ہفتہ، 31 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 34


 ا34 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 34

ا71 ہجری میں انتقال کرنے والے چند قابل ذکر نام، حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، ھ72 ہجری :خوارج کی پسپائی، عبدالملک بن مروان کا سپہ سالار حجاج بن یوسف، مکۂ مکرمہ کا محاصرہ، حجاج بن یوسف نے حج کرایا، ھ72 ہجری کا اختتام، حضرت براء بن عازب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت احنف بن قیس کا انتقال، ھ73 ہجری: حجاج بن یوسف کا مکۂ مکرمہ پر حملہ، شامیوں کے لشکر میں خوف و ہراس، مکہ مکرمہ کی رسد روک دی، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں کی علیحدگی، اپنی والدہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا سے مشورہ، 



ا71 ہجری میں انتقال کرنے والے چند قابل ذکر نام


اِس سال 71 ہجری میں حضرت مصعب بن زبیر اور اُن کا بیٹا عیسیٰ بن مصعب قتل ہوئے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ابرایم بن اشتر بھی اسی سال قتل ہوا ۔ اُس کا باپ اُن لوگوں میں شامل تھا جو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے نگران اور قاتلین تھے ۔ابراہیم بن اشتر مشہور بہادروں میں سے ہے اور اِسے شرف حاصل ہے کہ اِسی نے عبیداﷲ بن زیاد کو قتل کیا ۔ اِس سال حضرت عمرو بن سلمہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ ارض حبشہ میں پیدا ہوئے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ‘‘ربیب’’ تھے ۔ اِس سال حضرت عمر بن اخطب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ‘‘ابو زید الاعرج’’ ہے آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تیرہ (۱۳) غزؤات میں شرکت کی۔اِس سال جلیل القدر تابعی حضرت یزید بن اسود سوکنی کا انتقال ہوا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ انہیں منبر پر اپنے ساتھ بٹھاتے تھے۔ 


حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 71 ہجری میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خادم حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ‘‘ابو عبدالرحمن’’ ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا کے غلام تھے ۔انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس شرط پر آزاد کیا کہ وہ ہمیشہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کریں گے۔حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں : ‘‘ اگر ام المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا مجھے آزادنہیں کرتیں اور یہ شرط عائد نہیں کرتیں تب بھی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہتا ۔ ’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ اُن کی آل کی خدمت کرتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا نام سفینہ کیوں رکھا گیا ہے ؟ تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :‘‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے میرا نام سفینہ رکھا ہے ۔ایک دفعہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ سفر پر گئے اور میں بھی ساتھ تھا ۔جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا سامان بوجھل ہوگیا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ‘‘ اپنی چادر پھیلاؤ ۔’’ میں نے چادر پھیلا دی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کا سامان اُس میں رکھ دیا ۔پھر مجھے فرمایا: ‘‘ اِسے اُٹھا لو!تم تو ‘‘سفینہ’’ ہو۔’’ حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :‘‘ اگر میں اُس روز ایک یا دو ، پانچ یا سات اونٹوں کا بوجھ اُٹھا تا تو مجھے بوجھل معلوم نہیں ہوتا ۔’’ حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں : ‘‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے ملنے کے لئے آئے ۔ جب گھر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے گھر کے کونے میں ایک منقش کھال کا ٹکڑا دیکھا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم واپس نکل آئے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے کہا :‘‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیجیئے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم واپس کیوں چلے گئے ۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم دریافت کیا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:‘‘ میرے لئے اور کسی نبی کے لئے نقش ونگار سے آراستہ گھر میں داخل ہونا مناسب نہیں ہے۔’’ 


ھ72 ہجری :خوارج کی پسپائی


اِس سال 72 ہجری میں عبدالملک بن مروان کے لشکر نے خوارج کو پسپا کر دیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 72 ہجری میں مہلب بن ابی صفرہ اور خوارج کے ازارقہ فرقے کے درمیان مقام ‘‘سولاق’’ پر زبردست جنگ ہوئی اور وہ دونوں تقریباً آٹھ مہینے تک ایک دوسرے کے مقابل ڈٹے رہے اور اُن کے درمیان جنگیں ہوتی رہیں ۔ اِس مدت کے دوران حضرت مصعب بن زبیر قتل ہوگئے ۔ پھر عبدالملک بن مروان نے مہلب بن ابی صفرہ کو ‘‘اہواز’’اور اُس کے آس پاس کے علاقوں کا گورنر برقرار رکھا اور اُس کی کوشش کا شکریہ ادا کیا اور اُس کی بہت تعریف کی ۔ پھر لوگوں نے عبدالملک بن مروان کی حکومت میں اہواز میں ایکدوسرے پر حملے کئے اور لوگوں نے خوارج کو بری طرح شکست دی اور وہ کسی کی طرف توجہ دیئے بغیر شہروں کی طرف بھاگ گئے ۔عبدالملک بن مروان کے مقرر کردہ سپہ سالار وں خالد بن عبداﷲ اور داؤد بن مخذوم نے اُن کا تعاقب کیا اور انہیں بھگا دیا ۔ عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی بشر بن مروان کو پیغام بھیجا کہ وہ چار ہزار کے لشکر سے اُن کی مدد کرے ۔اُس نے عتاب بن ورقا کی سپہ سالاری میں چار ہزار کا لشکر اُس کے پاس بھیج دیا اور اُس نے خوارج کو مکمل طور پر بھگا دیا ۔ 


عبدالملک بن مروان کا سپہ سالار حجاج بن یوسف


اِس سال 72 ہجری میں عبدالملک بن مروان کے سپہ سالار کے طور پر حجاج بن یوسف منظر عام پر آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال عبدالملک بن مروان نے ایک لشکر کا سپہ سالار حجاج بن یوسف کو بنا کر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے لڑنے کے لئے مکۂ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ حجاج بن یوسف کو لشکر دیکر بھیجنے کی وجہ یہ ہوئی کہ جب ملک عراق پر کا انتظام مکمل کرنے کے بعد عبدالملک بن مروان ملک شام واپس جانے لگا تو حجاج بن یوسف نے کھڑے ہو کر کہا :‘‘ اے امیر المومنین! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں نے عبداﷲ بن زبیر ( رضی اﷲ عنہ) کو گرفتار کر لیا ہے اور اُن کی کھال کھینچی ہے ۔ اِس لئے آپ مجھے اُن کے مقابلے کے لئے بھیج دیں ۔ عبدالملک بن مروان نے اُس کی درخواست کو قبول کر لیا اور شامیوں کا ایک بہت زبردست لشکر اُسے دیکر مکۂ مکرمہ روانہ کیا ۔ حجاج بن یوسف ۷۲ ؁ ہجری میں لشکر لیکرروانہ ہوا اور مدینۂ منورہ کو چھوڑتا ہوا ملک عراق کے راستے سے طائف پہنچا اور وہیں پڑاؤ ڈال دیا ۔اِس طرف سے حجاج بن یوسف مقام عرفہ میں جو ‘‘حل’’ میں ہے یعنی حرم مکہ کے باہر واقع ہے ۔وہاں لشکر بھیجتا تھا ۔دوسری طرف سے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ لشکر بھیجتے تھے ۔دونوں لشکروں میں اِس مقام پر جنگ ہوتی تھی اور ہر مرتبہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لشکر کو شکست ہوتی تھی اور حجاج بن یوسف کا لشکر فتح یاب ہو کر واپس لوٹتا تھا ۔ 


مکۂ مکرمہ کا محاصرہ


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے مقابلے میں حجاج بن یوسف کے لشکر کو فتح حاصل ہوتی تھی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ حالت دیکھ کر حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھ کر بھیجا کہ مجھے مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کرنے اور حرم میں داخل ہونے کی اجازت دیں اور اُسے بتایا کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طاقت زائل ہو چکی ہے ۔اُن کے اکثر ساتھیوں نے اُن کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور یہ بھی درخواست کی کہ مزید لشکر سے میری مدد کی جائے ۔عبدالملک بن مروان نے خط پڑھ کر حجاج بن یوسف کی تمام

 معروضات کو منظور کر لیا اور طارق بن عمرو کو حکم دیا کہ تم اپنے لشکر کو لیکر حجاج بن یوسف سے جا کر مل جاؤ ۔ طارق بن عمرو پانچ ہزار کا لشکر لیکر حجاج بن یوسف کی امداد کے لئے آیا ۔ ماہ شعبان ۷۲ ؁ ہجری میں حجاج بن یوسف طائف میں داخل ہوا تھا اور جب ماہ ذی القعدہ شروع ہوا تو حجاج بن یوسف اپنا پورا لشکر لیکر طائف سے روانہ ہوا اور بیر میمون پر فروکش ہوا اور مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کر لیا ۔ حاجیوں نے اِس سال اِسی حالت میں حج کیا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ محصور تھے ۔ قربانی کے روز آپ رضی اﷲ عنہ نے قربانی کی لیکن اِس سال آپ رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حج نہیں کر سکے ۔اِس لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے عرفات میں بھی وقوف نہیں کیا ۔ 


حجاج بن یوسف نے حج کرایا


ملک شام کے لشکر کے ساتھ حجاج بن یوسف مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھیوں پر پابندیاں عائد کئے ہوئے تھا ۔ اہل شام کے لشکر میں کھانے پینے کی اور دوسری چیزیں بہت افراط تھیں جبکہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھی تکلیف میں تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں 72 ہجری میں حج کرنے گیا ۔جب میں مکۂ مکرمہ پہنچا اور اُن لوگوں کے درمیان سے ہو کر جنہوں نے مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کیا تھا ہم مکۂ مکرمہ کے اندر گئے ۔ہم نے دیکھا کہ حجاج بن یوسف اور طارق بن عمرو کے لشکر ‘‘حجون’’سے ‘‘بیئر میمون’’ تک پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ ہم نے خانۂ کعبہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کر لی ۔ حجاج بن یوسف نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ پھر میں اُسے میدان عرفات میں پہاڑ کی چٹانوں کے پاس اپنے گھوڑے پر سوار زرہ اور خود پہنے دیکھا ۔ اُس کے بعد حجاج بن یوسف اُس مقام سے اُتر آیا اور میں نے اُسے پھر ‘‘بیئر میمون’’ کی طرف جاتے دیکھا اور حجاج بن یوسف نے خانۂ کعبہ کاطواف نہیں کیا ۔ اُس کا پورا لشکر مسلح تھا اور بہت افراط سے خوراک کا سامان اُن کے پاس تھا ۔خوراک کے سامان سے لدے ہوئے قافلے ملک شام سے اُن کے لئے آتے تھے جن میں کھانا ، بسکٹ اور ستو بھرا ہوا آٹا ہوتا تھا۔اُن کے سپاہی عیش و آرام میں زندگی بسر کر رہے تھے اور میں نے ایک سپاہی سے ایک درہم کے بسکٹ خریدے۔ اُس نے مجھے اتنے بسکٹ دیئے کہ جو ہم تین آدمیوں کے لئے ‘‘جحفہ’’پہنچنے تک بالکل کافی ہوگئے تھے۔ 


ھ72 ہجری کا اختتام


ھ72 ہجری کے اختتام پر عبدالملک بن مروان کی طاقت و قوت اور حکومت بڑھ گئی تھی ۔ ملک شام اور ملک مصر کے ساتھ ساتھ ملک عراق پر بھی اُس کا قبضہ ہوگیا تھا ۔ملک فارس (حالیہ ایران) اور ملک حجاز پر ابھی مکمل کنٹرول نہیں ہوسکا تھا لیکن اِس کے لئے ملک فارس میں عبدالملک بن مروان بھرپور کوشش کر رہا تھا اور ملک حجاز میں اُس کا سپہ سالار حجاج بن یوسف مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت لگ بھگ ختم ہوچکی تھی اور آپ رضی اﷲ عنہ کو حجاج بن یوسف نے محصور کر رکھا تھا ۔ اِن حالات میں 72 ہجری کا اختتام ہوا ۔


حضرت براء بن عازب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 72 ہجری میں حضرت براء بن عازب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں آپ رضی اﷲ عنہ کی روایت سے احادیث پیش کی ہیں ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت براء بن عازب بن حارث بن عدی بن مجدعۃ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس انصاری رضی عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے والد محترم بھی صحابی ہیں ۔حضرت براء بن عازب رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث روایت کی ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے بھی روایت کی ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ سے بعض صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور تابعین کی ایک جماعت نے روایت کی ہے ۔

 آپ رضی اﷲ عنہ نے کوفہ میں اُس وقت وفات پائی جب ملک عراق پر حضرت مصعب بن زبیر گورنر تھے ۔


حضرت احنف بن قیس کا انتقال


اِس سال 72 ہجری میں مشہور تابعی حضرت احنف بن قیس کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت احنف بن قیس بن حصین تمیمی کا لقب ‘‘احنف’’ ہے اور نام ‘‘ضحاک’’ ہے اور بعض نے نام ‘‘صخر’’ بیان کیا ہے ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی مسلمان ہوئے لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا نہیں تھا ۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کیلئے دعا کی تھی ۔حضرت احنف بن قیس صاحب متربہ ، مطاع اور مومن سردار تھے اور آپ کے حلم کی مثال بیان کی جاتی تھی ۔حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے آپ کے بارے میں فرمایا: ‘‘ حضرت احنف بن قیس زبان دان مومن ہے ۔’’امام حسن بصری بیان کرتے ہیں :‘‘ میں نے کسی قوم کے سردار کو ان سے بہتر نہیں پایا ۔’’حضرت احنف بن قیس نے خلیفۂ دُؤم حضرت عمر فاروق رضی اﷲعنہ کے پاس تقریر کی تو اُن کی فصاحت و بلاغت نے خلیفۂ دُؤم رضی اﷲ عنہ کو حیران کردیا ۔حضرت احنف بن قیس جنگ صفین میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تھے ۔حضرت احنف بن قیس نے ‘‘بلخ’’ اور ‘‘خراسان’’اور ‘‘مروالزور’’ اور ‘‘سمر قند’’ کو فتح کیا ہے ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ بھی حضرت احنف بن قیس کی بہت عزت اور توقیر کرتے تھے ۔حضرت احنف بن قیس کا انتقال کوفہ میں ہوا اور حضرت مصعب بن زبیر نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی ۔


ھ73 ہجری: حجاج بن یوسف کا مکۂ مکرمہ پر حملہ


ھ73 ہجری جب شروع ہوئی تو عبدالملک بن مروان کا سپہ سالار حجاج بن یوسف شامیوں کا لشکر لیکر مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔جب حج مکمل ہو گیا اور تمام حاجیوں کے قافلے اپنے اپنے علاقوں کی طرف روانہ ہوگئے اور مکۂ مکرمہ میں صرف اہل مکہ رہ گئے تو حجاج بن یوسف نے مکۂ مکرمہ پر باقاعدہ حملہ شروع کر دیا اور منجنیق سے پتھر ( سنگ)باری کرنے لگا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور حجاج بن یوسف کے درمیان مکۂ مکرمہ میں چھ مہینے اور سترہ روز تک جنگ ہوتی رہی ۔محاصرے کی حالت میں جب حجاج بن یوسف منجنیقوں سے پتھر برساتا تھا تو اُس وقت آسمان پر گرج اور چمک ہوتی تھی ۔بادلوں کی گرج اور بجلی کی چمک اُن پتھروں میں ارتعاش پیدا کر دیتے تھے جو پھینکے جا رہے تھے ۔شامی لشکر کے سپاہی ٹھٹک ٹھٹک جاتے تھے اور پیچھے ہٹ جاتے تھے ۔حجاج بن یوسف اپنی قبا کا دامن اپنے کمر پر لپیٹ لیتا تھا اور خود پتھر اُٹھا کر منجنیق میں رکھتا تھا اور لشکر کے سپاہیوں کو حکم دیتا تھا ‘‘پتھر برساؤ’’ اور خود بھی اِس میں شامل ہوتا تھا۔ 


شامیوں کے لشکر میں خوف و ہراس


مکۂ مکرمہ پر سنگ باری یعنی پتھراؤ کے دوران اہل شام کے لشکر پر بجلی گری اور بہت سے شامی سپاہی ہلاک ہو گئے ۔ اِس کی وجہ سے اہل شام کے لشکر کے سپاہیوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا لیکن حجاج بن یوسف ڈٹا رہا اور مسلسل پتھراؤ کرتا رہا اور اپنے لشکر کا حوصلہ بڑھاتا رہا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : شامی لشکر مکۂ مکرمہ پر پتھرااؤ کر رہا تھا کہ صبح کے وقت چمک اور کڑک پھر شروع ہوئی اور پے در پے بجلی گرنے لگی ۔ اِس بجلی کے گرنے سے اہل شام کے لشکر کے سپاہی ہلاک ہوئے اور شامیوں پر اِس وقعہ سے ایک دہشت اور خوف طاری ہو گیا ۔ حجاج بن یوسف نے اپنے لشکر سے کہا :‘‘ اِس سرزمین تہامہ مین یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔میں اِسی سر زمین کا رہنے والا ہوں اور یہ تو یہاں کے معمولات میں سے ہے ۔ بلکہ یہ تو تمہاری فتح کی نیک فال ہے بس اب فتح حاصل ہو جائے گی اور تمہیں تو خوش ہونا چاہیئے کہ اب تمہارے دشمنوں کو ایسی ہی تکلیف پہنچے گی جیسی تمہیں پہنچی ہے ۔’’اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور دوسرے دن پھر بجلی گری اور اِس مرتبہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے چند لوگ ہلاک ہو گئے ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے اپنے لشکر کے سپاہیوں سے کہا : ‘‘ کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ ہمارے دشمن ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ تم خلیفہ کی اطاعت کر رہے ہو اور وہ مخالفت کر رہے ہیں ۔’’ 


مکہ مکرمہ کی رسد روک دی


مکۂ مکرمہ کا حجاج بن یوسف محاصرہ کئے ہوئے تھا اور مسلسل سنگ باری کر رہا تھا اور ساتھ ہی اُس نے مکۂ مکرمہ کی رسد بھی روک لی جس کی وجہ سے اہل مکہ بھوک کا شکار ہونے لگے۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف نے پانچ مہینے اور سترہ راتوں تک مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے رکھا۔ جب 73 ھجری کا آغاز ہوا تو حجاج بن یوسف کی سپہ سالاری میں اہل شام مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور حجاج بن یوسف نے مکۂ مکرمہ پر منجنیق نصب کروا دی تھی تاکہ اہل مکہ کو تنگ کرے اور وہ عبدالملک بن مروان کے پاس امان اور اطاعت کے لئے آئیں۔ حجاج بن یوسف کے ساتھ حبشی تھے وہ منجنیق سے پتھر پھینکنے لگے اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا ۔ حجاج بن یوسف کے پاس پانچ منجنیقیں تھیں۔ پس اُس نے ہر طرف سے مکۂ مکرمہ پر سنگ باری کرنے کا حکم دے دیا اور اہل مکہ کا غلہ اور پانی روک لیا ۔ وہ زمزم کا پانی پیتے تھے اور پتھر خانۂ کعبہ پر پڑنے لگے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: ایک عرصۂ دراز تک یہ لڑائی جاری رہی یہاں تک کہ طویل محاصرے سے اہل مکہ کا غلہ ختم ہوگیا اور باہر سے رسد آنے کا کوئی راستہ نہیں تھا ۔لوگ شدت بھوک سے پریشان ہونے لگے تو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے گھوڑے کو ذبح کر کے گوشت تقسیم کر دیا اور گرانی کا یہ عالم ہو گیا کہ ایک مرغی دس درہم میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تھی ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ غلہ ، کھجور اور جَو لوگوں میں ضرورت کے مطابق تقسیم کرتے تھے ۔ حجاج بن یوسف نے یہ دیکھا تو محاصرے میں اور سختی کر دی اور اہل مکہ کے لئے امان نامہ لکھ کر بھیجدیا ۔جس کی وجہ سے لوگ حجاج بن یوسف سے جا کر مل گئے ۔اُن میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے بھی زیادہ تر ساتھی تھے جنہوں نے امان حاصل کر کے اپنے لائق سردار حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے علیحدگی اختیار کر لی۔اِن میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے دو بیٹے حمزہ و حبییب بھی تھے لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کا تیسرا بیٹا آخر تک آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا ۔ 


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں کی علیحدگی


مکۂ مکرمہ کے اطراف کی پہاڑیوں پر حجاج بن یوسف نے منجنیقوں کو نصب کرایا ہوا تھا اور مسلسل کئی مہینوں تک سنگ باری یعنی پتھر برساتا رہا ۔ یہ لگ بھگ ایک طرفہ مقابلہ تھا ۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھی شامی لشکر سے لڑنا چاہتے تھے لیکن پتھروں کی بارش کے آگے بے بس تھے ۔حجاج بن یوسف مسلسل منجنیقوں سے سنگ باری کر رہا تھا اور پتھروں کی بارش سے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھی ہلاک ہو رہے تھے ۔ان کے علاوہ مکۂ مکرمہ کے عام شہری بھی ہلاک ہو رہے تھے ۔اِس کے ساتھ ساتھ ‘‘خانۂ کعبہ’’ کی دیواریں بھی ٹوٹتی جارہی تھیں ۔ مسلسل کئی مہینوں کی سنگ باری سے گھبرا کر مکۂ مکرمہ کے عام شہری ایک ایک کر کے مکۂ مکرمہ خالی کرتے جارہے تھے ۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں نے بھی اُن کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے : بہر حال اِسی طرح دونوں میں جنگ ہوتی رہی اور وہ وقت بھی آگیا کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بھی اُن کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے ۔ مکۂ مکرمہ کے باشندے پہلے ہی وعدہ معافی لیکر حجاج بن یوسف کے پاس چلے گئے تھے اور مکۂ مکرمہ کو خالی کر دیا تھا ۔دھیرے دھیرے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھی بھی آپ رضی اﷲ عنہ کا ساتھ چھوڑ کر جانے لگے اور ھجاج بن یوسف انہیں امان دینے لگا ۔ یہاں تک کہ دس ہزار ساتھیوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا اور حجاج بن یوسف نے انہیں امان دے دی ۔یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ

 کے دو نوں بیٹے حمزہ بن عبداﷲ اور حبیب بن عبداﷲ بھی آپ رضی اﷲ عنہ کو چھوڑ کر حجاج بن یوسف کے پاس چلے گئے تھے اور حجاج بن یوسف نے انہیں بھی امان دے دی تھی ۔ 


اپنی والدہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا سے مشورہ


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو سب لوگ چھوڑ کر چلے گئے اور صرف گنتی کے چند ساتھی اُن کے ساتھ تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ لوگوں کی اِس بے وفائی اور ترک نصرت کو دیکھ کر اپنی والدہ محترمہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کے پاس گئے اور اُن سے عرض کیا : ‘‘ لوگوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے ، یہاں تک کہ میری اولاد اور رشتہ دار بھی مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔اب میرے ساتھ مٹھی بھر آدمی ہی رہ گئے ہیں جن کی قوت مدافعت تھوڑی دیر کی مہمان ہے ۔ میرے دشمن مجھے منہ مانگی چیزیں دینے کے لئے تیار ہیں ۔اب بتایئے کہ آپ رضی اﷲ عنہا کی کیا رائے ہے؟’’سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے فرمایا :‘‘اے میرے بیٹے! اﷲ کی قسم! تم خود اپنے حال سے زیادہ واقف ہو ۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ تم حق اور صداقت پر ہو اور اُس کی طرف دعوت دیتے ہو تو اُسے پورا کرو کیونکہ اِسی بناء پر تمہارے طرفداروں نے اپنی عزیز جانیں تمہاری خاطر قربان کی ہیں۔اپنی گردن پر دوسروں کو قبضہ نہ کرنے دو کہ بنو اُمیہ کے لڑکے تم سے کھیلتے پھریں اور اگر تمہاری یہ کوشش دنیا حاصل کرنے کے لئے ہے تو تم بد ترین مخلوق میں سے ہو ۔تم نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا اور جو تمہارے لئے مارے گئے اُن کا خون بھی رائگاں گیا ۔ اگر تم کہتے ہو کہ میں حق اور صداقت پر ہوں مگر چونکہ میرے ساتھی مجھے چھوڑ کر دشمنوں سے جاملے ہیں اِس لئے میں بھی کمزوری محسوس کر رہا ہوں تو یہ شریفوں اور نیک بندوں کا مسلک نہیں ہے ۔دنیا میں تم ہمیشہ نہیں رہ سکتے ،اِسلئے موت تمہارے لئے بہتر ہے ۔’’ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں