ا30 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 30
ھ66 ہجری مختار ثقفی کا کوفہ پر قبضہ، حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کی تلاش، حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کا انجام، مثنیٰ بن مخرمہ کی شکست، عبدالملک بن مروان نے مدینۂ منورہ کی طرف لشکر روانہ کیا، مختار ثقفی کے لشکر کی شکست، حضرت محمد بن حنفیہ کی گرفتاری اور رہائی، اہل شام کو حج کرنے سے روک دیا، بیت المقدس کی نئی تعمیر، خانۂ کعبہ سے مقابلہ،
ھ66 ہجری مختار ثقفی کا کوفہ پر قبضہ
اِس سال 66 ہجری میں توابین یعنی شیعان علی نے کوفہ پر قبضہ کر لیا ۔ کوفہ پر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے عبداﷲ بن مطیع کو گورنر بنایا ہوا تھا ۔ توابین کا سپہ سالار مختار بن ابی عبید ثقفی تھا اور اُس کے ساتھ ابراہیم بن اشتر تھا ۔مختار کے پاس چار ہزار کا لشکرجمع ہو گیا تھااور وہ یہ لشکر لیکر کوفہ کی طرف بڑھا ۔ عبداﷲ بن مطیع کو اِس کی خبر ملی تو اُس نے تین ہزار کا لشکر بھیجا اور اس کا سپہ سالار شبث بن ربعی کو بنایا ۔اِس کے علاوہ ایک چار ہزار کا لشکر اور بھیجا اوراس کا سپہ سالار راشد بن ایاس کو بنایا ۔ مختار بن ابی عبید ثقفی نے بارہ سو کا لشکر ابراہیم بن اشتر کو دیکر راشد بن ایاس کے مقابلے پر بھیجا اور نعیم بن ہبیرہ کو نو سوکا لشکر دے کر شبث بن ربعی کے مقابلے پر بھیجا ۔ ابراہیم بن اشتر کے مقابلے میں راشد بن ایاس کے لشکر کو شکست ہوئی اور راشد بن ایاس قتل ہوگیا ۔ نعیم بن ہبیرہ کے مقابلے میں شبث بن ربعی کو فتح ہوئی اور نعیم بن ہبیرہ قتل ہو گیا ۔ اِس کے بعد شبث بن ربعی نے مختار بن ابی عبید ثقفی کا محاصرہ کر لیا ۔ ابراہیم بن اشتر اُسے بچانے کے لئے آیا تو عبداﷲ بن مطیع نے حسان بن فائد کو دو ہزار کا لشکر دے کا اُس کا راستہ روکنے کے لئے بھیجا ۔ دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی اور ابراہیم بن اشتر کو فتح حاصل ہوئی ۔ اِس کے بعد وہ شبث بن ربعی کے پاس آیا جس نے مختار بن ابی عبید ثقفی کا محاصرہ کیا ہوا تھا ۔ شبث بن ربعی نے دونوں لشکروں کا مقابلہ کیا اور انہیں کوفہ کے باہر تک کھدیڑ دیا ۔ اس کے بعد ایک بار پھر مختار لشکر لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہوا تو عبداﷲ بن مطیع نے عمرو بن حجاج کی سپہ سالاری میں دو ہزار کا ایک لشکر اُس کے مقابلے کے لئے بھیجا ۔ اس کے مقابلے کے لئے مختار نے یزید بن انس کو لشکر دیکر بھیجا اور خود ابراہیم بن اشتر کے ساتھ لشکر لیکر ‘‘باب کناسہ’’ سے کوفہ میں داخل ہوا ۔ عبداﷲ بن مطیع نے شمر بن ذی جوشن کو جس نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تھا دوہزار کا لشکر دیکر روانہ کیا تو مختار نے اس کے مقابلے کے لئے سعد بن منقذ کو بھیجا ۔مختار کوفہ میں داخل ہوا تو نوفل بن مساحق پانچ ہزار کے لشکر کے ساتھ اُس کے مقابلے پر موجود تھا ۔ عبداﷲ بن مطیع اپنے محل سے باہر نکلا اور شبث بن ربعی کو اپنا نائب بنایا ۔ ابراہیم بن اشتر نے حملہ کر کے انہیں شکست دی اور عبداﷲ بن مطیع کے محل کا تین دن تک مختار کے ساتھ محاصرہ کئے رہا ۔ عبداﷲ بن مطیع نے مختار بن ابی عبید ثقفی سے امان طلب کی جو اُس نے دے دی کیونکہ وہ اُس کا پرانا دوست تھا ۔ عبداﷲ بن مطیع خاموشی سے بصرہ چلا گیا اور کوفہ پر مختار بن ابی عبید ثقفی کا قبضہ ہو گیا ۔
حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کی تلاش
کوفہ کا انتظام مختار بن ابی عبید ثقفی نے سنبھال لیا ۔اُس نے کوفہ کے بیت المال میں نو کروڑ درہم پائے اور اس نے اس لشکر کو جو اس کے ساتھ تھا بہت سارے انعامات دیئے ۔ عبداﷲ بن یشکری کو پولیس کا سب سے بڑا افسر بنایا ۔ پھر مختار نے اپنے لشکروں کو ملک عراق اور خراسان کی طرف اور دوسرے شہروں کی طرف روانہ کیا اور جھنڈے باندھے اور امارتیں اور ریاستیں قائم کیں ۔ کوفہ میں صبح و شام بیٹھ کر لوگوں کے فیصلے کرنے لگا اور شریح کو قاضی بنادیا ۔ پھراُسے معزول کر کے عبداﷲ بن عتبہ کو قاضی بنایا اور پھراُسے بھی معزول کر کے عبداﷲ بن مالک کو قاضی بنادیا ۔ پھر مختار بن ابی عبید ثقفی نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کی تلاش شروع کر دی اور جو بھی سامنے آیا اسے قتل کردیا ۔ اِس کے لئے مختار بن ابی عبید ثقفی کو اہل کوفہ سے جنگ بھی کرنی پڑی کیونکہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین اہل کوفہ کو مختار کے خلاف مسلسل بھڑکا رہے تھے اور لشکر جمع کر رہے تھے ۔ آخر کار مختار کے لشکر اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کے لشکر میں شدید جنگ ہوئی اور مختار کو فتح حاصل ہوئی ۔
حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کا انجام
حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کو مختار ڈھونڈ رہا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : وادئ عیین سے پانچ سو سپاہی گرفتار کر لئے گئے ۔ مختار نے نصف آدمیوں کو جو شہادت حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ میں شریک تھے قتل کر ڈالا اور باقی کو رہا کر دیا ۔ جنگ کے خاتمہ پر مختار نے منادی کرادی کہ ہر شخص کے لئے جو لڑائی سے اپنے آپ کو روک لے گا امان ہے سوائے اس کے جو اہل بیت کی خون ریزی میں شریک ہوا تھا ۔ عمرو بن حجاج یہ سن کر بھاگ گیا اور اُس کا کوئی پتہ نہیں چلا ۔ بعض کا خیال ہے کہ مختار کے ساتھیوں میں سے کسی نے اُس کو گرفتار کر کے سر کاٹ لیا تھا ۔ شمر بن ذی جوشن کے تعاقب میں مختار کا ایک غلام گیا ہوا تھا ۔ جب یہ قریب پہنچا تو شمر بن ذی جوشن نے اُسے قتل کر دیا اور قریہ ‘‘کلبانیہ’’ بھاگ گیا ۔ وہ یہ سمجھا کہ بچ گیا ہے لیکن اُس قریہ کے قریب ہی ایک قریہ میں مختار کا ایک ساتھی ‘‘ابو عمرہ’’ اہل بصرہ کی روک تھا کے لئے ٹھہرا ہوا تھا ۔ اُسے شمر بن ذی جوشن کے بارے میں خبر ملی تو وہ اپنے لشکر کو لیکر آیا اور شمر بن ذی جوشن پر حملہ کردیا ۔ اُس نے بھی اپنے لشکر کے ساتھ مقابلہ کیا لیکن شمر کو شکست ہو گئی اور اُس کے ساتھ سو آدمی قتل ہوئے ۔ شمر بن ذی جوشن کو بھی قتل کر دیا گیا اور اُس کی لاش کو کتوں اور مردارخوروں کو کھلا دیا گیا ۔ یہ واقعہ 66 ہجری کے آخری دنوں کا ہے ۔ اِس واقعہ کے بعد مختار بن ابی عبید ثقفی ،حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلوں کو چن چن کر قتل کرنے لگا ۔ عبیداﷲبن اسد جہنی ، مالک بن نسیر کندی ، حمل بن مالک محاربی کو قادسیہ سے گرفتار کراکے قتل کیا ۔ اِس کے بعد زیاد بن مالک ضبعی ، عمران بن خالد عثری ، عبدالرحمن بن خشکارہ بجلی اور عبداﷲ بن قیس خولانی جنہوں نے میدان کربلا میں حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کا اسباب لوٹا تھا بیڑیاں ڈال کر گرفتار کر کے حاضر کئے گئے اور مختار بن ابی عبید ثقفی کے اِن سب کو قتل کرادیا گیا ۔ اِس کے بعد عبداﷲ یا عبدالرحمن بن طلحہ ، عبداﷲ بن وہب ہمدانی ، پیش کیا گیا اور انہیں بھی قتل کردیا گیا ۔ اِس کے بعد عثمان بن خالد جہنی ، بزر بن سمط قابسی جنہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تھا اور اُن کا مال و اسباب لوٹ لیا تھا ) کو قتل کر کے آگ میں جلا دیا ۔ خولی بن یزید اصبحی نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کا سر کاٹا تھا وہ جان کے خوف سے چھپ گیا تھا لیکن اُسے بڑی شدت سے تلاش کر کے لایا گیا اور اُس کا سر کاٹ کر مختار نے جلوا دیا ۔ اِس کے بعد عُمر بن سعد کے قتل کا حکم صادر ہوا حالانکہ اُس نے عبداﷲ بن ابی جعدہ کی معرفت امان حاصل کر لی تھی ۔ لیکن جب مختار بن ابی عبید ثقفی نے حکم دیا تو ابو عمرہ اُس کا سر کاٹ کر لایا ۔ مختار نے اُس کے سر کو محمد بن حنفیہ کے پاس بھیج دیا اور خط لکھا :‘‘ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین میں سے جس جس پر میرا زور چلا تو میں نے اُسے قتل کر ڈالا اور باقی لوگوں کی گرفتاری اور قتل کی فکر میں ہوں ۔’’
مثنیٰ بن مخرمہ کی شکست
مختار بن ابی عبید ثقفی نے کوفہ پر قبضہ کرنے کے بعد بصرہ پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کرنے لگا اور اِس کے لئے لشکر بھی بھیجا لیکن بصرہ کے گورنر حارث بن ابی ربیعہ یعنی قباع نے اُسے بصرہ سے بھگا دیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مثنیٰ بن مخرمہ عبدی جنگ ‘‘عین الودرہ’’ میں سلیمان بن صرد کے ساتھ تھا جو اُس کے قتل کے بعد مختار کے پاس کوفہ چلا آیا تھا اور اُس کے ہاتھ پر حکومت کی بیعت کر لی تھی ۔ مختار نے اس کو بصرہ کی طرف اہل بیت کے قصاص لینے کی غرض سے روانہ کیا ۔ تھوڑے ہی دنوں میں مثنیٰ بن مخرمہ نے ایک بڑا لشکر جمع کر لیا اور بصرہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوا ۔ بصرہ کے گورنر قباع نے عباد بن حسین اور وین بن ہیثم کو لشکر دے کر اُس کے مقابلے کے لئے روانہ کیا ۔ انہوں نے مثنیٰ بن مخرمہ کا شکست دی اور وہ بھاگ کر اپنی قوم بنو عبدالقیس میں جا کر چھپ گیا ۔ بصرہ کے گورنر قباع نے اُس کی گرفتاری پر ایک دستہ مقرر کیا تو زیاد بن عمر عنکی قباع کے پاس آیا اور بولا : ‘‘ تم اپنے گھڑ سواروں کو ہمارے بھائیوں کے محاصرے سے بلا لو ورنہ ہم اُن سے لڑنے لگیں گے ۔’’ قباع کے مصلحت کے تحت احنف بن قیس کو بھیجدیا اور اُس نے جنگ چھڑنے سے پہلے ہی پہنچ کر اِس صورت میں محاصرہ اُٹھا لیا کہ بنو عبدالقیس مثنیٰ بن مخرمہ کو نکال دیں ۔ انہوں نے اُسے نکال دیا اور وہ کوفہ روانہ ہو گیا ۔
عبدالملک بن مروان نے مدینۂ منورہ کی طرف لشکر روانہ کیا
مملکت اسلامیہ میں دو حکومتیں چل رہی تھیں ۔ایک ملک شام اور ملک مصر پر تھی اور اُس کا ‘‘مرکذ’’ دمشق’’ تھا ۔ دوسری ملک حجاز اور آس پاس کے علاقوں پر تھی اور اس کا ‘‘مرکذ’’ مکۂ مکرمہ تھا ۔ ملک شام کی حکومت کا حکمراں عبدالملک بن مروان تھا اور ملک حجاز کی حکومت کے حکمراں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ تھے ۔ عبدالملک بن مروان چاہتا تھا کہ ملک حجاز اور ملک عراق اور ملک ایران پر بھی اُس کی حکومت قائم ہو جائے اور اِس کے لئے وہ مسلسل کوشش بھی کرتا رہتا تھا ۔اِسی سلسلے میں اُس نے 66 ہجری میں ایک لشکر مدینۂ منورہ ‘‘وادئ القریٰ’’ کی طرف بھیجا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : کچھ عرصے بعد عبدالملک بن مروان نے عبدالملک بن حارث کو سپہ سالار بنا کر ایک لشکر ‘‘وادئ القریٰ’’ کی طرف روانہ کیا ۔ مختار نے یہ خبر سن کر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو لکھا :‘‘ اگر آپ رضی اﷲ عنہ پسند کریں تو میں امداد کے لئے ایک لشکر بھیج دوں ۔’’ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا : ‘‘ اگر تم میرے مطیع ہو تو یہ بہت اچھی بات ہے اور نہایت تیزی سے ایک لشکر عبدالملک کے لشکر کے مقابلے کے لئے وادئ القریٰ میں بھیج دو۔’’ مختار نے فوراً شرجیل بن دوس ہمدانی کو سپہ سالار بنا کر تین ہزار کا لشکر دیا جس میں اکثر آزاد کردہ غلام تھے اور حکم دیا کہ مدینۂ منورہ کے پاس پہنچ کر اطلاع دینا پھر جیسا میں حکم دوں گا اُس کی تعمیل کرنا ۔
مختار ثقفی کے لشکر کی شکست
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مختار کو لشکر بھیجنے کا حکم دے دیا لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کو اُس پر اعتبار نہیں تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں :یہ جواب روانہ کرنے کے بعد حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے خیالات مختار کے بارے میں بدل گئے ۔ انہوں نے مکۂ مکرمہ سے عباس بن سہل کو سپہ سالار بنا کر دوہزار کا لشکر دے کر یہ سمجھا کر روانہ کیا :‘‘ مختار کا لشکر اگر مطیع ہو کر آیا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اُسے واپس کردینا یا جنگ کر کے ہلاک کر دینا ۔’’ عباس بن سہل اور شرجیل بن دوس کی مقام ‘‘ رقیم’’ میں ملاقات ہوئی ۔ عباس بن سہل نے کہا: ‘‘ تم اپنا لشکر لیکر ہمارے ساتھ دشمن کے مقابلے کے لئے ‘‘وادئ القریٰ’’ چلو ۔’’ شرجیل بن دوس نے کہا : ‘‘ مجھے مختار نے سیدھے مدینۂ منورہ جانے کا حکم دیا ہے ۔اِسی لئے میں تمہارے ساتھ وادئ القریٰ نہیں جاؤں گا ۔’’ عباس بن سہل کو اِس جواب سے پورا یقین ہو گیا کہ مختار نے مخالفت کے لئے لشکر بھیجا ہے مگر تالیف قلوب کے لئے گوشت ، گھی اور پکا ہوا کھانا بھیج دیا ۔ شرجیل بن دوس اور اُس کے سپاہی بھوکے اور پیاسے تھے ۔ ایک چشمہ پر کھانے اور پینے میں مصروف ہو گئے ۔ عباس بن سہل نے اپنے لشکر میں سے ایک ہزارآزمودہ سپاہیوں کو لیکر حملہ کر دیااور شرجیل بن دوس کے ساتھ اُس کے ستر سپاہیوں کو قتل کر دیا ۔ باقی سپاہیوں کو امان دے دی اور وہ لوگ پریشانی کے عالم میں کوفہ پہنچے اور اُن میں سے اکثر راستے میں ہی مر گئے ۔
حضرت محمد بن حنفیہ کی گرفتاری اور رہائی
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور حضرت محمد بن حنفیہ کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لئے مختار بن ابی عبید ثقفی نے اِس واقعہ سے پورا فائدہ اُٹھایا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس واقعہ سے مختار کو حضرت محمد بن حنفیہ اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو لڑوا دینے کا بھر پور موقع مل گیا ۔ اُس نے حضرت محمد بن حنفیہ کے پاس ایک شکایت بھرا خط لکھا : ‘‘ میں نے ایک لشکر آپ کی فرمانبرداری اور اہل بیت کے دشمنوں کو ذلیل کرنے کے لئے ایک لشکر روانہ کیا تھا لیکن عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اُن کے ساتھ برتاؤ کیا ہے ۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک لشکر مدینہ کی طرف روانہ کروں ،بشرطیکہ آپ بھی اپنی طرف سے ایک آدمی بھیج دیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ میں آپ کا مطیع ہوں ۔’’ حضرت محمد بن حنفیہ نے جواباً لکھا: ‘‘ میں تمہار قصد ، تمہاری حق شناسی کو جانتا ہوں ۔ میرے نزدیک سب سے اچھا عمل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر قدم نہیں رکھا جائے ۔ پس تم حتیٰ الامکان اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہو اور مسلمانوں کی خونریزی سے پرہیز کرو ۔ اگر میرا مقصد جنگ کرنا ہوتا تو میرے پاس بہت سارے لوگ جمع ہوجاتے ۔ میرے معین و مدد گار بہت زیادہ ہیں لیکن میں نے اس کو معزول کر رکھا ہے اور میں صبر و شکر کر رہا ہوں ۔ یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ ہی کوئی حکم صادر فرمائے اور اﷲ ہی ‘‘خیر الحاکمین ’’ہے ۔’’ اِس کے بعد حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے حضرت محمد بن حنفیہ سے کہا کہ وہ اپنے اہل بیت کے اور ساتھیوں کے ساتھ بیعت کر لیں لیکن آپ نے انکار کردیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بیعت کے لئے عبداﷲ بن ہانی کندی کو بھیجا تھا اور وہ سختی اور درشتی سے پیش آیا لیکن آپ برابر صبر و تحمل سے کام لیتے رہے اور مجبور ہو کر اُس نے آپ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ۔ مگر اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت محمد بن حنفیہ کے ساتھیوں نے کھلم کھلا حضرت محمد بن حنفیہ کی بیعت کرنے کی دعوت دینی شروع کر دی ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو خوف ہوا کہ لوگ برہم نہ ہو جائیں ۔اِسی لئے خود بیعت لینے کا ارادہ کیا اور اِس مقصد کے لئے حضرت محمد بن حنفیہ کو مقام ‘‘زمزم’’ میں قید کر دیا اور ایک مدت مقرر کر دی کہ اِس دوران میں بیعت کر لو نہیں تو قتل کر دیئے جاؤ گے ۔ ’’ حضرت محمد بن حنفیہ نے تمام واقعہ مختار کو لکھا تو عبداﷲ جدلی کو سپہ سالار بنا کر تین سو کا لشکر اور حضرت محمد بن حنفیہ کے لئے چال لاکھ درہم مکۂ مکرمہ بھیجا ۔ یہ لشکر جب مکۂ مکرمہ کے قریب پہنچا تو سب ہتھیار اُتار دیئے اور ایک ایک لکڑی ہاتھ میں لے لی کیونکہ وہ مکۂ مکرمہ میں تلوار اُٹھانا حرام سمجھتے تھے ۔ یہاں تک کہ وہ زمزم کے پاس پہنچے اور دروازہ توڑ کر حضرت محمد بن حنفیہ کو نکالا ۔ اُس وقت مدت ختم ہونے میں صرف دو دن رہ گئے تھے ۔ لوگوں نے حضرت عبداﷲ بن زبیر سے اجازت مانگی کہ اِن سب کو گرفتار کر کے قتل کر دیا جائے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں جانے کی اجازت دے دی اور فرمایا: ‘‘ میں حرم میں جنگ کرنا جائز نہیں سمجھتا ہوں ۔’’ اِس کے بعد حضرت محمد بن حنفیہ زمزم سے نکل کر ‘‘شعب علی’’ میں چلے گئے اور رفتہ رفتہ وہاں اُن کے پاس چار ہزار سے زیادہ آدمی جمع ہو گئے۔
اہل شام کو حج کرنے سے روک دیا
اِس سال 66 ہجری میں عبدالملک بن مروان نے ‘‘بیت المقدس’’ کی نئی تعمیر شروع کروائی ۔علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 66 ہجری میں عبدالعزیز بن مروان نے ملک مصر میں دینار ڈھالے اور یہ ملک مصر میں دینا ڈھالنے والے پہلا شخص ہے ۔ اِسی سال عبدالملک بن مروان نے ‘‘بیت المقدس’’ کے ‘‘صخرہ’’ پر گنبد بناے اور ‘‘مسجد اقصٰی’’ کی عمارت کی تعمیر کی ابتداء کیا اور اس کی عمارت 73 ہجری میں مکمل ہوئی ۔اِس کا سبب یہ تھا کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ مکۂ مکرمہ پر قابض تھے اور وہی منٰی اور عرفہ کے ایام میں خطبہ دیتے تھے اور لوگوں کے سامنے عبدالملک بن مروان کو برا بھلا کہتے اور بنو مروان کی برائیوں کا ذکر کرتے اور فرماتے : ‘‘ بے شک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ‘‘حکم’’ ( مروان بن حکم کا باپ اور عبدالملک بن مروان کا دادا)اور اُس کی اولاد پر لعنت فرمائی ہے اور وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا دھتکارا ہوا ہے ۔’’ آپ رضی اﷲ عنہ اپنی بیعت کی دعوت دیا کرتے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ بڑے فصیح البیان تھے اور ملک شام کا بڑا حصہ آپ رضی اﷲ عنہ کی طرف مائل ہوگیا ۔عبدالملک بن مروان کو اِس امر کی اطلاع ملی تو اُس نے ملک شام کے لوگوں کو حج کرنے سے روک دیا ۔ انہوں نے شور مچایا تو عبدالملک بن مروان نے صخرہ پر گنبد اور مسجد اقصٰی کی تعمیر کی تاکہ اہل شام کو حج سے غافل کردے اور اُن کے دلوں کو بیت المقدس کی طرف مائل کردے ۔ اہل شام صخرہ کے پاس کھڑے ہوتے اور اُس کے ارد گرد اِس طرح طواف کرتے جیسے وہ خانۂ کعبہ کے گرد طواف کرتے تھے اور بقرعید کے دن قربانی کرتے اور اپنے سروں کو منڈاتے تھے ۔
بیت المقدس کی نئی تعمیر
ملک شام کے لوگوں کو حج کے لئے مکۂ مکرمہ جانے سے عبدالملک بن مروان نے روک دیا اور اُن کے لئے بیت المقدس کی اتنی خوب صورت تعمیر کرائی کہ ہر کوئی اس کی زیارت کو آنے لگا ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں : جب عبدالملک بن مروان نے بیت المقدس کی تعمیر کا ارادہ کیا تو اِس کام کو رجاء بن حیوۃ اور اپنے غلام یزید بن سلام کے سپرد کیا ۔ تمام شہروں سے بہترین کاریگر جمع کر کے بیت المقدس بھیج دیا اور دونوں کو حکم دیا کہ خوب اموال خرچ کریں اور انتہائی شاندار تعمیر کریں ۔اُن دونوں نے اخراجات کو خوب پھیلایا اور گنبد کو شاندار طور پر تعمیر کیا اور رنگین سنگ مرمر سے اُس کا فرش بنایا اور گنبد کے لئے دو جھول بنائے ۔ ایک سردیوں کے لئے جو سرخ پود کا تھا اور دوسرا گرمیوں کیلئے جو چمڑے کا تھا اور مختلف قسم کے پردوں سے گنبد کا گھیراؤ کیا ۔ اس کے لئے مختلف قسم کی خوشبوؤں ، کستوری ، عنبر ، گلاب اور زعفران کے لئے خادم مقرر کئے ۔ وہ اس سے خوشبو بناتے اور رات کو گنبد اور مسجد کو دھونی دیتے تھے ۔ اس میں سنہری اور نقرئی قندیلیں اور زنجیریں اور بہت سی اشیاء لگائی گئیں ۔ اس میں قماری جو عموماً کستوری سے ڈھکا ہوتا تھا لگایا گیا اور گنبد اور مسجد میں مختلف قسم کے رنگین قالین بچھائے گئے ۔ جب وہ نجور چھوڑتے تو اسے بعید مسافت سے سونگھا جاتا اور جب کوئی شخص بیت المقدس سے اپنے شہر واپس جاتا تو کئی دنوں تک اس سے کستوری ، خوشبو اور نجور کی خوشبو محسوس ہوتی رہتی تھی اور معلوم ہوجاتا تھا کہ وہ شخص بہت المقدس سے آیا ہے اور صخرہ میں داخل ہو کر آیا ہے ۔
خانۂ کعبہ سے مقابلہ
مکۂ مکرمہ میں تمام مسلمان حج کرنے کے لئے آتے تھے ۔ عبدالملک بن مروان نے ملک شام کے لوگوں کو مکۂ مکرمہ حج کے لئے جانے سے روک دیا اور اُن کے لئے بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ اور صخرہ کے گبند کو اتنا عالیشان بنوایا کہ لوگ اس کی زیارت کے لئے آنے لگے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ اور صخرہ کے گنبد کے بہت سے خدام اور منتظم تھے اور اُن دنوں روائے زمین پر بیت المقدس کے صخرہ کے گنبد سے بڑھ کر کوئی خوبصورت عمارت موجود نہیں تھی ۔ اس کی وجہ سے لوگ کعبہ اور حج سے غافل ہو گئے تھے اِس لئے کہ وہ حج کے دنوں میں بھی بیت المقدس کے سوا کسی طرف نہیں جاتے تھے اور اِس سے لوگ فتنہ میں پڑ گئے اور ہر جگہ سے لوگ وہاں آنے لگے ۔ آخر میں انہوں نے اِس میں بہت سے جھوٹے اشارات و علامات بنا دیں ۔ اِس میں انہوں نے پل صراط اور جنت کے دروازے اور رسول ا صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاؤں اور وادئ جہنم کی تصویر کشی کی ۔ اِسی طرح اس کے دروازوں اور کئی جگہوں میں ایسا کیا جس سے لوگ فریب کھا گئے تھے ۔جب صخرہ بیت المقدس کی تعمیر سے فراغت ہوئی تو روئے زمین پر اس کی خوش منظری کی کوئی نظیر موجود نہیں تھی ۔ اس میں نگینے ، جواہر اور رنگ برنگے پتھر کے ٹکڑے اور بہت سی چیزیں جڑی ہوئی تھیں اور اِن میں بہت سی خوبصورت اقسام تھیں ۔جب خلافت عباسیہ کا بادشاہ ابو جعفر منصور 140 ہجری میں بیت المقدس آیا تو اُس نے مسجد کو ویران پایا تو اُس نے گنبد اور دروازوں پر جو سونا اور پتھر لگے تھے انہیں اکھاڑنے کا حکم دے دیا ۔ اس کے بعد جو ٹوٹ پھوٹ ہوئی اُسے ٹھیک کروایا تو پہلے مسجد طویل تھی تو اُس نے اس کے طول کو کم کر کے عرض میں اضافہ کروادیا ۔ جب عمارت مکمل ہو گئی تو اُس نے گنبد کے دروازے پر لکھوا دیا : ‘‘ امیر المومنین عبدالملک بن مروان نے 62 ہجری میں ٹوٹ پھوٹ کے بعد اس کی تعمیر کا حکم دیا اور قبلہ سے شمال کی طرف مسجد کا طول 765 گز تھا اور بیت المقدس 16 ہجری میں فتح ہواتھا ۔ واﷲ و اعلم۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں