ا31 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 31
عبیداﷲ بن زیاد کے مقابلے پر لشکر کی روانگی، ھ66 ہجری کا اختتام، ھ67 ہجری : عبیداﷲ بن زیاد کا انجام، حضرت مصعب بن زبیر بصرہ کے گورنر، حضرت مصعب بن زبیر کے پاس شکست خوردہ کا اجتماع، حضرت مصعب بن زبیر کی کوفہ کی طرف پیش قدمی، مختار ثقفی کی شکست اور قتل، ابراہیم بن اشتر کا فیصلہ، حضرت مصعب بن زبیر کی معزولی، حمزہ بن عبداﷲ کی نااہلی،
عبیداﷲ بن زیاد کے مقابلے پر لشکر کی روانگی
حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے شہید کرنے کا حکم عبیداﷲ بن زیاد نے دیا تھا ۔ اﷲ تعالیٰ نے دنیا میں اُس کا بہت بھیانک انجام کیا اور آخرت کا انجام ابھی باقی ہے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مختار بن ابی عبید ثقفی کو 66 ہجری کے اواخر میں کچھ فراغت حاصل ہوئی تو اُس نے 66 ہجری کے آخری مہینے ذی الحجہ کی بائیس (22) تاریخ کو ابراہیم بن اشتر کو لشکر دے کر عبیداﷲ بن زیاد کے مقابلے پر روانہ کیا اور اپنے نامی گرامی مصاحبوں ، شہسواروں اور جنگ آوروں کو اسی کرسی سمیت اُس کے ہمراہ کر دیا جس سے ضرورت کے وقت وہ مدد طلب کیا کرتا تھا ۔ یہ کرسی سونے کی منڈھی ہوئی تھی اور مختار نے اپنے متبعین کو یہ سمجھا رکھا تھا کہ جیسا بنی اسرائیل میں ‘‘تابوت سکینہ’’ تھا ویسی ہی یہ کرسی ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ کرسی حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی تھی ۔ جس کو مختار نے جعدہ بن ہنیرہ سے خرید لیا تھا جو سیدہ اُم ہانی بنت ابی طالب رضی اﷲ عنہا کا بیٹا تھا ۔
ھ66 ہجری کا اختتام
اِس سال 66 ہجری کا یہ آخری واقعہ تھا ۔ اِس کے بعد 67 ہجری کی شروعات میں عبیداﷲ بن زیاد کے لشکر کو شکست ہوئی اور اُسے قتل کیا گیا ۔ یہ جنگ 67 ہجری میں ہوئی اِس لئے ہم آگے اِس جنگ کے بارے میں حلات پیش کریں گے ۔ اِس سال 66 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ مدینۂ منورہ میں آپ رضی اﷲ عنہ کا بھائی مصعب بن زبیر گورنر تھا ۔بصرہ کا گورنر حارث بن عبداﷲ بن ابی ربیعہ تھا ۔ کوفہ کا گورنر مختار بن ابی عبید ثقفی تھا ۔ اور بلاد خراسان کا گورنر عبداﷲ بن حازم مستولی تھا ۔
ھ67 ہجری : عبیداﷲ بن زیاد کا انجام
اِس سال 67 ہجری میں عبیداﷲ بن زیاد اپنے انجام کو پہنچا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ابراہیم بن اشتر کوفہ سے روانہ ہوکر ملک عراق کو چھوڑتا ہوا سر زمین موصل میں پہنچا ۔ جس کے زیادہ تر حصے پر عبیداﷲ بن زیاد نے قبضہ کر لیا تھا ۔ ابراہیم بن اشتر نے نہر حازم (خازر) پر قیام کر کے طفیل بن یقط نخعی کو بطور ‘‘مقدمۃ الجیش’’ آگے بڑھایا ۔ عبید اﷲ بن زیادنے بھی اِس لشکر کے آنے کی اطلاع پا کر اپنے لشکر کے ساتھ جو ملک شام سے لیکر آیا تھا نہر کے قریب آ کر پڑاؤ ڈال دیا ۔ عبداﷲ بن زیاد کا میسرہ کمانڈرعمیر بن حباب خفیہ طور سے ابراہیم بن اشتر سے ملنے کے لئے آیا اور وعدہ کیا کہ جنگ کے وقت میں میسرہ کو لیکر بھاگ کھڑا ہوں گا اور تم جنگ میں تاخیر نہیں کرنا کیونکہ تمہارے تاخیر کرنے سے عبیداﷲ بن زیاد کی طاقت بڑھ جائے گی ۔ اِس قرارداد کی وجہ سے ابھی صبح بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ ابراہیم بن اشتر خیمہ سے نکل کر اپنے لشکر کو جنگ کے لئے اُبھارنے لگا ۔ جں ہی سپیدۂ سحر نمودار ہوا اُس نے باجماعت نماز پڑھا کر اپنے لشکر کی صفیں مرتب کر دیں ۔ عبیداﷲ بن زیاد نے بھی اپنے لشکر کو مرتب کیا اور سورج نکلتے نکلتے جنگ شروع ہو گئی ۔ حصین بن نمیر نے جو میمنہ کا کمانڈر تھا ابراہیم کے میسرہ پر حملہ کردیا ۔ علی بن مالک قتل ہوگیا تو قرد بن علی نے لپک کر جھنڈا اُٹھا لیا اور لڑنے لگا ۔ جب یہ بھی قتل ہوگیا تو ابراہیم کے میسرہ میں بھگڈر مچ گئی ۔عبداﷲ بن ورقا سلولی نے جھنڈا (علم) اُٹھایا اور اپنے ساتھیوں کو للکارااور بھاگنے والے ایک نئے جوش کے ساتھ پلٹے اور عبیداﷲ بن زیاد کے میسرہ پر حملہ کر دیا ۔ وعدہ کے مطابق عبیداﷲ بن زیاد کے میسرہ کا کمانڈر عمیر بن حباب اپنے سپاہیوں کے ساتھ بھاگ گیا ۔ اب ابراہیم کے لشکر کا پلہ بھاری ہوگیا اور انہوں نے عبداﷲ بن زیاد کے لشکر کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کر دیا ۔ ہر طرف آہ و زاری کے نعرے بلند ہورہے تھے اوزخمیوں کے خون کے فوارے بلند ہو رہے تھے ۔ نیزوں اور تلواروں کی آوازوں سے کان کے پردے پھٹے جاتے تھے ۔ آخر کار ابراہیم بن اشتر کو فتح حاصل ہوئی ۔ جنگ ختم ہونے کے بعد ابراہیم بن اشتر نے کہا: ‘‘ میں نے ایک جھنڈے والے شخص کو قتل کیا ہے جو بہت زیادہ خوشبو لگائے ہوئے تھا اور میں اپنی تلوار سے اُس کے نصفا نصف دو ٹکڑے کر دیئے ۔ذرا دیکھو تو وہ شخص کون ہے ؟’’ لوگوں نے تلاش کیا تو وہ عبید اﷲ بن زیاد تھا ۔ اُس کا سر کاٹ کر اُس کی لاش جلا دی گئی ۔ حصین بن نمیر بھی اُس لشکر کا ایک کمانڈر تھا جس نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تھا ۔ حضرت شریک بن جدیر جو حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ ہر جنگ میں شریک تھے انہوں نے حصین بن نمیر کو عبیداﷲ بن زیاد سمجھ کر پکڑ لیا اور اپنے ساتھیوں سے بولے کہ حملہ کرو ۔ اُن کے ساتھیوں نے حصین بن نمیر کو قتل کردیا ۔ بعض کا بیان ہے کہ حضرت شریک بن جدیر نے عبیداﷲ بن زیاد کو قتل کیا اور عبداﷲ بن زہی سلمی کا دعویٰ ہے کہ اُس نے عبیداﷲ بن زیاد کو قتل کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب شامی لشکر یعنی عبیداﷲ بن زیاد کا لشکر شکست کھا کر بھاگا ابراہیم بن اشتر کے لشکر نے اُن کا تعاقب کیا اور ملک شام کے سپاہی مقتولین سے زیادہ بھاگنے کے فراق میں دریا میں ڈوب کر مر گئے ۔ پھر ابراہیم بن اشتر کے لشکر نے ملک شام کے لشکر گاہ پر قبضہ کر لیا جس میں ہر قسم کی اشیاء موجود تھیں ۔
حضرت مصعب بن زبیر بصرہ کے گورنر
ملک شام کے لشکر کو شکست دینے کے بعد ابراہیم بن اشتر نے وہیں ‘‘موصل’’ میں رہائش اختیار کر لی اور وہیں سے مختلف علاقوں میں اپنے گورنر بھیجے ۔ علامہ محمدبن جریر طبری لکھتے ہیں : مختار کوفہ واپس آگیا اور ابراہیم بن اشتر موصل میں قیام پذیر ہو گیا اور اُس کے تمام علاقوں پر اپنے گورنروں کو روانہ کیا ۔ اپنے بھائی عبدالرحمن بن اشتر کو نصیبن کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ اِس کے علاوہ سنجار ، ودار اور اُس سے متصل ملک جزیرہ کا جو علاقہ تھا اُس پر بھی قبضہ کر لیا ۔ اِس سال 67 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بصرہ کے گورنر قباع کو معزول کر دیا اور اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے آزاد کردہ غلام کہتے ہیں کہ ‘‘میں بھی اُن لوگوں میں تھا جو مکۂ مکرمہ سے حضرت مصعب بن زبیر کے ساتھ بصرہ آئے تھے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے چہرے کو نقاب میں پوشیدہ رکھا تھا اور جب بصرہ کی جامع مسجد کے دروازے پر اُترے اور مسجد میں داخل ہو کر منبر پر چڑھے اور بصرہ کے لوگوں نے کہا : ‘‘ گورنر آگئے ۔’’ اتنے میں حارث بن ابی ربیعہ یعنی قباع جو پہلے بصرہ کے گورنر تھے مسجد میں داخل ہوئے ۔ مصعب بن زبیر نے اپنا چہرہ بے نقاب کیا تب لوگوں نے انہیں شناخت کیا اور کہا : ‘‘ آپ حضرت مصعب بن زبیر ہیں ۔’’ حضرت مصعب بن زبیر نے حارث بن ابی ربیعہ کہا : ‘‘ منبر پر آؤ۔’’ حارث بن ابی ربیعہ منبر پر چڑھ گیا اور حضرت مصعب بن زبیر سے ایک سیڑھی نیچے بیٹھا ۔ حضرت مصعب بن زبیر خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور حمد ثنا کے بعد بولے :‘‘ طسم ۔ یہ اﷲ کی روشن کتاب کی آیات ہیں ۔ ہم تمہارے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حال بیان کرتے ہیں ۔ بے شک فرعون فساد کرنے والوں میں سے تھا ۔’’ یہاں تک تلاوت کرنے کے بعد ملک شام کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور پھر یہ آیت تلاوت کی:‘‘ اور ہم چاہتے ہیں ان لوگوں پر احسان کریں جو اس شرزمین پر ذلیل کئے گئے ہیں ۔ ہم انہیں سردار بنا دیں گے اور انہیں کو وارث کریں گے ۔’’ یہ آیت تلاوت کرنے کے بعد ملک حجاز کی طرف اشارہ کیا پھر یہ آیت تلاوت کی :‘‘ اور ہم فرعون و ہامان اور اُن کے لشکروں کو ان کی جانب سے وہ دکھائیں گے جن کا ڈر انہیں لگا ہوا تھا ۔’’ اور پھر ملک شام کی طرف اشارہ کیا ۔ عوانتہ کہتے ہیں کہ حضرت مصعب بن زبیر نے بصرہ میں اپنے پہلے خطبے میں اہل بصرہ کو مخاطب کر کے کہا : ‘‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اپنے گورنروں کے نام رکھ لیا کرتے ہو اور اِس لئے میں نے اپنا نام ‘‘قصاب’’ رکھا ہے ۔’’
حضرت مصعب بن زبیر کے پاس شکست خوردہ کا اجتماع
بصرہ کا انتظام حضرت مصعب بن زبیر نے سنبھال لیا تو اُس کے پاس کوفہ کے مختار سے شکست کھائے ہوئے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں : اہل کوفہ جن سے مختار پہلے لڑ چکا تھا اور انہیں شکست دے چکا تھا وہ اب حضرت مصعب بن زبیر سے بصرہ میں آ کر مل گئے ۔ جب شبث بن ربعی بصرہ میں حضرت مصعب بن زبیر کے پاس آیا تو اُس کی یہ حالت تھی کہ ایک خچر پر سوار تھا جس کی دم اور کان چیر دیئے تھے اور اپنی قبا کو چاک کر دیا تھا اور پکار رہا تھا ۔ ‘‘ میری فریاد سنیئے ، میری فریاد سنیئے ۔’’ حضرت مصعب کو اس کی اطلاع ہوئی انہوں نے کہا : ‘‘ بے شک یہ شبث بن ربعی ہے ،اس کے سوا کوئی اور یہ ہیئت نہیں بنا سکتا ۔اسے اندر بلا لو ۔’’ شبث بن ربعی اندر آیا اور کوفہ کے سربر آوردہ اشخاص بھی آئے ۔ اپنے آنے کا حل بیان کیا مصیبت کی داستان سنائی اور کہا : ‘‘ ہمارے ہی غلام اور آزاد غلام ہم پر چڑھ آئے ہیں ۔ اب آپ ہماری اعانت کریں اور ہمارے ساتھ مختار پر حملہ کریں ۔ ’’محمد بن اشعث بن قیس بھی حضرت مصعب بن زبیر کے پاس آیا ۔ یہ کوفے کی جنگ میں موجود نہیں تھا بلکہ اُس وقت اپنے قلعے ‘‘طیزناباز’’ میں جو قادسیہ کے قریب تھا مقیم تھا ۔ جب اہل کوفہ کی شکست کی اور مختار کی فتح کی اطلاع اُسے ملی تو نکل بھاگنے کا ارادہ کیا ۔ مختار نے سو گھڑ سواروں کو اُس کی طرف روانہ کیا ۔ جب محمد بن اشعث کو دشمن کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ فوراً بے آب و گیاہ جنگل کے راستے بصرہ کی طرف روانہ ہوگیا اور حضرت مصعب بن زبیر سے جا ملا اور انہیں مختار کے خلاف جنگ کے لئے اُبھارا ۔ اُدھر مختار نے لشکر بھیج کر محمد بن اشعث کے قلعے کو منہدم کرا دیا ۔
حضرت مصعب بن زبیر کی کوفہ کی طرف پیش قدمی
بصرہ میں حضرت مصعب بن زبیر کے پاس ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ‘‘ جب حضرت مصعب بن زبیر کے جھنڈے تلے ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا تو محمد بن اشعث نے رائے دی کہ مہلب بن ابی صفرہ کو بھی بلا لیا جائے ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے خراج وصول کرنے کا بہانہ بنایا لیکن حضرت مصعب بن زبیر کی طلبی پر اُسے حاضر ہونا پڑا اور وہ بھی ایک بہت بڑا لشکر لیکر آیا ۔ اِس کے بعد حضرت مصعب نے سب کو بڑے پل کے پاس چھاونی کے میدان میں جمع ہونے کا حکم دیا اور عبدالرحمن بن مخنف کو بلا کر کہا : ‘‘ تم کوفہ جاؤ اور جس قدر لوگوں پر تمہارا بس چل سکے انہیں میرے لشکر میں شامل کرنے کی کوشش کرو اور انہیں خفیہ طور سے مختار کے خلاف ترغیب دو ۔’’ عبدالرحمن آیا اور چپکے سے اپنے گھر میں بیٹھ گیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے بنو تمیم کے عباد بن حصین بن معمر کو میمنہ کا کمانڈر بنایا ۔ مہلب بن ابی صفرہ کو میسرہ کا کمانڈر بنایا ۔ بنو بکر بن وائل کے لشکر کا کمانڈر مالک بن مسمع کو بنایا ۔ بنو عبد قیس کے لشکر کا کمانڈر مالک بن منذر کو بنایا ۔ بنو تمیم کے لشکر کا کمانڈر احنف بن قیس کو بنایا ۔ بنو ازد کے لشکر کا کمانڈر زیاد بن عمر ازدی کو بنایا اور اہل نجد کے لشکر کا کمانڈر قیس بن ہیثم کو بنایا ۔ اِس طرح اپنا لشکر مرتب کر کے حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے لشکر کے ساتھ کوفہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ۔
مختار نے مقابلے کے لئے لشکر روانہ کیا
حضرت مصعب بن زبیر کے لشکر کی کوفہ کی طرف پیش قدمی کی اطلاع مختار بن ابی عبید ثقفی کو ہوئی تو اُس نے بھی مقابلے کے لئے ایک لشکر تیار کر کے روانہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب مختار کو اِن واقعات کی خبر پہنچی تو وہ اپنے ساتھیوں میں خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا اور حمد و ثناء کے بعد اُس نے کہا : ‘‘ اے کوفہ والو! اے دین والو! صداقت اور کمزوروں کے مدد گارو! اور اے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اور آل رسول کے حامی گروہ! تم نے ان باغیوں کو بھگا دیا جنہوں نے سرکشی کی تھی ۔ اب وہ اپنے ہی جیسے فاسقوں کے پاس آئے اور تمہارے خلاف اُبھار کر لائے تاکہ حق مٹ جائے اور باطل کو عروج حاصل ہو اور اﷲ کی جماعت بدل جائے ۔ اﷲ کی قسم! اگر تم ہلاک ہو گئے تو اﷲ کی پرستش صرف اِس طرح ہو گی کہ اُس پر بہتان لگائے جائیں گے اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے اہل بیت پر لعن طعن کیا جائے گا ۔ اِس لئے تم فوراً احمر بن شمیط کے ساتھ میدان جنگ میں جانے کے لئے مستعد ہو جاؤ ۔ کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر تم ان سے لڑو گے تو انشاء اﷲ تم اس طرح انہیں ہلاک کر دو گے جس طرح عاد اور ارم ہلاک ہوئے تھے ۔ ’’احمر بن شمیط کی سپہ سالاری میں مقام ‘‘حمام اعین’’ پر لشکر جمع کیا گیا ۔ مختار نے اُن تمام کمانڈروں کو بلایا جو ابراہیم بن اشتر کے ساتھ تھے اور اُسی ترتیب سے احمر بن شمیط کے ساتھ روانہ کیا ۔ یہ تمام کمانڈر ابراہیم بن اشتر سے علیحدگی اختیار کر چکے تھے کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ ابراہم بن اشتر اپنی من مانی کرتا ہے اور مختا کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتا ہے ۔ مختار نے اِن کمانڈروں کو ایک زبردست لشکر دے کر اضمر بن شمیط کے ساتھ روانہ کیا ۔
احمر بن شمیط کی شکست
بصرہ سے اور کوفہ سے دو لشکر ایکدوسرے کے مقابلے کے لئے نکلے اور دونوں لشکروں کا سامنا ایک چشمہ پر ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : احمر بن شمیط جنگ کے لئے لشکر لیکر روانہ ہوا ۔اُس نے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ پر عبداﷲ بن کامل کو کمانڈر بنایا ۔ چشمۂ مذار کے پاس لشکر پہنچا تو احمر بن شمیط نے پڑاؤ ڈال دینے کا حکم دے دیا ۔ دوسری طرف سے حضرت مصعب بن زبیر بھی اپنے لشکر کو لیکر آگئے اور پڑاؤ ڈال دیا ۔ احمر بن شمیط نے میمنہ پر عبداﷲ بن کامل شاکری کو کمانڈر بنایا ۔ میسرہ پر عبداﷲ بن وہب بن نضلہ کو کمانڈر بنایا ۔ رزیں عبدالسلولی کو گھڑ سواروں کا کمانڈر بنایا ۔ پیدل سپایوں کا کمانڈر کثیر بن اسماعیل کو بنایا ۔ کیسان بن ابی عمرو کے آزاد غلام کو موالیوں کا کمانڈر بنایا ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے عباد بن حصین کو سمجھانے کے لئے بھیجا ۔ وہ اپنے دستے کے ساتھ آیا اور کہا: ‘‘ ہم آپ کو کتاب اﷲ اور اس کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور امیر المومنین حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ ’’ احمر بن شمیط نے کہا : ‘‘ ہم تمہیں لتاب اﷲ اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور امیر مختار کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ ہم آل رسول میں سے کسی شخص کو آپسی مشورہ کے لئے امیر مقرر کر لیں ۔ اگر کوئی اور شخص اِس بات کا مطالبہ کرے گا کہ وہ آل رسول پر حکمرانی کرے گا تو ہمارا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ہم اُس کے خلاف جہاد کریں گے ۔ ’’ اِس کے بعد دونوں لشکروں نے ایکدوسرے پر حملہ کر دیا اور بہت شدید جنگ ہونے لگی حضرت مصعب بن زبیر کے لشکر نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ احمر بن شمیط قتل ہوگیا اور اُس کے لشکر کو شکست ہو گئی ۔ اُس کے سپاہی میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنے لگے تو انہیں چن چن کر قتل کیا جانے لگا اور اُن کا صفایا کر دیا گیا ۔
حضرت مصعب بن زبیر کی کوفہ روانگی
حضرت مصعب بن زبیر کو چشمۂ مذار پر فتح حاصل ہوئی اور وہ اپنے لشکر کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت مصعب بن زبیر اپنے لشکر کو لیکر روانہ ہوئے اور جس جگہ اب ‘‘واسط القصب’’ ہے اُس مقام سے دریا کو عبور کیا ۔ پھر بیاباں کو طے کرنا شروع کیا ۔اِس کے بعد حضرت مصعب بن زبیر نے پیدل سپاہیوں کو اُن کے ساز و سامان کے ساتھ اور ضیعف العمر لوگوں کو کشتیوں میں سوار کردیا اور دریائے خرشاذ سے ہوتے ہوئے دریائے قوسان کو عبور کیا اور اِسی دریا کے راستے سے دریائے فرات میں پہنچ گئے ۔ اہل بصرہ جب کشتیاں چلا رہے تھے تو یہ کہتے جا رہے تھے ۔حضرت مصعب بن زبیر نے ہمیں لانبے کوزہ پشت جہازوں کے اور اُن کی رسی کھینچنے کا عادی بنا دیا ۔’’ جب مختار کو معلوم ہوا کہ دشمن گھوڑوں ،اونٹوں اور کشتیوں پر چلا آرہا ہے تو وہ خود مقابلے کے لئے آگے بڑھا اور مقام ‘‘سلیحسین’’ پر آکر اپنے ڈیرے ڈال دیئے ۔اِس مقام کو دیکھ کر معلوم ہو گیا کہ یہ مختلف دریاؤں کا سنگم ہے ۔ اِس مقام پر دریائے حیرہ ، دریائے سلیحین ، دریائے قادسیہ اور دریائے یوسف آکر دریائے فرات سے ملتے ہیں ۔(اِسے ‘‘مجمع الانہار’’ کہتے ہیں)مختار نے اِسی سنگم پر ایک بند بنا کر دریائے فرات کا پانی روک دیا ۔اِس طرح دریائے فرات کا تمام پانی معاون دریاؤں میں چڑھ گیا ۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بصرہ سے کشتیوں پر سوار ہو کر جو لشکر آرہا تھا اُس کی کشتیاں کیچڑ میں پھنس گئیں ۔ بصرہ والوں نے یہ حالت دیکھی تو کشتیاں چھوڑ دیں اور پا پیادہ کوچ کرنا شروع کیا ۔ اُن کا ‘‘مقدمۃ الجیش’’ اُن سے پہلے دریائے فرات کے اُس بند تک پہنچ گیا اور اُسے منہدم کر کے کوفہ کی طرف اُس نے اپنی باگیں اُٹھا دیں ۔
مختار ثقفی کی شکست اور قتل
بصرہ سے حضرت مصعب بن زبیر لشکر لیکر کوفہ پر حملہ کرنے کے لئے آرہے تھے اور ادھر مختار بھی مقابلے کی تیاری کر رہا تھا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مختار نے ‘‘مجمع الانہار ’’سے مُڑ کر ‘‘دار الامارت’’ اور جامع مسد کی قلعہ بندی کرنے کے بعد ‘‘حروراء’’ میں قیام کیا ۔ اِسی دوران میں حضرت مصعب بن زبیر بھی لشکر لیکر آگئے ۔ اُن کے میمنہ کا کمانڈر مہلب بن ابی صفرہ ، میسرہ کا کمانڈر عمر بن عبید اﷲ اور گھڑ سواروں کا کمانڈر عبد بن حصین تھا ۔ مختار کے لشکر کے میمنہ کا کمانڈر سلیم بن یزید کندی ، میسرہ کا کمانڈر سعید بن منقذ ہمدانی اور گھڑ سوراوں کا کمانڈر عمر بن عبیدا ﷲ نہدی تھا ۔ محمد بن اشعث اہل کوفہ کے اُس گروہ کا کمانڈر تھا جو مختار کے مقابلے ہر بھاگ کھڑے ہوئے تھے دونوں لشکروں کے درمیان پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا ۔ جنگ شروع ہوئی اور فریقین نے ایکدوسرے پر حملہ کیا ، ہر شخص جاں فروشی کے لئے تیار ہو گیا ۔ عبداﷲ بن جعدہ نے اپنے مد مقابل لشکر پر حملہ کر دیا ۔ وہ لوگ پیچھے ہٹتے ہوئے حضرت مصعب بن زبیر سے جا ملے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے ایک پر جوش تقریر سے اپنے سپاہیوں کو للکارا اور آگے بڑھایا ۔ انہوں نے زبردست حملہ کیا اور مختار کا لشکر اُسے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ شام ہوتے ہوتے مالک بن عبداﷲ نہدی نے پیدلوں کو لیکر محمد بن اشعث پر حملہ کیا ۔ وہ اور اُس کے ساتھی کام آگئے ۔حضرت عبید اﷲ بن علی بن ابی طالب شہید ہو گئے ۔ تمام رات جنگ ہوتی رہی ، چاروں طرف ایک شور ِ قیامت برپا تھا ۔ صبح ہونے سے کچھ پہلے مختار کے سپاہی آنکھیں بچا بچا کر علیحدہ ہونے لگے ۔ مختار نے اپنے لشکر کا یہ حال دیکھا تو ‘‘دار الامارت’’ میں جا چھپا ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے میدان جنگ سے ‘‘سنجہ’’پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا اور ‘‘دار الامارت’’ کا محاصرہ کر کے رسدو غلہ بند کر دیا ۔ مختار اور اُس کے ساتھیوں کا بھوک اور پیاس سے برا حال ہو گیا ۔ آخر کار مختار اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آیا ۔ جنگ ہونے لگی اور عبداﷲ بن وجاجہ کے بیٹوں نے اُسے قتل کردیا ۔مختار کے مارے جانے کے بعد شہر والوں نے دروازے کھول دیئے اور کوفہ پر حضرت مصعب بن زبیر کا قبضہ ہو گیا ۔ اِس کے بعد مختار کے ہاتھ کاٹ کر مسجد کے دروازے پر لٹکا دیئے گئے ، جس کو حجاج بن یوسف نے اپنے زمانہ ٔ حکومت میں اتروایا ۔
ابراہیم بن اشتر کا فیصلہ
کوفہ سے فارغ ہونے کے بعد حضرت مصعب بن زبیر نے ابراہیم بن اشتر کو اطاعت کرنے کا خط لکھ کر بھیجا اور اُدھر ملک شام سے بھی عبدالملک بن مروان نے اپنی اطاعت کرنے کا خط لکھ کر بھیجا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے گورنروں کو کوہستانی علاقوں اور میدانی علاقوں کی طرف روانہ کر دیا اور ابراہیم بن اشتر کو خط لکھا ۔ جس میں اُسے دعوت دی گئی کہ تم میری اطاعت کر لو تو میں تمہیں ملک شام تمہیں دے دوں گا اور وہاں کے سپہ سالار بنا دیئے جاؤ گے اور وہ تمام علاقہ جس پر تم نے تسلط کر لیا ہے بدستور تمہارے ہی حیطہ اقتدار میں اُس وقت تک رہے گا جب تک حکومت ‘‘خاندان زبیر ’’میں رہے گی ۔ دوسری جانب عبدالملک بن مروان نے بھی ابراہیم بن اشتر کو اِسی مضمون کا ایک خط لکھا کہ تم میری اطاعت قبول کرلو گے تو ملک عراق کا تما م علاقہ تمہارے قبضہ و تصرف میں دے دیا جائے گا ۔ ابراہیم بن اشتر نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیاتو بعض ساتھیوں نے حضرت مصعب بن زبیر کیا اطاعت کرنے کا مشورہ دیا اور بعض ساتھیوں نے عبدالملک بن مروان کی اطاعت کرنے کا مشورہ دیا ۔ ابراہیم بن اشتر نے کہا : ‘‘ اگر میں نے عبید اﷲ بن زیاد اور اہل شام کے دوسرے سرداروں کو قتل نہیں کیا ہوتا تو عبدالملک بن مروان کی دعوت کو قبول کر لیتا ۔ اِس کے علاوہ میں اسے بھی پسند نہیں کرتا کہ اپنے شہر یا قبیلے پر دوسروں کو ترجیح دوں ۔’’ اِس کے بعد ابراہیم بن اشتر نے حضرت مصعب بن زبیر کو لکھا کہ میں آپ کی اطاعت قبول کرتا ہوں اور حاضر ہو کر ‘‘حلف اطاعت’’ اُٹھایا ۔
حضرت مصعب بن زبیر کی معزولی
اِس سال 67 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کو بصرہ کی گورنری سے معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 67 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کو معزول کر کے اپنے بیٹے حمزہ بن عبداﷲ بن زبیر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر کیوں اور کس طرح معزول ہوئے اِس بارے میں مؤرخین کا اختلاف ہے ۔ ایک روایت تو اِس کے متعلق یہ ہے کہ جب حضرت مصعب بن زبیر لشکر لیکر مختار بن ابی عبید ثقفی کے مقابلے کے لئے چلے تو بصرہ پر عبیداﷲ بن عبداﷲ بن معمر کو اپنا قائم مقام بنادیا تھا ۔ مختار کے قتل کے بعد حضرت مصعب بن زبیر اپنے بھائی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے نہ صرف اُن کو عہدے سے برطرف کر دیا بلکہ اپنے پاس نظر بند بھی کر لیا ۔ اِس کا یہ عذر پیش کیا کہ باوجودیکہ میں اِس بات کو خوب جانتا ہوں کہ تم حمزہ بن عبداﷲ سے کہیں زیادہ گورنری کے مستحق اور اہل ہو۔ مگر میرے سامنے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کی مثال موجود ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ جیسے شخص کو برطرف کردیا تھا اور اُن کی جگہ عبداﷲ بن عامر کو گورنر مقرر کردیا تھا ۔
حمزہ بن عبداﷲ کی نااہلی
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بیٹے کو بصرہ کا گورنر بنایا لیکن وہ بہت ہی نااہل ثابت ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حمزہ بن عبداﷲ بن زبیر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا گیا ۔ یہ حالانکہ بہت ہی سخی تھا لیکن اِس کے مزاج میں استقلال نہیں تھا ۔ جب سخاوت پر آتا تھا تو اپنا سب کچھ لُٹا دیتا تھا اور جب بخل کتنے لگتا تھا اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ بصرہ میں اس سے بعض خفیف اور سبک حرکتیں ظاہر ہوئیں ۔ ایک روز حمزہ بن عبداﷲ اہواز گیا اور اس کا پہاڑ دیکھ کر کہا : یہ مکۂ مکرمہ کے کوہ قیعقان کے مشابہ ہے ۔ اِس بنا پر اس کا نام بھی قیعقان رکھ دیا ۔ حمزہ بن عبداﷲ نے مروان شاہ کو اپنے وکیل کے ذریعے خراج ادا کرنے کا حکم دیا ۔ مروان شاہ نے کچھ تساہل کیا تو حمزہ بن عبداﷲ نے اسے تلوار کے ایک ہی وار سے قتل کر ڈالا ۔ حمزہ بن عبداﷲ نے بصرہ میں کچھ ایسی بد نظمیاں پیدا کردیں اور ایسی بد عنوانیاں کیں کہ بصرہ کے لوگوں نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی کہ حمزہ بن عبداﷲ کو معزول کر کے حضر ت مصعب بن زیر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا جائے ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں