ا42 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 42
85 ھجری : عبدالرحمن بن اشعث اور رتبیل، عبدالرحمن بن اشعث کا قتل، حجاج بن یوسف کا استعفیٰ، خیار بن سبرہ ‘‘عمان’’ کا گورنر، یزید بن مہلب کی معزولی، مفضل بن مہلب خراسان کا گورنر، قتیبہ بن مسلم خراسان کا گورنر ، یزید بن مہلب کا خوارزم پر حملہ، عبدالعزیز بن مروان کی ولی عہدی سے معزولی کی تحریک، عبد العزیز بن مروان کا دستبرداری سے انکار، عبدالعزیز بن مروان کا انتقال، عبدالعزیز بن مروان کے انتقال کی خبر،
ا85 ھجری : عبدالرحمن بن اشعث اور رتبیل
عبدالرحمن بن اشعث واپس ترک بادشاہ رتبیل کے پاس چلا گیا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب عبدالرحمن بن اشعث ہرات سے واپس رتبیل کے پاس جانے لگا تو اُس کے ساتھ قبیلہ اود کا ایک شخص علقمہ بن عمرو بھی تھا ۔ اُس نے عبد الرحمن بن اشعث سے کہا : ‘‘ میں آپ کے ساتھ ترک بادشاہ رتبیل کی مملکت میں داخل نہیں ہونا چاہتا ۔’’ اُس نے وجہ دریافت کی تو علقمہ نے کہا: ‘‘ مجھے تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی جان کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے ۔ حجاج بن یوسف بادشاہ رتبیل کے نام خط بھیجے گا جس میں لالچ اور خوف دلا کر تمہاری سپردگی کا مطالبہ ہو گا اور رتبیل تمہیں زندہ یا مردہ حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دے گا ۔ اب بھی موقع ہے اِس وقت آپ کے پاس پانچ سو بہادر ہیں ۔ہم کسی شہر میں گھس کر قلعہ بند ہوجائیں اور اُس وقت تک مقابلہ کریں جب تک ہمیں امان نہ ملے یا ہم سب کے سب عزت کی موت مارے جائیں گے ۔’’ عبد الرحمن بن اشعث نے کہا: ‘‘ آپ سب میرے ساتھ چلیں ،میں آپ سب کی عزت اور غم خواری کروں گا ۔’’ لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور عبدالرحمن بن اشعث اپنے اہل و عیال کو لیکر رتبیل کے پاس چلا گیا ۔
عبدالرحمن بن اشعث کا قتل
حجاج بن یوسف سے ترک بادشاہ رتبیل نے عبد الرحمن بن اشعث کا سودا کر لیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد الرحمن بن اشعث رتبیل کے پاس چلا گیا اور یہ پانچ سو سوار وہاں سے روانہ ہو کر ایک شہر میں قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے اور مودود نضری کو اپنا سردار بنا لیا ۔ حجاج بن یوسف کی طرف سے عمارہ بن تمیم لخمی نے آکر اُن کا محاصرہ کر لیا ۔ یہ پانچ سو سوار اُس سے لڑتے رہے ،آخر کار عمارہ بن تمیم نے انہیں امان دے دی اور یہ لوگ اُس کے ساتھ ہو گئے اور عمارہ نے وعدہ معافی کو برقرار رکھا ۔ اب حجاج بن یوسف نے ترک بادشاہ رتبیل پر پر دباؤ بنانے لگا اور عبدالرحمن بن اشعث کی سپردگی کے بارے میں خطوط بھیجنے لگا اور یہ دھمکی دینے لگا کہ اگر تم نے عبد الرحمن بن اشعث کو میرے حوالے نہیں کیا تو میں دس لاکھ سپاہیوں کے ساتھ حملہ کروں گا اور تمہاری سلطنت کو روند ڈالوں گا ۔ اتبیل کے ایک درباری عبید بن ابی سبیع تمیمی نے رتبیل سے کہا: ‘‘ میں حجاج بن یوسف سے تمہارے لئے عہد لے لیتا ہوں کہ وہ سات سال تک تم سے خراج نہ لے اور اس کے بدلے میں تم عبد الرحمن بن اشعث کو اُس کے حوالے کر دو گے ۔’’رتبیل نے کہا: ‘‘ اگر تم ایسا کرو گے تو جو مانگو گے وہ پاؤ گے ۔’’ عبید بن ابی سبیع نے حجاج کو لکھا : ‘‘ رتبیل میری ہر بات مانتا ہے اور میں اُس وقت تک اُس کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا جب تک وہ عبدالرحمن بن اشعث کو تمہارے حوالے نہ کر دے۔’’ اِن خدمات کے صلہ میں حجاج بن یوسف نے اُسے بہت سا روپیہ انعام کے طور پر دیا اور اُس نے رتبیل سے بھی اِن خدمات کا معاوضہ لیا اور رتبیل نے عبدالرحمن بن اشعث کا سر کاٹ کر حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دیا ۔
حجاج بن یوسف کا استعفیٰ
اِس سال 85 ھجری میں حجاج بن یوسف نے استعفیٰ دے دیا لیکن عبد الملک بن مروان نے اُسے قبول نہیں کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف ملک شام عبدالملک بن مروان سے ملنے کے لئے گیا ۔ واپسی میں اُس نے ایک جگہ قیام کیا تو لوگوں نے بتایا کہ یہاں ایک بڑا عالم و فاضل راہب رہتا ہے ۔ حجاج بن یوسف نے اُسے بلایا اور پوچھا :‘‘ کیا تمہاری کتابوں میں اس حالت کا ذکر ہے جس میں اس وقت ہم اور تم ہیں؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ جی ہاں! جو واقعات آپ پر گزر چکے ہیں ، گزر رہے ہیں اور گزرنے والے ہیں ،وہ سب مذکور ہیں۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا: ‘‘ کیا صاف صاف نام بنام ان کا ذکر ہے یا صرف قرائن اور صفات بتائی گئی ہیں؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ جہاں صرف صفات بیان کئے گئے ہیں وہاں نام نہیں ہیں اور جہاں نام ہیں وہاں صفات کا ذکر نہیں ہے ۔ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ اچھا بتاؤ! ہمارے موجودہ امیر المومنین کی کیا خصوصیات ہیں؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ ہم اپنے زمانے میں انہیں نہایت مدبر بادشاہ جانتے ہیں اور جو اُن کی مخالفت کرے گا پچھاڑ دیا جائے گا ۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا: ‘‘ اُن کے بعد کون ہوگا ؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ ولید بن عبدالملک بادشاہ ہوگا۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا :‘‘ اُس کے بعد کون ہوگا؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ ایک ایسا شخص جس کا نام ایک نبی علیہ السلام کے نام پر ہے اور جس سے خیر و برکت کا افتتاح ہوگا ۔’’ ( ولید بن عبدالملک کے بعد اُس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک بادشاہ بنا اور اُس نے وصیت کی تھی کہ اُس کے مرنے کے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو حکمراں بنایا جائے)حجاج بن یوسف نے پوچھا: ‘‘ کیا تم مجھے جانتے ہو؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ ہاں ! مجھے آپ کے بارے میں بتایا گیا ہے۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا : ‘‘ میرے بعد میری جگہ کون گورنر ہو گا؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ یزید نامی ایک شخص آپ کے بعد گورنر ہو گا۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا: ‘‘ میری زندگی میں ہوگا یا میرے مرنے کے بعد؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ اِس کے بارے میں مجھے معلوم نہیں ہے۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا: ‘‘ کیا تم اُس کی خصوصیات جانتے ہو؟’’راہب نے کہا: ‘‘ وہ ایک بد عہدی کرے گا ،اِس کے علاوہ میں اور کچھ نہیں جانتا ہوں۔’’ اِس گفتگو کے بعد حجاج بن یوسف کو خیال آیا کہ یزید بن مہلب ہی میرا مقابل ہوسکتا ہے ۔ اِس کے بعد حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو اپنا استعفیٰ لکھ کر بھیج دیا ۔ عبدالملک بن مروان نے جواب میں لکھا: ‘‘ مجھے تمہارا اصل منشا معلوم ہو گیا ہے کہ تم یہ چاہتے ہوکہ تمہارے متعلق میں اپنی رائے کا اظہار کروں تو سُن لو کہ میں تمہیں ایک مفید آدمی سمجھتا ہوں اِس لئے تم اپنا استعفیٰ واپس لے لو اور اب کبھی مرتے دم تک استعفیٰ نہیں دینا۔’’
خیار بن سبرہ ‘‘عمان’’ کا گورنر
حجاج بن یوسف نے خیار بن سبرہ کو ملک عمان کا گورنر بنا دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ایک روز حجاج بن یوسف تنہا بیٹھا ہوا تھا کہ اُس نے عبید بن موہب کو بلایا ۔ جب وہ آیا تو حجاج بن یوسف زمین کُرید رہا تھا ۔ اُس نے اپنا سر اوپر اُٹھا کر کہا: ‘‘ اہل کتاب کہتے ہیں کہ میرے ماتحت عہدیداروں میں سے ایک یزید نامی شخص ملک عراق کا گورنر ہو گا ۔ میں نے یزید بن کبثہ اور یزید بن دینار کا خیال کیا مگر اُن دونوں میں سے کوئی اِس لائق نہیں ہے ،ہو نہ ہو یہ یزید بن مہلب ہی ہے ۔’’ عبید بن موہب نے کہا: ‘‘ آپ نے انہیں عزت دی ،انہیں اِس منصب جلیلہ پر سرفار کیا ،اُن کے طرفداروں کی تعداد کثیر ہے ۔ بہادر بھی ہیں اور دولتمند نصیبہ ور بھی ہیں اور ترقی کے لئے نہایت موزوں اور اہل بھی ہیں۔’’ حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو معزول کر دینے کا تہیہ کر لیا لیکن کوئی حیلہ اُس کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ مہلب بن ابی صفرہ کے کمانڈروں میں سے ایک خیار بن سبرہ حجاج بن یوسف کے پاس آیا تو اُس نے اُس سے یزید بن مہلب کے بارے میں دریافت کیا۔خیار بن سبرہ نے کہا: ‘‘ وہ نہایت ہی وفا دار اور خلیق اور بامروت آدمی ہے ۔ ’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ تم جھوٹ بولتے ہو۔مجھ سے سچ سچ بیان کرو۔’’ خیار بن سبرہ نے کہا: ‘‘ اﷲ ہی بزرگ و برتر ہے ۔اِس میں شک نہیں کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اُس کی بنیاد کھوکھلی ہیں۔’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ بے شک تم نے سچ کہا۔’’ اِس کے بعد حجاج بن یوسف نے اُسے ملک عمان کا گورنر بنا دیا۔
یزید بن مہلب کی معزولی
حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو بہانے سے معزول کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو یزید بن مہلب اور خاندان مہلب کی شکایت لکھی کہ یہ لوگ "زبیری" حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے حمایتی) ہیں ۔ عبدا لملک بن مروان نے جواب میں لکھا کہ یہ کوئی جرم کی بات نہیں ہے کہ وہ لوگ خاندان زبیر کے طرف دار ہیں لیکن یہ جوش عقیدت جو انہیں خاندان زبیر سے ہے یہ ہی اُن کی ہمارے خاندان سے فاداری کی وجہ ہے ۔ مگر حجا ج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو لکھا کہ یہ لوگ ضرور بے وفائی کریں گے ۔ عبدالملک بن مروان نے جواب دیا کہ تم نے یزید بن مہلب اور خاندان مہلب کی شکایت کی ہے ۔ تم ہی کسی ایسے شخص کا
نام پیش کرو جو خراسان کی گورنری کا اہل ہو ۔حجاج بن یوسف نے مجارۃ بن معمر کا نا م پیش کیا ۔ عبدالملک بن مروان نے جواب میں لکھا کہ جو خرابی تم آل مہلب میں پاتے ہو وہی مجاعۃ بن معمر میں بھی موجود ہے ۔ کسی ایسے شخص کا نام پیش کرو جو انتظامی صلاحیت رکھنے والا سیاست دان ہو اور تمہارے حکم کی تعمیل کرنے والا بھی ہو۔اِس پر حجاج بن یوسف نے قتیبہ بن مسلم کا نام پیش کیا جسے عبدالملک بن مروان نے منظور کر لیا اور حکم دے دیا کہ قتیبہ بن مسلم کو خراسان کا گورنر بنا دیا جائے۔یزید بن مہلب کو بھی معلوم ہوگیا تھا کہ حجاج بن یوسف نے مجھے معزول کر دیا ہے ۔ اُس نے اپنے اعزا سے پوچھا: ‘‘ بھلا کسے میری جگہ گورنر بنایا جائے گا؟’’ سب نے کہا: ‘‘ بنو ثقیف( حجاج بن یوسف کا قبیلہ) کا کوئی شخص ہوگا ۔’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ نہیں! بلکہ تم میں سے ہی کوئی شخص عارضی طور پر گورنر بنا دیا جائے گا اور جب میں حجاج بن یوسف کے پاس چلا جاؤں گا تب اُسے بھی معزول کر کے بنو قیس کا کوئی شخص مقرر کر دیا جائے گا اور میرا خیال ہے کہ وہ قتیبہ بن مسلم ہو گا۔’’
مفضل بن مہلب خراسان کا گورنر
عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو اجازت دے دی تھی کہ وہ یزید بن مہلب کو معزول کر دے لیکن ابھی حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو معزول کی خبر نہیں دی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو اجازت دے دی تو اُس نے مناسب نہیں سمجھا کہ صاف صاف حکم بھیجے بلکہ اُس نے یزید بن مہلب کو لکھا کہ اپنے بھائی مفضل بن مہلب کو گورنر بنا کر تم میرے پاس آؤ۔ یزید بن مہلب نے حصین بن منذر سے مشورہ کیا تو اُس نے کہا: ‘‘ تم نہ جاؤ اور کوئی بہانہ کر دو کیونکہ امیر المومنین کی رائے تمہارے متعلق اچھی ہے اور یہ سب کچھ حجاج بن یوسف کا کیا دھرا ہے ۔ مجھے اُمید ہے کہ اگر تم نہیں جاؤ گے اور روانگی میں جلد بازی نہیں کرو گے تو امیر المومنین تمہیں ہی برقرا رکھنے کا حکم دیں گے۔’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ یہ نہیں ہوسکتا کہ میں حکم کی خلاف ورزی کروں ۔ ہمیں جو عروج اور ترقی حاصل ہوئی ہے یہ ہماری اطاعت اور فرمانبرداری کے طفیل ہے اور میں مخالفت اور سر کشی کو معیوب سمجھتا ہوں۔’’ یزید نے سفر کی تیاری شروع کردی مگر حجاج بن یوسف کو اتنی دیر بھی گوارا نہیں تھی ۔اُس نے مفضل کو خط لکھا: ‘‘ میں تمہیں خراسان کا گورنر مقرر کرتا ہوں۔’’ اب مفضل بن مہلب نے اپنے بھائی سے اصرار کرنا شروع کردیا کہ تم فوراً چلے جاؤ ۔یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘یاد رکھو! میرے بعد کبھی تمہیں حجاج بن یوسف اِس عہدہ پر برقرا رنہیں رکھے گا ۔ اُس نے جو مجھے بلایا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈرتا ہے کہ کہیں میں بغاوت نہ کر بیٹھوں اور حکم کیخلاف ورزی نہ کر بیٹھوں۔’’ مفضل بن مہلب نے کہا: ‘‘ بھائی آپ مجھ سے جل گئے ۔’’ یزید بنمہلب نے کہا: ‘‘ ارے بیوقوف! بھلا میں تجھ سے حسد کروں گا؟ تمہیں خود ہی عنقریب معلوم ہو جائے گا۔’’
قتیبہ بن مسلم خراسان کا گورنر
حجاج بن یوسف نے مفضل بن مہلب کو بھی معزول کر کے قتیبہ بن مسلم کو خراسان کا گورنر بنا دیا۔ علامہ ممد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب ربیع الآخر ۸۵ ھجری میں خراسان سے روانہ ہوا اور اس کے بعد حجاج بن یوسف نے مفضل بن مہلب کو بھی معزول کر کے قتبہ بن مسلم کو خراسان کا گورنر بنا دیا۔ حصین بن منذر نے یزید کے بارے میں کہا: ‘‘ میں نے تجھے ایک نہایت عمدہ مشورہ دیا تھا مگر تُو نہیں مانا۔ نتیجہ یہ ہوا تیری امارت چھن گئی اور تُو نادم ہوا۔ مجھے نہ تیری حالت پر کسی قِسم کی محبت کی وجہ سے کوئی صدمہ ہے اور نہ ہی میں دعا کرتا ہوں کہ تو صحیح و سالم پھر واپس آجائے۔’’ جب قتیبہ بن مسلم خراسان آیا تو اُس نے حصین بن منذر سے کہا: ‘‘ تُو نے یزید بن مہلب کے بارے میں کیا کہا تھا ؟’’ اُس نے کہا: ‘‘ میں نے کہا کہ میں نے تجھے ایک نہایت عمدہ مشورہ دیا تھا مگر تُو نہیں مانا ۔ پس اگر تُو کسی کو مورد الزام ٹھہرائے تو خود تیرا نفس اِس ملامت کا زیادہ مستحق ہے ۔ اگر حجاج بن یوسف کو معلوم ہوجائے کہ تُو نے اُس کی نافرمانی کی ہے تو تجھے معلوم ہو جائے گا کہ اُس کا اقتدار نہایت ہی اہمیت رکھتا ہے ۔’’ قتیبہ بن مسلم نے کہا: ‘‘تُو نے یزید بن مہلب کو کیا مشورہ دیا تھا؟’’ اُس نے کہا: ‘‘ میں نے اُس سے کہا تھا کہ جس قدر درہم و دینار تیرے پاس ہیں سب حجاج بن یوسف کے پاس لے جانا ۔’’ اِس پر کسی شخص نے حصین بن منذر کے بیٹے عیاض بن حصین سے کہا: ‘‘ تیرا باپ تو بلا شبہ نہایت ہی چالاک گھوڑا ثابت ہوا ۔ ’’
یزید بن مہلب کا خوارزم پر حملہ
حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو ایک بہت دشوار گزار اور تکلیف دہ علاقہ پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو حکم دیا کہ خو ارزم پر جہاد کرو ۔ یزید بن مہلب نے لکھا : ‘‘ اِس مہم میں فائدہ کم اور تکلیف زیادہ ہے ۔ ’’ اِس پر حجاج بن یوسف نے لکھا: ‘‘ اچھا کسی شخص کو اپنا جگہ سپہ سالار بنا کر تم میرے پاس چلے آؤ ۔’’ اِس کے جواب میں یزید نے لکھا: ‘‘ میں خود فوج لیکر خو ارزم پر جہاد کرنے جاؤں گا ۔’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ تم خو ارزم پر حملہ نہ کروکیونکہ اُس ملک کا واقعی ایسا حال ہے جیسا تم نے لکھا تھا ۔’’ مگر یزید بن مہلب نہیں مانا اور خوارزم پر حملہ کر دیا ۔وہاں کے لوگوں نے صلح کی درخواست کی جو اُس نے قبول کر لی اور مال غنیمت اور غلام اور لونڈی لیکر واپس آنے لگا تو راستے میں شدید سردی پڑنے لگی ۔ یزید کی فوج نے لونڈی اور غلاموں کے کپڑے خود لیکر پہن لئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سب سردی کی وجہ سے مر گئے ۔ یزید بن مہلب نے ‘‘بلستان’’ میں آکر قیام کیا ۔ اِس سال ‘‘مرو زور’’ میں طاعون پھیلا اور وہاں کے بہت سے باشندے موت کا شکار ہوگئے ۔ پھر حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو حکم دیا :‘‘ تم میرے پاس چلے آؤ ۔’’ یزید بن مہلب حجاج بن یوسف کی طرف روانہ ہوا تو جس جس شہر سے گذرتا تھا وہاں کے باشندے اُس کے لئے پھول بچھاتے تھے ۔
عبدالعزیز بن مروان کی ولی عہدی سے معزولی کی تحریک
عبدالملک بن مروان نے اپنا ‘‘ولی عہد’’ اپنے بھائی عبدالعزیز بن مروان کو بنایا تھا اور اعلان کر دیا تھا کہ عبدالملک بن مروان کی موت کے بعد عبدالعزیز بن مروان حکمراں بنے گا ۔ حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کے دل میں اپنے بیٹے ولید بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’ کا خیال پیدا کیا جو اُس کے دل میں جڑ پکڑ گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالعزیز بن مروان کی ‘‘ولی عہدی’’ سے معزولی کی تحریک حجاج بن یوسف نے پیدا کی تھی اور اِسی غرض سے اُس نے ایک وفد عمران بن عصام کی قیادت میں عبدالملک بن مروان کے پاس بھیجا تھا ۔ عمران بن عصام نے اِس معاملہ پر عبدالملک بن مروان کے سامنے تقریر کی ۔ وفد کے دوسرے ارکان نے بھی اُس کی تائید کی اور درخواست کی کہ عبدالعزیز بن مروان کی جگہ ‘‘ولی عہد’’ ولید بن عبدالملک مقرر کیا جائے ۔ عمران بن عصام کی تقریر اور قصیدہ خوانی سن کر عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ تم جانتے ہو وہ عبدالعزیز بن مروان ہے ۔’’ عمران بن عصام نے کہا: ‘‘ امیر المومنین آپ کسی بہانہ سے انہیں معزول کر دیجیئے ۔’’
عبد العزیز بن مروان کا دستبرداری سے انکار
عبدالملک بن مروان کا یہ ارادہ ہوگیا کہ وہ ولید بن عبدالملک کو اپنا جانشین مقرر کر دے ۔اِس کے لئے اُس نے اپنے بھائی عبدالعزیز بن مروان سے درخواست کی کہ وہ ‘‘ولی عہدی’’ سے دستبردار ہو جائے لیکن اُس نے انکار کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی عبدالعزیز بن مروان کے بجائے اپنے بیٹے ولید بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’ کے لئے بیعت لینا چاہی تو اُس نے عبدالعزیز بن مروان کو لکھا کہ اپنا جانشینی کا حق اپنے بھتیجے کو دیدے ۔ عبدالعزیز بن مروان نے انکار کر دیا تو عبدالملک بن مروان نے دوبارہ لکھا :‘‘ چونکہ میں ولید بن عبدالملک کی سب سے زیادہ عزت اور توقیر کرتا ہوں ۔ اِس لئے کم سے کم تمہارے بعد کا یہ حق اُس کے لئے محفوظ کر دو۔’’ عبدالعزیز بن مروان نے جواب میں لکھا: ‘‘ جیسا تم اپنے بیٹے ولید کو سمجھتے ہوایسے ہی میں اپنے بڑے بیٹے ابو بکر کو سمجھتا ہوں۔’’ ( حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کا بڑا بھائی ابوبکر ہے)یہ جواب پڑھ کر عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی کے لئے بد
دعا کی:‘‘ اے اﷲ تعالیٰ! جس طرح عبدالعزیز بن مروان نے مجھ سے قطع تعلق کر لیا ہے اُسی طرح تو اُس سے اپنا تعلق منقطع کر لے ۔’’ اِس کے بعد عبدالعزیز بن مروان کو لکھا :‘‘ مجھے ملک مصر کا خراج دو۔’’ عبدالعزیز بن مروان نے لکھا : ‘‘ اے امیر المومنین! اب میری اور تمہاری عُمر اتنی ہو گئی ہے کہ اب بہت تھوڑی زندگی بچی ہے اور تم اور میں اِس بات سے ناواقف ہیں کہ ہم دونوں میں سے پہلے کون مرتا ہے؟ بہتر ہے کہ اب اِس تھوڑی سی زندگی میں تم مجھے نہ ستاؤ۔’’ عبدالملک بن مروان پر اِس تحریر کا اتنا اثر ہوا کہ اُس نے لکھا: ‘‘ اب میں تمہیں پوری زندگی ہر گز نہیں چھیڑوں گا ۔’’ اِس کے بعد اُس نے اپنے دونوں بیٹوں ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک سے کہا: ‘‘ اگر اﷲ تعالیٰ تمہیں دینا چاہے گا تو کسی بندہ کی مجال نہیں ہے کہ وہ اس حق سے تمہیں محروم کر دے ۔ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم دونوں نے کبھی حرام کام کیا ہے؟ ’’ اُن دونوں نے کہا: ‘‘اﷲ کی قسم! کبھی نہیں۔’’ یہ سن کر عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ رب ِ کعبہ کی قسم! تم دونوں ضرور اپنا مقصود حاصل کرو گے۔’’
عبدالعزیز بن مروان کا انتقال
عبدالملک بن مروان سے خطوط کے ذریعے بات چیت کرنے کے بعد عبدالعزیز بن مروان زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ سکا اور چند مہینوں بعد ہی اُس کا انتقال ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان اپنے ارادے سے باز رہا لیکن اُس کا دل اِس کام کے لئے بے چین تھا کہ ایک روز روج بن زنباع جذامی نے کہا: ‘‘ امیر المومنین! اگر آپ عبدالعزیز بن مروان کو ‘‘ولی عہدی’’ سے معزول کر دیں تو اُس کی حمایت میں ایک بھی آواز نہیں ا’ٹھے گی ۔’’ عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ میرا بھی یہی خیال ہے ۔’’ روج بن زنباع نے کہا: ‘‘ بے شک ایسا ہی ہوگا اور سب سے پہلے میں خود اِس آواز پر لبیک کہوں گا۔ ’’ عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ انشاء اﷲ ایسا یہی مناسب ہوگا۔’’ یہی گفتگو کر کے عبدالملک بن مروان سو گیا ۔ رات کا وقت تھا کہ قبیصہ بن ذویب ملنے کے لئے آیا ۔ عبدالملک بن مروان نے پہلے ہی پہریداروں کو حکم دے رکھا تھا کہ دن یا رات کے کسی بھی وقت قبیصہ بن ذویب آئے تو اُسے نہیں روکنا۔ شاہی مُہر بھی اُسی کے پاس رہتی تھی ۔ قبیصہ بن ذویب جب عبدالملک بن مروان کی خواب گاہ میں داخل ہوا تو سلام کیا اور کہا: ‘‘ اﷲ امیر المومنین کو عبد العزیز بن مروان کے عوض جزائے خیر عطا فرمائے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے پوچھا :‘‘ کیا اُس کا انتقال ہو گیا ہے ؟’’ قبیصہ بن ذویب نے کہا: ‘‘ جی ہاں۔’’ عبد المک بن مروان نے کہا: ‘‘ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔’’اِس کے بعد بولا: ‘‘ لو! جس کام کے بارے میں ہم سوچ رہے تھے اﷲ تعالیٰ نے خود بخود اس کو انجام تک پہنچا دیا۔’’ جماد ی الاوّل ۸۵ ھجری میں عبدالعزیز بن مروان کا انتقال ہوا ۔ عبدالملک بن مروان نے اپنے بیٹے عبداﷲ بن عبدالملک کو ملک مصر کا گورنر بنا دیا ۔’’
عبدالعزیز بن مروان کے انتقال کی خبر
جس وقت عبدالعزیز بن مروان کا انتقال ہواتو عبدالملک بن مروان کا کاتب محمد بن یزید تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو لکھا‘‘ آپ محمد بن یزید انصاری کو اپنا کاتب بنا لیں ۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو کاتب بنانا چاہتے ہیں جو بھروسے کے قابل ، راز دار ، فاضل ، عاقل اور دین دار ہو تو آپ کو محمد بن زید انصاری سے بہتر کوئی آدمی نہیں ملے گا ۔ آپ بے خوف و خطر اسے رازدار بنا سکتے ہیں۔ ’’ عبدالملک بن مروان نے اُس کی درخواست منظور کر لی اور لکھا : ‘‘ محمد بن زید کو میرے پاس بھیج دو ۔ ’’ حجاج بن یوسف نے اُسے بھیج دیا اور عبدالملک بن مروان نے اُسے اپنا ‘‘میر منشی’’ بنا لیا ۔ محمد بن یزید بیان کرتا ہے کہ امیر المومنین عبدالملک بن مروان کیا یہ حال تھا کہ جو بھی خط آتا تھا میرے حوالے کر دیتے تھے ۔ بہت سی باتوں کو لوگوں سے چھپاتے تھے مگر مجھ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھتے تھے ۔ جو بات کسی گورنر کو لکھتے تو مجھے ضرور بتا دیتے تھے ۔ ایک روز دوپہر کے وقت میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ملک مصر سے ایک قاصد آیا ۔ قاصد نے امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ میں نے اُس سے کہا: ‘‘ یہ ملاقات کا وقت نہیں ہے جو تمہیں کہنا ہو کہہ دو ۔’’ قاصد نے کہا: ‘‘ نہیں ! میں یہ بات صرف امیر المومنین کو ہی بتاؤں گا۔’’ میں نے کہا: ‘‘ اگر کوئی خط لائے ہو تو مجھے دے دو ۔’’ اُس نے کہا: ‘‘ زبانی پیغام ہے۔’’ اتنے میں کسی نے کہا کہ امیر المومنین آر ہے ہیں ۔ عبدالملک بن مروان آئے اور مجھ سے پوچھا : ‘‘ کیا ماجرا ہے؟’’ میں نے عرض کیا ملک مصر سے قاصد آیا ہے ۔’’ انہوں نے کہا: ‘‘ خط لے لو۔’’ میں نے کہا: ‘‘ وہ کہتا ہے زبانی پیغام ہے۔’’ انہوں نے کہا: ‘‘ آنے کی وجہ دریافت کرو۔’’ میں نے کہا: ‘‘ وہ مجھے کچھ نہیں بتا رہا ہے۔’’ اِس پر امیر المومنین نے کہا: ‘‘ اچھا! اُسے اندر آنے دو۔’’ میں نے اندر آنے کی اجازت دے دی ۔ قاصد نے کہا: ‘‘ اﷲ امیرا لمومنین کو عبد العزیز بن مروان کے عوض جزائے خیر عطا فرمائے ۔’’ امیر المومنین نے انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا اور رونے لگے ۔ پھر تھوڑی دیر تک خاموش رہے اور کہا : ‘‘ اﷲ عبدالعزیز بن مروان پر رحم کرے وہ اِس دار ِ فانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت کر گئے ۔’’
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں