے۔اپنی ماں کو دیکھتے ہی بادشاہ کھڑا ہو گیا،اور اُسے عزت و احترام سے بیٹھنے کے لئے کہا۔لیکن وہ بتوں کی پوجا پر اصرار کرنے لگی۔

اﷲ کے لئے ماں کو قتل کر دیا

آسا نے اپنی ماں کو عزتو احترام سے بیٹھنے کے لئے کہا تو اُس کی ماں نے بیٹھنے سے انکار کر دیا،اور بولی کہ تُو اُس وقت تک میرا بیٹا نہیں ہے ،جب تک بتوں پوجا نہیں کرے گا۔اور اﷲ کی عبادت سے انکار نہین کرے گا،اور تم نوجوانی اور کم عقلی میں یہ غلط حرکت کر رہے ہو۔میری جان کی قسم !مجھے اِس عمل پر تمہاری کم عقلی ،نوعمری،اور کم علمی نے اُبھارا ہے۔اور اگر تُونے میری بات کو ٹھکرایا اور میرے حق کو نہیں پہچانا تو تُو اپنے باپ کی نسل سے نہیں ہے۔جب بادشاہ نے یہ کفریہ کلمات سنے تو وہ غصے سے بھر گیا،اُس کا سینہ تنگ ہونے لگا۔اُس نے کہا؛”اے امی جان ! یہ ناممکن ہے کہ میں اﷲ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کروں ،اور اگر تم میری بات مانو گی ،اور صرف اﷲ تعالیٰ کی عبادت کروگی تو ہدایت پاو¿گی،ورنہ گمراہ ہو جاو¿ گی۔اگر تم بتوں کو چھوڑ کرصرف اﷲ کی عبادت کرو گی تو مجھے صرف وہی ملامت کرے گا ،جو اﷲ کا دشمن ہوگا۔اور میں تو صرف اﷲ کی رضا اور اُ س کی مدد چاہتا ہوں،کیوں کہ میں اُس کا غلام ہوں۔“اُس کی ماں نے کہا؛”میں اپنے بتوں کو اور اپنے آباءکے مذہب کو تیرے کہنے سے نہیں چھوڑوں گی۔اور جس اﷲ کی طرف تُو مجھے دعوت دے رہا ہے ،میں اُس کی عبادت نہیں کروں گی۔‘]بادشاہ نے کہا؛”یہ کہہ کر تم نے ہمارے رشتے کو ختم کر دیا ہے۔“اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اُسے قتل کر دیں۔

ہندوستانی بادشاہ کو حملہ کرنے کی دعوت

آسا کے حکم سے اُس کی ماں کو قتل کر دیا گیا۔اِس کی وجہ سے مخالفت کرنے والوں پر بہت بُرا اثر پڑا۔اُن کے دلوں میں بادشاہ کا رعب بیٹھ گیا،اور وہ بادشاہ کے مطیع ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ جب بادشاہ نے اپنی ماں کے ساتھ یہ سلوک کیا تو ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔اِس کے بعد بھی وہ خاموش نہیں بیٹھے اور پوشیدہ طریقوں سے آسا کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کرنے لگے۔لیکن اﷲ تعالیٰ نے آسا اور اُس کی حکومت کی حفاظت کی،اور وہ لوگ کامیاب نہیں ہو سکے۔سلطنت یہادیہ کے عام بنی اسرائیل اور سچے علماءآسا کے ساتھ تھے،اور اﷲ کے احکامات نافذ کرنے میں اُس کی بھرپور مدد کرہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب وہ(آسا کے مخالفین)اپنے پروگرام میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے ملکر یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں یہ ملک چھوڑ دینا چاہیئے۔اور یہ مشورہ کیا کہ ہم ہندوستان میں جاکر وہاں کے بادشاہ کو بھڑکا کر لائیں گے،اور آسا کی حکومت کا خاتمہ کر دیں گے۔وہ لوگ ہندوستان میں وہاں کے بادشاہ ”زرح“کے دربار میں حضر ہوئے،اور سجدے میں گر گئے۔(اُس وقت ہندوستان ،پاکستان،بنگلہ دیش،سری لنکا،نیپال وغیرہ سب ہندوستا ن میں تھا،بعد میں انہیں الگ الگ ممالک بنایا گیا۔)اُس نے پوچھا کہ تم کون ہو؟وہ بولے کہ ہم آپ کے غلام ہیں۔اُس نے پوچھ کہ تم میرے کون سے غلام ہو؟انہوں نے کہا کہ ہم سرزمین کنعان سے آئے ہیں،اور آپ کی بادشاہت کا احترام کرتے ہیں۔ہمارے یہاں ایک کم عقل اور نوجوان لڑکا بادشاہ بن گیا ہے۔اُس نے ہمارے دین کو چھوڑ دیا ہے،اور ہماری عبادت کو غلط اور ہمارے آباءکو گمراہ کہتا ہے۔ہم اُس ملک کے سرداروں میں سے ہیں،اور ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں مال و دولت بہت زیادہ ہے،آپ حملہ کر کے اُس احمق نوجوان کو شکست دیکر اپنی حکومت کو وسیع کرلیں،ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔غرض انہوں نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے زرح کو راضی کر لیا کہ وہ سلطنت یہودیہ پر حملہ کرے۔

زرح کے جاسوس

ہندوستان کے بادشاہ زرح نے کہا کہ پہلے میں اپنے جاسوس بھیج کر تمہاری بات کی تحقیق کروں گا کہ تم لوگ سچے ہو یا جھوٹے،اُس کے بعد آگے قدم اُٹھاو¿ں گا۔زرح نے اپنے جاسوسوں کو اپنے خزانے سے بہت سا مال دیا۔اور انہیں خشکی اور بحری سفر کا سامان دیا،اور انہیں تجروں کے بھیس میں روانہ کیا۔جاسوسوں کا یہ گروہ سلطنت یہودیہ میںتجارتی قافلے کی شکل میں پہنچا،اور بنی اسرائیل کے بادشاہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے لگا۔انہوں نے اپنا تجارتی سامان سلطنت یہودیہ میں گھوم گھوم کر بیچنا شروع کر دیا۔اور حکومت کے داخلی اور خارجی پالیسیوں ،فوجی طاقت اور حکومت کی تحقیق کرنی شروع کردی۔انہیں معلوم ہوا کہ سلطنت یہودیہ کا ہر شخص مال دار ہے،اور بادشاہ کے پاس حضرت یوشع علیہ السلام کا خزانہ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا خزانہ موجود ہے۔انہوں نے اندازہ لگایا کہ سلطنت یہودیہ سے بے اندازہ مال و دلوت حاصل ہو سکتا ہے۔

بادشاہ کا دوست

جاسوسوں نے عوام کی اور بادشاہ کی تحقیق کرنے کے بعد فوجی طاقت کی تحقیق شروع کی۔انہوں نے وہاں کی عوام سے دریافت کیا کہ بادشاہ کا جنگی انداز کیا ہے؟اُس کے لشکر کتنے ہیں؟اگر کوئی بادشاہ اُس پر حملہ کرے تو وہ کیا کرے گا؟کتنے لشکروں کا استعمال کرے گا؟گھوڑوں اور شہسواروں کی تعدا کتنی ہے؟لوگوں نے بتایا کہ بادشاہ کا لشکر ہے ،اور اُس کی جنگی طاقت بہت ہی کمزور ہے۔لیکن اُس کا ایک دوست ہے،جسے یہ پکارتا ہے تو وہ اُس کی مدد کرتا ہے۔اور اگر پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹانا ہو تو وہ اُسے ہٹا دیتا ہے۔جب تک اُس کا دوست اُس کے ساتھ ہے،تب تک کوئی اُس پر غالب نہیں آ سکتا۔جاسوسوں نے پوچھا کہ وہ دوست کون ہے؟اُس کے لشکر کتنے ہیں؟اُس کے جنگجو اور بہادروں کی تعداد کتنی ہے؟سوار اور پیدل فوجی کتنے ہیں؟اور وہ کہاں رہتا ہے؟لوگوں نے بتایا کہ اُس کا دوست آسمان کے اوپر رہتا ہے،عرش پر مستویٰ ہے۔اُس کے لشکر بے شمار ہیں،تمام مخلوقات اُس کی عبادت کرتی ہے۔دریا اور سمندر اُس کے حکم سے چلتے ہیں ،وہ کسی کو نظر نہیں آتا ہے۔اُس کا صحیح ٹھکانہ کسی کو معلوم نہیں ہے،وہ بادشاہ کا دوست اور مدد گار ہے۔

زرح کا غرور

زرح کے جاسوسو س تمام معلومات لیکر اُس کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور تمام معلومات اُسے پیش کردیں۔زرح نے کہا کہ جب بنی اسرائیل کو یہ معلوم ہوا کہ تم اُن کی پوشیدہ باتوں کو جاننے کی کوشش کر رہے ہو،تو انہوں نے جھوٹ بول کر آسا کے دوست کا ذکر کیا۔جس سے اُن کا مقصد تم کو دہشت زدہ کرنا تھا،اور اگر اُس کا کوئی دوست ہے بھی تو وہ میرے لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔اُس نے پورے ہندوستان (جو افغانستان،پاکستان،نیپال،بنگلہ دیش،حالیہ ہندوستان،اور سری لنکا پر محیط تھا)میں اور اِس آس پاس کے علاقوں سے فوج جمع کی،اور اُس کا لشکر کئی لاکھ پر مشتمل تھا۔زرح نے جب اپنے عظیم الشان لشکر کے ساتھ سفر شروع کیا تو اُس کی عزت اور عظمت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ گئی۔زرح نے یہ عظیم الشان لشکر دیکھ کر غرور سے کہا ؛”کہاں ہے آسا کا دوست؟کیاوہ مجھ سے بچ سکتا ہے؟کیاوہ مجھ پر غلبہ پا سکتا ہے؟اگر آسا اور اُس کا دوست مجھے اور میرے لشکر کو دیکھ لیں گے تو میرے ساتھ جنگ کرنے کی جرا¿ت نہیں کریں گے،اوربہت جلد آسا میرا قیدی بن جائے گا۔اِس طرح غرور کرتا ہوا زرح سلطنت یہودیہ کی طرف بڑھا۔

آسا کی اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا اور عاجزی

زرح اِس طرح آسا کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہوا،اپنی فوج لیکر آگے بڑھتا رہا۔آسا کو بھی یہ اطلاع مل چکی تھی کہ اُس پر حملہ کرنے کے لئے زرح ایک عظیم الشان لشکر لیکر آرہا ہے۔اُس نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیار کرتے ہوئے دعا کی؛”اے اﷲ تعالیٰ!آپ نے آسمان اور زمین اور اُن کے درمیان موجود چیزوں کو بنایا ،اور وہ سب آپ کے قبضے میں ہیں۔آپ حوصلی والے،بلند و برتر اور شدید غضب والے ہیں۔میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ہمیں ہمارے گناہوں کی سزا نہ دیں،اور ہماری نافرمانیوں پر ہماری پکڑ نہ فرمائیں۔بلکہ ہم آپ سے اُس رحمت کا سوال کرتے ہیں،جو تمام مخلوقات پر عام ہے۔آپ ہماری کمزوری اور دشمن کی طاقت کودیکھیئے،ہماری قلّت اور دشمن کی کثرت کو دیکھیئے۔ہماری تنگی اور پریشانی کو ملاحظہ فرمایئے،اور دشمن کی عیش و راحت دیکھیئے۔اپنی قدرت سے آپ نے فرعون اور اُس کے لشکر کو سمندر میں ہلاک کیا،اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی۔اسی طرح زرح اور اُس کے لشکر کو بھی ہلاک کر دیجیئے۔میں آپ سے سوال کرتا ہوںکہ آپ زرح اور اُس کے لشکر پر اپنا عذاب نازل فرمایئے۔

خواب میں بشارت

آسا نے عاجزی سے اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگی،رات کو خواب میں بشارت ملی کہ اﷲ تعالیٰ نے تیری سن لی اور تیری پکار اﷲ تک پہنچ گئی۔بہت جلد اﷲ تعالیٰ زرح اور اُس کے لشکر کے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا کہ لوگ دیکھیں گے اور عبرت حال کریں گے۔تیری طرف سے اﷲ اُن کے لئے کافی ہوجاےت گا،اور اُن کا مال غنیمت تیرے لئے حلال ہو گا۔اور اُس کا لشکر تیرے سامنے ذلیل کیا جائے گا۔ تاکہ زرح کو بھی پتہ چل جائے کہ آسا کے دوست کا مقابلہ کرنا اور اُس کے لشکر کو شکست دینا آسان نہیں ہے۔اور اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا ناکام نہیں ہوتا ہے۔اﷲ اُسے مہلت دے رہا ہے کہ وہ اپنی ضروریات سے فارغ ہو جائے۔اور پھر اُسے غلام بنا کر تیرے سامنے لائے گا ،اور اُس کے جنگجو تیرے اور تیری قوم کے خادم ہوں گے۔

سلطنت یہودیہ کا محاصرہ

زرح اپنا لشکر لیکر آیا اور سلطنت یہودیہ کا محاصرہ کر لیا۔اُس کی فوج اتنی زیادہ تھی کہ تمام میدان اور تمام پہاڑوں کی وادیاں بھر گئیں۔اُس کی فوج کا اندازہ کر نے کے لئے آسا نے اپنے جاسوس بھیجے۔انہوں نے آکر زرح کے لشکر کے بارے میں ایسا بتایا کہ بنی اسرائیل پر اُس کی ہیبت بیٹھ گئی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اتنا بڑا لشکر کبھی نہیں دیکھا ہے۔اور اتنے ہاتھی سواروں اور گھوڑے سواروں کے بارے میں کبھی نہیں سنا ہے۔وہ لشکر اتنا بڑا ہے کہ ہماری عقلیں انہیں شمار کرنے سے عاجز آگئیں۔اور ہماری تدابیر اُن کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں،ہماری ساری اُمیدیں خاک میں مل گئی ہیں۔جب عوام نے زرح کے لشکر کا حال سنا تو بری طرح ڈر گئے،اور بادشاہ سے کہنے لگے کہ آپ کا لشکر اِس عظیم الشان لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اور اگر آپ شکست کھاگئے توزرح کے سپاہی ہمارے ساتھ اور ہمارے بیوی بچوں کے ساتھ بہت برا سلوک کریں گے۔اِس سے تو بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو زرح کے حوالے کر دیں، شاید وہ ہم پر رحم کھا کر ہمیں قتل نہ کرے۔آسا نے کہا؛”ہم اپنے آپ کو دشمنوں کے سامنے پیش نہیں کرسکتے،اور اﷲ کے گھر(بیت المقدس)کو اور اﷲ کی کتاب(توریت) کو دشمنوں کے حوالے نہیں کر سکتے۔“عوام نے کہا؛”پھر اپنے دوست اور رب سے مدد مانگو،جس کی مدد کا تم ہم سے وعدہ کرتے تھے۔اور جس پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہو۔“

اﷲ سے دعا

آسا نے کہا؛”میرا رب اُس وقت تک مدد نہیں کرتا ،جب تک کہ خوب رورو کر گڑ گڑا کر اس سے دعا نہ مانگی جائے،اور اُس کے سامنے آہ و زاری نہ کی جائے۔بنی اسرائیل نے کہا؛”یہ کام آپ کر لیں،شاید وہ آپ کی دعا قبول کر کے ہماری کمزوروں پر رحم کرے۔آسا عبادت کے کمرے (بیت المقدس ) میں گیا۔اپنا تاج اور شاہی کپڑے اُتار کر عام لباس پہنا۔اور ریت پر بیٹھ کر ہاتھ اُٹھا کر اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگا؛”اے اﷲ تعالیٰ ! اے ساتوں آسمان اور عرش عظیم کو بنانے والے،اے ابراہیم،اسماعیل،اسحاق،یعقوب علیہم السلام اور بنی اسرائیل کے رب!تُو اپنی مخلوق کو جہاں چاہتا ہے ٹھکانہ عطا فرماتا ہے۔تیرے ٹھکانوں کو کوئی نہیں جانتا،اور تیری عظمت کی حقیقت کسی کو نہیں معلوم ہے۔تُو ایسا بیدار ہے کہ جسے کبھی نیند نہیں آتی ہے،میں تُجھ سے وہی دعا مانگتا ہوں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مانگی تھی،اور تُو نے اُن کے لئے آگ کو گلزار بنا دیا تھا۔اور میں تُجھ سے وہی دعا مانگتا ہوں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مانگی توبنی اسرائیل کو فرعون سے آزاد کیا اور فرعون کو غرق کیا۔میں تُجھ سے وہی دعا مانگتا ہو جو حضرت داو¿د علیہ السلام نے مانگی توتُو نے جالوت کو قتل کرنے میں اُن کی مدد کی۔اور میں وہی دعا مانگتا ہوں جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے مانگی تو انہیں تُو نے تمام مخلوقات پر بادشاہت عطا فرمائی۔اے اﷲ تعالیٰ!تُو مُردوں کو زندہ کرنے والا ہے،دنیا کو فنا کرنے والا ہے۔اے اﷲ !تُو کبھی فنا نہیں ہو گا اور ہمیشہ رہے گا،کبھی بوسیدہ نہیں ہوگا۔ اے میرے اﷲ !تُجھ سے رحم کا سوال کرتا ہوں،مجھ پر رحم فرما،میں لنگڑا اور مسکین اور تیرا کمزور بندہ ہوں۔میرے پاس کوئی تدبیر نہیں ہے،ہم پر بہت بُرا وقت آگیا ہے۔اے اﷲ !تیرے علاوہ کوئی اِس مصیبت کو دور نہیں کر سکتا ہے۔تیرے بغیر نیکی کرنا اور گناہوں سے بچنا ناممکن ہے۔اے اﷲ ! تُو جس طرح چاہے ہماری کمزوری پر رحم فرما،بے شک تُو جس طرح چاہتا ہے،جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے۔“

بنی اسرائیل کے سچے علماءکی دعا

بیت المقدس کے عبادت کے کمرے میں آسا رو رو کر دعا مانگ رہا تھا۔اور بڑے ہال میں بنی اسرائیل اور اُن کے سچے علمائے کرام اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے تھے۔بنی اسرائیل کے زیادہ تر عوام اور علمائے کرام آسا کے ساتھ تھے۔کچھ تھوڑے بہت عوام اور دنیا پرست علماءمخالفت کر رہے تھے۔بنی اسرائیل کے سچے علمائے کرام اپنی دعا میں کہہ رہے تھے؛”اے اﷲ تعالیٰ!آج اپنے بندے کی مدد فرما،اور اُس کی دعا کو قبول فرما۔کیونکہ اُس نے صرف تُجھ پر ہی بھروسہ کیا ہے۔اُسے دشمنوں کے حوالے نہ کر،دیکھ وہ تُجھ سے اِتنی محبت کرتا ہے کہ اپنی ماں کو اور تمام گمراہوں کو چھوڑ کر صرف تیری بات مانتا ہے۔“اِدھر بادشاہ اورعلمائے کرام دعا مانگ رہے تھے کہ زرح کا قاصد اُس کا خط لیکر آیا۔زرح نے خط میں آسا اور اُس کی قوم کو ذلیل کرنے کی دھمکی دی تھی۔اور لکھا تھا کہ اپنے دوست کو بلاو¿جس کی وجہ سے تو نے اپنی قوم کو گمرا کیا ہے۔اور تمہارے دوست سے کہو کہ مجھ سے آ کر مقابلہ کرے۔ تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ نہ تو تمہارا کوئی دوست اور نہ کوئی اور میرا مقابلہ کر سکتا ہے۔اِس لئے کہ میں ہندوستان کا بادشاہ زرح ہوں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

 

08 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام Story of Prophet Yunis and Hazqeel


08 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

قسط نمبر 8

اﷲکی مدد

آسا خط پڑھنے کے بعداﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گیا ،اور رو رو کر دعائیں مانگنے لگا۔دعائیں مانگتے مانگتے اُس ے نیند آ گئی،اور اُسے خواب میں بشارت دی گئی کہ اﷲ تعالیٰ تیری مدد کرے گا،اور اپنے فرشتوں کو بھیجے گا۔تم اپنی فوج لیکر زرح کے مقابلے کے لئے میدان میں جاو¿۔آسا کی آنکھ کھل گئی اور وہ فوراً اُٹھ کر باہر آیا،اور اﷲ کی مدد کی خوش خبری سنائی۔ایمان والوں نے تصدیق کی اور منافقین نے جھٹلایا۔اور کہنے لگے کہ آسا جب عبادت کے کمرے میں گیا تب بھی لنگڑا تھا ،اور اب جبکہ خوش خبری لیکر باہر آیا ہے تب بھی لنگڑا ہے۔اگر یہ سچا ہوتا تو اﷲ تعالیٰ اِس کی ٹانگ کو صحیح کر دیتا۔آسا نے کسی کی پرواہ نہیں کی ،اور فوج کو تیاری کا حکم دیا۔اور خود بھی جنگی لباس پہن کر ہتھیار لگا کر تیار ہو کر باہر آیا۔عوام نے انہیں اِس طرح رخصت کیا،جیسے آخری مرتبہ دیکھ رہے ہوں،اور اب دیکھنا نصیب نہیں ہو گا۔آسا اپنے سپاہیوں کو لیکر میدان میں آیا۔زرح نے آسا کا لشکر دیکھا تو زور زور سے ہنسنے لگا،کیونکہ زرح کے لاکھوں کے لشکر کے سامنے آسا کے چند ہزار سپاہی چیونٹیوں کی طرح نظر آرہے تھے۔اس کے بعد زرح کو غصہ آگیا،اور اُس نے اپنے جاسوسوں کو بلایا ،اور اُن سے کہا کہ تم لوگوں نے جھوٹ کہا۔اور اِس چند ہزار کے لشکر کے لئے مجھے اتنے بڑے لشکر کے ساتھ اتنی دور کا سفر کرنے پر اُکسایا۔اِس کے بعد اُس نے غصے میں اپنے جاسوسوں اور غدار بنی اسرائیل سرداروں اور علماءکو قتل کرا دیا۔

زرح کو شکست فاش

اس کے بعد زرح اپنالشکر لیکر آسا کے لشکر کے سامنے آیا اور بولا؛”اے آسا تیری اتنی اوقات نہیں ہے کہ مجھ سے مقابلہ کرسکے،اور تیرا لشکر اتنا کم ہے کہ میں تُجھ سے مقابلہ کرنا مناسب نہیں سمجھتا ہوں۔اور کہاں ہے تیرا وہ دوست جو تیری مدد کرتا ہے؟“آسا نے کہا؛”اے بد بخت !تُجھے معلوم نہیں ہے ،تُو کیا کہہ رہا ہے؟کیاتُو اپنی کمزوری کے ساتھ اپنے رب پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے؟یا تُو اپنے مقتولوں میں اضافہ کرنا چاہتا ہے؟وہ اﷲ ہر ایک سے معزز اور برتر ہے،اور ہر ایک پر غالب اور قاہر ہے۔جبکہ اُس کے بندے ذلیل اور کمزور ہیں،اِس جنگ میں وہ میرے ساتھ ہے۔اور جس کے ساتھ اﷲ ہو،اُس پر کوئی غالب نہیں آسکتا ہے۔اے بد بخت!تُو اپنی پوری کوشش کر لے،تاکہ مجھے معلوم ہو جائے کہ تیرے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟“زرح نے جب یہ سنا تو اُسے بہت غصہ آیا۔اُس نے اپنے تیر اندازوں کو حکم دیا کہ ایک ساتھ تیر چلاو¿،اور ایک ہی جھٹکے میں اِس معمولی لشکر کا صفایا کردو۔اِدھر اﷲ تعالیٰ نے آسا کی مدد کے لئے فرشتے اُتار دیئے،اور وہ آسا کے لشکر کے آگے زرح کے لشکر کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے۔زرح اور اُس کے لشکر کو ایسا لگا،جیسے اُن کے اور آسا کے لشکر کے درمیان بادل اُتر آیا ہو۔جس میں آسا کا لشکر چھپ گیا۔زرح اور اُس کے لشکر کے تیر انداز اُس بادل یا دھند کے اُس پار دیکھنے کی کوشش کرنے لگے۔اچانک اُس بادل میں سے ہزاروں تیر نکلے اور زرح کے لشکر کے تیر اندازوں کو لگے اور وہ سب مر گئے۔اس کے بعد اس دھند یا بادل میں سے فرشتے نکلے،جو اتنی زیادہ تعداد میں تھے کہ پورا میدان اور وادی اُن سے بھر گئے۔زرح نے فرشتوں کو دیکھا تو سخت مرعوب ہو گیا،اور اُس کے ہاتھ سے ہتھیار گر گیا۔اُس نے کہا؛”یہ تو جادو ہے،آسا نے ہم پر جادو کر دیا ہے۔‘]اس کے بعد اُس نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ ایک ساتھ حملہ کر کے آسا اور اُس کے ساتھیوں کو ختم کردو تو یہ جادو بھی ختم ہو جائے گا۔اُس کا لشکر ایک ساتھ آگے بڑھا،لیکن زرح یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ فرشتوں نے آگے بڑھ کر اُس کے لشکر پر حملہ کر دیا۔اور کچھ ہی دیر میں اُس کا پورا لشکر قتل ہوگیا،اور میدان میں جگہ جگہ اُن کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔زرح نے یہ دیکھا تو ہمت ہار دی،کیونکہ اُسے بُری طرح شکست فاش ہو چکی تھی۔

زرح کی ہلاکت

اﷲ تعالیٰ نے آسا اور بنی اسرائیل کو فتح عطا فرمائی۔زرح نے جب اپنے لشکر کو ختم ہوتے دیکھا تو پیٹھ پھیر کر بھاگا،اور اُس کے ساتھ اُس کے وہ سپاہی تھے جو زندہ بچ گئے تھے۔وہ سب ساحل سمندر پر پہنچے اور جہازوں پر سوار ہو کر بھاگنے لگے۔جب پانی کے درمیان پہنچے تو سمندر میں طوفان آگیا،اور زرح اور اُس کے ساتھی سب کے سب ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔اِس جنگ سے سلطنت یہودیہ کے بنی اسرائیل کو تنا مال غنیمت حاصل ہوا کہ وہ تین مہینے تک اسے جمع کرتے رہے۔اور سلطنت یہودیہ کی دولت میں بے حد اضافہ ہو گیا۔اس کے بعد آسا سکون سے حکومت کرتا رہا،اُس نے اکتالیس(۱۴)سال حکومت کی۔اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا یہوشاط بن آسا سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا۔اُس نے پچیس (۵۲) سال حکومت کی،اُس کے بعد اُس کی چچا زاد بہن عتلیا نے سات سال حکمرانی کی۔اُس کے دور ِ حکومت میںحضرت الیاس علیہ السلام نے سلطنت اسرائیل یا سامریہ میں اعلان نبوت کیا۔اس کے بعد یوآش سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا،اُس نے چالیس سال حکومت کی۔اب ہم حضرت حزقیل علیہ السلام کے ذکر کو شروع کرتے ہیں۔آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی ہیں۔

حضرت حزقیل علیہ السلام کا لقب

حضرت حزقیل علیہ السلام کا لقب”ابن العجور“ہے۔اِسکی وجہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ بانجھ تھیں،اور اُن کو اولاد نہیں ہوتی تھی۔یہاں تک کہ والدہ محترمہ بوڑھی ہوگئیں۔والد محترم اکثر اپنی بیوی کو تسلی دیتے رہتے تھے کہ اگر اﷲ تعالیٰ کو اولاد دینا منظور ہو گا تو ہمارے بڑھاپے میں بھی ہمیں اولاد عطا فرمادے گا۔آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ اپنی ہم عُمر عورتوں کے جوان بچوں کو دیکھتیں تو اُن کے دل میں ایک کسک سی اُٹھتی تھی۔آخر کار بُڑھاپے میں وہ اﷲ تعالیٰ سے دعا کرنے لگیں کہ اے اﷲ تعالیٰ مجھے اولاد سے نواز دے۔اُن کی یہ دعا بنی اسرائیل میں مشہور ہو گئی۔آخر کار اﷲ تعالیٰ کو اُن پر رحم آیا ،اور اﷲ تعالیٰ نے انہیں بیٹا عطا فرمایا۔والدین نے ”حزقیل“نام رکھا،لیکن آپ علیہ السلام بنی اسرائیل میں ”ابن العجور“یعنی ”بڑھیا کا بٹا“کے نام سے مشہور ہو گئے۔

حضرت حزقیل علیہ السلام کی بعثت

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں توریت کے احکامات نافذ کئے۔آپ علیہ السلام ستائیس(۷۲) سال تک بنی اسرائیل میں رہے۔اُن کے بعد حضرت کالب بن یوقنا نے بنی اسرائیل کے انتظامات سنبھالے۔اُن کے بعد اﷲ تعالیٰ نے حضرت حزقیل علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔و¿پ علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو آگے بڑھایا،اور توریت کے احکامات نافذ کئے۔آپ علیہ السلام کے زمانہ¿ نبوت میں بنی اسرائیل صرف اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے،اور اسلام پر قائم رہے۔آپ علیہ السلام کے زمانہ¿ نبوت میں آپ علیہ السلام کے سامنے ہزاروں لوگوں کی موت کے بعد زندہ ہونے کا معجزہ اﷲ تعالیٰ نے دکھایا۔

ہزاروں لوگوں کی ایک ساتھ موت

اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ”کیا تم نے اُن کو نہیں دیکھا؟جو ہزاروں کی تعداد میں موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے۔اﷲ تعالیٰ نے انہیں فرمایا”مرجاؤ“۔پھر انہیں زندہ کیا۔اﷲ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے،لیکن اکژر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 243)اکثر علمائے کرام نے یہی فرمایا ہے کہ یہ واقعہ حضرت حزقیل علیہ السلام کے وقت میں پیش آیا۔ پہلے ہم آپ کی خدمت میں چند علمائے کرام کی مختصراًتفسیر اِس واقعے کے متعلق پیش کریں گے۔اِس کے بعد انشاءاﷲ اِس واقعہ کو تفصیل سے بیان کریں گے۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ چار ہزار تھے،ایک اور روایت میں ہے کہ آٹھ ہزار تھے۔بعض لوگ نو ہزار کہتے ہیں،بعض چالیس ہزار بتاتے ہیں۔یہ لوگ ”درودان“نامی بستی کے تھے،جو واسط کی طرف ہے۔بعض کہتے ہیں اِس بسی کا نام ”ازرعات“تھا۔یہ لوگ طاعون کی بیماری کے ڈر سے اپنے شہر کو چھوڑ کر بھاگے تھے۔ایک وادی میں پہنچے تو وہیں اﷲ کے حکم سے سب مر گئے۔اتفاق سے ایک نبی علیہ السلام کا وہاں سے گزر ہوا،اُن کی دعا سے اﷲ تعالیٰ انہیں پھر دوبارہ زندہ کر دیا۔بعض لوگ کہتے ہیں ایک چٹیل، صاف اور ہوادار کھلے پُر فضا میدان میں ٹھہرے تھے۔اور فرشتوں کی چیخ سے ہلاک کئے گئے تھے۔جب ایک لمبی مدت گزر گئی اور ان کی ہڈیوں کا بھی بھوسہ ہو گیا۔تب حضرت حقیل علیہ السلام وہاں سے گزرے۔انہوں نے دعا کی اور اﷲ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔اور حکم دیا کہ تم کہو:”اے بوسیدہ ہڈیو!اﷲ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم سب جمع ہوجاو¿۔“ہر ہر جسم کی ہڈیوں کا ڈھانچہ کھڑا ہوگیا۔پھر اﷲتعالیٰ کا حکم ہوا؛”تم کہو!اے ہڈیو!اﷲ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ گوشت پوشت ،رگیں پٹھے بھی جوڑ لو۔“جب یہ بھی ہو گیا تو حکم ہوا ؛”تم کہو !اﷲ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہےکہ ہر روح اپنے جسم میں داخل ہوجائے۔“جس طرح یہ سب ایک ساتھ مرے تھے،اُسی طرح ایک ساتھ زندہ ہوگئے۔اور بے ساختہ اُن کی زمان سے نکلا؛”اے اﷲ !تُو پاک ہے،اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔“

طاعون کے ڈر سے بھاگ نکلے

سورہ البقرہ کی آیت نمبر 243 کی تفسیر میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔کہ امام جلال الدین سیوطی بیان فرماتے ہی کہ علامہ محمد بن جریر طبریاور امام حاکم نے اِس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اُن لوگوں کی تعداد چار ہزار تھی ۔اور یہ ”درودان“نام کے شہر کے رہنے والے تھے۔یہ شہر واسط کے قریب تھا۔اِس شہر میں طاعون پھیل گیا تھا،لوگوں کا ایک گروہ تو شہر میں ہی ٹھہرا رہا،اور ایک گروہ بھاگ گیاتھا۔جو لوگ شہر میں رکے رہے ،اُن میںسے کچھ مر گئے،اور بھاگنے والوں میں سے سب لوگ بچ گئے۔جب طاعون ختم ہوا تو وہ لوگ واپس آگئے،اِس شہر کے زندہ بچنے والوں نے کہا؛”ہمارے بھائی ہم سے زیادہ سمجھ دار نکلے،کاش ہم بھی اُن کی طرح شہر سے نکل جاتے تو ہمارے جو رشتہ دار مرگئے وہ بچ جاتے۔اور اگر اگلے طاعون تک ہم زندہ رہے تو ایسا ہی کریں گے۔اگلے سال پھر طاعون آیا،اِس مرتبہ سب لوگ شہر سے نکل بھاگے۔اُن کی تعدادتیس ہزار تھی،وہ لوگ دو پہاڑیوں کے درمیان ایک وادی میں قیام پذیر ہوئے۔اﷲتعالیٰ نے اُن کے پاس دو فرشتے بھیجے،ایک فرشتہ وادی کے ایک طرف تھا،اور دوسرا دوسری طرف تھا۔اُن دونوں فرشتوں نے ایک ساتھ آواز لگائی،”مرجاو¿“تو وہ سب مر گئے۔جب تک اﷲ نے چاہا وہ اسی طرح مردہ پڑے رہے۔پھر وہاں سے حضرت حزقیل علیہ السلام گزرے،انہوں نے اتنی ساری ہڈیوں کو دیکھا تو حیران ہو گئے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی؛”تم آواز لگاو¿ کہ اے ہڈیو!ﷲتعالیٰ تمہیں جمع ہونے کا حکم دیتا ہے۔“آپ علیہ السلام نے آواز لگائی تو تمام ہڈیوں پر گوشت آگیا۔پھر اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ان سے کہو!اﷲ تعالیٰ تمہیں کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے۔“آپ علیہ السلام نے حکم کے مطابق فرمایا تو وہ سب زندہ ہو کر کھڑے ہو گئے۔اور بے اختیار اُن کی زبان سے یہ کلمات جاری ہوئے۔”اﷲ تعالیٰ پاک ہے اور اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔“پھر وہ اپنے شہروں کی طرف روانہ ہو گئے ،اور وہاں رہنے لگے۔مگر وہ جب بھی کوئی نیا لبا س پہنتے تھے تو وہ اُن کے جسم پر جاتے ہی پُرانا ہو جاتا تھا،اور کفن کی شکل اختیار کر لیتا تھا۔جس سے اُس زمانہ کے لوگ پہچان لیتے تھے کہ یہ لوگ مرنے کے بعد زندہ ہوئے ہیں۔

موت کہیں بھی آجائے گی

سورہ البقرہ کی آیت نمبر 243 کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔اِس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی اور موت اﷲ تعالی کے قبضہ¿ قدرت میں ہے۔انسان لاکھ موت سے ڈر کر کہیں بھی چلا جائے۔ وہ جہاں بھی جائے گااور جب اُسکی موت کا وقت آجائے گا تو وہ کہیں بھی آجائے گی۔اور اِس کے لئے بنی اسرائیل کا ایک واقعہ بیان فرمایا۔یہ لوگ کسی شہر میں رہتے تھے،وہاںطاعون کی وبا پھوٹ پڑی۔اس بستی کے لوگ اپنے رشتہ داروں کو تڑپتا دیکھ کر ایک بہت ہی وسیع وادی کی طرف بھاگ گئے،تاکہ موت سے بچ سکیں۔اُن لوگوں کی تعداد دس ہزار تھی،یہ دو پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع وادی میں ٹھہر گئے۔اﷲ تعالیٰ نے دنیا کو دکھلانے کے لئے عبرت کا یہ سامان کیا کہ اِن دس ہزار بنی اسرائیلیوں پر موت طاری کر دی۔جب آس پاس کے لوگوں کو اطلاع ملی کہ دس ہزار کے قریب لاشیں بغیر کفن دفن کے پڑی ہیں،اور یہ سب سڑ رہی ہیں۔تو انہوں نے سوچا کہ اِن سب کو دفن کرنا بہت مشکل ہے،اِسی لئے اُن کے اطراف دیواریں اُٹھا دیں۔تاکہ لاشوں کی بے حرمتی نہ ہو۔اُن کی صرف ہڈیاں بچیں،بہت عرصہ بعد بنی اسرائیل کے رسول حضرت حزقیل علیہ السلام اُس مقام سے گزرے۔اتنی زیادہ تعداد میں ہڈیاں ریکھ کر آپ علیہ السلام حیران رہ گئے۔انہوں نے اﷲ تعالیٰ سے ان کے زندہ ونے کی دعا کی،جو اﷲ تعالیٰ نے قبو ل کی ،اور انہیں دوبارہ زندہ کر دیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

 

09 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہم السلام Story of Prophet Yunis and Hazqeel



09 حضرت یونس علیہ السلام، حضرت حزقیل علیہ السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

قسط نمبر 9

طاعون کی وبا

سورہ البقرہ کی آیت نمبر 243 کی تفسیر میں لگ بھگ سبھی علمائے کرام نے اِس واقعے کو پیش کیا ہے۔اِن میں سے چند ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کئے ہیں۔اب واقعہ کی تفصیل کی طرف آتے ہیں۔داوردان نام کے شہر میں طاعون کی وبا پھیلی۔آج کل ہمارے زمانے میں اتنی ترقی ہو گئی ہے کہ زیادہ تر بیماریوں کا علاج دریافت کر لیا گیا ہے۔اور لگ بھگ تمام بیماریوں کو کنٹرول کر لیا گیا ہے،اور پھیلنے نہیں دیا جاتا ہے۔اِسی لئے نوجوان نسل یہ اِن وبائی امراض سے اتنا زیادہ واقف نہیں ہے۔آج سے ستر(70) یا اسی(80) سال پہلے الگ الگ بیماریوں کی وبائیں پھیلتی تھیں۔اِن میں سے کچھ کے نام طاعون ،کالرا،پلیگاور ہیضہ ہیں،اور بھی کئی بیماریاں ہیں۔یہ بیماریاں جب آتی تھیں تو پورا علاقہ اس کی لپیٹ میں آجاتا تھا۔اور اُس علاقے کے زیادہ تر لوگوں کا وبائی بیماری سے انتقال ہو جاتا تھا۔ایسی ہی طاعون کی بیماری اس شہر میں بھی پھیلی ،اور لوگ موت کا شکار ہونے لگے۔یہ دیکھ کر بہت سے لوگ اس شہر کو چھوڑ کر بھگ گئے۔جو لوگ شہر میں رہے اُن میں سے بہت سے لوگ مر گئے،اور جو لوگ زندہ بچے تھے،وہ بھی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے،اور بہت تکلیف اُٹھا کر زندہ بچے تھے۔کیونکہ اُس زمانے میں دردکش (درد مٹانے والی)گولیاں ایجاد نہیں ہوئی تھیں،اس لئے انہیں درد کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی تھی۔

مر جاؤ

جب طاعون کی بیماری کی وبا ختم ہو گئی تو وہ لوگ واپس آگئے،جو شہر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔وہ سب کے سب محفوظ تھے،اور کوئی بھی بیماری میں مبتلا نہیں ہوا تھا۔نہ تو انہوں نے کوئی تکلیف اُٹھائی اور نہ ہی اُن میں سے کوئی مرا تھا۔وہ لوگ اُن لوگوں کا مذاق اُڑاتے تھے جو اس شہر میں رہ گئے تھے۔اور کہتے تھے کہ تم بے وقوف لوگ ہو،جو یہیں رکے رہے،اور تکلیف بھی اُٹھائی اور اپنے رشتہ داروں کو بھی کھو دیا۔شہر میں رکنے والوں نے کہا کہ تم لوگوں نے واقعی عقلمندی کا کام کیا،اب طاعون کی وبا پھیلے گی تو ہم بھی یہی کریں گے۔دوسرے سال پھر طاعون کی وبا پھیلی تو پورے شہر کے کے لوگوں نے اپنے گھروں کو اُسی حال میں چھوڑ دیا اور نکل بھاگے۔یہ ہزاروں کی تعداد میں تھے،کافی دور آکر ایک پُر فضا مقام پر دو پہاڑوں کے درمیان ایک بہت بڑی وادی کے میدان میں پڑاو¿ ڈال دیا۔وہ سب وہاں قیام پذیر تھے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”مر جاو¿“اور اﷲ تعالیٰ نے سب کو ایک ساتھ موت دے دی۔یہاں تک کہ اُن کی سواری کے اور سامان اُٹھانے والے جانوروں کو بھی موت آ گئی۔پوری وادی کے وسیع میدان میں ہر جگہ انسانوں اور جانوروں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔

حضرت حزقیل علیہ السلام کا تعجب

سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”جب طاعون کی وبا تمہارے علاقے میں پھیلے تو اﷲ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے وہیں رکے رہو اور اُس علاقے سے باہر نہ جاؤ۔اگر دوسرے علاقے میں طاعون پھیلا ہواور تمہارا علاقہ محفوظ ہو تو اُس علاقے میں نہ جاؤ،جہاں طاعون پھیلا ہوا ہے۔“اُن لوگوں نے اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کیا اور طاعون زدہ علاقہ چھوڑ کر بھاگ گئے تو اس کی انہیں سزا ملی اور سب کو ایک ساتھ اﷲ تعالیٰ نے موت دے دی۔وہ سب لاشیں اسی طرح پڑی رہیں اور اُن کے جسم سڑ گل گئے،اور صرف ہڈیاں بچیں۔کئی سال گزر گئے،اس دوران تیز ہواوؤں اور طوفان کی وجہ سے اُن کی ہڈیاں بکھر کر اِدھر اُدھر ہو گئیں،لیکن وادی کے اندر ہی رہیں۔کافی عرصے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام کا گزر اُس وادی سے ہوا۔آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ پوری وادی ہڈیوں سے بھری ہوئی ہے اور جگہ جگہ ہڈیوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔آپ علیہ السلام حیرت سے کھڑے ہو کر کچھ دیر اُن ہڈیوں کو دیکھتے رہے۔پھر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !یہ کیا ماجرا ہے؟اتنی ساری ہڈیاں اِس وادی میں بکھری پڑی ہیں ؟“اﷲ تعالیٰ نے اُن لوگوں کا واقعہ بتایا۔اس کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام یہ تعجب کرنے لگے کہ یہ سب ہڈیاں اِدھر اُدھر ہو گئی ہیں ،اب کون سی ہڈی کس جسم کی ہے یہ جاننا تو بہت مشکل ہے،آخر کار یہ کیسے ہوگا؟کہ جس جسم کی ہڈی ہے اُسی جسم پر برابر لگ سکے؟اور اگر ہو بھی گیاتو اس میں بہت پریشانی ہو گی۔

ہڈیوں کا اپنی جگہ پر آنا

حضرت حزقیل علیہ السلام اسی سوچ میں گم کھڑے ان ہڈیوں کو دیکھ رہے تھے کہ آخر کار اﷲ تعالیٰ اِن بکھری ہوئی ہڈیوں کو جمع کر کے دوبارہ زندہ جسم کیسے بنائیں گے؟کیونکہ یہ تو بہت ہی پیچیدہ کام ہے۔اﷲتعالیٰ نے فرمایا؛”اے حزقیل(علیہ السلام)!تمہیں اﷲ کی قدرت پر تعجب ہو رہا ہے؟“آ علیہ السلام نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ ! مجھے آپ کی قدرت پر پورا یقین ہے،میں تو اِس کام کے پیچیدہ اور مشکل ہونے پر تعجب کر ہا ہوں۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”کیاتم چاہتے ہو کہ یہ دوبارہ زندہ ہو جائیں؟“حضرت حزقیل علیہ السلام نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !کیا ان کی دنیا میں عمریں باقی ہیں؟“اﷲتعالیٰ نے فرمایا؛”ہاں۔“یہ سن کر آپ علیہ السلام نے دعا کی؛”اے اﷲ تعالیٰ !یہ جو کچھ بھی ہیں آخر تیرے بندے ہی ہیں،اِن لوگوں نے جو بھی گناہ کیا ہو وہ اپنی جگہ ہے۔اِس کے باوجود یہ تیری رحمت کے اُمید وار ہیں،اِس لئے انہیں زندہ کر دے،اور انہیں دنیا میں زندگی گزارنے کا ایک موقع اور دیدے۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ان سے کہو اﷲ کے حکم سے تمام ہڈیاں اپنی اپنی جگہ پر آجاو¿اور اپنے اپنے جسموں سے لگ جاو¿۔“آپ علیہ السلام نے ایسا ہی فرمایا۔وہ منظر بڑا ہی حیرت انگیز تھا۔پوری وادی میں جگہ جگہ ہڈیوں کے ڈھیر پڑے ہوئے تھے۔ ہر طرف انسانوں اور جانوروں کے ہاتھوں اور پیروں اور سروںکی ہڈیاںپڑی ہوئی تھیں۔حکم سنتے ہی تمام ہڈیاں حرکت میں آگئیں،اور اپنی جگہ سے اُڑ اُڑ کر اپنے جسموں کی طرف پہنچ کر جڑ رہی تھیں۔پوری وادی میں ہر طرف ہڈیوں کے سر اور ہاتھ اور پیر اُڑ رہے تھے اور آپ علیہ السلام وادی کے سرے پر کھڑے حیرت سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔

تمام ہڈیوں پر گوشت اور کھال کا چڑھنا

حضرت حزقیل علیہ السلام کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے اور تما ہڈیاں اپنی جگہ سے اُڑ اُڑ کر آرہی تھیں اور اپنے جسموں سے جڑتی جارہی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے تمام ڈھانچے مکمل ہو گئے اور ہڈیوں کا اُڑنا بند ہو گیا۔اب علیہ السلام کے سامنے پوری وادی میں انسانوں اور جانوروں کے ڈھانچے لیٹے ہوئے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اب ان سے کہو کہ اﷲ کے حکم سے ہڈیوں پر گوشت اور کھال چڑھ جائے۔“آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کا حکم سنایا ۔حکم سنتے ہی تمام ڈھانچوں پر گوشت اور کھال بننا اور چڑھنا شروع ہوگئی۔حضرت حزقیل علیہ السلام تعجب سے اﷲ کی قدرت دیکھ رہے تھے ۔زمین پر پڑے ہوئے انسانوں اور جانوروں کے ڈھانچوں پردھیرے دھیرے گوشت چڑھتا رہا اور کھال بھی چڑھتی رہی اور دیکھتے دیکھتے تمام جسم مکمل طور سے بن گئے۔اس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے اُن کے کپڑے جو پرانے ہو کر پھٹ کر چیتھڑے ہو گئے تھے۔اُن کپڑوں کو بھی بالکل ٹھیک اصلی حالت میں کر دیا اور پہنا دیا۔

مردے زندہ ہو گئے

حضرت حزقیل علیہ السلام وادی کے سرے پر کھڑے ہوئے اﷲ تعالیٰ کی قدرت کا مشاہد کر رہے تھےاور اﷲ تعالیٰ کی شان اور تعریف بیان کر رہے تھے۔تمام جسم مکمل ہو چکے تھے اور وہ کپڑے بھی پہن چکے تھے جو انہوں نے مرتے وقت پہنا ہوا تھا۔پوری وادی میں ہزاروں انسانوں اور جانوروں کے جسم لیٹے ہوئے تھے۔اب حضرت حزقیل علیہ السلام وادی میں اُتر آئے اور قریب سے لیٹے ہوئے جسموں کا جائزہ لینے لگے۔ہر انسان اور جانور کا جسم پورے طور سے مکمل نظر آرہا تھا ۔آپ علیہ السلام گھوم گھوم کرجھک کر ایک ایک جسم کا معائنہ کررہے تھے اور فرماتے جارہے تھے؛”بے شک اﷲ تعالیٰ ہر کام پر قدرت رکھنے والا ہے،بے شک اﷲ تعالیٰ ہی مرنے کے بعد زندہ کرنے والا ہے۔تمام جسم لیٹے ہوئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا جیسے ہزاروں انسان اور جانور وادی میں سوئے ہوئے ہیں۔لیکن اُن میں ابھی جان نہیں آئی تھی اور وہ سانس نہیں لے رہے تھے۔اب اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اِن جسموں کو حکم دو کہ اُٹھ کر کھڑے ہو جائیں۔“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اﷲ کے حکم سے تمام روحیں اپنے جسموں میں داخل ہو جائیں اور تما جسم زندہ ہو کر کھڑے ہو جائیں۔“آپ علیہ السلام کا حکم سنتے ہی تمام مردے زندہ ہو گئے اور اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔

زندہ ہوتے ہی اﷲ کی پاکی اور تعریف بیان کی 

حضرت حزقیل علیہ السلام حکم دینے کے بعد تمام لیٹے ہوئے جسموں کے درمیان گھوم رہے تھے اور مشاہدہ کرتے جارہے تھے۔پہلے تمام انسانوں اور جانورں کے جسموں نے آنکھیں کھولیں۔پھر دھیرے دھیرے اپنے ہاتھوں کو حرکت دینے لگے۔اب آپ علیہ السلام اُن کے درمیان گھوم گھوم کر زور زور سے فرما تے جا رہے تھے۔”اﷲ تعالیٰ پاک ہے،اُسکے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔“دھیرے دھیرے تمام انسان اُٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے بے جان پیروں کو دیکھنے جن میں دھیرے دھیرے جان آتی جا رہی تھی۔وہ لوگ وہ کلمات سنتے جا رہے تھے جو آپ علیہ السلام بار بار دہرا رہے تھے۔پھر جب اُن سب کے پیروں میں جان آگئی تو وہ سب ایک ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے اورایک ساتھ پکار اُٹھے۔”اﷲ تعالیٰ پاک ہے اور اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہے۔“

اپنے شہر واپس آئے

حضرت حزقیل علیہ السلام اُن کے درمیان گھوم گھوم کر اﷲ تعالیٰ کی پاکی بیان کر رہے تھے۔جب تمام انسان اور جانور زندہ ہو کر کھڑے ہو گئے تو سب کے سب آپ علیہ السلام کے اطراف جمع ہو گئے اور تمام حال دریافت کرنے لگے۔حضرت حزقیل علیہ السلام ایک اونچے پتھر پر کھڑے ہوگئے اور اُن کے شہر سے بھاگنے سے لیکر زندہ ہونے تک کے تمام حالات بلند آواز سے بیان کئے اور اپنا تعارف کرایا۔تمام حالات سن کر سب لوگ رونے لگے اور اﷲ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنے لگے اور استغفار کرنے لگے۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام اُن سب کو لیکر اُن کے شہر میں آئے اور بنی اسرائیل سے تمام حالات بیان فرمائے۔یہ سب بھی بنی اسرائیل سے ہی تھے اور زندہ ہونے کے بعد اُن میں فرق یہ آگیا تھا کہ اُن کے جسم اور چہرے پیلے ہو گئے تھے۔ایسا لگتا تھا جیسے اُن کے جسم میں خون نہیں ہے اور جب بھی یہ لوگ نئے کپڑے پہنتے تھے تو وہ کفن کی طرح بوسیدہ ہو جاتے تھے۔اِن کے بدن سے ایک مخصوص بو آتی تھی ،جس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوئے ہیں۔انہوں نے شادی بیاہ بھی کی اور اُن کی اولاد بھی ہوئی اور یہ سب دنیا میں اپنی اپنی عمریں پوری کر کے مرے۔اِن کی اولاد میں بھی یہ مخصوص بورہی اور آج بھی یہودیوں (بنی اسرائیل) کے مخصوص لوگوں میں یہ مخصوص بو آتی ہے۔

حضرت حزقیل علیہ السلام کا وصال

اﷲ تعالیٰ نے جب تک چاہا،تب تک حضرت حزقیل علیہ السلام بنی اسرائیل کے درمیان رہے۔پھر اﷲ تعالیٰ نے انہیں اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لیا۔آپ علیہ السلام کے حالات ِ زندگی اور وصال کے بارے میں زیادہ روایات نہیں ہیں۔اِس لئے ہم اِسی پر بس کرتے ہوئے آپ علیہ السلام کے ذکر کو مکمل کرتے ہیں۔

ختم شد


حضرت یونس علیہ السلام، حضرت حزقیل علیہ السلام مکمل Life of Prophet Yunis and Hazqeel


حضرت یونس علیہ السلام، حضرت حزقیل علیہ السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

حضرت یونس علیہ السلام کا سلسلۂ نسب

اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت الیاس علیہ السلام کے حالات پیش کئے تھے۔ اور اس میں وعدہ کیا تھا کہ انشاءاللہ حضرت یونس علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔ وعدہ کے مطابق پیش خدمت ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل سے ہیں۔ لیکن جس قوم کی طرف اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تھا وہ بنی اسرائیل نہیں تھی بلکہ دوسری قوم تھی۔ بنی اسرائیل اس وقت ملک کنعان میں آباد تھے۔ اور آج کا فلسطین ، اردن ، لبنان اور ملک شام کا کچھ حصہ بھی اس وقت ملک کنعان میں آتاتھا۔ اس لئے بنی اسرائیل کی تاریخ کا ذکر جب بھی آتا ہے تو اس میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ملک شام میں آباد تھے۔ در اصل وہ ملک کنعان تھا۔ بعد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد جب عیسائیوں ( نصاریٰ) کو عروج حاصل ہوا تو انہوں نے ملک شام کی توسیع کی اور ملک کنعان کو توڑ کر ملک شام کا حصہ بنا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی فلسطین ملک شام کے اندر ہی آتا تھا۔ اسی لئے اسلامی مورخین بنی اسرائیل کے جو ملک شام میں آباد ہونے کا ذکر کرتے ہیں وہ آج کل کا ملک شام نہیں ہے۔ بعد میں عیسائیوں اور یہودیوں نے فلسطین، اردن ، لبنان الگ ملک بنا دیئے اور ملک شام سمٹ کر اتنا ہی رہ گیا جتنا آج ہے۔ یہاں ہم نے یہ بات تفصیل سے اس لئے ذکر کی ہے کہ آگے جب بھی ملک شام کا ذکر آئے تو الجھن نہ ہو۔ حضرت یونس علیہ السلام کا سلسلہ نسب حضرت یعقوب علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ اور آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلے بنی لاوی سے ہیں۔ اسی قبیلے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ہیں۔اور انہیں کی طرح حضرت یونس علیہ السلام بھی جلال والے تھے۔ عبرانی زبان میںیونس کو یونہ یا یوناہ کہا جاتا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا بچپن

حضرت یونس علیہ السلام بنی اسرائیل میں بہت ہی نیک بندوں میں سے تھے۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ امام علی بن حسن المعروف امام ابن عسا کر لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام ، لاوی بن یعقوب علیہ السلام بن اسحاق علیہ السلام بن ابراہیم علیہ السلام کے نواسے ہیں۔ اور ملک شام کے رہنے والے تھے۔ اور بعلبک کے عمال میں سے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ بچپن میں فوت ہو گئے تھے۔ ان کی والدہ نے اللہ کے نبی حضرت الیاس علیہ السلام سے دعا کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کر دیا۔ ان کے سوا ان کی والدہ کی اور کوئی اولاد نہیں تھی۔ چالیس سال کی عمر میں حضرت یونس علیہ السلام نے اعلان نبوت فرمایا۔ وہ بنی اسرائیل کے بہت عبادت گزار وں میں سے تھے۔ وہ اپنے دین کو بچانے کے لئے شام چلے گئے اور دجلہ کے کنارے پہنچ گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اہل نینوا کی طرف بھیجا۔ ( نینوا دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے جہاں موصل نامی شہر ہے۔ وہاں ایک قدیم شہر تھا۔ )

قوم یونس 

حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جس قوم کی طرف مبعوث فرمایا تھا اس قوم میں آپ علیہ السلام پید انہیں ہوئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آ پ علیہ السلام کو اس کا نبی بنایا اور اسی نسبت سے یہ قوم ِ یونس کہلائی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ اس طرح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آٹھ سو سال پہلے ملک عراق میں ایک قوم سیریا آباد تھی اور ان کی سلطنت و حکومت تھی اور اس سلطنت کا مرکزی مقام ( دارالخلافہ ، راجدھانی) تقریباً 50مربع میل میں پھیلی ہوئی تھی اور وہ شہر ”نینوا“ تھا۔ یہ شہر دریائے دجلہ کے کنارے شہر موصل کے قریب واقع تھا۔ یہ قوم بہت ظالم اور بت پرست تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام متیٰ کے بیٹے ہیں اور بنی اسرائیل سے ہیں۔ حضرت الیاس علیہ السلام کی دعا سے دوبارہ زندہ ہوئے۔ اٹھائیس سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کا تاج عطا فرمایا اور قوم سیریا کی طرف بھیجا۔ یہ قوم بنی اسرائیل نہیں تھی۔ اس کو قوم یونس فرمانا اُمت ہونے کی بنا پر ہے۔ کیوں کہ ہر شخص اس نبی کی قوم میں شمار ہوتا ہے۔ جو ان کی اُمت سے ہو چاہے برادری اور قبیلہ سے نسبت ہو یا نہ ہو۔ اس قاعدے سے قیامت تک کے سب مسلمان آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم ہیں۔

قوم یونس کا علاقہ

حضرت یونس علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ اور بنی اسرائیل اس وقت ملک کنعان ( آج کل کا فلسطین ، اردن ، لبنان اور شام کا کچھ علاقہ) میں آباد تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو ملک عراق کی طرف اپنا بنی بنا کر بھیجا۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام ( جن کا نام بائیبل میں یوناہ ہے اور جن کا زمانہ 860سے 784قبل مسیح کے درمیان بتایا جاتا ہے ) حالانکہ اسرائیلی نبی تھے مگر ان کو اشور ( اسیریا ) والوں کی طرف ہدایت کے لئے عراق بھیجا گیا تھا۔ اور اسی بنا پر اشوریوں کو یہاں قوم یونس کہا گیا ہے۔ ا س قوم کا مرکز اس زمانہ میں نینویٰ کا مشہور شہر تھا۔ جس کے وسیع کھنڈرات آج تک دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر موجودہ شہر موصل کے عین مقابل پائے جاتے ہیں۔ اور اسی علاقے میں ”یونس نبی“ کے نام سے ایک مقام بھی موجود ہے۔ اس قوم کے عروج کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس کا دارا لسلطنت نینویٰ تقریبا 60 میل کے دور میں پھیلا ہوا تھا۔ 

حضرت یونس علیہ السلام کے القاب

اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو ”ذو النون“ اور ”صاحب الحوت“ کے القاب سے نوازا ہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں ۔ ذوالنون حضرت یونس بن متی علیہ السلام کا لقب ہے کیوں کہ مچھلی نے آپ علیہ السلام کو نگل لیا تھا۔ النون سے مراد مچھلی ہے۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ ” ذو النون “ حضرت یونس علیہ السلام کا لقب ہے ۔ آپ علیہ السلام کا قصہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس ، سورہ الانبیاءپھر سورہ صافات اور سورہ نون میں ذکر فرمایا ہے ۔ کہیں ان کا اصل نام ذکر فرمایا ہے کہیں ذوالنون اور کہیں صاحب الحوت کے القاب سے ذکر کیا گیا ہے۔ نون اور حوت دونوں کے معنی مچھلی کے ہیں۔ ذوالنون اور صحاب الحوت کا ترجمہ ہے مچھلی والا۔ حضرت یونس علیہ السلام کو بہ تقدیر الٰہی چند روز بطن ماہی میں رہنے کا واقعہ غریبہ میں پیش آیا تھا۔ اسی کی مناسبت سے ان کو ذوالنون اور صاحب الحوت کے القاب سے نوازا گیا۔ مولانا سید ابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں کہ ( ذو النون ) سے مراد حضرت یونس علیہ السلام ہیں۔ کہیں ان کا نام لیا گیا ہے اور کہیں ”ذو النون “ اور ”صاحب الحوت “ یعنی مچھلی والے کے القاب سے یاد کیا گیا ہے۔ مچھلی والا انہیں اس لئے نہیں کہا گیا کہ وہ مچھلیا ں پکڑتے تھے یا بیچتے تھے بلکہ اس بناءپر کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک مچھلی نے ان کو نگل لیا تھا۔ جیسا کہ سورہ صافات آیت نمبر142میں بیان ہوا ہے۔ 

حضرت یونس علیہ السلام کا اعلان نبوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور بے شک یونس (علیہ السلام )بھی رسولوں میں سے ہیں“(سورہ الصافات آیت نمبر139) اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور حکم دیا کہ نینویٰ کے لوگوں میں جا کر اسلام کی دعوت دیں وہ لوگ بہت سر کش ہو گئے ہیں۔ آپ علیہ السلام نینویٰ میں آئے اور اسلام کی دعوت دینے لگے۔ آپ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت ( توریت) کے مطابق انہیں احکامات اور تعلیمات دیتے تھے۔ محمد لقمان سلفی لکھتے ہیں ۔ آئمہ تفسیر نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ سے حضرت یونس علیہ السلام اور انکی قوم کے بارے میں جو روایتیں نقل کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ موصل شہر کے رہنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نینویٰ شہر والوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا تھا۔ جسے اشود بن نمرود نے بسایا تھا جو حضرت علیہ السلام کے بیٹوں کی اولاد میں سے تھا۔ یہ شہر دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی آبادی چھ لاکھ تھی۔ اس زمانے میں آشوریوں کی قوت اتنی بڑھ گئی تھی کہ ایشیاءکے اکثر علاقے ان کے زیر تصرف آگئے تھے۔ اسی وجہ سے وہ تکبر اور غرور میں مبتلا ہو گئے تھے اور اللہ تعالیٰ سے سر کشی کرنے لگے تھے۔ ان کی ہی ہدایات کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ حضرت یونس علیہ السلام مسلسل انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے ۔ لیکن نینویٰ کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کی دعوت پر توجہ نہیں دی اور مذاق اڑاتے رہے۔ حالانکہ حضرت یونس علیہ السلام بہت جلال والے تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ علیہ السلام انتہائی صبر سے اور نرمی سے شفقت سے سمجھاتے رہے۔ 

قوم کا آپ علیہ السلام کو ستانا

حضرت یونس علیہ السلام محبت اور نرمی سے قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم نے آپ علیہ السلام کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ۔ امام ابن عسا کر لکھتے ہیں کہ حسن بیان کرتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام بنی اسرائیل کے انبیاءمیں سے ایک نبی کے ساتھ تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ حضرت یونس علیہ السلام کو اہل نینوا کی طرف بھیجیں اور ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ ان لوگوں میں توریت کے احکام پر عمل کرانے کے لئے انبیائے علیہم السلام کو مبعوث کیا جاتا تھا۔ اور ا س وقت تک اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت اور حضرت داﺅد علیہ السلام پر زبور نازل فرمائی تھی۔ اس لئے انہی کی تعلیم کی دی جاتی تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام بہت تیز مزاج والے اور جلال والے تھے۔ وہ اہل نینوا کے پاس گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کی تکذیب کی اور نصیحت کو مسترد کر دیا اور ان پر پتھراﺅ کیا اور آپ علیہ السلام کو بستی سے نکال دیا ۔ حضرت یونس علیہ السلام لوٹ کر آئے تو ان سے بنی اسرائیل کے نبی نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام پھر وہاں جائیں اور اسلام کی دعوت دیں ۔ آپ علیہ السلام پھر واپس نینوا آئے اور اسلام کی دعوت دینے لگے۔ قوم نے پھر وہی سلوک کیا اور پتھر مار مار کر بستی سے باہر نکال دیا۔ ایسا تین مرتبہ ہوا اور آپ علیہ السلام باہر نکالے جانے کے بعد پھر سے قوم کے پاس واپس جا کر اسلام کی دعوت دینے لگتے تھے۔ قوم نے ان کی بات تو نہیں مانی لیکن اس مرتبہ پتھراﺅ نہیں کیا اور نہ ہی آپ علیہ السلام کو بستی سے باہر نکالا۔ بلکہ انہوں نے آپ علیہ السلام کو نعوذ باللہ پاگل اور مجنوں کہہ کر مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ ا سکے باوجود آپ علیہ السلام صبر اور محنت سے انہیں سمجھاتے رہے۔ 

قوم کو برسوں سمجھایا

حضرت یونس علیہ السلام کی دعوت کو ان کی قوم نے ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد بھی آپ علیہ السلام انہیں مسلسل سمجھاتے رہے اور بتاتے رہے کہ جن معبودوں کی تم پوجا کرتے ہو ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کے لائق ہے اور تم لوگ جو اللہ تعالیٰ کے شریک بنا کر ان کی پوجا کرتے ہو اس کا انجام ہمیشہ کی تباہی اور دوزخ کے اندر ٹھکانا ہو گا۔ اسی لئے شرک اور بت پرستی چھوڑ کر صرف ایک اللہ کو اپنا معبود مانو اور صرف اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے اور اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی عطا فرمائے گا۔ اور جنت کے عیش و آرام میں ہمیشہ رکھے گا آپ علیہ السلام برسوں اپنی قوم کو سمجھاتے رہے ۔ پوری قوم آپ علیہ السلام کے اخلاق و کردار سے بہت متاثر تھی اور آپ علیہ السلام کی بہت عزت کرنے لگی تھی۔ لیکن ابلیس شیطان اور اس کے چیلے ان پر حاوی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ حضرت یونس علیہ السلام حق پر ہیں اور سچ فرما رہے ہیں۔ لیکن ابلیس شیطان نے ان کے دلوں میں دنیا کی اور اس کے عیش و آرام کی محبت پید اکر دی تھی اور انہیں دنیاکی محبت کے ذریعے بہکانے میں کامیاب ہو رہا تھا اور ان پر حاوی تھا۔ اسی وجہ سے وہ حق کو پہچان لینے کے باوجود اسے ماننے سے انکار کر رہے تھے۔

دعوت و تبلیغ کا عرصہ

حضرت یونس علیہ السلام نے کتنے عرصہ اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ اکثر علمائے کرام یہی فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے کافی لمبا عرصہ تک دعوت و تبلیغ کاکام کرتے رہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم موصل کی سرزمین نینویٰ کے مقام پر آباد تھی اور وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو ان کی طرف بھیجا اور آپ علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی ۔ اور جن نظریات پر وہ تھے انہیں ترک کرنے کی دعوت دی۔ لیکن انہوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس کہا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام انہیں نو سال تک اسلام کی دعوت دیتے رہے اس کے بعد بھی جب قوم اپنی ضد پر اڑی رہی تو آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ انہیں اطلاع کر دیں کہ تین دن میں ان پر عذاب آنے والا ہے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ، حضرت یونس علیہ السلام جو بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے انبیاءمیں سے ایک نبی ہیں۔ ان کو بابل و نینوا کے نا فرمانوں کی اصلاح و تربیت کے لئے بھیجا گیا تھا۔ بعض روایات کے مطابق حضرت یونس علیہ السلام نے نینوا کے لوگوں کو مسلسل سات سال تک تبلیغ دین فرمائی۔ مگر وہ اپنی کافرانہ اور مشرکانہ حرکتوں سے باز نہیں آئے۔

قوم کو عذاب کی خبر دی

حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کو برسوں سمجھاتے رہے اور ایک عرصہ دراز تک انہیں انتہائی نرمی اور شفقت سے سمجھاتے رہے لیکن جب قوم اپنی ضد پر اڑی رہی اور بدستور کفرو شرک میں مبتلا رہی تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ مفسرین ِ عظام بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو اہل نینویٰ کی راہ نمائی کے لئے بھیجا جو ارض موصل میں ایک شہر ہے۔ آپ علیہ السلام نے انہیں اللہ کی طرف بلایا ۔ لیکن انہوں نے تکذیب کی اور اپنے کفر و عناد میں بڑھتے چلے گئے۔ جب عرصہ دراز گزر جانے کے باوجود بھی ان کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو آپ علیہ السلام انہیں چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے اور تین دن کے بعد عذاب نازل ہونے کی دھمکی بھی دے گئے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام نے نینوا کے لوگوں کو ہر طرح سے سمجھایا کہ وہ کفر و شرک سے توبہ کر لیں مگر ان پر غفلتوں کے پردے پڑے ہوئے تھے اور انہوں نے آپ علیہ السلام کی کوئی بات نہیں سنی۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے پروردگار کی بارگاہ میں عرض کر دیا کہ الٰہی یہ لوگ کسی طرح سے کفر و شرک سے باز نہیں آرہے ہیں۔ اب آپ ان کا فیصلہ فرما دیجئے۔ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں سے زبردستی نہیں کرتا بلکہ ان کو مہلت دیتا رہتا ہے اور ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے۔ جب اللہ کے نبی قوم کے فیصلے کے بارے میں دعا کرتے ہیں تو وہ دعا اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے۔ اور اس قوم کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ دعا کر کے حضرت یونس علیہ السلام نے قوم سے فرما دیا کہ تین دن اور تین رات کی مہلت دی گئی ہے ۔ اگر تم نے توبہ نہیں کی تو اللہ کا عذاب تمہارے اوپر مسلط کر دیا جائے گا۔

قوم آپ علیہ السلام کو سچا مانتی تھی

حضرت یونس علیہ السلام نے قوم نینویٰ یعنی قوم یونس سے صاف صاف فرما دیا تھا کہ تین دن کے بعد تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو جائے گا۔ آپ علیہ السلام کی قوم نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ لیکن وہ لوگ آپ علیہ السلام کو سچا تسلیم کر تے تھے اور یہ مانتے تھے کہ حضرت یونس علیہ السلام کے منہ سے نکلی ہوئی بات یقینا ہو کر رہتی ہے۔ اس لئے قوم کے بڑوں نے مل کر یہ مشورہ کیا کہ ان پر نظر رکھو، اور یہ دیکھو کہ تیسری رات میں آپ علیہ السلام کیا کرتے ہیں؟ اگر تیسری رات بھی آپ علیہ السلام ہمارے درمیان رکے رہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ صرف دھمکی ہے۔ اور اگر آپ علیہ السلام تیسرے دن کی رات میں ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، تو سمجھ لینا کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب سچ مچ تین دن بعد آجائے گا۔ امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے ہیں کہ وہ (قوم یونس) آپس میں کہنے لگے ۔ یہ آدمی( حضرت یونس علیہ السلام ) جھوٹ نہیں بولتا ہے۔ اسی لئے تم اس کی تاک میں رہو، اگر یہ تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان مقیم رہے گا تو پھر تم پر کچھ نہیں آئے گا۔ اور اگر یہ تم سے کوچ کر جائے ( نکل جائے) تو بے شک تم پر عذاب ضرور آئے گا۔

حضرت یونس علیہ السلام چلے گئے

حضرت یونس علیہ السلام کے چلے جانے اور نہیں جانے کو قوم یونس نے عذاب کے آنے اور نہیں آنے کا پیمانہ بنا لیا تھا۔ اس لئے آخری رات کو پوری قوم جاگتی رہی۔ اور یہ دیکھتی رہی کہ آپ علیہ السلام اپنے گھر میں رکے رہتے ہیں یا پھر چلے جاتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے پہلے ہی گھر والوں کو سفر کے لئے تیاری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ آخری رات کومعمول کے مطابق آپ علیہ السلام تہجد کے لئے اٹھے۔ پوری قوم کے لوگ اس رات جاگ رہے تھے ۔ تہجد کے بعد صبح صادق کے وقت اپنی سواری کے جانوروں کو تیار کیا اور گھر والوں کو سوار کر کے اور سامان لاد کر اپنی سواری کے جانور پر سوار ہو کر گھر سے نکلے۔ آپ علیہ السلام کے محلے والوں نے اس مختصر سے قافلے کو روانہ ہوتے دیکھا اور دوسرے محلے والوں کو خبر دی۔ انہوں نے اگلے محلے والوں کو خبر دی۔ اس طرح پورے شہر والوں کو خبر ہو گئی کہ حضرت یونس علیہ السلام اپنے گھر والوں کو لے کر شہر سے باہر چلے گئے ہیں۔ اس طرح تمام شہر والوں کو یقین آ گیا کہ صبح اللہ تعالیٰ کا عذاب ضرور ان کے اوپر آئے گا۔ ادھر شہر سے باہر نکل کر حضرت یونس علیہ السلام ایک محفوظ مقام پر پہنچ کر ایک پہاڑی پر پڑاﺅ ڈال دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے انتظار کرنے لگے۔

اللہ کا عذاب دیکھ کر قوم ڈر گئی

حضرت یونس علیہ السلام شہر سے نکل گئے۔ شہر اتنا بڑا تھا کہ پچاس50ساٹھ کلو میڑ کے رقبے میں پھیلا ہوا تھا۔ اور لاکھوں کی آبادی تھی۔ لیکن صبح ہونے سے پہلے پہلے پورے شہر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ حضرت یونس علیہ السلام شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ پوری قوم بری طرح ڈر گئی اور انہیں یہ یقین ہو گیا کہ صبح اللہ تعالیٰ کا عذاب ضرور آئے گا۔ جب صبح ہوئی تو قوم نے دیکھا کہ آسمان کے کنارے سے کوئی سیاہ چیز ابھر رہی ہے۔ جو دھیرے دھیرے بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ دیکھ کر پوری قوم سمجھ گئی کہ یہی اللہ کا عذاب ہے۔ جو دھیرے دھیرے ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔ قوم کے کمزور دل عوام اور عورتیں اور بچے رونے لگے۔ اور قوم کے بڑے بڑے سرداروں نے فوراً آپس میں میٹنگ کرنے لگے۔ سب سے پہلے انہوں نے طے کیا کہ حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کر کے واپس لایا جائے۔ تا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے عذاب کو ٹالنے کی دعا کریں اور آپ علیہ السلام کی تلاش میں فوراً آدمیوں کو دوڑایا۔ اس کے بعد انہوں نے مشورہ کیا کہ حضرت یونس علیہ السلام کے آنے تک ہم یہ کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کریں اور جو گناہ کئے ہیں ان کی بھر پائی کی کوشش کریں۔ پوری قوم میں اعلان کر دیا گیا ۔ ایک بہت ہی ہنگامی اور نفسا نفسی کی حالت پیدا ہو گئی ۔ لوگوں نے ظلم سے جو مال حاصل کئے تھے وہ واپس کرنے لگے۔ چوروں نے چوری کا مال ان کے مالکوں کو واپس کر دیا اور معافی مانگی۔ پوری قوم کے لوگ ایک دوسرے سے معافی مانگ رہے تھے۔ اور ان کی چیزیں واپس کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں سے دھوکے سے پتھر لے کر اپنے اپنے گھرکی بنیادوں ( پہیّے) میں لگا کر گھر بنائے تھے انہوں نے اپنے گھروں کی بنیادوں کو کھود کر وہ پتھر نکالے اور انکے مالکوں کو واپس کر دیئے۔ اسی دوران حضرت یونس علیہ السلام کی تلاش میں جانے والے واپس آگئے۔ اور بتایا کہ آپ علیہ السلام کہیں نہیں ملے۔ اللہ کا عذاب دھیرے دھیرے قریب آتا جا رہا تھا۔ اور وہ سیاہ چیز مسلسل بڑی ہوتی جا رہی تھی۔ عذاب کو قریب آتا دیکھ کر قوم کا برا حال تھا۔

قوم کی توبہ

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے تمام لوگ عذاب کو آتا دیکھ رہے تھے۔ وہ سیاہ چیز جو کالے گھنے بادل کی طرح تھی وہ انہیں آسمان کے افق سے ایک چھوٹے سے کالے نقطے کی شکل میں نمودار ہوئی تھی۔اور آسمان کو ڈھانکتی جا رہی تھی۔ پھر اس نے سورج کو بھی ڈھانک لیا۔ اور جب سورج اس کی آڑ میں چھپا تو ہر جگہ سایہ ہو گیا۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے سرداروں نے جب دیکھا کہ آپ علیہ السلام کا کہیں پتہ نہیں ہے اور اللہ کا عذاب بھی قریب آتا جا رہا ہے تو انہوں نے پورے شہر میں اعلان کر دیا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر معافی مانگنی ہے اور توبہ کرنا ہے۔ تمام بچوں کو انکی ماﺅں سے الگ کر دو۔ اور تمام لوگ ایک بڑی وادی میں جمع ہو کر معافی مانگو۔ اعلان سنتے ہی پورے شہر میں کاروائی شروع ہو گئی ۔ لگ بھگ پانچ لاکھ سے زیادہ کی آبادی تھی ۔ پورے شہر میں ہا ہا کار مچ گیا۔ بچوں کو ان کی ماﺅں سے الگ کیا گیا تو مائیں اور بچے رونے لگے۔ یہاں تک کہ جانوروں کے بچے بھی الگ کر دیئے گئے۔ یہ دیکھ کر جانور اور ان کے بچے بھی چلانے لگے۔ تمام سرداروں اور مردوں نے عورتوں اور بچوں اور جانوروں کو ساتھ لے لیا۔ اور ایک اونچے پہاڑ کے دامن میں وادی میں جمع ہو گئے اور رو رو کر گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنے لگے اور معافی مانگنے لگے۔

قوم کا اللہ پر ایمان لانا

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم توبہ وا ستغفار میں مشغول تھی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آٹھ سو 800سال پہلے ملک عراق میں ایک قوم سیریا آباد تھی۔ ان کی سلطنت تھی اور اس سلطنت کا مرکزی مقام یعنی دارالخلافہ یا راجدھانی تقریباً پچاس50مربع میل پر پھیلا ہوا ایک شہر” نینوا “ دجلہ کے کنارے شہر موصل کے قریب واقع تھا۔ یہ قوم بہت ظالم اور بت پرست تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام متیٰ کے بیٹے بنی اسرائیل سے ہیں۔ حضرت الیاس علیہ السلام کی دعا سے دوبارہ زندہ ہوئے۔ اٹھائیس سال کی عمر میں نبوت کا تاج عطا فرمایا گیا۔ پھر قوم سیریا کی طرف بھیجا گیا۔ یہ قوم بنی اسرائیل نہیں تھی۔ اس قوم کو ”قوم یونس“ فرمانا امت ہونے کی بنا پر ہے۔ کیوں کہ ہر شخص نبی کی قوم میں شمار ہو تا ہے۔ جو ان کی امت ہوتی ہے۔ چاہے وہ اس کی نسبت برادری اور قبیلہ سے ہو یا نہ ہو۔ اس قاعدے سے قیامت تک کے سب مسلمان آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام نے ان کو ظلم اور بت پرستی چھوڑنے کی تبلیغ فرمائی۔ مگر انہوں نے آپ علیہ السلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا ۔ کافی عرصہ تبلیغ فرماتے رہے مگر ایک بھی مسلمان نہیں ہوا۔ تب آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، یہ تو میرا کہنا نہیں مان رہے ہیں۔ وحی آئی کہ تین دن بعد ان پر عذاب نازل ہو گا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے قوم کو عذاب کے بارے میں بتا دیا۔ تب قوم نے آپ میں مشورہ کیا ۔ بعض نے کہا۔ یہ جھوٹ ہے۔ مگر اکثریت نے کہا کہ اس سے پہلے تو انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ہے۔ ان کی یہ خبرآزمائش کے قابل ہے۔ اگر عذاب کی رات حضرت یونس علیہ السلام ہمارے ساتھ رہے تو سمجھ لینا کہ عذاب کی خبر جھوٹ ہے۔ اور اگر ہمیں چھو ڑکر چلے گئے تو سمجھ لینا کہ تم پر ضرور اللہ کا عذاب آئے گا۔ عذاب کے وعدے والے دن سے پہلی رات کا جب کچھ حصہ گزر گیا تو آپ علیہ السلام بستی سے نکل گئے۔ جب صبح طلوع ہوئی تو بستی والوں نے دیکھا کہ آسمان پر کالی گھٹائیں بڑے خوف ناک طریقے سے چھائی ہیں اور تمام بستی پر عجیب اداسی چھائی ہوئی ہے۔ اور گھٹاﺅں کا اندھیرا لمحہ بہ لمحہ زیادہ گہرا ہو تا جا رہا ہے۔ تب انہوں نے سمجھ لیا کہ اسی بادل میں عذاب ہے۔ اور یہ ہُو کا عالم عذاب ہی کا پیش خیمہ ہے۔ پھر پریشان ہوئے اور دوڑے۔ اور حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کرنے لگے۔ مگر آپ علیہ السلام نہیںملے تو اور بھی انہیں عذاب کا یقین ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا۔ سب بڑے بوڑھے ،عورت مرد، بچے جوان گھروں سے باہر نکل آئے اور ہر شخص ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گیا۔ اولاد ماں باپ سے جدا ، کوئی کسی کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ سب عذاب سے معافی اور سابقہ کفر ، بت پرستی ظلم وغیرہ گناہوں سے سچی توبہ میں مشغول ہو گئے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر رو رو کر گڑ گڑا تے ہوئے عرض کر رہے تھے۔ اے ہمارے معبود ، ہم تیری وحدانیت پر اور تیرے انبیاءکی نبوت و تبلیغ پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں۔ ہم بت پرستی و ظلم سے توبہ کرتے ہیں۔ تو وہ عذاب ان سے ہٹا دیا گیا۔

قوم کی آہ وزاری

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے اللہ کے عذاب کو اپنی طرف آتا دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آہ وزاری کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ جب حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کے خلاف بد دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ صبح کے وقت ان پر عذاب نازل ہو گا۔ تو انہوں نے کہا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے جھوٹ نہیں بولا ہے۔ ہم صبح کے وقت عذاب سے ضرور دوچار ہو ں گے۔ پس آﺅ، تا کہ ہم ہر شئے کے بچوں کو نکالیں۔ ہم انہیں اپنے بچوں کے ساتھ رکھیں گے شاید اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ پس انہوں نے عورتوں کو نکالا ، ان کے ساتھ بچے بھی تھے۔ انہوں نے اونٹ نکالے اور ان کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے۔ انہوں نے گائیں نکالیں اور ان کے ساتھ ان کے بچھڑے بھی تھے۔ انہوں نے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ نکالے اور بچوں کو بھی نکالا۔ پس انہوں نے ان کو اپنے آگے سامنے رکھا اور عذاب آگیا۔ پس انہوں نے عذاب دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لی اور دعا کی۔ عورتیں اور بچے رونے لگے۔ اونٹ اور ان کے بچے بلبلانے لگے۔ گائیں اور ان کے بچھڑے دُکرانے لگے۔ بکرویں اور بھیڑوں اور ان کے بچے ممیانے لگے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا۔ اور عذاب کو ان سے پھیر دیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی اپنی تفسیر تبیان القرآن میں لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ جب حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو سر کشی پر ہی ڈٹا ہوا دیکھا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اور اپنی قوم کو خبر دی کہ تین دن بعد تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے گا۔ اور اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر وہاں سے چلے گئے۔ وہ ایک پہاڑ پر چڑھ کر اہل نینوا کو دیکھنے لگے۔ اور ان پر عذاب کے نازل ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام کی قوم نے جب اللہ کے عذاب کو آتے دیکھا تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ اور ان کو یقین ہو گیا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے سچ فرمایا تھا۔ پھر اس وقت بنی اسرائیل میں ( اہل نینواکے پڑوسی) جو انبیائے کرام تھے ان کی طرف رجوع کیا اور ان سے اس مصیبت کا حل دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت یونس علیہ السلام کو بلاﺅ، وہ تمہارے لئے دعا کریں گے اور ان کی دعا سے اللہ کا عذاب ٹل جائے گا۔ انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا۔ لیکن وہ نہیں ملے۔ تب قوم کے سرداروں نے کہا۔ آﺅ ہم سب مل کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کریں ۔ پھر وہ اپنے تمام مردوں ، عورتوں ، بچوں اور مویشیوں کو لے کر نکلے۔ انہوں نے ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے اپنے سروں پر راکھ ڈال لی۔ اپنے پیروں میں کانٹے بچھائے اور رو رو کر اور گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگے اور توبہ کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے صدق کو دیکھ کر ان کی توبہ قبول فرما لی۔

عذاب بہت قریب آگیا

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم بری طرح رو رو کر توبہ کر رہی تھی۔ اور اللہ کے عذاب کو آتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ عذاب دھیرے دھیرے قریب آتا جا رہا تھا۔ اور قوم کا یہ حال تھا کہ کھانا پینا اور ہر دنیاوی ضروریات کو بھلا کر صرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ میں مصروف تھے۔ علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے اتنے صدق دل سے توبہ کی کہ اگر کسی نے اپنے گھر کی بنیاد میں ایک پتھر بھی نا جائز لگا یا ہوا تھا تو اس نے اپنے گھر کی پوری بنیاد اکھاڑ ڈالی، اور ایک پتھر کے بجائے کئی پتھروں کو نکال کر پھینک دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا عذاب ان سے ایک میل کے دو تہائی فاصلے پر تھا اور یہ بھی روایت ہے کہ وہ ایک میل کے فاصلے پر تھا۔ اور انہیں اللہ کے عذاب نے ڈھانپ لیا تھا اور اس میں سرخی تھی۔ پس وہ مسلسل قریب آتا رہا ۔ یہاں تک کہ قوم کے لوگ اس کی گرمی اپنے کندھوں کے درمیان محسوس کرنے لگے تھے اور حضرت ابن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عذاب نے انہیں اس طرح ڈھانپ لیا تھا کہ جیسے کوئی کپڑا قبر کو ڈھانپ لیتا ہے۔ پس انہوں نے صدق دل سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے عذاب اٹھا لیا۔

اللہ تعالیٰ نے قوم یونس کی توبہ قبول کر کے عذاب روک دیا

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کو اللہ کے عذاب نے ڈھانپ لیا تھا ۔ اور قوم سچے دل سے اور اخلاص سے تڑپ تڑپ کر معافی مانگ رہی تھی۔ کیوں کہ وہ لوگ عذاب کی شدت کو محسوس کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے خلوص کو دیکھ رہا تھا۔ اور آخر کار اس کی رحمت ان کی طرف متوجہ ہوئی۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی اپنی تفسیر انوارا لبیان میں لکھتے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام نینویٰ بستی کے رہنے والوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے جو موصل کی سر زمین (عراق) میں تھے۔ آپ علیہ السلام ان پر محنت کرتے رہے ، ایمان کی دعوت دیتے رہے۔ انہوںنے ایمان قبول نہیں کیا۔ بالا ٓخر آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا۔ تین دن بعد تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا۔ وہ آپس میں کہنے لگے کہ اس شخص نے کبھی جھوٹ نہیں کہا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ تیسری رات کو یہ یہیں رہتے ہیں یا نہیں۔ اگر یہ اس رات کو رہ گئے تو ہم سمجھیں گے کہ عذاب کی صرف دھمکی ہے اور اگر انہوںنے ہمارے ساتھ رات نہیں گزاری تو ہم سمجھ لیں گے کہ صبح عذاب آنے والا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام تیسری رات کو ان کے درمیان سے نکل گئے۔ جب صبح ہوئی تو ان کی قوم نےعذاب کے آثار دیکھ لئے آسمان پر سخت سیاہ بادل چھا گئے اور دھواں نازل ہونے لگا جو ان کے شہر کے اوپر اور گھروں کی چھتوں پر چھا گیا۔ جب انہیں اپنی ہلاکت کا یقین ہو گیا تو ان لوگوں نے آپ علیہ السلام کو تلاش کیا ، لیکن کہیں نہیں پایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو توبہ کی طرف متوجہ پایا۔ وہ اپنی جانوں ، عورتوں ، بچوں اور جانوروں کو لے کر میدان میں نکل گئے۔ ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے اور اخلاص کے ساتھ توبہ کی اور ایمان قبول کیا۔ اور خوب چیخے چلّائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف عاجزی کے ساتھ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے ۔ حضرت یونس علیہ السلام جو کچھ لے کر آئے ہیں ہم اس پر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کی توبہ قبول فرمائی اور عذاب روک لیا۔ اور اس کے بعد ایک زمانہ تک وہ لوگ زندہ رہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیاوی چیزوں کے ذریعے فائدہ پہنچایا۔ ان میں سے ہر شخص دنیا میں اپنی عمر پوری کر کے مرتا رہا۔ اور عذاب کے ذریعے اجتماعی طور پر ہلاکت کا معاملہ طے کیا گیا تھا۔ وہ ختم کر دیا گیا۔ اس طرح حضرت یونس علیہ السلام کی قوم دنیا کی واحد قوم ہے جس نے عذاب کو دیکھ کر توبہ کی اور ان پر سے عذاب ٹل گیا۔

اللہ تعالیٰ نے عذاب کیوں روک دیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں فرمایا۔ ترجمہ ” کوئی بستی ایمان نہیں لائی کہ اس کا ایمان لانا اس کے لئے فائدے مند ثابت ہوتا۔ سوائے یونس (علیہ السلام ) کی قوم کے۔ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے رسوائی کے عذاب کو دنیاوی زندگی میں ان پر سے روک دیا۔ اور ان کو ایک خاص وقت تک کے لئے زندگی سے فائدہ اٹھانے ( کا موقعہ ) دیا۔ (سورہ یونس آیت نمبر98) حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے اللہ کے عذاب کو اپنے اوپر آتا دیکھ کر سچے دل سے توبہ کر لی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان پر سے اپنا عذاب روک دیا۔ یہ واقعہ بتانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کا واقعہ بتایا ہے۔ اور اس میں بتایا کہ فرعون جب عذاب میں مبتلا ہو گیا توتب ایمان لانے کا اقرار کرنے لگا۔ لیکن ایسے وقت کا ایمان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قابل قبول نہیں ہے بلکہ ویسا ایمان اور توبہ قابل قبول ہے جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے کیا۔ اس کے بارے میں مولانا مفتی محمد شفیع نے اپنی تفسیر معارف القرآن میں بہت خوب صورت انداز میں لکھا ہے۔ آپ لکھتے ہیں۔ اس آیت میں ارشاد ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہو کہ منکر قومیں ایسے وقت ایمان لے آتیں کہ ان کا ایمان لانا ان کو نفع دیتا۔ یعنی موت کے وقت یا وقوع عذاب اور مبتلائے عذاب ہو چکنے کے بعد یا قیام قیامت کے وقت جب کہ توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ اور کسی کی توبہ اور ایمان قبول نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے پہلے اپنی سر کشی سے باز آجاتیں اور ایمان لے آتیں ۔ سوائے قوم یونس کے انہوںنے ایسا وقت آنے سے پہلے ہی جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا دیکھا تو فوراً توبہ کر لی اور ایمان لے آئے۔ جس کی وجہ سے ہم نے ان سے رسواءکرنے والا عذاب ہٹا لیا۔ اس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کا عذاب سامنے آجانے پر بھی توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ البتہ آخرت کا عذاب سامنے آجانے کےوقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اور عذاب آخرت کا سامنے آنا یا قیامت کے دن ہو گا یا موت کے وقت۔ چاہے وہ طبعی موت ہو یا کسی دنیاوی عذاب میں مبتلا ہو کر ہو۔ کیوں کہ انہوں نے آگر چہ عذاب آتا ہو ا دیکھ کر توبہ کی ، مگر عذاب میں مبتلا ہو نے اور موت سے پہلے کر لی۔ بخلاف فرعون اور دوسرے لوگوں کے ۔ جنہوں نے عذاب میں مبتلا ہو نے کے بعد اور غرغرہ¿ موت کے وقت تگوبہ کی اور ایمان کا اقرار کیا۔ اس لئے ان کا ایمان معتبر نہیں ہوا۔ اور توبہ قبول نہیں ہوئی۔

حضرت یونس علیہ السلام قوم میں واپس نہیں آئے

حضرت یونس علیہ السلام ایک اونچی پہاڑی پر قیام پذیر تھے۔ اور وہاں سے عذاب آتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اور ادھر قوم کا یہ حال تھا کہ انہوں نے سچے دل سے توبہ کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے عذاب واپس لے لیا۔ ادھر حضرت یونس علیہ السلام اس تحقیق و جستجو میں تھے کہ قوم کے ساتھ کیا حالات پیش آئے؟ علامہ محمد بن جریر طبری اپنی تفسیر طبری میں لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو بستی کی طرف مبعوث فرمایا تو آپ علیہ السلام ان کی طرف اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آئے تو انہوںنے رد کر دیا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی ، میں ان پر فلاں فلاں وقت اپنا عذاب نازل فرما نے والا ہوں۔ ان کے درمیان سے نکل جانا۔ اور اپنی قوم کو بتا دینا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کا وعدہ کیا ہے۔ لوگوں نے کہا۔ تاڑ میں رہنا۔ اگر وہ تمہارے درمیان سے نکل جائے تو انہوں نے جو وعدہ کیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ پورا کرنے والا ہے۔ جب وہ رات آئی جس کی صبح عذاب آنے کا وعدہ کیا گیا تھا تو آپ علیہ السلام رات کو نکل گئے۔ قوم نے انہیں جاتے دیکھ لیا اور وہ ڈر گئے۔ وہ بستی سے کھلی جگہ پر نکلے۔ جانوروں اور ان کے بچوں کو الگ کر دیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ بارگاہ میں آہ وزاری کی ، توبہ کی اور معافی کے طلب گار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر لی۔ حضرت یونس علیہ السلام بستی اور ان کے رہنے والوں کی خبر کے بارے میں منتظر تھے۔ یہاں تک کہ ایک آدمی آپ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کے حالات دریافت فرمائے۔ اس نے جواب دیا۔ جب ان کو پتہ چلا کہ ان کا نبی( علیہ السلام )ان کے درمیان سے نکل گیا ہے۔ تو انہیں یقین ہو گیا کہ ان کے نبی نے جس عذاب کے آنے کا وعدہ کیا تھا وہ ضرور آئے گا۔ اور وہ سچے ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آہ وزاری کی اور توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ اور عذاب کو ان پر سے ہٹا دیا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے فرمایا۔ قوم پر عذاب ہونے کی صورت میں اگر میں ان کے پا س واپس گیا تو جھوٹا کہلاﺅں گا اور میں ایک جھوٹے کی حیثیت سے ان کی طرف نہیں جاﺅں گا۔ اور وہاں سے چلے گئے۔

کشتی رُک گئی

حضرت یونس علیہ السلام کو اپنی قوم کے پاس واپس جانے سے حیا آگئی۔ اور آپ علیہ السلام نے ان سے دور جانے کا فیصلہ کر لیا۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی اپنی تفسیر انوارا لبیان میں لکھتے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام یہ دیکھ کر کہ عذاب نہیں آیا اپنی قوم کو چھوڑ کر روانہ ہو گئے تو چلتے چلتے دریا کے کنارے پہنچے۔ وہاں جو کشتی والے تھے وہ لوگوں کو کرایہ لے کر دوسرے کنارے پر پہنچاتے تھے۔ انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو پہچان لیا۔ وہ آپ علیہ السلام کی اتنی عزت کرتے تھے کہ انہوں نے کرایہ بھی نہیں لیا۔ حالانکہ آپ علیہ السلام نے کرایہ دینے کی بہت کوشش کی لیکن انہوں نے کرایہ نہیں لیا۔ اور آپ علیہ السلام کو سوار کر لیا۔ جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو رک گئی۔ کشتی والوں نے بہت کوشش کی کہ آگے بڑھ جائے، لیکن وہ وہیں رکی رہی۔ کشتی والوں نے کہا کہ جو لوگ کشتی میں سوار ہیں ، ان میں کوئی ایسا شخص ہے کہ جس کی وجہ سے یہ بیچ دریا میں رک گئی ہے۔ اور بعض روایات میں آیا ہے کہ جب حضرت یونس علیہ السلام نے دیکھا کہ کشتی دریا کے درمیان رکی ہوئی ہے ۔ جب کہ دوسری کشتیاں ان کے دائیں اور بائیں سے گزر رہی ہیں اور ان کی کشتی نہ چلانے سے چل ہی ہے اور نہ ہلانے سے ہل رہی ہے۔ آپ علیہ السلام نے خود دریافت فرمایا کہ اس کشتی کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ہمیں تو پتہ نہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ لیکن مجھے اس کا سبب معلوم ہے۔ اس میں کوئی ایسا غلام ہے جو اپنے آقا کی فرمانبرداری چھوڑ کر بھاگ آیا ہے۔ اور جب تک اس شخص کو تم سمندر میں نہیں ڈال دو گے تب تک یہ کشتی رکی رہے گی۔ اور وہ بھاگا ہوا غلام میں ہوں۔ (آپ علیہ السلام نے یہ اس لئے فرمایا کہ وہ جانتے تھے کہ اب ایمان لاچکی قوم کے پاس جا کر ان کی کردار سازی اور تعلیم و تربیت کرنا چاہیئے تھا لیکن حیا کی وجہ سے آپ علیہ السلام نہیں گئے) تم لوگ ایسا کرو، مجھے دریا میں ڈال دو۔ لوگوں نے کہا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، ہم آپ علیہ السلام کو دریا میں نہیں ڈال سکتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اچھا تو پھر قرعہ ڈال لو۔ جس کے نام کا قرعہ کھلے گا۔ اسے دریا میں ڈال دینا۔ قرعہ ڈالا گیا تو حضرت یونس علیہ السلام کا نام کھلا۔

دریا میں چھلانگ لگا دی

حضرت یونس علیہ السلام کے نام کا قرعہ کھلا، تو آپ علیہ السلام دریا میں کودنے کی تیاری کرنے لگے تو لوگوں نے پکڑ لیا۔ اور کہا۔ حضرت پھر سے قرعہ ڈالتے ہیں۔ دوسری مرتبہ بھی آپ علیہ السلام کا ہی نام کھلا۔ لوگوں نے کہا کہ ایک مرتبہ اور قرعہ ڈالتے ہیں۔ تیسری مرتبہ بھی آپ علیہ السلام کا ہی نام کھلا۔ یہاں ہم آپ کو بتا دیں کہ ہم لوگ نام ڈال کر قرعہ اندازی کرتے ہیں لیکن پہلے زمانے میں ایسا نہیں تھا۔ کشتی والوں نے تیر کے ذریعے قرعہ اندازی کی۔ اور یہ طے ہوا کہ جس تیر ڈوب جائے گا اسے پانی میں پھینک دیا جائے گا۔ تمام لوگوں نے اپنے اپنے تیر پانی میں ڈالے تو سب کے تیر تیرتے رہے اور حضرت یونس علیہ السلام کا تیری پانی میں ڈوب گیا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام دریا میں کودنے لگے تو لوگوں نے پکڑ لیا۔ کیوں کہ سب لوگ جانتے تھے کہ آپ علیہ السلام انتہائی نیک، سچ بولنے والے اور ہمیشہ لوگوں کی مدد کرنے والے ہیں۔ لوگوں نے کہا۔ حضرت رک جائیے۔ یہ اتفاق سے ہو گیا ہوگا۔ ہم پھر قرعہ ڈالتے ہیں۔ اس مرتبہ جس کا تیر پانی پر تیر تا رہ جائے گا اسے پانی میں پھینک دیا جائے گا۔ تمام لوگوں نے اپنے اپنے تیر پھر سے پانی میں ڈالے۔ اس مرتبہ سب لوگوں کے تیر پانی میں ڈوب گئے اور آپ علیہ السلام کا تیر پانی پر تیرتا رہا۔ تمام لوگ آپ علیہ السلام کی اتنی عزت کرتے تھے کہ ان کا دل اس بات کو قبو ل نہیں کر پا رہا تھا۔ انہوں نے پھر کہا۔ ایک مرتبہ اور قرعہ نکالتے ہیں۔ تیسری مرتبہ بھی آپ علیہ السلام کے نام ہی قرعہ کھلا۔ آپ علیہ السلام ان کی محبت دیکھ چکے تھے۔ اس لئے اس سے پہلے کہ وہ لوگ سمجھ پاتے ۔ آپ علیہ السلام نے بغیر کسی سے کچھ کہے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ اور پانی میں کود گئے۔

مچھلی نے نگل لیا

حضرت یونس علیہ السلام نے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ کئی روایات میں آیا ہے کہ وہ دریا دجلہ تھا۔ اب کون سا دریا تھا، یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ بہر حال آپ علیہ السلام پانی میں کودنے کے بعد کنارے کی طرف تیرنے لگے۔ دریا بہت بڑا تھا اور کنارہ بہت دور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو نگل لے۔ لیکن ان کو کوئی زخم نہیں آنا چاہیے۔ اور وہ ایک امانت کے طور پر تمہارے پیٹ کے اندر رہیں گے۔ اور جب میں تمہیں جہاں اگلنے کا حکم دوں گا ، وہاں اسے اُگل دینا۔ حضرت یونس علیہ السلام پانی میں تیر رہے تھے۔ آپ علیہ السلام کے پانی میں کودتے ہی وہ کشتی چلنے لگی تھی۔ اس کے باوجود کشتی پر سوار سب لوگ آپ علیہ السلام کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ کہ اچانک پانی میں سے بہت تیزی سے ایک بہت بڑی مچھلی ابھری اور اس نے آپ علیہ السلام کو زندہ نگل لیا۔ یہ ہولناک منظر دیکھ کر سب لوگ شدید خوف سے چلّا اٹھے۔ اور کشتی کو تیزی سے چلانے لگے۔ تا کہ اس خوفناک مچھلی سے دور ہو جائیں۔ ادھر مچھلی نے آپ علیہ السلام کو نگلنے کے بعد اپنا رخ بدل لیا۔ اور پانی کے اندر جا کر تیزی سے تیرنے لگی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ جب مچھلی کے پیٹ میں آپ علیہ السلام پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی سے فرمایا۔ اے مچھلی، ہم نے یونس (علیہ السلام ) کو تیرا رزق نہیں بنایا ہے۔ بلکہ ہم نے تجھے اس کے لئے پناہ گاہ اور مسجد بنایا ہے۔ مچھلی انہیں اپنے پیٹ میں لئے تیرتی رہی ۔ یہاں تک کہ ابلہ سے گزری۔ پھر وہ انہیں لے کر چلی، یہاں تک کہ دجلہ کے پاس سے گزری ، پھر وہ چلی، یہاں تک کہ نینویٰ پہنچی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے کنارے پر اُگل دیا۔

مچھلی کے پیٹ میں اللہ کا ذکر اور تسبیح

حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی نے نگل لیا۔ اور ادھر ادھر تیرتی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں آپ علیہ السلام کے لئے ہوا اور رزق کا انتظام کر دیا تھا۔ دن میں مچھلی چلتی رہتی تھی۔ اور رات میں پانی کی تہہ میں جا کر بیٹھ جاتی تھی۔ رات میں آپ علیہ السلام تین اندھیروں میں ہوتے تھے۔ پہلا اندھیرا رات کا ، دوسرا اندھیرا پانی کا، اور تیسرا اندھرا مچھلی کے پیٹ کے اندر کا ہوتا تھا۔ ان اندھیروں میں بھی آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کرتے رہتے تھے۔ امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی اپنی تفسیر میں علامہ محمد بن جریر طبری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام کو عبوس کرنے کا ارادہ فرمایا تو مچھلی کو حکم دیا کہ اسے پکڑ لے۔ اس کے گوشت کو خراش نہیں لگانا اور اس کی ہڈی کو نہیں توڑنا۔ مچھلی نے آپ علیہ السلام کو پکڑ لیا۔ اور پھر رات میں سمندر کی تہہ میں اپنے مسکن میں جا بیٹھی۔ جب وہ سمندر کے انتہائی گہرے حصہ میں پہنچی تو حضرت یونس علیہ السلام نے کچھ آواز سنی۔ اور دل میں اللہ تعالیٰ سے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، یہ کیسی آواز ہے؟ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کیطرف وحی فرمائی۔ جب کہ وہ مچھلی کے پیٹ کے اندر تھے کہ یہ سمندری مخلوق کی تسبیح ہے ۔ یہ سنتے ہی آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں ہی اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کرنے لگے۔

حضرت یونس علیہ السلام کے لئے فرشتوں کی دعا

حضرت یونس علیہ السلام نہایت خشوع خضوع سے مچھلی کے پیٹ کے اندر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کر رہے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی تسبیح کی آوازمچھلی کے پیٹ سے نکل کر سمندر کے پانی کو پار کرکےآسمانوں میں فرشتوںکو سنائی دے رہی تھی۔امام محمد بن احمد قرطبی ،علامہ محمد بن جریر طبری کے حوالے سے لکھتے ہیں۔کہ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تسبیح کر رہے تھے،اور آپ علیہ السلام کی تسبیح کی آواز جب فرشتوں نے سنی تو اﷲ تعالیٰ بارگاہ میں عرض کیا؛”اے ہمار ے رب!ہم ایک اجنبی علاقہ سے کسی انسان کی مدھم اور کمزور سی تسبیح سن رہے ہیں۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”وہ میرا نیک اور مخلص بندہ یونس (علیہ السلام) ہے،اور اِس وقت ایک مچھلی کے پیٹ کے اندر سے میری تسبیح کر رہا ہے۔“فرشتوں نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !تیرا وہ نیک بندہ جس کے نیک اعمال ہر روز تیری بارگاہ میں بلند ہوتے تھے؟“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ہاں!یہ وہی نیک اور مخلص بندہ ہے۔“یہ سن کر فرشتوں نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت یونس علیہ السلام کے لئے دعا کرنی شروع کر دی۔اُن کی دعا کو سن کر دوسرے فرشتے بھی آپ علیہ السلام کے لئے دعا کرنے لگے۔

حضرت یونس علیہ السلام کی تسبیح

حضرت یونس علیہ السلام مسلسل مچھلی کے پیٹ میں اﷲ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کر رہے تھے۔اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہا،جب تک آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ کے اندر رہے۔آخر وہ کون سی تسبیح تھی،جس نے آپ علیہ السلام کو اتنی فضیلت اور بلند مرتبہ عطا فرمایا۔وہ تسبیح”لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین“تھی۔جس کا اردو ترجمہ ”اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،وہ پاک ہے،اور میں ظالموں(یا اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں)میں سے ہوں۔“حضرت یونس علیہ السلام ہر حال میں چاہے وہ خوشی کا وقت ہو یا غمی کا وقت ہو،ہر وقت میں اﷲ تعالیٰ کی پاکی کرتے رہتے تھے۔اِسی لئے مچھلی کے پیٹ میں بھی اﷲ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے لگے۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آرام اور راحت کے وقت اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرو توسختی اور بے چینی کے وقت میں وہ تمہاری مدد کرے گا۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کے پابند نہ ہوتے،اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے ،اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ”لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین“ کی تسبیح نہ کرتے تو مچھلی کے پیٹ سے رہائی نہ ملتی۔اِسی لئے قرآن پاک کی آیتوں میں ہے کہ اُس نے(حضرت یونس علیہ السلام نے)اندھیروں میںیعنی(رات کا اندھیرا،پھر پانی کے اندر کا اندھیرا،پھر مچھلی کے اندر کا اندھیرا)یہی کلمات کہے ۔اور ہم نے اُن کی دعا قبول فرما کر غم سے نجات دی،اور اِسی طرح مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔امام ابن حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں اِن کلمات کو کہا تو یہ دعا اﷲ تعالیٰ کے عرش کے اِرد گِرد منڈلانے لگی،اور فرشتوں نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !یہ آواز تو کہیں بہت دور سے آرہی ہے۔اِس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرورلیکن ہم اِس آواز کا پہچان نہیں پارہے ہیں۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”توجہ کرو ،اور بتاو¿!یہ کس کی آواز ہے؟“فرشتے پوری طرح ہوئے اور پھر عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !ہم نہیں پہچان سکے۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”یہ میرے نیک اور مخلص بندے یونس (علیہ السلام) کی آواز ہے۔‘]فرشتوں نے عرض کیا؛”وہی یونس علیہ السلام ،جن کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟اے اﷲ تعالیٰ اُن کی دعا ضرور قبول فرمائیں ،اور اُن کی ضرور مدد کریں ۔کیونکہ خوشحالی اور آسانی میں یہ ہمیشہ آپ کی تسبیح بیان کرتے رہتے تھے۔اﷲ تعالیٰ !انہیں نجات عطا فرما۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ہاں !میں انہیں ضرور نجات عطا فرماو¿ں گا۔“

مچھلی نے اُگل دیا

حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تسبیح بیان کر رہے تھے،اور مچھلی انہیں لیکر سمندر میں تیرتی پھر رہی تھی۔حضرت یونس علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے ایک ایسا اعزاز عطا فرمایا ہے کہ پوری کائنات میں کسی کو یہ اعزاز عطا نہیں ہوا۔وہ یہ کہ آپ علیہ السلام نے ایسی جگہ اﷲ تعالیٰ کی تسبیح بیان فرمائی ہے کہ کسی نے اُس جگہ تسبیح نہیں کی ہے،اور وہ جگہ مچھلی کا پیٹ ہے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر رحم فرمایا،اور مچھلی کو حکم دیا کہ اب حضرت یونس علیہ السلام کو زمین پر اُگل دو۔مچھلی نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی،اور آپ علیہ السلام کو اُن کی قوم کے قریبی ساحل پر اُگل دیا۔آپ علیہ السلام کتنے دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے؟اَس بارے میں مختلف روایات امام محمد بن احمد قرطبی لکھتے ہیں۔اِس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ آپ علیہ السلام کتنا عرصہ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔امام قلبی،امام سدی اور امام مقاتل بن سلیمان کے مطابق مچھلی کے پیٹ میں چالیس(40)دن رہے۔امام ضحاک کے مطابق بیس (20)دن ،اور امام عطا کے مطابق سات (7) دن،اور امام مقاتل بن حبان کے مطابق تین (۳)دن ،اور ایک اور قول کے مطابق ایک ساعت مچھلی کے پیٹ میں رہے۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔جب تک اﷲ تعالیٰ کا حکم رہا،تب تک وہ مچھلی آپ علیہ السلام کو لیکر تیرتی رہی۔پھر جب اﷲ تعالیٰ کا حکم ہوا تو مچھلی نے آپ علیہ السلام کو زمین پر اُگل دیا۔ایک روایت کے مطابق مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو موصل کے ایک دیہات کے ساحل پر اُگل دیا۔

اﷲ تعالیٰ نے سایہ اور رزق عطا فرمایا

اﷲ تعالیٰ کے حکم سے مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو ساحل پر اُگل دیا۔آپ علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ سے نکلے تو ایک دن کے بچے سے بھی زیادہ نرم اور لجلجے ہوچکے تھے۔ایک دن کے بچے کے ہاتھوں اور پیروں کی ہڈیاں ،پسلیاں اور سر کی ہڈیاں ذرا سخت ہوتی ہیں۔لیکن آپ علیہ السلام کی وہ سب ہڈیاں بھی انتہائی نرم ہو چکی تھیں،اور حالت یہ تھی کہ آپ علیہ السلام حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ایسے وقت میں اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے سایہ کا انتظام پہلے ہی کر دیا تھا۔اور جس جگہ مچھلی نے آپ علیہ السلام کو اُگلا تھا،اُس جگہ اﷲ تعالیٰ نے پہلے سے ہی چوڑے پتوں والی ”بیل“یا ”درخت“لگا دیا تھا۔اور اُس جگہ مسلسل سایہ رہتا تھا،اس کے علاوہ اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے رزق کا بھی انتظام کر دیا تھا۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں حضرت یونس علیہ السلام کو اُگل دے،اور اُس نے اگل دیا۔اور وہیں پر اﷲ تعالیٰ نے اُن پر اُن کی نحیفی،کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاو¿ں کے لئے کدو کی بیل اُگا دی،اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا۔جو صبح شام آپ علیہ السلام کے پاس آجاتی تھی،اور آپ علیہ السلام اُس کا دودھ پی لیتے تھے۔امام محمد بن احمد قرطبی لکھتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو خالی جگہ پر اُگل دیا۔اور اﷲ تعالیٰ نے اُن پر کدو کی بیل اُگا دی۔اور اﷲتعالیٰ نے ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا،جو امین پر گھاس پھونس چرتی تھی،اور اُن پر آکر اپنی ٹانگیں پھیلا دیتی تھی۔اور صبح شام آپ علیہ السلام کو دودھ پلایا کرتی تھی،یہاں تک کہ آپ علیہ السلام طاقتور ہو گئے۔

تمام بال اور ناخن جھڑ گئے تھے

اﷲتعالیٰ نے جب مچھلی کو حکم دیا کہ حضرت یونس علیہ السلام کو زمین پر اُگل دے تو وہ ساحل پر آئی ۔جس جگہ مچھلی ساحل پر آئی تھی،اُس جگہ اﷲتعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیج دیا۔مچھلی منہ کھولے ہوئی تھی،اور آپ علیہ السلام اُس کے منہ میں اﷲ تعالیٰ کی تسبیح بیان فرما رہے تھے۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔مچھلی دریا کے کنارے آئی اور جبرئیل علیہ السلام مچھلی کے منہ کے قریب پہنچے ،اور فرمایا؛”السلام علیک یانبی علیہ السلام!اﷲ رب العزت آپ علیہ السلام کو سلام کہتا ہے۔“حضرت یونس علیہ السلام نے فرمایا؛”اُس آواز کے لئے مرحبا ہو،جس آواز کے متعلق میرا گمان تھا کہ اب وہ مجھے نہیں سنائی دے گی۔“جبرئیل علیہ السلام نے مچھلی سے فرمایا؛”تم اﷲ تعالیٰ کا نام لیکر حضرت یونس علیہ السلام کو اُگل دو۔“مچھلی نے آپ علیہ السلام کو اُگلا تو جبرئیل علیہ السلام نے اُن کو اپنی گود میں لے لیا۔اُس وقت آپ علیہ السلام کا جسم مبارک اِس طرح ملائم تھا،جیسے نوازئیدہ بچہ کا ہوتا ہے۔مچھلی کے پیٹ کی گرمی کی وجہ سے آپ علیہ السلام کے تمام بال اور ناخن جھڑ گئے تھے،اور جلد بہت زیادہ ملائم ہو گئی تھی۔آپ علیہ السلام چالیسیا پچاس دن میں اتنے طاقتور ہو گئے کہ قوم کے پاس واپس جاسکیں۔

قوم نے استقبال کیا

حضرت یونس علیہ السلام جب طاقتور ہو گئے تو اپنی قوم کی طرف واپس چلے۔جب نینویٰ کے قریب پہنچے تو ایک چرواہے نے آپ علیہ السلام کو دیکھ لیا اور پہچان لیا۔اُس نے آپ علیہ السلام سے یہ درخواست کی کہ مجھے یہ اعزاز دیں کہ میں اپنی قوم کو آپ علیہ السلام کی آمد کی خش خبری سناو¿ں۔آپ علیہ السلام نے اجازت دے دی،اور وہیں رک گئے۔چرواہا خوشی خوشی اپنی بکریوں کو لیکر اپنی قوم کے پاس آیا۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ایک چرواہے نے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے پاس جاکر خبر دی کہ اُس نے ا ﷲکے نبی حضرت یونس علیہ السلام کو دیکھا ہے۔لوگوں نے اُس کو جھٹلایا،تب اُس نے کہا کہ میرے پاس دلیل ہے۔اﷲ تعالیٰ نے اُس کی بکری کو گویائی (بولنے کی طاقت)دےدی،اور اُس نے کہا؛”ہاں!انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اُن کے حق میں گواہی دوں۔“پھر اُن کی قوم چرواہے کے ساتھ اُس وادی میں گئی تو دیکھا کہ حضرت یونس علیہ السلام نماز پڑھ رہے ہیں۔پوری قوم آپ علیہ السلام کو دیکھ کر رونے لگی،اور آپ علیہ السلام سے درخواست کرنے لگی کہ ہم آپ علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں،اِس لئے آپ علیہ السلام ہمارے ساتھ چلیں،اور ہمیں اسلام کی تعلیم دیں،اور ہماری تربیت کریں۔پھر وہ سب آپ علیہ السلام کو اپنے ساتھ لیکر اپنے شہر میں آئے۔اﷲ تعالیٰ نے اُن پر آسمان سے برکت برلتیں نازل فرمائیں،اور زمین کے خزانے کھول دیئے۔حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کو اﷲ تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ کرتے رہے،اور اُن کے لئے سنتیں اور شریعتیں قائم کیں۔

حضرت یونس علیہ السلام کا وصال

حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم میں کافی عرصہ رہے۔جب تک اﷲ تعالیٰ نے چاہا،تب تک آپ علیہ السلام اپنی قوم کو تعلیم وتربیت دیتے رہے،اور اﷲ کے حکامات نافذ کرتے رہے۔اِس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لیا۔حضرت یونس علیہ السلام کےوصال کے بارے میں احادیث اور مستند روایات میں کوئی تفصیل مذکور نہیں ہے۔ہاں کچھ روایات سے معلوم ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام نے حج کیا ہے۔لیکن وصال کب اور کہاں ہوا ؟اِس کے بارے میں یقینی بات نہیں کہی جاسکتی ہے۔


حضرت یونس علیہ السلام کو ذکر مکمل ہوا ۔اب حضرت حزقیل علیہ السلام کا ذکر ہیش خدمت ہے۔






حضرت حزقیل علیہ السلام 

حضرت حزقیل علیہ السلام کا زمانہ

حضرت حزقیل علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی ہیں،اِس پر تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے۔لیکن اُن کے زمانے کے متعلق اختلاف ہے،کچھ علمائے کرام کے مطابق حضرت یوشع علیہ السلام کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام مبعوث ہوئے۔اور پھر اُن کے بعد لگ بھگ چارسو ساٹھ(460)سال تک بنی اسرائیل میں کوئی نبی نہیں آئے۔پھر اﷲ تعالیٰ نے حضرت شموئیل علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔کچھ علمائے کرام کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔اور حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں آیا ہے۔چونکہ ہم بھی حضرت حزقیل علیہ السلام کا ذکر حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد کر رہے ہیں۔اِس لئے یہاں ہم آپ کی خدمت میں پہلے بنی اسرائیل کے حالات بیان کریں گے ،پھر انشاءاﷲ حضرت حزقیل علیہ السلام کا ذکر شروع کریں گے۔

بنی اسرائیل میں تفرقہ

اِس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت الیاس علیہ السلام اور حضرت یسع علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے ہیں کہ بنی اسرائیل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد تفرقہ پڑ گیا تھا۔اور حکومت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ایک حکومت کا نام ”سلطنت یہودیہ “تھا،اور دوسری حکومت کا نام ”سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ “تھا،جس کانام بعد میں بدل کر ”سلطنت سامریہ “رکھ دیا گیا تھا۔حضرت الیس علیہ السلام کے ذکر میں ہم نے ”سلطنت اسرائیل یا سامریہ“ کا تفصیل سے ذکر کیا تھا ۔کیونکہ حضرت الیاس علیہ السلام کا زیادہ وقت ”سلطنت اسرائیل یا سامریہ “میں گزرا تھا۔،اور بہت کم وقت ”سلطنت یہودیہ “میں گزرا تھا۔اِسی لئے ہم نے سلطنت یہودیہ کا ذکر کم کیا تھا۔یہاں ہم انشاءاﷲ ’[سلطنت یہودیہ “کا ذکر تفصیل سے کریں گے ۔اور اگر آپ کو ’[سلطنت اسرائیل یا سامریہ “کے تفصیلی حالات دیکھنے ہوں تو آپ ہماری کتاب ”حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام “کا مطالعہ کریں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالات

حضرت سلیمان علیہ السلام نے کسی کو اپنا جانشین نہیں بنایا تھا۔اِسی لئے آپ علیہ السلام کے وصال کے بعد بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کے بیٹے رجعام بن حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنا بادشاہ بنا لیا،یہ بہت ہی نااہل اور مطلب پرست تھا۔بادشاہ بننے کے بعد رجعام نے بیت المقدس،بیت اللحم ،غزہ (غازہ)صور اور ایلہ کی عمارتو ں کی توسیع کی۔لیکن وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنے لگاتھا،اور اُن پر بہت زیادہ ٹیکس لاد دیئے تھے۔بنی اسرائیل نے ٹیکسوں میںکمی اور رعایت کی مانگ کی تو اُس نے رعایت کرنے کے بجائےٹیکس اور زیادہ بڑھا دیئے۔جس کی وجہ سے عوام یعنی بنی اسرائیل اُس سے بد ظن ہو گئے،اور اکثریت اُس کے خلاف ہو گئی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت دو حصوں میں تقسیم

حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور ِنبوت اور حکومت میں ”بیت المقدس“(یروشلم)سلطنت کا مرکذ تھا،رجعام کے وقت بھی یہی مرکذتھا۔لیکن اُس کے دور ِ حکومت کے درمیان ہی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ہوا یہ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دورِ حکومت میں اُن کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے آپ علیہ السلام کے خلاف بغاوت کرنے کی کوشش کی تھی۔جسے آپ علیہ السلام نے سختی سے کچل دیا تھا،اُس باغی کا نام یُربعام بن نباط تھا۔وہ جان بچا کر ملک مصر بھاگ گیاتھا،اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال تک وہیں رہا۔لیکن جب اُسے یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رجعام سے بد ظن ہو گئے ہیں تو وہ” ملک کنعان “واپس آیا۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ فلسطین،لبنان،اُردن اُس وقت ملک کنعان میں آتے تھے۔بعد میں ملک کنعان ختم کر دیا گیا،اور یہ علاقے ”ملک شام“میں ضم ہو گئے۔پھر یہودیوں اور عیسائیوں نے انہیں الگ الگ ملکوں کی شکل دے دی۔)اور بنی اسرائیل کے دس قبیلوں نے اُسے اپنا بادشاہ بنا لیا،اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔رجعام ”بیت المقدس“اور آس پاس کے علاقوں کا حکمراں تھا،اور بنی اسرائیل کے صرف دو قبیلوں بنو یہودا اور بنو بن یامن پر اُس کی حکومت تھی۔اُس نے اپنی سلطنت کا نام ”سلطنت یہوداہ یا یہودیہ “رکھا۔اور بقیہ فلسطین،لبنان ،اُردن اور ملک شام کے کچھ علاقوںپر یُربعام بن نباط کی حکومت تھی۔اور اُس نے اپنی سلطنت کا نام ”سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ“رکھا،جو آگے چلکر ”سلطنت سامریہ“کے نام سے مشہور ہوئی۔اب یہ حالت ہو گئی تھی کہ بنی اسرائیل دو حصوں میں بٹ گئے تھے،اور دو حکومتیں چل رہی تھیں۔

بنی اسرائیل میں بت پرستی

اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا کہ وہ ہر حال میں صرف اﷲ تعالیٰ کی ہی عبادت کریں گے۔لیکن بنی اسرائیل (یہودی) اتنے بدبخت ہیں کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے کوئی بُت بنادیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ڈانٹا تو وہ خاموش بیٹھ گئے تھے۔لیکن جب آپ علیہ السلام چالیس دنوں کے لئے “کوہ طور“پر توریت لانے کے لئے تشریف لے گئے تو یہ بد بخت بنی اسرائیل چالیس دن بھی صبر نہیں کر سکے تھے۔اور سامری نے بچھڑے کا بُت بنایا تو یہ اُس کی پوجا کرنے لگے تھے۔ایسا ہی معاملہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال کے بعد پیش آیا۔اور یربعام بن نباط نے سونے کے دو بچھڑوں کے بُت بنوائے،ایک کا ”بیت ایل“میں مندر بنوایا،اور دوسرے کا بنو دان کے علاقے میں مندر بنوایا۔اور سلطنت اسرائیل یا اسرئیلیہ “کے بنی اسرائیل اِن بتوں کی پوجا کرنے لگے۔اُن کے اثرات سلطنت یہودیہ میں بھی پڑے ،اور وہاں بھی بُت پرستی ہونے لگی۔

ایبا سلطنت یہوداہ یا یہودیہ کا بادشاہ

حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ”اسرائیل“ہے ،اور آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی اور ”بنی اسرائیل“کہلائی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور پھر حضرت یوشع علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل متحد رہے۔پھر اُن میں پھوٹ پڑ گئی،اس کے سینکڑوں برس بعد حضرت داو¿د علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں ایک مرتبہ پھر بنی اسرائیل متحد ہو گئے تھے۔لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بکھر گئے۔سلطنت یہودیہ کے حکمراں رجعام کی حکومت کے پانچویں سال میں ملک مصر کے بادشاہ سیسق نے یروشلم(بیت المقدس) پر حملہ کر کے ہیکل سلیمانی اور شاہی محل کے سارے خزانے لوٹ کر لے گیا۔جن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی بنوائی ہوئی دو سو سونے کی ڈھالیں بھی بھی تھیں۔رجعام نے اُن کی جگہ پیتل کی ڈھالیں بنوایں ،اور اُن کی جگہ رکھوا دی۔اُدھر یُربعام نے سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ پر آرام سے حکومت کر رہا تھا۔ملک مصر کا بادشاہ سیسق اُس کا دوست تھا،اور اُسی کے اُکسانے پر اُس نے سلطنت یہوداہ یا یہودیہ پر حملہ کیا تھا۔رجعام اور یُربعام میں اکثر جنگ ہوتی تھی ،اور دونوں طرف سے بنی اسرائیل مرتے تھے۔رجعام نے سترہ (۷۱) سال حکومت کی ،اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا ایبا بن رجعام سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا۔اپنے باپ رجعام کی طرح ایبا بھی ظالم اور نااہل تھا۔اُس کی بیوی بُت پرست تھی،اور اُس کی وجہ سے ایبا بھی بُت پرستی میں مبتلا ہو گیا۔اور سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ کے بادشاہ یُربعام کی طرح اُس نے بھی سلطنت یہودیہ میں بتوں کی پوجا شروع کرواد ی۔اِس طرح بنی اسرائیل کی دونوں سلطنتوں میں بُت پرستی ہونے لگی۔

آسا سلطنت یہودیہ کا بادشاہ 

بنی اسرائیل میں دو متوازی سلطنتیں چل رہیں تھیں،پہلی سلطنت یہودیہ جو بنی اسرائیل کے دو قبیلوں بنو یہودا اور بنو بن یامن پر مشتمل تھی۔اور دوسری سلطنت اسرائیل یا اسرائیلہ جو بنی اسرائیل کے دس قبیلوں پر مشتمل تھی۔سلطنت اسرائیل یا اسرائیلہ کے تفصیلی حالات ہم نے ”حضرت الیا س علیہ السلام “کے ذکر میں بیان کئے ہیں۔اگر آپ وہ حالات جاننا چاہتے ہیں تو ہماری کتاب”حضرت الیس علیہ السلام اور حضرت یسع علیہ السلام “کا مطالعہ کریں۔یہاں ہم صرف سلطنت یہوداہ یا یہودیہ کے تفصیلی حالات بیان کریں گے۔ایبا بن رجعام نے صرف تین سال حکومت کی،اور اُس کا سب سے بُرا کام یہ تھا کہ اُس نے سلطنت یہودیہ میں بُت پرستی رائج کر دی تھی۔اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا آسا بن ایبا سلطنت یہادیہ کا بادشاہ بنا۔جس وقت یہ بادشاہ بنا تو اُس وقت یربعام کو سلطنت اسرائیل پر حکومت کرتے ہوئے بیس سال ہو چکے تھے۔آسا نے بُت پرستی کا خاتمہ کردیا۔آسا بن ایبا ایک نیک اور اچھا انسان تھا۔اُس نے سلطنت یہودیہ میں بُت پرستی کا خاتمہ کیا،اور اﷲ تعالیٰ کے احکامات نافذ کئے ۔اُس کے دادا رجعام اور باپ ایبا کے دورِ حکومت میں جنس پرستوںکا بہت زور ہو گیا تھا۔آسا نے انہیں ملک بدر کر دیا ،اور جو نہیں گئے انہیں قتل کردیا۔سلطنت یہودیہ کے تمام مندروں اور بتوں کو توڑ دیا،اور اﷲ کی حکومت کا اعلان کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ایبا بُت پرست انسان تھا ،وہ اﷲ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتا تھا۔اور لوگوں کو بھی اُن کی پوجا کی طرف بلاتا تھا،جس کی وجہ سے بنی اسرائیل کے اکثر لوگ گمراہ ہوئے تھے۔وہ موت تک بتوں کی پوجا کرتا رہا،اُس کے بعد اُس کا بیٹا آسا بن ایبا بادشاہ بنا تو اُس نے اعلان کرایا کہ کفر اپنے ماننے والوں کے ساتھ ختم ہوگیا۔بتوں کو توڑ دیا گیا،اور ایمان اپنے پیرو کارںوں کے ساتھ زندہ ہوگیا۔اور اﷲ کی اطاعت نظر آنے لگی ۔ اُس نے اعلان کیا کہ آج سے کوئی کافر میری حکومت میں سر اُٹھائے گاتو میں اسے قتل کردوں گا۔آسمان سے آگ اور پتھروں کی بارش اُس وقت ہوتی ہے ،جب اﷲ تعالیٰ کی اطاعت ترک کر دی جائے ،اور اُس کی نافرمانی عام ہوجائے ۔اِس لئے اب ہمیں اﷲ کی نافرمانی پر قائم نہیں رہنا چاہیئے،اور اُس کی اطاعت مقدور بھر کرنی چاہیئے۔تاکہ زمین نجاست سے پاک اور گند گیوں سے صاف ہو جائے۔اﷲ کی قسم !جو ہماری مخالفت کرے گا،ہم اُس کے ساتھ جہاد کریں گے،اور اپنے شہر سے نکال دیں گے۔

آسا کی ماں کا بُت پرستی پر اصرار

آسا کے اعلان کو عام بنی اسرائیل اور سچے علمائے کرام نے جب سنا تو بہت خوش ہوئےاور بادشاہ کا سچے دل سے ساتھ دینے لگے ۔لیکن بہت سے دنیا پرست علماءبھی تھے اور مطلب پرست عہدے دار بھی تھے۔اُن لوگوں پر شیطان حاوی تھا،اِس لئے وہ بادشاہ کی مخالفت کرنے لگے۔اور اُس کے لئے بادشاہ کی ماں کے پاس گئے ،جو بُت پرست تھی،اور اُسے بادشاہ سے بات کرنے پر راضی کیا۔دراصل آسا جب بادشاہ بنا تو وہ نوجوان تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ آسا بن ایبا بہت ہی نیک آدمی تھا۔ایک ٹانگ سے معذور تھا۔اس کے بعد آگے لکھتے ہیںکہ جب قوم کے (مطلب پرست سرداروں اور دنیا پرستعلمائ) نے یہ اعلان سنا تو انہوں نے شور و غل مچایا،اور اعلان کو ناپسند کیا۔وہ بادشاہ کی ماں کے پاس آئے اور اُس سے شکایت کی کہ تمہارے بیٹے کا رویہ ہمارے معبودوں کے بارے میں بہت سخت ہے۔اُس نے ہمیں بتوں کو توڑنے کا اور اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔اُس کی ماں نے یہ سن کر بتوں کے بارے میں بادشاہ سے بات کرنے کی حامی بھر لی۔اور ایک دن دربار میں داخل ہوئی تو بادشاہ اور قوم کے سردار ،معززین اور رعایا بیٹھے ہوئے تھے۔اپنی ماں کو دیکھتے ہی بادشاہ کھڑا ہو گیا،اور اُسے عزت و احترام سے بیٹھنے کے لئے کہا۔لیکن وہ بتوں کی پوجا پر اصرار کرنے لگی۔

اﷲ کے لئے ماں کو قتل کر دیا

آسا نے اپنی ماں کو عزتو احترام سے بیٹھنے کے لئے کہا تو اُس کی ماں نے بیٹھنے سے انکار کر دیا،اور بولی کہ تُو اُس وقت تک میرا بیٹا نہیں ہے ،جب تک بتوں پوجا نہیں کرے گا۔اور اﷲ کی عبادت سے انکار نہین کرے گا،اور تم نوجوانی اور کم عقلی میں یہ غلط حرکت کر رہے ہو۔میری جان کی قسم !مجھے اِس عمل پر تمہاری کم عقلی ،نوعمری،اور کم علمی نے اُبھارا ہے۔اور اگر تُونے میری بات کو ٹھکرایا اور میرے حق کو نہیں پہچانا تو تُو اپنے باپ کی نسل سے نہیں ہے۔جب بادشاہ نے یہ کفریہ کلمات سنے تو وہ غصے سے بھر گیا،اُس کا سینہ تنگ ہونے لگا۔اُس نے کہا؛”اے امی جان ! یہ ناممکن ہے کہ میں اﷲ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کروں ،اور اگر تم میری بات مانو گی ،اور صرف اﷲ تعالیٰ کی عبادت کروگی تو ہدایت پاو¿گی،ورنہ گمراہ ہو جاو¿ گی۔اگر تم بتوں کو چھوڑ کرصرف اﷲ کی عبادت کرو گی تو مجھے صرف وہی ملامت کرے گا ،جو اﷲ کا دشمن ہوگا۔اور میں تو صرف اﷲ کی رضا اور اُ س کی مدد چاہتا ہوں،کیوں کہ میں اُس کا غلام ہوں۔“اُس کی ماں نے کہا؛”میں اپنے بتوں کو اور اپنے آباءکے مذہب کو تیرے کہنے سے نہیں چھوڑوں گی۔اور جس اﷲ کی طرف تُو مجھے دعوت دے رہا ہے ،میں اُس کی عبادت نہیں کروں گی۔‘]بادشاہ نے کہا؛”یہ کہہ کر تم نے ہمارے رشتے کو ختم کر دیا ہے۔“اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اُسے قتل کر دیں۔

ہندوستانی بادشاہ کو حملہ کرنے کی دعوت

آسا کے حکم سے اُس کی ماں کو قتل کر دیا گیا۔اِس کی وجہ سے مخالفت کرنے والوں پر بہت بُرا اثر پڑا۔اُن کے دلوں میں بادشاہ کا رعب بیٹھ گیا،اور وہ بادشاہ کے مطیع ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ جب بادشاہ نے اپنی ماں کے ساتھ یہ سلوک کیا تو ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔اِس کے بعد بھی وہ خاموش نہیں بیٹھے اور پوشیدہ طریقوں سے آسا کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کرنے لگے۔لیکن اﷲ تعالیٰ نے آسا اور اُس کی حکومت کی حفاظت کی،اور وہ لوگ کامیاب نہیں ہو سکے۔سلطنت یہادیہ کے عام بنی اسرائیل اور سچے علماءآسا کے ساتھ تھے،اور اﷲ کے احکامات نافذ کرنے میں اُس کی بھرپور مدد کرہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب وہ(آسا کے مخالفین)اپنے پروگرام میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے ملکر یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں یہ ملک چھوڑ دینا چاہیئے۔اور یہ مشورہ کیا کہ ہم ہندوستان میں جاکر وہاں کے بادشاہ کو بھڑکا کر لائیں گے،اور آسا کی حکومت کا خاتمہ کر دیں گے۔وہ لوگ ہندوستان میں وہاں کے بادشاہ ”زرح“کے دربار میں حضر ہوئے،اور سجدے میں گر گئے۔(اُس وقت ہندوستان ،پاکستان،بنگلہ دیش،سری لنکا،نیپال وغیرہ سب ہندوستا ن میں تھا،بعد میں انہیں الگ الگ ممالک بنایا گیا۔)اُس نے پوچھا کہ تم کون ہو؟وہ بولے کہ ہم آپ کے غلام ہیں۔اُس نے پوچھ کہ تم میرے کون سے غلام ہو؟انہوں نے کہا کہ ہم سرزمین کنعان سے آئے ہیں،اور آپ کی بادشاہت کا احترام کرتے ہیں۔ہمارے یہاں ایک کم عقل اور نوجوان لڑکا بادشاہ بن گیا ہے۔اُس نے ہمارے دین کو چھوڑ دیا ہے،اور ہماری عبادت کو غلط اور ہمارے آباءکو گمراہ کہتا ہے۔ہم اُس ملک کے سرداروں میں سے ہیں،اور ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں مال و دولت بہت زیادہ ہے،آپ حملہ کر کے اُس احمق نوجوان کو شکست دیکر اپنی حکومت کو وسیع کرلیں،ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔غرض انہوں نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے زرح کو راضی کر لیا کہ وہ سلطنت یہودیہ پر حملہ کرے۔

زرح کے جاسوس

ہندوستان کے بادشاہ زرح نے کہا کہ پہلے میں اپنے جاسوس بھیج کر تمہاری بات کی تحقیق کروں گا کہ تم لوگ سچے ہو یا جھوٹے،اُس کے بعد آگے قدم اُٹھاو¿ں گا۔زرح نے اپنے جاسوسوں کو اپنے خزانے سے بہت سا مال دیا۔اور انہیں خشکی اور بحری سفر کا سامان دیا،اور انہیں تجروں کے بھیس میں روانہ کیا۔جاسوسوں کا یہ گروہ سلطنت یہودیہ میںتجارتی قافلے کی شکل میں پہنچا،اور بنی اسرائیل کے بادشاہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے لگا۔انہوں نے اپنا تجارتی سامان سلطنت یہودیہ میں گھوم گھوم کر بیچنا شروع کر دیا۔اور حکومت کے داخلی اور خارجی پالیسیوں ،فوجی طاقت اور حکومت کی تحقیق کرنی شروع کردی۔انہیں معلوم ہوا کہ سلطنت یہودیہ کا ہر شخص مال دار ہے،اور بادشاہ کے پاس حضرت یوشع علیہ السلام کا خزانہ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا خزانہ موجود ہے۔انہوں نے اندازہ لگایا کہ سلطنت یہودیہ سے بے اندازہ مال و دلوت حاصل ہو سکتا ہے۔

بادشاہ کا دوست

جاسوسوں نے عوام کی اور بادشاہ کی تحقیق کرنے کے بعد فوجی طاقت کی تحقیق شروع کی۔انہوں نے وہاں کی عوام سے دریافت کیا کہ بادشاہ کا جنگی انداز کیا ہے؟اُس کے لشکر کتنے ہیں؟اگر کوئی بادشاہ اُس پر حملہ کرے تو وہ کیا کرے گا؟کتنے لشکروں کا استعمال کرے گا؟گھوڑوں اور شہسواروں کی تعدا کتنی ہے؟لوگوں نے بتایا کہ بادشاہ کا لشکر ہے ،اور اُس کی جنگی طاقت بہت ہی کمزور ہے۔لیکن اُس کا ایک دوست ہے،جسے یہ پکارتا ہے تو وہ اُس کی مدد کرتا ہے۔اور اگر پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹانا ہو تو وہ اُسے ہٹا دیتا ہے۔جب تک اُس کا دوست اُس کے ساتھ ہے،تب تک کوئی اُس پر غالب نہیں آ سکتا۔جاسوسوں نے پوچھا کہ وہ دوست کون ہے؟اُس کے لشکر کتنے ہیں؟اُس کے جنگجو اور بہادروں کی تعداد کتنی ہے؟سوار اور پیدل فوجی کتنے ہیں؟اور وہ کہاں رہتا ہے؟لوگوں نے بتایا کہ اُس کا دوست آسمان کے اوپر رہتا ہے،عرش پر مستویٰ ہے۔اُس کے لشکر بے شمار ہیں،تمام مخلوقات اُس کی عبادت کرتی ہے۔دریا اور سمندر اُس کے حکم سے چلتے ہیں ،وہ کسی کو نظر نہیں آتا ہے۔اُس کا صحیح ٹھکانہ کسی کو معلوم نہیں ہے،وہ بادشاہ کا دوست اور مدد گار ہے۔

زرح کا غرور

زرح کے جاسوسو س تمام معلومات لیکر اُس کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور تمام معلومات اُسے پیش کردیں۔زرح نے کہا کہ جب بنی اسرائیل کو یہ معلوم ہوا کہ تم اُن کی پوشیدہ باتوں کو جاننے کی کوشش کر رہے ہو،تو انہوں نے جھوٹ بول کر آسا کے دوست کا ذکر کیا۔جس سے اُن کا مقصد تم کو دہشت زدہ کرنا تھا،اور اگر اُس کا کوئی دوست ہے بھی تو وہ میرے لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔اُس نے پورے ہندوستان (جو افغانستان،پاکستان،نیپال،بنگلہ دیش،حالیہ ہندوستان،اور سری لنکا پر محیط تھا)میں اور اِس آس پاس کے علاقوں سے فوج جمع کی،اور اُس کا لشکر کئی لاکھ پر مشتمل تھا۔زرح نے جب اپنے عظیم الشان لشکر کے ساتھ سفر شروع کیا تو اُس کی عزت اور عظمت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ گئی۔زرح نے یہ عظیم الشان لشکر دیکھ کر غرور سے کہا ؛”کہاں ہے آسا کا دوست؟کیاوہ مجھ سے بچ سکتا ہے؟کیاوہ مجھ پر غلبہ پا سکتا ہے؟اگر آسا اور اُس کا دوست مجھے اور میرے لشکر کو دیکھ لیں گے تو میرے ساتھ جنگ کرنے کی جرا¿ت نہیں کریں گے،اوربہت جلد آسا میرا قیدی بن جائے گا۔اِس طرح غرور کرتا ہوا زرح سلطنت یہودیہ کی طرف بڑھا۔

آسا کی اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا اور عاجزی

زرح اِس طرح آسا کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہوا،اپنی فوج لیکر آگے بڑھتا رہا۔آسا کو بھی یہ اطلاع مل چکی تھی کہ اُس پر حملہ کرنے کے لئے زرح ایک عظیم الشان لشکر لیکر آرہا ہے۔اُس نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیار کرتے ہوئے دعا کی؛”اے اﷲ تعالیٰ!آپ نے آسمان اور زمین اور اُن کے درمیان موجود چیزوں کو بنایا ،اور وہ سب آپ کے قبضے میں ہیں۔آپ حوصلی والے،بلند و برتر اور شدید غضب والے ہیں۔میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ہمیں ہمارے گناہوں کی سزا نہ دیں،اور ہماری نافرمانیوں پر ہماری پکڑ نہ فرمائیں۔بلکہ ہم آپ سے اُس رحمت کا سوال کرتے ہیں،جو تمام مخلوقات پر عام ہے۔آپ ہماری کمزوری اور دشمن کی طاقت کودیکھیئے،ہماری قلّت اور دشمن کی کثرت کو دیکھیئے۔ہماری تنگی اور پریشانی کو ملاحظہ فرمایئے،اور دشمن کی عیش و راحت دیکھیئے۔اپنی قدرت سے آپ نے فرعون اور اُس کے لشکر کو سمندر میں ہلاک کیا،اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی۔اسی طرح زرح اور اُس کے لشکر کو بھی ہلاک کر دیجیئے۔میں آپ سے سوال کرتا ہوںکہ آپ زرح اور اُس کے لشکر پر اپنا عذاب نازل فرمایئے۔

خواب میں بشارت

آسا نے عاجزی سے اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگی،رات کو خواب میں بشارت ملی کہ اﷲ تعالیٰ نے تیری سن لی اور تیری پکار اﷲ تک پہنچ گئی۔بہت جلد اﷲ تعالیٰ زرح اور اُس کے لشکر کے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا کہ لوگ دیکھیں گے اور عبرت حال کریں گے۔تیری طرف سے اﷲ اُن کے لئے کافی ہوجاےت گا،اور اُن کا مال غنیمت تیرے لئے حلال ہو گا۔اور اُس کا لشکر تیرے سامنے ذلیل کیا جائے گا۔ تاکہ زرح کو بھی پتہ چل جائے کہ آسا کے دوست کا مقابلہ کرنا اور اُس کے لشکر کو شکست دینا آسان نہیں ہے۔اور اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا ناکام نہیں ہوتا ہے۔اﷲ اُسے مہلت دے رہا ہے کہ وہ اپنی ضروریات سے فارغ ہو جائے۔اور پھر اُسے غلام بنا کر تیرے سامنے لائے گا ،اور اُس کے جنگجو تیرے اور تیری قوم کے خادم ہوں گے۔

سلطنت یہودیہ کا محاصرہ

زرح اپنا لشکر لیکر آیا اور سلطنت یہودیہ کا محاصرہ کر لیا۔اُس کی فوج اتنی زیادہ تھی کہ تمام میدان اور تمام پہاڑوں کی وادیاں بھر گئیں۔اُس کی فوج کا اندازہ کر نے کے لئے آسا نے اپنے جاسوس بھیجے۔انہوں نے آکر زرح کے لشکر کے بارے میں ایسا بتایا کہ بنی اسرائیل پر اُس کی ہیبت بیٹھ گئی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اتنا بڑا لشکر کبھی نہیں دیکھا ہے۔اور اتنے ہاتھی سواروں اور گھوڑے سواروں کے بارے میں کبھی نہیں سنا ہے۔وہ لشکر اتنا بڑا ہے کہ ہماری عقلیں انہیں شمار کرنے سے عاجز آگئیں۔اور ہماری تدابیر اُن کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں،ہماری ساری اُمیدیں خاک میں مل گئی ہیں۔جب عوام نے زرح کے لشکر کا حال سنا تو بری طرح ڈر گئے،اور بادشاہ سے کہنے لگے کہ آپ کا لشکر اِس عظیم الشان لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اور اگر آپ شکست کھاگئے توزرح کے سپاہی ہمارے ساتھ اور ہمارے بیوی بچوں کے ساتھ بہت برا سلوک کریں گے۔اِس سے تو بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو زرح کے حوالے کر دیں، شاید وہ ہم پر رحم کھا کر ہمیں قتل نہ کرے۔آسا نے کہا؛”ہم اپنے آپ کو دشمنوں کے سامنے پیش نہیں کرسکتے،اور اﷲ کے گھر(بیت المقدس)کو اور اﷲ کی کتاب(توریت) کو دشمنوں کے حوالے نہیں کر سکتے۔“عوام نے کہا؛”پھر اپنے دوست اور رب سے مدد مانگو،جس کی مدد کا تم ہم سے وعدہ کرتے تھے۔اور جس پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہو۔“

اﷲ سے دعا

آسا نے کہا؛”میرا رب اُس وقت تک مدد نہیں کرتا ،جب تک کہ خوب رورو کر گڑ گڑا کر اس سے دعا نہ مانگی جائے،اور اُس کے سامنے آہ و زاری نہ کی جائے۔بنی اسرائیل نے کہا؛”یہ کام آپ کر لیں،شاید وہ آپ کی دعا قبول کر کے ہماری کمزوروں پر رحم کرے۔آسا عبادت کے کمرے (بیت المقدس ) میں گیا۔اپنا تاج اور شاہی کپڑے اُتار کر عام لباس پہنا۔اور ریت پر بیٹھ کر ہاتھ اُٹھا کر اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگا؛”اے اﷲ تعالیٰ ! اے ساتوں آسمان اور عرش عظیم کو بنانے والے،اے ابراہیم،اسماعیل،اسحاق،یعقوب علیہم السلام اور بنی اسرائیل کے رب!تُو اپنی مخلوق کو جہاں چاہتا ہے ٹھکانہ عطا فرماتا ہے۔تیرے ٹھکانوں کو کوئی نہیں جانتا،اور تیری عظمت کی حقیقت کسی کو نہیں معلوم ہے۔تُو ایسا بیدار ہے کہ جسے کبھی نیند نہیں آتی ہے،میں تُجھ سے وہی دعا مانگتا ہوں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مانگی تھی،اور تُو نے اُن کے لئے آگ کو گلزار بنا دیا تھا۔اور میں تُجھ سے وہی دعا مانگتا ہوں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مانگی توبنی اسرائیل کو فرعون سے آزاد کیا اور فرعون کو غرق کیا۔میں تُجھ سے وہی دعا مانگتا ہو جو حضرت داو¿د علیہ السلام نے مانگی توتُو نے جالوت کو قتل کرنے میں اُن کی مدد کی۔اور میں وہی دعا مانگتا ہوں جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے مانگی تو انہیں تُو نے تمام مخلوقات پر بادشاہت عطا فرمائی۔اے اﷲ تعالیٰ!تُو مُردوں کو زندہ کرنے والا ہے،دنیا کو فنا کرنے والا ہے۔اے اﷲ !تُو کبھی فنا نہیں ہو گا اور ہمیشہ رہے گا،کبھی بوسیدہ نہیں ہوگا۔ اے میرے اﷲ !تُجھ سے رحم کا سوال کرتا ہوں،مجھ پر رحم فرما،میں لنگڑا اور مسکین اور تیرا کمزور بندہ ہوں۔میرے پاس کوئی تدبیر نہیں ہے،ہم پر بہت بُرا وقت آگیا ہے۔اے اﷲ !تیرے علاوہ کوئی اِس مصیبت کو دور نہیں کر سکتا ہے۔تیرے بغیر نیکی کرنا اور گناہوں سے بچنا ناممکن ہے۔اے اﷲ ! تُو جس طرح چاہے ہماری کمزوری پر رحم فرما،بے شک تُو جس طرح چاہتا ہے،جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے۔“

بنی اسرائیل کے سچے علماءکی دعا

بیت المقدس کے عبادت کے کمرے میں آسا رو رو کر دعا مانگ رہا تھا۔اور بڑے ہال میں بنی اسرائیل اور اُن کے سچے علمائے کرام اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے تھے۔بنی اسرائیل کے زیادہ تر عوام اور علمائے کرام آسا کے ساتھ تھے۔کچھ تھوڑے بہت عوام اور دنیا پرست علماءمخالفت کر رہے تھے۔بنی اسرائیل کے سچے علمائے کرام اپنی دعا میں کہہ رہے تھے؛”اے اﷲ تعالیٰ!آج اپنے بندے کی مدد فرما،اور اُس کی دعا کو قبول فرما۔کیونکہ اُس نے صرف تُجھ پر ہی بھروسہ کیا ہے۔اُسے دشمنوں کے حوالے نہ کر،دیکھ وہ تُجھ سے اِتنی محبت کرتا ہے کہ اپنی ماں کو اور تمام گمراہوں کو چھوڑ کر صرف تیری بات مانتا ہے۔“اِدھر بادشاہ اورعلمائے کرام دعا مانگ رہے تھے کہ زرح کا قاصد اُس کا خط لیکر آیا۔زرح نے خط میں آسا اور اُس کی قوم کو ذلیل کرنے کی دھمکی دی تھی۔اور لکھا تھا کہ اپنے دوست کو بلاو¿جس کی وجہ سے تو نے اپنی قوم کو گمرا کیا ہے۔اور تمہارے دوست سے کہو کہ مجھ سے آ کر مقابلہ کرے۔ تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ نہ تو تمہارا کوئی دوست اور نہ کوئی اور میرا مقابلہ کر سکتا ہے۔اِس لئے کہ میں ہندوستان کا بادشاہ زرح ہوں۔

اﷲکی مدد

آسا خط پڑھنے کے بعداﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گیا ،اور رو رو کر دعائیں مانگنے لگا۔دعائیں مانگتے مانگتے اُس ے نیند آ گئی،اور اُسے خواب میں بشارت دی گئی کہ اﷲ تعالیٰ تیری مدد کرے گا،اور اپنے فرشتوں کو بھیجے گا۔تم اپنی فوج لیکر زرح کے مقابلے کے لئے میدان میں جاو¿۔آسا کی آنکھ کھل گئی اور وہ فوراً اُٹھ کر باہر آیا،اور اﷲ کی مدد کی خوش خبری سنائی۔ایمان والوں نے تصدیق کی اور منافقین نے جھٹلایا۔اور کہنے لگے کہ آسا جب عبادت کے کمرے میں گیا تب بھی لنگڑا تھا ،اور اب جبکہ خوش خبری لیکر باہر آیا ہے تب بھی لنگڑا ہے۔اگر یہ سچا ہوتا تو اﷲ تعالیٰ اِس کی ٹانگ کو صحیح کر دیتا۔آسا نے کسی کی پرواہ نہیں کی ،اور فوج کو تیاری کا حکم دیا۔اور خود بھی جنگی لباس پہن کر ہتھیار لگا کر تیار ہو کر باہر آیا۔عوام نے انہیں اِس طرح رخصت کیا،جیسے آخری مرتبہ دیکھ رہے ہوں،اور اب دیکھنا نصیب نہیں ہو گا۔آسا اپنے سپاہیوں کو لیکر میدان میں آیا۔زرح نے آسا کا لشکر دیکھا تو زور زور سے ہنسنے لگا،کیونکہ زرح کے لاکھوں کے لشکر کے سامنے آسا کے چند ہزار سپاہی چیونٹیوں کی طرح نظر آرہے تھے۔اس کے بعد زرح کو غصہ آگیا،اور اُس نے اپنے جاسوسوں کو بلایا ،اور اُن سے کہا کہ تم لوگوں نے جھوٹ کہا۔اور اِس چند ہزار کے لشکر کے لئے مجھے اتنے بڑے لشکر کے ساتھ اتنی دور کا سفر کرنے پر اُکسایا۔اِس کے بعد اُس نے غصے میں اپنے جاسوسوں اور غدار بنی اسرائیل سرداروں اور علماءکو قتل کرا دیا۔

زرح کو شکست فاش

اس کے بعد زرح اپنالشکر لیکر آسا کے لشکر کے سامنے آیا اور بولا؛”اے آسا تیری اتنی اوقات نہیں ہے کہ مجھ سے مقابلہ کرسکے،اور تیرا لشکر اتنا کم ہے کہ میں تُجھ سے مقابلہ کرنا مناسب نہیں سمجھتا ہوں۔اور کہاں ہے تیرا وہ دوست جو تیری مدد کرتا ہے؟“آسا نے کہا؛”اے بد بخت !تُجھے معلوم نہیں ہے ،تُو کیا کہہ رہا ہے؟کیاتُو اپنی کمزوری کے ساتھ اپنے رب پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے؟یا تُو اپنے مقتولوں میں اضافہ کرنا چاہتا ہے؟وہ اﷲ ہر ایک سے معزز اور برتر ہے،اور ہر ایک پر غالب اور قاہر ہے۔جبکہ اُس کے بندے ذلیل اور کمزور ہیں،اِس جنگ میں وہ میرے ساتھ ہے۔اور جس کے ساتھ اﷲ ہو،اُس پر کوئی غالب نہیں آسکتا ہے۔اے بد بخت!تُو اپنی پوری کوشش کر لے،تاکہ مجھے معلوم ہو جائے کہ تیرے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟“زرح نے جب یہ سنا تو اُسے بہت غصہ آیا۔اُس نے اپنے تیر اندازوں کو حکم دیا کہ ایک ساتھ تیر چلاو¿،اور ایک ہی جھٹکے میں اِس معمولی لشکر کا صفایا کردو۔اِدھر اﷲ تعالیٰ نے آسا کی مدد کے لئے فرشتے اُتار دیئے،اور وہ آسا کے لشکر کے آگے زرح کے لشکر کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے۔زرح اور اُس کے لشکر کو ایسا لگا،جیسے اُن کے اور آسا کے لشکر کے درمیان بادل اُتر آیا ہو۔جس میں آسا کا لشکر چھپ گیا۔زرح اور اُس کے لشکر کے تیر انداز اُس بادل یا دھند کے اُس پار دیکھنے کی کوشش کرنے لگے۔اچانک اُس بادل میں سے ہزاروں تیر نکلے اور زرح کے لشکر کے تیر اندازوں کو لگے اور وہ سب مر گئے۔اس کے بعد اس دھند یا بادل میں سے فرشتے نکلے،جو اتنی زیادہ تعداد میں تھے کہ پورا میدان اور وادی اُن سے بھر گئے۔زرح نے فرشتوں کو دیکھا تو سخت مرعوب ہو گیا،اور اُس کے ہاتھ سے ہتھیار گر گیا۔اُس نے کہا؛”یہ تو جادو ہے،آسا نے ہم پر جادو کر دیا ہے۔‘]اس کے بعد اُس نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ ایک ساتھ حملہ کر کے آسا اور اُس کے ساتھیوں کو ختم کردو تو یہ جادو بھی ختم ہو جائے گا۔اُس کا لشکر ایک ساتھ آگے بڑھا،لیکن زرح یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ فرشتوں نے آگے بڑھ کر اُس کے لشکر پر حملہ کر دیا۔اور کچھ ہی دیر میں اُس کا پورا لشکر قتل ہوگیا،اور میدان میں جگہ جگہ اُن کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔زرح نے یہ دیکھا تو ہمت ہار دی،کیونکہ اُسے بُری طرح شکست فاش ہو چکی تھی۔

زرح کی ہلاکت

اﷲ تعالیٰ نے آسا اور بنی اسرائیل کو فتح عطا فرمائی۔زرح نے جب اپنے لشکر کو ختم ہوتے دیکھا تو پیٹھ پھیر کر بھاگا،اور اُس کے ساتھ اُس کے وہ سپاہی تھے جو زندہ بچ گئے تھے۔وہ سب ساحل سمندر پر پہنچے اور جہازوں پر سوار ہو کر بھاگنے لگے۔جب پانی کے درمیان پہنچے تو سمندر میں طوفان آگیا،اور زرح اور اُس کے ساتھی سب کے سب ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔اِس جنگ سے سلطنت یہودیہ کے بنی اسرائیل کو تنا مال غنیمت حاصل ہوا کہ وہ تین مہینے تک اسے جمع کرتے رہے۔اور سلطنت یہودیہ کی دولت میں بے حد اضافہ ہو گیا۔اس کے بعد آسا سکون سے حکومت کرتا رہا،اُس نے اکتالیس(۱۴)سال حکومت کی۔اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا یہوشاط بن آسا سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا۔اُس نے پچیس (۵۲) سال حکومت کی،اُس کے بعد اُس کی چچا زاد بہن عتلیا نے سات سال حکمرانی کی۔اُس کے دور ِ حکومت میںحضرت الیاس علیہ السلام نے سلطنت اسرائیل یا سامریہ میں اعلان نبوت کیا۔اس کے بعد یوآش سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا،اُس نے چالیس سال حکومت کی۔اب ہم حضرت حزقیل علیہ السلام کے ذکر کو شروع کرتے ہیں۔آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی ہیں۔

حضرت حزقیل علیہ السلام کا لقب

حضرت حزقیل علیہ السلام کا لقب”ابن العجور“ہے۔اِسکی وجہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ بانجھ تھیں،اور اُن کو اولاد نہیں ہوتی تھی۔یہاں تک کہ والدہ محترمہ بوڑھی ہوگئیں۔والد محترم اکثر اپنی بیوی کو تسلی دیتے رہتے تھے کہ اگر اﷲ تعالیٰ کو اولاد دینا منظور ہو گا تو ہمارے بڑھاپے میں بھی ہمیں اولاد عطا فرمادے گا۔آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ اپنی ہم عُمر عورتوں کے جوان بچوں کو دیکھتیں تو اُن کے دل میں ایک کسک سی اُٹھتی تھی۔آخر کار بُڑھاپے میں وہ اﷲ تعالیٰ سے دعا کرنے لگیں کہ اے اﷲ تعالیٰ مجھے اولاد سے نواز دے۔اُن کی یہ دعا بنی اسرائیل میں مشہور ہو گئی۔آخر کار اﷲ تعالیٰ کو اُن پر رحم آیا ،اور اﷲ تعالیٰ نے انہیں بیٹا عطا فرمایا۔والدین نے ”حزقیل“نام رکھا،لیکن آپ علیہ السلام بنی اسرائیل میں ”ابن العجور“یعنی ”بڑھیا کا بٹا“کے نام سے مشہور ہو گئے۔

حضرت حزقیل علیہ السلام کی بعثت

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں توریت کے احکامات نافذ کئے۔آپ علیہ السلام ستائیس(۷۲) سال تک بنی اسرائیل میں رہے۔اُن کے بعد حضرت کالب بن یوقنا نے بنی اسرائیل کے انتظامات سنبھالے۔اُن کے بعد اﷲ تعالیٰ نے حضرت حزقیل علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔و¿پ علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو آگے بڑھایا،اور توریت کے احکامات نافذ کئے۔آپ علیہ السلام کے زمانہ¿ نبوت میں بنی اسرائیل صرف اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے،اور اسلام پر قائم رہے۔آپ علیہ السلام کے زمانہ¿ نبوت میں آپ علیہ السلام کے سامنے ہزاروں لوگوں کی موت کے بعد زندہ ہونے کا معجزہ اﷲ تعالیٰ نے دکھایا۔

ہزاروں لوگوں کی ایک ساتھ موت

اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ”کیا تم نے اُن کو نہیں دیکھا؟جو ہزاروں کی تعداد میں موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے۔اﷲ تعالیٰ نے انہیں فرمایا”مرجاؤ“۔پھر انہیں زندہ کیا۔اﷲ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے،لیکن اکژر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 243)اکثر علمائے کرام نے یہی فرمایا ہے کہ یہ واقعہ حضرت حزقیل علیہ السلام کے وقت میں پیش آیا۔ پہلے ہم آپ کی خدمت میں چند علمائے کرام کی مختصراًتفسیر اِس واقعے کے متعلق پیش کریں گے۔اِس کے بعد انشاءاﷲ اِس واقعہ کو تفصیل سے بیان کریں گے۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ چار ہزار تھے،ایک اور روایت میں ہے کہ آٹھ ہزار تھے۔بعض لوگ نو ہزار کہتے ہیں،بعض چالیس ہزار بتاتے ہیں۔یہ لوگ ”درودان“نامی بستی کے تھے،جو واسط کی طرف ہے۔بعض کہتے ہیں اِس بسی کا نام ”ازرعات“تھا۔یہ لوگ طاعون کی بیماری کے ڈر سے اپنے شہر کو چھوڑ کر بھاگے تھے۔ایک وادی میں پہنچے تو وہیں اﷲ کے حکم سے سب مر گئے۔اتفاق سے ایک نبی علیہ السلام کا وہاں سے گزر ہوا،اُن کی دعا سے اﷲ تعالیٰ انہیں پھر دوبارہ زندہ کر دیا۔بعض لوگ کہتے ہیں ایک چٹیل، صاف اور ہوادار کھلے پُر فضا میدان میں ٹھہرے تھے۔اور فرشتوں کی چیخ سے ہلاک کئے گئے تھے۔جب ایک لمبی مدت گزر گئی اور ان کی ہڈیوں کا بھی بھوسہ ہو گیا۔تب حضرت حقیل علیہ السلام وہاں سے گزرے۔انہوں نے دعا کی اور اﷲ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔اور حکم دیا کہ تم کہو:”اے بوسیدہ ہڈیو!اﷲ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم سب جمع ہوجاو¿۔“ہر ہر جسم کی ہڈیوں کا ڈھانچہ کھڑا ہوگیا۔پھر اﷲتعالیٰ کا حکم ہوا؛”تم کہو!اے ہڈیو!اﷲ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ گوشت پوشت ،رگیں پٹھے بھی جوڑ لو۔“جب یہ بھی ہو گیا تو حکم ہوا ؛”تم کہو !اﷲ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہےکہ ہر روح اپنے جسم میں داخل ہوجائے۔“جس طرح یہ سب ایک ساتھ مرے تھے،اُسی طرح ایک ساتھ زندہ ہوگئے۔اور بے ساختہ اُن کی زمان سے نکلا؛”اے اﷲ !تُو پاک ہے،اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔“

طاعون کے ڈر سے بھاگ نکلے

سورہ البقرہ کی آیت نمبر 243 کی تفسیر میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔کہ امام جلال الدین سیوطی بیان فرماتے ہی کہ علامہ محمد بن جریر طبریاور امام حاکم نے اِس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اُن لوگوں کی تعداد چار ہزار تھی ۔اور یہ ”درودان“نام کے شہر کے رہنے والے تھے۔یہ شہر واسط کے قریب تھا۔اِس شہر میں طاعون پھیل گیا تھا،لوگوں کا ایک گروہ تو شہر میں ہی ٹھہرا رہا،اور ایک گروہ بھاگ گیاتھا۔جو لوگ شہر میں رکے رہے ،اُن میںسے کچھ مر گئے،اور بھاگنے والوں میں سے سب لوگ بچ گئے۔جب طاعون ختم ہوا تو وہ لوگ واپس آگئے،اِس شہر کے زندہ بچنے والوں نے کہا؛”ہمارے بھائی ہم سے زیادہ سمجھ دار نکلے،کاش ہم بھی اُن کی طرح شہر سے نکل جاتے تو ہمارے جو رشتہ دار مرگئے وہ بچ جاتے۔اور اگر اگلے طاعون تک ہم زندہ رہے تو ایسا ہی کریں گے۔اگلے سال پھر طاعون آیا،اِس مرتبہ سب لوگ شہر سے نکل بھاگے۔اُن کی تعدادتیس ہزار تھی،وہ لوگ دو پہاڑیوں کے درمیان ایک وادی میں قیام پذیر ہوئے۔اﷲتعالیٰ نے اُن کے پاس دو فرشتے بھیجے،ایک فرشتہ وادی کے ایک طرف تھا،اور دوسرا دوسری طرف تھا۔اُن دونوں فرشتوں نے ایک ساتھ آواز لگائی،”مرجاو¿“تو وہ سب مر گئے۔جب تک اﷲ نے چاہا وہ اسی طرح مردہ پڑے رہے۔پھر وہاں سے حضرت حزقیل علیہ السلام گزرے،انہوں نے اتنی ساری ہڈیوں کو دیکھا تو حیران ہو گئے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی؛”تم آواز لگاو¿ کہ اے ہڈیو!ﷲتعالیٰ تمہیں جمع ہونے کا حکم دیتا ہے۔“آپ علیہ السلام نے آواز لگائی تو تمام ہڈیوں پر گوشت آگیا۔پھر اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ان سے کہو!اﷲ تعالیٰ تمہیں کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے۔“آپ علیہ السلام نے حکم کے مطابق فرمایا تو وہ سب زندہ ہو کر کھڑے ہو گئے۔اور بے اختیار اُن کی زبان سے یہ کلمات جاری ہوئے۔”اﷲ تعالیٰ پاک ہے اور اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔“پھر وہ اپنے شہروں کی طرف روانہ ہو گئے ،اور وہاں رہنے لگے۔مگر وہ جب بھی کوئی نیا لبا س پہنتے تھے تو وہ اُن کے جسم پر جاتے ہی پُرانا ہو جاتا تھا،اور کفن کی شکل اختیار کر لیتا تھا۔جس سے اُس زمانہ کے لوگ پہچان لیتے تھے کہ یہ لوگ مرنے کے بعد زندہ ہوئے ہیں۔

موت کہیں بھی آجائے گی

سورہ البقرہ کی آیت نمبر 243 کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔اِس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی اور موت اﷲ تعالی کے قبضہ¿ قدرت میں ہے۔انسان لاکھ موت سے ڈر کر کہیں بھی چلا جائے۔ وہ جہاں بھی جائے گااور جب اُسکی موت کا وقت آجائے گا تو وہ کہیں بھی آجائے گی۔اور اِس کے لئے بنی اسرائیل کا ایک واقعہ بیان فرمایا۔یہ لوگ کسی شہر میں رہتے تھے،وہاںطاعون کی وبا پھوٹ پڑی۔اس بستی کے لوگ اپنے رشتہ داروں کو تڑپتا دیکھ کر ایک بہت ہی وسیع وادی کی طرف بھاگ گئے،تاکہ موت سے بچ سکیں۔اُن لوگوں کی تعداد دس ہزار تھی،یہ دو پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع وادی میں ٹھہر گئے۔اﷲ تعالیٰ نے دنیا کو دکھلانے کے لئے عبرت کا یہ سامان کیا کہ اِن دس ہزار بنی اسرائیلیوں پر موت طاری کر دی۔جب آس پاس کے لوگوں کو اطلاع ملی کہ دس ہزار کے قریب لاشیں بغیر کفن دفن کے پڑی ہیں،اور یہ سب سڑ رہی ہیں۔تو انہوں نے سوچا کہ اِن سب کو دفن کرنا بہت مشکل ہے،اِسی لئے اُن کے اطراف دیواریں اُٹھا دیں۔تاکہ لاشوں کی بے حرمتی نہ ہو۔اُن کی صرف ہڈیاں بچیں،بہت عرصہ بعد بنی اسرائیل کے رسول حضرت حزقیل علیہ السلام اُس مقام سے گزرے۔اتنی زیادہ تعداد میں ہڈیاں ریکھ کر آپ علیہ السلام حیران رہ گئے۔انہوں نے اﷲ تعالیٰ سے ان کے زندہ ونے کی دعا کی،جو اﷲ تعالیٰ نے قبو ل کی ،اور انہیں دوبارہ زندہ کر دیا۔

طاعون کی وبا

سورہ البقرہ کی آیت نمبر 243 کی تفسیر میں لگ بھگ سبھی علمائے کرام نے اِس واقعے کو پیش کیا ہے۔اِن میں سے چند ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کئے ہیں۔اب واقعہ کی تفصیل کی طرف آتے ہیں۔داوردان نام کے شہر میں طاعون کی وبا پھیلی۔آج کل ہمارے زمانے میں اتنی ترقی ہو گئی ہے کہ زیادہ تر بیماریوں کا علاج دریافت کر لیا گیا ہے۔اور لگ بھگ تمام بیماریوں کو کنٹرول کر لیا گیا ہے،اور پھیلنے نہیں دیا جاتا ہے۔اِسی لئے نوجوان نسل یہ اِن وبائی امراض سے اتنا زیادہ واقف نہیں ہے۔آج سے ستر(70) یا اسی(80) سال پہلے الگ الگ بیماریوں کی وبائیں پھیلتی تھیں۔اِن میں سے کچھ کے نام طاعون ،کالرا،پلیگاور ہیضہ ہیں،اور بھی کئی بیماریاں ہیں۔یہ بیماریاں جب آتی تھیں تو پورا علاقہ اس کی لپیٹ میں آجاتا تھا۔اور اُس علاقے کے زیادہ تر لوگوں کا وبائی بیماری سے انتقال ہو جاتا تھا۔ایسی ہی طاعون کی بیماری اس شہر میں بھی پھیلی ،اور لوگ موت کا شکار ہونے لگے۔یہ دیکھ کر بہت سے لوگ اس شہر کو چھوڑ کر بھگ گئے۔جو لوگ شہر میں رہے اُن میں سے بہت سے لوگ مر گئے،اور جو لوگ زندہ بچے تھے،وہ بھی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے،اور بہت تکلیف اُٹھا کر زندہ بچے تھے۔کیونکہ اُس زمانے میں دردکش (درد مٹانے والی)گولیاں ایجاد نہیں ہوئی تھیں،اس لئے انہیں درد کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی تھی۔

مر جاؤ

جب طاعون کی بیماری کی وبا ختم ہو گئی تو وہ لوگ واپس آگئے،جو شہر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔وہ سب کے سب محفوظ تھے،اور کوئی بھی بیماری میں مبتلا نہیں ہوا تھا۔نہ تو انہوں نے کوئی تکلیف اُٹھائی اور نہ ہی اُن میں سے کوئی مرا تھا۔وہ لوگ اُن لوگوں کا مذاق اُڑاتے تھے جو اس شہر میں رہ گئے تھے۔اور کہتے تھے کہ تم بے وقوف لوگ ہو،جو یہیں رکے رہے،اور تکلیف بھی اُٹھائی اور اپنے رشتہ داروں کو بھی کھو دیا۔شہر میں رکنے والوں نے کہا کہ تم لوگوں نے واقعی عقلمندی کا کام کیا،اب طاعون کی وبا پھیلے گی تو ہم بھی یہی کریں گے۔دوسرے سال پھر طاعون کی وبا پھیلی تو پورے شہر کے کے لوگوں نے اپنے گھروں کو اُسی حال میں چھوڑ دیا اور نکل بھاگے۔یہ ہزاروں کی تعداد میں تھے،کافی دور آکر ایک پُر فضا مقام پر دو پہاڑوں کے درمیان ایک بہت بڑی وادی کے میدان میں پڑاو¿ ڈال دیا۔وہ سب وہاں قیام پذیر تھے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”مر جاو¿“اور اﷲ تعالیٰ نے سب کو ایک ساتھ موت دے دی۔یہاں تک کہ اُن کی سواری کے اور سامان اُٹھانے والے جانوروں کو بھی موت آ گئی۔پوری وادی کے وسیع میدان میں ہر جگہ انسانوں اور جانوروں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔

حضرت حزقیل علیہ السلام کا تعجب

سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”جب طاعون کی وبا تمہارے علاقے میں پھیلے تو اﷲ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے وہیں رکے رہو اور اُس علاقے سے باہر نہ جاؤ۔اگر دوسرے علاقے میں طاعون پھیلا ہواور تمہارا علاقہ محفوظ ہو تو اُس علاقے میں نہ جاؤ،جہاں طاعون پھیلا ہوا ہے۔“اُن لوگوں نے اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کیا اور طاعون زدہ علاقہ چھوڑ کر بھاگ گئے تو اس کی انہیں سزا ملی اور سب کو ایک ساتھ اﷲ تعالیٰ نے موت دے دی۔وہ سب لاشیں اسی طرح پڑی رہیں اور اُن کے جسم سڑ گل گئے،اور صرف ہڈیاں بچیں۔کئی سال گزر گئے،اس دوران تیز ہواوؤں اور طوفان کی وجہ سے اُن کی ہڈیاں بکھر کر اِدھر اُدھر ہو گئیں،لیکن وادی کے اندر ہی رہیں۔کافی عرصے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام کا گزر اُس وادی سے ہوا۔آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ پوری وادی ہڈیوں سے بھری ہوئی ہے اور جگہ جگہ ہڈیوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔آپ علیہ السلام حیرت سے کھڑے ہو کر کچھ دیر اُن ہڈیوں کو دیکھتے رہے۔پھر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !یہ کیا ماجرا ہے؟اتنی ساری ہڈیاں اِس وادی میں بکھری پڑی ہیں ؟“اﷲ تعالیٰ نے اُن لوگوں کا واقعہ بتایا۔اس کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام یہ تعجب کرنے لگے کہ یہ سب ہڈیاں اِدھر اُدھر ہو گئی ہیں ،اب کون سی ہڈی کس جسم کی ہے یہ جاننا تو بہت مشکل ہے،آخر کار یہ کیسے ہوگا؟کہ جس جسم کی ہڈی ہے اُسی جسم پر برابر لگ سکے؟اور اگر ہو بھی گیاتو اس میں بہت پریشانی ہو گی۔

ہڈیوں کا اپنی جگہ پر آنا

حضرت حزقیل علیہ السلام اسی سوچ میں گم کھڑے ان ہڈیوں کو دیکھ رہے تھے کہ آخر کار اﷲ تعالیٰ اِن بکھری ہوئی ہڈیوں کو جمع کر کے دوبارہ زندہ جسم کیسے بنائیں گے؟کیونکہ یہ تو بہت ہی پیچیدہ کام ہے۔اﷲتعالیٰ نے فرمایا؛”اے حزقیل(علیہ السلام)!تمہیں اﷲ کی قدرت پر تعجب ہو رہا ہے؟“آ علیہ السلام نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ ! مجھے آپ کی قدرت پر پورا یقین ہے،میں تو اِس کام کے پیچیدہ اور مشکل ہونے پر تعجب کر ہا ہوں۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”کیاتم چاہتے ہو کہ یہ دوبارہ زندہ ہو جائیں؟“حضرت حزقیل علیہ السلام نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !کیا ان کی دنیا میں عمریں باقی ہیں؟“اﷲتعالیٰ نے فرمایا؛”ہاں۔“یہ سن کر آپ علیہ السلام نے دعا کی؛”اے اﷲ تعالیٰ !یہ جو کچھ بھی ہیں آخر تیرے بندے ہی ہیں،اِن لوگوں نے جو بھی گناہ کیا ہو وہ اپنی جگہ ہے۔اِس کے باوجود یہ تیری رحمت کے اُمید وار ہیں،اِس لئے انہیں زندہ کر دے،اور انہیں دنیا میں زندگی گزارنے کا ایک موقع اور دیدے۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ان سے کہو اﷲ کے حکم سے تمام ہڈیاں اپنی اپنی جگہ پر آجاو¿اور اپنے اپنے جسموں سے لگ جاو¿۔“آپ علیہ السلام نے ایسا ہی فرمایا۔وہ منظر بڑا ہی حیرت انگیز تھا۔پوری وادی میں جگہ جگہ ہڈیوں کے ڈھیر پڑے ہوئے تھے۔ ہر طرف انسانوں اور جانوروں کے ہاتھوں اور پیروں اور سروںکی ہڈیاںپڑی ہوئی تھیں۔حکم سنتے ہی تمام ہڈیاں حرکت میں آگئیں،اور اپنی جگہ سے اُڑ اُڑ کر اپنے جسموں کی طرف پہنچ کر جڑ رہی تھیں۔پوری وادی میں ہر طرف ہڈیوں کے سر اور ہاتھ اور پیر اُڑ رہے تھے اور آپ علیہ السلام وادی کے سرے پر کھڑے حیرت سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔

تمام ہڈیوں پر گوشت اور کھال کا چڑھنا

حضرت حزقیل علیہ السلام کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے اور تما ہڈیاں اپنی جگہ سے اُڑ اُڑ کر آرہی تھیں اور اپنے جسموں سے جڑتی جارہی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے تمام ڈھانچے مکمل ہو گئے اور ہڈیوں کا اُڑنا بند ہو گیا۔اب علیہ السلام کے سامنے پوری وادی میں انسانوں اور جانوروں کے ڈھانچے لیٹے ہوئے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اب ان سے کہو کہ اﷲ کے حکم سے ہڈیوں پر گوشت اور کھال چڑھ جائے۔“آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کا حکم سنایا ۔حکم سنتے ہی تمام ڈھانچوں پر گوشت اور کھال بننا اور چڑھنا شروع ہوگئی۔حضرت حزقیل علیہ السلام تعجب سے اﷲ کی قدرت دیکھ رہے تھے ۔زمین پر پڑے ہوئے انسانوں اور جانوروں کے ڈھانچوں پردھیرے دھیرے گوشت چڑھتا رہا اور کھال بھی چڑھتی رہی اور دیکھتے دیکھتے تمام جسم مکمل طور سے بن گئے۔اس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے اُن کے کپڑے جو پرانے ہو کر پھٹ کر چیتھڑے ہو گئے تھے۔اُن کپڑوں کو بھی بالکل ٹھیک اصلی حالت میں کر دیا اور پہنا دیا۔

مردے زندہ ہو گئے

حضرت حزقیل علیہ السلام وادی کے سرے پر کھڑے ہوئے اﷲ تعالیٰ کی قدرت کا مشاہد کر رہے تھےاور اﷲ تعالیٰ کی شان اور تعریف بیان کر رہے تھے۔تمام جسم مکمل ہو چکے تھے اور وہ کپڑے بھی پہن چکے تھے جو انہوں نے مرتے وقت پہنا ہوا تھا۔پوری وادی میں ہزاروں انسانوں اور جانوروں کے جسم لیٹے ہوئے تھے۔اب حضرت حزقیل علیہ السلام وادی میں اُتر آئے اور قریب سے لیٹے ہوئے جسموں کا جائزہ لینے لگے۔ہر انسان اور جانور کا جسم پورے طور سے مکمل نظر آرہا تھا ۔آپ علیہ السلام گھوم گھوم کرجھک کر ایک ایک جسم کا معائنہ کررہے تھے اور فرماتے جارہے تھے؛”بے شک اﷲ تعالیٰ ہر کام پر قدرت رکھنے والا ہے،بے شک اﷲ تعالیٰ ہی مرنے کے بعد زندہ کرنے والا ہے۔تمام جسم لیٹے ہوئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا جیسے ہزاروں انسان اور جانور وادی میں سوئے ہوئے ہیں۔لیکن اُن میں ابھی جان نہیں آئی تھی اور وہ سانس نہیں لے رہے تھے۔اب اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اِن جسموں کو حکم دو کہ اُٹھ کر کھڑے ہو جائیں۔“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اﷲ کے حکم سے تمام روحیں اپنے جسموں میں داخل ہو جائیں اور تما جسم زندہ ہو کر کھڑے ہو جائیں۔“آپ علیہ السلام کا حکم سنتے ہی تمام مردے زندہ ہو گئے اور اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔

زندہ ہوتے ہی اﷲ کی پاکی اور تعریف بیان کی 

حضرت حزقیل علیہ السلام حکم دینے کے بعد تمام لیٹے ہوئے جسموں کے درمیان گھوم رہے تھے اور مشاہدہ کرتے جارہے تھے۔پہلے تمام انسانوں اور جانورں کے جسموں نے آنکھیں کھولیں۔پھر دھیرے دھیرے اپنے ہاتھوں کو حرکت دینے لگے۔اب آپ علیہ السلام اُن کے درمیان گھوم گھوم کر زور زور سے فرما تے جا رہے تھے۔”اﷲ تعالیٰ پاک ہے،اُسکے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔“دھیرے دھیرے تمام انسان اُٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے بے جان پیروں کو دیکھنے جن میں دھیرے دھیرے جان آتی جا رہی تھی۔وہ لوگ وہ کلمات سنتے جا رہے تھے جو آپ علیہ السلام بار بار دہرا رہے تھے۔پھر جب اُن سب کے پیروں میں جان آگئی تو وہ سب ایک ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے اورایک ساتھ پکار اُٹھے۔”اﷲ تعالیٰ پاک ہے اور اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہے۔“

اپنے شہر واپس آئے

حضرت حزقیل علیہ السلام اُن کے درمیان گھوم گھوم کر اﷲ تعالیٰ کی پاکی بیان کر رہے تھے۔جب تمام انسان اور جانور زندہ ہو کر کھڑے ہو گئے تو سب کے سب آپ علیہ السلام کے اطراف جمع ہو گئے اور تمام حال دریافت کرنے لگے۔حضرت حزقیل علیہ السلام ایک اونچے پتھر پر کھڑے ہوگئے اور اُن کے شہر سے بھاگنے سے لیکر زندہ ہونے تک کے تمام حالات بلند آواز سے بیان کئے اور اپنا تعارف کرایا۔تمام حالات سن کر سب لوگ رونے لگے اور اﷲ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنے لگے اور استغفار کرنے لگے۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام اُن سب کو لیکر اُن کے شہر میں آئے اور بنی اسرائیل سے تمام حالات بیان فرمائے۔یہ سب بھی بنی اسرائیل سے ہی تھے اور زندہ ہونے کے بعد اُن میں فرق یہ آگیا تھا کہ اُن کے جسم اور چہرے پیلے ہو گئے تھے۔ایسا لگتا تھا جیسے اُن کے جسم میں خون نہیں ہے اور جب بھی یہ لوگ نئے کپڑے پہنتے تھے تو وہ کفن کی طرح بوسیدہ ہو جاتے تھے۔اِن کے بدن سے ایک مخصوص بو آتی تھی ،جس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوئے ہیں۔انہوں نے شادی بیاہ بھی کی اور اُن کی اولاد بھی ہوئی اور یہ سب دنیا میں اپنی اپنی عمریں پوری کر کے مرے۔اِن کی اولاد میں بھی یہ مخصوص بورہی اور آج بھی یہودیوں (بنی اسرائیل) کے مخصوص لوگوں میں یہ مخصوص بو آتی ہے۔

حضرت حزقیل علیہ السلام کا وصال

اﷲ تعالیٰ نے جب تک چاہا،تب تک حضرت حزقیل علیہ السلام بنی اسرائیل کے درمیان رہے۔پھر اﷲ تعالیٰ نے انہیں اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لیا۔آپ علیہ السلام کے حالات ِ زندگی اور وصال کے بارے میں زیادہ روایات نہیں ہیں۔اِس لئے ہم اِسی پر بس کرتے ہوئے آپ علیہ السلام کے ذکر کو مکمل کرتے ہیں۔

ختم شد


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں