ا40 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 40
عبدالرحمن بن اشعث اور ترک بادشاہ رتبیل میں صلح، عبدالرحمن بن اشعث کا حجاج بن یوسف پر حملہ، مہلب بن ابی صفرہ نے دونوں کو سمجھایا، عبدالملک بن مروان کا اہل شام سے خطاب، حجاج بن یوسف کی پیش قدمی، حجاج بن یوسف کے مقدمۃ الجیش کی شکست، حجاج بن یوسف کی بصرہ واپسی، حجاج بن یوسف کی پہلی شکست، عبدلرحمن بن اشعث کا بصرہ پر قبضہ، 81 ھجری کا اختتام، حضرت محمد بن علی (حنیفہ) رضی اﷲ عنہ کا انتقال، جنگ زاویہ اور عبدالرحمن بن اشعث کی شکست، عبد الرحمن بن اشعث کا کوفہ پر قبضہ، عبد الملک بن مروان کی پیش کش اور حجاج بن یوسف کی چال، جنگ جماجم، یزید بن مہلب ‘‘مرو’’ کا گورنر،
عبدالرحمن بن اشعث اور ترک بادشاہ رتبیل میں صلح
اِس کے بعد عبدالرحمن بن اشعث نے ترک بادشاہ رتبیل سے صلح کر لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس تقریر کے بعد تمام لوگ عبدالرحمن بن اشعث کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے ۔ عبدالرحمن بن اشعث نے کہا: ‘‘ آپ لوگ میرے ہاتھ پر اِس بات کے لئے بیعت کریں کہ ہمارا حجاج بن یوسف سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ اُس کے مقابلے میں آپ میری مدد و حمایت کریں گے تاکہ ہم اُسے ملک عراق سے نکال دیں ۔ ’’ اِس کے بعد اُس نے ترک بادشاہ رتبیل کے پاس صلح کرنے کے لئے سفیر بھیجا اور دونوں میں اِس بات پر صلح ہو گئی کہ اگر عبدالرحمن بن اشعث حجاج بن یوسف کے مقابلے میں کامیاب ہوا تو رتبیل اُسے آگے خراج نہیں دے گا اور اگر عبدالرحمن ناکام ہوا تو وہ رتبیل کے پا س آجائے گا اور وہ اُسے پناہ دے گا ۔
عبدالرحمن بن اشعث کا حجاج بن یوسف پر حملہ
اِس کے بعد عبد الرحمن بن اشعث اپنے لشکر کو لیکر حجاج بن یوسف سے مقابلے کے لئے روانہ ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن اشعث سجستان سے ملک عراق کی طرف روانہ ہوا تو اُس نے عطیہ بن عمرو کو ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر مقرر کر کے آگے بھیجا ۔ حجاج بن یوسف نے اُس کے مقابلے کے لئے اپنا ‘‘مقدمۃ الجیش’’ بھیجا اور اُسے عطیہ بن عمرو نے شکست دے دی ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے پوچھا : ‘‘ ہمارے مقابلے میں کون شخص ہے ؟ ’’ لوگوں نے کہا: ‘‘ عطیہ ہے ۔’’ عبد الرحمن بن اشعث آگے بڑھتا ہوا ‘‘کرمان’’ تک پہنچا تو حجاج بن یوسف نے خرشہ بن عُمر تمیمی کو ‘‘ مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر بنا کر روانہ کیا ۔ جب تمام لشکر سر زمین فارس میں داخل ہوا تو لوگوں نے آپس میں مشورہ شروع کر دیا کہ ہم نے حجاج بن یوسف کے خلاف بغاوت کا عَلَم بلند کیا ہے تو گویا ہم نے عبدالملک بن مروان کے خالف بغاوت کی ہے ۔سب لوگ عبدالرحمن بن اشعث کے پاس جمع ہوئے اور عبدالملک بن مروان کی اطاعت سے انکار کر دیا اور عبدالرحمن بن اشعث کی بیعت کر لی ۔ جب حجاج بن یوسف کو اِن واقعات کی اطلاع ہوئی تو اُس نے عبد الرحمن بن اشعث کی بغاوت کے بارے میں عبدالملک بن مروان کو خط کے ذریعہ اطلاع دی اور درخواست کی کہ آپ میری امداد کے لئے فوج روانہ فرمایئے ۔ اِس کاروائی کے بعد حجاج بن یوسف بصرہ آگیا ۔
مہلب بن ابی صفرہ نے دونوں کو سمجھایا
حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث آپس میں لڑ رہے تھے ۔جب مہلب بن ابی صفرہ کو اِس کی اطلاع ملی تو اُس نے دونوں کو سمجھایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :مہلب بن ابی صفرہ کو عبدالرحمن بن اشعث کی بغاوت کا اُسی وقت علم ہو چکا تھا جب عبدالرحمن بن اشعث سجستان میں تھا ۔اُسے مہلب بن ابی صفرہ نے خط لکھا: ‘‘ حمدو ثناء کے بعد! اے عبدالرحمن بن اشعث! تم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کے خلاف اپنا پاؤں سخت گمراہی و ضلالت کی رکاب میں رکھا ہے ۔ دیکھو خوامخواہ اپنی عزیز جان کو ورطۂ ہلاکت میں نہ ڈالو اور مسلمانوں کے قیمتی خون کو نہ بہاؤ۔ اتحاد اُمت میں تفرقہ نہ ڈالو اور اپنے عہد و اطاعت و وفا داری کو نہ توڑو۔اگر تم یہ کہو کہ میں اپنے ساتھیوں سے خوفزدہ ہوں کہ مبادا میری جان کے درپے نہ ہو ں جائیں تو اﷲ تعالیٰ اُن لوگوں کے مقابلہ میں اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اُس سے ڈرو ۔ اِس لئے خون بہا کر یا محرمات کو حلال سمجھ کر تم اپنی جان کو اﷲ کے سامنے مجرم نہ بناؤ ۔والسلام علیک۔’’اِسی طرح مہلب بن ابی صفرہ نے حجاج بن یوسف کو بھی خط لکھا: ‘‘ حمد و صلاۃ کے بعد! اہل عراق آپ کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں ۔اُن کی مثال ایک ایسے سیلاب کی ہے جو بلندی سے پستی کی طرف آرہا ہو اور جب تک وہ ہموار سطح تک نہیں پہنچ جاتا کوئی شئے اُس کی روانی کو نہیں روک سکتی ۔ بالکل یہی مثال اہل عراق کی ہے ،کاروائی کی ابتداء میں ان میں بہت زیادہ جوش و خروش ہوتا ہے اور اپنے اہل و عیال سے ملنے کا جنون اُن کے سروں پر سوار اور اِس جوش کی حالت میں کوئی چیز انہیں نہیں روک سکتی ہے ۔ البتہ جب وہ اپنے اہل و عیال میں پہنچ جائیں اور ان میں گھل مل جائیں تو اُس وقت آپ اُن کے خلاف کاروائی کریں اور انشاء اﷲ ایسی صورت میں اﷲ تعالیٰ آپ کو ان پر فتح دینے والا ہے ۔’’ حجاج بن یوسف نے اِس خط کو پڑھ کر کہا: ‘‘ اﷲ تعالیٰ جو کرتا ہے وہی ہوتا ہے اور اُس کے سوا کچھ نہیں ۔ حالانکہ میں مہلب بن ابی صفرہ کا ہم خیال نہیں ہو سکتا مگر اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کا مشورہ خیر خواہانہ ہے ۔’’
عبدالملک بن مروان کا اہل شام سے خطاب
عبدالرحمن بن اشعث کی بغاوت سے پوری مملکت اسلامیہ پر اثر پڑا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حجاج بن یوسف کا خط عبدالملک بن مروان کے پاس پہنچا تو اُسے سخت تشویش پیدا ہوئی اور وہ اپنے تخت پر سے اُتر پڑا ۔ اُس نے خالد بن یزید بن معاویہ کو بلوا بھیجا اور خط پڑھوایا۔ خالد بن یزید بن معاویہ نے عبدالملک بن مروان کو خوف و ہراس میں دیکھ کر کہا :‘‘ امیر المومنین! اگر یہ فتنہ سجستان کی سمت سے رونما ہوا ہے تو آپ ہر گز خوف نہ کریں ۔ البتہ اگر یہ فتنہ خراسان سے اُٹھا ہوتا تو آپ کے لئے تشویش کا باعث ہو سکتا تھا ۔ ’’عبدالملک بن مروان اپنے قصر سے باہر آیا اور رعایا کے سامنے تقریر کرنے کھڑا ہوااور حمد و صلاۃ کے بعد بولا: ‘‘ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اہل عراق پر میری زندگی دوبھر ہو گئی ہے اور انہوں نے میری طاقت کا اندازہ لگانے میں جلد بازی سے کام لیا ہے ۔ اے اﷲ! تُو ان پر اہل شام کی تلواروں کو مسلط کردے تاکہ وہ پھر تیری خوشنودی کے حلقہ میں آجائیں اور جب وہ تیری خوشنودی حاصل کر لیں تو پھر ایسا کوئی فعل نہ کریں جو تیری ناراضگی کا باعث ہو ۔’’ یہ تقریر ختم کر کے عبدلملک بن مروان منبر سے اُتر آیا ۔
حجاج بن یوسف کی پیش قدمی
اِدھر عبدالرحمن بن اشعث اپنی فوج لیکر حجاج بن یوسف کی طرف بڑھ رہا تھا اور اُدھر حجاج بن یوسف کے پاس ملک شام سے لشکر پہنچ رہا تھا اور وہ مقابلے کی تیاری کر رہا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف ابھی تک بصرہ میں ہی مقیم تھا اور عبدالرحمن بن اشعث سے مقابلہ کی تیاریاں کرنے لگا اور مہلب بن ابی صفرہ کی رائے پر عمل کرنے کا خیال ترک کر دیا ۔ ملک شام سے عبدالملک بن مروان روزآنہ حجاج بن یوسف کے پاس پچاس پچاس ، دس و بیس اور اس کے کم تعداد میں شہسوار بھیجنے لگا ۔ اِسی طرح حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان تک روزآنہ کے خطوط کی ڈاک کا انتظام کر دیا جس میں عبدالرحمن بن اشعث کی پل پل کی نقل و حرکت کہ آج وہ کس مقام پر مقیم ہے اور کہاں سے کوچ کیا اور کون کون سی جماعتیں اُس کے ساتھ شامل ہوتی جارہی ہیں مندرج ہوتی رہیں ۔ فضیل بن خدیج بیان کرتا ہے :‘‘ میں اُس وقت کرمان کی فوجی چھاؤنی پر تعینات تھا اور اس میں چار ہزار کوفہ اور بصرہ کے سوار متعین تھے ۔ جب عبد الرحمن بن اشعث کا اس مقام سے گذر ہوا تو یہ تمام فوج اُس کے ہمراہ ہو گئی ۔ حجاج بن یوسف نے فیصلہ کیا کہ وہ خود آگے بڑھ کر عبدالرحمن بن اشعث کا مقابلہ کرے ۔ اِسی غرض سے وہ شامی فوج لیکر مقام ‘‘تستر’’ پر آیا مطہر بن حرعکی یا جذامی اور عبداﷲ بن رمیثیہ کو ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے طور پر آگے روانہ کیا اور مطہر کو دونوں فوج کا سپہ سالار بنایا ۔
حجاج بن یوسف کے مقدمۃ الجیش کی شکست
اِدھر سے حجاج بن یوسف نے اپنے مقدمۃ الجیش کو بھیجا اور اُدھر سے عبدالرحمن بن اشعث نے اپنے مقدمۃ الجیش کو بھیجا ۔ دونوں میں جنگ ہوئی تو حجاج بن یوسف کے مقدمۃ الجیش کو شکست ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف کا مقدمۃ الجیش دریائے قارن تک پہنچا تو اُس پار عبدالرحمن بن اشعث کا مقدمۃ الجیش پہنچا ۔ اُس نے عبدالرحمن بن ابان حارثی کو اپنے مقدمۃ الجیش کا کمانڈر بنایا تھا تاکہ وہ عبدالرحمن بن اشعث اور اُس کی اصل فوج کے لئے بیرونی چوکی کے فرائض انجام دے ۔ جب مطہر بن حر اُس کے قریب پہنچا تو اُس نے عبداﷲ بن رمیثیہ طائی کو حملہ کرنے کا حکم دیا ۔ اُس نے حملہ کیا مگر اُسے شکست ہوئی اور وہ واپس مطہر بن حر کے پاس آگیا ۔ اِس جھڑپ میں اُس کے کئی ساتھی زخمی ہو گئے ۔ ابو زبیر ہمدانی اُس وقت عبدالرحمن بن اشعث کی فوج میں تھا بیان کرتا ہے کہ عبدالرحمن بن اشعث نے ہمیں حکم دیا کہ اِسی جگہ سے دریا عبور کرو ۔ ہم نے دریا میں گھوڑے ڈال دیئے اور پلک مارتے ہمارے رسالہ کے بیشتر حصہ نے دریا عبور کر لیا ۔ ابھی پوری فوج نے دریا عبور بھی نہیں کیا تھا کہ ہم نے مطہر بن حر اور عبداﷲ بن رمیثیہ طائی پر حملہ کر دیا اور یوم الاضحی ۸۱ ھجری میں ہم نے اُن دونوں کو شکست دی اور اُن کو جانی نقصان پہنچائے اور اُن کے تمام لشکر گاہ کو مال غنیمت کے طور پر حاصل کر لیا ۔
حجاج بن یوسف کی بصرہ واپسی
حجاج بن یوسف آگے بڑھ رہا تھا اور ایک جگہ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا کہ اُسے اپنے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کی شکست کی خبر ملی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف تقریر کر رہا تھا کہ اُسے اِس شکست کی خبر ملی ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے اپنے لشکر سے کہا :‘‘ یہاں سے بصرہ چلو کونکہ وہاں فوجی صدر مرکذ ہے اور مورچے میں تمام ضرریات زندگی مہیا ہیں ۔ ہم جس مقام پر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں وہ اتنی بڑی فوج کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا ۔’’ اِس کے بعد حجاج بن یوسف اپنی فوج کے ساتھ بصرہ واپس آنے لگا ۔ عبدالرحمن بن اشعث کا ‘‘مقدمۃ الجیش’’ اُس کے تعاقب میں چلا ۔ حجاج بن یوسف کی فوج میں سے جس کسی ایک دو سپاہیوں کویہ پاتے تو قتل کر ڈالتے اور جو کچھ ان کے پاس ہوتا اُس پر قبضہ کر لیتے تھے ۔ حجاج بن یوسف کی یہ کیفیت تھی کہ وہ کسی طرف توجہ ہی نہیں کر رہا تھا بلکہ سیدھا بصرہ کا رُخ کئے چلا جا رہا تھا ۔ جب اُس نے ‘‘زاویہ ’’ میں قیام کیا تو حکم دیا کہ تاجروں کے پاس جتنا غلہ اُس پر قبضہ کر لیا جائے ۔ یہ لوگ غلہ پر قبضہ کر کے زاویہ لے آئے اور بصرہ کو عبد الرحمن بن اشعث کے لئے چھوڑ دیا ۔ اُس وقت حجاج بن یوسف کی طرف سے حکم بن ایوبب ثقفی بصرہ کا گورنر تھا ۔
حجاج بن یوسف کی پہلی شکست
حجاج بن یوسف بصرہ کے قریب سے اپنا لشکر لیکر عبدالرحمن بن اشعث سے مقابلے کے لئے آگے بڑھا ہی تھا کہ وہ سر پر آ پہنچا اور دونوں لشکروں کا سامنا ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب باغیوں کے مقابلے میں حجاج بن یوسف کو پہلی مرتبہ زک اُٹھانی پڑی اور اُس نے پسپائی شروع کی تو مہلب بن ابی صفرہ کے خط کو منگوا کر پڑھا اور بولا : ‘‘ مہلب بن ابی صفرہ ایک تجربہ کار فوجی افسر ہے اور اُس نے ہمیں جو مشورہ دیا تھا کہ ہم بھی اہل عراق سے مزاحمت نہ کریں ۔مگر افسوس ہے کہ ہم نے نہیں مانا ۔’’ اُس زمانے میں عبداﷲ بن عامر بن مسمع پولیس کے اعلیٰ افسر اعلیٰ تھا ۔حجاج بن یوسف اپنی فوج کو لیکر ‘‘رستقباز’’ میں قیام پذیر ہو ا۔ یہ مقام ‘‘اہواز’’کے ذیلی علاقوں میں شامل ہے اور مقابلہ کے لئے فوجی انتظامات کئے ۔ دوسری طرف عبدالرحمن بن اشعث نے تستر میں آ کر پڑاؤ ڈالااور دونوں کے درمیان صرف ایک دریا حائل تھا ۔ حجاج بن یوسف نے مطہر بن حر کو دو ہزار کی فوج دیکر روانہ کیا ۔اُس نے عبد الرحمن بن اشعث کی چوکی پر چھا پا مارا ۔مگر عبد الرحمن بن اشعث فوراً مقابلہ کے لئے جھپٹا اور اہل عراق نے شامیوں کے پندرہ سو آدمی قتل کئے ۔ باقی شکست کھا کر حجاج بن یوسف کے پاس واپس آ گئے ۔ اُس روز حجاج بن یوسف کے پاس دیڑھ لاکھ کا لشکر تھا ۔ اُس نے اِس فوج کو اپنے کمانڈروں کے زیر قیادت کر دیا اور بصرہ کی طرف پسپائی شروع کی ۔
عبدلرحمن بن اشعث کا بصرہ پر قبضہ
حجاج بن یوسف کو شکست دینے کے بعد عبد الرحمن بن اشعث بصرہ کی طرف بڑھا اور اُس نے بصرہ پر قبضہ کر لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن اشعث نے اپنی فوج کے سامنے تقریر کی اور کہا: ‘‘ حجاج بن یوسف کیا چیز ہے ؟ ہم تو عبدالملک بن مروان سے لڑنا چاہتے ہیں ۔ بصرہ کے باشندوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ حجاج بن یوسف کو شکست ہوئی ہے تو انہوں نے خوشیاں منائیں ۔ پھر جب عبدالرحمن بن اشعث بصرہ میں داخل ہوا تو اُس کے ہاتھ پر حجاج بن یوسف کے مقابلہ میں لڑنے کے لئے اور عبدالملک بن مروان کی اطاعت سے نکلنے کے لئے بصرہ کے تمام باشندوں نے جس میں عابد و زاہد اور ادھیڑ عُمر کے تمام لوگ بھی شریک تھے بیعت کی۔حجاج بن یوسف نے اپنے گرد خندق کھود لی اور عبدالرحمن بن اشعث نے بھی بصرہ کے چاروں طرف خندق کھود لی ۔ عبدالرحمن بن اشعث 81 ھجری کے آخری مہینے ذی الحجہ میں بصرہ میں داخل ہوا ۔
ا81 ھجری کا اختتام
ا81 ھجری کا اختتام ہوا تو حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث ایکدوسرے کے مقابل صف آرا تھے ۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں: اِ س سال 81 ھجری میں سلیمان بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا اور اِسی سال ابن ابی ذئب پیدا ہوا۔ ابان بن عثمان بن عفان مدینۂ منورہ کا گورنر تھا ملک عراق ، رستمان اور دوسرے مشرقی صوبہ جات کا گورنر حجاج بن یوسف تھا ۔ مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر تھا اور اُس کا بیٹا مغیرہ بن مہلب خراسان کا افسر مال تھا ۔ ابو بردہ بن ابی موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے اور عبدالرحمن بن اُژنیہ بصرہ کے قاضی تھے ۔
حضرت محمد بن علی (حنیفہ) رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِس سال حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے بھائی محمد بن علی ( حنیفہ) کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِن کی کنیتہ ابوالقاسم اور ابوعبداﷲ تھی اور کنیت کے اعتبار سے ‘‘ابن حنیفہ’’ کہے جاتے تھے اور لوگ انہیں محمد بن حنیفہ کہتے تھے ۔ اِن کی والدہ کا انام خولہ ہے جن کا تعلق قبیلہ بنو حنیفہ سے تھا ۔ محمد بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں پیدا ہوئے ۔ یہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ اور عبدالملک بن مروان کے پاس بھی گئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی مروان بن حکم کو ‘‘جنگ جمل’’میں پٹک دیا تھا اور اُس کے سینے پر چڑھ بیٹھے تھے اور اُس کے قتل کا ارادہ کر چکے تھے کہ مروان بن حکم نے اﷲ تعالیٰ کی دہائی دی اور بہت عاجزی کی تو انہوں نے اس کو چھوڑ دیا ۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ عبدالملک بن مروان کے پاس حاضر ہوئے تو اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ کو وہ واقعہ یاد دلایا تو انہوں نے کہا:‘‘ چاہو تو سزا دے دو یا پھر چاہو تو معاف کر دو۔ ’’ اُس نے معاف کر دیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو بہت کچھ دیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ سادات قریش میں سے ہیں اور مشہور بہادروں میں شمار ہوتے تھے اور بہت طاقتور اور شہ زور سمجھے جاتے تھے ۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے جب مکۂ مکرمہ میں لگ بھگ گیارہ (11) سال حکومت کی تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ پر بیعت کے لئے بہت دباؤ ڈالا لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے بیعت نہیں کی ۔ 81 ھجری میں انتقال ہوا اور جنت البقیع میں دفن ہوئے ۔
جنگ زاویہ اور عبدالرحمن بن اشعث کی شکست
ا82 ھجری کی شروعات میں حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث میں شدید جنگ ہوئی لیکن آخر میں حجاج بن یوسف کو فتح حاصل ہوئی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مقام زاویہ پر حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث کے درمیان جنگ ہوئی ۔ ماہ محرم الحرام 82 ھجری میں اُن دونوں درمیان جنگ ہوتی رہی ۔ ایک دن فریقوں کے درمیان شدید جدال و قتال گرم ہوا مگر آخر کار عراقیوں نے شامیوں کو شکست دے دی اور شامی فوج پسپا ہو کر حجاج بن یوسف کے قریب آ گئی ۔ عراقی پیش قدمی کرتے ہوئے اُن کی خندقوں تک جا پہنچے اور یہاں بھی جنگ ہوئی ۔ تمام قریش اور بنو ثقیف شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئے ۔اِسی طرح پھر دونوں فریقوں میں ماہ محرم الحرام کے آخری دنوں میں ایک اور زبردست مقابلہ ہوا اور اِس جنگ میں عراقیوں نے شامیوں کو شکست دی اور شامیوں کا میمنہ اور میسرہ اُلٹ گیا ۔ اُن کے نیزے منتشر ہو گئے اور تمام صفیں درہم برہم ہو گئیں اور دشمن بڑھتے بڑھتے اُس جگہ پہنچ گیا جہاں ہم لوگ حجاج بن یوسف کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے ۔ حجاج بن یوسف لڑائی کا رنگ دیکھتے ہی دونوں گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا اور تقریباً بالشت اُس نے نیام سے کھینچ لی تھی اور بولا: ‘‘ سخت خطرہ اور مصیبت کے وقت حضرت مصعب بن زبیر نے کس دلیری اور بہادری کا اظہار کیا تھا ۔اﷲ کے لئے اُن کی خوبیاں ہیں ۔’’راوی کہتا ہے اِس جملہ سے میں نے سمجھ لیا کہ حجاج بن یوسف کا بھاگنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ میں نے اپنے والد کی جانب آنکھ ماری کہ اگر وہ اجازت دیں تو میں حجاج بن یوسف کا خاتمہ کر دوں مگر انہوں نے اُسی طرح آنکھ کے اشارے سے منع کر دیا ۔ میں خاموش ہو گیا اور میں نے مڑ کر دیکھا کہ سفیان بن ابرد کلبی نے عراقیوں پر حملہ کر کے دشمن کو پیچھے ہٹا دیا ہے ۔ میں حجاج بن یوسف سے کہا: ‘‘ جناب والا کو خوش خبری ہو کہ دشمن پیچھے ہٹ گیا ہے ۔’’اِس پر حجاج بن یوسف نے مجھے سے کہا : ‘‘ کھڑے ہو کر دیکھو۔’’میں نے کھڑے ہو کر دیکھا اور کہا :‘‘ بے شک اﷲ تعالیٰ نے دشمنوں کو شکست دی اور وہ بصرہ چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔’’ پھر حجاج بن یوسف نے زیاد کو حکم دیا : ‘‘ تم کھڑے ہو کر دیکھو۔’’ زیاد کھڑا ہوا اور دیکھ کر بولا: ‘‘ بے شک دشمن کو شکست ہوگئی ہے اور وہ بھاگ رہے ہیں۔’’ یہ سنتے ہی حجاج بن یوسف سجدہ میں گر پڑا۔ جب میں واپس پلٹا تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا اور بولے :‘‘ تُو نے تو میری اور میرے خاندان کی تباہی کا ارادہ کیا تھا ۔’’
عبد الرحمن بن اشعث کا کوفہ پر قبضہ
بصرہ میں شکست کھانے کے بعد عبدالرحمن بن اشعث کوفہ روانہ ہوا اور اُس پر قبضہ کر لیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : شروع محرم الحرام 82 ھجری میں حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث میں جنگ چھڑ گئی ۔ فریقین نے ایکدوسرے پر سختی کے ساتھ متعدد حملے کئے ۔ کبھی عبدالرحمن بن اشعث غالب آجاتا تھا اور کبھی حجاج بن یوسف غالب آجاتا تھا ۔ لیکن آخری جنگ جو ۲۹ محرم الحرام کو ہوئی اُس میں اہل عراق بھاگ کھڑے ہوئے اور اپنے سپہ سالار عبد الرحمن بن اشعث کے ساتھ کوفہ کا قصد کیا ۔ شکست کے دوران ایک ہزار آدمی قتل ہوئے اور تمام قصبات و دیہات میں قتل عام کا بازار گرم ہو گیا ۔ حجاج بن یوسف نے فتح حاصل کرنے کے بعد دس ہزار آدمیوں کو قتل کرایا ۔اِس جنگ کا نام ‘‘جنگ زاویہ’’ ہے ۔ عبد الرحمن بن اشعث کے کوفہ پہنچنے سے پہلے عبداﷲ بن عامر حضرمی جسے حجاج بن یوسف نے کوفہ کا گورنر بنایا تھا مطر بن ناجیہ تمیمی نے نکال کر ‘‘قصر امارت’’ پر قبضہ کر لیا تھا ۔ جب اہل کوفہ کو عبدالرحمن بن اشعث کی آمد کی اطلاع ہوئی تو وہ لوگ اُس کے استقبال کے لئے آئے اور نہایت احترام کے ساتھ اُسے کوفہ میں لے گئے ۔ چونکہ ہمدان نے مطر سے سازش کر لی تھی اور قصر امارت پر پورے طور پر وہی قابض تھے اِسی لئے مطر نے اُس کے کہنے پر عبد الرحمن بن اشعث کو قصر امارت میں داخل ہونے سے روکا ۔ عبد الرحمن بن اشعث نے کمند کے ذریعے اپنے سپاہوں کو چڑھایا جو اُس کو گرفتار کر کے لائے ۔ عبد الرحمن بن اشعث نے اُس کو قید کر لیا اور خود قصر امارت پر قابض ہو گیا ۔
عبد الملک بن مروان کی پیش کش اور حجاج بن یوسف کی چال
حجاج بن یوسف بصرہ میں انتظامات کر کے کوفہ روانہ ہوا اور عبدالرحمن بن اشعث کے سامنے صف بندی کر لی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جنگ کے خاتمے کے بعد حجاج بن یوسف بصرہ میں داخل ہوا اور حکیم بن ایوب ثقفی کو بصرہ کا گورنر مقرر کر کے کوفہ کی طرف بڑھا اور مقام ‘‘دویر منیر’’ میں پڑاؤ ڈال دیا ۔ عبدالرحمن بن اشعث نے کوفہ سے نکل کر ‘‘دیر جماجم ’’میں مورچہ بندی کر لی ۔ فریقین کی امدادی فوجیں آگئیں اور خندقیں کھود کر دُھس اور دمدمے باندھ دیئے گئے ۔ جنگ شروع ہو گئی اور روزآنہ دونوں فریق لڑتے ہوئے ایکدوسرے کو خندقوں تک دھکیلتے اور پھر نااُمید واپس آجاتے تھے ۔ اِسی دوران عبدالملک بن مروان نے اپنے لڑکے عبداﷲ بن عبدالملک اور بھائی محمد بن مروان کو ایک عظیم الشان لشکر کے ساتھ کوفہ روانہ کیا اور اہل عراق سے کہلا بھیجا کہ ہم حجاج بن یوسف کو معزول کئے دیتے ہیں اور اہل شام کی طرح تمہارے وظائف بھی جاری کر دیں گے اور عبدالرحمن بن اشعث جس صوبہ کو پسند کرے گا ہم اُس کا اُسے گورنر بنا دیں گے ۔ حجاج بن یوسف کو اِس پیام سے بہت صدمہ ہوا ۔اُس نے شاہی فرمان چھپا لیا اور ایک عریضہ عبدالملک بن مروان کے پاس روانہ کیا :‘‘ اِس طرح اہل عراق کی ہمت بڑھ جائے گی اور وہ کبھی مطیع نہیں ہوں گے ۔ کیا آپ کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور سعید بن عاص کا قصہ یاد نہیں ہے؟ ’’ عبدالملک بن مروان نے اِس رائے کو پسند نہیں کیا اور عبداﷲ بن عبدالملک اور محمد بن مروان نے اہل عراق کو عبدالملک بن مروان کا پیام دیا تو اہل عراق آپس میں مشورہ کرنے لگے ۔ عبدالرحمن بن اشعث نے کہا: ‘‘ عبدالملک بن مروان کی پیشکش قبول کرلو ۔اِس میں تمہاری بہتری ہے ۔’’ لیکن اہل عراق نے مخالفت میں صدائیں بلند کیں اور عبدالملک بن مروان سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔
جنگ جماجم
عبدالملک بن مروان کی پیشکش ٹھکرا کر عراقیوں نے خود اپنے پیر پر کلہاڑی مار لی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان کی طرف سے عبداﷲ بن عبدالملک اور محمد بن مروان نے پیش کش کی تو اہل عراق نے ٹھکرا دیا ۔ جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو عبداﷲ بن عبدالملک اور محمد بن مروان دونوں نے حجاج بن یوسف سے کہا: ‘‘ اب معاملہ تم پر منحصر ہے جو چاہو کرو ،ہم تمہاری اطاعت کریں گے جیسا کہ امیر المومنین عبدالملک بن مروان کا حکم ہے ۔ عبدالملک بن مروان کو جب معلوم ہوا کہ اہل عراق نے اُس کی پیشکش ٹھکرا دی ہے تو اُس نے جنگ کے تمام اختیارا حجاج بن یوسف کو سونپ دیئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عراقی اور شامی فوجیں پھر جنگ کرنے پر تُل گئیں ۔ حجاج بن یوسف نے میمنہ پر عبدالرحمن بن سُلیم کلبی کوکمانڈر بنایا ، میسرہ پر عمارہ بن تمیم لحمی کو کمانڈر بنایا ، سواروں کا کمانڈر عبدالرحمن بن عباس کو بنایا پیادوں کا کمانڈر محمد بن سعد کو بنایا ۔قلب کا کمانڈر عبداﷲ بن رزم کو بنایا ۔ لشکر مرتب ہونے کے بعد جنگ شروع ہو گئی ۔فریقین اپنے اپنے مورچے سے نکل کر ایکدوسرے پر صبح کو حملہ کرتے ۔دن بھر جنگ ہوتی رہتی اور شام کو واپس چلے جاتے ۔ عبدالرحمن بن اشعث کے سواروں نے نہایت مردانگی و استقلال سے جنگ کو جاری رکھا اور ۸۲ ھجری کا بقیہ پورا سال یہ جنگ چلتی رہی ۔
یزید بن مہلب ‘‘مرو’’ کا گورنر
خراسان میں مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر تھا اور اُس کا بیٹا مغیرہ بن مہلب ‘‘مرو’’ کا گورنر تھا ۔ جس وقت حجاج بن یوسف کوفہ میں عبدالرحمن بن اشعث سے جنگ میں مصروف تھا تو اسی دوران مغیرہ بن مہلب کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال مغیرہ بن مہلب کا انتقال ہوا ۔ اِس کی خبر اُس کے والد مہلب بن ابی صفرہ کو ہوئی تو اُس نے اپنے دوسرے بیٹے یزید بن مہلب کو ‘‘مرو’’ کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔جب وہ ‘‘مرو’’ کی طرف روانہ ہوا تو اُس کے ساتھ ستر سوار تھے ۔ ایک لق و دق صحرا میں پانچ سو ترکوں سے سامنا ہوا۔ ترکوں نے دریافت کیا: ‘‘ تم کون ہو؟’’ اُن لوگوں نے کہا: ‘‘ ہم تاجر ہیں۔’’ ترکوں نے کہا: ‘‘ تمہارا مال تجارت کہاں ہے ؟’’ مسلمانوں نے کہا: ‘‘ ہم نے آگے روانہ کر دیا ہے ۔’’ اِس پر ترکوں نے کہا: ‘‘ ہمیں بھی کچھ دو۔’’ یزید بن مہلب نے دینے سے بالکل انکار کر دیا ۔ مگر اُس کے ایک ساتھی مجاعۃ نے کچھ باریک ململ کے کپڑے کے تھان اور ایک کمان انہیں دیئے اور ترک لے کر واپس چلے گئے ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں