ہفتہ، 31 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 33


 ا33 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 33

یحییٰ بن سعید کو جنگ کے لئے بھیجا، 69 ہجری کا اختتام، ابو الاسود الدؤلی تابعی کا انتقال، سیدہ اسما بنت یزید رضی اﷲ عنہا کا انتقال، 70 ہجری کے واقعات، حضرت عاصم بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال، دو کبار تابعین کا انتقال، ھ71 ہجری : عبدالملک کی بصرہ میں خفیہ چال، اہل عراق کی غداری، دونوں لشکروں میں جنگ، عبدالملک بن مروان کی فتح، عبدالملک کے ملک عراق میں گورنر، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا خطبہ، ھ71 ہجری کا اختتام، 




یحییٰ بن سعید کو جنگ کے لئے بھیجا


قید کرنے کے بعد عبدالملک بن مروان نے یحییٰ بن سعید کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ اُسے جنگ پر بھیج دو ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یحییٰ بن سعید کو قید ہوئے ایک مہینہ یا اُس سے کچھ زیادہ ہوا ہوگا کہ عبدالملک بن مروان نے اُس کے قتل کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا : ‘‘ اے امیر المومنین ! سانپ سے ہمیشہ سنپولیا ہی پیدا ہوتا ہے اِس لئے ہماری رائے یہ ہے کہ آپ اُسے قتل کر ڈالیں ۔وہ منافق اور دشمن ہے ۔’’ پھر ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ اے امیر المومنین ! یحییٰ بن سعید آپ کے چچا کا بیٹا ہے اور آپ سے اُس کی رشتہ داری ہے ۔جو کچھ اُس نے کیا اور جواب میں آپ نے کیا وہ بھی معلوم ہے ۔ مگر میں آپ کو یہ رائے نہیں دوں گا کہ آپ اُسے قتل کر ڈالیں بلکہ اِس کی سب سے اچھی صورت یہ ہے کہ اُسے اپنے دشمن کے مقابلے پر جنگ کرنے کے لئے بھیج دیں ۔ اگر وہ جنگ میں کام آیا تو اُس کے قتل کی ذمہ داری سے آپ بچ جائیں گے اور اگر وہ صحیح و سالم بچ کر آگیا تو جیسا آپ مناسب سمجھیں کیجیئے۔’’ عبدالملک بن مروان نے اِس رائے کو پسند کیا یحییٰ بن سعید کو حضرت مصعب بن زبیر سے جنگ کرنے والے لشکر کے ساتھ بھیج دیا ۔ 


ھ69 ہجری کا اختتام


ھ69 ہجری میں بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 69 ہجری میں حج کے موقع پر مقا خیف منیٰ میں ایک خارجی نے اپنا شعار ‘‘لَا حکم الا اﷲ’’ کا نعرہ لگایا ۔مگر جمرہ کے پاس اُسے قتل کردیا گیا ۔ ایک صا حب بیان کرتے ہیں کہ میں نے اُسے جمرہ کے پاس تلوار کھینچتے دیکھا ۔وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ خارجیوں کی ایک جماعت اُس کے ساتھ تھی ۔ اﷲ تعالیٰ نے اُن کے ہاتھ روکے رکھے ۔ یہ شخص اُن میں سے آگے بڑھا اور اپنا شعار ‘‘لا حکم الااﷲ ’’ پکارنے لگا ۔اُس کی آواز سن کر لوگ اُس پر ٹوٹ پڑے اور اُسے قتل کر ڈالا ۔ اِس سال بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ 


ابو الاسود الدؤلی تابعی کا انتقال


اِس سال ابو اسود الدؤلی تابعی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا ذکر خاص طور سے اِس لئے کیا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے ‘‘ علم نحو’’ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے سیکھا اور لوگوں کو سیکھایا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : انہیں ‘‘الدیلی’’ بھی کہا جاتا ہے کوفہ کے قاضی اور جلیل القدر تابعی ہیں ۔ اِن کا نام ظالم بن عمرو بھی کہا جاتا ہے اور بعض اِس کے اُلٹ یعنی عمرو بن ظالم بھی بتاتے ہیں ۔ اِن کی طرف ‘‘علم نحو’’ منسوب کیا جاتا ہے کہ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ‘‘علم نحو’’ کے بارے میں گفتگو کی ۔ انہوں نے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے ‘‘علم نحو’’ کو حاصل کیا ۔ ایک روایت میں ہے کہ اِن کا نام عویمر بن ظویلم ہے اور انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملاقات نہیں کی تھی اور جنگ جمل میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی طرف سے شرکت کی تھی اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے دور حکومت میں انتقال ہوگیا ۔


سیدہ اسما بنت یزید رضی اﷲ عنہا کا انتقال


اِس سال 69 ہجری میں سیدہ اسما بنت یزید رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسما بنت یزید بنت سکن انصاریہ رضی اﷲ عنہا نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہا جنگ یرموک میں شریک تھیں ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے انہیں مسلمان خواتین کے ساتھ مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے لکڑیاں دے کر متعین کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ جو بھی مسلمان پیچھے ہٹنے کی کوشش کرے گا تو انہیں شرم دلانا اور لکڑیوں سے خبر لینا ۔آپ رضی اﷲ عنہا نے مسلمانوں کو تو واپس بھیجا ہی تھا اِسکے علاوہ جو لکڑی آپ رضی اﷲ عنہا کے پاس تھی اُس سے مار مار کا نو رومیوں کو قتل کر دیا تھا ۔ ملک شام فتح ہونے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہا نے دمشق میں سکونت اختیار کر لی اور 69 ہجری میں آپ رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوگیا اور ‘‘باب الصغیر ’’ میں آپ رضی اﷲ عنہا کو دفن کیا گیا ۔


ھ70 ہجری کے واقعات


اِ س سال 70 ہجری میں مسلمانوں کی آپسی لڑائی کا فائدہ رومیوں نے اُٹھایا اور عبدالملک بن مروان کو اُن سے دب کر صلح کرنی پڑی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 70 ہجری میں رومیوں نے حملہ کیا اور شامیوں کے خلاف لشکر جمع کیا اور عبدالملک بن مروان اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے درمیان اختلاف دیکھ کر انہیں کمزور سمجھ لیا ۔ پس عبدالملک بن مروان نے روم کے بادشاہ سے اِس شرط پر مصالحت کر لی کہ وہ رومیوں کو ہر جمعہ ہزار دینار ادا کرے گا ۔ اِس سال ملک مصر میں وبا پھیلی اور عبدالعزیز بن مروان اِس وبا سے بھاگ کر مشرقی مصر میں آگیا اور حلوان میں اترا جو قاہرہ سے ایک دن کی مسافت پر واقع ہے ۔ اس نے اسے اپنی فرو گاہ بنا لیا اور اسے قبیلوں سے دس ہزار دینار میں خرید لیا اور وہاں ‘‘دارالامارت’’ اور ‘‘جامع مسجد’’ تعمیر کی اور اپنے لشکروں کو وہیں اُتارا۔ اِس سال حضرت مصعب بن زبیر بصرہ سے مکۂ مکرمہ گئے اور اُن کے ساتھ بہت سارے اموال تھے جو انہوں نے حجاز کے لوگوں میں تقسیم کئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں اِس سال بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا اور تمام علاقوں میں وہی گورنر تھے جو پچھلے سال تھے ۔ 


حضرت عاصم بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 70 ہجری میں حضرت عاصم بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عاصم بن عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کی والدہ کا نام جمیلہ بنت ثابت بن ابی افلح ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں پیدا ہوئے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے والد محترم سے صرف ایک حدیث ‘‘جب رات اُس طرف سے آجائے’’ روایت کی ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کے دونوں بیٹوں حفص بن عاص اور عبداﷲ بن عاصم نے روایت کی ہے اور ان دونوں کے علاوہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بھی روایت کی ہے ۔کئی مورخین نے بیان کیا ہے کہ حضرت عاصم بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے درمیان کسی زمین پر تنازعہ ہو گیا اور جب حضرت عاصم بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو ناراض دیکھا تو عرض کیا : ‘‘یہ زمین آپ کی ہوئی اور میرا اِس پر کوئی حق نہیں ہے۔’’ یہ سن کر حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ نہیں ! یہ زمین آپ کی ہے ۔’’ اور اُس زمین کو دونوں نے چھوڑ دیا اور اُن کی اولاد نے بھی اُس زمین کو چھوڑ دیا ۔یہاں تک کہ دوسرے لوگوں نے اس پر قبضہ کر لیا ۔ حضرت عاصم بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ باوقار ، شریف اور فاضل رئیس تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ۷۰ ؁ ہجری میں ہوا ۔ 


دو کبار تابعین کا انتقال


اِس سال بہت سے تابعین کا انتقال ہوا لیکن دو کبار تابعین ایسے ہیں جن کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔ یہ حضرت قبیصہ بن دؤیب خزاعی اور حضرت مالک بن یخامر ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت قبیصہ بن دؤیب خزاعی کی کنیت ‘‘ابو العلاء’’ ہے اور یہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے رضاعی بھائی ہیں ۔ آپ اہل مدینہ کے فقہا اور صالحین میں سے تھے ۔ اور آپ کتاب ( قرآن پاک) کے معلم تھے ۔ آخری وقت میں آپ ملک شام منتقل ہوگئے تھے اور وہیں ۷۰ ؁ ہجری میں انتقال ہوا ۔حضر ت مالک بن یخامر حمصی جلیل القدر تابعی ہیں ۔ امام بخاری نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲعنہ کے طریق سے آپ سے بحوالہ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کے ‘‘حق پر غالب طائفہ’’ کی حدیث روایت کی ہے ۔آپ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کے شاگرد ہیں۔ اِن دونوں حضرات نے ۷۰ ؁ ہجری میں وفات پائی۔


ھ71 ہجری : عبدالملک کی بصرہ میں خفیہ چال


اِس سال 71 ہجری میں عبدالملک بن مروان نے حضرت مصعب بن زبیر کے خلاف بصرہ میں خفیہ چال چلی ۔ علامہ محمدد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ۷۱ ؁ ہجری میں عبدالملک بن مروان ، حضرت مصعب بن زبیر کے مقابلے کے لئے ملک عراق کی طرف چلا ۔ ابھی تک یہ ہوا تھا کہ عبدالملک بن مروان لشکر لیکر بطنان حبیب پہنچتا اور حضرت مصعب بن زبیر مقام ‘‘ با جمیرا ’’ تک بڑھ آتے تھے تو موسم سرما شروع ہو جاتا تھا اور دونوں اپنے اپنے لشکر کو لیکر اپنے اپنے مقامات پر واپس ہو جاتے اور پھر آئندہ سال اسی طرح مقابلے کی تیاریاں کرتے تھے ۔ اِس سال خالد بن اسید نے عبدالملک سے کہا : ‘‘ اگر آپ مجھے کچھ سواروں کے ساتھ بصرہ بھیج دیں تو میں اُمید کرتا ہوں کہ اُس پر قبضہ کر لوں گا ۔ عبدالملک بن مروان نے اُس کی خواہش کے مطابق روانہ کردیا ۔خالد بن اُسید پوشیدہ طور پر اپنے ساتھیوں کو لیکر بصرہ آیا اور عمرو بن اصمع باہلی کے یہاں قیام پذیر ہوگیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر اُس وقت مکۂ مکرمہ گئے ہوئے تھے اور اپنی جگہ عبیداﷲ بن عبیداﷲ بن معمر کو بصرہ پر جانشین مقرر کیا تھا اور عباد بن حصین پولیس کا اعلیٰ افسر تھا ۔ خالد بن اُسید نے عباد بن حصین کو خفیہ پیغام بھیجا تو اُس نے انکار کر دیا ۔ خالد وہاں سے بھاگا اور مالک بن مسمع کے پاس پہنچا ۔اُس نے بنو بکر بن وائل اور بنو ازد کو اپنی حمایت کے لئے بلایا۔ اس کے بعد خالد بن اُسید سے بنو تمیم آکر مل گئے ۔ حضرت مصعب بن زبیر کو اطلاع ملی تو انہوں نے زحر بن قیس جعفی کو مدد کے لئے ایک ہزار گھڑ سوار کا لشکر دے کر بھیجا ۔ اس کے مقابلے پر عبدالملک بن مروان نے عبیداﷲ بن زیاد بن ظیبان کو خالد کی مدد کے لئے بھیجا ۔ اِسی دوران خالد بن اُسید بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگ نکلا تھا ۔ عبیداﷲ بن ظبیان بصرہ میں داخل نہیں ہوا اور مطر بن توام کو دریافت حال کے لئے روانہ کیا ۔ مطر بن توام نے واپس آکر اطلاع دی کہ ہمارے ساتھی منتشر ہو گئے ہیں ۔ یہ سن کر عبیدﷲ بن زیاد بن ظبیان چپکے سے عبدالملک بن مروان کے پاس واپس آگیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر جب بصرہ واپس آئے تو جن جن کے پاس خالد بن اُسید گیا تھا اُن سب کو ڈانٹا اور خالد کے ساتھیوں کو پکڑ کر قتل کردیا ۔ اِس کے بعد کوفہ چلے گئے 


اہل عراق کی غداری


اہل عراق نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بھی دھوکہ کیا تھا ۔اُن کے بعد اُن کے بڑے بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ دھوکہ کیا ۔جس کے بعد حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ خلافت سے دستبردا ہو کرحضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ سے صلح کر کے مدینۂ منورہ چلے گئے۔ اِس کے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو اہل عراق نے پھر دھوکہ دیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کردیا تھا ۔ اب یہی اہل عراق حضرت مصعب بن زبیر کو بھی دھوکہ دے رہے تھے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جس وقت ملک شام پر عبدالملک بن مروان کا مکمل تسلط ہوگیا اور کوئی اُس کا مخالف نہیں رہا تو اُس نے ملک عراق پر حملے کی تیاری شروع کردی ۔اُس زمانے میں بعض شرفائے عراق کے خطوط بھی اُس کے پاس آئے جس میں انہوں نے عبدالملک بن مروان کو ملک عراق پر قبضہ کر لینے کو لکھا تھا ۔ عبدالملک بن مروان کے مشیروں نے ملک عراق پر حملے کی مخالفت و ممانعت کی لیکن وہ اُن کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے لشکر لیکر ملک عراق کی طرف روانہ ہو گیا ۔اِدھر حضرت مصعب بن زبیر کو ملک شام سے لشکر کی روانگی کی اطلاع ملی تو وہ بھی لشکر لیکر کوفہ سے روانہ ہوئے اور مہلب کو خوارج سے جنگ پر بھیج دیا ۔مہلب نے کہا بھی تھا :‘‘ اہل عراق نے عبدالملک بن مروان سے خط و کتابت کر کے سازش کر لی ہے ۔’’لیکن حضرت مصعب بن زبیر نے پھر بھی اُسے بھیج دیا اور ابراہیم بن اشتر کو بلا کر اپنے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر بنا دیا ۔ 


دونوں لشکروں میں جنگ


ملک شام اور ملک عراق کے لشکر ایکدوسرے کے آمنے سامنے آگئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان کے لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ پر اُس کا بھائی محمد بن مروان تھا ۔ اُس نے قرقیسی کے قریب پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا ۔وہاں ذفر بن کلابی نے حاضر ہو کر مصالحت کر دی اور اپنے لڑکے ہذیل کو ایک لشکر کے ساتھ اُس کے ہمراہ کر دیا ۔ پھر عبدالملک بن مروان اپنے لشکر کے ساتھ کوچ کر کے حضرت مصعب بن زبیر کے لشکر کے سامنے پہنچا تو یذیل بن زفر بھاگ کر حضرت مصعب بن زبیر سے آملا ۔ عبدالملک بن مروان اہل عراق سے خط و کتابت کرنے لگا اور اصفہان دینے کا وعدہ کرنے لگا ۔ حضرت مصعب بن زبیر کو معلوم ہوگیا تھا کہ اہل عراق اُن کے ساتھ غداری کر رہے ہیں ۔پھر بھی وہ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ جس وقت دونوں لشکروں میں صف آرائی ہوئی تو عبدالملک بن مروان نے کہا : ‘‘ خون ریزی سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔آؤہم تم اِس کام کو شوریٰ کے سپرد کر دیتے ہیں ۔ ’’ حضرت مصعب بن زبیر نے جواب دیا : ‘‘ ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہی فیصلہ کرے گی ۔’’جنگ بہت شدت پر آگئی ۔عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی محمد بن مروان کو حملہ کرنے کا حکم دیا اور حضرت مصعب بن زبیر نے ابراہیم بن اشتر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ حضرت مصعب بن زبیر نے تازہ دم لشکر سے ابراہیم بن اشتر کی مدد کی جس نے محمد بن مروان کو پیچھے دھکیل دیا ۔ عبدالملک بن مروان نے محمد بن مروان کی مدد کے لئے عبیداﷲ بن یزید کو مامور کیا میدان کار زار بہت تیزی سے گرم ہو گیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر کے ساتھیوں میں سے مسلمہ بن عمر باہلی ( قتیبہ بن مسلمہ کے والد) اِس معرکے میں کام آگئے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے فوراً عتاب بن ورقا کو ابراہیم بن اشتر کی مدد کے لئے بھیجا ۔ عتاب بن ورقا نے پہلے ہی عبدالملک بن مروان سے وعدہ کر لیا تھا کہ عین جنگ کے وقت وہ بھاگ کھڑا ہو گا ۔ اس لئے اُس نے ابراہیم بن اشتر کی مدد کرنے کے بجائے لشکر کو لیکر بھاگ گیا ۔ جبکہ ابراہیم بن اشتر نہایت استقلال سے لڑتا رہا ۔یہاں تک کہ میدان جنگ میں کام آگیا ۔ قتل کے بعد اُس کا سر عبدالملک بن مروان کے پاس بھیج دیا گیا ۔ 


عبدالملک بن مروان کی فتح


اہل عراق نے ایک بار پھر اپنی روایتی غداری کا ثبوت دیا اور حضرت مصعب بن زبیر کو چھوڑ چھوڑ کر الگ جاکھڑے ہوگئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اہل شام کے لشکر کے حوصلے ابراہیم بن اشتر کے مارے جانے سے بڑھ گئے اور وہ بڑھ چڑھ کر حملے کرنے لگے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے کمانڈروں کو لڑنے کا حکم دیا تو سب نے حیلہ کر کے ٹال دیا ۔ اب اس وقت حضرت مصعب بن زبیر تن تنہا اپنے گنتی کے چند ساتھیوں کے ساتھ لڑ رہے تھے اور باقی اہل عراق دور کھڑے ہو کر تماشا دیکھ رہے تھے ۔ محمد بن مروان نے حضرت مصعب بن زبیر کے قریب پہنچ کر بلند آواز سے کہا : ‘‘ میں تمہارا چچا زاد بھائی ہوں ، تم امیر المومنین عبدالملک بن مروان کی امان قبول کر لو۔’’ حضرت مصعب بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے امان لینے سے انکار کر دیا ۔ محمد بن مروان نے اہل عراق کی سازش کا حال بتایا لیکن حضرت مصعب بن زبیر نے کوئی توجہ نہیں کی ۔ اِس کے بعد محمد بن مروان نے اُن کے بیٹے عیسیٰ بن مصعب کو کہا : ‘‘ تم کو اور تمہارے باپ کو امان دی جاتی ہے ۔’’ عیسیٰ نے اپنے والد کو بتایا تو انہوں نے جواب دیا : ‘‘ میرا خیال ہے کہ اہل شام اپنے وعدے کو وفا کریں گے ۔ اگر تم کو امان لینی منظور ہو تو بسمہ اﷲ کرو اور امان حاصل کر لو۔’’عیسیٰ بن مصعب بولا : ‘‘ مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ کل قریش کی عورتیں یہ کہیں کہ میں نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اپنے والد کو چھوڑ دیا ۔’’ حضرت مصعب بن زبیر نے کہا : ‘‘ پھر تم اپنے چچا حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے پاس چلے جاؤ اور اُن کی اہل عراق کی غداری کی خبر دے دینا ۔ مجھے اِسی حالت میں چھوڑ جاؤ کیونکہ میں نے اپنے آپ کو مُردہ سمجھ لیا ہے ۔ ’’عیسیٰ بن مصعب نے کہا : ‘‘ میں قریش کو ہر گز یہ خبر نہیں پہنچاؤں گا ،بہتر ہوگہ کہ آپ بصرہ چلیں ،وہاں لوگ آپ کی اطاعت کریں گے یا پھر ہم امیر المومنین حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے جا ملتے ہیں ۔’’ حضرت مصعب بن زبیر نے سرد آہ کھینچ کر کہا : ‘‘ یہ مجھ سے نہیں ہوگا کیونکہ کل قریش میرے بھاگنے کا ذکر کریں گے ۔ اے بیٹے ! تم آگے بڑھو ! میں تمہاری مدد پر ہوں ۔’’ یہ حکم سنتے ہی عیسیٰ بن مصعب اپنے ساتھیوں کو لیکر آگے بڑھا اور اہل شام کے لشکر پر حملہ کر دیا ۔ شامیوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا مگر عیسیٰ بن مصعب کی چمکتی ہوئی تلوار اُن کی گردنیں کاٹ رہی تھی ۔ بالآخر وہ بھی قتل ہو گیا ۔ اِس کے بعد حضرت مصعب بن زبیر کے ساتھ صرف سات آدمی باقی رہ گئے تھے ۔حضرت مصعب بن زبیر بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے لگے تو شامی دور دور سے تیر چلانے لگے تھے ۔ آخر کار حضرت مصعب بن زبیر زخموں سے چور ہو کر گر پڑے تو اُن کا سر کاٹ لیا گیا اور عبدالملک کے سامنے پیش کیا ۔ جنگ ختم ہونے کے بعد عبدالملک بن مروان نے حضرت مصعب بن زبیر اور اُن کے بیٹے کو نہر رجیل کے قریب دفن کردیا ۔یہ جنگ 71 ہجری میں ہوئی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اہل عراق نے حضرت مصعب بن زبیر کے متعلق اختلاف کیا اور انہوں نے اُن کی مدد کرنا چھوڑ دیا تو وہ سوچ بچار کرنے لگے اور انہوں نے اپنے آپ کو مردانہ وار وقتل کے لئے پیش کردیا ۔ اور اپنے دل کو مطمئن کیا اور فرمایا: ‘‘ بیعت کے لئے ہاتھ نہ دینے اور عبیداﷲ بن زیاد کی ذلت سے بچنے کے لئے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ میرے لئے ‘‘اسوۂ حسنہ’’ ہیں ۔ بے شک آل ہاشم کے پہلے طبقہ نے صبر کیا اور شرفاء کے لئے ‘‘اُسوۂ حسنہ’’ قائم کردیا۔’’اِس کے بعد شدید جنگ کی اور قتل ہو گئے۔ 


عبدالملک کے ملک عراق میں گورنر


حضرت مصعب بن زبیر سے جنگ جیتنے کے بعد عبدالملک بن مروان نے ملک عراق میں اپنے گورنر مقرر کرنے شروع کر دیئے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد عبدالملک بن مروان اپنا لشکر لیکر عراق سے بیعت لیکر کوفہ کی جانب روابہ ہوا اور مقام نخیلہ پر پہنچ کر چالیس روز تک ٹھہرا رہا ،اِس کے بعد کوفہ میں داخل ہوا۔ اُس نے لوگوں سے حسن سلوک اور انعام و وظائف مقرر کرنے کا وعدہ کیا ۔ یحییٰ بن سعید کو جعفر سے طلب کرکے امان دے دی ۔ یہ لوگ اس کے ماموں ہوتے تھے ۔ عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی بشر بن مروان کو کوفہ کا گورنر بنادیا ۔ محمد بن نمیر کو ہمدان کا گورنر بنایا ۔ یزید بن ورقا کو ‘‘رے’’ کا گورنر بنایا۔تمام اہل کوفہ کوعبدالملک بن مروان نے امان دے دی ۔عبداﷲ بن حازم کو عبدالملک بن مروان کی فتح کا حال معلوم ہوا تو اُس نے پوچھا : ‘‘ کیا اُس کے ساتھ عمر بن معمر بھی ہے؟’’ جواب دیا گیا : ‘‘ نہیں ! وہ فارس میں ہے۔’’پھر اُس نے پوچھا :‘‘ کیا مہلب اُس کے ساتھ ہے؟’’ حاضرین نے کہا: ‘‘ وہ خوارج سے جنگ پر مامور ہے۔’’ پھر پوچھا :‘‘ ’’ کیا عباد بن حصین اُس کے ساتھ ہے؟’’ کہا گیا :‘‘ وہ بصرہ میں ہے۔’’ عبداﷲ بن حازم نے سرد آہ کھنچ کر کہا: ‘‘ اور میں خراسان میں ہوں۔’’ عبدالملک بن مروان کی فتح کی خبر جب مہلب کو ملی تو اُس نے سب لوگوں سے عبدالملک بن مروان کے لئے بیعت لے لیاور اُسے اپنا حکمراں تسلیم کر لیا۔ 


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا خطبہ


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو اہل عراق کی غداری ،اپنے بھائی اور بھتیجے کے قتل اورعبدالملک بن مروان کی فتح کی اطلاع ملی آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کیا اور اُن کے سامنے خطبہ پڑھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کے قتل کی خبر ملی تو خطبہ پڑھا اور فرمایا: ‘‘تمام تعریف اُسی اﷲ کے لئے ہے جس نے سب کو پیدا کیا ، جس کے ہاتھ میں حکومت ہے ۔وہ جسے چاہتا ہے سلطنت عطا کرتا ہے ،جس سے چاہتا ہے لے لیتا ہے ۔جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے ،جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ۔ جان لو حق و صداقت جس کے ساتھ ہے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا ،چاہے وہ تنہا ہی کیوں نہ ہو۔ہمیں ملک عراق سے ایک خبر معلوم ہوئی ہے جس نے ہمیں رنجیدہ بھی کیا ہے اور خوش بھی کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت مصعب بن زبیر اﷲ انہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے شہید ہو گئے ہیں ۔ہمیں خوشی اِس لئے ہوئی کہ انہیں شہادت نصیب ہوئی اور غم اِس لئے ہے کہ ایک محب صادق ہم سے جدا ہوگیا ہے ۔ اِس وقت مجھے اپنے بھائی مصعب کی موت کا صدمہ اُٹھانا پڑ رہا ہے ۔ حالانکہ اِس سے پہلے میں اپنے والد حضرت زبیر بن عوام کی موت کا صدمہ سہ چکا ہوں اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی موت کا رنج بھی میں نے فراموش نہیں کیا ہے ۔حضرت مصعب بن زبیر اﷲ کے بندے اور میرے دست و بازو تھے ۔ مگر صدمہ اِس بات کا ہے کہ اہل عراق نے اُن کے ساتھ غداری کی ،منافقت کی اور بہت تھوڑی سی قیمت کے عوض انہیں دشمنوں کے ہاتھوں فروخت کردیا اور سپرد کردیا ۔ پس اگر وہ مارے گئے تو کوئی انوکھی بات نہیں ہے کیونکہ ہم اپنے بستروں پر پڑے رہ کر مرنے کے عادی نہیں ہیں۔ یہ کہہ کر میں اپنے اور تمہارے لئے مغفرت کی دعا مانگتا ہوں ۔’’


ھ71 ہجری کا اختتام


ھ71 ہجری کا اختتام انہیں واقعات کے ساتھ ہوا۔ اِس سال

 کے ختم ہونے تک ملک عراق پر سے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی پکڑ چھوٹ گئی تھی اور عبدالملک بن مروان ملک شام اور ملک مصر کے ساتھ ساتھ ملک عراق پر بھی اپنی پکڑ مضبوط کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 71 ہجری میں عبدالملک بن مروان کا بھائی عبدالعزیز بن مروان جو ملک مصر کا گورنر تھا اُس نے حسان عافی کو سپہ سالار بنا کر لشکر دیکر افریقہ کی جنگ پر مقرر کیا اور وہ بہت بڑا لشکر لیکر افریقہ روانہ ہوگیا ۔اُس نے قرطاجنہ کوفتح کیا اور اُس کے رومی باشندے بت پرست تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 71 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے ابن اسود بن عوف کو مدینۂ منورہ کی گورنری سے برطرف کردیا اور اُس کی جگہ طلحہ بن عبداﷲ بن عوف کو گورنر مقرر کیا ۔ یہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے مدینۂ منورہ کا آخری گورنر ثابت ہوا۔ جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے آزاد کردہ غلام طارق بن عمرو نے مدینۂ منورہ پر تسلط کر لیا تو طلحہ بن عبداﷲ وہاں سے بھاگ گیا ۔ مدینۂ منورہ کا انتظام طارق بن عمرو ہی سنبھالے رہا یہاں تک کہ عبدالملک بن مروان نے اُسے خط لکھا ۔ اِس سال بھی مسلمانوں کو حج حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے کرایا ۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں