24 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 24
اہل بیت کی مدینہ منورہ روانگی، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خیر مدینہ منورہ میں، حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ کا صبر، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر مدینہ منورہ میں آواز، شہادت کا حکم نامہ واپس نہیں کیا، آپ ﷺ کی اُمت اسے شہید کرے گی، میرا بیٹا یہاں شہید ہوگا، میں کربلا میں تھا، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر، جس نے حسن، حسین سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی، جو تم سے جنگ کرے گا میں اُس سے جنگ کروں گا، جنت کے نو جوانوں کے سردار،
اہل بیت کی مدینہ منورہ روانگی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کی مدینہ منورہ روانگی کے تمام انتظامات مکمل ہو گئے تو یزید نے انہیں روانہ کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب ان لوگوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو یزید نے حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور اُن سے کہا : اللہ مرجانہ کے بیٹے پر لعنت کرے ! اللہ کی قسم ! اگر حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) میرے پاس آتے تو جس بات کی وہ مجھ سے درخواست کرتے میں وہی کرتا۔ اُن کو ہلاک ہونے سے جس طرح بھی بن پڑتا میں بچا لیتا چاہے اس میں میری اولاد میں سے کوئی تلف ہو جاتا تو ہوجاتا۔ لیکن اللہ کو یہی منظور تھا جو تم نے دیکھا تمہیں جس بات کی ضرورت ہو مجھے خبر کرنا میرے پاس لکھ کر بھیجنا۔ پھر یزید نے ان سب کو کپڑے دیئے اور ان کے لئے ایک راہ نما مقرر کر دیا جس کا نام بدرقہ تھا۔ یہ تمام اہل بیت کو لیکر روانہ ہوا۔ سفر کے دوران قافلہ کے ساتھ اس طرح رہتا تھا کہ سارا قافلہ اس کی نگاہ میں رہے اور جب پڑاؤ ڈالتے تھے تو کنارے ہو جایا کرتا تھا۔ خود وہ بھی اور اُس کے ساتھی بھی ہر سمت قافلہ کے ارد گرد پھیل جاتے تھے جو طریقہ پاسبانوں کا ہوتا ہے۔ وہ اور اس کے ساتھی علیحدہ پڑاؤ ڈالتے تھے کہ اگر کوئی شخص وضو کرنا چاہے یا رفع حاجت کے لئے جانا چاہے تو اُسے کچھ بھی زحمت نہ ہو۔ اس طرح اُن لوگوں کو راحت پہنچا تا ہوا اُن کی ضرورتوں کو پوچھتا ہوا اور ان کے ساتھ مہربانی سے پیش آتا ہوا سب کولیکر مدینہ منورہ آیا سیدہ فاطمہ بنت علی رضی اللہ عنہا نے اپنی بڑی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: ”پیاری بہن! یہ شامی شخص ہمارے ساتھ سفر میں بہت خوبیوں کے ساتھ پیش آیا ہے اسے کچھ انعام دے دیں۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ” میرے پاس اس کنگن کے سوا کچھ نہیں ہے جو اسے انعام میں دوں۔ سیدہ فاطمہ بنت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اچھا ہم دونوں اپنے اپنے کنگن اسے انعام میں دے دیتے ہیں“۔ دونوں بہنوں نے اپنے اپنے کنگن اُتار کر بدرقہ کے پاس بھیجے ۔ اُس نے عذر کے ساتھ کنگن واپس بھیج دیئے۔ دونوں بہنوں نے کہلا بھیجا: "راستے میں تم جس خوبی سے ہمارے ساتھ پیش آئے ہو یہ اس کا صلہ ہے۔ اُس نے جواب میں کہا: ” میں نے آپ لوگوں کی جو خدمت کی ہے اگر دنیا کی طمع میں کی ہوتی تو آپ کے اس زیور سے بلکہ اس سے بھی کم میں خوش ہو جا تا۔ لیکن اللہ کی قسم ! میں نے جو خدمت کی ہے وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی جو قرابت ہے اُس کے خیال سے کی ہے۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خیر مدینہ منورہ میں
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دس (10) محرم الحرام 61 ھجری عاشورہ کے دن شہید کیا گیا تھا۔ جب عبید اللہ بن زیاد کو آپ رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر ملی تو اُس نے فوراً اپنے قاصد کو مدینہ منورہ یہ خبر دینے کے لئے روانہ کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد نے جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور اُن کا سر اُس کے پاس آگیا تو اُس نے عبد الملک سلمی کو بلا کر حکم دیا کہ وہ خود مدینہ منورہ جاکر وہاں کے گورنر عمرو بن سعید کو خبر دے۔ عبدالملک نے اس حکم کو ٹالنا چاہا لیکن عبد اللہ بن زیاد تو ناک پر کھی نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔ اس نے عبدالملک کو جھڑک دیا اور بولا: ” بھی جا اور مدینہ منورہ تک خود کو پہنچا اور دیکھ تجھ سے پہلے یہ خبر وہاں پہنچنے نہیں پائے“۔ پھر کچھ دینار سے عطا کئے اور تاکید کی کہ ذرا بھی ستی نہیں کرنا اور اگر تیرا ناقہ (اونٹ) راستے میں رہ جائے تو دوسرا ناقہ خرید لینا۔ عبدالملک جب مدینہ منورہ پہنچا اور اُسے قریش کا ایک شخص ملا اور پوچھا: ” کیا خبر ہے؟ عبدالملک نے جواب دیا: ” خبر میر ( گورنر) کو بتانے والی ہے ۔ یہ سن کر قریشی نے کہا: " حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون“۔ عبدالملک اب عمرو بن سعید کے پاس آیا ۔ دیکھتے ہی اُس نے پوچھا: ”وہاں کی کیا خبر لایا ہے؟ اس نے کہا: ” تمہارے خوش ہونے کی خبر ہے ۔ حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) شہید ہو چکے ہیں۔ عمرو بن سعید نے کہا: ” اس خبر کی منادی کر دے ۔ عبدالملک نے مدینہ منورہ میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس کوسن بنو ہاشم کی خواتین نے اپنے اپنے گھروں میں نوحہ اور ماتم کرنا شروع کر دیا۔ یہ سن کر عمرو بن سعید نے کہا: ” حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے پر جو فریاد اور زاری ہوئی تھی یہ نوحہ اور ماتم اس کے بدلہ میں ہے ۔ اس کے بعد عمرو بن سعد منبر پر گیا اور لوگوں کوحضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر تفصیل سے بیان کی۔
حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ کا صبر
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے بھی شہید ہوئے تھے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر کے ساتھ ساتھ اُن کے دونوں بیٹوں کی شہادت کی خبر بھی ملی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن جعفر طیار کے پاس جب اُن کے دونوں بیٹوں کے شہید ہونے کی اطلاع ملی تو سب لوگ انہیں پرسہ دینے کے لئے آئے ۔ اُن میں حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام ابوالسلاس بولا: یہ مصیبت ہم پر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ڈالی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اُسے جوتا کھینچ کر مارا اور فرمایا: او پسر لختار! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے بارے میں ایسی بات کہتا ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر میں خود وہاں ہوتا تو اُن سے ہر گز جدا نہیں ہوتا اور یہی چاہتا کہ اُن سے پہلے میں شہید ہو کر اپنی جان اُن پر نچھاور کر دوں۔ اللہ کی قسم ! وہ ایسے ہیں کہ ان دونوں بیٹوں کے ساتھ میں بھی اپنی جان اُن پر فدا کر دیتا۔ میں اپنے دونوں بیٹوں کی شہادت کو مصیبت نہیں سمجھتا ہوں بلکہ انہوں نے میرے بھائی میرے چچازاد بھائی کے ساتھ اُن کی رفاقت میں صبر و رضا کے ساتھ اپنی جان دی ہے ۔ یہ فرما کر اپنے ہم نشینوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جس نے ہمیں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت میں سے حصہ نصیب فرمایا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی نصرت میرے ہاتھ سے نہیں ہوئی تو کم سے کم میرے بیٹوں سے تو ہوئی ہے۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر مدینہ منورہ میں آواز
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت سے زمین و آسمان لرز گئے اور زمین کے نیک لوگوں اور آسمان کی تمام مخلوق نے آپ رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر لعنت کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب اہل مدینہ منورہ کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو سیدہ اُم لقمان بنت عقیل رضی اللہ عنہا اپنے خاندان کی خواتین کو لئے ہوئے نکلیں ۔ وہ اپنی چادر کو لپٹتے ہوئے کہتی جا رہی تھیں: ”لوگو! اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دو گے؟ جب وہ پوچھیں گے کہ تم پیغمبر آخر الزماں کی اُمت ہو کر میری عزت اور میرے اہل بیت کے ساتھ میرے بعد کیا سلوک کیا ؟ کہ اُن میں سے کچھ اسیر ہیں اور کچھ خون آلودہ ہیں ۔ جس روز حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اُسی دن صبح کو مدینہ منورہ میں یہ آواز آئی: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قاتلو ! تم کو عذاب اور رسوائی مبارک ہو۔ تمام اہل آسمان ملائکہ اور انبیاء تم پر لعنت کر رہے ہیں ۔ تم پر حضرت موسیٰ، حضرت داؤ د اور حضرت عیسی علیہم السلام نے بھی لعنت کی ہے۔ عمرو بن عکرمہ کہتا ہے : ”میں نے یہ آواز سنی۔ اور عمرو بن خیر دم کلبی کہتا ہے : ” میرے والد محترم نے بھی یہ آواز سنی ہے۔
شہادت کا حکم نامہ واپس نہیں کیا
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا حکم جس خط میں عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو دیا تھا۔ اُس حکم نامے کو اُس نے واپس مانگا تو عمر بن سعد نے واپس دینے سے انکار کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد عمر بن سعد سے وہ خط مانگا جس میں اُس نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا حکم دیا تھا۔ عمر بن سعد نے کہا: ” میں تیرے حکم کو پورا کرنے میں مصروف تھا اس لئے وہ خط ضائع ہو گیا ہے۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: نہیں میرا حکم نامہ تمہارے پاس ہے وہ مجھے واپس دو۔ عمر بن سعد نے پھر انکار کیا تو عبید اللہ بن زیاد نے پھر اصرار کیا۔ آخر عمر بن سعد نے کہا: اللہ کی قسم وہ حکم نامہ میں نے اس لئے محفوظ کر رکھا ہے کہ وہ مدینہ منورہ کے لوگوں کے سامنے معذرت کے طور پر پڑھا جائے گا۔ سُن ! میں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں تجھ سے ایسے ایسے خیر خواہی کے کلمات کہے تھے کہ اگر میں یہ کلمات اپنے والد محترم حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہتا تو اُن کا حق ادا کر دیا ۔ یہ سن کر عبید اللہ بن زیاد کا بھائی عثمان بن زیاد بولا: میں تو کہتا ہوں کہ ہم حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید نہیں کرتے چاہے اس کے بدلے میں ہنوز یاد کی ناک میں تنکیل ہی کیوں نہ چڑھا دی جاتی ۔ عبید اللہ بن زیاد نے یہ بات سن کر برا نہیں مانا۔
آپ ﷺ کی اُمت اسے شہید کرے گی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی بتا دیا تھا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش کے فرشتے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ” دروازے پر نگرانی کرنا کوئی شخص ہمارے پاس نہ آنے پائے“۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر چڑھنے لگے۔ فرشتے نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ! میں اس سے محبت کرتا ہوں“۔ فرشے نے عرض کیا ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اسے شہید کر دے گی اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں وہ جگہ آپ لی اللہ علیہ وسلم کو دکھا دوں جہاں یہ شہید ہوگا ۔ اُس فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ مٹی دکھائی ۔ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے وہ مٹی لے لیا ور محفوظ کر کے رکھ لیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم سنا کرتے تھے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کربلا میں شہید ہوں گے۔ حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرا یہ بیٹا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ارض کربلا میں شہید ہوگا اور تم میں سے جو شخص اس موقع پر موجود ہو وہ اس کی مدد کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ کربلا کی طرف گئے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہوئے تھے ۔“
میرا بیٹا یہاں شہید ہوگا
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہاں شہید ہوں گے اس بارے میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی جانتے تھے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: عبداللہ بن بیٹی کے والد سے روایت ہے کہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوا اور میں آپ رضی اللہ عنہ کا کوزہ بردار تھا۔ جنگ صفین کے لئے جاتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نینوٹی" کے قریب سے گذرے تو مجھے آواز لگائی: ” اے ابو عبد اللہ اکٹھہر جاؤ! اے ابو عبداللہ ! دریائے فرات کے کنارے ٹھہر جاؤ ۔ میں نے پوچھا: ” آپ رضی اللہ عنہ کیا کہنا چاہتے ہیں ؟“ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو ہیں ۔ میں نے عرض کیا : "یارسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم اس بات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لا دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی جبرئیل علیہ السلام میرے پاس سے اُٹھ کر گئے ہیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ دریائے فرات کے کنارے شہید ہوں گے اور یہ بھی کہا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی مٹی سنگھا دوں“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ” اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ایک مٹھی مٹی پکر کر مجھے دے دی اور میں اپنے آنسوؤں کا ضبط نہیں کر سکا ۔ امام محمد بن سعد لکھتے ہیں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے لئے جاتے ہوئے اندرائین کے پودوں کے پاس ” کربلا سے گذرے تو اس کا نام دریافت کیا تو بتایا گیا کہ اس جگہ کا نام "کربلا" ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "کرب اور بلاء ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے دیا اور وہاں ایک درخت کے پاس نماز پڑھی پھر فرمایا: ”یہاں شہداء شہید ہوں گے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ بہترین شہداء ہوں گے اور وہ جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں ایک جگہ پر اشارہ کیا جو لوگوں نے یادرکھا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ وہیں شہید ہوئے۔
میں کربلا میں تھا
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جب اُن کے ساتھیوں کے ساتھ کربلا میں شہید کیا جارہا تھا تو اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کربلا میں موجود تھے۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں دو پہر میں قیلولہ کے وقت سو یا ہوا تھا کہ خواب میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو پراگندہ اور غبار آلود حالت میں دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں شیشی ہے جس میں خون ہے۔ میں عرض کیا : "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ حسین اور اُس کے ساتھیوں کا خون ہے جسے میں جمع کر رہا تھا۔ علی بن زید بن جدعان بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نیند سے بیدار ہوئے اور اناللہ وانا الیہ راجعون ، فرمایا۔ ہم نے وجہ پوچھی تو فرمایا : اللہ کی قسم ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں ۔ “ ہم نے پوچھا: ” آپ رضی اللہ عنہ کو کیسے معلوم ہوا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خون کی شیشی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تجھے کیا معلوم ہے؟ کہ میرے بعد میری اُمت نے کیا کیا؟ انہوں نے حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ہے اور یہ اُس کا اور اُس کے ساتھیوں کا خون ہے۔ میں ان دونوں خونوں کو اللہ کی بارگاہ میں پیش کروں گا ۔ پس جس دن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تھی اُس گھڑی کو ہم نے لکھ لیا اور ابھی چوبیس (۲۴) دن ہی گذرے تھے کہ مدینہ منورہ میں خبر آئی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُسی روز اُسی گھڑی کو شہید ہوئے تھے ۔ سیدہ سلمی بیان کرتی ہیں کہ میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تو دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہا رورہی ہیں۔ میں نے پوچھا: ” آپ رضی اللہ عنہا کیوں رو رہی ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور آپ رضی اللہ کے سر اور داڑھی پر مٹی پڑی ہوئی ہے۔ میں نے پوچھا : 'یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپصلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے ابھی حسین کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔“
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر کے بارے میں علمائے کرام نے بتایا کہ وہ دریائے کربلا کے قریب ہے۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : بہت سے متاخرین کے نزدیک یہ بات مشہور ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت گاہ دریائے کربلا کے نزدیک طف کے ایک مقام پر ہے اور ابن جریر طبری وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت گاہ کا نشان مٹ گیا ہے اور کسی کو اس کی تعیین کے متعلق اطلاع نہیں ہے۔ امام ابو نیم ، الفضل بن دکین اُس شخص پر جو یہ خیال کرتا ہے کہ وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر کو پہچانتا ہے عیب لگاتے تھے۔ امام ہشام بن کلبی نے بیان کیا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہعنہ کی قبر پر پانی چھوڑ دیا گیا تھا تا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی قبر کا نشان مٹ جائے اور وہ پانی چالیس دن کے بعد خشک ہو گیا اور بنو اسد کا ایک شخص وہاں کی ایک ایک مٹھی مٹی لیکر سونگھنے لگا۔ یہاں تک کہ اُس جگہ پہنچ گیا جہاں آپ رضی اللہ عنہ دفن تھے اور وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر پر گر پڑا اور رو رو کر کہنے لگا: ” آپ رضی اللہ عنہ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ، آپ رضی اللہ عنہ کس قدر خشبو دار ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کی مٹی بھی خوشبودار ہے۔ پھر بولا : ” انہوں نے چاہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کو آپ رضی اللہ عنہ کے دشمن سے چھپا دیں اور قبر کی مٹی کی خوشبو نے قبر کا پتہ دے دیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سرکے بارے میں اہل تاریخ اور اہل سیر کے نزدیک مشہور بات یہ ہے کہ اُسے عبید اللہ بن زیاد نے یزید کے پاس بھیج دیا تھا۔ امام محمد بن سعد نے بیان کیا ہے کہ یزید نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرمدینہ منورہ کے گورنر عمرو بن سعید کے پاس بھجوا دیا تھا اور اس نے آپ رضی اللہ عنہ کی اوالدہ محترمہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جنت البقیع میں دفن کر دیا تھا۔
جس نے حسن، حسین سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی
کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ایک عراقی نے اُس محرم ( احرام کی حالت میں) کے بارے میں پوچھا جو کبھی مار دیتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اہل عراق کو دیکھو الکبھی مارنے کے بارے میں پوچھتے ہیں حالانکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیٹی رضی اللہ عنہا کے پیارے بیٹے رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن اور حسین دونوں میری دنیا کے گلدستے ہیں ۔ “ ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ایک عراقی نے کپڑے پر چھر کے خون کے لگ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " اہل عراق کو دیکھو! جو مچھر کے خون کے متعلق دریافت کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی رضی اللہ عنہا کے بیٹے رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ان دونوں یعنی حسن اور حسین رضی اللہ عنہم سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کیا اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا۔
جو تم سے جنگ کرے گا میں اُس سے جنگ کروں گا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور وقتاً فوقتاً اس کا اظہار بھی کرتے رہتے تھے۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھا اور فرمایا : ” جو تم سے جنگ کرے گا، میں اُس سے جنگ کروں گا اور جو تم سے صلح کرے گا ، میں اُس سے صلح کروں گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آ رہے ہیں اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ایک ایک کاندھے پر سوار کیا ہوا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایک کو چومتے اور کبھی دوسرے کو چومتے یہاں تک کہ ہمارے پاس پہنچ گئے۔ ایک شخص نے عرض کیا: یارسول للہ صل اللہ علیہ وسلم اللہ کی تم! بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ان دونوں سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا۔“
جنت کے نو جوانوں کے سردار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سارے مواقع پر اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ محبت کا اظہار فرمایا ہے اور ان دونوں کے فضائل بھی بیان فرمائے ہیں۔ اُن میں سے ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو دنیا میں ہی جنتی ہونے کی بشارت دی ہے۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کون شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن بن علی اور حسین بن علی رضی اللہ عنہم سے ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : ” میرے دونوں بیٹوں کو بلالا ؤ اور جب حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم آجاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کو سونگھتے اور اپنے گلے لگا لیتے تھے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں، پس تو بھی ان سے محبت رکھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "حسن اور حسین رضی اللہ عنہم جنت کے نو جوانوں کے سردار ہیں ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری خالہ کے بیٹوں حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت یحیی علیہ السلام کے سوا حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ “ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کرفرمایا: جو شخص جنت کے نو جوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتا ہے وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے ۔“
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں