03 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 3
ھ47 ہجری، ھ48 ہجری، ھ49 ہجری، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت، زہر نے آنتوں کو کاٹ دیا، زہر کس نے کس کے کہنے پر دیا، بقیع میں دفن کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے مشابہت، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت، اے اللہ ! اس سے محبت رکھ، جو اس سے محبت رکھے، اُس سے میں بھی محبت رکھتا ہوں، حضرات حسنین رضی اللہ عنہم سے محبت، جنت کے نو جوانوں کے سردار، تم جس سے صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا، خلفائے راشدین کی محبت، ھ50 ہجری: کوفہ میں زیاد کا استقبال،
ھ47 ہجری
اس سال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے پوری مملکت اسلامیہ میں تمام گورنر وہی رکھے اور صرف ملک مصر میں گورنر کو تبدیل کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال سے 47 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ملک مصر کی گورنری سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے معزول کر دیا اور اُن کی جگہ ملک مصر کا گورنر معاویہ بن خدیج کو بنا دیا۔ اس سال بلاد روم میں مسلمانوں کے لشکر کا سپہ سالار مالک بن ہیر ہ تھا اور انطاکیہ میں لشکر کا سپہ سالا را بوعبدالرحمن قینی تھا۔ اس سال زیاد نے حضرت حکم بن عمر و غفاری کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔ انہوں نے کوہستان غور و فراوندہ میں جنگ کی اور فتح حاصل کی ۔ بے شمار مال غنیمت اور قیدی ہاتھ آئے وہاں سے واپسی میں حضرت حکم بن عمرو کا مرد میں انتقال ہو گیا۔ اس سال عقبہ بن ابی سفیان یا غیبہ بن ابی سفیان نے لوگوں کو حج کرایا۔
ھ48 ہجری
اس سال بھی تمام مملکت اسلامیہ کے گورنر وہی رہے۔ صرف خراسان کے گورنر کو زیاد نے تبدیل کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 48 ہجری میں ابو عبد الرحمن قینی انطاکیہ کا سپہ سالار رہا اور عبداللہ بن قیس گزاری نے گرمیوں میں جہاد کیا۔ مالک بن ہبیر و سکونی نے بحری جنگ کی ۔ عقبہ بن عامر جہنی نے بھی اہل مصر کو لیکر بحری جنگ کی اور اس لشکر میں اہل مدینہ منورہ بھی تھے اور اُن کا کمانڈر منذر بن زہیر تھا اور سب سے بڑے سپہ سالار خالد بن عبدالرحمن بن خالد بن ولید تھے۔ بعض مورخین کا قول ہے کہ اس سال زیاد نے حضرت غالب بن فضالہ لیٹی کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ اس سال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مروان بن حکم پر عتاب کیا اور پہلے جو اُسے فدک کے باغات دیئے تھے وہ واپس لے لئے ۔ اس سال مروان بن حکم نے لوگوں کو حج کرایا۔
ھ49 ہجری
اس سال بھی پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر رہے صرف مدینہ منورہ کا گورنر تبدیل کیا گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 49 ہجری میں مالک بن ہبیرہ نے نے سرزمین روم میں جاڑ ابسر کیا۔ فضالہ بن عبید نے جزیہ میں جنگ کی اور جاڑا وہیں کاٹا فتح حاصل ہوئی اور بہت سے قیدی ہاتھ آئے ۔ عبداللہ بن کوزی بجلی نے گرمیوں میں چڑھائی کی۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے بحری جنگ کی اور ملک مصر میں جاڑا بسر کیا۔ اس سال مروان بن حکم کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ربیع الاول میں معزول کر دیا اور سعید بن عاص کو ربیع الاخر میں مدینہ منورہ کا گورنر بنا دیا۔ مروان بن حکم آٹھ سال اور دو مہینے مدینہ منورہ کا گورنر رہا۔ مروان بن حکم نے حضرت عبد اللہ بن حارث بن نوفل کو مدینہ کا قاضی بنایا تھا۔ سعید بن عاص نے انہیں معزول کر کے حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف کو قاضی بنا دیا۔ اس سال کوفہ میں طاعون پھیلا اور اس کی وجہ سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ۵۰ ہجری میں ہوا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کوکوفہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ اس طرح زیاد پہلا شخص ہے جو کو فہ اور بصرہ دونوں کا گورنر بنا۔ زیاد چھ مہینہ کوفہ میں رہتا اور چھ مہینہ بصرہ میں رہتا تھا۔ اس سال سعید بن عاص نے لوگوں کو حج کرایا۔
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت
اسی سال 49 ہجری میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت زہر سے ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہ کوکئی بارز ہر دیا گیا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں، عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں اور قریش کا ایک اور شخص حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ رضی اللہ عنہ بیت الخلاء " گئے اور جب باہر آئے تو فرمایا: ” میرے جگر کا ایک ٹکڑا کٹ کر گر پڑا تھا اور میں نے اُسے لکڑی سے اُلٹ پلٹ کر دیکھا۔ مجھے کئی بار زہر پلایا گیا ہے مگر اس با رسب سے زیادہ سخت زہر پلایا گیا ہے ۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھ سے اگر کوئی بات پوچھنی ہو تو پوچھ لو اس سے پہلے کہ میں کچھ بتانے کے قابل نہ رہوں ۔ میں نے عرض کیا: ” مجھے آپ رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں پوچھتا ہے بس اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو صحت عطا فرمائے ۔ راوی بیان کرتا ہے۔ اس کے بعد ہم وہاں سے چلے آئے پھر دوسرے دن ہمیں معلوم ہوا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ بازار میں بے ہوش پڑے ہیں فورا وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہیں اور فرمایا: ”اے بھائی جان! آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیا تم اُسے قتل کرنا چاہتے ہو؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ہاں ۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”اگر میرے ساتھ یہ کام کرنے والا وہی ہے جسے میں خیال کر رہا ہوں تو اللہ تعالیٰ اسے سخت سزا دے گا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ سخت عذاب اور سزادینے والا ہے اور جسے میں خیال کرتا ہوں اگر وہ نہیں ہے تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے بدلے میں تم کسی بے گناہ کو قتل کر دو“ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام بکر بنت مسور نے کہا: حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کوکئی بارز ہر پلایا گیا اور ہر بار آپ رضی اللہ عنہ بیچے جاتے تھے ۔ آخری بار کے زہر نے آپ رضی اللہ عنہ کے جگر کے ٹکڑے کر دیئے اور آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔
زہر نے آنتوں کو کاٹ دیا
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ایسا ہر دیا گیا تھا کہ جس کی وجہ سے انتڑیاں اور پیٹ میں موجود لگ بھگ ہر شئے کٹ گئی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ عورتوں سے بہت نکاح کرنے والے تھے اور وہ بہت کم آپ رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے پاتی تھیں۔ پھر بھی ہر عورت آپ رضی اللہ عنہ سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو زہر پلایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ بچ گئے ، پھر پلایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ پھر بچ گئے اور پھر پلایا گیا تو ایک طبیب کو بلایا گیا جو ہمیشہ آیا کرتا تھا۔ اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کا معائنہ کرنے کے بعد کہا: ” ان کی آنتوں کو زہر نے کاٹ دیا ہے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے بھائی جان! مجھے بتائیے! آپ رضی اللہ عنہ کو کس نے زہر پلایا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے بھائی! تم ایسا کیوں پوچھ رہے ہو؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں آپ رضی اللہ عنہ کو فن کرنے سے پہلے اسے قتل کر دوں گا اور میں اُس پر قابو نہیں پاسکوں گا تو میں مشقت برداشت کر کے اُس کے پاس جاؤں گا ۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے پیارے بھائی ! یہ دنیا فانی ہے۔ اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ میں اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ملاقات کریں ۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے نام بتانے سے انکار کر دیا۔
زہر کس نے کس کے کہنے پر دیا
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے یہ کسی کو نہیں بتایا کہ انہیں کس نے زہر دیا؟ کس کے کہنے پر دیا؟ اس بارے میں کئی روایات ہیں۔اب پتہ نہیں ان میں سے کوئی روایت صحیح ہے بھی یا نہیں؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: امام محمد بن سعد نے بیان کیا ہے کہ یحی بن جمال نے ہمیں بتایا کہ ابو عوانہ نے مغیرہ سے بحوالہ أم موسیٰ ہمیں خبر دی کہ جعدہ بنت اشعث بن ولیس نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو زہر پلایا جس سے آپ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے نیچے طشت رکھا جاتا تھا جب وہ خون سے بھر جاتا تھا تو دوسرا رکھ کر پہلا اُٹھایا جاتا تھا۔ اس طرح چالیس دن تک طشت رکھا اور اُٹھایا گیا۔ بعض نے روایت کی ہے کہ یزید بن معاویہ نے جعدہ بنت اشعث کو پیغام بھیجا کہ وہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ہر دیدے اور میں تجھ سے شادی کرلوں گا۔ اُس نے زہر دے دیا اور جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو جعدہ بنت اشعث نے یزید بن معاویہ کو پیغام بھیجا۔ اُس نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم نے تو تجھے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے لئے بھی پسند نہیں کیا تو کیا ہم تجھے اپنے لئے پسند کر سکتے ہیں؟“
بقیع میں دفن کیا
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کے بقیع قبرستان میں دفن کیا گیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " جس دن حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اُس دن ہم نے دیکھا اور قریب تھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم کے درمیان جنگ چھڑ جاتی کیونکہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی کو وصیت کی تھی کہ مجھے میرے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں دفن کرنا اور اگر اس بارے میں جنگ یا شر کا خدشہ ہو تو بقیع میں دفن کر دینا۔ مروان بن حکم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں دفن کرنے سے صاف انکار کر دیا اور لڑائی پر آمادہ ہو گیا۔ مروان بن حکم اُن دنوں معزول تھا اور وہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کوخوش کرنا چاہتا تھا اور مروان بن حکم ہمیشہ بنو ہاشم کا دشمن رہا ہے یہاں تک کہ مر گیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں میں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی اور کہا: "اے ابو عبد اللہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) اللہ سے ڈرو اور فتنہ نہ بڑھاؤ۔ بے شک تمہارا بھائی اس بات کو پسند نہیں کرتا تھا جو تم دیکھ رہے ہو۔ انہیں اپنی والدہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بقیع میں دفن کر دو“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بقیع میں دفن کر دیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کرنے کے لئے آدمی بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی اور جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ہتھیار پہن لئے اور بنو امیہ نے بھی ہتھیار لگا لئے اور بولے : ”ہم حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن نہیں ہونے دیں گے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تو بقیع میں دفن ہوں اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ حجرہ میں دفن ہوں ؟ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ اور جب لوگوں کو اندیشہ ہو گیا کہ جنگ ہو جائے گی تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ملکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ آپ رضی اللہ عنہ جنگ نہ کریں تو انہوں نے بات مان لی اور اپنے بھائی کو اپنی والدہ محترمہ کے بازو میں بقیع میں دفن کر دیا ۔ ابو حازم کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھانے کے لئے سعید بن عاص کو آگے کیا اور فرمایا: اگر یہ سنت نہ ہوتی تو میں انہیں آگے نہیں کرتا ۔ سعید بن عاص نے جنازے کی نماز پڑھائی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے مشابہت
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے بہت مشابہت رکھتا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کنیت ابومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے بیٹے اور مخلوق میں سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے مشابہت رکھنے والے ہیں۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ ماہ رمضان المبارک ۳ ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو گھٹی دی اور آپ رضی اللہ عنہ کا نام حسن رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے والدین کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہ سے شدید محبت کرتے تھے حتی کہ چھوٹی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے ہونٹوں کو بوسہ دیتے اور بسا اوقات اپنی زبان انہیں چوساتے اور گلے لگا لیتے اور خوش طبعی کرتے ۔ بسا اوقات نماز کے دوران حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سجدے میں ہوتے تو آپ رضی اللہ عنہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر چڑھ جاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہتے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی وجہ سے سجدے کو طویل کر دیتے اور بسا اوقات آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھ جاتے ۔ حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو آتے ہوئے دیکھا کہ وہ دونوں لڑکھڑاتے ہوئے آرہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ روک دیا اور اُن دونوں کے پاس جا کر دونوں کو گود میں اٹھا لیا اور اپنے ساتھ منبر پر لے آئے اور فرمایا: اللہ نے بیچ فرمایا کہ میں نے ان دونوں کو چلتے اور لڑکھڑاتے دیکھا تو اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکا اور ان کے پاس چلا گیا۔ پھر فرمایا: ” بے شک تم اللہ کی رحمت ہو اور تمہاری تعظیم کی جاتی ہے اور تم سے محبت کی جاتی ہے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ علامہ عمادالدین ابن کثر لکھتے ہیں صحیح بخاری میں حضرت عقبہ بن حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز پڑھائی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ باہر نکلے تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر اپنے کاندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا: اللہ کی تم اتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہو اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے مشابہ نہیں ہو ۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔
اے اللہ ! اس سے محبت رکھ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھتے تو بے حد محبت اور شفقت سے پیش آتے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے اللہ سے دعائیں کرتے تھے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھا لیتے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دوسری ران پر بٹھا لیتے پھر ہمیں گلے سے لگاتے اور فرماتے : ”اے اللہ ان دونوں پر رحم فرما، بے شک میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے اللہ ! میں اِن دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاندھے پر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ ۔ اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ” اور جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی محبت رکھے ۔“
جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی محبت رکھتا ہوں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے اتنی محبت رکھتے ہیں کہ جو اُن سے محبت رکھتا ہے اُس سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کولیکر فرمایا: ”اے اللہ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی رکھ ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ منورہ کے ایک بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ پھر ہم واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے صحن میں آکر آواز لگائی : اے بیٹے ، اے بیٹے ، اسے بیٹے ۔ مگر کوئی جواب نہیں آیا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے صحن میں آگئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے۔ اتنے میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آگئے اور میں نے سمجھا کہ سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہ نے انہیں تیار کر کے بھیجا۔ جب وہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگالیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں اور جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی محبت رکھتا ہوں ۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی۔ مسنداحمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاتھ کا سہارا لئے بنو قینقاع کے بازار کی طرف گئے اور اُس کا چکر لگایا پھر واپس آکر مسجد میں گوٹھ مار کر بیٹھ گئے اور آواز لگائی: ”اے بیٹے ! میرے بیٹے کو میرے پاس لاؤ۔ یہ سن کر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گوٹھ میں چھلانگ مار دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے چہرے کا بوسہ لیا اور فرمایا: ” اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو اس سے محبت رکھتا ہے اُس سے بھی محبت رکھ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میں نے جب بھی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کودیکھا تو میری آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور میں رو پڑا ۔ حضرت عمیر بن اسحاق فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جارہا تھا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ملے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے اپنی قیص کی وہ جگہ چومنے دو جہاں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چومتے دیکھا تھا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے وہ جگہ دکھائی تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اُس جگہ کو چوما۔ ( مسند احمد بن حنبل)
حضرات حسنین رضی اللہ عنہم سے محبت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسنین ( حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ایک کندھے پر اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دوسرے کندھے پر بٹھایا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک کا بوسہ لیتے اور دوسری دفعہ دوسرے کا بوسہ لیتے۔ اس طرح باری باری دونوں کا بوسہ لیتے ۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے بہت محبت کرتے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ان دونوں سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے نفرت کی اُس نے مجھے سے نفرت کی ۔“ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آگئے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہو جاتے ۔ لوگوں نے ان دونوں کو روکنا چاہا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں سے فرمایا: ” یہ دونوں میرے بیٹے ہیں۔ جس نے ان دونوں سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی ۔ (سنن نسائی ) ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو اُن کے والدین سمیت اپنی چادر میں چھپا لیا اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے ناپاکی کو دور کر دے اور انہیں اچھی طرح پاک کر
جنت کے نو جوانوں کے سردار
حضرات حسنین یعنی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جنت میں نوجوانوں کے سردار ر ہیں گے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ج جنتی نو جوانوں کے سردار کو دیکھ کر خوش ہونا چاہتا ہے وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔ حضرت ابو سعید خدری اور حضرت بریدہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن بن علی اور حسین بن علی رضی اللہ عنہم جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور اُن کے والد محترم اُن سے بہتر ہیں ۔ “ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو اپنی پیٹھ پر بٹھائے ہوئے تھے اور چار پاؤں پر چل رہے تھے۔ میں نے کہا: تم دونوں کو اٹھانے والی سواری کتنی اچھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اور یہ دونوں سوار بھی تو کتنے اچھے ہیں (جامع ترمذی)
تم جس سے صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے اتحاد کرنے کے لئے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے صلح کی اور پوری امت مسلمہ متحد ہوگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہوئی۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھا اور فرمایا: تم جس سے جنگ کرو گے میں بھی اُس سے جنگ کروں گا اور تم جس سے صلح کرو گے میں بھی اُس سے صلح کروں گا۔ ( مسند احمد بن حنبل) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے اور ضرور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ (مسند احمد بن حنبل)
خلفائے راشدین کی محبت
حضرات حسنین رضی اللہ عنہم یعنی حسن بن علی رضی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے خلفائے راشدین بھی بہت محبت کرتے تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کا بہت اعزاز و اکرام کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہم پر فدا ہوتے تھے اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بھی یہی حال تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب وظیفہ خواروں کا رجسٹر بنایا تو حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے لئے اہل بدر کے برابر پانچ ہزار درہم مقرر کئے ۔ اسی طرح خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کا بہت اکرام کرتے تھے اور اُن سے محبت کرتے تھے۔ اور یوم الدار کو جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ محصور تھے تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تلوار لئے موجود تھے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بچاؤ کر رہے تھے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے تو انہوں قسم دے کر انہیں گھر واپس بھیجا۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی اپنے بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا بہت اعزاز و اکرام کرتے تھے۔ ایک دن آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے بیٹے ! کیا آپ رضی اللہ عنہ تقریر نہیں کریں گے کہ میں اُسے سنوں؟ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”ابا جان! آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہوئے تقریر کرنے میں جھجھک محسوس کرتا ہوں ۔ یہ سُن کر حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ایسی جگہ جا کر بیٹھ گئے جہاں سے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ انہیں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ پھر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر تقریر کی اور اُن کے والد محترم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سُن رہے تھے ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے انتہائی فصیح و بلیغ تقریر کی اور جب تقریر ختم کر کے واپس آئے تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بعض بعض کی اولاد ہیں اور اللہ سنے اور جاننے والا ہے۔“
ھ50 ہجری: کوفہ میں زیاد کا استقبال
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد زیاد کو بصرہ ، خراسان اور بجستان کے ساتھ ساتھ کوفہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ زیاد جب کوفہ آیا تو کوفیوں نے اُس کا استقبال کنکروں سے کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت مغیرہ بن شعبہ کے انتقال کے بعد زیادہ نے بصرہ میں سمرہ بن جندب کو اپنا نائب بنایا اور کوفہ آیا۔ وہ چھ مہینے کوفہ میں رہتا تھا اور چھ مہینے بصرہ میں رہتا تھا ۔ جب وہ کوفہ آیا تو منبر پر جا کرحمد وثنا کی اور بولا: میں بصرہ میں تھا جب مجھے کوفہ کی گورنری ملی۔ میں نے ارادہ کیا کہ بصرہ سے دو ہزار سپاہیوں کے ساتھ آؤں پھر مجھے خیال آیا کہ تم لوگ اہل حق ہو تمہارے حق نے بہت دفعہ باطل کو دفع کیا ہے۔ اس لئے فقط اپنے گھر والوں کے ساتھ تمہارے پاس چلا آیا۔الحمدللہ لوگوں نے جتنا مجھے پست کیا تھا اُس اللہ تعالیٰ نے اتنا ہی مجھے بلند کر دیا اور لوگوں نے جس بات کو ضائع کر دیا تھا اللہ نے اُس کی حفاظت کی ۔ خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد منبر سے اترنے ہی والا تھا کہ اسے لوگوں نے سنگریزے( کنکریاں ) مارے۔ جب تک سنگریزے آتے رہے وہ منبر پر بیٹھا رہا اور جب وہ آنا بند ہو گئے تو اُس نے اپنے خاص لوگوں کو بلا کر حکم دیا کہ مسجد کے سب دروازوں کو بند کر دیں پھر کہا: میں ہر شخص کو حکم دیتا ہوں کہ وہ اپنے پاس والے آدمی کو پکڑلے اور ہرگز ہر گز کوئی یہ نہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ میرے پاس کون بیٹھا تھا۔ “ اس کے بعد اپنے لئے ایک کرسی مسجد کے صدر دروازے پر رکھوائی۔ پھر چار چار شخصوں کو بلا کر قسم لی کہ ہم میں سے کسی نے ڈھیلا نہیں مارا۔ جس نے قسم کھالی اُسے چھوڑ دیا جس نے قسم نہیں کھائی اُسے علیحدہ روک لیا۔ یہ سب تھیں (30) آدمی تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسی (80) آدمی تھے۔ زیاد کے حکم سے اُسی جگہ اُن سب کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں 50 ہجری میں زیاد کوفہ، بصرہ، خراسان، بجستان، فارس ،سندھ ، ہند اور مشرقی سرحد کا گورنر تھا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں