05 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 5
حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبد اللہ بن اُنیس رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ابوبکر فیع بن حارث رضی اللہ عنہ کا انتقال، ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ52 ہجری، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ53 ہجری: جزیره رودس کی فتح، حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دعا، ابن سمیہ ( زیاد بن ابی سفیان ) کا انتقال، ا53 ہجری کے خاتمے پر مملکت اسلامیہ کے گورنر، حضرت معصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ53 ہجری: سعید بن عاص کی معزولی، عبید اللہ بن زیاد خراسان کا گورنر، ترکوں سے جنگ،
حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 51 ہجری میں حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ انصار میں سے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر، احد ، خندق اور دوسرے معرکوں میں شامل ہوئے ۔ آپ رضی اللہ جلیل القدر فضلاء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جبرئیل علیہ السلام کو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر کے بعد مقاعد“ میں گفتگو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ نیز آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بنو قریظہ کے روز جبرئیل علیہ السلام کو انسانی شکل میں حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں دیکھا ہے۔ اور صحیح میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو جنت میں قرآت کرتے ہوئے سنا ہے۔
حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں اور وہی بہنوئی ہیں جن کے گھر جا کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں مارا تھا اور پھر اسلام قبول کیا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن عاتکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں اور اُن کی بہن سیدہ فاطمہ حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا اور دونوں نے ساتھ ہجرت بھی کی تھی۔ حضرت سید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سادات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں شرکت نہیں کی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو اپنے سے آگے قریش کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ جب یہ دونوں واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہو چکے تھے ۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے مال غنیمت میں ان دونوں کا بھی حصہ لگایا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کومجلس شوری میں اس لئے شامل نہیں کیا کہ کہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے رشتہ داری کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف داری نہ کی جائے اور انہیں خلیفہ مقرر کر دیا جائے۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ کا نام مجلس شوریٰ میں نہیں رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ انتقال ہو گیا۔
حضرت عبد اللہ بن اُنیس رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 51 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن اُنہیں جہنی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بیعت عقبہ میں شرکت کی اور غزوہ بدر میں شامل نہیں ہوئے اور اس کے بعد کے معرکوں میں شامل رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ انصار کے بت توڑا کرتے تھے صحیح میں آپ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث ہے کہ لیلتہ القدر تئیس کی رات کو ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کوہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہ نے عرفہ میں اُسے قتل کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی چھڑی عطا فرمائی اور فرمایا: ” میرے اور تمہارے درمیان جو تعلق ہے یہ چھڑی قیامت کے دن اس کی نشانی ہوگی ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق وہ چھڑی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی دفن کی گئی۔
حضرت ابوبکر فیع بن حارث رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 51 ہجری میں حضرت ابوبکر فیع بن حارث کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو بکر نفیح بن حارث بن کلدہ بن عمرو بن علاج بن ابی سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔ کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کا نام "مسروح تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو ابوبکر ہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ طائف میں چرخی سے شہر پناہ (فصیل) سے نیچے اترے تھے ( کیونکہ شہر پناہ کے دروازے بند تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو اور اس دن جتنے بھی غلام طائف کی شہر پناہ پار کر کے اُترے تھے سب کو آزاد کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ماں کا نام مسمیہ ہے اور یہ زیاد کی بھی ماں ہے ( جسے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کوفہ، بصرہ اور خراسان وغیرہ کا گورنر بنایا تھا ) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ رضی اللہ عنہ غیر جانب دار رہے۔ ا۵ ہجری میں انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان مواخات کرائی تھی۔
ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال
اس سال اُم المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اس سال 51 ہجری میں اُم المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کے ہجری میں عمرۃ القضاء میں آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے ( آپ رضی اللہ عنہ ام المومنین سیدہ میمونہ بن حارث رضی اللہ عنہا کی بہن ام الفضل لبابہ بنت حارث کے بیٹے ہیں ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کھول دینے کے بعد (نمر مکمل ہو جانے کے بعد ) نکاح کیا ہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات ثابت ہے کہ دونوں حلال تھے (یعنی عمر مکمل کر چکے تھے )۔ پہلے آپ رضی اللہ عنہا کا نام ”برہ تھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر میمونہ رکھ دیا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان اُس جگہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق زوجیت ادا فر مایا تھا وہاں انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ عنہا کے بھانجے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھائی۔
ھ52 ہجری
اس سال یعنی 52 ہجری میں ایسا کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا جسے ذکر کیا جا سکے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بدستور مملکت اسلامیہ پر حکمرانی کرتے رہے اور تمام مملکت اسلامیہ میں تمام گورنر بھی وہی رکھے جو پچھلے سال تھے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں ۔ بعض مورخین کہتے ہیں کہ سفیان بن عوف از دی نے سرزمین روم پر اس سال جہاد کیا اور وہیں جاڑوں میں قیام کیا اور وہیں وفات پائی۔ ونہوں نے عبداللہ بن مسعدہ فرازی کو اپنی جگہ مقررکیا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سال سرزمین روم پرنسر بن ارطاۃ نے لوگوں کے ساتھ جاڑا ابسر کیا انہیں لوگوں میں سفیان بن عوف از دی بھی تھے ۔ اسی سال محمد بن عبد اللہ ثقفی نے جنگ صائفہ کی۔ (سرزمین روم میں اکثر فصیل صیف ہی میں جنگ ہوا کرتی تھی اس وجہ سے عرب اس جنگ کو جنگ صائفہ کہتے تھے ۔) اس سال سعید بن عاص نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ اور تمام علاقوں کے گورنر وہی رہے جو پچھلے سال تھے۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال
حضرت ابو ایوب انصاری نام حضرت خالد بن زید بن کلیب انصاری خزرجی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے میزبان ہیں اور مسجد نبی کی تعمیر مکمل ہونے تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے گھر میں تشریف فرما ر ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابوایوب انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ نے بیعت عقبہ، غزوہ بدر اور تمام معرکوں میں شمولیت کی اور حروریہ کے ساتھ جنگ میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شامل تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو آپ رضی اللہ عنہ ہی کے گھر میں فروکش ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک مہینے تک قیام کیا حتی کہ مسجد اور اُس کے ارد گرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش گا ہیں تعمیر ہو گئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رہائش گاہوں میں منتقل ہو گئے۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر کے نچلے حصے میں اُتارا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے گناہ سے بچنے کے لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم او پر چلے جائیں اور میں اور اُم ایوب نیچے رہیں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کی بات قبول کر لی ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بصرہ میں میرے پاس آئے اور میں بصرہ کا گورنر تھا تو میں اُن کی خاطر اپنے گھر سے نکل کر شہر سے باہر آیا اور استقبال کیا اور جب حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے واپسی کا ارادہ کیا تو بہت سے تحائف اور چالیس خادم دیئے ۔ جب اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گئی تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا: ” کیا آپ ان باتوں کو نہیں سنتے ہیں جو لوگ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی بیوی ام ایوب رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا میں یہ کر رہا ہوں یا اُم ایوب کر رہی ہے؟ وہ بولیں : اللہ کی قسم ! ہم نہیں کر رہے ہیں ۔ " حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اللہ کی قسم! ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تجھ سے بہت بہتر ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی وفات اس سال یعنی 52 ہجری میں بلا دروم میں قسطنطنیہ کی فصیل کے نزدیک ہوئی۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 52 ہجری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ نام عبد اللہ بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب بن عامر بن غزبن بکر بن عامر بن عذر بن وائل بن ناجیہ بن جماہر بن اشعر اشعری رضی اللہ عنہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ملک یمن میں اسلام قبول کیا اور خیبر کے سال حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اصحاب کے ساتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کو بھی ملک یمن کا گورنر مقرر فرمایا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا گورنر بنایا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ” تستر“ کو فتح کیا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بھی آپ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنایا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو حکم ( فیصلہ کرنے والا ) بنایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ قراء اور فقہاء صحابہ رضی اللہ عنہم سے تھے اور اپنے زمانے میں سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ خوش آواز تھے ۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اکثر فرماتے تھے: ”اے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ! ہمیں ہمارا رب یاد دلا دو ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دیتے تو وہ سنتے تھے۔ شہادت کے وقت خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میں لکھا: ” حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے سوا میرے کسی بھی گورنر کو ایک سال سے زیادہ برقرار نہیں رکھا جائے۔“
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 52 ہجری میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عمران بن حصین بن عبید خزاعی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیبر کے سال اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے ہر غزوہ میں شمولیت کی۔ آپ رضی اللہ عنہ سادات صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جب عبد اللہ بن عامر بصرہ کا گورنر تھا تو اس نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو قاضی کے عہدے پر مقرر کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کافی دن وہاں پر فیصلے کئے پھر قاضی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور وہیں بصرہ میں رہائش پذیر ہو گئے اور یہیں انتقال ہوا۔
ھ53 ہجری: جزیره رودس کی فتح
اس سال 53 ہجری میں مسلمانوں نے بلادِ روم میں ایک ایسا جزیرہ فتح کیا جہاں سے وہ رومیوں کو بڑے اطمینان سے سمندر میں آگے بڑھنے سے روک سکتے تھے اور اسلامی سرحدوں کی حفاظت کر سکتے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال ۵۳ ہجری میں عبد الرحمن بن اُم حکم ثقفی نے سرزمین روم میں جاڑا بسر کیا ۔ اسی سال جنادہ بن ابی اُمیہ از دی نے جزیره رودس کو فتح کیا ۔ مسلمان وہاں رہائش پذیر ہو گئے ، زراعت کی ، زمینیں اور مویشی خریدے اور اپنی زمینوں کے گرد مویشی چرایا کرتے تھے ۔ جب شام ہو جاتی تو سب جانوروں کو قلعہ کے اندر لے جاتے تھے۔ اُن لوگوں کے باس ایک مالی تھا جو دریائی دشمنوں کے مکر و فریب سے ہوشیار کر دیتا تھا۔ یہ مسلمان رومیوں پر بہت غضب کے دلیر تھے سمندروں میں ہی رومیوں کو روک لیتے تھے اور مال غنیمت حاصل کرتے تھے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُن کے لئے عطیات اور تنخواہیں مقرر کر دی تھیں اور دشمن پر اُن کا خوف چھایا ہوا تھا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے بعد جب یزید حکمراں بنا تو انہیں واپس بلالیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دعا
حجاز کا علاقہ (جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی ہیں ) زیاد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے اپنی ماتحتی میں مانگا تو آ پ رضی اللہ عنہ نے حجاز کا علاقہ بھی اُسے دے دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زیاد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ملک عراق کا نظم نق تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور میرا داہنا ہاتھ تو خالی ہی رہتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس بات پر یمامہ اور اُس کے اضلاع بھی زیاد کے ماتحت کر دیئے اور ایک روایت میں ہے کہ ملک حجاز اُس کے داہنے ہاتھ میں دے دیا اور یہ فرمان لکھ کر ہیثم بن اسودیشی کے ہاتھ سے روانہ کیا۔ اہل حجاز کو جب یہ خبر معلوم ہوئی تو کچھ لوگ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اُن سے مصیبت بیان کی ۔ انہوں نے فرمایا : ” میں اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ تمہیں اس مصیبت سے نجات دلائے ۔“ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ قبلہ رو ہوئے اور اللہ عالی سے دعا کی۔ اس کے بعد زیاد طاعون میں مبتلا ہو گیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کی بیماری کی خبرسنی تو فرمایا: ”جادور ہو ابن سمیہ اند دنیا تیرے پاس رہی اور نہ ہی آخرت تجھے ملی ۔
ابن سمیہ ( زیاد بن ابی سفیان ) کا انتقال
ھ53 ہجری میں زیاد کا انتقال ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: طاعون اُس کی انگلی میں نکلا اپنے قاضی حضرت شریح کو بلوایا اور کہا: دیکھو! میں اس بیماری میں مبتلا ہو گیا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ اس ہاتھ کو کٹوالو تم کیا مشورہ دیتے ہو؟ حضرت شریح نے کہا: ” مجھے اندیشہ ہے کہ زخم تیرے ہاتھ پر لگے گا اور صدمہ تیرے دل کو پہنچے گا اور اگر تیری موت قریب آچکی ہو تو تو اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے ہاتھ کے ساتھ ملاقات کرے گا اور اگر تو نے ہاتھ اس لئے کاٹا ہو کہ اللہ سے ملاقات کی ہمت تجھ میں نہیں ہے اور اگر تیری موت ٹل جائے تو کیا تو اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ جئے گا اور اپنی اولاد کے لئے عیب کا باعث بنے گا ؟ زیاد نے یہ سنا تو ہاتھ کٹانے میں تامل کیا۔ حضرت شریح جب باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا تب حضرت شریح نے اپنا مشورہ بیان کر دیا۔ لوگوں نے کہا: ” تم نے ہاتھ کاٹنے کا مشورہ کیوں نہیں دیا ؟ حضرت شریح نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشورہ دینے والا مل اعتماد ہے ۔ آخر کار زیاد نے کہا: یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ میں اور طاعون ایک ہی لحاف میں سوئیں ۔ اور اُس نے ہاتھ کٹوانے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ جب اُس کے سامنے ہاتھ کاٹنے کے بعد زخم کو داغنے کے لئے آگ جلائی گئی اور داغنے کے سامان سامنے لائے گئے تو وہ مضطرب ہو گیا اور ہاتھ کٹانے سے انکار کر دیا۔ جب مرنے کا وقت قریب آیا تو اُس کے بیٹے نے کہا: ”بابا ! میں نے آپ کے کفن کے لئے ساٹھ کپڑے تیار کر رکھے ہیں ۔ یہ سُن کر اُس نے کہا: ”بیٹا ! تیرے باپ کے لئے اب ایسا وقت آیا ہے کہ یا تو اُسے اس سے بہتر لباس ملے یا پھر یہ کپڑے بھی اُتر جائیں۔ جب وہ مر گیا تو اُسے کوفہ کے ایک مقام تو یہ میں دفن کیا گیا اور حجاز کی حکومت کے لئے یزید روانہ ہوا۔ اس سال سعید بن عاص نے مسلمانوں کو حج کرایا۔
ھ53 ہجری کے خاتمے پر مملکت اسلامیہ کے گورنر
ھ53 ہجری میں زیاد نے انتقال کے وقت عبداللہ بن خالد کو کوفہ کا گورنر بنا دیا تھا اور بصرہ کا گورنرسمرہ بن جندب تھا اور خراسان کا گورنر خلید بن عبداللہ حنفی تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی سال ۵۳ ہجری میں ربیع بن زیاد ھارٹی جسے زیاد نے خراسان کا گورنر بنایا تھا دو سال اور چند مہینے حکومت کرنے کے بعد انتقال ہوا۔ اُس نے مرتے وقت اپنی جگہ اپنے بیٹے عبداللہ بن ربیع کو خراسان کا گورنر بنادیا۔ دو مہینے بعد عبد اللہ بن ربیع کا بھی انتقال ہو گیا۔ اُس کی موت خبر کی زیاد کے پاس اُس وقت پہنچی جب وہ دفن کیا جارہا تھا۔ عبد اللہ بن ربیع نے اپنی جگہ خراسان کا گورنر خلید بن عبداللہ حنفی کو بنا دیا تھا۔ زیاد کے انتقال کے چھ مہینے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سمرہ بن جندب کو معزول کر دیا اور اُس کے کچھ دنوں بعد کسی نے سمرہ بن جندب کو قتل کر دیا۔
حضرت معصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ کا انتقال
ا43 ہجری میں جلیل القدر صحابی حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت صعصعہ بن ناجیہ بن عفان بن سفیان بن مجاشع بن دارم رضی اللہ عنہ کا انتقال ۵۳ ہجری میں ہوا۔ زمانہ جاہلیت میں آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے اور علاقے کے سردار تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تین سو ساٹھ (360) لڑکیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ہے۔ بعض علماء نے چار سولڑ کیاں اور بعض علماء نے چھیانوے لڑکیاں بیان کیں ہیں۔ (ملک عرب میں پہلے زمانے میں ایسا تھا کہ اگر لڑ کی پیدا ہوتی تھی تو اُسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ نے ہر لڑکی کے بدلے میں دو اونٹ اُس کے باپ کو دے کر لڑکی کو بچالیا کرتے تھے ) جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا مجھے اس کا اجر ملے گا ؟ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس کا اجر یہ ملاکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میری دو اونٹیاں بدک کر بھاگ گئی تھیں۔ اُن کو تلاش کرتے کرتے رات ہوگئی اور میں تلاش میں لگا ہی رہا۔ میں نے ایک آگ کو دیکھا جو کافی دور تھی اور کبھی روشن ہوتی اور کبھی اتنی دھیمی ہو جاتی کہ دکھائی نہیں دیتی تھی اور میں راستہ بھول جاتا تھا۔ میں نے دعا کی: اے اللہ! تیرا یہ مجھ پر احسان ہوگا کہ تو مجھے اُس آگ تک پہنچا دے اور اگر میں نے وہاں کسی پر ظلم ہوتا دیکھا تو اسے ظلم سے بچاؤں گا ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ” میں آگ کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ ایک شخص آگ جلا رہا ہے اور وہاں کچھ عورتیں موجود ہیں ۔ میں اُن سے قیام کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت کو بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ اُس شخص نے کہا: تم کہاں جارہے ہو؟ میں نے کہا: میں اپنی دو بد کی ہوئی اونٹوں کی تلاش میں ہوں ۔ اس شخص نے کہا: ” تمہاری بد کی ہوئی اونٹنیاں میرے پاس ہیں ۔ میں اپنے اونٹ سے اتر پڑا اور اُس شخص کے پاس بیٹھ گیا۔ اتنے میں اندر سے ایک عورت نے آکر خبر دی کہ لڑکی پیدا ہوئی ہے۔ اس شخص نے کہا: ” اُسے اُسی گڑھے میں زندہ دفن کر دو جو میں نے پہلے سے کھود کر رکھا ہوا ہے ۔ ( زمانہ جاہلیت میں ملک عرب میں بچہ پیدا ہونے سے پہلے باپ گڑھا کھود کر رکھتے تھے اور اگر بیٹی پیدا ہوتی تھی تو اُسے زندہ دفن کر دیتے تھے ) میں نے جلدی سے کہا: تم اپنی بچی کو کیوں قتل کرتے ہو اور اس کا رزق تو اللہ کے ذمہ ہے ۔ اس شخص نے کہا: ” مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں نے کہا: ” میں اسے تجھ سے چھٹکارہ دلاتا ہوں اور اُسے تمہارے پاس ہی چھوڑتا ہوں حتی کہ وہ تجھ سے جدا ہو جائے یا مر جائے ۔ اُس نے کہا: ” کتنے میں؟“ میں نے کہا: ” ایک اوٹنی کے عوض ۔ “ اس نے کہا: نہیں ۔ میں نے کہا: ”دونوں اُونٹنیوں کے عوض ۔“ اس نے کہا: ”اگر و دواونٹنیوں کے ساتھ اپنا یہ اونٹ بھی مجھے دیدے تو میں اُس بچی کو زندہ چھوڑ دوں گا اور بے شک میں اُسے (اونٹ کو) خوش رنگ نو جوان پاتا ہوں ۔ میں نے کہا: ”اچھا ٹھیک ہے !مگر شرط یہ ہے کہ تو مجھے میرے قبیلے تک پہنچادے۔ اُس نے کہا: ” بہت اچھا۔ اس کے بعد میں نے اللہ سے عہد کر لیا کہ جو بھی لڑکی مجھے ایسی ملے گی جسے زندہ دفن کیا جا رہا ہو گا اُسے میں فدیہ دے کر ضرور چھڑاؤں گا جس طرح میں نے اس لڑکی کو چھڑایا ہے ۔ ابھی اسلام نہیں آیا تھا کہ میں چھیانوے (96) لڑکیوں کو چھڑا چکا تھا۔ پھر اس کے بعد قرآن پاک میں مسلمانوں پر اس عمل کی تحریم نازل ہوئی ۔“
ھ53 ہجری: سعید بن عاص کی معزولی
اس سال 53 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کا گورنر دوبارہ مروان بن حکم کو بنا دیا اور سعید بن عاص کو معزول کر دیا۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے 53 ہجری میں سعید بن عاص کو معزول کر دیا اور مروان بن حکم کو دوبارہ مدینہ منورہ کا گورنر بنا دیا اور اُسے لکھا کہ وہ سعید بن عاص کا گھر منہدم کروادے اور سرزمین حجاز میں جو اموال و جائدا ہیں انہیں ضبط کر لے۔ مروان بن حکم اُس کا گھر گرانے کے لئے آیا تو سعید بن عاص نے کہا: " تجھے یہ کام نہیں کرنا چاہیئے ۔ "مروان بن حکم نے کہا: " امیر المومنین نے مجھے اس کے بارے میں حکم دیا ہے اور اگر وہ آپ کو میرے گھر کے بارے میں لکھتے تو آپ بھی ایسا ہی کرتے ۔ سعید بن عاص نے مروان بن حکم کو وہ خط دکھایا جو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُسے گورنر بناتے اور مروان بن حکم کو معزول کرتے وقت لکھا تھا ۔ اُس خط میں لکھا تھا کہ مروان بن حکم کے گھر کوگرادو اور اس کے مال و جائداد پر قبضہ کر لو۔ یہ خط دینے کے بعد سعید بن عاص نے کہا: ” اس حکم کے باوجود میں نے ہمیشہ تمہارا بچاؤ کیا ہے۔ خط پڑھنے کے بعد مروان بن حکم نے سعید بن عاص کا گھر نہیں گرایا اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔
عبید اللہ بن زیاد خراسان کا گورنر
اس سال 53 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد بن ابی سفیان یا ابن سمیہ کے بیٹے عبید اللہ بن زیاد کوخراسان کا گورنر بنایا۔ یہ عبید اللہ بن زیاد وہی ” ابن زیاد ہے جسے یزید نے کوفہ کا گورنر بنایا تھا اورحکم دیا تھا کہ کسی بھی طرح حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کورو کے اور ابن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا اور ایک لشکر حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو روکنے کے لئے بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ انہیں ہر قیمت پر کوفہ پہنچے نہیں دینا چاہے اس کے لئے انہیں شہید ہی کیوں نہ کرنا پڑے ) علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: زیاد کے مرنے کے بعد اُس کا بیٹا عبید اللہ بن زیاد ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُس وقت اُس کی عُمر چھپیس (25) سال کی تھی ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ” تیرے باپ نے کوفہ اور بصرہ کا گورنر کسے بنایا ہے؟‘ عبید اللہ بن زیاد کو جو معلوم تھا اُس نے بتا دیا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: "اگر تیرا باپ تجھے گورنر بنا جاتا تو میں تجھے بحال رکھتا۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے بعد کوئی مجھے یہ کہے کہ اگر تیرا باپ یا تیرا چا ( یعنی حضرت معاویہ تجھے گورنری دے جاتے تو میں بھی بحال رکھتا۔ یہ سن کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور اُسے خراسان کا گورنر بنا دیا اور روانگی کے وقت یہ صیحتیں کیں ۔ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اُس کے خوف پر کسی چیز کو غالب ہونے نہیں دینا کیونکہ اس سے ڈرنے میں کثیر منافع ہے اور اپنی عزت بچائے رکھنا۔ اگر کسی سے عہد و پیمان کرنا تو اُسے پورا کرنا تھوڑی چیز ( دنیا) کے عوض بڑی چیز (آخرت) کو فروخت نہیں کرنا ، جب تک کسی کام کا مصمم ارادہ نہیں کر لیتا تب تک زبان سے اظہار نہیں کرنا کیونکہ جب تم کسی بات کو زبان سے نکال چکے ہو گے تو اُس کو واپس نہیں لے سکو گے۔“
ترکوں سے جنگ
ملک شام سے رخصت ہو کر عبید اللہ بن زیاد خراسان کی طرف روانہ ہو گیا: علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن زیاد کو خراسان روانہ کرتے وقت یہ بھی نصیحت کی کہ جب دشمنوں سے صف آرائی ہو تو جو لوگ تم سے بڑے ہوں اُن کو ذمہ دار بنانا اور کتاب اللہ پر بیعت لیتا۔ عبید اللہ بن زیاد ۵۳ ہجری کے اول میں ملک شام سے رخصت ہو کر خراسان روانہ ہوا اور وہاں جا کر انتظام سنبھالا۔ وہ شکرلیکر ترکوں کی طرف بڑھا اور نہر عبور کر کے جبال بخارا کی طرف چڑھائی کی ۔ راستے میں لسف اور بیکند کو جنگ کر کے فتح کیا ۔ پھر ترکوں سے جنگ کی اور متعدد لڑائیوں کے بعد ترک میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔ ترکوں کے بادشاہ کے ساتھ اُس کی ملکہ بھی تھی ۔ وہ ایک ہی پاؤں میں جوتی پہنے پائی تھی کہ مسلمانوں نے پہنچ کر اسے گرفتار کر لیا اور دولاکھ درہم میں فروخت کر ڈالا۔ عبداللہ بن زیاد خود اس جنگ میں شریک تھا اور اُس کے ایک ہاتھ میں لشکر کا جھنڈا تھا اور دوسرے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ وہ لڑتے لڑتے لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جاتا تھا پھر یکا یک اپنے جھنڈے کو بلند کرتا تھا جس سے خون ٹپکتا تھا۔ یہ لڑائی خراسان کی مشہور لڑائیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں؛ ۵۳ ہجری میں مروان بن حکم نے مسلمانوں کو حج کروایا اور مدینہ منورہ کا گورنروہی تھا، کوفہ کا گورز عبداللہ بن خالد تھا۔ بعض مورخین ضحاک بن قیس کا نام لیتے ہیں اور بصرہ کا گورنر عمرو بن غیلان تھا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں