ا43 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 43
ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان، حضرت سعید بن مسیب کا انکار،ا85 ھجری کا اختتام، 85 ھجری میں انتقال کر نے والے چند اعیان، 86 ھجری :قتیبہ بن مسلم کا ترکوں پر حملہ، میں عبداﷲ بن زبیر سے بہتر ہوں، عبدالملک بن مروان کی نصیحت، 86 ھجری : ولید بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں، ولید بن عبدالملک کا پہلا خطبہ،
ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان
عبدالعزیز بن مروان کے انتقال کے بعد عبدالملک بن مروان نے اپنے دونوں بیٹوں ولید اور سلیمان کی ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان کر دیا ۔ عبدالملک بن مروان کی موت کے بعد ولید بن عبدالملک حکمراں بنے گا اور اُس کے بعد سلیمان بن عبدالملک حکمراں بنے گا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : محمد بن یزید نے آگے بیان کیا ۔دوسرے دن امیر المومنین نے مجھے بلایا اور کہا: ‘‘ عبدالعزیز بن مروان تو رحلت کر گئے مگر اب خلق اﷲ کے انتظام اور نگرانی کے لئے ایسے شخص کے بغیر تو کوئی چارہ نہیں جو میرے بعد خدمت خلق کے اہم اور نازک فرض کو سنبھال سکے ۔ تمہاری رائے میں کون شخص اِس منصب کا اہل ہے ؟’’ میں نے عرض کیا: ‘‘ سب سے افضل اِس منصب کے اہل ولید بن عبد الملک ہیں ۔’’ عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ تمہاری رائے صحیح ہے ۔اب بتاؤ کہ اُس کے بعد اِس خدمت جلیلہ کا کون اہل ہے؟’’ میں نے کہا: ‘‘ سلیمان بن عبدالملک کے علاوہ کون ہو سکتا ہے جو عرب کے سب سے بڑے بہادر شخص ہیں ۔’’ امیر المومنین نے کہا: ‘‘ بے شک صحیح کہتے ہو ۔ اگر ہم اِس بات کا تصفیہ ولید بن عبدالملک کے سپرد کر جاتے تو وہ اپنے ہی بیٹوں کو ‘‘ولی عہد’’ مقرر کرتا ۔ اچھا! اب فرمان لکھ دو کہ میرے بعد ولید بن عبد الملک حکمراں ہو گا اور اُس کے بعد سُلیمان بن عبدالملک حکمراں ہوگا ۔ ’’ میں نے اِس حکم کے مطابق فرمان لکھ دیا ۔ چونکہ ولید بن عبدالملک کے بعد میں نے سلیمان بن عبد الملک کی سفارش کی تھی ۔اِسی لئے ولید بن عبدالملک مجھ سے ناراض تھا اور اِسی بنا پر اُسنے مجھے کوئی اہم خدمت نہیں سونپی ۔
حضرت سعید بن مسیب کا انکار
عبدالملک بن مروان نے جب ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت لینے کا اعلان تمام ‘‘سلطنت اُمیہ’’ میں کرادیا ۔ مدینۂ منورہ میں حضرت سعید بن مسیب نے ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب عبدالملک بن مروان نے مدینۂ منورہ کے گورنر ہشام بن اسماعیل مخزومی کو لکھا : ‘‘ تم ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ولی عہدی کے لئے لوگوں سے ‘‘حلف اطاعت’’ لے لو ۔’’ تمام لوگوں نے ان دونوں کے لئے وفاداری کا حلف اُٹھایا مگر حضرت سعید بن مسیب نے انکار کر دیا اور کہا: ‘‘ جب تک عبدالملک بن مروان زندہ ہے تب تک میں کسی اور شخص کے لئے ‘‘حلف وفاداری’’ نہیں اُٹھا سکتا ۔’’ ہشام بن اسماعیل نے انہیں خوب زد وکوب کیا اور ساٹھ کوڑے لگوائے اور انہیں ٹاٹ کے کپڑے پہنا کر مدینۂ منورہ میں اُس پہاڑی درے کی طرف جہاں سب کو سولی پر چڑھایا جاتا تھا لے چلے تو حضرت سعید بن مسیب کو یقین ہو گیا کہ یہ مجھے قتل کرنے لے جارہے ہیں ۔ مگر جب اُس مقام پر پہنچ گئے تو انہیں واپس پلٹا لایا گیا ۔اِس پر حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا: ‘‘ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ مجھے سولی چڑھانے نہیں لے جارہے ہیں تو میں ٹاٹ کے کپڑے ہرگز نہیں پہنتا ۔ مگر میں نے تو یہی خیال کیا تھا کہ چونکہ مجھے سولی پر چڑھانے کے لئے لے جارہے ہیں اِس لئے یہ کپڑے پہنا رہے ہیں۔ ’’عبدالملک بن مروان کو جب اِس واقعہ کی خبر ہوئی تو اُس نے کہا: ‘‘ اﷲ ہشام بن اسماعیل کا برا کرے! جب سعید بن مسیب نے ‘‘حلف وفاداری ’’اُٹھانے سے انکار کیا تھا تبھی اُسے قتل کر دیتا یا معاف کر دیتا۔’’
ا85 ھجری کا اختتام
ا85 ھجری کا اختتام ہوا تو پوری ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ میں ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’کے لئے ‘‘حلف وفاداری’’ اُٹھانے کا سلسلہ جاری تھا ۔ اِس سال ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر حجاج بن یوسف تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا جسے عبدالعزیز بن مروان کے انتقال کے بعد گورنر بنا یا گیا۔ مدینۂ منورہ کا گورنر ہشام بن اسماعیل تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔
ا85 ھجری میں انتقال کر نے والے چند اعیان
اِ س سال عبدالعزیز بن مروان کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : عبدالعزیز بن مروان بن حکم بن ابی عاص بن اُمیہ بن عبد شمس مدینۂ منورہ میں پیدا ہوا تھا ۔ پھر اپنے والد مروان بن حکم کے ساتھ ملک شام آ گیا تھا ۔ عبدالملک بن مروان کے بعد یہی ‘‘ولی عہد’’ تھا ۔ اس کے والد مروان بن حکم نے اِسے ۶۵ ھجری میں ملک مصر کا گورنر بنایا تھا اور یہ اپنے انتقال تک ملک مصر کا گورنر رہا ۔ دمشق میں اِس کا گھر ‘‘دارلصوفیہ’’ کے نام سے مشہور تھا جو بعد میں ‘‘خانقاہ سماطیہ’’ کے نام سے معروف ہوا ۔ بعد میں یہ خانقاہ اُس کے بیٹے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو ملی جو بالآخر ‘‘صوفیا کی خانقاہ’’ میں تبدیل ہوگئی ۔ عبدالعزیز بن مروان نے اپنے باپ اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور عقبہ بن عامر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے حدیث روایت کی ہے جو مسند احمد بن حنبل اور سنن ابو داؤد میں موجود ہے ۔ اِس سال خالد بن یزید بن معاویہ کا انتقال ہوا۔ یہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کا پوتا ہے ۔ یہ علوم و فنون اور کیمیا میں بہت ماہر تھا اور ساتھ ہی ایک بہت اچھا شاعر بھی تھا ۔ عبدا لملک بن مروان کے دربا میں اِسے ایک خاص مقام حاصل تھا ۔
ا86 ھجری :قتیبہ بن مسلم کا ترکوں پر حملہ
اِس سال 86 ھجری میں خراسان کے گورنر قُتیبہ بن مسلم نے ترکوں پر حملہ کیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 86 ھجری میں حجاج بن یوسف کے خراسان پر مقرر کئے گورنر قُتیبہ بن مسلم نے ترکوں پر حملہ کیا اور اُن کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر نے کے ساتھ ساتھ دشمن کے بہت سے آدمیوں کو قیدی بھی بنایا ۔ اِس کے بعد وہ رُک گیا اور لشکر آگے بڑھ گیا ۔ جب حجاج بن یوسف کو اِس کی اطلاع ملی تو اُس نے خط لکھا اور اُسے ملامت کی :‘‘ جب تم دشمن کے علاقے پر یلغار کا ارادہ رکھتے ہو تو تم کو خود اُس وقت اپنے لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ یعنی اگلے دستہ میں رہنا چاہیئے اور جب تم واپسی کا ارادہ کرو تو تمہیں اُس وقت لشکر کے ‘‘ساقۃ الجیش’’ یعنی فوج کے پچھلے دستے میں ہونا چاہیئے تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ کر کے فوج کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہی طریقہ عمدہ ہے اور پہلے سے چلا آرہا ہے ۔ ’’ قیدیوں میں ایک برمکی (خالد بن برمک)کی بیوی بھی تھی ۔ اُس کو قُتیبہ بن مسلم نے اپنے بھائی عبداﷲ بن مسلم کو تحفہ میں دے دیا ۔ جس نے اُس نے مباشرت کی تو وہ حاملہ ہو گئی ۔ پھر قتیبہ بن مسلم نے اُس عورت پر احسان کیا اور اُس کے اُس کے شوہر کے حوالے کر دیا جبکہ وہ عبداﷲ بن مسلم کے بچے سے حاملہ ہو چکی تھی اور بچہ اُنہی کے پاس رہا ۔ جب وہ لوگ مسلمان ہوئے تو وہ اس کو اپنے ساتھ لے گئے اور یہ ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کے دور میں ہواجس کا ذکر انشاء اﷲ آگے آئے گا۔ جب قتیبہ بن مسلم واپس لوٹا تو بلغاریہ کے دیہاتیوں نے بہت سے تحفوں کے ساتھ اُس کا خیر مقدم کیا ۔
یزید بن مہلب قید میں
اِ س سال حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو قید کر لیا ۔ اُسے خدشہ تھا کہ یزید بن مہلب اُس کی گورنری چھین لے گا اور خود گورنر بن جائے گا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال 86 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک مے بلاد روم میں جنگ کی اور بہت سے رومیوں کو قتل کیا اور بہت سے رومیوں کو قیدی بنایا اور کافی مال غنیمت بھی حاصل کیا ۔ اِس حملہ میں ارض روم کے قلعہ بولق اور قلعہ اخرم پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا اور انہوں نے وہاں فوجی چوکی بنا لی ۔ اِس سال روم کے بادشاہ ‘‘اخرم لوری’’ کا انتقال ہوا۔ اِس سال حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو قید کر لیا ۔ یزید بن مہلب ایک اطاعت گزار شخص تھا اِس لئے اُس نے حجاج بن یوسف سے بغاوت نہیں کی بلکہ قید میں ہی رہنے کا پسند کیا ۔
ا86 ھجری : عبدالملک بن مروان کا انتقال
اِس سال میں عبدالملک بن مروان کا انتقال ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 86 ھجری میں عبدالملک بن مروان کا وسط شوال میں انتقال ہوگیا ۔ اُس نے لگ بھگ اکیس (21) سال تک حکومت کی ۔ اِن اکیس سال میں سے نو (9) سال تک عبدالملک بن مروان حضرت عبداﷲ بن زبیر سے لڑتا رہا اور اس دوران میں صرف ان کی ملک شام اور ملک مصرمیں حکومت تسلیم کی جاتی تھی ۔ 73 ھجری میں جب حجاج بن یوسف نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو مکۂ مکرمہ میں شہید کیا تو پھر ملک حجاز اور ملک عراق و ایران میں بھی عبدالملک بن مروان کی حکومت تسلیم کی جانے لگی ۔ اِس طرح پوری مملکت اسلامیہ پر عبدالملک بن مروان نے تیرہ سال اور کچھ مہینے حکومت کی ۔ اس کی عُمر کے بارے میں اختلاف ہے ۔ ایک روایت کے مطابق اس کی عُمر ساٹھ سال ہوئی اور امام واقدی کے مطابق اٹھاون سال کی عُمر تھی ۔ 26 ھجری میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں عبدالملک بن مروان مدینۂ منورہ میں پیدا ہوا ۔ اور جنگ دار میں جب اُس کے والد کے ساتھ شریک ہوا تو اُس کی عُمر دس سال تھی ۔ ایک اور بیان کے مطابق اس کی عُمر تریسٹھ سال تھی ۔
میں عبداﷲ بن زبیر سے بہتر ہوں
عبدالملک بن مروان اپنے آپ کو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے بہتر سمجھتا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ایک مرتبہ سلمہ بن زید بن وہب ملک شام میں عبدالملک بن مروان کے پاس آیا تو اُس نے پوچھا: ‘‘ کون سا زمانہ بہترین اور کون سے بادشاہ سب سے بہتر ہوئے ؟’’ سلمہ بن یزید نے کہا: ‘‘ بادشاہوں کا تو سب کا یہ حال ہے کہ یا وہ مذمت کرنے والے ہیں یا تعریف کرنے والے ۔ رہا زمانہ تو اس کی کیفیت یہ ہے کہ بعض اقوام کو عروج پر پہنچاتا ہے اور بعض اقوام کو قعر مذلت میں دھکیل دیتا ہے ۔ ہر شخص اہنے زمانے کی برائی کرتا ہے کیونکہ زمانہ انہیں بچے سے بوڑھا کردیتا ہے اور ہر نئی چیز کو پرانی کر دیتا ہے ۔ صرف ایک اُمید کے سوا زمانہ کی ہر چیز فانی ہے۔’’پھر ایک شعر کہا جس میں شاعر نے پوچھا کہ ‘‘تم کون ہو؟’’ ۔ یہ کہہ کر عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے مثل ذی عزت و منزلت خاندان کو کوئی شخص ‘‘تم کون ہو؟’’ کہہ کر خطاب کرے گا ۔ اِس وقت سوائے میرے اور کوئی شخص حکومت حاصل کرنے کی طاقت اور اہلیت نہیں رکھتا ہے ۔ اِس میں شک نہیں کہ (حضرت)عبداﷲ بن زبیر (رضی اﷲ عنہ) بڑا عابد و زاہد اور صوم و صلوٰۃ کا بہت سختی سے پابند تھا ۔ مگر اپنے بخل کی وجہ وہ ایک کامیاب حکمراں نہیں ہو سکا ۔’’
عبدالملک بن مروان کی نصیحت
اپنے آخری وقت میں عبدالملک بن مروان نے اپنے بیٹوں کو کچھ نصیحت کی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اپنے بیٹوں کی ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت لینے کے کچھ ہی دنوں بعد عبدالملک بن مروان کا انتقال ہو گیا۔ اپنے آخری وقت میں اُس نے اپنے بیٹوں کو یہ نصیحت کی :‘‘ میں تم کو اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ بہترین لباس ہے اور نہایت مضبوط پناہ گاہ ہے ۔ تمہیں چاہیئے کہ تمہارے بڑے ، چھوٹوں پر رحم و الطاف سے پیش آئیں ۔ مسلمانوں کی رائے سے ہمیشہ موافقت کرنا کیونکہ یہ وہی دانت ہیں جس سے تم توڑتے ہو اور یہ وہی جبڑے ہیں جس سے تم چباتے ہو۔۔ حجاج بن یوسف کی عزت کرنا کیونکہ اس نے تمہارے لئے منبروں اور مقبروں کو روندا اور شہروں کو پامال کیا ہے اور تمہارے دشمنوں کو ذلیل و خوار کیا ہے ۔ تم لوگ ‘‘بن اُم بررہ’’ ہو جاؤ تاکہ تم کو بچھو ڈنک نہ مار سکے اور لڑائی میں ‘‘احرار’’ ہونا کیونکہ لڑائی موت کو قریب نہیں کرتی اور نیکی کے پہاڑ ہو جانا کیونکہ نیکی کا اجر ،نیکی کا خزانہ اورنیکی کا ذکر باقی رہ جاتا ہے ۔ اپنے احسانات کو عقلمندوں پر پھیلانا کیونکہ وہ اس کے مستحق ہیں اور اس کے شکر گذار ہوتے ہیں جو ان کی طرف محسن سے پہنچتا ہے ۔ مجرموں سے جرم نہ کرنے کا عہد و پیمان لینا پس وہ اگر اِس پر استقامت کریں تو کچھ تعرض نہ کرنا اور اگر پھر جرم کریں تو انتقام لینا ۔ ’’
باب نمبر 5
ولید بن عبدالملک کا دورِ حکومت
ا86 ھجری : ولید بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں
عبدالملک بن مروان کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا ولید بن عبدالملک ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ کا حکمراں بنا اور اُس کا ‘‘ولی عہد’’ اُس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک بنا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ۸۶ ھجری میں ولید بن عبدالملک مسلمانوں کا بادشاہ بنا ۔ عبدالملک بن مروان کو دمشق شہر کے ‘‘باب جابیہ’’ کے باہر دفن کیا گیا ۔ ولید بن عبدالملک اپنے باپ کو دفن کر کے مسجد میں آیا اور منبر پر چڑھا ۔ تمام مسلمان اُس کے پاس جمع ہو گئے اور اُس نے کہا: انا ﷲ وانا الیہ راجعون ۔امیر المومنین کی موت سے جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے اﷲ تعالیٰ اس میں ہماری مدد کرنے والا ہے اور تمام تعریفیں اُسی اﷲ کے لئے ہے جس نے ہمیں حکومت دے کو ہم پر اپنا سب سے بڑا احسان و انعام کیا ۔ اب آپ لوگ کھڑے ہوں اور بیعت کریں ۔ سب سے پہلے عبداﷲ بن ہمام سلولی نے بیعت کی اور اُس کے بعد باقی سب لوگوں نے کی۔
ولید بن عبدالملک کا پہلا خطبہ
جب مسلمانوں نے ولید بن عبدالملک کی بیعت کر کے اُسے اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا تو وہ منبر پر کھڑا ہوا اور بادشاہ بننے کے بعد اپنا پہلا خطاب کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ولید بن عبدالملک نے مناسب الفاظ میں حمد و ثناء کرنے کے بعد کہا: ‘‘ آپ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ جس شئے کو اﷲ نے آگے رکھا ہے اُسے کوئی پیچھے نہیں کر سکتا ہے اور جسے پیچھے کیا ہے کوئی آگے نہیں بڑھا سکتا ۔ ہر متنفس کے لئے اﷲ رب العالمین نے پہلے سے ہی موت کا فیصلہ کر دیا ہے اور اِس سے انبیاء علیہم السلام اور حاملین عرش بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔ہماری قوم کے سردار اور دوسرے عَالَم میں نیک بندوں کی منازل کی طرف سدھار گئے ہیں ۔ اُن کا طرز عمل اور ہر فعل اﷲ کے لئے ہوتا ہے ۔ جو شخص مخالفت اور بغاوت کرتا تو اُس سے سختی کرتے اور اچھے اور نیک لوگوں کے ساتھ ہمیشہ نرمی اور اخلاق سے پیش آتے ۔ ہمارے مقدس مذہب اسلام کے تمام احکام پر انہوں نے عمل کیا ، حج بیت اﷲ سے مشرف ہوئے ۔ خلافت اسلامیہ کی سرحدوں کی حفاظت کی ۔ اﷲ کے دشمنوں پر فوج کشی کی ۔ وہ نہ کمزور تھے نہ ضرورت سے زیادہ تھے ۔ آپ لوگوں کو چاہیئے کہ آپ لوگ وفادار رہیں اور جماعت کے نظام میں تسبیح کے دانوں کی طرح منسلک رہیں ۔ یہ خوب اچھی طرح سمجھ لیں تنہا شخص کے ساتھ شیطان لگا رہتا ہے ۔ جو شخص ہم پر اِس بات کو ظاہر کرے گا جو اُس کے دل میں ہے ہم اُس سے ویسا ہی سلوک کریں گے اور جو مخالفت کے جذبات دل ہی دل میں چور کی طرح چھپائے رکھے گا وہ اِس مرض میں ہلاک ہو جائے گا ۔ ’’ اِس کے بعد ولیدہ بن عبدالملک منبر سے اُتر آیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ولید بن عبدالملک نے مسلمانوں کے سامنے خطبہ دیا: ‘‘ اے لوگو! جس کو اﷲ تعالیٰ نے مؤخر کر دیا ہے اُس کا کوئی مقدم نہیں ہے اور جس کو اﷲ نے مقدم کر دیا ہے اُس کا کوئی مؤخر نہیں ہے ۔ بے شک موت اﷲ کے حکم اور اُس کے سابق علم میں تھی اور اس کو اُس نے انبیاء اور حاملین عرش کے لئے بھی لکھ دیا ہے ۔ عبدالملک بن مروان برابر کے مرتبہ پر پہنچ گیا اور اُس نے اُمت کا ولی ( حکمراں) ایسے شخص کو بنایا جس پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے یہ حق ہے کہ وہ مجروں پر سختی اور اہل حق و فضل پر نرمی کرے ۔ جو منازل ِ اسلام اﷲ تعالیٰ نے قائم کر دیئے ہیں اُن کو قائم رکھے اور حج خانۂ کعبہ اور سرحدوں پر جہاد اور اﷲ تعالیٰ کے دشمنوں پر حملے کرتے رہنے سے ان کو ظاہر کرے ۔ پس وہ نہ عاجز ہے اور نہ مفرط ہے ۔ اے لوگو! تم پر حکمراں کی اطاعت اور جماعت مسلمین سے انفاق کرنا فرض ہے کیونکہ منفرد کے ساتھ شیطان ہے ۔ اے لوگ! جو ہم سے سرکشی و خودرائی کرے گا تو ہم اُس کا سر توڑ دیں گے اور جو سکوت اختیار کرے گا وہ اپنے مرض میں آپ مر جائے گا۔ ’’
قُتیبہ بن مسلم کی فتوحات
خراسان کے گورنر قتیبہ بن مسلم نے سرحدی علاقوں پر جہاد جاری رکھا اور فتوحات حاصل کیں۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: 86 ھجری میں حجاج بن یوسف کی طرف سے قتیبہ بن مسلم گورنر بن کر خراسان میں پہنچا اور لشکریوں کا جائزہ لیکر اُن کو جہاد کی ترغیب دی اور جھٹ پٹ ایک لشکر مرتب کر کے جہاد کے لئے نکل کھڑا ہوا ۔ ‘‘مرو’’ میں صیغۂ جنگ پر ایسا بن عبداﷲ بن عمرو کو ، محکمۂ مال پر عثمان بن سعدی کو مامور کیا ۔ طالقان پہنچا تو دہقان بلخ ملنے کو آئے اور اُس کے ساتھ ہو لئے ۔ نہر عبور کیا تو بادشاہ صغانیاں تحائف و نذرانے لیکر حاضر ہوا ۔ چونکہ ملوک آخرون و سومان جو کہ اس کے قرب و جوار میں رہتے تھے اور بادشاہ صغانیاں کو تکلیفیں پہنچاتے تھے ۔ اِس وجہ سے اس نے بہ کمال رضا و رغبت اپنے ملک کو قتیبہ بن مسلم کے سپرد کر دیا ۔ اِس کے بعد قُتیبہ بن مسلم نے آخرون اور سومان ( بلاد طغارستان) کا قصد کیا ۔ ملوک آخرون و سومان نے جزیہ دے کر مصالحت کر لی ۔ اس جگہ قتیبہ بن مسلم اپنے بھائی صالح بن مسلم کو لشکر کا سپہ سالار بنا کر ‘‘مور’’ واپس آگیا اور صالح بن مسلم نے قتیبہ بن مسلم کی واپسی کے بعد کشان اور شت ( مضافات ِ فرغانہ) اور اخسکیت ( فرغانہ کا قدیم شہر) بہ زور شمشیر فتح کر لیا ۔ اِس معرکوں میں اُس کے ساتھ نصر بن یسار تھا جو نہاتے بے جگری سے لڑتا تھا ۔
ا86 ھجری کا اختتام
ا86 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال کا سب سے بڑا حادثہ یہ رہا کہ عبد الملک بن مروان کی جگہ اُس کا بیٹا ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا بادشاہ بنا ۔ ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر حجاج بن یوسف تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا ۔ خراسان کا گورنر قُتیبہ بن مسلم تھا ۔ مدینۂ منورہ یعنی ملک حجاز کا گورنر ہشام بن اسماعیل تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔اِس سال ملک شام ، بصرہ اور واسط میں زبردست طاعون پھیلا جو ‘‘عورتوں کا طاعون’’ کہلایا کیونکہ اِس مرض کا پہلا شکار عورتیں ہوتی تھیں ۔
ا86 ھجری میں انتقال کرنے والے
اِس سال عبدالملک بن مروان کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ارطاۃ بن زفر کا انتقال ہوا ۔ یہ بہت بڑا شاعر تھا ۔ اِس سال مطرف بن عبداﷲ شخیر کا انتقال ہوا ۔ یہ کبار اور بزرگ تابعین میں سے ہیں اور حضرت عمران بن حصین رضی اﷲ عنہ کے شاگردوں میں سے ہیں ۔ آپ ‘‘مقبول الدعا’’ تھے اور فرمایا کرتے تھے :‘‘ کسی انسان کو عقل سے بہتر کوئی فضیلت بخشی نہیں گئی ہے اور لوگوں کو اُن کی فضیلتوں کے مطابق عقل دی گئی ہے ۔’’ آپ فرماتے تھے :‘‘ جس انسان کا ظاہر و باطن یکساں ہوتا ہے تو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے یہ واقعی میرا سچا بندہ ہے ۔ آپ فرماتے تھے: ‘‘ جب کسی کی عیادت کے لئے جاؤ اور اُس کو اپنے لئے بھی دعا کرتے پاؤ تو سمجھ لو کہ اُس کی دعا اﷲ کی بارگاہ میں ضرور قبول ہو گی کیونکہ وہ ٹوٹ پھوٹ چکا ہوتا ہے ۔ اِس لئے وہ جب دعا کرے گا تو ‘‘رِقت ِ قلب’’ سے کرے گا جو مقبول ہو گی ۔’’
ا87 ھجری : حضرت عُمر بن عبدالعزیز مدینۂ منورہ کے گورنر
اِس سال 87 ھجری میں ولید بن عبدالملک نے ہشام بن اسماعیل کو معزول کر دیا اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنایا ۔ آپ رحمتہ اﷲ علیہ ولید بن عبدالملک کے چچا ذاد بھائی ہیں اور بہنوئی بھی ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن
عبدالملک بن مدینۂ منورہ کا گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو بنایا ۔ آپ 62 ھجری میں پیدا ہوئے اور جب اِس منصب سے سرفراز کئے گئے تو عُمر پچیس 25 سال تھی ۔ آپ اپنے اہل و عیال کو لیکر مدینۂ منورہ آئے تو بیس یا تیس اُونٹوں پر سامان اور اُن کے اہل و عیال تھے ۔ آپ نے مروان بن حکم کے گھر پر قیام کیا ۔ آپ سے ملاقات کے لئے مدینۂ منورہ کے لوگ آئے اُن میں مدینۂ منورہ کے دس فقیہ حضرات بھی تھے ۔ اِن میں حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ ، عبیداؤ بن عبداﷲ ، ابوبکر بن عبدالرحمن ، ابوبکر بن سلیمان بن خیژمہ ، قسم بن محمد ، عبداﷲ بن عُمر ، عبداﷲ بن عبداﷲ بن عُمر ، عبداﷲ بن عامر بن ربیعہ اور خارجہ بن زید تھے ۔
مدینۂ منورہ میں پہلا خطبہ
حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے مدینۂ منورہ میں مسلمانوں کے سامنے پہلا خطبہ دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عُمر بن عبد العزیز نے حمد و ثناء کے بعد فرمایا:‘‘ میں نے آپ حضرات کو ایسے کام کے لئے بلایا ہے جس پر آپ کو اجر ملے گا اور اِس معاملہ میں مشورہ دے کر آپ حق و صداقت کی اعانت کریں گے ۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی بات آپ سب کے یا آپ لوگوں میں سے جو صاحب اس وقت موجود ہوں اُن کی رائے اور مشورہ کے بغیر نہ کروں ۔ اگر آپ کسی کو دیکھیں کہ وہ ظلم و زیادتی کر رہا ہے یا میرے ماتحت عہدیداروں کے خلاف آپ کوئی شکایت سنیں تو اﷲ کی قسم! آپ مجھے فورا! مطلع کریں ۔’’ اِس کے بعد سب لوگ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو دعائے خیر دیتے ہوئے واپس ہوئے ۔
ناگواری سے حکم کی تعمیل
حضرت عُمر بن عبد العزیز رحمتہ اﷲ علیہ سے پہلے ہشام بن اسماعیل مدینۂ منورہ کا گورنر تھا ۔ ولید بن عبدالملک نے آپ رحمتہ اﷲ علیہ کو حکم دیا کہ ہشام بن اسماعیل کی تشہیر ( بے عزتی) کی جائے ۔ آپ رحمتہ اﷲ علیہ کو یہ کام گوارا نہیں تھا کہ کسی کی بھی بے عزتی کی جائے لیکن امیر المومنین کا حکم تھا اِسی لئے آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے ناگواری سے اِس کی تعمیل کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : چونکہ ولید بن عبدالملک کی رائے ہشام بن اسماعیل کے بارے میں بہت خراب تھی اِس لئے اُس نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو لکھا کہ ہشام کی لوگوں میں تشہیر کی جائے ۔ حضرت سعید بن مسیب کو جب اِس واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے اور اہل و عیال اور دوست و احباب کو بلا کر فرمایا: ‘‘ حالانکہ ہشام بن اسماعیل کی تشہیر کی جارہی ہے مگر خبردار تم میں سے کوئی شخص اُسے نہ چھیڑے اور نہ کوئی بری بات کہے جس سے اُس کو دلی تکلیف ہو ۔ کیونکہ میں اپنے اور اس کے معاملے کو اﷲ اور قرابت کی بنا پر چھوڑے دیتا ہوں ۔ حالانکہ میری رائے اُس کے متعلق اچھی نہیں ہے لیکن میں وہ کلمات ہرگز اپنی زبان سے ادا نہیں کروں گا جو اُس نے میرے لئے استعمال کئے تھے ۔ ’’حضرت علی اوسط بن حسین ( امام زین العابدین) رضی اﷲ عنہ کو بھی ہشام بن اسماعیل کے ہاتھوں سخت تکلیفیں برداشت کرنی پڑی تھیں ۔ جب ولید بن عبدالملک نے اُسے معزول کیا اور توہین اور تشہیر کا حکم دیا تو ہشام بن اسماعیل نے کہا: ‘‘ مجھے صرف حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ سے خوف ہے ۔’’ اُسے مروان بن حکم کے گھر کے پاس کھڑا کیا گیا تھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے پاس سے گذرے مگر اِس سے پہلے ہی آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے طرفداروں سے فرما دیا تھا کہ بدتہذیبی کی کوئی بات ہشام بن اسماعیل سے نہیں کرنا ۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے پاس سے گذرے تو قرآن پاک کی ایک آیت تلاوت فرمائی :’’ترجمہ۔ اﷲ ہی سب سے بہتر جاننے والا ہے کہ وہ کس شخص کو اپنا پیامبر بناتا ہے ۔’’ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ایک دن حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ گزر رہے تھے اور ہشام بن اسماعیل راستے میں کھڑا تھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ خاموشی سے اُس کے پاس سے گزر گئے تو اُس نے بلند آواز سے پکار کا کہا: ‘‘ اﷲ ہی کو معلوم ہے کون آدمی کس منصب کا اہل ہے۔’’
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں