جمعرات، 5 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 06

 06 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 6

حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ثوبان بن مجدد رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت حويطب بن عبد العزی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت معبد بن مر بوع بن عنکہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، أم المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ کا انتقال، ھ55 ہجری: بصرہ کے گورنر کی معزولی، عبید اللہ بن زیاد خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر، حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال، میرے ماں باپ تم پر قربان، 

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہریدار، وہ جنتی ہو گا ہے، اے اللہ ! اس کی دعا کو قبول فرما، حضرت سعد رضی اللہ عنہ " مستجاب الدعوات تھے، عشرہ مبشرہ میں سے سب سے آخر میں انتقال


حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جن کی کنیت ابومحمد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کے بیٹے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کے بیٹے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم غلام بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نو عمری میں آئے تھے۔ اُن کے والد حارثہ انہیں لینے کے لئے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا کہ چاہیں تو اپنے والد کے ساتھ چلے جائیں یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں ۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے والد کے ساتھ جانا گوارہ نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا گوارہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ جوان ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی آبائی کنیز سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہا سے کر دیا۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ یہی سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا ہیں ۔ صحیح بخاری میں آپ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک ران پر حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بٹھاتے تھے اور دوسری ران پر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بٹھاتے تھے اور فرماتے تھے : ” اے اللہ! میں اِن دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت رکھ ۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی عمر انیس (19) سال تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی سپہ سالاری میں سلطنت روم سے لڑنے کے لئے لشکر روانہ فرمایا تھا جو دینہ منورہ کے قریب ہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بنتے ہی سب سے پہلے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا کر سلطنت روم کی طرف لشکر دے کر روانہ کیا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جب بھی حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سامنا ہوتا تھا تو خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ فرماتے تھے : ”اے امیر ! السلام علیک “ حضرت اسامہ بن زید کے انتقال کے بارے میں مورخین کی کئی رائے ہیں۔ حقیقت کا علم صرف اللہ تعالی کو ہی ہے۔ 


حضرت ثوبان بن مجدد رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت ثوبان بن محمد درضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ثوبان بن مجد درضی اللہ عنہ اصل عرب سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ قید ہو گئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو خرید کر آزاد کر دیا تھا۔ آزاد ہونے کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور خدمت کرتے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے رملہ میں رہائش اختیار کر لی۔ پھر حمص، منتقل ہو گئے اور وہاں ایک گھر بنایا اور آخری وقت تک وہیں رہائش پذیر رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بارے میں کئی روایتیں ہیں ۔ حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ 


حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کا نام حارث بن ربعی ہے، امام واقدی نے نعمان بن ربعی بیان کیا ہے اور دیگر مورخین کے مطابق عمر و بن ربعی نام ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ انصار ہیں اور اسلام کے بہترین شہسوار ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ اُحد اور اُس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ ذی قرد میں ایسا قابل تعریف کام کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آج کے ہمارے بہترین شہوار حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ہیں اور آج کے ہمارے بہترین پیدل حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے جو مجھ سے بہت بہتر ہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تمہیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال کس سال ہوا اس بارے میں مورخین کا اختلاف ہے۔


حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں اُم الومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ” حضرت حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی بن کلاب یہاں آکر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ فاختہ بنت زہیر بن حارث بن اسد بن عبد العزیٰ ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ واقعہ اصحاب فیل تیرہ سال پہلے پیدا ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ رضی اللہ عنہ بہت محبت کرتے تھے ۔ جب قریش نے بنو ہاشم اور بنو عبد عبد المطلب کو شعب ابو طالب کی گھائی میں تین سال کے لئے قید کر دیا تھا اور اُن سے خرید وفروخت نہیں کرتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ ملک شام سے آنے والے قافلے سے ملتے تھے اور پورا کہ پورا خرید لیتے تھے اور اُسے لے جا کر سامان لدے ہوئے اُونٹوں کو شعب ابی طالب کی گھائی کے پاس لے جا کر مار مار کر اندر بھیج دیتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو خریدا تھا اور اپنی پھوپھی اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو آزاد کر دیا تھا۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے ذویزن کا ایک حلہ خرید کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس ملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کی سب اولاد نے فتح مکہ میں اسلام قبول کیا۔ امام بخاری وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں ساٹھ (60) سال اور اسلام میں ساٹھ (60) سال زندہ رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کی اور مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو سواونٹ دیئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر مانگا تو سو اونٹ اور دیئے اور پھر مانگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹ اور دیئے اور فرمایا: ”اے حکیم بن حزام ! یہ مال بظاہر شیریں اور اچھا ہے جس نے اسے فیاضی سے لیا اُس کے لئے برکت ہوگی اور جس نے اسراف نفس سے لیا اُس کے لئے برکت نہیں ہوگی اور وہ اُس شخص کی ماند د ہوگا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا احسان قبول نہیں کروں گا ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے کسی کا احسان نہیں لیا۔ یہاں تک کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم بھی کوئی چیز آپ رضی اللہ عنہ ک عطا کرنا چاہتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نہیں لیتے تھے۔ ایک سو بیس (120) سال کی عمر میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔


حضرت حويطب بن عبد العزی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت حو یطب بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت حو يطب بن عبد العزئی عامری رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ میں اسلام قبول کیا اور لمبی عمر پائی۔ آپ رضی اللہ عنہ قریش کی طرف سے غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑے اور اُس روز آپ رضی اللہ عنہ نے زمین و آسمان کے درمیان فرشتوں کو دیکھا اور پھر صلح غریبیہ میں شامل ہوئے اور صلح کی کوشش کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بدر کے وقت صلح حدیبیہ کے وقت اور عمرۃ القضاہ کے وقت اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ کومنظور ہوتا ہے۔ جب فتح مکہ ہوا تو میں شدید خوفزدہ ہو گیا اور بھاگ گیا۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ جو زمانہ جاہلیت میں میرے دوست تھے۔ وہ مجھے ملے اور فرمایا: ”اے جو طب ! تجھے کیا ہو گیا ہے جو اسلام قبول نہیں کرتا ہے؟“ میں نے کہا: ”میں بہت خوفزدہ ہوں انہوں نے فرمایا : ” کچھ خوف نہ کرو اور تم تو بڑا احسن سلوک کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے والے ہو اور میں تمہارا پڑوسی ہوں۔ میرے ساتھ آؤ“ میں اُن کے ساتھ واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی بھیا میں تشریف فرما تھے اور حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ میں السلام علیک ایہا النبی ورحمتہ اللہ وبر کاتہ کہوں ۔ میں نے جب یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” و یطب ہے ؟ میں نے عرض کیا: ”ہاں! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے تمہیں ہدایت دی ہے ۔ “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ اس کے بعد میں غزوہ حنین اور غزوہ طائف میں شریک ہوا۔ پھر میں مدینہ منورہ میں رہائش پذیر ہوگیا اور وہیں اپنا گھر بنالیا۔ جب مروان بن حکم مدینہ منورہ کا گورنر مقرر ہوا تو میں اُس سے ملنے گیا اور میرے ساتھ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ اور حضرت مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ ہم نے اُسے سلام کیا اور اس سے باتیں کرنے لگے ۔ پھر جب وہ دونوں اُٹھ کر چلے گئے تو مروان بن حکم نے مجھ سے میری عمر کے بارے میں پوچھا تو میں نے اپنی عمر بتائی۔ اُس نے کہا: ”اے شیخ (اے بڑے میاں ) ا تم نے تو بہت بعد میں اسلام قبول کیا اور تم پر نو جوان لوگ سبقت لے گئے ۔ میں نے اُس سے کہا : اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔ اللہ کی قسم جب بھی میں نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا تو تمہارا باپ حکم ہی مجھے روکتا رہا اور کہتا رہا: خم ایک نئے دین کے لئے اپنے شرف وعزت کو ضائع کر دو گے اور اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دو گے؟ اور کسی اور کے تابع ہو جاؤ گے؟ میری بات سن کر مروان بن حکم پشیمان ہوا اور خاموش ہو گیا۔ پھر میں نے اُس سے کہا: ” کیا تیرے باپ حکم نے نہیں بتایا کہ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد تیرا باپ حکم انہیں کیسی کیسی تکلیفیں اور اذیتیں دیا کرتا تھا ؟ بین مروان نے آپ رضی اللہ عنہ سے معافی مانگی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا ایک سو بیس (120) سال عمر میں انتقال ہوا۔


حضرت معبد بن مر بوع بن عنکہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت معبد بن یربوع بن عنکہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت معبد بن سر بوع بن عنکثہ بن عامر بن مخزوم رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے روز اسلام قبول کیا اور غزوہ حنین میں شامل ہوئے اور مال غنیمت میں پچاس اُونٹ ملے ۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ”صرم تھا۔ ایک روایت میں اصرم بھی بیان ہوا ہے۔ جب آپ رضی اللہ وعنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ” معبد رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اُن لوگوں میں شامل ہیں جنہیں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انصاب حرم کی تجدید کا حکم دیا تھا۔ آخری عمر میں آپ رضی اللہ عنہ کی بینائی چلی گئی تھی تو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خود چل کر تسلی دینے کے لئے آئے تھے ۔ بعض مورخین کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا اور بعض کے مطابق مکہ مکرمہ میں ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک سو بیس سال سے زیادہ عمر پائی تھی۔


أم المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں اُم المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ قبیلہ قریش کے خاندان بنو عامر کی ہیں اس لئے القرشیہ العامر یہ کہلاتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ اس سے پہلے آپ رضی اللہ عنہا سہیل بن عمرو کے بھائی سکران بن عمرو کی بیوی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ ہجرت کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے علحیدگی کا ارادہ فرمایا تو آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ مجھے اپنی بیوی رہنے دیں اور میں اپنی باری کا دن بھی اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دیتی ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات قبول کر لی اور آپ رضی اللہ عنہا بدستور ام المومنین رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا بڑی عبادت گزار، زہد اختیار کرنے والی اور پر ہیز گار تھیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے کسی خاتون کی جماعت میں شامل ہونا پسند نہیں آیا مگر میں آپ رضی اللہ عنہا کی جماعت میں شامل ہونا پسند کرتی ہوں کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ میں تیزی تھی جس سے آپ رضی اللہ عنہا جلد رجوع کر لیتی تھیں ۔“ امام ابن جوزی نے آپ رضی اللہ عنہا کی وفات اِس سال میں بیان کی ہے اور امام ابن خیثمہ نے بیان کیا ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری دنوں میں آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا ہے۔


ھ55 ہجری: بصرہ کے گورنر کی معزولی


اس سال 55 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے گورنرعبداللہ بن عمرو بن غیلان کو معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی سال یعنی ۵۵ ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عمرو بن غیلان کو معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو بصرہ کا گور بنا دیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ عبداللہ بن عمرو بن غیلان بصرہ کی جامع مسجد کے منبر پر خطبہ پڑھ رہا تھا تو بنوبہ میں سے یا بنوضرار میں سے ایک شخص جس کا نام خیبر بن ضحاک ہے اُسے کنکریاں پھینک کر ماریں تو عبداللہ بن عمرو بن غیلان نے اُس کا ہاتھ کٹوا دیا۔ بنوضبہ نے آکر کہا کہ ہماری برادری کے ایک شخص سے جو خطا ہونے والی تھی وہ ہو گئی اور آپ نے اسے قرار واقعی سزا بھی دے دی لیکن ہمیں اندیشہ ہے کہ یہ خبر اگر امیر المومنین کو ہوئی تو وہاں سے بھی اُس شخص پر یا ہمارے قبیلے پر کوئی سزا نازل نہ ہو جائے ۔ اس لئے آپ مناسب سمجھیں تو خود ہی امیر المومنین کے نام ایک خط لکھ کر ہمیں دے دیکھیئے تا کہ ہم اسے اپنے کسی آدمی کے ہاتھ امیر المومنین کے پاس بھیج دیں۔ مطلب یہ ہوا کہ شبہ میں ہاتھ کاٹا گیا ہے اور جرم واضح نہیں ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن غیلان نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ کر دے دیا۔ وہ خط سال بھر یا چھ مہینے پڑا رہا۔ اس کے بعد عبد اللہ بن عمرو بن غیلان خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا یا پھر یہ واقعہ لکھ کر روانہ کر دیا اور بنو ہبہ بھی امیر المومنین کے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا: ”اے امیر المومنین! عبد اللہ نے ہمارے ایک بھائی کا ہاتھ ناحق کٹو اڈالا اور یہ اُن کا لکھا ہوا خط آپ کے نام موجود ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے مقرر کئے ہوئے گورنر سے قصاص لیا جائے یہ تو درست نہیں ہے اور کسی طرح ایسا نہیں ہو سکتا۔ ہاں اگر تم کہو تو میں تمہیں دیت دلوا دوں؟“ بنوضہ کے لوگ دیت پر راضی ہو گئے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں بیت المال سے دیت ادا کر دی اور عبداللہ بن عمرو بن غیلان کو معزول کر دیا۔


عبید اللہ بن زیاد خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر


اس سال 55 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمرو بن غیلان کا بصرہ کی گورنری سے معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بنوضبہ سے کہا : " جس کو تم پسند کرو اُسی کو میں تمہارا گورنر بنا دوں ۔ انہوں نے کہا: ” امیر المومنین جسے چاہیں ہمارا گورنر مقرر کر دیں ۔ اور عبداللہ بن عامر کے باب میں اہل بصرہ کی جو رائے تھی وہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو پہلے سے معلوم تھی پھر بھی اُن سے پوچھا: ” کیا تم ابن عامر کو پسند کرتے ہو؟ وہ تو ایسا شخص ہے جس کی عفت وطہارت و شرف سے تم خوب واقف ہو ۔ سب نے کہا: ”امیر المومنین ہم سے زیادہ واقف ہیں ۔“ اُن لوگوں کو آزمانے کے لئے بار بار اُن کے سامنے سامنے دہرایا پھر کہا: ” تو لو میں نے اپنے بھتیجے عبیداللہ بن زیاد کو تمہارا گورنر مقرر کیا۔ خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر بنے کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے اسلم بن زرعہ کو خراسان کا گورنر مقرر کیا اور پہلے زرارہ بن اوفی کو قاضی کا عہدہ دیا اور پھر ضحاک بن قیس فہری کو اُس کی جگہ مقرر کیا۔ اس سال بھی مروان بن حکم نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 


حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 55 ہجری میں حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعلان نبوت فرمایا تو اُس وقت مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہوتا تھا اور مسلمانوں کے جمع ہونے کے لئے کوئی مرکز نہیں تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کو جمع کرنے کے لئے اپنا گھر ” دار ارقم “ دے دیا تھا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ارقم بن ابی الا رقم بن اسد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے سے اسلام قبول کیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ "السابقون الاولون میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے والے ساتویں مسلمان ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا گھر مسلمانوں کی پناہ گاہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش میں سے مسلمان ہونے والے لوگ پناہ لیا کرتے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا گھر کوہ صفا کے پاس تھا جو بعد ازاں مہدی کی ملکیت میں آگیا جسے اُس کی بیوی نے خیر زاں کو بخش دیا جو ہادی اور ہارون رشید کی والدہ تھی۔ اُس نے اُسے از سرنو تعمیر کیا اور وہ گھر اُسی کے نام سے مشہور ہو گیا پھر وہ گھر کسی اور کے پاس چلا گیا۔ حضرت ارقم رضی اللہ عنہ غزوہ بدر اور اُس کے بعد کے معرکوں میں شامل ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے 55 ہجری میں اسی (80) سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے وصیت کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ 


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 55 ہجری میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ السابقون الاولون میں سے ہیں اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت سعد بن ابی وقاص نام مالک بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مقرر کئے اُن چھ اصحاب شوری میں سے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا۔، ورخین کا بیان ہے کہ جس روز آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر سترہ (17) سال تھی۔ صحیح میں آپ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اسلام قبول کرنے والا سا تواں ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کوفہ آکر وہاں سے اعاجم کو جلا وطن کیا اور آپ رضی اللہ عنہ مستجاب الدعوات" تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ ہجرت کی اور غزوہ بدر اور اُس کے بعد کے معرکوں میں شامل ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اللہ کے راستے میں تیر چلانے والے پہلے شخص ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے امراء اور بہادر شہسوار تھے۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں معظم تھے اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تو آپ رضی اللہ عنہ کو سلطنت فارس کے خلاف سپہ سالار اعظم بنا دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ فاتح عراق و ایران“ ہیں۔


میرے ماں باپ تم پر قربان


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ خصوصی اعزاز حاصل ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن پر اپنے ماں باپ کو جمع فرمایا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں پہلا شخص ہوں جس نے مشرکین کو تیر مارا اور مجھ سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کو کسی کے لئے جمع نہیں کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا ہے: ”اے سعد! تیر اندازی کرو! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔ " حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمايا: " غزوہ اُحد کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے اپنے ماں باپ کو جمع کیا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تیر اندازی کرو! میرے ماں باپ تم پر قربان ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تیراندازی کر و تم طاقت ور لڑکے ہو ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے سوا کسی پر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے نہیں سنا اور میں نے غزوہ اُحد میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اے سعد! تیراندازی کرو! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ ( صحیح بخاری) ایک روایت میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں اُس مہاجر کی بیٹی ہوں جس پر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماں باپ کو قربان کیا ہے۔ (مصنف عبدالرزاق ) ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں غزوہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں سفید لباس میں دو آدمی دیکھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سخت جنگ کر رہے تھے۔ میں نے اُن دونوں کو نہ اس تو پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔“ 


سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہریدار


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک اور خصوصی اعزاز حاصل ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہریدار بھی رہ چکے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پہریداری سے منع فرما دیا تھا لیکن اللہ کی طرف سے حفاظت کا وعدہ آنے سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہریداری کرتے تھے۔ اُنہیں دنوں میں ایک مرتبہ سفر کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ قیام فرمایا اور اتفاق سے کوئی پہریدار مقرر نہیں فرمایا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ” ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے خوابی کی حالت میں گزاری اور فرمایا: " کاش کوئی صالح آدمی آج رات میری پہریداری کرتا ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: 'اچانک ہم نے خیمے کے باہر ہتھیاروں کی آواز سنی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے؟ خیمے کے باہر سے آواز آئی: میں سعد بن ابی وقاص ہوں ۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہریداری کروں گا ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: "اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آوازسنی ۔ ایک اور روایت میں اتنازیادہ ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی اور پھر آرام سے سو گئے۔


وہ جنتی ہو گا ہے


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ یعنی اُن دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں جنہیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی فرما دیا تھا کہ یہ دس لوگ جنتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ رضی اللہ عنہ کوجنتی ہونے کا ایک اور خصوصی اعزاز حاصل ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس دروازے سے جو شخص داخل ہوگا وہ جنتی ہو گا ۔ پس حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اُس دروازے سے اندر داخل ہوئے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس دروازے سے ایک جنتی شخص اندر داخل ہوگا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کی تمنا تھی کی اُس دروازے سے اُس کے گھر کا کوئی آدمی داخل ہو۔ پھر ہم سب نے دیکھا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس دروازے سے اندر داخل ہوئے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابھی تمھارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا ۔ پس ہم نے دیکھا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے ۔ پھر جب دوسرا دن ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا تو پھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ سے دریافت کیا : ” آپ رضی اللہ عنہ وہ کون سا عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ جنتی ہیں ؟ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں ایسا کوئی خاص عمل تو نہیں کرتا ہوں ، ہاں اتا ہے کہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کوئی برائی نہیں رکھتا ہوں اور نہ اس کے لئے برائی کا کوئی ارادہ رکھتا ہوں اور نہ میں اُسے کوئی بری بات کہتا ہوں۔“


اے اللہ ! اس کی دعا کو قبول فرما


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک اور خصوصی اعزاز حاصل ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے خصوصی دعا کی ۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: سیدہ عائشہ بن سعد روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد محترم حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی پیشانی پر اپنا مبارک ہاتھ رکھا اور پھر دست مبارک اُن کے چہرے، سینے اور پیٹ پر پھیرا اور فرمایا: ” اے اللہ اسعد کو شفا دے اور اُن کی ہجرت کو مکمل کر “ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ ہی خیال کرتا رہا کہ میں اُس ٹھنڈک کو اپنے جگر پر محسوس کرتا ہوں۔ ( مسند احمد ) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے آئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے لئے دعا فرمائی: ”اے اللہ ! اس سے تکلیف کو دور کر لوگوں کے معبود، لوگوں کے بادشاہ ، تو شافی ہے اور تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔ میں اللہ کے نام سے تم کو ہر اس چیز سے جو تمہیں ایذا دینے والی ہے اور حسد سے اور نظر بد سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں اے اللہ ! اس کے جسم کو اور دل کو صحت دے اور اس کی بیماری کو دور کر اور اس کی دعا کو قبول فرما۔ ایک اور روایت میں ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ اس کی تیراندازی کو درست کر اور اس کی دعا کو قبول فرما۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! اس کے تیر کوسیدھا کر اور اس کی دعا کو قبول فرما اور اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی : 'یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ میری دعا کا جواب دیا کرے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا اُس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ اپنے رزق کو پاکیزہ نہ کر لے ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا فرما ئیں کہ وہ میرے رزق کو پاک کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی : ”اے اللہ! اس کے رزق کو پاک کر دے۔“ 


حضرت سعد رضی اللہ عنہ " مستجاب الدعوات تھے


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی دعا اللہ تعالیٰ قبول فرمایا کرتے تھے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مستجاب الدعوات تھے اور جونہی آپ رضی اللہ عنہ دعا کرتے تھے وہ قبول ہو جاتی تھی ۔ صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم ) میں حضرت جابر بن سلمہ سے روایت ہے کہ (جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کوفہ کے گورنر تھے تو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ شکایت پہنچی تو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تحقیق کے لئے کوفہ آدمی بھیجے ۔ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ شکایت ہے کہ نماز ز چھی طرح نہیں پڑھاتے ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھانے میں کو تا ہی نہیں کرتا ہوں۔ میں پہلی دورکعتوں کو طویل کرتا ہوں اور آخری دور کعتوں کو چھوٹی کرتا ہوں ۔ محقق نے کہا: ”ہاں یہی صحیح ہے ۔ پھر تحقیق کرنے والے نے کوفہ کے لوگوں سے آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو تمام کوفہ کے لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور صرف بنو عبس کے ابو سعدة اسامہ بن قتادہ نامی شخص نے کہا: ” حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سریہ (جنگ) میں نہیں جاتے اور نہ برابر تقسیم کرتے ہیں اور رعایا کے معاملے میں عدل سے کام نہیں لیتے ہیں ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اس شخص کے بارے میں اطلاع ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ ریا کاری اور شہرت کے لئے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر کو دراز کر دے اور اس کو ہمیشہ تنگدست رکھا اور اس کی انکھ کو اندھا کر دے اور اسے فتنوں کا نشانہ بنا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ میں نے اُس کے بعد اُس شخص کو بہت بوڑھے کی حالت میں دیکھا تو اُس کے ابرواس کی آنکھوں پر گر گئے تھے اور وہ راستے پر کھڑا ہو کر لڑکیوں کو ہاتھوں سے ٹولنا۔ اُس سے پوچھا جاتا تو وہ کہتا: " پاگل بوڑھا جسے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بد دعا لگی ہے۔“


عشرہ مبشرہ میں سے سب سے آخر میں انتقال


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سب سے آخر میں انتقال کرنے والے ہیں ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہونے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک پرانا جبہ نکلوایا اور فرمایا : ” مجھے اس میں کفن دینا ، میں نے غزوہ بدر کے روز اسے پہن کر مشرکوں سے جنگ کی تھی اور میں نے اسی دن کے لئے اسے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا مدینہ منورہ کے مضافات کے ایک مقام حقیقی پر انتقال ہوا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی گردنوں پر مدینہ منورہ لایا گیا اور مروان بن حکم نے آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ رضی اللہ عنہ کو بقیع میں دفن کیا گیا۔ انتقال کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر اسی (80) سال تھی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں