13 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 13
یزید کا عبید اللہ بن زیاد کو حکم، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو روکنے کی تیاریاں، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا قاصد، قاصد کی شہادت، کوفہ کے لوگ پیمان شکن اور بد عہد، زہیر بن قین کا جذبہ شہادت، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر، آل عقیل کے اصرار پر عزم کو فہ، حضرت عبد اللہ بن یقطر کی شہادت کی اطلاع، بطن عقبہ میں قیام اور 60 ہجری کا اختتام
یزید کا عبید اللہ بن زیاد کو حکم
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تو یزید کو اس کی خبرمل گئی کیونکہ اُس نے دمشق سے مکہ مکرمہ تک ہر منزل پر اپنے آدمیوں کو مقرر کر رکھا تھا جو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی ہر حرکت کے بارے میں اطلاع کرتے رہتے تھے۔ یزید نے کوفہ اور بصرہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم دیا۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : یزید نے عبید اللہ بن زیاد کو لکھا: ” مجھے اطلاع ملی ہے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں اور زمانوں میں سے تمہارے زمانے کو اور شہروں میں سے تمہارے شہر کو اور اُمراء ( گورنروں ، حاکموں) میں سے تجھ سے اُن کا پالا پڑ گیا ہے۔ اب اس موقع پر تو آزاد ہو جائے گا یا پھر غلاموں کی طرح دوبارہ غلام بن جائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یزید نے عبید اللہ بن زیاد کو لکھا: ” مجھے معلوم ہوا ہے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) عراق کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔ پس دیکھنے کی جگہیں اور میگزین تیار کرو اور محفوظ رہو اور تہمت پر قید کرو اور پکڑو اور جو تجھ سے جنگ کرے صرف اُسے قتل کرو اور جو صورت حال پیدا ہو اُس کے متعلق مجھے لکھو۔ والسلام “
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو روکنے کی تیاریاں
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مسلسل کو فہ کی طرف رواں دواں تھے اور ادھر کوفہ میں عبید اللہ بن زیاد اپنے حکمراں یزید کے حکم کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کو روکنے کے لئے اپنے سپاہیوں اور پولیس افسروں کا بھیج رہا تھا۔ اسی دوران مقام "زبالہ میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا پیغام ملا کہ آپ رضی اللہ عنہ واپس چلے جائیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : محمد بن اشعث نے ایاس طائی کو جو کہ قبیلہ بنوطے کا ایک شاعر تھا اور اُس کے پاس بہت آیا جایا کرتا تھا۔ اس سے کہا: ” تم حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ ہو جاؤ اور یہ خط اُن تک پہنچا دو۔ خط میں جو جو باتیں حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے شہید ہونے سے پہلے فرمائی تھیں وہ سب اُس نے لکھ دیں اور کہا: لو یہ زاد راہ ہے اور یہ سامان سفر ہے اور یہ تمہارے اہل وعیال کے لئے ہے ۔ “ ایاس نے کہا: ”میرے پاس اونٹ بھی نہیں ہے کیونکہ میرا اونٹ بہت بوڑھا ہو چکا ہے ۔ محمد بن اشعث نے اسے ایک اونٹ پالان سمیت دیا اور حکم دیا کہ جلد از جلد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تک یہ خط پہنچا دو۔ ایاس تیزی سے روانہ ہوا اور چار دن کا سفر کر کے مقام زبالہ پر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے جا کر ملا اور وہ خط آپ رضی اللہ عنہ کو دے دیا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خط پڑھا اور فرمایا: ” جو مقدر میں ہونے والا ہے وہ ہوگا اور اپنی اپنی جانوں کے تلف ہونے اور قوم کی برائی کرنے کو ہم نے اللہ تعالیٰ پر چھوڑ رکھا ہے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ آگے روانہ ہو گئے ۔ ادھر عبیداللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ ملک شام اور بصرہ اور کوفہ تک کے راستوں کی ناکہ بندی کر دی جائے اور کسی کو اس راستے سے آنے اور جانے نہیں دیا جائے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ان باتوں کی مطلق خبر نہیں تھی اور وہ اس طرف آرہے تھے ۔ راستے میں کچھ اعرابی (دیہاتی) ملے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن سے حالات معلوم کئے تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں تو کچھ نہیں معلوم سوائے اس کے کہ ہم کہیں آجا نہیں سکتے ہیں۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی روانگی کا حال معلوم ہوا تو اس نے محکمہ پولیس کے سربراہ حصین بن نمیر تمیمی کو روانہ کیا۔ اس نے مقام " قادسیہ پر پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا اور اپنے سواروں یعنی پولیس والوں کو قادسیہ سے خفان تک ایک جانب اور قادسیہ سے قطفطانہ اور کوہ لعلع تک دوسری جانب پھیلا دیا۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا قاصد
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف آرہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کو روکنے کے لئے ہر طرف سے ناکہ بندی کر لی گئی تھی ۔ راستے میں ایک مقام حاج پر آپ رضی اللہ عنہ نے قیام کیا اور کوفہ والوں کے نام ایک خط لکھ کر اپنے قاصد کے ذریعے روانہ کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد کو جب معلوم ہوا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف آرہے ہیں تو اُس نے اپنے پولیس کے سربراہ حصین بن نمیر کو روانہ کیا۔ وہ قادسیہ میں اُترا اور آس پاس کے تمام علاقوں کی ناکہ بندی کر لی۔ لوگوں نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی عراق کی طرف آمد کا اشارہ ہے بطن الرمہ میں جو مقام حاج ہے وہاں پہنچ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کو ایک خط لکھا اور اپنے قاصد حضرت قیس بن مسہر صیدا دی کے ہاتھ روانہ کیا: " بسمہ اللہ الرحمن الرحیم (حضرت) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) کی طرف سے اُن کے برادران ایمانی اور اسلامی کو اسلام وعلیکم ! میں تم سے اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا خط مجھے ملا۔ تم لوگوں کے حسن عقیدہ اور تم سب کی مدد پر اور میرے حق کی طلب پر متفق ہونے کا حال معلوم ہوا ۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہم پر احسان کرے اور تم لوگوں کو اس بات کا اجر عظیم دے۔ میں تمہارے پاس آنے کے لئے آٹھ (8) ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ سے روانہ ہو چکا ہوں ۔ جب میرا قاصد تمہارے پاس پہنچے تو اپنے کام میںجلدی کرو اور کوشش کرو۔ میں انہیں دنوں میں تمہارے پاس ان شاء اللہ آجاؤں گا۔ والسلام علیکم ورحمتہ الله وبركاته
قاصد کی شہادت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قاصد حضرت قیس بن مسہر میدادی جب کوفہ پہنچے تو انہیں گرفتار کر کے عبید اللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا خط لیکر حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اللہ عنہ کوفہ روانہ ہوئے۔ جب قادسیہ پہنچے تو حصین بن نمیر نے آپ کوگرفتار کر لیا اورعبداللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا۔ عبداللہ بن زیاد نے اُن سے کہا: "قصر (محل) پر چڑھ جا اور کذاب کو سب و شتم کر" یہ حضرت قیس بن مہر چڑھ گئے اور بلند آواز سے فرمایا: "اے لوگو! حضرت حسین بن علی رضہ اللہ عنہ اس وقت مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔ سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہیں اُن کے بیٹے ہیں۔ ان کا قاصد بن کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ میں نے مقام حاجز پران کو چھوڑا ہے۔ تم سب اُن کی نصرت کے لئے جاؤ اتنا فرما کر حضرت قیس بن صیدادی نے عبیداللہ بن زیاد اور اس کے باپ پر لعنت کی، ان کو سب و شتم کیا اور حضرت علی بن ابی طالب کے لئے مغفرت کی دعا کی۔ عبید اللہ بن زیاد نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اُن کو نیچے پھینک دو۔ حضرت قیس بن مسہر میدادی رضی اللہ عنہ کو نیچے پھینک دیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پیرٹوٹ گئے اور سر میں ایسی چوٹ آئی کہ آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : عبیداللہ بن زیاد نے اُن نے کہا: محل کی چوٹی پر چڑھ کر ( نعوذ باللہ ) کذاب بن کذاب علی بن ابی طالب اور اُن کے بیٹے حسین کو (نعوذ باللہ ) گالیاں دو ۔ “ حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اللہ عنہ محل پر چڑھے اور بلند آواز سے فرمایا: "اے لوگو! بے شک حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اللہ کی مخلوق میں اس وقت سب سے بہترین آدمی ہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں اور میں تمہاری طرف اُن کا ایلچی ( قاصد ) ہوں اور میں وادی ذوالرحمہ کی بلند جگہ پر اُن سے جدا ہوا ہوں ۔ وہ آرہے ہیں، انہیں جواب دو اور اُن کی سمع و طاعت کرو ۔ پھر انہوں نے عبید اللہ بن زیاد اور اُس کے باپ پر لعنت کی اور حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کے لئے بخشش طلب کی ۔ عبد اللہ بن زیاد کے حکم سے آپ رضی اللہ عنہ کومحل کی چوٹی سے نیچے پھینک دیا گیا جس سے ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور آخری سانس باقی رہ گئی تھی کہ عبد الملک بن عمیر بجلی نے تلوار سے گردن اڑادی اور بولا : ”میں نے اسے تکلیف سے آرام دے دیا ، بعض کا قول ہے کہ وہ شخص عبدالملک بن عمیر سے مشابہ تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ جو شخص حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قاصد تھے آپ رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی عبداللہ بن یقطر تھے۔ واللہ اعلم۔
کوفہ کے لوگ پیمان شکن اور بد عہد
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ کی طرف سفر جاری رکھے ہوئے تھے کہ ایک نخلستان میں عبد اللہ بن مطیع عددی سے ملاقات ہوئی وہ اپنے قافلے کے ساتھ وہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ کی طرف جاتے ہوئے ایک چشمہ کے پاس پہنچے تو وہاں عبداللہ بن مطیع عددی اپنے قافلے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ بھی اپنے قافلے کے ساتھ وہیں پڑاؤ ڈالنے لگے تو وہ آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کی مدد کر نے لگا۔ اس کے بعد اُس نے عرض کیا : ”اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! میرے والدین آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہوں ، ادھر آنے کا سبب کیا ہے ؟ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے تمام حالات بتائے اور بتایا کہ کوفہ جارہا ہوں ۔ یہ سنتے ہیں عبد اللہ بن مطیع نے عرض کیا: "اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! میں آپ رضی اللہ عنہ کواللہ کی قسم دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کا خیال رکھیں اور عرب کی حرمت کا خیال رکھیں ۔ اگر بنوامیہ سے تعرض کریں گے تو وہ آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیں گے اور پھر اس کے بعد وہ کسی کی پرواہ نہیں کریں گے اللہ کی قسم ! کہیں ایسانہ ہو کہ حرمت اسلام ، حرمت قریش اور حرمت عرب ضائع نہ ہو جائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ نہ جائیں اور بنو امیہ سے تعرض نہ کریں ۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے کوفہ جانے کے علاوہ کسی بات کو نہیں مانا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عبداللہ بن مطیع نے عرض کیا: " اے آل رسول رضی اللہ عنہا اللہ کے واسطے کو فہ نہ جائیں۔ یہ لوگ بڑے پیمان شکن اور بد عہد ہیں۔ ان میں اسلام کی ہتک ، قریش کی آبرو اور عرب کی عزت کا خیال باقی نہیں رہا ہے۔ اللہ کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہ بنوامیہ سے تعرض نہ کریں ورنہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیں گے اور پھر کسی سے نہیں ڈریں گے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اس کے باوجود کوفہ کی طرف اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور آرام کرنے کے بعد روانہ ہو گئے
زہیر بن قین کا جذبہ شہادت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے نکلے تھے تو ایک شخص اپنے قافلے کے ساتھ روانہ ہوا اور مسلسل آپ رضی اللہ عنہ کے تعاقب میں رہا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زہیر بن قین بجلی اپنے قافلے کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکلا تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے روانہ ہو گیا لیکن وہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ قیام نہیں کرتا تھا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھتے تھے تو وہ قیام کرتا تھا اور جب آپ رضی اللہ عنہ اگلی منزل پر قیام کرتے تھے تو وہ آگے بڑھتا تھا۔ بنوفزارہ کا ایک شخص جوز ہیر بن قین کے قافلے میں تھا بیان کرتا ہے کہ ایک منزل پر ایسا اتفاق ہوا کہ ہمیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ قیام کرنا پڑا۔ ہم سب بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور سلام کرنے کے بعد بولا : ”اے زہیر بن قین ! مجھے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے بھیجا ہے اور وہ تمہیں بلا رہے ہیں ذرا چل کر اُن کی بات سن لو۔“ یہ سن کر زہیر بن قین سوچ میں پڑ گئے تو اُن کی بیوی نے کہا: سبحان اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے تمہیں بلا رہے ہیں اور تم سوچ میں بیٹھے ہوئے ہو، چلے جاؤ اور اُن کی بات سن کر چلے آؤ۔ زہیر بن قین آپ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کچھ دیر بعد خوش خوش اور بشاش چہرہ لئے ہوئے آئے اور اپنا خیمہ اور سارا مال و اسباب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا اور اپنی بیوی سے بولے : ” میں تمہیں آزاد کرتا ہوں، تم اپنی برادری میں چلی جاؤ۔ میں نہیں چاہتا کہ میری طرف سے نیکی کے سوا کوئی برائی تمہارے لئے ہو۔ پھر اپنے قافلے والوں سے کہا: ”تم میں سے جو چاہے میرے ساتھ آجائے ورنہ یہ سمجھ لے کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں ۔ جنگ بنجر میں اللہ تعالیٰ نے ہم کو فتح دی اور بہت سارا مال غنیمت ہاتھ آیا تھا۔ ہمارے ساتھ حضرت سلمان فاری رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو فتح دی ہے اور مال غنیمت جو ملا ہے اُس سے تم خوش ہو گئے ہو؟ ہم نے کہا: ”ہاں ہمیں خوشی تو ہوئی ہے ۔ انہوں نے فرمایا: ” جوانان آل محمد کا زمانہ تمہیں ملے گا اور اُن کی نصرت (مدد) میں تم قتال کرو گے تو اس مال غنیمت سے زیادہ تمہیں خوشی حاصل ہوگی ۔ مجھ سے پوچھو تو میں تمہیں اللہ حافظ کہتا ہوں ۔“ اس کے بعد حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ مسلسل حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ کربلا میں شہید ہو گئے۔
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ابھی تک حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر نہیں ملی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ بدستور کوفہ کی طرف رواں دواں تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : بنو اسد کے دو شخص عبداللہ اور ندری حج کو گئے ہوئے تھے وہ بیان کرتے ہیں : ”ہم حج سے فارغ ہوئے تو ہمیں یہ فکر ہوئی کہ ہم جلد از جلد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے جا کر ملیں اور دیکھیں کہ کیا واقعہ پیش آیا اسی لئے ہم اپنے ناقوں (اونٹوں) کو دوڑاتے ہوئے چلے اور مقام روڈ تک پہنچے تو کوفہ کی طرف سے ایک شخص کو آتے ہوئے دیکھا۔ اس نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو راستہ بدل دیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اسے دیکھ کر رک گئے گویا آپ رضی اللہ عنہ اس سے ملنا چاہتے تھے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ روانہ ہو گئے اور ہم دونوں اُس شخص کے پاس گئے اور اسے سلام کیا تو اُس نے جواب دیا۔ ہم نے اس کے قبیلہ کے بارے میں پوچھا تو اُس نے بتایا کہ وہ بنو اسد کا ہے تو ہم نے بتایا کہ ہم بھی بنو اسد کے ہیں۔ پھر ہم نے اُس کا نام پوچھا تو اس نے بکیر بن شعبہ بتایا۔ پھر ہم نے کوفہ کے حالات معلوم کئے تو اُس نے بتایا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اور حضرت ہانی بن عروہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے اور میں دیکھا کہ اُن دونوں کی لاشوں کے پیر پکڑ کر بازاروں میں گھسیٹا جار ہا تھا۔ یہ خبرسن کر ہم دونوں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلہ سے آکر ملے جب آپ رضی اللہ عنہ نے مقام تعلبیہ" میں قیام کیا تو ہم آپ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور سلام کیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ہم نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے ! ہم کچھ خبر آپ رضی اللہ عنہ کو دینا چاہتے ہیں کہئے تو ایسے ہی بتادیں یا پھر چپکے سے آپ رضی اللہ عنہ کو بتادیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل وعیال اور خاندان والوں کو دیکھا اور پھر فرمایا: ” ان لوگوں سے چھپانے والی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم نے عرض کیا: ”کل شام کو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک سوار کو کوفہ سے آتے دیکھا تھا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں میں نے دیکھا تھا اور میں اُس سے کوفہ کے حالات معلوم کرنا چاہتا تھا۔ ہم نے عرض کیا: ”ہم نے اُس سے معلوم کر لیا ہے اُس نے بیان کیا کہ اس کے سامنے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اور حضرت ہانی بن عروہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور اُن دونوں کی لاشوں کے پیر پکڑ کر بازاروں میں گھسیٹا جارہا تھا ۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "انا للہ وانا الیہ راجعون! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اُن دونوں پر نازل ہوں ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ بار بار یہی کہتے رہے۔ ہم نے عرض کیا: ” ہم آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ کی قسم دیتے ہیں اپنی جان کا اپنے اہل بیت کا خیال کریں اور اسی جگہ سے واپس چلے جائیں۔ کوفہ میں آپ رضی اللہ عنہ کا کوئی مددگار نہیں ہے بلکہ ہمیں تو اس بات کا خوف ہے کہ وہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی مخالفت کریں گے ۔“
آل عقیل کے اصرار پر عزم کو فہ
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ اہل کوفہ نے غداری اور بد عہدی کی ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارادہ بدل لیا اور واپسی کا ارادہ بنایا تھا کہ آل عقیل کے اصرار پر آپ رضی اللہ عنہ نے پھر کوفہ کی طرف بڑھنے کا عزم کر لیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہ سن کر حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ کی قسم ! جب تک ہم حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص نہیں لیں گے یا ہمارا بھی وہی حال ہوگا جو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا ہوا ہے تب تک ہم واپس نہیں جائیں گے ۔“ یہ سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا : ” ان لوگوں کے بعد زندگی کا کوئی لطف نہیں ہوگا ۔ ہم سمجھ گئے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے کوفہ جانے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔ ہم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کے لئے بہتری کرے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ آپ دونوں کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بعض انصار نے عرض کیا : ” کوفہ میں آپ رضی اللہ عنہ جائیں گے تو سب آپ رضی اللہ عنہ کی طرف دوڑیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ صبح کا انتظار کرتے رہے جب وقت سحر ہوا تو خادموں سے فرمایا: ” جتنا پانی لے سکو لے لو ۔ “ اُن سب نے
پانی بھر لیا اور بہت زیادہ بھرا۔ پھر سب وہاں سے روانہ ہو گئے اور چلتے چلتے منزل ” ہالہ میں پہنچے۔
حضرت عبد اللہ بن یقطر کی شہادت کی اطلاع
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے قاصد کی شہادت کی اطلاع ملی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قاصد حضرت قیس بن مسهر میدادی رضی اللہ عنہ تھے یا پھر حضرت عبد اللہ بن بقطر رضی اللہ عنہ تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے ایک روایت میں حضرت قیس بن صیدادی رضی اللہ عنہ کا نام بیان کیا ہے اور دوسری روایت میں حضرت عبد اللہ بن بقطر رضی اللہ عنہ کا نام بیان کیا ہے اور دونوں روایتوں میں دونوں کی شہادت کا واقعہ ایک ہی طرح بیان کیا ہے۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنے قاصد کی شہادت کی اطلاع ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل وعیال ، خاندان اور ساتھیوں کو جمع کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یہ خبر آپ رضی اللہ عنہ کولی تو آپ رضی اللہ عنہ نے سب لوگوں کو جمع کرکے فرمایا: بسمہ اللہ الرحمن الرحیم ! ایک بہت ہی سخت واقعہ کی خبر مجھے ملی ہے۔ حضرت مسلم بن عقیل ، حضرت ہانی بن عروہ اور میرے قاصد ( حضرت قیس بن مسہر یا حضرت عبداللہ بن بقطر ) رضی اللہ عنہم شہید کر دیئے گئے ہیں ۔ ہمارے حامیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے ۔ اس لئے تم میں جو واپس جانا چاہے وہ چلا جائے میں نے تم پر سے اپناذ مہ اُٹھا لیا ہے۔ یہ سنتے ہی سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف وہی لوگ رہ گئے جو مدینہ منورہ سے آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہت سے اعرابی اس لئے چل رہے تھے کہ انہوں نے یہ سمجھا ہوا تھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ایسے شہر میں جارہے ہیں جہاں سب اُن کی بات مانیں گے اور اطاعت کریں گے اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ انہیں لاعلمی میں رکھ کر موت کے منہ میں لے جایا جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ جب لوگوں کو مفصل حال معلوم ہو جائے گا تو وہی لوگ میرا ساتھ دیں گے جو میرے ساتھ شہید ہونے کا عزم رکھتے ہیں باقی سب واپس چلے جائیں گے اور ایسا ہی ہوا۔ اب آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل وعیال، خاندان کے لوگ ہی رہ گئے تھے۔
بطن عقبہ میں قیام اور 60 ہجری کا اختتام
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے لگ بھگ بیس دن سے زیادہ ہو چکے تھے اور جب آپ رضی اللہ عنہ نے مقام بطن عقبہ میں قیام کیا تو ذی الحجہ 60 ہجری کا اختتام ہو گیا اور محرم الحرام 61 ہجری کی شروعات ہوئی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: صبح ہوئی تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ پانی زیادہ سے زیادہ ساتھ لے لو اور انہوں نے ایسا ہی کیا اور روانہ ہوئے اور ” بطن عقبہ میں جا کر قیام پذیر ہوئے ۔ وہاں پر بنو عکرمہ کے ایک شخص نے آپ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : " آپ رضی اللہ عنہ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے تمام حالات بیان کر دیئے۔ اُس نے عرض کیا: ” میں آپ رضی اللہ عنہ کواللہ کی قسم دیتا ہوں یہیں سے واپس چلے جائیے۔ اللہ کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہ برچھیوں اور تلواروں کے نیچے جارہے ہیں۔ جن لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو بلایا ہے اگر وہ آپ رضی اللہ عنہ کو جنگ و جدال کی زحمت سے بچا لیتے تو خود ہی سب کام درست کر چکے ہوتے اور اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ جاتے تو یہ درست ہوتا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جو حالات بیان کئے ہیں۔ ایسی صورت میں تو میں یہی عرض کروں گا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہیں سے واپس لوٹ جائیے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اے اللہ کے بندے ! تم نے جو رائے دی ہے وہ ( دنیاوی لحاظ سے) بالکل درست ہے لیکن اللہ کی مشیت کے آگے کوئی چارہ نہیں ہے ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ آگے روانہ ہو گئے ۔ اس سال 60 ہجری میں یزید نے مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عقبہ کو معزول کر دیا اور عمرو بن سعید بن عاص کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں جگہوں کا گورنر بنادیا ۔ کوفہ کے گورنر حضرت نعمان بن بشیر کو معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو بصرہ کے ساتھ ساتھ کوفہ کا بھی گورنر بنادیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں