منگل، 3 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 18

 18 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 18

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں، تم لوگوں نے ہی مجھے بلایا ہے، حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا، تم نے حضرت موسیٰ کے مرد مومن کی طرح اپنی قوم کی خیر خواہی کی، حربن یزید کی کشمکش اور صحیح فیصلہ، حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی تو بہ، حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کا سمجھانا اور حجت قائم کرنا، عمر بن سعد کا تیر اور حضرت عبداللہ بن عمیر، 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے دشمنوں کو سمجھا رہے تھے اور اُن پر حجت قائم کر رہے تھے تا کہ کل قیامت کے دن وہ یہ نہ کہ کیں کہ اگر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ہمیں سمجھاتے تو ہم مان جاتے لیکن انہوں نے ہمیں سمجھایا ہی نہیں ہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب اہل وعیال کے رونے کی آواز بند ہو گئی تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی اور اُس کی شان کے لائق اُس کا ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، انبیائے کرام علیہم السلام اور فرشتوں پر درود وسلام بھیجا۔ حمد ونعت کو آپ رضی اللہ عنہ نے اتنی تفصیل سے بیان کیا کہ طوالت کے خوف سے یہاں ذکر نہیں کر رہے ہیں ۔ راوی کہتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایسی فصیح و بلیغ تقریر کی جیسی اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی اور نہ اس کے بعد کبھی سنی ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے خاندان کا خیال کرو کہ میں کون ہوں؟ پھر اپنے دل سے پوچھو اور غور کرو کہ مجھے شہید کرنا اور میری ہتک حرمت کرنا کیا تم لوگوں کے لئے حلال ہے؟ کیا میں رسول اللہ صلی اللہصلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ نہیں ہوں ؟ کیا میں اُن کے وصی اور اُن کے چازاد بھائی کا بیٹا نہیں ہوں جو سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو احکام لیکر آئے انہوں نے تصدیق کی۔ کیا سید شہدا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ میرے والد محترم کے چانہیں ہیں؟ کیا حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ شہید ذوالجناحین میرے چانہیں ہیں؟ کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور میرے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: یہ دونوں جنت کے نو جوانوں کے سردار ہیں ۔ جو کچھ میں تم سے کہ رہا ہوں ، یہ حق بات ہے اگر تم میری تصدیق کرو گے تو سُن لو! اللہ کی قسم جب سے مجھے اس بات کا علم ہوا ہے کہ جھوٹ بولنے والے سے اللہ بیزار ہو جاتا ہے اور جھوٹ بنانے والے کو اُس کے جھوٹ سے ضرور پہنچاتا ہے۔ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ہے۔ اگر تم مجھے جھوٹا سمجھ رہے ہو تو سنو تم میں ایسے لوگ ابھی بھی موجود ہیں اُن سے جا کر پوچھو تو وہ بیان کریں گے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ۔ یہ سب حضرات رضی اللہ عنہم تمہارے درمیان ابھی بھی ہیں۔ جاؤ! اور جا کر اُن سے پوچھو! وہ سب لوگ بیان کریں گے کہ انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کہتے سنا ہے؟ کیا یہ امر (یعنی اہم بات ) بھی میرا خون بہانے میں تم لوگوں کو مانع نہیں ہے؟ 


میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ دشمنوں کو سمجھا رہے تھے اور حجت قائم کر رہے تھے لیکن وہ بد بخت اپنی دنیا بنانے کی فکر میں اپنی آخرت برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بات سن کر شمر بن ذی جوشن نے کہا: ”یہ اللہ کی عبادت ایک ہی رُخ سے کرتے ہیں۔ اللہ جانے کیا کہہ رہے ہیں؟ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں سمجھتا ہوں کہ تو اللہ عبادت ستر رخ سے کرتا ہے۔ بے شک تو سچ کہہ رہا ہے تیری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کیا فرمارہے ہیں؟ بے شک اللہ نے تیرے دل پر مہر لگا دی ہے ۔ اس کے بعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں سے فرمایا: ”تمہیں اس بات میں اگر شک ہے تو کیا اس امر میں بھی شک ہے کہ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں ؟ اللہ کی قسم اس وقت مشرق سے لیکر مغرب تک میرے سوا کوئی شخص تم میں سے ہو یا تمہارے سوا ہو کسی نبی کا نواسہ نہیں ہے اور میں تو خاص تمہارے اور سب کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کا نواسہ ہوں ۔ یہ تو بتاؤ! کیا تم مجھے اس لئے شہید کرنا چاہتے ہو کہ میں نے تم میں سے کسی کوقتل کیا ہو؟ یا تمہارے کسی مال کو ہڑپ کر لیا ہو؟ یا میں نے کسی کو زخمی کیا ہو؟ اور تم مجھ سے اس کا قصاص چاہتے ہو۔ یہ سن کر کسی نے آپ رضی اللہ عنہ کوکوئی جواب نہیں دیا۔


تم لوگوں نے ہی مجھے بلایا ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ انہیں سمجھا رہے تھے اور اُن سے پوچھ رہے تھے کہ آخر تم لوگ مجھے شہید کیوں کرنا چاہتے ہو؟ اُن لوگوں سے کوئی جواب نہیں بن پڑرہا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”اے شبت بن ربعی ! اے تجار بن جبرا اے قیس بن اشعث ! اے یزید بن حارث اتم لوگوں نے مجھے خطوط نہیں لکھے کہ میوے پک گئے ہیں، باغ سرسبز ہور ہے ہیں، تالاب چھلک رہے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نصرت کے لئے لشکر لیکر یہاں آجائیے ۔ اُن لوگوں نے جواب دیا : ”ہم نے نہیں لکھا تھا“۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” نہیں اللہ کی قسم اتم نے ہی لکھا تھا۔ اے لوگو! اگر میرا یہاں آنا تمہیں ناگوار گذرا ہو تو مجھے دنیا کے کسی بھی گوشتہ امن کی طرف چلا جانے دو ۔ قیس بن اشعث نے کہا: ” آپ (رضی اللہ عنہ ) اپنے قربت داروں کے حکم پر سرکیوں نہیں جھکا دیتے ؟ یہ سب آپ (رضی اللہ عنہ ) سے اُسی طرح پیش آئیں گے جیسا آپ (رضی اللہ عنہ ) چاہتے ہیں۔ ان کی طرف سے کوئی ایسا کام نہیں ہوگا جس کی وجہ سے آپ (رضی اللہ عنہ ) کو ناگواری ہو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " آخر تو محمد بن اشعث کا بھائی ہے اور اب تو چاہتا ہے کہ جس طرح حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے تیرے بھائی کی امان پر بھروسہ کر کے دھوکا کھایا تھا میں بھی تجھ پر اعتبار کر کے دھو کہ کھاؤں اور حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے خون سے بڑھ کر بنو ہاشم کی طرف سے تجھ سے مطالبہ ہو۔ اللہ کی قسم ! میں ذلت کے ساتھ تم لوگوں کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والا نہیں ہوں اور نہ ہی غلاموں کی طرح اطاعت کا اقرار کرنے والا ہوں ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ترجمہ " اے اللہ کے بندو! میں اپنے اور تمہارے رب (پروردگار ) سے اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو۔ میں اپنے اور تمہارے رب (پروردگار ) سے ہر ایسے ظالم سے پناہ مانگتا ہوں پناہ مانگتا ہوں جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا ہے ۔ اتنا فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ کو بٹھا دیا اور حضرت عقبہ بن سمعان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس اونٹ کو باندھ دو۔


حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنی جگہ واپس آگئے تو حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہیں سمجھانے لگے اور حجت قائم کرنے لگے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ ایک تیار گھوڑے پر سوار ہتھیار لگائے آگے بڑھے اور دشمنوں سے فرمایا: "اے اہل کوفہ ! اللہ کے عذاب سے ڈرو! اللہ کے عذاب سے۔ سنو! ہر مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی کرنا واجب ہے ۔ ہمارے اور تمہارے درمیان جب تک تلوار نہیں آئے گی تب تک ہم اور تم بھائی بھائی ہیں، ایک ہی دین اور ایک ہی ملت پر ہیں اور ہماری خیر خواہی کے تم لائق ہو ۔ ہاں جب تلوار ہمارے درمیان میں آجائے گی تب مروت منقطع ہو جائے گی ۔ سنو! اللہ تعالیٰ نے ہمیں اور تمہیں اپنے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت کے باب میں آزمائش کے مرحلے میں ڈالا ہے تا کہ اللہ دیکھ لے کہ ہم کیا کرتے ہیں اور تم کیا کرتے ہو؟ ۔ ہم لوگ تم سب لوگوں کو اس امر کی طرف بلاتے ہیں کہ زیاد کے مردود بیٹے عبید اللہ بن زیاد کا ساتھ چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت کی نصرت کرو ۔ کل تم اُن دونوں یزید اور عبید اللہ) کے عہد میں برائی کے سوا کچھ نہیں دیکھو گے۔ یہ تم لوگوں کی آنکھیں نکلوالیتے ہیں، ہاتھ کٹوالتے ہیں، پاؤں قطع کرتے ہیں، گوش بینی و سرکاٹ لیتے ہیں۔ تمہاری لاشوں کو ٹنڈ درختوں پر یہ لٹکا دیتے ہیں تمہارے بزرگوں کو تمہارے قاریوں کو حضرت حجر بن عدی کو اور اُن کے ساتھیوں کو اور ہانی بن عروہ کو اُن جیسے لوگوں کو یہ قتل کرتے ہیں۔


تم نے حضرت موسیٰ کے مرد مومن کی طرح اپنی قوم کی خیر خواہی کی


یہ سن کر دشمنوں نے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کو سخت کلمے کہے اور عبید اللہ بن زیاد کی ثنا کی اور اُسے دعا دی اور کہا: ” جب تک ہم لوگ تمہارے سردار اور اُن کے ساتھیوں کوقتل نہیں کرلیں گے یا جب تک اُن کو اور اُن کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے امیر عبید اللہ بن زیاد کے پاس بھیج نہیں لیں گے تب تک ہم یہاں سے قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گئے ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے کی اولا د شمیہ کے بیٹے (عبد اللہ کے باپ زیاد کے باپ کا نام کسی کو نہیں معلوم تھا اس لئے اُسے اُس کی ماں سمیہ کے نام سے نمیہ کا بیٹا کہتے تھے ) سے زیادہ نصرت اور مودت کا حق رکھتی ہے۔ اگر تم اُن کی نصرت نہیں کرتے ہوتو اللہ کے واسطے اُن کے قتل سے باز آجاؤ۔ اُن کو اُن کے چازاد یزید کی رائے پر چھوڑ دو۔ میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ یزید تمہاری اطاعت گزاری سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوشہید کئے بغیر راضی رہے گا۔ یہ سن کر شمر بن ذی جوشن نے ایک تیر حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کی طرف مار کر کہا: ” خاموش ! اللہ تیری بک بک کو ہمیشہ کے لئے خاموش کر دے تو نے ہم لوگوں کا دماغ پریشان کر دیا ہے۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اس باپ کے بیٹے جس کا پیشاب ایڑیوں تک بہ کر آتا تھا! میں تجھ سے خطاب نہیں کر رہا ہوں۔ تو تو ڈھور ہے۔ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ تو اللہ کی کتاب کی دو آیات کو سمجھ نہیں سکتا ہے۔ لے ! قیامت کی رسوائی اور عذاب الیم تجھے مبارک ہو ۔ شمر بن ذی جوشن نے کہا: ”اللہ تجھ کو اور تیرے سردار کو ابھی قتل کرے گا ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " تو مجھے موت سے ڈراتا ہے۔ اللہ کی قسم ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مرجان تم لوگوں کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہنے سے زیادہ بہتر سمجھتا ہوں“۔ اتنا فرمانے کے بعد حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے با آواز بلند سب لوگوں سے خطاب کر کے فرمایا: اے اللہ کے بندو! اس سفلہ پاچی کی باتوں پر اپنے دین سے نہیں پھر جانا۔ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اُن لوگوں کو نہیں ملے گی جنہوں نے اُن کی ذریت کا خون بہایا ہوگا اور ان کی نصرت کرنے والوں اور اُن کے اہل بیت کے بچانے والوں کوقتل کیا ہوگا ۔ اسی دوران میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک شخص نے بلند آواز سے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ سے کہا: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تم سے فرمارہے ہیں کہ اب واپس چلے آؤ اور فرمارہے ہیں کہ میری جان کی قسم ! اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کے آل فرعون کے ”مرد مومن نے اپنی قوم کی خیر خواہی کی تھی اور انہیں حق کی طرف بلانے میں انتہا کر دی تھی تو تم نے بھی ان لوگوں کی خیر خواہی کی انتہا کر دی ۔ کاش! تمہاری خیر خواہی اور انتہا کی کوشش انہیں فائدہ پہنچاتی“۔


حربن یزید کی کشمکش اور صحیح فیصلہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کے سمجھانے کا کوئی اثر عمر بن سعد پر نہیں ہوا اور اُس نے حملے کی تیاری شروع کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب عمر بن سعد حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھنے لگا تو حر بن یزید نے پوچھا اللہ تیرا بھلا کرے! تو اُن سے لڑے گا؟ عمر بن سعد نے کہا: ”ہاں! اللہ کی قسم ! لڑوں گا اور لڑنا بھی ایسا لڑنا ہو گا جس میں کم سے کم سر اڑیں گے اور ہاتھ قلم ہونگے ۔ حربن یزید نے کہا: ” کیا اُن کی باتوں میں سے کسی ایک بات کو بھی تم لوگ نہیں مانو گے؟ عمر بن سعد نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میرا اختیار ہوتا تو میں اُن کی بات مان لیتا لیکن تیرا امر عبد اللہ بن زیاد سے نہیں مان رہا ہے ۔ یہ سن کر حر بن یزید ایک طرف ہو گیا اور اپنی برادری کے ایک شخص قرہ بن قیس سے بولا : " قرہ تم آج اپنے گھوڑے کو پانی پلا چکے ہو؟ اس نے کہا: نہیں میں نے ابھی تک پانی نہیں پلایا ہے ۔ قرہ کہتا ہے: "مجھے یہ گمان ہوا کہ یہ کنارہ کرنا چاہتا ہے اور جنگ میں شریک نہیں ہوگا اور چاہتا ہے کہ میں اس بات سے بے خبر رہوں اور اسے مجھ سے ڈر ہے کہ کہیں میں اس کا راز فاش نہ کر دوں ۔ اس خیال سے میں نے کہا: ”ہاں ! ابھی تک گھوڑے کو میں نے پانی نہیں پلایا ہے، ابھی جا کر پلاتا ہوں “۔ یہ کہ میں وہاں سے سرک گیا۔ اگر حر بن یزید نے مجھے اپنے ارادے سے مطلع کیا ہوتا تو اللہ کی قسم ! میں بھی اُس کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلا جاتا۔ اب حربن یزید نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ اُس کی برادری کے ایک شخص مہاجر بن اوس نے اُسے آگے بڑھتے دیکھا تو بولا: "اے حربن یزید! تمہارا کیا ارادہ ہے؟ کیا تم حملہ کرنا چاہتے ہو؟“ حر بن یزید یہ سن کر خاموش رہا اور اُس کے ہاتھ اور پاؤں میں تھر تھری کی پیدا ہوگئی۔ یہ دیکھ کر مہاجر بن اوس نے کہا: اللہ کی قسم تمہارا یہ حال دیکھ کر مجھے شبہ ہورہا ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے کسی مقام پر تمہاری ایسی حالت نہیں دیکھی جیسی ابھی دیکھ رہا ہوں۔ مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ اہل کوفہ میں سب سے بڑھ کر کون بہادر اور جری ہے؟ تو میں تمہارا ہی نام لوں گا۔ پھر میں تمہاری یہ کیا حالت دیکھ رہا ہوں؟ حربن یزید نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! میں اپنے دل سے پوچھ رہا ہوں کہ جہنم میں جانا چاہتا ہے یا جنت میں جانا چاہتا ہے اور اللہ کی قسم ! اگر میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں اور میں زندہ جلا دیا جاؤں تب بھی میں جنت کو نہیں چھوڑوں گا“۔ یہ کہہ کر حر بن یزید نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اُسے تیزی سے دوڑاتا ہوا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جا پہنچا۔


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی تو بہ


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ تیزی سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے اور توبہ کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے آل رسول رضی اللہ عنہ میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ! میں وہی شخص ہوں جس نے آپ رضی اللہ عنہ کو واپس نہیں جانے دیا اور جو راستہ بھر آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ پھرا کیا ۔ جس نے آپ رضی اللہ عنہ کو اس جگہ پر ٹھہرنے پر مجبور کیا، قسم ہے اللہ وحدہ لاشریک کی! میں ہرگز یہ نہیں سمجھا تھا کہ جتنی باتیں آپ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے سامنے پیش کریں گے، یہ اُن میں سے کسی امر کو نہیں مانیں گے اور نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی ۔ میں تو دل میں یہ سوچے ہوئے تھا کہ بعض باتوں میں ان کی اطاعت کروں گا تو کوئی مضائقہ نہیں ہے اور یہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں نے ان کی اطاعت سے انحراف کیا ہے۔ بہت ہوگا تو یہی ہوگا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جن باتوں کو پیش کریں گے یہ اُن باتوں کو مان لیں گے۔ اللہ کی قسم ! اگر میں یہ جانتا ہوتا کہ یہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی کسی بات کو قبول نہیں کریں گے میں اس امر کا ( آپ رضی اللہ عنہ کو روکنے کا ) مرتکب نہیں ہوتا۔ مجھ سے جو قصور سرزد ہو گیا ہے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اُس قصور کی توبہ کرنے اور اپنی جان آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت میں فدا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے جان دینے کا عزم مصمم کر لیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ مجھے یہ بتائیں کہ کیا اللہ تعالیٰ اس طرح میری توبہ قبول فرمائے گا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں! اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: "میرا نام حربن یزید ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "حر ( آزاد ) تم آزاد ہو، تمہاری والدہ نے جس طرح تمہارا نام آزاد رکھا ہے، ان شاء اللہ تم دنیا اور آخرت میں آزاد ہو۔ اب گھوڑے سے اترو ۔ حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” اے آل رسول رضی اللہ عنہ! میرا گھوڑے پر رہنا اُترنے سے بہتر ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ان لوگوں سے مسلسل جنگ کرتا رہوں اور جب میرا آخری وقت آئے تو تب میں گھوڑے سے اتروں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اچھا! جو تمہارا دل چاہے وہی کرو اللہ تمہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھئے۔


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کا سمجھانا اور حجت قائم کرنا


حضرت حسین علی رضی اللہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے بعد حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کے لشکر کے سامنے آئے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی اور اُن پر حجت قائم کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ یمن کر اہل کوفہ کے لشکر کی طرف بڑھے اور فرمایا: "اے لوگو ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جو باتیں پیش کیں ہیں اُن میں سے کسی بات کو تم کیوں نہیں مان رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے ساتھ جنگ و جدال سے بچالے؟ اہل کوفہ کے لشکریوں نے کہا: ” ہمارا امیر (سپہ سالار ) عمر بن سعد موجود ہے اُس سے گفتگو کرو۔ حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر وہی گفتگو عمر بن سعد سے پھر کی جو پہلے کر چکے تھے اور جو گفتگو اہل کوفہ سے کی تھی ۔ عمر بن سعد نے کہا: "میری خواہش بھی یہی تھی اگر ہوسکتا تو میں یہی کرتا “۔ اب حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی طرف خطاب کر کے فرمایا : اللہ تم کو ہلاک اور تباہ کرے کہ تم نے انہیں یہاں بلایا اور جب یہ یہاں چلے آئے تو انہیں دشمنوں کے حوالے کر دیا۔ تم کہتے تھے کہ ان پر اپنی جان نثار کریں گے اور اب انہیں شہید کرنے کے لئے حملہ کرنے جارہے ہو۔ ان کو تم نے گرفتار کر لیا، ان کا پانی بند کر دیا ، ان کو چہار جانب سے گھیر لیا اور ان کو اللہ کی بنائی ہوئی وسیع و عریض زمین میں کسی طرف نکل جانے نہیں دیا کہ وہ اور اُن کے اہل بیت امن سے رہتے۔ اب وہ ایک قیدی کی طرح تمہارے ہاتھ آگئے ہیں، اپنے نفس کے لئے اچھا یا برا کچھ نہیں کر سکتے تم نے ان کو ، ان کے اہل بیت کو ، ان کے بچوں کو اور ان کے ساتھیوں کو دریائے فرات کے بہتے ہوئے پانی سے روکا ہے۔ دریائے فرات کا پانی جسے یہودی، مجوسی اور نصرانی پیا کرتے ہیں اور اس میدان کے خنزیر اور کتے اس میں لوٹا کرتے ہیں لیکن تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کو پانی لینے سے روک دیا ہے۔ اب پیاس کی شدت نے ان سب لوگوں کو ہلاک کر رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے ساتھ اُن کے بعد تم نے کیا برا سلوک کیا ہے۔ اگر آج کے دن اسی وقت تم اپنے ارادے سے باز نہ آجاؤ اور تم تو بہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں میدان حشر کی تشنگی میں سیراب نہ کرے۔


عمر بن سعد کا تیر اور حضرت عبداللہ بن عمیر


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ دشمنوں کو سمجھارہے تھے لیکن وہ نہیں مانے اور عمر بن سعد نے جنگ کی شروعات کر دی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اس کے بعد عمر بن سعد آگے بڑھا اور کمان سے تیر جوڑ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف مارکر بولا : ”لوگو! گواہ رہنا! سب سے پہلے میں نے ہی تیر چلایا ہے ۔ یہ سن کر لشکریوں نے بھی ایک باڑھ تیر کی چلائی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ سن کر پیادوں کے لشکر نے حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔ وہ وہاں سے پلٹے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔ عمرو بن سعد لڑنے کے لئے نکلا اور پکار کا کہا: "اے ذوید ! نشان کو بڑھا“۔ اس کے بعد عمر بن سعد نے تیر کمان میں جوڑا اور کہا: ” تم سب گواہ رہنا کہ سب سے پہلے میں نے تیر مارا ہے ۔ قبیلہ بنوکلب کی شاخ بو علیم سے ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ ایک یا دو دن پہلے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے میں آکر شامل ہوئے تھے۔ وہ قبیلہ ہمدان میں جعد کے کنویں کے پاس اپنے گھر والوں کے ساتھ قیام پذیر تھے ۔ اُن کی بیوی اُم وہب خاندان نمر بن فاسط کی اُن کے ساتھ تھیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ نے مقام نخیلہ میں دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر لشکر کشی کرنے والے لشکر کا سامان رسد جارہا ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا: "یہ کیا ماجرا ہے؟ کسی نے کہا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آل حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر لشکر نے حملہ کیا ہے یہ اس کا سامان رسد ہے“۔ حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کی مدت سے آرزو تھی کی مشرکین سے جہاد کریں۔ خیال آیا کہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے پر جولوگ لشکر کشی کر رہے ہیں اُن سے جہاد کرنا بھی اللہ کی طرف سے جہاد مشرکین کے ثواب سے کم نہیں ہے۔ یہ سوچ کر اپنی بیوی ام و ہب کے پاس آئے اور انہیں ساری بات بتائی تو انہوں نے فرمایا: ” کیا اچھی بات آپ نے کہی ہے۔ اللہ آپ کی بہترین تمنا پوری کرے۔ چلو اور مجھے بھی ساتھ لیتے چلو “ حضرت عبد اللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ راتوں رات اپنی بیوی کو لئے ہوئے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے میں آگئے اور وہیں قیام پذیر ہو گئے۔ جب عمر بن سعد نے قریب آکر تیر مارا تو زیاد بن سمیہ یا ابوسفیان کا آزاد کردہ غلام بیار اور عبید اللہ بن زیاد کا آزاد کردہ غلام سالم یہ دونوں صفوں سے باہر نکلے اور مقابلے کے لئے آواز لگائی۔ یہ سن کر حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ اور حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، مگر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔ یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عرض کی : ”اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آل رضی اللہ عنہ مجھے ان دونوں سے لڑنے کی اجازت دیں“۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں