پیر، 2 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 25


25 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 25


جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے وہ ان دونوں سے بھی محبت کرے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت، مسلم بن زیاد سجستان اور خراسان کا گورنر، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی یزید کی مخالفت، یزید کی قسم، عمرو بن سعید کی معزولی، ھ61 ہجری کا سب سے بڑا واقعہ، حضرت جابر بن عتیک اور حضرت حمزہ بن عمر واسلمی کا انتقال، حضرت شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، أم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ62 ہجری: ولید بن عقبہ کی معزولی، مدینہ منورہ کا وفد اور یزید کا کردار، 



جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے وہ ان دونوں سے بھی محبت کرے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم سے محبت کواپنی محب کا پیمانہ بنادیا۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے بارے میں فرماتے سنا ہے : ” جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے اُسے چاہئے کہ ان دونوں سے بھی محبت رکھے ۔“ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میری والدہ محترمہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اس لئے بھیجا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم میرے لئے اور میری والدہ محترمہ کے لئے دعا فرمادیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر مسجد سے جانے لگے تو میں بھی پیچھے پیچھے میں جانے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آہٹ سن کر پوچھا: ” کون ہے؟ حذیفہ ہے؟ میں نے عرض کیا : ”ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اور تیری والدہ بخشے تجھے کیا کام ہے؟ یہ ایک فرشتہ آیا ہے جو اس رات سے پہلے زمین پر نہیں آیا تھا۔ اس نے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کے لئے کہ فاطمہ رضی اللہ عنها جنتی عورتوں کی سردار ہے اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہم جنت کے نو جوانوں کے سردار ہیں بتانے کی اجازت طلب کی جو اللہ نے اسے دے دی

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بہت محبت کرتے تھے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم سے بہت محبت کرتے تھے اور اُن دونوں کو اُٹھا لیتے تھے اور اُن کے والد محترم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبت کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔ ایک دن ملک یمن سے ” حلئے آئے تو خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ نے انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیا اور حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنم کو نہیں دیا۔ لوگوں نے کہا: ” آپ رضی اللہ عنہ نے حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کو نہیں دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ان حلوں میں ان دونوں کے لائق کوئی صلہ نہیں تھا۔ اسی لئے میں نے ان دونوں کو نہیں دیا ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ملک یمن کے گورنر کو پیغام بھیجا کہ ان دونوں کے میعار کے مطابق ” حلئے بنوا کر بھیجے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو آتے دیکھا اور فرمایا: ” شخص اہل زمین کو اہل آسمان سے زیادہ محبوب ہے۔

مسلم بن زیاد سجستان اور خراسان کا گورنر

اس سال 61 ہجری میں یزید نے سجستان اور خراسان کے گورنروں کو معزول کر کے مسلم بن زیاد کو وہاں کا گورنر بنا دیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اس سال ۶۱ ہجری میں یزید کے پاس مسلم بن یزید آیا تو اُس نے اُسے بجستان اور خراسان کا گورنر بنا دیا اور اُس وقت مسلم بن زیاد کی عمر چوبیس 24 سال تھی۔ یزید نے اُس کے دونوں بھائیوں کو معزول کر دیا اور مسلم بن زیاد اپنی عملداری کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہ کمانڈروں اور سواروں کو منتخب کرنے لگا اور لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینے لگا۔ پھر وہ ایک لشکر جرار لیکر ترکوں سے جنگ کرنے کے لئے نکلا۔ اُس کے ساتھ اس کی بیوی ام محمد بنت عبد اللہ بن عثمان بن ابی العاص بھی تھی۔ یہ پہلی عرب خاتون تھی جس نے سمندر عبور کیا اور وہاں اُس نے ایک بچے کو جنم دیا جس کا نام صغری رکھا گیا۔ مسلم بن زیاد نے موسم سرما وہیں گزارا اور اس سے پہلے مسلمان موسم سرما وہاں نہیں گزارتے تھے۔ اُس نے لشکر دیکر مہلب بن ابی صفرہ کو شہر خوارزم کی طرف بھیجا۔ اُس نے محاصرہ کر لیا، آخر کار شہر والوں نے میں کروڑ درہم پر صلح کر لی اور وہ اُن سے سامان خریدتا تھا اور چیز کو نصف قیمت پر لیتا تھا اور جو سامان اُس نے لیا اُس کی قیمت پچاس کروڑ درہم تک پہنچ گئی ۔ جس کی وجہ سے مہلب کو مسلم بن زیاد کے یہاں رتبہ حاصل ہو گیا۔ اُس نے چنندہ چیزوں کو یزید کے پاس روانہ کیا۔ اس جنگ میں مسلم بن زیاد نے اہل سمرقند کے ساتھ بہت سے مال کی شرط پر صلح کر لی۔

حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی یزید کی مخالفت

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جو مکہ مکرمہ میں قیام پذیر تھے یزید کی مخالفت پر کھل کر سامنے آگئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال ۶۱ ہجری میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یزید کی مخالفت کی اور اُس کی حکومت سے خلع لے لیا اور لوگوں سے بیعت لی۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کے سامنے تقریر کی اور حمد وصلوٰۃ کے بعد فرمایا: ” اہل عراق چندلوگوں کے سوا سب کے سب غدار اور بدکار ہیں اور اہل عراق میں سے اہل کوفہ بدترین ہیں۔ انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بلایا کہ اُن کی مدد کریں گے اور اُن کو اپنا فرمانروا بنا ئیں گے۔ جب وہ اُن کے پاس گئے تو وہ اُن سے لڑنے کو کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ یا تو اپنا ہاتھ ہمارے ہاتھ میں دے دو۔ ہم تمہیں بغیر لڑے بھڑے عبید اللہ بن زیاد ابن شمیہ کے پاس بھیج دیں گے کہ وہ تمہارے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے کرے۔ نہیں تو ہم سے جنگ کرو۔ اللہ کی قسم! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اس بات کو نہیں سمجھے کہ اس انبوہ کثیر لشکر کے سامنے وہ اور اُن کے ساتھی تھوڑے سے ہیں۔ لیکن وہ عزت سے شہید ہو جانا اس ذلت کی زندگی سے بہتر سمجھے۔ اللہ تعالیٰ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے اور اُن کے قاتلوں کو ذلیل کرے۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اُن لوگوں کی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرنا اور نافرمانی ظاہر کرنا متنبہ ہو جانے کے لئے کافی تھا لیکن جو مقدر میں ہے وہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس بات کا ارادہ کر لیتا ہے وہ نہیں ملتی ہے۔ کیا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد بھی ہم اُن لوگوں کی طرف سے اطمینان رکھ سکتے ہیں؟ کیا اُن کی بات کو ہم مان سکتے ہیں؟ کیا اُن کے عہد و پیمان کو ہم قبول کر سکتے ہیں؟ نہیں! نہیں ! ہم انہیں اس لائق نہیں سمجھتے ہیں۔ سنو! اللہ کی قسم ! اُن لوگوں نے ایک ایسے شخص کو شہید کیا ہے جو زیادہ تر قیام اللیل ( راتوں میں نماز میں قیام ) اور اکثر صائم النہار ( دن میں روزے رکھنے والے تھے اور اُن سے بڑھ کر ریاست کا حق دار اور دین و فضل میں امارت کا حقدار کوئی نہیں تھا۔ اللہ کی قسم! وہ ایسے نہیں تھے کہ قرآن کے بدلے غنا کریں اور اللہ کے خوف میں رونے کے بجائے گیت گایا کریں۔ وہ ایسے نہیں تھے کہ روزے چھوڑ کر شراب پیئیں اور حلقہ وذکر کو چھوڑ کر شکار کرنے کے لئے نکل جائیں ۔“ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی تقریرین کر اُن کے اصحاب اُن کی طرف دوڑے اور اور کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ اپنی بیعت کا اعلان کریں ۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ی نہیں رہے تو کون ہے جو آپ رضی اللہ عنہ سے امر خلافت میں نزاع کرے گا ؟ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ لوگوں سے خفیہ بیعت لینے لگے اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ ابھی جلدی نہ کرو ۔ اس وقت عمرو بن سعید مکہ کرمہ اور مدینہ منورہ کا گورنرتھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثر لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تم انہوں نے اُس شخص کو شہید کیا ہے جو دن کو روزے رکھتا تھا۔ اللہ کی قسم! وہ قرآن کے بدلے میں گانے اور کھیل کو پسند نہیں کرتا تھا اور اللہ کے خوف سے رونے کے بدلے میں لغو اور حدی کو پسند نہیں کرتا تھا اور روزوں کے بدلے میں شراب نوشی اور حرام کھانے کو پسند نہیں کرتا تھا اور ذکر کے حلقہ میں بیٹھنے کے بجائے شکار کی تلاش کرنے کو پسند نہیں کرتا تھا۔ یہ فرما کروہ یزید پر تعریض کر رہے تھے ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ لوگوں کو بنو امیہ کے خلاف متحد کرنے گے اور انہیں یزید کی مخالفت کرنے اور اُسے معزول کرنے کی ترغیب دینے لگے۔

یزید کی قسم

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سرگرمیوں کے بارے میں یزید کے جاسوسوں نے خبر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یزید کو پختہ طور پر یہ بات معلوم ہوگئی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ میں لوگوں کو جمع کیا ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا اور قسم کھائی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کوضرور زنجیروں میں جکڑوں گا۔ اُس نے ایک چاندی کی زنجیر بھی بھیجی۔ قاصد مدینہ منورہ سے ہوتا ہوا گذرا، یہاں مروان بن حکم سے ملاقات ہوئی۔ اُس نے زنجیر لے کر آنے کا سبب پوچھا تو قاصد نے بتا دیا۔ مروان بن حکم نے کسی شاعر کا یہ شعر پڑھا: ” اُسے گوارا کرنا چاہیئے ۔ ایک زبر دست کے کسی فعل پر کمز ور و نا تواں شخص کو گفتگو کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اب وہ قاصد یہاں سے روانہ ہوا اور یزید کی قسم اور مروان کے شعر کے بارے میں بتایا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں کمزور و نا تواں شخص نہیں ہوں ۔ “ اور خوبی سے قاصد کو واپس کر دیا۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شان بلند ہوگئی۔ مدینہ منورہ والوں نے بھی آپ رضی اللہ عنہ سے خط و کتابت کی ۔ لوگ کہا کرتے تھے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے نہیں رہنے سے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں۔

عمرو بن سعید کی معزولی

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا گورنز عمرد بن سعید سحتی بھی کرتا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کی خاطر مدارت بھی کرتا تھا۔ اس کے بارے میں لوگوں نے یزید کو بتایا تو اس نے عمرو بن سعید کو معزول کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمرو بن سعید نے جب دیکھا کہ لوگ حضرت عبداللہ بن زبیر کی طرف مڑ رہے ہیں اور اُن کے سامنے گردنیں جھکا رہے ہیں تو سمجھا کہ اُن کا داؤ چل جائے گا۔ اس خیال سے اُس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا۔ یہ کئی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں گزار چکے ہیں اور اپنے والد کے ساتھ ملک مصر میں کئی سال گزار چکے ہیں اور وہیں انہوں نے حضرت دانیال علیہ السلام کی کتاب بھی پڑھی تھی اور قوم قریش اُن کا شمر علماء میں کرتی تھی ۔ عمرو بن سعید نے اُن سے پوچھا : ” مجھے بتائیے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا میاب ہوں گے یا نہیں ؟ اور ہمارے خلیفہ یزید کا کیا انجام ہونے والا ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "یزید آن بادشاہوں میں سے ہے جو مرتے دم تک بادشاہ رہے عمرو بن سعید پر اس بات کا یہ اثر ہوا کہ وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ تختی سے پیش آنے لگا مگر اس کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی خاطر مدارت بھی کرتا رہا۔ ادھر ملک شام میں یزید کے پاس ولید بن عقبہ تھا۔ اس نے اور بنو امیہ کے دوسرے لوگوں نے کہا : ” امیر المومنین ! اگر عمرو بن سعید چاہتا تو ابھی تک حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کوگرفتار کر کے تمہارے پاس بھیج چکا ہوتا۔ یزید نے ولید بن عقبہ کو حجاز ( جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی آتے ہیں) کا گورنر بنا کر روانہ کیا اور عمرو بن سعید کو معزول کر دیا۔ یہ 61 ہجری کا واقعہ ہے اور ذی الحجہ میں عمرو بن سعید معزول ہوا اور ولید بن عقبہ بن ابی سفیان گورنر بنا اور اسی نے لوگوں کو حج کرایا۔

ھ61 ہجری کا سب سے بڑا واقعہ

اس سال 61 ہجری میں دنیا کا سب سے بڑا واقعہ پیش آیا اور 10 محرم الحرام یوم عاشورہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے نواسے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اُن کے بیٹوں ،بھتیجوں، بھانجوں اور ساتھیوں کے ساتھ نہایت بیدردی سے شہید کر دیا گیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل بیت کے دس پندرہ اشخاص کو کربلا میں شہید کیا گیا اور بعض کا قول ہے کہ اہل بیت میں سے ہیں پچیسں آدمیوں کو شہید کیا گیا جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے اور ان کے ساتھ بہادروں اور سواروں کی ایک جماعت کو بھی شہید کیا گیا۔

حضرت جابر بن عتیک اور حضرت حمزہ بن عمر واسلمی کا انتقال

اس سال 61 ہجری میں حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابو عبداللہ جابر بن عتیک انصاری رضی اللہ عنہ بدری صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی اور وفتح مکہ کے روز آپ رضی اللہ عنہ انصار کے علم دار تھے۔ امام ابن جوزی نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا اس سال یعنی الہ ہجری میں انتقال ہوا۔ ان کے علاوہ حضرت حمزہ بن عمر و سلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال بھی اسی سال ہوا۔ صحیحین میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بہت روزے رکھتا ہوں، کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھا کرو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " چاہوتو رکھ لو اور چاہو تو نہیں بھی رکھو۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے ملک شام کی فتح میں بھی شمولیت کی اور جنگ اجنادین میں آپ رضی اللہ عنہ ہی خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس فتح کی بشارت لیکر آئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہی حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو بشارت دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو معاف فرما دیا ہے تو انہوں نے اپنے دونوں کپڑے انہیں دے دیئے تھے اور امام بخاری نے اپنی تاریخ میں جید اسناد کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ انہوں نے سامان اکٹھا کرنے کے لئے میری انگلی روشن کر دی۔ یہاں تک کہ میں نے سب لوگوں کا سامان اکٹھا کر لیا ۔ مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال 61 ہجری میں ہوا ہے۔

حضرت شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال

اس سال اللہ ہجری میں حضرت شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے کلید بردار ( چابیاں سنبھالنے والے) تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے باپ کو غزوہ اُحد میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کافر کی حالت میں قتل کیا تھا۔ حضرت شیبہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ حنین میں شرکت کی اور ارادہ تھا کہ غفلت کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرحملہ کر دوں گا۔ اللہ تعالی نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اُن کے ارادے کی خبر دے دی ۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ نے بچے دل سے اسلام قبول کیا اور غزوہ حنین میں ثابت قدم رہنے والوں میں سے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میں ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ اگر سب لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں گے تب بھی میں ایمان نہیں لاؤں گا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا اور غزوہ حنین کے لئے بنو ہوازن کی طرف روانہ ہوئے تو میں اس اُمید پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا کہ موقع ملنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام قریش کا بدلہ لے لوں گا۔ راستے میں ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا اور لوگ روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہو گئے اور میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کے لئے تلوار سونت لی۔ پس میں نے ایک آگ کا شعلہ دیکھا جو بہت تیزی سے میری طرف بڑھ رہا تھا اور قریب تھا کہ مجھے جلا دے۔ اُسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے شیبہ !میرے قریب آؤ میں قریب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ”اے اللہ ! اسے شیطان سے پناہ دے اللہ کی قسم! ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے سے ہاتھ نہیں ہٹایا تھا کہ مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہو گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جاؤ اور جا کر لڑو میں دشمن کی طرف بڑھا۔ اللہ کی قسم ! اگر اس وقت مجھے میرا کا فر باپ بھی ملتا تو میں اُسے بھی قتل کر دیتا۔ اور جب جنگ کے بعد ہم سب اپنی اپنی جگہوں پر واپس آگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے فرمایا: ”اے شیبہ! اللہ تعالیٰ نے تیرے متعلق جو ارادہ فرمایا ہے وہ اس ارادے سے بہت بہتر ہے جو تو نے اپنے متعلق کیا تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ ساری بات بتائی جو میرے دل میں تھی اور جو میں نے سوچی تھی اور جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مطلع نہیں تھا۔ پس میں نے تشہد پڑھا اور عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میںاللہ تعالیٰ سے بخشش کا طلبگار ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے تجھے بخش دیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عثمان بن طلحہ کے بعد ” حجابت سنبھالی اور آج تک آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹوں اور گھر میں حجابت قائم ہے اور بنوشی بہ آپ رضی اللہ عنہ کی طرف ہی منسوب ہیں اور وہی خانہ کعبہ کے دربان ہیں۔

أم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال

اس سال 61 ہجری میں اُم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ اس سال کی شروعات میں یعنی پہلے مہینے میں حضرت حسین ب علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے کچھ مہینوں بعد ہی اُم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام ہند بنت ابی اُمیہ حذیفہ ہے اور بعض نے سہل بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم بیان کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا قبیلہ قریش کے خاندان بنو مخزوم سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح اپنے چچازاد حضرت ابوسلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا اور دونوں اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔ مدینہ منورہ ہجرت کی اور دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ ایک دن حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سن کر آئے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کسی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ کہتا ہ انا للہ وانا الیہ راجعون ! اے اللہ! مجھے میری مصیبت سے پناہ دے اور میرا اس سے بہتر قائم مقام بنا دے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اُس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ” جب حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو میں نے یہی بات کہی اور سوچا کہ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے؟ جبکہ وہ پہلے ہجرت کرنے والے ہیں۔ پھر اللہ کی مشیت سے میں نے وہی کلمات کہے جو مجھے حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بتائے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اُس کے بدلے میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا اور آپ رضی اللہ عنها ”اُم المومنین بن گئیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا بہت حسین اور عبادت گزار تھیں۔ بعض علمائے کرام نے بتایا کہ آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال 59 ہجری میں ہوا۔ میں (علامہ ابن کثیر ) کہتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد ہوا ہے۔

ھ62 ہجری: ولید بن عقبہ کی معزولی

ہجری کے آخری مہینے ذی الحجہ میں یزید نے عمرو بن سعید کو معزول کر کے ولید بن عقبہ کو حجاز کا گورنر بنایا تھا لیکن کچھ ہی مہینوں بعد ہ ہجری میں اسے معزول کر کے عثمان بن محمد ابی سفیان کو گورنر بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن عتبہ مسلسل حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی فکر میں رہا۔ مگر اُس نے دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نہایت کثیر الحذر " ہیں اور اپنی حفاظت کئے ہوئے ہیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد نجدہ بن عامر نے بھی ہمامہ میں یزید کی مخالفت شروع کر دی تھی ۔ ادھر مکہ مکرمہ میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی مخالفت کر رہے تھے۔ حج کے ایام میں ولید بن عتبہ نے مسلمانوں کو حج کرایا اور جب وہ عرفات سے روانہ ہوا تو مسلمان بھی اُس کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ٹھہرے رہے اور پھر بعد میں اپنے ساتھیوں کو لیکر روانہ ہوئے۔ نجدہ بن عامر بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ الگ روانہ ہوا اور کوئی بھی کسی کی اتباع نہیں کر رہا تھا۔ لیکن نجدہ اکثر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ملتا رہتا تھا جس کی وجہ سے لوگوں کو گمان ہوا کہ وہ بھی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لے گا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یزید کو خط لکھا کہ تو نے یہاں کس بے وقوف کو بھیج دیا ہے جو کسی عقل کی بات پر توجہ ہی نہیں کرتا ہے اور کسی عاقل کے سمجھانے سے باز نہیں آتا ہے۔ اگر کسی خوش اخلاق و تواضع پسند آدمی کو یہاں بھیجتا تو مجھے امید تھی کہ بہت سی دشواریاں آسان ہو جا تیں اور تفرقہ اُٹھ جاتا۔ اس بارے میں غور کر کہ اسی میں خواص و عام کی بہتری ہے۔ یزید نے اُن کا خط پڑھا تو ولید بن عقبہ کو معزول کر کے عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو حجاز کا گورنر بنا دیا۔ یہ نوجوان تھا اور ولید بن عقبہ سے بھی زیادہ بے وقوف تھا۔

مدینہ منورہ کا وفد اور یزید کا کردار

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا خط پڑھ کر یزید نے ولید بن عقبہ کو معزول کر کے عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو گورنر بنا دیا۔ اسے حکومت کے کاموں کی سمجھ بہت کم تھی۔ اس نے اُن لوگوں کا وفد یزید کے پاس بھیجا جو اُسے پسند نہیں کرتے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب ایک نوجوان نا آزمودہ کار اور کمسن گورنر سے سابقہ پڑا جسے نہ تو معاملات کا تجربہ تھا اور نہ ہی معاملات استواری کا کوئی تجربہ تھا۔ وہ اپنی حکومت اور عملداری پر ذرا بھی غور نہیں کرتا تھا۔ اُس نے اہل مدینہ منورہ کا ایک وفد یزید کے پاس روانہ کیا ۔ اس وفد میں حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ انصاری بھی تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ومخزومی اور منذر بن زبیر بھی تھا اور بہت سے اشراف مدینہ اُن کے ساتھ تھے۔ وہ لوگ یزید کے پاس ملک شام آئے تو یزید نے اُن کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور انعامات دیئے۔ وہاں ملک شام میں کچھ دن گزارنے کے بعد یہ وفد مدینہ منورہ واپس آیا ۔ ان میں سے ایک منذر بن زبیر بصرہ کے گورنر عبیداللہ بن زیاد کے پاس چلا گیا۔ اُسے یزید نے ایک لاکھ درہم انعام میں دیئے تھے۔ ادھر یہ وفد مدینہ منورہ آیا تو وفد کے لوگوں نے مدینہ منورہ والوں کو یزید کے کردار کے بارے میں بتایا کہ ہم ایک ایسے شخص کے پاس سے ہو کر آئے ہیں جو کوئی دین نہیں رکھتا ہے۔ شراب پیتا ہے، طنبورہ بجاتا ہے۔ اُس کی صحبت میں گانا گانے والیاں گا یا بجایا کرتی ہیں۔ کتوں سے کھیلتا ہے، بشوں اور لونڈیوں سے محبت رکھتا ہے۔ تم سب لوگ گواہ رہو۔ ہم نے اسے خلافت سے معزول کر دیا ہے۔ یہ سن کر لوگوں نے اُن کی اتباع کی۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں