خوبصورت اچھی باتیں گروپ کی 31 دسمبر 2024 کی پوسٹں
🌹خوبصورت اچھی باتیں نمبر 148 :🌹
نمبر ❉ 436_ مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنی تدبیر اس وقت بھی جاری رکھتے ہیں جب زمانہ ان کا مذاق اڑا رہا ہوتا ہے۔
نمبر ❉ 437_ محنت اور برداشت کامیابی کی کنجی ہے۔
نمبر ❉ 438_ علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے، کم نہیں ہوتا۔
🌹 پیشکش: مکتبہ شفیقی اردو🌹
Urdukab.blogspot.com
واٹس ایپ چینل جوائن لنک
https://whatsapp.com/channel/0029VagR5sgBVJl75D3MBh0B
🌹لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا🌹
🌹"اللہ تعالٰی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا"🌹
🌻زندگی میں کبھی کوئی بہت اپنا چھوڑ جاتا ہے کبھی کوئی من چاہی چیز ہاتھ میں آتے آتے نکل جاتی ہے، کبھی امیدوں کے جگنو تھما کر ہم سے چھین لئیے جاتے ہیں، کبھی وعدوں کو وفا نہیں کیا جاتا، کبھی الفاظ سے پھر جاتے ہیں بڑے بڑے بول بولنے والے.... تو کبھی بہت سے کاموں میں بری طرح ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے....!
🌻 الغرض زندگی اسی سب کا نام ہے کبھی نوازا جاتا ہے بے حساب، کبھی نواز کر آزمایا جاتا ہے کبھی لے کر..! جانتے ہیں اس سب میں اور کچھ ہو نا ہو انسان کے اندر مایوسی اپنے پنجے اتنے مضبوطی سے گاڑھ لیتی ہے کہ زندگی جینا دوبھر ہو جاتا سانسوں کی ہل چل سے دل اکتا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت کی ذات سے بھی نا امیدی سی ہونے لگتی ہے کہ وہ مہرباں رب ہماری دعائیں نہیں سنتا....!
🌻 مانتی ہوں زندگی میں کبھی کبھار آزمائش بہت سخت ہو جاتی ہے لیکن کبھی بھی مایوسی کو اپنے اندر اس حد تک سرایت نہ کرنے دیں کہ آپ کا اس بات سے یقین ہی اُٹھ جائے کہ اچھا وقت بھی آئے گا.... کیونکہ یہ تو طے وقت ہمیشہ ہوتا ہی گزرنے کے لئے ہے..... چاہے اچھا ہو یا برا وقت کا کام ہے گزر جانا.... اطمینان رکھیں جس نے آپ کو پیدا کیا ہے ناں وہ آپ سے ایک لمحے کے لئے بھی غافل نہیں ہوا وہ آپ کے لئے بہت بہتر تدبیر کئیے ہوئے ہے بس ساری بات ہی " یقین " کی ہے مایوس بھی ہیں تو بھی صبر شکر کا دامن تھامے رکھیے اجرِ عظیم پائیں گے....! ان شاءاللہ ۔
🌹بے عیب ساتھی کی تلاش🌹
🌻کوئی مؤمن کسی مؤمنہ بیوی کو دشمن نہ جانے،اگر اس کی کسی عادت سے ناراض ہو تو دوسری عادت سے راضی ہوگا۔(مسلم::حدیث:1469)
🌻 شاندار تربیت ہے! بیوی اور شوہر دونوں کو یہی نصیحت ہے کہ عیب سے پاک پارٹنر ملنا ناممکن ہے،لہٰذا اگر کسی میں دو ایک برائیاں بھی ہوں تو اسے برداشت کرو کہ کچھ خوبیاں بھی پاؤ گے اور جو شخص بے عیب ساتھی کی تلاش میں رہے گا وہ دنیا میں اکیلا ہی رہ جائے گا،ہم میں خود کتنی برائیاں ہیں۔ٹینشن فری لائف کے لیے ،ہر دوست عزیز کی برائیوں سے درگزر کرو،اچھائیوں پر نظر رکھو،ہاں اصلاح کی کوشش کرو۔
🌹انسان کا اب تک کا ایجاد کردہ سب سے طاقتور ہتھیار کونسا ہے ؟🌹
یہ مت سوچیں کہ یہ ایٹم بم یا ہائیڈروجن بم ہے۔
یہ طاقتور ہتھیار ایک موبائل فون ہے۔
موبائل فونmobile phone ایک ایسی طاقت ہے جسے کم اہمیت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
یہ اتنا طاقتور ہے کہ
۔1- اس نے لینڈ لائنlandline ( ٹیلی فون) منقطع کر دی۔
۔2- اس نے ٹی ویTV کو مار ڈالا۔
۔3- اس نے کمپیوٹر Computer کو رشتے سے ہٹا دیا ۔
۔4- اس نے گھڑی watch کو گھومنے سے روک دیا۔
۔5 - اس نے کیمرے Camera کو بے رنگ کر دیا۔
۔6 - ریڈیو Radio کو خاموش کر دیا۔
۔7 - ٹارچ torch کا استعمال بند کر دیا۔
۔8 - آئینہ توڑ ڈالا۔
۔9 - اخباراتnewspaper ، رسالے اور کتابیںbooks پھاڑ دیں۔
۔10 - ویڈیو گیمز video games کو تباہ کر دیا۔
۔11 - جیب والا پرس برباد کر دیا۔
۔12 - اس نے ڈیسک کیلنڈر اور نوٹ ڈائری کا قلع قمع کردیا۔
۔13 ۔ کریڈٹ کارڈCredit Card کی چھٹی کردی۔
اور سب سے زیادہ نقصان یہ ہے کہ:
۔1 - اس نے بہت سے شادی شدہ جوڑوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔
۔2 - اس نے بہت سے خاندانوں اور خاندانی دوستیوں کو توڑ ڈالا۔
۔3 - اس نے طالب علموں کو لاپرواہ بنا کر کامیابی کے را ستے سے بھٹکا کر پنکھ کی طرح ہوا کے راستے پر چھوڑ دیا۔
آہستہ آہستہ ، ہم سمجھ جائیں گے کہ یہ ہماری آنکھیں نابینا کر ڈالے گا ، ہماری ریڑھ کی ہڈی کو شکستہ کر دے گا ، ہمارے ذہن اور ثقافت کو بدل کر ہمیں ہلاک کر دے گا ۔
وہ ہماری اگلی آنے والی نسل کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ اگر ہم نے اپنا خیال نہیں رکھا تو یہ ہماری روح کو بھی کچل دے گا اور ہمارے دلوں کو سخت اور بھاری کر دے گا ۔وہ ایسا کام کرے گا کہ ہماری آنے والی نسلیں پچھتائیں گی جبکہ انکا پچھتاوا بے فائدہ ہوگا۔
اور یقیناً ،مستقبل قریب میں، وہ شاید ہمارے دماغ پر قابو پانے کی تلاش کرے گا ۔
تو آئیے اس تباہ کن ہتھیار کا صحیح استعمال کریں تاکہ کبھی بھی کسی حادثے یا پچھتاوے کا سامنا کرنا نہ پڑے۔
🌹آج سوچئے، اپنا جائزہ لیجئے🌹
میرے خیال، میری فکریں، میرا سب کچھ کیا ہے؟ کون ہے؟
کون، کیا چیز یا کیا کام آپکے ذہن پر سارے دن میں سب سے زیادہ چھایا رہتا ہے؟
کس کے بارے میں، یا کس کام کے بارے میں آپ سب سے زیادہ سوچتی ہیں؟
نماز سے پہلے، اس کے دوران ، اسکے بعد آپکو کون یا کیا سب سے زیادہ یاد آتا ہے؟
سب سے زیادہ کس چیز پر انزائٹی ہوتی ہے؟
کیا چیز خوش کر دیتی ہے؟
کیا بات پریشان اور اداس کرتی ہے یہاں تک کہ آنسو بہہ نکلیں؟
کس کو کھو دینے کا خوف سب سے زیادہ ہے؟ کہ اسکو کھو دیا تو سب ختم ہو جائے گا؟
آخری بار، کیا چیز تھی جس نے غصے سے آپکو آگ بگولہ کر دیا؟؟
ان سب باتوں کا جواب جو ہے، جو چیز یا جو کام ہے۔۔۔۔
بس وہی آپکا خدا ہے۔
اسی کے گرد آپکی زندگی گھومتی ہے۔
اپنا توحید خالص کر لیں۔
ہماری سب سوچیں، ہمارا بھروسہ، فکر، غصہ، محبت، اللہ کی خاطر ہونی چاہئے۔
🌹اماں ابا کا گھر سکون کا گہوارہ🌹
🌻اماں ابا کا گھر کبھی سکون کا گہوارہ تھا۔ وہاں کی ہر دیوار، ہر کمرہ، ہر گوشہ محبت سے بھرا ہوا تھا۔ یہ گھر صرف ایک عمارت نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں دلوں کو سکون ملتا تھا، جہاں ہر دن کی ابتدا دعا سے ہوتی تھی اور ہر رات محبت کی باتوں میں ڈوبی ہوتی تھی۔ وہاں کی ہوا میں ایک خاص سی خوشبو تھی، جیسے زندگی کی تمام پریشانیاں اور تکالیف وہاں دروازے کے باہر ہی رہ جاتیں۔
🌻اماں ابا کی موجودگی میں، گھر میں ایک غیر معمولی سی رونق تھی۔ ان کی مسکراہٹوں میں ایسی سکونت چھپی تھی کہ ہر تھکن اور درد خودبخود مٹ جاتا۔ ان کا کمرہ ایک پناہ گاہ تھا، جہاں ہم اپنے دکھوں کو چھپانے آتے اور دلوں کو آرام ملتا۔ ہر بات میں محبت، ہر فیصلے میں سمجھ بوجھ تھی۔ گھر کا ہر گوشہ ان کے وجود سے جڑا ہوا تھا، اور ہم سب ان کی موجودگی میں مکمل محسوس کرتے تھے۔
🌻لیکن اب وہ نہیں ہیں، اور اس خاموش گھر میں ایک ایسی خلاء ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ اب وہ نہیں ہیں جو دن کی تھکاوٹ دور کرتے، نہ وہ باتیں سننے کو ملتی ہیں جو دل کو سکون دیتی تھیں۔ گھر میں بے شک لوگ ہیں، مگر ان کی مسکراہٹ اور محبت کا وہ رنگ اب کہیں نہیں۔ اب وہ سکون جو اماں ابا کی موجودگی میں تھا، وہ غائب ہو چکا ہے۔
ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کا لہجہ، سب کچھ زندہ ہے، مگر گھر کی دیواروں پر جو سکون تھا، وہ اب نہیں رہا۔ اماں ابا کا گھر اب بھی وہی ہے، مگر اس کی روح غائب ہے۔ ہم سب ان کے بغیر ایک ایسے مکان میں رہتے ہیں جس کا ہر کمرہ یادوں سے بھرا ہوا ہے، مگر وہ سکون اب وہاں نہیں ہے۔
🌹میاں بیوی کا تعلق....🌹
🌻دوست نے کہا کہ میاں بیوی کے مابین اختلاف یا لڑائی کہاں نہیں ہــــے
🌻لیکن کہیں یہ تعلق زندگی بھر قائم رہتا ہـــے
🌻 اور کہیں مہینوں بلکہ دنوں میں ختم ہو جاتا ہے، اس کی کیا وجہ ہــــے
🌻میاں بیوی کے تعلق کو ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ دھکے کا تعلق ہے، یہ دھکے سے چلتا ہے، یہ دھکا شوہر لگا لے یا بیوی۔ آپ کو سوسائٹی میں ایسے خاندان بھی مل جائیں گے کہ شادی کے شروع میں وہ لڑائی ہوئی کہ بیوی کے جہیز کا سامان ٹرک بھر کر واپس میکے پہنچ گیا لیکن آج نہ صرف ان میاں بیوی کی اولاد ہے بلکہ ان کے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی ہیں۔
🌻میاں بیوی کے تعلق میں یہ خواہش کرنا کہ اختلاف اور لڑائی نہ ہو، تو یہ بالکل غلط خواہش ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے جتنا اختلاف ضروری ہے، اتنا ہی لڑائی بھی لیکن یہ دونوں چیزیں اس وقت آپ کے لیے عذاب بن جاتی ہیں جبکہ آپ کو لڑائی کرنا تو خوب آتی ہے لیکن صلح کا تجربہ نہیں ہے۔ قرآن مجید نے تو ازواج مطہرات تک کو طلاق کی دھمکی دی۔ یہ رشتہ ہی ایسا ہے کہ کاؤنسلنگ کرنے والے بیچارے خود بعض اوقات کاؤنسلنگ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ تو اگر آپ اختلاف اور لڑائی نہیں کرتے تو آپ ذہنی طور بیمار ہیں لیکن اگر زندگی کو آپ نے متوازن بنانا ہے تو پھر کچھ چیزیں مزید سیکھیں۔ میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کو منانا اور ماننا سیکھیں۔
🌻اگر شوہر کو منانا آتا ہو اور بیوی جلدی ماننے والی نہ ہو تو لڑائی آزمائش میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر شوہر نے منانا سیکھ لیا ہے تو بیوی کو ماننا سیکھنا پڑے گا یا اس کے برعکس سمجھ لیں۔ میاں بیوی کا آئیڈیل تعلق وہ ہے کہ جس میں محبت موجود ہو کہ قرآن مجید نے کہا کہ اللہ عزوجل نے اس رشتے میں محبت اور الفت ڈال دی ہے۔ اب یہ محبت ہر جگہ موجود ہوتی ہے لیکن میاں بیوی دونوں اس کے اظہار سے ڈرتے ہیں کہ دوسرا سر چڑھ جائے گا۔
🌻میاں بیوی کا رشتہ ایسا ہے کہ اگر کچھ عرصہ ایک ساتھ گزار لیں تو ان کے لیے ایک دوسرے سے علیحدہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن اس مشکل کو وہ محبت کا نام دینا تو کجا اسے محبت سمجھنے سے بھی کتراتے ہیں اور اس کی وجوہات کئی ایک ہیں، کچھ معاشرتی ہیں اور کچھ نفسیاتی ہیں۔ پس جب تک اختلاف اور لڑائی میں دونوں ایک دوسرے کی طرف دل سے کھچاؤ محسوس کرتے رہیں تو یہ محبت کی حالت میں ہیں، چاہے اس کا اظہار نہ بھی کریں۔
🌻لڑائی اور اختلاف میں ہلکی سی گرہ لگ جاتی ہے، بس تھوڑی سی توجہ، یا حوصلے، یا صبر، یا انانیت کو ترک کر دینے سے وہ گرہ کھل جاتی ہے اور بڑی سے بڑی لڑائی بھی یوں محسوس ہوتی ہے کہ جیسے کچھ تھا ہی نہیں۔ بس اس گرہ کو کھولنا سیکھیں، اور یہ سیکھنا تبھی آئے گا جبکہ انانیت کم ہو جائے اور انانیت کو کم کرنے کا ایک نسخہ یہ ہے کہ.
🌻 اگر شوہر بیوی کو دیکھے کہ آج گھر کے کام کاج سے کافی تھک گئی ہے تو اس کے پاؤں دبا دے اور بیوی اگر شوہر کو دیکھے کہ باہر سے کافی تھکا ہارا آیا ہے تو اس کے پاؤں دبا دے۔ کچھ ہی عرصے میں انانیت جاتی رہے گی اور منانا، ماننا بھی سیکھ جائیں گے۔ اللہ جلد مان جانے والے پر رحم فرمائے اور منانے والے پر تو دوگنا رحم فرمائے کہ اس کی قربانی زیادہ ہے اور اسی کی وجہ سے گھر کا ادارہ قائم ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں