09 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 9
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، سب سے زیادہ احادیث کے راوی، آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا قبول اسلام، یادداشت تیز ہوگئی، رات کے تین حصے، ھ60 ہجری: حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی وصیت، مرض الموت، حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال، یزید جنازے میں شریک نہیں ہوا، یزید مملکت اسلامیہ کا بادشاہ، یزید کا ولید بن عقبہ کو حکم، مروان بن حکم کا مشورہ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا بلاوا، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا بلاوا، یزید کی حکمرانی کے لئے بیعت طلبی، مروان بن حکم کی گستاخی، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی مکہ مکرمہ روانگی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 59 ہجری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے سب زیادہ احادیث مروی ہیں۔ آپ رضی اللہ عند اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ! مجھے ساٹھ ہجری کے آنے سے پہلے اپنی بارگاہ میں بلالے کیونکہ ساٹھ 60 ہجری میں بہت بڑا فتنہ برپا ہونے والا ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نام کے بارے میں علمائے کرام میں بہت اختلاف ہے۔ (ابو ہریرہ کنیت ہے )۔ سب سے زیادہ مشہور روایت کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کا نام ” عبد الرحمن بن صحر“ ہے اور آپ رضی اللہ نہ قبیلہ ازد کی شاخ بنو دوس سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بچپن میں ایک جنگلی بلی دیکھی تو اُس کے بچوں کو اُٹھا کر لے آیا۔ میرے والد نے مجھ سے پوچھا کہ تیری گود میں کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ یہ بلی کے بچے ہیں تو میرے والد نے کہا: تو ابوہریرہ (بلی کا باپ ) ہے ۔ اور صحیح میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : یا ابا ھر اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا ابا ہریرہ“ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا نام میمونہ بنت صحیح بن حارث بن ابی صعب بن ہبتہ بن ثعلبہ ہے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا۔
سب سے زیادہ احادیث کے راوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلے کے سردار حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا اور پھر اُن کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے۔ اُس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر پر کئے ہوئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیبر میں سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ حفاظ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت اسامہ بن زید، حضرت نضرة بن ابي نضرة ، حضرت فضل بن عباس، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سے بھی روایت بیان کیں ہیں ۔ امام بخاری کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ سے تقریباً آٹھ سو صحابہ اور تابعین نے روایت کی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ خیبر کے سال میں اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں غزوہ خیبر میں لوگوں کے جنگ سے فارغ ہونے کے بعد آیا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے باہر گئے ہوئے تھے اور حضرت سباع بن عرفہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب بنا کر گئے تھے ۔ میں مدینہ منورہ آیا تو میں نے صبح کی نماز حضرت سباع بن عرفہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھی۔ انہوں نے پہلی رکعت میں اور مریم اور دوسری رکعت میں ویل للمطفین پڑھی ۔ میں نے دل اور اور میں اپنی قوم کے ایک شخص کے بارے میں سوچا جوناپنے کے دو آلے رکھتا تھا۔ ایک سے وہ لینے کے وقت نا پتا تھا اور دوسرے سے دینے کے وقت نا پتا تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ نہ زیادہ تر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو حدیث سننے اور سمجھنے کی بہت رغبت تھی۔
آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا قبول اسلام
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کے قبول اسلام کا واقعہ خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مسند احمد بن حنبل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری والدہ محترمہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور میں انہیں اسلام کی دعوت اکثر دیا کرتا تھا اور وہ میری بات نہیں مانتی تھیں۔ ایک روز انہوں نے مجھے اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ ایسی باتیں کہہ دیں جنہیں میں پسند نہیں کرتا تھا تو میں روتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنی والدہ کو اکثر اسلام کی دعوت دیتا ہوں آج میں نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اسلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسی باتیں کیں کہ مجھے رونا آگیا ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری والدہ محترمہ کے لئے اللہ سے دعا فرما ئیں کہ وہ انہیں ہدایت دیدے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی: ”اے اللہ! ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرمادے ۔ میں دوڑتا ہوا باہر نکلا کہ اپنی والدہ محترمہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں بشارت دے دوں۔ جب میں اپنے گھر کے دروازے پر آیا تو دیکھا کہ دروازہ بند ہے ۔ میں نے اپنی والدہ محترمہ کو آواز دی تو انہوں نے اندر سے کہا: ”اے ابو ہریرہ ! تھوڑی دیر کو کچھ دیر بعد انہوں نے دروازہ کھولا اور تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنا ڈوپٹہ اوڑھا ہوا تھا اور بولیں: میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ میں جس طرح غم کے باعث پہلے روتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اسی طرح خوشی سے روتا ہوا اب حاضر ہوا اور عرض کیا: "یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول فرمالیا ہے اور میری والدہ محترمہ نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اور میری والدہ محترمہ کو مومن بندوں کا محبوب بنادے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! ابو ہریرہ اور اس کی والدہ محترمہ کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آگے بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے جس مومن کو بھی پیدا کیا ہے اور وہ میرے متعلق اور میری ماں کے متعلق سنتا ہے اور مجھے اور میری ماں کو دیکھتا ہے یا نہیں دیکھتا ہے پھر بھی مجھ سے اور میری ماں سے محبت کرتا ہے ۔ ( مسند احمد بن حنبل) صحیح مسلم میں دوسرے راوی نے یہ حدیث بیان کی ہے۔
یادداشت تیز ہوگئی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے سب سے زیادہ احادیث بیان کی ہیں۔ اس کی کئی وجہ تھیں ۔ پہلی وجہ یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ کی یاداشت بہت اچھی تھی ۔ دوسری وجہ یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد زیادہ تر وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارا تیسری وجہ یہ کہ ۵۹ ہجری تک آپ رضی اللہ عنہ زندہ رہے اور بہت زیادہ تابعین سے ملاقات کی اور انہیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث سنتا ہوں اور انہیں بھول جاتا ہوں ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی چادر پھیلاؤ میں نے اپنی چادر پھیلا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اب اسے لپیٹ لو ۔ میں نے اسے لپیٹ لیا تب سے میں کوئی حدیث نہیں بھولا۔ ( صحیح بخاری ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے تابعین سے فرمایا: ”تم خیال کرتے ہو کہ ابو ہریرہ رسول اللہ صل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتا ہے۔ دراصل میں کمانے کھانے کی فکر چھوڑ کر ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا تھا جبکہ مہاجرین رضی اللہ عنہم بازاروں میں تجارت میں اور انصار رضی اللہ عنہم اپنی زمینوں کی دیکھ بھال اور زراعت میں مصروف رہتے تھے ۔ ایک روز میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میری بات ختم ہونے تک اپنی چادر پھیلائے رکھے گا اور پھر اسے لپیٹ لے گا تو وہ مجھ سے سنی ہوئی کسی بات کو ہر گز نہیں بھولے گا ۔ پس میں نے اپنی چادر پھیلا دی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات مکمل کر لی پھر میں نے اپنی چادر کو لپیٹ لیا اللہ کی تم اس کے بعد سے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ بھی سنا اسے کبھی نہیں بھولا ۔ ( مسند احمد بن حنبل ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ احادیث روایت کرنے والا نہیں تھا ، حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ حدیث کولکھ لیا کرتے تھے اور میں یاد کر لیا کرتا تھا۔“
رات کے تین حصے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی رات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ” حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو صدق ، حفظ ، دیانت ، عبادت، زہد، اور عمل صالح میں بڑا مقام حاصل تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک تہائی شب قیام کرتے تھے اور پھر اُن کی بیوی ایک تہائی شب قیام کرتی تھی اور پھر اُن کی بیٹی ایک تہائی شب قیام کرتی تھی ۔ صحیحین میں آپ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : ”مجھے میرے خلیل نے ہر مہینے تین دن روزے رکھنے کی اور چاشت کی نماز کی دورکعت پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی وصیت کی ہے ۔ " حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں رات کے تین حصے کرتا ہوں۔ ایک حصہ قرآن پاک کی تلاوت اور سمجھنے میں لگا تا ہوں ۔ ایک حصے میں سوتا ہوں اور ایک حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو یاد کرنے (آموختہ کرنے ) میں گزارتا ہوں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں ہر روز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بارہ ہزار (12,000) مرتبہ تو بہ واستغفار کرتا ہوں اور یہ میری دیت کے برابر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دھاگا تھا جس میں بارہ ہزار (12,000) گر ہیں تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ سونے سے پہلے اس کے ذریعہ تسبیح کرتے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے دھاگے میں ایک ہزار (1,000) گر ہیں تھیں اور آپ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ تسبیح کئے بغیر سوتے نہیں تھے ۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو رونے لگے۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیوں روتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس دنیا پر نہیں رورہا ہوں بلکہ اپنے سفر ( آخرت ) کی دوری اور اپنے زاد (اعمال) کی کمی پر رورہا ہوں اور میں جنت اور دوزخ کی ترائی اور چڑھائی میں ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ مجھے پکڑ کر کس طرف لے جایا جائے گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب تم اپنی مساجد کو نقش و نگار سے مزین کرو گے اور اپنے مصاحف کو آراستہ کرو گے تو تم پر ہلاکت آئے گی۔
ھ60 ہجری: حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی وصیت
اس سال 60 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے یزید کے لئے وصیت لکھوائی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت قریب آیا اور یہ واقعہ 60 ہجری کا ہے اور یزید اس وقت موجود نہیں تھا تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحب شرط ضحاک بن قیس فہری کو اور مسلم بن عقبہ کو بلوایا اور ان دنوں شخصوں سے وصیت کی اور کہا: ” میری وصیت یزید کو پہنچا دینا کہ اہل حجاز کے حال پر نظر رکھنا وہ تیری قوم کے لوگ ہیں۔ اُن میں سے جو کوئی تیرے پاس آئے اُس کا اکرام کرنا اور جو دور ہوں اُن کا خیال رکھنا اور اہل عراق کے حال پر نظر رکھنا۔ اگر تجھ سے روز روز وہ سوال کریں کہ اُن کے حاکم کو بدل دے تو بدل دیا کرنا۔ اُن کو ہمراز اور دم ساز بنائے رکھنا۔ اگر دشمن کی طرف سے کوئی مہم درپیش ہو تو اُن کے ذریعہ سے انتقام لینا۔ جب ظفر مند ہو جانا تو اہل شام کو اُن کے وطن کی طرف واپس کر دینا۔ غیر شہروں میں وہ رہیں گے تو وہیں کی باتیں سیکھیں گے اور قریش میں سے تین شخصوں کے سوا مجھے کسی کا خوف نہیں ہے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) ، (حضرت) عبد اللہ بن عمر فاروق (رضی اللہ عنہ ) اور (حضرت) عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ) ۔ عبد اللہ بن عمر فاروق (رضی اللہ عنہ ) کو تو دینداری نے مارا ہے وہ تجھ سے کسی بات کا طلب گار نہیں ہوگا۔ ( حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) سبک وضع آدمی ہے اور مجھے امید ہے کہ جن لوگوں نے اُس کے باپ کو قتل کیا ہے اور اُس کے بھائی کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اللہ انہیں لوگوں کے ذریعہ سے تجھے حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کی فکر سے نجات دے گا اور اس میں شک نہیں ہے کہ اُس کو قربت قربیہ حاصل ہے۔ بہت بڑا حق ہے اُس کا اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے یگانوں کا ۔ میرا گمان ہے کہ اہل عراق اُس کو خروج پر آمادہ کئے بغیر نہیں چھوڑیں گے اُس پر قابو پانا تو معاف کر دینا ۔ میرے پاس کوئی ایسا شخص آتا تو میں بھی معاف ہی کر دیتا۔ ہاں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) پر فریب اور کینه توز ہے۔ اُس کے مقابلہ کے لئے تیار رہنا۔ اگر وہ صلح کا طالب ہو تو مان لیتا۔ جہاں تک تجھ سے ممکن ہو سکے اپنی قوم میں خونریزی نہیں ہونے دینا۔
مرض الموت
اس سال 60 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے کہا کہ یہ مرض الموت ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ؛ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو جب مرض الموت ہوا تو لوگ کہنے لگے یہ مرض الموت ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا: ” میری آنکھوں میں سرمہ لگا دو اور میرے سر میں تیل ڈال دو۔ ایسا ہی کیا گیا اور تیل لگا کر اُن کا چہرہ چکنا کر دیا گیا۔ اس کے بعد اُن کے لئے فرش ( دری یا چٹائی یا قالین بچھا دیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” مجھے تکیہ لگا کر بٹھا دو اور لوگوں کو بلاؤ اور کہنا کہ کھڑے کھڑے سلام کریں اور کوئی بیٹھے نہیں ۔ “ لوگ آتے تھے کھڑے کھڑے سلام کرتے تھے دیکھتے تھے کہ سرمہ لگائے ہوئے ہیں اور تیل ڈالے ہوئے ہیں تو کہتے کہ ہم سنتے تھے کہ اُن کا آخری وقت ہے جبکہ یہ تو سب سے زیادہ تندرست ہیں ۔ جب سب لوگ باہر چلے گئے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” جہاں انسان موت کے پنجہ میں آیا تو پھر میں نے دیکھا کہ کوئی تعویذ نفع نہیں بخشتا ۔“
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 60 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا اسی مرض میں انتقال ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو کھنکار میں خون آنے لگا اور اسی میں انتقال ہوا ۔ اس مرض میں آپ رضی اللہ عنہ کی دونوں بیٹیاں انہیں کروٹ بدلواتی تھیں ۔ انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں سے فرمایا: ” تم اُس شخص کو اُلٹ پلٹ کر رہی ہو جو دنیا کو الٹ پلٹ کرنے میں اُستاد تھا ۔ شباب سے لیکر بڑھاپے تک مال جمع کیا پتہ نہیں جنت میں جائے گایا۔ اس کے بعد فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی ایک قمیص پہنے کے لئے دی تھی۔ میں نے اسے سنبھال کر رکھا ہوا ہے اور ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناخن تراشے تھے تو میں نے وہ کترن اُٹھالی تھی اور اسے ایک شیشی میں سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ جب میرا انتقال ہو جائے تو وہ قمیص مجھے کفن کے طور پر پہنا دینا اور اس کترن کو ریزہ ریزہ کر کے میری آنکھوں میں اور میرے منہ میں چھڑک دینا۔ اُمید ہے کہ ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم فرمائے گا۔ اس کے بعد بے ہوشی طاری ہوگئی ۔ پھر ہوش آیا تو جو لوگ موجود تھے اُن سے فرمایا: اللہ سے ڈرتے رہو، جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ سے محفوظ رکھتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا ہے تو اُسے کوئی بچا نہیں سکتا ہے ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ ولید نے امام زہری سے خلفاء کے سن کو پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال پچھتر (75) سال کی عمر میں ہوا۔ ولید نے کہا واہ واہ کیا عُمر تھی ۔ ایک روایت میں تہتر (73) ایک اور روایت میں اٹھہتر (78) اور ایک روایت میں پچاسی (85) سال کی عمر میں انتقال ہوا۔
یزید جنازے میں شریک نہیں ہوا
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت یزید وہاں موجود نہیں تھا اور جب وہ آیا تو اُس کے والد کو دفن کیا چکا تھا علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت یزید موجود نہیں تھا۔ ضحاک بن قیس فہری نے نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ضحاک بن قیس با ہر نکل کر آیا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں وہ قمیص رکھی ہوئی تھی جس کا کفن بنانے کا آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا۔ وہ منبر پر گیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد کہا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ عرب کے سردار تھے اور اُن سے عرب کی شان و شوکت تھی۔ اللہ تعالٰی نے اُن کے ذریعے فتنہ و فساد و قطع کیا اور اپنے بندوں کا بادشاہ بنایا اور اُن کے ہاتھوں ملک فتح ہوئے۔ سنو اُن کا انتقال ہو گیا ہے دیکھو یہ اُن کا کفن ہے۔ یہی کفن اب ہم انہیں پہنادیں گے اور انہیں قبر میں سلا دیں گے اور انہیں اُن کے اعمال کے ساتھ چھوڑ دیں گے پھر قیامت تک برزخ کا زمانہ ہو گا۔ تم لوگوں میں سے جو بھی جنازہ اور کفن دفن میں شامل ہونا چاہے وہ پہلی نماز کے وقت حاضر ہو جائے ۔ یزید مقام حوارین میں تھا۔ اُسے اُس کے والد کی بیماری کا حال لکھ کر بھیج دیا گیا تھا لیکن وہ اُس وقت آیا جب آپ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا جا چکا تھا۔ قبر پر جا کر اس نے دعا پڑھی پھر گھر واپس آیا۔
باب نمبر 2
یزید کا دور حکومت
یزید مملکت اسلامیہ کا بادشاہ
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد یزید مملکت اسلامیہ کا بادشاہ بنا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ماہ رجب المرجب 60 ہجری میں یزید مملکت اسلامیہ کا بادشاہ بنا۔ اس کی پیدائش 26 ہجری میں ہوئی اور جس روز اُس کی بیعت کی گئی اُس کی عمر تئیس (23) سال کچھ مہینے تھی۔ اس نے اپنے باپ کے گورنروں کو برقرار رکھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اسی سال 60 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد یزید سے لوگوں نے بیعت کی۔ یہ واقعہ ماہ رجب المرجب کی پندرہویں یا بائیسویں تاریخ کا ہے۔ یزید جس وقت حکمراں بنا اُس وقت عبید اللہ بن زیاد بصرہ کا گورنر تھا، نعمان بن بشیر کوفہ کے گورنر تھے۔ مدینہ منورہ کا گورنر ولید بن عقبہ بن ابوسفیان تھا اور مکہ مکرمہ کا گورنر عمر بن سعید بن عاص تھا۔ حکمراں بننے کے بعد سب سے پہلے اُسے جو فکر ہوئی وہ یہ کہ جن لوگوں نے اُس کی ولی عہدی کی بیعت نہیں کی تھی اُن لوگوں سے حکمرانی کی بیعت لی جائے اور اُن کی طرف سے فراغت حاصل کی جائے۔
یزید کا ولید بن عقبہ کو حکم
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یزید کی ولی عہدی کی بیعت نہیں کی تھی۔ یزید نے حکمراں بننے کے بعد سب سے پہلا حکم مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عقبہ بن ابی سفیان کو جاری کیا کہ وہ ان چاروں حضرات رضی اللہ عنہم سے بیعت لے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی بناء پر یزید نے ولید بن عقبہ کو یہ خط لکھا: بسمہ اللہ الرحمن الرحیم ۔ امیر المومنین یزید کی طرف سے ولید بن عتبہ کو معلوم ہو کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھے ۔ اللہ نے اُن کو کرامت و خلافت و عطا یا حکومت سے سرفراز کیا تھا۔ جتنی عمر اُن کی لکھی ہوئی تھی اس وقت تک وہ زندہ رہے اور جب مدت پوری ہو گئی تو مر گئے ۔ اللہ اُن پر رحم کرے کہ زندگی بھر لائق ستائش رہے اور نیکو کار و پر ہیز گار ہو کر مرے۔ والسلام ۔ ایک اور رقعہ میں اُسے لکھا کہ حضرت حسین بن علی عبد اللہ بن عمر فاروق اور عبداللہ بن زبیر سے بیعت لینے میں تشددکرواور جب تک بیعت نہ کر لیں انہیں ذرا بھی مہلت نہ دو۔“
مروان بن حکم کا مشورہ
حضرت حسین بن علی وغیرہ سے اپنی حکمرانی کی بیعت لینے کا حکم یزید نے ولید بن عقبہ کو دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے انتقال کی خبر سے ولید بن عتبہ کو تشویش ہو گئی اور اُس نے مروان بن حکم کے پاس کسی کو بھیج کر بلوایا۔ ولید بن عتبہ جس روز مدینہ منورہ کا گورنر بن کر آیا اور مروان بن حکم کو معزولی کا حکم نامہ دیا تھا تو اس نے ولید کو گالیاں دی تھیں اور پھر اُس سے ملنا ترک کر دیا تھا اور قطع تعلق کر لیا تھا۔ ولید کو جب اُن لوگوں سے بیعت لینے کا حکم ہوا تو اس نے مروان بن حکم سے مشورہ کرنا ضروری سمجھا اور اُسے بلا بھیجا۔ جب اُس نے یزید کا خط مروان بن حکم کو پڑھ کر سنایا اور بیعت لینے کے حکم کے بارے میں بتایا اور اس سے مشورہ مانگا اور پوچھا: ” تمہاری کیا رائے ہے کہ ہم کو کیا کرنا چاہیئے ؟ مروان بن حکم نے کہا: ”میری رائے یہ ہے کہ اسی وقت اُن لوگوں کو بلا بھیجو۔ جب وہ آئیں تو اُن سے یزید کی بیعت اور اطاعت گزاری کا اقرار لے لو۔ اگر وہ مان جائیں تو تم بھی مان جانا اور اگر انکار کریں تو سب کی گردن مار دینا ۔ اُن کو معاویہ بن ابی سفیان کے مرنے کی خبر نہ ہونے پائے۔ اگر انہیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ معاویہ بن ابی سفیان مرگئے ہیں تو اُن میں سے ہر شخص کسی طرف سے کھڑا ہوگا ور مخالفت و مقابلہ پر کمر باندھ لے گا اور کیا معلوم کہ کہ لوگوں کو اپنی اطاعت پر آمادہ کرے لیکن عبد اللہ بن عمر کو میں نہیں سمجھتا کہ جدال و قتال کو پسند کریں گے یا حکومت کی اُن کو خواہش ہو۔ ہاں بن مانگے یہ حکومت اُن کے سر ڈال دی جائے تو اور بات ہے۔“
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا بلاوا
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے ولید بن عتبہ نے اپنا ایک آدمی بھیجا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن عقبہ نے عبداللہ بن عمر بن عثمان نام کے ایک نوجوان کو دو شخصوں (حضرت حسین بن علی اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم) کو بلانے کے لئے بھیجا ۔ اُس نے اُن دونوں کو مسجد میں پایا تو اُس نے اُن دونوں سے کہا: ”امیر ولید بن عتبہ نے آپ دونوں کو بلایا ہے ۔ یہ وقت ایسا تھا کہ ولید بن عتبہ اس وقت لوگوں سے نہیں ملتا تھا۔ دونوں نے جواب دیا: ” تم جاؤ! ہم ابھی آتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : ” اس وقت تو ولید کسی سے ملتا نہیں ہے، آپ بتائیے کہ کیوں ہم کو بلایا ہے؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں سمجھتا ہوں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ہم کو اسی لئے بلا بھیجا ہے کہ اس خبر کے فاش ہونے سے پہلے ہی ہم سے بیعت لے لی جائے ۔ “ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں بھی یہی سمجھتا ہوں ۔ پھر عرض کیا: ” اب آپ رضی اللہ عنہ کا کیا ارادہ ہے؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اپنے جوانوں کو لیکر ولید کے پاس جاؤں گا ، دروازے پر انہیں روک دوں گا اور خود اُس کے پاس جاؤں گا ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” اگر آپ رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے تو مجھے آپ رضی اللہ عنہ کی جان کا اندیشہ ہے۔“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” میں اس طرح جاؤں گا کہ نکل بھی سکوں۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔
یزید کی حکمرانی کے لئے بیعت طلبی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مسجد میں اُٹھ کر اپنے گھر والوں اور خاندان والوں کے پاس آئے اور انہیں لیکر ولید بن عقبہ کی طرف روانہ ہوئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے رشتہ داروں اور خادموں کو ساتھ لے کر چلے اور جب ولید بن عقبہ کے دروازے پر پہنچے تو اُن لوگوں نے فرمایا: ” میں اندر جاتا ہوں، اگر میں تم کو پکاروں یا تم سنو کہ ولید نے بلند آواز میں بات کی تو تم سب کے سب اندر چلے آنا اور دوسری صورت میں جب تک میں باہر نہ آؤں تم سب اپنی جگہ موجود رہنا ۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور سلام کیا مروان بن حکم کو دیکھا کہ ولید بن عتبہ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن دونوں کو ساتھ بیٹھا دیکھ کر فرمایا: مل کر رہنا ترک تعلقات سے بہتر ہے لگتا ہے اللہ تعالیٰ نے تم دونوں کے درمیان صفائی کرا دی ہے؟ دونوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور جب آ پ رضی اللہ عنہ آ کر بیٹھ گئے تو ولید نے خط پڑھ کر سنایا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کی خبر دی اور یزید کی حکمرانی کی بیعت کا طالب ہوا۔
مروان بن حکم کی گستاخی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے ولید بن عتبہ نے یزید کی حکمرانی کے لئے بیعت طلب کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہیں چاہئے کہ بھرے مجمع میں کھلے عام بیعت کی مانگ کرو۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے انتقال کی خبر سن کر اناللہ وانا اللہ راجعون پڑھا اور فرمایا : اللہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے اور تمہارا اجر زیادہ کرے۔ بیعت کا جو تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو میں پوشیدہ طور پر بیعت نہیں کروں گا اور میں نہیں سمجھتا کہ تم ایسی احمقانہ حرکت کرو گے بلکہ تمہیں لوگوں کے سامنے مجھ سے بیعت لینی چاہیئے ۔ ولید بن عتبہ نے کہا: ” اچھا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم لوگوں سے بیعت لو گے تو اُسی وقت مجھ سے بھی بیعت لے لینا ایک ہی بات ہے ۔ ولید بن عقبہ کا مزاج عافیت پسند تھا اُس نے کہا: "بسمہ اللہ ! آپ رضی اللہ عنہ تشریف لے جائیں اور سب لوگوں کے مجمع عام میں ہم سے ملئے گا ۔ مروان بن حکم بول اٹھا: ”اگر یہ اس وقت تمہارے پاس سے بغیر بیعت کئے چلے گئے تو اللہ کی قسم ! جب تک تم میں شدت سے کشت خون نہیں ہوگا تب تک یہ تمہارے قابو میں نہیں آئیں گے ۔ اللہ کی قسم! انہیں ابھی قید کر لو اور یہ تمہارے پاس سے نکلنے نہ پائیں ۔ بیعت کریں تو کریں نہیں تو تم ان کی گردن مار دو۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ” اے ابن زرقاء! کیا تو مجھے قتل کرے گا یا یہ میل کرے گا؟ اللہ کی قسم ! تو نے جھوٹ بکا ہے۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نکل کر اپنے رشتہ داروں اور خادموں کے پاس آئے اور سب کو ساتھ لیکر اپنے مکان پر چلے آئے ۔ مروان بن حکم نے ولید بن عقبہ سے کہا: " تم نے میرا کہنا نہیں مانا۔ حسین بن علی کے لئے اب تمہیں کبھی ایسا موقعہ نہیں ملے گا ۔ ولید نے کہا: ”سنواے مروان بن حکم اکسی اور ہی کو ملامت کرو تم مجھے ایسا مشورہ دے رہے ہو جس میں میرے دین کی تباہی تھی۔ اللہ کی قسم ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے ساری دنیا کا مال و متاع جہاں تک سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے مجھ کومل جائے تب بھی مجھے منظور نہیں ہے۔ سبحان اللہ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ایک بیعت نہ کرنے پر قتل کروں؟ اللہ کی قسم! میں تو یہ بھتا ہوں کہ جس شخص سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قتل کی باز پرس ہو وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے " خفیف المیزان ٹھہرے گا ۔ مروان بن حکم نے کہا اگر تمہاری یہی رائے ہے تو جو کچھ تم نے کیا بہت ہی اچھا کام کیا۔ یہ بات مروان بن حکم نے ولید کی رائے کو نا پسند کر کے کہا تھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: مروان بن حکم بولا : ” ان کو بغیر بیعت کئے جانے نہ دور نہ ان سے بیعت اُس وقت تک نہیں لے سکو گے جب تک تم میں اور ان میں خون کا دریا رواں نہیں ہوگا اور اگر تم ایسا نہیں کر سکو تو میں لپک کر ان کی گردن اڑا دیتا ہوں۔ یہ بات سنتے ہی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ڈانٹ کر فرمایا: ” کو یاوہ مجھے قتل کرے گا؟ اللہ کی قسم ! تو جھوٹا ہے۔ مروان یہ سن کر دب گیا اور خاموش بیٹھ گیا اور آپ رضی اللہ عنہ لوٹ کو اپنے گھر تشریف لے آئے ۔ مروان بن حکم ولید بن عقبہ کو ملامت کرنے لگا تو اُس نے کہا: ”اے مروان ! اللہ کی قسم! مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ میں حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بیعت نہیں کرنے پر قتل کروں، چاہے اس کے بدلے میں مجھے تمام عالم کا مال ہی کیوں نہ مل جائے یا میں اس کا مالک ہی کیوں نہ بن جاؤں۔“
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی مکہ مکرمہ روانگی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تو ولید سے ملاقات کر کے چلے آئے لیکن حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ملاقات کے لئے نہیں گئے بلکہ اپنے گھر جا کر بیٹھ گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مسجد سے اُٹھ کر اپنے گھر آئے اور وہیں رہے۔ ولید بن عتبہ نے اُن کے پاس بھیجا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے اصحاب کو جمع کر کے اپنی حفاظت کرلی ہے۔ اس پر ولید بن عتبہ نے اور زیادہ اصرار کیا اور پے در پے اپنے آدمیوں کو اُن کے پاس بھیجا اور کہا: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ے تو یہ کہا کہ شہر و تم بھی غور کر لو اور ہم بھی غور کرلیں، تم بھی سوچو اور ہمیں بھی سوچنے دو “ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے ساتھ جلدی نہ کرو اور مجھے ذرا مہلت دو ۔“ اس کے بعد اُن دونوں کو ولید نے اپنے خادموں کو بھیج بھیج کر بہت پریشان کیا اور اصرار کرتا رہا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو زیادہ پریشان نہیں کیا لیکن حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو بہت زیادہ پریشان کیا اور مسلسل خادموں کو بھیجتا رہا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تم لوگوں کے پے در پے آنے سے اور میرے پاس اتنے لوگوں کو بھیجنے سے اللہ کی قسم مجھے کھٹکا ہو گیا ہے۔ تم لوگ میرے ساتھ جلدی نہ کرو، میں خود ولید کے پاس کسی کو بھیجتا ہوں کہ اُن کی رائے معلوم ہو۔“ یہ کہ کر انہوں نے اپنے بھائی جعفر بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ولید کے پاس بھیجا۔ انہوں نے جا کر کہا: اللہ کے واسطے عبداللہ پر شدت کرنے سے باز آجائیے۔ آپ نے پے در پے لوگوں کو بھیج کر انہیں اندیشہ مند و خائف کر دیا ہے۔ اپنے لوگوں کو حکم دیں کہ ہمارے مکان سے چلے جائیں۔ ولید نے اپنے لوگوں کو واپس بلا لیا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ رات ہی کو گھر سے نکل کر فرع کی طرف روانہ ہوئے اور اُن کے بھائی حضرت جعفر بن زبیر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی شخص ساتھ نہیں تھا۔ تعاقب کے خوف سے عام راستے کو چھوڑ دیا اور مہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ صبح ہوئی تو ولید نے اُن کے پاس کسی کو بھیجا تو معلوم ہوا کہ وہ نکل گئے ۔ مروان بن حکم نے کہا: ” میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ عبداللہ بن زبیر مکہ مکرمہ کی طرف جانے سے ہر گز نہیں چوکے گا ۔ لوگوں کو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے تعاقب میں روانہ کیا۔ بنوامیہ کے خادموں میں سے ایک سوار کو اسی (80) سواروں کے ساتھ اس کام کے لئے بھیجا۔ وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈتے پھرے لیکن نہیں پاسکے اور واپس چلے آئے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں