ا32 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 32
حضرت مصعب بن زبیر کی بحالی، ھ67 ہجری کا اختتام، ھ68 ہجری کی شروعات، خارجیوں سے سابور میں جنگ، خارجیوں کی اہوازکی طرف روانگی، خوارج کا ظلم و ستم، خوارج کی پسپائی، ملک شام میں قحط، ھ68 ہجری کا اختتام، سید المفسرین’’ حضرت عبداﷲ بن عباس ؓ کا انتقال، ھ69 ہجری : عمرو بن سعید کا دمشق پر قبضہ، عمرو بن سعید کا قتل، یحییٰ بن سعید کا حملہ، یحییٰ بن سعید کی گرفتاری،
حضرت مصعب بن زبیر کی بحالی
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بیٹے کو معزول کر کے واپس اپنے بھائی کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں :جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بیٹے حمزہ بن عبداﷲ کو بصرہ کی گورنری سے معزول کر دیا تو یہ بصرہ سے بہت سارا خزانہ لیکر چلا ۔ مالک من مسمع نے اِس پر اعتراض کیا اور کہا : ‘‘ تم ہماری تنخواہوں کی رقم بھی لے جا رہے ہو ۔ اِس طرح ہم تمہیں جانے نہیں دیں گے ۔ ’’ جب عبیداﷲ بن عبداﷲ بن معمر نے تنخواہوں کی ادائیگی کی ضمانت لی تو مالک بن مسمع خاموش ہو گیا ۔ حمزہ بن عبداﷲ یہ روپیہ لیکر اپنے والد کے پاس نہیں گیا بلکہ مدینۂ منورہ ّآیا اور یہ روپیہ کئی شخصوں کے پاس بطور امانت رکھوا دیا اور یہ سب لوگ وہ روپیہ کھا گئے۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو اِن تمام واقعات کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا: ‘‘ اﷲ اُسے دور کرے میں چاہتا تھا کہ حمزہ کی وجہ سے میں بنو مروان کے مقابلے میں فخر کروں گا ۔مگر وہ تو نکما نکلا ۔’’ حضرت مصعب بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بصرہ جا کر پھر سے اپنا عہدہ سنبھال لیا اور بہترین طریقے سے انتظام چلانے لگے ۔
ھ67 ہجری کا اختتام
اِس سال 67 ہجری کے خاتمے پر بدستور مملکت اسلامیہ میں دو حکومتیں چل رہی تھیں ۔ ملک حجاز اور ملک عراق و ملک ایران پر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت تھی اور ملک شام اور ملک مصر پر عبدالملک بن مروان کی حکومت تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کروایا ۔ بصرہ کے گورنر حضرت مصعب بن زبیر تھے ۔ کوفہ کے قاضی عبداﷲ بن عتبہ بن مسعود تھے ۔ ہشام بن ہبیرہ بصرہ کے قاضی تھے ۔ عبدالملک بن مروان ملک شام اور ملک مصر کا حکمراں تھا اور عبداﷲ بن خازم خراسان کے گورنر تھے ۔
ھ68 ہجری کی شروعات
اِس سال 68 ہجری کی شروعات میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت کافی وسیع ہو چکی تھی جبکہ عبدالملک بن مروان کی حکومت سِمٹتی جا رہی تھی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : 68 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کو دوبارہ بصرہ کا گورنر بنا دیا اور انہوں نے وہیں آکر اقامت اختیار کر لی ۔ کوفہ کا گورنر حارث بن عبداﷲ بن ابی ربیعہ مخزومی المعروف قباع کو بنایا ۔ مدینہ منورہ کا گورنر جابر بن اسود زہری کو بنایا ۔ اِسی سال شاہ قسطنطین بن قسطنطین اپنے ملک میں فوت ہو گیا اور اِسی میں ازارقہ کا معرکہ ہوا۔
خارجیوں سے سابور میں جنگ
اِس سال 68 ہجری میں حضرت مصعب بن زبیر نے مہلب بن ابی صفرہ کو جو فارس کا گورنر تھا اُسے موصل اور اُس کے مضافات کا گورنر بنا کر بھیجا اور اُس کی جگہ فارس کا گورنر عمر بن عبیداﷲ بن معمر کو بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اہواز میں مہلب بن ابی صفرہ کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد خارجی ، فارس ، کرمان اور مضافات اصبہان میں مقیم تھے ۔ جب مہلب کو موصل اور اس کے مضافات کا گورنر بنا کر بھیجا گیا تو اُس کی جگہ حضرت مصعب بن زبیر نے عمر بن عبیداﷲ بن معمر کو فارس کا گورنر بنا دیا ۔ خارجیوں نے اِس موقع کو غنیمت سمجھا اور زبیر بن موحوز کی قیادت میں عمر بن عبیداﷲ پر ٹوٹ پڑے ۔ مقام ‘‘سابور’’ پر دونوں کے لشکروں میں شدید جنگ ہوئی اور عمر بن عبیداﷲ نے نمایاں فتح حاصل کی لیکن اِس جنگ میں زیادہ خارجی قتل نہیں ہوئے اور وہ بہت باقاعدگی اور ترتیب سے پسپا ہوگئے ۔
خارجیوں کی اہوازکی طرف روانگی
سابور میں شکست کے بعد خارجی پیچھے ہٹے تو عمر بن عبیداﷲ نے اُس کا تعاقب کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :عمر بن عبیداﷲ نے خارجیوں کا تعاقب جاری رکھا مگر خارجی بچ کر نکل گئے اور اصنخر پہنچے ۔ عمر بن عبیداﷲ بھی اپنے لشکر کے ساتھ وہاں پہنچ گیا اور طمستان کے پل پر دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا ۔ شدید جنگ ہوئی اور اِس جنگ میں عمر بن عبیداﷲ کا بیٹا کام آیا اور عمر بن عبیداﷲ کو فتح حاصل ہوئی ۔ خوارج نے طمستان کے پل کو توڑ ڈالا اور اصبہان اور کرمان کے پہاڑوں پر چڑھ گئے ۔ یہاں انہوں نے اپنے نقصانات کی تلافی کی اور جب اُن کی تعداد بڑھ گئی تو وہ پھر فارس کی طرف آئے ۔ اِس مرتبہ خوارج نے اُس راستے کو چھوڑ کر جو انہوں نے سابور پر حملہ کرنے کے وقت استعمال کیا تھا ۔ اس کے بجائے انہوں نے دوسرے راستے سے جرجان کی سمت چلے ۔ عمر بن عبیداﷲ کو جب معلوم ہوا کہ خوارج کا رخ بالا ہی بالا بصرہ کی طرف ہے تو اُسے خوف ہوا کہ کہیں حضرت مصعب بن زبیر اُس سے ناراض نہ ہوجائیں ۔ اِسی لئے وہ نہایت سرعت سے خوارج کے پیچھے چلا لیکن جب وہ جرجان پہنچا تو معلوم ہوا کہ خوارج یہاں سے آگے بڑھ کر اہواز کی سمت جارہے ہیں ۔ دوسری طرف حضرت مصعب بن زبیر کو بھی خوارج کی روانگی کی اطلاع ہوئی اور انہوں نے بڑے پل پر لشکر کی صف آرائی کی۔
خوارج کا ظلم و ستم
خوارج مسلسل اہواز کی سمت سفر کر رہے تھے کہ انہیں اطلاع ملی کہ عمر بن عبیداﷲ اپنے لشکر کے ساتھ تعاقب میں ہے اور حضرت مصعب بن زبیر بصرہ سے لشکر لیکر مقابلے کے لئے آرہے ہیں تو انہوں نے عام مسلمانوں پر ظلم ستم کرنا شروع کردیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خوارج زبیر بن ماحوز کی قیادت میں بڑھتے بڑھتے اہواز تک پہنچ گئے ۔ یہاں اُن کے جاسوسوں نے اطلاع دی کہ عمر بن عبیداﷲ تمہارے پیچھے لشکر لیکر چلا آرہا ہے اور حضرت مصعب بن زبیر بصرہ سے لشکر لیکر تمہارے مقابلے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔ اِس خطرے کو محسوس کر کے زبیر بن ماحوز نے اپنے لشکر سے کہا : ‘‘ دشمنوں کے درمیان واقع ہونا ہمارے لئے نہایت خطرناک ہے اِس لئے ہمیں فوراً ایک طرف کے دشمن سے نپٹ لینا چاہیئے ۔’’ اِس کے بعد وہ خوارج کا لشکر لیکر چلا اور علاقہ جوخی کو طے کرتا ہوا نہروانات پر آیا اور یہاں سے دریائے دجلہ کے کنارے کنارے مدائن آدھمکا ۔ کروم بن مرثد مدائن کا گورنر تھا ۔ وہ اپنی جان بچا کر فرار ہوگیااور خوارج نے مدائن میں سخت غارت گری کی ۔ بچوں ،عورتوں اور مردوں کو قتل کر ڈالااور حاملہ عورتوں کے رحموں کو چیر ڈالا۔ اِس کے بعد خوارج ساباط میں آئے اور وہاں کے تمام لوگوں کا قتل عام کرنے لگے ۔یہاں بھی انہوں نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں اور بچوں کا بھی قتل عام کیا ۔
خوارج کی پسپائی
مملکت اسلامیہ میں خوارج مسلسل بد نظمی پھیلا رہے تھے اور عام مسلمانوں پر ظلم و ستم کر رہے تھے ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : پس کوفہ کے گورنر حارث بن ابی ربیعہ نے لشکر لیکر اُن کا قصد کیا اور اُس کے ساتھ کوفہ کے باشندے اور اس کے اشراف کی جماعتیں بھی تھیں جن میں ابراہیم بن اشتر اور شبث بن ربعی بھی شامل تھے ۔ جب وہ صراۃ کے پل پر پہنچے تو خوارج نے اپنے اور اُن کے درمیان اُس پل کو کاٹ دیا ۔ حارث بن ابی ربیعہ اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا تو خوارج اس دوران بھا گ کھڑے ہوئے ۔ عبدالرحمن بن مخنف نے چھ ہزار کے لشکر کے ساتھ اُن کا تعاقب کیا اور وہ کوفہ سے گزرے پھر اصبہان کے علاقے کی طرف چلے گئے اور وہ انہیں چھوڑ کر واپس آگیا ۔پھر خوارج نے ایک مہینے تک جیا شہر میں عتاب بن ورقہ کا محاصرہ کئے رکھا ۔ حتیٰ کہ انہوں نے لوگوں کو تنگ کردیا اور شہر والوں نے باہر نکل کر خوارج سے جنگ کی اور اُن کے سپہ سالار زبیر بن ماحوز کو قتل کر دیا اور جو کچھ اُن کے پڑاؤ میں تھا حاصل کر لیا ۔ خوارج نے فطری بن فجارہ کو اپنا سپہ سالار بنا لیا اور بلاد اہواز کی طرف بھاگ گئے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے مہلب بن ابی صفرہ کو حکم دیا کہ وہ خوارج سے جنگ کرے ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے اپنی جگہ موصل میں ابراہیم بن اشتر کو بھیج دیا اور لشکر لیکر اہواز آیا ۔ اُس نے آٹھ مہینوں تک خوارج سے ایسی جنگ کی جس کی مثال نہیں ملتی ہے ۔ آخر کار خوارج پسپا ہوگئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ بصرہ آیا اور منتخب بہادروں کو اپنے ساتھ لیکر خارجیوں کے مقابلے کے لئے نکلا ۔مقام سولاف پر دونوں لشکروں کا سامنا ہوا اور جنگ شروع ہوئی ۔ مسلسل آٹھ مہینے تک ایسی شدید جنگ ہوئی اور طرفین میں ایسا سخت رن پڑا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی ۔
ملک شام میں قحط
اِس سال 68 ہجری میں ملک شام میں بہت زبردست قحط پڑا جس کی وجہ سے اہل شام بہت تکلیف میں رہے اور اِسی وجہ سے عبدالملک بن مروان بیرونی علاقوں پر کوئی توجہ نہیں دے سکا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 68 ہجری میں ملک شام میں شدید قحط پڑا ۔ قحط کی شدت کا اندازہ اِس امر سے ہو سکتا ہے کہ اِسی وجہ سے اِ س سال عبدالملک بن مروان کہیں بھی لشکر نہیں بھیج سکا ۔اِ س سال میں عبدالملک بن مروان قنسرین میں مقام ‘‘بطنان’’ میں اپنے لشکر کے ساتھ مقیم رہا ۔ جب بارش ہوئی توکیچڑ بہت زیادہ ہوئی ۔اِسی وجہ سے اِس مقام کا نام ‘‘بطنان الطین’’ پڑ گیا ۔ عبدالملک بن مروان نے موسم سرما بھی اِسی مقام پر بسر کیا اور پھر وہاں سے دمشق کا رخ کیا ۔
ھ68 ہجری کا اختتام
68 ہجری میں حج کے دوران اختلاف صاف نظر آیا اور میدان عرفات میں چارالگ جھنڈے نظر آئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 68 ہجری میں عرفات میں چار جھنڈے چار مختلف لوگوں کے آئے ۔ محمد بن حنفیہ کا جھنڈا ‘‘کوہ مشاۃ’’ کے قریب نصب تھا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا جھنڈا اُس مقام پر نصب تھا جہاں عرفات کے اجتماع کے دن امام کھڑا ہوتا ہے ۔ بعد میں محمد بن حنفیہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آئے اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے مقام پر ٹھہر گئے ۔ نجدہ حروری کا جھنڈا اُن دونوں کے پیچھے تھا اور بنو اُمیہ کا جھنڈا اُن دونوں کے بائیں جانب نصب تھا ۔ سب سے پہلے محمد بن حنفیہ کا گروہ مزدلفہ روانہ ہوا ۔ پھر نجدہ کا گروہ ،اُس کے بعد بنو اُمیہ کا گروہ روانہ ہوا اور سب سے آخر میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا گروہ روانہ ہوا اور مسلمانوں کی اکثریت نے آپ رضی اﷲ عنہ کی ہی پیروی کی ۔ حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی اُس وقت تک روانہ نہیں ہوئے جب تک کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ روانہ نہیں ہوئے تھے ۔ حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ ایام جاہلیت کے طریقے پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔’’ یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ روانہ ہو گئے اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ تمام مسلمانوں کو لیکر اُن کے پیچھے روانہ ہوگئے
سید المفسرین’’ حضرت عبداﷲ بن عباس ؓ کا انتقال
اِس سال 68 ہجری میں اسلام کے سب سے پہلے ‘‘مفسر قرآن ’’ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی ہیں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کے بیٹے ہیں ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو گلے سے لگا کر اﷲ تعالیٰ سے دعا فرمائی تھی :‘‘ اے اﷲ ! اِسے قرآن پاک کی سمجھ عطا فرما۔’’ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی کنیت ابو العباس ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی ہیں ۔اِس اُمت کے عالم اور کتاب اﷲ (قرآن پاک) کے مفسر اور ترجمان ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو عالم اور ‘‘علم کاسمندر’’ کہا جاتا تھا ۔ بہت سے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور تابعین کی جماعتوں نے آپ رضی اﷲ عنہ سے سیکھا ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنے وسعت ِ علم و فہم اور کمال ِ عقل اور وسعت فضل اور اپنے اصل کی شرافت کی وجہ سے بعض ایسی یکتا خوبیاں حاصل ہیں جو کسی دوسرے صحابی رضی اﷲ عنہ کو حاصل نہیں ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ اُم الفضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ ہیں جو اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اﷲ عنہا کی بہن ہیں ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ عباسی حکمرانوں کے جد امجد ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ کی اولاد میں عباسی حکمراں ہوئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کے ہاں سیدہ اُم الفضل سے دس بھائیوں میں پیدائش کے لحاظ سے سب سے چھوٹے ہیں ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں :‘‘ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم شعب ابی طالب میں تھے تو میرے والد حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا :‘‘ میں نے ام الفضل کو حاملہ پایا ہے ۔’’ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : شاید اﷲ تعالیٰ تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کرے ۔’’ جب میری والدہ نے مجھے جنا تو مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور میں ایک چیتھڑے میں لپٹا ہوا تھا ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے لعاب دہن سے مجھے گھٹی دی ۔’’ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ ہجرت کے سال پیدا ہوئے اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی خود کی روایت میں ہے کہ ‘‘میں ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوا اور ہم سب شعب ابی طالب میں محصور تھے اور جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میں تیرہ (۱۳) سال کا تھا ۔ ’’ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے فضائل بہت زیادہ ہیں ۔ہم اِسی پر بس کرتے ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو کوفہ جانے سے بہت منع فرمایا ۔جب اُن کی شہادت کی خبر ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ کو بہت زیادہ غم ہوا اور گوشۂ تنہائی اختیار کرلی اور اِسی حالت میں طائف میں انتقال ہوگیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی نماز جنازہ حضرت محمد بن حنفیہ نے پڑھائی۔
ھ69 ہجری : عمرو بن سعید کا دمشق پر قبضہ
اِس سال 69 ہجری کی شروعات میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے مدینۂ منورہ کا گورنر جابر بن اسود تھا کوفہ اور بصرہ کے گورنر حضرت مصعب بن زبیر تھے ۔ خراسان کا گورنر عبداﷲ بن خازم تھا اور ملک شام میں عبدالملک بن مروان کی حکومت تھی لیکن یہ بھی ڈانواڈول ہو رہی تھی کیونکہ عمرو بن سعید نے عبدالملک بن مروان سے دشمنی کر لی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان جب اپنے باپ مروان بن حکم کے بعد ملک شام کا بادشاہ بناتو عمرو بن سعید کہا کرتا تھا کہ تمہارے باپ نے مجھے ‘‘ولی عہد’’بنایا تھا لیکن تم میری جگہ بادشاہ بن گئے ہو ۔اِس لئے میری ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان کرو ۔لیکن عبد الملک بن مروان کوئی توجہ نہیں دیتا تھا ۔ جب عبدالملک بن مروان بطنان سے دمشق واپس آیا اور کچھ عرصہ قیام کر کے ملک عراق کی جانب حضرت مصعب بن زبیر کی طرف لشکر لیکر روانہ ہوا تو عمرو بن سعید نے کہا : ‘‘ تم خود عراق جا رہے ہو حالانکہ تمہارے والد نے اپنے بعد مجھے خلافت دینے کا وعدہ کیا تھا اور اِسی وجہ سے میں لڑتا رہا ہوں اور جس طرح کی خدمات انجام دی ہیں اس سے سب واقف ہیں ۔ بہتر ہے کہ مجھے تم اپنا ‘‘والی عہد’’ نامزد کر دو ۔’’ عبدالملک نے کوئی جواب نہیں دیا تو عمرو بن سعید وہیں سے ناراض ہو کر دمشق کی طرف پلٹا ۔ عبدالملک بن مروان نے عبدالرحمن بن ام حکم کو دمشق پر اپنا نائب بنایا تھا ۔جب اُسے معلوم ہوا کہ عمرو بن سعید لشکر لیکر دمشق آرہا ہے تو وہ فرار ہو گیا اور عمرو بن سعید نے دمشق پر قضہ کر لیا اور جس قدر خزانے تھے سب پر قبضہ کر لیا ۔ عبدالملک بن مروان اپنا لشکر لیکر اُس کے پیچھے آیا اور دمشق کا محاصرہ کر لیا ۔
عمرو بن سعید کا قتل
دمشق کا عبدالملک بن مروان نے محاصرہ کر رکھا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان کو خبر ہوئی تو وہ بھی عمرو بن سعید کے پیچھے ہی پیچھے آیا اور دمشق کا محاصرہ کر لیا ۔ مدتوں دونوں میں لڑائی ہوتی رہی آخر کار مصالحت ہو گئی ۔ صلح نامہ لکھا گیا اور عبدالملک بن مروان نے عمرو بن سعید کو پناہ دے دی ۔ عمرو بن سعید دمشق سے نکل کر عبدالملک بن مروان کے خیمے میں آیا اور اُس کو اپنے ساتھ دمشق میں لے گیا ۔ چار دن بعد عبد الملک بن مروان نے عمرو بن سعید کو بلا بھیجا ، اتفاقاً اُُسوقت عبداﷲ بن یزید (اُس کا داماد) اُس کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ اُس نے عبدالملک بن مروان کے پاس جانے سے روکا ۔عمرو بن سعید نے کہا : ‘‘ اﷲ کی قسم! مجھے کسی بات کا اندیشہ نہیں ہے ،اگر میں سوتا بھی ہوتا تو عبدالملک بن مروان مجھے جگانے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ ’’ اِس کے بعد پیامبر سے کہا: ‘‘ تم جاؤ میں شام کے وقت آؤں گا۔’’شام کا وقت آیا تو اُس نے زرہ پہنی ، اوپر قبا کو زیب تن کیا اور تلوار کمر سے لٹکائی اور ایک سو خدام کو لیکر عبدالملک بن مروان سے ملنے کے لئے چلا ۔ عبدالملک بن مروان نے اپنے پاس تمام بنو مروان وغیرہ کو جمع کر رکھا تھا ۔ عمرو بن سعید پہنچا تو اُسے حاضری کی اجازت دی گئی ،جوں جوں وہ اندر جاتا گیا عبدالملک بن مروان کے مصاحبین دروازے بند کرتے گئے ۔ یہاں تک کہ شہ نشین کے دروازے پر پہنچا تو اُس کے ساتھ صرف ایک غلام باقی رہ گیا تھا ۔ عبدالملک بن مروان کے پاس بنو مروان کو جمع دیکھ کرعمرو بن سعید کو خدشہ پیدا ہوا اور اُس نے غلام کو کہا : ‘‘ میرے بھائی یحییٰ کے پاس جا اور اُسے بلا لا۔’’ غلام کچھ سمجھ نہیں سکا ۔ عمرو بن سعید نے پھر کہا تو غلام نے لبیک کہا لیکن کچھ سمجھ نہیں سکا ۔عمرو بن سعید نے جھلا کر کہا :‘‘ جا دور ہو جا ۔’’ غلام چلا گیا ۔ عبدالملک بن مروان نے استقبال کیا اور تخت پر بٹھایا ۔ باتیں ہونے لگیں اور کچھ دیر بعد عبدالملک بن مروان نے اُس کی تلوار بھی لے لینے کا حکم دیا تو عمرو بن سعید کو ناگوار گذرا ۔ اُس نے کہا :‘‘ اے امیر المومنین ْ اﷲ سے ڈریئے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے کہا : ‘‘ کیا تم اِس کی اُمید رکھتے ہو کہ میرے ساتھ تخت پر تلوار لیکر بیٹھو گے ؟’’ عمرو بن سعید خاموش ہو گیا ۔ غلاموں نے اُس کی تلوار لے لی ۔ تھوڑی دیر کے بعد عبدالملک بن مروان نے کہا : ‘‘ اے ابو امیہ ( عمرو بن سعید کی کنیت ہے) جس وقت تم نے میری مخالفت کی تھی اُسی وقت میں نے قسم کھائی تھی کہ جب میں تمہیں اپنے قبضۂ اقتدار میں پاؤں گا تو تمہیں ہتھکڑی پہناؤں گا ۔’’ بنو مروان نے کہا: ‘‘ کیا پھر امیر المومنین انہیں رہا کر دیں گے ؟’’ عبدالملک نے کہا: ‘‘ ہاں ! میں ابو امیہ کے ساتھ برائی نہیں کروں گا ۔’’ بنو مروان نے عمرو بن سعید سے کہا: ‘‘ ابو امیہ ! امیر المومنین کی قسم پوری کرو ۔’’ عمرو بن سعید دبی زبان سے بولا : ‘‘ بے شک اﷲ تعالیٰ نے امیر المومنین کی قسم سچائی کے ساتھ پوری کر دی ۔’’ عبدالملک نے فوراً قالین کے نیچے سے زنجیر نکالی اور غلام کو دے کر کہا : ‘‘ ابو امیہ کے ہاتھ پاؤں اور گردن میں ڈال دو ۔’’ عمرو بن سعید بولا: ‘‘ میں امیر المو منین کو اﷲ کی قسم دلاتا ہوں کہ مجھے لوگوں کے رو برو یونہی لیکر نہیں چلنا۔’’ عبدالملک بن مروان بوالا: ‘‘ مجھ سے یہ نہ ہوگا کیا تم مرتے وقت دھوکا دینا چاہتے ہو؟’’ عمرو بن سعید یہ سن کر خاموش ہو گیا ۔ عبدالملک نے اتنی زور سے زنجیر کو کھینچا کہ اُس کا منہ تخت سے ٹکرا گیا اور اگلے دو دانت ٹوٹ گئے ۔ عبدالملک بن مروان نے کہا : ‘‘ اﷲ کی قسم! اگر یہ مجھے معلوم ہوتا کہ تیرے زندہ رہنے سے میری بہتری ہے اور قریش کی حالت درست ہو جائے گی تو میں بے شک تجھے زندہ رکھتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک ملک میں ہمارے اور تیرے جیسے دو شخص نہیں رہ سکتے۔ ’’ عمرو بن سعید اُسے برا بھلا کہنے لگا تو عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی عبدالعزیز بن مروان کو حکم دیا کہ اُسے قتل کردے اور نماز پڑھنے چلا گیا ۔ عبدالعزیز بن مروان نے اُسے قتل نہیں کیا ۔ عبدالملک بن مروان جب نماز پڑ ھ کر واپس آیا اور عمرو بن سعید کو زندہ دیکھاتو اپنے بھائی پر سخت برہم ہوا اور ایک ہتھیار لیکر عمرو بن سعید کو ذبح کرڈالا۔ بعض کا بیان ہے کہ عبدالملک بن مروان نے اپنے غلام زغیر کو قتل پر مامور کیا تو اُس نے اُسے قتل کر دیا ۔
یحییٰ بن سعید کا حملہ
جب عمرو بن سعید کے بارے میں اُس کے بھائی یحییٰ بن سعید کو خبر ہوئی تو اُس نے عبدالملک بن مروان کے محل کو گھیر لیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حاضرین میں سے کسی نے جا کر عمرو بن سعید کا حال اُس کے بھائی یحییٰ بن سعید سے جا کرکہہ دیا ۔ وہ ایک ہزار غلاموں اور ساتھیوں کا لشکر لیکر آیا اور عبدالملک بن مروان کے محل پر حملہ بول دیا ۔ اُس کے ساتھ حمید بن حریث اور زہیر بن ابرد تھے انہوں نے عمرو بن سعید کا نام لیکر پکارنا شروع کر دیا ۔ جب اُس کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو محل کا دروازہ توڑ ڈالا اور محل کے لوگوں پر دیوانہ وار حملہ کرنے لگے ۔ ولید بن عبدالملک نے نکل کر مقابلہ کیا کچھ عرصہ تک لڑائی ہوتی رہی ۔اِسی دوران عبدالرحمن بن ام حکم نے عمرو بن سعید کا سر لوگوں کے سامنے پھینک دیا اور عبدالعزیز بن مروان درہم اور دینار پھینکنے لگا ۔ یحییٰ بن سعید کے ساتھی اور غلام لڑائی چھوڑ کردرہموں اور دیناروں کو لوٹنے لگے اور لوٹ کر سب بھاگ گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یحییٰ بن سعید کے کے ساتھیوں نے محل کا صدر دروازہ توڑ دیا اور شمشیر زنی شروع کردی ۔ عمرو بن سعید کے غلام مصقلہ نے ولید بن عبدالملک کے سر پر تلورا کا ایک ہاتھ مارا جس سے وہ زخمی ہوگیا اور ابراہیم بن عربی میر منشی اُسے اُٹھا کر منشی خانہ لے گیا ۔
یحییٰ بن سعید کی گرفتاری
بنو اُمیہ آپس میں ہی لڑ رہے تھے اور ایک دوسرے کا خون بہا رہے تھے ۔ جب یحییٰ بن سعید اور اُس کے ساتھی چلے گئے تو عبدالملک بن مروان نے اپنے محل کے باہرجامع مسجد کے قریب اپنا دربار لگایا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان نے حکم دیا کہ تخت باہر لایا جائے ۔ اُس کے حکم کے مطابق مسجد کے قریب تخت بچھایا گیا اور وہیں عبدالملک بن مروان نے اپنا دربار لگایا ۔ اُس نے دیکھا کہ ولید بن عبدالملک نہیں ہے تو اُس نے پوچھا کہ ولید کہاں ہے؟ اور ساتھ ہی قسم کھا کر کہا کہ اگر باغیوں نے ولید کو قتل کر ڈال ہے تو وہ اُن سے اپنا قصاص ضرور لے گا ۔ ابراہیم بن عربی آگے بڑھا اور بولا : آپ ولید کی فکر نہ کریں وہ میرے پاس محفوظ ہے ۔اُسے ایک زخم آگیا تھا جس سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے یحییٰ بن سعید کی گرفتاری کا حکم دیا اور جب اُسے گرفتا کر کے اُس کے سامنے لایا گیا تو عبدالملک بن مروان نے اُس کے قتل کا حکم دے دیا ۔ عبدالعزیز بن مروان کھڑا ہوا بولا: ‘‘ اﷲ مجھے امیر المومنین پر قربان کردے ! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمام بنو اُمیہ کو ایک ہی دن میں قتل کر ڈالو؟’’ یہ سن کر عبدالملک بن مروان بن حکم دیا : ‘‘ اچھا ! یحییٰ بن سعید کو قید میں ڈال دو۔ ’’
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں