د45 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 45
بخارا پر حملہ، 89 ھجری کا اختتام، 90 ھجری دیبل (کراچی) کی فتح، راجہ داہر کا خاتمہ، ملتان کی فتح، بخارا میں جنگ، مسلمانوں کی فتح، نیزک کی بد عہدی، طالقان کی فتح، نیزک کا قتل، آل مہلب پر حجاج بن یوسف کا ظلم، آل مہلب کا فرار، حجاج بن یوسف کی پریشانی اور خوف، آل مہلب سلیمان بن عبدالملک کی امان میں
بخارا پر حملہ
اِس سال 89 ھجری میں قتیبہ بن مسلم نے دوبارہ بخارا پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال قتیبہ بن مسلم نے بخارا کے علاقے میں جہاد کیا اور رامیثنہ فتح کیا ۔ جب قتیبہ بن مسلم رامثینہ فتح کر کے بلخ کے راستے واپس ہوا تو ‘‘فاریاب’’ کے مقام پر اُسے حجاج بن یوسف کا خط ملا ۔ جس میں حکم دیا گیا تھا کہ تم ‘‘وردان ِخداہ’’ میں جا کر جہاد کرو۔ قتیبہ بن مسلم 89 ھجری میں دوبارہ ‘‘مرو سے جہاد کے لئے روانہ ہوا ۔پہلے ‘‘زم’’ آیا اور یہاں سے دریا عبور کر کے ریگستان کے راستے میں اہل صغد اور اہل کش اور اہل نسف نے اُس کا مقابلہ کیا ۔ قتیبہ بن مسلم اُن سے لڑتے ہوئے اور شکست دیتا ہوا بخارا پہنچا ۔ وردان خداہ’’ کی داہنی سمت سے گذر کر مقام ‘‘خرقانتہ’’ زیرین میں پڑاؤ ڈالا ۔ اِس مقام پر دشمن کی ایک زبردست جمیعت سے اُس کی جنگ ہوئی ۔ دو دن اور دو راتیں مسلسل معرکۂ جدال و قتال گرام رہا مگر آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مظفر و منصور کیا ۔ جب اِس کے علاوہ قتیبہ بن مسلم نے بخارا کے بادشاہ سے جنگ کی مگر اُس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا اور ‘‘مرو’’ واپس آگیا اور حجاج بن یوسف کو تمام واقعات کی اطلاع
دی ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے لکھا :‘‘ بخارا کے بادشاہ کی تصویر میرے پاس بھیج دو ۔ ’’ قتیبہ بن مسلم نے اس کی تصویر بھیج دی ۔ حجاج بن یوسف نے قتیبہ بن مسلم کو لکھا : ‘‘ تم اپنی خلوت میں جاؤ اور خلوص ِ نیت سے اپنے اﷲ کے سامنے توبہ کرو اور پھر ان سمتوں اور راستوں سے بخارا پر حملہ کرواور اہل کش کے خلاف کوئی چال چلو اور نسف کو تباہ کردو اور وردان کو لوٹ لو اور حفاظت کی تمام تدبیریں ہمیشہ اختیار کرتے رہنا اور مجھے چھوٹی چھوٹی مہموں کے بکھیڑوں سے نجات دو۔ ’’علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال ۸۹ ھجری میں قتیبہ بن مسلم نے ترکوں سے جنگ کی اور وہ آذربائیجان کی ‘‘باب الابواب’’ تک پہنچ گیا اور بہت سے شہر اور قلعے فتح کر لئے ۔
ا89 ھجری کا اختتام
ا89 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال ولید بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ قسری کو مکۂ مکرمہ کا گورنر بنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال خالد بن عبداﷲ قسری کو مکۂ مکرمہ کا گورنر بنایا گیا ۔ ایک مرتبہ خالد بن عبداﷲ مکۂ مکرمہ میں منبر پر بیٹھا تقریر کر رہا تھا :‘‘ بتاؤ! خلیفہ کا مرتبہ بڑا ہے جو کسی کا قائم مقام ہوتا ہے یا رسول کا مرتبہ جو محض پیامبر ہوتا ہے ۔ اﷲ کی قسم! تم لوگ خلیفہ کی فضیلت سے ناآشنا ہو مگر میں بتاتا ہوں کہ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ سے پانی مانگا تو اﷲ نے انہیں کھارے پانی کا کنواں عطا فرمایا۔ مگر تمہارے خلیفہ ( ولید بن عبدالملک) نے جب اﷲ سے پانی مانگا تو دیکھو کیسا شیریں اور خوش ذائقہ پانی دیا گیا ہے ۔ ’’ یہ ایک کنواں تھا جسے ولید بن عبدالملک نے طولیٰ اور حجون کی وادی میں کھدوایا تھا اور یہاں سے پانی لے جا کر زمزم کے حوض کے پاس چمڑے کے حوض میں رکھا جاتا تھا تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس کنویں کا پانی اچھا ہے یا زمزم کا ۔ مگر بعد میں وہ کنواں سوکھ گیا اور کنواں بھی منہدم ہو کر بند ہو گیااور کسی کو معلوم بھی نہیں کہ وہ کنواں کہاں تھا ۔ اِس سال حجاج بن یوسف ملک عراق اور ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا اور مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز تھے اور آپ نے ہی مسلمانوں کو حج کروایا۔
ا90 ھجری دیبل (کراچی) کی فتح
اِ س سال 90 ھجری میں محمد بن قاسم نے سندھ ( پہلے کا مغربی ہندستان اور آج کل کا پاکستان) پر حملہ کیا اور کئی سال تک سندھ میں مصروف رہا۔سندھ کے راجا داہر نے مسلمانوں کا ایک پانی کا جہاز ‘‘دیبل’’ ( کراچی کے ساحل پر پکڑ لیا اور مسلمانوں کو قتل کر کے تمام سامان لوٹ لیا ۔ سری لنکا سے ایک مسلمان لڑکی نے حجاج بن یوسف سے فریاد اور اُس نے محمد بن قاسم کو چھ ہزار کا لشکر دیکر روانہ کیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف نے سرحد سندھ پر حملہ کرنے کے لئے محمد بن قاسم کو چھ ہزار مجاہدین کا لشکر دے کر بھیجا۔ محمد بن قاسم لشکر لیکر ‘‘مکران’’ پہنچا اور تھوڑے روز قیام کر کے فیروز پور کا رُخ کیا ۔ اہل فیروز پور مقابلہ پر آئے ۔زبردست جنگ ہوئی اور محمد بن قاسم نے بزور ِ شمشیر فتح حاصل کرتے ہوئے ‘‘ارمایل’’ کے دروازے پر پہنچ کر جنگ کا جھنڈا گاڑ دیا ۔ارمایل کے حکمراں نے سخت جنگ کی لیکن اُسے شکست ہوئی اور محمد بن قاسم اُسے فتح کر کے قبضہ کر لیا اور دیبل (کراچی) پر چڑھائی کی اور جمعہ کے دن پہنچ کر محاصرہ کر لیا ۔ شہر دیبل (کراچی) کے وسط میں ایک بہت بڑا رفیع الشان بت خانہ(مندر) تھا جس پر سرخ رنگ کا حریر کا پھریرہ لہرا رہا تھا جو تمام شہر پر اپنا سایہ کئے ہوئے تھے ۔ محمد بن قاسم نے شہر پر منجنیق سے سنگ باری ( پتھروں کی بارش) شروع کی تو اتفاق سے پہلے وہ جھنڈا ہی ٹوٹ کر گرا جس کی وجہ سے اہل دیبل کو اپنی شکست کا یقین ہو گیا ۔ وہ لوگ شہر سے باہر آکرصف آراء ہوئے اور جنگ شروع کر دی ۔ مسلمانوں نے زبردست حنلہ کیا اور کافروں کو شکست دی ۔ اہل دیبل بھاگ کر شہر میں گھس گئے اور شہر کا دروازہ بند کر کے ‘‘قلعہ بند’’ ہو گئے ۔ محمد بن قاسم نے ‘‘شہر پناہ’’ تو ڑوڑ ڈالا اور چار ہزار مجاہدین شہر میں گھس گئے ۔ تین دن تک شہر کے اندر جنگ ہوتی رہی اور دیبل کا حکمراں شہر چھوڑ کر فرار ہو گیا اور دیبل پر
مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا ۔
راجہ داہر کا خاتمہ
دیبل یعنی آج کل کے کراچی کو فتح کرنے کے بعد محمد بن قاسم نے وہاں ایک مسجد بنوائی اور پھر لشکر لیکر آگے بڑھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : دیبل میں فتح حاصل کرنے کے بعد محمد بن قاسم نے یہاں جامع مسجد بنوائی اور دو چار روز قیام کرنے کے بعد نیروز کی طرف کوچ کیا ۔چونکہ اہل نیروز نے پہلے ہی خط و کتابت کے ذریعے سے صلح کر لی تھی اِس لئے جب انہیں معلوم ہوا کہ محمد بن قاسم اُن کی طرف آرہا ہے تو وہ خود رسد اور غلہ وغیرہ لیکر ملنے آئے اور نہایت عزت و احترام سے اپنے شہر میں لے گئے اور پورے لشکر کی دعوت کی ۔ محمد بن قاسم یہاں سے آگے بڑھا اور ملک سندھ ( آج کل کا پاکستان) کے شہروں پر دھاوا بول دیا جو آسانی سے فتح ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک کہ محمد بن قاسم اپنے لشکر کے ساتھ ‘‘ہران’’ تک پہنچ گیا ۔ سندھ کے راجہ ( داہر بن صعصعہ) نے بھی اپنا لشکر جمع کیا اور مقابلے پر آیا ۔ مسلمان مجاہدین نے دریائے سندھ پر پل باندھا اور نہایت اطمینان و استقلال سے عبور کر کے داہر کی فوج پر حملہ آور ہوگئے ۔ داہر ایک ہاتھی پر سوار تھا اور اُس کے اِرد گرد سینکڑوں ہاتھی کالے کالے پہاڑ کی طرح کھڑے ہوئے تھے ۔ جن میں تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک خفیف سی جنبش ہوتی تھی اور جس طرف وہ رُخ کرتے تھے تو صف کی صف درہم برہم ہو جاتی تھی ۔ مسلمان مجاہدین نے اِن ہاتھیوں پر تیروں کی بارش کر دی اور ہاتھوں کے سوار گر گر کر مرنے لگے اور ہاتھیوں کا جھنڈ بھاگ کھڑا ہوا۔ داہر مجبوراً پیدل ہو کر لڑتا ہوا مسلمان مجاہدین کی طرف بڑھا ۔ ایک مسلمان مجاید نے لپک کر ایک ہی وار میں اُس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا ۔ اپنے راجہ کے مرتے ہی ہندستان کے کافر شکست کھا کر بھاگنے لگے اور مسلمان مجاہدین انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹنے لگے ۔
ملتان کی فتح
محمد بن قاسم نے راجہ داہر کے لشکر کو بری طرح سے شکست دی اور راجہ داہر کو قتل کر دیا ۔ کافر اپنی جان بچا کر بھاگے تو محمد بن قاسم بھی اپنا لشکر لیکر اُن کے پیچھے روانہ ہوا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مسلمانوں نے بڑے بڑے سورما پہلوانوں اور جنگ آوروں کو قتل کی اور مال غنیمت جمع کر لیا ۔ راجہ داہر کی بیوی اپنے خاص ساتھیوں کے ساتھ بھاگ کو شہر ‘‘رار’’ میں جا چھپی ۔ پھر جب محمد بن قاسم نے اپنے لشکر کے ساتھ ‘‘رار’’ کی طرف رُخ کیا تو اُن نے گرفتاری کے خوف سے اپنے آپ کو مع اپنے خاص ساتھیوں کے جلا کر خاک کر ڈالا ۔ مسلمانوں نے پہنچ کر شہر رار پر قبضہ کر لیا ۔ کافروں کے شکست خوردہ لشکر نے شہر ‘‘برہمتا باد قدیم’’ میں جا کر پناہ لی جو ‘‘منصورہ’’ سے دو فرسنگ کے فاصلے پر تھا ۔ منصورہ میں اُن دنوں ایک گنجان کیلے کا باغ تھا ۔جسے مسلمانوں نے اپنے قبضے میں لے لیا ۔ اِس کے بعد ایک کے بعد ایک کر کے سندھ کے بقیہ شہروں پر بھی قبضہ کر کے ‘‘نہر سلسل’’ کو جس سے اہل ملقاء ( ملتان) سیراب ہوتے تھے کاٹ کر دوسری طرف بہا دیا اور ‘‘ملتان’’ کا محاصرہ کر لیا ۔ جنگ ہوئی اور مسلمان مجاہدین نے نہایت بہادری اور مردانگی سے ‘‘ملتان’’ کو بھی فتح کر لیا اور جنگ میں لڑنے والے مجاوروں اور پجاریوں کو جن کی تعداد چھ ہزار تھی قتل کر دیا ۔ بت خانے (مندر)میں ایک کمرہ جو دس زراع لمبا اور آٹھ زراع چوڑا تھا اُسے سونے سے بھرا ہوا پایا ۔ ملتان کا بت خانہ (مندر) بہت ہی بڑا اور عظیم الشان تھا ۔ یہاں دوسرے شہروں سے بڑے بڑے چڑھاوے آتے تھے ۔ سال میں ایک مرتبہ لوگ اِس کی زیارت کو آتے تھے اور سر اور داڑھی منڈواتے تھے ۔ ملتان کے فتح ہوتے ہی سندھ کا تمام علاقہ محمد بن قاسم کے قبضہ میں آگیا ۔ مال غنیمت سے جو خمس ( پانچواں حصہ) روانہ کیا گیا تھا وہ ایک کروڑ بیس لاکھ تھا اور ہندوستان لشکر بھیجنے میں جو خرچ ہوا تھا یہ اُس کا نصف تھا ۔
نوٹ
محمد بن قاسم سندھ یعنی ہندستان میں کئی سال تک جنگ میں مصروف رہا ۔ یہاں ہم نے انتہائی مختصراً ذکر پیش کر دیا ۔ انشاء اﷲ مفصل
ذکر ہم اپنی کتاب ‘‘ہندستان میں اسلام اور مسلمان ’’میں پیش کریں گے ۔ یہاں ہم نے مختصراً اِس لئے ذکر کر دیا تاکہ تسلسل برقرار رہے ۔
بخارا میں جنگ
اِس سال 90 ھجری میں قتیبہ بن مسلم پھر بخارا کی طرف لشکر لیکر روانہ ہوا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس سے پیشتر ہم لکھ آئے ہیں کہ 89 ھجری میں قتیبہ بن مسلم نے بخارا پر حملہ کیا تھا اور بے نیل و مرام واپس آگیا تھا ۔ 90 ھجری میں حجاج بن یوسف نے ناکامی کے ساتھ لوٹ آنے پر ملامت کی اور دوبارہ جہاد پر جانے کا حکم دیا ۔ قتیبہ بن مسلم اپنی فوج لیکر باذغیس کے حکمراں نیزک طرخان کو ساتھ لیکر بخارا کی طرف روانہ ہوا۔ بخارا کا بادشاہ(وردان اخذاہ) نے اپنے گرد و نواح کے سلاطین صغد و ترک سے مدد مانگی اور جب وہ لوگ اُسے مسلمانوں سے بچانے کے لئے آگئے تو یہ مسلمانوں کے مقابلے پر آیا ۔ جنگ شروع ہوئی تو مسلمانوں کے لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ پر ‘‘ازد’’ کمانڈر تھا ۔ اتفاق سے اُس کو شکست ہوئی تو وہ ایسا بدحواس ہو کر بھاگا کہ مسلمانوں کے لشکر کے پڑاؤ سے بھی آگے بڑھ گیا لیکن پھر سنبھل کر حملہ کی غرض سے لوٹا ۔ اِس حملے میں مسلمانوں کے لشکر کے میمنہ اور میسرہ نے بھی ساتھ دیا اور آخر کار ترک مجبور ہو کر اپنے مورچے کی طرف لوٹے ۔
مسلمانوں کی فتح
مسلمانوں اور ترکوں میں زبردست جنگ چل رہی تھی اور فریقین بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے ۔آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کی اور فتح عطا فرمائی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد بنو تمیم نے ایسی بے جگری سے حملہ کیا کہ اُن میں اور ترکوں میں امتیاز باقی نہیں رہا ۔ تھوڑی دیر بعد گرد پھٹی تو معلوم ہوا کہ بنو تمیم نے ترکوں کے مورچوں پر قبضہ کر لیا ہے ۔ مسلمانوں اور ترکوں کے درمیان ایک نہر حائل تھی جس کو عبور کرنے کی جرأت بنو تمیم کے علاوہ اور کسی نے نہیں کی ۔ پس جب بنو تمیم نے ترکوں کو اُن کے مورچوں سے ہٹا دیا اور نہر کو بھی عبور کر گئے تو اُن کی دیکھا دیکھی تمام مسلمان مجاہدین نے بھی نہر عبور کر کے ترکوں پر نہایت تیزی سے حملہ کیا اور خونریزی کا بازار گرم کر دیا ۔ ترک خاقان اور اُس کا لڑکا زخمی ہوا اور ہزاروں ترک قتل ہوئے ۔ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب کی اور قتیبہ بن مسلم نے فتح کی بشارت حجاج بن یوسف کو لکھ بھیجی ۔
نیزک کی بد عہدی
مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی تو شکست خوردہ حکمراں نے صلح کی درخواست کی جو قتیبہ بن مسلم نے قبول کر لی لیکن نیزک نے بد عہدی کی ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: شکست کے بعد صغد کا حکمراں طرخون اپنے دو سواروں کے ساتھ مسلمانوں کے لشکر میں آیا اور صلح کی درخواست پیش کی اور کہا کہ وہ ہر سال زر جزیہ ادا کرتا رہے گا ۔ قتیبہ بن مسلم نے اِسے منظور کیا اور عہدنامہ لکھ کر دے دیا ۔ اِس کے بعد اپنے لشکر کو لیکر واپس ہوا اور ساتھ میں نیزک بھی تھا ۔ نیزک کو قتیبہ بن مسلم کی کثیر فتوحات سے خطرہ پیدا ہوگیا تھا اور راستے میں اُس نے اجازت لے لی اور طخارستان کی طرف روانہ ہو گیا اور نہایت تیزی سے مسافت طے کرنے لگا ۔ اِس کے بعد قتیبہ بن مسلم نے مغیرہ بن عبداﷲ کو بھیجا کہ وہ نیزک کو گرفتار کر کے لائے لیکن وہ ناکام رہا اور طخارستان پہنچ کر نیزک دوسرے بادشاہوں سے اِس سلسلے میں ملاقات کرنے لگا کہ وہ سب ملکر قتیبہ بن مسلم کا مقابلہ کریں اور اُسے شکست دیں ۔ اُس کے ساتھ اصبہند بادشاہ بلخ و باذان بادشاہ مرزور و بادشاہ طالقان فاریاب و جورجان وغیرہ ہو گئے اور انہوں نے آپس میں قتیبہ بن مسلم سے جنگ کرنے کا عہد و پیمان کر لیا ۔انہوں نے کابل کے بادشاہ کو بھی خط و کتابت کر کے اور مال و اسباب بھیج کر اپنا ہمدرد بنا لیا اور بہ وقت ضرورت و اضطرار مدد دینے کا اقرار کر لیا ۔
طالقان کی فتح
تمام بادشاہوں نے آپس میں ایکدوسرے کی مدد کرنے کا وعدہ کر لیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : نیزک طخارستان کے بادشاہ جیفونہ کے پاس قیام پذیر ہوا اور حکمت سے اُس کو گرفتار کر کے قتیبہ بن مسلم کے مقرر کردہ گورنر کو شہر سے باہر نکال دیا ۔ قتیبہ بن مسلم کو یہ خبر موسم ِ سرما سے پہلے ملی جبکہ مسلمان مجاہدین اپنے اپنے شہروں میں واپس چلے گئے تھے ۔ مگر پھر بھی پُرجوش دل کو یہ خبر سننے کے بعد چین نہیں آیا اور اُس نے اُسی وقت اپنے بھائی عبدالرحمن بن مسلم کو بارہ ہزار کا لشکر دے کر بروقان کی طرف روانہ کیا اور کسی سے اپنا خیال ظاہر کئے بغیر وہیں قیام پذیر رہنے کا حکم دیا ۔ یہ بھی کہا کہ موسم سرما کے ختم ہونے کا انتظار کرنا اور جب سردیاں ختم ہوں تو فوراً طخارستان پر حملہ کر دینا اور میں تمہارے قریب ہی رہوں گا ۔ جیسے ہی موسم سرما ختم ہوا تو قتیبہ بن مسلم نے فوجیں نیشاپور وغیرہ روانہ کیں جنہوں نے ‘‘طالقان’’ پر پہنچ کر حملہ کر دیا اور فتح کر لیا ۔ فتح حاصل کرنے کے بعد بلوائیوں اور رہزنوں کو گرفتار کر کے چار فرسنگ تک ایک سلسلہ میں سولی دے دی اور اپنے بھائی محمد بن مسلم کو گورنر مقرر کر کے فاریاب کا رخ کیا ۔ فاریاب کا بادشاہ یہ خبر پاکر حاضر خدمت ہوا اور اطاعت قبول کر لی ۔ قتیبہ بن مسلم اُس کو بحال رکھ کر جرجان کی طرف بڑھا ۔ اہل جرجان نے اطاعت قبول کر لی اور وہاں کا بادشاہ پہاڑوں میں بھاگ گیا ۔ قتیبہ بن مسلم نے عامر بن مالک حماثی کو نائب بنا کر بلخ پر حملہ کیا ۔ اہل بلخ نے بھی اطاعت قبول کر لی ۔
نیزک کا قتل
نیزک نے جب دیکھا کہ قتیبہ بن مسلم دونوں طرف سے حملہ آور ہو رہا ہے تو وہ بھاگ نکلا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : قتیبہ بن مسلم کا بھائی عبدالرحمن بن مسلم نیزک کے تعاقب میں چلا جارہا تھا ۔ نیزک پہاڑوں سے اُتر کر بغلان میں آگیا اور اپنے سپاہیوں کو ایک تنگ و تاریک گھاٹی میں چھپا دیا ۔ جس کا راستہ مسلمانوں کو معلوم نہیں تھا اور باقی اپنا مال و اسباب گھاٹی کے دوسری طرف جو قلعہ تھا اُس میں رکھ دیا ۔ ایک مدت تک قتیبہ بن مسلم اِس گھاٹی میں ٹھہرا ہوا لڑتا رہا اور کوئی رہبر نہیں ملتا تھا جو صحیح راستہ بتا دے ۔ یہاں تک کہ ایک عجمی مرد نے راستہ بتا دیا جہاں سے مسلمانوں کا لشکر سرنگ کھود کر قلعہ میں گھس گیا ۔ اکثر قلعہ والے مارے گئے جو باقی رہے وہ بھاگ گئے ۔ اِس کے بعد مسلمانوں نے سنجان پر چڑھائی کی اور اپنا مال و اسباب کابل کے بادشاہ کے پاس بھیج دیا ۔ قتیبہ بن مسلم نے یہ خبر پاکر نیزک کا تعاقب کیا ۔ نیزک نہایت تیزی سے وادئ فرغانہ طے کر کے ‘‘گرز’’ میں قلعہ بندی کر لی ۔ ‘‘گرز’’ کا ایک ہی راستہ تھا اور وہ بے حد دشوار گذار تھا جس کو گھوڑے اور خچر بہت مشکل سے طے کر سکتے تھے ۔ قتیبہ دو مہینے تک محاصرہ کئے رہا ۔ یہاں تک کہ نیزک کے پاس جو کچھ کھانے پینے کا سامان تھا وہ ختم ہو گیا اور اُس کے سپاہی چیچک میں مبتلا ہو گئے ۔ آخر کار بڑی مشکل سے نیزک قتیبہ بن مسلم کے قبضے میں آیا اور اُس نے اُسے قتل کر کے اُس کا سر حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دیا جس نے اُسے ولید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا ۔ قتیبہ بن مسلم نے طخارستان کے بادشاہ جیفونہ جس کو نیزک نے قید میں رکھا تھا آزاد کر دیا ۔
آل مہلب پر حجاج بن یوسف کا ظلم
حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو خراسان کی گورنری سے معزول کر کے اپنے پاس بلایا اور گرفتار کر کے قید کر لیا ۔ حالانکہ لوگوں نے یزید بن مہلب کو مشورہ دیا تھا کہ حجاج بن یوسف سے بغاوت کر دو لیکن یزید بن مہلب نے کہا تھا کہ حجاج بن یوسف کے ہمارے خاندان پر بہت احسانات ہیں اور میرے والد نے ہمیں وفاداری سکھائی ہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : چونکہ فارس کے تقریباً تمام علاقہ پر کردوں نے لوٹ مار کر رکھی تھی ۔ اِس لئے اُن کی سرکوبی کے لئے ایک مہم بھیجنے کے لئے حجاج بن یوسف کوفہ سے رستقباذ آیا ۔ یزید بن مہلب اور اُس کے بھائیوں مفضل اور عبدالملک کو بھی قید سے نکال کر اپنے ساتھ لے آیا ۔ اپنے لشکر میں ہی انہیں رکھا اور اُن کے چاروں طرف خندق کھدوادی تاکہ یہ لوگ بھاگ نہ پائیں اور اپنے حجرے کے قریب ہی ایک چھوٹے سے خیمے میں انہیں قید کر دیا اور شامیوں کا پہرہ اُن پر بٹھا دیا ۔ حجاج بن یوسف نے اُن بھائیوں پر ساٹھ لاکھ درہم جرمانہ کر دیا
تھا اور طرح طرح کی تکلیفیں انہیں دیتا تھا مگر یزید بن مہلب نہایت ثابت قدمی سے ان تمام مصائب کو برداشت کرتا تھا اور اس کی ثابت قدمی سے حجاج بن یوسف اور زیادہ چڑ جاتا تھا ۔ یزید بن مہلب کی پینڈلی پر ایک جنگ میں تیر لگا تھا ۔ کسی نے حجاج بن یوسف سے کہا: ‘‘ یزید بن مہلب کی پنڈلی پر مار جائے تو وہ چیخے گا ۔’’ حجاج بن یوسف نے ایسا ہی کیا تو یزید بن مہلب کی چیخیں نکلنے لگیں ۔ چیخیں سن کر حجاج بن یوسف کی بیوی ہند بنت مہلب جو یزید بن مہلب کی بہن تھی وہ آگئی اور بھائی کی طرف سے بولنے لگی تو حجاج بن یوسف نے اُسے طلاق دے دی ۔
آل مہلب کا فرار
یزید بن مہلب نے جب سمجھ لیا کہ حجاج بن یوسف اُس کے ساتھ بالکل مروت نہیں کرے گا تو اُس نے اپنے بھائیوں کے ساتھ فرار کا منصوبہ بنایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف نے آل مہلب پر جرمانہ عائد کر دیا اور وہ تھوڑا تھوڑا کر کے ادا کرنے لگے ۔ مگر اِس کے ساتھ ہی فرار کی فکر سے بھی غافل نہیں رہے ۔ انہوں نے مروان بن مہلب کو جو بصرہ میں تھا لکھا کہ ہمارے لئے گھوڑے سدھائے جائیں اور لوگوں پر ظاہر کیا جائے کہ فروخت کرنے کے لئے تیار کئے جارہے ہیں مگر ان کی اتنی قیمت مانگی جائے کہ کوئی نہ لے سکے ۔ہم اگر کسی طرح اس قید سے فرار ہوسکے تو پھر یہی گھوڑے ہمارے کام آئیں گے ۔ مروان بن مہلب نے اِس تجویز پر عمل کیا ۔حبیب بن مہلب بھی بصرہ میں تھا اور اُس پر بھی اسی طرح سختیاں کی جا رہی تھیں۔ایک دن یزید بن مہلب نے اپنے محافظین کے لئے کھانا پکوایا ۔انہیں خوب کھلایا اور شراب پلائی وہ سب کھانے پینے میں مشغول تھے ۔ ادھر یزید نے باورچی کے کپڑے پہنے داڑھی پر ایک سفید داڑھی لگا لی اور قید سے نکلا ۔ کسی سپاہی نے اُسے دیکھ کر کہا: ‘‘ یہ تو یزید کی چال معلوم ہوتی ہے ۔’’ مگر چونکہ رات تھی اور جب آکر سفید داڑھی کو دیکھا تو اُسے چھوڑ کر واپس چلا گیا اور بولا: ‘‘ یہ تو کوئی پیر فرتوت ہے ۔’’ مفضل بن مہلب بھی نکل آیا اور اُسے بھی کوئی پہچان نہیں سکا ۔ یہ دونوں اُن کشتیوں کے پاس پہنچے جو بطائح سے پہلے اُن کے لئے تیار تھیں۔اب اُن کے اور بصرہ کے درمیان اٹھارہ فرسخ کا فاصلہ تھا ۔ یہ دونوں تو کشتیوں تک پہنچ گئے لیکن عبدالملک بن مہلب نہیں پہنچ سکا ۔ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ ہمیں تو چل دینا چاہیئے ،عبدالملک آہی جائے گا ۔’’ مگر چونکہ مفضل اور عبدالملک ایک ہی ماں کے بیٹے تھے ۔اِس لئے مفضل نے کہا:‘‘ میں تو عبدالملک کے بغیر آگے نہیں جاؤں گا چاہے واپس قید میں ہی کیوں نہ جانا پڑے ۔’’ اتنے میں عبدالملک بن مہلب بھی آگیا اور یہ سب کشتیوں میں سوار ہو کر رات بھر چلتے رہے اور اُن کا رخ بصرہ کی طرف تھا۔
حجاج بن یوسف کی پریشانی اور خوف
حجاج بن یوسف کو ایک راہب نے بتایا تھا کہ تیری جگہ جو شخص گورنر بنے گا اُس کا نام ‘‘یزید’’ ہو گا ۔ اِس کے بعد سے حجاج بن یوسف کو یزید بن مہلب سے خوف محسوس ہونے لگا تھا اور اِسی لئے اُس نے یزید بن مہلب کو خراسان کی گورنری سے معزول کر کے قید میں ڈال دیا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : صبح کے وقت پہرے داروں کو اُن کے فرار کا علم ہوا تو اس کی اطلاع حجاج بن یوسف کو دی گئی ۔ وہ یہ خبر سن کر بہت پریشان ہو گیا اور اُسے خیال پیدا ہوا کہ یہ لوگ ضرور خراسان کی طرف گئے ہوں گے ۔اِس لئے اُس نے فوراً قتیبہ بن مسلم کو قاصد کے ذریعے اطلاع دے دی اور حکم دیا کہ تم اس کے مقابلے کے لئے تیار رہو ۔ اِسی طرح حجاج بن یوسف نے دوسرے اضلاع اور قلعوں کے گورنروں اور قلعہ داروں کو اُن کی نقل و حرکت کی دیکھ بھال اور روک تھام کے لئے احکام ارسال کئے ۔ اِس کے علاوہ اُس نے ولید بن عبدالملک کو بھی اُن کے فرار کی اطلاع کردی اور لکھا :‘‘ مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ ضرور خراسان کی طرف گئے ہوں گے ۔’’اب حجاج بن یوسف کا یہ حال تھا کہ برابر اُدھیڑبن میں تھا کہ دیکھیں یزید بن مہلب کیا کاروائی کرتا ہے ؟اور اکثر کہتا تھا :‘‘ جو عبدالرحمن بن اشعث نے کیا وہی یزید بن مہلب بھی کرے گا ۔ ’’
آل مہلب سلیمان بن عبدالملک کی امان میں
یزید بن مہلب جانتا تھا کہ حجاج بن یوسف کی پہنچ پوری ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ میں ہے اور وہ کہیں بھی اُسے سکون سے رہنے نہیں دے گا ۔ اِس لئے اُس نے غور و فکر کر کے سلیمان بن عبدالملک کی امان لینے کا فیصلہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یزید بن مہلب بطائح سے موقوع کے قریب پہنچا تو یہاں اُس کے لئے وہ گھوڑے تیار تھے جو اُس کے بھائی مروان بن مہلب نے تیار کئے تھے ۔ یہ سب کے سب بھائی گھوڑوں پر سوار ہو کر روانہ ہوئے ۔ عبدالجبار بن یزید ربعتہ ‘‘راہ نما’’ کے طور پر اُن کے ساتھ تھا اور وہ انہیں ‘‘سماوہ’’ کی طرف لے چلا ۔دو روز کے بعد ایک شخص حجاج بن یوسف کے پاس آیا اور بتایا کہ اُس نے یزید بن مہلب اور اُس کے سب بھائیوں کو ملک شام کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے ۔اُس نے یہ بھی بتایا کہ اُن کے گھوڑے تھکے تھکے لگتے تھے ۔ حجاج بن یوسف نے اِس واقعہ کی اطلاع فوراً ولید بن عبدالملک کے پاس بھیجی ۔ اُدھر یزید بن مہلب اپنے بھائیوں کے ساتھ ملک فلسطین پہنچا ( اُس وقت ملک فلسطین الگ ملک نہیں تھا بلکہ ملک شام کا ہی ایک صوبہ تھا بعد میں اسے یہودیوں اور عیسائیوں نے ملک شام سے الگ کر کے ایک الگ ملک بنا دیا) اور وہیب بن عبدالرحمن ازدی کے یہاں مقیم ہوا ۔ یہ شخص سلیمان بن عبدالملک کے معزز دوستوں میں سے تھا ۔اُس نے یزید بن مہلب اور اُس کے بھائیوں اور اہل و عیال کو سفیان بن سلیمان ازدی کے یہاں ٹھہرا دیا اور اُس کا کچھ سامان بھی اُس کے پاس رکھوا دیا ۔ پھر وہیب بن عبدالرحمن نے سلیمان بن عبدالملک سے جا کر کہا: ‘‘ یزید بن مہلب اور اُس کے بھائی حجاج بن یوسف کے پاس سے فرار ہو کر آپ کی پناہ لینے آئے ہیں اور میرے گھر میں مقیم ہیں ۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اُن سب کو میرے پاس لے آؤ! میں ان سب کو امان دیتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک میں زندہ رہوں گا کوئی شخص انہیں ہاتھ نہیں لگا سکتا ۔’’ وہیب بن عبدالرحمن اُن سب کو سلیمان بن عبدالملک کے پاس لے آیا اور یہ سب ایک شخص کے پاس مقیم ہو گئے جہاں کوئی خطرہ نہیں تھا ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں