جمعہ، 6 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 01

 01 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 1

حضرت امیر معاویہ کا دور حکومت

حضرت معاویہ بن ابی سفیان، سلسلہ نسب اور خاندان، قبول اسلام، رسول اللہ ﷺ کی بشارت، خلافت مدینہ منورہ میں، بادشاہت ملک شام میں، حضرت حسن بن علی کی مدینہ منورہ روانگی، گورنروں کا تقرر، مسلمانوں کا مرکز دمشق، 41 ہجری اور 42 ہجری کے واقعات، 43 ہجری: کابل کی فتح، زابلستان ( غزنی) کی فتح )، میعان (قیقان) پر حملہ، قیس بن ہیثم اور عبداللہ بن خازم، حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی طلبی، خوارج کی شکست


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے خلافت سے دستبردار ہونے کے ساتھ ہی خلافت راشدہ مکمل ہوگئی اور پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی باگ ڈور سنبھالی۔ آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے یا بادشاہ تھے؟ اس میں علمائے کرام کی مختلف رائے ہیں۔ کچھ علمائے کرام کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے اور کچھ علمائے کرام کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ بادشاہ تھے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے ۔ واللہ اعلم۔


سلسلہ نسب اور خاندان


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان ( نام صخر ) بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف ۔ یہاں آکر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب سے مل گیا ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا خاندان بنو امیہ" ہے۔ عبد مناف کے جڑواں بیٹے پیدا ہوئے۔ ایک کا نام عمرو رکھا۔ ان کا لقب ہاشم ہے۔ اور دوسرے کا عبد شمس ۔ یہاں سے عبد مناف کی اولاد میں دو خاندان ہو گئے ۔ ایک خاندان ہاشمی خاندان کہلایا۔ عبد شمس کے ایک بیٹے کا نام امیہ ہے۔ اسی اُمیہ کے نام پر عبد شمس کے خاندان کا نام ”اُمیہ خاندان پڑ گیا۔ اب بنو ہاشم اور بنو امیہ قریش کے دوالگ الگ خاندان یا شاخ تھے۔ بنو ہاشم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں اور بنو امیہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ہیں۔


قبول اسلام


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بارے میں عام طور سے یہی مشہور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے عمرۃ القضاء " ( صلح حدیبیہ کے بعد معاہدے کے مطابق دوسرے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کرنے آئے تھے اور تین دنوں تک مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے۔ اس عمرہ کو عمرۃ القضاء “ کہا جاتا ہے ) میں اسلام قبول کیا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے عمرۃ القضاء کے روز اسلام قبول کیا تھا لیکن فتح مکہ کے دن تک اپنے اسلام کو چھپائے رکھا۔“


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو بادشاہ بنے کی بشارت دی تھی۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اس سے پہلے ہم یہ حدیث بیان کر چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت میں (30) سال ہوگی پھر بادشاہت ہوگی اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے دستبرداری کے ساتھ ہی خلافت کے تمہیں (30) سال مکمل ہو گئے ۔ پس حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا زمانہ حکومت کا آغاز ہے اور آپ رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے اور بہترین بادشاہ ہیں۔ ( یہاں ہم تمیں سال والی ایک اور حدیث پیش کر رہے ہیں ) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ” بے شک یہ امر ( کام ) رحمت اور نبوت سے شروع ہوا ہے پھر یہ خلافت اور رحمت بن جائے گا۔ پھر کاٹ کھانے والی حکومت بن جائے گا، پھر جبر وتکبر اور فساد فی الارض بن جائے گا۔ وہ حریرہ فروج اور شراب کو حلال کریں گے۔ اس کے باوجود انہیں رزق اور مدددی جائے گی حتی کہ وہ اللہ تعالی سے ملاقات کریں گے (احجم طبرانی ) آگے علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے خلافت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول نے آمادہ کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے معاویہ بن ابی سفیان ! اگر تو بادشاہ بنے تو نیکی کرنا‘ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ چھا گل لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”اے معاویہ بن ابی سفیان ! اگر تو بادشاہ بنے تو اللہ سے ڈرنا اور عدل کرنا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” میں ہمیشہ ہی پر یقین رہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی وجہ سے آزمائش میں پڑوں گا“ ( سنن بیہقی ) حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا: ”اگر تو نے لوگوں کی کمزوریوں کی جستجو کی تو تو اُن کو خراب کر دے گا۔“


خلافت مدینہ منورہ میں، بادشاہت ملک شام میں


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک شام کے بارے میں کئی باتیں بتائی ہیں۔ اُن میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ خلافت مدینہ منورہ میں ہوگی اور بادشاہت ملک شام میں ہوگی۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خلافت مدینہ منورہ میں ہوگی اور بادشاہت ملک شام میں ہوگی ۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک خط دیکھا جو میرے سر کے نیچے سے اُٹھایا گیا تو میں نے خیال کیا کہ اسے لے جایا جائے گا۔ پس میری نگاہ نے اُس کا پیچھا کیا تو اسے ملک شام لے جایا گیا۔ بے شک جب فتنہ پڑے گا تو ایمان ملک شام میں ہوگا۔“ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے نور کے ایک بلند ستون کو اپنے سر کے نیچے سے نکلتے دیکھا حتی کہ وہ ملک شام میں جا کر ٹک گیا۔


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ روانگی


اس سے پہلے ہم ” خلافت راشدہ میں بتا چکے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ خلافت سے دستبردار ہو گئے تھے اور اُسے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس شرط پر سونپ دیا تھا کہ اُن کے بعد حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوں گے۔ ابھی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کوفہ میں ہی مقیم تھے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اہل بیت کو لیکر مدینہ منورہ روانہ ہو گئے اُن میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں صلح ہو جانے کے بعد مسکن کے مقام سے حضرت حسن بن علی، حضرت حسین بن علی اور حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہم اپنے اہل بیت ( اہل و عیال) کے ساتھ کو فہ روانہ ہوئے ۔ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اہل بیت کے ساتھ کوفہ پہنچے تو اُن کا زخم اچھا ہو گیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کی مسجد میں آئے اور فرمایا: ”اے اہل کوفہ! اپنے ہمسایہ، اپنے مہمان اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے بارے میں جس سے اللہ نے نجاست کو دور کر دیا ہے اور طیب و طاہر کیا ہے تمہیں اللہ کا خوف کرنا چاہیئے ۔“ یہ سن کر اہل کوفہ رونے لگے۔ اس کے بعد حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اہل بیت کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔


گورنروں کا تقرر


تمام مملکت اسلامیہ کے بلا شرکت غیرے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حاکم بن گئے اور بلا دشام میں تو پہلے ہی سے آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنر مقرر کر رکھے تھے ۔ اب بلاد عراق، ایران اور حجاز میں اپنے گورنر مقرر کئے ۔ ملک مصر پہلے ہی ملک شام کے ماتحت تھا اور اُس پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو گورنر مقرر کر رکھا تھا۔ کوفہ میں اُن کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو گورنر بنایا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس طرح آپ شیر کے دو دانتوں کے درمیان آگئے ۔ یہ سن کر انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے رائے دی کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے پر متعین کیا جائے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں صرف نماز کا امام بنا دیا۔ کثیر بن شہاب کو رے کا گورنر بنایا۔ بصرہ کا گورنر بشر بن ارطاۃ کو بنایا۔ کچھ عرصے بعد اسے بصرہ کی گورنری سے معزول کر کے عبداللہ بن عامر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا۔ ساتھ ہی خراسان اور بجستان کا گورنر بھی بنا دیا۔ مروان بن حکم کو مدینہ منورہ کا گورنر بنایا۔ خالد بن عاص بن ہشام کو مکہ مکرمہ کا گورنر بنایا۔


مسلمانوں کا مرکز دمشق


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور مدینہ منورہ کو مسلمانوں کا مرکز بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارتداد کے خاتمے کے بعد ملک شام سب سے پہلے جو چار لشکر بھیجے اُن میں سے ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ اُن کے ساتھ اُن کے بھائی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پورا ملک شام فتح ہو گیا اور انہوں نے حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ایک علاقے کا گورنر بنا دیا۔ جب حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ نے اُن کے بھائی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس علاقے کا گورنر بنا دیا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو پورے ملک شام کا گورنر بنا دیا اور وہ بارہ سال سے زیادہ عرصے تک پورے ملک شام کے گورنر رہے۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی تو پوری مملکت اسلامیہ کے اکیلے حکمراں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بن گئے ۔ پچھلے لگ بھگ پچھیں (۲۵) سال سے آپ رضی اللہ عنہ ملک شام میں دمشق میں رہ رہے تھے۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ نے دارلخلافہ دمشق کو بنایا اور مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ سے دمشق آ گیا۔


ا41 ہجری اور 42 ہجری کے واقعات


ا41 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ پوری مملکت اسلامیہ کے حکمراں بنے ۔ اس سال اور اگلے سال یعنی 42 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ سے خانہ جنگی کے خاتمہ کی بھر پور کوشش کرتے رہے۔ ان دو برسوں میں خوارج نے مسلسل آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ جاری رکھی اور آپ رضی اللہ عنہ اپنی حکمت عملی سے ان پر قابو پاتے رہے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : اس سال یعنی 42 ہجری میں مسلمانوں نے لان اور روم سے جہاد کیا اور اُن کو شکست فاش دی اور بطریقوں کی ایک جماعت کو قتل کیا گیا۔ اس سال حجاج بن یوسف پیدا ہوا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس سال مروان بن حکم کو مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا اور مروان بن حکم نے عبداللہ بن حارث بن نوفل کو قاضی مقرر کیا ۔ مکہ مکرمہ پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے خالد بن عاص بن ہشام کو گورنر بنایا۔ بصرہ، خراسان اور بجستان کا گورنر عبد اللہ بن عامر کو بنایا اور عبد اللہ بن عامر نے خراسان کا گورنر قیس کو بنایا۔


ا43 ہجری: کابل کی فتح


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ سے خانہ جنگی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ مملکت اسلامیہ کی سرحد پر بھی اسلامی لشکروں کو روانہ کر رہے تھے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عبداللہ بن عامر نے 43 ہجری میں اپنی طرف سے عبد الرحمن بن سمرہ کو بجستان کا گورنر بنا کر روانہ کیا اور پولیس افسر عباد بن حصین کو بنایا اور عمر بن عبد اللہ بن معمر جیسے اشراف کو اُن کے ساتھ روانہ کیا ۔ اس اطراف میں چونکہ بغاوت پھوٹ پڑی تھی اس لئے عبد الرحمن بن سمرہ اور عباد بن حصین باغیوں سے جنگ کرتے ہوئے داخل ہوئے اور اکثر شہروں کو فتح کر لیا۔ رفتہ رفتہ شہر کابل تک پہنچ گئے مہینوں محاصرہ کئے رہے منجیقیں نصب کیں ،سنگباری کرتے رہے ۔ متعددلڑائیاں ہوئیں اور شہر پناه (فصیل ) کا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔ مشرکین اس کو نہیں بنا سکے، تمام رات عباد بن حصین مع اپنی رکاب کی فوج کے ساتھ پہرہ دیتے رہے۔ صبح ہوتے ہی مشرکین نے شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا اور مسلمانوں نے پہلے ہی حملہ میں انہیں پسپا کر دیا اور بزور شمشیر کا بل کو فتح کر لیا۔


زابلستان ( غزنی) کی فتح )


کابل فتح کرنے کے بعد مسلمان آگے بڑھے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اس کے بعد نسف کی طرف بڑھے اور اس پر بھی جنگ کر کے قبضہ کرتے ہوئے خشک تک جاپہنچے ۔ اہل خشک نے مصالحت کر لی۔ پھر مسلمانوں نے آگے بڑھ کر ” رج“ کا محاصرہ کر لیا، شدید جنگ ہوئی اور آخر کار مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ اس سے فارغ ہو کر مسلمانوں کا لشکر زابلستان (جس کو غزنی کہا جاتا ہے ) کا رخ کیا اور محاصرہ کر لیا۔ غزنی والوں نے بھی زبردست مقابلہ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ اس کے بعد مسلمانوں نے غزنی کے آس پاس کے مضافات پر قبضہ کیا اور جب اس کے بعد کا بل واپس لوٹے تو کابل میں بغاوت ہو چکی تھی ۔ عبد الرحمن بن سمرہ نے زبردست مقابلہ کر کے اُن کی زبر دست بغاوت کو ختم کیا اور کا بل پھر سے فتح کیا۔


میعان (قیقان) پر حملہ


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مملکت اسلامیہ کی سرحدوں پر ہر طرف اسلامی لشکروں کو روانہ کیا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: ہند ( ہندوستان کو ہند کہا جاتا تھا اور اُس وقت ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال ۔ یہ سب ایک ہی ملک تھے اور ان سب کے مجموعہ کو "ہند“ کہا جاتا تھا۔ ) کی سرحد پر عبداللہ بن عامر نے عبدالرحمن بن سوار عبدی کو مقرر کیا تھا۔ ایک روایت کے مطابق خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبد الرحمن بن سوار عبدی کو مقرر کیا تھا۔ بہر حال انہوں نے تیعان (قیقان) پر حملہ کیا اور فتح حاصل کی ۔ بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا۔ عبد الرحمن بن سوار عبدی خود مال غنیمت لیکر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قیقانی گھوڑے پیش کئے ۔ اس کے بعد قیقان واپس آئے تو اہل قیقان نے ترکوں سے مدد حاصل کر کے جنگ کی تیاری کر لی تھی ۔ دونوں لشکروں میں شدید جنگ ہوئی اور قیقان فتح ہوا لیکن اس جنگ میں عبدالرحمن بن سوار عبدی شہید ہو گئے۔


قیس بن ہیثم اور عبداللہ بن خازم


قیس بن ہیثم کو عبد اللہ بن عامر نے خراسان کا گورنر بنایا لیکن کچھ دنوں بعد معزول کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد اللہ بن عامر نے قیس بن ہیثم کو خراسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ اس پر عبد اللہ بن خازم نے کہا کہ آپ نے ایک بزدل انسان کو خراسان کا گورنر بنایا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر جنگ پیش آئے گی تو یہ لوگوں کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوگا۔ اس میں مال بھی ضائع ہو گا اور آپ کی ننھیال والے بدنام ہو جائیں گے۔ عبد اللہ بن عامر نے پوچھا کہ پھر کیا مناسب ہے؟ اُس نے کہا مجھے خراسان کا گورنر بنا کر ایک فرمان لکھ دیں۔ اگر وہ دشمن کے مقابلے سے منہ پھیرے گا تو میں اُس کی جگہ آکھڑا ہو جاؤں گا۔ عبداللہ بن عامر نے اُس کے نام فرمان لکھ دیا۔ اُدھر مخلارستان کے لوگوں نے سرکشی کی تو قیس بن ہیثم نے عبد اللہ بن خازم سے اس معاملے میں مشورہ کیا۔ اُس نے رائے دی کہ تم یہاں سے سرک جاؤ اور ابھی تمام اطراف و جوانب کے لوگوں کو جمع کرو۔ یہ سن کر قیس بن ہیثم اطراف و جوانب میں روانہ ہو گیا۔ وہ کوئی منزل دو منزل کے فاصلے پر پہنچا ہوگا کہ عبداللہ بن خازم نے اپنا گورنری کا فرمان لوگوں کو بتایا اور سب کا سپہ سالار بن کر دشمن کا مقابلہ کیا اور شکست دی۔ یہ خبر کوفہ اور بصرہ پہنچی اور ملک شام بھی پہنچی۔ قیس کے ساتھی بہت خفا ہوئے اور عبد اللہ بن خازم سے کہا کہ تم نے قیس بن ہیثم کو دھوکا دیا اور عبداللہ بن عامر کو بھی۔ اس بات نے طول پکڑا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان سے جا کر شکایت کی۔


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی طلبی


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس معاملے کی خبر لی تو انہوں نے عبداللہ بن خازم کو ملک شام طلب کیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن خازم کو ملک شام بلا بھیجا۔ وہ آیا اور معذرت کی ، انہوں نے فرمایا: کل صبح تم لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا عذر پیش کرنا ۔ عبداللہ بن خازم نے اپنے اصحاب کے سامنے ذکر کیا کہ خطاب کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھے بات کرنا نہیں آتی۔ کل تم سب منبر کو گھیر کو بیٹھنا اور جو کچھ میں کہوں اُس کی تصدیق کرتے جاتا۔ دوسری صبح کو عبد اللہ بن خازم خطاب کرنے کھڑا ہوا پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی پھر کہا: ” خطبہ پڑھنا تو امام کا منصب ہے جسے اس کے سوا چارہ ہی نہیں ہے یا احمق کا کام ہے جس کا دماغ چل گیا ہو جو منہ میں آئے بکتا چلا جائے۔ میں نہ تو امام ہوں اور نہ احمق ہوں۔ جو لوگ مجھے جانتے ہیں وہ اس بات سے خوب واقف ہیں کہ میں بڑا آزمودہ کار ہوں محل وقوع کو تاڑ لیتا ہوں اورفورا ! دوڑ پڑتا ہوں ، جان جوکھم کے مقام سے قدم نہیں ہٹاتا لشکر میں چالاک تقسیم غنیمت میں انصاف پسند ہوں یتم کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ جو اس بات کو جانتا ہو وہ میری تصدیق کرے ۔ منبر کے گرد جو اُس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے سب نے کہا: " بے شک ایسا ہی ہے ۔ پھر اُس نے کہا: ”امیر المومنین! آپ کو بھی میں نے قسم دی ہے آپ بھی جو کچھ جانتے ہوں کہہ دیجیئے ۔ “ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ایسا ہی ہے ۔ اور عبداللہ بن خازم کی جان بچ گئی۔


خوارج کی شکست


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے حکمراں بنتے ہی ملک عراق میں خوارج یعنی خارجیوں نے سر اُٹھایا تھا جسے آپ رضی اللہ عنہ اپنی حکمت عملی سے مسلسل دبائے ہوئے تھے۔ لگ بھگ دو سال بعد آپ رضی اللہ عنہ کی ملک عراق پر پکڑ کافی مضبوط ہوگئی تو خوارج پر حملہ کر کے اُن کو شکست دی۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اس سال 43 ہجری میں خوارج اور کوفی لشکر کے درمیان عظیم معرکہ ہوا اور یہ اس وجہ سے ہوا کھرا نہ وریا نے اس وقت لوگوں کے خلاف بغاوت کرنے کا پختہ ارادہ کیا ہوا تھا جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں ۔ پس مستورد بن علقمہ کی قیادت سے ہوا۔ اس کے بعد دونوں لشکر اپنے امین شعبہ اللہ عہ اُن سے مقابلہکے لئے تین ہزار کا شکر تیارکیا۔ ہو کر ان کے مقابلے رہ روع کو تین سو کا ہر اول ( مقدمتہ الجیش ) دے کر آگے بھیجا۔ ابوالروع نے ”المزار کے مقام پر ان غروب ہونے کے بعد ایل او یا سب رات اور خوارج کو شکست ہوئی۔ انہوں نے دوبارہ حملہ کیا تو خوارج نے انہیں شکست دی لیکن کوئی آدمی قتل نہیں ہوا۔ اس کے بعد دونوں لشکر اپنے اپنے پڑاؤ میں واپس آگئے اور ابوالروع اپنے سپہ سالار معقل بن قیس کی آمد کا انتظار کرنے لگے ۔ مگر وہ سورج غروب ہونے کے بعد آیا اور اُس نے اتر کر اپنے اور ابوالروع کے لشکر کو مغرب کی نماز پڑھائی ۔ پھر ابوالروع سے تمام حالات معلوم کئے ۔ ابوالروع نے کہا: اے سپہ سالار ! خوار جوں کے حملے بڑے سخت ہیں۔ آپ لوگوں کے مددگار بنیں اور سواروں کا حکم دیں کہ وہ آپ کے آگے جنگ کریں ۔ معقل بن قیس نے کہا: ” آپ کی رائے بہت اچھی ہے۔ اور ابھی اُس نے اتنی ہی بات کہی تھی کہ خوارج نے اُن کے لشکر پر حملہ کر دیا اور معقل بن قیس کے اکثر ساتھی اسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس موقع پر معقل بن قیس نے پیدل ہو کر کہا: اے مسلمانو! زمین پر چلو از مین پر چلو“ دوسو سواروں نے اُس کا ساتھ دیا اور پیدل ہو گئے اُن میں ابوالروع بھی تھا۔ مستور بن علقمہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اُن پر حملہ کیا اور انہوں نے نیزوں اور تلواروں سے اُس کا سامنا کیا اور بقیہ لشکر نے بعض سواروں کو آکر تباہ کیا اور انہیں راہ فرار اختیار کرنے پر ملامت کی۔ یہ سن کر لوگ معقل بن قیس کے پاس واپس آگئے جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ خوارج سے شدید جنگ کر رہا تھا۔ لوگ رات میں بھی واپس آرہے تھے۔ معقل نے میمنہ اور میسرہ میں اُن کی صف بندی کر دی اور اُن کو منتظم کر کے کہا: ” اپنے میدان کارزار پر ڈٹے رہو چتی کہ ہم صبح اُن پر حملہ کریں گے اور ابھی صبح ہوئی ہی تھی کہ خوارج کو شکست ہو گئی اور وہ جہاں سے واپس آئے تھے وہیں چلے گئے۔ معقل بن قیس اُن کی تلاش میں گیا اور اس نے اپنے آگے ابو الروع کو چھ سو جوانوں کے ساتھ بھیجا اور وہ طلوع آفتاب کے وقت اُن سے جا پکڑا اور خوارج نے اُن پر حملہ کر دیا اور ایک ساعت تک ایکدوسرے سے مبارزت کی ۔ پھر انہوں نے یکبارگی حملہ کر دیا اور ابوالروع اپنے ساتھیوں سمیت اُن کے سامنے ڈٹا رہا اور وہ انہیں تباہ کرنے لگا اور انہیں بھاگنے پر ملامت کرنے لگا اور صبر کی ترغیب دینے لگا، پس وہ مردانہ وارڈٹ گئے حتی کہ انہوں نے خوارج کو پیچھے دھکیل دیا اور جب خوارج نے یہ کیفیت دیکھی تو وہ معقل سے ڈر گئے اور اُن کا قتل عام شروع ہو گیا اور وہ دجلہ پار کر کے نہر شیر یا بہر سیر کے علاقے میں داخل ہو گئے ۔ ابوالردع اور معقل بن قیس دونوں خوارج کے قدیم شہر پہنچ گئے اور مدائن کا گورنر شریک بن عبید بھی لشکر لیکر آ گیا اور خوارج کا خاتمہ ہو گیا۔ اس سال مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن حکم نے لوگوں کو حج کرایا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں