جمعرات، 5 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 14

 14 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 14

ھ61 ہجری کوفہ کے پہلے لشکر کا سامنا، حر کے لشکر کو پانی پلایا، تم کو میرا آنا ناگوار لگا ہو تو واپس چلا جاؤں، عبید اللہ بن زیاد کے پاس جانے سے انکار، تیسرے مقام کی طرف روانگی، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پھر سمجھایا، حضرت زہیر بن قین کی حق پرستی، حضرت قیس بن مسہر صیدادی کی شہادت کی اطلاع، اب ہم واپس نہیں جاسکتے ہے، 


ھ61 ہجری کوفہ کے پہلے لشکر کا سامنا


ھ60 ہجری کا اختتام ہوا اور 61 ہجری کی شروعات ہوئی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا کوفہ کی جانب سفر جاری تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ بن عقبہ سے آگے بڑھے اور مقام اشراف پر قیام پذیر ہوئے۔ پھر صبح کے وقت وہاں سے روانہ ہوئے اور مسلسل سفر کرتے رہے یہاں تک کہ دو پہر کے وقت قافلے کے آگے والے شخص نے بلند آواز سے اللہ اکبر پکارا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ اکبر فرمایا پھر اس سے دریافت فرمایا کہ تم نے اللہ اکبر" کیوں کہا؟ اُس نے کہا: " مجھے خرمے ( کچی کھجور ) کے درخت دکھائی دے رہے ہیں ۔ یہ سن کر بنو اسد کے دو اشخاص نے کہا: ”ہم تو یہاں سے اکثر گزرتے ہیں لیکن کبھی یہاں خرمے کے درخت دکھائی نہیں دیے ۔ پھر غور سے دیکھنے کے بعد کہا: یہ تو کسی لشکر کا مقدمہ الجیش ( ہر اول ، پہلا رسالہ ) معلوم ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ کیا ہمارے لئے یہاں کوئی ایسی جگہ مل سکتی ہے جس کو پشت پر رکھ کر ہم ان لوگوں سے ایک ہی رخ پر سامنا کریں؟ دونوں شخصوں نے کہا: آپ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں مقام ذ وحسم یا ذو حشم موجود ہے آپ رضی اللہ عنہ بائیں جانب مڑ جائیے ان لوگوں سے پہلے وہاں پہنچ جائیں گے اور جو چیز چاہتے ہیں وہ حاصل ہو جائے گی ۔ آپ رضی اللہ عنہ بائیں جانب مڑے ہی تھے کہ لشکر کے رسالے کے سوار بھی آپہنچے۔ انہوں نے جود دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ راستے کو چھوڑ کر بائیں جانب جا رہے ہیں تو وہ بھی اُسی طرف مڑ گئے ۔ اُن کے برچھیوں کے پھل شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح دکھائی دے رہے تھے اور اُن کے علموں (جھنڈوں) کی بیر قیں گدھ کے پروں کی طرح پھیلی ہوئی تھیں ۔ آپ رضی اللہ پہلے ذو حسم یا زوحشم پہنچ گئے اور خیمے نصب کرنے کا حکم دیا اور قیام پذیر ہو گئے۔


حر کے لشکر کو پانی پلایا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے جب کوفہ کی طرف آنے کی خبر عبید اللہ بن زیاد کو ملی تو اس نے حصین بن نمیر کو ناکہ بندی کرنے کے لئے بھیجا تو اس نے قادسیہ میں آکر پڑاؤ ڈال دیا اور اطراف و جوانب میں لشکروں کو دوڑا دیا۔ اُن میں سے ایک لشکر سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سامنا ہو گیا۔ اس لشکر کا سپہ سالارحر بن یزید تمیمی تھا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: ہزار سواروں کا رسالہ لئے ہوئے حربن یزید تمیمی اس جلتی دوپہر میں آپ رضی اللہ عنہ کے مقابل آکر ٹھہرا۔ اُس نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی عمامے باندھے ہوئے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا: " پورے لشکر والوں کو پانی پلا کر اُن کی پیاس بجھاؤ اور گھوڑوں کو بھی پانی پلاؤ “ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے لشکر والوں کو پانی پلا پلا کر سیراب کر دیا۔ پھر کا سے کڑے طشت بھر بھر کر گھوڑوں کے سامنے لے گئے۔ گھوڑا جب تین یا چار بار پانی میں منہ ڈال چکتا تو ظرف ہٹا کر دوسرے گھوڑے کو پانی پلاتے تھے اسی طرح سب گھوڑوں کو پانی پلایا۔ حربن یزید تمیمی کے لشکر کا ایک سپاہی پیچھے رہ گیا تھا۔ وہ بیان کرتا ہے: ”حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جب مجھے اور میرے گھوڑے کی بری حالت کو دیکھا تو فرمایا: ” رادیہ کو بٹھاؤ۔ میں مشک کو رادیہ سمجھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے بیٹے ! اونٹ کو بٹھاؤ میں نے اونٹ کو بٹھایا تو مجھے پانی دیا اور فرمایا: ”لو پیو “ میں جب پانی پینے لگا تو مشک (مشکیزے) سے پانی گرنے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "مشک کے دہانے کو اُلٹ دو“ مجھ سے الٹتے نہیں بنا تو آپ رضی اللہ عنہ خود کھڑے ہوئے اور دہانہ کو الٹ دیا۔ پھر میں نے اور میرے گھوڑے نے پانی پیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی طرف حربن یزید تمیمی کے لشکر لیکر آنے کا سبب یہ ہوا کہ عبید اللہ بن زیاد کو جب یہ خبر ملی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آرہے ہیں تو اُس نے حصین بن نمیر کو جو پولیس محکمے کا سر براہ تھا روانہ کیا اور حکم دیا کہ قادسیہ میں ٹھہرے اور قطقطانہ سے حقائق تک مورچے باندھے اور حر کو ایک ہزار سوار کا لشکر دے کر اُس کے آگے روانہ کیا کہ وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مزاحمت کرے۔ حربن یزید تمیمی نے آپ رضی اللہ عنہ کورو کے رکھا۔


تم کو میرا آنا ناگوار لگا ہو تو واپس چلا جاؤں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ذو سم یاز و حشم میں قیام پذیر تھے اور سامنے ایک ہزار کا لشکر لیکر حر بن یزید تمیمی قیام پذیر تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا۔ اب آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت حجاج بن مسروق بعضی کو حکم دیا کہ اذان دیں۔ انہوں نے اذان دی اور اقامت کی باری آئی تو آپ رضی اللہ عنہ تہبند اور چادر پہنے ہوئے نکلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر فرمایا: "اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے اور تم سب لوگوں سے میں ایک عذر کرتا ہوں کہ جب تک تمہارے قاصد تمہارے خطوط اور تمہارے یہ پیغام لیکر نہیں آئے کہ آپ رضی اللہ عنہ آئیے ، ہمارا کوئی امام نہیں ہے ۔ شاید آپ رضی اللہ عنہ کے سبب اللہ تعالیٰ ہم سب لوگوں کو ہدایت پر متفق کر دے، اُس وقت تک میں تمہارے پاس نہیں آیا۔ اب اگر تم اسی قول پر ڈٹے ہو تو لو میں تمہارے پاس آ گیا ہوں۔ تم مجھ سے عہد و پیمان کر لو جس سے مجھے اطمینان ہو جائے تو میں تمہارے شہر چلوں۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے ہو اور تم کو میرا آنا ناگوار گزرا ہوتو میں جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس چلا جاؤں گا یہ سن کر سب خاموش رہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے مؤذن سے فرمایا: ” اقامت کہو ۔ اُس نے اقامت کہی تو آپ رضی اللہ عنہ نے حربن یزید تمیمی سے فرمایا: ”تم لوگ الگ نماز پڑھو گے؟" حربن یزید نے کہا: نہیں ! ہم سب بھی آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کریں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سب کو نماز پڑھائی اور اپنے خیمہ میں چلے گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل و عیال اور خاندان والے آپ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے۔


عبید اللہ بن زیاد کے پاس جانے سے انکار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے حربن یزید تمیمی سے فرمایا تھا کہ اگر تم لوگوں کو میرا یہاں آنا نا گوار گزرا ہو تو مجھے واپس جانے دو تو اُس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حربن یزید تمیمی اپنے لشکر میں واپس چلا گیا۔ اُس کے لئے خیمہ نصب کیا جا چکا تھا وہ اُس میں چلا گیا۔ اُس کے لشکر کے کچھ لوگ اُس کے پاس جمع ہو گئے اور باقی اپنی اپنی صفوں میں چلے گئے اور پھر سے صفیں لگا لیں۔ پھر ہر شخص نے اپنے اپنے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور اُس کے سایے میں اتر کر بیٹھ گئے ۔ عصر کی نماز کا وقت ہوا آپ رضی اللہ عنہ خیمہ سے نکلے اور مؤذن کو حکم دیا تو اُس نے اذان دی اور پھر اقامت کہی۔ آپ رضی اللہ آگے بڑھے اور سب کو نماز پڑھائی سلام پھیرا۔ پھر سب کی طرف چہرہ مبارک کر کے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر فرمایا: اے لوگو! اگر تم اللہ کا خوف کرو گے اور حق داروں کے حق کو پہچا نو گے تو یہ اللہ کی خوشنودی کا باعث ہوگا۔ ہم اہل بیت ہیں اور یہ لوگ جو تم پر حکومت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں جس کا انہیں حق نہیں ہے اور تمہارے ساتھ ظلم و تعدی سے پیش آتے ہیں۔ اس امر کے لئے ان سے ہمیں اولی ہے۔ اگر تم کو ہم سے کراہت ہے اور ہمارے حق سے تم واقف نہیں ہو اور اپنے خطوں اور پیغاموں کی زبانی تم نے جو کچھ مجھ سے کہلا بھیجا ہے اب وہ تمہاری رائے نہیں رہ گئی ہے تو میں تمہارے پاس سے واپس چلا جاؤں گا ۔ حر بن یزید نے جواب میں کہا : اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم وہ خطوط کیسے تھے جن کا آپ رضی اللہ عنہ ذکر فرمارہے ہیں ۔“ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن سمعان سے فرمایا: ” وہ دونوں تھیلے جن میں ان لوگوں کے خطوط ہیں لے آؤ۔“ حضرت عقبہ بن سمعان دونوں تھیلے لے کر آئے جو خطوط سے بھرے ہوئے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سب کے سامنے اُن خطوط کو بکھیر دیا۔ حربن یزید تمیمی نے کہا: ” جن لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھے ہیں ، ہم اُن میں سے نہیں ہیں اور ہم کو حکم ملا ہے کہ اگر ہم آپ رضی اللہ عنہ کو پا جائیں تو عبیداللہ بن زیاد کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” یہ کام کرنے سے بہتر تمہارے لئے مرجاتا ہے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”اٹھ سوار ہو جاؤ ۔ سب سوار ہو گئے اور انتظار کرنے لگے کہ مستورات بھی سوار ہو جائیں۔


تیسرے مقام کی طرف روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ عنہ واپس جانا چاہتے تھے اور حربن یزید تمیمی آپ رضی اللہ عنہ کو وہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے جانا چاہتا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے رہبروں سے فرمایا: ”ہم سب کو واپس لے چلو۔“ جب آپ رضی اللہ عنہ واپس جانے لگے تو حربن یزید نے اپنے لشکر کے ساتھ راستہ روک لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میری والدہ تجھ پر روئے ! آخر تیرا کیا مطلب ہے؟ حر بن یزید نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر عرب میں سے کسی نے یہ کلمہ مجھ سے کہا ہوتا تو میں بھی اُس کی والدہ کے رونے کا ذکر کئے بغیر نہیں رہتا لیکن میری مجال نہیں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا ذکر حد درجہ عظیم کے سوا کسی اور طریقے سے کروں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” پھر تیرا کیا ارادہ ہے؟ حربن یزید نے کہا: اللہ کی قسم! میرا ارادہ یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے جاؤں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تیرے ساتھ نہیں جاؤں گا ۔ حر بن یزید نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ رضی اللہ عنہ کونہیں چھوڑوں گا ۔ دونوں نے یہی بات تین تین مرتبہ کہی ۔ جب تکرار بڑھ گئی تو حربن یزید نے کہا: " مجھے آپ رضی اللہ عنہ کوشہید کرنے کا حکم نہیں ملا ہے بلکہ مجھے صرف اتنا حکم ملا ہے کہ جب تک آپ رضی اللہ عنہ کو کوفہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس نہ لے جاؤں تب تک آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سے نہیں ہٹوں ۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ میری بات نہیں مان رہے ہیں تو کسی ایسے راستے پر چلیئے جو کوفہ کی طرف جاتا ہو نہ مدینہ منورہ کی طرف جاتا ہو۔ میں عبید اللہ بن زیاد کو تمام حالات لکھ کر بھیج دوں گا۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کا دل چاہے تو آپ رضی اللہ عنہ یزید کو لکھئے یا پھر عید اللہ بن زیاد کولکھیئے۔ شاید اللہ تعالی ایسی صورت نکال دے کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی سخت قدم اُٹھانے سے بچ جاؤں۔ آپ رضی اللہ عنہ ایسا کریں کہ عذیب اور قادسیہ کے راستے سے بائیں طرف مڑ جائیں۔ اُس وقت عذیب اڑتیس میل کے فاصلے پر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ راو نہ ہوئے اور حر بن یزید اپنا لشکر لیکر ساتھ ساتھ چلا۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پھر سمجھایا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال اور خاندان والوں کے ساتھ تیسرے راستے پر سفر کر رہے تھے اور حربن یزید بھی اپنے لشکر کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مقام بیضہ میں پڑاؤ ڈال دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مقام بیضہ میں آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اور حربن یزید کے اصحاب کے درمیان خطبہ دیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مخاطب کر کے اللہ کی حمد و ثناء کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور فرمایا: ”اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے ظالم بادشاہ کو دیکھا کہ وہ اللہ کے حرام کردہ کو حلال کرتا ہے۔ اس کے عہد کو توڑتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا ہے۔ اللہ کی مخلوق میں ظلم اور گناہ کے کام کرتا ہے۔ پھر اس شخص نے کسی قسم کی قولی یا عملی دست اندازی نہیں کی تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی اُس ( ظالم بادشاہ) کے ساتھ شمار کرے گا۔ آگاہ ہو جاؤ ! اِن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت چھوڑ کر شیطان کی تابعداری شروع کر دی ہے۔ فتنہ و فساد برپا کر دیا ہے۔ میں ان لوگوں سے زیادہ صاحب الامر ہونے کا مستحق ہوں۔ تمہارے خطوط اور قاصد میرے پاس آئے اور تم نے مجھے بیعت کرنے کے لئے بلایا۔ اب تم مجھے رسوا نہ کرو، اگر بیعت کے اقرار پر قائم رہو گے تو حق کا راستہ پا جاؤ گے۔ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہوں اور میری والدہ محترمہ سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہیں ۔ میری جان تمہاری جان کے ساتھ ہے اور میرے اہل و عیال تمہارے اہل وعیال کے ساتھ ہیں تم کو میرے ساتھ بھلائی کرنی چاہئے اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا اور میرے ساتھ عہد شکنی کی تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ تم نے میرے والد محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، میرے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور میرے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ بد عہدی کی ہے۔ افسوس کہ تم لوگ مجھے دھوکا دے کر دین مین اپنا حق اور حصہ ضائع کر رہے ہو۔ پس جو شخص بدعہدی کرے گا اپنے لئے کرے گا اور اللہ تعالیٰ مجھ کو تم سے بے پرواہ کر دے گا ۔ والسلام “


حضرت زہیر بن قین کی حق پرستی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا خطبہ سن کر حضرت زہیر بن قین نے آپ رضی اللہ عنہ کا ہر حال میں ساتھ نبھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہ سن کر حضرت زہیر بن قین کھڑے ہوئے اور اپنے ساتھ کے لوگوں سے کہا: ” تم کچھ کہتے ہو یا میں کہوں؟ انہوں نے کہا: ” آپ ہی کہیئے ۔ “ حضرت زہیر بن قین نے پہلے للہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر عرض کیا: اے آل رسول رضی اللہ عنہ اہداک اللہ ! آپ رضی اللہ عنہ کے ارشاد کو ہم قبول کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم ! اگر دنیا ہمیشہ باقی رہنے والی ہوتی اور ہم اُس میں ہمیشہ رہنے والے ہوتے اور اُس وقت بھی ہمیں آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت اور غمخواری کے لئے دنیا کو چھوڑنا پڑتا تو ہم اس دنیا میں رہنے کے بجائے آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ دے کر دنیا چھوڑ نا پسند کرتے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُن کے لئے دعائے خیر کی ۔ حربن یزید بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلسل سفر کر رہا تھا اور بولتا جارہا تھا: اے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ! میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اپنی جان کا خیال کیجیئے ۔ میں کہتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ حملہ کریں گے تو شہید ہو جائیں گے یا آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ ہو گا تب بھی شہید ہو جائیں گے مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تو مجھے مرنے سے ڈرا رہا ہے؟ کیا نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ تم لوگ مجھے شہید کر دو گے؟ اس بات کے جواب میں وہی بات کہوں گا جو بنو اوس کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچازاد سے کہی تھی ۔ وہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی نصرت کو جارہے تھے تو اس نے کہا: ” کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا: ”میں جاؤں گا اور موت سے اُس شخص کو کا ہے شرم ۔ جس نے حق کی نیت کی ہو اور مسلم ہو کر جہاد کیا ہو ۔ جس نے اپنی جان سے اللہ کے صالح بندوں کی غمخواری کی ہو۔ جس نے ہلاک ہونے والے خائن سے کنارہ کیا ہو۔ حر بن یزید نے جب یہ بات سنی تو خاموشی سے اپنے لشکر کی طرف لوٹ گیا ۔ وہ اپنے لشکر کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے سے تھوڑی دور پر چل رہا تھا۔


حضرت قیس بن مسہر صیدادی کی شہادت کی اطلاع


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ تیسرے راستے پر رواں دواں تھے کہ حضرت قیس بن مسہر میدادی کے شہید ہونے کی اطلاع ملی ۔ اس سے پہلے حضرت عبداللہ بن بقطر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع آپ رضی اللہ عنہ کو ملی تھی اب حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع ملی۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے الگ الگ وقت میں دونوں کو الگ الگ کوفہ کی طرف قاصد بنا کر بھیجا ہواور عبیداللہ بن زیاد نے دونوں کو ایک ہی طریقے سے شہید کیا ہو۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: چلتے چلتے مقام عذیب الہجانات تک پہنچے ۔ (ہجانات اونٹنیوں کو کہتے ہیں ) یہاں نعمان کی اونٹنیاں چرا کرتی تھیں ۔ جب اس مقام پر آپ رضی اللہ عنہ پہنچے تو کوفہ سے چار شخص اونٹوں پر سوار نافع بن بلال کا مشہور گھوڑا کوتل دوڑاتے ہوئے آئے۔ ان کا راہ نما طرماح بن عدی تھا۔ حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہی اُس نے عرض کیا: ”اے سانڈنی میرے جھڑ کنے سے گھبرانہ جا۔ صبح ہونے سے پہلے ان سواروں کولیکر روانہ ہو جا۔ یہ تما م سواروں میں اور سفر کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں۔ ان کو لئے ہوئے تو اُس شخص کے پاس جا کر ٹھہر جا۔ جو کریم النسب اور صاحب محمد داور کشادہ دل ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ ایک امر خیر (بھلائی کے کام کے لئے یہاں لایا ہے۔ رہتی دنیا تک ان کو اللہ سلامت رکھے ۔ “ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم میں بھی جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مثیت میں لوگوں کا قتل ہونا یا فتح مند ہونا دونوں طرح سے امرخیز“ ہے حربن یزید اُن چاروں کو گرفتار کرنے کے لئے آگے بڑھا تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُسے ڈانٹ دیا اور وہ خاموشی سے واپس چلا گیا ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اُن چاروں سے فرمایا: ”جہاں سے تم آرہے ہو ، وہاں کی کیا خبر ہے؟ مجھ سے بیان کرو۔“ اُن میں سے ایک شخص مجمع بن عبد اللہ عائذی نے عرض کیا: ” بڑے بڑے لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ اُن کو بڑی بڑی رشوتیں دی گئیں ہیں، اُن کے تھیلے بھر دیئے گئے ہیں۔ اُن کو بلا رہے ہیں اور اپنا خیر خواہ بنارہے ہیں، وہ سب لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف متفق ہیں ۔ رہے عام لوگ ! تو اُن کا یہ حال ہے کہ اُن کے دل آپ کی طرف ہیں لیکن کل یہی لوگ آپ رضی اللہ عنہ پر تلواریں کھینچے ہوئے چڑھائی کر دیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرا ایک قاصد حضرت قیس بن مسهر صیدادی تمہارے پاس آیا تھا ۔ انہوں نے عرض کیا: ”ہاں ! اُن کو حصین بن نمیر نے گرفتار کر کے عبید اللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا تھا۔ پھر اُن کے شہید ہونے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا۔ پورا واقعہ سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور آپ رضی اللہ عنہ آنسوؤں کو ضبط نہیں کر سکے اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ” ان میں سے کوئی گزر گیا کوئی انتظار کر رہا ہے اور ان لوگوں نے ذرا تغیر و تبدل نہیں کیا ۔ پھر آگے فرمایا : اے اللہ تعالی! ہم کو اور ان کو جنت کی نعمتیں عطافرما اور ہم کو اوران کو اپنی جوار رحمت میں اور اپنے ثواب کے ذخیرہ بخشش میں یکجا کر دے۔“


اب ہم واپس نہیں جاسکتے ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ سے آنے والے چاروں سواروں سے کوفہ کے حالات دریافت کئے تو معلوم ہوا کہ کوفہ کے تمام لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف ہو گئے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: طرماح بن عدی آپ رضی اللہ عنہ کے قریب آیا اور عرض کیا : ”اللہ کی قسم ! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی نہیں ہے۔ جو شکر آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا ہے ۔ صرف اسی سے مقابلہ ہوگا تو آپ رضی اللہ عنہ اور اہل وعیال اور ساتھی کافی ہیں ۔ حالانکہ جب میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کے لئے کوفہ سے نکلا تو اس سے ایک دن پہلے میں نے سپاہیوں کی ایسی کثرت دیکھی کہ اتنا بڑا لشکر ابھی تک میری نظر سے نہیں گذرا ہے۔ میں نے اس اجتماع کا سبب پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ اجتماع تو عرض کے لئے ہے۔ عرض سے فارغ ہونے کے بعد یہ لشکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے پر روانہ ہو گا۔ اب میں آپ رضی اللہعنہ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اگر ممکن ہوتو ایک قدم بھی اُس طرف جانے کے لئے نہیں اُٹھائیے۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کسی ایسے شہر میں جانا چاہتے ہوں جہاں اللہ آپ رضی اللہ عنہ کی حفاظت کرے اور آپ رضی اللہ عنہ کوئی رائے قائم کرلیں اور جو کام کرنا چاہتے ہیں اُسے اچھی طرح سوچ سمجھ کر لیں تو چلیئے میں آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے بلند پہاڑ کوہ اجا" پر لے چلوں۔ اللہ کی قسم! ہم لوگ اُسی پہاڑ پر غسان اور حمیر کے باشاہوں اور نعمان بن منذر اور ہر اسود احمر سے محفوظ رہے ہیں۔ اللہ کی قسم ! ہم کو کبھی یہ لوگ مطیع نہیں کر سکے ہیں۔ میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتا ہوں اور موضع قریہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو قیام پذیر کر دوں گا۔ پھر کو ہستان اجاد سلملی میں بنوطے میں جو لوگ ہیں اُن کو کہلا بھیجوں گا۔ اللہ کی تم اس دن کے اندر اندر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بنوطے کے پیارے اور سوار جمع ہو جائیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا جب تک جی چاہے گا ہم لوگوں کے درمیان رہ سکتے ہیں۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کو کوئی واقعہ پیش آئے تو میں بنوطے کے بیس ہزار مجاہدین کو جمع کرنے کا ذمہ میں لیتا ہوں جو آپ رضی اللہ عنہ کے آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے شمشیر زنی کریں گے۔ جب تک ان میں سے ایک شخص بھی زندہ رہے گا آپ رضی اللہ عنہ کو کوئی ضر نہیں پہنچنے دے گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ مسکرائے اور فرمایا: اللہ تجھے اور تیرے قبیلے کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ بات یہ ہے کہ ہم میں اور ان میں ( حربن یزید کے لشکر میں) ایک قول ہو چکا ہے جس کے سبب ہم واپس نہیں جاسکتے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہمار اور ان کا کیا انجام ہو گا ۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں