ہفتہ، 7 ستمبر، 2024

Ispeen Madrid ke Shahroon ka Taaruf

 ملک اندلس (اسپین، میڈرڈ) کے شہروں کا تعارف

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی ۔مالیگاوں

ملک اسپین کی جغرافیائی حدود، آبنائے ”جبل الطارق“ (جبرالٹر) ، ملک اسپین کے نام، ملک اسپین کے چند شہروں کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”قرطبہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”طلیطلہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”جزیرة الخضرأ“ کا تعارف، ملک اسپین کے ”دریائے وادیٔ بکہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے دریا ”وادیٔ الکبیر“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”اشبیلیہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”مالقہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے صوبہ اورشہر ”قشتالہ“ کا تعارف، ملک اسپین صوبہ اور شہر ”سرقسطہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہروں ”شذونہ“ اور ماردہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”برشلونہ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”مرسیہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”سبتہ“ کا تعارف



   ملک اسپین میں مسلمان حکومتوں کا تفصیلی ذکر کرنے سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں ملک اسپین اور اُس کے چند خاص شہروں کا تعارف پیش کررہے ہیں تاکہ جب آگے آپ کے سامنے ملک اسپین اور اُس کے شہروں کا ذکر آئے تو سمجھنے میں آسانی ہو ۔ ہم نے حتی الامکان آسان طریقے سے ملک اسپین کی جغرافیائی حدود اور اُس کے شہروں کے بارے میں بتانے کی کوشش کی ہے ۔ اِس کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے آپ مطالعہ کرتے وقت اپنے موبائل پر ”گوگل میپ“ پر ملک اسپین اور بحیرۂ روم“ وغیرہ کا نقشہ سامنے رکھیں گے تو انشاءاﷲ بہت لطف آئے گا ۔


ملک اسپین کی جغرافیائی حدود


   ملک اسپین ”جزیرہ نما“ ہے اِس کے تین سمتوں میں سمندر ہے ۔ مشرق اور جنوب میں بحیرۂ روم ہے جسے ”بحر متوسط ، بحرشام اور بحر مشرق“ بھی کہتے ہیں ۔ جنوب میں آبنائے ”جبل الطارق“ ہے جسے آج کل آبنائے ”جبرالٹر“ کہا جاتا ہے اور اِسے عرب ”بحر زقاق“ بھی کہتے ہیں۔ ”آبنائے جبل الطارق“ ملک اسپین کے جنوبی گوشہ اور براعظم افریقہ کے شمالی گوشہ میں ہے ۔ یہی آبنائے براعظم یورپ کو براعظم افریقہ سے الگ کرتی ہے کیونکہ ملک اسپین براعظم یورپ کا حصہ ہے ۔ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ، مغرب میں اور شمال مغرب میں اور شمال میں ”بحر اوقیانوس“ ہے ۔ جسے عرب ”بحر محیط ، بحر ظلمات ، بحر مظلم اور بحر اعظم“ بھی کہتے ہیں۔ آج کل اِس کا نام ”بحر اٹلانٹک“ بھی ہے۔ ملک اسپین براعظم یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور شمالی افریقہ کے شمال مغرب میں واقع ہے ۔ شمالی افریقہ کے ملک ”مراکش“ اور ملک اسپین کے درمیان سمندر ایک چھوٹی سی ”آبنائے“ میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ بحیرۂ روم براعظم یورپ کے جنوب میں اور براعظم افریقہ کے شمال میں واقع ہے ۔ بحیرۂ روم کے مشرق میں ملک شام اور ملک ترکی واقع ہے ۔ اگر ہم ملک شام سے بحیرۂ روم میں مغرب کی طرف آگے بڑھیں گے تو شمال میں ہمیں ملک ترکی ملے گااور جنوب میں فلسطین اور ملک مصر ملیں گے ۔ جب ہم مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو شمال میں ملک یونان ملے گااور جنوب میں ملک لیبیا ملے گا ۔ جب ہم بحیرۂ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو شمال میں ملک اٹلی ملے کا جس کے ایک شہر ”روم“ کے نام پر اِس چھوٹے سمندر کا نام ”بحیرۂ روم“ رکھا گیا ہے اور جنوب میں ملک تیونس ملے گا۔ جب ہم بحیرہ¿ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو ہمیں شمال میں ملک فرانس ملے گا اور جنوب میں ملک الجیریا ملے گا ۔ جب ہم بحیرۂ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو ہمیں شمال میں ملک اسپین (اندلس ، ہسپانیہ) ملے گا اور مغرب میں ملک مراکش ملے گا ۔ اب ہم بحیرہ روم میں جیسے جیسے مغرب کی طرف آگے بڑھتے جائیں گے تو ملک اسپین اور ملک مراکش ایکدوسرے سے قریب آتے جائیں گے اور بحیرۂ روم شمال اور مغرب میں کم ہوتا جائے گا یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ بحیرۂ روم ایک چھوٹی سی” آبنائے“ میں تبدیل ہوجائے گا ۔یہ” آبنائے جبل الطارق“ (جرالٹر) ہے جس کی چوڑائی چودہ (14) کلو میٹر ہے۔ یہاں براعظم افریقہ اور براعظم یورپ دونوں ایکدوسرے کے بے حد قریب آگئے ہیں ۔ اِس کے بعد جب ہم بحیرہ¿ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو کچھ دور چلنے کے بعد اچانک یہ آبنائے ختم ہوجائے گی اور ہم ایک بہت ہی بڑے اور بہت ہی وسیع سمندر ”بحراوقیانوس“ میں داخل ہوجائیں گے ۔ ملک اسپین ایک ”جزیرہ نما“ ملک ہے ۔ اِس کے شمال مشرق میںملک فرانس ہے اور جنوب مغرب میں ملک پرتگال ہے ۔ پرتگال کے مغرب میں ”بحراوقیانوس“ ہے ۔ ملک اسپین کے شمال میں ”بحر اوقیانوس“ کی ”خلیج بیکس“ ہے اور شمال مغرب میں ”بحر اوقیانوس“ ہے ۔ ملک اسپین کے مشرق میں ”بحیرہ¿ روم“ ہے اور یہی ملک اسپین کے جنوب میں بھی ہے جو ایک وقت چھوٹی سی” آبنائے“ بن گیا ہے ۔” آبنائے“ کے آگے ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ”بحراوقیانوس“ ہے۔ ملک اسپین کے شمال مشرق میں ملک فرانس ہے اور صرف یہی ایک ملک ہے جس کی زمینی سرحد ملک اسپین کی زمینی سرحد سے ملتی ہے ۔ اِس کے علاوہ ملک اسپین کے مغرب میں ایک چھوٹا سا ملک ”پرتگال“ ہے جس کے بھی تین اطراف سمندر ہے اور صرف ایک طرف ملک اسپین کی سرحد ہے ۔ یوں سمجھ لیں کہ ملک پرتگال ملک اسپین کا ”بغل بچہ“ ہے جو اُس 

کے جنوب مغرب میں واقع ہے ۔



آبنائے ”جبل الطارق“ (جبرالٹر) 




   شمالی افریقہ کے شمالی ملک مراکش کے شمال میں اور ملک اسپین جنوب میں ایک چھوٹی سی آبنائے ”جبل الطارق“ (جرالٹر) ہے ۔ اِس” آبنائے“ کا نام عربوں نے عالم اسلام کے عظیم سپہ سالار طارق بن زیاد کے نام پر ”جبل الطارق“ رکھا ۔ جسے بعد میں عیسائیوں نے ”جبرالٹر“ کر دیا ۔ اِس آبنائے کا نام ”جبل الطارق“ عربوں نے اِس لئے رکھا کہ جب طارق بن زیاد ملک اسپین کے جس ساحل پر اپنی فوج کے ساتھ اُترا تھا وہاں ایک بہت بڑا پہاڑ ہے جسے ”طارق کا پہاڑ“ یعنی ”جبل الطارق“ کہا گیا جو اِس” آبنائے“ کے کنارے واقع ہے ۔ اِسی لئے اِس ”آبنائے“ کو بھی ”جبل الطارق“ کہا جانے لگا ۔ ”آبنائے جبل الطارق“ دو بڑے براعظموں افریقہ اور یورپ کو ایکدوسرے سے جدا کرتی ہے اور ”بحیرہ روم“ کو ”بحر اوقیانوس یا اٹلانٹک“ سے ملاتی ہے ۔



 اِس ”آبنائے“ کی چوڑائی چودہ (14) کلومیٹر ہے اور لمبائی پچاس (50) کلومیٹر ہے ۔ جنوبی اسپین میں جزیرہ نما ”جبل الطارق“ (جبرالٹر) نام کا ایک شہر بھی آباد ہے۔ اِس شہر ”جبل الطارق“ کا دوسرا نام ”مدینة الفتح“ بھی ہے ۔ یہ نام ”سلطنتِ موحدین“ کے بانی عبدالمومن نے 555 ھجری میں دیا ۔ ”قشتلہ“ کے عیسائی حکمراں فرڈی ننڈ چہارم نے شہر ”جبل الطارق“ کو 709 ھجری میں فتح کرلیا۔ لیکن پھرملک مراکش کے بنو مرین نے 733 ھجری میں اِس پر قبضہ کرلیا اور اُن سے اہل غرناطہ نے اِس شہر کو چھین لیا ۔ اِس کے بعد 866 ھجری میں ”قشتلہ“ کے عیسائی حکمراں ہنری چہارم نے قبضہ جما لیا ۔ اِس کے بعد 1138 ھجری میں شہر ”جبل الطارق“ پر برطانیہ نے قبضہ کرلیا جو آج بھی برقرار ہے ۔


ملک اسپین کے نام


   ملک اسپین بہت ہی خوبصورت اور ہرا بھرا ملک ہے ۔ اِس ملک میں حسین وادیاں بھی ہیں اور ہرے بھرے ، پتھریلے اور برف سے ڈھکے اونچے پہاڑ بھی ہیں۔ اِس حسین ملک میں بڑے بڑے دریا بھی ہیں اور بہت ساری ندیاں بھی ہیں ۔ مجموعی طور پر ملک اسپین دنیا میں ”جنت“ کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے ۔ یہاں ہر قسم کے پھل ، پھول ، میوہ جات اور اناج وغیرہ اُگتے ہیں ۔ ملک اسپین کے کئی نام ہیں ۔ ملک اسپین کا ایک نام ”اسپانا“ Espana ہے ، ایک نام ”ہسپانیہ“ ہے ، ایک نام ”اسپین“ ہے اور عربی لوگ اِس ملک کو ”اُندلس“ کہتے ہیں ۔ ”اُندلس“ دراصل ملک اسپین کے جنوبی حصے کو کہا جاتا تھا کیونکہ عربی لوگ زیادہ تر ملک اسپین کے اسی علاقے میں سمندر کے ذریعے آیا جایا کرتے تھے ۔ جنوبی اسپین میں کافی عرصے تک ”وندال“ قوم آباد رہی ہے اور انہوں نے اپنے علاقے کا نام ”وندالیسیہ“ Vandalicia رکھ دیا ۔ اِسی کو عربوں نے ”اُندلس“ کہنا شروع کردیا ۔ آج کل ملک اسپین کے جنوبی حصے کا نام ”اندلوسیہ“ Andlucia ہے جس میں قرطبہ ، اشبیلیہ اور غرناطہ جیسے تاریخی شہر واقع ہیں ۔ علامہ ابن اثیر ”اُندلس“ اور ”اسپین“ نام کی وجوہات ِ تسمیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں : سب سے پہلے جس قوم نے یہ سرزمین (ملک اسپین) آباد کی وہ ”اندلش“ کہلاتی تھی ۔ اِسی لئے اِن کے نام سے یہ ملک موسوم ہوا پھر یہ نام معرب ہوکر ”اُندلس“ کہلایا ۔ نصاریٰ (عیسائی) اِس ملک کو ”اشبانس“ کے نام پر ”اشبانیہ“ Espana کہتے ہیں جسے یہاں سُولی دی گئی تھی ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ایک بادشاہ اشبان بن طیطس کے نام سے موسوم ہے جو بطلیموس کے زمانے میں یہاں حکمراں تھا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اِس ملک کا نام ا‘ندلس بن یافث بن نوح کے نام پر رکھا گیا جو یہاں کا پہلا آباد کار تھا ۔ ( تاریخ الکامل، امام ابن اثیر)



ملک اسپین کے چند شہروں کا تعارف


ملک اسپین کے شہر ”قرطبہ“ کا تعارف





   قرطبہ“ ملک اسپین کا بہت ہی اہم شہر ہے اور مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کا دورالحکومت کافی عرصے تک رہا ہے ۔ ”قرطبہ“ ہسپانوی زبان میں Cordoba اور انگریزی میں Cordova کہلاتا ہے ۔ اِس شہر کو اہل قرطاجنہ نے ”دریائے وادیٔ الکبیر (Guadalqivir ) کے کنارے آباد کیا تھا ۔ دوسری ”کارتھیجی جنگ“ کے بعد ”قرطبہ“ (Cordubense ) ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا اور ”کارڈوبا“ (Corduba ) کہلانے لگا ۔ 125 قبل مسیح میں رومی قبضے کے بعد یہ شہر Colonia Paticra کے نام سے صوبہ ”ہسپانیہ ا±قصیٰ“ کا دارالحکومت بن گیا ۔ 121 ھجری میں پورے ملک اسپین پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا تھا اور انہوں نے ”قرطبہ“ فتح کرلیا تھا تب بھی تین سوگاتھ مسیحی تین مہینے تک قلعہ بند کلیسا میں مزاحمت کرتے رہے تھے ۔ مسلمانوں کی طرف سے مقرر کردہ ملک اسپین کے گورنر سمح بن مالک نے100 ھجری میں ”قرطبہ“ کو دارالحکومت یعنی ”مسلمانوں کا مرکز“ بنایا ۔ ملک اسپین کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے زوال کے بعد ملک اسپین میں مسلمانوں کی بہت سی چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں قائم ہوگئی تھیں ۔ تب لگ بھگ 140 ھجری میں ”قرطبہ“ میں خاندان حمود نے ”سلطنتِ حمودیہ “ قائم کی لیکن پھر 422 ھجری میں ”قرطبہ“ میں خاندان جہور نے ”سلطنتِ جہوریہ “ قائم کرلی تھی ۔ اِس کے بعد ”قرطبہ“ خاندان مرابطین اور خاندان مواحدین کے قبضہ میں رہا ۔ لگ بھگ 646 ھجری میں ”قشتالہ“ کے عیسائی حکمراں فرڈی نند ثالث نے ”قرطبہ“ پر قبضہ کرلیا اور یہاں کی تاریخی مسجد”جامع مسجد قرطبہ“ کو ”گرجا گھر“ بنا دیا ۔”قرطبہ“ میں مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے پہلے حکمراں عبدالرحمن الداخل اول نے اِس تاریخی مسجد کی بنیاد رکھی اور تعمیر شروع کی تھی جسے اُس کے بعد کے مسلمان حکمرانوں نے مکمل کی تھی ۔ ”جامع مسجد قرطبہ“ کا بیرونی احاطہ ”صحن نارنگیاں“ (patio de los Naranjos ) ، مسجد کے بے شمار ستون اور نام La Mazquita یعنی ”المسجد“ آج بھی اس کی یاد دلاتے ہیں۔ عبد الرحمن ثالث ناصر نے ”قرطبہ“ کے شمال میں ”مدینة الزہرائ“ تعمیر کرایا تھا ۔ اُس کے دورِ حکومت میں دس لاکھ آبادی والا ”قرطبہ“ شہر وادی¿ الکبیر کے کنارے چوبیس (24) میل تک پھیلا ہوا تھا لیکن اب ”قرطبہ“ کی آبادی لگ بھگ سواتین لاکھ ہے ۔ جبکہ ملک ارجنٹینا کے وسطی شہر ”کارڈوبا“ کی آبادی لگ بھگ بارہ (12) لاکھ ہے ۔ اِس کے علاوہ وسطی امریکہ کے ملک نکاراگوا کے ”سکے“ کا نام بھی ”کارڈوبا“ ہے جو ”قرطبہ“ سے تعلق رکھنے والے ہسپانوی گورنر فرنانڈس ڈی کارڈوبا کے نام پر ہے ۔


ملک اسپین کے شہر ”طلیطلہ“ کا تعارف





   ملک اسپین کا ایک مشہور شہر ”طلیطلہ“ ہے۔ یہ شہر ”میڈرڈ“ کے جنوب میں دریائے تاجہ (Tagus ) پر واقع ہے ۔ یہ شہر مسلمانوں کے دورِ حکومت ( 92 ھجری سے 897 تک) میں بہت مشہور رہا ہے ۔ پانچویں صدی ھجری میں جب ملک اسپین میں مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کا زوال ہوا تو ملک اسپین میں چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں قائم ہوئیں تو ”طلیطلہ“ خاندان ذوالنون کی ”سلطنتِ ذوالنونیہ“ کا دارالحکومت رہا ۔ رومیوں نے ”طلیطلہ“ کو 139 قبل مسیح میں فتح کیا اور اُن کے دورِ حکومت میں ملک اسپین میں مسیحیت (عیسائی مذہب) کا دور دورہ ہوا۔ 418 عیسوی میں ”طلیطلہ“ پر فسیقوطی (Visigoth ) قابض ہوئے ۔ انہوں نے ”طلیطلہ“ کو ”دارالحکومت“ بنایا اور جب ان کے بادشاہ ”رکارڈ“ نے 587 عیسوی میں مسیحیت (عیسائی مذہب) قبول کیا تو یہ شہر جزیرہ نما آئیبیریا کا مذہبی صدر مقام بن گیا ۔ ملک اسپین سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹ چکا ہے اور فی الحال ”طلیطلہ“ میں جو دس مسجدیں تھیں اُن میں سے صرف ایک ہی مسجد ”مسجد مسیح نور“ کے کھنڈرات باقی بچے ہے ۔ مسلمانوں کے دورِ حکومت میں ”طلیطلہ“ میں عیسائی بھی آباد تھے اور یہ مسجد مسلمانوں کی آبادی ”مدینہ“ میں واقع تھی اور ”مسجد باب المردوم“ کہلاتی تھی ۔ کوفی رسم الخط میں اِس مسجد کے صدر دروازے پر آج بھی یہ تحریر ”بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ نمایاں ہے ۔ احمد بن حدیدی نے اپنے سرمایہ سے یہ مسجد تعمیر کرائی تھی اور اِس کے لئے اُس نے جنت کی دعا کی تھی ۔ اِس مسجد کو ماہر تعمیرات (بلڈنگ انجینئر) موسیٰ بن علی نے بنائی اور 390 ھجری میں اِس کی تعمیر مکمل ہوئی ۔ 459 ھجری میں عیسائی حکمراں الفانسو ششم نے ”طلیطلہ“ فتح کیا تو اِس مسجد کو ”گرجا گھر“ (عیسائیوں کی عبادت گاہ) بنا دیا ۔ 496 ھجری میں الفانسو ہشتم نے یہ مسجد سینٹ جان کے نائٹس کو دے دی اور پھر اِس کا نام ”کلیسائے صلیب مقدس“ (Ermita de la santa cruz ) رکھ دیا ۔


ملک اسپین کے شہر ”جزیرة الخضرأ“ کا تعارف




   جزیرة الخضرأ“(ہرا بھرا سر سبز جزیرہ) شہر اِن دنوں ”الجسیراس“ (Algeciras ) کہلاتا ہے ۔ اِس کا عربی نام ”جزیرة الخضرائ“ یعنی سبز جزیرہ lsla Verda سے ماخوذ ہے ۔ رومی عہد میں اِِس کا نام ”ایڈ پورٹم ایلبم“ تھا ۔یہ علاقہ ملک اسپین کے جنوب میں ”آبنائے جبل الطارق“ (جبرالٹر) کے قریب واقع ہے ۔ مسیحی مآخذ میں ”الجیسراس“ نام کے دو شہروں کا ذکر ہے ۔ پہلا شہر تو جزیرے میں واقع تھا جو بعد میں ویران ہوگیا ۔ دوسرا شہر اندرون ملک ”آبنائے جبل الطارق“ سے اٹھارہ (18) میل ہٹ کر تھا جس کی اہمیت اور نام برقرار رہا ۔ ”جزیرة الخضرائ“ ایک پہاڑی پر آباد ہے جو سمندر کے ساحل تک چلی گئی ہے ۔ ”وادی¿ العسل“ (شہد کی وادی یا دریا) شہر کے درمیان سے بہتا ہے اور اِس کا نام ہسپانوی زبان میں باقی ہے ۔ ”جزیرة الخضرائ“ کے جنوب مشرق میں سمندر کے ساحل پر مسلمانوں نے ایک مسجد بنائی تھی اور اس کا نام ”مسجد الزایات“ رکھا تھا کیونکہ یہاں طارق بن زیاد کی سپہ سالاری میں عرب اور بربر قبائل کے مسلمان اپنے اپنے جھنڈوں کے نیچے جمع ہوتے تھے ۔ نارمنوں نے 245 ھجری میں اِس مسجد کو جلا دیا تھا ۔ 743 ھجری میں الفانسو یازدہم (قشتالہ کا حکمراں) نے بیس مہینے کی شدید جنگ کے بعد ”جزیرة الخضرأ“ کو فتح کرلیا ۔ 771 ھجری میں غرناطہ کے مسلمان حکمراں نے ”جزیرة الخضرأ“ دوبارہ فتح کیا مگر چند سال بعد عیسائیوں نے پھر سے قبضہ کرکے مسلمانوں کا بنایا ہوا شہر منہدم کردیا ۔


ملک اسپین کے ”دریائے وادیٔ بکہ“ کا تعارف




   ملک اسپین کے جنوب میں د ودریا بہتے ہے جن میں سے ایک کا نام ”دریائے لکہ“ یا ”دریائے لطہ“ (Guadalete ) ہے ۔ دوسرا دریائے برباط (Barabate ) یا دریائے بکہ ہے جس کے راستے میں ”جھیل لاجنڈا“ آتی ہے ۔ اِس دریا کے کنارے دو بڑے شہر آباد ہیں ۔ ایک شہر کا نام ”برباط“ ہے اور دوسرے شہر کا نام ”بکہ“ ہے جسے ہسپانوی Vejer کہتے ہیں ۔ اِسی لئے اِس دریا کے دونام پڑ گئے ہیں ۔ اِس دریا کے کنارے”جھیل لاجنڈا“ کے قریب وادی¿ برباط یا وادیٔ بکہ میں طارق بن زیاد اور ملک اسپین کے عیسائی حکمراں راڈرک کے درمیان جنگ ہوئی تھی ۔ گاتھوں کو عرب مسلمان ”قوط“ کہتے ہیں اور راڈرک کو ”رزریق یا لرزیق“ کہتے ہیں۔ جھیل لاجنڈا کا نام دراصل ”جنڈا“ ہے چونکہ ہسپانوی زبان میں ”لا“ حرف تعریف ہے اِس لئے ”لاجنڈا“ ہوگیا ۔ اِسی طرح عربی زبان میں ”وادی“ یا ”واد“ کے معنی ”وادی“ کے علاوہ ”دریا“ بھی ہے ۔


ملک اسپین کے دریا ”وادیٔ الکبیر“ کا تعارف




   وادیٔ الکبیر“ ملک اسپین کا مشہور دریا ہے ”واد“ یا ”وادی“ (ہسپانوی زبان میں Guad یا Guadi) ملک اسپین کے متعدد دریاو¿ں یا شہروں کے نام میں آتا ہے مثلاً ”وادیٔ الکبیر“ (Guadalquivir ) ، ”وادیٔ آنہ“ (Guadiana ) ، ”وادیٔ الرمان“ (Guadroman ) ، ”وادی¿ آش“ (Guadix ) وغیرہ ۔ ”وادیٔ الکبیر“ ملک اسپین کے شمال مشرق سے جنوب مغرب کو بہتے ہوئے ”بحر اوقیانوس“ یا ”بحر ظلمات“ یا ”بحر اٹلانٹک“ میں جاگرتا ہے ۔ ”وادیٔ احمر“ (Guadalimor ) ، وادیٔ شوس (Guadajoz ) اور ”غرناطہ“ ، لوشہ اور استجہ“ سے آنے والا”دریائے شنیل“ (Genil )اِس دریا کے معاون دریا ہیں ۔ ”وادیٔ الکبیر“ کے کنارے ”القلعیہ“ (Alcolia ) ، ”قرطبہ ، عبیدہ“ (Ubeda ) ”حصن المدور“ (Almadover ) ”حصن لورد“ (Lora del Rio ) ، ”اشبیلیہ اور حصن القصر“ (Aznalcozar ) نامی شہر واقع ہیں ۔ علامہ اقبال نے ملک اسپین کا دورہ کرنے کے بعد ”قرطبہ“ کے بارے میں ”بال جبریل“ میں ایک نظم لکھی جس میں ”دریائے وادیٔ الکبیر“ کا ذکر ہے ۔


ملک اسپین کے شہر ”اشبیلیہ“ کا تعارف





   ملک اسپین کے شہر ”اشبیلیہ“ کا قدیم نام ”ہسپالس“ (Hispalis ) تھا ۔ یہ ”دریائے وادی¿ الکبیر“ کے کنارے سمندر سے لگ بھگ ساٹھ (60) میل کے فاصلے پر واقع ہے ۔ جولیس سیزر نے 45 قبل مسیح میں ”اشبیلیہ“ کو فتح کرکے ”جولیس کی رومی نوآبادی“ (Colonia julia Romula ) کا نام دیا ۔ اِس دوران یہ شہر صوبہ ”قرطبہ“ کا صدر مقام (دارالحکومت) رہا ۔ 411 عیسوی میں ”اشبیلیہ“ ”سلطنتِ وندال“ کا ”دارالحکومت“ بن گیا ۔ طارق بن زیاد کے ساتھ اُس کے اُستاد موسیٰ بن نصیر نے بھی ملک اسپین فتح کیا تو اپنے بیٹے عبدالعزیز بن موسیٰ کو ملک اسپین کا گورنر بنا دیا تھا ۔ اُس نے ”اشبیلیہ“ کو ملک اسپین کا صدر مقام (دارالحکومت) بنایا ۔ یہیں پر ”سلطنتِ اُمیہ دمشق “ کے حکمراں امیرالمومنین سلیمان بن عبدالملک کے حکم سے عبدالعزیز بن موسیٰ کو 97 ھجری میں قتل کردیا گیا ۔ مسلمانوں کے دورِ حکومت میں ”اشبیلیہ“ کو ”حمص“ کا نام بھی دیا گیا تھا ۔ 414 ھجری میں جب ملک اسپین کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کا زوال ہوا تو ملک اسپین میں چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں وجود میں آگئیں تھیں ۔ تب خاندان عبادیہ نے ”اشبیلیہ“ میں ”سلطنتِ عبادیہ“ قائم کرلی تھی ۔ خاندان عبادیہ کے تیسرے حکمراں ”معتمد“ کی درخواست پر شمالی افریقہ کے ملک مراکش کے خاندان مرابطین کا حکمراں یوسف بن تاشقین فوج لیکر ملک اسپین آیا اور ”قشتالہ“ کے عیسائی حکمراں الفانسو ششم کو 479 ھجری میں ”جنگ زلاقہ“ میں شکست دی اور ملک اسپین پر مرابطین کی حکومت قائم کردی ۔ اِس کے بعد مواحدین کا دورِ حکومت آیا اور اُن کے ایک حکمراں نے ”اشبیلیہ“ کو ”دارالحکومت“ بنایا ۔ لگ بھگ 652 ھجری میں مواحدین کی حکومت ختم ہوگئی ۔ تب لگ بھگ 654 ھجری میں عیسائی حکمراں فرڈی ننڈ سوم (فرنانڈو) نے ”اشبیلیہ“ کا محاصرہ کرلیا اور سولہ مہینے کی زبردست جنگ کے بعد اِس پر قبضہ کرلیا ۔ 674 ھجری سے لیکر 690 ھجری تک ملک مراکش کے حکمراں ”مرینی سلطان“ نے ”اشبیلیہ“ کے کئی محاصرے کئے لیکن عیسائیوں سے واپس لینے میںکامیاب نہیں ہوا ۔ ”اشبیلیہ“ میں مسلمانوں کی یادگاروں میں سے ایک یادگار ایک شاندار مسجد کا تین سو فٹ اونچا مینار Giralda اور ”القصر“ (Alcazar ) باقی ہیں اور عیسائیوں نے اِس کا نام ”جیرالڈ“ رکھ دیا ہے ۔ امام محدث ابن عربی اور شیخ اکبر ابن عربی ”اشبیلیہ“ کے ہی ہیں ۔


ملک اسپین کے شہر ”مالقہ“ کا تعارف




   مالقہ“ ملک اسپین کا ساحلی شہر ہے اور یہ ”جبل الفارہ“ (Gibrafaro ) کے دامن میں ”بحیرۂ روم“ کے ساحل واقع ہے اور ملک اسپین کا ایک بڑ اشہر اور بڑی بندگاہ ہے ۔ اِس شہر میں ”دریائے رمبلہ“ (عربی میں دریائے رملہ) گزرتا ہے جسے ”وادیٔ المدینہ“ کہتے ہیں ۔ ”مالقہ“ ملاگا (Malaga ) کا معرب ہے اور اِس کی بنیاد فونیقیوں نے ڈالی تھی ۔ ملک اسپین میں مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کا جب زوال ہوا تو ملک اسپین میں چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں وجود میں آگئیں تھیں ۔ تب خاندان حمود نے ”مالقہ“ میں ”سلطنتِ حمودیہ“ قائم کرلی تھی ۔ 449 ھجری میں غرناطہ کے مسلم حکمراں نے قبضہ کرلیا ۔ اِس کے بعد مرابطین اور مواحدین کی یہاں حکومت رہی ۔ آخرکار لگ بھگ 880 ھجری میں فرڈی ننڈ اور اُس کی ملکہ ازابیلا نے سخت ناکہ بندی کرکے مسلمانوں سے ”مالقہ“ چھین لیا ۔ اِس شہر میں مسلمانوں نے پانچ دالانوں والی وسیع جامع مسجد ”القصبہ“ (Alcazaba ) بنائی تھی جسے عیسائیوں نے ”گرجا گھر“ (کلیسا) میں تبدیل کردیا جو آج بھی مسلمانوں کی یادگار ہے ۔


ملک اسپین کے صوبہ اورشہر ”قشتالہ“ کا تعارف




   قشتالہ“ ملک اسپین کے وسط میں واقع ہے اور ملک اسپین کا صوبہ بھی ہے اور شہر بھی ہے ۔ اِس شہر کے کئی نام ”قشتالہ ، قشتلہ ، قشتالیہ اور کاستیلا“ (Castilla ) ہیں ۔ ”قشتالہ“ کو پہاڑوں نے دوحصوں میں تقسیم کررکھا ہے ۔ قدیم ”قشتالہ“ میں ”برگوس ، بلنسیہ (Valencia ) ، شتوبیہ ، صوریہ ، اور بلد الولید“ (Vailadolid ) شامل تھے ۔ جنھیں ”دریائے دویرو“ (Duero ) سیراب کرتا ہے ۔ آج کا جدید ”قشتالہ“ وادیٔ الحجارہ ، میڈریڈ ، طلیطلہ (Toledo ) وغیرہ پر مشتمل ہے جہاں ”دریائے تاجہ“ اور دریائے گوڈیانا“ بہتے ہیں ۔


ملک اسپین صوبہ اور شہر ”سرقسطہ“ کا تعارف






   سرقسطہ“ کا نام ”ساراگوسا“ (Saragossa ) بھی ہے ۔ ملک اسپین میں اِس نام کا ایک صوبہ ہے اور اِسی نام کا شہر بھی ہے جو اِس صوبے کا صدر مقام ہے ۔ ”سرقسطہ“ نام کا شہر ”دریائے ابرہ“ کے دائیں کنارے آباد ہے ۔ اِس صوبہ کی جغرافیائی حالت کی بنا پر عرب مسلمانوں نے اِسے ”الثغرالاعلیٰ“ کا نام دیا ۔ ملک اسپین میں مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین “ کا جب زوال ہوا تو ملک اسپین میں چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں وجود میں آگئیں تھیں ۔ تب خاندان ہود نے ”سرقسطہ“ میں ”سلطنتِ ہودیہ“ قائم کرلی تھی ۔ لگ بھگ 503 ھجری میں مرابطین نے قبضہ کرلیا لیکن 512 ھجری میں ”سرقسطہ“ پر عیسائیوں نے قبضہ کرلیا اور تب سے مسلسل عیسائی یہاں حاوی رہے ۔ ”سرقسطہ“ میں ”لاسیو“ میں مسلمانوں نے بہت بڑی اور بہترین جامع مسجد بنائی تھی جسے عیسائیوں نے ”کیتھیڈرل ڈیل سالویڈور“ (کلیسائے منجی) بنا دیا ۔ ”سلطنتِ ہودیہ“ کے دورِ حکومت میں خاندان ہود کے چوتھے حکمراں ابوجعفر مقتدر نے ”’سرقسطہ“ میں ”قصر جعفریہ“ نام کی مسجد بنوائی جو پچیس (25) مربع گز پر بنی ہے اور جس پر پینتالیس (45) فٹ بلند بہت ہی حسین گنبد بنا ہوا ہے ۔ مسجد کے قریب ہی اسی (80) فٹ بلند ایک خوبصورت مینار بھی ہے ۔


ملک اسپین کے شہروں ”شذونہ“ اور ماردہ“ کا تعارف





   شذونہ“ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ”صوبہ قادس“ کا ایک شہر ہے جو ”جزیرة الخضرأ“ اور ”الشریش“ سے لگ بھگ برابر فاصلے پر واقع ہے ۔ مسلمانوں کے دور میں اِسی صوبے کا یہ شہر ”صدر مقام“ تھا ۔ ملک اسپین کا ایک اور شہر ”ماردہ“ (Merida ) ہے ۔ اِس شہر کا یہ نام لاطینی نام ”امریتا“ (Emerita )سے ماخوذ ہے ۔ شہر ”ماردہ“ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ”صوبہ بادجوز“ (Badjoz ) میں واقع ہے ۔ یہ ”دریائے گاڈیانا“ (وادیٔ آنہ) کے دائیں کنارے پر واقع ہے ۔ قدیم ”سلطنتِ لوزینانیا“ کی بنیاد تیئس (23) قبل مسیح میں ملک اسپین میں ڈالی گئی اور”ماردہ“ اس کا دارالحکومت تھا ۔ لگ بھگ 638 ھجری میں ملک اسپین میں ”لیون“ کے عیسائی حکمراں الفانسو نہم نے ”ماردہ“ مسلمانوں سے چھین لیا تھا اور تب سے لیکر آج تک یہ انہیں کے قبضے میں ہے ۔


ملک اسپین کے شہر ”برشلونہ کا تعارف





   برشلونہ“ (Barcelona ) ملک اسپین کے کا ایک اہم ساحلی شہر اور اہم بندرگاہ ہے جوملک اسپین کے جنوب مشرق میں ”بحیرہ¿ روم“ کے شمال مغربی ساحل پر واقع ہے ۔ ”برشلونہ“ یا ”بارسلونا“ ملک اسپین کے ”صوبہ کیٹا لزنیا“ کا دارالحکومت“ ہے اور اس کی آبادی چالیس (40) لاکھ سے بھی زیادہ ہے ۔ یہ ملک اسپین کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے ۔ 230 ھجری میں برشلونہ کے عیسائیوں نے وہاں کے مسلمان گورنر اور فوج کو قتل کرکے جنوب مغربی اسپین کی طرف پیش قدمی شروع کی ۔ اُس وقت کی ملک اسپین کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے حکمراں عبدالرحمن ثانی کے سپہ سالار عبدالکریم نے 231 ھجری میں اہل برشلونہ کو شکست دی اور اطاعت کا اقرار لیکر وہاں مسلمان گورنر مقرر کردیا ۔ اِس کے بعد 350 ھجری میں ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے حکمراں حکم ثانی کے دورِ حکومت میں عیسائیوں نے پھر سے بغاوت کی تو وہاں کے مسلمان گورنر یعلی بن محمد نے اُن کی سرکوبی کی اور اطاعت پر مجبور کردیا ۔ ”برشلونہ“ کو ”فاتح اسپین“ موسیٰ بن نصیر کے بیٹے عبدالعزیز بن موسیٰ نے 97 ھجری میں فتح کیا ۔ 185 ھجری میں فرانس کے حکمراں ”شارلیمان“ (Charlemagne ) کے بیٹے ”لوئی“ نے مسلمانوں سے چھین لیا تھا ۔ اِس کے بعد پھر سے مسلمانوں نے اِسے واپس حاصل کیا ۔ 377 ھجری میں ”برشلونہ“ پر پھر سے عیسائیوں نے قبضہ کرلیا اور تب سے لیکر آج تک یہ انہیں کے قبضے میں ہے ۔ 1992 عیسوی میں ”برشلونہ“یا ”بارسلونا“ میں عالمی اولمپک کھیل منعقد ہوئے تھے ۔


ملک اسپین کے شہر ”مرسیہ“ کا تعارف





   مرسیہ“ ملک اسپین کے جنوب مشرق میں ”دریائے سگورہ“ (شقورہ) کی وادی میں واقع ہے ۔ اِس کے جنوب مشرق میں لگ بھگ چالیس (40) میل دور ”بحیرۂ روم“ کے ساحل پر ملک اسپین کی ”قرطاجنہ“ (کارتاجینا) نام کا ساحلی شہر اور بندرگاہ واقع ہے ۔ ملک اسپین کی مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے دور میں ”صوبہ تدمیر“ کا دارالحکومت ”مرسیہ“ تھا ۔ یہ شہر ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے حکمراں عبدالرحمن ثانی کے دورِ حکومت میں 210 ھجری فتح ہوا ۔ مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے زوال کے بعد ”مرسیہ“ ایک چھوٹی سی حکومت کا ”دارالحکومت“ بنا اور ”صقالیہ“ (Slavs ) کے حکمراں کے قبضے میں رہا ۔ پھر کچھ عرصہ ”بلنسیہ“ (Valencia ) سے ملحق رہا ۔ 484 ھجری میں ”مرسیہ“ پر مرابطین نے قبضہ کرلیا ۔ اِس کے بعد مواحدین کے قبضہ میں رہا ۔ اِس کے بعد ”مرسیہ“ ہسپانوی نژاد ابن مردنیش اور بنو احمر (بنو نصر) کے قبضے میں رہا یہاں تک کہ 640 ھجری میں ”مرسیہ“ پر عیسائیوں نے قبضہ کرلیا اور تب سے لیکر آج تک انہیں کے قبضے میں ہے ۔


ملک اسپین کے شہر ”سبتہ“ کا تعارف





   ”سبتہ“ (Ceuta ) دراصل ملک مراکش کا ایک ساحلی شہر ہے ۔ یہ ساحلی شہربحیرۂ روم کے ”آبنائے جبل الطارق“ (جبرالٹر) کے ساحل پر واقع ہے ۔ ملک اسپین کے باب میں ”سبتہ“ کا ذکر اِس لئے ہم کر رہے ہیں کیونکہ جس وقت مسلمانوں نے اﷲ کی مدد سے ملک اسپین میں اسلام کی روشنی پھیلائی تو اُس وقت ”سبتہ“ بھی ملک اسپین کا ایک مقبوضہ شہر تھا ۔ یہی شہر ملک اسپین میں اسلام کی روشنی پہنچنے کا سبب بنا ۔اِس شہر پر ملک اسپین کے عیسائیوں نے 580 عیسیوی میں قبضہ کیا تھا ۔ ”سبتہ“ پانچویں صدی قبل مسیح میں ملک اسپین کے اہل قرطاجنہ نے آباد کیا تھا ۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں انہوں نے ملک مراکش کے ساحلوں پر سات ساحلی شہر آباد کئے تھے جن میں سے ایک ”سبتہ“ ہے ۔ یہ شہر سینکڑوں سال تک مسلمانوں کی رونق کا گہوارا رہا ۔ جس وقت ملک اسپین سے مسلمانوں کا عیسائی صفایا کررہے تھے اُسی وقت لگ بھگ 825 ھجری میں پرتگال نے قبضہ کرلیا ۔ اِس کے بعد ملک اسپین کے عیسائیوں نے لگ بھگ 990 ھجری میں ”سبتہ“ پر قبضہ کرلیا ۔ ”سبتہ“ آج بھی حقیقت میں ملک مراکش کا ایک شہر ہے لیکن مغربی طاقتوں کی پشت پناہی کی وجہ سے اِس پر ملک اسپین کے عیسائیوں کا قبضہ ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں