جمعہ، 30 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 39


 ا39 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 39

ترک بادشاہ رتبیل کے متعلق خط، 79 ھجری کا اختتام، 80 ھجری : مکۂ مکرمہ میں سیلاب، کش پر حملہ، یزید بن مہلب کی واپسی، حبیب بن مہلب کا حملہ، اہل کش سے صلح، عبد الملک بن مروان کا رتبیل کے خلاف فرمانِ جہاد، عبدالرحمن بن اشعث سپہ سالار، عبدالرحمن بن اشعث کا رتبیل پر حملہ، عبدالرحمن بن اشعث کی دور اندیشی، عبدالرحمن بن اشعث سجستان کا گورنر، 80 ھجری کا اختتام، حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲعنہ کا انتقال، 80 ھجری میں انتقال کرنے والی اہم شخصیات، حجاج بن یوسف کا جنگ جاری رکھنے پر اصرا ر، عبدالرحمن بن اشعث کا لشکر سے خطاب، 



ترک بادشاہ رتبیل کے متعلق خط


مسلمان رتبیل کے علاقوں میں سے بہت پریشانیوں سے واپس آئے اور جب حجاج بن یوسف کو اِس کی اطلاع ملی تو اُس نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف کو جب اِن واقعات کی اطلاع پہنچی تو اُسے رتبیل کی اگلی پچھلی حرکتیں یاد آگئیں اور یہ واقعہ تو حد کو پہنچ گیا تھا ۔ اِس لئے حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو حسب ذیل خط لکھا:‘‘ حمد و ثناء کے بعد! میں امیر المومنین کو مطلع کرتا ہوں کہ آپ کی جتنی فوج سجستان میں تھی وہ سب تباہ ہو گئی ہے ۔ بہت تھوڑے آدمی اُس میں سے بچے ہیں ،دشمن کو فتح حاصل ہوئی ہے ۔ اِس کی وجہ سے اُس کے حوصلے مسلمانوں کے خلاف اور بڑھ گئے ہیں۔وہ مسلمانوں کے علاقے میں گھس آیا ہے اور اُس نے مسلمانوں کے تمام قلعوں اور مستحکم قصروں پر قبضہ کر لیا ہے ۔ میرا ارادہ تھا کہ اہل بصرہ اور اہل کوفہ کی ایک زبردست فوج اُس کی سرکوبی کے لئے بھیج دوں ۔ مگر میں مناسب سمجھا کہ پہلے آپ کی رائے معلوم کی جائے ۔ پس اگر آپ لشکر بھیجنے کی اجازت فرمائیں تو میں اپنی رائے پر عمل کروں گا اور اگر آپ کا ارادہ مزید مہم بھیجنے کا نہ ہو تو آپ اپنی فوج کے مالک و مختار ہیں ۔کسی کو دخل دینے کا کیا موقع ہو سکتا ہے مگر مجھے خوف ہے کہ اگر رتبیل اور اُس کے ساتھ جو اور مشرکین کی جماعت ہے اُن کی سرکوبی کے لئے زبردست مہم نہ بھیجی گئی تو وہ اس مقام اور علاقہ پر قبضہ کر لیں گے ۔ ’’


ا79 ھجری کا اختتام


ا79 ھجری کے اختتام پر حجاج بن یوسف ملک عراق اور تمام ممالک مشرقیہ کا گورنر تھا ۔ مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر تھا ۔ملک مصرکا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر ابان بن عثمان بن عفان تھا اور اِسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ اِس سال کوفہ کا قاضی ابوبردہ بن موسیٰ تھا اور بصرہ کا قاضی موسیٰ بن انس تھا ۔ اِس سال ملک شام میں طاعون کی وبا اتنی شدت سے پھیلی کہ ایسا لگا کہ پوری آبادی فنا ہو جائے گی ۔ اِس وجہ سے کوئی مہم جہاد کے لئے نہیں بھیجی گئی ۔اِسی سال رومیوں نے باشندگان ِ انطاکیہ پر حملہ کر کے انہیں لوٹا اور تباہ برباد کیا ۔


ا80 ھجری : مکۂ مکرمہ میں سیلاب


اِس سال 80 ھجری میں مکۂ مکرمہ میں بہت ہی زبردست سیلاب آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 80 ھجری میں مکۂ مکرمہ میں ایک زبردست سیلاب آیا جو تمام حجاج کو بہا لے گیا اور مکۂ مکرمہ کے تمام مکانات غرق ہو گئے ۔ اِسی وجہ سے لوگوں نے اِس سال کا نام ‘‘عام المحجاف’’ رکھا کیونکہ جہاں تک سیلاب کی رسائی تھی وہ ہر شئے کو بہا کر لے گیا ۔ ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے اونٹ دیکھے جن پر سامان اور مرد اور عورتیں سوار تھے اور پانی انہیں بہائے لے جارہا تھا اور اُن کی بچنے کی کوئی تدبیر نہیں تھی ۔ پانی بڑھتے بڑھتے رکن کعبہ تک پہنچ گیا تھا ۔ امام واقدی کے مطابق اِس سال بصرہ میں طاعون پھیلا تھا ۔ 


کش پر حملہ


اِس سال مہلب بن ابی صفرہ نے کش پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 80 ھجری میں مہلب بن ابی صفرہ نے دریائے بلخ عبور کیا اور کش پر حملہ کیا ۔ اُس کے لشکر میں زیاد بن عمرو زمانی ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر تھا اور اُس کے دستے میں تین ہزار مجاہدین تھے حالانکہ اُن کے دشمن کی تعداد پانچ ہزار تھی ۔ مگر اپنی شجاعت ، خیر خواہی اور عقل مندی کی وجہ سے زیاد بن عمرو زمانی اکیلا دو ہزار کو بھاری تھا ۔ جس وقت مہلب بن ابی صفرہ کش کا محاصرہ کئے ہوئے تھا تو اُس کے پاس ختل کے بادشاہ کا چچیرا بھائی آیا اور اُس نے بادشاہ ختل سے لڑنے کی استدعا کی ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے اپنے بیٹے یزید بن مہلب کو اُس شہزادے کے ساتھ روانہ کر دیا ۔ 


یزید بن مہلب کی واپسی


مہلب بن ابی صفرہ نے اپنے بیٹے یزید بن مہلب کو لشکر دے کر اُس شہزادے کے ساتھ بھیجا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب ایک مقام پر خیمہ زن ہو گیا اور ختل کے بادشاہ ( جس کانام ‘‘سبل’’ تھا)کا چچیرا بھائی دوسرے مقام پر خیمہ زن ہوا ۔ سبل نے اپنے چچرے بھائی پر شب خون مارا اور اُس کے پڑاؤ میں آکر نعرۂ تکبیر کہنا شروع کر دیا ۔ چونکہ نعرۂ تکبیر مسلمانوں کا ‘‘نعرۂ جنگ’’ تھا ۔ اِسی وجہ سے سبل کے چچرے بھائی کو خیال ہوا کہ مسلمانوں نے میرے ساتھ دھوکا کیا ۔ جبکہ واقعہ یہ تھا کہ جب شہزادے نے مسلمانوں کے لشکر سے الگ پڑاؤ ڈالا تو اُس وقت مسلمانوں کو اُس سے دھوکے کا خطرہ تھا ۔ سبل اپنے چچرے بھائی کو گرفتار کر کے قلعہ میں لے گیا اور قتل کر دیا ۔ یزید بن مہلب نے سبل کے قلعہ کا محاصرہ کر لیا ، مگر چند دن کے محاصرے کے بعد سبل نے صلح کر لی اور یزید بن مہلب نے خراج لیکر محاصرہ اُٹھا لیا اور اپنے والد مہلب بن ابی صفرہ کے پاس واپس آگیا ۔


حبیب بن مہلب کا حملہ


مہلب بن ابی صفرہ کش کا محاصرہ کئے ہوئے تھا اور اُس نے اپنے دوسرے بیٹے کو ربنجن پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ نے اپنے ایک اور بیٹے حبیب بن مہلب کو ‘‘ربنجن’’ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر دیکر بھیجا ۔ اُس کے مقابلہ کے لئے ‘‘بخارا’’ کا بادشاہ چالیس ہزار کا لشکر لیکر آیا ۔ کافروں میں سے جس نے بھی مبارز طلب کیا اُس کے مقابلے پر حبیب بن مہلب کا آزاد کردہ غلام ‘‘جبلہ’’ آیا اور ہر کافر کو قتل کردیا ۔ پھر جنگ شروع ہوئی اور دشمنوں کے تین سو کافروں کو قتل کردیا تو دشمن پسپا ہو گئے ۔ مسلمانوں نے اُن کا تعاقب جاری رکھا اور جب انہوں نے ایک گاؤں میں پڑاؤ ڈالا تو حبیب بن مہلب اپنے لشکر کے ساتھ اُن پر ٹوٹ پڑا اور دشمنوں کو شکست دی ۔ حبیب بن مہلب کے آزاد کردہ غلام نے گاؤں میں آگ لگا دی اور حبیب بن مہلب اپنا لشکر اور مال غنیمت لیکر واپس آگیا ۔ اِسی وجہ سے اِس مہم کا نام لوگوں نے ‘‘متحرقہ’’ رکھ دیا ۔ 


اہل کش سے صلح


مہلب بن ابی صفرہ کش کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔ طویل محاصرے کے بعد اہل کش نے صلح کی درخواست کی جو مہلب بن ابی صفرہ نے قبول کر لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ اپنے لشکر کے ساتھ کش کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ، ایک روز دشمن کی فوج میں سے ایک شخص تنہا نکلا اور مسلمانوں کو لڑنے کے لئے للکارا۔ اُس کے مقابلہ پر ہریم بن عدی نکلا وہ اپنے خود پر عمامہ باندھے ہوئے تھا ۔ دونوں ایک نہر کے پاس مقابل ہوئے اور وہ مشرک کچھ دیر تک کاوا دے کر ہریم بن عدی پر حملہ کرتا رہا مگر آخر کار ہرین بن عدی نے اُسے قتل کر دیا اور اُس کے تمام ہتھیار اور لباس پر قبضہ کر لیا ۔ اِس پر مہلب بن ابی صفرہ نے کہا : ‘‘ اگر تم مارے جاتے اور تمہارے عوض دشمن کے ایک ہزار سپاہی قتل کر دیئے جاتے تو بھی وہ ایک ہزار تمہارا خوں بہا نہیں ہوتے ۔ اِسی مقام پر مہلب بن ابی صفرہ نے بنو مضر کے کچھ لوگوں سے خطرہ محسوس کیا تو انہیں قید کر لیا ۔ اہل کش نے صلح کی درخواست کی تو اُس نے قبول کر لی اور صلح کے بعد جب اپنا لشکر لیکر واپس آنے لگا تو قیدیوں کو رہا کر دیا ۔ حجاج بن یوسف کو جب اِس واقعہ کی اطلاع ملی تو اُس نے مہلب بن ابی صفرہ کو لکھا: ‘‘ اگر تم نے اُن کو کسی جرم پر قید کیا تھا تو اُن کا رہا کر دینا خلاف مصلحت ہے اور اگر بلا وجہ قید کیا تو یہ ظلم ہے ۔’’ مپہب بن ابی صفرہ نے جواباً لکھا: ‘‘ جب مجھے اُن کی جانب سے خطرہ محسوس ہوا تو میں نے قید کر لیا تھا ۔’’ قیدیوں میں عبدالملک بن ابی الشیخ قشیری بھی تھے ۔ 


عبد الملک بن مروان کا رتبیل کے خلاف فرمانِ جہاد


پچھلے سال کے آخر میں حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان سے ترک بادشاہ رتبیل کے خلاف جنگ کی اجازت مانگی تھی ۔ پچھلے سال ملک شام میں طاعون کی وبا کی وجہ سے عبدالملک بن مروان اِس معاملے پر توجہ نہیں دے سکا تھا لیکن اِس سال ۸۰ ؁ھجری میں اُس نے رتبیل کے خلاف ‘‘اعلان جہاد’’ کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ۸۰ ؁ ھجری میں حجاج بن یوسف نے عبدالرحمن بن اشعث کو ترکوں کے بادشاہ رتبیل سے جہاد کر نے کے لئے بھیجا ۔ جب حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو عبیداﷲ بن ابی بکرہ کے لشکر کی تباہی کی اطلاع لکھ کر بھیجی اور جنگ کی اجازت مانگی تو اُس کے جواب میں عبدالملک بن مروان نے اپنا ‘‘فرمانِ جہاد’’ لکھ کر بھیجا :‘‘ حمد و ثناء کے بعد! مجھے تمہارا خط ملا جس میں تم نے علاقہ سجستان میں مسلمانوں کی تباہی کی اطلاع دی ہے ۔ اُسکے متعلق سنو! مسلمانوں پر جہاد تو فرض ہی ہے ۔ وہ اپنی خوب گاہوں میں چلے گئے اور اﷲ تعالیٰ انہیں اجر دینے والا ہے اور تم نے اُس علاقہ میں جو مزیز لشکر بھیجنے کے متعلق میری رائے دریافت کی ہے کہ وہ بھیجا جائے یا نہیں؟ اُس کے متعلق مجھے تمہاری رائے سے اتفاق ہے ۔ تم ضرور جہاد کے لئے لشکر بھیجو۔’’


عبدالرحمن بن اشعث سپہ سالار


عبدالملک بن مروان کا فرمان پڑھ کر حجاج بن یوسف نے جہاد کے لئے لشکر بھیجنے کی تیاری زور و شور سے شروع کر دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب حجاج بن یوسف نے بیس ہزار فوج اہل کوفہ کی اور بیس ہزار فوج اہل بصرہ کی تیار کرنی شروع کر دی ۔ تما مجاہدین کو پوری پوری تنخواہ دے دی ۔ خوبصورت گھوڑے اور پورے ہتھیار دیئے اور تمام فوج کا خود ہی معائنہ شروع کیا ۔ جس شخص کی شجاعت کی تعریف اُس کے سامنے کی جاتی تھی اُسے انعام و اکرام بھی دیتا تھا ۔ جب یہ دونوں فوجیں کیل و کانٹے سے پوری طرح لیس ہو گئیں تو حجاج بن یوسف نے ایک فوج کا کمانڈر عطارد بن عُمر تمیمی کوبنا کر روانہ کیا اور وہ اپنے لشکر کے ساتھ ‘‘اہواز’’ میں آکر قیام پذیر ہو گیا ۔ اِس کے بعد حجاج بن یوسف نے عبدالرحمن بن اشعث کو پورے لشکر کا ‘‘سپہ سالار اعظم’’ مقررکیا اور وہ پورا لشکر لیکر ۸۰ ؁ ھجری میں سجستان پہنچا ۔ وہاں پہنچ کر اُسنے وہاں کے تمام باشندوں کو بلایا اور اُن کے اور اپنے لشکر کے سامنے تقریر کی : ‘‘ اے لوگ! حجاج بن یوسف نے تمہارے سرحدی علاقوں کی حفاظت اور تمہارے دشمنوں سے جنہوں نے تمہارے شہروں کو لوٹا ، تمہارے افرا دکا قتل عام کیا ہے ۔اُن سے جہاد کے لئے تمہیں مقرر کیا ہے ۔تم لوگوں کو چاہیئے کہ تم میں سے کوئی بھی اہل فوج سے پیچھے نہ رجائے ورنہ وہ سزا کا حقدار ہو گا ۔ اب سب اپنی اپنی فوجی قیام گاہوں میں حاضر ہو جائیں ۔’’


عبدالرحمن بن اشعث کا رتبیل پر حملہ


سجستان میں عبدالرحمن بن اشعث نے زور شور سے حملے کی تیاری شروع کر دی ۔ ترک بادشاہ رتبیل نے جب اتنی بڑی جنگی تیاری دیکھی تو صلح کی پیش کش کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : تمام لوگوں نے عبدالرحمن بن اشعث کے حکم کی تعمیل کی اور اُن کے لئے بازار لگا دیئے اور اب لوگوں نے جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ اِس تیاری کی خبر ترک بادشاہ رتبیل کو ہوئی تو اُس نے خوف زدہ ہو کر عبدالرحمن بن اشعث کو خط لکھا ۔ جس میں اُس نے مسلمانوں کی پچھلی مرتبہ کی تباہی پر معذرت کی اور لکھا کہ مسلمانوں نے مجھے جنگ پر مجبور کر دیا تھا ۔ میں آپ سے صلح کی درخواست کرتا ہوں اور خراج دینے پر آمادہ ہوں ۔ عبدالرحمن بن اشعث نے اُس کی درخواست قبول نہیں کی اور خراج لینا پسند نہیں کیا بلکہ اپنی فوج کے ساتھ اُس کے علاقہ پر حملہ شروع کر دیا ۔ جب وہ اپنے لشکر کے ساتھ پہلے شہر میں داخل ہوا تو رتبیل نے اپنی تمام فوج اپنے پاس بلا لی اور تمام علاقہ ، تجارتی منٖڈیاں اور قلعے مسلمانوں کے لئے چھوڑ دیئے ۔ 


عبدالرحمن بن اشعث کی دور اندیشی


عبدالرحمن بن اشعث کے لشکر کے لئے بھی ترک بادشاہ رتبیل نے وہی جال بچھایا جو عبیداﷲ بن ابی بکرہ کے لشکر کے لئے بچھایا تھا لیکن عبدالرحمن بن اشعث بہت دور اندیش سپہ سالار تھا ۔ اُس نے ترک بادشاہ رتبیل کی چال کو ناکام بنا دیا اور عبیداﷲ بن ابی بکرہ کی طرح مسلسل ترکوں کے اندرون علاقے میں گھستا نہیں چلا گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن اشعث جس شہر پر قبضہ کرتا تھا اُس پر اپنا ایک گورنر مقرر کر دیتا تھا اور اُس کی حفاظت کے لئے فوج کے دستے چھوڑ دیتا تھا ۔ اِس کے علاوہ اُس نے مفتوحہ شہروں میں ڈاک کا سلسلہ قائم کر دیا جس کی وجہ سے تمام شہر ایکدوسرے سے جُڑے رہے ، پہاڑ درّوں اور گھاٹیوں میں پہرے قائم کر دیئے اور ایسی جگہوں پر جہاں سے خطرہ کا احتمال تھا فوجی چوکیاں قائم کر دیں ۔جب اُس نے ترکوں کے بڑے وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا اور مویشیوں اور بہت سا مال غنیمت اپنے قبضہ میں کر لیا تو اپنی فوج کو پیش قدمی کرنے سے روک دیا اور کہا: ‘‘ اِس سال اتنی فتح ہی ہمارے لئے کافی و دافی ہے ۔ اب ہمیں جو مل چکا ہے اُس میں سے خراج وصول کریں اورلگان مشخص کریں ۔ تاکہ اِس دوران مسلمان یہاں کے راستوں سے نڈر ہو جائیں اور پھر آئندہ سال ہم آگے بڑھیں گے ۔ ہر سال ہم ترک بادشاہ رتبیل کے علاقوں پر رفتہ رفتہ قبضہ کرتے جائیں گے اور اِس طرح دھیرے دھیرے ایک دن اُس کے پورے ملک اور تمام خزانوں پر قبضہ کر لیں گے ۔ اُن کے بعید ترین شہروں اور مضبوط ترین قلعوں پر قابض ہو جائیں گے اور پھر جب تک اﷲ تعالی اِن کافروں کو بالکل تباہ نہیں کردے گا تب تک ہم یہاں سے نہیں ٹلیں گے ۔’’ 


عبدالرحمن بن اشعث سجستان کا گورنر


عبدالرحمن بن اشعث نے جو فتوحات حاصل کیں اُن کی تفصیل اور اپنا آگے کا ارادہ حجاج بن یوسف کو لکھ بھیجا تو حجاج بن یوسف نے اُسے سیجستان کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :پھر عبدالرحمن بن اشعث نے حجاج بن یوسف کو لکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان کیا اور اِن تمام فتوحات کی اطلاعات تفصیل سے لکھ

 بھیجیں اور ساتھ ہی وہ رائے بھی لکھ بھیج جس پر وہ آئندہ عمل کرنے والا تھا ۔ اِسی دوران سجستان کے گورنر عبیداﷲ بن ابو بکرہ کا انتقال ہوگیا تو حجاج بن یوسف نے عبدالرحمن بن اشعث کو سجستان کا گورنر بنا دیا اور اس کے لئے باقاعدہ فرمان لکھ دیا ۔ اِس کے علاوہ حجاج بن یوسف نے ایک اور لشکر سجستان بھیجنے کے لئے تیار کیا اور تنخواہوں کے علاہ بیس لاکھ درہم اِس لشکر پر خرچ کئے ۔ لوگ اِس لشکر کو ‘‘جیش الطواولیس’’ ( موروں کا لشکر) کہنے لگے ۔


ا80 ھجری کا اختتام


ا80 ھجری کا اختتام ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 80 ھجری میں مدینۂ منورہ کے گورنر ابان بن عثمان بن عفان نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ مگر بعض ارباب سیر نے بیان کیا ہے کہ سلیمان بن عبدالملک نے اِس سال مسلمانوں کو حج کرایا ۔ ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر حجاج بن یوسف تھا اور اُس کی طرف سے خراسان کا گورنر مہلب بن ابی صفرہ تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبد العزیز بن مروان تھا ۔ ابوبردہ بن ابی موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے اور موسیٰ بن انس بصرہ کے قاضی تھے ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے اپنے بیٹے یزید بن عبدالملک کو جہاد کے لئے بھیجا ۔ 


حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲعنہ کا انتقال


اِس سال 80 ھجری میں حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ ملک حبشہ میں پیدا ہوئے ۔(اُس وقت اُن کے والدین حضرت جعفر طیار بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ اور والدہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اﷲ عنہا ہجرت کر کے ملک حبشہ گئے تھے اور کئی سال وہیں مقیم تھے پھر ہجرت کر کے مدینۂ منورہ آئے تھے )آپ رضی اﷲ عنہ بنو ہاشم خاندان کے آخری فرد ہیں جنہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا تھا ۔ اِن کے والدِ محترم جنگ موتہ میں شہید ہوگئے تھے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ان کی والدہ محترمہ کے پاس تشریف لائے اور اُن سے فرمایا: ‘‘ میرے بھائی کے بیٹے کو میرے پاس لاؤ ۔’’انہیں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو چوزے کی مانند کمزور تھے ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نائی کو بلوایا اور ان کا سر منڈوایا اور پھر ان کے لئے دعا فرمائی :‘‘اے اﷲ! جعفر کے گھر کو اُس کے وارث سے رونق دے اور اس کی زندگی میں برکت عطا کر ۔’’ ان کی والدہ محترمہ فرمانے لگیں :‘‘ان کے پاس تو اب کچھ نہیں رہ گیا ہے ۔’’اِس پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ میں اِن کے والدِ محترم کی جگہ ہوں ۔’’ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہم نے سات سال کی عُمر میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بیعت کی جب کہ ایسا کسی اور کے ساتھ نہیں ہوا ۔ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نہایت سخی اور فیاض تھے ۔ وہ لوگوں کو بڑی فراخ دلی سے دینا اور دلانا رکھتے تھے ۔ایک مرتبہ ایک شخص سرکہ لے کر مدینۂ منورہ آیا جس کا کوئی خریدار نہیں ملا ۔ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے اُس شخص کا پورا سرکہ خرید کر لوگوں کو ہدیہ کر دیا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ حج کرنے کے لئے آئے تو مدینۂ منورہ بھی آئے اور مروان بن حکم کے گھر ٹھہرے ۔ انہوں نے دربان سے کہا: ‘‘ دیکھو ! اگر تمہیں حسن ، حسین یا عبداﷲ بن جعفر وغیرہ ملیں تو انہیں میرے پاس لاؤ ۔’’ دربان باہر نکلا اور واپس آکر بتایا :‘‘ سب لوگ حضرت عبداﷲجعفر بن ابی طالب رضی عنہ کے یہاں صبح کے ناشتے پر موجود ہیں ۔’’ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے کہا :‘‘ ہم بھی انہی میں سے ایک ہیں۔’’ اور پھر لاٹھی ٹیکتے ہوئے حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے گھر پہنچ گئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے احترام سے انہیں صدر مقام پر بٹھایا ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے پوچھا: ‘‘ اے ابن جعفر! تمہارے ناشتہ و کھانے کا سامان کہاں ہے ؟’’ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ آپ کیا کھانا چاہتے ہیں؟جو خواہش ہو وہ منگوا دوں۔’’ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے کہا : ‘‘ ہمیں مغز(بھیجا) کھلاؤ۔’’ انہوں نے اپنے غلام کو حکم دیا تو اُس نے تین پلیٹیں ایک کے بعد ایک مغز کی پیش کیں۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو بڑا تعجب ہوا اور بولے ؛‘‘ تم لوگوں کو اتنی کثرت سے کِھلاتے ہوئے تھکتے نہیں ہو؟’’حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے تیرہ احادیث کی روایات منسوب کی جاتی ہیں ۔ 


ا80 ھجری میں انتقال کرنے والی اہم شخصیات


اِس سال کئی اہم شخصیات کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 80 ھجری میں حضرت ابن اسلم کا انتقال ہوا ۔آپ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے غلام تھے ۔آپ کا پورا نام زید بن اسلم ہے ۔ یہ ‘‘عین التمر’’ کے قیدیوں میں سے تھے ۔ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے 11 ھجری میں حج کیا تو اِن کو مکۂ مکرمہ میں خرید لیا ۔ انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے متعدد احادیث روایت کی ہیں ، بعض احادیث انہوں نے حضرت عِمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ہم نشینوں سے بھی کی ہیں ۔ انتقال کے وقت آپ کی عُمر ایک سو چودہ سال تھی ۔ اِس سال 80 ھجری میں حضرت جبیر بن نفیر کا انتقال ہوا ۔ آپ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف بھی حاصل ہے ۔ کچھ احادیث انہوں نے روایت کی ہیں ۔ آپ اہل شام کے علماء میں سے تھے اور اپنی عبادت اور علم کے لئے شہرت رکھتے تھے ۔ آپ کا انتقال ملک شام میں ایک سو بیس سال کی عُمر میں ہوا ۔ اِس سال ۸۰ ؁ ھجری میں ابو ادریس خولانی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا نام عائذاﷲ بن عبداﷲ ہے ۔ اِن کا قول ہے کہ میلے کچیلے کپڑوں میں ایک پاکیزہ دل صاف ستھرے کپڑوں میں گندے دل سے بہتر ہے ۔ آپ دمشق کے ‘‘عہدۂ قضا’’(سپریم کورٹ) پر بھی مامور رہے ۔


حجاج بن یوسف کا جنگ جاری رکھنے پر اصرا ر


عبدالرحمن بن اشعث نے اپنا آگے کا رادہ لکھ کر حجاج بن یوسف کو بھیج دیا تھا لیکن اُس نے جنگ جاری رکھنے کا حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے عبدالرحمن بن اشعث کے خط کے جواب میں لکھا: ‘‘ حمدو ثناء کے بعد! تمہارا خط ملا ،جو کچھ تم نے لکھا تھا اُسے میں نے سمجھا مگر تمہارا خط دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط ایک ایسے شخص نے لکھا ہے جو صلح و آتشی کا بدل و جان متمنی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے اُس ذلیل و حقیر دشمن سے تعلقات پیدا کر لئے ہیں جس نے مسلمانوں کی ایک جرار اور بہادر فوج کو ہلاک کیا تھا ۔ اے عبدالرحمن کی ماں کے بیٹے! یاد رکھو! اگر تم نے میری فوج اور میرے صریح احکام کی موجودگی میں دشمن سے اجتناب کیا تو تمہارا حشر وہی ہوگا جیسا کہ اور مسلمانوں کا ہو چکا ہے ۔ میں تمہاری اِس رائے کو جسے تم ٍفوجی چال سمجھ رہے ہو ہر گز ایسا خیال نہیں کرتا ہوں بلکہ یہ محض تمہاری کاہلی اور بزدلی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے ۔ اِس لئے اب میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم میری پہلی ہدایت پر عمل کرو اور دشمن کے ملک میں آگے بڑھتے چلے جاؤ ۔ اُس کے قلعوں کو مسمار کرو ،جنگ میں سپاہیوں کو قتل کرو اور اہل و عیال اور متعلقین کو لونڈی اور غلام بنا لو ۔’’اِس کے فوراً بعد ہی دوسرا خط بھیجا : ‘‘ حمد و ثناء کے بعد! جو مسلمان تمہارے پاس ہیں انہیں احکام دے دو کہ جب تک اﷲ کی مدد سے اس تمام علاقہ کو مسلمان فتح نہ کرلیں تم برابر مفتوحہ علاقہ میں مقیم رہو اور زراعت شروع کر دو۔ ’’اِس کے فوراً بعد پھر تیسرا خط لکھ بھیجا: ‘‘ حمد و ثناء کے بعد! میں نے دشمن کے علاقے میں آگے بڑھنے کا تمہیں جو حکم دیا تھا فورا! اِس کی تعمیل کرو ،ورنہ تم علیحدہ ہو جاؤ اور اسحٰق بن محمد تمہاری جگہ سپہ سالار مقرر کیا جاتا ہے ۔’’ 


عبدالرحمن بن اشعث کا لشکر سے خطاب


حجاج بن یوسف باربار خط بھیج کر آگے بڑھنے پر اصرار کر رہا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خط پڑھ کر عبدالرحمن بن اشعث نے کہا: ‘‘ میں خود اسحٰق بن محمد کو سپہ سالار بنا دیتا ہوں۔’’ اسحٰق بن محمد نے کہا: ‘‘ آپ ایسا نہ کریں ۔’’ اِس کے بعد عبدالرحمن بن اشعث نے تمام لشکر کو جمع کر کے خطبہ دیا : ‘‘ حمد و ثناء کے بعدکہا! آپ لوگ واقف ہیں کہ میں آپ سب کا خیر خواہ ہوں اور اسیا کام کرنے کے لئے تیار ہوں جس سے آپ کو نفع پہنچے ۔ دشمن کے مقابلے میں جو طرز ِ عمل میں نے آپ کے لئے تجویز کیا تھا ۔اُس کے بارے میں آپ کے ارباب ِ عقل اور تجربہ رکھنے والوں سے مشورہ لیا تھا ۔ میری اُس رائے کو اُن صاحبوں نے آپ کے لئے اس وقت اور آئندہ کے لئے مناسب سمجھا تھا ۔ اِس معاملے کی اطلاع میں نے امیر حجاج بن یوسف کو بھی کر دی تھی ۔ اِس کے جواب میں حجاج بن یوسف نے مجھے یہ خط لکھا ۔ جس میں مجھے بزدل اور کمزور بتایا ہے اور حکم دیا ہے کہ میں فوراً آپ کو لیکر دشمن کے ملک میں آگے بڑھتا جاؤں ۔ یہ وہی علاقہ ہے جس میں حال ہی میں آپ کے دوسرے بھائی تباہ ہو چکے ہیں ۔ مگر پھر بھی چونکہ میں بھی آپ کا ایک فرد ہوں اِس لئے اگر آپ اِس حکم پر عمل کرنا چاہتے ہوں تو میں بھی تیار ہوں اور اگر آپ اِس پر عمل پیرا نہیں ہونا چاہتے تو بھی میں آپ کے ساتھ ہوں ۔’’ 


حجاج بن یوسف کی مخالفت


عبدالرحمن بن اشعث نے اپنے سپاہیوں سے مشورہ مانگا تو انہوں نے حجاج بن یوسف کی مخالفت کرنے کا مشورہ دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن اشعث کے جواب میں عامر بن واثلہ کنانی کھڑا ہوا اور حمد و ثناء کے بعد کہا: ‘‘ حجاج بن یوسف کی مثال اُس شخص کی سی ہے جس نے سب سے پہلے اپنے بھائی سے کہا تھا کہ تُو اپنے غلام کو گھوڑے پر سوار کر ۔ اگر یہ ہلاک ہو جائے تو تجھے کیا پرواہ ؟ اور اگر یہ زندہ بچ گیا تو بھی تُو اس کا مالک ہے ۔ حجاج بن یوسف شمہ برابر تمہاری پرواہ نہیں کرتا ہے اور اِسی وجہ سے اُس نے تمہیں ایسے پُر خطر ممالک میں بھیجا ہے ۔ اگر تمہیں فتح ہوئی تو مال غنیمت تم حاصل کرو گے مگر اس علاقہ کی آمدنی اُس کی ہے ۔ اِس طرح اُس کی طاقت اور دبدبہ میں اضافہ ہو گا اور اگر دشمنوں نے تم پر فتح پائی تو اُس وقت حجاج بن یوسف کے نزدیک ایسے ہو جاؤ گے جن کی تکالیف کا کچھ خیال نہیں کیا جاتا ہے اور جن پر مطلقاً رحم نہیں کیا جاتا ہے ۔ اِس لئے آپ لوگ حجاج بن یوسف کو چھوڑ دیں اور عبدالرحمن بن اشعث کو اپنا امیر بنا لیں اور میں اِس کی ابتدا کرتا ہوں اور آپ سب کو گواہ بناتا ہوں ۔’’ اِس تقریر کے ختم ہوتے ہی ہر طرف سے صدائیں آنے لگیں ۔ہم آپ کی رائے پر عمل کرتے ہیں اور حجاج بن یوسف کو چھوڑتے ہیں۔اِس کے بعد عبدالمومن بن شبث ربعی تمیمی جو عبدالرحمن بن اشعث کے محافظ دستے کا سردار تھا تقریر کرنے کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ اے اﷲ کے بندو!خوب سمجھ لو ! اگر تم نے حجاج بن یوسف کے احکام کی تعمیل کی تو وہ حکم دے کہ پوری زندگی تم اِس علاقہ کو اپنا وطن سمجھو اور جس طرح فرعون نے فوجوں کو دشمن کے علاقہ میں عرصہ تک مقیم رکھا تھا اُسی طرح یہ بھی تمہیں یہیں رکھے گا ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ حجاج بن یوسف نے سب سے پہلے اُس فوج کو جو مہم پر بھیجی جاتی ہے مستقل طریقہ پر دشمن کے ملک میں حکماً اور جبراً رہنے کا حکم دیا ۔ اِس طرح تمہیں کبھی موقع نہیں ملے گا کہ اپنے اعزا و احباب سے مل سکو اور یوں اِس دنیا سے چل بسو گے ۔ بہتر ہے کہ اپنے اِس امیر کے ہاتھ پر بیعت کر لو اور پھر دشمن پر پلٹ پڑو اور اپنے ملک سے نکال دو ۔’’


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں