Ambiya Series 12 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Ambiya Series 12 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 15 مئی، 2023

01 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


01 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 1

قارئین کرام، اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت شعیب علیہ السلام کے حالات پیش کر چکے ہیں۔ اب حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام کے حالات پیش خدمت ہیں۔ ان دونوں انبیائے کرام یعنی حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کے حالات پیش خدمت ہیں۔ ان دونوں انبیائے کرام یعنی حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کا زمانہ متصل ہے اور ان دونوں میں رشتہ داری بھی ہے۔ جس کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔ اسی لئے ہم حضرت شعیب علیہ السلام کے ذکر کے فوراً بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات پیش کررہے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا ۔ ہم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات میں بتایا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام ملک مصر کے حکمراں بن گئے تھے اور اپنے والدین اور گیارہ بھائیوں کو مصر بلا لیا تھا۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا پورا خاندان یہیں آباد ہو گیا تھا۔ یہ تمام حالات ہم نے حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کے ذکر میںبیان کئے تھے۔اس کے بعد ان کے ذکر کو روک کر ہم نے آپ علیہ السلام کی اولاد یعنی ” بنی اسرائیل “ کے حالات پیش کریں گے۔ انشاءاللہ ۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد مصر اور بنی اسرائیل کے حالات

حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں۔ اُن کے نام روبیل، یہودا ، شمعون ، لاوی ، ریالون ، یشجر، یسحر ، دان یفتالی ، جاد ، حضرت یوسف علیہ السلام اور بن یامن ہے۔ چونکہ حضرت یوسف علیہ السلام ملک مصر کے حکمراں تھے۔ اسی لئے اپنے والدین اور تمام بھائیوں اور خاندان والوں کو اپنے پاس بلا لیا تھا۔ اور سب لوگ مصر میں ہی بس گئے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی اسلام کی دعوت کو اچھے خاصے مصریوں ( یعنی قبطیوں ) نے قبول کر لیا تھا۔ اور اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔ آپ علیہ السلام کے بعد بھی مصری کافی عرصے تک اسلام پر قائم رہے۔ لیکن ابلیس شیطان کی کاروائی لگاتار جاری رہی۔ اور وہ مصریوں کو لگاتار بہکاتا رہا۔ دھیرے دھیرے مصریوں کے ایمان میں کمزوری آتی گئی اور اُن میں سے اچھے خاصے لوگ کفر میں مبتلا ہو گئے۔ مصریوں کو قبطی کہا جاتا ہے۔ اس لئے آگے ہم مصریوں کو قبطی کہیں گے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ” اسرائیل“ کا لقب عطا فرمایا تھا۔ جس کا عربی میں معنی ہے۔ ”عبداللہ “ اور اردو میںمعنی ہے۔ ” اللہ کا بندہ یا اللہ کا غلام “ اسرائیل عبرانی لفظ ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد اس دوران خوب پھولی پھلی اور ان کی تعداد بڑھتی رہی۔ ان بارہ بھائیوں کی نسل ” بنی اسرائیل“ کہلائی۔ اور یہ سب کے سب اسلام پر قائم رہے۔ اور ملک مصر کے انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ اور ان کا دبدبہ مصر پر رہا۔ وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا۔ اور کئی سو سال میں بنی اسرائیل کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔

بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لگ بھگ دس بیٹے تھے۔ ان میں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام مکہ مکرمہ پر آباد ہو گئی۔ اور اُن کی اولاد ” بنی اسماعیل “ کہلائی۔ اور بنی اسماعیل میں ہمارے پیارے رسول سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ایک بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کے بڑے بیٹے عیص کی اولاد میں حضرت ایوب علیہ السلام تشریف لائے۔اور چھوٹے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ” بنی اسرائیل “ کہلائی۔ اور بنی اسرائیل میں بہت سے انبیائے کرام تشریف لائے۔ اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹوں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل زیادہ مشہور ہوئی۔ بنی اسرائیل کئی سو برس تک مصر میں رہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مصر سے نکلے۔ اب یہاں سے بنی اسرائیل کے انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر مسلسل چلے گا۔ اور اسی مناسبت سے ہم بنی اسرائیل کے حالات بھی پیش کرتے جائیں گے۔ انشاءاللہ ۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں ۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے فرزند حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں۔ جن کا لقب اسرائیل ہے۔ اُن کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے ۔ اور ان کے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام کو بھائیوں نے کنویں میں ڈال دیا تھا۔ جس کا قصہ سورہ یوسف میں مذکور ہے۔ ( تفصیل کے لئے دیکھئے ہماری کتاب ” حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام “) حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں۔ جو حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ اقتدار میں مصر میں جا کر رہنے لگے تھے۔ حضر ت یوسف علیہ السلام کے وصال کے بعد بھی یہ لوگ مصر میں ہی رہے۔ پُشت با پشت وہاں رہنے سے اُن کی نسل بھی بہت زیادہ ہو گئی۔ اور بارہ بھائیوں کی اولاد جو بارہ قبیلوں پر مشتمل تھی۔ اُن کی مجموعی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ 

مصر کے فراعنہ

حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں جو فرعون تھا اُس کا نام ریان بن ولید تھا۔ یہاں ایک بات ذہن میں رکھیں کہ مصر کے حکمرانوں کا لقب فرعون ہوتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کا فرعون الگ تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کا فرعون الگ تھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون الگ تھا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مصر میں بادشاہوں کا ایک خاندان گزرا ہے۔ جو خاندانِ فراعنہ کے نام سے مشہور تھا۔ اُس خاندان کا جو بھی شخص بادشاہ بنتا تھا وہ فرعون کہلاتا تھا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ مصر کے بادشاہ کا لقب فرعون تھا۔ کیوں کہ مصری زبان میں ا سکے معنی بادشاہ ہوتے ہیں ۔ جسے عربی زبان میں سلطان ، فارسی زبان میں بادشاہ ،ہندی زبان میں راجہ اور انگریزی زبان میں کنگ کہتے ہیں۔ اس بادشاہ ( حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کے فرعون کا نام ولید بن مصعب تھا۔) خیال رہے کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ یہی یوسف علیہ السلام کے زمانے میں بھی فرعون تھا۔ مگر یہ غلط ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام ریان بن ولید تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے درمیان چار سو سال کا فاصلہ تھا۔ لہٰذا یہ وہی فرعون کیسے ہو سکتا ہے؟ 

بنی اسرائیل میں ساتھی قوم کے اثرات آگئے

حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں جو فرعون تھا اس نے حکومت کے تمام انتظامات آپ علیہ السلام کو سونپ دیئے تھے۔ اس طرح حکمراں کے طور پر نام تو اس کا چلتا تھا لیکن تمام احکامات آپ علیہ السلام دیتے تھے۔ بعد میں بھی یہی سلسلسہ چلتا رہا اور حکمراں کے ساتھی اور منتظم کے طور پر بنی اسرائیل رہتے تھے۔ اور انہوں نے لگ بھگ دو تین سو سال تک مصر کا انتظام بہت اچھی طرح سے چلایا بھی تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔ اور وہ دنیا میں مبتلا ہو کر عیش پرستی میں مبتلا ہو تے جا رہے تھے۔ مصر میں قبطیوں کی تعداد زیادہ تھی اور ان میں سے اکثر مشرک اور کافر تھے۔ کیوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں جن قبطیوں نے اسلام قبول کیا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ابلیس شیطان کے مسلسل وسوسوں کا شکار ہو کر اُن کی اولادوں نے شرک کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور قبطیوں یعنی مصریوں کے ساتھ رہتے رہتے اُن کے اندر بھی ساتھی قوم کے اثرات پیدا ہو گئے تھے۔ اور وہ لا شعوری طور سے اُن کے ساتھ رہنے والی مشرک قوم کے رسم و رواج قبول کرتے جا رہے تھے۔ جیسے ہندوستان کے مسلمان ہندوﺅں کے ساتھ رہتے رہتے اُن کے اثر قبول کر رہے ہیں۔ ہندو ہر خوشی کے موقع پر پٹاخے پھوڑتے ہیں اور آتشبازی کر تے ہیں۔ اسی طرح ہم مسلمان بھی نکاح ، بارات اور دوسرے خوشی کے موقع پر پٹاخے پھوڑتے ہیں اور آتشبازی کرتے ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کا فرعون

بنی اسرائیل ملک مصر کا انتظام سنبھالتے تھے۔ اور بادشاہ یعنی فرعون صرف نام کا فرعون ہوتا تھا۔ لیکن دھیرے دھیرے بنی اسرائیل میں عیش پسندی اور آرام پسندی پیدا ہوتی گئی اور حکومت پر سے اُن کی گرفت چھوٹتی گئی۔ اور مختلف علاقوں میں قبطیوں نے انتظامات سنبھالنے شروع کر دیئے۔ اس طرح دونوں کے درمیان رسہ کشی شروع ہو گئی۔ اور ملک مصر میں بد نظمی پھیلنے لگی۔ اور حکومت کے اہم عہدے قبطی حاصل کر نے لگے۔ اور بنی اسرائیل کے ہاتھوں سے انتظامات کے عہدے چھوٹنے لگے۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے بیس یا پچیس سال پہلے حکومت کے تمام عہدے بنی اسرائیل سے چھین لئے گئے تھے۔ اور حکومت کے اہم عہدوں پر مصری فائز ہو چکے تھے۔ اور بنی اسرائیل عام عوام کی حیثیت سے رہنے لگے تھے۔ جن کی تعداد کئی لاکھ تھی۔ ایسے حالات میں ولید بن مصعب فرعون بنا۔ اس کے فرعون بننے کی کہانی بھی کافی دلچسپ ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون چونکہ بہت خوب صورت تھا۔ اس لئے لوگ اسے قابو س کہتے تھے۔ جس کے معنی ہے روشن چنگاری ۔ یہ بہت ہی سخت مزاج اور ظالم شخص تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد یعقوب علیہ السلام تک اُن کی اولاد ملک کنعان میں رہی پھر بھائیوں کے حسد کی وجہ سے حضرت یوسف علیہ السلام مصر پہنچ گئے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اُن کو بڑا عروج عطا فرمایا۔ جب کنعان میں سخت قحط پڑا تب حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کی ساری اولاد مصر آگئی اُن سب کو اللہ تعالیٰ نے بڑھایا۔ اور چند صدیوں میں مصر میں ان کی تعداد لاکھوں ہو گئی۔ اور اس عرصہ میں وہاں ( مصر میں ) اسرائیلیوں کا دبدبہ رہا۔ حضرت یوسف علیہ السلام والا فرعون اور اس کے ساتھ مر کھپ گئے۔ اور ملک مصر میں بد نظمی پید اہو گئی۔ ولید بن مصعب جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون ہے یہ شہر اصفہان کا ایک غریب عطار تھا۔ جب اس پر بہت قرض ہو گیا تو اصفہان سے بھاگ کر شام پہنچا لیکن وہاں کوئی ذریعہ معاش ہاتھ نہیں آیا تو روزی کی تلاش میں مصر آیا۔

روزی کی تلاش میں آیا فرعون بن گیا

حضر ت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون روزی کی تلاش میں مصر آیا۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔ یہاں اس نے دیکھا کہ گاﺅں میں تربوز بہت سستے بکتے ہیں۔ اور شہر میں بہت مہنگے۔ اس نے سوچا کہ یہ نفع بخش تجارت ہے۔ اسی لئے اس نے گاﺅں سے بہت سارے تربوز خریدے مگر جب فروخت کرنے کے لئے شہر کی طرف چلا تو راستے میں محصول لینے والوں نے کئی جگہ اس سے محصول لیا ۔ بازار آتے آتے اس کے پاس ایک ہی تربوز بچا ۔ باقی سب محصول ادا کرنے میں چلے گئے تھے۔ یہ سمجھ گیا کہ اس ملک میں کوئی شاہی نظام نہیں ہے۔ جو چاہے حاکم بن کر مال حاصل کر سکتا ہے۔ اس وقت مصر میں کوئی وبائی بیماری پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ مر رہے تھے ۔ یہ قبرستان میں جا کر بیٹھ گیا اور کہا میں شاہی افسر ہون۔ مُردوں پر ٹیکس لگا ہے۔ فی مردہ مجھے پانچ درہم ادا کرو اور دفن کرو۔ اور اس طرح چند روز میں اس نے بہت مال جمع کر لیا۔ ایک روز شاہی گھرنے کا مردہ دفن کے واسطے لایا گیا۔ اس نے اس کے وارثوں سے بھی درہم مانگے تو انہوں نے اسے گرفتار کر کے فرعون کے پاس پہنچا دیا اور سارا واقعہ بادشاہ کو بتایا۔ فرعون نے یعنی بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس نے اس جگہ مقرر کیا ہے؟ ولید بولا میں نے آپ تک پہنچنے کا یہ بہانہ بنایا ہے۔ میں آپ کو خبر دیتا ہوں کہ آپ کے ملک میں بڑی بد نظمی ہے۔ میں نے تین مہینے میں ظلماً اتنا مال جمع کر لیا ہے ۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ دوسرے حکام کتنا کھاتے ہوں گے۔ یہ کہہ کر وہ سارا مال بادشاہ یعنی فرعون کے سامنے ڈال دیا اور کہا۔ اگر آپ انتظام میرے سپر د کر دیں تو میں آپ کا ملک درست کر دوں گا۔ بادشاہ کو یہ بات پسند آئی اور اسے کوئی معمولی عہدہ دے دیا۔ ولید نے ایسا طریقہ اختیار کیا جس سے بادشاہ بھی خوش تھا اور عوام بھی خوش تھی۔ رفتہ رفتہ اسے تمام لشکر کا سپہ سالار بنا دیا گیا۔ اور ملک کا انتظام اچھا ہو گیا۔ جب مصر کا بادشاہ مرا تو رعایا اور درباری اُمراءنے ولید کو بادشاہ یعنی فرعون بنا دیا۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

03 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon



03 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 3

صندوق میں ڈال کر دریا میں چھوڑ دیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے نام میں اختلاف ہے۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی اپنی تفسیر نعیمی میں لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا نام ”عایذ “ ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ امام سہیلی فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا نام ” ایارخا “ ہے کچھ لوگ ”ایا ذخت “ بھی بتاتے ہیں۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کی راہنمائی کی گئی اور ان کے دل اور شعور میں یہ بات ڈال دی گئی کہ حزن و ملال ، رنج و غم اور خوف کی کوئی بات نہیں ہے۔ اگر کچھ وقت کے لئے تمہارا بچہ بچھڑ بھی گیا تو اللہ تعالیٰ اسے تمہارے پاس لوٹا دے گا۔ اور وہ رسول ہو گا اور دنیا اور آخرت میں ا سکی شہرت و عزت ہوگی۔ علمائے کرام فرماتے ہیمعافی کے سال پیدا ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام قتل کے سال پیدا ہوئے ۔ آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کو جب حمل کی گرانی محسوس ہوئی تو بہت پریشان ہوئیں ۔ پہلے ہی دن سے حمل چھپاتی رہیں۔ اور قدرت ِ خداوندی سے کسی کو انہیں دیکھ کر اندازہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ آپ کے یہاں بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ جب بچہ پیدا ہوا تو انہیں الہام ہوا کہ صندوق بنا کر رسی سے باندھ لو ۔ اور جب خطرہ لاحق ہو تو بچے کو اس صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو۔ حضرت عمران کا گھر دریائے نیل کے بالکل کنارے تھا۔ اس لئے والدہ محترمہ آپ علیہ السلام کو دودھ پلاتی رہیں اور جب کسی ظالم سے خوف ہوتا تو اسے صندوق میں رکھ کر دریا میں بہا دیتیں اور کنارے پر رسی پکڑ کر بیٹھ جاتیں۔ اور جب بچوں کے قاتل واپس چلے جاتے تو آپ علیہ السلام کو نکال لیتیں۔ اسی طرح اللہ کے حکم کے مطابق عرصے تک یہی کرتی رہیں۔ اللہ کی قدرت کہ ایک دن معمولی سی غفلت سے رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق دریائے نیل میں بہہ گیا۔ دوسری روایات میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ زیادہ دنوں تک بچے کی بات چھپا نہیں سکتیں تھیں۔ اس لئے ایک دن دل پر پتھر رکھ کر آپ علیہ السلام کو صندوق میں رکھا اور دریائے نیل میں ڈال دیا۔

صندوق فرعون کے محل میں پہنچا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ نے کچھ دنوں تک آپ علیہ السلام کو اپنے پاس رکھا لیکن وہ جانتی تھیں کہ زیادہ دنوں تک فرعون اور اس کے سپاہیوں سے یہ بات چھپی نہیں رہ سکے گی۔ اور اگر معلوم ہو گیا تو آپ علیہ السلام کی جان خطرے میں آجائے گی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک دن آپ علیہ السلام کو صندوق میں ڈالا اور صندوق کو دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اور اپنی بیٹی سے کہا کہ دریائے نیل کے کنارے کنارے چلتی جاﺅ اور صندوق کو دیکھتی رہو کہ کہاں جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ’ موسیٰ (علیہ السلام )کی والدہ محترمہ نے اسکی بہن سے کہا تو اس کے پیچھے پیچھے جا اور اسے دور ہی دور سے دیکھتی رہ اور فرعونیوں کو اس کا علم بھی نہیں ہوا۔ “ ( سورہ القصص آیت نمبر11) مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ والدہ محترمہ نے آپ علیہ السلام کو غسل دیا اور عمدہ کپڑے پہنائے خوشبو لگائی اور صندوق میں رکھ کر روتی ہوئی دریائے نیل پر لے گئیں اور اللہ کے حوالے کر کے دریا میں ڈال دیا۔ دل بہت بے چین ہوا۔ مگر قدرتی طور سے تسکین ہوئی کہ یہ بچہ پھر مجھ کو ہی ملے گا۔ دریائے نیل سے ایک نہر نکال کر فرعون کے باغ تک پہونچائی گئی تھی۔ اس نہر کا نام عین الشمس تھا۔ یہ صندوق اس نہر میں داخل ہو کر فرعون کے باغ میں پہنچ گیا۔ 

فرعون کی بیوی نے بیٹا بنا لیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بڑی بہن دریائے نیل کے کنارے کنارے صندوق کے ساتھ ساتھ چلتی جارہی تھی۔ اس نے دیکھا صندوق فرعون کے محل میں جانے والی نہر میں داخل ہو کرمحل میں کے اندر داخل ہو گیا۔ یہ دیکھ وہ فوراََواپس آ ئی اور والدہ محتر مہ کو آ کر بتایا کہ صندوق اس نہر میں داخل ہو گیا۔ جو فر عون کے محل میں جا تی ہے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ فرعون کو صندوق مل جائے گا۔یہ سن کر آپ علیہ السلا م کی والدہ محتر مہ گھبرا گئیں اور اللہ تعالیٰ سے آپ علیہ السلام کے لئے دعا کرنے لگی۔اور اپنی بیٹی سے کہہ کر کہ تم فرعون کے محل کے آس پاس رہو اور دیکھو کہ کیا ہوتا ہے۔اُدھر صندوق فرعون کے باغ میں آکر رک گیا اور اس کے سپا ہیوں یا کنیزوں نے صندوق لا کر فر عون اوراس کی بیوی کے سامنے پیش کیا اللہ تعالیٰ نے اس کہ بارے میں فر مایا۔ترجمہ َََََ”آخر فرعون کے لوگوں نے اس بچے کو اٹھا لیا اور آخر کار یہی بچہ اس کا دشمن ثابت ہوا ۔اس کے رنج کا باعث بنا ۔اور کچھ شک نہیں کہ فرعون اور ہامان اور اس کے لشکر تھے ہی خطا وار۔اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔اسے قتل نہ کرو۔بہت ممکن ہے کہ ہمیں فائدہ پہنچائے۔یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔اور یہ لوگ شعور نہیں رکھتے۔“(سورة القصص آیت نمبر8اور9)مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہےں۔یہ صندوقچہ فرعون کے باغ میں پہنچا۔اس وقت فرعون باغ کی سیر کر رہا تھا۔اور اس کی بیوی سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہ اور دیگر خاص لوگ بےٹھے تھے۔یہ لوگ اس صندوقچہ کو اٹھا کر فرعون کے پاس لائے۔اس نے جو اس کو کھولا تو اس میں نہایت حسین وجمیل لڑکا پایا۔ فوراََ اس نے کہا یہ وہی لڑکا ہے جس کی نجو میوں نے خبر دی تھی۔یہ میرا اقبال ہے کہ یہ خود بخود میرے پاس آ گیا۔اس کو فوراََقتل کر دیا جائے۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہ نے آپ علیہ السلام کا حسن و جمال دیکھا تو بے ساختہ دل میں مامتا ابھر آئی۔اورفرعون سے بولی کہ تو نے صرف گمان پرہزاروں بچوں کا قتل کر دیا۔اب اس بچے کو قتل نہ کراﺅ۔شاید یہ بچہ کسی اور جگہ سے آ رہاہو اور ہو سکتا ہےکہ بنی اسرائیل نہ ہو۔ میرا تو کوئی بیٹا نہیں ہے۔میں تو اس کواپنا بیٹا بناﺅں گی ۔اللہ تعالیٰ نے میری گود بھر دی ہے۔فرعون نے اپنی بیوی کی بات مان لی فرعون نے اپنی بیوی کی بات مان لی اور آپ علیہ السلام کو اسی کے پاس رہنے دیا۔

سیدہ آسیہ کے لئے فائدے مند

سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا فرعون کی بیوی تھیں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ لونڈیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بند صندوق کو دریا سے نکال لیا اور اس وقت تک کھولنے کی جسارت نہیں ہوئی جب تک فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس صندوق کو رکھ نہیں دیا گیا۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کا شجرہ نسب بیان کرتے ہوئے مفسرین کرام لکھتے ہیں۔ آسیہ بنت مزاحم بن عبید بن ریان بن ولید ۔ ولید وہ شخص ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں مصر کا بادشاہ یعنی فرعون تھا۔ بعض علماءکا خیال ہے کہ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل سے تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدہ آسیہ آپ علیہ السلام کی پھوپھی تھیں۔ یہ رائے امام عبدالرحمن بن عبداللہ سہیلی کی ہے۔ ( واللہ اعلم) سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے صندوق کھولا اور پردہ ہٹا کر دیکھا تو اس چمکتے چہرے کو دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ نورِ نبوت ضوفشاں تھا اور جلالت ِ موسوی سے آنکھیں خیرا ہو ا جاتی تھیں۔ نظر پڑتے ہی سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا تو دل سے فریفتہ ہو گئیں۔ فرعون آیا اور پوچھنے لگا یہ کیا ہے؟ اسے جب اس بچے کی بابت بتایا گیا تو اس نے حکم دیا کہ اسے فوراً ذبح کر دیا جائے۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے بچے کی جاں بخشی کی التجا کی اور کہا۔ میرے لئے اس بچے کی جان بخش دو اور اسے قتل نہ کرو۔ فرعون کے سوئے ہوئے جذبے کو ابھارنے کےلئے کہنے لگیں۔ یہ بچہ تو میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا۔ فرعون کہنے لگا۔ تیری آنکھوں کے لئے ٹھنڈک تو ہو سکتا ہے لیکن مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ شاید یہ ہمیں نفع دے۔ آسیہ کو تو وہ نف اللہ تعالیٰ نے عطا کر دیا جس کی امید وہ لگا ئے ہوئے تھیں۔ دنیا میں اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے ہدایت نصیب ہوئی اور آخرت میں اُن پر ایمان لانے کی وجہ سے جنت الفردوس کی بہاریں نصیب ہو ں گی۔ اللہ تعالیٰ نے سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ۔ جب اس نے دعا کی کہ اے میرے رب، میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا۔ اور مجھے ظالم لوگوں سے خلاصی دے۔(سورہ التحریم آیت نمبر11)

والدہ محترمہ سے ملا دیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کے پہنچنے سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا۔ یہ کہنے لگیں کہ کیا ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍمیں تمہیں ایسا گھرانہ بتاﺅں جو اس بچہ کی تمہارے لئے پرورش کرے اور وہ اس بچے کے خیر خواہ بھی ہوں۔ پس ہم نے اسے اس کی والدہ محترمہ کی طرف واپس پہنچایا۔ تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور رنجیدہ نہ ہو۔ اور جان لے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر12اور 13)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں ۔ اے فرعون ، اس معصوم بچے کے قتل سے کیا فائدہ ؟ یہ ہمارے لئے فائدے مند ثابت ہو سکتا ہے اور ہو سکتا ہے ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔ شاید اسی وجہ سے انہوںنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا کیوں کہ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”اور وہ ( اس تجویز کے انجام کو ) نہیں سمجھ سکے۔“ یعنی اُن کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں ( یعنی فرعون اور اس کے لشکر کو ) اسی بچے کے ذریعے نیست و نابود کر دے گا۔ اور فرعون اور اس کی بادشاہت کا خاتمہ اس بچے کے ہاتھ پر مقدر ہو چکا ہے۔مفتی احمد یا ر خان نعیمی لکھتے ہیں۔ اب سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے شہر کی دائیاں ( دودھ پلانےوالیاں) بلوائیں جو آپ علیہ السلام کو دودھ پلائے۔ آپہ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ مریم بھی وہاں موجود تھیں۔ کہنے لگیں ۔ ایک بہت قابل دائی ہے اس کا دودھ بہت اچھا ہے اسی شہر میں رہتی ہے۔ کہو تو اسے بلا لوں۔ فرعون بولا فوراً لاﺅ۔ وہ اپنی والدہ کو لے آئیں۔ آپ علیہ السلام نے دودھ پیا اور ان کی گود میں سو گئے۔ فرعون نے ان کی ایک اشرفی روزانہ اجرت مقرر کر دی اور کہا تم اس بچے کی پرورش کرو۔ قدرت کے قربان ، فرعون نے جس ڈر سے بارہ ہزار بچے ذبھ کر ائے اس کی خود پرورش کر رہا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے گھر میں قیام پذیر ہوئے تو حشم و خدم نے بہت کوشش کی کہ بچہ کسی عورت کا دودھ پینے لگے۔ لیکن اس نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ اور نہ ہی کوئی خوراک کھائی۔ وہ اس صورتِ حال کو دیکھ کر بہت پریشان ہوئے۔ ہر ممکن کوشش کی بچہ کچھ کھا پی لےکن بے سود۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” اور ہم نے حرام کر دیں اس پر ساری دودھ پلانے والیاں ۔“ بہت سی عورتیں اور دائیاں آپ علیہ السلام کو لے کر بازار میں آئیں کہ ہو سکتا ہے کسی عورت کا دودھ بچے کو موافق آجائے۔ بازار میں لوگوں کا جمگھٹا لگا تھا۔ سب دیکھ رہے تھے کہ فرعون کا متبنی ( گود لیا ہوا) دیکھو کس عورت کا دودھ پیتا ہے۔ اسی دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کی نظر پڑ گئی کہ یہ تو میرا بھائی ہے اور اسے دودھ پلانےکی سر توڑ کوشش ہو رہی ہے۔ بہن آگے بڑھی اور یہ اظہار نہیں کیا کہ میں اسے جانتی ہوں۔ بلکہ لا علمی کے انداز میں بولی ۔ کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کا پتہ دوں جو تمہاری خاطر اس بچے کی پرورش کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بہن نے یہ بات کہی تو فرعون کے خادم کہنےلگے۔ کیا وجہ ہے کہ تو نصیحت کر رہی ہے اور بچے کی خیر خواہی پر انہیں ابھار رہی ہے؟ بہن نے کہا۔ چونکہ میں بادشاہ کی خوشی اور اس کے بھلے کی خواہش مند ہوں اسی لئے کہہ رہی ہوں ۔ لوگوں نے بہن کو چھوڑ دیا اور اس کے ساتھ گھر گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی ماں نے گود میں لیا ور آپ علیہ السلام دودھ پینے لگے۔ لوگ خوش ہو گئے اور خوش خبری دینےکے لئے سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھاگے بھاگے گئے۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ سے فرمایا ۔کہ آپ میرے محل میں رہیں اور آپ کا پورا خیال رکھوں گا۔ لیکن انہوں نے انکار کر دیا ۔ اور کہا۔ میں اپنے شوہر اور بچوں کو نہیں چھوڑ سکتی۔ انہیں میری ضرورت ہے۔ ہاں آپ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے ساتھ لے جاتی ہوں۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا مان گئیں۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ محترمہ کےساتھ گھر واپس آگئے۔ اور ماں بیٹے کی جدائی وصال میں بدل گئی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 


04 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon



04 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے روک دیا

سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے جب صندوق میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نکالا تو فرعون نے کہا۔ یقینا یہ بنی اسرائیل کا بچہ ہو گا اور اس کی جان بچانے کے لئے دریائے نیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ لاﺅ میں اسے قتل کر دیتا ہوں۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے آپ علیہ السلام کو اپنی آغوش میں چھپا لیا اور کہا۔ اس بچے کو میرے لئے چھوڑ دو۔ میں اسے پالوں گی۔ اس کی پرورش کروں گی۔ ہو سکتا ہے یہ بڑا ہو کر ہم کو فائدہ پہنچائے۔ ویسے بھی ہماری کوئی اولاد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑا ہو کر ہمیں فائدہ پہنچائے گا۔ تو فرعون کا تو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہاں سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کا فائدہ ہو گیا۔ اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعلان ِ نبوت کیا تو آپ رضی اللہ عنہا اُن پر ایمان لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہا کو جنتی فرمایا ہے۔ جب آپ علیہ السلام کو بھوک لگی تو رونے لگے۔ فرعون اور سیدہ آسیہ نے دودھ پلانے والیوں کو بلوایا لیکن آپ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ بس روئے ہی جا رہے تھے۔ یہ بات محل کے باہر تک پہنچ گئی۔ وہاں آپ علیہ السلام کی بہن موجود تھی۔ اس نے درباریوں اور پہریداروں سے کہا۔ ایک عورت کو میں لے کر آتی ہوں شاید اُن کا دودھ یہ بچہ پیئے۔ فرعون اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو آپ علیہ السلام کی بہن اور والدہ محترمہ کو اندر بلوایا۔ آپ علیہ السلام اپنی والدہ محترمہ کی آغوش میں آتے ہی چپ ہو گئے اور دودھ پینے لگے۔ والدہ محترمہ نے جیسے ہی آپ علیہ السلام کو گود میں لیا اور سینے سے لگایا تو اُن کے منہ سے ” میر ا بچہ “ نکلنے والا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے روک دیا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا دل بے قرار ہو گیا ۔ قریب تھیں کہ اس واقعہ کو بالکل ظاہر کر دیتیں۔ اگر ہم ان کے دل کو ڈھارس نہیں دے دیتے ۔ یہ اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں رہے۔“(سورہ القصص آیت نمبر10)

فرعون کی داڑھی نوچ لی

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب دو سال کے ہوئے تو والدہ محترمہ نے دودھ چھڑا دیا۔ اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا آپ علیہ السلام کی پرورش کرنے لگیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔ فرعون نے آپ علیہ السلام کو بیٹا لیا اور لوگوں نے انہیں فرعون کا بیٹا کہنا شروع کر دیا۔ جب آپ علیہ السلام کھیلنے کودنے والے ہو گئے تو ایک روز سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا آپ علیہ السلام کو کِھلا رہی تھیں کہ فرعون آگیا۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ لو اس بچے کو یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ یہ سن کر فرعون نے کہا۔ یہ تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میری آنکھوں کی نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ یہ کہہ دیتا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آتا لیکن اس نے انکار کر دیا۔ بہر حال اس نے آپ علیہ السلام کو اٹھایا اور کھلانے لگا۔ آپ علیہ السلام نے فرعون کی داڑھی پکڑ لی اور نوچ لیا۔ ( حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اتنی زور سے فرعون کی داڑھی کو نوچا تھا کہ بالوںکا گچھا اکھڑ گیا تھا) فرعون کو غصہ آگیا اور اس نے کہا ذبح کرنے والوںکو بلواﺅ۔ یہ وہی لڑکا ہے جس سے میری حکومت ختم ہو جائے گی۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے فوراً کہا ۔ دیکھو اسے قتل مت کرو۔ یہ نا سمجھ بچہ ہے اس نے نا سمجھی میں ایسا کیا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ پورےمصر میں مجھ سے زیادہ زیورات پہننے والی کوئی عورت نہیں ہے۔ میں اس کے سامنے ایک یاقوت کا ہیرا رکھ دیتی ہوں اور ایک طرف انگارہ رکھ دیتی ہوں اگر اس نے یاقوت کو اٹھا لیا تو سمجھ دار ہے اور اسے قتل کر دیا جائے۔ اور اگر اس نے انگارے کو اٹھا لیا تو یہ نا سمجھ ہے۔ آپ علیہ السلام نے یاقوت اٹھانے کا ارادہ کا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کا ہاتھ انگارے کی طرف کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انگارہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیا۔ جس سے آپ علیہ السلام کی زبان جل گئی اور لکنت پیدا ہو گئی۔ اسی کے بارے میں آپ علیہ السلام نے یہ دعاکی تھی کہ ” اے اللہ ، میری زبان کی گرہ کھول دے تا کہ وہ میری زبان کو سمجھ سکیں۔“ 

فرعون کے محل میں جوان ہوئے

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آزمائش کے بعد فرعون کا شک دور ہو گیا۔ اور آپ علیہ السلام اپنی والدہ محترمہ اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کی دیکھ ریکھ میں بڑے ہو نے لگے۔ وقت گزرتا رہا اور آپ علیہ السلام جوان ہو گئے۔ اسی دوران آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ نے سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتا دیا تھا کہ میں ہی آپ علیہ السلام کی سگی والدہ ہوں۔ اور دونوں کو تمام حالات بتا دیئے تھے کہ کس طرح آپ علیہ السلام فرعون کے محل میںپہنچے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام جوان ہوئے اور دیکھا کہ فرعون اور قبطی ( مصری لوگ) کس طرح بنی اسرائیل پر ظلم کر رہے ہیں اور انہیں غلام بنا کر رکھا ہوا ہے۔ تو آپ علیہ السلام کا دل کڑھتا تھا اور اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانا چاہتے تھے۔ لیکن اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے ابھی تک کوئی راہنمائی نہیں فرمائی تھی۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کوئی کاروائی نہیں کر رہے تھے۔ اسی دوران وہ واقعہ پیش آیا جس نے آپ علیہ السلام کی زندگی کا رخ بدل دیا۔

ایک ہی گھونسے میں قبطی کی موت

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے رخ کو بدل دینے کے واقعہ کے بارے میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام شہزادے کی طرح فرعون کے محل میں پلتے رہے۔ بہترین اعلیٰ سواریاں تھیں۔اور شاہی لباس جو فرعون پہنتا تھا۔ویسا ہی شاہی لباس آپ علیہ السلام بھی پہنتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کو پورے ملک میں شہزادہ موسیٰ بن فرعون کہا جاتا تھا۔ایک روز کا واقعہ ہے کہ فرعون اپنے وزیروں ، درباریوں اور شاہی دستے کے ساتھ کسی کام سے باہر گیا ۔ آپ علیہ السلام بھی ساتھ میں تھے۔ جب فرعون نے واپسی کا ارادہ کیا تو آپ علیہ السلام کہیں گئے ہوئے تھے۔ اس نے کچھ دیر انتظار کیا پھر واپس اپنے ساتھیوں کو لے کر آگیا۔ آپ علیہ السلام اکیلے ہی واپس آئے اور جب شہر میںداخل ہوئے تو عین دوپہر کا وقت تھا۔ اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں قیلولہ کر رہے تھے۔ اس وقت بازار بند تھے اور کوئی نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک قبطی ( مصری) ایک بنی اسرائیل کے شخص کو مار رہا ہے۔ حالانکہ یہ مصر میں عام بات تھی۔ اور قبطی اسی طرح کھلے عام بنی اسرائیل کو ذلیل کر تے رہتے تھے لیکن اس وقت بنی اسرائیل کے شخص نے آپ علیہ السلام سے مدد کی درخواست کی تو آپ علیہ السلام دونوں کے قریب گئے اور قبطی کو سمجھانے لگے۔ لیکن قبطی اس شخص پر بہت ناراض تھا۔ اور آپ علیہ السلام کے سمجھانے کے باوجود بنی اسرائیل کے شخص کو مارتا جا رہا تھا۔ اسی وجہ سے آپ علیہ السلام غصے میں آگئے اور قبطی کو ایک مُکّہ ( گھونسہ) ماردیا۔ آپ علیہ السلام کو اندازہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کتنی طاقت عطا فرمائی ہے ۔ گھونسہ لگتے ہی وہ قبطی گرا اور مر گیا۔ آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے شخص نے حیرانی سے اس گرے ہوئے قبطی کو دیکھا اور جب اندازہ ہو ا کہ وہ قبطی مر چکا ہے تو بنی اسرائیل کا وہ شخص جلدی سے بھاگ گیا اور آپ علیہ السلام بھی اپنی سواری پر سوار ہو کر محل میں واپس آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور موسیٰ (علیہ السلام )ایسے وقت شہر میں آئے جب شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا۔ ایک تو اس کے رفیقوں ( بنی اسرائیل) میں سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں ( قبطیوں ، مصریوں) میں سے تھا۔ اس کی قوم والے نے دشمن قوم والے کے خلاف فریاد کی۔ جس پر موسیٰ (علیہ السلام )نے اس کو مُکّا یعنی گھونسہ مارا۔ جس سے وہ مر گیا۔ موسیٰ ( علیہ السلام )نے فرمایا۔ یہ تو شیطانی کام ہے۔ اور یقینا شیطان کھلا دشمن اور بہکانے والا ہے۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر 15)

قتل کا راز کھل گیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے محل میں واپس آگئے۔ لیکن یہ اندیشہ آپ علیہ السلام کو لگا تار ہو رہا تھا کہ قتل کا راز کھل نہ جائے۔ اور اسی اندیشے کی وجہ سے کچھ خوف محسوس کرتے ہوئے اپنے محل سے باہر آئے اور شہر میں گھومنے لگے۔ لیکن شہر میں ایسا کچھ نہیں تھا اور حالات بالکل نارمل تھے۔ آپ علیہ السلام بازار میں داخل ہوئے۔ وہاں کافی بھیڑ اور گہما گہمی تھی۔ وہیں بازار میں دیکھا کہ کل والا بنی اسرائیل کا شخص ایک دوسرے قبطی سے لڑ رہا ہے۔ اس نے آپ علیہ السلام کو دیکھا تو پھر مدد کے لئے بلایا۔ آپ علیہ السلام نے اس شخص کو ڈانٹا اور فرمایا کہ تو ہمیشہ کسی نہ کسی سے لرتا ہی رہتا ہے کیا؟ اور دونوں کو چھڑانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو بنی اسرائیل کا شخص زور زور سے بولنے لگا۔ کیا تم مجھے اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح کل اس قبطی کو قتل کیا تھا؟ وہ اتنی زور سے کہہ رہا تھا کہ بازار میں موجود اچھے خاصے لوگوں نے سن لیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ شیطان کی طرف سے تھا اور بے شک شیطان کھلا ہوا گمراہ ہے۔ اور دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن دونوں ڈر کے بھاگ گئے۔ بازار میں بھی لوگوں نے شہزادہ موسیٰ بن فرعون کے لئے راستہ چھوڑ دیا۔ اور آپ علیہ السلام شہر سے باہر ایک نخلستان میں آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” صبح ہی صبح اندیشہ کی حالت میں ڈرتے ہوئے شہر میں گئے تو دیکھا کہ اچانک وہی شخص جس نے کل مدد طلب کی تھی اُن سے فریاد کر رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے اس سے کہا کہ اس میں شک نہیں ہے کہ تو صریح ( کھلا ہوا ) بے راہ ہے۔ پھر جب اپنے دشمن کو پکڑنا چاہا تو وہ فریادی کہنے لگا کہ اے موسیٰ تو نے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کیا تھا آج اُسی طرح مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے۔ ؟ توُ تو ملک میں ظالم اور سر کش ہی ہو ا چاہتا ہے اور تیرا ارادہ ہی نہیں ہے کہ تو ملاپ کرانے والوں میں سے ہو۔“( سورہ القصص آیت نمبر18-19)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا حکم

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں جس دن قبطی کا قتل ہوا تھا اسی دن قبطیوں نے فرعون کے دربار میں یہ مقدمہ پیش کیا تھا۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ فرعون کے پاس گئے اور اسے بتایا کہ بنی اسرائیل کے لوگوں نے ہمارے ایک آدمی کا قتل کر دیا ہے۔ لہٰذا آپ ہمیں ہمارا حق دلوائیے۔ یعنی انہوں نے قصاص کا مطالبہ کیا۔ تو فرعون نے کہا کہ قاتل کو تلاش کرو اور ایسا شاہد پیش کرو جو اس کے خلاف گواہی دے ۔ کیوں کہ بغیر گواہوں کے فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ وہ قاتل کی تلاش کے لئے ادھر ادھر گھومتے رہے لیکن کوئی پختہ ثبوت نہیں پا سکے۔ لیکن دوسرے روز اس بنی اسرائیل کی نادانی کی وجہ سے سب کو معلوم ہو گیا اور وہ قبطی جو دوسرے دن لڑ رہا تھا اس نے جا کر فرعون کو بتا دیا کہ قاتل حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ فرعون نے فوراً دربار بلوایا۔ اور اس میں رائے مشورہ ہونے لگا کہ آپ علیہ السلام کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ ابھی یہ مشورہ چل ہی رہا تھا کہ ایک شخص دوڑتا ہوا اس نخلستان تک پہنچا اور بتایا کہ آپ علیہ السلام کے خلاف مشورہ ہو رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام کو گرفتار کر لیا جائے۔ یا پھر قتل کر دیا جائے۔ اکثر علمائے کرام نے اس شخص کا نام حزئیل لکھا ہے۔ اور وہ آلِ فرعون میںسے مردِ مومن تھا۔ بعض علمائے کرام نے اس کا نام شمعون بتایا ہے۔ اور بعض نے سمعاذکر کیا ہے۔ وہ بہت تیز چل کر آیا تھا اور قریبی راستے سے آیا تھا۔ اور کہا کہ اے موسیٰ(علیہ السلام )فرعون اور درباری آپس میں مشورہ کر رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ معاملہ ابھی مخفی ہے لیکن وہ ایک دوسرے کو مشورہ دے رہے تھے کہ آپ علیہ السلام کو قتل کر دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتاہوا آیا اور کہنے لگا ۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )یہاں کے سردار آپ کے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں۔ پس آپ جلدی سے یہاں سے چلے جائیے اور میں آپ (علیہ السلام )کا سچا خیر خواہ ہوں۔ ( سورہ القصص آیت نمبر20)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

05 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


05 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 5

مدین کی طرف ہجرت

حضرت موسیٰ علیہ السلام اس نخلستان سے نکلے اور ایک طرف چل پڑے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے راہنمائی کی دعا کو تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ بھیجا۔ جس نے آپ علیہ السلام کو راستہ بتایا اور لے کر چلا چلتے چلتے جب مدین کے قریب پہنچے تو وہ فرشتہ چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس موسیٰ وہاں سے ادھر اُدھر دیکھتے بھاگتے نکل کھڑے ہوئے ۔ کہنے لگے اے میرے رب، مجھے ظالموں کے گروہ سے بچا لے۔ اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہنے لگے ۔ مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ لے چلے گا۔ ( سورہ القصص آیت نمبر21اور 22) امام قرطبی لکھتے ہیں۔ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تلاش میں آدمی بھیجے اور کہا۔ ان جگہوں پر اسے تلاش کرو جہاں سے پہاڑی راستے الگ ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام سے واقف نہیں تھے۔ ایک فرشتہ آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا میرے ساتھ چلئے آپ علیہ السلام اس کے ساتھ چلتے رہے۔ درختوں کے پھل اور پتے کھاتے رہے چلتے چلتے جوتے گھس گئے اور موزے بھی چیتھڑے ہو گئے۔ پیروں میں چھالے آ گئے اور کئی دنوں کا سخت تکلیف دہ اور دشوار گزار سفر کر کے مدین کے قریب پہنچے۔ امام مقاتل اور امام سدی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو آپ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا۔ اور مصر سے مدین کا فاصلہ ( گھوڑے کی سواری پر ) آٹھ 8 دنوں کا ہے۔ یہ ابن جبیر کا قول ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایات میں ہے کہ مصر سے مدین کا فاصلہ آٹھ راتوں کا ہے ۔ گویا کہ کوفہ سے بصرہ تک کی مسافت ہے۔ آپ علیہ السلام کے پاس درختوںکے پتے کے علاوہ کھانے کا کوئی اور سامان موجود نہیں تھا۔ جب آپ علیہ السلام مدین کے قریب پہنچے تو آپ علیہ السلام کے پاﺅں پھٹ چکے تھے۔ 

مدین کے کنویں پر

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدین کے قریب چھوڑ کر وہ فرشتہ چلا گیا۔ آپ علیہ السلام پانی کی تلاش کرتے ہوئے مدین کے کنویں پر پہنچے۔ آپ علیہ السلام کے پیر مبارک چلتے چلتے پھٹ گئے تھے۔ اور خون نکل رہا تھا۔ کنویں کے قریب جا کر آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو لے کر کھڑی تھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا ۔ ترجمہ ” مدین کے پانی پر جب آپ علیہ السلام پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت وہاں پانی پلا رہی ہے اور دو لڑکیاں الگ کھڑی اپنے ( بکریوں کو ) روکتی ہوئی دکھائی دیں۔ پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ وہ بولیں کہ جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد محترم بڑی عمر کے بوڑھے ہیں۔ “ پس آپ (علیہ السلام ) نے خود اُن جانوروں کو پانی پلا دیا۔ پھر سائے کی طرف ہٹ آئے اور فرمایا۔ اے میرے رب، جو کچھ بھی بھلائی تو میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔ ( سورہ القصص آیت نمبر23اور 24) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچے تو وہاں اچھے خاصے چرواہے اپنے جانوروں کو باری باری پانی پلا رہے تھے۔ اور دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو ( پانی پینے سے ) روک رہی تھیں۔ آپ علیہ السلام نے ان سے دریافت فرمایا ۔ تم دونوں اپنی بکریوں کو پانی کیوں نہیں پلا رہی ہو؟ دونوں نے کہا۔ جب یہ تمام چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں گے تب ہم اپنی بکریوں کو پانی پلائیں گے۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ کیا تمہارے گھر میں کوئی مرد نہیں ہے؟ جو تم یہ بکریاں چرانے آئی ہو۔ دونوں نے جواب دیا۔ صرف ہمارے والد محترم ہیں اور وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ بکریاں نہیں چر اسکتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا ۔ کیا تمہارے گھر کے قریب بھی کوئی کنواں ہے؟ دونوں نے جواب دیا۔ اتنا بڑا کنواں تو نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹی سے باوڑی( چھوٹا کنواں) ہے ۔ جس پر ایک پتھر ہے اور اس پتھر نے کنویں کو ڈھانپ رکھا ہے۔ اور یہ اتنا وزنی ہے کہ کئی آدمی مل کر ہی اسے اٹھا سکتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ دونوں چلو اور مجھے دکھاﺅ۔ دونوں اپنی بکریوں اور آپ علیہ السلام کو لے کر اس چھوٹے کنویں پر آئیں۔ اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ جس پتھر کو کئی لوگ مل کر اٹھاتے تھے اسے آپ علیہ السلام نے اکیلے اٹھا لیا اور تمام بکریوں کو پانی پلایا اور خود بھی پانی پیا۔ پھر دوبارہ پتھر کو اٹھا کر وہیں رکھ دیا۔ پھر سائے میں جا کر بیٹھ گئے اور فرمایا۔ اے میرے رب، تو جو بھی خیر و برکت میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں ۔ دونوں لڑکیوں نے آپ علیہ السلام کے الفاظ سنے اور بکریوں کو لے کر چلی گئیں۔ تاریخ طبری اور دوسری تفاسیر میں کچھ الفاظ کے فرق سے یہ واقعہ درج ہے کہ اسی کنویں کا پتھر ہٹایا تھا جہاں ملاقات ہوئی تھی۔ 

حضرت شعیب علیہ السلام کے گھر

اس سے پہلے ہم آپ کو پچھلی کتاب ( حضرت شعیب علیہ السلام سلسلہ نمبر9) میں حضرت شعیب علیہ السلام کاتفصیلی ذکر کر چکے ہیں۔اور اس میں ہم نے بتایا تھاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکرمیں بھی آپ علیہ السلام کا ذکر آئے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جس نخلستان میں تشریف فرما تھے۔ وہ حضرت شعیب علیہ السلام کا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں۔دونوں لڑکیاں اپنے گھر والد محترم کے پاس پہنچیں تو انہوںنے حیرانی سے فرمایا۔ ارے آج تم دونوں اتنی جلدی آگئیں؟ تو انہوںنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا اور پورا واقعہ سنادیا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا۔ اُسے بلا لاﺅ۔ میں اسے کچھ انعام دوں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اُسی نخلستان میں سائے میں آرام فرما رہے تھے کہ دیکھا کہ اُن دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی شرماتی ، لجّاتی ، اور چادر کے اندر اپنے آپ کو سمیٹتی ہوئی آئی اور کہا۔ میرے والد محترم آپ (علیہ السلام )کو بلا رہے ہیں ۔ آپ نے جو ہماری بکریوں کو پانی پلایا ہے ہو سکتا ہے اس پر آپ ( علیہ السلام )کو کوئی اجرت دیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک ہے چلو۔ وہ لڑکی آگے چلنے لگی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم ایسا کرو ، میرے پیچھے چلو اور پیچھے سے مجھے راستہ بتاتی رہو۔ کیوں کہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہوں ۔ اور اُن کی شریعت کے مطابق تمہیں دیکھنا میرے لئے اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے۔ اس طرح آپ علیہ السلام آگے آگے اور وہ لڑکی پیچھے پیچھے چلتے ہوئے حضرت شعیب علیہ السلام کے گھر پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اتنے میں اُن دونوں لڑکیوں میں سے ایک اُن کی طرف شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی اور بولی۔ میرے والد محترم آپ (علیہ السلام )کو بلا رہے ہیں۔ تا کہ آپ ( علیہ السلام )نے ہماری ( بکریوں ) کو جو پانی پلایا ہے اس کی اُجرت دیں۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر25)

حضرت شعیب علیہ السلام سے ملاقات

حضرت موسیٰ علیہ السلام اس لڑکی کی راہ نمائی میں اس کے گھر پہنچے ۔ حضرت شعیب علیہ السلام برآمدے میں بیٹھے انتظار کر رہے تھے ۔ دونوں کو آتا دیکھ کر آگے بڑھے اور آپ علیہ السلام کا استقبال کیا۔ اور چار پائی پر ساتھ میں لے کر بیٹھے اور تمام حالات دریافت کرنے لگے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے تمام حالات تفصیل سے بتائے اور یہ بتایا کہ فرعون میری جان کا دشمن بن گیا ہے۔ اورمیرے قتل کا حکم ( انکاﺅنٹر آرڈر) دے دیا ہے۔ اس لئے میں ہجرت کر کے یہاں آگیا ہوں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کا علاقہ مدین فرعون کی حکومت کی حدود سے باہر تھا۔ اسی لئے انہوںنے فرمایا۔ یہ تم نے اچھا کیا کہ اس ظالم کے علاقے سے چلے آئے۔ اسی دوران میں دونوں لڑکیوں نے کھانا لگا دیا۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کو کھانے کی دعوت دی اور ساتھ میں لے کر کھانا کھانے بیٹھے اور دونوں لڑکیاں کھانا ضرورت کے مطابق لا کر دے رہی تھیں۔ کھانے کے دوران حضرت شعیب علیہ السلام نے پوچھا۔ اب آگے کیا اراد ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جو بہتر سمجھے گا کرے گا۔ اسی دوران وہ لڑکی جس نے آپ علیہ السلام کو گھر تک راہنمائی کی تھی ۔ اس نے کہا۔ ابا جان، یہ بہت طاقت ور ، نیک ، شریف اور امانت دار ہیں۔ اگر آپ انہیں اجرت پر بکریاں چرانے کے لئے رکھ لیں تو ان کا رہنے کھانے کا ٹھکانہ بھی ہو جائے گا اور ہمیں بکریاں چرانے کے لئے بھی نہیں جانا پڑے گا۔ اور یہ اپنا کام پوری ذمہ داری اور ایمانداری سے بھی کریں گے۔ اس لڑکی کا نام سیدہ صفورہ رضی اللہ عنہا تھا۔ اور دوسری لڑکی کا نام سیدہ شرفا رضی اللہ عنہا تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے بیٹی کے مشورے کو قبول کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام )اُن کے پاس پہنچے اور اُن سے سارا حال بیان کیا تو وہ کہنے لگے کہ اب ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ تم نے ظالم قوم سے نجات پالی ہے۔ ان دونوں ( لڑکیوں ) میں سے ایک نے کہا۔ ابا جان، آپ (علیہ السلام )انہیں مزدوری پر ( یعنی اجرت پر) رکھ لیں۔ کیوں کہ جنہیں آپ ( علیہ السلام )اجرت پر رکھیں گے ان میں سے سب سے بہتر یہ ہیں۔ اور یہ مضبوط ( طاقتور) اور امانت دار ہیں۔“(سورہ القصص آیت نمبر25اور 26)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نکاح

حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی بیٹی سیدہ صفورہ رضی اللہ عنہا کے مشورے کو قبول کر لیا ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نوکری پر رکھ لیا۔ کچھ دنوں بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی بیٹی صفورہ رضی اللہ عنہا کا نکاح تم سے کر دوں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن میرے پاس مہر ادا کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ تو انہوںنے فرمایا کہ آٹھ سال میری بکریاں چرادیان۔ یہی مہر ہو گا اور اگر تم دس سال چرا دو تو یہ تمہارا مجھ پر احسان ہو گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام راضی ہو گئے اور آپ علیہ السلام کا نکاح سیدہ صفورہ رضی اللہ عنہا سے کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا ) میں اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو آپ ( علیہ السلام ) کے نکاح میں دینا چاہتا ہوں۔ اس ( مہر پر ) کہ آپ ( علیہ السلام )آٹھ سال تک میر ا کام کاج کریں۔ ہاں اگر آپ ( علیہ السلام ) دس سال پورے کریں تو یہ آپ (علیہ السلام )کی طرف سے احسا ن ہوگا۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ آپ ( علیہ السلام )کو کسی مشقت میں ڈالوں۔ اللہ کو منظور ہوگا تو آپ مجھے بھلا آدمی پائیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ خیر تو یہ بات میرے اور آپ علیہ السلام کے درمیان پختہ ہو گئی۔ اور میں ان دونوں مدتوں میں سے جسے چاہوں پورا کروں اور یہ مجھ پر زیادتی نہیں ہوگی۔ اور ہم یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس اللہ تعالیٰ( گواہ اور ) کا ر ساز ہے۔ ( سورہ القصص آیت نمبر27) اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام وہیں رہنے لگے۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام کی بکریاں چرانے لگے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں اپنا عَصا دے دیا اُسی عصا سے آپ علیہ السلام بکریوں کے لئے درختوں سے پتے توڑتے تھے اور راستہ بناتے تھے اور بکریوں کو ہنکاتے تھے۔ اور پورے دس سال بکریاں چرائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ سال بکریاں چرائیں تھیں یا دس سال تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے مکمل اور کامل مدت تھی اُتنی مدت بکریاں چرائیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

06 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


06 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 6

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی مدت پوری کر لی تو حضرت شعیب علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں نے اپنی مدت پوری کر لی ہے۔ اب مجھے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر واپس جانے کی اجازت دیں۔ اس دوران آپ علیہ السلام کے بچے بھی پیدا ہو گئے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے واپس جانے کی اجازت دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مدت کے درمیان آپ علیہ السلام کی بکریوں ، گھوڑوں ، اونٹوں اور مویشیوں میں اچھی خاصی برکت دے دی تھی۔ اور یہ سب بے شمارتعداد میں ہو چکے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں زادِ راہ کے طور پر اچھے خاصے گھوڑے ، اونٹ ، مویشی اور بکریاں دے دیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام انکار کرتے رہے لیکن انہوں نے زبر دستی یہ سب انہیں دے دیا۔ آخر کار یہ سب لے کر آپ علیہ السلام مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ سفر سات اور آٹھ راتوں کا تھا۔ راستے میں پہاڑی علاقے بھی تھے اور صحرا ( ریت یعنی بالو کے وسیع میدان) بھی تھے۔ ان علاقوں میں دن میں بہت گرمی پڑتی تھی اور رات میں بہت سردی پڑتی تھی۔ آتے وقت تو فرشتے کی راہ نمائی میں آگئے تھے لیکن واپسی میں راستہ بھولنے کا اندیشہ تھا۔ 

کوہِ طور پر آگ

حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر کی طرف سفر کر رہے تھے ۔ مولانا مفتی محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں حضر ت شعیب علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آٹھ دس سال تک خدمت کرنے کا جب معاہدہ پورا ہو گیا تو آپ علیہ السلام اپنی بیوی اور دو بچوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہو گئے تا کہ اپنی والدہ محترمہ ، بھائی حضرت ہارون علیہ السلام اور دوسرے رشتہ داروں نے ملاقات کر سکیں۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین سے مصر کی طر ف روانہ ہو نے لگے تو حضرت شعیب نے آپ علیہ السلام کے ساتھ کچھ بکریاں بھی کر دیں تا کہ راستے میں ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ سردی کا زمانہ تھا اور چلتے چلتے آپ علیہ السلام راستہ بھی بھول گئے۔ اس اندھیری رات میں آپ علیہ السلام کو دور سے ایک روشنی نظر آئی۔ آپ علیہ السلام نے گھر والوں سے فرمایا۔ تم یہیں رکو، میں ذرا جا کر دیکھتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ وہاں سے آگ لا سکوں تا کہ تم سردی اور ٹھنڈک سے بچنے کے لئے اپنے جسم کو تاپ سکو۔ اور راستہ بھی پوچھ لوں گا۔ تا کہ اس صحرا میں ہم بھٹک نہ جائیں۔ آپ علیہ السلام اس آگ کی طرف روانہ ہوئے جو کوہِ طور کے داہنی جانب روشنی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا ۔ ترجمہ ” جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدت پوری کر لی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو کوہِ طور کی طرف آگ دیکھی۔ اپنی بیوی سے کہنے لگے ۔ ٹھہرو ، میں نے آگ دیکھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی خبر لاﺅں یا آگ کا کوئی انگارہ لاﺅں تاکہ تم سینک لو۔ ( سورہ القصص آیت نمبر 29) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے ۔ میں وہاں سے کوئی خبر لے کر یا آگ کا کوئی سلگتا ہوا انگارہ لے کر ابھی تمہارے پاس آجاﺅں گا ۔ تا کہ تم سینک ( تاپ ) سکو۔ “( سورہ النمل آیت نمبر 7) اللہ تعالیٰ نے سورہ طہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” تمہیں موسیٰ (علیہ السلام )کا قصہ معلوم ہے؟ جب اس نے آگ دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا سی دیر ٹھہر جاﺅ، مجھے آگ دکھائی دے رہی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارہ تمہارے پاس لاﺅں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاﺅں ۔“ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر9اور 10)

حضرت موسیٰ علیہ السلام نبوت سے سر فراز 

حضرت موسیٰ علیہ السلام آگ کو دیکھتے ہوئے کوہ طور پر چرھنے لگے اور جب آگ کے قریب پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ ایک ہرے بھرے درخت میں آگ لگی ہوئی ہے۔ آگ بہت تیزی سے بھڑک رہی تھی۔ لیکن درخت کی شاخیں اور پتیاں ویسی ہی ہری بھری ہیں۔ آپ علیہ السلام حیرانی سے کھڑے اس منظرکو دیکھ رہے تھے کہ آواز آئی۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )بے شک میں تمہارا رب ہوں ۔ تم اپنے جوتے اتار دو۔ کیوں کہ تم مقدس وادی¿ طویٰ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں ( اپنی نبوت اور رسالت کے لئے ) چن لیا ہے۔ میں ہی اللہ وں اور میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پس تم میری عبادت کرو۔ اور مجھے یاد کرنے کے لئے نماز قائم کرو۔ بے شک قیامت آئے گی تا کہ ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جا سکے۔ اور کب آئے گی یہ صرف میں جانتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس جب وہاں پہنچے تو اس بابرکت زمین کے دائیں کنارے کے درخت میں سے آواز دیئے گئے ۔ کہ اے موسیٰ (علیہ السلام ) بے شک میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پرودگار ۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر30) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ”جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے۔ اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )سن بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں ،غالب ہوں اور حکمت والا ہوں۔“(سورہ النمل آیت نمبر8اور 9) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب وہ وہاں پہنچے تو آواز دی گئی ۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) ، بے شک میں ہی تمہارا رب ہوں ۔ تم اپنی جوتیاں اتار دو۔ کیوں کہ تم پاک میدان طویٰ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں منتخب کر لیا ہے۔ اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سنو ۔ بے شک میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پس تم میری عبادت کرو۔ اور میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔ قیامت یقینا آنے والی ہے۔ جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں۔ تا کہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیاجائے جس کے لئے اس نے کوشش کی ہو۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر11سے 15تک)

عَصا خوف ناک اژدھا بن گیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فوراً جوتے اتارے اور آگے بڑھکر حیرانی سے وہ آواز سن رہے تھے۔ اور اس درخت پر چمکتے ہوئے آگ نما ( آگ کے جیسا ) نور کو دیکھ رہے تھے۔ کہ پھر آواز آئی اے موسیٰ ( علیہ السلام )، یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ ( حالانکہ اللہ تعالیٰ سب جانتے ہیں لیکن یہ صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تسلی کے لئے پوچھا) آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ یہ میرا عَصا ہے۔ ( عصا اس لاٹھی کو کہتے ہیں جو عام طور سے چرواہے لئے رہتے ہیں ۔تاکہ اس سے جانوروں کو ہانکیں اور جانوروں کے لئے اونچے درختوں سے پتیاں توڑ کر دیں۔ اس کے لئے اس کے اوپری سرے پر کنیاری کیطرح دو چھوٹی شاخیں ہوتی ہیں۔ جس سے درختوں کے پتے اور نرم شاخیں توڑی جاتی ہیں۔ یہ بہت مضبوط ہوتا ہے ) آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ یہ میرا عصا ہے ۔میں اس سے ٹیک لگا تا ہوں اور اپنے جانوروں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )اسے زمین پر ڈال دو۔ جیسے ہی آپ علیہ السلام نے عَصا زمین پر ڈالا۔ وہ عصا اژدھا بن کر دوڑنے لگا۔ اژدھے کو دیکھ کر آپ علیہ السلام فطری طور سے خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اپنا عَصا زمین پر ڈال دو۔ پھر جب اسے دیکھا کہ وہ اژدھا کی طرح پھن پھنا رہی ہے تو پیچھے ہٹ گئے اور رخ موڑ لیا۔ ہم نے کہا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) آگے آﺅ اور خوفزدہ مت ہو۔ یقینا تم ہر طرح سے امن میں ہو۔ “ ( سورہ القصص آیت نمبر31) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) تم اپنی لاٹھی ( زمین پر ) ڈال دو۔ موسیٰ ( علیہ السلام )خوفزدہ نہ ہو۔ میری بارگاہ میں رسول خوفزدہ نہیںہوتے ہیں۔ “(سورہ النمل آیت نمبر10)اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ عرض کیا ۔ یہ میر اعصا ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں میرے لئے بہت فائدے ہیں۔ فرمایا اے موسیٰ اسے اپنے ہاتھ سے نیچے ( زمین پر ) ڈال دے۔ ( زمین پر ) ڈالتے ہی وہ سانپ یا اژدھا بن کر دوڑنے لگی۔ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ بے خوف ہو کر اسے پکڑ لو۔ ہم اسے اسی پہلی صورت میں کر دیں گے۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر17 سے 21تک)

فرعون اور ا س کی قوم کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جیسے ہی عصا زمین پر ڈالا تو اسی وقت وہ خوف ناک اژدھا بن کر دوڑنے لگا۔ یہ اتنا اچانک ہوا کہ وقتی طور سے آپ علیہ السلام گھبراہت کا شکار ہو گئے اور لاشعوری طور سے کئی قدم پیچھے ہٹ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )خوف نہ کھاﺅ اور اژدھے کو پکڑ لو۔ آپ علیہ السلام نے اژدھے کو پکڑ لیا تو فوراً وہ عصا بن گیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ آپ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالا ۔ اس کے حکم ہوا کہ باہر نکالو۔ آپ علیہ السلام نے ہاتھ باہر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ اور کوئی تکلیف بھی نہیں ہو رہی تھی اور نہ ہو کوئی داغ تھا۔ بلکہ نور کی طرح چمک رہا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ یہ معجزات لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاﺅ اور انہیں اسلام کی دعوت دو۔ بے شک وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔ ان لوگوں نے میری عبادت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اور کفر کرنے لگے ہیں۔ میں نے انہیں مہلت دی تھی اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ میں اُن کی طرف سے غافل ہو گیا ہوں ۔ اب اُن کی مہلت کا وقت پورا ہونے والا ہے۔ اسی لئے تم جا کر اُن لوگوں کو سمجھاﺅ۔ اگر انہوں نے تمہاری بات مان لی اور اسلام قبول کر لیا تو ٹھیک ہے۔ ورنہ وہ لوگ تباہ و برباد کر دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال ، وہ بغیر کسی روک ( مرض یا بیماری ) کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید ، پس یہ دونوں معجزے تمہارے رب کی طرف سے ( تمہیں دیئے گئے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف ( یعنی اُن کو سمجھانے کے لئے ) یقینا وہ سب کے سب بے حکم اور نافرمان لوگ ہیں۔ “( سورہ القصص آیت نمبر32) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال ، وہ سفید چمکیلا ہو کر نکلے گا۔ بغیر کسی عیب کے ۔ تو نو نشانیاں لے کر فرعون اور اسکی قوم کی طر ف جاﺅ۔ یقینا وہ بدکاروں کا گروہ ہے۔ “ ( سورہ النمل آیت نمبر12) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعرا ءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو دی کہ ظالم قوم کے پاس جا، قوم ِ فرعون کے پا س۔ کیا وہ پرہیز نہیں کریں گے۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر10اور 11) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈالے لے وہ سفید چمکتا ہوا ہو کر نکلے گا۔ لیکن بغیر کسی عیب ( اور روگ ) کے۔ یہ دوسرا معجزہ ہے۔ یہ اس لئے کہ ہم تمہیں اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانا چاہتے ہیں۔ اب تم فرعون کے پاس جاﺅ۔ اس نے سر کشی مچا رکھی ہے۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر22سے 24تک) 

حضرت ہارون علیہ السلام نبوت سے سر فراز

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ فرعون اور اس کی قوم کے پا س جا کر اسلام کی دعوت دو۔ اگر وہ اور اس کی قوم مان جائے تو ٹھیک ہے اور اگر نہیں مانے اور کفر پر اڑے رہے تو ان سے کہنا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دے اور تمہارے ساتھ مصر سے نکل جانے دے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے بڑے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام بہت اچھی تبلیغ کر لیں گے۔ انہیں بھی میری مدد کرنے کے لئے تیار کر دے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے عرض کیا۔ اے میرے رب ( پروردگار ) ، میرا سینہ کھول دے۔ اور میرے کام کو آسان کر دے۔ اور میری زبان کی گِرہ کو بھی کھول دے تا کہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ اور میرا وزیر میرے کنبے میں سے کر دے۔ یعنی میرے بھائی ہارون (علیہ السلام )کو ( اے اللہ تعالیٰ ) تو اس سے میری کمر کس دے( یعنی مضبوط کر دے) اور اسے میرا شریک کار کردے۔ تا کہ ہم دونوں کثرت سے تیسری تسبیح بیان کریں ۔ اور کثرت سے تیری یاد کریں۔ بے شک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تیرے تمام سوالات پورے کر دیئے گئے ۔ ہم نے تو تجھ پر ایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ جب ہم نے تیری والدہ محترمہ کو وہ الہام کیا تھا جس کا ذکر اب کیا جا رہا ہے۔ کہ تو اسے صندوق میں بند کر کے دریا میں چھوڑ دے۔ پس دریا اسے کنارے لا ڈالے گا۔ اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا۔ اور میں نے اپنی طرف سے خاص محبت و مقبولیت تجھ پر ڈال دی ۔ تا کہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔ جب تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اگر تم کہو تو میں اسے بتا دوں جو اس کی نگہبانی کر ے۔ اس تدبیر سے ہم نے تجھے پھر تیری والدہ محترمہ کے پاس پہنچایا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمگین نہ ہو ۔ اور تو نے ایک شخص کو مارڈالا تھا۔ اس پر بھی ہم نے تجھے غم سے بچا لیا۔ غرض کہ ہم نے تجھے اچھی طرح آزمالیا۔ پھر تو کئی سال مدین کے لوگوں میں ٹھہرا رہا ۔ پھر تقدیر الہٰی کے مطابق اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تو آیا۔ اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے پسند فر ما لیا۔ اب تو اپنے بھائی کو لے کر میری نشانیاں ساتھ لئے ہوئے جا۔ اور خبر دار میرے ذکر میں سستی نہ کرنا۔ تم دونوں فرعون کے پا س جاﺅ۔ اس نے بڑی سر کشی کی ہے۔ اسے نرمی سے سمجھاﺅ کہ شاید وہ سمجھ لے یا ڈر جائے۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر25سے 44تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الفرقان میں فرمایا۔ اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو کتاب دی اور ان کے ہمراہ انکے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنا دیا۔ اور کہہ دیا کہ تم دونوں ان لوگوں کی طرف جاﺅجو تمہاری آیتوں کو جھٹلا رہے ہیں ۔ پھر ہم نے انہیں ( فرعون اور اس کے ساتھیوں کو) بالکل ہی پامال کر دیا۔ ( سورہ الفرقان آیت نمبر35اور36) اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے عرض کیا۔ اے میرے رب (پروردگار) میں نے ان کا ایک آدمی قتل کر دیا تھا۔ اب مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے بھی قتل کر ڈالیں۔ اور میرا بھائی ہارون ( علیہ السلام )مجھ سے بہت زیادہ فصیح زبان والا ہے۔ تو اسے بھی میرا مدد گار بنا کر میرے ساتھ بھیج دے کہ وہ ( لوگ) مجھے سچا مانیں۔ مجھے تو خوف ہے کہ وہ سب مجھے جھٹلا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کر دیں گے۔ اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے۔ فرعونی تم تک پہنچ ہی نہیں سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں اور تمہاری تابعداری کرنے والے ہی غالب رہیں گے۔ ( سورہ القصص آیت نمبر33سے 35تک) ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”موسیٰ ( علیہ السلام ) نے عرض کیا۔ اے میرے رب، مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وہ مجھے جھٹلا ( نہ ) دیں۔ اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہو۔ میری زبان چل نہیں رہی ہے۔ پس تو ہارون ( علیہ السلام )کی طرف بھی( وحی) بھیج دے۔ اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا ( دعویٰ) بھی ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے مار نہ ڈالیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ہرگز ایسا نہیں ہو گا۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاﺅ۔ ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں۔ تم دونوں فرعون کے پاس جا کر کہو بلا شبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ( یا تو تم لوگ اسلام قبول کر لو یا پھر) ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردو۔ ( سورہ الشعراءآیت نمبر13سے 17تک)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

07 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


07 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 7

فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لئے دعا کی۔ اور وہ اللہ تعالیٰ نے قبول کی آپ کو یاد ہو گا کہ بچپن نے آپ علیہ السلام کی آزمائش کی تھی اور آپ علیہ السلام نے انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا تھا۔ جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کی زبان جل گئی تھی۔ اسی لئے کچھ الفاظ صاف ادا نہیں ہوتے تھے۔ اور حضرت ہارون علیہ السلام کی زبان بہت فصیح تھی۔ اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن کے لئے دعا کی ۔ آپ علیہ السلام ذرا گرم مزاج تھے۔ جب کہ حضرت ہارون علیہ السلام ٹھنڈے مزاج کے تھے اور قوتِ برداشت بھی زیادہ تھی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کے پاس واپس آئے اور سب کو ساتھ لے کر مصر پہنچے۔ اپنے گھر جا کر اپنے والدین اور بھائی سے ملے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی حضرت ہارون علیہ السلام کی طرف وحی بھیج کر نبوت سے سر فراز فرما دیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آنے کی خبر پہلے ہی والدین کو دے دی تھی۔ یہاں ہم آپ کو ایک بات بتا دیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی بھی ہیں اور رسول بھی ہیں۔ جب کہ حضرت ہارون علیہ السلام صرف نبی ہیں۔ رسول کو شریعت دی جاتی ہے اور نبی اسی شریعت کو نافذ کرتے ہیں۔ اس کے بعد دونوں بھائی فرعون کے دربار میں پہنچے اور اسے اور اس کی قوم کو بتایا کہ ہم اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کو اپنے دلائل دے کر فرعون اور اس کے امراءکے پا س بھیجا۔ مگر اُن لوگوں نے ان کا بالکل حق ادا نہیں کیا۔ سو دیکھ لو مفسدوں کا کیا انجام ہوا؟ اور موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا ۔ اے فرعون ، میں رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں۔ میرے لئے یہی شایان ہے سوائے سچ کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں۔ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی لے کر آیا ہوں۔ سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر 103سے 105تک)

فرعون نے مذاق اڑایا

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے جب فرعون اور اس کے درباریوں یعنی وزیروں اور امراءکو اسلام کی دعوت دی تو اُن لوگوں نے آپ دونوں حضرات علیہم السلام کا مذاق اڑانے لگے۔ اللہ تعالی نے اسکے با رے میں فر ماے تر جمہ۔:اور ہم نے مو سی(علیہ السلا م )کو اپنی نشانیاں دےکرفرعو ن اور اسکے امراء کے پاس بھیجا تو (انھو ں نے جاکر )کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا ( بھیجا ہوا ) رسول ہوں۔ پس جب وہ ہماری نشانیاں لے کر اُن کے پاس آئے وہ بے ساختہ اُن پر ہنسنے لگے۔“(سورہ الزخرف آیت نمبر46اور 47)۔ فرعون اور اس کے ساتھی دونوں بھائیوں کی ہنسی اڑانے لگے اور فرعون نے ہنستے ہوئے کہا۔ جس رب نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے اس کے بارے میں تو کچھ بتاﺅ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی بات کا بہت ہی جامع جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام )تم دونوں کا رب کون ہے؟ جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت و شکل عنایت فرمائی۔ پھر راستہ بتادیا ۔ اس نے کہا ۔ ( یعنی فرعون نے کہا ) اچھا یہ تو بتاﺅ، اگلے زمانے والوں کا کیا حال ہوتا ہے؟ ( آپ علیہ السلام ) نے جواب دیا۔ اُن کا علم میرے رب کے یہاں کتاب میں موجود ہے۔ نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے اور اس میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے ہیں۔ اور آسمان سے پانی بھی وہی برساتا ہے۔ پھر اس بارش کی وجہ سے مختلف قسم کی پیداوار بھی ہم ہی پیدا کرتے ہیں۔ تم خود کھاﺅ اور اپنے چوپایوں کو بھی چراﺅ۔ کچھ شک نہیں کہ اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے۔ اور اسی سے دوبارہ تم سب کو نکال کھڑا کریں گے۔ ہم نے اسے ( فرعون کو ) اپنی سب نشانیاں دکھا دیں۔ لیکن پھر بھی اس نے جھٹلایا اورانکار کر دیا ۔ کہنے لگا ۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )، کیا تو اسی لئے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دے۔“ (سورہ طٰہٰ آیت نمبر49سے 57تک)

فرعون کا خدائی دعویٰ

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے بہت ہی جامع اور موثر انداز میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتایا اور دلائل سے سمجھایا۔ لیکن وہ بد بخت ان تمام باتوں اور دلائل کی حقیقت کو سمجھنے کے بجائے الٹا مطلب لینے لگا۔ اور خود اپنی خدائی کا دعویٰ کرنے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الشعراء میں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے کہا۔ رب العالمین کیا ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے۔ اگر تم یقین رکھنے والے ہو۔ فرعون نے اپنے ارد گرد والوں ( یعنی درباریوں ، وزیروں اور قوم کے لوگوں ) سے کہا۔ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ وہ ( اللہ تعالیٰ)تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا رب ہے۔ فرعون نے کہا ( لوگو) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقینا دیوانہ ہے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام ) نے فرمیاا۔ وہی مشرق و مغرب کا اور ان کے درمیان کی تما م چیزوں کا رب ہے۔ اگر تم عقل رکھتے ہو فرعون کہنے لگا۔ سن لے، اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو رب یا معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر23سے 29تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس جب اُن کے پاس موسیٰ ( علیہ السلام )ہمارے دیئے ہوئے کھلے معجزے لے کر پہنچے تو وہ کہنے لگے۔ یہ تو صرف گھڑا گھڑا یا جادو ہے۔ ہم نے اپنے الگے باپ دادوں کے زمانہ میں بھی کبھی یہ نہیں سنا ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے۔ میر ارب اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ جو ا س کے پاس سے ہدایت لے کر آتا ہے۔ اور جس کے لئے آخرت کا ( اچھا ) انجام ہوتا ہے۔ اور یقینا بے انصافوں کا بھلا نہیں ہوگا۔ فرعون کہنے لگا۔ اے درباریو ، میں اپنے سوا کسی کو معبود اور رب نہیں جاتا۔ سن اے ہامان، تو میرے لئے مٹی کو آگ سے پکوا۔ پھر میرے لئے ایک محل کی تعمیر کر تو میں موسیٰ( علیہ السلام )کے معبود کو جھانک لوں۔ اسے تو میں جھوٹوں میں گمان کر رہا ہوں۔“( سورہ القصص آیت نمبر36سے 38) اللہ تعالیٰ نے سورہ النازعات میں فرمایا۔ ترجمہ ” کیا موسیٰ (علیہ السلام )کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟ جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا۔ تم فرعون کے پاس جاﺅ۔ اس نے سر کشی اختیار کر لی ہے۔ اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے۔ اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی طرف کا راستہ بتاﺅں تا کہ تو ( اس سے ) ڈرنے لگے۔ پس اسے بڑی نشانی دکھائی۔ توا س نے جھٹلایا اور نافرمانی کی پھر دوڑ دھوپ کرتے ہوئے پلٹا۔ پھر سب کو جمع کر کے پکارا۔ تم سب کا رب میں ہی ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسے دنیا اور آخرت کے عذاب میں گرفتا ر کر لیا۔“(سورہ النازعات آیت نمبر15سے 25تک )

عَصا اژدھا بن گیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سمجھایا کہ اس کائنات کا رب صرف اللہ تعالیٰ ہے تو بدبخت فرعون نے کہا کہ اگر میرے سوا کسی کو رب بنائے گا تو میں تجھے قید خانے میں ڈال دوں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر میں تمام کائنات کے رب کی طرف سے عطا کی ہوئی نشانی اگر تجھے بتاﺅں تو تب تو حق کو تسلیم کر لے گا؟ تو فرعون نے کہا۔ بتاﺅ کون سی نشانی لائے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اپنا عَصا زمین پر ڈال دیا۔ جو اچانک کھلم کھلا اژدھا بن گیا۔ اور اپنا ہاتھ کھینچ کر نکالا تو وہ اس وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر30سے33تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کی ہٹ دھرمی دیکھی تو فرمایا۔ اگر میں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کی صاف صاف نشانی بتاﺅں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہے۔ تو کیا تم تسلیم کر لو گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ فرعون نے کہا۔ اگر تم سچے ہو تو تمہارے خدا کی طرف سے دی گئی نشانی بتاﺅ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا عَصا اچانک زمین پر پھینک دیا ۔ یہ دیکھ کر فرعون اور تما م درباری ہنسنے لگے۔ لیکن کچھ دیر بعد ان کی آنکھیں حیرانی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ کیوں کہ اس بے جان عَصا میں دھیرے دھیرے جان پیدا ہونے لگی۔ اور ساتھ ہی وہ بڑا بھی ہوتا جا رہا تھا۔ اور پھر وہ بہت بڑا اژدھا بن گیا۔ وہ اژدھا اتنا بڑا اور خوفناک تھا کہ تمام درباری ڈر کے مارے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ اور ستونوں کی آڑ یا کسی بڑی چیز کے پیچھے چھپنے لگے۔

فرعون ڈر کے مارے کانپنے لگا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اتنا بڑا خوفناک اژدھا بن گیا تھا کہ درباریوں کو ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ اژدھا انہیں نگل لے گا۔ اور ڈر کے مارے جان بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ فرعون بڑی ہمت سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا لیکن ڈر کے مارے بری طرح کانپ رہا تھا۔ اور خوفناک اژدھے کو دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی اژدھے نے اس کی طرف منہ گھمایا تو اس کی بھی ہمت ٹوٹ گئی اور وہ بھی درباریوں کی طرح اچھال کر اپنے تخت سے اتر کر بھاگا اور اپنی بڑی سی کرسی کے پیچھے چھپ گیا۔ آخر کار اس نے بری طرح کانپتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ وہ اژدھے کو روک لیں۔ آپ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام مسکراتے ہوئے کھڑے ہوئے تھے اور فرعون اور درباریوں کی بوکھلاہٹ اور خوف کے مارے ادھر ادھر بھاگتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اور فرعون کا تو یہ حال تھا کہ وہ آپ علیہ السلام کے سامنے گڑ گڑا رہا تھا۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے اژدھے کے اوپر اپنا ہاتھ رکھا تو وہ عصا بن کر آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں آگیا۔ یہ دیکھ کر فرعون اور اس کے درباریوں کی جان میں جان آئی اور وہ ڈرتے ڈرتے دھیرے سے اپنی جگہوں پر واپس آکر بیٹھ گئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ایک اور نشانی میں تمہیں بتاتا ہوں جو مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔ فرعون اور تمام درباری دہشت سے آپ علیہ السلام کو دیکھنے لگے کہ اس بار کون سی خوفناک نشانی بتانے والے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اپنے گریبان میں ہاتھ ڈالا اور جب واپس نکالا تو پورا ہاتھ نورانی ہو گیا تھا اور نو ر کی طرح چمک رہا تھا۔ فرعون اور اس کے درباری حیرانی سے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ علیہ السلام نے کچھ دیر بعد اپنا چمکتا ہوا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر واپس نکالا تو وہ پھر پہلے جیسا ہوگیا۔ 

یہ تو کھلا جادو ہے

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ نشانیاں یعنی معجزے بتانے کے بعد فرمایا۔ اب تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اور مجھ پر ایمان لاﺅ اور اسلام قبول کر لو۔ تو بد بخت فرعون اور اس کے درباریوں او ر سرداروں نے کہا۔ یہ تو کھلا جادو ہے اور اے موسیٰ ( علیہ السلام ) ، تم اتنے دنوں تک مصر سے غائب رہ کر یہ جادو سیکھتے رہے۔ اور تم چاہتے ہو کہ ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو ۔ یا پھر ہمارے غلاموں ( بنی اسرائیل ) کو ہمارا حاکم بنا دو۔ ایسا نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام ) کو اپنی نشانیوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا ۔ فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف ، تو انہوں نے کہا( یہ تو ) جادوگر اور جھوٹا ہے۔“ ( سورہ المومن آیت نمبر23۔ 24)اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا ۔ یہ تو کوئی دانا جادوگر ہے۔ یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے۔ “(سورہ الشعراءآیت نمبر34اور 36) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( فرعون ) کہنے لگا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تم اس لئے آئے ہو کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دو۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر 57)

فرعون کا چیلنج

اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی ہوئی صاف صاف نشانیوں کو دیکھ لینے کے بعد بھی فرعون اور اس کے ساتھیوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ بلکہ الٹا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کو چیلنج کرنے لگے کہ تمہارا جادو ہمارے جادوگروں کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔ فرعون نے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )تمہیں ہمارے جادوگروں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ جب تمہارا مقابلہ ہمارے جادوگروں سے ہو گا تو تمہارے جادو کی حقیقت سمجھ میں آجائے گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگرمیں تمہارے جادوگروں سے جیت گیا تو کیا تو اور تیری قوم اسلام قبول کر لے گی؟ فرعون نے کہا۔ ٹھیک ہے ، ویسے تم ہمارے جادوگروں سے جیت نہیں سکو گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ انشاءاللہ جیت میری ہو گی کیوں کہ میں نے ابھی ابھی تمہیں جو بتایا ہے وہ کوئی جادو نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی صاف صاف آیتیں یعنی نشانیاں ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی آیتیں یقینا انسانوں کے جادو پر حاوی رہے گا۔ فرعون نے کہا ۔ ٹھیک ہے مقابلے کا دن مقرر کر لو۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھے تمہارا چیلنج منظور ہے۔ مقابلہ ایک بہت ہی بڑے میدان میں رکھو اور مقابلے کے لئے جشن کا دن مقرر کر لو۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ”( فرعون نے کہا) اچھا ہم بھی تمہارے مقابلے میں اسی جیسا جادو ضرور لائیں گے۔ پس تم ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدے کا دن مقرر کر لو ۔ کہ نہ تو ہم اس کے خلاف کریں گے اور نہ ہی تم اس کے خلاف کرو گے۔ اور مقابلہ صاف میدان میں ہوگا۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے جواب دیا۔ زینت اور جشن کے دن کا وعدہ ہے۔ اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر58اور 59) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر58اور 59) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”( فرعون نے اپنے درباریوں اور سرداروں سے کہا) بتاﺅ ، اب تم کیا کہتے ہو؟ اُن سب نے کہا۔ آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیں اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیں۔ جو آپ کے ذی علم جادو گروں کو لے آئیں۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر35سے 37تک) 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

08 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon




08 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 8

فرعون نے جادوگروں کو جمع کیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے چیلنج کو قبول کر لیا ۔ اور مقابلے کے لئے جشن کا دن مقرر کر لیا۔ قبطی یعنی مصری سال میں ایک دن بہت بڑے میدان میں جمع ہو کر تہوار مناتے تھے اور جشن مناتے تھے۔ اور اس جشن میں بہت ساری خرافات ہوتی تھیں۔ وہ دن قریب ہی تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اس دن کا انتخاب فرمایا۔ فرعون نے کہا۔ ٹھیک ہے اب جشن کے دن ملاقات ہو گی۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام وہاں سے اپنے گھر واپس آگئے۔ فرعون نے پورے ملک مصر میں اعلان کرا دیا کہ جشن کے دن جادوگروں کا سب سے بڑا مقابلہ ہو گا۔ ایک طرف بنی اسرائیل کا موسیٰ (علیہ السلام ) ہو گااور دوسری طرف میرے مقرر کردہ جادوگر ہوں گے۔ اور جس جادوگر کو بھی اس مقابلے میں حصہ لینا ہے وہ مجھ سے ملاقات کرے۔ بنی اسرائیل کے لوگوں کی تو جان ہی نکل گئی۔ پورے مصر میں اسی مقابلے کاذکر چل رہا تھا۔ اور دور دور سے جادوگر فرعون کے دربار میں حاضر ہو رہے تھے۔ اور فرعون اور اس کے سردار اور وزیر اور درباری ان کا امتحان لے رہے تھے۔ اور مقابلے کے لئے چن رہے تھے۔ اس طرح جشن کا دن آنے تک ان لوگوں نے ہزاروں بہترین اور جانے مانے جادوگروں کا انتخاب کر لیا تھا۔ اور جب جشن کا دن آیا تو اس بڑے میدا ن میں ایک طرف ہزاروں جادوگر کھڑے تھے اور دوسری طرف صرف دو شخص حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے تھے۔

جادوگروں کو اسلام کی دعوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” قوم فرعون میں جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سر زمین سے باہر کر دے تو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دیں۔ اور شہروں میں ہر کاروں کو بھیج دیں کہ وہ سب ماہر جادگروں کو آپ کے پاس لا کر حاضر کردیں۔ اور وہ جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آئے تو ہم کو کوئی بڑا صلہ ( یعنی انعام ) ملے گا؟ فرعون نے کہا کہ ہاں اور تم مقرب لوگوں میں داخل ہو جاﺅ گے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر109سے114تک) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرعون کے بارے میں بتا رہا ہے کہ اس نے اپنے ملک سے سارے جادوگر بلا بھیجے۔ ان دنوں مصر جادونگری کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ وہاں بڑے بڑے ماہر جادوگر تھے۔ جو اپنے فن میں کمال کی مہارت رکھتے تھے۔ فرعون نے مصر کے کونے کونے سے جادوگروںکو بلا بھیجا۔ عید کا دن تھا۔ اور اس دن فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان فیصلہ ہونا تھا۔ اس لئے پورا مصر امڈ آیا ۔فرعون کی طرف سے کئی ہزار جادوگر آئے تھے اور دوسری طرف حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے تھے۔ اور فرعون ایک بہت اونچے تخت پر بیٹھا ہوا تھا ۔ تمام جادوگروں نے فرعون سے پوچھا۔ اگر ہم جیت گئے تو بدلے میں ہمیں کیا ملے گا۔ فرعون نے کہا۔ اگر تم جیت گئے تو تم لوگ میرے خاص آدمی ہو ں گے۔ اور تمہاری ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ اس کے بعد تمام جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم تمام جادوگر جو یہ جادو لے کر آئے ہو اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جب کہ میرے پاس جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ اور وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے پوری کائنات کو بنایا ہے۔ اور پوری کائنات کو پالتا ہے۔ اور اس کی ضروریات کو پوری کر تا ہے۔ وہ ایک سیکنڈ کےلئے بھی غافل نہیں ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے جادو کو ناکام بنا دے گا اور حق اور باطل کا فرق کر کے بتا دے گا۔ اور میں تمہیں اسی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں او رکہتا ہوں کہ اسلام قبول کر لو۔ کامیابی حاصل کر لو گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ علیہ السلام نے اُن سے کہا۔ تمہاری شامت آچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افترانہ باندھو کہ وہ تمہیں عذابوں سے ملیا میٹ کر دے۔ یا در کھو ، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا جس نے جھوٹی بات گھڑ لی۔ پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہو گئے اور چھپ کر چپکے چپکے مشورہ کر نے لگے۔ اور کہنے لگے یہ دونوں محض جادوگر ہیں۔ اور ان کا پختہ ارادہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کر یں۔ اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کر دیں۔ تو تم بھی اپنا کوئی داﺅ چھپا کر نہ رکھو۔ پھر صف بندی کر کے آﺅ۔ جو آج غالب آگیا وہی بازی لے جائے گا۔ “(سورہ طٰہٰ آیت نمبر61سے 64تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب انہیں اسلام کی دعوت دی تو جادوگروں میں دو گروپ ہو گئے ۔ ایک گروپ کہنے لگا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں اور کوئی جادوگر نہیں ہیں۔ اور دوسرا گروپ کہتا تھا کہ یہ دونوں صرف جادوگر ہیں اور کچھ نہیں ہیں ۔ا ن میں کی اکثریت انہیں جادوگر سمجھ رہی تھی۔ اور اسلام قبول کرنے کے بجائے مقابلہ کرنا چاہتی تھی۔

جادوگروں سے مقابلہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تقریر کو جادوگروں نے غور سے سنا اور ان پر اس کا اثر بھی ہوا۔ اس کے باوجود وہ مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے۔ اور آپ علیہ السلام سے کہا۔ پہلے تم جادو بتاﺅ گے یا ہم اپنا جادو بتائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ ہی پہلے اپنا جادو بتا دو۔ یہ سن کر ہزاروں جادوگروں نے اپنی اپنی رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ اور تمام رسیاں سانپ بن کر دونوں بھائیوں کی طرف بھاگنے لگیں۔ پورے میدان میں سانپ دوڑ رہے تھے اور سب کا رخ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کی طرف تھا۔ پورے مصر کے لوگ اور فرعون اور بنی اسرائیل اپنی سانسوں کو روکے اس خوفناک منظر کو دیکھ رہے تھے۔ بڑا ہی خوفناک منظر تھا۔ ہزاروں سانپوں کو تیزی سے اپنی طرف آتا دیکھ کر دونوں حضرات ایک سیکنڈ کے لئے تو انسانی فطرت کے مطابق خوف کا شکار ہو گئے لیکن آپ حضرات علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ تھا اور اللہ تعالیٰ مدد گار تھا۔ اس لئے دونوں حضرت علیہم السلام کا خوف دوسرے ہی سیکنڈ ختم ہو گیا۔ اور جم کر کھڑے ہو گئے اور قریب آتے سانپوں کو غور سے دیکھنے لگے۔ جادوگروں کا پنی جیت کا یقین تھا اسی لئے وہ اطمینان سے کھڑے سانپوں کو آگے بڑھتا دیکھ رہے تھے۔ اور فرعون اپنے تخت پر بیٹھا قہقہے لگا رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اب دونوں حضرات علیہم السلام پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ لیکن اس کی اور تمام جادوگروں کی اور تمام تماشائیوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ کیوں کہ انہوں نے منظر ہی ایسا ناقابل یقین دیکھا تھا۔ کیوں جیسے ہی سانپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریب پہنچے تو اچانک آپ علیہ السلام نے اپنا عَصا زمین پر ڈال دیا۔ اور وہ اتنا بڑا اور خوفناک اژدھا بن گیا کہ کسی نے اتنا بڑا اژدھا آج تک نہیں دیکھا تھا۔ فرعون کے قہقہے رک گئے ۔ تمام جادوگرسکتے میں آگئے اور بہت سے تماشائیوں کی تو چیخیں نکل گئیں۔ اژدھے نے میدان میں موجود تمام سانپوں کو نگلنا شروع کر دیا۔ اور کچھ ہی دیر میں اس نے تمام سانپوں کو نگل لیا۔ تب آپ علیہ السلام نے اژدھے کے اوپر ہاتھ رکھا تو وہ عصا بن کر ان کے ہاتھ میں آگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان جادوگروں نے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )، چاہے تم ڈالو یاہم ہی ڈال دیں؟(حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ) فرمایا۔ تم ہی ڈال دو ۔ پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نظر بندی کر دی۔ اور ان پر ہیبت غالب کر دی۔ اور ایک طرح کا بہت بڑا جادو دکھلایا۔ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دو۔ سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے اُن کے بنائے ہوئے سارے کھیل کو نگلنا شروع کر دیا۔ پس حق ظاہر ہو گیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا وہ سب جاتا رہا۔ پس وہ لوگ ( یعنی فرعون اور اس کے ساتھی) اس موقع پر ہار گئے۔ اور خوب ذلیل ہو کر پھرے۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر15سے 19تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( جادوگر) کہنے لگے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )، یا تو تم پہلے ڈال دو یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں۔ ( آپ علیہ السلام نے) فرمایا۔ نہیں ، تم ہی پہلے ڈالو۔ اب تو موسیٰ ( علیہ السلام ) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں اُن کے جادو کے زور سے بھاگ رہی ہیں۔ پس موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا۔ ہم نے فرمایاکچھ خوف نہ کر یقینا تم ہی غالب رہو گے اور بر تر رہو گے۔ تمہارے دائیں ہاتھ میں جو کچھ ہے اسے ڈال دو۔ ان کی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے گا۔انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں۔ اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔“ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر65سے 69تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام )نے جادوگروں سے فرمایا۔ جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو۔ انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور کہا۔ فرعون کی عزت کی قسم ، ہم ہی غالب رہیں گے۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام )نے بھی اپنا عصا میدان میں ڈال دیا۔ جس نے اسی وقت ان کے بنائے ہوئے کھلونوں کو نگلنا شروع کر دیا۔“( سورہ الشعراءآیت نمبر43سے 45تک)

جادوگروں نے اسلام قبول کر لیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدھا بن کر تمام سانپوں کو نگل رہا تھا۔ اور تمام جادوگر حیرت سے بُت بنے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ جب اژدھے نے تمام سانپوں کو نگل لیا اور آپ علیہ السلام نے اسے ہاتھ میں پکڑا تو وہ پھر سے عصا بن گیا۔ اور تمام جادوگر محویت سے چونک پڑے اور سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں ہے۔ اور انہیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے ۔ کیوں کہ ان لوگوں نے جو جادوکیا تھا اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا ئے کوئی نہیں توڑ سکتا تھا۔ وہ تمام جادوگر سمجھ گئے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حق کی دعوت لے کر آئے ہیں۔ اسی لئے تمام جادوگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گئے اور کھلے عام میدان میں ہی اعلان کیا کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے۔ وہ اللہ تعالیٰ جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور وہ جو جادوگر تھے سجدے میں گر گئے اورکہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لائے جو موسیٰ (علیہ السلام ) اور ہارون (علیہ السلام ) کا بھی رب ہے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر120سے 122تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اب تو تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے۔ ہم تو ہاروں ( علیہ السلام ) اور موسیٰ (علیہ السلام )کے رب پر ایمان لائے۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر70) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” یہ دیکھتے ہی جادوگر سجدے میں گر گئے اور انہوں نے صٓف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان لائے۔ یعنی موسیٰ(علیہ السلام )اور ہارون(علیہ السلام )کے رب پر۔“( سورہ الشعراءآیت نمبر46سے 48) ، تمام جادوگر قبطی ( مصری) تھے۔ اور کافر تھے۔ لیکن انہوں نے حق کو پہچان لیا اور ان کے دلوں میں ایمان اور اسلام کی شمع جل اٹھی ۔ اور جب انہوں نے بہادری سے کھلے عام اپنے اسلام کا اعلان کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں ایمان پر مضبوطی اور استقامت عطا فرما دی۔ اور ان مومنین کا ذکر قرآن پاک میں کئی جگہوں پر کیا۔

فرعون کی جھنجھلاہٹ اور جادوگروں کی استقامت

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ کرنے کےلئے فرعون نے کئی ہزار جادوگروں کو بلایا تھا۔ اور تمام مصر والوں کو دعوت دی تھی کہ وہ اس عظیم الشان مقابلے کو دیکھنے آئیں۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ترجمہ ” اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہو جانا۔ اور اگر جادوگر غالب آئیں گے تو ہم اُن کی پیروی کریں گے۔“(سورہ الشعراءآیت نمبر39اور40) در اصل فرعون کو یقین تھا کہ جادوگر ہی جیت جائیں گے۔ اور میری حکومت اور خدائی کی تعریف کی جائے گی۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ گیا۔ اور جادوگر شکست بھی کھا گئے اور اللہ تعالیٰ پر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کھلے عام ایمان بھی لے آئے۔جس کی وجہ سے پورے ملک مصر کی عوام پر آپ علیہ السلام کی حقانیت واضح ہو گئی اور جادوگروں کے اسلام قبول کر نے سے عوام بھی متاثر ہو گئی تھی۔ اور فرعون نے دیکھا کہ اس کی حکومت اور خدائی خطرے میں آگئی تو وہ بہت غصے میں آگیا اور کہنے لگا۔ تم لوگوں نے میری اجازت کے بغیر اسلام قبول کر لیا۔ جب کہ میں نے تم لوگوں کو اس لئے بلایا تھا کہ اس سے مقابلہ کرو اور تم لوگ اسی کا ساتھ دے رہے ہو۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ تم سب کا استاد ہے اور یہ تم لوگوں کی ملی بھگت ہےکہ اس طرح کرو گے تو یہ دیکھ کر مصر کے لوگ دھوکہ میں آکر موسیٰ (علیہ السلام )کو صحیح مان لیں گے اور اسلام قبول کر لیں گے۔ اب میں تمہاری چالبازی کی سزا یہ دوں گا کہ تمہارے ایک طرف کے ہاتھ کاٹ دوں گا اور دوسری طرف کے پیر کاٹ دوں گا۔ اور تمہیں کھجور کے تنوں پر پھانسی لٹکاﺅں گا۔ تب تم لوگوں کی سمجھ میں آئے گا کہ میرا عذاب سخت ہے یا موسیٰ (علیہ السلام )کے رب کا ۔ تمام جادوگروں نے جب یہ سزا سنی تو انہوں نے کہا۔ اے ،فرعون ، قسم ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں پیدا فرمایا ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی صاف نشانی دیکھ لی ہے۔ اب ہم تیری بات نہیں مانیں گے ۔ تو جو بھی فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔ تو صرف اس فنا ہونے والی دنیا وی زندگی کے بارے میں ہی فیصلہ کر سکتا ہے۔ ہم تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس قصور کو معاف فرمائے۔ جو ہم نے تیرے بہکاوے میں آکر اللہ کے رسول علیہ السلام سے مقابلہ کیا۔ اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا اور بہتر ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اب ہم اسلام کو چھوڑ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ”فرعون نے کہا تم موسیٰ (علیہ السلام )پر ایمان لائے ہو بغیر اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں؟ بے شک یہ سازش تھی جس پر تمہارا عمل درآمد ہوا ہے اس شہر میں تا کہ تم سب اس شہر سے یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو۔ سو اب تم کو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔ میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاﺅں کا ٹوں گا۔ پھر تم سب کو سولی پرلٹکا دوں گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ( مرکر) اپنے مالک ہی کے پاس جائیں گے اور تو نے ہم میں کون سا عیب دیکھا ہے سوائے اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے جب وہ ہمارے پاس آئے۔ اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہماری جان اسلام کی حالت میں نکال ۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر123سے 126تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقینا یہی تمہارا وہ بڑا ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے۔ تو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا۔ قسم ہے میں بھی تمہارے ہاتھ پاﺅں الٹے طور سے کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا۔ انہوں نے کہا۔ کوئی حرج نہیں، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنےوالے ہیں ہی۔ اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے بنے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا۔ “(سورہ الشعراءآیت نمبر49سے 51تک) اللہ تعالیٰ نےسورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون کہنے لگا کہ کیا میری اجازت سے پہلے ہی تم اس پر ایمان لے آئے؟یقینا یہی تمہارا وہ بڑا بزرگ ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے۔ میں تمہارے ہاتھ پاﺅں الٹے سیدھے کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوںمیںسولی پر لٹکوا دوں گا۔ اور تمہیں پوری طرح معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیادہ سخت اور دیر پا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ نا ممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں ( نشانیوں ) پر جو ہمارے سامنے آچکیں۔ اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پید ا کیاہے۔ اب تو تو جو کچھ کرنا چاہتا ہے کر گزر ۔ تُو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وہ اسی دنیاوی زندگی میں ہی ہے۔ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں معاف فرما دے ۔ اور جادوگری جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا ہے ۔ا للہ ہی بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر71سے 73تک)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

09 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon



09 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 9

فرعون نے قبطیوں کو اسلام قبول کرنے سے روک دیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام جادوگروں سے جیت گئے۔ اس طرح فرعون ہار گیا اور ذلیل ہو گیا۔ جس ملک مصر کی عوام یعنی قبطیوں نے سمجھ لیا کہ فرعون کی کوئی اوقات نہیں ہے۔ اور جس واقعہ نے سب سے زیادہ قبطیوں کو متاثر کیا وہ جادوگروں کا اسلام قبول کرنا ہے ۔ فرعون نے جب دیکھا جادوگروں کے اس عمل کی وجہ سے عوام متاثر ہو رہی ہے تو اس نے جادوگروں کو دھمکی دی۔ لیکن جادوگربھی سختی سے اسلام پر قائم رہے تو قتل کروادیا۔ اس کے بعد اس نے قبطیوں کو بہکانا شروع کر دیا اور انہیں دھمکیاں دینے لگا کہ اگر تم لوگ موسیٰ (علیہ السلام )کی دعوت سےمتاژر ہوئے اور اسلام قبول کیا تو تمہارا بھی یہی حال ہو گا بلکہ اس سے بھی خراب حال کروں گا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ جب فرعون نے دیکھا کہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے جو معجزہ دکھایا تھا وہ حق کا ترجمان ہے اور جادو یا شعبدہ بازی نہیںہے۔ لیکن اسی مجمع میں لوگوں کو مخاطب کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الزخرف میں فرمایا۔ ” اور فرعون نے اعلان کر ایا اور بولا ۔ اے میری قوم ، کیا ملک مصر میرا نہیں ہے؟ اور میرے ( محلوں کے )نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں کیا تم دیکھتے نہیں۔ کیا میں بہتر نہیں ہوں بہ نسبت اس کے جو بے توقیر ہے اور صاف بول بھی سکتا ہے۔ اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں اتار دیئے گئے ۔ یا اس کے ساتھ پر اباندھ کر فرشتے ہی آجاتے۔ ( یہ سب کہہ کر) اس نے اپنی قوم کی عقل کھو دی اور انہوں نے اس کی مان لی۔ یقینا یی سارے لوگ نافرمان تھے۔ 

بنی اسرائیل پر فرعون کا ظلم و ستم

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کرنے سے فرعون نے اپنی قوم کو تو روک دیا لیکن بنی اسرائیل بدستور آپ علیہ السلام کی اتباع کر تے رہے ۔ یہ دیکھ کر فرعون نے اپنے وزیروں اور سرداروں سے مشورہ کیا کہ قبطیوں کو تو ہم نے قابو میں کر لیا ہے لیکن بنی اسرائیل مسلسل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات مان رہے ہیں۔ اُن کا کیا کیا جائے؟ تو ہامان نے اور دوسرے سرداروں نے مشورہ دیا کہ اُن پر اتنا ظلم کیا جائے کہ وہ اسلام چھوڑ دیں۔ فرعون نے ایسا ہی کیا۔ اور بنی اسرائیل سے اتنے سخت کام لینے لگا کہ جو وہ نہیں کر سکتے تھے۔ اور کام پورا نہ ہونے پر انہیں سخت سزائیں دینے لگا۔ اور بنی اسرائیل کے لئے اتنے سخت قوانین بنائے کہ اُن کی زندگی موت سے بد تر ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور قومِ فرعون کے سرداروں نے کہا کی کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام ) اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں۔ اور وہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کئے رہیں۔ فرعون نے کہا ۔ ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے اور عورتوں کو زندہ رہنے دیں گے۔ اور ہم کو اُن پر ہر طرح کا زور( حاصل ) ہے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر127)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تسلّی اور بنی اسرائیل کا جواب

بنی اسرائیل پر فرعون نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ اس کی شکایت انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کی تو چونکہ ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی واضح حکم نہیں آیا تھا اسی لئے آپ علیہ السلام نے انہیں صبر کی تلقین کی اور تسلی دی اور فرمایا۔ اے بنی اسرائیل، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، اور صبر سے کام لو۔ اور اسلام پر مضبوطی سے قائم رہو۔ بے شک پوری زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنی زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نیک بندوں کو بہترین اجر عطا فرماتا ہے۔ بنی اسرائیل نے جواب میں کہا۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ آپ علیہ السلام کے اعلانِ نبوت سے پہلے بھی ہم غلام اور مجبور تھے۔ اور آپ علیہ السلام کے آنے کے بعد بھی ہمارا وہی حال ہے۔ اور ہمارے اوپر فرعون کا ظلم و ستم بڑھتا جا رہا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوںسے تمہیں نجات دے گا۔ اور تمہیں زمین کا وارث بنائے گا۔ اس کے بعد دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کر تے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا سہارا تلاش کرو اور صبر کرو۔ یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وہ مالک بنا دے۔ اور آخری کامیابی اُن ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ قو م کے لوگ کہنے لگے۔ کہ ہم تو ہمیشہ ہی مصیبت میں رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی تشریف آوری سے پہلے بھی اور آپ علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد بھی۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا۔ اور ان کی بجائے تم کو اس سر زمین کا خلیفہ بنادے گا۔ پھر تمہارا طرزِ عمل دیکھے گا۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر128سے129تک)

قحط سالی کا عذاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو تسلی دی اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی ۔ اور فرعون کو کئی طرح کے عذابوں میں مبتلا کر کے سنبھلنے کا موقع دیا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے وقفہ وقفہ سے فرعون کی قوم پر عذاب نازل فرمایا۔ تا کہ اُن پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہو جائے۔ ایک قسم کا عذاب نازل کرنے کے بعد ان کو توبہ کرنے اور رجوع کرنے کا موقع دیا۔ پھر دوسری قسم کا عذاب نازل فرمایا۔ اور اس طرح وقفہ وقفہ سے چھ قسم کا عذاب نازل فرمایا۔ لیکن جب انہوں نے رجو ع نہیں کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں سمندر میں غرق کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور قبطیوں یعنی اُن کے ساتھیوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور فرمایا۔ ۔ ابھی بھی وقت ہے اپنے آپ کو بدل لو اور اسلام قبو ل کر کے بنی اسرائیل پر ظلم کرنا بند کردو۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ تمہیں سخت تکلیفوں میں مبتلا کر دے۔ فرعون اور اس کی قوم نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایاا ور بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھا۔ تو اللہ نے انہیں قحط میں مبتلا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قحط سالی میں اور پھلوں کی پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا۔ تا کہ وہ نصیحت قبول کریں۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر130) مفتی احمد یار خان نعیمی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ دیہاتوں میں اناج کا قحط ہو گیا اور شہروں میں پھلوں کی پیداوار کم ہو گئی۔ لہٰذا دیہاتوںسے اناج شہروں میں نہیں آتے تھے اور شہروں سے پھل دیہاتوں میں نہیں جاتے تھے۔ حتیٰ کہ کھجور کے درخت پر صرف ایک کھجور لگتی تھی۔ بارش نہیں ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ کنویں خشک ہو گئے۔ دریائے نیل میں پانی نہیں بہہ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ آگے فرماتے ہیں فرعونیوں پر یہ عذاب اس لئے بھیجے گئے کہ وہ ان کے ذریعے نصیحت حاصل کریں۔ کیوں کہ انسان آفتوں اور مصیبتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو تا ہے۔ اور توبہ و غیرہ کرتا ہے۔ اسی جگہ تفسیر خازن میں لکھا ہے کہ فرعون کی عمر کل چھ سو بیس620سال ہوئی ۔ جن میں سے چار سو 400سال اس نے ملک مصر پر حکومت کی ۔ اپنے دور حکومت میں 220سال تک اس سے پہلے کبھی فرعون نے کوئی بیماری، بھوک ، اور فکر وغیرہ نہیں دیکھی تھی۔ اسی لئے وہ خدائی دعویٰ کر بیٹھا۔ خیال رہے کہ دوسری عذاب والی قوموں کو اس قدر ڈھیل نہیں دی گئی جتنی ڈھیل فرعون اور اس کی قوم کو دی گئی ہے۔ اسے چھ بار مختلف عذاب آئے۔ اور ہر عذاب کے آنے پر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں عرض کرتا کہ اگر آپ علیہ السلام اس عذاب کو دفع کرادیں تو ہم سب ایمان لے آئیں گے۔ اور بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کے ساتھ بھیج دیں گے۔ قحط سالی اور پھلوں کی پیداوار کی کمی سے جب یہ لوگ بھوکے مرنے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ اپنے رب سے دعا کر کے قحط سالی کو دور کرادیں تو ہم آپ علیہ السلام پر اور اللہ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے قحط سالی کو ختم کر دیا ۔ لیکن بدبخت فرعون اور اس کی قوم نے اسلام قبول نہیں کیا۔

پانی کا عذاب

اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قبطیوں میں مبتلا کر کے ایک ہلکا سا سبق سکھایا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے عقل نہیں پکڑی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُن پر طوفان یعنی بارش بھیجی۔ پورے آسمان پر کالا گھنا بادل چھا گیا اور بارش ہونے لگی۔ فرعون کے محل میں اور قبطیوں کے گھروں میں پانی نہیں تھا۔ امام قرطبی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک روایت کے مطابق جادوگروں پر غالب آنے کے بعد فرعون اور اس کی قوم کے درمیان چالیس40برس تک مصر مےں ٹہرے رہے۔دوسری رواےت مےںبےس ۰۲ برس تک ٹہرے رہے اور اسی دوران فرعون اور اس کی قوم پرمختلف قسم کے عذاب آتے رہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ” الطوفان “ سے مراد شدید بارش ہے۔ اس بارش کا پانی فرعون کے محل اور اس کی قو م کے گھروں میں گھس گیا ۔ یہاں تک کہ وہ تیرنے لگے۔ وہ سیلاب اُن پر چکر لگاتا رہا اور ہلاک کرتا رہا۔ جب کہ بنی اسرائیل کے گھروں میں اس پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں پہنچا ۔ اور قبطیوں کے گھروں میں اتنا پانی تھا کہ وہ اپنی ہنسلیوں تک پانی میں ڈوبے کھڑے رہے۔ اور وہ پانی مسلسل سات دن تک اُن پر رہا۔ اور ایک روایت کے مطابق چالیس 40دن تک رہا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور فرمایا کہ ابھی وقت ہے۔ اسلام قبول کر لو اور بنی اسرائیل کو آزاد کر کے میرے ساتھ جانے دو۔ تب انہوں نے یعنی فرعون اور قبطیوں نے کہا کہ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر دیں کہ اس عذاب کو ہم پر سے ہٹا دے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے عذاب کو ہٹا لیا اور پانی کو کھیتوں اور باغوں کی طرف بھیج دیا۔ اور اس کی وجہ سے اناج اور پھلوں کی پیداوار بہت زیادہ ہوئی۔ یہ دیکھ کر فرعون اور اس کے ساتھیوں نے کہا۔ یہ پانی تو ہمارے لئے نعمت تھا۔ اور اسلام قبول نہیں کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون پر طوفان بھیجا اور اس سے مراد بارش ہے۔ تو فرعونیوں نے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام ) اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ اس بارش کو ہم سے دور ہٹا دے۔ ہم آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کے ساتھ بھیج دیں گے۔ آپ علیہ السلام نے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر سے بارس روک لی۔ اور اس سال اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اتنا اناج ، پھل اور گھاس اگائی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں اگائی تھی۔ تو وہ کہنے گے کہ یہ وہی ہے جس کی ہم تمنا اور آرزو کر تے تھے۔

ٹڈیوں کا عذاب 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قوم فرعون کو پھر سمجھایا ۔ پانی کے عذاب کے بعد بھی فرعون اور اس کی قوم کفر پر ہی اڑے رہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر ٹڈیوں کا عذاب بھیجا۔ ٹڈیاں اتنی زیادہ آگئیں کہ اُن کی وجہ سے سورج چھپ گیا۔ یہ ٹڈیاں فرعون کے محل اور قبطیوں کے گھروں میں گھس گئیں اور بنی اسرائیل کے گھروں میں نہیں گھسیں۔ ان ٹڈیوں نے فرعون اور قبطیوں کی کھیتیاں ، پھل اور اناج وغیرہ کھانےلگے۔ ان ٹڈیوں نے درختوں کے پتے ، مکانوں کےدروازے ، چھتوں اور تختوں تک کو کھا لیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن پر ٹڈی دل کے بادل بھیجے۔ انہوں نے ان کی فصلوں، پھلوں حتیٰ کہ درختوں کو کھا لیا۔ بلکہ انہوںنے دروازوں کو ، مکان کی چھتوں کو ہر قسم کی لکڑی کو ، لکڑیوں کے سامان کو، کپڑوں کو حتیٰ کہ دروازوں کی کیلوں( کھِلّوں) تک کو کھا لیا۔ یہ ٹڈیاں ہر چیز کو کھا رہی تھیں اور ان کی بھوک ختم ہی نہیں ہو رہی تھی۔ آخر کا ر فرعون اور قبطی چلّا اٹھے اور فریاد کی۔ اے موسیٰ(علیہ السلام )آپ کے رب نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے اس وعدہ کے واسطے اپنے رب سے دعا کریں۔ اگر یہ عذاب ہم سے دور کر دیا گیا تو ہم ضرور آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے اور انہوںنے بہت پختہ وعدہ کیا اور پکی قسمیں کھا ئیں۔ ان پر ٹڈیوں کا عذاب ایک سنیچر سے دوسرے سنیچر تک رہا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ٹڈیوں کا یہ عذاب دور کر دیا۔ بعض احادیث میں ہے کہ ہے ٹڈیوں کے سینہ پر لکھا ہو ا تھا۔ ” جند اللہ الاعظم“ یعنی اللہ کا عظیم لشکر۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا فضا میں مشرق سے مغرب کی طرف گھمایا تو ٹڈیاں جہاں سے آئی تھیں وہیں واپس چلی گئیں۔ ان کے پاس جو اناج اور پھل اور دوسرے کھانے کے سامان بچ گئے تھے اسے دیکھ کر ان لوگوں نے کہا۔ یہ ہمارے لئے کافی ہیں۔ اور ہم اپنے دین کو نہیں چھوڑ یں گے۔ انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور کفر پر ڈٹے رہے۔ 

جوو‘ں یا گھُن کے کیڑے کا عذاب

اللہ تعالیٰ بار بار فرعون اور اس کی قوم کو سمجھانے کے لئے الگ الگ عذاب بھیج رہے تھے۔ وہ بد بخت لو گ بار بار آپ علیہ السلام سے وعدہ کر کے توڑ رہے تھے۔ اور کفر پر ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل پر ظلم و ستم بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ”قمل“ کا عذاب بھیجا۔ قُمل جوئیں یا گھن کے کیڑے کو کہا جاتا ہے۔ ان کیڑوں نے باقی بچے ہوئے پھل اور اناجوں پر حملہ کر دیا۔ یہ کیڑے کپڑوں میں گھس جاتے تھے اور بہت بری طرح سے کاٹتے تھے۔ اور ان کے کھانے میں گھر جاتے تھے۔ اگر کوئی ایک تھیلہ اناج لے کر جاتا تھا تو کیڑے اسے کھا ڈالتے تھے اور وہ دو تین کلو ہی بچتا تھا۔ ان کیڑوں نے فرعون اور قبطیوں کے بال تک کھا ڈالے ۔ یہاں تک کہ ان کی بھنویں اور پلک کے بال تک چاٹ گئے۔ اُن کا کھانا، پینا اور سونا دشوار ہو گیا۔ جب کہ بنی اسرائیل بہت آرا م سے تھے۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گندم ( گیہوں) میں جو سر سریاں ( کیڑے ) نکلتے ہیں۔ وہ قُمل ہیں۔ بعض نے کہا ۔ یہ جچڑی کی ایک قسم ہے۔ اور بعض نے کہا یہ جوئیں ہیں۔ اور بعض نے کہا۔ یہ ایک قسم کا کیڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ وہ شہر سے باہر کسی بڑے ٹیلے کے پاس جائیں اور اس ٹیلے پر اپنا عصا ماریں۔ عصا مارنے سے اس ٹیلے کے اندرسے وہ کیڑے ( قُمل ) پھوٹ پڑے۔ وہ ان کے بچے کچے کھیتوں کو کھا گئے۔ ان کے کپڑوں میں گھس گئے ۔ ان کا کھانا ان کیڑوں سے بھر جاتا ۔ وہ ان کے بالوں میں، پلکوں میں ، بھنوﺅں میں گھس گئے۔ اُن کے ہونٹوں اور کھالوں میں گھسنے لگے۔ ان کا چین و قرار جاتا رہا۔ وہ سو نہیں سکتے تھے۔ آخر کار وہ لوگ بے چین اور بے قرار ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور رو رو کر فریاد کرنے لگے۔ کہ ہم تو بہ کرتے ہیں آپ علیہ السلام اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہم پر سے عذاب اٹھا لے۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی تو تمام کیڑے واپس چلے گئے۔ لیکن ان بد بختوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔،

مینڈکوں کا عذاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیا ہوا وعدہ پھر سے فرعون اور اس کی قوم نے توڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سمجھانے کے لئے اس بار مینڈکوں کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ بے حد اور بےشمار مینڈک آگئے اور فرعون اور قبطیوں کے گھروں میں گھس گئے۔ جہاں جہاں یہ جاتے تھے مینڈک ان کے ساتھ چلتے تھے۔ فرعون جب دربار لگاتا تو پورا دربار مینڈکوں سے بھر جاتا ۔قبطی اگر کہیں بیٹھے بات کرتے رہتے تو وہ جگہ مینڈکوں سے بھر جاتی تھی۔ اگر کچھ بولنے کے لئے کوئی منہ کھولتا تو مینڈک اس کے منہ میں گھس جاتا تھا۔ پکانے کے چولہے میں مینڈک گھس جاتے تھے اور چولہا بجھ جاتا تھا۔ کھانا پکاتے وقت ہانڈیوں میں مینڈک گھس جاتے تھے۔ جب کہ بنی اسرائیل مینڈکوںسے پوری طرح محفوظ تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فرعون نے اپنے محل کے نہر کے پاس مینڈک کے ٹرّانے کی آواز سنی۔ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلو کر مینڈک کی آواز سنائی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے فرعون، کیا تو اور تیری قوم اس مینڈک سے مل چکے ہو؟ تو فرعون نے کہا۔ کیا تمہارا رب اس مینڈک کے قریب ہے؟ پس جب شام ہوئی تو فرعون اور اس کی قوم کا ہر آدمی اپنی ٹھوڑی تک مینڈکوں میں تھا۔ اور ان میں سے کوئی بات کرنا چاہتا تو مینڈک اچھال کر اس کے منہ میں چلا جاتا تھا۔ اور ان کے ہر برتن مینڈکوں سے بھرے پڑے تھے۔ تو انہوں نے پہلے کی طرح وعدہ کیا اور دعا کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے مینڈکوں سے آزادی عطا فرمادی۔ لیکن انہوں نے وعدہ وفا نہیں کیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر مینڈکوں کا عذاب بھیجا ۔ جس سے ان کے گھر اور صحن بھر گئے۔ ان کے کھانے کے برتن میں مینڈک بھر گئے۔ جب وہ سوتے وقت کروٹ بدلتے تو دوسری جانب مینڈکوں کا ڈھیر لگ جاتا اور وہ کروٹ نہیں بدل سکتے تھے۔ وہ آٹا گوندھتے تو آتے میں مینڈک لتھڑ جاتے اور سالن کی ہانڈی کھولتے تو مینڈک اس میں بھر جاتے ۔ اس مصیبت پر فرعون اور اس کی قوم کے لوگ رو پڑے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے روتے ہوئے فریاد کی کہ اس عذاب سے ہمیں نجات دلا دیں۔ اس بار ہم پکا وعدہ کرتے ہیں کہ اسلام قبول کر لیں گے یا پھر بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کے ساتھ بھیج دیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے مینڈکوں کا عذاب ختم کر دیا۔لیکن بد بختوں نے پھر اپنا وعدہ توڑ دیا۔

خون کا عذاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بار بار فرعون اور اس کی قوم کے لوگ جھوٹ بول کر عذاب کوٹالتے تھے۔ اس بار اللہ تعالیٰ نے انہیں خون کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ ان کے برتن خون سے بھر گئے۔ وہ لوگ کنویں سے پانی نکالتے اور اپنے برتن میں ڈالتے تو وہ خون بن جاتا تھا۔ دریائے نیل کا پانی جیسے ہی اپنے برتن میں لیتے تو وہ خون بن جاتا تھا۔ جب کہ بنی اسرائیل کے برتنوں میں پانی ہی رہتا تھا۔ فرعون اور قبطی پانیپی نہیں پارہے تھے۔ اور پیاسے رہ رہے تھے۔ فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل اور قبطی ایک ہی برتن میں پانی لیں۔ لیکن جیسے ہی قبطی اس برتن کو لیتے تھے وہ خون بن جاتا اور جب وہ برتن بنی اسرائیل کے شخص کے ہاتھ میں دیتے تو پانی بن جاتا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر خون کا عذاب بھیجا۔ ان کے گھروں میں برتنوں میں رکھا ہوا پانی خون بن گیا۔ دریائے نیل کا پانی اور کنوﺅں اور نہروں کا پانی اپنے برتنوں میں لیتے تو وہ سرخ گاڑھا خون بن جاتا تھا۔ انہوں نے فرعون سے شکایت کی کہ اب ہمیں پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہے۔ فرعون نے کہا یہ موسیٰ (علیہ السلام )کا جادو ہے۔ قبطیوں نے کہا۔ یہ جادو کہاں سے ہو گیا۔ ہمارے تمام برتنوں میں خون بھرا ہے۔ اور اسرائیلوں کے برتن میں پانی ہے۔ فرعون نے حکم دیا کہ اسرائیلیوں کے برتنوں میں پانی پیﺅ۔ لیکن جب وہ بنی اسرائیل کے پانی کا برتن لیتے تو ان کے ہاتھ میں آکر خون بن جاتا تھا۔ یہاں تک کہ قبطی عورتیں پیاس سے مجبور ہو کر بنی اسرائیل کی عورتوں کے پاس آتیں اور کہتیں کہ اپنے منہ میں پانی لے کر ہمارے منہ میں ڈال دو۔ لیکن جب تک وہ پانی بنی اسرائیل کی عورت کے منہ میں رہتا تب تک پانی رہتا اور جیسے ہی قبطی عورت کے منہ میں جاتا تو خون بن جاتا تھا۔ آخر کار انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی اور آپ علیہ السلام نے اُن پر رحم کھا کر دعا فرمائی اور خون کا عذاب دور ہو گیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں