22 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 22
آخری وقت میں بھی حجت قائم کرنا، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت، معرکہ کربلا کے آخری شہید ہے، علی اوسط ( زین العابدین ) بن حسین رضی اللہ عنہ کو بخش دیا، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کے ساتھ سلوک، بد بخت سنان بن انس کا لالچ، شہدائے کربلا کی تدفین، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرکوفہ میں، اہل بیت کی کوفہ روانگی، عبید اللہ بن زیاد کی گستاخی،
آخری وقت میں بھی حجت قائم کرنا
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دشمنوں نے گھیرا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو کئی تیر لگے ہوئے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ تیر نکالے بغیر اسی حالت میں دشمنوں سے لڑ رہے تھے۔ علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں: حمید بن مسلم کہتا ہے : ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ خزر کا جبہ پہنے ہوئے تھے، عمامہ باندھے ہوئے تھے، دسمہ کا خضاب کئے ہوئے تھے اور پیدل ہو کر قتل کر رہے تھے جیسے کوئی شہسوار فاصلہ سے خود کو بچاتے جائے اور کمین گاہوں سے اپنا موقع ڈھونڈتا جائے اور سواروں پر حملہ کرتا جائے اور شہید ہونے سے پہلے میں نے آپ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”تم لوگ مجھے شہید کرنے پر آمادہ ہو ؟ سن رکھو! اللہ کی قسم ! میرے بعد کسی ایسے بندہ کو اللہ کے بندوں میں سے قتل نہیں کرو گے جس کے قتل پر میرے قتل سے زیادہ اللہ ناراض ہو گا۔ تم سے تو مجھے یہی امید ہے کہ تم مجھے شہید ضرور کرو گے ۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تمہیں ذلیل کر کے مجھ پر کرم کرے گا۔ پھر میرا انتظام تم سے اس طرح لے گا کہ تم حیران ہو جاؤ گے۔ تم نے مجھے شہید کیا تو اللہ تعالیٰ تم لوگوں میں آپس میں کشت وخون ڈلوادے گا اور تمہاری خون کی ندیاں بہا دے گا اور اسی پر بس نہیں کرے گا۔ یہاں تک کہ عذاب الیم کو تمہارے لئے دو چند کر دے گا اور بہت دیر تک آپ رضی اللہ عنہ اسی حالت میں رہے۔ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنا چاہتے تو ممکن تھا لیکن ایک کے پیچھے ایک چھتا تھا۔ یہ چاہتا تھا کہ وہ اس کام کو کرے اور وہ چاہتا ہے کہ یہ اس کام کو کرے۔ آخر کار شمر بن ذی جوشن نے پکار کر کہا: ” وائے ہو تم لوگوں پر ! اس شخص کے بارے میں اب کیا انتظار ہے تمہیں ؟ ارے تمہاری مائیں تم کو روئے اسے قتل کرو۔ اب ہر طرف سے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے دار کیا جس کی ضرب آپ رضی اللہ عنہ کی ہتھیلی پر پڑی۔ پھر سب ہٹ گئے اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ اُٹھتے تھے اور پھر گر پڑتے تھے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کمال سرگرمی سے لڑ رہے تھے۔ شیروں کی طرح سواروں پر جھپٹتے اور پیادوں کی صفوں کو اپنے پر زور حملوں سے اُلٹ پلٹ دیتے تھے اور بار بار فرماتے جاتے تھے: کیا تم لوگ مجھے ہی شہید کرنے کے لئے جمع ہوئے ہو؟ اللہ کی قسم ! میری شہادت سے اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہو گیا اور مجھے شہید کرنے سے تم کوکامیابی حاصل نہیں ہوگی اور بے شک اللہ تعالیٰ تم سے میرے خون کا ایسا بدلہ لے گا کہ تم کو خبر بھی نہیں ہوگی۔ اللہ کی قسم ! اگر تم لوگ مجھے شہید کر دو گے تو تم میں خونریزی کا دروازہ کھل جائے گا اور تم پر اللہ اپنا عذاب نازل کرے گا۔ تم لوگ اپنے ہاتھوں کو میرے خون سے نہ رنگو۔ دیکھو! میں بے گناہ ہوں اور مجھے شہید کرنا تمہارے لئے بہتر نہیں ہے۔ کسی شخص نے کوئی جواب نہیں دیا اور آپ رضی اللہ عنہ ان کے حملوں سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے میدان جنگ میں بہادری اور شجاعت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو پہلے سے تیر لگے ہوئے تھے پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ لڑ رہے تھے ۔ تیروں کے لگنے سے کافی خون بہہ چکا تھا اور جب دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر وار کئے تب بھی آپ رضی اللہ عنہ ہمت پکڑے ہوئے تھے لیکن زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہو رہی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ بار بار اٹھتے تھے اور پھر گر جاتے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: پھر سب ہٹ گئے ، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ اُٹھتے تھے اور گر پڑتے تھے۔ پھر اسی حالت میں سنان بن انس شخصی نے آپ رضی عنہ کو برچھی ماری ۔ آپ رضی اللہ عنہ گر پڑے تو اُس نے خوبی بن یزید ابھی سے کہا کہ سرکاٹ لے۔ خولی بن یزید آگے بڑھا مگر اُس سے یہ کام نہیں ہو سکا اور وہ کانپنے لگا۔ سنان بن انس نے کہا: اللہ تیرے بازوؤں کو توڑ دے اور تیرے ہاتھوں کو قطع کرنے“۔ یہ کہہ کر وہ گھوڑے سے اترا اور آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو ذبح کر کے سر کاٹ لیا اور خولی کو دے دیا۔ ذبیح ہونے سے پہلے ہی بہت سی تلوار میں آپ رضی اللہ عنہ پڑ چکی تھیں۔ سر کاٹنے سے پہلے سنان بن انس نے دیکھا کہ یہ حالت تھی کہ جسے دیکھو وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قریب آرہا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو تلوار مار رہا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ سمجھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرا کوئی سرکاٹ کر لے جائے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: تقریبا تمام سپاہی آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے سے جی چرا ر ہے تھے اور ہر شخص یہی چاہتا تھا کہ کوئی دوسرا آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرے۔ شمر بن ذی جوشن نے لشکر کا یہ رنگ دیکھا تو چلا کو بولا : " تمہاری مائیں مرجائیں ! تم لوگ ایک پیدل کو نہیں مار سکتے ہو۔ تف ہے تمہاری مردانگی پر! اگر تم سب مل کر ایک ایک کنکری بھی پھینکو گے تو (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) دب کر مر جائیں گے۔ یہ بسملانہ حرکت کر رہے ہیں اور ان میں کچھ دم باقی نہیں ہے۔ بڑھ بڑھو! اپنے نام اور خاندان کو رسوا نہ کرو۔ سپاہیوں کے دل اس پُر جوش تقریر سے ایک ناجائز جوش بھر گیا اور شمشیر بکف ہو کر پیادوں نے ہر طرف سے حملہ کر دیا اور سواروں نے آپ رضی اللہ عنہ پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے لپک کر آپ رضی اللہ عنہ کے بائیں بازو پر پھر کندھے پر تلوار چلائی۔ اس حملے سے آپ رضی اللہ عنہ سنبھلنے بھی نہیں پائے تھے کہ سنان بن انس نخعی نے پہنچ کر نیزہ مارا۔ آپ رضی اللہ عنہ زمین پر گر پڑے۔ خولی بن یزید ابھی سر کاٹنے کے ارادے سے آگے بڑھا لیکن تمام بدن پر رعشہ پڑ گیا۔ سنان بن انس نے اُسے جھڑک دیا اور گھوڑے سے اتر کر آپ رضی اللہ عنہ کے بدن مبارک سے سر الگ کر کے خولی کے حوالے کر دیا۔ قمیص بحر بن کعب نے لے لی ، پاجامہ قیس بن اشعث نے لے لیا جوتے اسود از دی نے لے لئے اور تلوار بنو دارم کے ایک شخص نے لے لی ۔ یہ واقعہ دس (10) محرم الحرام اللہ ہجری جمعہ کے دن کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک پر تیروں کے بہت زے زخموں کے علاوہ نیزے کے تینتیس (۳۳) زخم تلوار کے تینتالیس (۴۳) زخم لگے تھے۔
معرکہ کربلا کے آخری شہید ہے
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بدبختوں نے بے دردی سے شہید کر دیا اور سرکاٹ کر لے گئے۔ ان بد بختوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ آپ رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کی اور اہل بیت کی بھی بے حرمتی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جو لباس پہنے ہوئے تھے وہ بھی اُتار لیا گیا اور لوٹ لیا گیا۔ بحر بن کعب نے پاجامہ اُتار لیا۔ قیس بن اشعث نے چادر اُتار لی جس کی وجہ سے اُس کا نام ” قیس قطیفہ یعنی چادر والا قیس مشہور ہو گیا۔ اسود نے آپ رضی اللہ عنہ کے جوتے اتار لئے۔ بونہٹل کے ایک شخص نے آپ رضی اللہ عنہ کی تلوار لے لی جو بعد میں حبیب بن بدیل کے خاندان میں آگئی۔ اس طرح سب نے کچھ نہ کچھ لے لیا۔ پھر سب کے سب اہل بیت کی طرف متوجہ ہوئے اور اُن کے مال و متاع لوٹنے لگے۔ یہ حال تھا کہ ایک بی بی کے سرسے کوئی چادر اتارتا تھا تو دوسرا اُسے چھین لے جاتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے حضرت سوید بن عمرو رضی اللہ عنہ زخموں سے چور ہو کر لاشوں میں غشی کے عالم میں پڑے ہوئے تھے ۔ انہوں نے لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو ذرا چونکے تو دیکھا کہ اُن کی تلوار تو کوئی چھین لے گیا ہے۔ مگر ایک چھری اُن کے پاس موجود تھی اُسی چھری سے وہ کچھ دیرلڑتے رہے۔ آخر عروہ بن بطار تعلمی اور زید بن رقاد جنبی نے مل کر انہیں شہید کر دیا اور یہ سب سے آخر میں شہید ہوئے۔
علی اوسط ( زین العابدین ) بن حسین رضی اللہ عنہ کو بخش دیا
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت اور تمام ساتھی شہید ہو چکے تھے اور وہ بد بخت خواتین پر دست درازی کر رہے تھے ۔ خواتین کے خیمے میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے درمیان والے بیٹے حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ جنہیں امام زین العابدین بھی کہا جاتا ہے بخار میں پھنکتے ہوئے پڑے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہونے کی کوشش کرتے تھے اور جیسے ہی کھڑے ہوتے تھے تو چکرا کر گر پڑتے تھے اور غفلت طاری ہو جاتی تھی ۔ پھر ہوش میں آتے تھے تو اُٹھنے کی کوشش کرتے تھے اور چکرا کر گر پڑتے تھے اور غفلت طاری ہو جاتی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی یہی کیفیت تھی اور اسی دوران میں معرکہ کربلا میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے تھے۔ اس کے بعد جب وہ بد بخت خواتین کے خیموں کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ پر بھی حملہ کرنے کی تیاری کرنے لگے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حمید بن مسلم کہتا ہے : ” میں علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔ وہ فرش پر بیمار پڑے ہوئے تھے اور بخار میں پھنک رہے تھے۔ شمر بن ذی جوشن اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیادوں کو لئے ہوئے ادھر آیا ۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کے قریب بیٹھی خواتین ان بد بختوں سے کہہ رہی تھیں کہ اس بیار پر رحم کرو اور اسے شہید نہ کرو۔ میں لوگوں سے کہا : "سبحان اللہ یہ تو بہت بیمار ہے اور ابھی بچہ ہے اسے شہید نہ کریں۔ پھر میں وہیں کھڑا ہو گیا اور جو بھی انہیں شہید کرنے کی نیت سے آتا اُسے ٹال دیتا تھا۔ آخر میں عمر بن سعد آیا اور لشکر کو ہدایت کی کہ دیکھو ! عورتوں کے خیمے میں ہرگز کوئی نہیں جائے اور اس بیمارلڑکے سے کوئی بھی تعرض نہ کرے اور جس نے بھی ان کا اسباب لوٹا ہو وہ واپس کر دے لیکن کسی نے بھی کوئی بھی چیز واپس نہیں کی ۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: "اے شخص! اللہ تجھے جزائے خیر عطا فرمائے ، اللہ کی قسم ! تیرے کہنے سے مجھے پر سے آفت ٹل گئی۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کے ساتھ سلوک
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ن بد بختوں نے شہید کر دیا اور اس کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کے ساتھ بھی بہت سلوک کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس کے بعد عمر بن سعد نے اپنے لشکر میں اعلان کروا دیا کہ کون کون ہے جو ( حضرت ) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) کے جسم مبارک کو پامال کریں گے ؟ سامنے آؤ۔ یہ سن کر دس شخص لشکر میں سے نکل کر آگے آئے۔ اُن میں اسحاق بن حیوہ حضرمی بھی تھا جس نے آپ رضی اللہ عنہ کی قمیص اتار لی تھی اور آخر کار ” مبروص (سفید داغ) ہو گیا تھا۔ ان دس لوگوں میں اجش بن مریم حضرمی بھی تھا۔ یہ دسوں سوار آئے اور اپنے گھوڑوں کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ( نعوذ باللہ) کے جسم مبارک پر دوڑانے لگے اور پامال کرنے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا جسم مبارک چور چور ہو گیا اور تمام ہڈیاں ٹوٹ پھوٹ گئیں اور سینہ اور پشت مل کر رہ گئے ۔ اس کے بعد اجش بن مرثد کو ایک تیر کہیں سے آکر لگا اور وہ ابھی وہیں میدان جنگ میں ہی تھا۔ تیر اُس کے دل پر جا کر لگا اور وہیں اُس نے بھی دم تو ڑ دیا۔
بد بخت سنان بن انس کا لالچ
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر بد بخت سنان بن انس نے کاٹا تھا۔ اس کے بعد وہ بد بخت اپنے اس عمل پر فخر کرنے لگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں لوگوں نے سنان بن انس سے کہا: ” حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو تو نے شہید کیا ہے۔ ملک عرب میں سب سے بڑے مرتبہ والے شخص کو جو اس ارادے سے آیا تھا کہ تمہاری مدد کرے اور تو نے اُسے شہید کر دیا۔ اپنے امیروں کے پاس جا اور اُن سے صلہ مانگ۔ اگر وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے عوض میں تجھے اپنے تمام خزانے بھی دے دیں تو وہ کم ہیں ۔ سنان بن انس یہ سن کر اپنے گھوڑے پر سوار ہوا۔ وہ بڑا دلیر تھا اور سکی بھی تھا۔ وہ عمر بن سعد کے خیمے کے دروازے پر آیا اور پکار پکار کر یہ دو شعر کہنے لگا: ” میرے اونٹوں کو چاندی سونے سے لدوا دے۔ میں نے بلند مرتبہ بادشاہ کوقتل کیا ہے۔ جو ماں باپ کی طرف سے بہترین خلق ہے ۔ اور نسب میں سب سے بہتر ہے میں نے اُسے قتل کیا ہے ۔ عمر بن سعد اپنے خیمے سے باہر آیا اور بولا: ” میں اس بات کا گواہ ہوں کہ تو دیوانہ ہے اور کبھی ہوش میں آیا ہی نہیں ہے۔ اسے کوئی میرے پاس لیکر آئے ۔ جب اُسے عمر بن سعد کے سامنے لے گئے تو اُس نے ایک لکڑی اُسے ماری اور کہا: ”او دیوانے یہ کلمہ تو زبان سے نکالتا ہے۔ اللہ کی قسم! عبید اللہ بن زیاد سنتا تو تیری گردن مار دیتا۔
شہدائے کربلا کی تدفین
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو کوفیوں یا شامیوں نے شہید کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کے سامان کو لوٹ لیا اور اُن کے ساتھ گستاخی کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے بہتر (72) ساتھی بھی شہید ہوئے۔ واقعہ کربلا ہونے کے ایک دن بعد مقام ” غاضریہ میں جو بنو اسد کے لوگ رہتے تھے انہوں نے مل کر اُن لوگوں کو دفن کیا۔ عمر بن سعد کے لشکر میں سے اٹھاسی (88) سپاہی قتل ہوئے۔ ان کے علاوہ زخمی اچھی خاصی تعداد میں تھے۔ عمر بن سعد نے اپنے سپاہیوں کی لاشوں پر نماز جنازہ پڑھی اور انہیں دفن کرنے کے بعد شہدائے کربلا کو اُسی حال میں چھوڑ کر اپنا لشکر اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرلیکر چلا گیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اس کے بعد عمر بن سعد کے حکم سے دس سواروں نے آپ رضی اللہ عنہ کی لاش کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا۔ معرکہ کربلا میں آپ رضی اللہ کے ساتھ بہتر (72) ساتھی شہید ہوئے اور عمر بن سعد کے اٹھاسی (88) سپاہی قتل ہوئے۔ عمر بن سعد نے اپنے مقتولوں کو جمع کر کے اُن کی نماز جنازہ پڑھی اور دفن کر کے کوفہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ دوسرے دن غاضریہ سے بنو اسد آئے اور انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کو کو دفن کیا۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرکوفہ میں
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے بعد عمر بن سعد نے فوراً آپ رضی اللہ عنہ کا سرکوفہ میں عبید اللہ بن زیاد کے پاس روانہ کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہوتے ہی اُن کے سرکو اُسی دن خولی بن یزید کے ہاتھ حمید بن مسلم کو ساتھ کر کے عبداللہ بن زیاد کے پاس روانہ کر دیا۔ خولی بن یزید سر کو لئے ہوئے عبید اللہ بن زیاد کے محل گیا تو محل کا دروازہ بند ہو چکا تھا۔ یہ اپنے گھر چلا آیا اور سر کو ایک لگن کے نیچے ڈھانک کر رکھ دیا۔ اُس کی دو عورتیں تھیں ایک بنو اسد کی تھی اور دوسری بن حضرمی سے تھی اور اس کا نام ”نورا تھا۔ یہ رات اُسی کے پاس رہنے کی تھی ۔ جب وہ لیٹنے کے لئے بستر پر آیا تو نورانے پوچھا: ” کیا خبر ہے اور تو کیا لیکر آیا ہے؟ اس نے کہا: ” تمام دنیا کی دولت تیرے پاس لیکر آیا ہوں اور تیرے خیمہ میں (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کا سرلیکر آیا ہوں“۔ نورا نے کہا: ” تف ہے تجھ پر الوگ سونا چاندی لیکر آئے ہیں اور تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل رضی اللہ عنہ کا سرلیکر آیا ہے۔ اللہ کی قسم ! میں اور تو دونوں ایک خیمہ میں اب کبھی نہیں رہیں گے ۔ یہ کہ کر نورا بستر سے اُٹھی اور سیدھی اُس جگہ گئی جہاں آپ رضی اللہ عنہ کا سر رکھا ہوا تھا۔ اب اُس نے بنو اسد کی بیوی کو بھی بلا لیا۔ نوار بیٹھی ہوئی سرکو دیکھ رہی تھی۔ وہ کہتی ہے : اللہ کی قسم! آسمان سے ایک نور کا عمود اس لگن تک تھا۔ میں برابر دیکھتی رہی اور سفید سفید پرندے اس کے گرد اڑ رہے تھے۔ صبح ہوئی تو وہ سر عبید اللہ بن زیادہ کے پاس لے گیا۔
اہل بیت کی کوفہ روانگی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کو پہلے ہی عمر بن سعد نے کوفہ روانہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنے لشکر کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد نے اُس دن وہیں قیام کیا اور دوسرے دن صبح حمید بن یکیر کو حکم دیا کہ لشکر کو کوفہ کی طرف روانہ ہونے کی منادی کر دے۔ پھر وہ اپنے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بہنوں ، بیٹیوں اور بچوں کو ساتھ لیکر چلا اور حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ بیمار تھے۔ یہ خواتین جب آپ رضی اللہ عنہ کی لاش اور اُن کے ساتھیوں کی لاشوں کے پاس سے گزریں تو رونے لگیں اور فریاد کرنے لگیں۔ قرہ بن قیس تمیمی کہتا ہے کہ میں گھوڑا بڑھا کر قریب گیا اور اُن خواتین کو دیکھا۔ میں نے ایسی خواتین پہلے کبھی نہیں دیکھیں۔ اللہ کی قسم! وہ آہو ان صحرائی سے بھی بڑھ کر حسین تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اور میں سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کا کہنا نہیں بھولوں گا۔ جس وقت اپنے بھائی کی لاش پر پہنچیں تو فرمایا: " وامحمد وامحمد! آسمان کے فرشتوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلواۃ ہو! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ میدان میں پڑے ہوئے ہیں ، خون میں ڈوبے ہوئے ہیں، تمام اعضا ٹکڑے ٹکڑے ہیں ۔ یا محمداہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹیاں قیدی بنائی گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت شہید کر دی گئی ہے۔ ہوا اُن کی لاش پر خاک پر خاک ڈال رہی ہے اللہ کی قسم! یہ کر دوست دشمن سب رو دیئے۔ پھر باقی لاشوں کے سر جدا کئے گئے ۔ شمر بن ذی جوشن اور قیس بن اشعث اور عمر و بن حجاج کے ساتھ بہتر (72) سر روانہ کئے گئے ۔ اُن لوگوں نے ان سروں کو عبید اللہ بن زیاد کے پاس پہنچا دیا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت اور خواتین اور بچوں کو عمر بن سعد نے محافظوں کے سپرد کیا۔ انہوں نے انہیں اونٹوں کے ہو د جوں پر سوار کرایا اور جب وہ میدان جنگ سے گزرے تو دیکھا کہ وہاں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ انہیں دیکھ کر خواتین رونے لگیں اور سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالی اور آسمان کے فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھیں اور یہاں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ خون میں لتھڑے اور مقطوع الاعضاء ہوکر میدان میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں قیدی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت شہید ہوئی پڑی ہے جس پر صبا خاک اُڑا رہی ہے۔
عبید اللہ بن زیاد کی گستاخی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے جایا گیا تو وہ آپ رضی اللہ عنہ کے سرمبارک کے ساتھ گستاخی کرنے لگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حمید بن مسلم کہتا ہے : عمر بن سعد نے مجھے بلا کر اپنے اہل وعیال کے پاس بھیجا کہ اُن کو خوش خبری سناؤں کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے فتح عطا فرمائی ہے اور عافیت سے گزری ۔ میں جا کر سب کو اطلاع کر آیا۔ واپس آیا تو دیکھا کہ عبداللہ بن زیاد لوگوں سے ملنے کے لئے دربار لگائے بیٹھا ہے اور لوگ تہنیت دینے کے لئے آرہے ہیں۔ اُن لوگوں کو بھی اُس نے اندر بلا لیا اور سب کو بھی اذن دے دیا اور اندر جانے والوں کے ساتھ میں بھی اندر چلا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اُس کے سامنے رکھا ہوا ہے۔ اُن کے دانتوں کو ایک ساعت تک وہ چھڑی سے کھٹکھٹاتا رہا۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ وہ چھڑی سے کھٹکھٹانا موقوف نہیں کر رہا ہے تو انہوں نے فرمایا: ” ان دانتوں سے چھڑی کو ہٹا! اس وحدہ لاشریک کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اپنے ہونٹ مبارک ان دانتوں پر رکھ کر پیار کرتے تھے۔ اتنا فرما کر وہ بزرگ مرد رونے لگے۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: اللہ تجھے لائے ! اگر تو بوڑھا اور ضعیف نہیں ہوتا جس کی عقل جاتی رہی ہے تواللہ کی قسم! میں تیری گردن ماردیا ۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بین کر اُٹھے اور وہاں سے چلے گئے ۔ اُن کے چلے جانے کے بعد لوگوں میں اس بات کا چرچا ہورہا تھا کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایسی بات کی ہے کہ جسے اگر عبید اللہ بن زیاد سن پاتا تو انہیں قتل کر دیتا۔ میں نے پوچھا: ”انہوں نے کون سی بات کہی ؟ لوگوں نے کہا: ”انہوں نے فرمایا غلام نے غلام کو حاکم بنا دیا اور اس نے اللہ کے بندوں کو اپنا خانہ زاد بنالیا۔ اے قوم عرب ! آج سے تم سب غلام ہو گئے ہم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے کو شہید کیا اور مرجانہ کے بیٹے کو اپنا حاکم بنالیا کہ وہ نیک لوگوں کو چن چن کر قتل کر رہا ہے اور غلام بنا رہا ہے۔ تم نے ذلت کو گوارا کر لیا ہے اور جس نے ذلت کو گوارا کیا اللہ تعالٰی اس کو مارے ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں