11 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 11
عبید اللہ بن زیاد کوفہ میں، حضرت نعمان بن بشیر کی معزولی، عبید اللہ بن زیاد کا اعلان، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش، ہانی بن عروہ کی گرفتاری، عبید اللہ بن زیاد کے محل کا محاصرہ، کوفیوں کی بد عہدی اور غداری، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے انکاونٹر کا اعلان، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی خبر، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی گرفتاری، کاش کوئی حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ کو خبر دے،حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی وصیت
عبید اللہ بن زیاد کوفہ میں
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا حکم یزید نے جاری کر دیا تھا اور یزید کی خوشنودی پانے کے لئے عبید اللہ بن زیاد بصرہ نے نکل کر کوفہ اپنے ساتھیوں کو لیکر آیا اور اس حال میں کوفہ میں داخل ہوا کہ اُس نے اور اُس کے ساتھیوں نے ڈاکوؤں کی طرح چہرے پر ڈھاٹا باندھا ہوا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد اپنے رؤسائے بصرہ کے ساتھ ڈھانٹا باندھے ہوئے کوفہ میں داخل ہوا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کو فہ کے جس مجمع سے بھی گزرتا تھا تو اسلام علیکم کہتا تھا۔ اُس کے جواب میں لوگ واعلیکم السلام یا ابن بنت رسول کہتے تھے۔ اُن کو شبہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا تھا۔ ( یعنی لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے انتظار میں تھے اس لئے عبید اللہ بن زیاد کے چہرہ چھپانے سے دھوکا کھا گئے علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: پھر یزید نے عبید اللہ بن زیاد کولکھا: ” جب تم کو فہ جانا تو (حضرت) مسلم بن عقیل ( رضی اللہ عنہ ) کو طلب کرنا اور اُن پر قابو پانا تو قتل کر دینا یا جلا وطن کر دینا اور اس نے مسلم بن عمرو باہلی کو یہ خط دیکر بھیجا۔ خط ملتے ہی عبید اللہ بن زیاد بصرہ سے کوفہ روانہ ہو گیا اور کوفہ میں سیاہ عمامے کا ڈھاٹا باندھ کر داخل ہوا اور لوگوں کی جس اشراف جماعت کے پاس سے گزرتا تھا تو انہیں اسلام اعلیکم کہتا اور وہ وعلیکم السلام خوش آمدید اے پسر رسول کہتے ۔ وہ خیال کرتے تھے کہ یہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کے منتظر تھے اور اُس کے پاس لوگوں کا جمگھٹا ہو گیا اور وہ کوفہ میں سترہ آدمیوں کے ساتھ آیا تھا۔ مسلم بن عمر و باہلی نے بلند آواز سے کہا: ” پیچھے ہٹ جاؤ یہ گورنر عبید اللہ بن زیاد ہے ۔“ جب عوام کو یقین ہوا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تشریف نہیں لائے ہیں بلکہ ظالم عبداللہ بن زیاد کوفہ کا گورنر بن کر آیا ہے تو اُن پر دل شکستگی اور شدید غم چھا گیا۔
حضرت نعمان بن بشیر کی معزولی
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت نعمان بن بشیر نے نرمی کا رویہ اختیار کیا جس کی سزا یہ ملی کہ یزید نے اُسے معزول کر دیا اور عبید اللہ بن زیاد کوکوفہ کا گورنر بنا دیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد اپنے ساتھ مسلم بن عمرو اور شریک بن اعور حارثی اور اپنے ساتھیوں کولیکر کوفہ روانہ ہوا۔ راستے میں کوفہ کے قریب پہنچ کر وہ اپنے ساتھیوں سے الگ ہو گیا اور تنہا ڈھاٹا باندھے ہوئے کوفہ میں داخل ہوا جن لوگوں کے پاس سے وہ گزرتا تھا تو وہ لوگ اُسے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سمجھ کر اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور جوش مسرت سے مرحبا یا ابن رسول اللہ کہتے تھے لیکن عبد اللہ بن زیاد کوئی جواب نہیں دے رہا تھا بلکہ چپ چاپ چلا جار ہا تھا۔ رفتہ رفتہ نعمان بن بشیر تک پہنچا اور اُس کے پیچھے پیچھے ایک انبوہ کثیر خوشی کے نعرے بلند کرتا ہوا چلا آرہا تھا۔ حضرت نعمان بن بشیر نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شبہ میں دروازہ بند کر لیا اور اندر سے بلند آواز میں کہا: ” میں تمکو اللہ کی قسم دیتا ہوں تم میری طرف مائل نہیں ہوتا، میں اپنی امانت ، اپنا مال تمہاری کسی جنگی ضرورت کے لئے نہیں دوں گا ۔ عبید اللہ بن زیاد نے دروازے کے قریب جا کر چہرہ کھولا اور بلند آواز سے بولا: "دروازہ کھول دو، ورنہ زبر دستی کھول دیا جائے گا۔“ ایک شخص جو اُس کے پیچھے کھڑا ہو تھا پہچان کر بولا: یہ تو ابن مرجانہ عبید اللہ بن زیاد ہے ۔ یہ سنتے ہی لوگ بھاگ کھڑے ہوئے۔
عبید اللہ بن زیاد کا اعلان
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر لگ بھگ اٹھارہ ہزار کوفیوں نے بیعت کی تھی لیکن اُن میں سے اکثر دنیا کی محبت میں مبتلا ہو گئے تھے ۔ اسی لئے جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ ظالم عبید اللہ بن زیاد کو یزید نے اُن کا گورنر بنا دیا ہے تو سب بھاگ کھڑے ہوئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبید اللہ بن زیاد دار الامارت میں داخل ہوا ۔ صبح ہوئی تو منبر پر گیا اور اعلان کیا : ”اے اہل کوفہ ! امیر المومنین یزید نے تمہارے شہر اور احکام شرعی اور مال غنیمت اور بیت المال کا گورنر مجھے بنایا ہے اور مجھے تمہارے مظلوموں کی دادرسی تمہارے محروموں کو دینے ، تمہارے فرمانبرداروں کے ساتھ احسان کرنے ، تمہارے نافرمانوں اور باغیوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ میں بے شک تم پر اُس کے احکام جاری کروں گا۔ میں تم پر تمہارے والد سے بھی زیادہ مہربان ہوں گا اور تمہارے شفیق بھائی سے بڑھ کر تمہاری اطاعت کروں گا لیکن جو شخص میرے حکم کی مخالفت کرے گا اُس کی گردن اور پیٹھ پر میر ادرہ ( کوڑا) ہوگا۔ اتنا کہ کر وہ منبر سے اترا اور اپنے واقف کاروں اور شہر کے عہدے داروں سے بولا: ”لوگو! امیرالمومنین یزید کے حامیوں کی اور اُن لوگوں کی صحیح صحیح تعداد مجھے بتاؤ جن کے دلوں میں اختلاف اور بغاوت کا مادہ بھرا ہوا ہے پس جو شخص صاف صاف لکھ کر دے گا وہ بری ہے اور جو شخص لکھ کر نہ دے گا وہ اس کا ( بغاوت کا ذمہ دار سمجھا جائے گا۔ اگر اتفاق سے اُس کے دوستوں اور آشناؤں میں سے کسی نے ہماری مخالفت کی یا ہم سے باغی ہوا تو ہم اس سے بری الذمہ ہوں گے اور اُس کا خون اور مال ہم پر مباح ہوگا ۔جس کے علم میں کوئی شخص امیر المؤمنین یزید کا باغی اور مخالف ہوا اور اُس نے ظاہر نہیں کیا تو ہم اسے سولی ( پھانسی ) دے دیں گے اور اُس کا وظیفہ ضبط کرلیں گے۔“
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش
کوفہ کے لوگوں کے درمیان اعلان کرنے کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش شروع کر دی۔ ادھر آپ رضی اللہ عنہ کو جب عبید اللہ بن زیاد کے کوفہ کا گورنر بنے اور اُس کے اعلان کے بارے میں معلوم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فوراً اپنا ٹھکانہ بدل دیا جس کی وجہ سے عبید اللہ بن زیاد آپ رضی اللہ عنہ کو آسانی سے تلاش نہیں کر سکا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے کانوں تک عبید اللہ بن زیاد کے احکامات پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ مختار کے مکان سے نکل کر ہانی بن عروہ مرادی کے مکان پر پہنچے اور دستک دی۔ ہانی بن عروہ نکلا اور آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھائی۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں تمہارے پاس پناہ گزین اور تمہارا مہمان بن کر آیا ہوں ۔ ہانی بن عروہ نے جواب دیا: ” تم نے مجھے سخت تکلیف میں ڈال دیا، اگر میرے گھر پر نہیں آتے تو میں یہ پسند کرتا کہ اس سے پہلے کہ میں کسی جرم میں ماخوذ کیا جاؤں تم میرے پاس سے واپس چلے جاؤ۔ خیر آؤ! میں حتی الامکان تمہیں پناہ دینے کی کوشش کروں گا۔“ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اس کو غنیمت جان کر ہانی بن عروہ کے مکان میں مقیم ہو گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اچانک کسی کو بتائے بغیر وہاں مقیم ہو گئے تھے اس لئے یزید اور عبید اللہ بن زیاد کے حامیوں کو نہیں معلوم ہو سکا کہ آپ رضی اللہ عنہ اچانک کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ آخر کار عبید اللہ بن زیاد نے ایک چال چلی اور معلوم کر لیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: جب عبید اللہ بن زیاد نے کوفہ پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا تو اُس نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش شروع کی۔ اُس نے ابورھم کے غلام اور بعض کا قول ہے کہ اپنے غلام معقل کو تین ہزار درہم کے ساتھ بلا حمص سے آنے والے کی صورت میں بھیجا اور یہ کہ وہ صرف بیعت کرنے کے لئے آیا ہے۔ پس یہ غلام گیا اور مسلسل اُس گھر کا پتہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا رہا جہاں لوگ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی بیعت کر رہے تھے حتی کہ وہ اُس گھر میں داخل ہو گیا اور وہ ہانی بن عروہ کا گھر تھا جس میں آپ رضی اللہ عنہ پہلے گھر سے وہاں منتقل ہو گئے تھے۔ پس اُس نے بیعت کی اور وہ اسے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور وہ کئی روز آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا حتی کہ اسے مکمل یقین ہو گیا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہیں مقیم ہیں۔
ہانی بن عروہ کی گرفتاری
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش میں عبید اللہ بن زیاد نے خفیہ طور سے اپنے ایک غلام کو بھیجا اور اس نے مکمل تحقیق کرنے کے بعد آکر بتایا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ، ہانی بن عروہ کے گھر میں چھپے ہوئے ہیں اور خفیہ طور سے بیعت کر رہے ہیں۔ عبید اللہ بن زیاد نے مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد ہانی بن عروہ کو بلوایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اُدھر عبیداللہ بن زیاد نے کوفہ کے عہدے داروں سے پوچھا کہ سب لوگوں کے ساتھ ہانی بن عروہ میرے پاس کیوں نہیں آیا ؟ ۔ یہ سن کر محمد بن اشعث اپنی برادری کے لوگوں کو لئے ہوئے ہانی بن عروہ کے پاس آیا تو دیکھا کہ دروازہ کے باہر ہی موجود ہے۔ اُس سے کہا کہ حاکم عبید اللہ بن زیاد نے ابھی تمہارا ذکر کیا تھا اور کہا کہ انہوں نے آنے میں بہت تاخیر کر دی اس لئے تم کو اُس کے پاس جانا چاہیئے ۔ یہ لوگ مسلسل اصرار کرتے رہے۔ آخر کا رہانی بن عروہ اُن لوگوں کے ساتھ عبید اللہ بن زیاد کے پاس آیا۔ اُسوقت قاضی شرح بھی موجود تھے، ہانی کو دیکھ کر عبید اللہ بن زیاد نے کہا: " لو! اجل گرفتہ خود ہمارے پاس چلا آیا۔ ہانی بن عروہ نے اسے سلام کیا تو اُس نے کہا: 'بتاؤ (حضرت) مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ ) کہاں ہیں؟ ہانی بن عروہ نے کہا: ”میں نہیں جانتا ہوں ۔ عبید اللہ بن زیاد نے اُس غلام کو بلایا جو جھوٹی بیعت کرنے گیا تھا۔ اسے دیکھ کر ہانی بن عروہ متحیر ہو گیا اور بولا : ”اللہ ہمارے گورنر کا بھلا کرے ! اللہ کی قسم! میں نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر نہیں بلایا تھا بلکہ وہ خود آئے تھے اور زبردستی میرے مہمان بن گئے ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” انہیں ہمارے حوالے کر دو ہانی بن عروہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر وہ میرے پاؤں کے نیچے چھپے ہوتے تو میں وہاں سے اپنے پیر نہیں ہٹاتا ۔ عبید اللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ۔ جب ہانی بن عروہ کو اس کے پاس لایا گیا تو اس نے ایسی ضرب لگائی کہ جھوں اُن کی زہر آلود ہوگئی ۔ ہانی بن عروہ نے ایک سپاہی کی تلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ اُسے میان سے نکال لیں مگر لوگوں نے انہیں پکڑ لیا۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ”اب تمہارا قتل کرنا اللہ نے ہمارے لئے حلال کر دیا ہے ۔ یہ کہ کر اس نے ہانی بن عروہ کو قید کرنے کا حکم دیا تو انہیں اسی محل کے قید خانے میں قید کر دیا گیا۔
عبید اللہ بن زیاد کے محل کا محاصرہ
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ ہانی بن عروہ کے گھر میں پناہ گزین تھے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی گرفتاری اور قید کی خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ عبید اللہ بن زیاد کے محل کا محاصرہ کر لیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے یہ واقعات سن کر اپنے اصحاب میں یا منصور امتہ “ کا اعلان کر دیا۔ اُس وقت تک آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اٹھارہ ہزار سے زیادہ آدمی بیعت کر چکے تھے جن میں سے چار ہزار اُس وقت وہاں موجود تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک انبوہ کثیر جمع ہو گیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عزیز کندی کو بنوکندہ پر مامور کر کے آگے بڑھنے کا حکم دیا اور مسلم بن عوسجہ اسدی کو بنو مذحج بنو اسد پر، ابی شمائلہ سائدی کو بنو تمیم اور بنو ہمدان پر اور عباس بن جعدہ جدلی کو بن مدینہ پر مامور کر کے انہیں لیکر آپ رضی اللہ عنہ عبید اللہ بن زیاد کے محل کی طرف روانہ ہوئے اور محاصرہ کر لیا عبید اللہ بن زیاد نے اپنے محل کے دروازے بند کر لئے اُس وقت اُس کے پاس پولیس کے صرف تیں آدمی تھے اور میں خدام تھے اور کوفہ کے چند عہدے داران تھے۔
کوفیوں کی بد عہدی اور غداری
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے اٹھارہ ہزار 18,000 سے زیادہ کوفیوں کے ساتھ ملکر عبد اللہ بن زیاد کے محل کا محاصرہ کر لیا تھا اور قریب تھا کہ عبید اللہ بن زیاد گرفتار کرلیا جا تا یاقتل کر دیا جاتا لیکن اُس نے چالاکی سے ایک سیاسی حربہ استعمال کیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : تب عبید اللہ بن زیاد نے اُن کو منتشر کرنے کی یہ تدبیر نکالی کہ کثیر بن شہاب حارثی کو بنو مذحج کی طرف محمد بن اشعث کو بنو کندہ کی طرف ، قعقاع بن شور دہلی کو ہنو ہمدان کی طرف ، اور شیت بن ربعی تمیمی کو بنو تمیم کی طرف اور حجاز بن جبر رجلی اور شمر بن ذی جوش وغیرہ کوحکم دیا کہ محل کی کھڑکیوں اور بالا خانوں (بالکنیوں ) سے لوگوں کو سمجھا بجھا کر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ سے الگ ہونے کو کہو اور اعلان کر دو کہ جو شخص اس وقت اُن سے علیحدگی اختیار کرے گا اُس کو امان دی جائے گی اور جو شخص ہمارے حکم سے سرتابی کرے گا وہ گرفتار کیا جائے گا اور اُسے بری طرح سزادی جائے گی ۔ کوفیوں نے جب یہ اعلان سنا تو ایک ایک، دو دو، پانچ پانچ اور دس دس کر کے علیحدہ ہونے لگے۔ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ عورتیں بھی گھروں سے نکل پڑیں اور اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو بلا کر لے گئیں ۔ اب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے پاس صرف تمہیں آدمی رہ گئے تھے ۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے مقدمہ الجیش کو آگے بڑھایا، میمنہ اور میسرہ کو درست کیا اور خود قلب لشکر میں عبید اللہ بن زیاد کے محل کا رخ کیا۔ اُدھر عبید اللہ بن زیاد نے اہل کوفہ کے عہدے داروں کا بلا کر اپنے محل میں جمع کیا۔ جب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ حل کے پاس پہنچے تو تمام عہدے داروں نے محل پر چڑھ کر اپنے اپنے قبیلے اور برادری والوں کے سامنے آئے اور انہیں سمجھا بجھا کر واپس کرنے لگے۔ اب لوگ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے پاس سے سرکنے لگے اور شام ہونے تک صرف پانچ سو 500 آدمی رہ گئے ۔ جب رات کی تاریکی ہوئی تو وہ بھی ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے انکاونٹر کا اعلان
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف تمیں آدمی رہ گئے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ باب بنوکندہ کی طرف بڑھے اور وہاں تک پہنچنے میں وہ تمیں آدمی بھی غائب ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ تن تنہا رہ گئے ۔ اُدھر عبید اللہ بن زیاد اپنے محل سے نکل آیا اور اعلان کیا کہ تمام لوگ عشاء کی نماز جامع مسجد میں پڑھیں ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: مجمع منتشر ہونے کے بعد عبید اللہ بن زیاد اپنے احباب اور عہدے داروں کے ساتھ باہر آیا اور ہر محلہ میں اعلان کر دیا: سب لوگوں کا قصور معاف کر دیا گیا ہے اور کسی پر کوئی الزام باقی نہیں ہے اور عشاء کی نماز جامع مسجد میں آکر پڑھو۔ تھوڑی دیر میں مسجد آدمیوں سے بھر گئی ۔ عبید اللہ بن زیاد نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی اور منبر پر کھڑے ہو کر بولا: " (حضرت) مسلم بن عقیل ( رضی اللہ عنہ ) نے تم لوگوں میں اختلاف اور نفاق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس کے گھر میں ہم اس کو پائیں گے وہ بری الذمہ ہے اور جو شخص اُسے گرفتار کر کے لائے گا ہم اُس کو انعام دیں گے ۔ اس کے بعد محکمہ پولیس کے سر براہ حصین بن تمیم کوحکم دیا کہ اسی وقت کوفہ کی ناکہ بندی کر لو اور صبح ہوتے ہی تمام مکانات کی تلاشی لینا۔
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی خبر
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ تنہا کوفہ کی گلیوں میں بھٹک رہے تھے اور باب بنو کندہ کی طرف جارہے تھے اور اسی درمیان میں عبید اللہ بن زیاد نے اپنی کاروائی مکمل کر لی۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ تمیں لوگوں کے ساتھ باب بنوکندہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بنو کندہ کے دروازے تک پہنچتے پہنچتے یہ میں لوگ بھی علیحدہ ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ تن تنہا بھٹکتے ہوئے بنو کندہ کی ایک عورت کے مکان پر پہنچے ( جس کا نام طوعہ تھا اور اس کا لڑکا سپاہی تھا) طوعہ باہر آئی اور پوچھا تو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے اُس سے پانی طلب کیا اور اُس نے پانی پلایا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ اُسی کے دروازے پر بیٹھ گئے ۔ طوعہ نے کہا: "اے اللہ کے بندے! کیا تم نے پانی نہیں پیا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں ! پانی پیا۔ طوعہ نے کہا: ” پھر یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ اپنے گھر جاؤ“ اس نے تین مرتبہ کہا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش بیٹھے رہے۔ تب طوعہ بولی : "سبحان اللہ! میں تم کو گھر جانے کا کہتی ہوں اور تم خاموش بیٹھے ہو ، اُٹھو اپنے گھر جاؤ، مجھے تمہارا یہاں بیٹھنا پسند نہیں ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک سرد آہ بھر فرمایا: ” اس شہر میں میرا کوئی مکان نہیں ہے اور نہ ہی کوئی عزیز اور رشتہ دار ہے۔ کیا تم مجھے پناہ دے سکتی ہو؟ اور میرے ساتھ کچھ بھلائی کرسکتی ہو؟ شاید اس کے بعد میں کبھی تم کو اس کا معاوضہ دے سکوں ۔ طوعہ نے کہا: ” آپ کون ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں مسلم بن عقیل ہوں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا چا زاد بھائی ! مجھے کوفہ والوں نے دھوکا دیا ہے ۔ " طوعہ نے کہا: ”اچھا آپ رضی اللہ عنہ میرے مکان میں تشریف لائے ۔ اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے مکان کے اندورنی احاطے میں ٹھہرایا ، کھا نالائی لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے کھانا نہیں کھایا۔ اسی دوران طوعہ کا بیٹا آگیا تو اُس سے بڑے اصرار سے طوعہ نے عہد و پیمان اور وعدہ لیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا۔ اُس وقت تو بلال (علامہ محمد بن جریر طبری نے ہلال لکھا ہے ) خاموش رہا لیکن جب صبح عبید اللہ بن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی گرفتاری کے لئے ایک جلسہ عام منعقد کیا تو بلال نے حاضر ہو کر عبدالرحمن بن محمد بن اشعث کو آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا۔ عبد الرحمن نے اپنے باپ محمد بن اشعث کو بتایا۔ محمد بن اشعث نے بھرے دربار میں عبید اللہ بن زیاد کو بتایا تو اُس نے محمد بن اشعث کو ستر سپاہی دے کر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرنے کے لئے بھیجا اُن میں عمرو بن عبید اللہ بن عباس سلمی بھی تھا
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی گرفتاری
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ طوعہ کے گھر میں پناہ لیئے ہوئے تھے اور طوعہ کے بیٹے نے آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دھوکا کر دیا اور عبید اللہ بن زیاد کو آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں خبر دے دی ۔ عبید اللہ بن زیاد نے آپ رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرنے کے لئے ستر سپاہیوں کا بھیجا۔ اُن سب نے طوعہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور اُس سے کہا کہ تم حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو ہمارے حوالے کرو لیکن وہ انکار کرنے لگی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ ان لوگوں کی آواز سن کر تلوار کھینچ کر نکل آئے اور نہایت مردانگی سے مقابلہ کرتے ہوئے انہیں گھر سے باہر نکال دیا۔ بار بار وہ لوگ حملہ آور ہوتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ انہیں باہر دھکیل دیتے تھے۔ بکیر بن حمران احمدی نے تلوار چلائی تو آپ رضی اللہ عنہ کا اوپر کا ہونٹ کٹ گیا، دو دانت ٹوٹ گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بھی بڑھ کر اُس کے سر پر تلوار کا وار کیا اور دوسرا وار اُس کے کندھے پر کیا وہ منہ کے بل گر گیا۔ اُس کے ساتھی پاس پڑوس کے گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو پھر پھینک پھینک کر مارنے لگے۔ یہاں آپ رضی اللہ عنہ مجبور ہو گئے۔ پھر بھی تلوار سے پتھروں کو روکنے کی کوشش کرتے رہے اور جو بھی قریب آنے کی کوشش کرتا تھا اُس پر حملہ کر دیتے تھے۔ محمد بن اشعث نے دور سے چلا کر کہا: ” تم کو امان دی جاتی ہے اس لئے لڑنا بند کر دو “ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر شخص ایک روز موت کے پنجہ میں گرفتار ہوگا اور مجھے خوف ہے کہ میں جھٹلایا، دھوکا دیا جاؤں گا۔ محمد بن اشعث بولا : " تم جھٹلائے نہیں جاؤ گے اور تم کو دھوکا نہیں دیا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ پر اتنے زیادہ پتھر برس چکے تھے کہ پورے جسم پر زخم ہو گئے تھے اور اُن سے خون نکلنے جی وجہ سے کمزوری آتی جارہی تھی ۔ پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ تن کر کھڑے تھے لیکن دھیرے دھیرے جنگ کرنے کی تاب نہ رہی تو آپ رضی اللہ عنہ احاطے کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ محمد بن اشعث نے سب لوگوں کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کو امان دی اور صرف عمرو بن عبید اللہ نے امان نہیں دی۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کو خچر پر سوار کرا کر عبداللہ بن زیاد کی طرف لے کر چلے تو عمرو بن عبید اللہ نے آپ رضی اللہ عنہ کی تلوار لے لی۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ پہلی بدعہدی ہے ۔ محمد بن اشعث نے کہا: " تم مطلق خوف نہ کرو کسی قسم کا اندیشہ نہیں ہے۔“
کاش کوئی حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ کو خبر دے
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو جب گرفتار کر کے لے چلے تو سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ سے تلوار چھین لی گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ بد عہدی ہے تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اندیشہ یا خوف نہ کریں۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اندیشے کی کیا اور کوئی صورت ہوتی ہے؟ اور تمہاری امان کہاں ہے؟ تم نے میری تلوار لے لی اور اب میں بے دست و پا ہوں ۔“ اتناہی فرما پائے تھے کہ گلہ رندھ گیا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ عمر بن عبید اللہ بولا اب کیوں روتے ہو؟ تم نے جو کچھ کیا ہے تو اس پر تمہارے ساتھ یہی ہونے والا تھا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں اپنے لئے نہیں رورہا ہوں بلکہ مجھے اپنے اہل وعیال اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آل حسین پر رونا آرہا ہے جو تمہاری طرف آنے والے ہیں۔ کاش کوئی حضرت حسین بن علی کو بر دیتا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہاں نہیں آئیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں اپنے لئے نہیں رورہا ہوں اور نہ ہی میں رحم کی کوئی اُمید رکھتا ہوں۔ میں تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آل حسین کے لئے رو رہا ہوں ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے محمد بن اشعث کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ” اے اللہ کے بندے اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ تو میری وصیت کو پورا کرنے سے عاجز ہے پھر بھی میں تجھ سے کہ رہا ہوں اگر تو کسی شخص کو بھیجنے کی طاقت رکھتا ہے تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تک میرا یہ پیغام پہنچادے۔ مجھے معلوم ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے اہل بیت آج یا کل کو فہ آنے کے لئے روانہ ہو چکے ہیں اور اسی وجہ سے تو مجھے گھبراہٹ میں مبتلا دیکھ رہا ہے۔ انہیں کہنا کہ مجھے (حضرت) مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ ) نے آپ رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا ہے اور وہ لوگوں کی قید میں ہیں اور انہیں معلوم نہیں ہے کہ وہ صبح کو قتل کئے جائیں گے یا شام کو اور وہ آپ رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ واپس لوٹ جائیں اور اہل کوفہ آپ رضی اللہ عنہ کو دھوکہ نہ دے سکیں۔ بے شک اہل کوفہ نے آپ رضی اللہ عنہ کی تکذیب کی اور مجھے جھٹلایا اور جھوٹے کی کوئی رائے نہیں ہوتی ہے۔“
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی وصیت
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوگرفتار کر کے لے جایا جارہا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ کی سب سے بڑی تمنا اُس وقت یہی تھی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ نہ آئیں۔ اس کے بارے میں انہوں نے محمد بن اشعث سے کہا کہ کسی بھی طرح انہیں یہ خبر پہنچا دو۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اس کے بعد حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے محمد بن اشعث سے مخاطب ہو کر فرمایا: ” میں دیکھ رہا ہوں کہ تم مجھے امان دینے سے مجبور ہو۔ خیر جو کچھ ہوا اچھا ہوا۔ اب تم میرا ایک کام کر سکتے ہو؟ کیا تم میں اتنی طاقت ہے کہ کسی شخص کے ذریعے سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ خبر بھیج دو اور میری طرف سے یہ کہلا بھیجو کہ وہ اپنے اہل بیت کے ساتھ واپس چلے جائیں ۔ محمد بن اشعث نے وعدہ کر لیا اور حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ایک قاصد کے ذریعے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بر بھی بھیجی اور وہ قاصد آپ رضی اللہ عنہ سے مقام زبالہ میں ملا اور حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی اور وصیت کا ذکر کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ واپس چلے جائیں لیکن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ واپس نہیں ہوئے اور فرمایا: ” جو مقدر میں ہے وہ ضرور ہونے والا ہے ۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کولیکر محمد بن اشعث محل میں پہنچا اور آپ رضی اللہ عنہ کو دروازے پر بٹھا کر اندر عبید اللہ بن زیاد کے پاس گیا اور تمام واقعہ بتا کر کہا کہ میں نے انہیں امان دی ہے۔ یہ سن کر عبید اللہ بن زیاد غصہ میں آگیا اور بولا : ” کو اور امان دے رہا ہے؟ میں نے تجھے اُس کو گرفتار کر کے لانے کے لئے بھیجا تھا یا امان دینے کے لئے ؟ محمد بن اشعث دم بخودرہ گیا اور جب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ و عبید اللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ سے سلام نہیں کیا ۔ جسی از دی نے کہا: ” تم نے امیر کو سلام نہیں کیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر یہ امیر میرے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تو میر اسلام کس کام کا ؟ اور اگر یہ میرے قتل کا ارادہ نہیں رکھتا ہے تو بہت سلام ہو جائیں ۔ عبید اللہ بن زیاد بولا : ” میں تمہیں ضرور بالضر وقتل کروں گا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں بھی یہی خیال کرتا ہوں۔ اچھا تم مجھے اجازت دو کہ میں اپنے لوگوں کے لئے کچھ وصیت کر دوں ۔ عبید اللہ بن زیاد نے اجازت دے دی۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد یہ مشہور صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے ) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”میری اور تمہاری رشتہ داری ہے اور میں تم سے اکیلے میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں ۔ عمر بن سعد نے عبید اللہ بن زیاد کی طرف دیکھا تو اُس نے کہا: ”جاؤ کیلے میں اُس کی باتیں سن لو، میں تم کو تمہارے ابن عم کی بات سننے سے نہیں روکوں گا ۔ دونوں اُٹھ کر ایک گوشے میں چلے گئے تو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں کوفہ میں فلاں شخص سے سات سو درہم قرض لئے تھے اسے تم میری طرف سے ادا کر دینا اور میرے قتل ہونے کے بعد میری لاش کو اجازت لے کر دفن کر دینا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس کسی قاصد کو بھیج کر پیغام دینا کہ وہ کوفہ نہیں آئیں ۔“
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں