15 حضرت سلیمان علیہ السلام مکمل
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 15
حضرت سلیمان علیہ السلام کا سلسلۂ نسب
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم آپ کی خدمت میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت داﺅد علیہ السلام تک کے انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات 12بارہ کتابوںمیں پیش کر چکے ہیں۔ یہ ”حالات انبیائے کرام “سلسلے کی تیرھویں کتاب ہے۔ اس میں ہم آپ کی خدمت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات پیش کررہے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام ہیں۔ اس لئے آپ علیہ السلام کا سلسلہ ¿ نسب بھی وہی ہے جو حضرت داﺅد علیہ السلام کا ہے۔ پھر بھی ہم اُن حضرات کی آسانی کے لئے سلسلہ نسب یہاں تحریرکر دیتے ہیں۔ جنہوں نے حضرت داﺅد علیہ السلام کی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام بن حضرت داﺅد علیہ السلام بن ایشا بن عوید بن سلمون بن نحشون بن عمیناد اب بن ارم بن حصرون بن فارص بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام سفید اور صاف رنگ کے مالک تھے۔ آپ علیہ السلام کے جسم مبارک پر بال زیادہ تھے۔ اور آپ علیہ السلام سفید لباس زیادہ پہنتے تھے۔ آپ علیہ السلام بچپن سے ہی بہت ذہین تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی والدہ محترمہ یعنی حضرت داﺅد علیہ السلام کی زوجہ محترمہ بہت ہی نیک اور عبادت گزار تھیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی تربیت بہت اچھے طریقے سے کی۔ اور اسی تربیت کا اثر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کا وارث حضرت سلیمان علیہ السلام کو بنایا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کی دولت اور جائیداد کا وارث آپ علیہ السلام کو نہیں بنایا۔ بلکہ نبوت کی ذمہ داری اور حکومت کی ذمہ داری کا وارث بنایا۔ (کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انبیائے کرام کا ترکہ وارثوں کو نہیں ملتا۔ بلکہ یہ عام مسلمانوں کے لئے ہوتا ہے۔)
حضرت سلیمان علیہ السلام کی ذہانت
حضرت سلیمان علیہ السلام بچپن سے ہی بہت ذہین تھے۔ اور والدہ محترمہ کی تربیت نے اس میں اور نکھار پیدا کر دیا تھا۔ اسی لئے جب آپ علیہ السلام تھوڑا سمجھدار ہوئے تو اپنے والد محترم کے دربار میں بیٹھنے لگے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کا یہ قاعدہ تھا کہ ایک دن دربار منعقد کرتے اور حکومت کے کام نپٹاتے تھے ۔ ایک دن عبادت کے مخصوص رکھتے تھے۔ اور ایک دن گھر والوں کے ساتھ گزارتے تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام دربار میں اپنے والد محترم کے حکومتی فیصلوں اور مقدمات کے فیصلوں کو بغور دیکھتے ، سنتے اور سمجھتے تھے۔ اور کئی مرتبہ تو ایسا ہو اکہ آپ علیہ السلام نے بر وقت صحیح مشورے اپنے والد محترم کو دیئے اور حضرت داﺅد علیہ السلام بھی اپنے ذہین اور قابل بیٹے کے مشوروں کو توجہ سے سنتے تھے اور قبول بھی کرتے تھے۔ اور ضرورت پڑنے پر بیٹے کے مشوروں کی روشنی میں صحیح فیصلے بھی دیتے تھے۔ اور بیٹے کی حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے۔ اس سلسلے میں دو واقعات کافی مشہور ہیں۔
بکریوں اور کھیت کا فیصلہ
اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور داﺅد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کو یاد کریں۔ جب کہ وہ کھیت کے معاملے میں فیصلہ کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو اس میں چر چُگ گئی تھیں۔ اور ان کے فیصلے میں ہم موجود تھے۔ ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔ ہاں ہر ایک کو ہم نے حکم اور علم دے رکھا ہے۔“( سورہ الانبیاءآیت نمبر78اور 79) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ ایک کھیت میں کسی قوم کی بکریاں گھس گئی تھیں۔ اور پورا کھیت کھا کر برباد کر دیا تھا۔ دونوں فریق حضر ت داﺅد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مقدمہ پیش کیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ انگور کا کھیت تھا۔ اور تازہ اور تیار پھل لگے ہوئے تھے۔ دربار میں حضرت سلیمان علیہ السلام بھی موجود تھے اور نوجوان تھے۔ فریادی نے مقدمہ پیش کیا کہ دوسرے فریق کی بکریاں میرے کھیت میں گھس گئی۔ اور پورے کھیت کو بکریوں نے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ انگور کی بیلوں کو اور پتیوں کے ساتھ ساتھ انگوروں کو بھی کھا لیا تھا۔ اور تمام بیلوں کو جگہ جگہ سے کاٹ کر رکھ دیا تھا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے تمام مقدمہ سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ تمام بکریاں کھیت والے کو دی جائیں تا کہ وہ اپنا نقصان پورا کرلے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ ابا جان، کیا میں کوئی رائے یا مشورہ دے سکتا ہوں؟ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا ۔ بے شک بیٹے، اگر تم کوئی بہتر رائے یا مشورہ دو گے تو میں ضرور قبول کروں گا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ انگور کا کھیت بکریوں والے فریق کے حوالے کر دیا جائے۔ تا کہ وہ اس کھیت پر محنت کریں اور نگہبانی کریں اور اس دوران میں بکریاں کھیت والے کے حوالے کر دی جائیں جب تک انگور کی بیلیں تیار نہیں ہو جاتیں اور ان میں پھل نہیں لگ جاتے تب تک کھیت والا بکریوں سے فائدہ اٹھائے۔ اور جب کھیت پوری طرح تیار ہو جائے تو بکریوں والا فریق کھیت والے کو اس کا کھیت واپس دے کر اپنی بکریاں واپس لے لے۔ یہ فیصلہ سن کر حضرت داﺅد علیہ السلام بہت خوش ہوئے اور فخریہ انداز میں اپنے بیٹے کو دیکھا اور شاباشی دی۔ اور اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا۔
دو عورتوں کا فیصلہ
حضرت سلیمان علیہ السلام کی ذہانت کا دوسرا واقعہ دو عورتوں کے مقدمے کا ہے۔ دو عورتیں اپنے اپنے بچوں کو لئے ہوئے جا رہی تھیں۔ ایک بھیڑیا اُن کی تاک میں تھا۔ موقع پا کر اس نے بڑی عورت کے بچے کو چھین لیا اور لے کر بھاگ گیا۔ بڑی عورت نے فوراً چھوٹی عورت کو بچہ چھین لیا اور کہا یہ میرا بچہ ہے۔ دونوں عورتیں جھگڑنے لگیں۔ آخر فیصلے کے لئے حضرت داﺅد علیہ السلام کی خدمت میں دونوں عورتیں حاضر ہوئیں۔ اور مقدمہ پیش کیا۔ بڑی عورت چرب زبان تھی اور اس نے اپنی چرب زبانی سے چھوٹی عورت کو جھوٹا ثابت کر دیا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ چھوٹی عورت رونے لگی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام وہیں موجود تھے۔ انہوں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا۔ ابا جان، اگر آپ اجازت دیں تو میں ایسا مشورہ دوں جو دونوں فریق کے لئے قابل قبول ہو۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بے شک تمہیں اجازت ہے بیٹا۔ اجازت ملنے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے والد محترم کو مشورہ دیا کہ اگر ایسا کیا جائے کہ تلوار سے بچے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں عورتوں کو برابر دے دیا جائے۔ یہ سنتے ہیں چھوٹی عورت نے چیخ کر کہا ۔ اللہ کے لئے ایسا نہ کریں ۔ بلکہ بچہ بڑی عورت کو دے دیں ۔ کم از کم اس طرح میرا بچہ زندہ رہے گا۔ یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے بڑی عورت سے فرمایا۔ تم اس بارے میں کیا کہتی ہو؟ جواب میں بڑی عورت نے کہا۔ یہ تو میں بھی نہیں چاہتی کہ اس بچے کو اس طرح قتل کیا جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھیڑیامیرا بچہ لے گیا تھا۔ اور یہ بچہ اسی عورت کا ہے اور بچہ اسے دے دیا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام مسکرانے لگے۔اور اپنے بیٹے کو شاباشی دی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نبوت و بادشاہت سے سرفراز
اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے یقینا داﺅد ( علیہ السلام ) اور سلیمان (علیہ السلام )کو علم عطا فرما رکھا تھا۔ اور دونوں نے کہا۔ تمام تعریفیں اُس اللہ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اور داﺅد ( علیہ السلام )کا وارث سلیمان ( علیہ السلام ) کو بنایا۔ “( سورہ النمل آیت نمبر15اور 16) ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام پر اپنا فضل کیا۔ اور ان دونوں کو نبوت کے ساتھ ساتھ بادشاہت بھی عطا فرمائی ۔ اور آگے فرمایا کہ نبوت اور بادشاہت میں حضرت داﺅد کا وارث حضرت سلیمان علیہ السلام کو بنایا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام ، حضرت داﺅد علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ ان کا اصل عبرانی نام ”سولومون “تھا۔ جو ”سلیم “کا ہم معنی ہے۔965 قبل مسیح میں حضرت داﺅد علیہ السلام کے وارث ہوئے۔ اور 962 قبل مسیح تک تقریبا 40سال حکمراں رہے۔ امام ابن ابی حاتم لکھتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو حضرت سلیمان علیہ السلام عطافرمایا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے دریافت فرمایا۔ اے پیارے بیٹے، سب سے اچھی چیز کیا ہے؟ انہوں نے جواب میں عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ کا سکینہ اور امیمان ۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ سب سے قبیح ( بری) چیز کیا ہے؟حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ ایمان لانے کے بعد کافر ہونا۔ والد محترم نے پوچھا سب سے میٹی چیز کیا ہے؟ بیٹے نے عرض کیا۔ اللہ کے بندوں کے درمیان اس کی رحمت ۔ پھر آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ سب سے ٹھنڈی چیز کیا ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ کا لوگوں کو معاف کرنا اور لوگوں کا ایک دوسرے کو معاف کرنا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بیٹا تم نبی ہو۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کے وارث
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ میری طرف سے اپنے بیٹے سلیمان سے سات باتیں پوچھو۔ اور اگر وہ ان کے صحیح جواب دے تو اسے علم اور نبوت کی بشارت دو۔حضرت داﺅد علیہ السلام نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے میر ی طرف وحی فرمائی ہے کہ میں سات باتیں تم سے دریافت کروں ۔ اگر تم مجھے درست جواب دو گے تو مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں علم اور نبوت کا وارث بنا دوں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ ابا جان، میں کوشش کروں گا کہ درست جواب دے کر اپنے آپ کو اس قابل ثابت کروں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بیٹے، یہ بتاﺅ کہ شہد سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے؟ برف سے زیادہ ٹھنڈی چیز کیا ہے؟ریشم سے زیادہ نرم چیز کیا ہے؟ کس چیز کا اثر پانی پر نہیں ہوتا؟ کس چیز کا اثر صفا ( نرم پتھر) پر نہیں پڑتا۔ ؟ کس چیز کا اثر آسمان میں نہیں دکھائی دیتا اور کون ہے جو سر سبزی اور خشک سالی دونوں میں خوش رہتا ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ ابا جان، شہد سے زیادہ میٹھی چیز اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ جو ان مومنوں کو محسوس ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ برف سے زیادہ ٹھنڈی چیز اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو مومنین کے دلوں پر اثر کرتا ہے۔ ریشم سے زیادہ نرم چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جس کے ذریعے مومن بندے ایک دوسرے کو سکھلاتے ہیں۔ کشتی کے گزرنے کا اثر پانی پر دکھائی نہیں دیتا۔ چیونٹی کے گزرنے کا اثر صفا ( نرم پتھر) پر بھی نہیں دکھائی دیتا۔ پرندے کے اڑنے کا اثر آسمان پر دکھائی نہیں دیتا۔ مومن سر سبزی میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور خشک سالی میں صبر کرتا ہے۔ اور دونوں حالت میں اجر کا مستحق ہو کر خوشی محسوس کرتا ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بیٹے ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرا وارث بنا دیا ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے علم کی وسعت
حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت وسیع علم عطا فرمایا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام سے فرمایا۔ اپنے بیتے سلیمان ( علیہ السلام ) سے چودہ باتیں پوچھو۔ اگر درست جواب دے تو اسے علم اور نبوت کا وارث بنا دو۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میرے پیارے بیٹے، مجھے بتا عقل کہاں ہے؟ عرض کیا دماغ میں ہے۔ پھر پوچھا حیاکی جگہ کون سی ہے؟عرض کیا دونوں آنکھیں۔ پھر پوچھا، باطل کی جگہ کون سی ہے؟عرض کیا دونوں کا ن ہیں۔ پھر دریافت فرمایا۔ غلطیوں کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کیا زبان ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے پھر پوچھا۔ روح کا راستہ کون سا ہے؟ عرض کیا ناک کے دونوں نتھنے ہیں۔ پھر پوچھا ، ادب اور بیان کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کیا دونوں گردے ہیں۔ پھر دریافت کیا۔ سختی کی جگہ کون سی ہے۔ عرض کیا جگر ہے۔ پوچھا ،ہوا کہ جگہ کہاں ہے؟ عرض کیا پھیپھڑے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے پھر پوچھا۔ خوشی کی جگہ کہاں ہے؟ عرض کیا تلّی ہے۔ پھر دریافت فرمایا۔ کھانے کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کی دونوں ہاتھ ہیں۔ پھر دریافت فرمایا۔ کھڑے ہونے کا دروازہ کون سا ہے؟ عرض کیا دونوں ٹانگیں۔ پھر پوچھا۔ شہوت کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کیا ،شرم گاہ ہے۔ پھر پوچھا۔ اولاد کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کیا۔ ریڑھ کی ہڈی ہے۔ پھر دریافت فرمایا۔ علم ، سمجھ اور حکمت کی جگہ کون سی ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا دل ہے۔ جب دل درست ہوتا ہے تو جسم کے تمام اعضاءدرست ہو جاتے ہیں۔ اور جب دل خراب ہوتا ہے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بیٹے، اللہ تعالیٰ نے علم اور نبوت میں تمہیں میرا وارث بنا دیا ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو نبوت کے ساتھ ساتھ حکومت سے بھی سرفراز فرمایا تھا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کے دورِ نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل عروج پر آگئے۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دورِ نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل کو جو عروج حاصل ہوا۔ ویسا عروج نہ اس سے پہلے حاصل ہوا اور نہ ہی بعد میں حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ایسی حکومت عطا فرمائی تھی کہ آپ علیہ السلام سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئی اور آپ علیہ السلام کے بعد بھی کسی کو عطا نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت سلیمان علیہ السلام نے دعا کی) اے میرے رب، مجھے بخش دے۔ اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو مجھ سے پہلے یا میرے بعد کسی کو عطا نہ ہو۔ بے شک تو ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔ پس ہم نے ہوا کو اس کے ماتحت کر دیا۔ اور آپ (علیہ السلام ) کے حکم سے جہاں وہ چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی۔ جنات کو بھی اور ہر عمارت بنانے والے کو بھی اور غوطہ خوروں کو بھی( اُن کا ماتحت بنا دیا) اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ ہمارا عطیہ ہے۔ اب تم احسان کرو یا روک رکھو۔ تم پر کچھ حساب نہیں ہے۔ “(سورہ ص ٓ آیت نمبر35سے 39) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت کو بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو انسانوں، جناتوں ، جانوروں ، کیڑوں مکوڑوں ، پرندوں اور یہاں تک کہ ہوا کا بھی حکمراں بنا دیا تھا۔ آپ علیہ السلام ان سب کی باتیں سمجھتے تھے اور حکم دیتے تھے تو یہ سب حکم کی تعمیل کر تے تھے۔ یہ سب عطا فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے فرمایا کہ اب تم ان کے ساتھ کوئی بھی سلوک کرو اس کے بارے میں تم سے کوئی حساب نہیں ہوگا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی تین دعائیں
اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ کی اوپر ذکر کی گئی آیات میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک دعا کا ذکر فرمایا ہے۔ اور وہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک بڑا جنات پچھلی رات بار بار میرے پاس آیا تھا۔ تاکہ میری نماز تڑوا دے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت عطا فرمادی۔ میں نے ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں۔ یہاں تک کہ جب تم صبح آﺅ تو اسے دیکھو۔ لیکن مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی۔ کہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو کسی کو نہیں عطا ہوئی ہو اور نہ ہی میرے بعد عطا ہو۔یہ سوچ کر اسے آزاد کر دیا۔حضرت ابو سعدی خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ السلام نے صبح کی نماز شرو ع کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرا¿ت کی تو قرا¿ت مشکل ہو گئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا۔ کاش، تم مجھے اور ابلیس کو دیکھتے۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کا گلا گھونٹتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کے لعاب کی ٹھنڈک اپنی دو انگلیوں کے درمیان پائی یعنی انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی ۔ اگر حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا خیال نہ ہوتا تو میں اسے مسجد کے ستون سے باندھ دیتا۔ اور صبح مدینہ منورہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس ( اس کا تفصیل سے ذکر انشاءاللہ آگے آئے گا) کی تعمیر مکمل کر لی تو اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دع دعاﺅں کو قبول فرمایا۔ اور ہم امید کرتے ہیں کہ تیری دعا ہمارے لئے ہے۔ انہوں نے پہلی دعا یہ کی تھی ۔ اے اللہ تعالیٰ ، میرا فیصلہ تیرے فیصلے کے مطابق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمالی۔ دوسری دعا میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی حکومت کی التجا کی جو ان کے بعد کسی اور کو نصیب نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول کر لی۔ اور انہوں نے تیسری دعا یہ کی کہ صرف عبادت کی غرض سے جو شخص اس مسجد ( ہیکلِ سلیمانی، بیت المقدس، مسجد اقصیٰ) میں آئے تو اس حال میں نکلے کہ اس کے سارے گناہ معاف ہو چکے ہوں۔ اور وہ اس طرح پاک و صاف ہو چکا ہو جیسا کہ وہ پیدائش کے وقت تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمادی ہے۔
جناتوں پر حکومت
اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ”سلیمان علیہ السلام کے سامنے اُن کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرند میں سے جمع کئے گئے۔ ( ہر ایک قسم کی ) الگ الگ درجہ بندی کر دی گئی “۔ ( سورہ النمل آیت نمبر17) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور جنات کو بھی (حضرت سلیمان علیہ السلام کا ماتحت کر دیا) اور ہر عمارت بنانے والے ( جنات) کو اور غوطہ خور ( جنات ) کو ۔ اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے۔“( سورہ صٓ آیت نمبر37اور 38) اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اسی طرح بہت سے شیاطین بھی ہم نے اس کے ( حضرت سلیمان علیہ السلام کے ) تابع کر دیا جو اس کے فرمان کے مطابق غوطے لگا تے تھے۔ اور دوسرے بھی بہت سے کام کرتے تھے۔ ان کے نگہبان ہم ہی تھے۔ “ ( سورہ الانبیاءآیت نمبر82) اللہ تعالیٰ نے سورہ سبا ءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اس کے ( حضرت سلیمان علیہ السلام کے ) رب کے حکم سے جنات اس کی ماتحتی میں اس کے سامنے کام کرتے تھے۔ اور ان میں جو بھی ہمارے حکم سے سرتابی کر تا تھا تو اسے ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے تھے۔ اور جو کچھ سلیمان چاہتے تھے وہ جنات تیار کر دیتے تھے۔ مثلاً قلعے، مجسمے، حوضو ں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں۔ اے آلِ داﺅد ، اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو۔ میرے بندوں میں سے شکر گذار بندے کم ہی ہوتے ہیں۔“ ( سورہ سبا آیت نمبر12اور 13) مولانا عاشق الہٰی مہاجر مدنی انوارا لبیان میں لکھتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسا اقتدار عطا فرمایا تھا کہ جس کے ذریعے شیاطین سے کام لیتے تھے۔ ان سے عمارتیں بنواتے تھے۔ اور سمندر میں غوطے بھی لگواتے تھے۔ اور بڑے بڑے ( تانبے کے ) برتن بنواتے تھے۔ جو تالابوں کے برابر ہوتے تھے اور بڑی بڑی ہانڈیاں دیگیں بنواتے تھے جو زمین پر رہتی تھیں۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام حکومت کے وارث ہوئے اور یہ حکومت صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ ان کی حکومت جنات اور حوش و طیور سب پر تھی۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے مسخر فرما دیا تھا۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے انیس 19بیٹے تھے۔ جن میںحضرت سلیمان علیہ السلام سب سے چھوٹے تھے۔ تمام اولاد میں صرف حضرت سلیمان علیہ السلام ہی ان کے علم کے وارث تھے۔ وقت کے عظیم نبی اور عالیشان حکومت و سلطنت کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ہم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو حضرت داﺅد علیہ السلام کاوارث بنا یا۔ اس سے مرا د ” وراثت علم“ہے۔ مال و دولت کی وراثت نہیں ہے۔ کیوں کہ انبیائے کرام کی وراثت مال و دولت نہیں ہوتی ہے۔ رسول اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ انبیائے کرام نہ کسی کے وارث ہوتے ہیں ۔ اور نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے۔
ہوا پر حکومت
اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” ہم نے تیز و تند ہوا کو سلیمان (علیہ السلام ) کے تابع کر دیا۔ جو اس کے فرمان کے مطابق اُس زمین کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت دے رکھی تھی۔ اور ہم ہر چیز سے با خبر اور دانا ہیں۔“( سورہ الانبیاءآیت نمبر81) اللہ تعالیٰ نے سورہ سباءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا کو مسخر کر دیا کہ صبح کی منزل اس کی ایک مہینہ بھر کی ( مسافت) ہوتی تھی۔ اور شام کی منزل بھی۔“(سورہ سباءآیت نمبر12) اللہ تعالیٰ نے سورہ صٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ”پس ہم نے ہوا کو ان کی ماتحت کر دیا۔ وہ آپ (علیہ السلام )کے حکم سے جہاں آپ (علیہ السلام )چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی۔“(سورہ ص ٓ آیت نمبر 36) ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر اپنا خصوصی فضل یہ فرمایا کہ ہوا کو بھی آپ علیہ السلام کا ماتحت کر دیا۔ آپ علیہ السلام کے حکم کے مطابق نرم ہوا، گرم ہوا، سرد ہوا، دھیمی ہوا، تیز ہوا اور آندھی اور طوفانی ہوا چلتی تھی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام دمشق سے صبح روانہ ہوتے تھے اور اصطفر میں اترتے تھے۔ یہاں تک کہ دوپہر کا کھانا تناول فرماتے تھے۔ اور پھر سفر شروع کرتے تھے تو رات کابل میں بسر کرتے تھے۔ دمشق سے اصطفر کے درمیان کی مسافت اور اسی طرح اصطفر سے کابل کی مسافت ایک مہینے کی ہے۔ میں (ابن کثیر) کہتا ہوں کہ عمرانیات کے علماءنے لکھا ہے کہ اصطفر کی تعمیر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خاطر جناتوں نے کی تھی۔ پہلے اسی کے شہر ترک میں آپ علیہ السلام کا دارالحکومت تھا۔ اس کے علاوہ دوسرے کئی شہر بھی تھے۔ مثلاً تدمر، بیت المقدس، باب حبرون اور باب برید۔ ایک قول کے مطابق آخری دونوں شہر دمشق میں تھے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نہایت عاجزی کے ساتھ درخواست پیش کی۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے ایک ایسی حکومت و سلطنت عطا فرما جو اس سے پہلے کسی کو نہ دی گئی ہو اورنہ ہی آئندہ دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی دعا قبول کر کے ایسی سلطنت عطا فرمائی جو پہلے کسی کو نہیں عطا فرمائی تھی اور آئندہ بھی کسی کو عطا نہیں فرمائی۔ ہوا کو آپ علیہ السلام کے تابع کر دیا۔ طوفانی ہوا جب ان کے تخت کو لے کر اڑتی تو اس تخت پر بیٹھنے والوں کے لئے ایسی نرم اور خوشگوار رفتار سے چلنے والی ہوتی تھی کہ بیٹھنے والوں کو اس کی برق رفتاری کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔
جانوروں اور پرندوں پر حکومت
اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور داﺅد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے۔ اور فرمایا۔ لوگو، ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ اور ہم سب کچھ دیئے گئے ہیں۔ بے شک یہ بالکل کھلا ہو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ ( سورہ النمل آیت نمبر16) اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا ، جناتوں کے ساتھ ساتھ جانوروں ، پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کو بھی مسخر فرما دیا تھا۔ یہ سب آپ علیہ السلام کا حکم مانتے تھے۔ چرندوں ، پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں میں اتنا شعور ہے کہ وہ جس کے لئے مسخر کر دیئے جائیں تو وہ اس کے حکم کو سمجھیں اور اس کا حکم مانیں۔ ہر ایک کے احوال کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انہیں شعور عطا فرمایا ہے۔ جانور اس کو سمجھتے ہیں کہ ہمارا کو ن دشمن ہے۔ آدمی پتھر اٹھائے تو کوّا اور کتّا دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔ چھپکلی ادھر ادھر چھپ جاتی ہے۔ چیونٹی کیقوت شامہ ( سونگھنے کی قوت) اتنی تیز ہوتی ہے کہ ذرا سا میٹھا گرے تو وہ فوراً وہاں حاضر ہو جاتی ہے۔ علامہ عبدالرزاق بھتراولی لکھتے ہیں۔ یہ تو ہم روز مرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ پرندے ضرور اپنی اپنی بولیاں بولتے ہیں۔ ایک دوسرے سے لڑتے وقت ان کے بولنے کا انداز الگ ہوتا ہے۔ اور ایک دوسرے سے محبت کرتے وقت اُن کی گفتگو کا انداز الگ ہوتا ہے۔ جب کوئی درندہ یا شکاری حملہ کر تا ہے تو ان کے کلام کی نوعیت الگ ہوتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی بولیاں صرف چیخ و پکار یا شور و غل نہیں ہوتی ہیں۔ بلکہ ان میں کچھ مطالب اور مقاصد ہوتے ہیں۔ جنہیں وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولیاں سمجھنے کی قوت عطا فرمائی تھی۔ اسی لئے آپ علیہ السلام سمجھ لیا کرتے تھے کہ یہ کہا کہہ رہے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام فرماتے ہیں ۔مور کی تسبیح ہے جیسا کرو گے ویسا بھروگے۔ ہد ہد کی تسبیح ہے۔ اے گنہگارو، اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو۔ خطاف ( لمبے بازوﺅں والال چھوٹے پاﺅں والا، سیاہ رنگ کا پرندہ) کی تسبیح ہے۔ نیکی کے کام کرو تا کہ آگے جزا پاﺅ۔ قمری کی تسبیح ہے۔ سبحان ری الاعلیٰ۔ چیل کی تسبیح ہے۔ رب کے علاوہ ہر چیز فانی ہے۔ بھٹ تیتر کی تسبیح ہے۔ جو خاموش رہا وہ سلامتی میں رہا۔ مرغ کی تسبیح ہے۔ اے غافلو ، اللہ تعالیٰ کو یاد کرو ۔ گدھ کی تسبیح ہے اے انسان جتنا بھی زندہ رہنا ہے رہ لے۔ آخر تجھے موت آنی ہے۔ عقاب کی تسبیح ہے۔ لوگوں سے دور رہنے میں انس ہے۔ مینڈک کی تسبیح ہے۔ سبحان ربی القدوس۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی اسلامی حکومت
حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت وسیع حکومت اور سلطنت عطا فرمائی تھی۔ آپ علیہ السلام کا دورِ نبوت اور حکومت بنی اسرائیل کے لئے سب سے سنہرا اور عروج کا دور تھا۔ پورے علاقے میں اسلامی حکومت قائم تھی۔ اور اس وقت بنی اسرائیل دنیا کی واحد مسلم قوم تھے۔ آس پاس کے تمام علاقوں کی مشرک قوموں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی برتری کو تسلیم کر لیا تھا۔ اور تمام مشرک قومیں آپ علیہ السلام کو خراج ادا کر تی تھیں۔ اور اسلامی حکومت کی ماتحتی میں رہتی تھیں۔ تمام بنی اسرائیل انتہائی امیر اور خوش حال تھے۔ اور اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت دنیا کی سوپر پاور تھی۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت آسٹریلیا، انڈونیشیاء، نیوزی لینڈ اور امریکہ دریافت نہیں ہوئے تھے۔ اور پوری دنیا ایشیاء، افریقہ اور یورپ پر مشتمل تھی) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام بڑے جنگجو آدمی تھے۔ وہ زمین کے جس حصے میں بھی دشمن کے آنے کی خبر پاتے تھے وہاں لشکر لے کر پہنچ جاتے تھے۔ اور حملہ کر کے دشمن کو شکست دے دیتے تھے۔ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام جنگ کا ارادہ کرتے تھے تو آپ علیہ السلام کے لئے لکڑیاں گاڑی جاتی تھیں۔ پھر ان پر آپ علیہ السلام کا تخت رکھ دیا جاتا تھا۔ پھر انسانوں اور جناتوں اور جنگی سامان کو سوار کیا جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام کی کرسی درمیان میں ہوتی تھی ۔ جب تمام مطلوبہ سامان سوار ہو جاتا تو آپ علیہ السلام اپنی کرسی پر تشریف فرما ہو کر ہو اکو حکم دیتے تھے تو وہ اس تخت کو اٹھا کر لے کر چلتی تھی اور یہ تخت صبح سے دوپہر تک ایک مہینے کی مسافت اور دوپہر سے شام تک ایک مہینے کی مسافت طے کر تا تھا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک بہت بڑا تخت بنوایا تھا۔ آپ علیہ السلام کے تخت کے بارے میں بڑی عجیب عجیب روایتیں ہیں کہ وہ اتنا بڑا اور اتنا بڑا ہے۔ کسی روایت میں سو میل لمبا چوڑا اور کسی روایت میں سوفر سخ لمبا چوڑا ذکر ہوا ہے۔ یہ نا قابل یقین لگتا ہے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ ہاں یہ بات دل قبول کرتا ہے کہ تخت اتنا بڑا ضرورتھا کہ آپ علیہ السلام کم سے کم دس ہزار کا لشکر اس پر لے کر جا سکتے تھے۔ تخت کو رکھنے کے لئے آپ علیہ السلام نے بہت سی لکڑیاں یعنی شہتیروں عین کھمبوں کو گڑوایا ہوا تھا۔ جس پر ایک بہت بڑے اور اونچے پلیٹ فارم کی طرح یہ تخت رکھا ہوا رہتا تھا۔ اور اکثر اسی پر آپ علیہ السلام اپنا دربار بھی منعقد فرماتے تھے۔ اور حکومت کے فیصلے بھی کرتے تھے۔ عوام کی فریاد سنتے تھے اور ان کی ضرورت کے مطابق مدد اور فیصلے کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت پر چھ سو 600کرسیاں رکھی جاتی تھیں۔ جن پر انسانوں اور جناتوں میں سے معززین اور عہدے دار بیٹھتے تھے۔ ان کے علاوہ تخت پر دس ہزار سپاہیوں ، ان کے جنگی لباس اور ہتھیار اور خیمے رکھنے کی جگہ ہوتی تھی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا سفر کرنے کا طریقہ
حضرت سلیمان علیہ السلام جب سفر کا ارادہ فرماتے تو سب سے پہلے آپ علیہ السلام کے لئے تخت پر کرسی رکھی جاتی تھی۔ پھر معززین ، سپہ سالاروں ، درباریوں اور علمائے کرام کے لئے کرسیاں لگائی جاتیں۔ اگر آپ علیہ السلام کا ارادہ عام سفر کا ہوتا تھا تو صرف مخصوص لوگوں کو ہی سوار کیا جاتا تھا۔ اور اگر جنگ کے لئے جانا ہوتا تھا تو حکومتی عہدیداران کے علاوہ سپاہیوں اور گھوڑوں کو بھی سوار کیا جاتا تھا۔ پھر پرندے آکر تخت پر سایہ کر دیتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام تخت پر آکر اپنی کرسی پر تشریف فرما ہوتے تھے ۔ پھر انسانوں اور جناتوں اور جن کو آپ علیہ السلام حکم دیتے تھے وہ سب تخت پر سوار ہو کر اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ جاتے تھے۔ ھد ھد کو آپ علیہ السلام ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اور وہ تخت کے آگے آگے اڑتا رہتا تھا۔ اس کا کام پانی کی تلاش کا تھا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ ھد ھد زمین کے اندر جمع پانی کے ذخیرے کو دیکھ لیتا ہے۔ جب تمام لوگ سوار ہو جاتے تھے تو آپ علیہ السلام ہوا کو حکم دیتے تھے ۔ اور ہوا تخت کو اٹھا لیتی تھی۔ اور جس طرف آپ علیہ السلام حکم دیتے تھے اس طرف لے جاتی تھی۔ اس تخت کی رفتار آپ علیہ السلام اپنی ضرورت کے مطابق رکھتے تھے۔ اگر آرام سے چلنا ہوتا تھا تو بادِ صبا کو حکم دیتے تھے۔ اور وہ آرام سے لے کر چلتی رہتی تھی۔ اور اگر تیز چلنا ہوتا تھا تو آندھی کو حکم دیتے تھے اور وہ تیزی سے تخت کو لے کر چلتی تھی ۔ لیکن تخت پر بیٹھے لوگوں کو محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ آندھی پر سوار ہیں۔ اور زمین والوں کو بھی اس تیزی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ اگر آپ علیہ السلام کا تخت کسی کھیت کی تیار فصل پر سے گزرتا تھا تو اس فصل پر صرف اتنا اثر ہوتا تھا جتنا عام طور سے نارمل ہوا سے ہوتا ہے۔ اور فصل لہلہانے لگتی تھی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام پر ایک اور فضل
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو بہت سی فضیلتیں عطا فرمائی تھیں۔ اور آپ علیہ السلام ان کا بالکل درست استعمال کرتے تھے۔ اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرتے رہتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی سرپرستی میں بنی اسرائیل نے بہت عروج حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ بھی آپ علیہ السلام سے بہت خوش تھے۔ اور وقتا فوقتا آپ علیہ السلام پر اپنا فضل فرماتے رہتے تھے۔ اسی طرح ایک مرتبہ آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی بھیجی اور فرمایا ۔ اے سلیمان (علیہ السلام )میں نے تیری حکومت میں اور اضافہ کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ تو دور نزدیک کی ہر مخلوق کی آواز سنے گا اور ان کی بات سمجھے گا۔ اور ان کی آواز تم تک ہوا لے کر آئے گی۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اپنی حکومت کے ہر علاقے کی ہر مخلوق سے بات کی اور ان میں سے ایک کو ان کا سردار مقرر فرمایا۔ اس طرح آپ علیہ السلام نے ہر مخلوق کا ایک سردار مقرر کر دیا اور حکم دیا کہ جب بھی ضرورت ہو مجھ سے آکر مل لیا کرنا اور رپورٹ دیا کرنا۔ اس کے علاوہ آپ علیہ السلام جہاں بھی جاتے تھے وہاں کی تمام مخلوق سے باتیں کرتے تھے۔ اور ان کے حالات سے باخبر رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” سلیمان (علیہ السلام )کے سامنے ان کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرند میں سے جمع کئے گئے اور الگ الگ درجہ بندی کر دی گئی۔ “( سورہ النمل آیت نمبر17)
چیونٹی کا ساتھیوں کو ہوشیار کرنا
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کوجو خصوصی فضیلت عطا فرمائی تھی وہ ایک طرح سے آپ علیہ السلام کی آزمائش تھی کہ آپ علیہ السلام فخر کرتے ہیں یا شکر ادا کرتے ہیں۔ تا کہ آپ علیہ السلام اس آزمائش میں کامیاب ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کا مرتبہ اور بلند فرما دیں اور ایک واقعہ سے آپ علیہ السلام کی آزمائش ہوئی۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب وہ چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔ اے چیونٹیوں ، اپنے اپنے گھروں میں گھس جاﺅ۔ ایسا نہ ہو کہ بے خبری میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر تمہیں روند ڈالے۔ اس کی یہ بات سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام مسکرا کر ہنس دیئے۔ اور دعا کرنے لگے۔ اے میرے رب ، اللہ تعالیٰ ، تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر اد ا کر سکوں جو تو نے مجھے انعام کے طور پر عطا فرمائی ہے۔ اور میرے ماں باپ کو بھی عطا فرمائی ہے۔ اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جن سے تو خوش رہے۔ اور مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کرلے۔ “( سورہ النمل آیت نمبر18سے 19تک) ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے درباریوں اور لشکر کے ساتھ تخت پر سوار ہوئے اور بادِ صبا کو حکم دیا کہ تخت کو اٹھا کرلے چلے۔ آپ علیہ السلام سیر کرنے اور اپنی حکومت کا جائزہ لینے کے لئے نکلے ۔ یہ آپ علیہ السلام کا قاعدہ تھاکہ اکثر آپ علیہ السلام دورے پر نکلتے تھے۔ اور رعایا کی ضرورتوں کو سمجھتے کی کوشش کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام جہاں سے بھی گزرتے تھے وہاں کی رعایا کے احوال سنتے جاتے تھے اور پھر انکی ضرورتوں کے مطابق ان کے مسائل حل کرتے تھے۔ اسی طرح اس دن بھی آپ علیہ السلام ”وادی نمل “ چیونٹیوں کی وادی سے گزرے تو ایک چیونٹی کی آواز سن کر چونک پڑے۔ چیونٹیوں کا سردار تمام چیونٹیوں کو اندر داخل ہونے کا حکم دے رہا تھا۔
اللہ کا شکر ادا کیا
حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسی مملکت اور سلطنت عطا فرمائی تھی کہ نہ تو آپ علیہ السلام سے پہلے کسی کو عطا ہوئی اور نہ ہی آپ علیہ السلام کے بعد کسی کو عطا ہوئی۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے زبردست لشکر کے ساتھ جا رہے تھے کہ آپ علیہ السلام کے کان میں ایک چیونٹی کی آواز پڑ گئی۔ جو اپنے ساتھیوں سے کہہ رہی تھی کہ تم جلدی سے اپنے بلوں میں گھس جاﺅ کیونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر آرہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لشکر تمہیں اپنے پاﺅں سے روند ڈالے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔ آپ علیہ السلام اس چھوٹے سے جانور کی بات سن کر مسکرا پڑے اور بے ساختہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک گئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں چند باتوں کو ارشاد فرمایا ہے۔ پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو بھی حکومت عطا فرمائی تھی۔ لیکن وہ اس قوت و طاقت اور حکومت کو اپنا ذاتی کمال سمجھ بیٹھا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگا۔ اس نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اپنے آپ کو نعوذ باللہ رب کہلوانے لگا۔ اور لوگوں کو اپنے سامنے جھکانا شروع کر دیا۔ اس کے بر خلاف جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو فرعون سے بھی زیادہ زبردست قوت و طاقت ، حکومت اور سلطنت عطا فرمائی تھی لیکن انہوں نے اس کو اپنا ذاتی کمال نہیں سمجھا بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش سمجھا۔ اسی لئے ہر وقت وہ ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ اتنی بڑی سلطنت اور حکومت ملنے کے باوجود حضرت داﺅد علیہ السلام لوہے کی زرہیں بنا کر اور حضرت سلیمان علیہ السلام ٹوکریاں بنا کر اپنی گزر اوقات کرتے تھے۔ یہ وہ ہاتھ کی کمائی تھی جو انسان کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ انسان کا بہترین رزق اس کے ہاتھ کی کمائی ہے۔ بے شک حضرت داﺅد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے محنت کرتے تھے۔
آزمائش میں کامیاب
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے مرتبے بلند کرنے کے لئے انہیں وقتاً فوقتاً آزماتا ہے۔ اور جس بندے کا ایمان جتنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے اس پر ویسی ہی آزمائش آتی ہے۔ تمام مخلوق میں سب سے معزز اور افضل انبیائے کرام علیہم السلام ہیں ۔ اور انبیائے کرام علیہم السلام میں سے سب سے افضل ہمارے پیارے رسول سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ آزمائش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام آذمائشوں میں کامیاب ہوئے۔ اور اللہ تعالیٰ جنت میں سب سے اعلیٰ مقام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی آزمایا۔ اور جب آپ علیہ السلام نے چیونٹی کی آواز سنی تو مسکرا پرے لیکن جب غور و فکر کیا تو آپ علیہ السلام کو سمجھ میں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی سلطنت اور حکومت سے نواز ا ہے جو بے مثال ہے۔ اس کے باوجود مجھے یہ نہیں معلوم کہ میرے راستے میں چیونٹی ہے۔ لیکن چیونٹی کو معلوم ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر آرہا ہے۔ اور سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ جسے بھی جو بھی چاہے عطا فرما سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک چیونٹی کو بھی بہت کچھ عطا فرما سکتا ہے۔ فوراً آپ علیہ السلام عاجزی اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو گئے۔ اور اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرنے لگے۔ اور دعا کرنے لگے کہ اے اللہ تعالیٰ ، مجھے اس لائق بنا کہ میں تیری عنایت کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرسکوں ۔ اور مجھے ایسے اعمال کرنے کی توفیق دے جن سے تو راضی ہو جائے اور مجھ پر رحمت فرما کہ مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کر لے۔ اس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے عاجزی اختیار کی اور آزمائش میں کامیاب ہو گئے۔
ھُد ھُد کی غیر حاضری
اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” آپ (علیہ السلام ) نے پرندوں کی دیکھ بھال کی اور فرمانے لگے۔ یہ کیا بات ہے کہ ہد ہد دکھائی نہیں دے رہا ہے؟ کیا واقعی وہ غیر حاضر ہے؟ یقینا میں اسے سخت سزاد وں گا۔ یا اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ یا پھر میرے سامنے وہ ( اپنی غیر حاضری کی ) صحیح اور صریح دلیل پیش کرے۔“( سورہ النمل آیت نمبر20اور 21)حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک سفر کا ارادہ فرمایا اور تمام لوگوں کو حاضر ہونے کا حکم دیا۔ تخت بچھا کر سب سامان رکھ دیا گیا۔ اور تمام مخلوق حاضر ہو گئی ۔ آپ علیہ السلام بھی اپنی کرسی پر تشریف فرما ہو گئے اور تمام لوگ اپنی اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ اور ہوا بھی انتظا رمیں ہو گئی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام حکم دیں اور میں تخت کو اٹھا کر لے چلوں۔ تمام پرندے بھی آگئے۔ لیکن ھُد ھُد نہیں آیا۔ آپ علیہ السلام کا یہ قاعدہ تھا کہ ہر سفر میں ھُد ھُد کو ساتھ رکھتے تھے۔ اور اس کا کام پانی کی تلاش کرنا رہتا تھا۔ کیوں کہ صحرا میں دور دور تک پانی کا نام و نشان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ھُد ھُد کو ایسی آنکھ اور ایسی صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ وہ اڑتے ہوئے بھی زمین کے اندر پانی کو دیکھ لیتا ہے۔ سب تیار بیٹھے تھے۔ جب کافی دیر گزر گئی اور ھد ھد نہیں آیا تو آپ علیہ السلام نے سفر منسوخ کردیا اور فرمایا۔ اگر اس نے اپنے غائب ہونے کی معقول وجہ نہیں بتائی تو میں اسے سخت سزاد وں گا۔ اتنے میں ھد ھد آگیا۔
ھُد ھُد کی تلاش کیوں
حضرت سلیمان علیہ السلام ھُد ھُد کے انتظار میں تھے ۔ آخر آپ علیہ السلام ھدھد کی تلاش کیوں کرنے لگے۔ علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے ہیں۔ کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ آپ علیہ السلام نے ہد ہد کو اس لئے طلب فرمایا تھا کیوں کہ آپ علیہ السلام کو پانی کی معرفت کی ضرورت پڑ گئی تھی کہ وہ زمین کے اندر کہاں ہے؟ یہ اس لئے ہوا کہ آپ علیہ السلام نے ایسے جنگل میں پڑاﺅ ڈالا تھاجہاں پانی نہیںتھا۔ اور ھد ھد زمین کے ظاہر اور اس کے باطن ( اندر ) دیکھ لیتا ہے۔ کہ کہاں کتنا نیچے پانی ہے۔ اور وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو پانی کی جگہ سے آگاہ کر دیا کرتا تھا۔ پھر جنات تھوڑے ہی وقت میں پانی نکال لیا کرتے تھے۔ وہ روئے زمین کو یوں الگ کر لیتے تھے جیسے بکری کو چمڑا اتار ا جاتا ہے۔ (یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ھد ھد کی نشاندہی پر جنات وہاں کنواں کھود دیتے تھے) یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے جو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ھد ھد کا ہی کیوں پوچھا۔ تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ پانی کی ضرورت تھی اور آپ علیہ السلام نہیں جانتے تھے کہ پانی کہاں کم گہرائی میں ہے۔ جب کہ ھد ھد زمین کے اندر پانی کو دیکھ کر بتا دیتا تھا کہ یہاں پانی کم گہرائی میں ہے۔ اسی لئے ھد ھد کو تلاش کیا۔
ملکۂ سبا ( بلقیس) کی خبر
اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” کچھ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ آکر اس نے (ھد ھد نے) کہا۔ میں ایک ایسی خبر لے کر آیا ہوں جس کی آپ (علیہ السلام )کو خبر ہی نہیں ہے۔ ( یا جسے سن کر آپ علیہ السلام حیران ہو جائیں گے) میں ملک سبا کی ایک سچی خبر لے کر آیا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ اُن کی بادشاہت ایک عورت کر رہی ہے۔جسے ہر قسم کی چیز ( نعمتوں) سے کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے۔ اور اس کا تخت بھی بڑی عظمت والا ہے۔ میں نے اسے اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہوئے پایا ہے ۔ شیطان نے اُن کے کام انہیں بھلے کر کے دکھلا کر صحیح راہ سے روک دیا ہے۔ پس وہ ہدایت پر نہیں ہیں۔ کہ اسی اللہ کو سجدہ کریں جو آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو باہر نکالتا ہے۔ اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو وہ سب کچھ جانتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ وہی عظمت والے عرش کا مالک ہے۔“(سورہ النمل آیت نمبر22سے 25تک) حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں کچھ دیر بعد ھد ھد آگیا۔ اور اس نے اپنے غائب رہنے کی وجہ یہ بتائی کہ میں اتفاق سے ایک ایسے علاقے میں پہنچ گیا جو ملک سبا کہلاتا ہے۔ وہاں میں نے دیکھا ایک عورت وہاں حکمراں ہے اور وہاں کے لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے ہیں بلکہ سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کی ہر نعمت عطا فرمائی ہے۔ لیکن شیطان ابلیس نے انہیں ورغلا کر انہیں شرک میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور وہ لاعلمی میں اپنے اعمال کو صحیح سمجھ رہے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔
ملکۂ سبا ( بلقیس) کا تعارف
حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر ھد ھد نے ملکہ سبا اور اس کی قوم کے شرک کے بارے میں خبر دی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اور وہ یہ خبر ہے کہ ملک سبا میں ایک عورت ہے جو بادشاہت کر رہی ہے۔ اسے دنیا کی ہر نعمت میسر ہے اور ساتھ ساتھ وہ ایک عظیم تخت کی مالک ہے۔ ھد ھد نے یمن کے علاقوں میں سے ایک علاقے کی ملکہ ، اس کے وزراءاور اعیانِ حکومت کے بارے میں تمام تفصیلات بتائیں۔ یہ بھی بتایا کہ بادشاہ کی چونکہ نرینہ اولاد نہیں تھی۔ اسی لئے اس کے انتقال کے بعد اس کی بیٹی کو وہاں کی عوام نے اپنا بادشاہ مقرر کر دیا ہے۔ اور وہ باپ کے تاج کی وارث قرار پائی ہے۔ یہ عورت بلقیس بنت سیرح تھی۔ سیرح کا اصل نام ھد ھاد تھا۔ ایک روایت میں اس کا نام سراحیل بن زی جدن بن سیرح بن حارث بن قیس بن صیفی بن سبا بن یشحب بن یعرب بن قحطان تھا۔ بلقیس کا باپ بہت بڑا بادشاہ تھا۔ اس نے یمن کی کسی بھی عورت سے نکاح کر نے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک عورت سے شادی کی جس کا تعلق جنات کی نسل سے تھا۔ اور اس کا نام ریحانہ بنت سکن تھا۔ اسی کے بطن سے بلقیس پیدا ہوئی۔ اس بچی کا نام تنقمہ رکھا گیا اور اسے بلقیس کہتے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بلقیس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”وہ قوم ہر گز فلاح نہیں پائے گی جنہوں نے عورت کو حکمراں بنا دیا۔“ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ سبا ایک شہر کا نام ہے جو مآرب کے نام سے معروف تھا۔ یہ یمن میں واقع ہے۔ اس کے اور صنعا کے درمیان تین دن کی مسافت ہے۔ اس عورت کا نام بلقیس بنت شراحیل تھا۔ جو اہل سبا کی ملکہ تھی۔
ملکۂ سبا کا تخت
حضرت سلیمان علیہ السلام کو ھد ھد نے بتایا کہ ملکہ سبا کا تخت بہت شاندار ، انواع و اقسام کے لعل و جواہر سے مرصع ہے۔ اور بڑے قیمتی اور نایاب زیورات سے سجا ہوا ہے۔ علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اس کے تخت کی لمبائی اسّی 80ہاتھ تھی۔ اور چوڑائی چالیس 40ہاتھ تھی۔ اور اونچائی تیس 30ہاتھ تھی۔ جس پر موتیوں ،سرخ یاقوت اور سر سبز جد کا تاج تھا۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا کے تحت کے پائے موتیوں اور جواہرات کے تھے۔ اس پر دیباج (ریشم کی ایک قسم ) اور حریر کے پردے تھے۔ اس کے سات تالے تھے۔ یعنی وہ سات کمروں کے اندر رکھا جاتا تھا۔ حضرت مقاتل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ تخت اسّی80ہاتھ لمبا ، اسّی ہاتھ چوڑا ، اسّی 80ہاتھ اونچا تھا۔ اس میں جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا کی خدمت گار عورتیں تھیں۔ اور ان کی تعداد چھ سو600تھی۔ امام ابن عطیہ کہتے ہیں کہ وہ ملک یمن کے شہروں کی ملکہ تھی۔ اس کی حکومت عظیم تھی۔ اس کا تخت عظیم تھا۔اور وہ ایک کافر قوم کی کافر ملکہ تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ قوم زنادقہ تھی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط
اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” سلیمان (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا ہے یا جھوٹ کہا ہے۔ میرے اس خط کو لے جا کر اسے دیدے۔ پھراس کے پاس سے ہٹ آ۔ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں؟“(سورہ نمل آیت نمبر27اور 28) حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب ھد ھد سے ملکہ سبا ( بلقیس اور اس کی قوم کے شرک کے بارے میں سنا تو فرمایا۔ ٹھیک ہے ہم اس معاملے کی پوری تحقیق کریں گے۔ اس کے بعد ایک خط لکھوایا۔ اور ھد ھد کو دے کر فرمایا۔ تم یہ خط لے کر ملکہ سبا کے پاس جاﺅ اور اسے دو۔ اس کے دیکھو کہ وہ کیا کرتی ہے۔ اور اس کی مشرک قوم کیا کہتی ہے۔ اس کی پوری رپورٹ آکر ہمیں بتاﺅ۔ ھد ھد آپ علیہ السلام کا خط لے کر ملکہ سبا کی خواب گاہ میں گیا اور اس کی گود میں ڈال دیا۔ اور باغ کے ایک درخت پر بیٹھ گیا۔ ملکہ سبا نے حیرت سے خط کو دیکھا اور ھد ھد کو دیکھا۔ خط پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی مہر لگی ہوئی تھی۔ اس نے خط کھولا اور پڑھنے لگی۔ خط پڑھنے کے بعد بہت دیر تک غورو فکر میں ڈوبی رہی۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ ھد ھد جب ملکہ سبا کے محل میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ بلقیس اپنی خواب گاہ میں ہے۔ اور اندر جانے کے تمام راستے بند تھے۔ محل کے اندر اور باہر چاروں طرف زبردست پہرہ تھا۔ ھد ھد پہریداروں کو چکمہ دے کر محل کے اندر پہنچا اور روشن دان کے ذریعے خواب گاہ میں داخل ہوا۔ اور خط ملکہ بلقیس پر پھینک دیا۔ وہ اس وقت سوئی ہوئی تھی ۔ اس نے وہ روشن دان اس لئے بنوایا تھا تا کہ سورج کے طلوع ہونے کے وقت روشنی اس سے داخل ہو اور وہ سورج کی عبادت کر سکے۔ جب وہ بیدار ہوئی تو اس خط کو پایا۔خط دیکھ کر وہ خوف زدہ ہو گئی۔ اسے گمان ہو ا کہ کوئی اس کے کمرے میں داخل ہوا ہے۔ پھر اس نے جائزہ لیا اور ہر طرف دیکھنے کے بعد روشن دان کی طرف دیکھا تو اسے ھد ھد نظر آیا اور وہ سمجھ گئی کہ یہی وہ قاصد ہے ۔ اس نے خط پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی مہر لگی ہوئی دیکھی تو کانپ گئی۔ کیوں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت اور طاقت سے ہر حکمراں واقف تھے۔ اس نے خط پڑھا اور کافی غورو فکر کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ میری حکومت کے ذمہ داران سے مشورہ کر نا چاہیے۔
ایک عظمت والا خط آیا ہے
اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” وہ ( ملکہ سبا ) کہنے لگی۔ اے سردار، میری طرف ایک عظمت والا باوقعت خط آیا ہے۔ جو سلیمان (علیہ السلام )کی طرف سے ہے۔ جو بخشش کرنے والے مہربان اللہ کے نام سے شروع ہوا ہے۔ ( یعنی اس کا مضمون اس طرح شروع ہوا ہے کہ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے لکھا ہے کہ ) یہ کہ تم میرے سامنے سر کشی نہ کرو اور مسلمان بن کر میرے پاس آﺅ۔ اس نے ( ملکہ سبا نے آگے ) کہا۔ اے میرے سردارو، تم میرے معاملے میں مجھے مشورہ دو۔ میں کسی بھی اہم کام کا فیصلہ تمہاری موجودگی اور رائے کے بغیر نہیں کرتی ہوں۔ ان سب نے جواب دیا کہ ہم طاقت اور قوت والے اور سخت لڑنے بھڑنے والے ہیں۔ آگے آپ کو اختیار ہے۔ آپ خود سوچ سمجھ لیں کہ ہمیں کیا حکم فرماتی ہیں۔ اس نے ( ملکہ سبا نے ) کہا کہ بادشاہ جب کسی بستی میں گھستے ہیں تو اسے اجاڑ دیتے ہیں۔ اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے۔ میں انہیں ہدیہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھوں گی کہ قاصد کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔ “(سورہ النمل آیت نمبر 29سے 35تک)
ملکۂ سبا کو اسلام کی دعوت
حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط پڑھ کر ملکہ ¿ سبا بلقیس نے کافی دیر تک غور و فکر کیا۔ پھر اس نے دربار لگانے کا حکم دیا۔ جب سب درباری اور امراءاور وزراءاور سپہ سالار حاضر ہو گئے تو اس نے کہا۔ میرے پاس ایک بادشاہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے بہت عزت والا اور عظمت والا خط آیا ہے۔ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اور اللہ نے انہیں بادشاہ مقرر کیا ہے۔ انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت مہربان اور بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اور تمہاری قوم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہو۔ اس کے بعد ملکہ سبا نے آگے خط پڑھ کر سنایا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام آگے لکھتے ہیں کہ میں تمہیں اور تمہاری قوم کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر کشی اختیار مت کرو۔ اور غرور اور تکبر نہیں کرتے ہوئے دوسروں کی عبادت چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بن کر میرے پاس چلے آﺅ۔ اور اگر تم اور تمہاری قوم ایسا نہیں کریں گے تو پھر مجھ سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاﺅ ۔ خط مکمل ہونے کے بعد ملکہ سبا بلقیس سے کہا۔ اے میرے درباریو، وزیروں اور سپہ سالارو ، مجھے اس بارے میں مشورہ دو کہ میں کیا کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اگر حضرت سلیمان علیہ السلام جنگ کی دعوت دے رہے ہیں تو ہم بھی بڑے طاقت ور اور جنگجو ہیں اور جنگ کے لئے تیار ہیں۔ بہر حال آخری فیصلہ تو تمہیں ہی کرنا ہے۔ اس لئے تم جو بھی حکم دو گی ہم اس پر عمل کریں گے۔ ملکہ سبا نے کہا۔ جب جنگ ہوتی ہے تو دونوں طرف کے سپاہی مارے جاتے ہیں۔ اور نقصان فاتح اور مفتوح دونوں کا ہوتا ہے۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کے بارے میں مشہور ہے کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جناتوں پر بھی ان کی حکومت ہے۔ اور غالب گمان ہے کہ فتح ان کی ہی ہوگی۔
خط کس زبان میں تھا
حضرت سلیمان علیہ السلام عبرانی زبان بولتے تھے۔ اور بنی اسرائیل کی زبان بھی عبرانی تھی۔ ایک روایت میں سریانی زبان کا بھی آیا ہے۔ ایک غالب گمان یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو بہت ساری زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جناتوں، جانوروں ، پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کی زبان سکھا دی تھی تو یقینا انسانوں کی زبان بھی سکھلا دی ہو گی۔ ملکہ ¿ سبا یمن میں بھی اور اس علاقے کی زبان عربی تھی۔ اسی لئے غالب گمان یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے خط عربی میں لکھا ہو گا۔ اور خط کے مضمون میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کا لکھا ہونا عربی کی طرف ہی اشارہ ہے۔ مولانا مفتی محد شفیع تفسیر روح المعانی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام حالانکہ عربی بولنے والے نہیں تھے لیکن عربی زبان جاننا اور سمجھنا آپ علیہ السلام سے کوئی بعید بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ جب آپ علیہ السلام پرندوں تک کی زبان جانتے تھے ۔یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ عربی زبان تمام زبانوں میں سب سے افضل اور اشرف زبان ہے۔ لہٰذا ہو سکتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے خط عربی زبان میں لکھا ہوگا۔ کیوں کہ ملکہ سبا اور اس کی قوم عربی النسل تھی۔ اس نے خط کو پڑھا بھی اور سمجھا بھی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی زبان میں خط لکھا ہو۔ اور بلقیس کے پاس آپ علیہ السلام کی زبان کا ترجمان ہو جس نے خط کو پڑھ کر سنایا ہو اور سمجھایا ہو۔
تحائف بھیج کر تحقیق کی
حضرت سلیمان علیہ السلام کے خط کے جواب میں بلقیس کے وزراءاور سپہ سالاروں نے جو جواب دیا اس کے بعد بلقیس نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ہم لوگ بڑے طاقتور اور جنگجو ہیں۔ لیکن اس پر بھی غور کرو کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جس طرح جنگ کی دعوت دی ہے اور اس سے پہلے اسلام کی دعوت دی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ اور بھی ہیں۔ اس لئے ہم تحقیق کرتے ہیں۔ میں انہیں قیمتی تحفے بھیجتی ہوں اور پھر دیکھتی ہوں کہ ان کا جواب کیا ہوتا ہے۔ اگر وہ صرف بادشاہ ہوں گے تو تحفے کو قبول کر لیں گے۔ تب ہم انہیں جنگ کے لئے للکاریں گے۔ اور اگر وہ بادشاہ کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں تو تحفے واپس کر دیں گے۔ اور تب ہم ان کے بارے میں غور و فکر کریں گے۔ اس کے بعد اس نے بہت سے قیمتی تحائف اپنے قاصد کے ذریعے بھیجے اور اس میں ایک بہت ہی قیمتی لکڑی کی لاٹھی بھی تھی۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ ملکہ سبا بلقیس نے خود ہی ایک رائے قائم کی جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا امتحان لے اور تحقیق کرے کہ وہ واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں یا نہیں ۔ اور جو کچھ حکم وہ دے رہے ہیں وہ اللہ کے حکم کے تعمیل ہے یا پھر وہ ایک ملک گیر ی کے خواہشمند بادشاہ ہیں۔ اس امتحان اور تحقیق سے مقصد یہ تھا کہ اگر وہ واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں تو ان کے حکم کا اتباع کیا جائے ۔ اور مخالفت کی کوئی صورت اختیار نہیں کی جائے۔ اور اگر بادشاہ ہیں اور ملک گیری کی ہوس میں ہمیں اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں تو پھر غور کیا جائے گا کہ ان کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ اس تحقیق کا طریقہ یہ تجویز کیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں کچھ ہدیے اور تحفے بھیجے۔ اگر انہوں نے تحفوں کو قبول کر لیا تو وہ ایک بادشاہ ہی ہیں اور اگر وہ واقعی نبی ہیں تو وہ اسلام اور ایمان کے بغیر کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے۔
تحائف واپس کر دیئے
اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس جب قاصد حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ کیا تم مال سے مجھے مدد دینا چاہتے ہو؟ (سنو) میرے رب نے تو مجھے اس سے بہت بہتر دے رکھا ہے۔ جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ اور تم ہی اپنے تحفے سے خوش رہو۔ جاﺅ۔ اور ان کی طرف واپس لوٹ جاﺅ۔ ( اور ان سے کہہ دو کہ ) ہم ان کے مقابلہ پر وہ لشکر لائیں گے جن کا سامنا کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ اور ہم انہیں ذلیل و پست کر کے وہاں سے نکال باہر کر یں گے۔“ (سورہ النمل آیت نمبر36اور37) ملکہ سبا کا قاصد تمام تحفے اور لاٹھی لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے دیکھا کہ آپ علیہ السلام کا حکم انسانوں اور جناتوں کے علاوہ وحشی جانور اور پرندے وغیرہ بھی مانتے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہوا بھی آپ علیہ السلام کا حکم مانتی ہے تو وہ سمجھ گیا کہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ اس نے ڈرتے ڈرتے تمام قیمتی تحائف آپ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کئے۔ آپ علیہ السلام نے تمام تحفوں کو دیکھا اور فرمایا۔ اپنی ملکہ کے یہ تحائف واپس لے کر جاﺅ۔ اور اس سے کہنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام صرف بادشاہ نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ کے نبی ہیں۔ اور نبی کو دنیاوی تحفوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی ایسی نعمتیں اور حکومت عطا فرمائی ہے جس کا تم اور تمہاری ملکہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اور ثبوت کے طور پر تمہاری ملکہ کی طرف سے بھیجی ہوئی یہ لاٹھی بتا دینا۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام نے دیمک کو حکم دیا کہ اس لاٹھی میں سوراخ کر دو۔ دیمک نے حکم سن کر لاٹھی کو کھانا شروع کر دیا اور اسمیں سوراخ کر دیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اب یہ سب لے جا کر اپنی ملکہ کو دے دو اور اس سے کہنا کہ اگر اس نے جنگ کا فیصلہ کیا تو اس کا سامنا ایسے لشکر سے ہوگا جس کا مقابلہ کرنے کی طاقت اس کے لشکر میں نہیں ہوگی۔ اور تمہیں ذلت اٹھانی پڑے گی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں ملکۂ سبا کی روانگی
حضرت سلیمان علیہ السلام کا جواب لے کر قاصد ملکہ سبا بلقیس کے پاس آیا۔ اور بتایا کہ جس طرح کا عام بادشاہ ہم حضرت سلیمان علیہ السلام کو سمجھتے تھے وہ اس طرح کے نہیں ہیں بلکہ وہ سچ مچ اللہ کے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی بادشاہت عطا فرمائی ہے۔ جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کی حکومت صرف انسانوں پر نہیں ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جناتوں پر بھی ہے اور جانوروں اور پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں پر بھی ہے۔ یہاں تک کہ ہوا پر بھی ان کی حکومت ہے۔ اور کیڑے مکوڑوں پر حکومت کا ثبوت یہ لاٹھی ہے۔ جب تم نے یہ لاٹھی دی تھی تو اس میں سوراخ نہیں تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیمک کو حکم دیا کہ وہ اس میں سوراخ کرے اور دیکھتے ہی دیکھتے دیمک نے اس لاٹھی کو کھا کر اس میں سوراخ کر دیا۔ اتنا کہنے کے بعد قاصد نے بلقیس کی خدمت میں لاٹھی دے دی۔ اس نے اور تمام وزیروں اور سپہ سالاروں نے حیرت سے لاٹھی کے سوراخ کو دیکھا۔ اور سمجھ گئے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں۔ اور بلقیس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا کہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر دیکھیں گے۔ پھر فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔ اس کے بعد بلقیس نے اپنے وزیروں اور سپہ سالاروں کو لشکر سمیت آپ علیہ السلام کی طرف روانگی کا حکم دیا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے تخت منگوایا
اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” آپ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ اے سردارو، تم میں سے کون ہے جو ان کے مسلمان ہو کر پہنچنے سے پہلے ہی اس کا تخت مجھے لا دے۔ ایک قوی ہیکل جنات نے کہا۔ آپ علیہ السلام کے اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے ہی میں لا سکتا ہوں۔ یقین مانئے کہ میں اس پر قادر ہوں اور امانت دار بھی ہوں۔ جس کے پاس کتاب کا علم تھا ، وہ بول اٹھا کہ آپ علیہ السلام کے پلک جھپکنے سے پہلے میں اسے آپ علیہ السلام کے پاس پہنچا سکتا ہوں۔ جب آپ علیہ السلام نے اسے ( تخت کو) اپنے پاس موجود پایا تو فرمانے لگے۔ یہ میرے رب کا فضل ہے ، تا کہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔ اور شکر گزار اپنے ہی نفع کے لئے شکر گزاری کرتا ہے۔ اور جو شکری کرے تو میرا پروردگار ( بے پرواہ اور بزرگ) غنی اور کریم ہے ( اس کے بعد) حکم دیا کہ اس کے تخت میں کچھ پھیر بدل کر دو تا کہ معلوم ہو جائے کہ وہ راہ پالیتی ہے یا ان میں سے ہو جاتی ہے جو راہ نہیں پاتے ہیں۔“(سورہ نمل آیت نمبر38سے41تک) اُدھر یمن کے ملک سبا سے ملکہ سبا بلقیس اپنے وزیروں اور سپہ سالاروں کے ساتھ حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہو گئی۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ ملکہ بلقیس جنوبی عرب کی مشہور تجارت پیشہ ، ترقی یافتہ اور مالدار قوم سبا کی حکمراں تھی۔ اس قوم سبانے ایک ہزار سال تک دنیا پر حکمرانی کی۔ اور دنیاوی وسائل میں بہت مشہور تھی۔ اس نے پانی کو روکنے اور تقسیم کرنے کے لئے ایسے بہترین بند باند ھ رکھے تھے کہ جس سے یہ ملک سر سبز و شاداب نظر آتا تھا۔ اب اسی عظیم ملک کی ملکہ ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضری لگانے آرہی تھی۔
ملکۂ سبا بلقیس کا لشکر
حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو نے کے لئے ملکہ سبا بلقیس اپنے وزیروں ، سپہ سالار وں اور لشکر کے ساتھ رواں دواں تھی۔ ملکہ سبا بلقیس کے پاس ایک ہزار قیل( سردار یا سپہ سالار ) تھے۔ ملکہ سبا کی حکومت ملک یمن پر تھی اور یمن میں سردار یا سپہ سالار کو قیل کہا جاتا تھا۔ ان ایک ہزار سرداروں میں سے ہر ایک سردار دس ہزار افراد کا سردار یا سپہ سالار ہوتا تھا۔ حضرت مجاہد ( جلیل القدر تابعی اور مفسر) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا بلقیس کے زیر نگیں بارہ ہزار چھوٹے بادشاہ تھے۔ اور ہر ایک بادشاہ کی قیادت میں ایک لاکھ سپاہی تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم طاقت اور قوت والے ہیں۔ حضرت قتادہ ( جلیل القدر تابعی اور مفسر) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا بلقیس کا پہلا مشورہ تین سو بارہ افراد سے تھا۔ ان میں سے ہر ایک فرد دس ہزار افراد کا قائد تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیںکہ ان میں سے تین سو سرداروں یا سپہ سالاروں کو لے کر ملکہ سبا بلقیس روانہ ہوئی تھی۔ اور ہر سردار کے ساتھ ایک ہزار کا لشکر تھا۔ اس طرح اس کے ساتھ تین لاکھ کا لشکر تھا۔
ایک عالِم فوراً تخت لے آیا
حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضری کے لئے ملکہ سبا بلقیس رواں دواں تھی۔ اور آپ علیہ السلام کے وزیروں اور سپہ سالاروں کو اس کے آنے کی مسلسل اطلاعات مل رہی تھیں۔ لیکن کوئی بھی آپ علیہ السلام کو بتانے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام بہت ہی بارعب تھے۔ اسی لئے جب تک آپ علیہ السلام کسی معاملے میں خود سے نہیں فرماتے تھے تب تک کوئی بھی کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر تا تھا۔ ایک روز آپ علیہ السلام اپنے محل سے نکل کر تخت پر بیٹھے کچھ حکومت کا کام کر رہے تھے کہ سامنے کافی دور گر دو غبار اڑتا دکھائی دیا۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ یہ کیا ہے؟ حاضرین نے جواب دیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، یہ ملکہ سبا بلقیس اور اس کا لشکر ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ یہاں تک آگئی ہے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام اپنے درباریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ اے درباریو، کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو اس کے یہاں پہنچنے سے پہلے اس کا تخت لے آئے؟ تو ایک جنات نے کھڑے ہو کر عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، میں دربار برخواست ہونے سے پہلے اس تخت کو لا سکتا ہوں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ نہیں ، اور جلدی تخت آنا چاہیئے۔ در اصل حضرت سلیمان علیہ السلام صبح سویرے حکومت کے کام اور مقدموں کے فیصلے کے لئے دربار منعقد کیا کرتے تھے۔ اور زوال تک بنی اسرائیل کے مقدموں کے فیصلے اور حکومت کے اہم کام نبٹاتے تھے۔ اور زوال کے وقت دربار برخواست کر دیتے تھے۔ لیکن بلقیس اتنا قریب آچکی تھی کہ اتنے وقت میں تخت لا نے سے پہلے وہ پہنچ جاتی ۔ اسی لئے حضرت سلیمان علیہ السلام اور جلدی تخت منگوانا چاہتے تھے۔ یہ دیکھ کر ایک عالِم ( جو توریت اور زبور کے عالم تھے) کھڑے ہوئے ان کا نام آصف بن بر حیا تھا۔ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے خالہ زاد بھائی تھے انہوں نے عرض کیا۔ میں آپ علیہ السلام کی پلک جھپکنے سے پہلے تخت لے آﺅں گا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جتنی دیر تک ایک انسان عام طور سے آنکھ کھلا رکھتا ہے یعنی انسان کے دو بار پلک جھپکانے سے پہلے لے آﺅں گا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ بہر حال وہ عالم ملکہ بلقیس کے پہنچنے سے پہلے تخت لے آئے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان عالم کو اجازت دے دی۔ اور وہ بلقیس کے آنے سے کافی پہلے اس کا حسین ترین اور ہیرے جواہرات سے جڑا ہوا تخت لے آئے۔ آپ علیہ السلام نے بلقیس کا تخت اپنے دربار میں رکھا دیکھا تو فوراً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ اور فرمایا۔ یہ مریے رب کا فضل ہے اور اس طرح اس نے مجھے آزمایا ہے کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں یا پھر نا شکری کرتا ہوں۔ بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز اور کریم ہے اور اس کے حکم کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا۔ اس تخت کی شکل کچھ حد تک تبدیل کر دو تا کہ ہم دیکھیں کہ بلقیس اپنے تخت کو پہچان پاتی ہے یا نہیں ؟ حضرت سلیمان علیہ السلام بلقیس ( ملکہ سبا ) کی عقل و دانش کی آزمائش کرنا چاہتے تھے۔ کیوں کہ اپنا تخت وہ پیچھے یمن میں میلوں دور چھوڑ آئی تھی۔ اور یہ بات اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی کہ جس تخت کو وہ میلوں دور یمن میں چھوڑ آئی ہے وہ اس کے یروشلم ( بیت المقدس) یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دارالخلافہ یا راجدھانی تھا ، پہنچنے سے پہلے وہاں آچکا ہو گا۔ اور اگر تخت کو پہچان لے گی تو یہ اندازہ کر لے گی کہ تخت اللہ کے حکم سے ہی یہاں پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اور ساتھ ہی اسے یہ اندازہ بھی ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ علیہ السلام کا کیا مقام ہے۔
بلقیس (ملکہ سبا) نے اللہ کی قدرت کو تسلیم کیا
اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب وہ آگئی تو اس سے فرمایا( دریافت کیا) کہ ایسا ہی تیر تخت ( بھی ) ہے؟ اس نے جواب دیا کہ گویا یہ وہی ہے۔ ہمیں ( آپ علیہ السلام کی طاقت کے بارے میں) پہلے ہی ( ھد ھد اور ہمارے قاصد کے ذریعے ) علم دیا گیا تھا۔ اور ہم ( آپ علیہ السلام کے پہلے ہی سے ) اطاعت گزار تھے۔ اسے ( بلقیس کو ) انہوں نے ( ابلیس شیطان اور بتوں نے ) روک رکھا تھا۔ جن کی وہ اللہ کے سوا پوجا کرتی تھی۔ یقینا ( پہلے ) ہو کافر لوگوں میں سے تھی۔ “( سورہ النمل آیت نمبر 42اور 43) حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ملکہ بلقیس اپنے وزیروں اور سپہ سالاروں کے ساتھ داخل ہوئی۔ تو اس نے اپنے تخت کو آپ علیہ السلام کے دربار میں رکھا ہوا پایا۔ تخت کو دیکھ کر وہ حیران ہو گئی اور غور سے اسے دیکھنے لگی۔ اس کے وزراءاور سپہ سالار بھی حیرانی سے اس تخت کو دیکھ رہے تھے کیوں کہ انہیں ایسا لگ رہا تھا کہ اگر اس تخت میں تھوڑا سا ردو بدل کیا جائے تو بالکل وہی تحت بن جائے گا جس سے پر ان کی ملکہ اپنے دربار میں بیٹھتی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام مسکراتے ہوئے اپنے درباریوں کے ساتھ بلقیس اور اس کے امراءکی حیرانی کو دیکھ رہے تھے۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ کیا بات ہے؟ تم بہت غور سے اس تخت کو دیکھ رہی ہو؟ کیا تمہارے پاس بھی ایسا ہی تخت ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام کی آواز سن کر وہ چونک پڑی اور آپ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو کر بولی۔ یمن میں میرے ملک میں بالکل ایسا ہی میرا ایک تخت ہے اور اس پر بیٹھ کر میں اپنی حکومت کے فیصلے کر تی ہوں۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام مسکرائے اور فرمایا۔ ذرا غور سے دیکھو، کہیں یہ وہی تخت تو نہیں ہے؟ بلقیس غور سے تخت کو دیکھتے ہوئے بولی۔ یہ یقینا میرا ہی تخت ہے۔ لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے یہاں پہنچنے سے پہلے میرا تخت یہاں پہنچ جائے؟ اور وہ بھی انتہائی سخت پہرے کے باوجود ۔ کیوں کہ میں اپنے تخت کو کئی قلعوں کے اندر رکھتی ہوں۔ اور ان قلعوں کے اندر پہریداروں کی ایک زبردست فوج نگرانی کرتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر قلعے میں تالا لگا رہتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ تمہارا ہی تخت ہے اور اتنے سخت پہرے کے باوجود اتنی دور میرے پاس اللہ تعالیٰ کی قدرت سے پہنچا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ کام اپنے ایک عالِم سے لیا ہے جو میری حکومت میں رہتا ہے۔ اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو، وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اور تم اور تمہاری قوم دھوکے میں مبتلا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر شئے پر قادر ہے اور اس کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا ہے ۔ یہ سن کر بلقیس نے تسلیم کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یہ تخت یہاں آسکتا ہے تو یقینا وہ ہر شئے پر قادر ہے۔ اور آپ علیہ السلام کی نبوت کے بارے میں تو ہمیں پہلے ہی ھد ھد اور ہمارے قاصد نے خبر دے دی تھی۔ اور ہم لوگ آپ علیہ السلام کی اطاعت قبول کرنے آئے ہیں۔ لیکن پہلے میں آپ علیہ السلام سے چند سوالات کرنا چاہتی ہوں۔ اگر آپ علیہ السلام مجھے مطمئن کر دیں تو ہو سکتا ہے کہ میں میری قوم اسلام قبول کر لے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کا مکالمہ
حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ملکہ بلقیس اپنے وزیروں اور سپہ سالاروں کے ساتھ حاضر تھی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ پوچھو کیا پوچھنا چاہتی ہو؟ بلقیس نے کہا۔ مجھے ایسے پانی کے بارے میں بتائیں جو نہ آسمان میں ہے اور نہ ہی زمین میں ہوتا ہے؟ آپ علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے اپنے درباریوں کی طرف نظریں دوڑائیں تو ایک جنات کھڑا ہوا عرض کیا۔ یا نبی علیہ السلام ، یہ سوال تو بہت آسان ہے۔ آپ علیہ السلام گھوڑے کو دوڑائیں۔ اور اتنا دوڑائیں کہ اس کے پسینے سے پورا برتن بھر جائے۔ یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ پانی جو نہ آسمان میں ہے اور نہ ہی زمین میں ہے وہ ہر جاندار کا پسینہ ہے ۔پھر اس نے پوچھا۔مجھے یہ بتاﺅ تمہارے اللہ کا رنگ کیسا ہے؟ یہ سوال سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ آپ علیہ السلام فوراً سجدے میں گر گئے۔ اور اللہ تعالیٰ کے جلال کا تصور کر کے آپ علیہ السلام پر غشی طاری ہو گئی۔ کافی دیر بعد دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کی طبیعت سنبھلی تو آپ علیہ السلام اٹھ کر بیٹھے۔ پورا بدن پسینے میں شرابور تھا اور سینہ دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے آپ علیہ السلام میلوں دور سے دوڑتے ہوئے آئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ پوچھ رہے ہیں کہ کیا معاملہ ہے؟ ( حالانکہ اللہ تعالیٰ سب جانتے ہیں) آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھ سے ایسا سوال کیا گیا ہے جسے میں دہرا نہیں سکتا ہوں۔ فرشتے نے کہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام سوال کرنے والے سے فرمائیں کہ وہ دوبارہ سوال کرے۔ اس دوران حضرت سلیمان علیہ السلام کے ساتھ تمام درباری بھی سجدے میں گر گئے تھے۔ اور بلقیس اور اس کے ساتھی حیرانی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے اور ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں اور کیا کہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا بلقیس سے فرمایا۔ تم نے کون سا سوال پوچھا تھا؟ ذرا پھر سے دہراﺅ۔ بلقیس نے کچھ دیر سوچا اور غور کیا پھر کہا۔ میں وہ سوال بھول گئی ہوں۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اس کے ساتھیوں سے پوچھا تو ان سب نے کہا ہم بھی بھول گئے ہیں۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنے درباریوں سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں بھی یاد نہیں ہے۔ جب کوئی جواب دے نہیں سکا تو آپ علیہ السلام نے بلقیس اور اس کے ساتھیوں کو مہمان خانے میں ٹھہرانے کا حکم دیا اور دربار برخاست کر دیا۔
ملکۂ سبا بلقیس کا قبولِ اسلام
اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” اس سے کہا گیا کہ محل میں چلی چلو۔ جسے دیکھ کر یہ سمجھ کر کہ یہ حوض ہے اس نے پنڈلیاں کھول دیں( حضرت سلیمان علیہ السلام ) نے فرمایا۔ یہ شیشے سے منڈھی ہوئی عمارت ہے۔ کہنے لگی ، میرے پروردگار ، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے۔ اب میں سلیمان( علیہ السلام )کے ساتھ اللہ رب العالمین کی مطیع اور فرماں بردار بنتی ہوں۔ “ ( سورہ النمل آیت نمبر44) حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کو مہمان خانے میں ٹھہرایا۔ وہ اسور اس کے ساتھی کچھ دنوں تک اسلامی حکومت کا مشاہدہ کرتے رہے اور انہیں اس کے فوائد بھی دکھائی دے رہے تھے۔ اور دھیرے دھیرے بلقیس اور اس کے وزراءاور سپہ سالار متاثر بھی ہو تے جا رہے تھے ۔ ایک دن بلقیس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو اسے بتایا گیا کہ آپ علیہ السلام اس وقت شیش محل میں تشریف فرما ہیں۔ اس لئے ان سے ملنے کی اجازت لینی ہوگی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جناتوں سے شیش محل بنوایا تھا۔ اس کافرش شیشے کا تھا۔ نیچے پانی تھا اور اس میں مچھلیاں اور دوسرے سمندری جانور تھے۔ سرسری نظر سے دیکھنے پر شیشے کا فرش نظر نہیں آتا تھا۔ اس کی چھت بھی شیشے کی تھی آپ علیہ السلام کو اطلاع دی گئی کہ بلقیس ملنا چاہتی ہے تو آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے یہاں لے آﺅ۔ اس محل کے صحن کا فرش بھی شیشے کا تھا۔ بلقیس اس محل کے صدر دروازے پر آکر رک گئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ بے فکر ہو کر صحن میں داخل ہو جاﺅ اور محل میں آجاﺅ۔ ملکہ سبا ءبلقیس نے جب فرش پر دیکھا تو اسے ایسا لگا جیسے اسے پانی میں سے گزرنا ہو گا۔ وہ اپنی شلوار کے پائنچے اٹھانے لگی۔ یہ دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا ۔ یہ شیشے کا فرش ہے۔ اس لئے پائنچے اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلقیس حیرانی سے شیشے کے فرش پر چلتی ہوئی آپ علیہ السلام تک پہنچی۔ آپ علیہ السلام نے اسے اسلام کی دعوت دی اور سمجھانے لگے۔ اتنے دنوں تک اسلامی حکومت کا مشاہدہ کر نے بعد بلقیس اسلام سے متاثر ہو چکی تھی۔ اور اپنے سپہ سالاروں سے بھی مشورہ کر چکی تھی اور وہ لوگ بھی اسلام سے متاثر ہو چکے تھے۔ بلقیس اور اس کی قوم صرف اس لئے سورج کی پوجا کر تی تھی کہ ان کے باپ دادا بھی وہی کر تے تھے۔ بلقیس اور اس کی قوم حق کی تلاش میں تھی۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے بڑی حکمت سے حق ان کے سامنے پیش کیا اور آخر کار ملکہ سبا بلقیس اور اس کی قوم نے اسلام قبول کر لیا۔
گھوڑوں سے محبت
اللہ تعالیٰ نے سورہ صٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اورہم نے عطا فرمایا داﺅد (علیہ السلام )کوسلیمان (علیہ السلام )جیسا فرزند جو بڑی خوبیوں والا اور بہت رجو ع کرنے والا تھا۔ جب اس کی خدمت میں سہ پہر کو تین پاﺅں پر کھڑے ہونے والے تیز رفتار گھوڑے پیش کئے گئے تو اس نے ( حضرت سلیمان علیہ السلام نے ) فرمایا۔ مجھے اپنے رب کی یاد کے لئے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی۔ ( پھر انہیں چلانے کا حکم دیا) یہاں تک کہ وہ پردہ کے پیچھے چھپ گئے۔ ( پھر حکم دیا) انہیں میرے پاس واپس لاﺅ اور ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ “ (سورہ ص ٓ آیت نمبر 30سے 33) حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ کے لئے لڑنا بہت پسند کرتے تھے۔ اور اسی وجہ سے گھوڑوں کو بہت پسند کر تے تھے۔ آپ علیہ السلام ہوا کے ذریعے سفر کرتے تھے اور تخت پر مجاہدین ، ان کے گھوڑوں اور جنگی سامان کو میدان جنگ میں لے جاتے تھے۔ اور جنگ میں گھوڑوں کا استعمال کرتے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری اور امام فخرالدین رازی لکھتے ہیں۔ کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ایک دن جہاد کے لئے تیار کئے بہترین پالے ہوئے سبک رفتا اصیل گھوڑوں کی پریڈ کا معائنہ کر رہے تھے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔ مجھے ان گھوڑوں سے جو تعلق ، اُنسیت اور محبت ہے وہ دنیا کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اپنے پروردگار کی وجہ سے ہے۔ اس ارشاد کے درمیان جب وہ گھوڑے سے نظروں سے ذرا اوجھل ہوئے تو آپ علیہ السلام نے ان کو دوبارہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جب گھوڑے دوبارہ قریب آئے تو آپ علیہ السلام آگے بڑھ کر ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے ہاتھ پھیر کر چمکارنا شروع کر دیا۔
ہیکل سلیمانی( بیت المقدس) کی تعمیر
حضرت داﺅد علیہ السلام کے ذکر میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ایک رات حضرت داﺅد علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک چٹان پر سے فرشتے سیڑھی کے ذریعے آسمان پر جا رہے تھے۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے ارادہ بنا یا کہ اس جگہ مسجد ( بیت المقدس) تعمیر کی جائے۔ تب اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ اس مسجد کی بنیاد تو تم رکھو گے لیکن اس کی تعمیر مکمل نہیں کر سکو گے۔ بلکہ اس کی تعمیر تمہار بیٹا۔ سلیمان علیہ السلام کرے گا۔ بیت المقدس کی تعمیر تو حضرت یعقوب علیہ السلام کے ہاتھوں سر انجام پائی تھی۔ لیکن حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کے مصر میں پورے خاندان کو لے کر آگئے تھے۔ اور بیت المقدس کی مسجد کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں رہ گیا تھا۔ ادھر مصر میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد خوب پھلی پھولی۔ اور بارہ بیٹوں کی یہ اولاد کئی لاکھ تک پہنچ گئی۔ اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں آئے۔ اور کئی سو سال بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مصر سے باہر نکلے اور حضرت یوشع علیہ السلام کی قیادت میں ملک کنعان ( حالیہ فلسطین، اردن، لبنان وغیرہ ) میں آبادہو گئے تھے۔ لیکن ان کی حکومت اتنی مستحکم نہیں ہو سکی تھی کہ وہ بیت المقدس کی تعمیر کے بارے میں سوچتے۔ بنی اسرائیل کا زیادہ وقت آس پاس کی مشرک قوموں سے لڑتے ہوئے گزرتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ گمراہیوں ، برائیوں اور آپسی اختلافات کا شکار ہو کر بھی کمزور ہو جاتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی ظالم کو ان پر مسلط کر دیتا تھا۔ تا کہ وہ سنبھل کر متحد ہو کر اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔ اسی طرح وقت گزرتا رہا اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل کو عروج حاصل ہوا۔ اور ایک مستحکم اسلامی حکومت وجود میں آئی تو آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کی تعمیر کی طرف توجہ دی۔ جب تک امتداد زمانہ کی وجہ سے حضرت یعقوب علیہ السلام کی تعمیر کی ہوئی مسجد کا نام و نشان مٹ چکا تھا ۔ اور جس چٹان پر سے حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرشتوں کو چڑھتے ہﺅے دیکھا تھا۔ اسی کے پاس آپ علیہ السلام نے مسجد کی بنیاد رکھی۔ وہ چٹان آج بھی ”چٹان ِ داﺅدی“ کے نام سے مشہور ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس کی تعمیر نو کی سعادت حاصل کی ہے۔ تعمیر اول حضرت یعقوب علیہ السلام کے ہاتھوں سے سر انجام پائی۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سب سے پہلے، کون سی مسجد تعمیر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مسجد بیت المقدس ، میں نے عرض کیا۔ ان دونوں کے درمیان کتنی مدت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چالیس سال ۔ اس حدیث سے بالکل واضح ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کرنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت المقدس کی مسجد تعمیر کی تھی۔ لیکن ہو محفوظ نہیں رہ سکی۔۔
ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) کو تعمیر کرنے کی تیاریاں
حضرت سلیمان علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل کو سب سے زیادہ عروج حاصل ہوا ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل پوری دنیا میں سب سے بڑی سوپر پاور تھے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت پوری دنیا ایشیاء، یورپ اور افریقہ تھی۔ اور آسٹریلیا اور امریکہ دریافت نہیں ہوئے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے آس پاس کے تمام حکمراں آپ علیہ السلام کی اطاعت قبول کر چکے تھے۔ اور سالانہ خراج ادا کرتے تھے۔ان میں سے صور کے بادشاہ حیرام کے تعلقات حضرت داﺅد علیہ السلام سے بہت اچھے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی ) کی تعمیر کا ارادہ فرمایا تو صور کے بادشاہ حیرام کو خط لکھا کہ تمہیں یہ بات معلوم ہے کہ میرے والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام اطراف کی قوموں سے جنگ میں اتنے مصروف تھے کہ بیت المقدس میں ایک مسجد کی تعمیر کو مکمل نہیں کر سکے ہیں اور صرف بنیادہی ڈال سکے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ اس مسجد ( بیت المقدس) کی تعمیر تمہارا بیٹا سلیمان (علیہ السلام )کرے گا۔ اس لئے اپنے آدمیوں کو حکم دے کہ میرے آدمیوں کے ساتھ مل کر لبنان کے جنگلات میں سے ساگوان اور صنوبر کے درخت کاٹیں ۔ میں تمہارے آدمیوں کو اجرت دوں گا۔ اور تم جانتے ہو کہ صیدانیوں کی طرح لکڑی کاٹنے میں کوئی بھی ماہر نہیں ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط جب حیرام کو ملا تو وہ بڑا خوش ہوا اور بولا۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے کہ اس نے اتنی بڑی قوم ( بنی اسرائیل ) پر حکمرانی کے لئے حضرت داﺅد علیہ السلام کو اتنا دانا اور عقلمند بیٹا بخشا ہے۔ پھر اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو خط لکھا۔ آپ علیہ السلام نے جو پیغام بھیجا ہے وہ مجھے مل گیا ہے۔ اور ساگوان اور صنوبر کی لکڑی مہینا کرنے کے لئے جو آپ علیہ السلام چاہتے ہیں میں وہ سب کروں گا۔ میرے آدمی ان شہتیروں کو لبنان سے کھینچ کر سمندر تک لے جائیں گے اور پھر ان کے گٹھوں کو سمندر میں تیرا کر آپ علیہ السلام کی مقرر کی ہوئی جگہ پر پہنچا دیں گے۔ پھر آپ علیہ السلام اسے اپنے استعمال کے لئے لے جا سکیں گے۔ اس کے بدلے میں صرف ہمیں رسد مہیّا کرتے رہیں۔
بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی ) کی تعمیر میں مزدور اور سنگ تراش
حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حیرام ساگوان اور صنوبر کے شہتیر بھیجتا رہا۔ اور آپ علیہ السلام بیس ہزار کوئنٹل گیہوں اور بیس ہزار ڈرم زیتون کا تیل ہر سال بھیجتے رہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی تعمیر کے لئے تیس ہزار30000مزدور لگائے۔ ان میں سے ہر مہینہ دس ہزار کی ایک ٹولی لبنان جاتی تھی۔ اور بقیہ دو مہینے گھر پر گزارتے تھے۔ ان کے علاوہ آپ علیہ السلام نے ستر70ہزار حمال اور اسی 80ہزار سنگ تراش بھی مقرر فرمائے۔ اور ان سب کو تین سو افسران سنبھالتے اور نگرانی کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کے حکم سے پتھروں کی کانوں سے نفیس پتھروں کے بڑے بڑے ٹکڑے نکالے جا تے تھے۔ اور سنگ تراش ان پتھروں کو تراشتے تھے۔ اور بڑھئی شہتیروں کو کاٹتے تھے۔ اس طرح تیس ہزار مزدور، ستّر ہزار حمال، اسّی ہزار سنگ تراش اور بڑھئی اور ان کے افسران اور جنات برسوں مسلسل کام کرتے رہے اور پتھروں کو کان سے نکالتے ہی سنگتراش اسے تراشتے تھے۔
مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی بناوٹ
حضرت سلیمان علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ملک مصر سے نکل آنے کے چار سو اسی ویں 480ویں سال میں اور اپنی دورنبوت اور حکومت کے چوتھے سال میں مسجد بیت المقدس( ہیکل سلیمانی) کی تعمیر شروع کی۔ اور کئی سال تک ہزاروں مزدور ، معمار ، سنگ تراش اور برھئی اور انکے ساتھ جناتوں نے مل کر مسلسل کام کیا۔ اس وقت کریں وغیرہ ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے آپ علیہ السلام نے بہت بڑے بڑے پتھروں کو اٹھانے اور ان کی جگہ پر رکھنے کا کام جناتوں سے لیا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کی لمبائی ساٹھ60ہاتھ ، چوڑائی بیس20ہاتھ اور اونچائی تیس30ہاتھ رکھی۔ آپ علیہ السلام نے مسجد میں جالی دار جھروکے بھی بنوائے۔ اور مسجد کے تین طرف سہ( تین) منزلہ عمارت بنوائی۔ جس کے پہلو میں حجر ے ( کمرے) تھے۔ سب سے نچلی منزل پانچ ہاتھ، درمیانی منزل چھ ہاتھ اور سب سے اوپری منزل سات ہاتھ اونچی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ چاروں طرف باہر کی طرف پشتے بنوائے۔ تا کہ شہتیروں کے لئے دیواروں میں سوراخ کرنے کی ضرورت نہ ہو۔ مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کو تعمیر کرنے کے لئے پتھروں کے صرف وہی ٹکڑے استعمال کئے گئے جو کان سے نکالتے وقت تراشے گئے تھے۔ اور جب اس کی تعمیر چل رہی تھی تو وہاں ہتھوڑے ، چھینی یا لوہے کے کسی دیگر اوزار کی آواز سنائی نہیں دی۔ سب سے نچلی منزل کا دروازہ جنوب کی طرف تھا۔ اور ایک زینہ درمیانی منزل تک اور پھر وہاں سے تیسری منزل تک جاتا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی دیواریں تعمیر ہو جانتے کے بعد چھت پر ساگوان اور صنوبر کے شہتیروں اور تختے ڈال کر مکمل کیا۔ اور تمام مسجد کے ساتھ حجرے تعمیر کروائے۔ جن میں سے ہر ایک کی اونچائی پانچ پانچ ہاتھ تھی۔ اور وہ ساگوان کے شہتیروں کے ذریعے مسجد ( ہیکل سلیمانی) سے ملحق تھے۔
مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی سجاوٹ
حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کی تعمیر مکمل کی۔ اور اس کی اندرونی دیواروں پر ساگوان کے تختے لگوائے اور مسجد یعنی ہیکل سلیمانی کے فرش سے لے کر چھت تک تختوں کو پٹیوں سے سجایااور ہیکل سلیمانی کے فرش کو صنوبر کے تختوں سے ڈھانپ دیا۔ اور مسجد( ہیکل) کے اندرونی حصہ میں ایک نہایت ہی مقدس جگہ بنانے کے لئے آپ علیہ السلام نے پچھلے بیس ہاتھ حصے کو فرش سے لے کر چھت تک ساگوان کے تختے لگا کر محصور کر دیا۔ اس کے سامنے بڑا کمرہ چالیس ہاتھ لمبا تھا۔ مسجد( ہیکل) کو اندر سے ساگوان کے تختوں سے مزیّن کر دیا تھا۔ اور اس پر لٹو اور کھلے ہوئے پھول کندہ کئے ہوئے تھے۔ سب ساگوان کے تختے اس طرح لگائے گئے تھے کہ مسجد کے اندر دیواروں کا کوئی پتھر دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اس کے علاوہ آپ علیہ السلام نے پوری مسجد میں تانبے ، چاندی اور سونے سے نقش نگاری بھی کروائی تھی۔
تابوتِ سکینہ رکھنے کی جگہ
حضرت داﺅد علیہ السلام تابوت سکینہ کو یروشلم میں لے آئے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد یعنی ہیکل سلیمانی میں بیس20ہاتھ لمبا ، بیس ہاتھ چوڑا اور بیس ہاتھ اونچا ایک چبوترہ بنایا۔ اور اس پر خالص سونے کے چادر چڑھائی۔ اس طرح پورا چبوترہ سونے کا دکھائی دیتا تھا۔ چبوترے کے اطراف سونے کی زنجیریں لگا دیں ۔اور قربان گاہ پر بھی سونے کی چادر چڑھا دی۔ اس چبوترے پر زیتون کی لکڑی کے دوکروبی بنائے۔ جو دس دس ہاتھ اونچے تھے۔ دونوں کی بناوٹ یکساں تھی۔ اور ان کے پر یعنی ہاتھ پانچ پانچ ہاتھ لمبے تھے ۔ دونوں کروبی اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے۔ دونوں کوبازو بازو میں رکھا گیا۔اس طرح ایک کروبی کا ہاتھ دائیں طرف کی دیوار کو چھو رہا تھا اور دوسرا ہاتھ دوسرے کروبی کے ہاتھ کو چھو رہا تھا۔ اور دوسرے کروبی کا ہاتھ بائیں طرف کی دیوار کو چھو رہا تھا۔ سامنے سے دیکھنے پر ایسا لگتا تھا جیسے دونوں کروبی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوں اور دوسرے ہاتھ سے دیوار کو سہارا دے رہے ہوں۔ ان دونوں کروبی پر بھی سونے کی چادر چڑھائی گئی اور وہ مکمل سونے کے دکھائی دیتے تھے۔ ان کے سامنے چبوترے پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ”تابوت سکینہ “ رکھا۔ اس پر بھی سونے کی چادر چڑھائی گئی۔ مسجد کے باہر صحن میں دیواروں پر فرش پر نقش و نگار بنائے گئے۔ اور اطراف کی تین منزلہ عمارت کے ہر حجرے ( کمرے) میں بھی نقش و نگار بنائے گئے۔ اس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے سات سال میں مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کی تعمیر مکمل کی۔ آپ علیہ السلام نے اپنی حکومت کے چوتھے سال میں اس کی تعمیر شروع کی تھی اور گیارہویں سال میں مکمل کی تھی۔ اس کی باہری دیوراروں کو انتہائی خوب صورت پتھروں ( جنہیں ہم آج کل ماربل کہتے ہیں) سے مزین کیا گیا۔ دور سے دیکھنے پر مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) ایک بہت بڑے خوب صورت قلعے کی شکل میں دکھائی دیتی تھی۔ اس کے اطراف میں چاروں طرف بہت بڑا میدان چھوڑ کر دیوارا بنا دی گئی تھی۔ اس میدان میں جگہ جگہ پیتل کے بہت بڑے بڑے حوض بنوائے ۔ ہر حوض میں گیارہ ہزار گیلن پانی آتا تھا۔ جگہ جگہ بیٹھنے کے لئے چوکیاں ( کرسیاں) بنوائیں۔ اور حوض سے پانی پینے کے لئے ہزاروں پیتل کے کٹورے ( گلاس ) بنوائے۔
مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی تزئین
حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد بیت المقدس کی تعمیر مکمل کر لی۔ یہودی ( بنی اسرائیل) اسے ”ہیکل سلیمانی “ کہتے تھے۔ اسے بعد میں مشرک قوموں نے مسمار کر دیا تھا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔ مسماری کے بعد سے آج تک ہیکل سلیمانی نہیں بن سکا ہے۔ اور اس کی طرف ایک ٹوٹی ہوئی دیوار رہ گئی ہے۔ جسے بنی اسرائیل یعنی یہودی” دیوارِ گریہ “ کہتے ہیں۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی حکومت کے چوتھے سال میں بیت المقدس کی تعمیر شروع کی۔ اور اپنی حکومت کے گیارہویں سال تعمیر مکمل کی۔ لیکن اس کے بعد بھی آ پ علیہ السلام اپنے دورِ حکومت کے آخر تک اس میں کچھ نہ کچھ اضافہ کرتے رہے۔ اور اس طرح توسیع کا کام آخر زمانہ تک برابر جاری تھا۔ آپ علیہ السلام نے جو مسجد بنوائی اس کی بلندی ایک سو ہاتھ تھی۔ اور لمبائی ساٹھ 60ہاتھ اور چوڑائی بیس 20ہاتھ تھی۔ اس کے اندرونی حصہ میں سونے اور چاندی کی چادریں چڑھائی گئی تھیں۔ مسجد کے اندرلکڑی کے دو کروبی ( فرشتے ) بنائے تھے۔ اور ان پر سونے کی چادر یں چڑھا دی گئی تھیں۔ مسجد کے دروازے صنوبر کی لکڑی کے تھے۔ اور ان پر پھول پتیوں کے نقش و نگار کے علاوہ کرو بیوں ( فرشتوں ) کی صورتیں بھی بنائی گئی تھیں۔ اور ان سب پر سونے کی چادریں منڈھی ہوئی تھیں۔ اس ہیکل ( مسجد) کی تعمیر سات برسوں میں مکمل ہوئی۔ اور ا سکا ایک دروازہ سونے کا بنایا گیا۔ اس کے بعد بیت السلاح صنوبر کے چار کھمبوں کی صفوں پر بنایا گیا۔ ہر صف میں پندرہ پندرہ کھمبے تھے۔ اور اس میں دو سو ترس ( ڈھال ) اور تین سو ورقہ ( ٹکڑے) سونے کے رکھے۔ ہر ڈھال میں چھ چھ سو اعلیٰ درجے کے زمرد جڑے تھے۔ اور ہر ٹکڑے میں تین تین سو یاقوت جڑے ہوئے تھے۔
لوہے اور تانبے کی صنعت
اللہ تعالیٰ نے سورہ سبا میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے ان کے لئے ( حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے ) تانبے کا چشمہ بہا دیا۔“ (سورہ سبا آیت نمبر12) اس آیت سے ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے کی خاطر پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کر دیا۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا یقینی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ ہم تو صرف یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ہاں تاریخ کے مطالعہ اور آثار قدیمہ کی کھدائی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوہے کا استعمال 1200قبل مسیح اور 1000قبل مسیح کے درمیانی وقت میں شروع ہوا۔ اور یہ وقت حضرت داﺅد علیہ السلام کا زمانہ ہے۔ اور اسی دوران تانبے کی صنعت بھی شروع ہوئی۔ اور یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا زمانہ ہے۔ حالیہ فلسطین کے جنوب میں ادوم کا علاقہ آج بھی خام لوہے کی دولت سے مالا مال ہے۔ اور لگ بھگ ساٹھ 60برس پہلے اس علاقے میں آثار قدیمہ کی جو کھدائیاں ہوئی تھیں۔ ان میں کثرت سے ایسی جگہوں کے آثار ملے ہیں جہاں لوہا پگھلا نے کی بھٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ اسی طرح عقبہ اور ایلا سے متصل حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے کی بندرگاہ ( گودی) عصیون ، جابر کی کھدائی میں آثار قدیمہ والوں کو ایک بہت بڑی بھٹی ملی ہے۔ اور تحقیق کرنے پر آثار قدیمہ والے حیران رہ گئے کہ آج کے جدید ترین زمانے میں جو تکنکل ہم اپنی بھٹیوں میں استعمال کرتے ہیں وہی تکنک ہم سے کہیں بہتر طریقے سے اس بھٹی میں استعمال کئے گئے تھے۔ جو حضرت داﺅد اور حضرت سلیمان علیہم السلام کے زمانے کی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا بہت بڑا بحری بیڑہ تھا۔ اس کے علاوہ آپ علیہ السلام کے تجارتی بحری جہاز بحیرہ روم کی بندرگاہوں سے پوری دنیا میں آتے اور جاتے تھے ۔ عصیون جابر میں آپ علیہ السلام کے زمانے کی جو عظیم الشان بھٹی ملی ہے اس کے مقابلے کی آج تک مغربی ایشیاءاور مشرق وسطیٰ میں کوئی بھٹی نہیں ملی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ یہاں ادوم کے علاقہ عربہ کی کانوں سے خام تانبا اور لوہا لایا جاتا تھا۔ اور اس بھٹی میں پگھلا کر صنعتی کاموں اور جہاز سازی میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے تانبے کی صنعت شروع کی۔ اور آپ علیہ السلام کے زمانے میں تانبے کو پگھلانے اور اس سے طرح طرح کی چیزیں بنانے کا کام اتنے بڑے پیمانے پر کیا گیا کہ گویا وہاں تانبے کے چشمے بہہ رہے ہوں۔ حالانکہ کچھ مفسرین کرام نے یہی مطلب لیا ہے کہ آپ علیہ السلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا۔
مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی مسماری
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنے والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام کی وصیت کے مطابق بڑی لگن سے مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی تعمیر کی۔ اور اس طرح بنی اسرائیل کو ایک مرکزی مسجد حاصل ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ اسراءیا سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا ہے کہ اس مسجد کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں یہ مرکزی مسجد رہی۔ آپ علیہ السلام کے بعد بھی اسے مرکزیت حاصل رہی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل میں بے انتہا خرابیاں ہوتی گئیں۔ جن میں سے ایک بڑی خرابی یہ تھی کہ بنی اسرائیل اپنے آپ کو یہودی کہلوانے پر فخر محسوس کرنے لگے۔ بنی اسرائیل کا سب سے بہترین عروج کا دور حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور رہا ہے۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام بنو یہودا قبیلے یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں میں سے جس کا نام یہودا تھا اس کی اولاد میں تھے۔ اسی لئے بنی اسرائیل یہودا کے نام پر اپنے آپ کو یہودی کہلوانے لگے۔ اور ایک بڑی خرابی ان میں یہ بھی پیدا ہو گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت ( توریت) میں ملاوٹ کر دی تھی تا کہ دنیاوی فائدے حاصل کر سکیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ کوئی نبی اُن میں بھیجتے تھے ان کی ان خرابیوں کی وجہ سے بنی اسرائیل انہیں جھٹلاتے تھے۔ اور بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو تو یہ بد بخت قتل بھی کر دیتے تھے۔ ان کی ان خرابیوں کی وجہ سے بنی اللہ تعالیٰ ان پر کسی ظالم بادشاہ کی شکل اپنا عذاب مسلط کر دیتے تھے۔ وہ ظالم بادشاہ یہودیوں ( بنی اسرائیل ) کو محکوم بنا تا تھا۔ اور ان کی مرکزی مسجد یعنی ہیکل سلیمانی کی بے حرمتی کرتا تھا۔ اس طرح سینکڑوں برس گزر گئے۔ اور بنی اسرائیل ذلیل ہوتے رہے ۔ اور دو رمرتبہ تو ایسا ہوا کہ مسجد بیت المقدس ( یعنی ہیکل سلیمانی) کو پورے طور سے مشرک قوموں نے مسمار کر دیا۔ پہلی مرتبہ تو حضرت عزیر علیہ السلام نے پھر سے مرکزی مسجد کی تعمیر کرلی تھی۔ لیکن دوسری مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھوا کر جرام عظیم کیا۔ تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر نازل ہوا۔ اور مشرک قومیں بنی اسرائیل پر ٹوٹ پڑیں اور بنی اسرائیل کا اتنی بری طرح سے قتل عام کیا کہ وہ اپنی جان بچانے بھاگے اور تتر بتر ہو کر پوری دنیا میں بکھر گئے۔ اور مشرک قوموں نے مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کو پوری طرح سے مسمار کر دیا۔ اور صرف اس کی ایک ٹوٹی ہوئی دیوار بچی تھی۔ جس کے پاس جا کر یہودی ( بنی اسرائیل ) روتے ہیں۔ اسی لئے اس دیوار کا نام ”دیوار گریہ “ پڑ گیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھوانے کے جرم میں یہودیوں یعنی بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ جس کی وجہ سے بنی اسرائیل پوری دنیا میں بکھر گئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے عروج عطا فرمایا۔ اور عیسائی دنیا کی سوپر پاور بن گئے۔ بیت المقدس شہر عیسائیوں کے قبضہ میں رہا۔ اور بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو وہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ دنیا میں جہاں جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی وہاں وہاں عیسائی حکمراں بنی اسرائیل کو بری طرح ذلیل کرتے تھے۔ مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کی جگہ ویران پڑی رہی اور چھ سو سال تک ویسے ہی پڑی رہی اور عیسائیوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ لگ بھگ چھ سو سال بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس پر فتح حاصل کی۔ بیت المقدس کے عیسائیوں نے خلیفہ دوم سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا اور امید دلائی کہ ہو سکتا ہے خلیفہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیں۔ حضڑت عمر فاروق رضی اللہ فلسطین تشریف لائے۔ اور تمام عیسائیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی نشانیوں کے مطابق ”چٹان داﺅدی“ ( وہ چٹان جس سے آسمان کی طرف فرشتوں کو آسمان کی طرف جاتے ہوئے حضرت داﺅد علیہ السلام نے دیکھا تھا) تلاش کر کے وہاں مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس کی تعمیر کروائی ۔ تب سے مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا۔ درمیان میں عیسائیوں نے مسلمانوں سے چھین لیاتھا۔ اور بیانوے92سال تک ان کے قبضے میں رہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ”مرد عابد“ صلاح الدین ایوبی کو پیدا فرمایا۔ اور اللہ کے اس نیک بندے اور سپہ سالار نے 92سال بعد اسے عیسائیوں کے پنجے سے آزاد کروایا۔ اس کے بعد پھر یہ کئی سو سال تک مسلمانوں کے پاس رہی لیکن یہودیوں ( بنی اسرائیل) نے سازش کر کے نصاریٰ یعنی عیسائیوں کو فرقوں میں بانٹ دیا۔ اور بر سرا قتدار فرقے کو دوست بنا لیا۔ ان دونوں چالاک قوموں نے مسلمانوں کی سادہ دلی کا فائدہ اٹھا کر ان سے مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس) چھین لی۔ پہلے عیسائیوں نے قبضہ کیا پھر یہودیوں کو دے دیا اور لگ بھگ 70سال سے بیت المقدس بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ اور مسجد اقصی آج بھی مسلمانوں کو پکار رہی ہے۔ جب کہ بنی اسرائیل یہودیوں کا ارادہ مسجد اقصیٰ کو ( نعوذ باللہ ) مسمار کر کے ہیکل سلیمانی بنانے کا ہے۔ اور وہ اپنے منصوبے پر عمل کر رہے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا دورِ حکومت
حضرت سلیمان علیہ السلام نے لگ بھگ چالیس40سال تک اسلامی حکومت کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت وسیع حکومت سے نواز ا تھا۔ آپ علیہ السلام واحد نبی اور حکمراں ہیں جن کی تابعداری انسانوں کے علاوہ جنات ، جانور ، پرندے ، کیڑے مکوڑے ، ہوا یہاں تک کہ درخت اور پیڑ پودے بھی کرتے تھے۔ حالانکہ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی عطا فرمائی تھیں بلکہ اس سے زیادہ عطا فرمائی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت تو صرف زمین پر تھی ، جب کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں پر بھی حکومت عطا فرمائی تھی۔ اور چاند کو بھی سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کا تابعدار بنا دیا تھا۔ ہاں اتنی بات ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ میں تمہیں بادشاہ نبی بناﺅں یا بندہ نبی بناﺅں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہ نبی بننا گوارا نہیں فرمایا۔ اور بندہ نبی بننا پسند فرمایا۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام بادشاہ نبی تھے۔ آپ علیہ السلام کے دور حکومت میں پورے ملک کنعان میں بنی اسرائیل امن اور سکون سے رہتے تھے۔ اور دنیا کی ہر نعمت انہیں میسر تھی۔ آپ علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل کو بہت عروج حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ اور تمام مخلوق کا حاکم بنا دیا تھا۔ اور فرما دیا تھا کہ آپ علیہ السلام جس کے ساتھ جو چاہے سلوک کر سکتے ہیں۔ اور اس کے بارے میں کوئی حساب نہیں ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے ہر ایک کے ساتھ عد ل کیا اور جس کو جو ضرورت تھی وہ عطا فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حکومت کی۔ حضرت اسحاق علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک بنی اسرائیل کا جو دور تھا اس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور سب سے بہترین اسلامی دور تھا۔ درمیان میں حضرت یوسف علیہ السلام کا دور بھی ہے لیکن حضرت یوسف علیہ السلام صرف انسانوں کے حکمراں تھے۔ اسی لئے مجموعی طور سے حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت بنی اسرائیل کے تمام دور کی سب سے بہترین اسلامی حکومت ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کا زوال شروع ہو گیا۔
بنی اسرائیل کے حضرت سلیمان علیہ السلام پر الزامات
اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” یہ لوگ ( بنی اسرائیل یعنی یہودی) جب کبھی کوئی عہد کرتے تھے تو ان کی ایک نہ ایک جماعت سے اسے توڑ دیتی ہے۔ بلکہ ان میں سے اکثر ایمان سے خالی ہیں۔ جب کبھی ان کے پاس اللہ کا کوئی رسول ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا آیا تو ان کتاب والوں کے ایک فرقے نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے ڈال دیا گویا وہ کچھ جانتے ہی نہیں تھے۔ اور ( یہ بنی اسرائیل ) اس چیز کے پیچھے لگ گئے۔ جیسے شیاطین سلیمان ( علیہ السلام ) کی حکومت میں تھے۔ اور سلیمان (علیہ السلام )نے تو(کبھی) کفر نہیں کیا تھا۔ بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھلایا کرتے تھے۔ ( سورہ البقرہ آیت نمبر100سے 102تک) اللہ تعالیٰ ان آیات میں بتا رہے ہیں کہ بنی اسرائیل کتنی زیادہ برائیوں اور گمراہیوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اور حق اور سچ بات جانتے تھے اور سمجھتے تھے۔ اس کے باوجود مانتے نہیں تھے۔ اور جو انبیائے کرام علیہم السلام ان کے پاس حق لے کر آتے تھے انہیں یہ لوگ جھٹلا دیا کرتے تھے۔ اور جن انبیائے کرام علیہم السلام کو یہ بد بخت جھٹلا نہیں پاتے تھے تو ان پر طرح طرح کے الزامات لگا دیا کرتے تھے ۔ جیسے الزامات انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر لگائے ہیں سب سے پہلے تو یہ بد بخت حضرت سلیمان علیہ السلام کو نبی ہی نہیں مانتے ہیں اور صرف بادشاہ مانتے ہیں۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ نعوذ باللہ ان کے گھر میں نعو ذ باللہ چالیس دنوں تک بت پوجا ہوتی رہی۔ جب کہ اللہ تعالیٰ صاف بتا رہے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کبھی کفر نہیں کیا اور نہی ہی اپنی حکومت میں کبھی کفر ہونے دیا۔ بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کے علماءتوریت میں تبدیلی کر کے لکھ دیا کہ نعوذ باللہ آپ علیہ السلام کے زمانے میں شیاطین کفر کرتے تھے۔ اور جادو وغیرہ سکھاتے تھے۔ اور ان کانام لگا کر لوگوں کو جادو سیکھنے کی اجازت دیتے تھے۔ یہ بنی اسرائیل کا بہت بڑا جرم عظیم ہے کہ ان بد بختوں نے اللہ کی کتاب ( توریت) کے ساتھ کھلواڑ شروع کر دیا تھا۔ اور اس میں اپنے دنیاوی فائدے کے لئے رد و بدل کر کے اپنی طرف سے باتیں لکھ دی تھیں۔ بائیبل میں انہوں نے اور بھی بہت سے الزامات حضرت سلیمان علیہ السلام پر لگائے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں کی ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی موت کا اندازہ کر لیا تھا
حضرت سلیمان علیہ السلام تمام درختوں ، پیڑوں اور پودوں اورجڑی بوٹیوں کی زبان بھی سمجھتے تھے۔ اور ان سے باتیں بھی کرتے تھے۔ جو بھی نیا درخت ، پیڑ یا پودہ آپ علیہ السلام کو دکھائی دیتا تھا تو آپ علیہ السلام اس کی خصوصیات اس سے پوچھتے تھے۔ اور یہ بھی دریافت فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے کس کام کے لئے پیدا کیا ہے۔ جب وہ بتا دیتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام کے لئے پیدا فرمایا ہے تو اس سے وہی فائدہ حاصل کر تے تھے ۔ ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام بیت المقدس میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک نیا پودا اگا ہوا ہے۔ جو آگے چل کر درخت بننے والا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے دریافت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے کس کام کے لئے پیدا کیا ہے؟ اور تیرا نام کیا ہے؟ اس پودے نے کہا ۔ میرا نام ”خرنوب “ ہے۔ اور میں اس مسجد کی بربادی ( مسماری) کے لئے پیدا کیا گیا ہوں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ بات میں جانتا ہوں کہ میری زندگی میں اللہ تعالیٰ اس مسجد کو مسمار نہیں ہونے دے گا۔ اور تیرے اگنے سے لگتا ہے کہ اس کی بربادی کے دن قریب ہیں اور تیرا اُگنا میرے لئے اس بات کا اشارہ ہے کہ میری زندگی کے دن بہت کم رہ گئے ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملک الموت سے فرمایا تھا کہ جب بھی میری موت کا وقت قریب آئے تو مجھے بتا دینا تا کہ میں جنات پر یہ ثابت کر سکوں کہ انہیں علم غیب نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں علم غیب ہے۔ جب آپ علیہ السلام کی موت کا وقت قریب آیا تو ملک الموت نے آکر عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، آپ کی زندگی کے کچھ ہی دن باقی بچے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا وصال
اللہ تعالیٰ نے سورہ سبا میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب ہم نے اُن پر (حضرت سلیمان علیہ السلام پر ) موت کا حکم بھیج تو ان کی ( موت ) کی خبر جنات کو کسی نے نہیں دی سوائے گھن کے کیڑے ( دیمک ) کے ، جو ان کے عصا کو کھا رہا تھا۔ پس جب ( حضرت سلیمان علیہ السلام گر پڑے تو اس وقت جناتوں نے جان لیا کہ اگر وہ غیب داں ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہیں رہتے۔“( سورہ سبا آیت نمبر14) حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ ( جلیل القدر تابعی اورمفسر) فرماتے ہیں کہ جنات انسانوں کو کہتے تھے کہ وہ غیب کی چیزوں کو جانتے ہیں۔ اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کل کیا ہوگا۔ تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کے ساتھ ان کا امتحان لیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، جناتوں سے میری موت کو مخفی رکھ۔ تا کہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ جنات غیب کا علم نہیں جانتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عصا لیا ور اس پر ٹیک لگائی اور اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ علیہ السلام کی روح قبض کر لی گئی ۔ آپ علیہ السلام موت کی حالت میں ایک عرصہ تک اسی طرح رہے۔ جب کہ جنات کام کر رہے تھے۔ دیمک نے جب عصا کو کھا لیا تو ااپ علیہ السلام گر گئے ۔ اس وقت انہیں آپ علیہ السلام کی موت کا علم ہوا تو انسانوں پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اگر جناتوں کو غیب کا علم ہوتا تو ایک سال تک اس تکلیف و عذاب میں مبتلا نہیں رہتے۔
وصال کی خبر دیمک کے ذریعے ملی
حضرت سلیمان علیہ السلام کا قاعدہ تھا کہ وہ کبھی ایک ہفتہ، کبھی مہینہ اور کبھی کبھی مہینے اپنی عبادت گاہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے گزارتے تھے۔ وہ اپنا کھانا پانی اتنے دنوں کا ساتھ لے لیا کرتے تھے۔ جب آپ علیہ السلام کو اپنی موت کے قریب ہونے کا علم ہوا تو آپ علیہ السلام کافی دنوں کا کھانا پانی لے کر اپنی عبادت گاہ میں چلے گئے۔ اور اس سے پہلے جناتوں کو ایسے کام کا حکم دے دیا۔ جسے پورا کرنے میں کئی برس لگ جاتے۔ آپ علیہ السلام نے لکڑی کی ایسی چیز بنوائی جس سے ٹیک لگا کر کھڑے رہ سکیں یا بیٹھ سکیں۔ اکثر روایات میں آیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے جس چیز سے ٹیک لگائی تھی وہ عصا تھا۔ وہ کرسی بھی ہو سکتی ہے جس پر آپ علیہ السلام بیٹھے ہوں گے۔ اصل حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ آپ علیہ السلام کے ماتحت جنات دعویٰ کرتے تھے کہ انہیں علم غیب ہے ۔ جنات جھوٹے ہیں یہی بات انسانوں پر ثابت کرنے کے لئے آپ علیہ السلام نے جناتوں کو بڑے مشکل کام سونپ دیئے اور انے حجرے ( جس میں عبادت کرتے تھے ) میں آکر اس لکڑی سے ٹیک لگا کر عبادت میں مصروف ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اسی حالت میں تھے کہ ملک الموت نے روح قبض کر لی۔ تمام جنات کام میں مصروف رہے اور دور سے حجرے کی کھڑکی میں سے دیکھتے تو آپ علیہ السلام کو عبادت میں مصروف پاتے تھے۔ ایک سال تک دیمک اس لکڑی کو کھاتی رہی ۔ ایک سال بعد وہ لکڑی کمزور ہو کر ٹوٹی تو آپ علیہ السلام سجدے میں چلے گئے۔
جناتوں کو افسوس
حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسا جلال عطا فرمایا تھا کہ جو بھی جنات آپ علیہ السلام کے چہرہ مبارک کو غور سے دیکھتا تھا تو جل جاتا تھا۔ ( جنات تو آگ سے ہی بنے ہیں ان کے جلنے کا مطلب یہ تھا کہ وقتی طور پر جل کر بے ہوش ہو جاتے تھے پھر بعد میں ہوش میں آتے تھے تو اپنی اصل شکل میں آجاتے تھے) اسی لئے کوئی بھی جنات آپ علیہ السلام کے قریب جا کر غور سے دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکا۔ اور دور سے دیکھنے پر انہیں ایسا لگا کہ آپ علیہ السلام عبادت کی حالت میں اپنی پوزیشن تبدیل کر لی۔ لیکن نوجوان جنات بہت شریر تھا۔ وہ آپ علیہ السلام کے حجرے کے پاس گیا تو دوسرے جناتوں نے ڈانٹ کر اسے ہٹانے کی کوشش کی۔ وہ جلدی سے کھڑکی کے ذریعے حجرے میں گیا تو وہ فوراً واپس آگیا۔ اور بولا دیکھو مجھے کچھ نہیںہوا ہے۔ اس کی ہمت اور کھل گئی۔ اب وہ حجرے کے اندر داخل ہو کر آپ علیہ السلام کی طرف غور سے دیکھنے لگا۔ تمام جنات دور سے تماشا دیکھ رہے تھے۔ اور سوچ رہے تھے کہ وہ شریر جنات جل جائےگا۔ جب اسے کچھ نہیں ہوا تو تمام جنات ڈرتے ڈرتے قریب آگئے اور دیکھا کہ آپ علیہ السلام کا وصال ہو چکا ہے۔ تمام جناتوں نے انسانوں کو خبر کی۔ اور بنی اسرائیل کے بڑے بڑے علمائے کرام آئے اور تحقیق کے لئے اس لکڑی پر دیمک کو چھوڑ دیا۔ ایک دن اور ایک رات میں دیمک نے جتنی لکڑی کو کھایا تھا اس سے انسانوں نے اندازہ لگایا کہ آپ علیہ السلام نے جس لکڑی سے ٹیک لگائی تھی اسے کھانے میں دیمک کو ایک سال لگا۔ اور ایک سال پہلے ہی حضرت سلیمان علیہ السلام کا وصال ہو چکا تھا۔ اور جنات کو علم ہی نہیں ہوا۔ جس سے یہ ثابت ہو اکہ جناتوں کو علم غیب نہیں ہے۔ اور جناتوں کو افسوس ہو ا کہ ایک سال تک وہ بلا وجہ مشقت میں مبتلا رہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دیمک کا جناتوں نے شکریہ ادا کیا۔ اور شکریہ کے طور پر وہ آج بھی دیمک کو پانی اور مٹی لا کر دیتے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کی حالت
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنا جانشین نہیں بنایا تھا۔ اور اپنے بعد کسی کو حکمراں بھی نہیں بنایا تھا۔ بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کے بیٹے رجعام بن حضرت سلیمان علیہ السلام کو حکمراں بنا دیا۔ یہ بہت نا اہل اور مطلب پرست تھا۔ بادشاہ بننے کے بعد رجعام نے بیت المقدس، بیت لحم ، غزہ ( غازہ) صور اور ایلہ کی عمارتوں کی توسیع کی۔ لیکن وہ بنی اسرائیل پر تشدد کرنے لگا اور ان پر بہت زیادہ ٹیکس لا ددیئے۔ بنی اسرائیل نے ٹیکسوں میں کمی کی مانگ کی تو اس نے رعایت کرنے کی بجائے محاصل اور بڑھا دیئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل دلبرداشتہ ہو کر اس کے خلاف ہو گئے۔ اسی زمانہ میں یر بعام بن نباط مصر سے آگیا۔ بنو یہودا اور بنو بن یامن کے علاوہ باقی بنی اسرائیل کے دس قبیلوں نے یربعام کی حکومت تسلیم کر لی۔ اور بنی اسرائیل دو حکومتوں میں بٹ گئے ۔ اور اس کے بعد ان کا زوال شروع ہو گیا۔
اگلی کتاب
حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں ذحضرت الیاس علیہ السلام اور حضرت یسع علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔
٭........٭........٭