08 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 8
ھ58 ہجری: خوارج کا اجتماع، خوارج کی سرکوبی، عروہ کے بھائی کا خروج، سعید بن عاص کا انتقال، شداد بن اوس کا انتقال، عبداللہ بن عامر کا انتقال، حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب کا انتقال، أم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ59 ہجری عبد الرحمن بن زیاد خراسان کا گورنر، عبید اللہ بن زیاد کی معزولی اور بحالی کے، ھ59 ہجری کے گورنر ، 52 ہجری سے لیکر 60 ہجری تک کی بیرونی مہمات، حضرت عبد اللہ بن مالک بن قشب کا انتقال، حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ، حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کا انتقال
ھ58 ہجری: خوارج کا اجتماع
اس سال 58 ہجری میں کوفہ میں قید خوارج کی رہائی عمل میں آئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 58 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے گورنر ضحاک بن قیس کو معزول کر دیا اور اپنے بھانجے عبد الرحمن بن عبد اللہ ثقفی کو کوفہ کا گورنر بنایا۔ یہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی بہن ام حکم کا بیٹا ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جب کوفہ کے گورنر تھے تو انہوں نے تمام خوارج کو گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا تھا لیکن آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ضحاک بن قیس کے زمانے میں یہ سب خوارج رہا ہو گئے اور عبد الرحمن بن عبداللہ ثقفی کے زمانے میں انہوں نے خروج کیا اور حیان بن ظبیان مسلمی کے ہاتھ پر جنگ کے لئے بیعت کی اور خوارج کا اجتماع حلوان میں ہونے لگا۔ اس کے بعد مقابلہ کے لئے چلے لیکن سب کے سب قتل ہو گئے ۔ ادھر کوفہ میں عبد الرحمن بن حکم نے ایسی ایسی بد اطواری کی کہ اہل کوفہ نے اُسے نکال دیا تو وہ اپنے ماموں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُسے ملک مصر کی گورنری کی سند دے کر ملک مصر کی طرف روانہ کیا ۔ ملک مصر کے گورنر معاویہ بن خدیج کو اُس کے آنے کی خبر ملی تو وہ ملک مصر سے با ہر آیا اور اس سے مل کر بولا: ” جا یہیں سے اپنے ماموں کے پاس واپس چلا جا۔ ہمارے کوفی بھائیوں کے ساتھ تو نے جو بدسلوکی کی ہے وہ ہمارے ساتھ نہیں کر سکتا ہے۔ یہ حالات دیکھ کر عبدالرحمن بن عبد اللہ ثقفی یہیں سے واپس چلا گیا۔
خوارج کی سرکوبی
اس سال 58 ہجری میں عبید اللہ بن زیاد خوارج کی طرف متوجہ ہو گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال عبید اللہ بن زیاد نے خوارج پر بہت شدت کی ۔ ایک انبوہ کثیر کو گرفتار کر کے قتل کیا ایک جماعت کو جنگ میں قتل کیا ۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ ابن زیاد اپنی گھڑ دوڑ میں آیا گھوڑوں کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچھی خاصی عوام جمع تھی اُن میں ابو بلال مرد اس کا بھائی عروہ بن ادبیہ آیا اور عبد اللہ بن زیاد سے کہنے لگا: ”ہم سے پہلی جو تو میں گزریں اُن میں پانچ خصلتیں تھیں جو ہم میں آگئیں۔ یعنی کیا ہر زمین پر تم کھیل کھیل کر ایک نشانی چھوڑو گے اور قلعے بنا رہے ہو ؟ شاید کہ تم حیا کر گے اور جب حملہ کرو گے تو جباروں کا ساحملہ کرو گے ۔ دو باتیں اور جو راوی کو یاد نہ رہیں ۔ یہ سن کر عبید اللہ بن زیاد کو بہ ہوا کہ اس کے ساتھ کوئی جماعت اس کے اصحاب کی ضرور ہے ورنہ یہ میرے ساتھ اِس طرح کی گستاخی نہیں کرتا ۔ گھر دوڑ کو چھوڑ کر ابن زیاد اُٹھ کھڑا ہوا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر عروہ کی تلاش میں نکلا۔ عروہ سے لوگوں نے کہا: تم نے وہ حرکت کی ہے کہ ابن زیاد تمہیں ضرور قتل کرے گا۔ بین کر عروہ روپوش ہو گیا اور عبید اللہ بن زیاد مسلسل اُس کی تلاش میں لگارہا اور کوفہ میں اُسے گرفتار کر لیا گیا اور ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔ عبید اللہ بن زیاد نے اُس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹ ڈالنے کا حکم دیا۔ پھر اس کے بعد اُسے بلا کر پوچھا: ”کہو کیسا مزاج ہے؟“ عروہ نے کہا: تو نے میری دنیا خراب کی اور اپنی آخرت خراب کر لی ۔ یہ بات سن کر عبید اللہ بن زیاد نے اُسے قتل کر دیا۔ پھر کسی کو اُس کی بیٹی کے پاس بھیجا اور اسے بھی قتل کر دیا۔
عروہ کے بھائی کا خروج
کوفہ کے قید خانے میں عروہ بن ادریہ کا بھائی ابو بلال مرد اس بن اد یہ قید تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عروہ کا بھائی ابو بلال مرداس بن اد یہ خوارج کے ساتھ عبد اللہ بن زیاد کی قید میں تھا۔ قید خانے کا نگران ( جیلر ) اُس کی عبادت وریاضت دیکھ کر اُسے رات کو گھر جانے کی اجازت دے دیتا تھا۔ مرد اس گھر چلا جاتا تھا اور صبح قید خانے میں واپس آجا تا تھا۔ مرد اس کے دوستوں میں سے ایک شخص عبید اللہ بن زیاد کی صحبت میں بیٹھتا تھا۔ ایک رات اُس نے دیکھا کہ ابن زیاد کے سامنے خوارج کا ذکر ہوا تو اُس نے ارادہ کر لیا کہ صبح انہیں قتل کر دے گا۔ وہ شخص وہاں سے سیدھے مرد اس کے پاس آیا اور بولا: " صبح عبد اللہ بن زیاد قیدخانے کے سب خوارج کو قتل کرنے والا ہے اس لئے تم قید خانے میں نہ جاؤ اور اپنا وصی کسی کو بنا دو تا کہ وہ قتل کیا جائے ۔ قید خانے کے نگران ( جیلر ) کو بھی اس بات کی خبر ہو گئی اور اُسے تشویش گزری کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مرد اس کو خبر ہو جائے اور وہ قید خانے میں واپس نہ آئے لیکن ابو بلال مرد اس بن اد یہ مقررہ وقت پر واپس قید خانے میں آگیا۔ جیلر نے اُس سے کہا: ”تمہیں معلوم ہے صبح تمہیں قتل کر دیا جائے گا ؟ اس نے کہا: ہاں ! مجھے معلوم ہے ۔ جیلر نے کہا: پھر بھی تم چلے آئے؟“ مرد اس نے کہا: ” تمہارے احسان کا بدلہ یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے بدلہ میں تمہیں سزا ملے ، صبح ہوتے ہی عبید اللہ بن زیاد نے قید خانے میں قید خوارج کو قتل کرنا شروع کر دیا ۔ مرد اس کو حاضر کیا گیا تو جیلر نے دوڑ کر ابن زیاد کے پیر پکڑ لیئے اور کہا: ”اس شخص کو بخش دو ۔ پھر سارا قصہ سنایا۔ عبید اللہ بن زیاد نے اُسے بخش دیا اور زندہ چھوڑ دیا۔ رہا ہوتے ہی مرد اس نے اپنے ساتھ چالیس خوارج کو جمع کیا اور اہواز میں جا کر خروج کیا۔ عبید اللہ بن زیاد نے ایک لشکر اب حصن تمیمی کی سپہ سالاری میں بھیجی۔ خوارج نے اُس کے ساتھیوں کو قتل کر کے اُسے شکست دی۔ اس سال کوفہ کا گورنر ضحاک بن قیس یا عبدالرحمن بن عبد اللہ ثقفی تھا اور بصرہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد تھا۔
سعید بن عاص کا انتقال
ن پھر بن عقبہ کوکونہ کی اس سال 58 ہجری میں سعید بن عاص کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ” اس سال 58 ہجری میں سعید بن عاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف کا انتقال ہوا۔ سعید نے خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی گود میں پرورش پائی اور جس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اُس روز سعید بن عاص کی عمر نو (9) سال تھی۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سعید بن عاص کو مضافات کا گورنر بنایا تھا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جب پوری ملت اسلامی میں بھیجنے کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لکھوائے قرآن کی نقول تیار کرائیں تو سعید بن عاص کو فصاحت کی وجہ سے اُن نقول کے لکھنے والے باره اشخاص میں شامل ہیں جو قرآن حل کرتے اور اسے سکھاتے اور لکھتے تھے ۔ خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ولید بن عتبہ کو کوفہ کی گورنزی سے معزول کیا تو سعید بن عاص کو کوفہ کا گورنر بنایا۔ انہوں نے طبرستان، جرجان اور آذربائجان فتح کیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سعید بن عاص غیر جانب دار رہے۔ پھر جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حکمراں بنے تو دو بار سعید بن عاص کو مدینہ منورہ کا گورنر بنایا اور دو بار معزول کر کے مروان بن حکم کو گورنر بنایا۔ اس سال 58 ہجری میں مدینہ منورہ میں انتقال ہوا۔
شداد بن اوس کا انتقال
اس سال 58 ہجری میں شداد بن اوس کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: شداد بن اوس بن منذر بن حرام انصاری انصار کے قبیلہ بنو خزرج کے ہیں اور حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہیں۔ شداد بن اوس جب بھی بستر پر سونے جاتے تھے تو اُس پر یوں بیچ دبل کھاتے کیسے سانپ بیچ ویل کھاتا ہے اور فرماتے تھے: ”اے اللہ تعالیٰ ! بے شک مجھے دوزخ کے خوف نے مضطرب کر دیا ہے۔ پھر نماز کے لئے تیار ہو جاتے ۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” شداد ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں علم اور حلم دیا گیا ہے ۔ شداد بن اوس فلسطین اور بیت المقدس میں رہائش پذیر ہو گئے تھے اور وہیں اِس سال 75 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ بعض کے قول کے مطابق 64 سال کی عمر میں انتقال ہوا اور بعض کے قول کے مطابق 41 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔
عبداللہ بن عامر کا انتقال
اس سال 58 ہجری میں عبداللہ بن عامر کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: عبد اللہ بن عامر بن کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی ہیں۔ جب پیدا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن اُن کے منہ میں ڈالا تھا اور جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن کو نگلنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بے شک یہ بہت سیراب ہے ۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عامر کو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بعد بصرہ کا گورنر بنایا اور عثمان بن ابی العاص کے بعد پورے بلاد فارس ( عراق و ایران ) کا گورنر بنادیا۔ اُس وقت عبداللہ بن عامر کی عمر پچیس (25) سال تھی۔ اُس نے پورے خراسان، فارس کے اطراف سجستان، کرمان اور غزنی کو فتح کیا اور شہنشاہ کسری کا قتل بھی اسی دوران ہوا جس کا نام یزدگر دتھا۔ پھر عبداللہ بن عامر نے اسی علاقے سے اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے حج کا احرام باندھا اور اہل مدینہ میں بہت سا مال تقسیم کیا۔ عبداللہ بن عامر بصرہ میں ریشم پہننے والے پہلے شخص ہیں ۔ جب خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو عبد اللہ بن عامر بصرہ کے گورنر تھے۔ خلیفہ چہارم کے زمانہ خلافت میں کنارہ کشی اختیار کر لی پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں عبداللہ بن عامرکو بصرہ کا گورنر بنادیا۔ اس سال 58 ہجری میں میدان عرفات میں انتقال ہوا۔
حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 58 ہجری میں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد الرحمن اپنے والد محترم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سگے بھائی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں مشرکین مکہ کے ساتھ تھے اور گرفتار ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں حملہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہمیں اپنے آپ سے فائدہ پہنچاؤ " آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور بیٹے سے مقابلہ کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا: ” ابو جان ! آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں میری تلوار کی زد میں آگئے تھے لیکن میں نے والد کا احترام کرتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا ۔ “ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹے! اگر تم میری تلوار کی زد میں ہوتے تو میں بیٹے کا لحاظ نہ کرتے ہوئے تمہیں قتل کر دیتا ۔ حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ سے قبل ہجرت کی اور اسلام قبول کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ رضی اللہ عنہ اپنی بہن سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو ہاتھ میں تازی مسواک تھی ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سینے کا سہارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لئے ہوئے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھامی ہوئی تازی مسواک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غور سے دیکھ رہے تھے ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ مسواک کریں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں میں سر ہلایا ۔ حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مسواک لیکر اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے چبا کر نرم کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللھم الرفیق الاعلی اور وصال ہو گیا۔ حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ میں شریک تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نے سات آدمیوں کو قتل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مسلیمہ کذاب کے باطل پرست دوست محکم بن طفیل کو جو اپنے باغ کی دیوار کے شگاف میں کھڑا تھا اور اپنے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش کر رہا ایسا تیر مارا کہ وہ وہیں گر کر مر گیا اور مسلمان اس شگاف سے اندر داخل ہو کر مسلیمہ کذاب تک پہنچ گئے اور اُسے قتل کر دیا۔ حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید کی ولی عہدی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور مکہ مکرمہ چلے گئے۔ وہیں 58 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔
حضرت عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب کا انتقال
اس سال 58 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی حضرت عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب ہاشمی قریشی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ ام الفضل لبابہ بنت حارث ہیں۔ حضرت عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بہت خوبرو اور سخی تھے اور خوبصورتی میں اپنے والدین کے مشابہ تھے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم عبداللہ عبیداللہ اور کثیر کو ایک قطار میں کھڑا کرتے اور فرماتے تھے: ”جوسب سے پہلے میرے پاس آئے گا اسے یہ انعام ملے گا ۔ پس وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے اور پشت مبارک پر بیٹھ جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چومتے رہتے اور اپنے گلے سے لگا لیتے تھے ۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر مقرر کیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو 36 ھ اور 37 ہجری کا حج کروایا۔
أم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا انتقال
اس سال 58 ہجری میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پیاری بیوی ہیں۔ ان کی سات آسمانوں کے اوپر سے پاکدامنی کی گواہی آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی دوشیزہ سے نکاح نہیں کیا۔ یعنی تمام امہات المومنین رضی اللہ عنہا میں سے صرف اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی کنواری تھیں باقی تمام امہات المومنین رضی اللہ عنہمایا تو بیوہ تھیں یا پھر طلاق شدہ تھیں ۔ واقعہ افک میں آپ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں دس آیات آپ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی پر نازل فرمائی (جن کی پچھلے چودہ سو سال سے مسلمان تلاوت کر رہے ہیں ) ۔ آپ رضی اللہ عنہا کو یہ شرف حاصل ہے کہ وصال کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی عنہا کے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ رضی اللہ عنہا کے لعاب دہن کو اکٹھا کر دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ہی دفن ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہا کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس اُمت کی سب سے بڑی عالمہ ہیں۔ امام زہری کہتے ہیں کہ اگر اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے علم کو تمام عورتوں کے علم سے ملا دیا جائے تو آپ رضی اللہ عنہا کا علم سب سے زیادہ اور افضل ہو گا۔ آپ رضی اللہ عنہا کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ عورتوں اور مردوں میں سے سب سے زیادہ احادیث روایت کی ہیں۔ صرف حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہا سے زیادہ احادیث روایت کی ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مردوں میں سے بہت سے کامل ہوئے مگر عورتوں میں سے سیدہ مریم بنت عمران ،سیدہ خدیجہ بنت خویلد سیدہ آسیہ فرعون کی بیوی کے سوا کوئی کامل نہیں ہوا اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے زید کو دوسرے کھانوں پر ہوتی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال اس سال 58 ہجری میں ہوا اور بعض کا قول ہے کہ ایک سال پہلے ہوا اور بعض کا قول ہے کہ ایک سال بعد ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھائی اور آپ رضی اللہ عنہا کی وصیت کے مطابق رات کے وقت جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ انتقال کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر 67 سال تھی
ھ59 ہجری عبد الرحمن بن زیاد خراسان کا گورنر
اس سال 59 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن زیاد کے بھائی عبدالرحمن بن زیاد کو خراسان کا گورنر بنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال عبد الرحمن بن زیاد بن سمیہ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے خراسان کا گورنر بنایا۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ عبد الرحمن بن زیاد ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ”اے امیر المومنین! کیا میرا آپ پر کوئی حق نہیں ہے ؟ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں ضرور ہے ۔ اُس نے کہا: ” پھر کیا خدمت آپ مجھے دیتے ہیں؟“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کوفہ کا گورنر و عمان ہے جو ایک لائق شخص ہے اور عباد بن زیاد بجستان کو گورنر ہے اور عبید اللہ بن زیاد بصرہ اور خراسان کا گورنر ہے۔ ہاں مجھے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ تمہیں تمہارے بھائی عبید اللہ بن زیاد کے ساتھ شریک کر دوں ۔ “عبدالرحمن بن زیاد نے کہا: ” پھر مجھے اپنے بھائی کے ساتھ ہی شریک کر دیں کیونکہ اُس کے پاس وسیع ملک ہے اور اُس میں شرکت کی گنجائش بھی ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُسے خراسان کی گورنری کی سند دے کر روانہ کر دیا۔ اُس نے اپنے سے آگے قیس بن ہیثم سلمی کو بھیجا جس نے خراسان کے گورنر اسلم بن زرعہ کو گرفتار کر کے قید کر لیا۔ اس کے بعد حضرت یزید کے حکمراں بنے تک عبدالرحمن بن زیاد خراسان کا گورنر رہا۔
عبید اللہ بن زیاد کی معزولی اور بحالی
اس سال میں عبید اللہ بن زیاد کی معزولی اور بحالی کا واقعہ پیش آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال ۵۹ ہجری میں عبید اللہ بن زیاد شرفائے عراق کو اپنے ساتھ لیکر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے عبید اللہ بن زیاد سے کہا کہ اپنے ساتھیوں کو اُن کی قدرومنزلت کے مطابق حاضر ہونے کا حکم دے۔ اُس نے سب لوگوں کو بلایا اور سب سے آخر میں حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کو بلایا اور عید اللہ بن زیاد کے نزدیک اُن کی کوئی قدرو منزلت نہیں تھی۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہی اُٹھ کر خیر مقدم کیا اور اپنے تخت پر اپنے پاس بٹھایا ۔ اب لوگوں نے عرض و معروض شروع کی اور عبید اللہ بن زیاد کی سب نے تعریف کی۔ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے رہے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے ابا بکر (حضرت احف کی کنیت ) ! تم کیوں نہیں کچھ بول رہے ہو ؟ انہوں نے کہا: میں کچھ کہوں گا تو سب کے خلاف کہوں گا ۔“ یہ سنتے ہی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” عبید اللہ بن زیاد کو میں نے معزول کر دیا اور اب تم سب اپنی مرضی کا گورنر ڈھونڈو۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے حکم پر کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو بنو امیہ یا اشراف اہل شام کے پاس نہ گیا ہو۔ سب لوگ جستجو میں مصروف تھے اور حضرت احنف بن قیس اپنی جگہ بیٹھے رہے اور کسی کے پاس نہیں گئے ۔ کچھ دن یونہی گزر گئے پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سب کو جمع کیا اور فرمایا: تم لوگوں نے کیسے انتخاب کیا ؟ اُن لوگوں میں اختلاف ہو گیا اور اُن میں سے ہر فریق نے الگ الگ ایک ایک شخص کا نام لیا۔ اور صرف حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کا موش بیٹھے رہے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابابکر تم کیوں نہیں کچھ بولتے ؟ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اپنے خاندان والوں ( بنوامیہ ) میں سے ہی کسی کو گورنر بنانا ہے تو ہم عبد اللہ بن زیاد کے برابر کسی کونہیں سمجھتے اور اگر کسی غیر کو گورنر بنانا چاہتے ہو تو اچھی طرح سے سوچ سمجھ لو۔ یہ سن کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے یہیں کر فرمایا: ”لو میں عبید اللہ بن زیاد کو ہی تمہارا گورنر مقرر کرتا ہوں ۔ اور یہ کہا کہ احنف کے سوا کوئی بھی عبید اللہ بن زیاد کا دوست نہیں نکلا۔
ھ59 ہجری کے گورنر کے
اس سال 59 ہجری کے اختتام پر مملکت اسلامیہ کے زیادہ تر گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے رشتہ دار تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 59 ہجری میں عثمان بن محمد بن ابی سفیان امیر حج تھا اور مدینہ منورہ کا گورنر ولید بن عقبہ بن ابی سفیان تھا۔ کوفہ کے گورنر حضرت نعمان بن بشیر تھے۔ بصرہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد تھا۔ خراسان کا گورنر عبدالرحمن بن زیاد تھا اور بجستان کا گورنر عباد بن زیاد تھا۔ کرمان عبید اللہ بن زیاد کے ماتحت تھا اور اُس نے شریک بن اعور کو وہاں کا گورنر بنایا تھا۔
ھ52 ہجری سے لیکر 60 ہجری تک کی بیرونی مہمات
ھ52 ہجری تک ہم نے بیرونی مہمات کا ذکر کیا تھا اس کے بعد سے لیکر 60 ہجری تک کی بیرونی مہات کا مختصر ذکر پیش کر رہے ہیں۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: 52 ہجری میں بشر بن اراطا سرزمین روم میں اعلاء کلمۃ اللہ جہاد کرتے ہوئے داخل ہوئے ۔ ایام سرما وہیں گزارے بعض کا بیان ہے کہ واپس آئے۔ اس ہی دنوں میں واجس پر سفیان بن عوف از دی بھی اترے ہوئے تھے اور انہوں نے بھی ایام سرما اس سرزمین پر گزارے اور یہیں انتقال بھی کیا۔ لشکر صائفہ کی سر کردگی کرتے ہوئے محمد بن عبداللہ ثقفی نے بلا دروم پر لشکر کشی کی ۔ اس کے بعد 53 ہجری میں عبد الرحمن بن حکم سرزمین روم میں جہاد کرتے ہوئے داخل ہوئے ۔ اسی سال میں جنادہ بن ابی امیہ ازدی نے جزیره رودس کو جنگ کے ذریعہ فتح کیا اور وہیں ڈیرے ڈال دیئے جس کی وجہ سے رومیوں کو بہت صدمہ ہوا۔ آئے دن یہ اُن کی کشتیاں گرفتار کر لیتے تھے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ انہیں انعام واکرام دیا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ مسلمانوں سے رومی ڈرنے لگے اور جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو یزید نے ہجری میں اُن کو جزیره رودس سے واپس بلا لیا۔ ۵۳ ہجری میں محمد بن مالک مملکت روم میں داخل ہوا اور شکر صائفہ پر ( معن بن یزید سلمی کو مامور کیا۔ اسلامی لشکر نے جنادہ بن امیہ کی قیادت میں جزیرہ از دی (ارداد) جو قسطنطنیہ سے متصل ہے فتح کیا۔ سات سال اس پر قابض رہے اس کے بعد یزید نے ہجری میں اُن سب کو واپس بلالیا۔ 55 ہجری میں سفیان بن عوف از دی اور بعض علماء کے مطابق عمر بن محرز اور بعض کے مطابق عبد اللہ بن قیس اور 56 ہجری میں جنادہ بن ابی امیہ اور بعض مورخین کے مطابق عبد الرحمن بن مسعود اور بعض کے مطابق دریا کے راستے یزید بن ابی سمرہ نے اور خشکی پر عیاض بن حارث نے جہاد کیا 57 ہجری میں عبداللہ بن قیس، مالک بن عبداللہ شعمی نے ارض روم پر خشکی پر اور عمر بن زید چمنی نے دریا کے راستے جہاد کیا 58 ہجری میں عمر بن مرة اجمنی نے خشکی سے اور جنادہ بن ابی امیہ نے دریا کے راستے رومیوں پر حملہ کیا۔ اسی سال میں عمیر بن حباب کی زیر قیادت اسلامی لشکر نے قلعہ کنج (بلا دروم) پر حملہ کیا اور میر بن حباب تن تنہا اس قلعے کی فصیل پر چڑھ گئے اور پہرے داروں کو قتل کر کے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور اسلامی لشکر نے قلعے پر قبضہ کر لیات ہجری میں مالک بن سویہ نے خشکی سے اور جنادہ بن ابی اُمیہ نے دریا کے راستے رومیوں سے جہاد کیا۔
حضرت عبد اللہ بن مالک بن قشب کا انتقال
اس سال 59 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن مالک بن قشب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ کا نام جندب بن نصلہ بن عبداللہ بن رافع از دی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو محمد ہے اور آپ رضی اللہ عنہ بنوعبدالمطلب کے حلیف ہیں اور ابن حسینہ کے نام سے مشہور ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محتر نہ حسینہ بنت ارت ہیں اور نام حارث بن عبد المطلب بن عبد مناف ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑے عبادت گزار اور روزے دار تھے اور آپ رضی اللہ عنہ اُن لوگوں میں سے تھے جو تمام عمر لگا تار روزے رکھتے تھے۔ امام ابن سعد نے بیان کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر وادی ریم میں اترا کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال 53 ہجری سے 58 ہجری کے درمیان مروان بن حکم کے دوسری مرتبہ گورنر بنے کے بعد ہوئی اور عجیب بات ہے کہ امام ابن جوزی نے امام محمد بن سعد کے اس کلام کو نقل کیا اور پھر آپ رضی اللہ عنہ کے انقال کا سنہ 59 هجری بیان کیا ۔ واللہ اعلم ۔
حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 59 ہجری میں حضرت قیس بن سعد بن عبادہ خزرجی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ اپنے والد محترم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرح ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔ صحیحین میں آپ رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث جنازہ کے لئے کھڑا ہونے کے بارے میں ہے نیز المسند میں ایک حدیث عاشورہ کے روزے کے بارے میں ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل کرنے کے بارے میں بھی ایک حدیث ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اور صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں وہی مقام حاصل تھا جو ہمارے یہاں سپرنٹنڈنٹ پولیس کو حاصل ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بعض غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا اُٹھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو صدقہ کا امیر مقرر کیا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک لشکر بھیجا تو انہیں سخت بھوک نے آلیا تو حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے اُن کے لئے نو اونٹ ذبح کر دیے یہاں تک کہ انہیں ساحل سمندر پر ایک بہت بڑی مچھلی ملی اور اُسے ایک مہینے تک کھایا اور وہیں قیام کیا حتی کہ وہ سب فربہ ہو گئے ۔ حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ شجاع، کریم اور قابل تعریف سردار تھے۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ملک مصر کا گورنر بنایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے نہایت دانشمندی اور حیلہ گری اور سیاست سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔
حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 59 ہجری میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عن صلح حدیبیہ میں اور بیعت رضوان میں شامل تھے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیعت لے رہے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ ہی درخت کی شاخوں کو رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے ہٹا ر ہے تھے اور وہ بول کا درخت تھا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا گورنر بنایا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں ایک نہر کھدوائی جو نہر معقل“ کے نام سے مشہور ہے اور بصرہ میں آپ رضی اللہ عنہ کی حویلی بھی ہے۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب حضرت معقل بن سیار رضی اللہ عنہ ” مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو عبید اللہ بن زیاد اُن کی عیادت کرنے آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن زیاد سے فرمایا: "میں تجھ سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں اگر اچھی حالت میں ہوتا نہیں بیان کرتا۔ وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اللہ تعالیٰ اپنی رعیت کا رکھوالا بنائے اور وہ اُن کی خیر خواہی اور اُن کی صحیح دیکھ بھال نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا اور بے شک جنت کی خوشبو ایک سو (100) سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے۔“
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں