اتوار، 1 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 29


 ا29 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 29

رسو ل اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کی خانۂ کعبہ کے بارے میں چاہت، خانۂ کعبہ کی ابراہیمی طرز پر تعمیر، ھ64 ھجری کا اختتام، ھ65 ہجری :عبدالملک اور عبدالعزیز کی‘‘ ولی عہدی’’، مروان بن حکم کا انتقال، عبدالملک بن مروان سلطنت امیہ کا حکمراں، مروان بن حکم کے بھیجے ہوئے لشکر، خوارج کا حملہ، مہلب اور خوارج میں جنگ، خوارج کی شکست، ھ65 ہجری کا اختتام ،  حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 



رسو ل اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کی خانۂ کعبہ کے بارے میں چاہت


اِس سال 64 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کردہ طریقے پر تعمیر کرائی ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کی تعمیر کی تھی تو ‘‘حطیم’’ کا پورا حصہ خانۂ کعبہ کے اندر تھا اور وہ‘‘ مستطیل نما’’ تھا اور اُس کے دو دروازے تھے ۔ بعد میں خانۂ کعبہ کے شکستہ ہونے کے بعد جب قریش نے نئے سرے سے اُس کی تعمیر کی تو پیسے کی کمی کی وجہ سے خانۂ کعبہ کو ‘‘مربع نما ’’ یعنی چوکور بنادیااور ایک ہی دروازہ کر دیا اور ‘‘حطیم’’ کو خانۂ کعبہ کے باہر کر دیا ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ خانۂ کعبہ کو ابراہیمی طرز پر بنادیں لیکن انہیں وقت نہیں ملا اور اسے بعد میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے ابراہیمی طرز پر بنا کر پورا کردیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی چاہت کے مطابق دوبارہ تعمیر کر دیا ۔جیسا کہ صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم) میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :‘‘ اے عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا! اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نہیں نکلی ہوتی تو میں خانۂ کعبہ کو ڈھا دیتا اور حجر کو اِس میں شامل کردیتا ۔ بے شک تمہاری قوم کو اخراجات نے روک دیا اور میں اس کے مشرقی اور مغربی دروازے کو بناتا جن میں سے ایک سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے سے باہر آجاتے اور میں اس کے دروازے کو زمین سے لگا دیتا ۔ بے شک تمہاری قوم نے اس کے دروازے کو بلند کر دیا ہے تاکہ جسے چاہیں داخل کریں اور جسے چاہیں روک دیں ۔ ’’ 


خانۂ کعبہ کی ابراہیمی طرز پر تعمیر


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو خانۂ کعبہ کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی چاہت کے بارے میں معلوم تھا ۔اِس لئے جب آپ رضی اﷲ عنہ حکمراں بنے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی چاہت کو پورا کیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۶۴ ؁ ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی نئے سرے سے تعمیر کرائی کیونکہ اس کی دیوار منجنیق سے پتھروں کی بارش کی وجہ سے جھک گئی تھی ۔ پس آپ رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی دیواریں گرا دی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد تک پہنچ گئے ۔اس کے پیچھے طواف کرتے اور نماز پڑھتے رہے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ‘‘حجر اسود’’ کو ایک تابوت میں رکھ لیا جو ریشمی کپڑوں میں تھا اور خانۂ کعبہ میں جو زیورات ، کپڑے اور خوشبوئیں خزانچی کے پاس تھیں انہیں جمع کرلیا ۔ یہاں تک کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی چاہت کے مطابق دوبارہ تعمیر کردیا اور اسے اُسی طرح ابراہیمی طرز تعمیر پر بنایا جیسا اُن کی خالہ جان اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے آپ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حوالے سے بتایا تھا ۔ اﷲ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ۶۴ ؁ ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کو منہدم کر کے زمین کے برابر کر دیا اِس لئے کہ منجنیق سے پتھروں کی بارش کی وجہ سے دیواریں جھک گئیں تھیں ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی بنیاد کھدوائی اور حجر اسود کو اس کے اندر شامل کر لیا ۔ اُس زمانہ میں لوگ اُسی بنیاد کے گرد طواف کرتے تھے اور نماز کی جگہ نماز پڑھتے تھے ۔ حجر اسود اور باقی چیزوں کو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے ایک ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر اپنے پاس رکھ لیا اور جب خانۂ کعبہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تو انہیں اُن کی جگہ پر رکھ دیا ۔ 


ھ64 ھجری کا اختتام


اِس سال 64 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔چونکہ آپ رضی اﷲ عنہ کی حکومت مملکت اسلامیہ کے ایک بہت بڑے علاقے پر تھی اِسی لئے ہم اُن کے گورنروں کے بارے میں بتادیتے ہیں ۔اُس وقت مروان بن حکم اپنی حکومت کو مستحکم کرنے میں لگا ہوا تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت عبیدہ بن زبیر کو بنایا ۔ کوفہ کا گورنر عبیداﷲ بن یزید خطمی کو بنایا ۔ اور کوفہ کا قاضی سعد بن نمران کو بنایا ۔ بصرہ کا گورنر عمر بن تیمی کو بنایا اور وہاں کا قاضی ہشام بن ہبیرہ کو بنایا ۔ خراسان کا گورنر عبداﷲ بن حازم کو بنایا ۔یہاں 64 ہجری کا اختتام ہوا ۔ 


ھ65 ہجری :عبدالملک اور عبدالعزیز کی‘‘ ولی عہدی’’


اِس سال 65 ہجری میں مروان بن حکم نے اپنے دو بیٹوں عبدالملک بن مروان اور عبدالعزیز بن مروان کی ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان کیا ۔ عبدالعزیز بن مروان مشہور ‘‘عادل حکمراں’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز جنہیں کچھ علما ‘‘خلیفۂ راشد’’ بھی کہتے ہیں کے والد ہیں ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمرو بن سعید بن عاص نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے بھائی مصعب بن زبیر کو شکست دے کر دمشق واپس آیا تو اُس کی بہت عزت بڑھ گئی ۔ مروان بن حکم کی حکومت پورے ملک شام اور ملک مصر پر مضبوط اور مستحکم ہو چکی تھی ۔ مروان بن حکم کو خبر لگی کہ عمرو بن سعید کہتا ہے کہ ‘‘مروان بن حکم کے بعد وہ مسلمانوں کا ‘‘امیر المومنین ’’ہو گا اور اِس کا وعدہ خود مروان بن حکم نے اُس سے کیا ہے ۔’’ یہ اطلاع ملنے کے بعد مروان بن حکم نے حسان بن بحدل کو اپنے پاس بلایا ۔ حسان بن بحدل چاہتا تھا کہ مروان بن حکم کے بعد یزید کا بیٹا خالد بن یزید حکمراں بنے لیکن وہ ابھی بہت چھوٹا تھا ۔ مروان بن حکم نے حسان بن بحدل سے کہا :‘‘ میں چاہتا ہوں کے اپنے بیٹوں عبدالملک اور عبدالعزیز کو ‘‘ولی عہد’’ بنا دوں اور لوگوں سے اِس کی بیعت لے لوں ۔’’ اور اِسی کے ساتھ اُس نے عمرو بن سعید کے ارادے کو بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اُسے لگتا ہے کہ اُس کا آخری وقت آ پہنچا ہے ۔ حسان بن بحدل نے کہا: ‘‘ آپ عمرو بن سعید کی فکر نہ کریں اُس سے میں سمجھ لوں گا ۔ ’’ جب تمام لوگ مروان بن حکم کے دربار میں جمع ہوئے تو حسان بن بحدل نے کھڑے ہو کر کہا: ‘‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ لوگوں کو بڑی بڑی اُمیدیں ہیں ۔آپ سب کھڑے ہوں اور امیر المومنین مروان بن حکم کے بعد عبدالملک اور عبد العزیز کے لئے بیعت کریں۔’’ تمام لوگوں نے بلا حیل و حجت بیعت کر لی ۔ 


مروان بن حکم کا انتقال


اِس سال 65 ہجری میں مروان بن حکم کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب ان ممالک میں مروان بن حکم کی حکومت مستحکم ہو گئی تو اُس نے اپنے بیٹے عبدالملک اور عبدالعزیز کے لئے بیعت لی اور خالد بن یزید کی بیعت کو ترک کر دیا کیونکہ وہ اُسے حکومت کا اہل نہیں سمجھتا تھا ۔ مالک بن حسان جو خالد بن یزید کا ماموں تھا اُس نے بھی اِس معاملے میں اتفاق کیا ۔ پھر خالد بن یزید کی ماں یعنی یزید کی بیوہ جو اب مروان بن حکم کی بیوی بن چکی تھی ۔اُس نے مروان بن حکم کے خلاف سازش کی اور اُسے زہر دے دیا اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اُس نے سونے کی حالت میں مروان بن حکم کے چہرے پر تکیہ رکھ کر دبا دیا اور وہ گلا گھٹ کر مر گیا اور پھر اُس نے لونڈیوں کو بلند آواز سے پکارا اور بولی کہ امیر المومنین مر گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ مروان بن حکم نے بھرے دربار میں خالد بن یزید کی توہین کی اور اُس کی ماں کے بارے میں برا کہا ۔ خالد بن یزید نے یہ واقعہ اپنی ماں سے آ کر بتایا ۔ ماں نے کہا کہ کسی سے ذکر نہیں کرنا میں اُس سے سمجھ لوں گی ۔ جب مروان بن حکم اُس کے پاس آیا تو پوچھا : ‘‘ کیا خالد نے میرے بارے میں کوئی بات کہی ہے ؟’’ اُس نے کہا : ‘‘ بھلا خالد تمہارے بارے میں کوئی بات کیسے کہہ سکتا ہے ؟ وہ تو تمہاری بہت زیادہ عزت کرتا ہے۔’’ مروان بن حکم نے اس پر یقین کر لیا ۔ کچھ دنوں بعد ایک رات مروان بن حکم اُس کے پاس سویا ہوا تھا تو اُس نے تکیہ اُس کے چہرے پر رکھ کر اِس طرح دبایا کہ وہ مر گیا ۔ مروان بن حکم کی حکومت کی مدت نو (9) مہینے تھی ۔ بعض نے نو (9) مہینے ستائیس (27) دن بھی بتائی ہے ۔ 


عبدالملک بن مروان سلطنت امیہ کا حکمراں


مروان بن حکم کے مرنے کے بعد ملک شام کے لوگوں نے عبدالملک بن مروان کو ‘‘سلطنت اُمیہ کا حکمراں بنا دیا ۔ یہ بہت ہی چالاک اور سوجھ بوجھ کا مالک تھا اور اِس نے حکومت کا انتظام بہت ہی بہترین طریقے سے سنبھالا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : تین (3) رمضان المبارک 65 ہجری میں دمشق میں مروان بن حکم کے مر جانے کے بعداُس کے بیٹے عبدالملک بن مروان سلطنت اُمیہ کا حکمراں بن گیا ۔ اِس کو لوگ ‘‘ابوالملوک’’ ( بادشاہوں کا باپ) بھی کہتے تھے ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس کے چار بیٹے ولید ، سلیمان ، یزید اور ہشام سلطنت اُمیہ کے بادشاہ بنے جیسا کہ انشاء اﷲ آگے ذکر آئے گا ۔ چونکہ اِس کے مسوڑھوں سے اکثر خون بہتا رہتا تھا جس کی وجہ سے اس پر مکھیاں بیٹھا کرتی تھیں اِسی لئے اسے ‘‘ابو الذباب’’ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ۔ عبدالملک اُنتیس (29) سال کی عُمر میں حکمراں بنا ۔ یہ مدینۂ منورہ میں بڑا ہوا اور اسلام کا بہت بڑا عالم تھا ۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : کسی شخص نے حضرت عبدا ﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا: ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ قریش کے مشہور عالم ہیں لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کے بعد ہم کس سے مسائل دریافت کریں ؟’’ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :‘‘ مروان بن حکم کا بیٹا عبدالملک ‘‘فقیہ’’ ہے۔اُس سے دریافت کر لیا کرنا۔’’عبدالملک نوجوانی میں جب مدینۂ منورہ میں رہتا تھا تو ایک دن حضرت ابو ہریرہ سے ملنے کے لئے آیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے دیکھ کر فرمایا : ‘‘ ایک دن یہ نوجوان مملکت اسلامیہ کا مالک ہو گا ۔’’ عبدالملک ایک نہایت حوصلہ مند سپاہی بھی تھا اور افریقہ کی فتوحات میں وہ اپنی جنگی قابلیت کا ثبوت اپنے باپ کے دورِ حکومت میں دے چکا تھا ۔ عبدالملک کو ایک کمزور حکومت اپنے باپ سے ورثے میں ملی اور اِس حکومت کو کئی خطرے تھے ۔ سب سے بڑا خطرہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے تھا ۔دوسرا خطرہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے ماننے والوں کا تھا جو حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد مسلسل زور پکڑتے جا رہے تھے اور اُن کی جنگی طاقت بھی بڑھ چکی تھی ۔ تیسرا خطرہ خوارجوں سے تھا جنہوں نے مملکت اسلامیہ میں جگہ جگہ شورش برپا کر رکھی تھی۔ 


مروان بن حکم کے بھیجے ہوئے لشکر


اپنی حکومت کے آخری دنوں میں مروان بن حکم نے دو لشکر بھیجے تھے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان کے باپ کی زندگی میں ہی لوگوں نے اِس کی حکومت کو تسلیم کر لیا تھا اور جب تین رمضان المبارک 65 ہجری کو اس کا باپ مر گیا تو دمشق ، مصر اور اُس کے مضافات میں اس کی تجدید بیعت ہوئی اور اپنے باپ کی طرح اس کا ہاتھ بھی مضبوط ہو گیا ۔ مرنے سے پہلے مروان بن حکم نے دو لشکر بھیجے تھے ۔ ایک لشکر کا سپہ سالار عبید اﷲ بن زیاد کو بنا کر ملک عراق کی طرف بھیجا تاکہ وہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے گورنروں سے ملک عراق چھین لے ۔ راستے میں ‘‘عین الوردۃ’’ کے مقام پر سلیمان بن صرد کی سپہ سالاری میں ‘‘توابین’’ (توابین حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین سے بدلہ لینے کا مطالبہ کرتے تھے )کے لشکر سے جنگ ہوئی ۔ جس میں عبیداﷲ بن زیاد کو فتح حاصل ہوئی اور اُس نے توابین کے سپہ سالارکو اور بہت سے لوگوں کو قتل کیا ۔ مروان بن حکم نے دوسرا لشکر حبیش بن دلجہ کی سپہ سالاری میں مدینۂ منورہ بھیجا تھا تاکہ وہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے گورنر سے مدینۂ منورہ چھین لے ۔ جب وہ مدینہ پہنچا تو جابر بن اسود بن عوف بھاگ گیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے بصرہ کے گورنر عبداﷲ بن ربیعہ نے بصرہ سے لشکر روانہ کیا اور حبیش بن دلجہ نے اس کے بارے میں سنا تو اپنا لشکر لیکر اس کے مقابلے پر آیا حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے عباس بن سہل کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنا کر بھیجا اور اُسے حکم دیا کہ لشکر لیکر حبیش بن دلجہ کے مقابلے پر جائے ۔ وہ لشکر لیکر نکلا تو اُسے حبیش بن دلجہ اپنے لشکر کے ساتھ مقام ‘‘ربذہ’’ میں ملا ۔ دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی تو یزید بن سیاہ نے حبیش بن دلجہ کو تیر مار کر قتل کردیا ۔ اس کے قتل ہوتے ہی اُس کے لشکر کو شکست ہو گئی پانچ سو سپاہی قید ہوئے باقی ملک شام بھاگ گئے ۔ قیدیوں کو عباس بن سہل نے قتل کرا دیا ۔ 


خوارج کا حملہ


اِس سال 65 ہجری میں خوارج نے حملہ کیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس سال 65 ہجری میں کوفہ سے خوارج نے حملہ کردیا ۔ اُن کا سپہ سالار نافع بن ارزق تھا ۔ اہل بصر ہ کے اختلاف کے سبب خوارج کو استحکام ملا ۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے بصرہ کے گورنر عبداﷲ بن حارث نے مسلم بن عبیس کو لشکر دیکر اُن کی سرکوبی کے لئے بھیجا ۔ اُس نے میمنہ پر حجاج بن باب حمیری اور میسرہ پر حارثہ بن بدر غدانی کوکمانڈر مقرر کیا ۔خوارج کے میمنہ پر عبیدہ بن ہلا اور میسرہ پر ابن ماحوز تمیمی کمانڈر تھے ۔ مقام ‘‘دولاب’’ (سرزمین اہواز) پر دونوں لشکروں کے درمیان شدیدجنگ ہوئی ۔اِس جنگ میں دونوں لشکر کے سپہ سالار مارے گئے ۔ بصرہ کے لشکر نے حجاج بن حمیری کو اور خوارج نے عبداﷲ بن ماحوز کو سپہ سالاربنا لیا اور جنگ لڑنے لگے ۔ جب یہ دونوں سپہ سالار بھی مارے گئے تو بصرہ کے لشکر نے ربیعہ بن احزم تمیمی کو اور خوارج نے عبیداﷲ بن ماخوز تمیمی کو سپہ سالار بنا لیا ۔ پھر سے شدید جنگ شروع ہو گئی اور فریقین جی توڑ کر لڑنے لگے ۔ شام ہونے لگی تھی اور جنگ کا کوئی فیصلہ ہوتا نظر نہیں آرہا تھا کہ اچانک خوارج کا تازہ دم لشکر آگیا جس سے خوارج کو زبردست مدد مل گئی ۔ انہوں نے بصرہ کے لشکر پر زبردست حملہ کیا اور اِس حملے میں بصرہ کا سپہ سالار ربیعہ بن احزم تمیمی مارا گیا ۔ اِس کے بعد حارثہ بن زید نے جھنڈا سنبھالا اور تھوڑی دیر تک لڑتا رہا لیکن جب دیکھا کہ اُس کے اکثر سپاہیوں کے قدم اُکھڑ گئے ہیں تو وہ دھیرے دھیرے اہواز کی طرف روانہ ہوگیا اور خوارج بصرہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔


مہلب اور خوارج میں جنگ


بصرہ کے لشکر کوشکست ہوئی اور خوار ج فتح حاصل کرنے کے بعد بصرہ کی طرف بڑھے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اہل بصرہ کو اِس شکست سے بہت صدمہ ہوا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے عبداﷲ بن حارث کو معزول کر کے حارث بن ربیعہ کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔ خوارج کا لشکر جس وقت بصرہ کے قریب پہنچا تو احنف بن قیس کو سپہ سالار بنانا چاہا احنف بن قیس نے مہلب بن ابی صفرہ کا نام لیا جسے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خراسان کا گورنر بنا کر بھیجا تھا ۔مہلب نے اِس شرط پر سپہ سالار بننا منظور کیا کہ بیت المال میں سے اس کو اور اس کے ہمراہیوں کا کافی خرچ دیا جائے گا اور جس سر زمین کو وہ فتح کر لے گا اور اُس کا مالک سمجھا جائے گا ۔ بصرہ سے بارہ ہزار کا لشکر لیکر مہلب بن ابی صفرہ خوارج کی طرف بڑھا ۔ مقام ‘‘جسر اصغر’’ پر دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی اور خوارج شکست کھا کر ‘‘جسر اکبر’’ کی طرف چلے ۔ مہلب نے اپنے لشکر کے ساتھ تعاقب کیا اور خوارج جسر اکبر سے بھی بھاگے اور ‘‘نہر تیری’’ پر پہنچے اور وہاں سے مُڑ کر اہواز کی طرف بھاگے ۔ مہلب کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے خوارجوں کی نقل و حرکت کی برابر اطلاع مل رہی تھی ۔ اُس نے نہر تیری پر اپنے بھائی معارک بن ابی صفرہ کو متعین کر کے اہواز کا رخ کیا ۔ خوارج کے ‘‘ مقدمۃ الجیش’’ سے جنگ ہوئی اور خوارج شکست کھا کر ‘‘مناذر’’ کی طرف بھاگے ۔ مہلب نے تعاقب کیا ،خوارج بہت تیزی سے نہر تیری کی طرف واپس آئے اور حالت غفلت میں معارک بن ابی صفرہ کو گرفتار کر کے پھانسی دے دی ۔ مہلب کو اِس کی اطلاع ہوئی تو اُس نے اپنے بیٹے مغیرہ بن مہلب کو معارک بن ابی صفرہ کی تجہیز و تکفین کے لئے روانہ کیا اور خود خوارج سے جا کر مقام ‘‘سولاف’’ پر ٹکرا گیا ۔ خوارج نے مجموعی قوت سے مہلب کے لشکر پر حملہ کیا جس سے مہلب کے لشکر کے قدم اُکھڑ گئے ۔بہت سے سپاہی قتل ہوئے اور بہت سے بھاگ کھڑے ہوئے لیکن مہلب اور اُس کا بیٹا اپنے رسالے ساتھ ڈٹے رہے اور جنگ کرتے رہے ۔ پھر مہلب نے اپنے ساتھیوں کو للکارا تو چار ہزار واپس لوٹ کر آئے اور مہلب نے رات کی تاریکی میں سنبھل کر خوارج پر زبردست حملہ کردیا اور دھیرے دھیرے سولاف سے ‘‘عاقول’’ پر آکر پڑاؤ ڈال دیا ۔ 


خوارج کی شکست


مہلب کو ہزیمت اُٹھانے کے بعد چین نہیں تھا اور وہ پھر خوارج پر حملہ آور ہوا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ اپنے لشکر کے ساتھ تین دن تک عاقول میں ٹھہرا ۔ جب اُس کی طبیعت کو یک گونہ قرار ہو گیا اور اپنے لشکر کو از سر نو مرتب کر لیا تو پھر خوارج کے مقابلے پر جاپہنچا ۔ خوارج مقام ‘‘سری و سلبری’’ میں قیام پذیر تھے ۔انہیں مہلب کی آمد کی اطلاع ملی تو انہوں نے بھی لشکر مرتب کر لیا ۔ پورا دن زبردست جنگ ہوتی رہی ۔ شام کے وقت خوارج نے ایسا زبردست حملہ کیا کہ مہلب کا لشکر بے قابو ہو کر نہایت ابتری سے بھاگ نکلا ۔ مہلب نے ایک ٹیلہ پر چڑھ کر ‘‘میرے پاس آؤ! اے اﷲ کے بندو، میرے پاس آؤ! اے اﷲ کے بندو۔’’ چلانا شروع کر دیا ۔ تین ہزار آدمی جس میں اکثر اُسی کی قوم یعنی بنو ازد کے تھے آ کر جمع ہو گئے ۔ مہلب نے ایک پُر جوش تقریر کرنے کے بعد کہا : ‘‘ تم لوگ دس پتھر اُٹھا لو اور ہمارے ساتھ دشمنوں پر سنگباری کرتے ہوئے دشمنوں کے لشکر کی طرف چلو ۔ وہ اِس وقت دن بھر کے تھکے ہوئے جنگ و جدل سے بے خوف ہو کر پڑے ہوئے ہیں اور اُن کے سوار تمہارے منہزم سپاہیوں کے تعاقب میں گئے ہوئے ہیں ۔ اﷲ کی قسم! مجھے اُمید ہے کہ وہ لوگ واپس نہیں آ پائیں گے کہ تم اُن پر فتح حاصل کر لو گے ۔ ’’ مہلب کی اِس تقریر نے اُن کے شکستہ دلوں میں ایک تازہ روح پھونک دی اور سب کے سب اپنے دامنوں میں اور جیبوں میں پتھر بھر بھر کر خوارج کے سروں پر جاپہنچے ۔ جب پتھر ختم ہو گئے تو نیزوں سے حملے کرنے لگے اور جب نیزوں نے بھی جواب دے دیا تو تلواروں سے لڑنے لگے ۔ اکثر خوارج مارے گئے اور جب اُن کے سوار تعاقب سے واپس آئے تو اپنے پڑاؤ تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ راستے میں ہی مہلب نے اپنے لشکر کے ساتھ اُن کا راستہ روک لیا ۔ وہ مجبوراً کرمان اور اصفہان کی طرف روانہ ہو گئے ۔ مہلب نے کامیابی کے بعد وہیں قیام کیا یہاں تک کہ مصعب بن زبیر بصرہ کے گورنر بن کر آئے اور حارث بن ربیعہ کو معزول کر دیا ۔ 


ھ65 ہجری کا اختتام 


اِس سال 65 ہجری کے اختتام پر مملکت اسلامیہ میں دو حکومتیں چل رہی تھیں ۔ ملک شام اور ملک مصر میں عبدالملک بن مروان کی حکومت تھی ۔ ملک حجاز میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت تھی اور ملک عراق اور ملک ایران میں خوارج اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین سے بدلہ لینے والے جنہیں ‘‘توابین’’ کہا جاتا تھا شورش برپا کئے ہوئے تھے ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور عبدالملک بن مروان اِن سے مسلسل جنگ کر رہے تھے اور دونوں ملک عراق اور ملک ایران میں اپنی حکومت مضبوط کرنا چاہتے تھے ۔ اِس سال 65 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کروایا ۔ مدینۂ منورہ میں مصعب بن زبیر گورنر تھے ۔ کوفہ میں عبداﷲ بن مطیع گورنر تھا اور بصرہ کا گورنر حارث بن عبداﷲ تھا ۔ 


حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 65 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کئی سال تک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خدمتگار کی حیثیت سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا نکاح ہوا تو آپ رضی اﷲ عنہ کے والد حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ملنے کے لئے آئے اور بہو سے گھر کے حالات پوچھے اور شوہر کے بارے میں پوچھا تو بہو نے کہا : ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے اور میرے شوہر تو اتنے نیک ہیں کہ رات بھر نماز پڑھتے ہیں اور دن بھر روزہ رکھتے ہیں ۔’’ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیٹے کے بارے میں بتایا ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو بلوایا اور فرمایا :‘‘ تمہارے اوپر تمھارے بدن کا بھی حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی حق ہے ۔ اِس لئے ایک مہینے میں تین روزے رکھا کرو اور ایک مہینے میں ایک بار قرآن پاک ختم کیا کرو ۔’’ حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! میں اِس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :‘‘ ٹھیک ہے! پھر تم ہر پیر اور ہر جمعرات کو روزہ رکھا کرو اور ایک ہفتے میں ایک بار قرآن پاک ختم کیا کرو ۔’’ حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! میں اِس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ ٹھیک ہے! پھر تم حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح روزہ رکھو ۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے اور تین دن میں قرآن پاک ختم کیا کرو ۔ ’’ حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! میں اِس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ جس نے روزآنہ روزہ رکھا اُس نے روزہ نہیں رکھا اور جس نے تین دن سے کم وقت میں قرآن پاک ختم کیا اُس نے قرآن پاک پڑھا ہی نہیں ۔’’ اِس کے بعد حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اِس پر قائم رہے لیکن بڑھاپے میں فرمایا کرتے تھے :‘‘ کاش میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ کی پہلی بات کو مان لیا ہوتا ۔’’ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ بزرگ علماء اور عبادت گذار صحابی رضی اﷲ عنہم میں سے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی احادیث کو لکھا ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے والد حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بڑے وسیع العلم اور عبادت گذار اور دانش مند تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ اپنے والدحضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے اکثر سمجھایا کرتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ قرآن پاک اور توریت دونوں کے عالم تھے ۔ آخری عُمر میں اندھے ہو گئے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے ۔ اور اکثر راتوں میں قیام کرتے تھے اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے ۔ اِس سال 65 ہجری میں آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں