23 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 23
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے گستاخی، حضرت علی اوسط (امام زین العابدین) بن حسین کی دلیری، حضرت عبد اللہ بن عفیف ازدی کی شہادت، یزید کے دربار میں اہل بیت، حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی حق گوئی، یزید کی گستاخی، اہل بیت کے مدینہ منورہ روانگی کے انتظامات،
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے گستاخی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل و عیال کو عمر بن سعد لیکر عبید اللہ بن زیاد کے پاس آیا تو اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا سے بھی گستاخی کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سر کے ساتھ اُن کے اہل و عیال، اُن کی بہنیں اور سب کے سب عبید اللہ بن زیاد کے سامنے لائے گئے۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا بھی اُن میں تھیں اور کنیز میں آپ رضی اللہ عنہا کو گھیرے ہوئے تھیں ۔ جب آپ رضی اللہ عنہا اندر داخل ہوئیں تو بیٹھ گئیں عبداللہ بن زیاد نے پوچھا: یہ جو بیٹھی ہوئی ہے کون عورت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اُس نے تین مرتبہ پوچھا اور ہر مرتبہ آپ رضی اللہ عنہا نے جواب نہیں دیا۔ اب آپ رضی اللہ عنہا کی کنیز نے جواب دیا: "یہ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا ہیں ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” اُس اللہ کا شکر ہے جس نے تم لوگوں کو رسوا کیا قبل کیا اور تمہاری کہانیوں کو جھوٹا کر دیا ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ” شکر ہے اُس اللہ کا جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب ہم کو عزت دی، ہم کو طیب و طاہر کیا۔ تو نے جو کہا ایسا نہیں ہے۔ رسوا وہ ہوتا ہے جو جھوٹا ہوتا ہے، جو فاسق اور فاجر ہوتا ہے ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” تم نے دیکھ لیا کہ تمہارے خاندان والوں سے اللہ نے کیا سلوک کیا؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اُن کے مقدر میں شہید ہونا تھاوہ اپنی شہادت گاہ کی طرف چلے آئے۔ اب تو بھی اور وہ لوگ بھی اللہ کے سامنے جائیں گے اور وہیں تم لوگ اپنے اپنے نزاع و خصومت پیش کرو گے“۔ یہ سن کر عبید اللہ بن زیاد بہت غصے میں آگیا۔ عمرو بن حریث نے کہا: اللہ ہمارے امیر کا بھلا کرے! یہ ایک عورت ہے، کیا عورت کی کسی بات پر مواخذہ ہو سکتا ہے؟ کسی بات کا یا سخت زبانی کا عورت سے تو مواخذہ نہیں کیا جاتا۔ عبید اللہ بن زیاد نے سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ” تمہارے خاندان کے سرکشوں اور نافرمانوں کی طرف سے اللہ نے میرے دل کو ٹھنڈا کر دیا ہے ۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! مردوں کو تو نے شہید کیا، میرے خاندان کو تو نے تباہ کر دیا، اس کی شاخوں کو تو نے قطع کیا اور جڑ سے اُکھاڑ ڈالا۔ اگر اسی سے تیرا دل ٹھنڈا ہو سکتا ہے تو بے شک تو نے ٹھنڈا کر لیا ۔ عبیداللہ بن زیاد بولا: ” یہ عورت بڑی دلیر ہے تمہارے باپ بھی تو شاعر اور بڑے دلیر تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”عوت کو دلیری سے کیا واسطہ ! میں دلیری کیا کروں گی جو منہ میں آیا وہ میں نے کہہ دیا۔
حضرت علی اوسط (امام زین العابدین) بن حسین کی دلیری
حضرت علی اوسط (امام زین العابدین ) بن حسین رضی اللہ عنہ کو عبید اللہ بن زیاد نے دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کرنے کا حکم دے دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حمید بن مسلم کہتا ہے حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ جب عبید اللہ بن زیاد کے سامنے لائے گئے تو میں اُس کے پاس ہی کھڑا تھا۔ اُس نے پوچھا: ” تمہارا نام کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں علی اوسط بن حسین ہوں۔“ اس نے کہا: ”علی بن حسین کو اللہ نے قتل نہیں کیا ؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بولا : ” جواب کیوں نہیں دیتے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے بڑے بھائی بھی علی اکبر بن حسین کہلاتے ہیں۔ انہیں لوگوں نے شہید کیا عبید اللہ بن زیاد نے کہا: نہیں! اللہ نے انہیں قتل کیا ہے“۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بولا : " جواب کیوں نہیں دیتے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جن کی موت کا وقت آتا ہے تو اللہ ہی اُن کو وفات دیتا ہے اور اللہ کے حکم کے بغیر کوئی شخص مر نہیں سکتا ہے۔ عبد اللہ بن زیاد بولا : الہ کی قسم تم بھی انہیں لوگوں میں سے ہو۔ ذراد دیکھنا تو یہ بالغ ہے کیا؟ اللہ کی قسم! میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ مردوں میں داخل ہو چکا ہے ۔ مری بن معاذ نے آپ رضی اللہ عنہ کو برہنہ کر کے دیکھا اور بولا : "یہ بالغ ہے۔ عبید اللہ بن زیاد نے حکم دیا: ” اسے قتل کر دو۔ یہ سن کر حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ان خواتین کی حفاظت کے لئے تم کس کو مقرر کرو گے؟ اُن کی پھوپھی سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہ اُن سے لپٹ گئیں اور فرمایا: اے عبید اللہ بن زیاد ! ہم لوگوں پر جو مصیبت گذر چکی ہے اُسی پر بس کر ۔ کیا ہم لوگوں کا خون بہانے سے ابھی سیری نہیں ہوئی؟ کیا ہم میں سے کسی کو تو نے باقی رکھا ہے؟ یہ فرما کر انہوں نے بھتیجے کے گلے میں باہیں ڈال دیں اور فرمایا: ”اے عبید اللہ بن زیاد! میں تجھے اللہ کا واسطہ دیتی ہوں! اگر تو مومن ہے تو اس کے ساتھ مجھے بھی قتل کر ۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے عبید اللہ بن زیاد! اگر تجھ میں ان لوگوں میں قرابت ہے تو کسی پر ہیز گار شخص کو ان خواتین کے ساتھ روانہ کرنا جو مسلمانوں کی طرح ان کے ساتھ رہے۔ عبید اللہ بن زیاد کافی دیر تک سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھتارہا پھر لوگوں کی طرف دیکھ کر بولا: ” اس خون کے جوش پر تعجب ہوتا ہے۔ اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ انکو یہ آرزو ہے کہ اس لڑکے کو اگر میں قتل کروں تو اس کے ساتھ ان کو بھی قتل کردوں ۔ اچھا لڑکے کو چھوڑ دو ۔ جاؤ اپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ تم ہی جاؤ“۔اور عبید اللہ بن زیاد نے حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کی جاں بخشی کا اعلان کر دیا۔
حضرت عبد اللہ بن عفیف ازدی کی شہادت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر عبد اللہ بن زیاد نے اعلان فتح کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد نے ”الصلاۃ الجامعۃ کا اعلان کروایا۔ یعنی نماز کے بعد دربار عام ہو گا۔ جامع مسجد میں لوگ جمع ہو گئے۔ عبید اللہ بن زیاد منبر پر گیا اور بولا:'' اس اللہ کا شکر ہے جس نے حق کو اور اہل حق کو قوی کیا اور امیر المومنین یزید بن معاویہ کی اور اُن کے گروہ والوں کی نصرت کی اور (نعوذ باللہ ) کذاب بن کذاب حسین بن علی کو اور اُن کے گروہ کے لوگوں کو قتل کیا۔ عبید اللہ بن زیاد کی بات ابھی پوری نہیں ہونے پائی تھی کہ حضرت عبداللہ بن عفیف از دی رضی اللہ عنہ اُٹھ کر اُس کی طرف دوڑے۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شامل رہے تھے۔ جنگ جمل میں ان کی بائیں آنکھ جاتی رہی تھی اور جنگ صفین میں ایک ضرب سر پر اور دوسری ضرب بھوں پر لگی تھی جس کی وجہ سے دوسری آنکھ بھی جاتی رہی تھی۔ اس کے بعد سے آپ رضی اللہ عنہ جامع مسجد سے باہر نہیں نکلتے تھے اور صرف رات کو اپنے گھر آتے تھے۔ عبیداللہ بن زیاد کے منہ سے حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کے متعلق گستاخانہ کلمہ سن کر انہوں نے بلند آواز سے فرمایا: ” اومرجانہ کے بیٹے کذاب ابن کذاب ! تو اور تیرا باپ اور جس نے تجھے حاکم بنایا ، وہ اور اُس کا باپ ! تم لوگ پیغمبروں کے فرزندوں کو شہید کرتے ہو اور سچے راستے پر چلنے والوں کی طرح باتیں کرتے ہو۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔ سپاہیوں نے حملہ کر کے آپ رضی اللہ عنہ کو گر فتار کر لیا ۔ حضرت عبداللہ بن عفیف ازدی رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلے بنو ازو والوں کو یا مبرور کہہ کر پکارا۔ یہ کلمہ بنو ازد والوں کا شعار تھا۔ عبد الرحمن بن مختف ازدی وہیں بیٹھا ہوا تھا اُس نے کہا: ” تمہارا بھلا نہ ہو! تم نے اپنے آپ کو بھی تباہ کیا اور اپنی قوم کو بھی تباہ کیا ۔ کوفہ میں اُس وقت سات سو ازدی شہسوار موجود تھے۔ چند شخص اُن میں سے دوڑے اور حضرت عبداللہ بن عفیف رضی اللہ عنہ کو چھڑا لائے اور اُن کے گھر پہنچا آئے۔ بعد میں عبید اللہ بن زیاد نے سپاہیوں کو بھیج کر بلوایا اور شہید کردیا اور ان کی لاش کو دار پر چڑھا دیا۔
یزید کا اظہار تاسف
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سر کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو عبید اللہ بن زیاد نے ملک شام روانہ کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: پھر عبید اللہ بن زیاد نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرکوفہ میں نصب کر دیا اور پورے شہر میں اس کی تشہیر بھی کی۔ اس کے بعد زحر بن قیس کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سرکو اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے سروں کو یزید کے پاس ملک شام روانہ کر دیا۔ اُس کے ساتھ ابو بردہ بن عوف از دی اور طارق بن ابوظبیان از دی بھی تھے۔ عبید اللہ بن زیاد نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت خواتین اور بچوں کو بھی ملک شام روانہ کیا اور حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو اس کے حکم کے مطابق پاؤں سے گلے تک زنجیر میں جکڑ دیا گیا اور محضر بن ثعلبہ عائدی اور شمر بن ذی جوشن کو اُن کے ساتھ روانہ کیا۔ یہ سب لوگ ملک شام میں یزید کے پاس پہنچے راستے میں حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ بالکل خاموش رہے۔ یہ لوگ یہاں سے روانہ ہوئے اور ملک شام پہنچے۔ زخر جب یزید کے سامنے گیا تو یزید نے کہا: ” ارے وہاں کیا ہو رہا ہے؟ اور تو کیا خبر لے کر آیا ہے؟ زحر بن قیس نے کہا: ”اے امیر المومنین! اللہ کے فضل سے فتح و نصرت آپ کو مبارک ہو۔ حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) ہمارے مقابلے پر اپنے اٹھارہ (18) اہل بیت اور ساٹھ (60) ساتھیوں کولیکر آئے تھے ۔ ہم لوگ اُن کے پاس گئے اور اُن سے کہا یا تو اطاعت اختیار کر لیں اور امیر عبداللہ بن زیاد کے حکم پر گردن جھکا دیں یا پھر جنگ کے لئے آمادہ ہو جائیں ۔ انہوں نے اطاعت کرنے کے بجائے جنگ کرنا پسند کیا۔ ہم نے آفتاب نکلتے ہی حملہ کر دیا اور ہر طرف سے انہیں گھیر لیا۔ یہاں تک کہ جب ہماری تلواریں اُن کے سر پر پہنچ گئیں تو بھاگنے لگے اور انہیں پناہ نہیں ملتی تھی ۔ ٹیلوں پر اور غاروں میں وہ ہم سے جان بچاتے پھرتے تھے جیسے کبوتر شاہین سے چھپتے پھرتے ہیں ۔ امیر المومنین !اللہ کی قسم! جتنی دیر میں اونٹ کو صاف کرتے ہیں یا قیلولہ میں جتنی دیر کے لئے آنکھ بند جھپک جاتی ہے بس اتنی ہی دیر میں سب سے آخری شخص کو قتل کر چکے تھے۔ اب اُن کی لاشیں برہنہ پڑی ہیں اور اُن کے کپڑے خون آتو د ہیں اور اُن کے رخسار گردوغبار میں اٹے ہوئے ہیں۔ دھوپ انہیں پکھلائے دیتی ہے اور ہوا انہیں گرد بر دکر رہی ہے اور ایک سنسان بیابان میں شاہین اور گدھ اُن پر اتر رہے ہیں ۔ یہ سن کر یزید رونے لگا اور بولا : میں تمہاری اطاعت سے اُس وقت خوش ہوتا جب تم نے حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کو قتل نہیں کیا ہوتا۔ اللہ ابن سمیہ ( عبید اللہ بن زیاد کو اور اس کے باپ کو ” ابن سمیہ" کہتے تھے) پر لعنت کرے۔ سنو! اللہ کی قسم اگر حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کا معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں اُن کو معاف ہی کر دیتا۔ اللہ حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) پر رحم فرمائے ۔ یزید نے زحر کو کوئی انعام وغیرہ بھی نہیں دیا۔ جب اہل بیت کولیکر محضر بن ثعلبہ یزید کے دروازے پر پہنچا توپکار کر کہا " محضر بن ثعلبہ ( نعوذ باللہ) ان سلامت زدہ بدکاروں کولیکر امیر المومنین یزید بن معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے ۔ یزید نے جواب میں کہا: "محضر کی ماں نے جس بچہ کو جتنا ہے بس وہی سلامت زدہ اور سب سے بدتر ہے۔
یزید کے دربار میں اہل بیت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اور آپ رضی اللہ عنہ کے شہید ساتھیوں کے سر اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو یزید کے سامنے دربار میں پیش کیا گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یزید کے سامنے جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہونے والوں کے سر رکھے گئے تو اُس نے کہا: "اے حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اللہ کی قسم! اگر تمہارا معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا میں تم کو قتل نہیں کرتا ۔ مروان بن حکم کا بھائی بیٹی بن حکم اُس وقت یزید کے پاس موجود تھا۔ اُس نے کہا: ” ایک لشکر کا لشکر عبید اللہ بن زیاد کے قرابت داروں کا جو کہ خاندان کا کمینہ ہے صحرائے طف کے قریب موجود ہے۔ شمیہ کی نسل شمار میں تو سنگ ریزوں کے برابر ہوگئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نسل باقی نہیں رہی۔ یزید نے یہ بات سنی تو یحی بن حکم کے سینہ پر ہاتھ مارکو بولا: ” خاموش“۔ اس کے بعد یزید نے در بہار بلوایا اور ملک شام کے بزرگوں کو اپنے ارد گرد بٹھایا۔ پھر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو خواتین اور بچوں سمیت بلوایا۔ جب یزید کے دربار میں یہ لٹے پٹے لوگ داخل ہوئے تو سب لوگ بیٹھے دیکھ رہے تھے۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے یزید نے کہا: ” تمہارے باپ نے مجھ سے قرابت کو قطع کیا اور میرے حق کو نہیں جانا اور میری سلطنت کو مجھ سے چھینا چاہا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے ایک آیت کی تلاوت فرمائی: ” نہ روئے زمین پر نہ تم لوگوں پر کوئی مصیبت نازل ہوئی ہے جو اس نوشتہ میں نہ ہو جو عالم کی پیدائش سے پہلے لکھا جا چکا ہے“۔ یزید نے اپنے بیٹے خالد بن یزید سے کہا : اس کی بات کو رد کر دے ۔ خالد کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آئی جس کو وہ رد کر سکے۔ یزید نے کہا: ” تم کہو کہ تم پر جو مصیبت آئی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں تمہارے اعمال کے سبب سے آئی ہے اور بہت سی خطائیں اللہ معاف بھی کر دیتا ہے۔ پھر یزید نے خواتین اور بچوں کو آگے بلوایا اور یہ سب سامنے لا کر بٹھا دیئے گئے ۔ یزید نے دیکھا کہ یہ سب بہت ہی برے حال میں ہیں تو بولا : اللہ مرجانہ کے بیٹے کا بڑا کرے! (عبید اللہ بن زیاد کو مرجانہ کا بیٹا بھی کہا جاتا تھا ) اگر اُس میں اور تم لوگوں میں برادری اور قرابت داری ہوتی تو وہ تم سے یہ سلوک نہیں کرتا اور اس حالت میں تم کو یہاں نہیں بھیجتا۔
حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی حق گوئی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے سروں کو یزید کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اس نے ان سروں کی نمائش کے لئے دربار عام کا اعلان کیا اور سب لوگ دربار میں حاضر ہوئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس کے بعد یزید نے لوگوں کو دربار میں آنے کا اذن دیا۔ لوگ جب دربار میں داخل ہوئے تو کیا دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا کٹا ہوا سر یزید کے سامنے رکھا ہوا ہے۔ یزید کے ہاتھ میں چھڑی ہے اور وہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہونٹ اور دانتوں کو چھیڑ رہا ہے اور کہ رہا ہے : ” میری اور تمہاری مثال وہ ہے جو حصین بن حمام نے کہی ہے کہ ہماری تلواریں اپنے پیاروں کا سر اڑا دیتی ہیں اور وہ بھی تو بڑے نافرمان اور ظالم تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے یہ منظر دیکھا تو فرمایا: اے یزید ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ہونٹ اور دانتوں پر تیری چھڑی! ارے کم بخت ! تیری چھڑی کس مقام پر ہے؟ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ کو چومتے تھے سن رکھا! قیامت کے دن تیرا حشر عبید اللہ بن زیاد کے ساتھ ہوگا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں گے ۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ اٹھے اور دربار سے چلے گئے۔
یزید کی گستاخی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت یزید کے دربار میں انتہائی خستہ حالت میں موجود تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی چھوٹی بہن سیدہ فاطمہ بنت علی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ” جب ہم لوگ یزید کے سامنے لے جا کر بٹھائے گئے تو اُسے ترس آگیا اور ہمارے بارے میں اُس نے کسی چیز کا حکم دیا اور ہم پر مہربان ہوا۔ اُس وقت اہل ملک شام میں سے ایک سرخ رنگ کا آدمی یزید کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور بولا: "اے امیر المومنین ! اس عورت کو ( یعنی میں) مجھے دے دیں۔ میں اُس زمانے میں کمسن دوشیزہ تھی ۔ یہ سن کر میں ڈر کے مارے کپکپانے لگی اور مجھے بدگمانی ہونے لگی کہ یہ بات اُن کے مذہب میں جائز ہوگی۔ میں نے گھبراہٹ میں اپنی بڑی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کا دامن پکڑ لیا۔ وہ مجھ سے زیادہ عقل رکھتی تھیں جانتی تھیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا ہے ۔ انہوں نے فرمایا: ” جھک مارا تو نے او بیہودہ بدکار! یہ تیری ایسی مجال ہے اور نہ ہی یزید کی ایسی مجال ہے ۔ یزید کو غصہ آ گیا اور وہ بولا : اللہ کی قسم ! تم نے غلط کہا ہے۔ مجھے اختیار ہے کہ میں جو کرنا چاہوں کر سکتا ہوں۔ میری بڑی بہن رضی اللہ عنہانے فرمایا: اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا؟ اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار تجھے نہیں دیا ہے ۔ ہاں ! اگر تو ہمارے مذہب سے نکل جائے اور ہمارے دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلے تو دوسری بات ہے ۔ یزید غضبناک ہو گیا اور برہم ہو کر گستاخی سے بولا : تو مجھ سے ایسی گفتگو کر رہی ہے؟ دین سے تیرے باپ ( نعوذ باللہ ) نکل گئے تھے ۔ میری بڑی بہن رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اور میرے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے والد محترم رضی اللہ عنہ اور میرے بھائیوں کے دین سے تو نے اور تیرے والد نے ہدایت پائی ہے ۔ یزید نے بدتمیزی اور گستاخی کرتے ہوئے کہا: "اللہ کی دشمن ! تو جھوٹ کہہ رہی ہے ۔ میری بڑی بہن رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو حاکم ہے، غالب ہے، ناحق سخت زبانی کر رہا ہے اور اپنی حکومت سے ہمیں دبانا چاہتا ہے۔ اب یزید کو حیا آگئی اور وہ چپ ہو گیا۔ اُس شامی شخص نے پھر یزید سے وہی مطالبہ کیا : ” امیر المومنین ! یہ کنیز میرے حوالے کر دیں“۔ یزید نے کہا: "دور ہو جا! اللہ تجھے موت دے کر تیرا فیصلہ کر دئے“ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے اُس شامی شخص سے فرمایا: اللہ کی قسم تو نے جھوٹ بولا ہے اور کمینگی کی ہے۔ یہ بات تیرے لئے اور ( یزید کی طرف اشارہ کر کے ) اس کے لئے جائز نہیں ہے۔ یزید نے غصے سے سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کو دیکھا اور بولا : تو نے جھوٹ بولا ہے۔ اللہ کی قسم! یہ میرے لئے جائز ہے اور میں کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں“۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر گز نہیں ! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے یہ جائز نہیں کیا ہے سوائے اس کے کہ تو ہماری ملت سے نکل جائے اور ہمارے دین کے سوا کوئی اور دین اختیار کرلے“۔ یزید غصے اور طیش میں آگیا اور بولا : ” کو اس بات سے میرا سامنا کرتی ہے؟ تیرا باپ اور تیرے بھائی ( نعوذ باللہ) دین سے خارج ہو گئے ہیں ۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ کے دین اور میرے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور میرے والد محترم اور بھائیوں کے دین سے تو نے ، تیرے باپ نے اور تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے ۔ یزید نے کہا: "اے اللہ کی دشمن ! تو جھوٹ بولتی ہے “۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو حکمراں ہے اور کو ظالم ہو کر گالیاں دیتا ہے اور اپنے اقتدار سے ہم پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے ۔ یزید یہ سن کر شرمندہ ہو گیا اور خاموش ہو گیا۔
اہل بیت کے مدینہ منورہ روانگی کے انتظامات
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کی روانگی کے انتظامات یزید نے کئے جب تک ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا رہا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے کہا: "اے نعمان بن بشیر ! ان لوگوں کی روانگی کا سامان جیسا مناسب ہو کر دو اور ان کے ساتھ اہل ملک شام میں سے کسی ایسے شخص کو بھیجو جوامانت دار اور نیک کردار کا مالک ہو ۔ اُس کے ساتھ سوار ہوں اور خدام ہوں کہ ان سب کو مدینہ منورہ پہنچا دے۔ اس کے بعد خواتین اور بچوں کو علیحدہ مکان میں ٹھہرایا گیا جہاں ضرورت کی سب چیزیں موجود تھیں اور اُن کے بھائی حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو اسی مکان میں ٹھہرایا گیا جس میں وہ سب لوگ ابھی تک تھے۔ یہ سب خواتین جب یزید کے گھر گئے تو آل معاویہ میں سے کوئی عورت ایسی نہیں تھی جو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے لئے روتی ہوئی اور آہ وزاری کرتی ہوئی اُن کے پاس نہ آئی ہو۔ غرض سب نے وہاں صف ماتم بچھا دی۔ یزید صبح و شام کھانے کے وقت حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو بلا لیا کرتا تھا۔ ایک دن اُس نے حضرت عمر و بن حسن رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ وہ بہت ہی کمسن تھے۔ یزید نے کہا: ” اس جوان یعنی خالد سے لڑو گے؟ حضرت عمرو بن حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسے نہیں لڑوں گا بلکہ ایک چھری میرے ہاتھ میں دو اور دوسری خالد کے ہاتھ میں دو پھرلڑوں گا“۔ یزید نے اُن کو اپنی طرف کھینچ کر کہا: وہ طینت کہاں جائے گی ؟ سانپ کا بچہ آخرسپنولیا ہی ہوتا ہے“۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں