02 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 2
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ44 ہجری: بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عامر کی شکایت، عبد اللہ بن عامر کی دمشق میں طلبی اور معزولی، زیاد بن سمیہ کو اپنے نسب میں شریک کیا، ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ45 هجری : زیاد بن ابی سفیان بصرہ کا گورنر، اہل بصرہ پرسختی، خراسان کا گورنر، حضرت سلمہ بن سلامہ اور حضرت عاصم بن عدی کا انتقال، أم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ46 ہجری: حضرت عبدالرحمن بن خالد بن ولید کا انتقال، أم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، خوارج کے سرداروں کا قتل،
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال یعنی 43 ہجری میں حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عمرۃ القضاء“ کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے بعد سے مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے ۔ اس کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مرتدین کے خلاف جنگ کی ۔ پھر خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر ملک شام بھیج دیا۔ جب خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیت المقدس فتح ہوا تو اس لشکر میں آپ رضی اللہ عنہ تھے ۔ اس کے بعد خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو شکر دے کر ملک مصر بھیجا اور مسلسل مہینوں کی شدید جنگ کے بعد پورا ملک مصر آپ رضی اللہ عنہ نے فتح کیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ملک مصر کا گورنر بنا دیا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی آپ رضی اللہ عنہ ملک مصر کے گورنر رہے۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں آپ رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔ جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ کے حکمراں بنے تو آپ رضی اللہ عنہ کو پھر ملک مصر کا گورنر بنا دیا اور وہیں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُن کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ملک مصر کا گورنر بنا دیا۔
حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 43 ہجری میں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے حضرت اُسید بن حضیر اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہم سے بھی پہلے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر اور غزوہ تبوک کے سواہر معرکے میں شامل رہے۔ ایک قول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں نائب مقرر کیا تھا اور بعض کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرقرۃ الکدر میں آپ رضی اللہ عنہ کو نائب مقرر کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کعب بن اشرف کو قتل کیا تھا اور بعض کے قول کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ خیبر میں مرحب کا قتل کیا تھا۔ آخری وقت میں آپ رضی اللہ عنہ ربذہ میں قیام پذیر ہے۔
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا انتقال
اسی سال 43 ہجری میں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے بہت بڑے عالم کے بیٹے ہیں اور خود آپ رضی اللہ عنہ بھی توریت کے بہت بڑے عالم تھے اور جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو یہودیوں میں سے سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن سلام کی کنیت ابو یوسف اسرائیلی“ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو لوگ دوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور میں بھی اُن میں شامل تھا۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کسی جھوٹے شخص کی طرح نہیں ہے اور سب سے پہلی بات جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سی وہ یہ تھی : " لوگو ! سلام کو رواج دو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سوالات کئے اور سب کے جوابات صحیح پا کر اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی گواہی دی ہے۔
ھ44 ہجری: بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عامر کی شکایت
یہ سال مملکت اسلامیہ کے لئے عام طور سے امن کا سال رہا لیکن سرحدوں پر مسلمان مسلسل حالت جنگ میں رہے۔ حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید اپنے لشکر کے ساتھ سرحد پر رومیوں سے جنگ میں مصروف رہے اور بسر بن ارطاۃ مسلسل بحری جنگ کرتا رہا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : اسی سال 44 ہجری میں حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید مسلمانوں کے ساتھ بلاد روم میں داخل ہوئے اور پوری سردی و ہیں گزاری اور بسر بن ارطاۃ نے دیا میں جنگ کی۔ اس سال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے گورنر عبد اللہ بن عامر کو معزول کر دیا۔ اس کا سب یہ ہوا کہ عبداللہ بن عامرنرم دل تھا اور جاہلوں کو دست درازی سے روکتا نہیں تھا جس کی وجہ سے بصرہ میں خرابیاں پھیلنے لگیں۔ عبداللہ بن عامر نے زیاد بن سمیہ سے اہل بصرہ کی شکایت کی تو اس نے کہا: ” تلوار میان سے نکال کر اُن کی خبر لو ۔ اس نے کہا: ” ان کی اصلاح کے لئے میں اپنے نفس کی خرابی کروں یہ مجھے گورا نہیں ہے۔ عبداللہ بن عامر کی حکومت اتنی کمزور تھی کہ وہ کسی کو سزا نہیں دیتا تھا، چور کے ہاتھ نہیں کا تھا تھا۔ لوگوں نے کہا بھی تو اُس نے جواب دیا کہ مجھے لوگوں سے اُلفت ہے۔ جس کے باپ یا بھائی کا ہاتھ میں کاٹوں گا تو پھر اس سے آنکھیں کیسے ملا پاؤں گا ؟ اُسی زمانے میں ابن الکو ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے پاس گیا۔ انہوں نے بصرہ کا حال پوچھا تو اس نے کہا کہ بصرہ میں جاہلوں کا غلبہ ہے اور وہاں کا گورنر بہت کمزور ہے۔
عبد اللہ بن عامر کی دمشق میں طلبی اور معزولی
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن عامر کو دمشق بلایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب عبد اللہ بن عامر کا بصرہ میں ناقابل ہونا مشہور ہوا تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ملاقات کے لئے آنے کا اُسے لکھ بھیجا۔ عبداللہ بن عامر نے اپنی جگہ قیس بن ہیثم کو بصرہ پر نائب بنایا اور خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ انہوں نے اُسے بصرہ کے گورنر کے عہدے پر بحال رکھا اور جب وہ رخصت ہونے لگا تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُس سے کہا: ” میں تین چیزوں کا تم سے سوال کرتا ہوں کہہ دو کہ مجھے منظور ہے ۔ عبداللہ بن عامر نے کہا: ” مجھے منظور ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے تمہیں جو عہد دیا ہے وہ واپس کر دو اور خفا نہیں ہوتا۔“ اُس نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: ”تمہاری جائداد جو عرفہ میں ہے وہ مجھے دے دو ۔‘ اُس نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہارے جتنے مکان مکہ مکرمہ میں ہیں وہ سب مجھے دے دو۔“ اس نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " تم نے رشتہ داری کا پاس کیا ۔ اب عبد اللہ بن عامر نے کہا: "اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ میں بھی آپ رضی اللہ عنہ سے تین چیزوں کا سوال کروں گا کہہ دیجیئے کہ مجھے منظور ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔ عبداللہ بن عامر نے کہا: ”میری جو جائداد عرفہ میں ہے وہ مجھے واپس کر دیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔ اُس نے کہا: ” میرے مقرر کردہ کسی گورنر سے حساب نہ لیا جائے اور میرے کسی کام پر اعتراض نہ کیا جائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے منظور ہے ۔ اس نے کہا: ” اپنی بیٹی ہند کا مجھ سے نکاح کر دیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” مجھے منظور ہے۔ یہ بھی روایت ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن عامر سے کہا: یا تو تم یہ بات قبول کرو کہ ہم تم سے سوال جواب اور تمہارے مال و دولت کا حساب لیں اور اس کے بعد تمہیں تمہارے عہدہ پر بحال کریں یا پھر تم خود گورنری سے دستبردار ہو جاؤ اور جو مال و دولت تم نے حاصل کیا ہے وہ ہم رتمہارے پاس ہی چھوڑ دیں ۔ “ اس پر عبداللہ بن عمر نے بصرہ، خراسان اور بجستان کی گورنری چھوڑ دی اور اپنا مال و دولت بچالیا۔
زیاد بن سمیہ کو اپنے نسب میں شریک کیا
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد بن سمیہ کو اپنے نسب میں شریک کیا اور لوگ اُسے زیاد بن ابی سفیان کہنے لگے۔ یہ زیاد وہی شخص ہے جس کے بیٹے نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی سال 44 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد بن شمیہ کو اپنے باپ ابوسفیان کے نسب میں شریک کیا۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں: روایت ہے کہ جب زیادہ کوفہ میں آیا تو کہنے لگا کہ میں جس کے واسطے تمہارے پاس آیا ہوں اور جس بات کا تم سے طالب ہوں اُس میں تمہاری بہتری ہے۔ سب نے کہا: ”ہم سے تم کیا چاہتے ہو کہو؟ اس نے کہا: ” معاویہ بن ابی سفیان کے نسب میں مجھ شریک کر دو ۔ لوگوں نے کہا ہم جھوٹی گواہی نہیں دے سکتے ۔ اب زیاد بصرہ آیا اور یہی بات کی تو ایک شخص نے اُس کے حق میں گواہی دی۔
ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا انتقال
ا44 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اس سال یعنی 44 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حج کرایا اور اس سال آپ رضی اللہ عنہ نے ملک شام میں حجرہ بنوایا اور مدینہ منورہ میں مروان بن حکم نے اسی کی مانند حجرہ بنوایا۔ اس سال اُم المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نام رملہ" ہے اور آپ رضی اللہ عنہا حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کی شروعات میں ہی اپنے شوہر کے ساتھ اسلام قبول کر لیا تھا۔ پھر اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی جہاں آپ رضی اللہ عنہا کا شوہر عیسائی ہو گیا اور کچھ عرصے بعد حبشہ ہی میں اُس کا انتقال ہو گیا۔ بیوہ ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے ذریعے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ نجاشی نے آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا اور حضرت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے نکاح کا انتظام کیا اور نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چار سو دینار مہر دیا اور یے ہجری میں آپ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ مکہ مکرمہ والوں نے توڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کا ارادہ بنا لیا تھا تب صلح کی تجدید کرانے ابوسفیان مدینہ منورہ آیا تو پہلے اپنی بیٹی کے پاس آیا تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر اُسے بیٹھنے نہیں دیا تھا اورفرمایا: ” یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک بستر ہے اور تم کفر کی ناپاکی میں مبتلا ہو اس لئے اس بستر پر نہیں بیٹھ سکتے ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ” سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے مجھے انتقال کے وقت بلایا اور بولیں : ”ہمارے درمیان وہ باتیں ہوتی رہیں جو سوکنوں کے درمیان ہوتی ہیں ۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ رضی اللہ عنہا کو بخشے اور جو کچھ بھی ہوا میں نے وہ سب معاف کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کے لئے جائز قرار دیا تو انہوں نے فرمایا: ” آپ رضی اللہ عنہا نے مجھے خوش کر دیا اللہ آپ رضی اللہ عنہا کو خوش رکھے ۔ پھر سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اُم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھی پیغام بھیجا تو انہوں نے بھی اس قسم کی بات کہی۔
ھ45 هجری : زیاد بن ابی سفیان بصرہ کا گورنر
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے 45 ہجری میں زیاد بن ابی سفیان کو بصرہ کا گورنر بنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عامر کو معزول کر کے حارث بن عبد اللہ از دی شامی کو بصرہ کا گورنر بنایا اور چار مہینے بعد اُسے معزول کر کے زیاد بن ابی سفیان کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا۔ زیاد پہلے کوفہ آیا اور سلمان بن ربیعہ باہلی کے گھر قیام کیا۔ وہاں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا ایک قاصد یہ پیغام لیکر زیاد کے پاس پہنچا کہ تمہیں بصرہ کا گورنر بنا دیا گیا ہے اس لئے تم بصرہ روانہ ہو جاؤ ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کو بصرہ کے ساتھ ساتھ خراسان اور بجستان کا بھی گورنر بنا دیا۔ پھر ہند اور بحرین اور عمان بھی اُس کے ماتحت کر دیے ۲۵ ہجری میں زیاد بصرہ میں داخل ہوا۔ اُس وقت فسق و فجور بصرہ میں علاقہ طور پر پھیلا ہوا تھا۔ زیاد نے خطبہ تبراء (جس میں اللہ کی حمد نہ کی جائے) پڑھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ اللہ کی حمد کی تھی۔ اُس نے بہت طویل خطبہ پڑھا او سختی سے اللہ کے احکام پر عمل کرنے کا عہد کیا۔
اہل بصرہ پرسختی
اس کے بعد زیاد نے بصرہ کا انتظام سنبھالا اور بہت سختی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زیاد نے کوتوال کا بڑا ( پولیس کا بڑا افسر ) عبد اللہ بن حصن کو بنایا اور لوگوں کو اتنی مہلت دی کہ کوفہ تک خبر پہنچا کر واپس آسکیں۔ روازانہ عشاء کی نماز سب کے ساتھ پڑھتا تھا اور اس کے بعد ایک شخص سے کہتا کہ سورہ بقرہ یا اتنا ہی قرآن پاک کی تلاوت کرے۔ اس سے فارغ ہونے کے بعد اتنا توقف کرتا تھا کہ چلنے والا مقام خربیہ تک پہنچ جائے۔ اس کے بعد کو تو ال (پولیس) کو حکم دیتا کہ باہر نکلے اور جسے بھی پائے اُسے قتل کر دے۔ ایک رات ایک اعرابی (دیہاتی) پکڑا گیا اُس نے فریاد کی کہ اُسے زیاد کا قاعدہ نہیں معلوم تھا۔ اُسے زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے کہا : " کیا تجھے میرا حکم نہیں معلوم ہے؟“ اس اعرابی نے کہا: میں بصرہ کا نہیں بلکہ ایک اعرابی ہوں اور مجھے آپ کا قاعدہ نہیں معلوم ہے۔ میں تو اپنی اونٹنی لیکر سفر میں تھا راستے میں بصرہ پڑا تو رات گذار نے کے لئے کسی سرائے کی تلاش میں بصرہ میں داخل ہوا تو مجھے پکڑ کر آپ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ زیاد نے کہا: ” مجھے یقین ہے کہ تو سچ کہہ رہا ہے لیکن تجھے قتل کرنے میں ہی اُمت کی بہتری ہے ۔ اور اسے قتل کروا دیا۔ زیاد پہلا شخص ہے جس نے بادشاہ کے حکم کو سختی سے نافذ کیا اور اُس نے ملک عراق اور ایران اور آس پاس کے علاقوں میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی سلطنت کو مستحکم کر دیا۔ اُس نے لوگوں کو آپ رضی اللہ عنہ کی اطاعت گزاری پر مجبور کر دیا اُس نے سزا دینے میں سبقت کی اور تلوار کو برہنہ کیا، اس نے تہمت پر بھی گرفتار کیا اور شبہ پر بھی سزا دی ۔ اُس کے گورنری کے زمانے میں لوگ اُس سے بہت ڈرتے تھے ۔ یہاں تک کہ ایک کو دوسرے سے کچھ کھٹکا نہیں رہا تھا۔ یہاں تک کہ اگر کسی کی کوئی چیز گر پڑتی تھی تو اُسے کوئی نہیں چھوتا تھا اور جس کی چیز گرتی تھی وہی جب آتا تھا تو اُسے اُٹھاتا تھا۔ عورتیں اپنے گھر کا دروازہ بند کئے بغیر بے فکری سے سو جاتی تھیں ۔ اُس نے بصرہ کے ساتھ ساتھ اپنے ماتحت تمام علاقوں پر پولیس کا انتظام اتناسخت رکھا تھا کہ اکثر کہا کرتا تھا: ” بصرہ سے لیکر خراسان تک ایک ڈوری بھی کسی کی چوری ہو جائے تو مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ کس نے چرائی ہے۔ زیاد پہلا شخص ہے جس کے آگے آگے ہاتھوں میں ڈنڈہ لئے ہوئے پولیس والے دوڑا کرتے تھے۔ اُس نے پانچ سو پولیس والے پہرے پر مقرر (باڈی گارڈ) رکھے ہوئے تھے۔
خراسان کا گورنر
اس سال 45 ہجری میں زیاد نے حکم بن عمرو کو خراسان کا گورنر بنایا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اس سال یعنی ۴۵ ہجری میں زیاد کے خراسان پر مقرر کردہ گورنر حکم بن عمرو نے اُس کے حکم سے جبل الاسل سے جنگ کی اور اُن میں سے بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور بہت زیادہ مال غنیمت حاصل کیا۔ زیاد نے اُسے لکھا: ”امیر المومنین کا خط آیا ہے کہ اُن کے لئے اس غنیمت سے سارا سونا اور چاندی اکٹھا کر کے بیت المال کے لئے جمع کر دیا جائے ۔ حکم بن عمرو نے جواب میں لکھا: ”بے شک اللہ کی کتاب قرآن پاک امیر المومنین کے خط پر مقدم ہے اور اللہ کی قسم! اگر زمین و آسمان دشمن کے خلاف ہوں اور وہ اللہ سے ڈرے تو وہ اُس کے نکلنے کا راستہ بنا دے گا۔ پھر اُس نے لوگوں میں اعلان کیا: ”صبح کے وقت مال غنیمت کی تقسیم پر آجاؤ اور اس نے مال غنیمت کا شمس نکال کر اُسے اُن لوگوں میں تقسیم کر دیا اورزیاد کے حکم کی مخالفت کی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو پورا کیا۔ اس کے بعد دعا کی : اے اللہ تعالیٰ ! اگر تیرے یہاں میرے لئے بھلائی ہے تو مجھے موت دیدے۔ اور خراسان کے شہر مرو میں اُس کا انتقال ہو گیا۔
حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال
ا45 ہجری میں حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کا تب یعنی " کا تب وجی ہیں ۔ اس کے علاوہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم پر آپ رضی اللہ عنہ نے اُمت مسلمہ کے لئے مکمل قرآن پاک ایک مصحف میں لکھا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ابن جریر طبری نے بیان کیا ہے کہ اس سال مروان بن حکم نے لوگوں کو حج کروایا جو مدینہ منورہ کا گورنر تھا۔ اس سال کاتب وحی حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہی خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم پرمکمل قرآن پاک لکھا اور پھر خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حکم سے اُس کی نقول تیار کیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑے تیز فہم تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کی زبان اور کتاب صرف پندرہ دن میں سیکھی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کسری کے ایچی سے اٹھارہ دن میں فارسی زبان سیکھی تھی اور حبشی قبطی اور رومی زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام سے سیکھی۔ آپ رضی اللہ عنہ پندرہ (15) سال کی عمر میں اپنی زندگی کے پہلے معر کے غزوہ خندق میں شامل ہوئے۔ بعض علمائے کرام کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال اس سال ہوا اور بعض علمائے کرام کے مطابق 55 ہجری میں ہوا۔
حضرت سلمہ بن سلامہ اور حضرت عاصم بن عدی کا انتقال
اس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی رضی اللہ عنہم کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اس سال حضرت سلمہ بن سلامه بن دقش کا ستر (70) سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر اور اُس کے بعد کے معرکوں میں شمولیت فرمائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔ اس سال حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر پر تشریف لے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ کو قباء اور العالیہ کے باشندوں پر نائب مقرر کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ اُحد اور اُس کے بعد کے سب معرکوں میں شامل ہوئے اور ایک سو پچیس (125) سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ اور حضرت مالک بن دخشم رضی اللہ عنہ کومسجد ضرار (منافقوں کی سازشوں کا مرکز) کی طرف بھیجا اور دونوں نے اُسے جلا دیا۔
أم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا انتقال
اس سال یعنی 45 ہجری میں اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہا خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: اس سال اُم المومنین سیدہ حفصہ بنت عُمر فاروق رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح پہلے حیس بن حذافہ سہمی سے ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کی ۔ غزوہ بدر کے بعد شوہر کا انتقال ہوگیا اور جب عدت ختم ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہا کے والد محترم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے نکاح کی درخواست کی کیونکہ غزوہ بدر کے دوران اُن کی زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی پریشانی کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حفصہ رضی اللہ عنہا سے اچھی بیوی ملے گی اور حفصہ رضی اللہ عنہا کو ثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بہتر شوہر ملے گا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے کر دیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہا بڑی عبادت گزار اور روزے دار تھیں اور اللہ تعالی کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم کو بتایا کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔
ھ46 ہجری: حضرت عبدالرحمن بن خالد بن ولید کا انتقال
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے والد کے ساتھ ملک شام میں رومیوں سے جنگ میں شمال تھے۔ پھر بعد میں خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو الجزیرہ کا گورنر بنایا گیا۔ (الجزیرہ سلطنت روم اور سلطنت فارس کی درمیانی سرحد پر تھا) اس کے بعد سے آپ رضی اللہ عنہ مسلسل وہاں کے گورنر رہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں آپ رضی اللہ عنہ مسلسل رومیوں سے حالت جنگ میں رہے اور انہیں یورپ تک سمیٹ دیا اور قسطنطنیہ سے آگے بڑھنے نہیں دیا۔ یہ ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کو ایک عیسائی نے زہر دیا جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : اس سال یہ ہجری میں مالک بن عبید اللہ نے رومیوں کی سرزمین پر لشکر کے ساتھ سردی کا موسم گزارا۔ اس معاملے میں عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور مالک بن ہبیرہ سکونی کا بھی نام لیا گیا ہے۔ اس سال حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سرزمین روم سے ملک شام میں حمص میں واپس آئے۔ انہیں ابن اثال نامی ایک نصرانی (عیسائی) نے شربت میں زہر ملا کر دے اور آپ رضی اللہ عنہ نے وہ شربت پی لیا۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کا حمص میں انتقال ہو گیا۔ عبدالرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا بیٹا خالد جو اُن دنوں مدینہ منورہ آیا ہوا تھا اُس کی ملاقات ایک دن حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہوں نے اُسے ابن اثال کے بارے میں بتایا۔ یہ سن کر خالد بن عبد الرحمن بن خالد بن ولید سیدھا ملک شام میں حمص میں آیا اور ابن اثال کی تلاش میں رہنے لگا۔ ایک دن اُسے ابن اثال اپنی سواری پر سوار کہیں جاتا دکھائی دیا۔ خالد بن عبدالرحمن نے آگے بڑھکر تلوار کے ایک ہی دار سے اُس کا سر اڑا دیا۔ یہ خبر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے خالد بن عبدالرحمن کو قید کر لیا لیکن قتل نہیں کیا بلکہ خوں بہا لینے کا حکم دیا اور چھوڑ دیا۔
خوارج کے سرداروں کا قتل
بصرہ ، خراسان اور بجستان پر زیاد بہت سختی سے حکومت کر رہا تھا۔ اس نے خوارج کے بچے کچے گروہ اور اُس کے سرداروں کو بھی قتل کر دیا علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: اس سال ۴۴ ہجری میں خطیم اور سہم بن غالب نے خروج کیا اور تحکیم کرتے رہے۔ ( خوارج کا ایک فرقہ محکمہ تھا اور لا حکم الا اللہ اُن کا شعار تھا)۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ جب زیاد نے سختی کی تو ان پر بھی خوف طاری ہوا۔ سہم بن غالب اہواز چلا گیا اور وہاں بغاوت اور تحکیم کرتا رہا۔ پھر واپس آیا اور چھپ کر زیاد سے امان کا طالب ہوا۔ زیاد نے اُسے امان نہیں دی اور اُسے ڈھونڈ کر نکالا اور گرفتار کرنے کے بعد اپنے دروازے پر اسے پھانسی پر لٹکا دیا عظیم جس کا نام یزید بن مالک باہلی تھا اُسے زیاد نے بحرین کی طرف علاقہ بدر کر دیا۔ پھر اُسے واپس آنے کی اجازت دی۔ وہ آیا تو زیاد نے اُس سے کہا کہ شہر کے باہر نہیں جانا اور مسلم بن عمر و سے کہا کہ تم اس کی ضمانت لو۔ مسلم بن عمرو نے ضمانت لینے سے انکار کر دیا اور یہ کہا کہ اگر یہ اپنے گھر سے باہر کہیں رات کو رہے گا تو میں تمہیں خبر کر دوں گا۔ اس کے بعد ایک رات مسلم نے زیادہ کو آکر خبر دی کہ رات کو خظیم اپنے گھر پر نہیں تھا۔ زیاد نے اُسے قتل کرنے کا حکم دے دیا اور اُس کی لاش کو بابلہ میں پھینک دیا۔ اس سال عقبہ بن ابی سفیان نے لوگوں کو حج کرایا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں