منگل، 3 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 20

 20 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 20

خیموں کو آگ لگانے کی کوشش، حضرت حبیب بن مظاہر کی شہادت، حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی شہادت، نماز خوف اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ کی گرفتاری اور شہادت، حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ کی شہادت، ساتھیوں کی جاں نثاری، حضرت شوذب اور حضرت عابس بن شبیب کی شہادت، حضرت یزید بن مہاجر زیا درضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت یزید بن مہاجر زیا درضی اللہ عنہ کی شہادت، 



خیموں کو آگ لگانے کی کوشش


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے والے سو سے بھی کم تھے اس کے باوجود چار ہزار سے زیادہ کے لشکر کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے تھے۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: دوپہر تک لڑائی نہایت تیزی اور سختی سے جاری رہی اور ملک شام کا لشکر کشیر ہونے کے باوجود اُن لوگوں کے حملے کا جواب نہیں دے پار ہا تھا اور نہ ہی اُن کے قریب پہنچ کر حملہ آور ہو پارہا تھا۔ عمر بن سعد نے مجبور ہو کر چند سپاہیوں کو آپ رضی اللہ عنہ کے خیموں کی طرف سے حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے صرف چار افراد کو مخالفین کو روکنے کے لئے متعین کیا جو بھی دستہ یا فوج سواروں یا پیادوں کا ملک شام کے لشکر سے نکل کر خیموں کی طرف بڑھتا تھا۔ اُسے خیمہ تک پہنچنا تو دور کی بات ہے راستے میں ڈھیر ہو جانا پڑتا تھا۔ تب عمر بن سعد نے خیموں پر دور سے ہی آگ برسانے کا حکم دیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم لوگ مجھ سے لڑ رہے ہو تو مجھ ہی سے لڑو، خیموں میں عورتوں اور بچوں کے سوا کوئی مرد نہیں ہے۔ وہ غریب نکل کر بھاگ نہیں سکیں گی اور اور ہم خیموں کے جلنے کے بعد تم سے لڑ نہیں سکیں گے۔ عمر بن سعد یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد شمر بن ذی جوشن حملہ کر کے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خیمے تک پہنچ گیا اور بولا : ”اگر میں اس خیمے کو نہیں جلا دوں تو مجھے جہنم میں جلنا نصیب ہو“۔ یہ سن کو عورتیں چلا کر خیموں سے باہر آ گئیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے شمر کو ڈانٹ کر فرمایا: 'سٹو میرے خیمے کو جلائے گا جس میں میرے اہل بیت ہیں؟ اللہ مجھے جلائے“ شمر بن ذی جوشن نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا۔ حمین بن مسلم اور شبت بن ربعی نے اُس کو اس فعل شنیع سے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ بد بخت نہیں مان رہا تھا اور برابر خیمے کی طرف آگ لگانے کے بڑھتا جارہا تھا۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے اپنے دس ساتھیوں کے ساتھ الگ ہو کر شمر بن ذی جوشن اور اُس کے دستے پر حملہ کر دیا۔ شمر کے ساتھیوں میں سے ایک ابوغرہ ضیابی اور بہت سے سپاہی مارے گئے اور آخر کار اسے مجبور ہو کر واپس جانا پڑا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اسی حالت میں سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہا اپنے شوہر حضرت عبد اللہ بن عمر کلبی رضی اللہ عنہ کی لاش کے پاس آئیں اور اُن کا سر اپنے زانو پر رکھ لیا اور گردوغبار اُن کے چہرہ سے صاف کرتی جاتی تھیں اور فرماتی جاتی تھیں : " تم کو جنت میں جانا مبارک ہو ۔ شمر بن ذی جوشن نے آپ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے سنا تو اپنے ایک غلام رستم سے کہا: ” اس عورت کے سر پر ایک لٹھ مار ۔ اُس بد بخت نے سیدہ ام و ہب رضی اللہ عنہا کے سر پر ایسا لٹھ مارا کہ سر پاش پاش ہو گیا اور آپ رضی اللہ عنہا و ہیں شہید ہو کر شوہر کی لاش پر گر گئیں۔ 


حضرت حبیب بن مظاہر کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ انتہائی جوانمردی اور دلیری اور بہادری سے دشمنوں کا مقابلہ کر رہے تھے کہ اس دوران ظہر کی نماز کا وقت آگیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: چونکہ شامیوں (اہل کوفہ ) کے لشکر کی تعداد زیادہ تھی اور کثرت کی وجہ سے دو، چار، پانچ ، دس اور بیس کا مارا جاتا انہیں کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔ جبکہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو اُن کی قلت کی وجہ سے ایک ساتھی کے شہید ہونے کا بھی انہیں شدت سے احساس ہوتا تھا۔ لڑائی اسی شدت سے چل رہی تھی کہ ظہر کی نماز کا وقت آگیا۔ حضرت ابو ثمامہ صائدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ، میں دیکھ رہا ہوں کہ دشمن آپ رضی اللہ عنہ سے زیادہ قریب ہو گئے ہیں۔ اللہ کی قسم ! جب تک میں زندہ ہوں انشاء اللہ آپ رضی اللہ عنہ پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے رب سے ہم اُس وقت میں جب ہم اس وقت کی نماز پڑھ لیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دعائے خیر دی اور فرمایا: ہاں ! یہ نماز کا اول وقت ہے ۔ پھر عمر بن سعد اور شمر بن ذی جوشن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ” ان لوگوں سے کہو کہ تھوڑی دیر کے لئے جنگ کو ملتوی کر دیں تا کہ ہم نماز پڑھ سکیں“۔ حضرت ابو ثمامہ رضی اللہ عنہ اور باقی ساتھیوں نے دشمنوں سے جنگ بندی کی درخواست کی۔ حصین بن نمیر بولا : ” تمہاری یہ نماز قبول نہیں کی جائے گی“۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیوں سگِ دنیا! ( دنیا کے کتے ! تیارا خیال ہے کہ تیری نماز قبول ہوگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی نماز قبول نہیں ہوگی ؟ حصین بن نمیر نے یہ سن کر طیش میں آکر حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ پرگھوڑا چڑھانا چاہا۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے لپک کر اُس کے گھوڑے پر تلوار کا وار کیا اور گھوڑا اُلٹ کر گر پڑا اور حصین بن نمیر بھی منہ کے بل گر پڑا ۔ اُس کے ساتھیوں نے دوڑ کر اُسے اُٹھایا اور حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نہایت بہادری سے اُن سب سے لڑنے لگے۔ اور بنو جیم کے ایک شخص بدیل بن مریم کو قتل کر دیا۔ ایک دوسرے شخص نے آپ رضی اللہ عنہ پر نیزے کا وار کیا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اُس کا وار خالی کر دیا اور اُس پر دار کیا ہی تھا کہ پیچھے سے حصین بن نمیر نے تلوار کا وار کر دیا جس سے آپ رضی اللہ عنہ گر پڑے اور اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کا سرکاٹ لیا اور شہید کر دیا۔


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے کمانڈر کو شہید ہوتے دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ خود میدان جنگ میں جانے کے لئے تیار ہو گئے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوسخت صدمہ ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ بہ نفس نفیس میدان میں جانے کے لئے تیار ہو گئے ۔ یہ دیکھ کر حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عرض کیا : ” ہم آپ رضی اللہ عنہ پر سینہ سپر ہو کر فدا ہونے کے لئے موجود ہیں اور ہمارے ہوتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں تشریف نہ لے جائے ۔ اُن دونوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو روک دیا اور خود میدان جنگ میں پہنچ گئے اور دونوں نے ملک شام کے لشکر پر ایک ساتھ حملہ کر دیا۔ جب ایک شخص لڑتے لڑتے دشمنوں میں گھر جاتا تو دوسراختی اور تیزی سے حملہ کر دیتا اور اپنے ساتھی کو دشمنوں کے نرغے سے نکال لاتا۔ تھوڑی دیر تک یہ دونوں حضرات اسی طرح لڑتے رہے اور دشمنوں کے بیسوں سپاہیوں کوقتل کر دیا۔ حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ تو بہت ہی دلیری اور جانبازی سے لڑ رہے تھے۔ عمر بن سعد نے پیدل سپاہیوں کو حکم دیا تو انہوں نے چاروں طرف سے حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کو گھر لیا۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کافی پیچھے رہ گئے اور حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ مسلسل دشمنوں کو قتل کرتے کرتے کافی آگے بڑھ گئے ۔ آخر کار حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا دل ٹوٹ گیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے اپنے نفس اور اپنے ساتھیوں کو اللہ کے حوالے کیا ۔ اب حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ نے رجز پڑھنا شروع کیا اور اُن کے ساتھ شریک ہو کر حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ بھی شدید قتال کیا۔ اُن دونوں میں سے ایک شخص حملہ کرتا تھا اور جب وہ دشمنوں میں گھر جاتا تھا تو دوسرا حملہ کر کے اُسے چھڑا لیتا تھا۔ ایک ساعت تک دونوں اسی طرح شمشیر زنی کرتے رہے۔ اس کے بعد پیادوں کے جم غفیر نے ہجوم کر کے حضرت حربن یزید رضی اللہعنہ کو شہید کر دیا ۔ حضرت ابو ثمامہ صائدی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد کو جودشمنوں کے ساتھ تھا قتل کر دیا۔


نماز خوف اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کر رہے تھے اور ایک ایک کر کے شہید ہوتے جارہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد سب نے نماز ظہر پڑھی۔ یہ صلوۃ الخوف ( نماز خوف ) تھی جو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پڑھی۔ ظہر کی نماز کے بعد پھر سے جنگ ہونے لگی اور دشمن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے ۔ یہ دیکھ کر حضرت حنفی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو بچانے کے لئے خود تیروں کا نشانہ بن گئے ۔ وہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے اور دائیں اور بائیں جانب اور سامنے سے مسلسل تیرا نہیں آ آ کر لگتے رہے۔ آخر کار تیر کھاتے کھاتے گر گئے ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ رجز پڑھتے جا رہے تھے اور دشمنوں کے سامنے آپ رضی اللہ عنہ کی ڈھال بنے کھڑے تھے۔ انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو پوری طرح ڈھانپ رکھا تھا اور اُن سے عرض کیا : اے مہدی ہادی پڑھیئے! اپنے جد اعلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے والد محترم حضرت علی رضی اللہ عنہ، اپنے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ ، اپنے چچا حضرت جعفر بن ابی طالب طیار رضی اللہ عنہ اور اللہ کے شیر حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کیجیے۔ اسی حالت میں کثیر بن عبداللہ تھی اور مہاجر بن اوس نے حملہ کر کے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔


حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ کی گرفتاری اور شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی مسلسل آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کرتے جارہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو اتنی ہمت عطا فرمائی کہ آپ رضی اللہ عنہ انتہائی صبر سے ایک ایک کر کے اپنے ساتھیوں کو شہید ہوتے دیکھ رہے تھے اور دشمنوں سے مقابلہ بھی کرتے جارہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت نافع بن ہلال جملی رضی اللہ عنہ زہر میں بجھے ہوئے تیر اپنی کمان پر لگا لگا کر چلاتے جارہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے : میں جملی ہوں اور حضرت علی بن ابی طالب اور اُن کے بیٹے کے ساتھیوں میں سے ہوں۔ دشمنوں کے بارہ سپاہیوں کو آپ رضی اللہ عنہ قل کیا اور کچھ لوگوں کو بھی بھی کیا۔ دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ہر طرف سے وار کرنے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ ہر طرف گھوم گھوم کر مقابلہ کرتے رہے۔ پہلے ایک بازو کٹا پھر دوسرا باز بھی کٹ گیا تو دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو گر فتار کر لیا۔ شمر بن ذی جوشن اور اُس کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کو دھکیلتے ہوئے عمر بن سعد کے پاس لائے تو اُس نے پوچھا: ”اے نافع اتم نے اپنے نفس کے ساتھ ایسی برائی کیوں کی ؟ حضرت نافع بن ہلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے ارادے کا حال اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے“۔ اُن کی داڑھی سے خون بہتا جارہا تھا اور وہ فرماتے جارہے تھے : ”میں نے تیرے بارہ سپاہیوں کو قتل کیا ہے اور مجھے ذرا بھی پشیمانی نہیں ہے۔ میرے بازو اگر کٹ نہیں گئے ہوتے تو تم مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے ۔ شمر بن ذی جوشن نے عمر بن سعد سے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے! اسے قتل کر دیجیے ۔ عمر بن سعد نے کیا: تو ہی ان کو لیکر آیا ہے اگر قتل کرنا چاہتا ہے تو تو ہی قتل کر دے۔ شمر بن ذی جوشن نے تلوار کھینچی تو حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے کہ جو لوگ بدترین مخلوق میں سے ہیں اُن کے ہاتھوں ہماری موت اُس نے مقدر کی ہے۔ اس کے بعد شمر بن ذی جوشن نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔


حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کوگھیر لیا گیا تھا اور ہر طرف سے حملے ہورہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی دوران حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے اور بلند آواز سے پکار پکار کر فرمانے لگے: ”اے میری قوم والو! مجھے ڈر ہے کہ تم لوگوں پر جنگ احزاب کا ساعذاب نازل ہوگا ۔ جیسا کہ قوم نوح اور قوم عاد اور قوم ثمود پر اور اُن کے بعد والوں پر نازل ہوا اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرنا چاہتا۔ اے میری قوم کے لوگو! مجھے تمہارے لئے قیامت کے دن کا ڈر ہے جس روز تم پیٹھ پھیرے ہوئے بھاگتے پھرو گے اور اللہ کی طرف سے تمہارا کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ اور سنو! جسے اللہ گراہ کرتا ہے اُسے راہ پر لگانے والا کوئی نہیں ملتا۔ اے میری قوم کے لوگو! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید نہ کرو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ اپنا عذاب نازل کر کے تمہیں تباہ کر دے۔ اور سنو! جس نے اللہ پر بہتان لگا یا وہ زیاں کا رہے۔ حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ کا یہ کلام سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے حنظلہ بن اسعد رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ یہ لوگ اُسی وقت اللہ کے عذاب کے سزاوار ہو چکے تھے جب تم نے انہیں حق کی طرف پکارا تھا اور انہوں نے تمہارے قول کو رد کر دیا تھا۔ تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا خون بہانے پر آمادہ ہو گئے اور اب تو یہ لوگ تمہارے صالح بھائیوں کو شہید بھی کر چکے ہیں ۔ حضرت حنظلہ بن اسعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ” میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ! آپ رضی اللہ عنہ نے بیچ فرمایا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ مجھ سے زیادہ افقہ ہیں اور اس منصب کے احق ہیں۔ کیا ابھی بھی ہم اپنے صالح بھائیوں سے ملنے کو نہ جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی اور فرمایا: ”جاؤ اُس دار البقا“ کی طرف جو دنیا و مافیہا سے بہت بہتر ہے ۔ حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : "السلام علیکم یا اباعبد اللہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) رضی اللہ عنہ! اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ پر اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت پر صلوٰۃ بھیجے اور ہم کو آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنت میں ملائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر دو مرتبہ آمین فرمایا۔ اس کے بعد حضرت حنظلہ بن اسعد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور دشمنوں پر زبردست حملہ کیا اور زبردست شمشیر زنی کرتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر فدا ہو گئے۔


ساتھیوں کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کر رہے تھے۔ بڑے تو بڑے یہاں تک کہ نوجوان بھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں نچھاور کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب شمر بن ذی جوشن رجز پڑھتا ہوا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی طرف بڑھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے جب یہ دیکھا کہ قاتلوں کا بڑا ہجوم ہے اور اب نہ تو وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بچا سکتے ہیں اور نہ ہی خود کو بچا سکتے ہیں تو سب کی یہی آرزو ہوئی کہ آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں نچھاور کر دیں اور آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے ہی شہید ہو جائیں۔ عزرہ غفاری کے دونوں بیٹے حضرت عبداللہ اور حضرت عبدالرحمن آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے رضی اللہ عنہ! السلام علیکم دوشمن نے ہمیں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھیر لیا ہے اور ہماری آرزو ہے کہ ہم آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جان نچھاور کر دیں اور آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شہید ہوتے جائیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو دشمنوں سے بچاتے جائیں اور اُن کے نرغہ کو ہٹاتے جائیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مرحبا میرے بچو! آؤ! میرے قریب آجاؤ“ دونوں آپ رضی اللہ عنہ کے قریب آگئے اور رجز پڑھ پڑھ کر بڑھ بڑھ کر شمشیر زنی کرنے لگے۔ حضرت سیف بن حارث اور حضرت مالک بن عبد رضی اللہ عنہم دونوں چازاد بھائی ہیں۔ ماں دونوں کی ایک تھی۔ یہ دونوں نوجوان روتے ہوئے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے بچو ا تم رو کیوں رہے ہو؟ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ اب تھوڑی دیر میں ہی تم خوش ہو جاؤ گے ۔ انہوں نے عرض کیا: ” ہم آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جائیں ! ہم اپنے لئے نہیں رور ہے ہیں بلکہ ہمیں آپ رضی اللہ عنہ کے حال پر رونا آرہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ دشمنوں کے نرغے میں ہیں اور ہم آپ رضی اللہ عنہ کو بچا نہیں سکتے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میری حالت پر غمگین ہونے کی جزا اور میرے ساتھ ہمدردی کرنے کا عوض اے بیٹو! اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور ایسا ثواب عطا فرمائے گا جیسا ثواب وہ اپنے نیک بندوں کو عطا فرماتا ہے ۔ اس کے بعد یہ دونوں نو جوان آگے بڑھے اور مڑ مڑ کر کہتے جاتے تھے : "اسلام علیکم ! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے رضی اللہ عنہ ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ اس کے بعد اُن دونوں نے دشمنوں پر زبر دست حملہ کیا اورکئی دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔


حضرت شوذب اور حضرت عابس بن شبیب کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کو بچانے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے اور اپنی اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عابس بن ابی شعیب شاکری رضی اللہ عنہ بھی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور اُن کے ساتھ اُن کے آزاد کردہ غلام حضرت شوذب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے حضرت شوذب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ” کہو کیا ارادہ ہے؟ حضرت شوذب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے میں بھی لڑنا چاہتا ہوں اور اُن پر اپنی جان فدا کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت عابس بن شعیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے تم سے یہی اُمید تھی ۔ پھر جب اپنی جان اُن پر فدا کرنا ہی ہے تو آؤ میں تمہیں حضرت ابو عبد اللہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) رضی اللہ عنہ کے سامنے رخصت کروں ۔ اگر اس وقت تجھ سے بھی بڑھ کر میرا کوئی رشتہ دار ہوتا تو میری یہی خوشی تھی کہ میں اُسے رخصت کرتا ۔ آج کا دن وہ دن ہے کہ جتنا ہم سے ہو سکے ہم ثواب لوٹ لیں ۔ بس آج کے بعد عمل خیر کا موقع نہیں ہے بلکہ حساب کا دن آنے والا ہے ۔ حضرت شوذب رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کر کے لڑنے کے لئے آگے بڑھے اور کئی دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ حضرت عابس بن شبیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” اے ابوعبداللہ رضی اللہعنہا اللہ کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اس روئے زمین پر مجھے کوئی عزیز نہیں ہے۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جان فدا کرنے اور اپنا خون بہا دینے سے بڑھ کر بھی کوئی ایسی بات ہوتی جس سے میں آپ رضی اللہ عنہ کو اس مصیبت سے بچا سکتا تو میں وہ بھی کر گزرتا ۔ السلام علیکم یا ابوعبداللہ رضی اللہ عنہ! میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہدایت پر ہیں ۔یہ فرما کر وہ تلوار کھینچے ہوئے دشمنوں کی طرف چلے ۔ اُن کی پیشانی پر زخم کا نشان تھا۔ ربیع بن تمیم نے اُن کو آتے دیکھ کر پہچان لیا کیونکہ وہ انہیں اور بھی کئی معرکوں میں دیکھ چکا تھا اور جانتا تھا کہ یہ بہت بہادر ہیں۔ ربیع بن تمیم نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ شخص میدان جنگ کا شیر ہے۔ یہ عابس بن شبیب ہے اور تم میں سے کوئی ایک شخص اس سے لڑنے کے لئے ہر گز نہ جائے۔ حضرت عابس بن شبیب رضی اللہ عنہ نے میدان میں آکر دشمنوں کو پکارا : " کیا ایک کے مقابلے میں کوئی ایک بھی نہیں نکلے گا ؟ عمر بن سعد نے کہا: ” دور سے پتھر مار مار کر اس شخص کو زخموں سے چور چور کر دو ۔ دشمنوں نے چاروں طرف سے آپ رضی اللہ عنہ پر پتھر برسانے شروع کر دیئے۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ نے زرہ اور مغر کو اتار ڈالا اور تلوار لیکر ان لوگوں پر حملہ کیا۔ ربیع کہتا ہے : اللہ کی قسم ! ہم دوسو سے زیادہ آدمی تھے لیکن جب انہوں نے ہم پر حملہ کیا تو ہم سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر پلٹ کر اُن پر ہر طرف سے حملہ کر دیا۔ وہ بہت بہادری سے ہم سے مقابلہ کرتے رہے اور ہم میں سے کئی لوگوں کوقتل کر دیا لیکن ہم اتنے زیادہ تھے کہ انہیں گھیر کر شہید کر دیا ۔


حضرت یزید بن مہاجر زیا درضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر اُن کے ساتھی مسلسل اپنی جان فدا کر رہے تھے۔ ان میں حضرت یزید بن زیاد رضی اللہ عنہ بھی ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اطراف اُن کے ساتھی شہید ہو گئے ہیں تو خود ان کے آگے آکر سینہ سپر ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: بنو بہدلہ کے حضرت ابو شعنا یزید بن زیاد درضی اللہ عنہ اُس وقت تک دشمنوں پر تیر چلا رہے تھے۔ یہ عمر بن سعد کے ساتھ لشکر میں تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ عمر بن سعد آپ رضی اللہ عنہ کی کسی بات کو نہیں مان رہا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ آ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مل گئے اور اُن کی طرف سے اہل کوفہ کے لشکر کے خلاف لڑے۔ اب وہ آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے آگے دوزانو ہو کر کھڑے ہو گئے اور دشمنوں پر تیر چلانا شروع کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے لگ بھگ سو تیر چلائے جس میں سے صرف پانچ ہی خطا ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ تیر چلاتے جا رہے تھے اور یہ فرماتے جا رہے تھے : ” میرا نام یزید ہے، میرے والد محترم کا نام مہاجر ہے۔ میں شیر بیشہ شجاعت ہوں ، اے اللہ ! میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا ناصر ہوں اور عمر بن سعد کا ساتھ میں نے چھوڑ دیا ہے ۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کے پاس تیر ختم ہو گئے تو تلوار لیکر دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور زبردست بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں