جمعہ، 30 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 38


 ا38 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 38

حضرت زہرہ بن حویہ کی شہادت، شبیب خارجی کے مقابلے پر حجاج بن یوسف، شبیب بن یزید کی شکست، شبیب بن یزید کا قتل، خوارج کی پسپائی، خوارج میں اختلاف، خوارج کی کرمان سے پسپائی، ا77 ھجری کا اختتام، ا78 ھجری کی شروعات، مہلب بن ابی صفرہ کی عزت افزائی، مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر، حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، قاضی حضرت شریح بن حار ث کا انتقال، چند اور اعیان کا انتقال، ا79 ھجری : ترک بادشاہ رتبیل پر حملہ، چند اور اعیان کا انتقال، ا79 ھجری : ترک بادشاہ رتبیل پر حملہ، شریح بن ہانی کی شہادت 


حضرت زہرہ بن حویہ کی شہادت


جو سپہ سالار ہو گا اُس کے ساتھ ساتھ رہوں گا اور اُسے مشورہ دیتا رہوں گا۔ ’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ اﷲ آپ کو اول اور آخر اسلام میں نیک جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آپ نے نہایت ہی مخلصانہ بات کی ہے اور سچ کہا ۔ میں ابھی ایک بڑے لشکر کو بھیجتا ہوں ۔ اے لوگ! تم سب کے سب روانہ ہو جاؤ ۔ تمام لوگ روانہ ہو گئے لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سپہ سالار کون ہے۔ ھجاج بن یوسف نے اِس لشکر کا سپہ سالار عتاب بن ورقہ کو بنا کر بھیجا ۔ جب شبیب بن یزید خارجی سے مقابلہ ہوا تو زبردست جنگ ہوئی اور حضرت زہرہ بن حویہ اور عتاب بن ورقا کے اکثر ساتھی میدان چھوڑ کر بھا گ گئے تو عتاب بن ورقہ نے کہا: ‘‘ کاش اِس تمام لشکر کے بجائے میرے پاس پانچ سو تمیمی بہادر ہوتے تو پھر میں دشمنوں کو مزا چکھاتا ۔کیا اِن میں سے ایک بھی نہیں ہے جو دشمن کے مقابلے پر ثابت قدم رہے ،کیا ایک بھی اپنی جان کی قربانی کے لئے تیار نہیں؟’’ مگر کسی نے کچھ نہیں کہا اور اُسے دشمن کے نرغے میں چھوڑ کر بھاگ گئے ۔حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ اے عتاب بن ورقا! تم نے وہی کیا جو ایک اولوالعزم کو کرنا چاہیئے ۔مجھے توقع ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں شہادت کے درجہ پر فائز کرنا چاہتا ہے ۔’’ اِسی دوران شبیب بن یزید نے زبردست حملہ کیا اور عتاب بن ورقا لڑتے ہوئے شہید ہو گیا ۔ حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ نے بھی مقابلہ کیا لیکن بہت ضعیفی وجہ سے دشمن پر حاوی نہیں ہو سکے اور دشمنوں نے چاروں طرف سے وار کر کے شہید کر دیا ۔ 


شبیب خارجی کے مقابلے پر حجاج بن یوسف


حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ اور عتاب بن ورقا کی شہادت کا حجاج بن یوسف کو بہت غم ہوا اور اِسی دوران ملک شام سے بھی لشکر آگیا تو حجاج بن یوسف خود شبیب بن یزید کے مقابلے پر نکلا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اب حجاج بن یوسف نے خود جنگ لڑنے کا فیصلہ کر لیا ۔اِسی دوران شبیب بن یزید بھی چلکر ‘‘صراط’’ کے مقام پر پہنچ گیا تھا ۔ حجاج بن یوسف شامیوں کا لشکر لیکر نکلا ۔ جب دونوں فریقوں کا سامنا ہوا تو حجاج بن یوسف نے اہل شام کے لشکر کو مخاطب کر رکے کہا: ‘‘ اے اہل شام! تم اطاعت گذار ہو ، احکام کو سننے اور ماننے والو ہو ، صبرو یقین کے حامل ہو ۔ اِن مردود اور حق کو نہ ماننے والے باطل پرستوں کو تم پر غالب نہیں آنا چاہیئے ۔ پس اپنی سواریوں پر جمے رہو اور نیزے لیکر آگے بڑھو۔’’ یہ سن کر شامی لشکر آگے بڑھا ۔ اب شبیب بن یزید نے اپنے لشکر کے تین حصے کئے ۔ ایک حصہ اپنے پاس رکھا ، دوسرے حصے کا کمانڈر سوید بن اسلم کو بنایا اور تیسرے حصے کا کمانڈر مجلل بن وائل کو بنایا اور سب سے پہلے سوید کو حملہ کرنے کا حکم دیا تو اُس نے حجاج بن یوسف کے لشکر پر حملہ کر دیا ۔ شامیوں نے قریب آنے دیا اور ایک ساتھ حملہ کر دیا تو سوید بن اسلم کو پیچھے ہٹنا پڑا ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے بلند آواز سے کہا: ‘‘ اے اہل شام! تم بات سننے والے اور اطاعت کرنے والے ہو ،اِسی طرح حملہ کرتے رہو۔ ’’ اِس کے بعد حجاج بن یوسف ایک کرسی پر آگے آیا تو شبیب بن یزید نے اپنے دوسرے کمانڈر مجلل بن وائل کو حملہ کرنے کا حکم دیا لیکن حجاج بن یوسف کے لشکر نے ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور چاروں طرف تیروں اور نیزوں کی بارش ہونے لگی اور زبردست جنگ ہونے لگی ۔اِسی دوران شبیب بن یزید نے بھی اپنے لشکر کے ساتھ حملہ کر دیا لیکن اہل شام نے اتنی زبردست تیر اندازی کی کہ شبیب بن یزید اور مجلل بن وائل کے لشکر کو پیچھے ہٹنا پڑا ۔ 


شبیب بن یزید کی شکست


میدان جنگ میں زبردست مقابلہ ہو رہا تھا اور دونوں سپہ سالار نئے نئے داؤ چل رہے تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب شبیب بن یزید نے اہل شام کا صبر و اسقلال دیکھا تو اُس نے سوید بن اسلم سے کہا کہ اپنے گھوڑوں سے حجاج بن یوسف کے لشکر کے عقب سے حملہ کرو اور ہم اُس کے سامنے سے حملہ کریں گے ۔ سوید نے ایسا ہی کیا لیکن کامیاب نہیں ہوسکا ۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ حجاج بن یوسف نے پہلے ہی سے تین سو سوار کا دستہ دے کر عروہ بن مغیرہ کو تعینات کر رکھا تھا ۔ حجاج بن یوسف خود بھی ایک ‘‘ماہر حرب’’ تھا اور وہ اِن جنگی داؤ پیچ اور گھات سے خوب واقف تھا ۔ یہ دیکھ کر شبیب نے اپنے لشکر کو حملہ کے لئے حکم دیا جسے حجاج بن یوسف بھانپ گیا تھا ۔اِس لئے اُس نے اہل شام کی ہمت بڑھائی اور ایک ساتھ حملہ کرنے کا حکم دیا اور انہوں نے ایسا ہی کیا اور شبیب کے لشکر پر شدید حملہ کیا ۔جس کی وجہ سے شبیب نے اپنے ساتھیوں کو گھوڑے سے اُتر کر جنگ کرنے کا حکم دیا ۔ حجاج اپنی جگہ سے دونوں لشکروں کو دیکھ رہا تھا ۔ پھر اُس نے خالد بن عتاب کو حکم دیا کہ خاص شبیب پر حملہ کرے اور وہ چار ہزار کا لشکر لیکر شبیب بن یزید پر ٹوٹ پڑا ۔ اور شبیب بن یزید کی بیوی غزالہ کو اور اُس کے بھائی مصاد کو قتل کر دیا ۔ اِس موقع پر شبیب کا لشکر دو حصوں میں منقسم ہو کر رہ گیا ۔ یہ دیکھ کر شبیب نے اپنے لشکر کو فرار کا حکم دیا ۔


شبیب بن یزید کا قتل


شبیب بن یزید کو شکست ہوئی اور وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ فرار ہوا اور حجاج بن یوسف کے لشکر نے تعاقب کیا لیکن شبیب بن یزید کے ساتھیوں نے ہی اُسے قتل کر دیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : شبیب بن یزید کے لشکر کے فرار پر حجاج بن یوسف نے حکم دیا کہ جہاں بھی یہ لوگ جائیں اُن کا تعاقب کیا جائے اور اُن پر سخت دباؤ ڈال کر ہزیمت پر مجبور کیا جائے ۔ شبیب بن یزید کو اب لوگوں کی پہلی جیسی حمایت حاصل نہیں رہ گئی تھی ۔ بہر حال وہ سب فرار ہوئے اور حجاج کے سپاہی اُن کے پیچھے لگے رہے ۔ شبیب بن یزید مسلسل بھاگ رہا تھا اور اُس کے ساتھیوں کے کہنے سننے کی بھی پرواہ نہیں کر رہا تھا اور اِسی انداز میں بھاگتا رہا ۔ جب حجاج نے دیکھا کہ وہ رُک ہی نہیں رہا ہے تو اپنے لشکر سے کہا کہ شبیب بن یزید جہنم میں جائے ۔اب واپس چلو اور حجاج بن یوسف لشکر لیکر کوفہ واپس آگیا ۔ یہ دیکھ کر شبیب بن یزید پلٹ کر آیا اور کوفہ پر حملہ کردیا ۔ تین دن تک جنگ ہوتی رہی اور شبیب ہی اہل کوفہ پر حاوی تھا کئی دن کی جنگ کے بعد ایک دن صبح شبیب بن یزید اپنے ایک مخصوص دستے کے ساتھ ندی پار کر کے آنے کے لئے پل پر سے گذرنے لگا تو اُس کے لشکر کے ایک قبیلے والوں نے پل کی رسیاں کاٹ دیں اور شبیب بن یزید اپنے مخصوص دستے کے ساتھ غرق ہو گیا ۔ ڈوبنے سے پہلے اُس نے کئی غوطے کھائے اور کبھی پانی کے اوپر آتا اور کبھی نیچے چلا جاتا تھا ۔ جب خوارج کو اُس کے غرق ہو نے کا یقین ہو گیا تو انہوں نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور منتشر ہو کر مختلف شہروں کی طرف کوچ کر گئے ۔ حجاج بن یوسف کے کمانڈر نے شبیب بن یزید کی لاش کو پانی سے نکلوایا اور اُس کے جسم پر جو زرہ تھی اُسے اُتروا کر سینہ چاک کیا اور اُس کے مردہ ہونے کا یقین کیا۔ 


خوارج کی پسپائی


اِدھر شبیب بن یزید مسلسل حجاج بن یوسف کو پریشان کئے ہوئے تھا اور اُدھر مہلب بن ابی صفرہ مسلسل خوارج سے جنگ میں مصروف تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حجاج بن یوسف نے عتاب بن ورقا کو مہلب بن ابی صفرہ کے لشکر سے واپس بلا لیا تو مہلب بن ابی صفرہ مسلسل ‘‘سابور’’ میں خوارج سے جنگ میں مصروف رہااور تقریباً ایک سال تک برابر خارجیوں کا مقابلہ کرتا رہا ۔ پھر مہلب بن ابی صفرہ اور خارجیوں کے درمیان ‘‘بستان’’ میں جنگ ہوئی جس میں مہلب نے انہیں کافی نقصان پہنچایا ۔ کرمان پر خارجیوں کا قبضہ تھا اور فارس پر مہلب بن ابی صفرہ کا قبضہ تھا ۔ چونکہ فارس کے علاقہ سے خارجیوں کو سامانِ خوراک نہیں مل پا رہا تھا اور وہ اپنے شہروں سے بہت دور ہو گئے تھے ۔ اِس لئے وہ سخت دقت میں مبتلا تھے اور اب اُن کی حالت ناقابل برداشت ہو گئی تھی ۔ اِس لئے انہیں مجبوراً کرمان آنا پڑا ۔ مہلب بن ابی صفرہ اُن کے تعاقب میں روانہ ہوا اور کرمان کے ایک قصبہ ‘‘جیرفت’’ میں پڑاؤ ڈالا اور اِس مقام پر وہ سال بھر سے زیادہ برابر خوارج سے جنگ کرتا رہا اور فارس کے تمام علاقے سے انہیں نکال دیا ۔ جب یہ تمام علاقہ مہلب بن ابی صفرہ کے قبضہ میں آگیا تو حجاج بن یوسف نے اِن علاقوں کو مہلب بن ابی صفرہ سے لیکر اپنے گورنر کو دے دیئے ۔ اِس قضیہ کی اطلاع عبدالملک بن مروان کو ہوئی تو اُس نے حجاج بن یوسف کو خط لکھا کہ فارس کے کوہستانی علاقے کا خراج مہلب بن ابی صفرہ کے ہاتھ میں دے دوکیونکہ لشکر کے لئے اخراجات کی ضرورت ہے اور سپہ سالار کی بھی اسی طرح امداد کرنا ضروری ہے ۔ اِس کے علاوہ فساء اور ورد ، ابجرد اور اصطخر کی جاگیریں بھی دے دی جائیں ۔ حجاج بن یوسف نے اِس حکم کی تعمیل میں یہ سب علاقے مہلب بن ابی صفرہ کے حوالے کر دیئے اور اُس نے اُن علاقوں میں اپنے گورنر بھیج دیئے ۔ یہ سب علاقے دشمن سے مقابلہ کے لئے اُن کی ضروریات پوری کرتے تھے ۔ 


خوارج میں اختلاف


خوارج سے مہلب بن ابی صفرہ مقابلہ کر رہا تھا کہ خوارج میں آپس میں اختلاف ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ مسلسل آٹھ مہینوں تک وہیں خوراج سے مقابلہ کرتا رہا ۔ جب بھی خوارج نے مہلب بن ابی صفرہ اور اُس کے لشکر پر اپنی کمین گاہ سے حملہ کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہمیشہ تیروں اور تلواروں سے انہیں زک دی ۔ خوارج کا سربراہ ‘‘قطری’’ تھا اور اُس کی طرف سے کرمان پر

 مقرر گورنر نے خوارج کے ایک بہادر سردار کو قتل کردیا ۔ تمام خوارج نے اپنے سربراہ قطری سے مطالبہ کیا کہ اُس گورنر کو ہمارے حوالے کردو تاکہ ہم اپنے ساتھی کے بدلہ میں اُسے قتل کر ڈالیں ۔ قطری نے اُس گورنرکو اُن کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور یہ واقعہ خوارج میں اختلاف کا سبب بنا۔ خوارج نے قطری کو چھوڑ دیا ‘‘عبد رب کبیر’’ کو اپنا سربراہ بنا لیا۔ ایک جماعت نے قطری کا ساتھ دیا ۔ اب خوارج کے دونوں گروپ آپس میں لڑنے لگے ۔ یہ مقابلہ لگ بھگ ایک مہینے تک چلتا رہا ۔


خوارج کی کرمان سے پسپائی


ایک مہینے تک خوارج کے دونوں گروپ میں شدید جنگ ہوتی رہی اور مہلب بن ابی صفرہ خاموشی سے تماشا دیکھتا رہا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خوارج کی آپسی جنگ کی اطلاع مہلب بن ابی صفرہ نے حجاج بن یوسف کو دی تو اُس نے کہا کہ اچھا موقع ہے تم بھی خوارج پر حملہ کردو ۔ لیکن مہلب نے کہا کہ جب یہ دونوں آپس میں لڑ کر کمزور ہو جائیں گے تب حملہ کروں گا ۔ حجاج بن یوسف خاموش ہو گیا اور مہلب بن ابی صفرہ بھی خاموش بیٹھا تماشا دیکھتا رہا ۔ خوارج اِسی طرح ایک مہینے تک جنگ میں مصروف رہے ۔ اِس کے بعد قطری اپنے ساتھیوں کو لیکر ‘‘طبرستان’’چلا گیا ۔ باقی کے خوارج پر مہلب بن ابی صفرہ نے زبردست حملہ کر دیا ۔ خوارج آپسی لڑائی میں بہت کمزور ہو چکے تھے پھر بھی ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہا لیکن انہیں شکست ہوئی اور بہت سے قتل ہوئے اور تھوڑے بہت بچے تو وہ کرمان چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ اُدھر قطری اپنے ساتھیوں کے ساتھ طبرستان پہنچا تو حجاج بن یوسف نے سفیان بن ادبر کو لشکر دیکر اُس کے مقابلے پر روانہ کیا ۔ اُس نے طبرستان میں قطری خارجی کے لشکر پر حملہ کردیا اور اُسے فتح ہوئی ۔ قطری خارجی بھاگ گیا لیکن ایک گنوار نے اُسے قتل کردیا ۔


ا77 ھجری کا اختتام


ا77 ھجری کے خاتمے پر پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر تھے جو پچھلے سال تھے ۔ اِس سال کے اختتام تک خوارج کی اچھی خاصی تعداد قتل ہو چکی تھی اور وہ منتشر ہو کر الگ الگ شہروں میں چلے گئے تھے لیکن ابھی اُن کی طاقت مکمل طور سے ختم نہیں ہوئی تھی ۔ 


ا78 ھجری کی شروعات


ا78 ھجری کی شرعات تک مہلب بن ابی صفرہ خوارج سے فارغ ہو چکا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِ س سال 78 ھجری میں ولید بن عبدالملک موسم گرما کی مہم لیکر رومیوں سے جہاد کرنے گیا ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے امیہ بن عبداﷲ کو خراسان کی گورنری سے برطرف کر دیا اور خراسان اور سجستان کا گورنر بھی حجاج بن یوسف کو بنا دیا اور اُس نے دونوں صوبوں پر اپنے ،اتحت گورنر مقرر کر دیئے ۔


مہلب بن ابی صفرہ کی عزت افزائی


کئی سال تک مسلسل خوارج سے جنگ کرنے کے بعد اِس سال  78 ھجری میں مہلب بن ابی صفرہ فاتح کی حیثیت سے اپنا لشکر لیکر کوفہ واپس آیا ۔حجاج بن یوسف نے مہلب بن ابی صفرہ کا شاندار استقبال کیا اور اپنے برابر تخت پر بٹھایا ۔ حجاج بن یوسف نے حکم دیا کہ مہلب بن ابی صفرہ کے لشکر میں سے جن جن لوگوں نے دشمن کے مقابلے میں نمایاں اور قابل قدر خدمات انجام دی ہیں انہیں میرے سامنے پیش کیا جائے ۔ مہلب بن ابی صفرہ لوگوں کو پیش کرتا جاتا تھا اور جس شخص کی تعریف کرتا تھا تو حجاج بن یوسف اُس کی تصدیق کرتا جاتا تھا ۔ اُس نے اُن لوگوں کو انعام دیا ،تنخواہوں میں اضافہ کیا اور سواریاں بھی عطا کیں اور کہا: ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے عمل سے سلطنت کی حمایت کی ہے اور یہ اِس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں انعام و اکرام دیا جائے ۔ یہ سرحدوں کے محافظ ہیں اور وہ بہادر ہیں جن سے دشمن جلتے اور خار کھاتے ہیں ۔’’ 


مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر


مہلب بن ابی صفرہ کی خدمات کے صلہ میں حجاج بن یوسف نے اُسے خراسان کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے مہلب بن ابی صفرہ کو خراسان اور سجستان کا گورنر مقرر کر دیا ۔ اِس پر مہلب بن ابی صفرہ نے کہا : ‘‘ میں آپ کو ایک ایسا شخص بتاتا ہوں جو سجستان کے حالات سے مجھ سے زیادہ واقف ہے اور جو کابل اور زاہل کا عامل رہ چکا ہے ۔ وہ اِن صوبوں کا افسر مال تھا اور ان سے لڑ بھی چکا ہے اور صلح بھی کر چکا ہے ۔ حجاج بن یوسف نے پوچھا: ‘‘ کہیئے ! وہ کون شخص ہے؟’’ مہلب نے کہا : ‘‘ عبید اﷲ بن ابی بکرہ ۔’’ حجاج بن یوسف نے اُس کی تجویز منظور کر لی اور مہلب بن ابی صفرہ کو خراسان کا اور عبید اﷲ بن ابی بکرہ کو سجستان کا گورنر بنا دیا ۔ اُس وقت خراسان اور سجستان کا گورنر امیہ بن خالد تھا ۔ یہ براہ راست عبدالملک بن مروان کے ماتحت تھا اور حجاج کا کوئی دخل نہیں تھا ۔ لیکن اب عبدالملک بن مروان نے امیہ بن خالد کو معزول کر دیا اور دونوں علاقے حجاج بن یوسف کے ماتحت کر دیئے تھے ۔ پھر مہلب بن ابی صفرہ خراسان روانہ ہو گیا ۔ 


ا78 ھجری کا اختتام


ا78 ھجری میں کوئی ایسا بڑا خاص وقعہ پیش نہیں آیا اور مملکت اسلامیہ میں عام طور سے امن رہا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 78 ھجری میں مسلمانوں کو رومی شہروں میں جنگیں کرنا پڑیں ۔ سب سے پہلے انہوں نے اس علاقہ میں ‘‘اعقیلہ’’ فتح کیا اور جب اُس کو فتح کر کے واپس آرہے تھے اُن کو سخت ژالہ باری اور شدید بارش کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے سردی بڑھ گئی اور بہت سے مسلمان مجاہدین اس کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے موسیٰ بن نصیر کو ‘‘کُل بلاد مغرب ’’ میں جنگوں کا سپہ سالار اور انچارج بنا کر ‘‘طنجہ’’ بھیجا اور اُس نے اِس مہم کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ یعنی ہر اول کا کمانڈر طارق بن زیاد کو بنایا ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ 


حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 78 ھجری میں مشہور صحابی حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔آپ رضی اﷲعنہ کی کئی روایتیں امام بخاری نے اپنی صحیح میں بیان کی ہیں ۔حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کے والد محترم بھی صحابی ہیں۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی پھوپھی ، پھوپھا اور پھوپھا ذاد بھائی بھی صحابی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ اور آپ رضی اﷲ عنہ کے والد ِ محترم نے ساتھ میں اسلام قبول کیا ۔ غزوہ اُحد میں دونوں باپ بیٹے شریک ہوئے تھے اور اُن کے والد ِ محترم حضرت عبداﷲ بن عمرو بن حرام رضی اﷲ عنہ نے غزوۂ اُحد سے ایک دن پہلے اُن سے فرمایا: ‘‘ بیٹے مجھے لگتا ہے کہ کل میں شہید ہو جاؤں گا ۔ اِس لئے کل تم جنگ میں حصہ نہیں لینا اور اپنی بہنوں کا خیال رکھنا۔’’ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کی سات یا نو بہینیں تھیں ۔ غزوۂ اُحد کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ بالکل نوعُمر تھے اور اُسی غزوہ میں اُن کے والدِ محترم شہید ہوگئے تو اُن کی لاش کا کافروں نے مُثلہ کیا تھا ۔ ایسی حالت دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ رونے لگے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں گلے سے لگایا اور فرمایا: ‘‘ اﷲ تعالیٰ نے تمھارے والدِ محترم کو ایک ‘‘خصوصی اعزاز’’ یہ عطا فرمایا ہے کہ ہر ایک سے پردے میں بات کرتا ہے لیکن تمہارے والدِ محترم سے بے پردہ بات کی ہے۔’’ اپنی بہنوں کی دیکھ بھال کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے بڑی عُمر کی عورت سے نکاح کیا ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بڑی محبت سے پیش آتے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ کا اونٹ چالیس درہم میں خریدا اور پھر اونٹ تحفے میں آپ رضی اﷲ عنہ کو دے دیا ۔ اُن چالس درہم میں اﷲ تعالیٰ نے بہت زیادہ برکت عطا فرمائی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 78 ھجری میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابی حضرت جابر بن عبداﷲ بن عمرو بن حرام انصاری سلمی کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت سی احادیث بھی روایت کی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ ‘‘بیعت عقبہ’’ میں موجود تھے اور غزوۂ بدر میں شرکت کے خواہش مند تھے مگر اُن کے والدِ محترم نے اُن کو شرکت سے منع کر دیا تھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے نو بہن بھائی تھے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انتقال سے قبل بصرہ چلے گئے تھے ۔ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کا انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا اور اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر چورانوے(94) سال تھی ۔ آپ رضی اﷲ عنہ سے ایک ہزار بانچ سو چالیس (1540) احادیث کی روایت منسوب ہے ۔


قاضی حضرت شریح بن حار ث کا انتقال


اِس سال مشہور قاضی تابعی حضرت شریح بن حارث کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : یہ قیس بن ابو امیہ کندی کے بیٹے ہیں اور کوفہ کے ‘‘عہدۂ قضا’’(سُپریم کور ٹ کے جج کا عہدہ) پر مامور تھے یعنی قاضی تھے ۔ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں کوفہ کے قاضی بنے اور خلیفۂ سُوم اور خلیفۂ چہارم کے دورِ خلافت میں بھی کوفہ کے قاضی رہے ۔ بعد میں خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے انہیں معزول کر دیا تھا لیکن حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اپنے دورِ حکومت میں انہیں پھر سے کوفہ کا قاضی بنا دیا اور آپ اپنے انتقال تک قاضی رہے ۔ مشہور ہے کہ آپ کو ‘‘منصب قضا’’ کی تنخواہ سو درہم ملتی تھی لیکن کچھ مورخین کے مطابق پانچ سو درہم ملتی تھی ۔ جب آپ فیصلہ کرنے کے لئے گھر سے نکلتے تھے تو یہ فرماتے جاتے تھے :‘‘ اب ظالم کو پتہ چل جائے گا کہ اُس نے کس کا حق مارا ہے ۔’’ یہ بھی مشہور ہے کہ جب فیصلہ کرنے بیٹھتے تھے تو قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرماتے تھے :‘‘ ترجمہ؛ ہم نے تجھے زمین پر خلیفہ بنایا ۔پس تُو لوگوں کے مابین انصاف سے فیصلہ کر اور اپنی خواہش کی پیروی نہ کر۔’’ وہ یہ بھی کہا کرتے تھے :‘‘ ظالم سزا کا منتظر ہے اور مظلوم مدد کا منتظر ہے۔’’ کہا جاتا ہے کہ آپ ستر سال تک ‘‘عہدۂ قضا’’ پر مامور رہے لیکن بعض لوگوں کے مطابق انہوں نے اپنے انتقال سے پہلے استعفیٰ دے دیا تھا ۔واﷲ و اعلم۔آپ اصلاً ایرانی النسل تھے جن کے اسلاف یمن میں آکر آباد ہو گئے تھے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد شریح بن حارث مدینۂ منورہ آگئے تھے لیکن انتقال کوفہ میں ایک سو آٹھ سال کی عُمر میں ہوا۔


چند اور اعیان کا انتقال


اِس سال 78 ھجری میں عبداﷲ بن اشعری کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں :‘‘‘ عبداﷲ بن اشعری فلسطینی مہمان تھے ۔ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت سے انہوں نے احادیث کی روایت کی ہیں ۔ ان کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اِن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل تھا ۔ اِن کو خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام کی طرف بھیج دیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو فقہ کی تعلیم دیں ۔ یہ صالحین اور متقی لوگوں میں سے تھے ۔ اِس سال 78 ھجری میں جنادہ بن امیہ ازدی کا انتقال ہوا ۔ یہ ملک مصر کی فتح میں شامل تھے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے کی طرف سے بحری جنگ میں سپہ سالار تھے ۔ یہ شجاکانہ کارناموں اور سخاوت کے لئے بھی مشہور تھے ۔ اِن کا ملک شام میں اسی (80) سال کی عُمر میں انتقال ہوا ۔ 78 ھجری میں علا بن زیاد بصری کا بھی انتقال ہوا ۔ یہ بصرہ کے صالحین میں سے شمار ہوتے تھے ۔ اِن میں اﷲ کا خوف اور تقویٰ بہت تھا ۔ اپنے گھر میں ہی زیادہ تر اپنا وقت تنہائی میں گزارتے تھے اور بہت کم لوگوں سے ملتے تھے ۔ ہر وقت روتے رہتے تھے حتٰی کہ زیادہ رونے کی وجہ سے اندھے ہو گئے تھے ۔ 


ا79 ھجری : ترک بادشاہ رتبیل پر حملہ


اِس سال 79 ھجری میں عبیداﷲ بن ابی بکرہ نے رتبل پر حملہ کیا ۔ اِس کی وجہ یہ ہوئی کہ رتبیل مسلمانوں کو جو خراج دیتا تھا وہ اُس نے دینا بندکر دی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : رتبل سے مسلمانوں کی صلح تھی اور وہ مسلمانوں کو خراج ادا کیا کرتا تھا ۔اکثر وہ خراج دینا بند کردیتا تھا ۔ اِس بار جب اُس نے خراج ادا نہیں کیا تو حجاج بن یوسف نے سجستان کے گورنر عبیداﷲ بن ابی بکرہ کو حکم دیا کہ وہ رتبیل پر حملہ کرے اور جب تک اُس کے علاقوں کو فتح نہ کر لینا تب تک واپس نہیں آئے۔ عبیداﷲ بن ابی بکرہ لشکر لیکر روانہ ہوا ۔اُن میں اہل کوفہ کا کمانڈر شریح بن ہانی تھا اور اہل بصرہ کا سپہ سالار خود عبیداﷲ بن ابی بکرہ تھا ۔ عبیداﷲ بن ابی بکرہ اپنے لشکر کو لیکر رتبیل کے علاقے میں گھسا اور

 جس قدر مویشی اور دوسرے مال و متاع ہاتھ لگے اُن سب پر قبضہ کر لیا ۔ قلعوں اور قلعہ بند شہروں کی فصیلوں کو توڑ دیا ۔ اور رتبیل کے اکثر علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔ رتبیل کے لشکر میں ترک تھے انہوں نے یہ طرز عمل اختیار کیا کہ مسلمانوں کے علاقہ میں مسلسل پیچھے ہٹے چلے گئے اور علاقہ پر علاقہ خالی کرتے چلے گئے ۔ اِس طرح جب مسلمانوں کا لشکر بہت دور اندرون ملک میں ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں سے ترکوں کا دارالحکومت صرف اٹھارہ فرسخ کے فاصلہ پر تھا تو اب ترکوں نے مسلمانوں کو پہاڑوں کے دروں میں اور پُر پیچ گھاٹیوں میں گھیر لیا اور تمام تجارتی منڈیاں اور قصبات مسلمانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیئے اور تمام قصبات نے مسلمانوں کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا ۔ 


شریح بن ہانی کی شہادت 


مسلمانوں کو ترکوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا جس کی وجہ سے وہ پریشان ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب مسلمانوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ہم اِن پہاڑوں میں گھر چکے ہیں اور ہماری تباہی یقینی ہے ۔ اِس خطرہ کو محسوس کر کے عبیداﷲ بن ابی بکرہ نے رتبیل سے سات لاکھ درہم پرصلح کر لی ۔ یہ دیکھ کر شریح بن ہانی نے :‘‘ تم نے جو زر تاوان ادا کیا ہے ۔امیرالمومنین اسے تم لوگوں کی تنخواہوں میں سے کاٹ لیں گے ۔’’ عبیداﷲ بن ابی بکرہ نے کہا: ‘‘ اگر ہم زندہ ہی نہ رہے تو ہماری تنخواہیں بند ہو جائیں گی تو ہم اپنی تنخواہوں کے بند ہونے کے بجائے وضع کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔’’ شریح نے کہا: ‘‘ میری عُمر پوری ہو چکی ہے اور میرے لئے زندگی کا کوئی مزہ نہیں باقی رہا ۔میں عرصہ دراز سے شہادت کا خواہشمند رہا ہوں اور اگر آج مجھے شہادت نصیب نہیں ہو گی تو میں سمجھتا ہوں کہ پھر یہ درجہ کبھی نہیں حاصل نہیں ہو گا ۔’’اِس کے بعد شریح بن ہانی نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے پکارا :‘‘ دشمن پر حملہ کرو۔’’ عبیداﷲ بن ابی بکرہ نے کہا: ‘‘ تم تو بوڑھے ہو گئے ہو اور سٹھیا گئے ہو۔’’ شریح بن ہانی نے کہا :‘‘ بس اب تم خاموش رہو ۔کیا تم یہ پسند کروگے کہ لوگ کہیں کہ یہ عبیداﷲ کا باغ ہے اور یہ اُس کا حمام ہے۔’’ اِس کے بعد شریح بن ہانی نے مسلمانوں سے کہا: ‘‘ جو لوگ شہادت کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہوں وہ میرے پاس آجائیں ۔’’ کچھ مسلمان اُس کے ساتھ ہوگئے اور دشمن سے جنگ میں مصروف ہو گئے اور لگ بھگ سبھی شہید ہو گئے ۔اِن میں سے جو زندہ بچے وہ علاقہ چھوڑ کر واپس جیسے تیسے مسلمانوں کے علاقے میں آئے ۔ مسلمانوں نے انہیں کھانا دیا تو جس نے بھی پیٹ بھر کا کھانا کھایا وہ مر گیا ۔ اِس لئے مسلمان انہیں کھانا دینے سے ڈرنے لگے ۔ پھر انہیں تھوڑا تھوڑا مکھن کھلاتے رہے اور جب اُن کی قوت ہاضمہ عود کر آئی تو کھانا دیا ۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں