اتوار، 1 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 28


 ا28 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 28

یزید کی موت کی تصدیق، عالم اسلام میں دو مملکتیں، حصین بن نمیر کی پیش کش، حضرت عبداﷲ بن زبیر کا انکار اور لشکر شام کی واپسی، لشکر شام کی ملک شام واپسی، معاویہ بن یزید سلطنت اُمیہ کا حکمراں، معاویہ بن یزید کا آخری خطبہ، ھ64 ہجری  حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ حکمراں، بصرہ میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بیعت، عبیداﷲ بن زیاد کا بصرہ سے فرار، ھ64 ھجری : مروان بن حکم’’ سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں، ضحاک بن قیس کی شکست، مروان بن حکم کا دمشق اور ملک مصر پر قبضہ



یزید کی موت کی تصدیق


ملک شام میں یزید کی موت ہوگئی اور مکہ مکرمہ میں ملک شام کا لشکر محاصرہ کئے ہوئے تھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: یزید مرگیا اور اُس کی موت کی خبر حصین بن نمیر سے پہلے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کول گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ”اے کم بختو! اے اللہ کے دشمنو! اب تم کیوں لڑ رہے ہو؟ تمہارا گراہ سردار تو مر گیا ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ملک شام کے لشکر نے یزید کی موت کے بعد بھی تقریبا! چالیس روز تک مکہ مکرمہ کا محاصرہ کئے رکھا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شامی لشکر سے پہلے یزید کی موت کی خبر مل گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اعلان کروا دیا: ” اے اہل شام ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے سرکش کو ہلاک کر دیا ہے۔ پس تم میں سے جو شخص اس میں شامل ہونا چاہتا ہے جس میں لوگ شامل ہوئے ہیں وہ ایسا ہی کرے اور جو ملک شام واپس جانا چاہتا ہے وہ واپس چلا جائے ۔ شامیوں نے اہل مکہ کی اس خبر پر یقین نہیں کیا حتی کہ ثابت بن قیس بن قیع یقینی خبر لیکر آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ملک شام میں یزید کے انتقال کے بعد وہاں کے لوگوں نے یزید کے بیٹے معاویہ بن یزید کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔ اور حجاز والوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی۔ یزید کی موت کے بعد بھی حصین بن نمیر شامی لشکر کے ساتھ چالیس دن تک مکہ مکرمہ کا محاصرہ کئے رہا بلکہ محاصرہ اور شدید کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھی تنگ آگئے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کو یزید کے مرنے کی خبر ہوگئی اور شامیوں کو خبر نہیں ہوئی۔ دونوں طرف سے تلوار میں چل رہی تھیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو یزید کی موت کی خبر لی تو آپ رضی اللہ عنہ نے پکار کر اہل شام سے فرمایا: ” لوتمہارا طاغوت ہلاک ہو گیا ہے۔ اب جس کا جی چاہے اس بیعت میں شریک ہو جائے جو بیعت یہاں کے لوگوں نے کی ہے اور جسے منظور نہ ہو وہ ملک شام چلا جائے ۔ یہ سن کر شامیوں نے اور شدید حملہ کر دیا۔


باب نمبر 3 


عالم اسلام میں دو مملکتیں 


حصین بن نمیر کی پیش کش


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بات کا شامیوں کو یقین نہیں آیا یہاں تک کہ ایک مستند قاصد نے حصین بن نمیر کو یزید کی موت کی اطلاع دی ۔ اُس نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو حکمراں بن کر ملک شام چلنے کی پیش کش کی جسے قبول کرنے سے آپ رضی اﷲ عنہ نے انکار کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی زبانی یزید کی موت کا سن کر اہل شام کے لشکر کو یقین نہیں آیا ۔ وہ اسی طرح محاصرہ کئے رہے ۔اِسی دوران ثابت بن قیس نخعی اہل عراق کے ساتھ کوفہ سے مکۂ مکرمہ آیا اور حصین بن نمیر سے ملاقات کی ۔اُن دونوں کی دوستی بھی تھی اور رشتہ ازدواجی بھی ۔ اُس نے حصین بن نمیر کو بتایا کہ یزید کا انتقال ہوگیا ہے ۔ حصین بن نمیر نے یہ سن کر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے کہلا بھیجا کہ آج رات مقام ‘‘ابطح’’ میں مجھ سے ملاقات کرنا ۔ دونوں کی ملاقات ہوئی تو حصین بن نمیر نے کہا : ‘‘ اگر یزید مر گیا ہے تو تم سے زیادہ خلافت کا کوئی حقدار نہیں ہے ۔آؤ میں اپنے لشکر کے ساتھ تم سے بیعت کر لوں اور اس کے بعد میرے ساتھ ملک شام چلو ۔ یہ لشکر جو میرے ساتھ ہے اِس میں ملک شام کے بڑے بڑے سرداران شامل ہیں ۔ اﷲ کی قسم! دو شخص بھی تمہاری بیعت سے انکار نہیں کریں گے ۔ شرط یہ ہے کہ تم سب کو امان دیکر مطمئن کردو اور ہمارے اور تمہارے درمیان حرہ کے میدان میں جو خونریزی ہوئی ہے اُس سے چشم پوشی کرو ۔عمرو بن سعید اکثر کہا کرتا تھا :‘‘ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ جانتے تھے کہ مکۂ مکرمہ وہ مقام ہے جہاں اﷲ تعالیٰ نے اُن کو محفوظ رکھا ہے ۔ اﷲ کی قسم! اگر وہ شامی لشکر کے ساتھ ملک شام چلے جاتے تو وہاں دو شخص بھی اُن کی بیعت کا انکار نہیں کرتے۔ 


حضرت عبداﷲ بن زبیر کا انکار اور لشکر شام کی واپسی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو حصین بن نمیر نے پیش کش کی تھی لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہین : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : میں اس خونریزی سے چشم پوشی کروں ؟ نہیں اﷲ کی قسم! اگر ایک ایک شخص کے بدلے میں دس دس آدمیوں کو قتل کروں جب بھی مجھے چین نہیں آئے گا ۔ ’’ حصین بن نمیر دھیمی آواز میں بول رہا تھا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ بلند آواز سے فرماتے تھے :‘‘ نہیں! اﷲ کی قسم! یہ مجھ سے نہیں ہوگا ۔’’آخر حصین بن نمیر نے کہا: ‘‘ اب بھی اگر تمہیں کوئی ‘‘پُر فن’’ اور ‘‘لسان’’ کے لقب سے یاد کرے تو اُس سے اﷲ سمجھے ! ارے میں تو سمجھتا تھا کہ تم کچھ عقل رکھتے ہو لیکن تمہیں تو اتنی عقل بھی نہیں ہے کہ میں تم سے ایک بات دھیمی کہوں تو تم پکار کر جواب دیتے ہو۔میں تم کو ‘‘حکمراں’’ بنانا چاہتا ہوں اور تم مجھے قتل اور قصاص کی دھمکی دے رہے ہو۔’’ 


لشکر شام کی ملک شام واپسی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے حصین بن نمیر کو صاف جواب دے دیا ۔ اِس کے بعد وہ اپنا لشکر لیکر پہلے مدینۂ منورہ روانہ ہوا پھر وہاں سے ملک شام کی طرف روانہ ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حصین بن نمیر یہ کہہ کر اُٹھ کھڑا ہوا اور لوگوں کو پکار کر لشکر کو لیکر مدینۂ منورہ کی طرف روانہ ہوا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے حصین بن نمیر کو پیغام بھیجا کہ ‘‘میں ملک شام نہیں آؤں گا لیکن تم لوگ مجھ سے بیعت کر لوگے تو میں تم کو امان دے دوں گا اور عدل سے پیش آؤں گا ۔’’ حصین بن نمیر نے جواب دیا : ‘‘ یہ بتاؤ کہ تم خود تو پیچھے رہ جارہے ہو اور میں وہاں ملک شام گیا اور وہاں جا کر دیکھوں کہ خاندان بنو اُمیہ کے بہت سے لوگ خلافت کا دعویٰ کر رہے ہیں اور بہت سے لوگ اُن کی طرف مائل ہو رہے ہیں تو اُس وقت میں کیا کروں گا ؟’’ اِس کے بعد وہ اپنے لشکر کو لیکر مدینۂ منورہ پہنچا ۔ یہاں حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ نے اُس کے لئے کھانے اور اُس کے جانوروں کے لئے چارے کا انتظام کیا ۔ اُس نے اُن کا شکریہ ادا کیا اور اپنا لشکر لیکر ملک شام چلا گیا ۔ 


معاویہ بن یزید سلطنت اُمیہ کا حکمراں


یزید کے انتقال کے بعد اُس کے بیٹے معاویہ بن یزید کوملک شام میں سلطنت اُمیہ کا بادشاہ بنا یا گیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : یزید کی وفات کے بعد اُس کے بیٹے معاویہ بن یزید کوچودہ ربیع الاول ۶۴ ؁ ہجری میں سلطنت اُمیہ کا بادشاہ بنا دیا گیا ۔ یہ ایک نیک اور درویش صفت انسان تھا اور اِس کی حکومت کی مدت لمبی نہیں ہوئی ۔ بعض کا قول ہے کہ اِس نے چالیس (40) دن حکومت کی اور بعض کے مطابق بیس (20) دن اور بعض کے مطابق دو مہینہ اور بعض کے مطابق ڈیڑھ مہینہ اور بعض کے مطابق تین مہینہ اور بیس دن اور بعض کے مطابق چار مہینہ حکومت کی ۔ یہ اپنی حکومت کے زمانے میں مریض تھا اور لوگوں کے پاس نہیں آیا ۔ ضحاک بن قیس ہی لوگوں کو نماز پڑھاتا رہا اور تمام امور (کاموں) کو درست کرتا رہا ۔ پھر معاویہ بن یزید کا اکیس (21) سال کی عُمر میں انتقال ہو گیا ۔ بعض کے مطابق تیئس (23) سال اور بعض کے مطابق اُنیس (19) اور بعض کے مطابق بیس (20) سال اور بعض کے مطابق پچیس (25) سال کی عمر میں معاویہ بن یزید کا انتقال ہوا اور اُس کے بھائی خالد نے اُس کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حصین بن نمیر جب اپنے لشکر کے ساتھ مدینۂ منورہ سے روانہ ہونے لگا تو اُس کے ساتھ مدینۂ منورہ میں رہنے والے تمام بنو اُمیہ بھی ملک شام روانہ ہوگئے ۔ جس وقت شامیوں کا لشکر اور بنو اُمیہ ‘‘دمشق ’’پہنچے تو معاویہ بن یزید کو اراکین سلطنت اپنا بادشاہ بنا چکے تھے لیکن یہ صرف تین مہینے حکومت کر کے مر گیا اور بعض کے قول کے مطابق چالیس دن حکومت کر کے اکیس سال کی عُمر میں انتقال کر گیا ۔


معاویہ بن یزید کا آخری خطبہ


معاویہ بن یزید نے دمشق میں تمام اراکین سلطنت اور ملک شام کی عوام کو جمع کر کے اپنا آخری خطبہ دیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : معاویہ بن یزید نے اپنی حکومت کے آخری دنوں میں تمام لوگوں کو جمع کیا اور ایک خطبہ دیا :‘‘ اے لوگو! میں تم پر حکومت کرنے سے معذور ہوں ۔پس میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی پیروی کرتا ہوں جیسا کہ انہوں نے چھ آدمیوں کو ‘‘ارباب ِ شوریٰ’’ منتخب کر کے مقرر کیا تھا ۔ میں بھی تم لوگوں کو اختیار دیتا ہوں کہ جس کو مناسب سمجھو خلافت کے لئے اُس کو منتخب کر لو ۔ ’’ یہ خطاب کرنے کے بعد معاویہ بن یزید اپنے محل سرا میں چلا گیا اور پھر زندہ واپس نہیں آیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید کے بعد اُس کا بیٹا معاویہ بن یزید بادشاہ بنا تو اُس نے حکم دیا کہ ملک شام میں ‘‘الصلوٰۃ الجامعۃ’’ کی ندا کر دی جائے ۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو اُس نے کہا:‘‘ میں نے تم پر حکومت کرنے کے باب میں فکر کی تو معلوم ہوا کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہو سکے گا ۔ اب میں نے چاہا کہ کوئی شخص تمہارے لئے ایسا ڈھونڈوں جیسے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مل گئے تھے لیکن مجھے کوئی بھی ایسا شخص نہیں ملا ۔ پھر میں نے چاہا کہ تمہارے لئے ‘‘شوریٰ’’ کے لئے چھ اشخاص کو ڈھونڈوں جیسے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو مل گئے تھے ۔ایسے لوگ بھی مجھے نہیں ملے ۔ اب تم کو اختیار کے کہ جسے چاہو اپنا بادشاہ بنا لو ۔’’ یہ کہہ کر معاویہ بن یزید اپنے گھر میں چلا گیا اور ایسا گیا کہ مر کر ہی نکلا ۔ بعض کہتے ہیں کہ اسے زہر دے دیا گیا تھا ۔ بعض کہتے ہیں کہ اُسے چھری مار دی گئی تھی ۔معاویہ بن یزید کی موت کے ساتھ ہی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے گھرانے کی حکومت ختم ہو گئی ۔ کیونکہ اِس کے بعد ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کی باگ ڈور اُمیہ خاندان کے دوسرے گھرانے نے سنبھال لی تھی ۔ 


ھ64 ہجری  حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ حکمراں

اسِ سال 64 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مکۂ مکرمہ میں اپنی حکومت کا اعلان کر دیا اور مکۂ مکرمہ کو ‘‘دارلخلافہ’’ بنایا ۔ مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ والوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو حکمراں تسلیم کر لیا اور ‘‘حجاز’’ کے تمام علاقے والوں نے بھی آپ رضی اﷲ عنہ کی حکمرانی تسیلم کر لی ۔ اب مملکت اسلامیہ میں دو حکومتیں تھیں ۔ایک حکومت ملک شام،عراق اور ایران میں جس کا ‘‘مرکذ’’ دمشق تھا اور اُن کا حکمراں معاویہ بن یزید تھا ۔ دوسری حکومت ‘‘حجاز’’ میں تھی جس کا ‘‘مرکذ’’ مکۂ مکرمہ تھا اور ملک عراق اور ایران والوں کا جھکاؤ اِسی حکومت کی طرف تھا ۔ اِسی لئے کچھ ہی مہینوں میں‘‘ملک حجاز’’ کے ساتھ ساتھ ‘‘ملک عراق’’ اور ‘‘ملک ایران’’ پر بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت ہو گئی ۔ اُمیہ خاندان کی حکومت صرف ‘‘ملک شام’’ اور ‘‘ملک مصر’’ پر ہی رہ گئی تھی ۔ 


بصرہ میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بیعت


بصرہ اور کوفہ کے گورنر عبیداﷲ بن زیاد نے یزید کے پاس اپنے مخبر بھیجے ہوئے تھے کیونکہ یزید نے اُسے حکم دیا تھا کہ وہ لشکر لیکر مکۂ مکرمہ جائے اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے جنگ کرے لیکن اُس نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔ اِسی لئے اُسے یزید کی طرف سے کھٹکا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبیداﷲ بن زیاد نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام حمران کو ملک شام روانہ کیا کہ یزید کی خبر لیکر آئے ۔ وہ واپس آیا اور چپکے چپکے عبیداﷲ بن زیاد کو یزید کی موت کی اطلاع دی ۔ عبداﷲ بن زیاد نے یہ سنتے ہی فوراً موذن کو حکم دیا کہ ‘‘الصلوٰۃ الجامعۃ’’ کا اعلان کرے ۔ بصرہ کے لوگ جمع ہوگئے ۔عبیداﷲ بن زیاد منبر پر گیا اور یزید کی موت کی خبر سنائی ۔ اِس کے بعد اُس نے اپنی بصرہ کی گورنری اور ملک شام کی حکومت کی بیعت اپنے ہاتھ پر لوگوں کو کرنے کا حکم دیا ۔ سب لوگوں نے اُس کے ہاتھ پر بیعت کرلی ۔ مگر جب وہ وہاں سے اُٹھ کر چلا گیا تو لوگ دیوار پر اپنے ہاتھ رگڑ کر پاک کرنے لگے اور کہنے لگے :‘‘ مرجانہ کا بیٹا سمجھتا ہے کہ اِس حالت میں بھی ہم لوگ اُسی کو اپنا گورنر بنائیں گے ۔ ’’ اِس کے بعد عبیداﷲ بن زیاد کی حکومت بصرہ پر دن بہ دن کمزور ہوتی گئی ۔ جب وہ کوئی حکم دیتا تھا تو کوئی نہیں سنتا تھا اور وہ کوئی رائے دیتا تھا تو لوگ اُسے رد کر دیتے تھے ۔ ایسے وقت میں سلمہ بن ذویب نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لئے بیعت لینے کا اعلان کیا ۔ 


عبیداﷲ بن زیاد کا بصرہ سے فرار


بصرہ کے لوگوں کے دل حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف مائل ہوچکے تھے اور سلمہ بن ذویب نے بصرہ والوں سے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لئے بیعت لینا شروع کردیا تھا ۔ عبیداﷲ بن زیاد کو اِس کی اطلاع ملی تو اُس نے ‘‘الصلوٰۃ الجامعۃ’’ کا حکم دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : لوگ جمع ہو گئے تو عبیداﷲ بن زیاد نے کہا : ‘‘ میرے اور تمہارے درمیان کیا معاملہ گذرا ہے ؟ میں تم سے کہتا تھا کہ تم کسی کا انتخاب کرو تو میں بھی بیعت کر لوں گا ۔ تم لوگ میرے سوا کسی سے بیعت کرنے پر راضی نہیں ہوئے ۔ پھر میں نے سنا کہ تم نے دیواروں اور دروازوں پر ہاتھ رگڑ کر پاک کیا اور جو تمہارے منہ میں آیا وہ کہا ۔اب یہ حال ہے کہ میں جو حکم دیتا ہوں وہ تم نہیں مانتے اور میری رائے رد کر دی جاتی ہے اور میرے سپاہیوں اور مجرموں کے درمیان لوگ حائل ہو جاتے ہیں ۔اب یہ سلمہ بن ذویب تمہارے خلاف دعوت دے رہا ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ جماعت میں تفرقہ ڈالے ۔’’ یہ سن کر احنف نے کہا: ‘‘ ہم سلمہ بن ذویب کو تیرے پاس لیکر آتے ہیں ۔’’ یہ لوگ سلمہ بن ذویب کے گھر گئے تو وہاں دیکھا کہ ہزاروں لوگ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت کے لئے سلمہ بن ذویب کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں ۔یہ دیکھ کر وہ لوگ بھی بیعت کرنے لگے ۔ عبیداﷲ بن زیاد نے جب دیکھا کہ بصرہ کے لوگوں میں سلمہ بن ذویب کو کامیابی مل رہی ہے تو وہ اپنے گھر والوں کو لیکر اور تمام مال لیکراور جائیداد چھوڑ کر بصرہ سے ملک شام کی طرف فرار ہو گیا ۔ جب وہ بھاگا تو لوگوں نے اُس کا تعاقب کیا لیکن وہ ہاتھ نہیں لگا تو جو کچھ اُس کا مال و جائیداد ہاتھ آیا اُسے لوٹ لیا ۔کوفہ والوں نے بھی عبیداﷲ بن زیاد کو معزول کر کے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت کو تسلیم کر لیا ۔ 


ھ64 ھجری : مروان بن حکم’’ سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت ملک حجاز ، ملک عراق اور ملک ایران وغیرہ میں مضبوطی سے قائم ہو گئی تھی ۔ جبکہ ملک شام میں معاویہ بن یزید کے انتقال کے بعد کوئی بھی حکمراں نہیں تھا ۔ ملک شام کا نگراں ضحاک بن قیس ارادہ کر رہا تھا کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اور تمام ملک شام کی عوام کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لے اور اِس کے لئے وہ کوشش بھی کر رہا تھا ۔ مدینۂ منورہ سے سب بنو اُمیہ ملک شام میں آگئے تھے ۔اِن میں مروان بن حکم بھی تھا ۔مروان بن حکم کابھی یہی ارادہ تھا کہ وہ بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لے ۔جب حصین بن نمیر اپنا لشکر لیکر ملک حجاز سے واپس آیا تو اُس نے مروان بن حکم سے کہا : ‘‘ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں اور تم حکومت سنبھال لو۔’’ مروان بن حکم نے انکار کر دیا ۔ اِسی دوران عبیداﷲ بن زیاد بھی بصرہ سے فرار ہو کر ملک شام پہنچ گیا اور جب اُسے مروان بن حکم کا ارادہ معلوم ہوا تو اُس نے منع کیا اور کہا کہ تم خود ملک شام کے حکمراں بن جاؤ ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبیداﷲ بن زیاد جب ملک عراق سے ملک شام میں آیا تو اُس نے بنو اُمیہ کو ‘‘تدمر’’ میں پایا ۔ اِن لوگوں کو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مدینۂ منورہ اور مکۂ مکرمہ سے نکالا دیا تھا اور یہ لوگ ‘‘تدمر’’ میں قیام پذیر ہو گئے تھے ۔اِن کو معلوم ہوا کہ ضحاک بن قیس اِس وقت حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے ملک شام میں گورنر ہے ۔ عبیداﷲ بن زیاد اُس وقت پہنچا جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے بیعت کرنے اور بنو اُمیہ کے لئے امان طلب کرنے کو مروان بن حکم روانہ ہونے والا تھا ۔ عبیداﷲ بن زیاد نے اُس سے کہا : ‘‘ اﷲ کے لئے اِس ارادے سے باز آجا ۔ یہ عقل کی بات نہیں ہے کہ تم قریش کے بزرگ ہو کر اُس مکار سے بیعت خلافت کرنے جاؤ ۔تمہیں چاہیئے کہ اہل تدمر کو دعوت دے اور اُن سے حکومت کے لئے بیعت لے پھر اُن کو اور تمام بنو اُمیہ کو جو تیرے ساتھ ہیں لیکر ضحاک بن قیس پر حملہ کر کے اُسے ملک شام سے نکال دے ۔’’ عمرو بن یزید نے کہ : ‘‘ اﷲ کی قسم! عبیداﷲ بن زیاد سچ کہتا ہے اور یہ بات بھی تو ہے تم قریش کے سردار ہو اور حکومت کا سب سے بڑا حق تمہارا ہے۔ہاں اِس چھوکرے (خالد بن یزید) پر لوگوں کی نظر پڑتی ہے تو تم اس کی ماں سے ( یزید کی بیوہ سے) نکاح کر لو اور پھر یہ تمہارا فرزند ہو جائے گا ۔ ’’ مروان بن حکم نے یزید کی بیوہ سے نکاح کر لیا اور ملک شام میں اپنی حکومت کا اعلان کر دیا اور خالد بن یزید کو ‘‘ولی عہد’’ بنا دیا ۔ یعنی اُس کے بعد وہ حکمراں ہوگا۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بنو امیہ مقام ‘‘جابیہ’’ میں جمع تھے اور کوئی امر طے نہیں پا رہا تھا ۔ حسان بن مالک کلبی امامت کر رہا تھا اور مروان بن حکم در پردہ اپنی بیعت کی ترغیب دے رہا تھا ۔رفتہ رفتہ اِس سعی کا یہ نتیجہ نکلا کہ ایک روز روح بن جنباع نے کھڑے ہو کر اعلانیہ کہہ دیا کہ مروان بن حکم کے ہاتھ پر بیعت کی جائے وہی اِس کا مستحق ہے ۔ پھر جب خالد بن یزید سن شعور کو پہنچے گا تو حکومت اُس کے سپرد کر دی جائے گی ۔ سب لوگوں نے اُس سے اتفاق کیا اور ذی القعدہ ۶۴ ؁ یجری کو تمام بنو کلب ، بنو غسان ، بنو سکاسک اور بنو طے نے مروان بن حکم کو اپنا حکمراں بنا لیا ۔ 


ضحاک بن قیس کی شکست


ملک شام میں مروان بن حکم نے اپنی حکومت قائم کر لی اور لشکر لیکر ضحاک بن قیس سے جنگ کرنے کے لئے نکلا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ضحاک بن قیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ بنو اُمیہ نے مروان بن حکم کو اپنا حکمراں بنا لیا ہے اور وہ مجھ سے جنگ کرنے کے لئے آرہا ہے تو اہل حمص وغیرہ میں سے جو اُس کے پاس تھے انہیں لیکر وہ بھی مقابلہ کرنے کے لئے نکلا ۔ انہی لوگوں میں زفر بھی تھا ۔ دونوں لشکروں کا ‘‘مرج راہط’’ میں سامنا ہوا اور شدید جنگ ہوئی ۔اِس جنگ میں ضحاک بن قیس کو شکست ہوئی اوروہ اُس کے اکثر ساتھی قتل ہو گئے اور جو باقی رہے وہ کسی نہ کسی طرح بھاگ گئے ۔ زفر بھی دو نوجوانوں کے ساتھ بھاگا جا رہا تھا کہ اُسی طرف سے مروان بن حکم کے گھڑ سوار آگئے اور تعاقب کرنے لگے ۔ دونوں نوجوانوں نے زفر سے کہا: ‘‘ ہم دونوں تو مارے جائیں گے تم اپنے آپ کو بچا سکتے ہو تو بچا لو ۔’’ زفر اُن دونوں سے جدا ہوکر قرقیسیا کی طرف بھاگ گیا وہاں بنو قیس اُس کے پاس جمع ہوگئے اور انہوں نے اُسے اپنا سردار بنا لیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بیعت لینے کے بعد مروان بن حکم نے ‘‘مرج راہط’’ کا رخ کیا جہاں پر ایک ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ ضحاک بن قیس قیام پذیر تھا ۔ مروان بن حکم نے پانچ ہزار کے لشکر کے ساتھ ابتدا میں صف آرائی کی اور بعد میں عباد بن یزید ‘‘حوارن’’سے دوہزار کو لشکر لیکر آگیا ۔ ضحاک نے بھی امداد کے لئے اپنے ساتھیوں کو بلایا تو زفر بن حارث بھی لشکر لیکر آگیا اور ضحاک بن قیس کے پاس ساٹھ ہزار کا لشکر ہو گیا ۔ جبکہ مروان بن حکم کے پاس تیرہ ہزار کا لشکر تھا ۔ دونوں لشکروں میں زبردست جنگ ہوئی ۔ شام کو جنگ بند ہوئی تو مروان بن حکم نے ضحاک بن قیس کو صلح کا پیغام دیا جو اُس نے قبول کر لیا اور یہ طے ہوا کہ صبح صلح نامہ مرتب کر لیا جائے گا ۔ اِسی لئے ضحاک بن قیس اور اُس کے لشکر والے بے فکر ہو گئے ۔ رات میں جب سب سوئے ہوئے تھے تو مروان بن حکم نے اچانک شب خون مارا اور انہیں قتل کرنا شروع کردیا ۔ ضحاک بن قیس اور اُس کے لشکر والے جب جاگے تو اکثریت قتل ہو چکے تھے ۔انہوں نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں شکست ہو گئی ۔ 


مروان بن حکم کا دمشق اور ملک مصر پر قبضہ


مرج رہط میں دھوکے سے فتح حاصل کرنے کے بعد مروان بن حکم دمشق کی طرف اپنا لشکر لیکر بڑھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: مرج رہط میں کامیابی ملنے کے بعد مروان بن حکم دمشق میں داخل ہوا ۔ ‘‘دارالامارت’’ یعنی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے محل میں رہائش اختیار کی اور بقیہ لشکر سے بیعت لینے کے لئے خالد بن یزید کی ماں (یزید کی بیوہ) سے نکاح کر لیا ۔ پس جب ملک مصر کی طرف روانہ ہونے لگا تو خالد بن یزید سے جنگی سامان اُدھار لئے ۔ ملک مصر میں اُن دنوں عبدالرحمن بن حجدم قریشی گورنر تھا جو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے خیر خواہوں میں سے تھا ۔ مروان بن حکم کے لشکر کی آمد کی خبر سن کر وہ بھی لشکر لیکر مقابلے کے لئے نکلا ۔ دونوں لشکروں میں زبردست جنگ ہوئی اور یہاں بھی مروان بن حکم کو فتح حاصل ہوئی اور ایک کثیر گروہ کو قید کر کے مروان بن حکم دمشق واپس لوٹا ۔ دمشق کے قریب پہنچا تو خبر ملی کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی مصعب بن زبیر کو لشکر دیکر ملک شام کی طرف روانہ کیا ہے ۔ یہ سنتے ہی مروان بن حکم نے عمرو بن سعید کو لشکر دے کر روانہ کیا ۔ دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی اور عمرو بن سعید کو فتح حاصل ہوئی ۔ اِس طرح دمشق ، ملک شام اور ملک مصر پر مروان بن حکم کا قبضہ ہوگیا ۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں