ا41 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 41
ترکوں سے جنگ، مہلب بن ابی صفرہ کا انتقال، 82 ھجری کا اختتام، 82 ھجری میں جن اعیان کا انتقال ہوا، 83 ھجری : عبد الرحمن بن اشعث کی شکست، عبدالرحمن بن اشعث کی گرفتاری، ترک بادشاہ رتبیل نے آزاد کرایا، عبد الرحمن بن اشعث کی رتبیل کے پاس واپسی، یزید بن مہلب نے شکست دی، حجاج بن یوسف کا کوفہ میں قتل عام، واسط شہر کی تعمیر، 83 ھجری کا اختتام، 83 ھجری میں جن عمائدین کا انتقال ہوا، 84 ھجری : قلعہ باذغیس کی تسخیر، 84 ھجری کا اختتام
ترکوں سے جنگ
ترکوں نے دھوکہ دیا اور واپس آ کر حملہ کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ترکوں نے اپنا عہد توڑ دیا اور اُن پر واپس پلٹ کر آئے ۔اِس پر یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ میں تو اِن کی عادت سے پہلے ہی خوب واقف تھا ۔’’ دونوں فریقوں میں نہایت شدید جنگ شروع ہوئی ۔یزید بن مہلب ایک ایسے ٹٹو پر سوار تھا جو لگ بھگ زمین سے لگا ہوا تھا اُس کے ہمراہ ایک خارجی تھا جسے یزید بن مہلب نے گرفتار کیا تھا ۔اُس خارجی نے یزیدبن مہلب سے رحم کی درخواست کی جو اُس نے منظور کر لی اور اُسے آزاد کر دیا اور اُس سے پوچھا :‘‘ کہو کیا ارادہ ہے؟’’ ا’س خارجی نے ترکوں پر حملہ کر دیا اور اُن میں جا گھسا اور پھر اُن کے پیچھے نکل آیا تو معلوم ہوا کہ اُس نے ایک کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ہے ۔ اُس کے بعد اُس نے دوبارہ حملہ کیا اور اُن میں جاگھسا اور ایک اور ترک کو قتل کر کے یزید بن مہلب کے پاس واپس آگیا ۔ اِسی دوران یزید بن مہلب نے ترکوں کے ایک بڑے سردار کو قتل کر دیا لیکن اُن کی پنڈلی میں ایک تیر آ کر لگا ۔اب ترکوں کا جوش و خروش اور دلیری بڑھ گئی تو یزید بن مہلب کا ایک ساتھی ابو محمد زمی فرار ہو گیا ۔ یزید بن مہلب اپنے ساتھیوں کے ساتھ ترکوں سے مقابلے پر ڈٹا رہا اور مقابلہ کرتا رہا ۔ آخر کار ترکوں نے کہا: ‘‘ بے شک ہم نے تمہارے ساتھ بد عہدی کی ہے مگر تم اُس وقت تک نہیں جاسکتے جب تک کہ ہم میں آخری شخص بھی جان نہیں دیدے گا یا پھر تم سب مارے جاؤ یا پھر ایسا کرو کہ ہمیں کچھ اور مال دے دو اور اپنی جان بچا کر چلے جاؤ ۔’’ یزید بن مہلب نے قسم کھا کر کہا: ‘‘ میں ایک درہم بھی نہیں دوں گا ۔ ’’ مگر مجاعۃ نے عرض کیا :‘‘ آپ کو اﷲ کا واسطہ دلا کر میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنی جان پر رحم کریں اور آج اسے موت کی بھینٹ نہ چڑھا دیں ۔ آپ کے بھائی مغیرہ بن مہلب پہلے ہی مر چکے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے والد کو اُن کی موت کا کس قدر صدمہ اُٹھانا پڑا ہے اور اُن کی کیا حالت ہوئی تھی؟’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ مغیرہ بن مہلب کی جتنی زندگی مقدر تھی وہ اُس نے پوری کی اور میں بھی اپنی زندگی سے ایک منٹ بھی زیادہ زندہ نہیں رہوں گا ۔’’ مگر مجاعۃ نے جلدی سے اپنا زرد رنگ کا عمامہ ترکوں کی طرف پھینک دیا جسے اُٹھا کر ترک چلتے بنے ۔ اِسی دوران ابو بحبد زمی کچھ شہسواروں کو اور خوراک کا سامان لیکر واپس آیا تو یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ تم تو ہمیں دشمن کے نرغہ میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے ۔’’ اُس نے کہا: ‘‘ میں اِس لئے گیا تھا کہ آپ کے لئے امدادی فوج اور خوراک کا سامان لیکر آؤں۔’’
مہلب بن ابی صفرہ کا انتقال
یزید بن مہلب نے ‘‘مرو’’ پہنچ کر وہاں کا انتظام سنبھال لیا ۔ اِدھر مہلب بن ابی صفرہ ‘‘کش’’ سے واپس آرہا تھا کہ راستے میں اُس کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ ‘‘کش’’ سے ‘‘مرو’’ واپس آرہا تھا ۔ جب مقام ‘‘زاغول’’ پر پہنچا تو کچھ لوگوں کے بیان کے مطابق اُس کے منہ میں مسواک لگ گئی جس سے زخم ہو گیا یا دوسرے لوگوں کے بیان کے مطابق کانٹا لگا تھا ۔ بہر حال اُس کی حالت نازک ہوگئی تو اُس نے اپنے بیٹوں کو جو اُس کے پاس موجود تھے اپنے پاس بلایا ۔سر کنڈے منگوائے اور وہ سب ایک گٹھے کی شکل میں باندھ دیا ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے اپنے بیٹوں سے کہا :‘‘ تم اِن سرکنڈوں کو توڑ سکتے ہو؟’’ سب نے کہا: ‘‘ نہیں ۔’’ پھر اُس نے کہا : ‘‘ اگر اِن کو الگ الگ کر دیا جائے تو تب توڑ سکتے ہو؟’’ سب نے جواب دیا :‘‘ ہاں !بے شک توڑ سکتے ہیں ۔’’ مہلب بن ابی صفرہ نے کہا :‘‘ تمہاری مثال اِن سرکنڈوں کی طرح ہے ۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں صلہ رحمی کرنا کیونکہ اس سے عُمر بڑھتی ہے اور جان و مال میں ترقی ہوتی ہے ۔ تفریق سے بچتے رہنا کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ آخرت میں دوزخ ہے اور دنیا میں ذلت و کمزوری ہے ۔ آپس میں دوستی اور ملاپ رکھنا ،اپنے آپ کو متحد رکھنا اور اختلاف کو گنجائش نہیں دینا ۔ ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کرتے رہنا اس سے تمہاری حالت درست رہے گی ۔ جب حقیقی بھائیوں میں اختلاف ہوجاتا ہے تو علاقائی بھائیوں کا ذکر ہی کیا ؟ تم پر ایک دوسرے کی اطاعت اور آپس میں اتحاد رکھنا فرض ہے ۔تمہارے افعال تمہارے اقوال سے افضل رہیں کیونکہ میں ایسے ہی شخص کو پسند کرتا ہوں جس کے کام اُس کے دعوؤں سے زیادہ بہتر ہوں ۔ ایسی باتوں سے ہمیشہ بچتے رہنا جس کی وجہ سے تمہیں جواب دہ ہونا پڑے اور ہمیشہ اپنی زبان کو لغزشوں سے بچانا ۔ یاد رکھو کہ اگر کسی شخص کا پاؤں پھسل جائے تو وہ سنبھل سکتا ہے مگر جس کی زبان اُس کے قابو میں نہ ہو وہ ہلاک ہو جاتا ہے ۔ ہمیشہ کلام پاک کی تلاوت جاری رکھنا ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور نیک لوگوں کے طریقۂ زندگی کو اپنا معیار بنانا ۔ میں یزید بن مہلب کو اپنا جانشین مقرر کرتا ہوں اور حبیب بن مہلب کو اُس وقت تک سپہ سالار مقرر کرتا ہوں جب تک یہ اسے یزیدبن مہلب کے پاس پہنچا دیں تم لوگ یزید کی مخالفت نہ کرنا۔ ’’اِس کے بعد مہلب بن ابی صفرہ کا انتقال ہو گیا ۔ حبیب بن مہلب نے نماز جنازہ بڑھائی اور دفن کر دیا اور ‘‘مرو’’ کی طرف روانہ ہو گیا ۔ یزید بن مہلب نے عبدالملک بن مروان کو مہلب بن ابی صفرہ کے انتقال کی خبر دی اور یہ اطلاع بھی دی کہ انہوں نے مجھے جانشین مقرر کیا ہے ۔حجاج بن یوسف نے بھی اس کی توثیق کردی اور یزید بن مہلب باقاعدہ خراسان کا گورنر بن گیا ۔
ا82 ھجری کا اختتام
حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث کے درمیان کوفہ میں جنگ جاری تھی کہ 82 ھجری کا اختتام ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 82 ھجری میں مہلب بن ابی صفرہ کے انتقال کے بعد حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو خراسان کا گورنر مقرر کر دیا ۔ امام واقدی کے بیان کے مطابق جمادی الآخر میں عبدالملک بن مروان نے ابان بن عثمان کو معزول کر کے اُس کی جگہ ہشام بن سماعیل مخزومی کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنایا ۔ ہشام بن اسماعیل نے نوفل بن ماحق عامری کو معزول کر کے عمرو بن خالد زرقی کومدینۂ منورہ کا قاضی مقرر کیا ۔ اِس سال ابان بن اسماعیل نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ حجاج بن یوسف کوفہ ، بصرہ اور تمام مشرقی صوبوں کا گورنر تھا ۔ اور ملک مصر کا گونر عبدالعزیز بن مروان تھا ۔
ا82 ھجری میں جن اعیان کا انتقال ہوا
ا82 ھجری میں کئی مشہور تابعین کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 82 ھجری میں حضرت اسماء بن خارجہ فرازی کا انتقال ہوا ۔ آپ بے حد سخی اور فیاض انسان تھے ۔ اِ س سال مہلب بن ابی صفرہ اور اُس کے بیٹے مغیرہ بن مہلب کا بھی انتقال ہوا ۔ اِس سال حارث بن عبداﷲ کا بھی انتقال ہوا ۔ آپ قباع کے نام سے مشہور تھے اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے دور ِ حکومت میں بصرہ کے گورنر تھے ۔ اِس سال حضرت محمد بن اُسامہ بن زید کا بھی انتقال ہوا۔ آپ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے تمام بیٹوں میں انتقال کے وقت سب سے زیادہ عقل مند اور زیرک سمجھے جاتے تھے ۔ مدینۂ منورہ میں انتقال ہوا اور جنت البقیع میں دفن کئے گئے ۔ اِس سال عبداﷲ بن ابی طلحہ بن ابی اسود کا انتقال ہوا ۔ عبداﷲ بن ابی طلحہ کی والدہ سیدہ اُم سُلیم رضی اﷲ عنہا جب حاملہ ہوئیں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بشارت دی کہ ایک نیک بیٹا پیدا ہوگا ۔ جب آپ پیدا ہوئے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں اُن کے والد حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ عنہ لئے گئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے کھجور چبا کر انہیں کھلائی اور گھٹی دی ۔ اِس سال عبداﷲ بن کعب بن مالک کا انتقال ہوا ۔ آپ اپنے قبیلہ کے سردار تھے اور نابینا تھے ۔ آپ سے بہت سی روایات مروی ہیں اور مدینۂ منورہ میں انتقال ہوا۔ اِس سال حضرت عفان بن وہب یمنی خولانی مصری کا انتقال ہوا ۔ اِن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہوا ہے ۔ اِن سے بھی روایات ثابت ہیں ۔ آپ مغرب کی جنگوں میں شریک رہے اور ملک مصر میں مقیم رہے اور وہیں انتقال ہوا۔ اِس سال حضرت عُمر بن عبیداﷲ کا انتقال ہوا ۔ آپ کے ہاتھ پر بہت سے شہر فتح ہوئے ۔ آپ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے دور ِ حکومت میں بصرہ کے گورنر تھے ۔ آپ نے حضرت عبداﷲ بن حازم کے ساتھ کابل بھی فتح کیا ۔آپ عبدالملک بن مروان کے پاس دمشق میں رہتے تھے اور وہیں انتقال ہوا۔
ا83 ھجری : عبد الرحمن بن اشعث کی شکست
ا83 ھجری کے شروع ہوتے ہی حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث کے درمیان کوفہ کے پاس جنگ شروع ہو گئی اور یہ جنگ لگ بھگ ساڑھے پانچ مہینے تک چلی اور جمادی الآخر میں حجاج بن یوسف کو فتح حاصل ہوئی ۔ علامہ عمادلدین ابن کثیر لکھتے ہیں : 83 ھجری شروع ہوا تو اس کے ساتھ ہی لوگوں نے جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ حجاج بن یوسف اور اُس کی فوج ‘‘دیر قرہ’’ میں اور عبدالرحمن بن اشعث اور اُس کی فوج ‘‘دیر جماجم’’ میں آمادۂ جنگ نظر آتے تھے ۔ حتیٰ کہ جنگ اُن کا روز مرّہ کا شغل بن گئی ۔ بیشتر دنوں میں اہل عراق ، اہل شام پر کامیابی حاصل کرلیتے تھے ۔ عبدالرحمن بن اشعث جو اہل عراق کا سپہ سالار تھا وہ اہل شام یعنی حجاج بن یوسف کے سپاہیوں پر اسی (80) مرتبہ سے زیادہ حملہ کر کے سخت جانی نقصان پہنچا چکا تھا ۔ اِس کے باوجود حجاج بن یوسف اپنی فوج کے ساتھ ثابت قدم تھا اور اثبات و عزم اور صبر و استقلال سے یہ سب کچھ برداشت کر رہا تھا اور اس کے قدم اپنی جگہ سے نہیں ڈگمگائے ۔ بلکہ جب کسی دن اُس کی فوجوں کو اہل عراق پر فتح حاصل ہوتی تھی تو مزید سخت حملے اُن پر کرتا تھا اور اپنی فوجوں کی کامیابی اور جنگی چالوں سے برابر باخبر رہتا تھا ۔ وہ اِسی طریقہ پر عمل پیرا رہا حتیٰ کہ ایک دن اُس نے اپنی فوج کو قاریوں کے اوپر حملہ کرنے کا حکم دے دیا کیونکہ لوگ اُن کے بڑے متبعین تھے اور قاریوں کا کام فوج کو قتال پر اُبھارنا تھا ۔ قاریوں نے اِس حملے کو صبر سے برداشت کیا تو حجاج بن یوسف نے تیر اندازوں کو جمع کر کے اُن سے قاریوں پر حملہ کرا دیا ۔ یہ حملہ اُس وقت تک جاری رہا جب تک کہ تمام قاری مارے نہیں گئے ۔
قاریوں کے مرنے سے اہل عراق کے حوصلے ٹوٹ گئے اور حجاج بن یوسف نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ عبدالرحمن بن اشعث کے سپاہی میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے ۔ اُس نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن پھر وہ بھی فرار ہونے لگا ۔ اُس وقت اُس کے ساتھ تھوڑے ہی لوگ تھے ۔
عبدالرحمن بن اشعث کی گرفتاری
عبدالرحمن بن اشعث میدان چھوڑ کا بھاگا اور حجاج بن یوسف نے اُس کا پیچھا کیا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے ایک بڑی فوج لیکر عبد الرحمن بن اشعث کا پیچھا کیا ۔ چونکہ تعاقب کے دوران دوسرے علاقوں کو روندتے ہوئے اکثر گزرنا پڑتا تھا ۔ یہ لوگ عبد الرحمن بن اشعث کا پیچھا کرتے ہوئے ‘‘کریان’’ تک پہنچ گئے اور ایک ا یسی جگہ پہنچے جہاں اہل عراق پہلے مقیم رہ چکے تھے ۔ اِس کے بعد عبدالرحمن بن اشعث اپنے بچے کچھ ساتھیوں کو لیکر ترک بادشاہ رتبیل کی طرف روانہ ہوا ۔ جب وہ رتبیل کے علاقے سے گزر رہا تھا تو وہاں ایک ترک افسر ملا ۔ اُس نے عبدالرحمن بن اشعث کی بڑی آؤ بھگت کی اور تحفے دیئے اور کہا :‘‘ تم میرے شہر آجاؤ میں تمہیں دشمنوں سے بچا لوں گالیکن اپنے کسی ساتھی کو شہر میں داخل ہونے نہیں دینا ۔’’ اُس نے قبول کر لیا اور اُس ترک افسر کی بات مانتا رہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کے ساتھی منتشر ہو گئے اور الگ الگ علاقوں میں چلے گئے ۔ جب عبدالرحمن بن اشعث شہر میں داخل ہوا تو اُس افسر نے اُسے گرفتار کر لیا اور حجاج بن یوسف کے پاس لے جانے کا ارادہ کیا۔
ترک بادشاہ رتبیل نے آزاد کرایا
عبد الرحمن بن اشعث کو ایک ترک افسر نے گرفتار کر لیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ترک بادشاہ رتبیل کو عبدالرحمن بن اشعث کے راز کا علم تھا ۔ جب اُسے اِس واقعہ کا علم ہو تو اُس وقت وہ افسر شہر ‘‘بست’’ میں قیام پذیر تھا ۔ رتبیل وہاں پہنچا اور اُس نے شہر بست کا محاصرہ کر لیا اور اُس افسر کو کہلا بھیجا : ‘‘ اگر تم نے عبدالرحمن بن اشعث کو زرا بھی تکلیف پہنچائی تو میں اُس وقت تک دم نہیں لوں گا جب تک کہ تجھے اور تیرے شہر کے تمام لوگوں کو قتل نہیں کر لوں گا ۔’’وہ ترک افسر یہ خط پڑھ کر کانپ اُٹھا اور عبد الرحمن بن اشعث کو رتبیل کے پاس پہنچا دیا ۔ رتبیل نے عبد الرحمن بن اشعث کی بہت تعظیم و تکریم کی ۔ اِس کے بعد اُس نے کہا: ‘‘ یہ میرا افسر ہے اور اِس نے مجھ سے غداری کی ہے اب اجازدت دو تو میں اِسے قتل کر دوں۔’’ لیکن وہ راضی نہیں ہوا اور رعبد الرحمن بن اشعث کو رتبیل لیکر اپنے علاقے میں چلا گیا ۔
عبد الرحمن بن اشعث کی رتبیل کے پاس واپسی
عبد الرحمن بن اشعث کے ساتھی جو جنگ سے بھاگے تھے وہ جمع ہوئے اور اُسے دعوت دی کہ آکر ہماری قیادت کرو۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اُس وقت عبد الرحمن بن اشعث کے ساتھ عبد الرحمن بن عباس بھی تھا ۔ جو لوگ میدان جنگ سے بھاگے تھے وہ پھر اکٹھے ہوئے اور عبدالرحمن بن اشعث کی تلاش میں نکلے ۔ یہ لوگ تعداد میں ساٹھ ہزار تھے ۔ جب یہ لوگ سجستان پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ عبد الرحمن بن اشعث ترک بادشاہ رتبیل کے پاس ہے ۔ انہوں نے سجستان پر قبضہ کر لیا اور وہاں کے گورنر عبداﷲ بن عامرکو بہت تکلیفیں دیں اور پھر سجستان میں لوٹ مار کی اور عبدالرحمن بن اشعث کو خط لکھا: ‘‘ آپ ہمارے پاس آجایئے تاکہ ہم آپ کے ساتھ مل کر اپنے دشمن سے لڑیں اور خراسان کا ملک بھی چھین لیں ۔ وہاں بہت سی فوجیں ہیں اور کافی دفاعی قوت رکھتے ہیں ۔ اگر ہم وہاں پہنچ کر اُن پر قابو پا سکیں تو اﷲ تعالیٰ ہمارے ذریعے حجاج بن یوسف یا عبد الملک بن مروان کو ہلاک کر دے گا ۔ ۔اِس کے بعد ہم آپس میں مناسب طور پر مشورہ کریں گے کہ آگے کیا کرنا ہے ۔’’ یہ خط پڑھ کر عبد الرحمن بن اشعث چل پڑا ۔ ابھی وہ خراسان کی طرف تھوڑا ہی بڑھا تھا کہ اہل عراق کے کچھ فوجیوں نے جن میں عبداﷲ بن سمرہ بھی شامل تھا عبد الرحمن بن اشعث کو معزول کر دیا ۔ یہ دیکھ کر اُس نے کہا : ‘‘ اے غدار اور جنگ سے جی چُرانے والو! مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہے اور میں ترک بادشاہ رتبیل کے پاس واپس جا رہا ہوں اور اُسی کے پاس رہوں گا ۔’’ یہ کہہ کر وہ رتبیل کے پاس
واپس چلا گیا ۔
یزید بن مہلب نے شکست دی
جب عبد الرحمن بن اشعث ترکی بادشاہ رتبیل کے پاس چلا گیا تو اہل عراق نے عبد الرحمن بن عباس کو اپنا سپہ سالار بنا لیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب عبد الرحمن بن اشعث رتبیل کی طرف روانہ ہوا تو کچھ تھوڑے لوگ اُس کے ساتھ گئے اور ایک جم غفیر وہیں رہ گیا ۔ انہوں نے عبد الرحمن بن عباس کو اپنا سپہ سالار بنا لیا اور اُس کے ساتھ خراسان کی طرف روانہ ہو گئے ۔ خراسان کے گورنر یزید بن مہلب کو جب اِن کی آمد کی اطلاع ہوئی تو وہ بھی فوج لیکر آگے آیا اور انہیں خراسان میں داخل ہونے سے منع کیا اور عبد الرحمن بن عباس کو خط لکھا: ‘‘ یہ ملک بڑا وسیع ہے ۔ جدھر تمہارے لوگ اور تم جانا چاہو وہاں چلے جانا جہاں کسی کی حکمرانی نہ ہو ۔ مجھے تمہیں قتل کرنا پسند نہیں ہے ،اگر تمہیں مال و دولت چاہیئے تو وہ بھی تمہارے پاس بھیج دیتا ہوں ۔’’ اِس کا جواب عبد الرحمن بن عباس دیا : ‘‘ ہم تم سے لڑنے نہیں آئے ہیں ، یہاں زرا دم لینے اور سستانے کے لئے آئے ہیں ۔ ہم آرام کر کے خود چلے جائیں گے اور تمہیں تمہارے مال و دولت کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔’’ لیکن اِس کے بعد عبد الرحمن بن عباس نے آس پاس کے علاقوں سے خراج کی وصولیابی شروع کر دی اور خراسان کے بعض علاقوں پر اپنا اقتدار جمانا چاہا۔ یہ دیکھ کر یزید بن مہلب اپنی فوج لیکر نکلا اور اُس کا بھائی مفضل بن مہلب بھی فوج لیکر نکلا ۔ اِن دونوں بھائیوں نے عبد الرحمن بن عباس اور اُس کی فوج سے زبردست جنگ کی اور اُسے شکست دی ۔ بیشمار لوگوں کو قتل کیا اور اچھے خاصے لوگوں کو قیدی بنایا ۔ بہت سے لوگ بھاگ گئے ۔ قیدیوں میں محمد بن سعد بن ابی وقاص بھی تھا ۔ جب یزید بن مہلب قیدیوں کو حجاج بن یوسف کے پاس بھیجنے لگا تو اُس نے کہا: ‘‘ میں تم سے اپنے اور تمہارے باپ کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے حجاج بن یوسف کے پاس نہ بھیجو۔’’ یہ سن کر یزید بن مہلب نے اُسے چھوڑ دیا ۔ جب تمام قیدی حجاج بن یوسف کے پاس پہنچے تو اُس نے بہت سوں کو قتل کر دیا اور کچھ کو چھوڑ دیا ۔
حجاج بن یوسف کا کوفہ میں قتل عام
عبدالرحمن بن اشعث کو شکست دینے کے بعد جب حجاج بن یوسف کوفہ میں داخل ہوا تو وہاں قتل عام شروع کر دیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ یزید بن مہلب نے جو قیدی بھیجے تھے اُن میں سے پانچ ہزار کو حجاج بن یوسف نے قتل کرا دیا اور پھر جب کوفہ میں داخل ہوا تو اُس نے اعلان کیا کہ وہ کسی ایسے شخص کی بیعت قبول نہیں کرے گا جو اپنے کفر کا اقرا رنہ کرے ۔ اِس لئے جو بھی یہ کہتا کہ میں واقعی کفر کا مرتکب ہوا تھا تو اُس کی بیعت قبول کر لیتا تھا اور جو کوئی اقرار کرتا تھا اور کفر کے ارتکاب کا انکار کرتا تھا تو اُس کو قتل کرا دیتا تھا ۔ اِس طرح اُس نے کوفہ میں قتل عام کر دیا اور بہت سوں کو قتل کرا دیا ۔ اِسی دوران حجاج بن یوسف ایک شخص کے پاس سے گزرا اور اُسے غور سے دیکھنے کے بعد بولا:ـ ‘‘ میرا خیال ہے یہ شخص اپنے کفر کا اقرار اپنے دین کی بقا و اصلاح کی خاطر نہیں کرے گا حالانکہ یہ مجھے فریب دینا چاہتا ہے ۔’’ اُس شخص نے حجاج بن یوسف کی بات سن کر کہا : ‘‘ تُومیرے نفس کے بارے میں مجھے دھوکہ میں رکھنا چاہتا ہے ؟ میں تو دنیا کا سب سے بڑا کافر ہوں ،فرعون ، ہامان اور نمرود سے بھی زیادہ ۔’’ اُس کی بات سن کر حجاج بن یوسف ہنس پڑا اور اُسے چھوڑ دیا ۔
واسط شہر کی تعمیر
اِس سال 83 ھجری میں حجاج بن یوسف نے واسط شہر بسایا اور وہاں پر ایک جامع مسجد بنائی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف اپنے ساتھیوں کے ساتھ شہر سے باہر نکلا اور کسکر کے قریب اقامت گزیں ہوا ْ۔ وہ ابھی اِسی موضع میں تھا کہ اُس نے ایک راہب کو گدھی پر سوار سامنے سے آتے دیکھا ۔ اُس راہب نے دریائے دجلہ کو عبور کیا اور جب وہ ٹھیک اُس جگہ جہاں شہر واسط ہے پہنچا تو وہ گدھی ایک دم سے گر پڑی اور پیشاب کر دیا ۔ راہب اُتر پڑا اور جس جگہ گدھی نے پیشاب کیا تھا وہاں کی مٹی کھود کر دریائے دجلہ میں ڈال دی ۔ یہ تمام واقعہ حجاج بن یوسف دیکھ رہا تھا ۔اُس سے حکم دیا : ‘‘ راہب کو میرے پاس لاؤ۔’’ راہب کو سامنے لایا گیا تو حجاج بن یوسف نے اُس سے دریافت کیا : ‘‘ تم نے ایسا کیوں کیا؟ ’’ راہب نے جواب دیا: ‘‘ یہ ہمارے صحائف میں لکھا ہوا ہے کہ اِس مقام پر ایک مسجد بنائی جائے گی اور جب تک دنیا میں ایک بھی مسلمان ہوگا یہاں اﷲ کی عبادت کی جاتی رہے گی ۔ ’’ اِس کے بعد حجاج بن یوسف نے شہر واسط کی حد بندی کرائی اور اسی جگہ ایک مسجد بنوائی۔
ا83 ھجری کا اختتام
علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 83 ھجری میں حجاج بن یوسف نے قتیبہ بن مسلم کو ‘‘رے’’ کا گورنر بنا یا ۔ ہشام بن اسماعیل مدینۂ منورہ کا گورنر تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر حجاج بن یوسف تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبد العزیز بن مروان تھا ۔
ا83 ھجری میں جن عمائدین کا انتقال ہوا
اِس سال جن عمائدین کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہ ہیں۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 83 ھجری میں عبدالرحمن بن حجیرہ خولانی مصری کا انتقال ہوا ۔ آپ نے صحابہ کی ایک جماعت سے روایت کی ہے ۔ ملک مصر کے گورنر عبدالعزیز بن مروان نے آپ کو قضاء (سپریم کورٹ) قصص اور بیت المال کے عہدے دے رکھے تھے اور ان کی سالانہ تنخواہ ایک ہزار دینار ملتی تھی ۔ انہوں نے کبھی ایک حبہ بھی جمع کر کے نہیں رکھا ۔ اِس سال طارق بن شباب بن عبد شمس حمصی کا انتقال ہوا ۔ یہ اُن خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ۔ ۔آپ نے خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِخلافت میں جنگوں میں حصہ لیا تھا ۔ آپ کا انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا تھا ۔ اِس سال عبیداﷲ بن عدی بن خیار کا انتقال ہوا ۔آپ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ۔ آپ نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے احادیث روایت کی ہیں۔ آپ مدینۂ منورہ کے قاضی تھے اور قریش کے عالموں اور فقیہوں میں شمار ہوتے تھے ۔ آپ کا باپ عدی غزوۂ بدر میں کفر کی حالت میں مارا گیا تھا ۔
ا84 ھجری : قلعہ باذغیس کی تسخیر
ا84 ھجری میں قلعہ باذغیس فتح ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 84 ھجری میں یزید بن مہلب نے نیزک کے قلعہ باذغیس کو فتح کیا ۔ نیزک اِس قلعہ میں آ کر فروکش ہوا کرتا تھا ۔ یزید بن مہلب اُس سے جہاد کرنے کے لئے روانہ ہوا اور نیزک کی نقل و حرکت کی دیکھ بھال کے لئے خبر رساں مقرر کر دیئے ۔جب یزید بن مہلب کو نیزک کی روانگی کا اطلاع ملی تو وہ اس کی راہ مزاحم ہوا ۔نیزک کو بھی معلوم ہو گیا کہ دشمن میری تاک میں گھات لگائے بیٹھا ہے تو وہ پلٹ گیا اور اِس شرط پر صلح کر لی کہ قلعہ میں جو کچھ ہے وہ سب یزید کو دے دیا جائے اور نیزک اپنے اہل و عیال کے ساتھ قلعہ چھوڑ کر چلا جائے ۔ یزید بن مہلب نے اِس فتح کی خبر حجاج بن یوسف کو بھیج دی ۔
ا84 ھجری کا اختتام
ا84 ھجری میں کئی واقعات ہوئے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال عبداﷲ بن عبدالملک نے ‘‘مصیصہ ’’ فتح کیا ۔ اِس سال محمد بن مروان نے آرمینیہ میں جنگ کی اور وہاں بہت سوں کو قتل کیا ، گرجاؤں پر قبضہ کیا ۔ اِ س سال کو ‘‘آگ کا سال’’ بھی کہا جاتا ہے ۔ اِس سال حجاج بن یوسف نے فارس پر چڑھائی کے لئے محمد بن قاسم ثقفی کو مامور کیا اور اُسے کردوں کو قتل کر دینے کا حکم دیا ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے اسکندریہ کا گورنر عیاض بن غنم جہنی کو بنایا ۔(اُس وقت اسکندریہ ،ملک مصر سے ایک الگ ملک تھا ) اِس سال موسیٰ بن نصیر نے مغرب کے کچھ علاقے جن میں ارومہ کا علاقہ بھی شامل تھا فتح کر لئے اور تقریباً ہزار لوگوں کو قیدی بنایا ۔ اِس سال وہی سب گورنر رہے جو پچھلے سال تھے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں