پیر، 2 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 27


 ا27 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 27

اہل مدینہ کو تین دن کی مہلت، اہل مدینہ کا جنگ پر اصرار، حرہ میں جنگ، فضل بن عباس کا شدید حملہ، مسلم بن عقبہ کی پیش قدمی، حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل المائکہ کا خطبہ، اہل مدینہ کی شکست، مدینہ منورہ میں تین دن تک قتل عام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ گستاخی، مسلم بن عقبہ کی یزید کے لئے بیعت، 



اہل مدینہ کو تین دن کی مہلت


عبد الملک بن مروان کا مشورہ مسلم بن عقبہ کو بالکل درست لگا اور اُس نے اُس پر عمل بھی کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد مروان بن حکم اُس کے پاس گیا۔ اُس نے کہا: ”تم بھی کچھ کہو ۔ مروان بن حکم نے کہا: "عبد الملک نے تم سے جو کچھ کہا سمجھ لو ہی میں نے بھی کہا۔“ مسلم بن عقبہ نے کہا: ”ہاں! میں اُس سے ملا اور وہ بہت عجیب شخص ہے۔ میں نے کسی قریشی کو اس کے جیسا نہیں پایا ۔ اس کے بعد مسلم بن عقبہ اپنا لشکر لیکر روانہ ہوا اور اُسی منزل پر اُتر ا جہاں اُترنے کا مشورہ عبدالملک نے دیا تھا اور جو کچھ اُس نے کہا تھا ویسا ہی کیا۔ پھر وہ مقام حرہ پر مشرق کی طرف اہل مدینہ کے مقابل جا کر اُترا۔ پھر اُس نے اہل مدینہ کو بلایا اور کہا: ”اے اہل مدینہ! امیر المومنین یزید بن معاویہ کا خیال ہے کہ تم لوگ اسلام کی اصل ہو اور تمہارا خون بہانا مجھے گوارا نہیں ہے۔ اس لئے میں امیر المومنین یزید بن معاویہ کے حکم کے مطابق تمہیں تین دن کی مہلت دیتا ہوں ۔ جو کوئی تم میں سے باز آجائے گا اور حق کی طرف رجوع کرلے گا تو ہم اُس کا عذر قبول کریں گے اور یہاں سے واپس چلے جائیں گے اور اُس محمد (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) کی طرف جو مکہ مکرمہ میں ہے متوجہ ہوں گے اور اگر تم لوگ نہیں مانو گے تو یہ سمجھ لو کہ ہم اتمام حجت کر چکے ہوں گے۔“


اہل مدینہ کا جنگ پر اصرار


اہل مدینہ کو مسلم بن عقبہ نے تین دن کی مہلت دی تھی۔ جب وہ مہلت ختم ہوگئی تو اہل مدینہ نے جنگ کرنا منظور کیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : جب تین دن ہو گئے تو مسلم بن عقبہ نے اہل مدینہ کو بلا کر کہا: اے اہل مدینہ تین دن ہو گئے ۔ کہو اب تم کو کیا منظور ہے؟ ملاپ کرتے ہو یا لڑنا چاہتے ہو؟ اگر تم سب ہمارے ساتھ مل جاؤ گے تو ہم اور تم مل کر اپنا سارا زور اُس محمد ( حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) پر ڈالیں گے جس نے بے دینوں کو اور فاسقوں کو اپنے اطراف جمع کر رکھا ہے۔ اہل مدینہ نے کہا : " واللہ کے دشمن! اللہ کی قسم ! اگر تو اپنے لشکر کے ساتھ وہاں جانے کا ارادہ رکھتا ہے تو ہم تجھ کو جنگ کئے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ کیا ہم تجھے اور تیرے لشکر کو اس لئے چھوڑ دیں کہ تم خانہ کعبہ پر حملہ کرو؟ وہاں کے رہنے والوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرو؟ وہاں ملحدوں کی حرکتیں کرو؟ بیت اللہ کی بے حرمتی کرو؟ نہیں نہیں ! اللہ کی قسم ! یہ ہم سے نہیں ہو گا ۔ اہل مدینہ نے شہر کے ایک جانب خندق بنالی تھی اور اُن کا ایک انبوہ عظیم خندق میں اُترا ہوا تھا۔ اُن کا کمانڈر عبدالرحمن بن زہیر زہری تھا۔ اہل مدینہ کے دوسرے ربع کا کمانڈر عبداللہ بن مطیع تھا۔ قریش کی طرف سے شہر کے ایک جانب میں مہاجرین کا کمانڈر معقل بن سنان اشجعی تھا اور اہل مدینہ کے سپہ سالار حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ تھے اور یہ انصار کے بھی کمانڈر تھے۔


حرہ میں جنگ


حرہ میں مسلم بن عقبہ نے صف بندی کی اور اہل مدینہ نے بھی صف بندی کر لی۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: عقبہ بن مسلم نے جنگ کی شروعات کی اور اپنے گھڑ سواروں کو حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے رسالے کے مقابلے پر بھیجا۔ انہوں نے گھڑ سواروں کا مقابلہ کیا اور ایسا شدید حملہ کیا کہ مسلم بن عقبہ کے سوار بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہ دیکھ کر مسلم بن عقبہ نے آزمودہ کا رگھڑ سواروں کوللکارا اور وہ سب پلٹ پڑے اور بڑی دلیری سے لڑنے لگے ۔ اسی دوران میں فضل بن عباس جو حارث بن عبدالمطلب کے پوتوں میں سے ہیں اپنے ساتھ لگ بھگ بیس گھڑ سواروں کو لیکر آئے اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے ساتھ آکر مل گئے اور بڑی خوبی سے نہایت شدید جنگ کی ۔ پھر انہوں نے ابن غسیل الملائکہ سے کہا: ”تمہارے ساتھ جتنے گھڑ سوار ہوں اُن سب کو حکم دے دو کہ میرے پاس آکر ٹھہریں۔ جب میں حملہ کروں تو وہ بھی حملہ آور ہوں اور میں مسلم بن عقبہ تک پہنچے بغیر دم نہیں لوں گا ۔ پھر یا تو میں اسے قتل کر دوں گا یا پھر میں خود قتل ہو جاؤں گا ۔“


فضل بن عباس کا شدید حملہ


حرہ میں شدید جنگ چل رہی تھی اور فضل بن عباس گھڑ سواروں کو لیکر مسلم بن عقبہ کی طرف بڑھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے عبد اللہ بن ضحاک انصاری کو حکم دیا: ” گھڑ سواروں سے پکار کر کہہ دو کہ سب فضل بن عباس کے ساتھ رہیں ۔ اُس نے ندا لگائی اور سب گھڑ سوار فضل بن عباس کے پاس جمع ہو گئے ۔ انہوں نے اہل شام کے لشکر پر حملہ کر دیا اور وہ منتشر ہو گئے۔ فضل بن عباس نے کہا: ”اے گھڑ سوار و! تم نے دیکھ لیا یہ نالائق کیسے بھاگ رہے ہیں؟ میں تم پر فدا ہو جاؤں! پھر سے حملہ کرو تا کہ اُن کے سپہ سالار تک میں پہنچ جاؤں اور اگر میں شامیوں کے سپہ سالار تک پہنچ گیا تو اللہ کی قسم! اسے ضرور قتل کروں گا یا پھر اس کوشش میں خود مارا جاؤں گا۔سمجھ لو کہ ایک ساعت کی ثابت قدمی کا نتیجہ خوشی ہے اور ثبات قدم کے بعد اگر کچھ ہے تو فتح ہے ۔ یہ کہہ کر فضل بن عباس نے اپنے گھڑ سواروں کے ساتھ شامیوں پر ایسا حملہ کیا کہ اُن کے گھڑ سوار اپنے سپہ سالار مسلم بن عقبہ کو پیدل سپاہیوں میں چھوڑ کر منتشر ہو گئے ۔مسلم بن عقبہ کے گرد پانچ سو (500) پیدل سپاہی گھٹنے ٹیکے ہوئے ہر چھیاں گھڑ سواروں کی طرف تانے ہوئے کھڑے تھے۔ فضل بن عباس اسی حالت میں عملدار یعنی جھنڈا اٹھانے والے کے پاس پہنچے اور اُس کے سر پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ مغفر کو کاٹ کر سر کے ٹکڑے کر دیا اور وہ وہیں گر کر مر گیا۔ اُس کے گرتے ہی فضل بن عباس نے نعرہ لگایا میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ۔ اور سمجھے کہ انہوں نے مسلم بن عقبہ کو مار دیا اور پکار کر کہا: ” رب کعبہ کی قسم ! میں نے دشمنوں کے سپہ سالار کو قتل کر دیا ہے۔ مسلم بن عقبہ نے فحش گالی دے کر کہا: ” کو غلط کہتا ہے ۔ جھنڈا اٹھانے والا میرا رومی غلام تھا ۔ اب مسلم بن عقبہ نے خود علم (جھنڈا) اٹھا لیا اور پکار کر بولا : ”اے اہل شام ! کیا تم اپنے دین کی حمایت میں اسی طرح قتال کرتے ہو؟ کیا اپنے امام کی نصرت میں اسی طرح جہاد کرتے ہو؟ اللہ کی مار ہو تمہاری اس لڑائی پر جیسی تم آج لڑ رہے ہو اور کیسا میرے دل کو دکھا رہے ہو اور کیسا مجھے غصہ دلا رہے ہو؟ سن رکھو! اللہ کی قسم ! تمہیں اس کا عوض یہ ملے گا کہ عطیات سے محروم کر دیئے جاؤ گے اور کسی دور دراز سرحد کی طرف بھیج دیئے جاؤ گے۔ اس جھنڈے کے ساتھ آگے بڑھو اور اگر تم سے تلافی نہیں ہو سکے تو اللہ تم سے سمجھے۔ یہ کہ کر مسلم بن عقبہ علم (جھنڈا) لیکر آگے بڑھا اور اُس کے آگے آگے اہل شام حملہ کرتے ہوئے آگے بڑھے۔


مسلم بن عقبہ کی پیش قدمی


مدینہ منورہ کے پاس حرہ کے میدان میں جنگ چل رہی تھی اور فریقین ایکدوسرے پر بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ایک روایت میں یہ ہے کہ اس جنگ میں مسلم بن عقبہ بیمار تھا۔ اُس نے دونوں صفوں کے درمیان ایک تخت پر اپنی کرسی رکھوا دی اور کہا: ”اے اہل شام ! اب اپنے امیر (سپہ سالار ) کی طرف سے لڑو یا چھوڑ کر چلے جاؤ اس کے بعد شامیوں نے ملکر اہل مدینہ پر حملہ کیا۔ اُن کے جس گروہ کی طرف رخ کیا انہیں شکست دی۔ یہ لوگ جم کر لڑتے ہی نہیں تھے اُن کے رخ ہی پھرے جاتے تھے آخر کا رسب شکست کھا گئے ۔اب مسلم بن عقبہ کا لشکر حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے رسالے کی طرف بڑھا۔ اسی دوران میں جنگ آزما بہادر شہ سواروں کی جماعت کو ساتھ لئے ہوئے فضل بن عباس نے شامیوں کے لشکر پر حملہ کر دیا اور یہ مسلم بن عقبہ کی کرسی و تخت کی طرف بڑھے، مسلم بن عقبہ کو اُسی کے سرا پردہ کے سامنے درمیان صف جنگ خادموں نے لا کر بٹھا دیا تھا۔ فضل بن عباس اُس کے تخت تک پہنچ گئے اُن کے چہرے کا رنگ سُرخ تھا اور تلوار اُٹھا کر وار کرنا ہی چاہتے تھے کہ مسلم بن عقبہ چلایا : ” ارے تم کہاں ہو! یہ سُرخ مرد مجھے قتل کر ڈالے گا۔ اے نیک بیبیوں کے فرزند و! دوڑو اور اسے برچھیوں میں پُر ولو ۔ سب پیدل فضل بن عباس کی طرف دوڑے اور برچھیوں سے ایک ساتھ وار کیا اور وہ برچھیاں کھا کر گر گئے ۔ اس کے بعد مسلم بن عقبہ اپنے سواروں اور پیدل سپاہیوں کو لیکر آگے بڑھا اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے قریب پہنچ گیا۔


حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل المائکہ کا خطبہ


حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے قریب پہنچ کر مسلم بن عقبہ نے شامیوں کے لشکر سے خطاب کیا تو جواب میں حضرت عبداللہ بن حظہ غسیل الملائکہ نے اہل مدینہ سے خطاب کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ مسلم بن عقبہ گھوڑے پر سوار ہو کر شامیوں کا دل بڑھانے لگا: " اے اہل شام ! تم حسب و نسب میں اہل عرب سے بڑھ کر نہیں ہو، شمار میں اُن سے زیادہ نہیں ہو۔ تمہارے بلا داتنے وسیع نہیں ہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تم کو ایک خاص مرتبہ عنایت فرمایا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کی ہے ۔ تمہارے اماموں کے دل میں تمہاری منزلت پیدا کر دی ہے۔ اس کا سبب محض یہی ہے کہ تم لوگ اطاعت گزار ہو اور اپنے دین پر قائم ہو اور اس قوم نے اور جو ان کے مثل ہیں ان سب نے دین کو بدل ڈالا تو اللہ نے ان کی حالت کو بدل دیا۔ جس اطاعت گزاری پر تم قائم ہوا سے خوبی کے ساتھ پورا کر دو کہ اللہ بھی جو نصرت اور غلبہ تم کو دے رہا ہے اُسے پورا کر دے گا ۔ یہ کہہ کر جہاں وہ تھا وہیں پھر چلا آیا اور سواروں کو حکم دیتا گیا کہ ابن غسیل اور اُن کے رسالے پر حملہ کر دیں۔ لیکن جب گھڑ سوار اپنے گھوڑوں کو اہل مدینہ کی طرف بڑھا تو وہ لوگ برچھیوں سے اور تلواروں سے وار کرتے تھے ۔ گھوڑے بھڑک جاتے تھے اور رخ پھیر دیتے تھے اور منتشر ہو جاتے تھے۔ یہ دیکھ کر مسلم بن عقبہ نے بلند آواز سے پکار کر کہا: ”اے اہل شام ! اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تم سے بڑھ کر میدان جنگ میں ثابت قدم نہیں بنایا ہے۔ اوحصین بن نمیرا تو اپنا لشکر لیکر اہل مدینہ پر حملہ کر “ یہ سن کر حصین بن نمیر اہل حمص کو لیکر اہل مدینہ کے سامنے آیا۔ حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے جب ان لوگوں کو دیکھا کہ یورش کرنے آرہے ہیں تو انہوں نے اہل مدینہ سے خطاب فرمایا: ”اے لوگو! جس طریقہ سے جنگ کرنا مقصود تھا وہی طریقہ تمہارے دشمن نے تم سے جنگ کرنے کا اختیار کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایک ہی ساعت کے بعد تمہارے اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے گا۔ پھر وہ چاہے تمہارے موافق ہوگا یا مخالف ہوگا۔ سنو تم لوگ صاحب بصیرت ہو، دارالہجرت کے رہنے والے ہو، اللہ کی قسم! میں خوب سمجھتا ہوں کہ بلاد اسلام میں سے کسی شہر کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ اتنا خوش نہیں ہوگا جتنا تم لوگوں سے خوش ہے اور بلا د عرب میں سے کسی شہر کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ ایسا غضب ناک نہیں ہوگا جیسا ان لوگوں پر ہو گا جو تم سے لڑنے کے لئے آئے ہیں۔ تم سب کو ایک دن مرنا ہے اور اللہ کی قسم کسی بھی طرح کی موت شہید ہو کر مرنے سے بہتر نہیں ہے۔ لو ! شہادت کی دولت اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے رکھ دی ہے اسے لوٹ لو۔ اللہ کی قسم ! ایسا نہیں ہوسکتا کہ جتنی تمہاری مراد یں ہوں سب پوری ہو جائیں ۔ یہ کہہ کر جھنڈا لئے ہوئے آگے بڑھے اور تھوڑی دور جا کر ٹھہر گئے۔


اہل مدینہ کی شکست


حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے مقابلے پر حصین بن نمیر بھی اپنا جھنڈا لئے ہوئے آپہنچا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ مسلم بن عقبہ نے عبداللہ بن عضاء کو پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ ابن غسیل پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ اہل مدینہ پر تیروں کا مینہ برسنے لگا۔ حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے کہا: "آخر کب تک تیر کھایا کرو گے؟ جسے جنت میں جانے کی جلدی ہو وہ اس جھنڈے کے ساتھ ہولے ۔“ یہ سنتے ہی جتنے جانباز تھے وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابن غسیل نے کہا: ”اپنے پروردگار کے حضور چلو۔ اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ بس ایک ساعت کی دیر ہے کہ تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی ۔ یہ سن کر سب جنگ کرنے پر آمادہ ہو گئے ۔ ایک ساعت تک ایسی گھمسان کی جنگ ہوئی جیسی اُس زمانے میں کم ہی ہوئی تھی ۔ حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے اپنے بیٹوں کو ایک ایک کر کے بھیجا اور وہ سب اُن کے سامنے جنگ میں کام آگئے ۔ خود حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ بھی بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے اور شامیوں کو قتل کر رہے تھے۔ آخر کار شہید ہو گئے اور اُن کے برادر اخیانہ محمد بن ثابت بھی انہیں کے ساتھ جنگ میں کام آگئے ۔ یہ کہتے تھے: "اگر کفار دیلم مجھے قتل کرتے تو میں ایسا خوش نہیں ہوتا جیسا کہ ان لوگوں کے ہاتھ سے قتل ہو جانے پر خوش ہو رہا ہوں ۔ انہیں کے ساتھ محمد بن حزم انصاری بھی جنگ میں کام آئے ۔ اُن کی لاش پر سے مروان بن حکم گذرا تو لاش سے مخاطب ہو کر بولا: "اللہ تمپر رحم فرمائے! میں نے کتنے ہی رکنوں کے پاس تمہیں طولانی نمازیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ آخر کار اہل مدینہ کو شکست ہوگئی اور شامی لشکر فاتح کے طور پر مدینہ منورہ میں داخل ہو گیا۔


مدینہ منورہ میں تین دن تک قتل عام


مدینہ منورہ کو ملک شام کے لشکر نے فتح کر لیا اور شامی فاتح کے طور پر داخل ہوئے ۔ یزید نے شامی لشکر کے لئے تین دن تک مدینہ منورہ کو حلال کر دیا تھا اور اجازت دی تھی کہ تین دن تک لشکر مدینہ منورہ میں لوٹ مار کر سکتا ہے۔ مسلم بن عقبہ جب اپنے لشکر کے ساتھ مدینہ منورہ میں داخل ہوا تو یزید کے حکم کے مطابق اُس نے شامی لشکر کو مدینہ منورہ میں لوٹ مار کرنے کی اجازت دے دی۔ تین دن تک شامی لشکر لوٹ مار کرتارہا اور اہل مدینہ کوقتل کرتا رہا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: روایت ہے کہ مسلم بن عقبہ کرسی پر بیٹھتا تھا اور اور اس کے سپاہی کرسی کو اُٹھائے مدینہ منورہ میں پھرتے تھے۔ اس حالت میں وہ فاتح کی حیثیت سے مدینہ منورہ میں داخل ہوا۔ مسلم بن عقبہ نے تین دن تک مدینہ منورہ میں لوٹ مار شامیوں کے لئے حلال کر دی۔ شامی سپاہی اہل مدینہ کوقتل کرتے پھرتے تھے اور اُن کا مال لوٹ لیتے تھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جو لوگ مدینہ منورہ میں تھے انہیں بھی نہیں بخشا اور اُن کے ساتھ بھی گستاخیاں کیں اور انہیں بھی ستایا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں مسلم بن عقبہ قتل و غارت گری کرتا ہوا مدینہ منورہ میں داخل ہوا۔ تین دن تک قتل عام کا بازار رکھا۔ شامی لشکر نے اہل مدینہ کا مال واسباب لوٹ لیا۔ اس کے بعد مسلم بن عقبہ نے معقل بن سنان الجھی، محمد بن ابی حذیفہ محمد بن جہم وغیرہ کو گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ اس واقعہ میں تین سو چھ آدمی شرفاء مہاجرین اور انصار اور ان کے علاوہ قبائل وموالی اس تعداد میں دو چند کام آئے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں: پھر مسلم بن عقبہ نے جسے مسرف بن عقبہ کہتے ہیں ۔ اللہ اس برے اور جاہل شخص کا بھلا نہ کرے۔ یزید کے حکم کے مطابق اُس نے مدینہ منورہ کو تین دن کے لئے مباح“ کر دیا۔ اللہ تعالی یزید کو بھی نیک جزا نہ دے اور اُن نے بہت سے قراء کوقتل کروادیا۔ اہل مدینہ کے مال و اسباب کو لوٹ لیا گیا اور جیسا کہ کئی مورخین نے بیان کیا ہے کہ بہت سا شر و فساد برپا ہو گیا۔ جن لوگوں کو مسلم بن عقبہ کے سامنے باندھ کر قتل کیا گیا اُن میں اُس کے دوست حضرت معقل بن سنان بھی تھے جو پہلے اُس کے دوست تھے مگر یزید کی مخالفت کی وجہ سے مسلم بن عقبہ اُن سے ناراض ہو گیا تھا۔ المدائنی نے بیان کیا کہ مسلم بن عقبہ نے مدینہ منورہ کو تین دن کے لئے مباح کر دیا۔ شامی لشکر والے جس شخص کو پاتے قتل کر دیتے تھے اور اُس کا مال و اسباب لوٹ لیتے تھے اور انہوں نے ان تین دنوں میں اتنی زنا کاری کی کہ ایک ہزار خواتین کو بغیر خاوند کے حمل ٹھہر گیا۔ سعدی بنت عوف مرید نے مسلم بن عقبہ کے پاس پیغام بھیجا کہ ”میں تیری چازاد بہن ہوں۔ اس لئے میرے اُونٹوں سے معترض نہ ہو ۔ مسلم بن عقبہ نے کہا: ” سب سے پہلے اسی کے اُونوں کو پکڑو ۔ “ ایک عورت نے آکر مسلم بن عقبہ سے کہا: ” میں تیری لونڈی ہوں اور میرا بیٹا قیدیوں میں ہے ۔ مسلم بن عقبہ نے کہا: ”اے پکڑواور قتل کر دو ۔ جب اُسے قتل کر دیا گیا تو اس نے کہا: اس کا سر مجھے دو ۔ جب اُس کا سر مسلم بن عقبہ کو دیا گیا تو اس نے کہا: ” کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ جب تک تو اپنے بیٹے کے بارے میں بات نہ کرے تو تب تک وہ قتل نہ ہو؟“ 


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ گستاخی


مدینہ منورہ میں داخل ہونے کے بعد شامی لشکر کے سپاہی لوٹ مار میں مشغول تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی گستاخیاں کر رہے تھے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کافی بوڑھے اور ضعیف ہو چکے تھے اور شامیوں کی لوٹ مار اور گستاخی سے بچنے کے لئے مدینہ منورہ کے اطراف پہاڑ میں چلے گئے تھے۔ علامہ عمادالدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں: سادات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت روپوش ہو گئی جن میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ مسلم بن عقبہ نے حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور بولا: ” تو نے بنو امیہ کا ساتھ نہیں دیا اور تو نے کہا تھا کہ اگر اہل مدینہ غالب آگئے تو میں اُن کے ساتھ ہوں اور اگر اہل شام غالب آگئے تو میں اُن کے ساتھ ہوں۔“ حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہعنہ کا بیٹا ہوں ۔ پھر اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی داڑھی کو نوچ لیں۔ لشکر شام کے سپاہیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی داڑھی نوچ ڈالی جو بہت بڑی تھی ۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کو مسلم بن عقبہ کے سامنے لایا گیا تو اس نے کہا: ” میرے ہاتھ پر بیعت کرو ۔ “ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کی سیرت پر بیعت کروں گا۔ مسلم بن عقبہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دے دیا۔ لوگوں نے گواہی دی کہ آپ رضی اللہ عنہ ” مجنون“ ہیں تو چھوڑ دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے نکل کر پہاڑ کی غار میں جا چھپے تھے۔ ایک شامی سپاہی نے آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیا اور وہ تلوار کھینچے ہوئے اُس غار تک پہنچا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اُسے دھمکانے کے لئے تلوار کھینچ لی کہ شاید وہ بغیر لڑے ہوئے ہی واپس چلا جائے لیکن اُس پر کوئی اثر نہیں ہو اور بڑھتا ہی چلا آرہا تھا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ باز نہیں آرہا ہے تو اپنی تلوار میان میں ڈال لی اور فرمایا: "اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں پروردگار عالم اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔“ اس نے پوچھا: اللہ تمہارا بھلا کرے ! تم کون ہو؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہوں ۔ یہ سن کر وہ واپس چلا گیا۔


مسلم بن عقبہ کی یزید کے لئے بیعت


مدینہ منورہ کو یزید کے حکم کے مطابق مسلم بن عقبہ نے شامی لشکر پر مباح کر دیا تھا اور شامی لشکر پورے مدینہ منورہ میں ہنگامہ و فساد مچائے ہوئے تھے۔ جب تین دن گذر گئے تو مسلم بن عقبہ اہل مدینہ سے یزید کے لئے بیعت لینے کے لئے بیٹھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلم بن عقبہ نے مقام قبا میں اہل مدینہ کو بیعت کرنے کے لئے بلایا۔ قریش میں سے یزید بن ذمہ محمد بن جہم اور حضرت معقل بن سنان کے لئے امان طلب کی گئی تھی۔ جنگ کے ایک دن بعد یہ تینوں اُس کے سامنے لائے گئے تو اُس نے بیعت کے لئے کہا: ” انہوں نے کہا: ” ہم اللہ کی کتاب ( قرآن پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر تجھ سے بیعت کرتے ہیں۔ مسلم بن عقبہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہاری اس بات کو ہرگز معاف نہیں کروں گا۔ پھر انہیں قتل کرا دیا۔ مروان بن حکم نے کہا: " قریشی تمہارے پاس امان کے لئے لائے گئے اور تم نے انہیں قتل کر دیا ۔ مسلم بن عقبہ نے مروان بن حکم کی کمر میں اپنی چھڑی چھو کر کہا: "اگر تو بھی یہی بات کہے گا جو انہوں نے کہی ہے تو تلوار کی چمک سے تیری بھی آنکھیں خیرہ کر دی جائیں گی ۔ پھر حضرت یزید بن وہب کو مسلم بن عقبہ کے سامنے لایا گیا تو انہوں نے کہا: ” میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سنت پر بیعت کروں گا ۔ مسلم بن عقبہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں تیرے قصور کو معاف نہیں کروں گا۔ مروان بن حکم اور یزید بن وہب میں دامادی کا رشتہ تھا اسی لئے مروان بن حکم نے اُن کی سفارش کی تو مسلم بن عقبہ نے اپنے سپاہیوں سے کہا: ” مروان بن حکم کا گلہ گھونٹ ڈالو ۔ سپاہیوں نے اُس کا گلہ دبا دیا اور مسلم بن عقبہ نے کہا: تم سب لوگ اس بات پر بیعت کرو کہ تم سب کے سب یزید کے غلام ہو ۔ اس کے بعد اُس کے حکم سے یزید بن وہب کو قتل کر دیا گیا۔ ” جنگ حرہ بدھ کے دن ذی الحجہ کی ستائیسویں یا اٹھائیسویں تاریخ کو ہوئی۔ 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ کے بارے میں فرمان


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے حرم بنانے کے بارے میں دعا کی تھی جیسی دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے بارے میں کی تھی ۔ علامہ عمادالدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں: یزید نے مسلم بن عقبہ کو یہ کہنے میں کہ وہ تین دن تک مباح“ کر دے فحش غلطی کی ہے۔ یہ ایک بہت ہی بڑی قبیح غلطی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اُن کے بیٹوں کا قتل بھی شامل ہے۔ اور پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یزید نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو عبید اللہ بن زیاد کے ہاتھوں قتل کروایا تھا۔ ان تین دن میں مدینہ منورہ میں وہ بے حد و حساب عظیم مفاسد رونما ہوئے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے۔ یزید نے مسلم بن عقبہ کو بھیج کر اپنی حکومت اور اقتدار کو مضبوط کرنا اور بغیر کسی جھگڑا کرنے والے کے اپنے ایام کو دوام بخشا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس کے ارادے کے خلاف اُسے سزا دی اور اُس کے ارادے کے درمیان حائل ہو گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یزید کو ہلاک کر دیا۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں سیدہ عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص کی روایت بیان کی ہے کہ اُن کے والد محترم نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اہل مدینہ سے جنگ کرے گا وہ یوں پکھل جائے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے ۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص مدینہ منورہ کے متعلق برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے سیسے کی طرح پگھلا دے گا۔ پانی میں نمک کی طرح پگھلا دے گا ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اہل مدینہ سے برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے یوں پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پکھل جاتا ہے ایساہی ہوا اور مسلم بن عقبہ اس کے بعد مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے جارہا تھا کہ راستے میں ہی مر گیا ) مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے از راہ ظلم اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اللہ سے خوف زدہ کرے گا اور اُس پر اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی اور قیامت کے دن اللہ تعالی اس سے قیمت اور معاوضہ قبول نہیں فرمائے گا۔ سنن نسائی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اللہ سے خوف زدہ کرے گا اور اُس پر اللہ تعالیٰ اور اُسکے فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔“


اہل مکہ کی جنگی تیاری


مدینہ منورہ پر مسلم بن عقبہ شکر یک حملہ آور ہورہا تھا اور اسی دوران مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو حج کرا رہے تھے۔ حج مکمل ہو جانے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ مسلسل مدینہ منورہ کے بارے میں معلومات لے رہے تھے کہ چند دنوں بعد انہیں اہل مدینہ کی شکست کی اطلاع ملی ۔ آپ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ اب مسلم بن عقبہ لشکر لیکر مکہ مکرمہ پر حملہ آور ہوگا کیونکہ اسے یزید نے یہی حکم دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: 63 ہجری میں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ حج کیا۔ ابھی تک آپ رضی اللہ عنہ پناہ گیر کہلاتے تھے اور امر خلافت کا مدار شوری پر لوگ سمجھتے تھے محرم الحرام کی چاند رات کا ذکر ہے کہ مسور بن مخترمہ کا آزاد کردہ غلام سعید مکہ مکرمہ آیا اور اس نے بیان کیا کہ مسلم بن عقبہ نے اہل مدینہ کے ساتھ کیا کیا اور یہ لوگ کس طرح پیش آئے ۔ اس واقعہ کو مسلمانوں نے ”امر عظیم سمجھا اور اس کو شہر میں مشہور کیا۔ سب نے بہت جدوجہد کی اور سامانِ جنگ میں مشغول ہو گئے کیونکہ سمجھ گئے تھے کہ مسلم بن عقبہ ادھر بھی ضرور آئے گا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں: جب اہل حدر قتل ہوئے تو مکہ مکرمہ میں اسی رات میں جبل ابو تمہیں پر ایک ہاتف نے آواز لگائی اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیٹھے سن رہے تھے : ” روزہ دار، فرماں بردار، عبادت گزار، نیک، ہدایت یافتہ حسن سلوک کرنے والے اور کامیابی کی طرف سبقت کرنے والے، واقتم اور بقیع میں کیسے کیسے عظیم اور خوب صورت سردار اور بیٹرب کے علاقے میں کیسی کیسی رونے اور چلانے والیس ہیں ۔ اُس نے نیک اشخاص اور نیکوں کے بیٹوں کو قتل کر دیا ہے جو بارعب اور تھی تھے ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! تمہارے اصحاب قتل ہو گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔“


لشکر شام کی مکہ مکرمہ کی طرف پیش قدمی


مدینہ منورہ پر قبضہ کرنے کے بعد مسلم بن عقبہ اپنے لشکر کولیکر مکہ مکرمہ پرحملہ کرنے کے لئے روانہ ہو لیکن اُسے مکہ مکرمہ پہنچانا نصیب نہیں ہوا اور راستے میں ہی اُس کا انتقال ہو گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلم بن عقبہ مدینہ منورہ والوں سے جب فارغ ہوا اور اُس کے لشکر والے تین دن تک شہر کو لوٹ چکے تو اُن سب کو ساتھ لیکر مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ مدینہ منورہ میں اُس نے روح بن زنباح عمر و بن محرز کو اپنا جانشین بنا کر گیا۔ مسلم بن عقبہ مدینہ منورہ سے روانہ ہو کرمحرم الحرام کے آخری دنوں میں مشلل“ یا ” رشا یا ابواء تک ہی پہنچا تھا کہ اس کی موت آگئی۔ مرتے وقت اُس نے حصین بن نمیر کو بلایا اور کہا: اے ابن پالان خر! اگر میرے اختیار میں ہوتا تو اللہ کی قسم ! میں تجھے اس لشکر کا سپہ سالار نہیں بناتا۔ لیکن میرے بعد تجھے امیر المومنین یزید نے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا ہے اور امیر المومنین یزید کا حکم مل نہیں سکتا ہے۔ چار باتیں میں تجھ سے کہے دیتا ہوں اسے سن رکھ۔ بہت جلد روانہ ہو۔ جلدی لڑائی شروع کر دینا۔ خبروں کو پوشیدہ رکھنا۔ قریش میں سے کسی کی نہیں سنا۔ اس کے بعد مسلم بن عقبہ مرگیا اور اُسے وہیں مشلل میں دفن کر دیا گیا۔


مکہ مکرمہ پر حملہ


شامی لشکر نے مدینہ منورہ کو پامال کرنے کے بعد مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے اُس کے قریب حصین بن نمیر کی سپہ سالاری میں پہنچ گیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مدینہ منورہ سے فارغ ہو کر مسلم بن عقبہ نے اپنے لشکر کو مرتب کر کے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے جنگ کے ارادے سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوا لیکن مقام ابواء پر پہنچا تو بیمار ہو گیا۔ جب اُسے بچنے کی کوئی امید نہیں رہی تو اُس نے حصین بن نمیر کو شکر کا سپہ سالار بنادیا اور مرگیا۔ حصین بن نمیر شامیوں کا لشکر لیکر چھپیں 26 محرم الحرام 64 ہجری کو مکہ مکرمہ پہنچ گیا۔ وہاں اُس نے اہل مکہ کو یزید کی بیعت کرنے کے لئے طلب کیا۔ اُن لوگوں نے انکار کر دیا اور حصین بن نمیر نے مکہ مکرمہ پر حملہ کر دیا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اہل مکہ اور اہل حجاز نے بیعت کر لی تھی اور وہ لوگ بھی آکر اُن کے پاس جمع ہو گئے تھے جو جنگ حرہ سے بھاگ کر آئے تھے اور کچھ افراد امداد کی غرض سے خوارج کی طرف سے بھی آئے تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ شامی لشکر سے مقابلے کے ارادے سے مکہ مکرمہ سے باہر آئے ۔ سب سے پہلے اُن کے بھائی حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ نے میدان میں نکل کر شامیوں کو للکارا۔ لشکر شام سے ایک شخص نکل کر مقابلے ہر آیا۔ دو دو ہاتھ چلے اور شامی مارا گیا۔ دوسرے شامی نے جیسے ہی قدم آگے بڑھائے حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسا تیر مارا کہ وہ بھی وہیں مر گیا۔ لشکر شام نے یہ رنگ دیکھ کر فوراً حرکت کی اور اجتماعی حملہ کر دیا۔ ایک طرف سے حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت مصعب بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم بڑھ بڑھ کر شامیوں پر حملہ کر رہے تھے اور دوسری طرف سے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ شامیوں کو روک رہے تھے۔ صبح سے شام تک جنگ کا یہی انداز رہا۔ شام ہوتے ہی فریقین اپنے اپنے ٹھکانے پر چلے گئے یہ واقعہ پہلے دن کے محاصرے کا ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ کولوگوں کے ساتھ قال کے لئے روانہ کیا اور ایک ساعت تک انہوں نے بہت شدید جنگ کی اور آخر کار حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ شام تک زبر دست مقابلہ ہوتا رہا۔ پھر فریقین اپنے اپنے ٹھکانے پر چلے گئے۔ یہ محاصرے کے پہلے دن کا واقعہ ہے۔


خانہ کعبہ پر پتھروں اور آگ کی بارش


حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مقابلے پڑ ڈٹے ہوئے تھے لیکن دوسرے دن شامی لشکر نے حملہ دوسرے ڈھنگ سے کیا۔ انہوں نے دوبد و جنگ کرنے کے ساتھ ساتھ خانہ کعبہ پر پتھروں اور آگ کے گولوں کی بارش شروع کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس کے بعد شامی لشکر ماہ محرم الحرام اور پورا ماہ صفر المظفر مکہ مکرمہ پر حملہ کرتے رہے اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں سے جدال وقتال کرتے رہے۔ ماہ ربیع الاول کی تین تاریخ کو شامی لشکر نے خانہ کعبہ پر منجنیق سے پتھر برسائے اور آگ کے گولے بھی برسائے اور آگ لگا دی اور ی رجز پڑھتے جاتے تھے یہ منجنیق ایک شتر (اونٹ) مست ہے کہ ہم اس سے خانہ کعبہ پر نشانہ لگا رہے ہیں۔ عمرو بن سد وی یہ کہتا جاتا تھا: ”ذرا اُم فردہ کو دیکھنا کہ کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان لوگوں کو نشانہ بنارہی ہے ۔ اُم فروہ اُس نے منجنیق کا نام رکھا تھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اس کے بعد حصین بن نمیر نے کوہ ابو قبیس پر منجنیق نصب کرادی جو روزآنہ خانہ کعبہ پر پتھروں کی بارش کرتی تھی ۔ کوئی شخص طواف نہیں کر پا رہا تھا۔ بقیه ماه محرم الحرام اور پورا صفر الظفر اسی حالت میں گذرا یہاں تک کہ ماہر بیع الاول کی تین تاریخ آگئی۔ شامیوں نے خانہ کعبہ پر آگ برسائی جس سے چھت اور پر دے جل کر راکھ ہو گئے۔


یزید کا انتقال


اس سال 64 ہجری میں جب یزید کے بھیجے ہوئے لشکر شام نے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور خانہ کعبہ پر پتھروں اور آگ کی بارش کر رہے تھے کہ اس دوران ملک شام میں یزید کا انتقال ہو گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یزید کا قریہ حوارین میں چودہ (14) ماہ ربیع الاول ہجری کو اڑتیس (38) سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ امام زہری نے یزید کی عمر انتالیس (39) سال لکھی ہے۔ یزید نے صرف تین (3) سال چھ (6) مہینہ یا آٹھ (8) مہینہ حکومت کی ۔ یزید کے بیٹے معاویہ بن یزید نے اُس کے جنازے کی نماز پڑھائی۔ ایک روایت ہے کہ یزید بتیس (32) سال چھ (6) مہینے کی عمر میں ماہ رجب المرجب میں حکمراں بنا اور دو (3) سال آٹھ (8) مہینے حکومت کی اور ماہ ربیع الاول ۶۳ ہجری میں پینتیس (35) سال کی عمر میں انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ربیع الاول کے آغاز تک محاصرہ جاری رہا اور لوگوں کے پاس یزید کی موت کی خبر آگئی۔ یزید چودہ (14) ربیع الاول 64 ہجری کو (35) یا (38) یا (39) سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ یزید نے تین (3) سال چھ (6) مہینہ یا آٹھ (8) مہینہ حکومت کی۔ اہل شام وہاں مغلوب ہو گئے اور ذلیل و رسوا ہو کر پلٹ گئے ۔ پس اُس وقت جنگ کی آگ ٹھنڈی پڑ گئی اور فتنہ کی آگ بجھ گئی۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں