جمعرات، 5 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 15


 15 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 15

طرماح بن عدی مدد نہیں کر سکا، ہم حق پر ہیں، عبید اللہ بن زیاد کا حکم، تیرا امام جہنم میں لے جائے گا، میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا، عقر ( کربلا ) میں قیام، عمر بن سعد کا انکار کرنے کے بعد اقرار، عمر و یا عمر بن سعد کا قاصد، دوسرا قاصد، یزید کی بیعت کرنے کا کہو، 

طرماح بن عدی مدد نہیں کر سکا

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے طرماح بن عدی کا شکر یہ ادا کیا اور فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا۔ طرماح بن عدی نے عرض کیا کہ میں اپنے گھر والوں کے لئے راشن لے کر جارہا تھا وہ انہیں دے کر آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں اور پھر چاہے جو ہو میں آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: طرماح بن عدی نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: " اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو تمام عالم کے جن وانس کے شرسے بچائے۔ میں کوفہ سے کچھ غلہ وغیرہ اپنے اہل وعیال کے لئے لیکر چلا ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ اجازت دیں تو یہ سامان اور خرچ کے لئے کچھ دے دوں اور وہاں جا کر یہ سب چیزیں انہیں دے کر انشاء اللہ جلد ہی واپس آؤں گا اور اللہ کی قسم! میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کے انصار میں شامل ہو جاؤں گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " رحمک اللہ ! اگر تیرا یہی ارادہ ہے تو جلدی کر طرماح بن عدی کہتے ہیں: ” اس سے معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ اس امر میں لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوں جب ہی تو مجھے جلدی کرنے کو فرمایا ۔ میں اپنے اہل و عیال میں پہنچا اور جن چیزوں کی انہیں ضرورت تھی وہ اُن کو دے کر میں نے وصیت کی۔ سب کہنے لگے : ” اس مرتبہ اس طرح رخصت ہو رہے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ میں نے اپنے ارادے سے انہیں مطلع کیا اور بنو شعول کے راستے سے روانہ ہوا۔ عذیب الہجانات تک ہی پہنچا تھا کہ سماعہ بن بدر نے بتایا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے ۔ یہ سن کر میں واپس آگیا۔


ہم حق پر ہیں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سفر جاری تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ قصر بنو مقاتل میں قیام پذیر ہوئے پھر آگے روانہ ہو گئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ایک ساعت بھر چلے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ ذرا اونگھ گئے پھر چونک کر انا للہ وانا الیہ راجعون والحمد اللہ رب العالمین فرمایا اور یہ کلمہ آپ رضی اللہ عنہ نے دو یا تین مرتبہ کہا۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ گھوڑا بڑھا کر آگے آئے اور عرض کیا: ابو جان ! میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ نے یہ کلمہ کیوں فرمایا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے ذرا میری آنکھ جھپک گئی تھی تو میں ایک سوار کو اپنے گھوڑے پر دیکھا۔ اُس نے کہا: یہ لوگ تو چلے جارہے ہیں اور موت ان کی طرف آرہی ہے۔ اس سے میں سمجھ گیا کہ ہمیں خبر مرگ سنائی گئی ہے۔ بیٹے نے عرض کیا: "ابو جان ! اللہ تعالی آپ رضی اللہ عنہ کو ہر بلا سے محفوظ رکھے کیا ہم لوگ حق پر نہیں ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اُس اللہ کی جس کے پاس سب کو لوٹ کر جانا ہے ہم حق پر ہیں ۔ “ حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” پھر ہمیں کچھ پرواہ نہیں ہے۔ مریں گے تو حق پر مریں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” جزاک اللہ ! والد کی طرف سے فرزند کو جو بہترین جزامل سکتی ہے وہ تم کو ملے ۔“


عبید اللہ بن زیاد کا حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سفر کر رہے تھے اور حر بن یزید اپنے لشکر کے ساتھ اُن کے آس پاس ہی چل رہا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حر بن یزید جب آپ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کی طرف جانے کے لئے مجبور کرتا تو آپ رضی اللہ عنہ نہیں مانتے تھے اور آگے بڑھ جاتے تھے یہاں تک کہ مقام نینوا میں پہنچے تو وہیں پر قیام پذیر ہو گئے ۔ اتنے میں ایک سانڈنی (اونٹ) سوار ہتھیار لگائے کمان شانہ پر ڈالے کوفہ کی طرف سے آتا دکھائی دیا۔ سب کے سب اُس کے انتظار میں ٹھہر گئے۔ وہ آیا اور حربن یزید اور اُس کے لشکر کو سلام کیا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کو سلام نہیں کیا۔ حربن یزید کو عبید اللہ بن زیاد کا خط دیا۔ اُس میں لکھا تھا: ”میرا قاصد اور میرا خط جب تمہیں ملے تو (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کو بہت تنگ کرنا ۔ اُن کو ایسی جگہ پڑاؤ ڈالنے دینا جہاں چٹیل میدان ہو اور کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہو اور پانی بھی نہیں ہو۔ دیکھو قاصد کو میں نے حکم دے دیا ہے کہ وہ تم پر نگران رہے تمہارا ساتھ نہ چھوڑے جب تک کہ میرے پاس ہ خبر نہ لیکر آئے کہ تم نے میرے حکم کو پورا کر دیا ہے۔ والسلام - حربن یزید نے خط پڑھ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں سے کہا: یہ خط گورنر عبید اللہ بن زیاد کا ہے ۔ مجھے حکم دیا ہے کہ جس مقام پر مجھے یہ خط لے و ہیں تم لوگوں کو بہت تنگ کروں اور دیکھو شخص قاصد ہے اس کو حکم ہے کہ میرے پاس سے اُس وقت تک نہ ہے جب تک یہ نہ دیکھ لے کہ میں نے امیر ( گورنر ) کی رائے پر عمل کر لیا اور اُس کے حکم کو جاری کر دیا ہے۔“


تیرا امام جہنم میں لے جائے گا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوحر بن یزید نے وہیں روک لیا اور اپنے گورنر عبید اللہ بن زیاد کا فرمان سنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہ سن کر قاصد کی طرف بنو کندہ کے حضرت ابو شعنا یزید بن مہاجر آگے بڑھے اور قاصد کو دیکھ کر کہا: ” کیا تم بنوکندہ کے مالک بن نسیر ہو؟“ اس نے کہا: ہاں! میں وہی ہوں ۔ " ابو شعراء نے کہا: ”تیرابر ہو تو کیا پیغام لیکر آیا ہے؟“ قاصد نے کہا: ” جو پیغام میں لایا ہوں اُس میں اپنے امام کی میں نے اطاعت کی ہے اور اپنی بیعت کو پورا کیا ہے ۔ ابو شعراء نے کہا: تو نے اپنے اللہ کی نافرمانی کی ہے اور اپنے امام کی اطاعت کر کے خود کو ہلاک کیا ہے ۔ تو نے اپنے عارو نار کو اختیار کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (ترجمہ) ہم نے کچھ امام ان میں پیدا کر دیئے ہیں جو کہ جہنم میں لے جانے کو پکارتے ہیں۔ قیامت کے روزان کی مدد نہیں کی جائے گی ۔ بس ایسا ہی تیرا امام بھی ہے۔“


میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر ایک کھلے میدان میں پڑاؤ ڈالنے کے لئے حربن یزید مجبور کرنے لگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب حربن یزید نے سب لوگوں کو اُس جگہ پڑاؤ ڈالنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا جہاں پانی نہیں تھا اور کوئی بستی بھی نہیں تھی ۔ اُن لوگوں نے کہا: ” ہمیں نینوا میں یا غاضریہ میں شفیہ میں پڑاؤ ڈالنے دو حربن یزید نے کہا: اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کر سکتا۔ دیکھو یہ شخص جاسوسی کرنے کے لئے میرے پاس بھیجا گیا ہے ۔ اُس وقت حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! ہمیں اس وقت ان لوگوں سے لڑلینا آسان ہے بہ نسبت اُن لوگوں کے جو ان کے بعد لڑنے کے لئے آئیں گے ۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان کے بعد اتنے لوگ ہم سے لڑنے کے لئے آئیں گے جن کا ہم مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں ۔“ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ”اچھا اس قریہ میں چلیئے ، ہم سب وہیں قیام کریں گے وہ مقام محفوظ بھی ہے اور دریائے فرات کے کنارے بھی ہے ۔ یہ لوگ ہمیں وہاں جانے سے روکیں گے تو اس بات پر ہم ان سے لڑیں گے۔ ان سے لڑ لینا اُن لوگوں کے مقابلے میں آسان ہے جو ان کے بعد آنے والے ہیں ۔ “ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حربن یزید نے عبید اللہ بن زیاد کا خط پڑھ کر کہا: یہ خط امیر ( گورنر ) کا آیا ہے۔ جس میں مجھے ہدایت ملی ہے کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو ایک کھلے میدان میں ٹھہراؤں اور تحمیل حکم تک یہ قاصد مجھ سے علیحدہ نہیں ہوگا لہذا آپ رضی اللہ عنہ نینوا سے پڑاؤ اُٹھا کر ایسے میدان میں پڑاؤ ڈالیں جہا نہ سایہ ہو اور نہ پانی ہو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : " ہم کو تم اب زیادہ تکلیف نہ دو اور نینوا میں ہی رہنے دو یا پھر ہمیں غاضریہ مافیہ میں جا کر قیام کرنے دو ۔ حر بن یزید نے کہا: ” میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ عبید اللہ بن زیاد نے مجھ پر اس شخص کو اس کام کی نگرانی کے لئے مقرر کیا ہے ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کی قسم! اس کے بعد جو (لشکر) آئے گا وہ اس سے زیادہ سخت ہو گا۔ اے آل رسول رضی اللہ عنہ! اس وقت ان سے لڑ جانا آسان ہے بہ نسبت اُس (لشکر) کے جو آئندہ آنے والا ہے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا ۔“


عقر ( کربلا ) میں قیام


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جنگ کی ابتدا اپنی طرف سے کرنا مناسب نہیں سمجھا اور حضرت زہیر بن قین کے مشورے کو نہیں مانا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون سا قریہ ہے؟ لوگوں نے بتایا: ” اس کا نام ”عقر ( زخم ) ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ تعالیٰ ! عقر سے مجھ کو بچانا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے وہیں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے دیا۔ یہ دو (2) محرم الحرام 11 ہجری پینج شنبہ کا دن تھا۔ اس کے دوسرے دن صبح عمر ودیا عمر بن سعد ( یہ مشہور صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے اور اس کا عمر دیا عمر ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے عمر ولکھا ہے اور علامہ ابن کثیر اور ابن خلدون نے عمر بن سعد لکھا ہے ) چار ہزار (4000) کا لشکر لیکر کوفہ سے یہاں پہنچا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر عمر بن سعد کے لشکر کشی کرنے کی وجہ یہ ہوئی کہ فرقہ دیلم نے موضع وسشٹمی پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ خبرسن کر عبید اللہ بن زیاد نے ملک ”رنے کا فرمان عمر بن سعد کے نام لکھا ( یعنی اسے وہاں کا گورنر بنا دیا) اور حکم دیا کہ اس طرف روانہ ہو جاؤ۔ عمر بن سعد شکر کو ساتھ لیکر روانہ ہو حمام اعین میں لشکر گاہ مقرر کی۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف متوجہ ہوئے تو عبد اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو بلا بھیجا او حکم دیا کہ پہلے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کی طرف متوجہ ہو۔ ہمارے اور اُن کے درمیان جو معاملہ ہے اُس کا پہلے فیصلہ ہو جائے پھر فرقہ دیلم کی طرف جانا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو رائے دی : ” آپ رضی اللہ عنہ اس قریے میں ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں ۔ وہ ایک محفوظ مقام ہے اور دریائے فرات سے لگ کر ہے ۔ اگر یہ لوگ روکیں گے تو ہم لڑ پڑیں گے اور اس لشکر سے جنگ کرنا آسان ہے بہ نسبت اس لشکر کے جو اس کے بعد آئے گا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اس مقام کا نام دریافت کیا تو بتایا گیا: " کر بلا نام ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” یہ زمین کرب و بلا کی ہے ۔“ 


عمر بن سعد کا انکار کرنے کے بعد اقرار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ طرف لشکر لے کر جانے کا جب عمر بن سعد کو حکم ہوا تو عبد اللہ بن زیاد کے پاس آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد نے کہا: اللہ آپ کا بھلا کرے! اگر مناسب سمجھیں تو مجھے اس کام سے معاف رکھیئے ۔ عبداللہ بن زیاد نے کہا: اس شرط پر کہ رے ( کی گورنری) کا فرمان واپس کر دو ۔ عمر بن سعد نے اس بارے میں غور وفکر کرنے کے لئے ایک دن کی مہلت مانگی۔ وہاں سے واپس آکر اپنے احباب اور رشتہ داروں میں سے جس جس سے مشورہ کیا، اس نے اس حرکت کے کرنے سے منع کیا۔ خود اس کے بھانجے حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ نے اُس سے کہا: "ماموں جان ! اللہ کے واسطے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کرنے کا قصد نہیں کرنا ۔ اس میں اللہ کی معصیت بھی ہے اور قطع رحم بھی ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر تمام روئے زمین کی سلطنت اور تمام دنیا کے مال و دولت سے تم محروم ہو جاؤ تو وہ اس سے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خون سے آلودہ ہو کر تم کو جانا پڑے۔ عمر بن سعد نے کہا: ”انشاء اللہ میں یہی کروں گا۔ اس کے بعد وہ عبد اللہ بن بیمار جمنی کے پاس آیا اور بولا: "امیر ( گورنر ) عبید اللہ بن زیاد نے مجھے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے پر جانے کا حکم دیا ہے اور میں نے انکار کر دیا ہے عبداللہ بن یسار نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تجھے ثواب کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھ کو ہدایت کی توفیق دے ، اس بلا کو ٹال دے اور ایسا کام نہیں کر اور اس کام کے لئے روانہ نہیں ہوتا ۔ عبد اللہ بن بیار یہ کہ کر چلا آیا۔ پھر کسی نے خبر دی کہ عمرو بن سعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر چڑھائی کرنے کے لئے لشکر جمع کر رہا ہے۔ یہ سن کر وہ عمر بن سعد کے پاس گیا تو اُس نے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا عبداللہ بن سیار سمجھ گیا کہ اب اس نے لشکر کشی کا مصم ارادہ کر لیا ہے۔ عمر بن سعد نے عبد اللہ بن زیاد سے کہا تھا: ”اللہ آپ کا بھلا کرے! آپ نے مجھے خدمت کا موقع دیا اور میرے نام ( گورنری) کا فرمان لکھ کر دیا۔ سب نے اسے سنا پھر اب آپ کی رائے ہو تو اس حکم کو نافذ کر دیجیئے اور یہ شکر جو اشراف کو فہ کا ہے اس پر کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیجیئے جس کو کاروائی اور جنگ کے فن سے آگاہی ہو ۔ مجھے اس پر کوئی تفوق نہ ہو مقرر کر کے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ پر بھیج دیجئے ۔ یہ کہہ کر عمر بن سعد نے کوفہ کے کچھ اشراف لوگوں کے نام لئے۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” اشراف کوفہ کے نام تم مجھے کیا بتاتے ہو؟ میں تم سے مشورہ نہیں چاہتا ہوں کہ کس کو مقرر کروں؟ تم اگر لشکر لیکر جاتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میرا ( گورنری کا فرمان واپس کر دو ۔ عمر بن سعد نے جب عبید اللہ بن زیاد کا یہ اصرار دیکھا تو بولا : ٹھیک ہے! میں جاتا ہوں۔“


عمر و یا عمر بن سعد کا قاصد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نینوا کے ایک مقام عقرہ ( کربلا) میں قیام پذیر تھے کہ عمرو بن سعد چار ہزار (4000) کا لشکر لیکر وہاں پہنچ گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد چار ہزار (4000) کا لشکر کے ساتھ نکلا اور جس دن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نینوا میں قیام پذیر ہوئے اُس کے دوسرے دن صبح آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر اپنے لشکر کے ساتھ قیام پذیر ہوگیا۔ پھر اس نے عزرہ بن قیس اسی کو حکم دیا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ وہ یہاں کیوں آئے ہیں؟ عزرہ بن قیس اُن لوگوں میں سے تھا جنہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کوخط لکھ کر بلایا تھا اس لئے اُسے آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے جاتے ہوئے شرم آرہی تھی ۔ عمرو بن سعد نے لشکر کے رئیسوں ( کمانڈروں) سے بھی جنہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو خط لکھے تھے پیام لے جانے کو کہا لیکن سب نے انکار کر دیا۔ یہ دیکھ کر کثیر بن عبداللہ شعمی اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ بڑا دلیر شہسوار تھا اور ہر بات میں نہایت بے باک تھا۔ اُس نے کہا: ” میں (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے پاس جاتا ہوں اور آپ کہیں تو اللہ کی قسم ! اچانک ایک ہی وار میں اُن کا کام تمام کر دوں گا ۔ عمر بن سعد نے کہا: میں یہ نہیں کہتا کہ تم اُن کو اچانک قتل کرو۔ ہاں اُن کے پاس جا کر یہ پوچھو کہ اُن کے آنے کا کیا سبب ہے؟ کثیر بن عبداللہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کی طرف بڑھا۔ حضرت ابو ثمامہ صائدی نے اُسے آتے دیکھ کر عرض کیا : ”اے ابوعبداللہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے اللہ آپ رضی اللہ عنہ کا بھلا کرے ! جو شخص آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آ رہا ہے وہ دنیا بھر کا سفاک اور شریر ہے ۔ یہ کہہ کر حضرت ابو ثمامہ کھڑے ہوئے اور اُس سے کہا: ”اپنی تلوار رکھ دے۔ اُس نے کہا: اللہ کی قسم ! میں ایسا نہیں کروں گا اور اس میں کسی کا لحاظ نہیں کروں گا۔ میں فقط قاصد کی حیثیت سے آیا ہوں۔ تم لوگ میری بات سنو گے تو جو پیام لیکر آیا ہوں پہنچا دوں گا۔ اگر نہیں سنتے تو میں واپس چلا جاؤں گا ۔ حضرت ابو ثمامہ نے کہا: ” میں تیری تلوار کے قبضہ پر ہاتھ رکھے رہوں گا ۔ پھر جو کچھ تجھے کہنا ہو کہ لینا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ بھی نہیں ہوگا اور قبضہ کو ہاتھ نہیں لگانا “ حضرت ابو ثمامہ نے کہا: ” پھر تجھے جو کچھ کہنا ہے یہیں کہہ دے۔ میں جا کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کا دوں گا۔ تو ایک بدکار شخص ہے۔ دونوں میں بحث اور تو تو میں میں ہوئی اور وہ واپس چلا گیا۔ اور عمر بن سعد سے پورا حال بیان کر دیا۔


دوسرا قاصد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے بغیر بات چیت کئے عمر بن سعد کا پہلا قاصد واپس آ گیا تھا۔ اس کے بعد اُس نے دوسرا قاصد بھیجا۔ علامہ محمد جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے اب ورہ بن قیس حنظلی کو بلا کر کہا: " قرہ اتم ذرا ( حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) سے مل کر پوچھو کہ وہ کیوں آئے ہیں اور اُن کا کیا ارادہ ہے؟ قرہ وہاں سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کی طرف چلا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے آتا ہوا دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے پوچھا: ” اس شخص کو جانتے ہو؟ حضرت حبیب بن مظاہر نے عرض کیا: ”ہاں! میں اسے پہچا نتا ہوں ۔ یہ بنو حنظلہ سے ہے اور تمیمی ہے۔ ہماری بہن کا بیٹا ہے ، میں تو اسے خوش عقیدہ سمجھتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ یہ ان لوگوں کے ساتھ آئے گا ۔ اتنے میں قرہ بن قیس آپہنچا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو سلام کیا اور عمر بن سعد کا بیام پہنچا دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: ” تمہارے شہر والوں نے مجھے لکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہاں آجائے ۔ اب اگر میرا آنا انہیں نا گوار ہے تو میں واپس چلا جاؤں گا۔ حضرت حبیب بن مظاہر نے کہا : " قرہ ! کیا تو ان ظالموں میں پھر واپس چلا جائے گا ؟ تجھے چاہیئے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت کرے جن کے بزرگوں کی بدولت اللہ تعالیٰ نے تجھے اور ہمیں کرامت عطا فرمائی ہے ۔ قرہ بن قیس نے کہا میں جس کے ساتھ ہوں اُس کے پیام کا جواب اُسے پہنچانے کو واپس جاؤں گا اور پھر جیسی میری رائے ہوگی وہ کروں گا ۔ یہ کہ کر وہ عمر بن سعد کے پاس گیا اور سب حال بیان کر دیا۔


یزید کی بیعت کرنے کا کہو


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا جواب سن کر عمر بن سعد نے عبید اللہ بن زیاد کو ایک خط لکھا اور اگلا حکم مانگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے کہا: ”امید تو ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اُن سے لڑنے اور اُن کے ساتھ کشت و خون کرنے سے محفوظ رکھے گا ۔ پھر اس نے عبید اللہ بن زیاد کو خط لکھا: ”بسمہ اللہ الرحمن الرحیم جب میں یہاں آکر ( حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے مقابل اتر اتو ایک قاصد کو اُن کے پاس بھیجا اور اُن سے میں یہاں آنے کا سبب پوچھا اور یہ پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں کس چیز کے طلب گار ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس شہر کے لوگوں نے مجھے خط لکھے، میرے پاس اُن کے قاصد آئے اور اس بات کے درخواست گزار ہوئے کہ میں یہاں چلا آؤں۔ میں چلا آیا۔ اب میرا آنا اُن کو ناگوار ہے اور قاصدوں سے جو کچھ انہوں نے کہلا بھیجا تھا اب اُس کے خلاف اُن کی رائے ہو گئی ہے تو میں واپس چلا جاؤں گا۔ عبید اللہ بن زیاد نے اس خط کے جواب میں کہا: ” جب ہمارے پنجہ میں پھنس گئے ہیں تو نکلنا چاہتے ہیں۔ اب تو اُن کے لئے کوئی مفر نہیں ہے۔“ اس کے بعد عمر بن سعد کے خط کا جواب میں خط لکھا: ”بسمہ اللہ الرحمن الرحیم !تمہارا خط ملا ! جو کچھ تم نے لکھا وہ معلوم ہوا ۔ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) سے کہو کہ وہ اپنے اہل وعیال اور ساتھیوں کے ساتھ امیر المومنین یزید کی بیعت کریں۔ اگر انہوں نے بیعت کر لی تو پھر ہم جیسا مناسب سمجھیں گے کریں گے۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں