ا35 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 35
والدہ محترمہ کا استقلال، والدہ محترمہ سے آخری ملاقات، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بہادری، ہر دروازے پر شامی لشکر، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی شہادت، اہل مکہ نے عبدالملک کی حکومت کو تسلیم کر لیا، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین، سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کی استقامت، حجاج بن یوسف کی صحابۂ کرام سے گستاخی، ھ73 ھجری کا اختتام، حضرت عوف بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال، سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کا انتقال، حضرت ثابت بن ضحاک رضی اﷲ عنہ کا انتقال
والدہ محترمہ کا استقلال
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے اپنے بیٹے کو حق اور صداقت پر قربان ہوجانے کا حکم د ے دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس گفتگو کو سن کر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اپنی والدہ محترمہ سے قریب ہوئے اور اُن کی پیشانی کو بوسہ دیا اور عرض کیا : ‘‘ اﷲ کی قسم! میری بھی یہی رائے ہے ۔اﷲ کی قسم! میں نے نہ تو دنیا کی طرف میلان کیا اور نہ دنیا میں رہنا چاہتا ہوں ۔حکومت کے لئے میری جد و جہد میری ذاتی غرض پر مبنی نہیں تھی بلکہ اﷲ کے لئے میں نے یہ کام اپنے سر لیا تھا ۔ میں نے اِسے اچھا نہیں سمجھا کہ حرم محترم کی حرمت مٹا دی جائے ۔ مگر اِس وقت میں نے یہ مناسب سمجھا کہ آپ رضی اﷲ عنہا کی رائے بھی لے لوں اور آپ رضی اﷲ عنہا نے میرے ارادے کو اور بھی مستحکم کر دیا ہے ۔ اب آپ سے عرض ہے کہ آج اگر میں مار اجاؤں گا تو آپ رضی اﷲ عنہا مجھ پر رنج و غم نہیں کریں گی اور مجھے اﷲ کے سپرد کر دیجیئے ۔ اﷲ کی قسم! میں کبھی کسی ایسے کام کو کرنے کا ارادہ نہیں کیا جس سے میری عزت پر دھبہ آئے اور نہ میں نے کوئی اور برا کا م کیا ہے ۔اﷲ کے احکام کی تعمیل میں حد سے تجاوز نہیں کیا ، کسی کو امان دیکر اُسے نہیں توڑا ، کسی مسلمان یا ذمی پر ظلم نہیں کیا ۔جب کبھی کسی ماتحت افسر کے ظلم کی اطلاع مجھے ہوئی تو میں نے اسے کبھی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا بلکہ اُسے سرزنش کر دی ۔اﷲ کی رضا میرے نزدیک سب سے بڑی سفارش تھی ۔یہ میں اِس لئے نہیں کہہ رہا ہوں کہ میں نے برے اعمال کئے ہیں اور اِن سے اپنے آپ کو علیحدہ کرہا ہوں بلکہ اے اﷲ! آپ خوب مجھ سے واقف ہیں اور کوئی شئے آپ سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ میرے حالات معلوم کر کے میرے بعد میری والدہ محترمہ رنجیدہ نہ ہو بلکہ وہ میری خوبیوں سے ایک گونہ اطمینان و تسلی حاصل کر سکیں ۔’’سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے فرمایا: ‘‘ مجھے اﷲ سے توقع ہے کہ اگر تم مجھ سے پہلے اِس جہان فانی سے رخصت ہو گئے تو میں ثبات و استقلال سے تمہاری موت پر صبر کروں گی اور اگر میں پہلے مر گئی تو میرے جی میں آتا ہے کہ کم از کم میں یہ ضرور دیکھوں کہ تمہاری اِس جنگ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟’’
والدہ محترمہ سے آخری ملاقات
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنی والدہ محترمہ کا حوصلہ اور استقلال دیکھا تو اﷲ کا شکر ادا کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ اے میری والدہ محترمہ! اﷲ تعالیٰ آپ رضی اﷲ عنہا کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آپ رضی اﷲ عنہا مہربانی فرما کر ہمیشہ میرے لئے دعا کرتی رہیں ۔’’ انہوں نے فرمایا: ‘‘ میں ضرور تمہارے لئے دعا کروں گی کیونکہ مجھے کامل یقین ہے کہ چاہے اور کسی شخص نے باطل کے لئے اپنی جان دی ہو مگر تم نے تو حق اور صداقت کی راہ میں اپنی جان عزیز قربان کی ہے ۔ اِس کے بعد انہوں نے یہ دعا مانگی : ‘‘ اے اﷲ! تُو اِس کی رات میں عبادت کرنے کے لئے شب بیداری ،مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ کی دوپہریوں میں تیری عبادت میں آہ بکا کرنے ،روزے میں شدت تشنگی برداشت کرنے اور اپنے والد محترم اور مجھ سے حسن سلوک کرنے کی وجہ سے اِس پر رحم فرما۔ اے اﷲ تعالیٰ! اِس کے معاملے کو میں نے تیرے سپرد کر دیا اور جو کچھ تُو نے فیصلہ کیا ہے میں اس سے خوش ہوں۔ میرے بیٹے عبداﷲ کی وجہ سے تُو مجھے صبر و شکر کرنے والوں سا ثواب عطا فرما۔ ’’سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا اپنے بیٹے کے شہید ہونے کے بعد صرف پانچ یا دس دن زندہ رہیں۔جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ جنگ کے لئے تیار ہو کر جانے لگے تو آخری بار والدہ محترمہ سے ملنے کے لئے آئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ زرہ اور خود پہنے ہوئے تھے ۔اپنی والدہ محترمہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر بوسہ دیا اور عرض کیا :‘‘ میں آپ رضی اﷲ عنہا سے رخصت ہونے کے لئے آیا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اِس جہان فانی میں قیام کا یہ میرا آخری دن ہے ۔ اِس کے علاوہ میں آپ رضی اﷲ عنہا کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر میں قتل ہو گیا تو صرف ایک مردار گوشت ہوں گا اور جو کچھ میرے ساتھ کیا جائے گا اُس سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔’’اُن کی والدہ محترمہ نے فرمایا: ‘‘ اپنے ارادے کی تکمیل کرو اور اپنے آپ کو دشمنوں کے حوالے نہ کرو ۔میرے قریب آؤ تاکہ میں تمہیں رخصت کروں۔’’
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بہادری
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے پاس گنتی کے چند ساتھی رہ گئے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ آخری معرکہ کے لئے حجاج بن یوسف کے لشکر کے مقابلے پر آئے۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے آستینیں سمیٹ لیں اور قمیص کے دامن اُٹھا کر قمیص سے باندھ لئے اور بسم اﷲ کہہ کر گھر سے نکل پڑے ۔ شامیوں پر ایک سخت حملہ کیا جس سے اُن کے بہت سے آدمی مارے گئے ۔پھر بھی انہوں نے گھیر لیا تو آپ رضی اﷲ عنہ تکبریں کہتے ہوئے اُن کے نرغے سے نکل آئے ۔ بعض ساتھیوں نے بھاگنے کی رائے دی ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا : ‘‘ کیا ہی بُرا ہے وہ شخص جو ایسی حالت میں بھاگ جائے ،میں تو اﷲ تعالیٰ کی عنایت سے اسلام میں ہوں۔اِس سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا کہ یہ لوگ مجھے قتل کر ڈالیں گے اور اِس خوف سے میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنا محض حماقت ہے۔’’ اُس وقت مسجد الحرام کے تمام دروازے شامیوں سے بھرے ہوئے تھے اور چاروں طرف سے مکۂ مکرمہ کی ناکہ بندی کر لی گئی تھی ۔حجاج بن یوسف اور طارق بن عمرو نے ابطح کی جانب سے ‘‘مروہ’’ تک گھیر لیا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ پر چاروں طرف سے حملے کر رہے تھے ۔تھوڑی تھوڑی دیر کے بعدحضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اپنےساتھی حضرت عبداﷲ بن صفوان کو پکارتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے ۔ حجاج بن یوسف نے دیکھا کہ لوگ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ پر حملہ کرنے سے جی چراتے ہیں تو وہ اپنے لشکر پر غصہ ہوا اور طیش میں آکر پیادہ لشکر لئے ہوئے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے علم بردار (جھنڈا اُٹھانے والے) کو گھیر لیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے شامیوں پر زبردست حملہ کر کے اپنے علم بردار کو محاصرے سے نکال لیا اور ایک پُر زور حملہ کر کے حجاج کو پسپا کر کے لوٹے ۔ مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھی ،اِسی دوران حجاج بن یوسف نے پھر اُن کے علم بردار پر حملہ کیا ۔ باب بنو شیبہ پر لڑائی ہوئی اور آپ رضی اﷲ عنہ کا علم بردار مارا گیا اور علم حجاج کے لشکر نے لے لیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نماز سے فارغ ہو کر بغیر علم کے ہی لڑنے لگے ۔
ہر دروازے پر شامی لشکر
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ حجاج بن یوسف کے شامی لشکر کا زبردست مقابلہ کر رہے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھی مسلسل کام آتے جارہے تھے اور شامی لشکر مسلسل مکۂ مکرمہ میں گھستے جارہے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اہل حمص کے ایک کمانڈر نے جو خود اِس جنگ میں شریک تھا بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو منگل کے روز دیکھا اور ہم حمص والے پانچ سو آدمی کے دستے کے طور پر اُن پر حملہ آور ہو رہے تھے ۔ ہمارے داخلے کے لئے بھی ایک خاص دروازہ مقرر کر دیا گیا تھا کہ جس سے صرف ہم کوہی داخل ہونے کا حکم تھا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ تنہا ہمارے مقابلے پر آتے تھے اور ہم اُن سے شکست کھا کر پیچھے ہٹ جاتے تھے ۔ میں اُن سے کہتا تھا کہ بلا شبہ آپ رضی اﷲ عنہ ایک جوانمرد ہیں ۔ میں نے ابطح میں انہیں کھڑے دیکھا اور کسی شخص کو اُن کے پاس جانے کی جرأت نہیں ہوتی تھی ۔اِسی لئے ہمیں خیال ہوا کہ آپ رضی اﷲ عنہ مارے ہی نہیں جائیں گے۔ غرض کہ منگل ہی کے دن ‘‘حرم’’ کے تمام دروازے شامیوں سے بھر گئے ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں نے مدافعت کے سب مقامات دشمن کے حوالے کر دئے اور دشمن کا پورا لشکر اُن میں سما گیا ۔جس دروازے پراہل حمص متعین کئے گئے وہ بالکل خانۂ کعبہ کے سامنے تھا۔ اہل دمشق باب بنو شیبہ پر ، اہل اردن باب صفا پر ، اہل فلسطین باب بنو جمح پر اور اہل قنسرین باب بنو سہم پر متعین کر دیئے گئے ۔حجاج بن یوسف اور طارق بن عمرو دونوں کا لشکر ابطح کی سمت میں ‘‘مروہ’’ تک پھیلا ہوا تھا۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کبھی اِس سمت میں دشمن کا مقابلہ کرتے اور کبھی دوسری جانب ۔ اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی کیفیت ‘‘شیر نیستاں’’ کی طرح تھی کہ جب دشمن کا گروہ آپ رضی اﷲ عنہ پر حملہ کرتا تھا تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس پر جھپٹ پڑتے تھے حالانکہ وہ سب درواشے پر کھڑے ہوتے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ انہیں لڑتے لڑتے دروازے کے باہر نکال دیتے تھے۔
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ مسلسل شامیوں سے مقابلہ کر رہے تھے کہ شام ہوگئی اور لڑائی بند ہو گئی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: 17 جمادی الاول 73 ھجری بروز سہ شنبہ صبح کے وقت حجاج بن یوسف نے تمام دروازوں پر قبضہ کر لیا ۔اُس تمام رات حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اﷲ کی عبادت میں مصروف رہے پھر تلوار کے پر تلے سے کمر باندھ کر تھوڑی دیر سو گئے ۔ بہت سویرے بیدار ہوئے اور سعد سے کہا کہ اذان دو۔ سعد نے مقام ابراہیم پر اذان دی ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وضو کیا اور دو رکعت سنت پڑھی پھر آگے بڑھے اور موذن نے اقامت کہی اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھی ۔ دونوں رکعتوں میں سورہ نون والقلم حرف بہ حرف تلاوت کی اور سلام پھیر کر خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے ۔ حمد و ثناء کے بعد فرمایا:‘‘ آپ لوگ اپنے چہرے کھول دیجئے تا کہ میں آپ سب کو دیکھوں۔ ’’ ( کیونکہ تمام لوگوں نے خود اور عماموں سے اپنے چہرے چھپا رکھے تھے) اِس حکم کی تعمیل میْں لوگوں نے اپنے چہرے کھول دیئے۔ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :‘‘ اے ال زبیر! اگر تم نے میرے ساتھ خیر خواہی کی ہوتی تو عرب میں ہمارا وہ خاندان ہوتا کہ جس نے اﷲ کے راستے میں اپنی جانیں قربان کی ہوتیں اور کبھی ہم پر یہ مصیبت نازل نہ ہوتی ۔ اے اآل زبیر! تم ہر گز تلواروں کے لڑنے سے خائف نہ ہو نا کیونکہ مجھے اس کا تجربہ ہے ۔ کوئی ایسی جنگ نہیں ہوئی جس میں زخمی نہ ہوا ہو اور میں جانتا ہوں کہ زخم کے علاج کرنے کی تکلیف تلوار کے لگنے سے زیادہ سخت ہے ۔ جس طرح تم اپنے چہروں کو بچاتے ہو اسی طرح تلواروں کو بھی بچانا کیونکہ میں کسی ایسے شخص سے واقف نہیں ہوں کہ جس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو اور وہ پھر زندہ باقی ریا ہو۔ مرد کے پاس ہتھیار نہ ہوں تو وہ عورت کی طرح رہتا ہے ۔ جب بجلی چمکتی ہے تو اپنی آنکھیں بند کر لینا یا تلواروں سے اپنی آنکھیں بچانا ۔ ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ صرف اپنے مقابلے کا دھیان رکھے ۔ میرے متعلق سوال تمہاری اپنی توجہ کو نہ بٹائے اور یہ ہر گز نہ کہنا کہ میں کہاں ہوں البتہ جو شخص دریافت کرے اُسے بتا دنا۔ میں سواروں کے سب سے اوّل دستے میں کھڑ ہوں گا ۔اﷲ کا نام لیکر حملہ کرو۔’’حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے دشمن پر حملہ کیا اور ‘‘حجون’’ تک انہیں پیچھے دھکیل دیا ۔ ایک اینٹ آکر چہرے پر لگی جس کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کو چکر آگیا اور پورا چہرہ لہو لہان ہو گیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : الغرض اِس قسم کے چند کلمات سمجھا کر شامیوں کے لشکر پر حملہ کیا اور لڑتے لڑتے ‘‘حجون’’ تک بڑھ گئے ۔شامیوں کے لشکر سے ایک شخص نے دُور سے تیر مار ا ،جس سے آپ رضی اﷲ عنہ کی پیشانی زخمی ہوگئی اور چہرے سے خون بہنے لگا مگر اِس کے باوجود نہایت مردانگی سے لڑتے رہے ۔ شامی لشکر دُور سے پتھر اور تیر برسانے لگا۔ بالاّخر (یوم سہ شنبہ) ماہ جماد ی الآخر ۷۳ ھجری کو شہید ہو گئے۔ حجاج کے سامنے آپ رضی اﷲ عنہ کا سر پیش کیا گیا تو اُس نے سجدہ کیا اور اہل شام تکبیر کہہ اُٹھے ۔
اہل مکہ نے عبدالملک کی حکومت کو تسلیم کر لیا
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ اہل مکہ تھے لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے بعد اہل مکہ نے عبدالملک بن مروان کی حکومت کو تسلیم کر لیا۔اِس طرح عبدالملک بن مروان مملکت ِ اسلامیہ کا اکیلا حکمراں بن گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف کو جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کی خبر ہوئی تو اُس نے سجدۂ شکر ادا کیا اور طارق بن عمرو کے ساتھ لاش پر آیا ۔ طارق بن عمرو نے آپ رضی اﷲ عنہ کی لاش دیکھ کر کہا: ‘‘ اِن سے زیادہ جواں مرد آج تک پیدا نہیں ہوا ۔’’ حجاج بن یوسف نے یہ سن کر کہا: ‘‘ تم ایسے شخص کی تعریف میں رطب اللسان ہو جس نے امیر المومنین کی مخالفت کی ہے ۔’’ طارق بن عمرو نے کہا: ‘‘ بے شک اِن کی یہی غیر معمولی بہادری اور شجاعت ہی تو ہمارے لئے باعث تسلی ہو سکتی ہے ۔ اگر یہ بات نہیں ہوتی تو ہمارے پاس اِس کا کیا جواب تھا کہ ہم نے سات مہینے سے اِن کا محاصرہ کر رکھا تھا اور انہوں نے کوئی خندق نہیں کھودی اور یہ کسی قلعے میں بھی نہیں تھے اور کسی اونچے مقام پر بھی نہیں تھے جو قدرتی طور پر مدافعت کا کام دیتا ۔اِس کے باوجود انہوں نے اپنا پلہ ہلکا نہیں ہونے دیا بلکہ اِن کا ہی پلہ بھاری رہا ۔’’ جب اِس گفتگو کی خبر عبدالملک بن مروان کو ہوئی تو اُس نے طارق بن عمرو کی تائید کی ۔حجاج بن یوسف نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ ، حضرت عبداﷲ بن صفوان اور عمارہ بن عمرو بن حزم کے سروں کو مدینۂ منورہ بھیجا جہاں وہ ایک نصب کر دیئے گئے ۔ پھر وہ عبدالملک بن مروان کے سامنے لائے گئے ۔ اِس کے بعد حجاج بن یوسف مکۂ مکرمہ میں داخل ہوا اور تمام اہل مکہ سے عبدالملک بن مروان کے لئے بیعت لی اور تمام اہل مکہ نے اُس کی حکومت تسلیم کر لی ۔ اِس کے بعد عبدالملک بن مروان نے طارق بن عمرو کو مدینۂ منورہ کا گورنر مقرر کیا اور وہ پانچ مینے تک اِس عہدے پر رہا۔
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کے بعد حجاج بن یوسف نے آپ رضی اﷲ عنہ کا سر عبدالملک بن مروان کے پاس بھیج دیا اور جسم کو مکۂ مکرمہ میں صلیب پر چڑھا دیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے لاش کو دفن کرنے کی اجازت چاہی لیکن حجاج بن یوسف نے انکار کر دیا تو آپ رضی اﷲ عنہا نے اپنے دوسرے بیٹے حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو ملک شام عبدالملک بن مروان کے پاس بھیجاتو وہ دفن کرنے کی اجازت لیکر آئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق
رضی اﷲ عنہا نے شہادت کے بعد لاش کے دفن کی اجازت چاہی تو حجاج بن یوسف نے انکار کیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد اُن کے بھائی حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ حجاج سے پہلے عبدالملک بن مروان کے پاس پہنچ گئے ۔اُس نے اُن کو کمال عزت سے تخت پر اپنے برابر بٹھایا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اُن کی شہادت کے بارے میں بتایا ۔ یہ سن کر عبدالملک بن مروان سجدے میں چلا گیا ۔ جب سر اُٹھا یاتو حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ حجاج نے اُن کی لاش صلیب پر چڑھا دی ہے اور دفن نہیں کرنے دے رہا ہے ۔ اگر تُم اجازت دو تو لاش اُن کی والدہ محترمہ کے حوالے کر دی جائے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے یہ درخواست منظور کر لی اور حجاج بن یوسف کو صلیب دینے پر ملامت آمیز خط لکھا ۔ حجاج بن یوسف نے لاش صلیب سے اُتروا کر سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا ۔حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور دفن کر دیا ۔
سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کی استقامت
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے بعد بھی اُن کی والدہ محترمہ اُسی طرح استقامت پر قائم رہیں۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین کے بعدسیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حجاج بن یوسف حاضر ہوا اور بولا: ‘‘ اے امی جان! امیر المومنین عبدالملک بن مروان نے مجھے آپ کے متعلق وصیت کی ہے ۔کیا آپ کی کوئی حاجت ہے؟’’ آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا: ‘‘ میں تیری ماں نہیں ہوں ،میں ثنیہ پر مصلوب ہونے والے (حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ) کی ماں ہوں۔اور مجھے کوئی حاجت نہیں ہے لیکن میں تجھے ایک حدیث بیان کروں گی ۔میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘ بنو ثقیف سے ایک‘‘ کذاب’’ اور ایک‘‘ بربادی افگن’’ ظاہر ہو گا ۔’’ کذاب کو تو ہم نے دیکھ لیا ہے اور ‘‘بربادی افگن’’ میرے خیال میں تُو ہی ہے ۔ ’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ میں منافقین کو برباد کرنے والا ہوں۔’’ اِس کے تھوڑے ہی دنوں بعد سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوگیا ۔
حجاج بن یوسف کی صحابۂ کرام سے گستاخی
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو شہید کر کے مکۂ مکرمہ فتح کرنے کے بعد حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ آیا اور وہاں موجود صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی شان میں گستاخی کی اور بد تمیزی سے پیش آیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: کامیابی کے بعد حجاج بن یوسف مکۂ مکرمہ میں داخل ہوا اور مسجد الحرام کو خون اور پتھروں سے صاف کرایا اور اہل مکہ سے عبدالملک بن مروان کی بیعت لیکر مدینۂ منورہ چلا گیا اور وہاں دو مہینے تک ٹھہرا رہا ۔اہل مدینہ کو امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا قاتل سمجھ کر ستانے لگا اور اُن کی ذلت و رسوائی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا ۔ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت کے ہاتھوں پر سیسہ گرم کر کے ‘‘مہریں’’ کرادیں جیسا کہ ذمیوں کے ساتھ کیا جاتا تھا ۔ اِن میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ ، حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ اور حضرت سہل بن مالک رضی اﷲ عنہ بھی تھے ۔اِس کے بعد مکۂ مکرمہ لوٹ آیا ۔ مدینہ اور اہل مدینہ کو ستانے اور پریشان کرنے کے بارے میں بہت سے واقعات نقل کئے جاتے ہیں جس کے ذکر سے کچھ فائدہ نہیں ہے اور اﷲ تعالیٰ منتقم حقیقی ہے۔
ھ73 ھجری کا اختتام
مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ میں حجاج بن یوسف کے ظلم کے علاوہ اِس سال 73 ھجری میں ابو فدیک خارجی کو قتل کرنے کا وقعہ پیش آیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 73 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے عمر بن عبیداﷲ بن معمر کو ابو فدیک خارجی سے مقابلہ کے لئے روانہ کیا اور حکم دیا کہ کوفہ اور بصرہ سے جن جن کو چاہوں ساتھ لے لو۔عمر بن عبیداﷲ کوفہ آیا اور دس ہزار آدمی اُس کے ساتھ ہوگئے ۔پھر بصرہ آیا تو وہاں سے بھی دس ہزار آدمی ساتھ ہوگئے ۔اِس طرح بیس ہزار سے زیادہ کا لشکر لیکر ابو فدیک خارجی پر حملہ کیا ۔اُس نے زبردست مقابلہ کیا اور بصرہ والوں کو پیچھے دھکیل دیا جبکہ کوفہ والے ڈٹے رہے ۔یہ دیکھ کر بصرہ وااوں نے بھی زبردست حملہ کیا اور خارجیوں کو شکست ہوئی ۔ ابو فدیک مارا گیا اور خارجیوں نے اپنے آپ کو بلا شرط کے حوالے کر دیا ۔ عمر بن عبیداﷲ نے اِن میں سے چھ ہزار کو قتل کرا دیا اور آٹھ سو کو قیدی بنا لیااور پھر لشکر لیکر بصرہ واپس آگیا ۔اِس سال ۷۳ ھجری میں عبدالملک بن مروان نے خالد بن عبداﷲ کو بصرہ کی گورنری سے معزول کر دیا اور اُس کی جگہ اپنے بھائی بشر بن مروان کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔اِس طرح بشر بن مروان کوفہ اور بصرہ دونوں کا گورنر بن گیا ۔ اُس نے کوفہ پر عمرو بن حریث کو اپنا نائب بنایا اور خود بصرہ آگیا ۔ اِس سال محمد بن مروان ایک لشکر لیکر موسم گرما میں رومیوں سے لڑنے کے لئے گیا اور انہیں شکست دی ۔ اِس سال عثمان بن ولید اور رومیوں کے درمیان آرمینیا کے مضافات میں جنگ ہوئی ۔ عثمان بن ولید کے پاس صرف چارہزار کا لشکر تھا جبکہ اُس کے مقابل رومیوں کی تعداد ساٹھ ہزار تھی مگر عثمان بن ولید نے انہیں شکست دے دی اور شدید نقصان پہنچایا۔اِس سال حجاج بن یوسف نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔
حضرت عوف بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِس سال 73 ھجری میں حضرت عوف بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں؛حضرت عوف بن مالک بن عوف اسجعی غطفانی جلیل القدر صحابی ہیں ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور آپ رضی اﷲ عنہ سے پہلے سپہ سالاروں کے ساتھ جنگ موتہ میں شامل ہوئے اور فتح مکہ میں بھی شامل ہوئے ۔اُس روز آپ رضی اﷲ عنہ کی قوم کا جھنڈا آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ میں تھا اور ملک شام کی فتح میں بھی شامل ہوئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے احادیث روایت کی ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ سے تابعین کی ایک جماعت اور حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے بھی روایت کی ہے اور اُن کا انتقال آپ رضی اﷲ عنہ سے پہلے ہو گیا ۔
سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کا انتقال
اِس سال 73 ھجری میں سیدہ اسما ء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی بیٹی ہیں ۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی بہن ہیں ۔ عشرہ مبشرہ میں سے حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی بیوی ہیں اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ ہیں ۔ انہیں ‘‘ذات النطاقین’’ کا لقب ملا ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہا کو یہ لقب ہجرت کے سال دیا گیا جب آپ رضی اﷲ عنہا نے اپنی پیٹی کو پھاڑ ا اور اُس سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے کھانے کو باندھا جب وہ مدینۂ منورہ جانے کے لئے غار ثور سے نکلے تھے ۔ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے اسلام کے آغاز میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور جب اپنے شوہر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کی تو آپ رضی اﷲ عنہا حاملہ تھیں ۔ مدینۂ منورہ میں آپ رضی اﷲ عنہا کے بطن سے مہاجرین کے سب سے پہلے بچے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی ولادت ہوئی ۔آپ رضی اﷲ عنہا مہاجرین اور مہاجرات میں سے سب سے آخر میں انتقال کرنے والی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہا اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے دس سال بڑی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہا کے دادا ، والد ، شوہر ، بھائی ، بہن اور بیٹے سب صحابی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہا جنگ یرموک میں اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ شریک ہوئی تھیں ۔آپ رضی اﷲ عنہا کا سو سال کی عُمر میں انتقال ہوا اور کوئی دانت نہیں گرا تھا اور نہ ہی عقل میں فتور ہوا تھا ۔
حضرت ثابت بن ضحاک رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِس سال 73 ھجری میں حضرت ثابت بن ضحاک انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اﷲ عنہ صحابی ہیں ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ثابت بن ضحاک انصاری رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو ابو زید الاشمالی کہا جاتا ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ‘‘بیعت رضوان’’ میں شامل تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے بیعت رضوان کا درخت بتاتے ہوئے فرمایا: ‘‘ اِس درخت کے نیچے ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیعت کی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :‘‘ جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی وہ اُس کا ضامن ہوگا۔’’
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں