جمعرات، 5 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 10

 

 10 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 10

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی مکہ مکرمہ روانگی، حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا انکار، یزید کی قسم، مکہ مکرمہ پر لشکر کشی، یزید کے لشکر کی شکست، کوفیوں پر بھروسہ نہ کرنا، اہل کوفہ کا بلاوا اور اصرار، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی کوفہ روانگی، کو فیوں کا جوش اور حضرت نعمان بن بشیر کی حق گوئی، کوفہ آ جائیے حالات سازگار ہیں، عبید اللہ بن زیاد بصرہ کے ساتھ ساتھ کوفہ کا بھی گورنر، 



حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی مکہ مکرمہ روانگی


حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے مکہ مکرمہ چلے جانے کے بعد ولید بن عتبہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ دن بھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈنے میں وہ لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بھولے رہے۔ شام کے وقت اُن کے پاس لوگوں کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا: ” صبح ہونے دو پھر دیکھا جائے گا۔ رات بھر کے لئے وہ لوگ خاموش ہو گئے اور اصرار نہیں کیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُسی رات کو یعنی اٹھائیس 28 ماہ رجب المرجب 60 ہجری کی رات کو مدینہ منورہ سے نکل گئے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں، بھائیوں اور بھتیجوں کو لے کر نکلے اور صرف اپنے ایک بھائی محمد بن حنفیہ کو مدینہ منورہ میں ہی رہنے دیا۔ محمد بن حنفیہ نے کہا: بھائی! تمام خلق میں آپ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر میں کسی کو عزیز اور دوست نہیں رکھتا ہوں اور خیر خواہی کا کلمہ آپ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کے لئے دنیا میں میرے منہ سے نہیں نکلے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے لوگوں کو لیکر یزید اور سب شہریوں سے جہاں تک ہو سکے الگ رہیئے اور اپنے قاصدوں کولوگوں کے پاس بھیجیں کہ وہ آپ رضی اللہ عنہ سے بیعت کریں ۔ اگر لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلیں تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ اگر کسی دوسرے کی بیعت پر وہ متفق ہو جائیں تو اس میں آپ رضی اللہ عنہ کے دین و عقل و مروت و فضل کو اللہ تعالیٰ کوئی ضرر نہیں پہنچنے دے گا۔ ان شہروں میں سے کسی شہر میں لوگوں کی کسی جماعت میں آپ رضی اللہ عنہ کے جانے سے مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ ان میں اختلاف پڑ جائے گا۔ ایک گروہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوگا اور دوسرا آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف ہوگا۔ اگر کشت و خون کی نوبت آئے گی تو سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف برچھیوں کا رُخ ہو جائے گا اور آپ رضی اللہ عنہ جیسے شخص کا جو ذاتی اور خاندانی شرف میں بہترین اسم ہے بہت آسانی سے خون بہایا جائے گا اور سب اہل و عیال بھی تباہی میں مبتلا ہوں گے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” پھر میں کدھر جاؤں بھائی ؟ محمد بن حنفیہ نے عرض کیا : ” آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں قیام پذیر ہو جائیے وہاں اطمینان حاصل ہو جائے تو بہت ہی اچھی بات ہے اور اگر تشویش کا سامنا ہوتو وہاں ریگستانوں اور کوہستانوں میں نکل جائیے۔ ایک سے دوسرے مقام کی طرف سفر کرتے رہیئے اور یہ دیکھیئے کہ اونٹ کس کل بیٹھتا ہے اور پھر دیکھیئے کہ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی رائے کیا قرار پاتی ہے۔ تمام امور کو سامنے کے رخ سے دیکھیئے تو زیادہ تر ترین صواب اور مقتضائے عقل کی بات ہے اور اس سے بڑھ کر مشکل کا سماں کسی امر میں نہیں ہے کہ اُلٹے رخ سے اس پر نظر کی جائے ۔“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بھائی تم نے خیر خواہی اور شفقت کا کلمہ کہا ہے اور اُمید ہے کہ تمہاری رائے درست اور موافق ہوگی ۔ اس کے بعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال کو لیکر مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے۔


حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا انکار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے تو ولید نے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یزید کی بیعت کرنے کے لئے پریشان کرنا شروع کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب ولید بن عتبہ نے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کو بلا بھیجا اور کہا: ” یزید سے بیعت کرو۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” جب سب بیعت کرلیں گے تو میں بھی بیعت کر لوں گا۔ ایک شخص بول اٹھا: ”تمہیں بیعت کرنے سے کون سا امر مانع ہے؟ تم یہی چاہتے ہو کہ لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے ۔ کشت وخون ہو اور سب فنا ہو جائیں ۔ جب مصیبت گزر جائے تو سب یہی کہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی باقی نہیں رہا اس لئے ان سے بیعت کر لو۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نہیں چاہتا کہ کشت وخون ہو اور میں نہیں چاہتا کہ لوگوں میں اختلاف پیدا ہو اور میں یہ نہیں چاہتا کہ سب لوگ فنا ہو جائیں۔ میں تو بس اتنا ہی کہتا ہوں کہ سب لوگ بیعت کر لیں گے اور میرے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا تو میں بھی بیعت کرلوں گا۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا گیا اور اب کوئی انہیں ڈرا تا اور دھمکا تا نہیں تھا۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے پہلے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے تھے اس لئے آپ رضی اللہ عنہ پہلے مکہ مکرمہ پہنچے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے ۔ وہاں عمرو بن سعید گورنر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُس سے فرمایا: ” میں پناہ لینے آیا ہوں ۔ اور لوگوں کے ساتھ نماز اور اعمال میں شریک نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنے ہمراہیوں کے ساتھ کنارے توقف کیا کرتے تھے ۔ سب کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اعمال بجالاتے تھے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جب مکہ مکرمہ کی طرف چلے تو یہ آیت تلاوت فرمائی: ترجمہ " حضرت موسیٰ علیہ السلام امید و بیم کی حالت میں شہر سے نکلے اور کہا پر وردگارا ظالم قوم کے ہاتھ سے مجھے نجات دے۔“ (سورہ القصص آیت نمبر (21) جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو یہ آیت تلاوت فرمائی : ترجمہ ”جن ( حضرت ) موسیٰ علیہ السلام مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہا اُمید ہے کہ میرا مالک مجھے سیدھے راستے پر لگا دے گا۔ (سورہ القصص آیت نمبر 22)


یزید کی قسم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی پاداش میں یزید نے ولید بن عقبہ کو معزول کر دیا اور عمرو بن سعید کو مدینہ منورہ کا گورنر بنا کر بھیجا۔ اُس نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بھائی عمرو بن زبیر کو مدینہ منورہ کے پولیس محکمے کا سب سے بڑا افسر بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال 60 ہجری ماہ رمضان میں یزید نے ولید بن عقبہ کو معزول کر کے عمر  بن سعید اشدق کو گورنر بنایا۔ وہ ماہ رمضان 60 ہجری میں مدینہ منورہ میں داخل ہوا۔ اہل مدینہ اُس سے ملاقات کرنے گئے۔ اس درمیان یزید اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے درمیان قاصدوں کی آمد و رفت جاری رہی۔ آخر کار یزید نے قسم کھالی کہ جب تک (حضرت ) عبد اللہ بن زبیر (رضی اللہ عنہ) زنجیر میں جکڑا ہوا میرے سامنے نہیں آئے گا تب تک میں اُس کی کوئی بات نہیں مانوں گا ۔ عمر بن سعید جب مدینہ منورہ آیا تو اُس نے اس خیال سے عمر و بن زبیر کو پولیس محکمے کا سب سے بڑا افسر مقرر کیا کہ اسے معلوم تھا کہ عمرو بن زبیر اپنے بھائی حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہے۔ عمرو بن زبیر نے جن لوگوں کو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بہی خواہوں میں دیکھا اُن سب کو بری طرح پٹوایا۔ منذر بن زبیر اور اُن کے بیٹے محمد بن منذر، عبد الرحمن بن اسود، خبیب بن عبد اللہ بن زبیراور محمد بن عمار بن یاسر۔ ان سب لوگوں کو کسی کو چالیس اور کسی کو ساٹھ کوڑے لگوائے ۔ عبد الرحمن بن عثمان ، عبدالرحمن بن عمرو بن سہل کچھ لوگوں کو لیکر جان بچا کر مکہ مکرمہ چلے گئے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عمرو بن سعید 60 ہجری میں داخل مدینہ ہوا اور اس نے پولیس کی افسری عمرو بن زہیر کو دی اس کی وجہ یہ تھی کہ عمرو بن زبیر اور اُس کے بھائی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ میں کسی وجہ سے نا چاقی اور کشیدگی تھی۔ اسی لئے عمرو بن زبیر نے جو لوگ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بھلا چاہتے تھے انہیں گرفتار کر کے کسی کو چالیس اور کسی کو ساٹھ درے لگوائے۔


 مکہ مکرمہ پر لشکر کشی


حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں تھے۔ یزید نے اپنی قسم کو پورا کرنے کے لئے عمرو بن سعید کو حکم دیا کہ مکہ مکرمہ ایک لشکر بھیجو جو ( حضرت ) عبد اللہ بن زبیر ( رضی اللہ عنہ ) کو گرفتار کر کے زنجیروں میں جکڑ کر لے آئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ادھر مکہ مکرمہ میں حارث بن خالد مخزومی نماز پر مقرر تھے۔ انہیں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا۔ عمرو بن سعید نے اپنے پولیس کے بڑے افسر عمرو بن زبیر سے پوچھا: "یزید کے حکم کو پورا کرنے کے لئے تمہارے بھائی (حضرت) عبد اللہ بن زبیر ( رضی اللہ عنہ ) کے مقابلہ پر یہاں سے کون شخص جائے گا؟ عمرو بن زبیر نے کہا: ” اُس کی سرکوبی کے لئے مجھ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا۔ اہل مدینہ میں سے آزاد غلاموں کا ایک انبوہ کثیر عمرو بن زبیر کے ساتھ روانہ ہوا۔ انیس بن عمر واسلمی سات سو جنگجوؤں کا ساتھ لیکر اس سے آملا عمرو بن زبیر نے لشکر کا مقدمہ الجیش “ ( ہر اول) دستہ بنا کر آگے روانہ کیا۔ اس نے مقام ” جرف میں جا کر پڑاؤ ڈال دیا۔ جس وقت عمرو بن زہیراپنے لشکر کولیکر روانہ ہونے لگا تو مروان بن حکم وہاں آیا اور عمرو بن سعید سے بولا: مکہ مکرمہ پر حملہ نہ کرو، اللہ سے ڈرو اور خانہ کعبہ کی بے حرمتی کرنے سے بچو۔ (حضرت) عبد اللہ بن زبیر ( رضی اللہ عنہ ) بوڑھا ہو چکا ہے ساٹھ برس کی عمر ہو چکی ہے اور وہ ضدی آدمی ہے۔ تم اسے قتل نہ کرو وہ تواللہ کی قسم خود ہی مرنے والا ہے۔ اس پر عمرو بن زبیر نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم تو خانہ کعبہ میں جدال و قتال کریں گے اور کسی کو ناگوار ہوتو ہماری بلا سے ۔“ مروان بن حکم نے کہا: ” یہ امر بہت ناگوار ہے۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عمرو بن سعید نے عمرو بن زبیر کو سات سو سواروں کا سپہ سالار جن میں میر اسلمی بھی تھا مکہ مکرمہ روانہ کرنے لگا تو مروان بن حکم آگیا اور بولا : اللہ سے ڈرو اور بیت اللہ کی حرمت کو حلال نہ کرو، ( حضرت ) عبد اللہ بن زبیر ( رضی اللہ عنہ ) کو نظر انداز کر دو اُس کی عمر ساٹھ سال ہو گئی ہے اب وہ کیا کسی مخالفت کرے گا ۔ عمرو بن زبیر بولا: ” میں اُس سے خانہ کعبہ میں لڑوں گا۔ یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ آگئے اور عمرو بن سعید کو مخاطب کر کے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے صرف ایک دن صرف ایک ساعت کے لئے مکہ مکرمہ میں جنگ کرنے کی اجازت ملی ہے اور اس کے بعد اس کی حرمت ویسی ہی ہوگئی جیسی پہلے تھی ۔ عمرو بن زبیر نے گستاخی کرتے ہوئے کہا: "اے بڈھے! ہم تجھ سے زیادہ مکہ مکرمہ کی حرمت کو جانتے ہیں بعض مورخین کے مطابق یزید نے عمرو بن سعید کو حکم دیا تھا کہ عمرو بن زہیر کو ایک لشکر جرار دے کر اُس کے بھائی کی طرف روانہ کرو تو اس نے عمرو بن زبیر کے ساتھ دو ہزار کا لشکر روانہ کیا۔ اور ”مقدمتہ الجیش “ پر انہیں تھا۔


یزید کے لشکر کی شکست


حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کوگرفتار کرنے کے لئے عمرو بن زہیر کی زیر قیادت ایک لشکر مکہ مکرمہ پہنچا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اُنہیں روانہ ہو کر مقام ذی طوی میں اور عمر و بن زہیر مقام ابطح میں قیام پذیر ہوا۔ یہاں سے اُس نے اپنے بھائی حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا لکھا: ” خلیفہ یزید کی قسم کو پورا کرو اور اپنی گردن میں چاندی کی ہلکی سی زنجیر جو دکھائی نہ دیتی ہو ڈال لو اور لوگوں کو آپس میں لڑانے کی معاملے میں اللہ سے ڈرو اور اس بات سے ڈرو کہ تم اُس شہر میں جس میں جنگ اور قتال حرام ہے ۔ “ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "میرا اور تیرا مقابلہ مسجد الحرام ( خانہ کعبہ کے اطراف بنی مسجد) میں ہوگا ۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن صفوان تجھی کو شکر دے کر مقام ذی طوی کی طرف اُنیس سے مقابلہ کرنے کے لئے روانہ کیا اور اس کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہو گئے جو بیرون مکہ میں مقیم تھے۔عبداللہ بن صفوان تھی نے انہیں پر حملہ کیا، زبردست جنگ ہوئی اور انہیں کو شکست فاش ہوئی۔ یہ دیکھ کر عمرو بن زبیر کے لشکر میں سے ایک گروہ نے اُس کا ساتھ چھوڑ دیا تو بھاگ کر علقمہ کے گھر میں چلا گیا۔ اُس کا بھائی عبید اللہ بن زبیر اُس سے ملنے آیا اور اُسے پناہ دی۔ اس کے بعد عبید اللہ بن زبیر مکہ مکرمہ میں داخل ہوا اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آکر بولا : ” میں نے عمرو بن زبیر کو پناہ دے دی ہے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تم نے لوگوں پر مظالم کرنے والے کو پناہ دی ہے اور یہ بالکل مناسب نہیں ہے ۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عمرو بن زبیر کو زندان عارم “ میں قید کر دیا۔


کوفیوں پر بھروسہ نہ کرنا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لا رہے تھے تو انہیں اُن کے ایک خیر خواہ نے مشورہ دیا کہ کوفیوں پر قطعی بھروسہ نہیں کرنا کیونکہ انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم خلیفہ چہارم رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور آپ رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بے وفائی کی تھی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جس وقت حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لا رہے تھے تو اثناء راہ میں عبد اللہ بن مطیع سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے عرض کیا ” آپ رضی اللہ عنہ کہاں جارہے ہیں؟“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فی الحال تو مکہ مکرمہ جا رہا ہوں، اس کے بعد آگے جہاں اللہ کی مرضی ہوگی ۔ عبد اللہ بن مطیع نے درخواست کی :” اے آل رسول رضی اللہ عنہا ہرگز ہر گز کوفہ کا قصد نہ کیجیئے گا، ان ہی لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم کو شہید کیا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی کو دھوکا دیا ہے اور یہ کوئی بہت ہی بد عہد اور پیمان شکن ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں ہی قیام پذیر ہیں اور حرم شریف سے بھول کر بھی باہر نہ جائیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ عرب کے سردار ہیں اس لئے جن کو خیر خواہی کرنی ہوگی وہ خود ہی یہاں آئیں گے اور جب تک حجاز کے لوگ آپ رضی اللہ عنہ سے استدعا نہ کریں تب تک حرم شریف کو نہیں چھوڑیے گا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُن کی باتیں ذہن نشین کر لیں اور اپنے اہل و عیال اور اہل خاندان کو لیکر مکہ مکرمہ تشریف لے آئے۔ مملکت اسلامیہ سے لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے لگے اور ہر علاقے کے لوگ اپنی اپنی رائے دینے لگے ۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ خاموشی سے خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور نماز پڑھتے تھے جبکہ الگ الگ علاقوں سے لوگ آ آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں شریک ہوتے اور تمام حالات حاضرہ کی خبر دے کر مشورہ لیا کرتے تھے۔


اہل کوفہ کا بلاوا اور اصرار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں قیام پذیر تھے۔ جب اہل کوفہ کے یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت نہیں کی ہے تو انہوں نے بھی یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دینے لگے جب آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا تو کوفیوں کا اصرار بڑھنے لگا اور مسلسل خطوط بھیجنے لگے۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جب کو فیوں کو یزید کی بیعت اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مکہ مکرمہ چلے جانے کا حال معلوم ہوا تو وہ لوگ سلیمان بن صرد کے مکان پر جمع ہوئے اور چند لوگوں جن میں سلیمان بن صرد، مسیتیب بن محمد، رفاعہ بن شداد اور حبیب بن مظاہر بھی تھے کی طرف سے یہ خط لکھا: ”اے آل رسول حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ! یہاں تشریف لائیے، ہم لوگوں نے نعمان بن بشیر ( کوفہ کے گورنر ) کے ہاتھ پر یزید کی بیعت نہیں کی ہے اور نہ ہی ہم جمعہ اور عیدین کی نماز میں اُن کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ یہاں آجائیں گے تو ہم اُس کو نکال دیں گے ۔“ یہ خط عبد اللہ بن سبع ہمدانی اور عبداللہ بن دال کی معرفت روانہ کیا گیا۔ جس دن یہ خط حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ملا اس کے دورا توں بعد دوسرا خط آیا جس میں تقریباً دیڑھ سو آدمیوں کی جانب سے یہی مضمون لکھا ہوا تھا۔ پھر تیسری مرتبہ بھی اسی مضمون کا خط روانہ کیا گیا جس کو شبت بن ربعی ، حجاز بن جبر، یزید بن حارث، یزید بن رویم، عروہ بن قیس معمر بن حاج زبیدی اور محمد بن عمر تیمی وغیرہ نے بڑے شدومد کے ساتھ لکھا تھا۔ مسلسل اور متواتر خطوط کے آنے سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خیالات میں غیر معمولی تبدیلی آنے لگی اور آپ رضی اللہ عنہ اس معاملے میں غور و فکر کرنے لگے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو تحقیق کے لئے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی کوفہ روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے تمام حالات کی تحقیق کرنے کے لئے اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوکو نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا اور انہیں ایک خط لکھ کر دیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے کوفیوں کو جواب میں لکھا: جو تم لوگوں نے لکھا ہے میں اُسے سمجھ گیا ہوں۔ فی الحال اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو بھیج رہا ہوں ۔ یہ تمہارے حالات کا مشاہدہ کریں گے اور پھر مجھے اطلاع دیں گے۔ اگر تم اور تمہارے رؤساء ملت نے ویسا ہی اتفاق کیا جیسا کہ تم نے مجھے لکھا ہے اور سب اس بات پر جمع اور متفق ہو گئے تو ان شاء اللہ میں عنقریب آجاؤں گا ۔ اللہ کی قسم ! امام وہی ہے جو کتاب اللہ ( قرآن پاک) پر عمل کرتا ہے اور عدل پر رہتا ہے اور دین حق پر چلتا ہے۔ والسلام ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں تھے کہ اُن کے پاس اہل کوفہ اور اُن لوگوں کے قاصد یہ پیام لے کر آئے کہ ”ہم سب لوگ آپ رضی اللہ عنہ پر بھروسہ کئے بیٹھے ہیں۔ ہم نماز جمعہ میں کوفہ کے گورنر کے ساتھ شریک نہیں ہوتے ۔ آپ رضی اللہ عنہ ہم لوگوں میں آجائے ۔ اُس زمانہ میں نعمان بن بشیر انصاری کوفہ کے گورنر تھے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل کو بلا بھیجا اور اُن سے فرمایا: ” تم کوفہ روانہ ہو جاؤ اور یہ دیکھو کہ یہ لوگ واقعی سچ کہہ رہے ہیں یا نہیں ؟ اگر یہ بچے ہیں تو میں وہاں چلا جاؤں گا ۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ وہاں سے مدینہ منورہ آئے اور اپنے ساتھ راستہ بتانے کے لئے دور ہبروں کو لیکر کوفہ روانہ ہو گئے ۔ دونوں رہبر صحرا کی طرف سے لے چلے، راستے میں ایک رہبر پیاس سے مرگیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ ایک نخلستان میں قیام پذیر ہو گئے اور حالات لکھ بھیجے اور آگے کے بارے میں حکم مانگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے خط لکھا کہ تم کوفہ کے لئے آگے بڑھو۔


کو فیوں کا جوش اور حضرت نعمان بن بشیر کی حق گوئی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوفہ پہنچ گئے تو کوفیوں میں بہت جوش و خروش بھر گیا اور کوفہ کے ہزاروں لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو گئے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور آخر کار کوفہ پہنچ گئے۔ وہاں ایک شخص کے یہاں قیام کیا جس کا نام ابن عوسجہ تھا۔ اُن کے آنے کا کوفہ میں چرچا ہوا تو لوگ آ آ کر بیعت کرنے لگے۔ یزید کے حامیوں میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر حضرت نعمان بن بشیر انصاری سے کہا: "یا تو تم کمزور ہو یا پھر کمزور بن رہے ہو دیکھتے نہیں کہ شہر میں خرابی پھیل رہی ہے ۔ حضرت نعمان بن بشیر نے کہا: "اگر اللہ کی اطاعت کرنے میں کمزور سمجھا جاؤں تو یہ اُس سے بہتر ہے کہ اللہ کی معصیت میں رہ کر ” صاحب قوت“ کہلاؤں ۔ میں ایسا شخص نہیں ہوں کہ جس بات پر اللہ نے پردہ ڈال دیا ہے میں اُس کا پردہ فاش کروں ۔ اُس شخص نے حضرت نعمان بن بشیر کی بات یزید کولکھ کر بھیج دی۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ جب کو فہ میں داخل ہوئے تو مسلم بن عوسجہ اسدی کے یہاں قیام کیا اور بعض کا قول ہے کہ مختار بن عبید ثقفی کے گھر قیام کیا۔ اہل کوفہ نے آپ رضی اللہ عنہ کی آمد کے بارے میں سنا تو آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے لئے بیعت کرنے لگے۔ اہل عراق میں سے بارہ ہزار آدمیوں نے بیعت کی پھر وہ بڑھ کر اٹھارہ ہزار ہوگئی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ یکم ذی الحجہ 60 ہجری کو کوفہ میں داخل ہوئے۔ کوفیوں کے دلوں میں کھلبلی پڑگئی ، پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے ۔ جب ان میں سے چند لوگ اکٹھے ہو جاتے تو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ انہیں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا خط پڑھ کر سناتے اور وہ لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے اور امداد کا وعدہ کرتے تھے ۔ رفتہ رفتہ اس کی خبر نعمان بن بشیر گورنر کوفہ کو پہنچی ۔ چونکہ اس کی طبیعت میں حلم وصلح پسندی تھی اس لئے لوگوں کو جمع کر کے خطبہ دیا اور فتنہ وفساد ہونے سے ڈرایا اور صاف لفظوں میں کہا: ” جب تک مجھ سے کوئی نہیں لڑے گا تب تک میں بھی اُس نے نہیں لڑوں گا اور صرف شہر اور بدگمانی کی وجہ سے کسی کو گرفتار نہیں کروں گا۔ ہاں اگر تم نے ابتدا کی اور (یزید کی بیعت کو منسوخ کیا اور بادشاہ وقت (یزید) کے مخالف ہوئے تو اللہ کی قسم جب تک میرے ہاتھ میں تلوار کا قبضہ رہے گا تم کو برابر مارتا ہوں گا چاہے میرا کوئی معین و مددگار نہیں رہے ۔ تقریر ختم ہونے پر بنو امیہ کے بعض حامیوں نے کہا: ” تم کو اس طرح کی تقریر نہیں کرنی چاہئے تھی کیونکہ تم نے کمزوروں والی بات کی ہے۔ تمہیں دشمنوں کے ساتھ حتی کا برتاؤ کرنا چاہئے تھا ور نہ دشمنوں کی جرات بڑھ جائے گی ۔ نعمان بن بشیر نے کہا: ” مجھے کمزور ہو کر اللہ کی اطاعت میں رہنا زیادہ پسند ہے اس کے مقابلے میں کہ میں اللہ تعالی کا گنہ گار ہوکر عزت والا بنوں ۔ یہ کہ کر نعمان بن بشیر منبر سے اتر آئے ۔ اس کے بعد عبد اللہ بن مسلم ، تارہ بن ولید بن عقبہ اور عمرو بن سعد بن ابی وقاص نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے کوفہ آنے اور لوگوں کے اُن کی بیعت کرنے اور نعمان بن بشیر کے خطبہ دینے تک کا حال مکمل تفصیل سے یزید کولکھ کر بھیجا اور ساتھ ہی یہ بھی تحریر کیا کہ اگر تم کو کوفہ کی ضرورت ہے تو کسی طاقتور شخص کو مامور کر وجوتمہارے احکام کو استقلال اور قوت سے نافذ کرے اور تمہارے ملک کی حفاظت اور تمہارے دشمنوں کو زیر کر سکے ۔“


کوفہ آ جائیے حالات سازگار ہیں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو حالات کی خبر لینے کے لئے کوفہ بھیجا تھا۔ کوفہ پہنچے کے بعد حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے مختار بن عبید کے گھر قیام کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری کی خبر سن کر لوگ جوق در جوق آنے لگے اور بارہ ہزار نے اُسی وقت آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے لئے بیعت کر لی اور پھر یہ تعداد بڑھ کر اٹھارہ ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی یہ عقیدت دیکھی تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ کی خدمت میں ایک خط لکھ کر بھیجا اور اُس میں تمام حالات کی خبر دی اور التماس کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ جلد از جلد کوفہ تشریف لے آئیں کیونکہ حالات سازگار ہیں ۔ یہ خط آپ رضی اللہ عنہ نے قاصد کو دے کر مکہ مکرمہ کی طرف روانہ کیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: مکہ مکرمہ سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی روانگی کا سبب یہ ہوا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے کوفہ سے لکھا تھا: ” آپ رضی اللہ عنہ یہاں ضرور تشریف لائیے کیونکہ اٹھارہ ہزار آدمی بیعت کر چکے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ کے ہاتھ پر اٹھارہ ہزار اہل کوفہ نے بیعت کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے عابس بن ابی حبیب کے ہاتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ کر بھیجا: "پیغا مہر اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا۔ مجھ سے اٹھارہ ہزار اہل کوفہ نے بیعت کر لی ہے جلدی سے میرے خط کے ملتے ہی اس طرف روانہ ہو جائے ، سب لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہیں آل معاویہ (یزید) سے انہیں کوئی مطلب نہیں ہے اور نہ ہی وہ اُس کی خواہش رکھتے ہیں ۔ والسلام “


عبید اللہ بن زیاد بصرہ کے ساتھ ساتھ کوفہ کا بھی گورنر


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یزید کو خبر لی تو یزید نے اس بارے میں اپنے ایک آزاد غلام سے مشورہ کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یزید نے اپنے آزاد کردہ غلام کو بلایا جس کا نام سر جون تھا اور یزید اُسی سے مشورہ کیا کرتا تھا اور کوفہ کے تمام حالات اُسی سے بیان کیا اور مشورہ مانگا۔ سرجون نے کہا: "اگر تمہارے والد معاویہ زندہ ہوتے تو آپ اُن کی بات قبول کر لیتے ؟ یزید نے کہا: ”ہاں! میں ضرور مانتا اُس نے کہا: ” پھر میری بات مانیئے ، کوفہ کے لئے عبید اللہ بن زیاد سے بہتر کوئی نہیں ہے۔ اُس کو وہاں کا گورنر بنا دیجیئے ۔ اس سے پہلے عبید اللہ بن زیاد سے یزید ناراض تھا اور اُسے بصرہ کی گورنری سے معزول کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اب اُسے خط لکھ کر بھیجا کہ میں تم سے خوش ہوں اور بصرہ کے ساتھ ساتھ تمہیں کوفہ کا بھی گورنر بنا دیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ وہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا پتہ لگائے اور جب وہ ہاتھ آجائیں تو انہیں شہید کر دے۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں