ا37 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 37
کوفہ میں حجاج بن یوسف کا پہلا قتل، حجاج بن یوسف کا رعب، حکم بن ایوب ثقفی بصرہ کا گورنر، حجاج بن یوسف بصرہ میں، بغاوت کو سختی سے کچل دیا، ھ75 ھجری کا اختتام، حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت اسود بن یزید تابعی کا انتقال، خوارج کا حملہ، اسلامی سکہ کا اجرا، ھ76 ھجری کا اختتام، حضرت زہیر بن قیس بلوی کا انتقال، ھ77 ھجری :شبیب بن یزید خارجی کی پیش قدمی، حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کا مشورہ،
کوفہ میں حجاج بن یوسف کا پہلا قتل
اہل کوفہ کو حجاج بن یوسف نے تین دن کی مہلت دی تھی ۔ جب دو دن پورے ہو گئے تو تیسرے دن حجاج بن یوسف نے پھر سے خطبہ دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : تیسرے دن حجاج بن یوسف نے بازار میں تکبیر کی آواز سنی تو اپنے گھر نکل کر منبر پر بیٹھا اور اہل کوفہ جمع ہو گئے ۔حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ ا ے ملک عراق کے باشندو! باغیو اور منافقو اور بُرے اخلاق والو! میں نے ایک تکبیر کی آواز سنی ہے مگر یہ وہ تکبیر نہیں ہے جس کے ذریعے اﷲ کے راستے میں ترغیب و تحریص دلائی جاتی ہو ۔ بلکہ اس کا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا ہے اور میں نے خوب جان لیا ہے کہ یہ ایک غبار ہے جس کے پردے میں سخت و تیز آندھی آنے والی ہے ۔ اے بے وقوف لونڈی کے جنوں! اور بندگی اور سرکشی و نافرمانی اور اے بیوہ اور لاوارث عورتوں کے بیٹو! کیا تم میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو اپنی کمزوری و ضعف کے باوجود خاموشی اور اطمینان سے بیٹھے اور اپنے خون کو مفت نہ بہائے اور پھونک پھونک کر قدم دھرے ۔میں اﷲ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ عنقریب میں تمہیں ایسی سخت سزا دوں گا جو اگلوں کے لئے عذاب اور آئندہ نسلوں کے لئے عبرت ہوگی ۔’’ اِس تقریر کے بعد عُمیر بن ضابی تمیمی کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ اﷲ امیر کے کاموں کی ہمیشہ اصلاح کرتا رہے ۔میں بھی اس مہم میں شریک تھا اور اس سے متعلق ہوں مگر میں بیمار اور ضعیف سن رسیدہ ہوں ۔ یہ میرا لڑکا بالکل نوجوان ہے یہ میرے بدلے حاضر ہے ۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا :‘‘ تم کون ہو؟’’ اُس نے اپنا نام بتایا تو حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ کیا تم نے کل میری تقریر سنی تھی ؟’’ عمیر نے کہا: ‘‘ ہاں۔’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ کیا تم وہی شخص نہیں ہو جس نے امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے جنگ کی تھی ؟’’ عُمیر بن ضابی نے اِس کا اقرار کیا ۔ حجاج بن یوسف نے پھر پوچھا :‘‘ کس بنا پر تم نے ایسا کیا تھا ۔’’ عمیر بن ضابی نے کہا: ‘‘ حالانکہ میرا باپ بوڑھا شخص تھا پھر بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُسے جیل میں ڈال دیا تھا ۔’’ یہ سن کر حجاج بن یوسف نے اُس کی گردن اُڑا دینے کا حکم دے دیا اور اُس کے قتل کے بعد اُس کے مال و دولت پر قبضہ کر لیا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عنبسہ بن سعید نے حجاج بن یوسف سے پوچھا: ‘‘ کیا آپ اِس شخص کو جانتے ہیں ؟’’ اُس نے کہا : ‘‘ نہیں ۔’’ تب عنبسہ بن سعید نے کہا : ‘‘ یہ شخص بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے قاتلوں میں سے ہے ۔’’ اِس پر حجاج بن یوسف نے عُمیر بن ضابی سے مخاطب ہو کر کہا : ‘‘ اے اﷲ کے دشمن!تُو نے امیر المومنین کے پاس اپنی طرف سے کیوں نہ کسی اورشخص کو بھیجا ؟اُس وقت بھی اپنے معاوضہ میں کسی اور کو بھیج دیا ہوتا ۔’’ پھر اُس کے قتل کا حکم دے دیا اور بعد میں اعلان کرادیا کہ عُمیر بن ضابی نے ہمارا حکم سن لینے کے باوجود اُس کی تعمیل نہیں کی اور تین دن کے بعد حاضر ہوا اِسلئے ہم نے اُسے قتل کر ڈالا ۔’’
حجاج بن یوسف کا رعب
اہل کوفہ بہت زیادہ مصیبت میں پڑ گئے تھے کیونکہ اُن پر ایک ظالم حکمراں مسلط ہو گیا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عُمیر بن ضابی کے قتل کے بعد حجاج بن یوسف نے اعلان کیا :‘‘ تمام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ جو لوگ مہلب بن ابی صفرہ کے ساتھ جنگ پر تھے اُن میں سے کوئی شخص آج رات یہاں بسر کرے گا تو وہ اپنی جان کو خطرے میں سمجھے۔ ’’ اِس اعلان کو سنتے ہی تمام لوگ پُل پر جمع ہو گئے ۔ تمام سربرآوردہ لوگ مہلب بن ابی صفرہ کے پاس پہنچے جو اُس وقت رام ہرمز میں اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا اور وہاں جا کر اُس سے اپنے پاس پہنچنے کی باقاعدہ رسیدیں حاصل کیں ۔ اِس پر مہلب بن ابی صفرہ نے کہا: ‘‘ آج ملک عراق میں وہ شخص آیا ہے جو اپنے زمانہ کا جواں مرد ہے اب دشمن قتل ہو جائیں گے۔ ’’ابو عبیدہ کی روایت میں ہے کہ اُس رات صرف بنو مذحج کے چار ہزار آدمیوں نے پُل کو پار کیا ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے کہا: ‘‘ اب ملک عراق میں ایک جواں مرد آیا ہے۔ ’’ اِس کے بعد عبدالملک بن مروان نے ملک عراق والوں کے نام، حجاج بن ہوسف کے نام خط بھیجا۔ حجاج بن یوسف نے عوام کو جمع کیا اور خط پڑھنے کا حکم دیا ۔ جب عبدالملک بن مروان کا خط لوگوں کے سامنے پڑھا جانے لگا تو پڑھنے والے نے پڑھا: ‘‘ اما بعد! اسلام علیکم! میں تمہارے سامنے اﷲ کی تعریف کرتا ہوں ۔’’ اِس پر حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ چُپ رہ اے نافرمان غلام! بھلا امیر المومنین تو تم پر سلامتی بھیجیں اور تم میں سے کسی شخص کو یہ توفیق نہ ہو کہ اُن کے سلام کا جواب دے ۔یہ اخلاق اموی عورت کے لونڈوں کا ہے ،ٹھہرو!اﷲ کی قسم! اب میں تمہیں اخلاق سکھاؤں گا ۔’’ اور جو شخص خط کو پڑھ رہا تھا اُسے حکم دیا کہ پھر ابتداء سے پڑھے ۔پھر جب پڑھنے والا اسلام علیکم پر پہنچا تو سب نے بلا استثناء کہا :‘‘ وعلیک امیر المومنین السلام و رحمتہ اﷲ۔’’
حکم بن ایوب ثقفی بصرہ کا گورنر
کوفہ کے لوگوں کو ٹھیک کرنے کے بعد حجاج بن یوسف بصرہ کی طرف متوجہ ہوا اور اپنے قبیلے کے ایک شخص کو بصرہ کا گورنر بنا کر بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے حکم بن ایوب ثقفی کو بصرہ کا گورنر مقرر کر کے روانہ کیا اور حکم دیا کہ خالد بن عبداﷲ پر تشدد کرنا ۔ جب خالد بن عبداﷲ کو علم ہوا تو وہ حکم بن ایوب ثقفی کے بصرہ پہنچنے سے پہلے ہی وہاں سے نکل گیا اور مقام ‘‘جلحاء’’ میں قیام پذیر ہوا ۔اہل بصرہ اُس کے ساتھ ہو لئے اور جب تک اُس نے ہر شخص کو ہزار ہزار درہم نہیں دیئے تب تک وہ واپس نہیں گئے ۔
حجاج بن یوسف بصرہ میں
اِس سال 75 ھجری میں حجاج بن یوسف کے خلاف اہل بصرہ نے بغاوت کر دی تو وہ بصرہ آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال 75 ھجری میں بصرہ کے لوگوں نے حجاج بن یوسف کے خلاف بغاوت کی ۔ عُمیر بن ضابی کے قتل کے بعد حجاج بن یوسف کوفہ سے بصرہ آیا ۔کوفہ میں اُس نے ابو یعفور عروہ بن مغیرہ کو نائب بنا دیا ۔ حجاج بن یوسف نے جس طرح کی تقریر اہل کوفہ کے سامنے کی تھی اُسی قسم کی یہاں بھی کی ۔بنو یشکر کا ایک شخص اُس کے سامنے پیش کیا گیا کہ یہ شخص جنگ پر سے بھاگ آیا ہے ۔ اُس نے کہا : ‘‘ مجھے فتق کا عارضہ ہے اور بشر بن مروان نے خود دیکھا تھا اور میرے اس عذر کو بھی قبول کر لیا تھا ۔جو کچھ مجھے بیت المال سے تنخواہ ملتی ہے وہ یہ موجود ہے واپس لے لی جائے ۔’’ حجاج بن یوسف نے اُس کی ایک نہیں سنی اور قتل کرواڈالا ۔ اہل بصرہ اِس واقعہ سے بہت پریشان ہوئے اور بصرہ سے روانہ ہو کر رام ہرمز کے پل پر فوجی معائنے کے لئے باقاعدہ طور پر آگے پیچھے کھڑے ہو گئے ۔ اِس پر مہلب بن ابی صفرہ نے کا :‘‘ اب اِن لوگوں پر ایک جواں مرد شخص سردار مقرر ہو کر آیا ہے ۔ ’’
بغاوت کو سختی سے کچل دیا
بصرہ آکر حجاج بن یوسف نے سب جوانوں کو مہلب کے پاس محاذ پر روانہ کیا اور اس کے بعدخود لشکر لیکر رستقباذ آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: بصرہ میں حجاج بن یوسف نے لوگوں کو حکم دیا کہ تم سب مہلب بن ابی صفرہ سے جا کر مل جاؤتو وہ سب روانہ ہو گئے ۔ اب حجاج بن یوسف بھی بصرہ سے نکلا اور آخر شعبان میں رستقباذ میں مقام ‘‘وستوی’’ کے قریب پڑاؤ ڈالا ۔ اُس کے ساتھ بصرہ کے اکابرین اور عمائدین بھی تھے ۔ مہلب بن ابی صفرہ اور اُس کے درمیان اٹھارہ فرسخ کا فاصلہ تھا ۔ اِس مقام پر حجاج بن یوسف تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا اور اُس نے کہا: ‘‘ تمہاری تنخواہوں میں عبداﷲ بن زبیر ( رضی اﷲ عنہ) نے جو اضافہ کیا تھا وہ ایک فاسق اور منافق کا اضافہ تھا جسے اب میں جائز نہیں رکھ سکتا ۔’’ یہ سن کر عبداﷲ بن جارود کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ یہ اضافہ کسی فاسق اور منافق نے نہیں کیا تھا بلکہ امیر المومنین عبدالملک بن مروان نے اِس کی توثیق کی ہے اور اِس اضافے کو ہمارے لئے بال رکھا ہے ۔’’ مگر حجاج بن یوسف نے اُسے جھٹلا دیا اور دھمکایا تو عبداﷲ بن جارود حجاج بن یوسف پر جھپٹ پڑا ۔ جتنے عمائدین و اکابر تھے وہ بھی عبداﷲ بن جارود کے ساتھ ہوگئے اور دونوں جماعتوں میں شدید معرکہ جدال و قتال گرم ہوا ۔ آخر کار حجاج بن یوسف نے عبداﷲ اور اُس کے ساتھیوں کو قتل کر ڈالا اور اُس کا اُس کے ساتھیوں کا سر کاٹ کر مہلب بن ابی صفرہ
کے پاس بھیج دیا اور خود بصرہ آگیا ۔ حجاج بن یوسف نے اٹھارہ سر رام ہرمز میں نصب کرنے کے لئے روانہ کئے اور اِس ترکیب سے مسلمانوں کی حالت مضبوط ہو گئی ۔ مگر خارجیوں کو یہ بات بہت ناگوار گذری کیونکہ انہیں توقع تھی کہ ہمارے دشمنوں میں پھوٹ پڑ جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ھ75 ھجری کا اختتام
اِس سال 75 ھجری کا اختتام خوارج کے ساتھ جنگ سے ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :‘‘ حجاج بن یوسف نے مہلب بن ابی صفرہ اور عبدالرحمن بن محنف کو حکم دیا کہ خوارج پر ایک فیصلہ کُن حملہ کرو ۔یہ حکم سنتے ہی دونوں نے اپنے اپنے لشکر کے ساتھ خوارج پر حملہ کر دیا ۔ خوارج منظم طریقے سے پسپا ہوئے اور رام ہرمز کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے اور مقام ‘‘سابور’’ میں جا کر مورچہ بند ہو گئے ۔ دونوں مسلمان سپہ سالار اُن کے تعاقب میں گئے اور سابور میں صف بندی کر لی ۔ مہلب نے اپنے اطراف خندق کھود لی جبکہ عبدالرحمن نے خندق کھودنے سے انکار کر دیا ۔ خارجی خندق کی وجہ سے مہلب بن ابی صفرہ کے لشکر کا کچھ نہیں بگاڑ سکے لیکن عبدالرحمن بن محنف پر اچانک حملہ کردیا اور زبردست جنگ کے بعد عبدالرحمن بن محنف قتل ہو گیا اور اُس کے لشکر کے زیادہ تر مارے گئے ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے مقتولین کو دفن کیا اورعبدالملک بن مروان اور حجاج بن یوسف کو خبر دی اورمسلسل خوارج سے جنگ کرتا رہا ۔ حجاج بن یوسف نے عتاب بن ورقا کو عبدالرحمن بن محنف کی جگہ سپہ سالار بنا کر بھیجا لیکن وہ بھی مہلب بن ابی صفرہ سے الجھ گیا ۔ حجاج بن یوسف کو جب معلوم ہوا تو اُس نے عتاب بن ورقا کو حکم دیا کہ اپنا لشکر مہلب بن ابی صفرہ کو دیکر واپس آجاؤ ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ حج کے دوران صالح بن مسرح اور شبیب بن یزید اور اِسی قسم کے کئی خوارج سردار تھے اور عبدالملک بن مروان پر حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن کامیاب نہیں ہوسکے ۔ عبدالملک بن مروان کو معلوم ہوا تو اُس نے حجاج بن یوسف کو حکم دیا کہ صالح بن مسرح اور شبیب بن یزید کی خبر لے ۔ حجاج بن یوسف اُن پر سختی سے نظر رکھنے لگا ۔ اِس سال ملک مصر کا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا جبکہ ملک عراق کا گورنر ھجاج بن یوسف تھا ۔
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِس سال 75 ھجری میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 75 ھجری میں جن لوگوں کا انتقال ہوا اُن میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ بھی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ابو الحجیع ہے اور حمص کے باشندے ہیں ۔ یہ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں اور شروع میں ہی اسلام قبول کیا تھا اور ‘‘اہل صفہ’’ میں سے شمار ہوتے تھے اور اُن معذور لوگوں میں شامل تھے جن کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ توبہ میں ‘‘ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملھم ……آیت کے آخر تک۔آیت نازل ہوئی ۔ یہ سب تعداد میں نو (9) تھے ۔ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا جس کو سن کر دلوں میں خوف پیدا ہو گیا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ایک اور روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پہلی صف والوں کو تین بار مرحبا کہتے تھے اور دوسری صف والوں کو ایک بار۔ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ بڑے بزرگ تھے اور دل سے پسند کرتے تھے کہ اﷲ انہیں دنیا سے اُٹھا لے اور وہ اکثر دعا کرتے تھے :‘‘ اے اﷲ! میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری ہڈیاں بوسیدہ ہو گئی ہیں پس تو اپنی طرف اُٹھا لے ۔’’ انہوں نے متعدد احادیث بھی روایت کی ہیں ۔
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِس سال 75 ھجری میں حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو ‘‘بیعت رضوان’’ میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہے اور غزوۂ حنین میں بھی شریک ہوئے ۔ مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ ملک شام پہنچے اور دمشق کی فتح کے بعد اُس کے مغربی حصہ میں قیام پذیر ہو گئے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دمشق کے مشرقی حصہ ‘‘بلاط’’ میں قیام پذیر رہے ۔ اُن کے نام اور اُن کے والد کے نام کے بارے میں قدرے اختلاف ہے اور اُن کا سب سے مشہور نام ‘‘ جرتوم بن اثر’’ ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت سے بھی روایت کی ہیں اور خود اُن سے بہت سے تابعین نے روایات نقل کی ہیں جن میں حضرت سعید بن مسیب ، مکحول ، الشامی ، ادریش خولانی اور ابو قلابہ جرمی شامل ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ حضرت کعب احبار کے ہم نشینوں میں سے ہیں ۔ کبھی رات کو گھر سے نکلتے تو آسمان کی طرف دیکھ کر غورو فکر کرتے اور پھر گھر آ کر سجدہ ریز ہو جاتے اور زبان سے کہتے جاتے تھے :‘‘ مجھے اُمید ہے اﷲ مجھے ایسی اذیت اور تنگی کی موت نہیں دے گا جیسا تم لوگ مجھے تنگی اور اذیت دیتے ہو ۔’’ ایک رات نماز پڑھ رہے تھے کہ سجدہ کی حالت میں روح قبض کر لی گئی ۔ اُن کی بیٹی نے خواب دیکھا کہ والد محترم کا انتقال ہو گیا ہے تو خوف زدہ ہو کر بیدار ہوئیں اور گھبرا کر والدہ محترمہ کے پاس آئیں اور کہا : ‘‘ میرے والد محترم کہا ہیں؟’’ والدہ محترمہ نے جواب دیا : ‘‘ مصلے پر ہیں ۔’’ بیٹی نے پکارا تو کوئی جواب نہیں ملا ۔ قریب آ کر ہلایا تو پہلو کے بل گر گئے ،اُن کی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔
حضرت اسود بن یزید تابعی کا انتقال
اِس سال 75 ھجری مشہور تابعی حضرت اسود بن یزید کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسود بن یزید نخعی کبارتابعین میں سے ہیں اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے اہل کوفہ کے شاگرد ہیں ۔‘‘صائم الدھر ’’ اور کثرت سے روزے رکھنے کے باعث ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی ۔ اسی (80) حج اور عُمرے کئے تھے ۔ یہ کوفہ میں ہی احرام باندھ کر تسبیح و تہلیل میں مشغول ہو جاتے تھے ۔ سفر میں ہوں یا حضر میں روزہ کبھی قضا نہیں کرتے تھے ۔حضرمیں ہوتے تو روتے رہتے تھے ،لوگ اُن سے رونے کی وجہ دریافت کرتے تو فرماتے :‘‘ میں کیوں نہ گھبراؤں اور مجھ سے زیادہ اس کا کون حقدار ہے ؟ فرمایا کرتے تھے :‘‘ اگر مجھے اپنی مغفرت کا علم ہو جائے تو میں اپنی بقیہ عمر بھی اس کے عوض دے ڈالوں ۔ اگر کسی انسان کا چھوٹا سا گناہ بھی بخش دیا جائے تو یہ اس کی زندگی لازوال بنانے کے لئے کافی ہے۔اِس سال حضرت حمران بن ابان کا بھی انتقال ہوا ۔آپ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے غلام تھے جن کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے ‘‘عین التمر’’ کی قید سے رہا کرا کر خرید لیا تھا ۔ یہ لوگوں کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے ملاقات کراتے تھے ۔
خوارج کا حملہ
ھ 76 ھجری کا پورا سال حجاج بن یوسف خوارج سے لڑتا رہا ۔ خوراج سے مہلب بن ابی صفرہ تو ‘‘نیشا پور’’ میں جنگ کر ہی رہا تھا کہ مسلمانوں میں سے دو شخص صالح بن مسرح اور شبیب بن یزید نے عبدالملک بن مروان اور حجاج بن یوسف کے خلاف بغاوت کی اور مملکت اسلامیہ کے علاقوں پر قبضہ کر نا شروع کر دیا ۔ حجاج بن یوسف مسلسل اُن کے مقابلے پر لشکر بھیجتا رہا اور جنگ ہوتی رہی لیکن وہ دونوں مسلسل علاقوں پر قبضہ کرتے جارہے تھے ۔ پھر انہوں نے خوارج سے دوستی کر لی اورخوارج میں شامل ہو گئے ۔ حجاج بن یوسف نے کئی لشکر اور کئی سپہ سالار اُن دونوں سے جنگ کے لئے بھیجے ۔آخر کار صالح بن مسرح مارا گیا لیکن شبیب بن یزید مسلسل حملے کرتا رہا اور مسلم علاقوں پر قبضہ کرتا رہا ۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا تھا کہ شبیب بن یزید نے کوفہ پر بھی حملہ کیا اور حجاج بن یوسف اپنے قصر سے اُس کا مقابلہ کرتا رہا ۔اِس طرح پورا 76 ھجری گذر گیا ۔
اسلامی سکہ کا اجرا
اِس سال 76 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے اسلامی سکہ ڈھلوایا اور پوری مملکت اسلامیہ میں ‘‘اسلامی سکہ’’ کو پھیلایا۔ اِس سے پہلے مملکت اسلامیہ میں ‘‘رومی سکہ’’ چلتا تھا اور رومی روپئے اور پیسے سے لین دین ہوتا تھا ۔ عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں کا اپنا خود کا ‘‘روپیہ اور پیسہ’’ بنا کر ڈھالا اور رائج کیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان روم کے بادشاہ کے پاس ایک خط بھیجا جس میں ‘‘قل ھو اﷲ احد’’ اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا اِسم ِ مبارک تاریخ کے ساتھ لکھا ۔ روم کے بادشاہ کو یہ شاق گذرا اور اُس نے لکھ بھیجا ‘‘ عنوان خط پر ایسے مضامین نہ لکھو ورنہ ہم درہم اور دینار پر تمہارے نبی کا ذکر ( نعوذ باﷲ) ایسے طور پر لکھیں گے کہ تم کو ناگوار ہوگا ۔’’ عبدالملک بن مروان نے خط پڑھا تو اُسے تردد ہوا اور اُس نے مسلمانوں سے مشورہ کیا ۔ خالد بن یزید نے رائے دی کہ رومیوں کے درہم اور دینار کو ترک کر دیا جائے اور خود ہم ہمارے درہم اور دینار ڈھال کر رائج کریں ۔ عبدالملک بن مروان نے ایسا ہی کیا اور ‘‘اسلامی سکے’’ ڈھال کر پوری مملکت اسلامیہ میں رائج کیا ۔ بعد ازاں حجاج بن یوسف نے درہم اور دینار پر ‘‘قل ھو اﷲ احد’’ منقش کروایا ۔ مسلمانوں نے اِس کو اِس لئے ناپسند کیونکہ ‘‘سکوں’’ کو لوگ ناپاکی کی حالت میں بھی ہاتھ میں لیتے ہیں ۔ پھر ‘‘اسلامی سکہ’’ کو خالص اور کھرا بنانے کی کوشش کی گئی اور ابن ہیبرہ نے یزید بن عبدالملک کے زمانۂ حکومت میں اور خالد قسری نے ہشام بن عبدالملک کے زمانۂ حکومت میں ‘‘سکوں’’ کو خالص کرنے کا اہتمام کیا ۔ اِس کے بعد یوسف بن عمر نے سب سے زیادہ ‘‘سکوں’’ کو خالص کیا اور کھرے کھوٹے کا امتحان مقرر کیا ۔ اِس اعتبار سے ‘‘ہیبریہ سکے’’ اور ‘‘خالدیہ سکے’’ اور ‘‘ یوسفیہ سکے’’ خالص ترین ‘‘نقوذبنو اُمیہ’’ شمار کئے جاتے تھے ۔ منصور نے اپنے عہد حکومت میں یہ فرمان جاری کیا کہ خراج میں سوائے اِن سکوں کے اور سکے قبول نہ کئے جائیں اور وہ پہلاسکہ‘‘ مکروہیہ’’ کے نام سے موسوم ہوا ۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالص نہیں تھا اور اِس وجہ سے بھی کہ اُس پر ‘‘قل ھو اﷲ احد’’منقش تھا اور لوگ اس کو ‘‘مکروہ’’ سمجھتے تھے ۔ عجمیوں کے درہم مختلف اقسام کے تھے ۔بعض چھوٹے اور بعض بڑے تھے اورمثقال کا کوئی وزن مقرر نہیں تھا ۔ بعض بیس قیراط کے تھے اور بعض بارہ قیراط کے تھے اور بعض دس قیراط کے تھے ۔ اِس سب کو جمع کرنے پر بیالیس قیراط ہوتے تھے ۔ پس اس کے ‘‘ثلث’’ یعنی چودہ قیراط پر عربی درہم مضروب ہوا ۔ اس حساب سے ہر دس درہم سات مثقال کے برابر ہوئے ۔ بعض کا بیان ہے کہ حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے بھائی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے دور ِ حکومت میں درہم مضروب کرائے تھے لیکن صحیح یہی ہے کہ عبدالملک بن مروان نے ہی اسلام میں سب سے پہلا ‘‘اسلامی سکہ’’ جاری کیا ۔
ھ76 ھجری کا اختتام
ھ 76 ھجری ختم ہوا تو عبدالملک بن مروان اور حجاج بن یوسف دونوں کے لئے شبیب بن یزید خارجی ہوا بنا ہوا تھا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِ س سال مروان بن محمد بن مروان بن حکم پیدا ہوا جو ‘‘مروان الحمار’’ کہلاتا تھا ۔ یہ بنو اُمیہ کا آخری بادشاہ ثابت ہوا تھا کیونکہ اِسی کے عہد میں خاندان ‘‘بنو عباس’’ نے خاندان ‘‘بنو اُمیہ ’’ سے حکومت چھین لی تھی جیسا کہ انشاء اﷲ آگے ذکر آئے گا ۔ اِس سال عبد الملک بن مروان نے ماہ رجب المرجب میں ابان بن عثمان بن عفان کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنایا اور اُس نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ ملک عراق کا گورنر حجاج بن یوسف تھا اور خراسان کا گورنر امیہ بن عبداﷲ تھااور ملک مصر کا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا۔
حضرت زہیر بن قیس بلوی کا انتقال
اِس سال 76 ھجری میں حضرت زہیر بن قیس بلوی شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں :حضرت زہیر بن قیس بلوی ملک مصر کی فتح میں شامل تھے اور ایک مدت تک وہیں قیام پذیر رہے ۔ ملک مصر کے گورنر عبدالعزیز بن مروان نے برقہ میں پڑاؤ ڈالا اور وہیں اپنے لشکر کو رومیوں سے جنگ کرنے کا حکم دے دیا ۔ اِس حکم کے مطابق حضرت زہیر بن قیس اپنے چالیس ساتھیوں کو لیکر رومیوں کی طرف بڑھے ۔ پھر انہوں نے اپنے لشکر کے آنے تک رُکنے کا ارادہ کیا تو اُن کے ساتھیوں نے کہا : ‘‘ انتظار کی ضرورت نہیں ہے اور ہمیں ہی پہل کرنی چاہیئے ۔’’ بہر حال انہوں نے دشمن پر حملہ کردیا اور پورے چالیس
شہید ہو گئے ۔ اِن کے سپہ سالار حضرت زہیر بن قیس بھی شہید ہو گئے ۔
ھ77 ھجری :شبیب بن یزید خارجی کی پیش قدمی
اِس سال 77 ھجری کا پورا سال عبدالملک بن مروان اور حجاج بن یوسف خوارج سے لڑتے رہے ۔ ایک طرف نیشا پور میں خوارج مسلسل مسلمانوں سے جنگ کر رہے تھے اور مہلب بن ابی صفرہ مسلسل اُن کے ساتھ حالت جنگ میں تھا ۔ دوسری طرف شبیب بن یزید خارجی مسلسل مملکت اسلامیہ کے علاقوں پر اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہو ئے تھا اور اُس کی وجہ سے حجاج بن یوسف بہت زیادہ پریشان تھا ۔ وہ مسلسل لشکر پر لشکر شبیب بن یزید کے مقابلے پر بھیج رہا تھا اور اُسے مسلسل شکست کی اطلاع مل رہی تھی ۔ یہاں تک کہ حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان سے شامی لشکر بھیجنے کی درخواست کی ۔ عبدالملک بن مروان نے بھی شامی لشکر بھیج دیا ۔
حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کا مشورہ
حجاج بن یوسف مسلسل خارجیوں کی سرکوبی میں مصروف تھا اور مسلمانوں کو جمع کر کے شبیب بن یزید سے لڑنے کے لئے اُبھا رہا تھا کہ حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ جن کی عُمر سو سال سے زیادہ ہو چکی تھی نے اُسے مشورہ دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ جو ایک انتہائی بزرگ آدمی تھے اور بغیر سہارے کے کھڑے نہیں ہو سکتے تھے ۔( حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ آپ کو یاد ہوں گے ۔ جب خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار اعظم بنا کر ملک عراق بھیجا تھا تو اُس لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے کمانڈر حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ تھے ۔ انہوں نے پورے ‘‘سلطنت فارس’’ کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا اور ہر جنگ میں آگے آگے تھے ۔ یہ وہی حضرت زہرہ بن حویہ ہیں) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ‘‘ اے سردار! اﷲ آپ کو نیک توفیق دے ! اِس وقت جس قدر لشکر آپ نے دشمن کے مقابلے پر روانہ کئے ہیں وہ چھوٹے چھوٹے تھے ۔ اب آپ یہاں سے ایک بڑا لشکر دشمن کے مقابلے پر بھیجیں اور ایسے شخص کو سپہ سالار بنائیں جو بہادر ، صابر ، تجربہ کار اور میدان جنگ سے بھاگنے کو ذلت و عار سمجھتا ہو اور ثابت قدم رہنے والے کی بزرگی کو سمجھنے والا ہو۔’’
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں